23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsروح القرآن

Ayah 23:43

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی قوم اپنی اجل معین سے نہ بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ اس سے پیچھے ہی ہٹ سکتی ہے

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا وَمَا یَسْتَاْ خِرُوْنَ ۔ (المومنون : 43) کوئی قوم اپنی اجل معین سے نہ بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ اس سے پیچھے ہی ہٹ سکتی ہے۔ ) غلط فہمی کے ازالے کے لیے سنت اللہ کا بیان مختلف انبیائے کرام اور رسولانِ گرامی کی دعوت کی تکذیب کے نتیجے میں عذاب کا شکار ہونے والی امتوں کی تاریخ بیان کی جارہی ہے تاکہ یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے کہ دنیا میں قوموں کی حیات وبقاء اور عزت وسرافرازی دنیوی وسائل کی فراہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے آنے والے پیغامِ ہدایت کی قبولیت کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح دنیا کی تباہی دنیا کے وسائل کی کمی سے فیصلہ کن سطح کو نہیں پہنچتی بلکہ اس کا حقیقی فیصلہ اللہ کے رسولوں اور ان پر نازل ہونے والی ہدایت کے انکار پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں بجائے اس کے کہ قومیں اس استدلال سے صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کریں یہ قوموں کی بدنصیبی ہے کہ ہر بگڑی ہوئی قوم ممکن ہے دوسروں کے بارے میں اس استدلال کو حتمی سمجھتی ہو۔ لیکن اپنے بارے میں اس کارویہ دوسرے اسباب کا نتیجہ ہوتا ہے جو اس کے خودساختہ ہوتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک یہ غلط فہمی بھی ہے کہ جب کوئی اللہ کا رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے اور وہ اس کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے تو وہ اسے اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہے اور جب اس انذار پر چند سال گزر جاتے ہیں اور عذاب کا نزول نہیں ہوتا تو قوم اس بارے میں یکسو ہوجاتی ہے کہ یہ دعوائے رسالت کرنے والا اللہ کا حقیقی رسول نہیں ورنہ آج تک ہم پر عذاب نازل ہوچکا ہوتا اور ہماری زندگی کا رویہ وہ نہیں جو معذب قوموں کا ہوتا ہے ورنہ ہمیں اتنی مہلت نہ دی جاتی۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ میں عذاب کے بارے میں سنت اللہ کو بیان کیا جارہا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول جب کسی قوم کو عذاب سے ڈراتے ہیں تو ان کا یہ انذار یقینا حقیقت پر مبنی ہوتا ہے کیونکہ پیغمبروں اور ان کی دعوت کی تکذیب ہی درحقیقت کسی قوم کی زندگی کو مباح کردیتی ہے۔ لیکن رہی یہ بات کہ وہ وقت کب آئے گا جب ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برسے گا ؟ تو اس وقت کو اجل معین کہتے ہیں۔ اس اجل معین کا وقت اللہ کے سوا کسی کے علم میں نہیں ہوتا۔ اس اجل معین کا تعین اللہ کی جانب سے کسی بھی قوم کی اخلاقی حالت کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ قوم اپنی اجل کو کب پہنچے گی اس بات کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ دوسری بات جو اسی اجل ہی سے متعلق ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی امت اپنی اجل معین سے پہلے عذاب کا شکار نہیں ہوتی۔ اسی طرح جس قوم کی اجل آجاتی ہے وہ اپنی تباہی اور بربادی کو ایک لمحہ کے لیے بھی مؤخر نہیں کرسکتی۔ جس طرح پانی ابلنے کی ایک اجل ہے وہ یہ ہے کہ اس کی مطلوب حرارت پانی کو پہنچ جائے اور اسی طرح اس کے جم جانے کی بھی ایک اجل ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس میں وہ ٹھنڈک پیدا ہوجائے جو اس کے جما دینے کے لیے مطلوب ہے۔ اسی طرح کسی قوم کا بگاڑ جب اس سطح کو پہنچ جاتا ہے جو اس کے لیے اجل مقرر کردی گئی ہے۔ تو پھر وہ قوم اپنے انجام کو پہنچ کر رہتی ہے۔ اس حقیقت سے بالواسطہ قریش کو توجہ دلانا مقصود ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ اگر اللہ کا عذاب ہمارے لیے مقدر ہوچکا ہوتا تو وہ اب تک آچکا ہوتا۔ لیکن ابھی تک عذاب کا نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ انھیں یہ کہا جارہا ہے کہ تم پر عذاب آنے کی ایک اجل معین ہے اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے تم ابھی تک بچے ہوئے ہو۔
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنے رسول یکے بعد دیگرے بھیجے۔ جب آیا کسی قوم کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے اس کو جھٹلایا۔ تو ہم نے بھی ایک کے پیچھے دوسری کو لگا دیا اور ان کو افسانہ بنادیا۔ پس اللہ کی پھٹکار ہو ایسی قوم پر جو ایمان نہیں لاتی

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا ط کُلَّمَا جَآئَ اُمَّۃً رَّسُوْلُھَا کَذَّبُوْہُ فَاَ تْبَعْنَا بَعْضَھُمْ بَعْضًا وَّجَعَلْنٰھُمْ اَحَادِ یْثَ ج فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ ۔ (المومنون : 44) (پھر ہم نے اپنے رسول یکے بعد دیگرے بھیجے۔ جب آیا کسی قوم کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے اس کو جھٹلایا۔ تو ہم نے بھی ایک کے پیچھے دوسری کو لگا دیا اور ان کو افسانہ بنادیا۔ پس اللہ کی پھٹکار ہو ایسی قوم پر جو ایمان نہیں لاتی۔ ) چند الفاظ کی تشریح : ” تَتْرًا “ اصل ” وتریٰ “ ہے۔ عربی کے معروف قاعدے کے مطابق ’ ’ و “ ، ” ت “ سے بدل گئی ہے۔ اس کا معنی ہے ،” یَتْبَعُ بَعْضُھُمْ بَعْضًا “ ،” یکے بعد دیگرے “۔ ” احادیث “ جمع ہے۔ اس کا واحد ” احدوثۃ “ ہے اس کا معنی ہے ” قصے کہانیاں “۔ مایتحدث بہ تکذیب رسل فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے قوموں کے تباہ ہونے کے بعد نئی قومیں اٹھائی جاتی رہیں جو ان کی جگہ لیتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت نے جس طرح ہر قوم کو اپنے فیضان سے نوازا یعنی ان کی کوئی ضرورت رکنے نہیں پائی۔ زمین، برابر روئیدگی کے جوہر دکھاتی رہی۔ سورج، بدستور اپنی کرنوں کے ڈول بھربھر کر ابر کی چادریں بچھا تارہا۔ ہوا، اپنے ہچکولوں سے بادلوں کو وہاں پہنچاتی رہی جہاں زمین کو آبیاری کی ضرورت تھی۔ چاند کی چاندنی اپنے خزانے لٹاتی رہی۔ غرضیکہ عناصرِ قدرت اللہ کے حکم سے اپنا فرض انجام دیتے رہے۔ اسی طرح اس کی معنوی اور روحانی ربوبیت نے بھی کبھی انسانوں کو بےیارومددگار نہیں چھوڑا۔ جب بھی کسی قوم میں عقیدہ وعمل کی خرابیاں پیدا ہوئیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے۔ انھوں نے اپنی زندگیاں مصائب میں ڈال کر قوموں کی اصلاح کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ لیکن جب کوئی قوم اپنی گمراہیوں اور ظلم وتعدی میں حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں صفحہ ہستی سے مٹادیا اور پھر ان کی جگہ دوسری قوم کو لابسایا اور اللہ کی ربوبیت کا فیضان اس کو بھی برابر اسی طرح پہنچتارہا۔ اس طرح قوموں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور رسول بھی بدستور آتے رہے اور دنیا کی تاریخ نے یہ بات ثابت کردی کہ وہ قومیں جو کبھی اپنے کروفر اپنی قوت و شوکت اور اپنے عروج واقبال کی مثال نہیں رکھتی تھیں۔ وہ ماضی کی داستانِ پارینہ بن کر رہ گئیں۔ آج تاریخ میں وہ عبرت کی ایک علامت بن کر رہ گئی ہیں۔ آیت کے آخری جملے میں ارشاد فرمایا کہ پھٹکار ہو ایسی قوم پر جو ایمان نہیں لاتی۔ یہ لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے۔ بُعد کو اسی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ ایمان جس کو قریش اور دوسرے گمراہ لوگ نہایت ناقابلِ ذکر سمجھتے ہیں اندازہ کیجیے ! اللہ کے یہاں وہ اس قدر گراں مایہ ہے کہ وہ قومیں جو صدیوں پہلے عذاب کا شکار ہوچکی تھیں ان کے عدم ایمان پر اللہ کا غضب بدستور بھڑک رہا ہے اور آج بھی ان کے ذکر کے ساتھ اللہ کی لعنت برستی ہے۔
Ayahs 23:45–46

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھیجا اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انھوں نے بھی تکبر کیا اور وہ نہایت مغرور لوگ تھے

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ھٰرُوْنَ 5 لا بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَا ئِہٖ فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا عِالِیْنَ ۔ (المومنون : 46) پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھیجا اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر۔ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انھوں نے بھی تکبر کیا اور وہ نہایت مغرور لوگ تھے۔ ) دورسولوں اور ان کی امتوں کی تاریخ سے استدلال ہزاروں سال تک روئے زمین پر مختلف قوموں کی آبادی اور ان کے بگاڑ کے نتیجے میں ہزاروں انبیائے کرام کی بعثت کے اجمالی ذکر کے بعد اب متعین طور پر دو رسولانِ گرامی کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جن کے نام لیوائوں اور نسبت کا دعویٰ رکھنے والوں کی ایک قوم جو بنی اسرائیل کے نام سے معروف تھی اور اس وقت آنحضرت ﷺ کی دعوت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ انھیں ان کی تاریخ یا ددلا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کی دعوت کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات بھی یاد دلائی جارہی ہیں اور اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ فرعون اور اس کے عمائدین نے جو رویہ ان اولوالعزم رسولوں کے ساتھ اختیار کیا تو دیکھ لو پھر اس کا انجام کیا ہوا ؟ اور اگر تم بھی وہی رویہ اختیار کرو گے باجود اس کے کہ تمہارے پاس کسی نہ کسی حد تک آسمانی ہدایت اور تمہاری اپنی تاریخ بھی ہے۔ لیکن کسی بھی پیغمبر کی دعوت کے انکار کے نتیجے میں یہ تمام باتیں دھری رہ جاتی ہیں۔ حضرتِ موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کا ذکر تاریخِ نبوت کی ایک کڑی کے طور پر فرماتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کی طرف ان دونوں بزرگوں کو بھیجا گیا تھا وہ اپنا ایک خاص قومی مزاج رکھتے تھے۔ جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں آرہا ہے۔ اس مزاج کی رعائت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انھیں بہت سے معجزات سے نوازا اور ان میں سے بطور خاص ایک معجزہ عصائے موسیٰ تھا جسے یہاں سلطانِ مبین کہا گیا ہے کیونکہ اس معجزے کو دیکھتے ہوئے دو باتیں بالکل واضح تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ معجزہ ایسی سند ماموریت کی حیثیت رکھتا تھا جس سے بڑھ کر کوئی سند نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ اسے دیکھتے ہی یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں رہتا تھا کہ جس کے ہاتھ کی لٹھیا ایسی حیرت انگیز شکل اختیار کرجاتی اور ایسے محیر العقول کمالات رکھتی ہے وہ یقینا اللہ کا نمائندہ ہے اور دوسری یہ بات یہ کہ وہ لٹھیا اپنے اندر وہ قوت رکھتی ہے جس کی موجودگی میں اس لٹھیا بردار پر حملہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے معجزے کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ فرعون اور اس کے عمائدین انتہائی مغرور لوگ تھے۔ انھوں نے تکبر ہی کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کیا اور تکبر ہی انھیں اس بات پر اکساتا تھا کہ تم ہر ممکن طریق سے اس دعوت سے گریز کرو۔
Ayah 23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

تو انھوں نے کہا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں درآں حالیکہ ان کی قوم ہماری غلامی کررہی ہے

فَقَالُوْآ اَ نُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُھُمَا لَنَا عٰبِدُ وْنَ ۔ (المومنون : 47) تو انھوں نے کہا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں درآں حالیکہ ان کی قوم ہماری غلامی کررہی ہے۔ ) فرعونیوں کا قومی مزاج یہ اسی تکبر کا اظہار ہے جو ان کا قومی مزاج بن چکا تھا۔ ایک تو وہ اسی گمراہی کا شکار تھے جو سب گمراہ قوموں میں قدر مشترک کے طور پر موجود رہی ہے۔ یعنی وہ بشریت اور نبوت میں تضاد سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں نبوت و رسالت ایک بلند منصب ہے اور بشر نہایت معمولی مخلوق ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے منصب کا تاج ایسی معمولی مخلوق کے ایک فرد کے سر پر رکھ دیاجائے۔ اور ان کے اس عذرلنگ کو ایک ایسے تصور نے تقویت فراہم کی تھی جو ان کا قومی مزاج تھا۔ یعنی ہم حکمرانوں اور آقائوں کی قوم ہیں اور یہ دو فرد جو نبوت کا دعویٰ کررہے ہیں یہ اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو ہماری غلام ہے۔ تو کیا ہم اپنے غلاموں کو اپنا رہنما مان لیں ؟ اور ان کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیں۔
Ayah 23:48

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلادیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگئے

فَکَذَّ بُوْھُمَا فَکَا نُوْا مِنَ الْمُھْلَکِیْنَ ۔ (المومنون : 48) پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلادیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ ) تکذیب اور تکبر کا انجام بڑائی کے گھمنڈ نے ایک بہت بڑی سعادت سے انھیں محروم رکھا۔ انھوں نے اللہ کے دونوں سچے نبیوں کی تکذیب کرڈالی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اللہ کا وہ قانون حرکت میں آیا جو سابقہ امتوں میں اس سے پہلے بارہا بروئے کار آچکا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو ایک خاص حد تک مہلت دیتا ہے لیکن جب وہ کسی طرح بھی ہدایت کے راستے پر نہیں آتی اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان پر اتمامِ حجت ہوجاتا ہے تو پھر انھیں زندہ نہیں چھوڑا جاتا۔ چناچہ اسی قانون کے تحت فرعون، اس کی فوج اور اس کے بڑے بڑے درباری بحر قلزم میں غرقاب ہوگئے۔
Ayah 23:49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ ہدایت پائیں

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ۔ (المومنون : 49) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر انعام فرعون اور آل فرعون تو اپنے تکبر اور غرور اور نسلی تمرد کے باعث ہدایت سے محروم رہے اور اس کے نتیجے میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تباہی کے بعد حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو صحرائے سینا میں ایک ایسے انعام سے نوازا جو کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا انعام ہے اور وہ انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کتاب ہدایت عطا فرمائی تاکہ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں اس سے رہنمائی حاصل کرسکیں۔ کتاب سے مراد یہاں تورات ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی تھی اور یَھْتَدُوْنَ کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے۔ فرعون اور اس کے عمائدین جس قوم کو اپنا غلام سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان غلاموں کو آقائی کے منصب پر بٹھانے کے لیے ایک ایسی کتاب عطا فرمائی جس میں بندگی کے آداب بھی ہیں اور حکمرانی کے طریقے بھی سکھائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہر دور میں پسے ہوئے اور بےبس انسانوں کو ہمیشہ سریر سلطنت پر بٹھاتی رہی ہے بشرطیکہ وہ اللہ کے ساتھ بندگی اور غلامی کا حق ادا کردیں۔ چناچہ بنی اسرائیل کو بھی اسی اصول کے تحت مختلف ادوار میں نوازا جاتارہا۔ ؎ غلاموں کو سریر سلطنت پر جس نے بٹھلایا غلاموں کے سروں پر کردیا اقبال کا سایہ
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے مریم کے فرزند اور ان کی والدہ کو ایک عظیم نشانی بنایا۔ اور انھیں ایک پرسکون اور چشمے والی بلند جگہ پر ٹھکانہ دیا

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗٓ اٰیَۃً وَّاٰوَیْنٰھُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ ۔ (المومنون : 50) (اور ہم نے مریم کے فرزند اور ان کی والدہ کو ایک عظیم نشانی بنایا۔ اور انھیں ایک پرسکون اور چشمے والی بلند جگہ پر ٹھکانہ دیا۔ ) اس آیت کا مفہوم تاریخِ نبوت کی آخری عظیم شخصیت حضرت مسیح ابن مریم ہیں۔ انسانی فکر کے الجھائو بھی عجیب ہیں۔ گزشتہ آیات میں تو ہم نے پڑھا کہ انسان اسلیے اللہ کے نبیوں پر ایمان لانے سے انکار کرتارہا کہ وہ بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ لیکن حضرت مسیح ابن مریم کے بارے میں معاملہ بالکل برعکس رہا کہ ان پر جو لوگ ایمان لائے وہ ان کی بشریت پر معترض ہونے کی بجائے ان کے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے کے قائل ہوگئے اور آج تک اس غلط فہمی سے انھیں نجات نہیں مل سکی۔ وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗٓ اٰیَۃً : امامِ رازی فرماتے ہیں کہ چاہیے یہ تھا کہ عبارت یوں ہوتی۔ ” وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗٓ اٰ یَتَیْنِ “ لیکن تثنیہ کی بجائے واحد استعمال کرتے ہوئے آپ کی بن باپ ولادت کی طرف اشارہ کردیا۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ ایک نشانی ابن مریم تھے اور ایک نشانی خود مریم اور یہ بھی نہیں فرمایا کہ ابن مریم اور اس کی ماں کو دو نشانیاں بنایا بلکہ فرمایا یہ ہے کہ وہ دونوں مل کر ایک نشانی بنائے گئے اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ باپ کے بغیر ابن مریم کا پیدا ہونا اور مرد کی صحبت کے بغیر مریم کا حاملہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو ان دونوں کو ایک نشانی بناتی ہے۔ اس سے پہلے سورة مریم اور بعض دوسری سورتوں میں تفصیل سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا۔ یہاں تو صرف یہ بتانا ہے کہ اس آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا صحیح مفہوم کیا ہے۔ مختلف لوگوں نے مختلف باتیں ارشاد فرمائی ہیں لیکن ہم فوائد القرآن سے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کی تحریر کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جو دلچسپ بھی ہے اور مفید بھی۔ شاید یہ وہی ٹیلہ یا اونچی زمین ہو جہاں وضع حمل کے وقت حضرت مریم تشریف رکھتی تھیں۔ چناچہ سورة مریم کی آیات ” فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِھَآ اَلاَّ تَحْزَنِیْ قَدْجَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا۔ وَھُزِّیْٓ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا۔ “ دلالت کرتی ہیں کہ وہ جگہ بلند تھی۔ نیچے چشمہ یا نہر بہہ رہی تھی اور کھجور کا درخت نزدیک تھا (کذافسرہ ابن کثیر۔ ) لیکن عموماً مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح کے بچپن کا واقعہ ہے۔ ایک ظالم بادشاہ ہیرودس نامی نجومیوں سے سن کر کہ حضرت عیسیٰ کو سرداری ملے گی لڑکپن ہی میں ان کا دشمن ہوگیا تھا اور قتل کے درپے تھا۔ حضرت مریم الہامِ ربانی سے ان کو لے کر مصر چلی گئیں اور اس ظالم کے مرنے کے بعد پھر شام واپس چلی آئیں۔ چناچہ ” انجیل متی “ میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے اور مصر کا اونچا ہونا باعتبار رودنیل کے ہے ورنہ غرق ہوجاتا اور ” ماء معین “ رودِ نیل ہے۔ بعض نے ” ربوۃ “ (اونچی جگہ) سے مراد شام یا فلسطین لیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ جس ٹیلہ پر ولادت کے وقت موجود تھیں وہیں اس خطرہ کے وقت بھی پناہ دی گئی ہو۔ واللہ اعلم۔ بہرحال اہل اسلام میں کسی نے ” ربوۃ “ سے مراد کشمیر نہیں لیا۔ نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی قبر کشمیر میں بتلائی۔ البتہ ! ہمارے زمانہ کے بعض زائغین نے ” ربوۃ “ سے کشمیر مراد لیا ہے اور وہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتلائی ہے جس کا کوئی ثبوت تاریخی حیثیت سے نہیں۔ محض کذب ودروغبانی ہے۔ محلہ ” خان یار “ شہر سری نگر میں جو قبر ” یوزآسف “ کے نام سے مشہور ہے اور جس کی بابت تاریخ اعظمی کے مصنف نے محض عام افواہ نقل کی ہے کہ ” لوگ اس کو کسی نبی کی قبر بتاتے ہیں اور وہ کوئی شہزادہ تھا اور دوسرے ملک سے یہاں آیا “ اس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتانا پرلے درجہ کی بےحیائی اور سفاہت ہے۔ ایسی اٹکل پچو قیاس آرائیوں سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حیات کو باطل ٹھہرانا بجز خبط اور جنون کے کچھ نہیں۔ اگر اس قبر کی تحقیق مطلوب ہو اور یہ کہ ” یوزآسف “ کون تھا تو جناب منشی حبیب اللہ صاحب امرتسری کا رسالہ دیکھو جو خاص اسی موضوع پر نہایت تحقیق وتدقیق سے لکھا گیا ہے اور جس میں اس مہمل خیال کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ عنا و عن سائرالمسلمین احسن الجزاء۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کروتم جو کچھ بھی کرو گے میں اس کو خوب جانتاہوں

یٰٓـاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔ (المومنون : 51) (اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کروتم جو کچھ بھی کرو گے میں اس کو خوب جانتا ہوں۔ ) یٰـٓاَیُّھَاالرُّسُلُ کا مفاد گزشتہ دو رکوعوں میں متعدد انبیائے کرام کا ذکر کرنے کے بعد تمام انبیائے کرام کو یٰٓـاَیُّھَا الرُّسُلکے مشترک لفظ سے خطاب فرماکر ایک خاص حقیقت کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ وہ یہ کہ گزشتہ دو رکوعوں میں ہم نے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا جو انسانوں میں بگاڑ پیدا ہوجانے کے بعد اللہ کی جانب سے پہلے رسول ہیں۔ پھر ان رسولوں کی طرف اشارے کیے جو ان قوموں کی طرف آئے جو قوم نوح کی تباہی کے بعدمختلف وقتوں میں روئے زمین پر اٹھائی گئیں۔ پھر ان دو رسولوں کا ذکر فرمایا گیا جنھوں نے تاریخِ اقوام اور تاریخِ مذاہب میں اپنی پیدا کردہ امت کے باعث بہت گہرا اثر پیدا کیا اور صدیوں تک دینی نقطہ نگاہ سے قوموں کی امامت کی اور اب وہ اپنے زوال اور بگاڑ کی انتہا کو پہنچ رہی تھیں۔ اس کے بعد خاتم النبیین ﷺ سے پہلے سلسلہ نبوت کے آخری نبی کا ذکر فرماکربنی اسرائیل کی اس شاخ کی طرف اشارہ کیا جو آنحضرت ﷺ کی معاصر قوموں میں سے ایک مضبوط مملکت کی مالک تھی اور یہ دونوں قومیں اس وقت اسلام کی سب سے بڑی حریف تھیں۔ ان مختلف اقوام اور امتوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کی طرف مبعوث کیے جانے والے انبیائے کرام نے انھیں مختلف دین دیئے تھے۔ مختلف شریعتیں عطا کی تھیں اور اللہ کی بندگی کا وہ تصور دیا تھا جو ایک دوسرے سے الگ اور جدا تھا۔ لیکن یٰٓاَیُّھَا الرُّسُل کہہ کر ان تمام واہموں اور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں جو نبی اور رسول بھی آیا اس نے اللہ کی طرف سے خدا پرستی اور اللہ کی کامل بندگی اور اطاعت کی دعوت دی۔ سب نے ایک ہی دین پیش کیا اور بندگی اور خدا پرستی کی دعوت میں یہ تمام انبیاء مکمل طور پر ایک دوسرے کے حلیف اور مماثل تھے۔ سب نے اصل دین کو قائم کرنے پر اپنا سارا زور صرف کیا۔ البتہ ! اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت مقتضی ہوئی تو انھوں نے اسی دین کے مزید مقتضیات نمایاں کیے۔ قرآن اسی سلسلہ کی آخری کڑی ہے۔ اس نے اصل دین کو بالکل نکھار کر اس کی اصل صورت میں پیش کردیا اور اس کے جو پہلو ابھی تشنہ تکمیل تھے اور جن کی تکمیل کا کام سابق انبیائے کرام کی پیش گوئیوں کے مطابق آخری بعثت پر اٹھا رکھا گیا تھا ان کی اس نے تکمیل کردی۔ ان تمام رسولوں اور ان کی دعوت میں اس حدتک یکسانی، مماثلت اور قربت پائی جاتی ہے کہ جب تمام رسولوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی رسول کی شخصیت اور اس کی دعوت کے ابواب الٹے جارہے ہیں اور جب کسی ایک رسول کی شخصیت اور اس کی دعوت کا ذکر کیا جاتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت کو ایک کو زے میں بند کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یوں سمجھنا چاہیے کہ جب ہم سو کا لفظ بولتے ہیں تو اس میں نناوے کے ہند سے شامل اور مراد ہوتے ہیں۔ اور جب ایک، دو ، تین، چار سے سو تک کے عدد شمار کرتے ہیں تو مراد اس سے سو ہی ہوتا ہے۔ مولانا روم نے اس بارے میں جو اشارات کیے ہیں وہ ازبس لطیف واقع ہوئے ہیں۔ ؎ نامِ احمد نام جملہ انبیا است چونکہ صد آمد نود ہم پیش ما است چند غلط فہمیوں کا ازالہ اس آیت کریمہ میں انبیائے کرام کی دعوت کے سلسلہ میں کچھ غلط فہمیوں کا بھی ازالہ فرمایا گیا ہے۔ جن میں پہلی غلط فہمی وہ ہے جسے عیسائیت اور ہندو مت نے ضلالت کی انتہا تک پہنچایا۔ انھوں نے دنیا کو یہ تصور دیا کہ اللہ کی ذات ایسی پاکیزہ ہے کہ پاکیزہ ہوئے بغیر اس کا قرب حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا اور اس کے علائق ایک گندگی ہیں جس میں آلودہ ہو کر کوئی شخص قرب خداوندی اور اس کی بندگی کا حق ادا کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ اس لیے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ میں اللہ کا قرب حاصل کروں تو اسے ترک دنیاکا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جسے عیسائیت نے ” رہبانیت “ قرار دیا ہے اور ہندومت نے اسے ” جوگی ازم “ کا نام دیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں پاکیزہ نعمتوں کا رزق کھانے کا حکم دے کر اس تصور کی جڑ کاٹ دی ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی بندگی ترک دنیا نہیں بلکہ دنیا کا حصول اور استعمال ہے لیکن شرط یہ ہے کہ دنیا کی ان نعمتوں کو حاصل کیا جائے جسے اللہ کی شریعت نے پاکیزہ قرار دیا ہے اور اس طریقے سے حاصل کیا جائے جسے اس کی شریعت نے جائز اور حلال قرار دیا ہے۔ حرام طریقے سے حاصل ہونے والی پاکیزہ چیز بھی ناپاک اور حرام ہوجاتی ہے۔ آبِ زم زم انتہائی پاک اور مدینہ طیبہ کا خرما انتہائی پاکیزہ ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص چوری یا غصب کے ذریعے حاصل کرتا ہے تو یہ پاکیزہ نعمتیں بھی اس کے لیے ناپاک ہوجاتی ہیں۔ مزید فرمایا کہ طیبات کھانے کے ساتھ ساتھ صالح عمل بھی کرو۔ اس لیے کہ جس دین میں بنیادی صداقتوں کو قبول کرنے کے بعد ان پر عمل کرنے سے پہلو تہی کی جائے، اسلام نے اسے فسق وفجور قرار دیا ہے۔ وہ خدا پرستی کا نھیں خدا سے بغاوت کا راستہ ہے۔ مزید یہ اشارہ فرمایا کہ جب تک تم طیبات تک خود کو محدود نہ رکھو اور جائز طریقوں سے طیبات کو حاصل نہ کرو اس وقت تک تمہارا کوئی عمل عمل صالح کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : الرجل یطیل السفراشعث اغبر ومطعمہ حرام ومشربہ حرام وملبسہ حرام و غذی بالحرام یمد یدیہ فی السماء یارب یارب فانّٰی یستجاب لذلک ” ایک شخص لمبا سفر کرکے غبار آلود پراگندہ مو آتا ہے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں مانگتا ہے یا رب یارب مگر حال یہ ہوتا ہے کہ روٹی اس کی حرام، کپڑے اس کے حرام اور جسم اس کا حرام کی روٹیوں سے پلا ہوا ہے۔ اب کس طرح ایسے شخص کی دعا قبول ہو “۔ (مسلم، ترمذی، احمد، من حدیث ابی ہریرہ) مزید فرمایا کہ زندگی گزارتے ہوئے اس بنیادی تصور کو کبھی دل و دماغ سے الگ نہ ہونے دینا کہ تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں یعنی تمہاری ہر حرکت میرے علم اور میری نگاہوں میں ہے۔ تم کسی وقت میرے حصار سے باہر نہیں ہو۔ تمہارا ہر عمل محفوظ کیا جارہا ہے اور اسی کی بنیاد پر قیامت کے دن تم سے باز پرس کی جائے گی اور اعلائے کلمۃ الحق کے سلسلہ میں اگر کبھی تمہیں تنہائی کا احساس ہو تو یہ مت بھولو کہ میں تمہارا پشت پناہ ہوں اور میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں اور یہ بھی یاد رکھو کہ میری طرف سے تم پر جو شریعت نازل کی گئی ہے اس کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ اور برپا کرنا تمہاری ذمہ داری ہے اور اسے تم کہاں تک ادا کرتے ہو میں ہمیشہ اسے دیکھتا رہوں گا اور اسی حوالے سے تمہاری دنیوی اور اخروی کامیابیوں کا فیصلہ ہوگا۔ یہ بات یاد رہے کہ خطاب اگرچہ رسولوں سے ہے لیکن ان کے واسطے سے یہ ہدایات امتوں کی دی جارہی ہیں۔
Ayahs 23:52–53

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ ہی سے ڈرو

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پس انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا اب ہر گروہ اسی میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے

وَاِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَا تَّقُوْن۔ فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ زُبُرًا ط کُلُّ حِزْبٍ م بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ۔ (المومنون : 52، 53) (اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔ پس انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا اب ہر گروہ اسی میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ ) گزشتہ حقیقت کا اظہار یٰٓاَیُّھَا الرُّسُل کے خطاب سے جس حقیقتِ ثابتہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کو کھول دیا گیا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہی رہی ہے اور یہ سب ایک ہی امت تھے کیونکہ یہ ایک ہی دین لے کر آئے۔ امت کا لفظ اس مجموعہ افراد پر بولا جاتا ہے جو کسی اصل مشترک پر جمع ہوں۔ انبیائے کرام چونکہ اختلافِ زمانہ ومقام کے باوجود ایک عقیدے، ایک دین اور ایک دعوت پر جمع تھے اس لیے فرمایا گیا کہ ان سب کی ایک ہی امت ہے اور ان کی دعوت نے دیکھنے کو مختلف امتیں تیار کیں لیکن حقیقت میں وہ سب ایک امت تھیں کیونکہ ان کی بنیاد ایک تھی۔ آیت کریمہ کے دوسرے جملے نے اس بنیاد کو واضح فرمادیا۔ وَاَنَا رَبُّکُمْ فَا تَّقُوْن ” اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ ہی سے ڈرو “۔ رب وہ ذات ہے جو تمام مخلوقات کی تربیت کا سامان کرتی ہے۔ جسمانی تربیت کے لیے غذا مہیا کرتی، موسم کے شدائد سے بچاتی اور زندگی کے امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے مطلوبہ رہنمائی سے نوازتی ہے۔ لیکن معنوی اور روحانی تربیت کے لیے جن وانس کی حد تک حواس اور عقل عطا کرتی اور زندگی کے وہ دوائر جو عقل کی رسائی سے باہر ہیں ان کے لیے وحی الہٰی کا فانوس روشن کرتی ہے اور مزید یہ بات کہ رب جس طرح تربیت کرنے والے کو کہتے ہیں اسی طرح اس ذات کو بھی کہتے ہیں جو غیر مشروط طور پر اور غیر محدود حدتک قانون سازی کا حق رکھتی ہے۔ تحلیل وتحریم کا حق صرف اسی کو زیب دیتا ہے۔ قرآن کریم نے اہل کتاب پر جب یہ الزام لگایا کہ انھوں نے اپنے احبارو رہبان کو اپنا رب بنالیا ہے تو حضرت عدی ابن حاتم طائی نے آنحضرت ﷺ سے اس کی وضاحت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ جس کو تحلیل وتحریم یعنی قانون سازی کا غیر مشروط اختیار دے دیا جائے اسی کو رب کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نبیوں نے اپنی امتوں کو جو تعلیم دی تھی اس کی بنیاد یہ تھی کہ اللہ ہی تمہارا رب ہے اس لیے اس کی غیرمشروط اطاعت تم پر واجب ہے اس اطاعت میں کمی بیشی کے حوالے سے صرف اسی سے ڈرنا ہے۔ زندگی کی رہنمائی میں کسی اور کو شریک کرنا یہ شرک ہے اسے اللہ گوارا نہیں فرماتا۔ لیکن ان کی امتوں نے اسی بنیادی تعلیم کو جس نے ان کے درمیان وحدت فکر اور وحدت عمل پیدا کی تھی پارہ پارہ کر ڈالا۔ اصل دین کو اپنی تنگ نظری اور تعصب کے باعث مختلف شکلوں میں تبدیل کردیا۔ اب ہر گروہ اور ہر فرقہ جو کچھ اس کے پاس ہے جو محرف بھی ہے اور ناتمام بھی۔ اس پر اڑا ہوا ہے اور اسی پر خوش ہے کہ میں بالکل صحیح راستے پر ہوں۔ قریش بھی اسی گمراہی کا شکار تھے۔ وہ وحی الہٰی کی رہنمائی سے بالکل محروم ہوچکے تھے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی طرف اپنا نسبی انتساب تو رکھتے تھے لیکن ان کی مذہبی رہنمائی کو یکسر فراموش کرچکے تھے۔ اب ن کے پاس ان کی خانہ سازشریعت کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ لیکن وہ اس پر اس حدتک مطمئن اور خوش تھے کہ اللہ کے آخری رسول کی دعوت کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔
Ayah 23:54

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

تو انھیں ایک وقت خاص تک ان کی سرمستی (اور غفلت) میں چھوڑ دو

فَذَرْھُمْ فِیْ غَمْرَتِھِمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ (المومنون : 54) (تو انھیں ایک وقت خاص تک ان کی سرمستی (اور غفلت) میں چھوڑ دو ۔ ) پس منظر آیتِ کریمہ کے یہ چند الفاظ اپنے اندر بڑی معنوی گہرائی رکھتے ہیں۔ بظاہر اس کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کو تسلی دیتے ہوئے یہ کہا جارہا ہے کہ آپ انھیں ان کی غفلت میں ڈوبا رہنے دیں اور اس مدت تک ان سے کوئی سروکار نہ رکھیں جب تک یہ خود اپنی غفلت کے نتائج کو محسوس نہیں کرتے۔ لیکن غور وفکر کے بعد بات اس سے زیادہ وسیع معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ گزشتہ چند سال سے آنحضرت ﷺ نے قریش کو سمجھانے کے لیے کس طرح جان ماری ہے اور اس راستے میں کیسی کیسی اذیتیں برداشت کی ہیں۔ آپ نے اپنی شخصیت کا سارا سرمایہ اس جدوجہد میں جھونک دیا ہے۔ ہر طرح کے قرابت کے اثرات اور عقل وفکر کی دعوت کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ استدلال کی حدتک دلیل کا کوئی گوشہ باقی نہیں چھوڑا۔ دعوت کے تمام امکانات کو بروئے کار لانے کے باوجودبھی چند نفوسِ قدسیہ کے سوا قریش کی اکثریت نے اس دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اس کا راستہ بند کرنے کا ہر ممکن تہیہ کرلیا۔ اس پس منظر کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ زیادہ دل گرفتہ نہ ہوں ہر قوم کی طرح جن کی طرف اللہ کا نبی مبعوث ہوتا ہے انھیں بھی ایک مہلت عمل دی گئی ہے آپ اس وقت تک تبلیغ و دعوت کا کام ان کے اندر جاری رکھیں لیکن اگر ان کی غفلت کا پردہ ہٹنے نہیں پاتا تو آپ آزردہ نہ ہوں۔ جب مہلت عمل گزر جائے گی تو پھر یہ گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ انھیں بالآخر اپنی سرمستی کا انجام نظر آجائے گا اور ممکن ہے کہ اب ان کا انجام زیادہ دور نہ ہو۔
Ayahs 23:55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کی مال اور اولاد میں مدد دئیے جارہے ہیں

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

تو ان کے لیے بھلائی میں اضافہ کررہے ہیں ؟ بلکہ ان کو اصل معاملے کا شعور نہیں ہے

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّ ھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ ۔ نُسَارِعُ لَھُمْ فِیْ الْخَیْرٰتِ ط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ۔ (المومنون : 55، 56) (کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کی مال اور اولاد میں مدد دئیے جارہے ہیں۔ تو ان کے لیے بھلائی میں اضافہ کررہے ہیں ؟ بلکہ ان کو اصل معاملے کا شعور نہیں ہے۔ ) ہر دور کے آسودہ حال لوگوں کی گمراہی پیشِ نظر دونوں آیتوں میں قریش کی ایک ایسی کمزوری کا ذکر کیا جارہا ہے جو ہر دور کے آسودہ حال لوگوں کی گمراہی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مال و دولت اور اولاد میں جیسے جیسے اضافے سے نوازتا ہے ان کی گمراہی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کو مال و دولت اور اولاد کی کثرت عطا کرتا ہے وہ یقینا اپنے رویے میں بہتر شخص ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے بہتر رویے کی وجہ سے اس سے خوش اور راضی ہے اور جب وہ اپنے مقابلے میں پیغمبر اور اس کے پیروکاروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ مالی دشواریوں کا شکار اور بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہیں تو ان کا یقین اور پختہ ہوجاتا ہے کہ اگر یہ لوگ جو اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں واقعی ہدایت پر ہوتے اور ہم گمراہ ہوتے تو صورتحال بالکل اس کے برعکس ہوتی ہم بھوکوں مر رہے ہوتے اور مسلمان ہر طرح کی آسودگی سے ہمکنار ہوتے۔ یہ بات یاد رہے کہ مال کے ساتھ اولاد کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ قبائلی زندگی میں اولاد کی کثرت قوت و طاقت کا سب سے بڑاذریعہ ہوتی ہے۔ جس کے پاس لڑنے والے بازو زیادہ ہیں وہ ایک طاقتورآدمی سمجھا جاتا ہے اور پھر کھیتی باڑی اور باغوں کی دیکھ بھال اور قافلہ تجارت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی یقینا افراد کی محتاج ہوتی ہے اور جس کے بیٹوں کی تعداد قابل ذکر ہے وہ وسائلِ رزق میں بھی یقینا دوسروں سے بہتر ہوگا۔ ان آیات میں اس غلط فہمی کو رد کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ مال و دولت اور اولاد کی کثرت اللہ کے ہاں قرب کا ذریعہ اور بھلائیوں میں اضافے کا باعث نہیں یہ تو اللہ کی طرف ایک آزمائش ہے اور جو لوگ اس آزمائش میں پورا اترنے کی بجائے اسی کو اپنی کامیابی تصور کرلیتے ہیں ان کے لیے یہ قدرت کے استدراج کا ایسا پھندا ہے جس میں پھنس جانے کے بعد کبھی کوئی اس سے بچ کر نہیں نکلا۔ لیکن ان کی حماقت اور بلادت کا کیا کہنا کہ جو چیز ان کی تباہی کا باعث بن رہی ہے اسی کو اپنے لیے کامیابی اور قرب کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔
Ayah 23:57

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اپنے رب کی خشیت سے لرزاں وترساں رہنے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّھِمْ مُّشْفِقُوْنَ ۔ (المومنون : 57) (بےشک وہ لوگ جو اپنے رب کی خشیت سے لرزاں وترساں رہنے والے ہیں۔ ) کامیابی کے راستے پر چلنے والوں کی پہلی صفت اس سے پہلے کفار کی خوش فہمیوں اور ان کے غلط تصورات کا تذکرہ ہوا۔ جن کی وجہ سے ان کی فکری اور عملی زندگی میں ایسی دراڑیں واقع ہوئیں جنھوں نے ان کی دنیا وعقبیٰ کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ سے ان لوگوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو نہ صرف کامیابیوں کے راستے کے مسافر ہیں بلکہ ان کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی منزل مقصود کو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ انھوں نے کامیابیوں کے وضعی تصورات کو رد کرکے ان افکار و اعمال کو اپنی زندگی کی زینت بنایا ہے جو اس راستے کی کامیابی کی حقیقی ضمانت ہیں۔ دولت و رفاہیت اور عہدہ ومنصب زندگی میں بظاہر بڑائی اور عظمت کی علامت ہیں۔ لیکن ان سے اقدارِ انسانیت کی جلاوبقا میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ انسان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ان میں سے چند لوگ امیر سے امیر تر ہوجائیں اور باقی لوگ نان شبینہ کے محتاج رہیں بلکہ انسان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں کے اندر ایک دوسرے کی ضرورت کا احساس پیداہو۔ لوگ اپنی منڈیر اونچی کرنے کو عزت کی علامت نہ سمجھیں بلکہ جھونپڑوں میں رہنے والوں کو ایسی چھت مہیا کرنے کو اپنا فرض جانیں جس میں وہ حوادثِ روزگار سے محفوظ رہ سکیں۔ انسان کی عظمت یہ نہیں کہ اس کے ساتھ طاقت کی فراوانی ہو بلکہ انسان کی عظمت یہ ہے کہ ہر شخص دوسرے کا حقوق آشنا ہو اور اپنی دولت و ثروت اور قوت وہیبت کو انسانی معاشرے کی استواری کا ذریعہ سمجھتاہو اور یہ تصورات اس وقت تک دلوں میں پیدا نہیں ہوتے جب تک دلوں میں ان صفات کا دیپ نہیں جلتا جس کا پیش نظرآیات میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ ان میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب کی خشیت اور خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ جب ان کے اندر کسی برائی کا تصور سر اٹھاتا ہے یا ان کی طاقت انھیں کسی کمزور پر ہاتھ اٹھانے پر اکساتی ہے تو ان کے رب کی خشیت اور اس کے سامنے جواب دہی کا احساس انھیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ آج تم اپنی طاقت اور قوت کی وجہ سے کسی کمزور پر ہاتھ اٹھانا اگر جائز سمجھتے ہو تو کل جب تم اس ذات کے سامنے کھڑے کیے جاؤ گے جو تمام طاقتوروں سے بڑھ کر طاقتور ہے اور سب حکمرانوں سے بڑا حکمران ہے تو اسے کیا جواب دو گے ؟ ان کی زندگی میں یہ تصور کہ اللہ بےپناہ قدرتوں کا مالک ہے اور میں ہر وقت اس کے حصار میں ہوں۔ کسی غلط کام کی طرف بڑھنے سے پہلے ان کے جسم پر کپکپی طاری کردیتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں جب انسانوں میں ایسے بنیادی تصورات جگہ بنا لیتے ہیں تو ان کی زندگی دوسروں کے لیے رحمت بن جاتی ہے اور یہیں سے انسانی کامیابی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ جو شخص بھی اللہ کی خشیت کو دل میں بٹھا لیتا ہے اس کے اندر سے عرفانِ ذات کا جو شرارہ پھوٹتا ہے اقبال نے اسے زبان دیتے ہوئے کہا ؎ تری دنیا جہانِ مرغ و ماہی مری دنیا فغانِ صبح گاہی تری دنیا میں، میں محکوم و مجبور مری دنیا میں تیری پادشاہی
Ayah 23:58

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور وہ لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (المومنون : 58) (اور وہ لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ ) دوسری صفت اللہ کا رسول جب قرآن کریم کی آیات لوگوں کو پڑھ کر سناتا ہے تو ان آیات کے ساتھ ان کا رویہ متکبرین کی طرح کا نہیں ہوتا بلکہ یہ آگے بڑھ کر اسے حرزجان بناتے، دل و دماغ کی زینت ٹھہراتے، اس کے ہر حکم کی تعمیل کو زندگی کا اثاثہ گردانتے اور مشکل سے مشکل حالات میں آمنّا وصدّقنا کو اپنا وطیرہ بناتے ہیں۔ آیات کا ایک معنی نشانیاں بھی ہے اس معنی کے لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ان کی اپنی ذات ان کے گردوپیش اور زمین و آسمان کی ہر چیز میں جو انھیں اللہ کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں ان کے واسطے سے وہ اللہ پر ایمان اور یقین کو روز بروز مستحکم سے مستحکم تر کرتے ہیں اور کائنات کی ہر نشانی ان کے راستے کا سنگ میل بن جاتی ہے۔
Ayah 23:59

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے

وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِرَبِّھِمْ لَا یُشْرِکُوْنَ ۔ (المومنون : 59) (اور وہ لوگ جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ ) تیسری صفت زندگی کے سفر میں وہ اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے۔ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے کسی سے امیدیں نہیں باندھتے اور کسی سے خوف نہیں کھاتے۔ وہ اللہ کی ذات، صفات اور حقوق میں کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتے۔ ان کے دلوں میں اللہ کے سوا کسی اور کو جگہ نہیں ملتی۔ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور حوالے کو قبول نہیں کرتے۔
Ayah 23:60

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو دیتے ہیں تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں اس خیال سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں

وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رٰجِعُوْنَ ۔ (المومنون : 60) (اور وہ لوگ جو دیتے ہیں تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں اس خیال سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ) چوتھی صفت وہ جو کچھ بھی اللہ کے راستے میں دیتے ہیں نمائش اور فخر کے لیے نہیں دیتے۔ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور اسی کی رضا کے حصول میں خرچ کرتے ہیں۔ وہ اپنے مال و دولت کا بیشتر حصہ بھی اللہ کی راہ میں لٹادیں تب بھی ان کے دل اس تصور سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن اللہ کے حضور حاضری ہونے والی ہے وہاں ہمارے اس انفاق میں اگر کہیں اظہارِ فخر یا نمائش وریاکا ادنیٰ ساجذبہ بھی نکل آیا تو ہم اللہ کو کیا جواب دے سکیں گے۔ وہ صرف دولت خرچ کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس کے محرک کی پاکیزگی اور قلب و دماغ کے اخلاص پر سب سے زیادہ توجہ دینا ضروری سمجھتے ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ بڑے سے بڑا ایثار اور انفاق ضروری نہیں کہ نمائش اور فخر کی ہر آلودگی سے مبرا رہا ہو کیونکہ ؎ براہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے ہوس سینے میں چھپ چھپ کر بنا لیتی ہے تصویریں
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی لوگ بھلائیاں کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور وہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں

اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَ ۔ (المومنون : 61) (یہی لوگ بھلائیاں کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور وہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ ) ان آیات سے پہلے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کی مال واولاد میں اضافہ فرماتے ہیں اور روزبروز ان کی دولت بڑھتی چلی جاتی ہے تو وہ بجائے اسے آزمائش سمجھنے کے اللہ کا انعام سمجھنے لگتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے خیر میں اضافہ فرما رہے ہیں۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ خیر اور بھلائی میں اضافہ مال واولاد میں اضافے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے تو دل و دماغ میں تبدیلی کا برپا ہونا ضروری ہے۔ دنیا کے حریص اسبابِ دنیا کے معمولی خسارے سے پریشان ہوجاتے ہیں اس خسارے کو دور کرنے کے لیے انھیں اگر دوسروں کے کھنڈرات پر اپنی عظمت کی عمارت اٹھانی پڑے، اپنی تجوری بھرنے کے لیے دوسروں کی قوت لایموت چھیننی پڑے، اپنے سامانِ عیش ونشاط کی فراوانی کے لیے دوسروں کی ہڈیوں کا تیل نکالنا پڑے تو انھیں کوئی تأمل نہیں ہوتاکیون کہ وہ کامیابی صرف اپنی ذات کی کامیابی سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں جو لوگ دنیا کی بہتری اور خیر کا سامان کرتے ہیں وہ اپنے لیے کم دوسروں کے لیے زیادہ جیتے ہیں۔ وہ ہر کام کرنے سے پہلے اپنے رب کے سامنے جواب دہی سے ڈرتے ہیں۔ دنیا میں نام نہاد عظمتوں کو تخت کبریائی پر فائز کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ وہ جو کچھ اللہ کے راستے میں دیتے ہیں اسے اپنی ذات کا ذریعہ بنانے کی بجائے اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس فکری تبدیلی سے جو عام رویہ جنم لیتا ہے اس کے نتیجے میں بھلائیاں آگے بڑھتی ہیں اور یہی درحقیقت اس فوزوفلاح کا راستہ ہے جس کی طرف اشارہ اس سورة کے آغاز میں بھی فرمایا گیا۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایک رجسٹر ہے جو بالکل ٹھیک ٹھیک بتادے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

وَلَانُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا وَلَدَیْنَا کِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ ۔ (المومنون : 62) (ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایک رجسٹر ہے جو بالکل ٹھیک ٹھیک بتادے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ) احساسات کی تسکین اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کے بعض احساسات کی تسکین کا سامان ہے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ کمزور طبیعتوں کی ڈھارس کا سامان بھی۔ مسلمان مخالفت وعناد کی جس صورتحال سے دوچار تھے اور جس میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا تھا اس میں کبھی کبھی بعض طبیعتوں میں یہ خیال پیدا ہونے لگتا تھا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ایمان اپنی قیمت مانگتا ہے اور مخالفین کا رد عمل بھی غیر فطری نہیں۔ کوئی شخص بھی اپنے آبائی خیالات اور دل و دماغ میں بیٹھے ہوئے تصورات کو آسانی سے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور جب تبلیغ و دعوت کے زور سے ان خیالات میں اصلاح یا تبدیلی کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ صرف سادہ ردعمل پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اکثر اوقات طاقت کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن جب یہ طاقت کا استعمال ظلم کی صورت اختیار کرجاتا ہے تو پھر ایمان کے راستے پر چلنے والوں کے دماغوں میں بعض دفعہ اندیشے تیرنے لگتے ہیں کہ ہم کب تک صبر و استقامت سے اس صورتحال کا مقابلہ کرسکیں گے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مخالفین کی طرف سے حالات کی یہ ابتری کیا رنگ لائے گی۔ چناچہ پیش نظر آیات کریمہ میں ایسے ہی احساسات کی تسکین کا سامان کیا گیا ہے۔ مخلص فداکاروں سے کہا گیا ہے کہ تم نے آج تک قربانی اور استقامت کی جو تاریخ رقم کی ہے وہ تمہاری دنیوی واخروی کامیابیوں کی ضمانت ہے۔ اللہ نے مومنوں سے فوزوفلاح کے جو وعدے کر رکھے ہیں تم انشاء اللہ ان سب سے نوازے جاؤ گے۔ رہا تمہارا یہ احساس کہ ممکن ہے آئندہ چل کر مخالفتیں اور اذیتیں اس طرح ناقابلِ برداشت ہوجائیں کہ تمہاری ہمت جواب دینے لگے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے اپنے بندوں کی ہمتوں سے بڑھ کر کبھی ان پر بوجھ نہیں ڈالا۔ وہ اپنے بندوں کی ہمتوں کو جانتا ہے۔ وہ انسانی فطرت اور انسانی جذبوں اور صلاحیتوں کا خالق ہے اس لیے اس سے بڑھ کر ان کی حدود کا جاننے والا اور کون ہے ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت کے پہلے جملے میں ان کی ہمتوں کا اعتراف بھی ہے اور حالات میں تبدیلی کا اشارہ بھی۔ اصحابِ ایمان میں سے وہ لوگ جو سابقون جیسی ہمت و عزیمت کے مالک نہیں ہوتے۔ وہ حالات کو دیکھ کر بعض دفعہ دل گرفتہ ہونے لگتے ہیں کہ ہم کب تک ان مخالفتوں کا سامنا کرسکیں گے۔ انھیں یہ کہا جارہا ہے کہ تمہیں جن مصائب کا سامنا ہے وہ تمہاری ہمتوں سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا مکلف نہ بناتا اور دوسری بات یہ ہے کہ انفرادی کمزوریوں سے تو پروردگار بھی درگزر فرماتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کی مشترک اور عمومی ہمتوں کے حوالے سے کوئی شخص جب کمزوری کا اظہار کرتا ہے تو اس سے یقینا یہ پوچھا جائے گا کہ آخر دوسرے مسلمان جن کے ایمان و استقامت کی تاریخ تم سے بھی دراز ہے وہ ان مصائب کو کیسے برداشت کرتے رہے ہیں ؟ اگر یہ صورتحال تکلیفِ مالا یطاق ہوتی تو وہ بھی ہمت ہار دیتے۔ لیکن انھوں نے آج تک ہمت نہیں ہاری۔ آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے راستے میں عزیمت و استقامت کی تاریخ رقم کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا ایک ایک عمل اور ایک ایک قربانی ایک کتاب یعنی نامہ عمل میں محفوظ کی جارہی ہے۔ اور اگر کہیں کسی نے کوئی کمزوری دکھائی ہے تو وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ قیامت کے دن اس نامہ عمل کی ایک ایک پرت کھلے گی اور ایک ایک سطر اور ایک ایک لفظ بولے گا اور شہادت دے گا اور اسی کے مطابق اجر وثواب سے ہر شخص کو نوازا جائے گا۔ اس دن اجر وثواب کی وسعت اور قدروقیمت کو دیکھ کر قربانیوں کے راستے پر چلنے والے تمنا کریں گے کاش ! ہماری کھالیں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں تو آج ہم ان کا بھی بیش ازبیش صلہ پاتے۔ اس نامہ عمل کی اگر صحیح کیفیت کو معلوم کرنا ہو تو سورة کہف کی اس آیت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِھٰذَا الْکِتٰبِ لاَ یُغَادِرْ صَغِیْرَۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰھَا ج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ط وَلاَ یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحْدًا۔ ” اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا پھر تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اس کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے۔ اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری بدبختی یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی یا بڑی حرکت ایسی نہیں رہ گئی جو اس میں درج نہ ہو وہ جو کچھ انھوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم کرنے والانھیں ہے “۔ (الکہف : 49)
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

بلکہ ان لوگوں کے دل اس چیز سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اعمال ان کے ماسوا ہیں وہ انھیں کاموں کو کرتے رہیں گے

بَلْ قُلُوْبُھُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ مِّنْ ھٰذَا وَلَھُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِکَ ھُمْ لَھَا عٰمِلُوْنَ ۔ (المومنون : 63) (بلکہ ان لوگوں کے دل اس چیز سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اعمال ان کے ماسوا ہیں وہ انھیں کاموں کو کرتے رہیں گے۔ ) مترفین کی گمراہی اور تباہی کا سبب آیت نمبر 54 اور 55 میں متکبرین اور متمردین کے ایک مغالطہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ جس نے ان کی فکری اور عملی زندگی کو تلپٹ کرکے رکھ دیا اور وہ اپنے مغالطہ میں اس حدتک جکڑے ہوئے تھے کہ اس سے مختلف کسی بہتر سے بہتر بات کو بھی سننے کے روادار نہ تھے۔ اس مغالطہ کے تحت ان میں جو سب سے بڑی خرابی پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ انھوں نے اپنی دولت و رفاہیت کو اپنے برسر حق ہونے کی دلیل بنالیا اور اسی کو اللہ کی رضا کی علامت سمجھا۔ پروردگار نے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کیلیے ان لوگوں کی زندگی کے نمونے ان کے سامنے رکھے جو دولت و رفاہیت اور مادی زندگی کے ٹھاٹھ باٹھ کے اعتبار سے بالکل نادار اور تہی دامن ہیں۔ لیکن انسانیت کا حسن، نیکی کا وقار اور مکارمِ اخلاق کی عظمت انھیں کے دم سے قائم ہے اور یہی لوگ ہیں جس سے انسانی قافلے کی بقا وابستہ ہے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ مال دار اور مادہ پرست لوگوں کا وہ رویہ جس نے انسانیت کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے اس کا حقیقی سبب یہ ہے کہ وہ نہ قیامت کے آنے پر یقین رکھتے ہیں اور نہ اللہ کے سامنے جوابدہی کو حقیقت سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی زندگی کے تمام اعمال وہ ہیں جو مادہ پرستی کے نتیجے میں پیدا ہوتے اور ان کی ترجیح بن جاتے ہیں۔ چونکہ انھیں کسی جواب دہی کا احساس نہیں اس لیے وہ لطف ولذت اور عزت و طاقت کے فلسفے کے سوا کسی اور فلسفے کے قائل نہیں۔ وہ عمل جو قربانی اور ایثار پر مبنی ہو وہ ان کے نزدیک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ البتہ ! جس عمل سے خواہشات کا پیٹ بھر اجاسکتا ہو۔ وہ ان کے دل کی آواز ہے۔
Ayahs 23:64–65

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو اس وقت وہ چِلّائیں گے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

آج نہ چِلّائو اب ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی

حَتّٰیٓ اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْھِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا ھُمْ یَجْئَرُوْنَ ۔ لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ اِِنَّکُمْ مِّنَّا لَا تُنصَرُوْنَ ۔ (المومنون : 64، 65) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو اس وقت وہ چِلّائیں گے۔ آج نہ چِلّائو اب ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ ) مترفین کا انجام اللہ کے سامنے جوابدہی سے بےنیاز ہو کر چونکہ ان کی ترجیحات بدل گئی ہیں اور ان کے اعمال بالکل دوسری روش اختیار کرچکے ہیں۔ ان کی ذہنی اور عملی حالت اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ وہ اپنے رویے سے مختلف بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور یہ لوگ اپنے معاشرے کی جو صورت آرائی کرچکے ہیں اس میں امرا وغربا کے دومختلف طبقے اس طرح اپنی جڑیں بنا چکے ہیں گویا وہ انسانی زندگی کے لازمے ہیں۔ اس معاشرے کو لیڈ (Lead) کرنے والا اور رہنمائی کرنے والا وہ بالادست طبقہ ہے جس کو اس آیت میں مترفین کہا گیا ہے۔ حقیقت میں ان تمام خرابیوں کی اگر ذمہ داری کسی پر ڈالی جاسکتی ہے تو وہ یہی مترفین کا گروہ ہے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ چونکہ نصیحت وفہمائش کے مرحلے سے گزر چکے ہیں اس لیے اب ایک ہی صورت ہے کہ ان کے خوشحال طبقے پر اللہ کا عذاب نازل ہو۔ وہ اس وقت یقینا تکبر اور تمرد کی تصویر بنے ہوئے ہیں لیکن جب ان پرا للہ کی گرفت آئے گی اور پھر وہ اس طرح آہ وبکا کریں گے بلکہ اس طرح چلائیں گے جس طرح بیل ذبح ہوتا ہوا ڈکراتا ہے کیونکہ ” جوأر “ بیل کی آواز کو کہتے ہیں۔ تو ان کی اس آہ وزاری اور بےتحاشہ چیخنے پر کوئی رحم نہیں کھایاجائے گا بلکہ اللہ کی طرف سے آواز آئے گی کہ آج چیخنے اور چلانے کی کوشش نہ کرو۔ ہمارے رسول نے تمہیں سمجھانے بجھانے کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا۔ خونِ جگر پی پی کر تمہارے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا۔ تمہاری گالیوں پر تمہارے لیے دعائیں کی۔ لیکن تم نے ہمارے رسول کی بات سن کر نہ دی۔ تم اپنے تکبر اور تمرد میں اس حد کو پہنچ گئے ہو کہ کسی طرح کا رحم اور ہمدردی کے تم مستحق نہیں رہے کیونکہ جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے تو پھر دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں جس طرح فرعون نے ڈوبتے ہوئے اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کیا تاکہ اللہ سے رحم کی بھیک مانگے لیکن صاف فرمایا گیا کہ اب تمہیں اللہ پر ایمان یاد آیا اس سے پہلے تم انتہا درجے کے نافرمان اور مفسد رہے ہو، اب تم پر رحم نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 23:66–67

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

وہ وقت یا دکرو) جب ہماری آیتیں تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جایا کرتے تھے

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

غرور وتکبر کرتے ہوئے۔ گویا کسی افسانہ گو کو چھوڑ رہے ہو

قَدْ کَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ تَنْکِصُوْن۔ مُسْتَکْبِرِیْنَ صلے ق بِہٖ سٰمِرًا تَھْجُرُوْن۔ (المومنون : 66، 67) (وہ وقت یا دکرو) جب ہماری آیتیں تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جایا کرتے تھے۔ غرور وتکبر کرتے ہوئے۔ گویا کسی افسانہ گو کو چھوڑ رہے ہو۔ ) جب ان کے مترفین پر عذاب آئے گا تو وہ چیختے چلاتے ہوئے اللہ کو مدد کے لیے پکاریں گے۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ مدد مانگنے کا تو وہ وقت تھا جب تم پر اللہ کا رسول اللہ کی کتاب کی آیات پڑھ کر سناتا تھا اور تمہارے عقائد و اعمال پر نہایت مخلصانہ تنقید کے ساتھ تم پر تمہاری کو تاہیاں واضح کرتا تھا۔ لیکن تمہارا حال یہ تھا کہ وہ تمہاری عاقبت سنوارنے کے لیے تمہارے پیچھے پیچھے ہوتالیکن تم نہایت تکبر اور غرور کے ساتھ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے اور آنحضرت ﷺ کو کوئی مناسب مقام دینا تو دور کی بات ہے تم اس طرح چھوڑ کر بھاگتے تھے گویا آپ کوئی قصہ گو ہیں جو اللہ کی کتاب پڑھ کر نہیں سنا رہے بلکہ قصے کہانیاں سنا رہے ہیں۔ آیت کی تالیف آیت کے آخری حصے کا یہ مفہوم جو ہم نے بیان کیا ہے اس صورت میں ہے کہ بہٖ کی ضمیر مجرور کا مرجع رسول ہو۔ رسول کا ذکر اگرچہ الفاظ میں نہیں لیکن فحوائے کلام سے متبادر ہوتا ہے اور ” سامر “ کو یا تو ” تھجرون “ کا مفعول بنایاجائے اور یا ضمیر مجرور سے حال ٹھہرایا جائے۔ ترکیب کی دوسری صورت یہ ہے کہ ” سامراً “” مستکبرین “ سے حال ہے۔ یہ مفرد ہے جو جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جس طرحثم نخرجکم طفلاً میں طفل مفرد ہے لیکن اس کا معنی اطفال ہے۔ اس صورت میں آیت نمبر 67 کا مفہوم یہ ہوگا کہ آنحضرت ﷺ جب ان کے سامنے قرآن کی آیتیں پڑھتے تھے تو وہ پیٹھ پیچھے بھاگ کھڑے ہوتے۔ غرور وتکبر کا رویہ اختیار کرتے اور صحن حرم میں چاندنی راتوں میں جب محفلیں جمتیں تو وہاں دنیا بھر کے قصے اور افسانے بیان ہوتے تو قرآن کریم کو بھی ایک افسانے کی طرح زیر بحث لایا جاتا اور آنحضرت ﷺ کی شان میں طرح طرح کی گستاخیاں کی جاتیں۔