Ayahs 23:12–14وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ق ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۔
(المومنون : 12 تا 14)
(بےشک ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے پانی کی بوند بنا کر ایک محفوظ مستقر میں رکھا۔ پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کا لوتھڑا بنایا، پھر ہم نے اس لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنادیا، پھر اس بوٹی سے ہڈیاں پیدا کردیں، پھر ہم نے ان ہڈیوں کو گوشت پہنادیا، پھر ہم نے اسے ایک دوسری ہی مخلوق بناکھڑا کیا، پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا۔ )
آیت کا پس منظر
قرآن کریم کے اصل موضوع کی طرح اس سورة کا موضوع بھی انسانی افکار و کردار کی اصلاح ہے۔ اس اصلاح کے حوالے سے اساسی صداقتوں کی تعلیم بھی دی گئی ہے اور ان کے مطابق تعمیرِ کردار کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے قبول نہ کرنے کے نتیجے میں ترہیب سے کام لیا گیا اور برے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔ ترغیب ہی کے سلسلے میں اسلام کی پیش کردہ اساسی صداقتوں سے وجود میں آنے والے کردار کے نمونوں کو بھی دکھایا گیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ قرآن کریم جس طرح کے انسان پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پیش نظر صفات سے متصف لوگ ہوتے ہیں اور اسی میں ایک انذار بھی مضمر رکھا گیا ہے۔ جو بہ ادنیٰ تأمل سمجھ میں آسکتا ہے کہ اگر اسلام کی تعلیم کا نتیجہ ایسے انسان ہیں جو یہاں بھی اور قیامت کے دن بھی اللہ کے افضال و عنایات کے مستحق ٹھہریں گے تو جو لوگ ان باتوں کو قبول نہیں کریں گے بلکہ انکار کی روش اپنا لیں گے وہ یقینا ایسے برے اوصاف کے حامل ہوں گے جو اللہ کے یہاں دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی ناراضگی کا سبب بنیں گے۔
گزشتہ آیات کریمہ میں مطلوب انسانوں کی تصویر کشی کی گئی اور ان کے سراپا کو مختلف صفات کے آئینہ میں نمایاں کیا گیا ہے اور پھر اس کے آخر میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یہی لوگ اللہ کے یہاں جنت الفردوس کے وارث ہوں گے اور گزشتہ سورة میں اس سے پہلے یہ بات ذکر کردی گئی ہے کہ یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ خلافتِ ارضی سے نوازے گا۔ جب غور و فکر کرنے والا اس کے دوسرے پہلو پر نظر کرتا ہے تو فوراً اس کے ذہن میں یہ بات سڑائیک (Strike) کرتی ہے کہ اگر ایسی صفات کے حامل لوگ دنیوی اور خروی کامیابیوں کے مستحق ٹھہریں گے تو جو لوگ ان صفات سے عاری ہوں گے وہ یقینا اللہ کی ناراضگی اور اس کے نتیجے میں ناکامیوں سے دوچار ہوں گے۔ اس لیے یہ کہنا چاہیے کہ ان آیتوں میں اگر مسلمانوں کے لیے بشارتیں ہیں تو کافروں کے لیے انذار کا پہلو بھی موجود ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ آیات دلائل کی حیثیت بھی رکھتی ہیں کہ دیکھ لو قرآن کریم کی پیش کردہ تعلیم اور تہذیب نے کیسے قابل فخر انسان پیدا کیے ہیں۔ انھیں دیکھ کر کوئی عقلمند آدمی اس تعلیم کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور مزید یہ بات کہ اسی تعلیم کے نتیجے میں دنیوی اور اخروی کامیابیوں کا راستہ کھلتا ہے تو جو شخص کامیابی کے راستے پر چلنا چاہتا ہے تو اس کے لیے بہت مشکل ہے کہ ان بنیادی صداقتوں سے صرف نظر کرسکے۔
متذکرہ بالا پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ قرآن کی پیش کردہ ان بنیادی صداقتوں کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں مکہ کے نہایت بگڑے ہوئے ماحول میں ایسے صالح اور صاحب کردار انسان وجود میں آئے ہیں جو انسانیت کا سرمایہ ہیں تو دیکھنا چاہیے کہ ان کے انکار کا بنیادی سبب کیا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیات میں اس بنیادی سبب کو متعین کرتے ہوئے اس کے رد اور انکار کے لیے مختلف دلائل دیئے گئے ہیں۔ جن میں سب سے پہلے دلائل انفس کا ذکر کیا گیا ہے۔
کفار کے انکار کا بنیادی سبب
ان کے انکار کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے آنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کی عقل میں یہ بات کسی طرح سما نہیں رہی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب سے اس زمین پر انسان آباد ہوا ہے اس وقت سے انسان پیدا بھی ہورہے ہیں اور اپنا وقت آنے پر مر بھی رہے ہیں اور جب تک اس زمین پر انسان آباد ہے اس وقت تک یہ موت وحیات کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ اگر قیامت کے آنے کا یہ مطلب ہے کہ اس کا وقوع دو مرحلوں میں ہوگا۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ تمام انسان ایک ہی صور کے پھونکے جانے سے ہلاک ہوجائیں گے۔ اندازہ کیجیے ! زمین کا کونسا گوشہ انسانوں سے خالی ہے تو کیا یہ بات قابل فہم ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک ہی آوز گونجنے سے زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات ہلاکت کی نذر ہوجائیں ؟ بلکہ زمین بھی ٹوٹ پھوٹ جائے، اس پر جمے ہوئے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں۔ چلیے اگر اس بات کو قبول بھی کرلیا جائے کہ ایک دن زندگی کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو قیامت کا دوسرا مرحلہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تمام انسان دوبارہ زندہ کیے جائیں گے ہر شخص اپنی قبر سے اٹھے گا اور میدانِ حشر کی طرف چلنا شروع کردے گا۔ یہ بات تو کسی طرح بھی عقل میں آنے والی نہیں کہ اربوں کھربوں سال میں مرنے والے انسان نجانے کہاں کہاں مرے اور کہاں کہاں دفن ہوئے اور پھر کتنے ایسے انسان ہیں جن کو قبر بھی میسر نہ آسکی اور جنھیں قبر ملی بھی وہ وقت کے ساتھ ساتھ مٹ گئی۔ قبرستان آبادیوں میں گم ہوگئے، آبادیاں بعض دفعہ زمین بوس ہوگئیں اور بعض دفعہ سیلاب انھیں بہا لے گیا۔ کتنے نئے جزیرے سمندر سے نکلے اور کتنے جزیرے سمندر میں ڈوب گئے۔ دریائوں نے کتنی دفعہ رخ بدلے اور کتنی دفعہ اپنے کنارے توڑتے ہوئے آبادیوں کو نگل گئے اور کتنی دفعہ پہاڑوں نے آتش فشانی کی اور ایسا لاوا اگلا جو انسانی بستیوں کو تباہ کرگیا۔ تو آخر یہ تمام تباہ ہونے والے جو اپنا نشان تک باقی چھوڑ کر نہیں گئے انھیں کیسے ازسر نو زندہ کیا جائے گا ؟ اور کس طرح سے ازسر نو انسانی آبادی وجود میں آئے گی اور میدانِ حشر اتنا عظیم کہاں ہوگا جو اربوں کھربوں سالوں کی مخلوق کو اپنے دامن میں جگہ دے سکے ؟ یہ وہ عقلی استبعادات ہیں جو ان لوگوں کو قیامت کے بارے میں یکسو ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ قیامت کی ایک ایک بات انھیں ناقابلِ وقوع اور ناممکن العمل دکھائی دیتی تھیں۔ قرآن کریم نے ایک ایک بات کا جواب دینے کی بجائے ایک ایسی جگہ انگلی رکھی ہے جہاں پانی مررہا ہے اور ایک ایسی بات پر گرفت کی ہے جو ان کی تمام گمراہیوں کا سبب ہے۔ وہ یہ ہے کہ تمہیں ان میں سے ہر بات ناممکن دکھائی دیتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے بارے میں نہایت محدود تصور رکھتے ہو اگر تمہیں اس کی قدرت کی وسعت کا اندازہ ہوتا اور اس کے بےپایاں ہونے کا کسی حد تک بھی یقین ہوتا تو تمہیں دنیا کی کوئی چیز جس کے بارے میں پروردگار خود ارشاد فرماتا ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا ناممکن دکھائی نہ دیتی۔
قرآن کریم نے اور بھی کئی مواقع پر کفار کی اسی بنیادی بیماری پر گرفت کی ہے اور اس کے لیے ایسی خوبصورت مثالیں چھوڑی ہیں کہ اگر کوئی شخص چشم بینا سے انھیں دیکھتا اور پڑھتا اور اس کی بصیرت موت کی نذر نہ ہوچکی ہوتی تو وہ کبھی بھی قیامت سے انکار نہ کرسکتا تھا۔ اصحابِ کہف کا تین سو سال تک سوئے رہنا اور پھر زندہ ہونا اور لوگوں سے ملاقات کرنا یہ بجائے خود کتنی بڑی دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کسی کو جب تک چاہے سلائے رکھ سکتا ہے اور جب چاہے اسے اٹھا سکتا ہے۔
حضرت عزیر (علیہ السلام) نے یروشلم کی حیران کن تباہی کو دیکھ کر بےساختہ یہ بات کہی تھی کہ یا اللہ اس مکمل تباہی کے بعد اس بستی کو تو کیسے زندہ کرے گا ؟ تو پروردگار نے انھیں سو سال تک کے لیے موت دے دی۔ سو سال کے بعد اٹھایا پوچھا کتنا عرصہ تم نے یہاں گزارا۔ کہا : شاید ایک دن یا دن کا ایک حصہ۔ فرمایا : نہیں، تم تو ایک صدی گزار چکے ہو۔ اب ذرا اپنی خوراک اور چھاگل میں اپنے پانی کو دیکھوجو تم ساتھ لے کر چلے تھے تاکہ راستے میں میں ان سے کام لوں گا۔ دیکھا کہ ان میں سڑاند تک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ وہ بالکل ویسے ہی تروتازہ تھے جیسے آپ گھر سے لے کر چلے تھے۔ پھر فرمایا : اب ذرا اپنے گدھے کو دیکھو۔ دیکھا تو اس کی ہڈی ہڈی جدا ہوچکی تھی۔ کھال کا نشان تک نہ تھا۔ فرمایا : دیکھو ہم کس طرح ہڈیوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ پھر کس طرح اس پر گوشت اور کھال چڑھاتے ہیں چناچہ ان کی آنکھوں کے سامنے گوشت چڑھنے کے بعد اچانک وہ گدھا کھڑ اہوکر بولنے لگا۔ حضرت عزیر زندگی اور موت کا راز تو کیا جانتے البتہ ! جس سبب سے ان کی زبان پر تعجب کا جملہ آگیا تھا اس کے حوالے سے فرمایا کہ اب میں خوب جان گیا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس آدمی کو یہ یقین حاصل ہے اسے اللہ تعالیٰ کے کسی کام پر کبھی شک وشبہ لاحق نہیں ہوسکتا۔ چناچہ پیش نظر آیات کریمہ میں بھی انسان کے اپنے وجود اور اپنے وجود کی تخلیق کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ تم اپنی پیدائش کے ایک ایک مرحلے پر غور کرو ان میں سے کون سا مرحلہ ایسا ہے جسے عقل باور کرسکتی ہے۔ لیکن آج چونکہ یہ سارے مراحل ہماری نظروں کے سامنے ہیں تو ہمیں ان کے وجود سے انکار نہیں۔
دلیل نفسی
سب سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی کہ ذرا غور کرو تمہارے جدِ امجد حضرت آدم (علیہ السلام) جنھیں اللہ نے خلافتِ ارضی سے نوازا اور جو زمین پر پہلے نبی اور رسول تھے انھیں ہم نے مٹی کے جوہر اور اس کے خلاصہ سے پیدا کیا تھا۔ یہ اللہ کی قدرت کا پہلا ظہور ہے کہ ایک شخص جسے مٹی کے خلاصے سے بنایا گیا اور قرآن کریم نے جس طرح سڑے ہوئے اور کھنکھناتے ہوئے گارے کا ذکر کیا ہے اس کو ذہن میں رکھیں تو تعجب میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے، یعنی مٹی کے خلاصے، سڑے ہوئے اور کھنکھناتے ہوئے گارے سے بننے والا وجود مسجودِ ملائک ٹھہرتا ہے، جنت میں مقام حاصل کرتا ہے پھر جنت ہی اس کی آخری قیام گاہ کے طور پر اس کا مطلوب بنادی جاتی ہے اور پھر دنیا کی نعمتیں اور عناصرِ قدرت کو اس کیلیے مسخر کردیا جاتا ہے اور پھر اسی پر بس نہیں اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک حیرت انگیز نظام وجود میں لایا جاتا ہے کہ اب نوع انسانی کا جو فرد شرفِ انسانی سے نوازا جائے گا اس کی ابتدا گندے پانی کی ایک بوند سے ہوگی۔ جو کپڑے کو لگ جائے تو کپڑا ناپاک ہوجاتا ہے اور پھر یہ پانی کی بوند اپنے اندر کوئی تخلیقی جوہر نہیں رکھتی بلکہ اس کے بننے اور وجود میں آنے کے لیے جن غذائوں نے کام کیا ہے وہ ساری مٹی سے پیدا ہوئی ہیں۔ اس لحاظ سے انھیں بھی مٹی کا جوہر کہا جاسکتا ہے اب اگر ایک سوچنے والا گہری نگاہ سے پانی کی اس بوند کے ایک ایک مرحلے کو دیکھے کہ وہ کس طرح ایک شخص کے جسم سے نکلتا ہے اور رحم مادر کے محفوظ مستقر میں اسے محفوظ کردیا جاتا ہے۔ رحمِ مادر میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اس میں کسی تبدیلی کا باعث بن سکے لیکن زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ یہی پانی کی بوند خون کی ایک پھٹکی میں تبدیل ہوتی ہے اور پھر یہی گاڑھا خون گوشت کے ایک لوتھڑے کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ مزید کچھ مدت گزرتی ہے تو وہ رحم مادر جس میں باہر کا کوئی عامل اپنا اثر پیدا نہیں کرسکتا۔ وہ دنیا کی ہر محفوظ چیز سے بڑھ کر محفوظ چیز ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اب تک کا عمل تو بالکل ویسا ہی تھا جیسا تمام حیوانوں میں جنین کی صورت میں وجود میں آتا ہے۔ لیکن اب اچانک یہ گوشت کا لوتھڑا ہڈیوں میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ اب اسے حیوانی نسل سے ممتاز کرکے نسل انسانی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ لیکن اب تک بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جسمِ انسانی کی ابتدا تو ہوگئی ہے لیکن حیات حیوانی کا وہی عمل جاری ہے جو اس سے پہلے رواں دواں تھا۔ لیکن اب نفس ناطقہ کے غلبے سے جنین جواب ایک جسم کی صورت اختیار کرگیا ہے اور جس کے اندر اب ایک حیات پیدا کردی گئی ہے اس نے اب ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ اسی سے متعلق فرمایا گیا : ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ” پھر ہم نے اسے ایک دوسری ہی مخلوق بناکر کھڑا کردیا “۔
البتہ ! یہ ضرور ہے کہ وضع حمل کے آغاز تک زندگی کی ابتدائی خصوصیات کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ نہ سماعت، نہ بصارت، نہ گویائی نہ عقل وخرد۔ لیکن جیسے ہی بچہ رحم مادر سے باہر آتا ہے تو جس طرح رحم مادر میں اس نے پانی کی بوند سے لے کر جسمِ انسانی اور حیات انسانی کا سفر مختلف مراحل میں طے کیا تھا اور ہر مرحلہ اپنے اندر غور و فکر کے بےپناہ مدارج رکھتا ہے۔ اسی طرح اب بھی اس کی زندگی کے مختلف مراحل کا سفر ایک نئی صورت میں شروع ہوجاتا ہے۔ اب بچہ ماں کی آغوش میں آتا ہے تو اسے کچھ پتہ نہیں کہ یہ میری ماں ہے۔ اسے یہ تک معلوم نہیں کہ میری غذا کہاں ہے۔ جب کہ حیوانات کے بچے پیدا ہوتے ہی بنیادی ضرورتیں حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ مرغی کا بچہ چند لمحوں کے بعد ماں کے پیچھے پیچھے چلنے لگتا ہے۔ بلی کے بچے جیسے ہی آنکھیں کھولتے ہیں تو ماں کے پستان ڈھونڈ لیتے ہیں۔ گائے اور بھینس کے بچے ایک مختصر وقفے کے بعد لڑکھڑاتے ہوئے ماں کے پستان چوسنے لگتے ہیں۔ لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں وہ نہ ماں کو پہچانتا ہے اور نہ باپ کو۔ قرآن کریم کہتا ہے : ھُوَالَّذِی اَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ اُمَّھَاتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا ” اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیـٹوں سے نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے “۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ حواس اپنا کام کرنے لگتے ہیں، آنکھیں دیکھنے لگتی ہیں، ہاتھ پکڑنے لگتے ہیں، کان سننے لگتے ہیں، ناک سونگھنے لگتی ہے، زبان چکھنے لگتی ہے۔ لیکن حواس کا یہ سفر بھی ایک تدریج کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ لڑکپن میں پہنچ کر بچہ حواس کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی کام لینے لگتا ہے۔ عقل کا سفر بھی آہستہ آہستہ ارتقاء پذیر ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص پانی کی بوند کا تصور کرکے اس من موہنے بچے کو دیکھے جس کی مسکراہٹ ہر دل میں پیار کو جنم دیتی ہے تو اسے کبھی یقین نہیں آئے گا (اگر وہ اس عمل سے واقف نہیں) کہ پانی کی ایک بوند سے اس طرح کا بچہ وجود میں آسکتا ہے اور پھر پنگھوڑے میں ہنستے اور روتے ہوئے بچے کو دیکھ کر کوئی آدمی اس لڑکے کا تصور نہیں کرسکتا جو اب سکول جاتا ہے علم کی ابتدائی باتیں سیکھتا ہے، دوڑتا، بھاگتا، کھیلتا اور شرارتیں کرتا ہے۔ پھر جیسے جیسے زندگی کا سفر آگے بڑھتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر ایک خودی ابھرنا شروع ہوتی ہے جو ہر چیز پر اپنا تحکم جتاتی اور اپنا زور منوانے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر یہ سفر اور آگے بڑھتا ہے تو کہیں ایجادات حیران کرنے لگتی ہیں، کہیں طلاقتِ لسانی اپنا رنگ دکھاتی ہے، کہیں انشا پردازی اپنا جوہر دکھاتی ہے اور کہیں ایک شخص قوموں کی تاریخ بنانے یا سنوارنے لگتا ہے۔ یہ حیران کن تبدیلیاں اور حیرت انگیز کمالات اس شخص میں دکھائی دیتے ہیں جس کی ابتدا پانی کی ایک بوند سے ہوئی تھی تو آدمی بےاختیار پکار اٹھتا ہے۔
فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ : ” پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا “۔ انسان جب دیکھتا ہے کہ پانی کی ایک بوند میں اللہ تعالیٰ نے کیسی حیرت انگیز تبدیلیاں کی ہیں اور پھر آخر میں ایک بالکل نئی مخلوق کی شکل میں پیدا فرمایا جس کا پہلے مراحل کو دیکھ کر اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اولاً تو انسان کا وجود بجائے خود اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے لیکن پھر اس کے اندر حواس کا پیدا ہونا پھر جوہرِ عقل کے فانوس کا جلنا اور پھر رفتہ رفتہ ایسے کمالات کا جنم لیناجن میں غور و فکر کی صلاحیتیں بھی ہیں اور تسخیرِ کائنات کے حوصلے بھی اور حکمرانی کی امنگیں بھی ہیں اور سب کچھ ہوتے ہوئے فقر و درویشی کا سوز و گداز بھی اور پھر آخر میں ایک ایسا مرحلہ آتا ہے کہ جب ان کمالات کا حامل، دنیا کو اپنی شخصیت کے طلسموں سے حیرت میں ڈال دینے والا، جب زندگی کے آخری مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو شخصیت کی رعنائیاں ڈھلنے لگتی ہیں، زبان وبیان کے جوہر دکھانے والا قوت گویائی سے محروم ہونے لگتا ہے۔ حسن تدبر سے ہر مشکل سے مشکل مرحلے میں عقدہ کشائی کرنے والا بچوں جیسی حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں بہت کچھ جاننے والا علم کی ہر خوبی سے محروم ہوجاتا ہے تو بےساختہ آدمی کی زبان سے نکلتا ہے کہ پاک ہے اللہ اور بابرکت ہے جو بہترین پیدا کرنے والا ہے۔
تَبٰرَکَ اللّٰہُ کے الفاظ کا اردو زبان میں ٹھیک ترجمہ کرنا ممکن نہیں۔ اس کے استعمالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نہایت مقدس اور منزہ ہے اور دوسرا یہ کہ وہ اس قدر بھلائی اور خوبی کا مالک ہے کہ تم اس کی انتہا کو نہیں پاسکتے۔ اس کے مقدس اور منزہ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ کیا جائے اور اس کے حسن و خوبی میں بےمثال ہونے کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کے بارے میں کسی عجز ونقص کو فسادِ عقل سمجھا جائے اور کبھی اس وہم کو قریب نہ آنے دیا جائے کہ وہ دوبارہ مخلوقات کو پیدا نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اس کے عجز کی دلیل ہے۔
اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْن کا مفہوم
اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ کا ترجمہ عموماً کیا جاتا ہے ” سب سے بہترپیدا کرنے والا “ کیونکہ ” احسن “ خالقین کی طرف مضاف ہے۔ پھر اس پر ایک اعتراض ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق اور بھی ہیں۔ البتہ ! اللہ تعالیٰ ان سب میں بہتر ہے جبکہ توحید کا تقاضا یہ ہے کہ اس بات کا یقین رکھا جائے کہ صرف اللہ ہی کی ذات خالق ہے اس کی صفت تخلیق میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ علماء کرام نے اس کا جواب دیتے ہوئے یہ کہا کہ خلق کا لفظ دراصل دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
1 کسی چیز کو کسی موجود مادے اور سابقہ مثال کے بغیر پیدا کرنا۔ اس معنی کے لحاظ سے صرف اللہ تعالیٰ ہی کی یہ صفت ہے جو کسی اور میں نہیں پائی جاسکتی۔
2 دوسرا معنی اس کا یہ ہے کہ کسی سابقہ مادہ سے کسی چیز کو کسی موجود مثال کے مطابق بنالینا۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں میں بھی پائی جاسکتی ہے اور اسی حوالے سے دوسروں کے لیے اس لفظ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ ” افعلُ “ کا لفظ جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ جب مضاف ہوتا ہے بشرطیکہ اس کا مضاف الیہ جمع ہو تو عموماً ترجیح اور تفضیل کے معنی سے مجرد ہو کر استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی یہ تفضیل سے مجرد ہو کر استعمال ہوا ہے اس لحاظ سے ہم اس کا ترجمہ یہ نہیں کریں گے کہ وہ سب پیدا کرنے والوں میں بہتر ہے بلکہ ہم اس کا ترجمہ کریں گے کہ ” وہ بہترین پیدا کرنے ولا ہے “۔ ایسی صورت میں کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔
Ayahs 23:15–16ثُمَّ اِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ۔ ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تُبْعَثُوْنَ ۔ (المومنون : 15، 16)
(پھر یقینا تم ان مرحلوں سے گزرنے کے بعد مرنے والے ہو۔ پھر بلا شبہ تمہیں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ )
بحث کا نتیجہ
زندگی کے تمام مراحل جن جن سے انسان اپنی تخلیق سے گزرا ہے ان تمام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس زندگی کا آخر ایک دن خاتمہ ہوجاتا ہے اور تم فرداً فرداً اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور تمہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا کیونکہ تم جانتے ہو کہ دنیا کی ہر چیز ایک دن ختم ہونی ہے اور ہماری زندگی کا بھی یہ آخری مرحلہ ہے۔ لیکن اگر تم پانی کی ایک بوند سے لے کر اپنی زندگی کے تمام مراحل پر غور کرو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ ان میں سے کوئی مرحلہ بھی پہلے مرحلے کا منطقی جواب نہیں بلکہ سراسر اللہ کی قدرت کا ظہور ہے۔ یہاں موت حیات کا نتیجہ نہیں اور نہ حیات موت کا پیش خیمہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ انسان پر باقی مخلوقات کی طرح عدم محض طاری تھا، اللہ نے محض اپنی قدرت سے اسے زندگی بخشی اور پھر وہ زندگی کے مختلف مراحل سے اسی کی رحمت اور قدرت سے کامیابی سے گزرا، اگر وہ ان میں سے ایک ایک مرحلے پر غور وفکر کرتا تو اس کا اللہ کی قدرت پر یقین بڑھتا رہتا۔ لیکن اس نے اپنی نادانی سے ان تبدیلیوں کو حالات کا نتیجہ سمجھا۔ لیکن اب قرآن کریم تمام نوع انسانی کو دعوت دے رہا ہے کہ تم اپنی زندگی کے تغیرات اور تطورات پر فکر اور تدبر کی نگاہ ڈالو اور پھر فیصلہ کرو کہ کیا ان میں سے ہر تبدیلی اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے یا نہیں ؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر تمہاری فکر کو موت پر رک نہیں جانا چاہیے بلکہ اس کا اقرار کرنا چاہیے کہ جس قدرت نے تمہیں پانی کی بوند سے حیرت انگیز صلاحیتوں کی مالک مخلوق بنایاوہی پروردگار موت کے بعد تمہیں برزخ میں رکھے گا اور جب قیامت کا صور پھونکا جائے گا تو تمہیں ازسر نو زندہ کرکے جواب دہی کے لیے میدانِ حشر میں لے جائے گا اور ان میں سے کوئی مرحلہ بھی اس کی قدرت سے بعید نہیں۔
Ayah 23:17وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ صلے ق وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ ۔ (المومنون : 17)
(اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہہ بہ تہہ آسمان بنائے اور ہم اپنی مخلوق کی مصلحتوں سے بیخبر نہ تھے۔ )
انسان کے آغاز اور اس کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنے اس نظام ربوبیت کا ذکر فرمارہا ہے جس سے انسان کی بقا وابستہ ہے۔ اس میں انسانوں پر کیے جانے والے احسانات کا ذکر بھی ہے اور اس کی قدرت کا اظہار بھی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھتے ہوئے یہ بات محض حماقت معلوم ہوتی ہے کہ جو پروردگار مٹی کے ست اور پانی کی ایک بوند سے انسان جیسی مخلوق پیدا کرسکتا ہے جس کے کمالات نے زمین کی وسعتوں کو نہ صرف جکڑ رکھا ہے بلکہ ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ اس کے بارے میں یہ سمجھنا کہ وہ انسانوں اور دوسری مخلوقات کو فنا کردینے کے بعد ازسر نو زندہ نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ربوبیت کی صورت میں اپنے بیشمار احسانات میں سے چند احسانات کا ذکر فرماکر انسانوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جس پروردگار نے انسان کی جسمانی زندگی کی بقا کے لیے اس قدر احسانات کیے ہیں کیا وہ اس کی معنوی اور روحانی زندگی کو اجر وثواب اور مکافاتِ عمل کے بغیر چھوڑ دے گا ؟ اور اگر ایسا ہوا تو یہ انسانی زندگی پر بہت بڑا ظلم ہوگا جبکہ اللہ جیسی محسن ذات اپنی مخلوق پر کبھی ظلم نہیں کرسکتی۔
طَرَآئِق کا مفہوم
اس نے اپنی قدرت کے ظہور اور اپنے احسانات کے سلسلے میں سب سے پہلے سَبْعَ طَرَآئِق کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ طرائق، طریقۃٌ کی جمع ہے۔” اَسِرَّۃٌ“ یعنی دھاریوں کے معنی میں آتا ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ ظاہر ہے صفت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بھی صفت کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے۔ یعنی دھاریوں والے سات آسمان۔ مراد اس سے آسمان کی رنگا رنگی اور بو قلمونی ہے۔
دوسرا معنی یہ ہے کہطَرَآئِق، طَرَقَ سے ہے۔ عرب جب کسی چیز کو دوسری چیز کے اوپر رکھتے ہیں تو کہتے ہیں طارقتُ الشئی ای جعلت بعضہ علی بعض اور اگر ایک کپڑے کو دوسرے کپڑے کے اوپر پہنیں تو کہتے ہیں طارق بین ثوبین ای لبس احد ھما علی الاخر خلیل اور فراء نے اس کا یہی معنی کیا ہے۔ اس صورت میں اس کا یہ معنی ہوگا تہہ بہ تہہ سات آسمان۔ اس طرح سے یہ دونوں معنی یکساں ہیں۔
تیسرا معنی یہ ہے کہ طرائق، طریق کی جمع ہے جس کا معنی ہیں ” راستے “۔ تو اس صورت میں اس کا مطلب ہوگا ” سات سیاروں کی گردش کے راستے “۔ جن کے اوپر وہ مصروفِ حرکت رہتے ہیں۔
چوتھا معنی یہ ہے کہ اس سے مراد طبقات ہیں۔ سبع سموات طباقاً ۔ تو یہ وہی معنی ہے جو پہلے گزر چکا ہے یعنی سات تہہ بہ تہہ آسمان۔ ان آسمانوں کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ سائنس دانوں کی تحقیق ابھی تک آسمانوں تک نہیں پہنچ سکی۔ لیکن ہر مذہب نے اپنے ماننے والوں کو اس کی خبر دی ہے اور قرآن کریم نے ہمیں اس کے وجود اور اس کی وسعتوں کا یقین دلایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہ زمین پر بسنے والی مخلوقات کے لیے آسمانوں کا وجود بہت سے فوائد کا ذریعہ ہے۔ اس لحاظ سے وہ ہمارے لیے بہت بڑا اللہ کا احسان ہے اور مزید یہ بات بھی کہ وہ اللہ کی قدرت کا ایسا ظہور ہے جس کو سمجھنے سے بھی عقلیں عاجز ہیں۔ وہ بغیر ستونوں کے کھڑا ہے جس میں کہیں کوئی دراڑ نہیں۔ جس کی وسعتوں کو ناپا نہیں جاسکتا۔ انسانوں کو قیامت کے بپا ہونے میں تأمل ہے جبکہ آسمانوں کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے کہیں بڑھ کر اللہ کی قدرت کا ظہور ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے فرمایا : لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس ” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے “۔
آیت کے دوسرے جملے کا مفہوم
آیت کے دوسرے جملے میں ارشاد فرمایا کہ ہم اس تخلیق سے غافل نہیں تھے۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ہم نے سات آسمان پیدا فرمائے اور ان کی تخلیق کسی اناڑی کے ہاتھوں سے نہیں ہوئی بلکہ ہم نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق نہایت علم و حکمت سے انھیں پیدا فرمایا۔ اس میں بیشمار سیارے محو پرواز ہیں۔ ان میں نظم و ترتیب اس انداز کی ہے کہ آج تک اس میں کمی بیشی نہیں ہوسکی۔ اس کے نظام میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ہر غور وفکر کرنے والے کو اس کار عظیم میں ایک مقصدیت نظر آتی ہے جو بنانے والے کی حکمت پر دلالت کرتی ہے۔
دوسرا مفہوم اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح ہماری ہر مخلوق ہماری قدرت کا ظہور ہے اسی طرح ہم اپنی مخلوقات کے لیے بےپایاں ربوبیت کا فیضان بھی رکھتے ہیں۔ ہم نے جہاں جہاں جس مخلوق کو بھی پیدا کیا ہے ہم اس کی ضروریات سے کماحقہٗ آگاہ ہیں۔ ہم نے اپنی ہر مخلوق کو اس کی زندگی کے موافق ماحول مہیا کیا ہے اور اس ماحول کے مطابق اسے مخصوص صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ منطقہ باردہ کا ریچھ منطقہ حارہ میں نہیں پایا جاتا اور منطقہ حارہ کا کوئی جانور منطقہ باردہ میں نہیں پایا جاتا۔ مچھلیاں پانی میں پیدا کی گئی ہیں تو انھیں تیرنا سکھایا اور پرندے فضا میں پیدا کیے گئے ہیں تو انھیں اڑنے کے لیے پر دیئے گئے ہیں اور ہر ایک کی روزی کا اس کے دائرہ کار میں انتظام کیا گیا ہے۔ اسرائیلی روایات میں کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب نبوت سے نوازا گیا اور پھر فرعون کو ہدایت دینے کے لیے اس کے پاس جانے کا حکم دیا گیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی کہ مجھے حکم کی تعمیل میں بالکل کوئی تأمل نہیں، البتہ ! اتنی اجازت چاہتا ہوں کہ میں پیچھے دو پہاڑوں کے درمیان اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ آیا ہوں، میں انھیں سردی سے بچانے کے لیے آگ ڈھونڈتا ہوا یہاں پہنچا تھا کہ یہاں مجھ پر احسانات کی بارش کردی گئی۔ اب یہ مزید احسان کیا جائے کہ میں انھیں کسی محفوظ ٹھکانے پر پہنچا کر پھر فرعون کے پاس جانے کی کوشش کروں۔ تو پروردگار نے فرمایا کہ موسیٰ ! تم کیا سمجھتے ہو کہ ہمیں تمہارے بیوی بچوں کی فکر نہیں ؟ ہم تو اپنی ہر مخلوق کے بارے میں آگاہی بھی رکھتے ہیں اور فکر بھی رکھتے ہیں۔ پھر حکم دیا جس چٹان پر کھڑے ہو اس پر اپنا عصا مارو۔ چٹان پھٹی اس کے نیچے ایک اور چٹان نظر آئی کہا : اس پر بھی عصا مارو۔ تو نیچے ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ حکم ہوا اس پر بھی عصا مارو۔ وہ پتھر پھٹا تو اس میں ایک جانور نظر آیاجو گھاس کی سبز پتی منہ میں لیے کھارہا تھا۔ پروردگار نے فرمایا : اس جانور کو تین چٹانوں کے نیچے ہمارے سوا کون جان سکتا ہے ؟ تو اسے روزی کون پہنچا سکتا ہے ؟ ہم اگر اس جانور کو روزی دیتے ہیں تو کیا تمہارے بیوی بچوں کو روزی نہ دیں گے ؟ اور ان کے بچائو کا سامان نہیں کریں گے ؟ اس آیت کریمہ میں بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی مخلوق کی ضروریات سے اور وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کی جگہ سے غافل نہیں۔ ہم ہر ایک کو جانتے ہیں اور ہر ایک کی ضروریات بہم پہنچاتے ہیں۔
Ayah 23:18وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً م بِقَدَرٍ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِصلے ق وَاِنَّا عَلٰی ذَھَابٍم بِہٖ لَقٰدِرُوْنَ ۔ (المومنون : 18)
( اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا ایک اندازہ کے مطابق اور پھر ہم نے اس کو زمین میں ٹھہرادیا۔ اور یقینا ہم اسے لے جانے پر بھی پوری طرح قادر ہیں۔ )
اہتمامِ ربوبیت کی ایک مثال
اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد بھی لیے جاسکتے ہیں۔ ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہم نے آغاز آفرینش میں آسمان سے پانی برسایا اور اس اندازے سے برسایا کہ زمین پر بسنے والی مخلوقات کے لیے قیامت تک کمی نہ آنے پائے۔ اللہ کا بےپایاں علم ہی جان سکتا تھا کہ قیامت تک زمین پر بسنے والی مخلوقات کی ضروریات کیا ہوں گی۔ چناچہ کوئی نہیں جانتا کہ زمین پر آبادی کو کتنا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن زمین کا کوئی گوشہ آج تک پانی کی کمیابی کا شکار نہیں ہوا۔
آسمانوں سے جب پانی برسا تو نشیبی علاقوں میں پانی کو روک دیا گیا جس سے سمندر اور دریاوجود میں آئے، جھیلیں پھیلا دی گئیں، زیر زمین پانی کے ذخیرے ٹھہرا دئیے گئے اور پھر حیرت انگیر انتظام یہ کیا گیا کہ پانی کے ذخیروں سے پانی بھاپ بن کر اڑتا ہے اور ابر کی چادروں کی صورت میں فضا پر چھا جاتا ہے۔ زمین پر جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں ہوائیں کھینچتے ہوئے اسے لے جاتی ہیں اور پانی برسا دیتی ہیں۔ موسم بدلتے ہیں، سردیوں میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جما دی جاتی ہے اور گرمیوں میں وہی برف پگھل کر کہیں چشموں کی صورت میں پانی ابلتا ہے، کہیں آبشاریں گرتی ہیں۔ پھر یہی پانی ندی نالوں میں پہنچ کر آبیاری کا سامان کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہائیڈروجن اور آکسیجن دو گیسیں ملتی ہیں تو پانی وجود میں آتا ہے۔ اولاً تو یہ بات حیران کن ہے کہ ان دو گیسوں کو ایک خاص تناسب سے کون ملنے کا حکم دیتا ہے جس سے پانی وجود میں آتا ہے ؟ کیونکہ اگر وہ تناسب بگڑ جائے تو پیدا ہونے والے مرکبات زہر ہوتے ہیں۔ اور دوسری بات اس سے بھی حیران کن ہے کہ پانی جب بھاپ بن کر ہوا میں اڑ جاتا ہے تو اس وقت کون ہے جو آکسیجن اور ہائیڈروجن کو الگ الگ ہوجانے سے روکے رکھتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ربوبیت ہے جو صرف اسی کے حکم کے تابع ہے۔ اگر یہاں کوئی اور خدا ہوتا تو نہ دونوں گیسیں ایک تناسب سے آپس میں ملنے پاتیں اور اگر وہ مل جاتیں تو ان کو کوئی الگ الگ نہ کرسکتا۔
دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آج بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر پانی برستا ہے۔ اگر زمین اسے اپنی مرضی سے چوس لیتی اور ایک قطرہ بھی باقی نہ چھوڑتی تو زمین دلدل بن جاتی۔ کسی چیز کے پیدا ہونے کا تو کیا امکان، انسانوں کے رہنے کے قابل بھی نہ رہتی اور اگر وہ سارا پانی اگل دیتی اور اپنے سینے کو سخت کرلیتی تو آبیاری نہ ہونے کے باعث کوئی چیز پیدا نہ ہو پاتی۔ تو زمین پر بسنے والی مخلوقات ضروریاتِ زندگی نہ ملنے کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ایک اندازے سے پانی برساتے ہیں پھر آبیاری کے لیے جتنی ضرورت ہوتی ہے اسے روک لیتے ہیں حالانکہ اگر ہم چاہیں تو سارا پانی دوبارہ ندی نالوں میں لے جانے پر قادر ہیں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم پانی کو ختم یا خشک کردینے پر بھی قادر ہیں اور یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم پانی کو زمین کے اتنا نیچے اتاردیں کہ کوئی کنواں، کوئی ٹیوب ویل اس کا سراغ نہ لگاسکے۔ یہ سراسر اللہ کی ربوبیت ہے کہ جس طرح ماں اپنے بچے کی نگرانی کرتی اور کھلانے پلانے کا بندوبست کرتی ہے اللہ بھی اپنی مخلوقات کی اسی طرح دیکھ بھال کرتا ہے۔
Ayah 23:19فَاَنْشَاْنَالَکُمْ بِہٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ م لَکُمْ فِیْھَا فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (المومنون : 19)
(پس ہم نے اس پانی سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں (جن سے تم لطف اندوزہوتے ہو) اور انھیں باغوں سے تم روزی بھی حاصل کرتے ہو۔ )
اہتمامِ ربوبیت کی مزید مثالیں
اللہ کے بیشمار احسانات میں سے چند احسانات یہ ہیں کہ اس نے تمہارے لیے زمین پر ایسے باغات پیدا فرمائے، جن میں پیٹ کی آگ بجھانے اور کام ودہن کی لذتوں کو پورا کرنے کے لیے قسم قسم کے پھل اور غلے پیدا کیے۔ عرب میں پھلوں کی اصل حیثیت تو کھجور اور انگور کو حاصل تھی۔ لیکن اس کے علاوہ بھی اور مختلف قسم کے پھل پائے جاتے تھے۔ جس سے عرب لطف ولذت حاصل کرتے تھے۔ اہل عرب کے ہاں ایک اچھے باغ کا جو تصور پایا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ انگوروں کا باغ ہو اور اس کے کنارے کنارے کھجوروں کی باڑ ھ ہو۔ کھجور چونکہ ایک سخت جان قسم کا درخت ہے جو ہر طرح کے موسم کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔ تیز ہوائوں کے سامنے تن کر کھڑا ہوتا ہے اور چونکہ اس پر شاخیں زیادہ نہیں ہوتیں اس لیے اسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ کم ہوتا ہے۔ بلند ہونے کی وجہ سے بلندی کی نمی بھی چوستا ہے اور باد صرصر کا مقابلہ بھی کرتا ہے اور عرب میں متنوع قسم کی کھجور پیدا ہوتی ہے جس میں ادنیٰ قسم کی کھجور بھی شامل ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ ترین کھجور بھی پائی جاتی ہے۔ رطب کا اپنا مزہ ہے جس کی موجوگی میں کسی اور پھل کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اور کھجور کے پک جانے اور یابس ہوجانے کے بعد سفر وحضر میں اس سے غذا حاصل کی جاسکتی ہے۔ کھجور کے درختوں کی حفاظت میں انگور کی بیلیں لہلہاتی اور اعلیٰ قسم کا انگور کام ودہن کی لذت اور غذائیت سے بھر پورتیار ہوتا اور غذا اور تفکہ کی ضرورتوں کو پورا کرتا تھا اور بیچ بیچ میں مختلف اجناس اور دوسرے موسمی پھلوں کے قطعات بھی ہوتے جو مختلف ضروریات کو پورا کرنے میں کام آتے تھے۔ اصل غذا اور پھل کی حیثیت تو کھجور اور انگور کو ہی حاصل تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ جَو اور کہیں کہیں گندم بھی پیدا کی جاتی تھی۔ اس سے غذائی اجناس بھی وجود میں آتیں اور مختلف پھل بھی کام ودہن کی لذت کے لیے باغوں میں موجود ہوتے۔ تاکلون سے ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ طائف کے باغوں میں انجیر بکثرت پایا جاتا ہے۔ اب تو بادام کے درخت بھی طائف سے نجران تک پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور وہ بادام ایسا ہوتا ہے جس کا تصور بھی ہمارے یہاں مشکل ہے اور بعض علاقوں میں خاصی بڑی تعداد میں گندم اور دیگر غذائی اجناس بھی پیدا ہونے لگی ہیں۔
Ayah 23:20وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِسَیْنَآئَ تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ ۔ (المومنون : 20)
(اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا ہے جو طور سینا سے نکلتا ہے اور تیل لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی۔ )
درخت کا اگرچہ نام نہیں لیا گیا لیکن اس کی صفات کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ” زیتون “ کا درخت ہے۔ یہ اگرچہ مختلف ملکوں میں پیدا ہوتا ہے لیکن طور سینا کا ذکر یا تو اس کے وطن اصلی کے طور پر کیا گیا ہے کیونکہ شام میں یہ کثرت سے پیدا ہوتا ہے اور یا تقدس کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے تو اس میں کوئی استبعاد نہیں ہوگا کہ قدرت نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اسی علاقے میں اس کو پیدا کیا ہو جو طور سینا کا علاقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں تین خصوصیات رکھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ غذا ہونے کے ساتھ ساتھ پھل بھی ہے اور آج بھی عرب اسے پھل کے طور پر اپنے ناشتے میں استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ اس میں کسی حدتک کڑواہت ہوتی ہے لیکن کثرت استعمال سے اس کا ایک ایسا (Taste Develope) ہوجاتا ہے کہ اس کی کڑواہٹ اچھی لگنے لگتی ہے اور عرب اسے حلاوہ (شیرینی) کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور اس کی شکل بیر جیسی ہوتی ہے اور دوسری خصوصیت اس کی یہ ہے کہ جب یہ درخت سے اترتا ہے تو ایک مکھن کی طرح ہوتا ہے جسے سالن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔” صبغ “ عربی زبان میں ” رنگ “ کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور سالن کے لیے بھی۔ اور تیسری خصوصیت اس کی یہ ہے کہ اس سے بہتر شاید کوئی تیل نہیں۔ باقی پھل دھوپ کی کثرت سے سوکھنے اور ماند پڑنے لگتے ہیں لیکن اس پر جتنی دھوپ پڑے یہ اسی قدر شفاف تیل دیتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کے شفاف ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ آگ کے چھونے سے پہلے ہی اس کا تیل بھڑک اٹھنے کے لیے تیار ہوتا ہے کیونکہ یہ اپنی ذات میں بہت شفاف ہوتا ہے اور کوئی تیل بھی روشنی دینے میں اس کی ہمسری نہیں کرسکتا اور جہاں تک اس کی غذائیت کا تعلق ہے باقی تمام تیل کر سٹول پیدا کرتے ہیں اور اس میں کر سٹول پیدا کرنے کی صلاحیت صرف گیارہ یا بارہ پر سنٹ (%12،%11) ہے۔ اس لحاظ سے یہ غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ بہت کم نقصان دیتا ہے۔ پاکستان میں چونکہ یہ باہر سے آتا ہے، یہاں اس کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے مہنگا ہے۔ لیکن اس کی افادیت میں کوئی دوسرا تیل اس جیسا نہیں۔ البتہ ! یہ ضروری ہے کہ اس میں ملاوٹ نہ ہونے دی جائے اور اگر ملک کے اندر اس کی پیداوار ممکن ہوسکے تو یہ غذائی نقطہ نگاہ سے ہمارے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت پاکیزہ ٹھہرا یا ہے تو اس کی افادیت میں اللہ کا خصوصی کرم شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پھل دینے میں سب درختوں سے زیادہ وقت لیتا ہے۔ اگر یہاں اس کا تجربہ کرکے دیکھا جائے تو ہوسکتا ہے کہ کسی علاقے میں یہ تجربہ کامیاب ہوسکے۔
Ayahs 23:21–22وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِھَا وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ ۔ (المومنون : 21، 22)
اور بیشک تمہارے لیے جانوروں میں بھی درس آموزی کا سامان ہے۔ ہم ان چیزوں کے اندر سے جو ان کے پیٹوں میں ہے تمہیں (خوشذائقہ دودھ) پلاتے ہیں۔ اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان سے تم اپنی غذا کا سامان بھی حاصل کرتے ہو۔ اور ان پر اور کشتیوں پر تمہیں سوار کیا جاتا ہے (تم سواری کرتے ہو) ۔
عبرت کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں ” عبرت “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ علامہ راغب اصفہانی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے :
العبرۃ مختصۃ بالحالۃ التی یتوصل بھا من معرفۃ المشاھد الی ما لیس بمشاھد (مفردات) یعنی مشاھد کی معرفت سے غیر مشاہد تک پہنچنا۔ اسی طرح ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کرجانا اور اس سے سبق حاصل کرنا بھی ” عبرت “ کہلاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ متذکرہ بالا آیات میں اللہ کے وجود اس کی وحدانیت اور بالخصوص وقوع قیامت پر جو دلائل دیئے گئے ہیں اور جس طرح ان سے عبرت وموعظت کے پہلو پیدا کیے گئے ہیں وہ تو اپنی جگہ بےحد اہمیت کے حامل ہیں لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں بھی جو کچھ کہا گیا ہے وہ بھی درس آموزی اور وقوع قیامت کو عقل، اخلاق اور حکمت کا تقاضا سمجھنے میں بہت اپیل رکھتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں نُسْقِیْکُمْ کا دوسرا مفعول ذکر نہیں فرمایا گیا۔ اسی طرح مِمَّا فِیْ بُطُوْنِھَا کو مجمل لایا گیا ہے۔ لیکن سورة النحل کی آیت نمبر 66 میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ وہاں فرمایا گیا ہے نسقیکم مما فی بطونہ من بین فرث ود م لبناً خالصاً سائغاً للشاربین ” اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نسقیکم کا دوسرا مفہوم ” لبنا خالصا سائغا “ کے الفاظ سے ظاہر فرمایا گیا ہے۔ اور مما فی بطونھا کے اجمال کی تفصیل ” من بین فرث ودم “ سے کی گئی ہے۔ اور اس تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ کی قدرت وصنعت کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔ اہل عرب جیسے لوگ جو موسم کے شدائد کے پیش نظر اکثر خانہ بدوشی پر مجبور ہوجاتے تھے ان کے لیے غذا کا سب سے بڑا ذریعہ دودھ دینے والے جانور تھے اور یہ دودھ ان جانوروں سے اللہ تعالیٰ اس طرح انسانوں کو مہیا فرماتے تھے اور آج بھی اس کا یہی طریقہ ہے کہ جانور کے پیٹ سے جو دودھ نکلتا ہے ایسا نہیں کہ پیٹ میں کسی ایسی جگہ پیدا ہوتاہو جس میں گندگی کا کوئی امکان نہ ہو بلکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس کے ایک طرف اگر گوبر ہوتا ہے تو دوسری طرف خون کی غلاظت ہوتی ہے۔ دونوں کی اپنی بدبو اور اپنا رنگ۔ لیکن ان کے درمیان سے دودھ کا چشمہ جاری ہوتا ہے اور نہایت محفوظ شکل میں پستانوں کی نالیوں سے اس طرح انسانی برتنوں میں منتقل ہوتا ہے کہ کہیں بھی کوئی آمیزش ہونے نہیں پاتی۔ پروردگار نے اس کے لیے دو صفات ذکر فرمائی ہیں کہ جانوروں کے پیٹ سے نکلنے والا دودھ خالص ہوتا ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی۔ پینے والوں کے لیے خوشگوار ہوتا ہے کہ نہ بالکل پھیکا کہ پینے والے کے لیے مشکل ہوجائے اور نہ بالکل میٹھا کہ زیابیطس کے مریض نہ پی سکیں۔ اس کی مہک دماغ کو معطر کرنے والی اور اس کی تاثیر ایسی کہ ہر جانور کی اپنی اپنی خصوصیات اس میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر قدرت نے اسے زود ہضم بنایا ہے۔ پیٹ کی بیماریوں کا علاج ہے۔ ٹھنڈا کرکے پییں تو پیاس بجھاتا ہے اور نارمل حالت میں پییں تو غذا کا کام دیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب بھی آپ اللہ کی کسی نعمت سے متمتع ہوتے تو آپ اللہ کا شکر بجالاتے اور اس سے بہتر نعمت کی دعا فرماتے۔ لیکن جب آپ دودھ پیتے تو دودھ کی کثرت کی دعا فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ دودھ سے بہتر کوئی اور نعمت نہیں۔
جانوروں میں منافع
وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ کَثِیْرَۃٌ: اور تمہارے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں۔ یعنی ان جانوروں میں اللہ نے صرف دودھ جیسی نعمت ہی نہیں رکھی بلکہ ان میں اور بھی انسانوں کے لیے بہت سے فوائد اور منافع رکھے ہیں۔ اونٹ ہی کو دیکھ لیجئے وہ اہل عرب کا سفینہ صحرا تھا۔ یعنی صحرائی سفر میں ان کا سب سے بڑاذریعہ تھا۔ عربوں کی تجارت دوسرے ممالک تک پھیلی ہوئی تھی۔ سینکڑوں میلوں کا سفر اور خوراک اور پانی کی کمیابی اور جابجا ریت کے علاقے اور ٹیلے، ایسے سفر میں صرف اونٹ ہی تھا جو کامیاب ذریعہ ثابت ہوسکتا تھا۔ کئی دنوں تک پیاس اور بھوک کو برداشت کرلینا اس حیرت انگیز جانور کے لیے کوئی مشکل نہیں اور پھر منوں بوجھ اٹھالینا اس کے لیے کوئی نئی بات نہ تھی اور اونٹ کی مادہ کا دودھ راستے میں تجارتی سامان لے جانے والوں کے لیے غذا کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ سفر کے علاوہ عام حالت میں کاشتکاری میں کام آتا تھا۔ گوشت، چمڑا اور اس کے بال بہت سی ضرورتوں میں کارآمد تھے۔ اسی طرح دوسرے جانور بھی سواری اور باربرداری میں کام دیتے تھے اور اون والے جانوروں کی اون کپڑا بنانے کے کام آتی تھی۔
وَمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ : اور انھیں جانوروں سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ یعنی اونٹ سمیت دوسرے تمام جانور ان کے لیے خاص طور پر غذا کا سامان تھے۔ بکرا بکری، مینڈھادنبہ، بھیڑ، غرضیکہ ان میں سے کونسا جانور تھا جو ان کے سفروحضر میں ان کے لیے غذا کا ذریعہ نہ تھا۔
وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ : اور ان جانوروں پر اور کشتی پر تم سواری کرتے ہو۔ میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ عرب کا بیشتر حصہ چونکہ ریگستان پر مشتمل تھا اور مزید یہ بات کہ بارشوں کی کمیابی کے باعث انھیں مسلسل خانہ بدوشی کی حالت میں رہنا پڑتا تھا۔ تجارتی سفر بھی ان کے لیے ناگزیر تھے اور خانہ بدوشی بھی انھیں سفر میں رکھتی تھی۔ ایسی حالت میں ممکن ہے بعض علاقوں میں وہ بحری سفر کے ذریعے تجارت کرتے ہوں۔ تو بحری سفر میں کشتیاں ان کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ لیکن ان کے بیشتر سفروں کا انحصار ان کے جانوروں پر تھا۔ جو باربرداری کے بھی کام آتے تھے اور سواری کے بھی اور شاید اسی خصوصیت کی وجہ سے اونٹ کو سفینہ صحرا کہا جاتا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے شاید اسی نسبت سے یہاں دونوں کا ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے۔
خلاصہ کلام
مقصود ان تمام نعمتوں کے ذکر سے صرف اس حقیقت کی طرف توجہ دلانی ہے کہ جس پروردگار نے نہایت جز رسی کے ساتھ تمہاری ایک ایک ضرورت کو پورا فرمایا ہے اس کے بارے میں تم نے یہ کیسے تصور کرلیا ہے کہ وہ تمہیں ایک سے ایک بیش قیمت نعمت سے نوازتا ہے لیکن کبھی اس کے بارے میں یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے میری نعمتوں کا کیا حق ادا کیا ؟ تمہارے آپس میں ایک دوسرے سے تعلقات ہیں، افادہ و استفادہ، اخذورد اور استعانت اور معاونت انسانی زندگی کا ناگزیر پہلو ہے۔ تم میں طاقتور کمزوروں کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں اور اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں کے لیے جینا مشکل کردیں اور وہ نعمتیں جو اس نے سب کے لیے پیدا کی ہیں ان پر زبردستی قبضہ کرکے اپنے لیے مخصوص کرلیں اور دوسرے ہمیشہ ظلم کی چکی میں پستے رہیں۔ تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ تمہیں پیدا کرکے تم سے اتنا بےتعلق ہوگیا ہے کہ تم یہ اندھیر نگری مچائے رکھو اور وہ تم سے کبھی باز پرس نہ کرے ؟ عقل بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے اور اخلاق بھی اسے قبول کرنے سے ایا کرتے ہیں۔ فطرت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اس دنیا کو بازیچہ اطفال نہ سمجھا جائے بلکہ اس بات کا یقین پیدا کیا جائے کہ ایک نہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہونے والوں سے حساب لیاجائے گا۔ زیادتی کرنے والوں کو زیادتی کی سزا دی جائے گی اور نیکی کرنے والے اجروثواب سے نوازے جائیں گے۔ یہی وہ سبق ہے جو ان تمام نعمتوں کے ذکر کرنے سے دل و دماغ میں پیدا کرنا مقصود ہے۔
Ayah 23:23وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ (المومنون : 23)
(اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو آپ نے فرمایا : اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تو کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ )
تاریخ سے استدلال
سابقہ آیات میں دلائل انفس اور دلائل آفاق سے اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ اہل ایمان اپنی ایمانی زندگی کے باعث فوز و فلاح سے نوازے جاتے ہیں اور حق کی تکذیب کرنے والوں کا مقدر ہمیشہ خسران ہوتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی واضح فرمائی گئی کہ اگرچہ اہل حق کو فوزوفلاح سے نوازا جاتا ہے لیکن انھیں اپنا اہل حق ہونا ثابت کرنے کے لیے آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور ان آزمائشوں کے فطری نتیجے کے طور پر اہل باطل کو کچھ عرصہ ڈھیل دی جاتی ہے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھاکر اپنے آپ کو اگر بدلنا چاہیں تو بدل لیں۔ لیکن اہل باطل عموماً اس ڈھیل سے ہدایت حاصل کرنے کی بجائے اسے اپنے برسر حق ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں اور اس طرح سے خسران کی طرف ان کا سفر مزید تیز ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ہے جس میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ پیش نظر آیات کریمہ میں اب انھیں حقائق کو تاریخی دلائل سے ثابت کیا جارہا ہے اور تاریخی دلائل کے سلسلے میں سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کیونکہ تورات اور قرآن دونوں کی صراحت کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) سب سے پہلے رسول ہیں جو لوگوں کے گمراہ ہونے کے بعد ان کی ہدایت کے لیے تشریف لائے۔ ان کی سرگزشت سے چند حقائق بالکل پیش پا افتادہ حقائق کی طرح کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ سب سے پہلی جو حقیقت واشگاف ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آج قریش کے سامنے نبی کریم ﷺ اللہ کا رسول ہونے کی حیثیت سے جو دعوت پیش کررہے ہیں وہ بعینہٖ وہی دعوت ہے جو رسولوں کی تاریخ کے سب سے پہلے اولوالعزم رسول نے پیش کی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو ! عبادت یعنی پرستش اور اطاعت اللہ کے سوا کسی اور کی نہیں ہوسکتی۔ اس کا عطا کردہ سر اس کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ مافوق الاسباب طریقے سے اس کے سوا کسی اور کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی تنہائیاں صرف اسی سے آباد کی جاسکتی ہیں۔ ظاہری سہارے ٹوٹ جانے کے بعد صرف وہی ایک سہارا ہے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی سے مناجات کی جاتی اور اسی سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ اسی طرح زندگی کی ایسی رہنمائی جس پر آخرت میں سرخروئی کا دارومدار ہے عطا کرنا صرف اسی کے شایانِ شان ہے۔ تحلیل وتحریم کا حق صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ غیرمشروط اطاعت کا حق صرف اسی کو حاصل ہے۔ زندگی کی نہج مقرر کرنے کے لیے صرف وہی آئین، دستور اور قوانین عطا کرتا ہے۔ عبادت کا یہ وہ تصور ہے جو ہمیں اللہ کی کتابوں سے ملتا ہے اور اللہ کے ہر رسول نے اسی تصور کے تحت اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور نبی کریم ﷺ نے درمیان میں ہزاروں سال کا فاصلہ ہونے کے باوجود اسی دعوت کا اعادہ فرمایا۔ یہ بات بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ جس سرچشمہ ہدایت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کو رہنمائی ملتی تھی اسی سرچشمہ ہدایت کا فیضان آنحضرت ﷺ کے واسطے سے اب نوع انسانی تک پہنچ رہا ہے
مزید فرمایا کہ عبادت تو صرف اللہ کا حق ہے کیونکہ وہی خالق ہے اور خالق ہی کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر اپنی مخلوق کو حکم دے اور ساتھ ہی ساتھ وہ رب بھی ہے وہ اپنی تمام مخلوقات کو جن میں انسانون کو خصوصی حیثیت حاصل ہے ربوبیت سے نوازتا ہے۔ یعنی ان کی تمام ضرورتوں کو حالات کے مطابق درجہ بدرجہ عطا فرماتا اور عہد بعہد ترقی دیتا ہے۔ تو تم جب اس کے ساتھ دوسری قوتوں کو شریک کرتے اور ان کی بندگی کرتے، ان سے مرادیں مانگتے اور ان کی پوجا کرتے ہو، تو کیا تمہیں اللہ کے غضب سے ڈر نہیں لگتا ؟ جب وہ تم سے پوچھے گا کہ تم نے میری خدائی، میری الوہیت اور میرے حقوق میں دوسروں کو شریک کیوں کیا ؟ تو تم اس کا کیا جواب دو گے ؟