Ayahs 23:88–89قُلْ مَنْ م بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْن۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ ۔ (المومنون : 88، 89)
(ان سے پوچھئے ! وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ (جسے چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے لیکن اس کے مقابل میں پناہ نہیں دی جاسکتی، اگر تم جانتے ہو۔ وہ کہیں گے یہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے، کہہ دیجیے، پھر تمہاری مت کیوں ماری جاتی ہے۔ )
زمامِ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے
گزشتہ آیات میں مختلف سوالوں کے جواب میں مشرکین نے بار بار اعتراف کیا کہ کائنات میں کوئی ایسی چیز اور کوئی ایسا وجود نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں نہ ہو۔ بڑی سے بڑی قوت، اس کی مخلوق اور اس کی غلام ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اب یہ سوال کیا جارہا ہے کہ تم یہ بتائو کہ ہر چیز کی زمام اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے ؟ اور وہ کون ہے جس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے اپنی پناہ میں لے لے اور جسے چاہے اپنی پناہ سے نکال دے اور اس کے مقابلے میں کسی اور کی یہ مجال نہیں کہ جس کو وہ پناہ نہ دینا چاہے اسے وہ پناہ دے دے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محرومی کا فیصلہ کرے اور کوئی ذات اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو بدل ڈالے۔ ایسا اختیار کسی کے پاس نہیں۔ مشرکینِ عرب اپنے تمام تر مشرکانہ دعوئوں کے باوجود اس بات کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ زمام اقتدار صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، جس طرح وہ ہر چیز کا مالک ہے اسی طرح وہ ہر چیز کا خدا اور حکمران ہے۔ مزید فرمایا کہ اگر تم یہ جانتے ہو کہ اقتدار میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہے تو پھر اس کا نام لو یا اس کا حوالہ دو ۔ لیکن مشرکین کے عقائد اور قومی روایات کے حوالے سے یہ فرمایا گیا کہ جب آپ ان سے یہ سوال کریں گے تو وہ سابقہ جوابوں کی طرح اس کا بھی یہی جواب دیں گے کہ زمام اقتدار بھی اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ تم نے اس کے اقتدار میں نہ جانے کس کس کو شریک بنا رکھا ہے۔ آخر تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ تم نے اپنے بعض نام نہاد شرکاء کو تحلیل وتحریم کا حق دے رکھا ہے اور اگر کوئی اس سے انکار کرتا ہے تو تم اسے ڈراتے ہو کہ اگر تم نے اس سے توبہ نہ کی تو تم پر ہمارے ان شرکاء کی مار پڑے گی اور تم کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاؤ گے یعنی ایک طرف تم کھلے دل سے اللہ تعالیٰ کی خدائی اور اس کے مالک ہونے کا اعتراف کرتے ہو اور دوسری طرف قدم قدم پر اس سے انحراف کرتے ہو یعنی جس حقیقت کو تم بظاہر دل و جان سے تسلیم کرتے ہو وہی جب عمل کی صورت اختیار کرتی ہے یا دوسرے شرکاء تک نوبت پہنچتی ہے تو پھر تمہاری آنکھوں پر کس کا جادو چل جاتا ہے کہ تم کبھی کسی کو پکارنے لگتے ہو، کبھی کسی کو۔ اور کبھی کسی کو موثر سمجھ کر اس کے نام کی قربانیاں دیتے ہو، اس کے چڑھاوے چڑھاتے ہو اور اس کی ناراضگی سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہو، آخر یہ کس کا جادو ہے جس نے تمہیں مسحور کر رکھا ہے۔
ایک لطیف تعریض
فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ … یعنی تمہاری کیوں مت ماری گئی ہے، تم کس کے جادو کے زیراثر آگئے ہو۔ اس میں لطیف تعریض بھی ہے۔ اشرارِقریش نبی کریم ﷺ کو جادوگر بھی قرار دیتے تھے اور جادو کے زیراثر بھی سمجھتے تھے۔ جب وہ قرآن کریم کی غیرمعمولی تاثیر کو دیکھتے تو اسے جادو سمجھتے اور کبھی آپ ﷺ کے بارے میں یہ کہتے کہ آپ ﷺ جس طرح کی باتیں کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پر کسی آسیب کا اثر ہے یا کسی نے آپ ﷺ پر جادو کردیا ہے اور اسی جادو کے اثر سے کچھ ایسی چیزیں آپ ﷺ کو دکھائی دیتی ہیں جنھیں آپ ﷺ کبھی فرشتہ سمجھتے ہیں اور کبھی کچھ اور نام دیتے ہیں۔ ان سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم اپنی فکر اور عمل کے تضاد کو دیکھو اور پھر فیصلہ کرو کہ تم کسی سحر کے اثر میں ہو یا ہمارے رسول پاک ﷺ ۔ وہ تو پہلے دن سے چند بنیادی حقائق کو پیش کررہے ہیں اور آج تک ان کے فکر و عمل میں کبھی تضاد پیدا نہیں ہوا۔ لیکن تم مانتے کچھ اور ہو اور کرتے کچھ اور ہو۔ جب تم اپنے تعصبات سے الگ ہو کر جواب دیتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی غیرمعمولی قدرتوں کا اعتراف کرتے ہو۔ لیکن جب تم پر اپنی جا ہلی عصبیت کا حملہ ہوتا ہے تو پھر تم ایسی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہو جیسے ایک مسحور آدمی ہوتا ہے۔
Ayahs 23:90–92بَلْ اَ تَیْنٰـھُمْ بِالْحَقِّ وَاِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ مَاا تَّخَذَاللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَ ھَبَ کُلُّ اِلٰہٍم بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (المومنون : 90 تا 92)
(بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور یہ یقینا جھوٹے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود شریک ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود جو کچھ اس نے پیدا کیا ہوتا اس کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا، پاک ہے اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ وہ غائب و حاضر کا جاننے والا ہے اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ )
الکلمۃ الجامعۃ
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے حوالے سے مشرکین سے چند سوالات کیے۔ انھوں نے جواب میں تسلیم کیا کہ ہاں ! اللہ تعالیٰ ان صفات سے متصف ہے۔ زمین بھی اسی کی ہے، زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے، آسمانوں پر بھی اسی کی حکمرانی ہے، عرشِ عظیم کا بھی وہی مالک ہے، تمام کائنات اسی کے اقتدار کی گرفت میں ہے، اس کے سوا کوئی اور ذات نہیں جس کے قبضے میں کائنات کا اختیار ہو، وہ جس کو چاہے پناہ دے سکتا ہے اور جس کو چاہے پناہ دینے سے انکار کرسکتا ہے۔ لیکن کوئی دوسری قوت ایسی نہیں جو اس کے ارادے اور مرضی کے بغیر کسی کو پناہ دے سکے۔ ان تمام باتوں کو تسلیم کرنے کے باوجود حیرانی کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بہت سارے اختیارات غیر اللہ کے سپرد کر رکھے ہیں۔ بہت سی قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے۔ بہت ساری شخصیتوں کو اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں دخیل سمجھتے ہیں۔ ان کی اس دو عملی اور ان کے فکر و عمل کے اس تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے ان کی بےعقلی پر انھیں شرم دلائی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تم جن بنیادوں کو درست تسلیم کرتے ہو اس سے ماخوذ نتائج کو ماننے سے انکار کردیتے ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہاری عقلوں پر شیطانی قوتوں نے سحر کر رکھا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے بنیادی عقائد میں جن باتوں کو تسلیم کرتے ہو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اس کی ذات بھی یکتا ہے اور اس کی صفات اور حقوق میں بھی کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ رہے تمہارے مشرکانہ توہمات اور تصرفات، وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ عقیدے اور عمل یا دل اور زبان میں تضاد کو جھوٹ کہا جاتا ہے اور تم اپنی اعتقادی اور عملی زندگی میں اس جھوٹ کا پیکر بن کر رہ گئے ہو۔ چناچہ ہمارا پیغمبر تمہارے پاس حق لے کے آگیا ہے۔ تم اگر اپنے جھوٹ سے نکل سکتے ہو تو تمہیں اس حق کو قبول کرلینا چاہیے اور اس بات پر عقیدہ پختہ کرلینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا۔ ( ولد ایک ایسا لفظ ہے جو واحد اور جمع، مذکر اور مونث سب پر بولا جاتا ہے) ۔ اس میں صرف نصاریٰ پر تنقید نہیں بلکہ جس گروہ نے بھی اللہ تعالیٰ کی اولاد ثابت کی ہے وہ اس تنقید کا ہدف ہے اور ان میں مشرکین بھی شامل ہیں کیونکہ وہ بھی فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی مختلف مشرک گروہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کی ہے۔ البتہ مختلف قوموں میں اس کی شکلیں مختلف رہی ہیں۔ اسی طرح کوئی اس کا ساجھی اور شریک نہیں۔ یہ کائنات اس خدائے وحدہ لاشریک کی تخلیق ہے۔ ان کی بقاء کا دارومدار بھی صرف اسی کی ربوبیت پر ہے۔ اگر اس کائنات کی تخلیق اور بقا میں کوئی اور اِلٰہ بھی شریک ہوتا یعنی کسی اِلٰہ نے کسی مخلوق کو پیدا کیا ہوتا اور کسی نے کسی کو۔ کوئی زمینوں کا خالق ہوتا، کوئی آسمانوں کا، کوئی انسانوں کا پیدا کرنے والا ہوتا اور کوئی جنوں کا۔ یا ہر مخلوق میں کچھ تعداد ایک خالق کی ہوتی اور کچھ دوسرے خالق کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہر خالق اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا۔ جس طرح ہر باپ اپنے بچوں کو لے کر الگ ہوجاتا ہے اور اگر خدانخواستہ اختلاف ہوجائے اور اختلاف تصادم کی صورت اختیار کرلے تو پھر رشتے بھول جاتے ہیں۔ ہر باپ اپنی اولاد کے ساتھ مل کر دوسروں پر چڑھائی کردیتا ہے۔ ایسے ہی ہر خالق اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہونے پر اکتفا نہ کرتا بلکہ کبھی نہ کبھی ان میں اختلاف اور تصادم کی نوبت آتی۔ کیونکہ جس طرح دو بادشاہوں کا اختیار ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی اجازت نہیں دیتا، تو ایک اِلٰہ کا اختیار دوسرے اِلٰہوں کو برداشت کرنے کا کیسے موقع دے سکتا ہے۔ چناچہ تصادم کی صورت میں کائنات کا نظام تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا۔ اگر زمین کا اِلٰہ زمین کی قوت روئیدگی کو بروئے کار لاتا اور آسمان کا اِلٰہ آسمان کو بارش برسانے، غلہ پکانے اور پھلوں میں گداز پیدا کرنے سے منع کردیتا تو زمین میں کوئی چیز نہ اگ سکتی، اور اگر اگتی تو فصل کی صورت اختیار نہ کرسکتی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ زمین پر بسنے والے تمام تباہ و برباد ہوجاتے۔
رہی یہ بات کہ اتنی وسیع کائنات کا نظام ایک اِلٰہ کیسے چلا سکتا ہے، وہ کس طرح ایک ایک مخلوق کی ضرورت کو جان سکتا اور اس کے اندرونی حالات سے آگاہ ہوسکتا ہے، وہ اپنے عرش عظیم پر فائز کائنات کے دوردراز گوشے کو کیسے کنٹرول کرسکتا ہے، اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو غیب کی بھی جاننے والی ہے اور حاضر کی بھی۔ اس کی عظمت، اس کی حاکمیت، اس کی ہیبت، اس کی وسعت اور اس کی وجاہت کسی دوسرے کی شرکت کو قبول نہیں کرسکتی۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ بہت گری ہوئی حرکت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی شان سے بہت فروتر ہے۔
ممکن ہے کسی کو یہ خیال گزرے کہ کسی اِلٰہ کا دوسرے اِلٰہ پر چڑھائی کرنا اور اس کی سلطنت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنا یہ انسانوں کا کام تو ہوسکتا ہے، اِلٰہ تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے قرآن کریم نے ایک ایسے مفروضے پر بات کی ہے جس کا فرض کرنا بھی مشکل ہے۔ لیکن جن لوگوں کی نگاہ یونانیوں اور ہندوئوں کی میتھالوجی پر ہے وہ اس کو تسلیم کریں گے کہ وہ اپنے دیوتائوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے درمیان خونریز جنگیں ہوچکی ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مرد کو سورج نے پیدا کیا ہے اور عورت کو زمین نے۔ تصور کیجیے اگر سورج اپنے پیدا کیے ہوئے مردوں کو لے کر الگ ہوجائے تو زمین کی عورتوں کا کیا انجام ہوگا۔ چناچہ یہی وہ مشرک قوموں کی خرافات ہیں جن کی طرف قرآن کریم نے اشارے کیے ہیں۔
Ayahs 23:93–94قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَـنِّیْ مَایُوْعَدُوْنَ ۔ رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
(المومنون : 93، 94)
(دعا کیجیے، اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے وہ عذاب دکھائے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ )
اللہ تعالیٰ کی سنت اور اسلام کے غلبہ عمومی کی بشارت
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو متعدد بار بیان کیا جاچکا ہے کہ جب کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول آتا ہے اور وہ اس قوم کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرتا ہے تو اب اس قوم کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی دعوت کی قبولیت پر آٹھہرتا ہے۔ اگر وہ قوم اس دعوت کو قبول کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے انعامات کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ اور اگر وہ تکذیب کردیتی ہے تو پھر اسے ایک خاص مدت تک کے لیے مہلت عمل دی جاتی ہے۔ تبلیغ و دعوت کا کام برابر جاری رہتا ہے تاکہ اس قوم کو تکذیب کے نتیجے سے بچانے کی کوشش کی جائے لیکن جب وہ قوم کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات کو مان کے نہیں دیتی تو پھر اسے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ لیکن جب وہ اسے بھی مذاق بنا لیتی ہے تو پھر عذاب کا کوڑا اس طرح برستا ہے کہ وہ قوم بےنام و نشان ہوجاتی ہے۔ تاریخ میں عبرت کے طور پر اس کا نام باقی رہ جاتا ہے۔ مکہ کے لوگ بھی آنحضرت ﷺ کی بعثت مبارکہ کے بعد اسی صورتحال سے دو چار تھے۔ آنحضرت ﷺ کی تبلیغی مساعی اپنی تمام تر اثرآفرینی کے باوجود ان کے دل و دماغ میں نفوذ پیدا نہیں کررہی تھیں۔ تب انھیں سنت اللہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا، لیکن جب عذاب آنے میں تاخیر ہوئی تو معذب قوموں کی روایت کے مطابق مشرکینِ مکہ نے بھی اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا اور وہ بار بار مطالبہ کرنے لگے کہ اگر یہ عذاب کی دھمکی واقعی اپنے اندر کوئی حقیقت رکھتی ہے تو پھر اس کے آنے میں تاخیر کیوں ہورہی ہے۔ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر اس کا جواب دیا ہے۔ سورة یونس آیت 46، سورة رعد آیت 40 اور سورة غافر آیت 77 اس پر شاہد ہیں جن سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا آنا تو بالکل قطعی اور حتمی ہے۔ البتہ اس بات کو کسی حد تک مبہم رکھا گیا ہے کہ اس کے ظہور کا وقت کون سا ہوگا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس ابہام کو اس طرح دور فرمایا گیا ہے کہ ایک طرف آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے غلبہ و نصرت کی طرف اشارہ فرمایا گیا اور دوسرا اس بات کی طرف کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے غلبہ کا زمانہ جیسے جیسے قریب آتا جاتا ہے ویسے ویسے کافروں کی ہلاکت بھی قریب آتی جاتی اور یقینی صورت اختیار کرتی جاتی ہے۔ ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے پیغمبر اور اصحابِ ایمان کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اور کافروں پر عذاب نازل کردیتا ہے۔ اس عذاب کی ایک صورت تو یہ رہی ہے کہ ایسی کوئی آفت نازل کی جاتی ہے جس سے وہ کفار اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں اور کبھی ایسا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور ان کے ساتھیوں کو زمینی غلبہ عطا فرماتا ہے اور کافروں کو شکست سے دوچار کرکے نیست و نابود کردیا جاتا ہے۔ صورت کوئی سی بھی ہویقینا اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کے لیے بھی یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے دست دعا پھیلا دیتے ہیں اور اپنی حفاظت اور دشمنوں سے دور رکھے جانے کی دعا کرتے ہیں۔ چناچہ یہاں بھی آنحضرت ﷺ کو اور بالواسطہ مسلمانوں کو یہ دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ الٰہی جب ان ظالموں پر تیری گرفت آئے تو ہمیں اپنی آغوش رحمت میں لے لینا اور اشارۃً یہ بتایا جارہا ہے کہ اب اسلام کے غلبہ عمومی کے دن دور نہیں۔ اللہ تعالیٰ جزیرہ عرب کی سرزمین کو اس آب حیات سے سیراب کرنے والا ہے جسے اسلام کہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ سرسبزی اور شادابی وجود میں آنے والی ہے جس سے قیامت تک دنیا فائدہ اٹھائے گی۔
علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو میں ان میں نہیں ہوں گا۔ اس کے باوجود آپ ﷺ کو دعا کی تلقین فرمائی جارہی ہے تاکہ عذاب کی شدت کا احساس پیدا ہو اور آنحضرت ﷺ کے لیے زیادہ سے زیادہ اجروثواب کا سامان ہو۔ علامہ فرماتے ہیں کان (علیہ السلام) یعلم ان اللہ تعالیٰ لایجعلہ فی القوم الظالمین اذا انزل بہم العذاب ومع ہذا امرہ الرب بہذا الدعاء والسوال لیعظم اجرہ ولیکون فی کل الاوقات ذاکراً لربہ تعالیٰ ۔
Ayah 23:95وَاِنَّا عَلٰٓی اَنْ نُّرِیَکَ مَانَعِدُھُمْ لَقٰدِرُوْنَ ۔ (المومنون : 95)
(بیشک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس عذاب سے ہم ان کو ڈرا رہے ہیں وہ تم کو دکھا دیں۔ )
اللہ تعالیٰ کا ارادہ حتمی ہے
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کے لیے جس غلبہ و نصرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور دشمنانِ دین کی تباہی اور پامالی کی جو خبر دی گئی ہے اس وقت کے حالات (جب یہ آیات نازل ہورہی تھیں) کو دیکھ کر نہایت مستبعداز عقل معلوم ہوتی تھی کیونکہ مخالفین اور معاندین کی چیرہ دستیاں روز بروز بڑھتی جارہی تھیں۔ مسلمان اس صورتحال سے اس قدر پریشان تھے کہ آئے دن ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا۔ ایسے حالات میں یہ باور کرنا آسان نہ تھا کہ مسلمانوں کے غلبے کے دن قریب آپہنچے ہیں اور اس تاریکی سے وہ سحر طلوع ہونے والی ہے جو نوع انسانی کے لیے سرافرازیوں کی نوید بن کر آئے گی۔ اس لیے پروردگار نے اپنی قدرت کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا ہے کہ حالات میں یہ صالح تبدیلی بہت دنوں کی بات نہیں حالات کچھ بھی ہوں ہم ہر طرح کے حالات کو تبدیل کرنے پر قادر ہیں۔ ممکن ہے اس دعا میں ہجرت کی طرف بھی اشارہ ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ہجرت کا حکم دیتے ہیں تو ایسی ہی دعائیں انھیں تلقین کی جاتی ہیں۔
Ayah 23:96اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَۃَ ط نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ۔ (المومنون : 96)
(برائی کو اس طریقے سے دور کیجیے جو بہترین ہو، ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور حسن سلوک کی ہدایت
عذاب میں تاخیر کے باعث مخالفین کی مخالفت اور ہر زہ سرائیوں میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہمارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور ہمیں جس انجام سے ڈرایا جارہا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کہتے اور آپ ﷺ کی ذات والا تبار کی شان میں بڑھ چڑھ کر گستاخیاں کرتے۔ آنحضرت ﷺ ان کی شرارتوں پر دل مسوس کر رہ جاتے۔ آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ہرگز دل گرفتہ نہ ہوں، ہم ان کی ایک ایک شرارت سے واقف ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب ہم ان سے اس کا حساب لیں گے۔ تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ان کی ہر زہ سرائی قیامت کے دن کیا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔ البتہ تبلیغ و دعوت کے آداب میں لب و لہجہ اور رویئے کا پاکیزہ ہونا آپ ﷺ کی سنت رہی ہے۔ اس لیے اس میں کمی نہیں آنی چاہیے۔ قریش یقینا اپنی زیادتیوں میں حدود سے بہت حد تک تجاوز کرچکے ہیں لیکن آپ ﷺ کو حسب معمول مکارمِ اخلاق کا پیکر بن کر اپنا فریضہ ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ جس طرح احقاقِ حق آپ ﷺ کی طرف سے ضروری ہے اسی طرح قیامت تک آنے والے ہر داعی الی الحق کے لیے آپ ﷺ کا رویہ بھی رہنما ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ﷺ ان کی ہر زیادتی کا جواب حسن اخلاق نہیں بلکہ احسان سے دینے کی کوشش کریں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے سالہا سال تک آپ ﷺ کو اذیتیں پہنچائیں جب وہ وقت آیا جب وہ بےبس ہو کر آپ ﷺ کے سامنے کھڑے تھے تو آپ ﷺ نے ان سے کوئی نامناسب لفظ کہنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ عمیربن وہب اور صفوان بن امیہ کا واقعہ اس کی روشن مثال ہے۔ حضرت ابوسفیان جو اسلام لانے سے پہلے بہت بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کرچکے تھے جب آپ ﷺ کے سامنے لائے گئے تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ وہ سلوک فرمایا جس کی شاید وہ بھی توقع نہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ کے اپنے خاندان کی شاخ کے لوگ جنھیں بنو حارث کہا جاتا ہے ان کا رویہ آپ ﷺ کے لیے اس حد تک جارحانہ تھا کہ فتح مکہ کے راستے میں جب وہ لوگ جا کے آپ ﷺ سے ملے تو آپ ﷺ نے انھیں منہ لگانے سے انکار کردیا۔ لیکن جب وہ دو تین دفعہ آپ ﷺ کے سامنے معافی کے لیے حاضر ہوئے تو آخر آپ ﷺ نہ صرف معاف کرنے پر تیار ہوگئے بلکہ انھیں بیش از بیش عنایات سے بھی نوازا۔ مکارمِ اخلاق کی آپ ﷺ کے حوالے سے اس قدر رخشندہ مثالیں تاریخ میں موجود ہیں کہ دنیا بھر کے عظیم لوگ شاید اس کا عشرعشیر بھی پیش نہ کرسکیں۔
Ayahs 23:97–98وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ ۔ وَاَعُوْذِبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ۔
(المومنون : 97، 98)
(اور دعا کرتے رہئے کہ اے رب ! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اے میرے رب ! اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔ )
توفیق ایزدی کے لیے دعا کی تلقین
جب ایک داعی الی الحق میدانِ عمل میں اترتا ہے تو اس کی کامیابی چونکہ شیطنت کی ناکامی اور کفر و شرک کی بدنصیبی اور محرومی ہے اس لیے تمام شیطانی قوتیں ہر ممکن طریقے سے اس کی دعوت کو بےاثر کرنے میں لگ جاتی ہیں اور انسانوں میں شیطان کے کارندے پیغمبر کو پریشان کرنے اور اس کے دعوتی عمل کو مسدود کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ شیطانی قوتیں وسوسہ اندازی اور اندیشہ ہائے دور دراز سے دلوں کو مسموم کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور شیاطینِ انس انسانی حربوں اور انسانی اثرورسوخ سے داعی الی الحق اور اس پر ایمان لانے والوں کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیت میں عفو و درگزر کا حکم دے کر پیش نظر آیت میں اللہ تعالیٰ سے پناہ حاصل کرنے کے لیے دست دعا پھیلانے کی تلقین کی ہے تاکہ شیاطینِ جن اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی وجہ سے دلوں کو اپنا نشانہ نہ بنا سکیں اور شیاطینِ انس اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانے کے بعد اپنی کاوشوں میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ کیونکہ دونوں طرف کی مخالفتوں سے بچنے کے لیے اگر ایمان و عمل کی قوت اور مصائب کے مقابلے میں استقامت ضروری ہے تو اس سے کہیں بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس راستے کا سب سے بڑا سہارا اور سرمایہ ہے کیونکہ وہ دل جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے معمور رہتے ہیں شیطانی قوتیں جب دیکھتی ہیں کہ ہماری وسوسہ اندازی ان پر اثرانداز نہیں ہوتی تو وہ پھر اپنے انسانی چیلے چانٹوں کو مشتعل کرکے گری ہوئی حرکتیں کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اللہ تعالیٰ کا سہارا نہ ہو تو ان اشرار سے بچنا آسان کام نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جس طرح قریش کی مخالفت کے مقابلے کے لیے ایمان و استقامت کا درس دیا اسی طرح شیطانی وساوس سے بچائو کے لیے بعض دعائیں بھی سکھائیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر شکایت کی کہ مجھے رات کو نیند نہیں آتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا جب سونے کا ارادہ کرو تو یہ دعا پڑھ لیا کرو اَعُوْذُبِاللّٰہِ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہٖ وَ عِقَابِہٖ وَمِنْ شَرِّعِبَادِہٖ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَّحْضُرُوْنَ (تفسیرِکبیر) ” میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے سے، اس کے غضب سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔ “
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ اپنے سارے بالغ لڑکوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے اور سوتے وقت پڑھنے کا حکم دیتے اور جو نابالغ بچے ہوتے ان کے گلے میں لکھ کر ڈال دیتے۔ (مسند امام احمد)
Ayahs 23:99–100حَتّٰیٓ اِذَا جَآئَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ۔ لَعَلِّیْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ کَلَّا ط اِنَّھَا کَلِمَۃٌ ھُوَ قَـآئِلُھَا ط وَمِنْ وَّرَآئِھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔
(المومنون : 99، 100)
(یہاں تک کہ جب آجائے گی ان میں سے کسی کی موت تو وہ کہے گا، اے رب ! مجھے پھر واپس بھیج۔ شاید میں اس دنیا میں اچھے کام کروں جسے میں چھوڑ کر آیا ہوں، ہرگز نہیں یہ محض ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے ایک پردہ ہے اس دن تک جب وہ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ )
معاندین کے لیے آئینہ
آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی کے ساتھ ساتھ مخالفین اور معاندین کو آئینہ دکھایا جارہا ہے۔ یہ درست ہے کہ اب یہ لوگ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں اور کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات سننا بھی انھیں گوارا نہیں۔ ان کی مخالفت اور اذیت رسانی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت اور آپ ﷺ کی ہمدردی اور خیرخواہی سے بھرپور تبلیغ و دعوت بھی ان پر اثرانداز نہیں ہورہی۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب موت کا ٰعفریت ان پر حملہ آور ہوگا اور جیسے ہی ان کے جسم پر اس کے پنجے گڑیں گے اور نزع کی حالت میں انھیں دوسرا جہان نظرآنے لگے گا، فرشتے خشمگیں نگاہوں سے اس دنیا کی سرحد پر ان کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے تو یہ انھیں دیکھ کر اور عذاب کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے چیخ اٹھیں گے کہ الٰہی ہم پر رحم فرما اور ہمیں واپس اس دنیا میں بھیج دے جہاں سے ہم آئے ہیں۔
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار اور مشرکین موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل جہنم ہونے تک بلکہ اس کے بعد بھی بار بار یہی درخواستیں کریں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں جس واپسی کی درخواست کی گئی ہے یہ اس وقت بھی ہوسکتی ہے جب مرنے والا موت کی سرحد میں داخل ہورہا ہو۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ آخرت کے مختلف مراحل میں کسی وقت بھی یہ درخواست کی گئی ہو۔ اس وقت کہنا صرف یہ ہے کہ اس وقت تو یہ لوگ پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے لیکن وہ وقت دور نہیں جب اپنے انجام کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے واپسی کی درخواست کریں گے کیونکہ موت کے پہلے ہی مرحلے میں انھیں اپنے انجام کی خبر ہوجائے گی، لیکن پروردگار کی جانب سے سختی سے انکار کیا جائے گا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔
ارْجِعُوْنِ کا مفہوم
قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ … ارْجِعُوْنِجمع کا صیغہ ہے، اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ مرنے والا ہر کافر بڑے احترام اور آداب کے ساتھ پروردگار سے عرض کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ میں اپنے گناہوں کی تلافی کرسکوں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے، جیسا کہ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ وہ نہایت لجاجت کے ساتھ بار بار پروردگار سے درخواست کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں جانے کی اجازت دی جائے۔ جمع کا صیغہ بار بار کی اجازت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے لایا گیا، لیکن ان کا بار بار کا اصرار اور ہر طرح کی لجاجت اور گریہ زاری اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو بدل نہیں سکے گی۔ اللہ تعالیٰ صاف انکار فرما دیں گے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، تمہارے اصرار اور لجاجت کی حیثیت ایک کلمہ ناروا کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کل تمہارے منہ سے نکلنے والے کلمات، کفر اور شرک کی نمائندگی کرتے تھے، اور آج تمہارے منہ سے نکلنے والا کلمہ تمہاری ندامت اور شرمندگی کا اظہار ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
واپسی سے انکار کا سبب
کفار کی واپسی سے انکار اس وجہ سے ہوگا کہ دنیا دارالامتحان ہے۔ انسان کو دنیا میں عقل اور شعور دے کر امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر حقیقت کا مشاہدہ کیے بغیر حق کو پہچاننے کی کوشش کرے۔ اس پر دلالت کرنے والے بیشمار دلائلِ انفس اور دلائلِ آفاق کو ذریعہ بنایا گیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں تاکہ انھیں حقیقت کی شناخت میں دشواری پیش نہ آئے اور مزید یہ کہ انھیں اطاعت اور معصیت دونوں کی آزادی دی گئی کہ تم چاہو تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اور چاہو تو نافرمانی کرو۔ لیکن دونوں راہوں کو اس طرح واضح کردیا گیا کہ انسان اگر عقل سے کام لے تو اس کے لیے اطاعت کا راستہ اختیار کرنا کوئی مشکل نہیں۔ لیکن موت کی سرحد سے گزر کر جب ایک شخص عالم غیب میں حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے اور ہر چیز جس پر ایمان لانا ضروری تھا وہ اس کے لیے مشاہدہ بن جاتی ہے تو اب اگر اسی صورت میں اسے واپس لایا جائے تو اس صورت میں یہ دنیا دارالامتحان نہیں رہے گی کیونکہ یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے کسی کے سامنے امتحان کا پر چہ ہر سوال کے جواب کے ساتھ رکھ دیا جائے اور پھر یہ کہا جائے کہ تم ان سوالوں کا جواب لکھو۔ ظاہر ہے یہ امتحان کے نام پر ایک مذاق تو ہوسکتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔
احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے مرحلے سے گزرتے ہی عالم غیب کی ہر حقیقت مرنے والے پر واشگاف ہوجاتی ہے۔ مومن ایمان کے مقامات کو دیکھتا ہے اور کافر اپنے بدترین انجام کو۔ ان دونوں حوالوں سے ان پر نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ عبادہ ابن الصامت سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مَنْ اَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ اَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ (یعنی جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو پسند فرماتے ہیں، اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتے ہیں) ۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا معنی تو موت کو قبول کرنا ہے اور ہم تو موت کو پسند نہیں کرتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، یہ مطلب نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب مومن کو موت آتی ہے تو اسے بشارت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر راضی ہے اور تیری عزت افزائی ہونے والی ہے۔ وہ یہ نوید جانفزا سن کر آگے جانے کی آرزو کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی آرزو کو قبول فرماتے ہیں۔ اور کافر کو اس وقت عذاب کی خبر دی جاتی ہے، وہ عذاب کا سن کر آگے جانے سے سو دفعہ پناہ مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند نہیں فرماتا۔ حاصل یہ ہے کہ موت کا ایک جھونکا ہر کافر کا کس بل نکال دیتا ہے تو وہ فرشتوں کو دیکھتے ہی چلانے لگتا ہے کہ خدا کے لیے مجھے واپس جانے کی اجازت دی جائے، میں یقین دلاتا ہوں کہ جو کچھ میں اس سے پہلے کو تاہیاں کرچکا ہوں، وہ اب نہیں کروں گا۔
کفار کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے مختلف مقامات پر کفار کو آئینہ دکھاتے ہوئے بیان فرمایا ہے۔ لیکن بعض جگہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کے عذاب کو دیکھ کر صرف کافر ہی دنیا میں واپسی کی درخواست نہیں کریں گے بلکہ وہ نام نہاد مسلمان بھی کریں گے جنھوں نے زندگی بھر اسلامی احکام کی کبھی پرواہ نہ کی۔ نام کے مسلمان بنے رہے لیکن فسق و فجور ان کی زندگیوں میں غالب رہا۔ انھیں بھول کر بھی کبھی آخرت کا خیال نہ آیا۔ وہ بھی نزع کی حالت میں مبادیِ عذاب کو دیکھ کر گزشتہ زندگی پر پچھتانا شروع کردیں گے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ انھیں زندگی کی مزید مہلت دی جائے تاکہ وہ اپنی گزشتہ زندگی کی تلافی کرسکیں۔ سورة منافقون میں ارشاد ہے وَاَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتِ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلاَ اَخَّرْتَنِیْ اِلٰی اَجَلٍ قَرِیْبٍ فَاَصَّّّدَّقَ وَاَکُنْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ (اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہے کہ کیوں نہ میری موت کو مؤخر کیا قریبی مدت تک تاکہ میں صدقہ کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہوجاتا) ۔
وَمِنْ وَّرَآئِھِمْ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ …کفار سے کہا جارہا ہے کہ تم موت کے ایک حملے سے پریشان ہو کر دنیا کی طرف واپسی کی درخواستیں کررہے ہو شاید تمہیں معلوم نہیں کہ اب تمہارے سامنے ایک برزخ ہے۔ یہ اس وقت تک حائل رہے گا جب تک قیامت کا صور نہیں پھونکا جاتا اور انسانوں کو زندہ کرکے اٹھایا نہیں جاتا۔ برزخ، اوٹ، رکاوٹ یا پردے پر بولا جاتا ہے۔ اس سے مراد موت سے لے کر وقوع آخرت تک کا وقفہ ہے۔ مرنے والے کافر تمنا کرتے ہیں کہ انھیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے۔ اس آیت کریمہ میں بتایا جارہا ہے کہ اب دنیا میں جانے کا تو کوئی موقع نہیں، اب تو انھیں آخرت کے قائم ہونے تک انتظار کرنا ہے اور انتظار کا وہ وقفہ جو حائل ہے دنیا کے سفر سے آخرت کی منزل تک، اسے برزخ کہا گیا ہے۔ اس میں کافروں کو آخرت کا عذاب تو نہیں ہوگا، البتہ وہ آخرت کے کچھ شواہد سے ضرور گزارے جائیں گے اور ایک مختصر عذاب برزخ میں بھی انھیں دیا جائے گا جس میں آخرت کے عذاب کی شدت تو نہیں ہوگی لیکن اس سے یہ ضرور اندازہ ہوگا کہ آئندہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
Ayah 23:101فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَـلَآ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَّلَا یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ (المومنون : 101)
(تو جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ ان کے درمیان نسب کام آئے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ )
مضمون کا تسلسل
اشرارِ قریش جو تکبر اور تمرد کی چلتی پھرتی تصویر تھے اور جنھیں اللہ تعالیٰ کے دین کی کوئی بات بھی پسند نہ آتی تھی انھیں گزشتہ آیت کریمہ میں ان کے انجام سے آگاہ کرتے ہوئے وہ منظر دکھایا گیا ہے جس میں وہ موت سے سابقہ پڑتے ہی گزریں گے۔ جیسے ہی ان پر نزع طاری ہوتی ہے تو یہ وہ وقت ہے جب اصحابِ ایمان کو ان کا انجام دکھا دیا جاتا ہے اور نہایت خوبصورت فرشتے تہنیتی کلمات سے انھیں خوش آمدید کہنے کے لیے تیار کھڑے ہوتے ہیں اور کافروں کو بھی آنے والے دنوں میں جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے۔ فرشتے نہایت ڈرائونی صورتوں میں تہدید آمیز کلمات کے ساتھ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ سکرات الموت سے گزرنے والا کافر جان لیتا ہے کہ میرے ساتھ کیا کچھ پیش آنے والا ہے وہ اسی وقت اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا ہے کہ مجھے واپس اسی دنیا میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ میں نیک عمل کرسکوں۔ یہ پہلا منظر ہے جس سے کافر کو سابقہ پیش آتا ہے۔ چناچہ ابھی وہ اسی چیخ و پکار میں ہوتا ہے کہ دوسرا منظر اس کے سامنے ابھرنے لگتا ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ موت کی سرحد سے گزر کر میں ایک دوسری دنیا میں داخل ہوگیا ہوں اب اس دنیا اور آخرت کے درمیان ایک پردہ حائل ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں آخرت کا اسے انتظار کرنا ہوگا، وہ اپنے وقت پر آئے گی اور دنیا کی طرف اس پردے کو عبور کرکے وہ جانے پر قادر نہیں۔ اسے بتادیا جائے گا کہ تمہیں اب اسی برزخ میں رہنا ہے اور یہاں تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جسے ایک مدت کے بعد بدترین سزا دی جانے والی ہوتی ہے۔ پھانسی کی سزا پانے والا دوسرے سزا یافتہ قیدیوں سے الگ کوٹھڑی میں رکھا جاتا ہے جو نسبتاً چھوٹی اور تکلیف دہ ہوتی ہے اور اس کا لباس دوسرے قیدیوں سے الگ وہ پہنایا جاتا ہے جسے پھانسی پانے والوں کا لباس کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کافروں اور مشرکوں کے ساتھ بھی برزخ میں رہنے والے باقی لوگوں سے مختلف سلوک ہوگا۔
قیامت کے دن کی نفسا نفسی
پیشِ نظر آیت کریمہ میں ایک تیسرے منظر سے پردہ اٹھایا جارہا ہے کہ برزخی زندگی کے اختتام پر اور آخرت کے اعلان کے طور پر جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو ہر شخص اپنے مسکن اور مدفن سے اٹھایا جائے گا اور اسے اس جگہ کی طرف ہانکا جائے گا جہاں سب کو حساب کتاب کے لیے پیش ہونا ہے جسے محشر یا میدانِ حشر کہا جاتا ہے۔ یہ قیامت کا دن اور قیامت کا میدان ہوگا اور جس کی ہر کیفیت اپنے اندر نہ جانے کتنی قیامت یں لیے ہوئے ہوگی۔ سب لوگ نفسی نفسی پکاریں گے۔ یہاں چونکہ ذکر صرف کفار کا ہے ان کے بارے میں خاص طور پر ان دو باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کے بل بوتے پر وہ آنحضرت ﷺ کو دھمکیاں دیتے اور ہر میدان میں اپنی کامیابی کا یقین رکھتے تھے۔ سرزمینِ مکہ اور جزیرہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل فکری وحدت کی وجہ سے ایک متحدہ قوت تھے۔ ہر قبیلے کو جب بھی کوئی ضرورت پیش آتی تو وہ اپنے ہم نسب لوگوں کو اکٹھا کرتا تھا اور اگر یہ کام مختلف قبائل کے مل کر کرنے کا ہوتا تو ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کو جن کے درمیان فکری اشتراک ہوتا، مدد کے لیے پکارتا تھا۔ جس طرح جنگ خندق میں عرب بھر کے قابل ذکر قبائل اپنے تئیں مسلمانوں کا استحاصل کرنے کے لیے ایک فکر اور ایک حوالے سے جمع ہوگئے تھے، حالانکہ ان کی آپس میں دشمنیاں بھی تھیں لیکن اسلام اور مسلمان دشمنی ان کے نزدیک وہ جذبہ مشترکہ تھا جس نے ان کو یک مشت بنادیا تھا۔ یہ دو چیزیں چونکہ ان کی قوت کا سامان تھیں اور ان پر انھیں بڑا ناز تھا تو ان دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے تو ایک دوسرے کو پہچاننے سے بھی انکار کردیں گے۔ باہمی نسبی اشتراک رکھتے ہوئے بھی نسلی نسبتوں کو بھول چکے ہوں گے۔ کوئی کسی کو مدد کے لیے پکارنے کی ہمت نہیں کرے گا بلکہ ان کا حال یہ ہوگا یَوَدُّالْمُجْرِمُ لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمَئِذٍبِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہٖ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤوِیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ” ہر مجرم اس دن یہ چاہے گا کہ اپنی اولاد اور بیوی اور بھائی اور اپنی حمایت کرنے والے قریب ترین کنبے اور دنیا بھر کے سب لوگوں کو فدیئے میں دے دے اور اپنے آپ کو عذاب سے بچا لے “۔ (المعارج، آیات 11 تا 14) اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا یُوْمَ یَفِرُّالْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِنْہِمْ یُوْمَئِذٍ شَانٌ یُغْنِیْہِ ” جس روز آدمی اپنے بھائی اور ماں اور باپ اور بیوی اور اولاد سے بھاگے گا اس روز ہر شخص اپنے حال میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کا ہوش نہ رہے گا۔ “
Ayahs 23:102–104فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَـاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَـاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فِیْ جَھَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ۔ تَلْفَحُ وُجُوْھَھُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْھَا کٰلِحُوْنَ ۔ (المومنون : 102 تا 104)
(پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جھلس ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ، اور اس میں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے۔ )
قیامت کے دن کامیابی کا ذریعہ
یہ تیسرا منظر ہے جس سے قیامت کے دن کفار کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ دنیا میں یہ لوگ اپنے قبائل کی افرادی قوت اور باہمی تعاون و تناصر پر ہمیشہ نازاں رہے اور یہی ان کی اجتماعی قوت کا سب سے بڑا سرچشمہ تھا، لیکن قیامت کے دن اس طرح بےبسی اور بےکسی کی تصویر بنے کھڑے ہوں گے کہ قبیلوں کا انتساب رکھتے ہوئے بھی اور باہمی تعاون کے جذبے کے باوجود ایک دوسرے کی بات تک نہیں پوچھ سکیں گے۔ قریبی اور حقیقی رشتے بھی اس دن کی ہولناکی کے سامنے اپنا وجود کھو دیں گے۔ اس دن صرف ایک سکہ کام آئے گا جسے ایمان و عمل کہا جاتا ہے۔ چناچہ جب ہر شخص کے اعمال تولے جائیں گے تو ایمان و عمل ہی وہ اثاثہ ہوگا جو پلڑے کو جھکا دے گا اور اس سے محرومی ہر طرح کے اثاثوں کو بےقدر اور بےوزن کردے گی۔ اس دن جو ایمان و عمل کا سرمایہ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے گا وہ دنیا میں چاہے کیسا ہی نادار اور بےیارومددگار شخص رہا ہو اس کے سر پر کامیابی کا تاج رکھا جائے گا۔ اور یہی وہ حقیقی کامیابی ہے جس کا ذکر اس سورت کے آغاز میں کیا گیا ہے۔ اور اشرافِ قریش کو بار بار سمجھایا گیا کہ تم جن چیزوں کو عزت و افتخار کی علامت اور کامیابی کا سرمایہ سمجھتے ہو ان کی حیثیت ڈھلتی چھائوں سے زیادہ نہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہے جو آج دیکھنے میں آئے گی اور جس کے بارے میں دنیا کو پہلے بتادیا گیا تھا فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ط وَمَاالْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلاَّمَتَاعُ الْغُرُوْرِ ” جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ ٹھہرا کامیاب، اور دنیا کی زندگی متاع غرور کے سوا کچھ نہیں۔ “ لیکن جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے آج وہ خود اپنی آنکھوں سے اپنی ہلاکت اور تباہی دیکھیں گے۔ ان کے طرزعمل کی پاداش میں انھیں ہمیشہ جہنم میں رکھا جائے گا۔ اور جہنم کے عذاب کی شدت کا عالم یہ ہوگا کہ جیسے ہی ان کے چہروں پر جہنم کی آگ کے تھپیڑے پڑیں گے تو ان کی کھال جل کر لٹک جائے گی اور ان کے دانت اس طرح باہر نکل آئیں گے جیسے بکرے کی بھنی ہوئی سری ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے کسی نے پوچھا کہ آیت کریمہ میں جو کٰلِحُوْنَکا لفظ آیا ہے جس کا واحد کَالِحْ ہے اس کا مفہوم کیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا اَلَمْ تَرَا اِلٰی الرَّاسِ الْمُشِیْط ” کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی۔ “ یعنی جس طرح بکرے کی سری اگر بھونی جائے تو اس میں چہرے کے دائیں بائیں کا چمڑا غائب ہوجاتا ہے اور صرف دانت نظر آتے ہیں، یہ حال اس کافر کا ہوگا جسے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔
Ayahs 23:105–107اَلَمْ تَکُنْ اٰیٰـتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ ۔ قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ ۔ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْھَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ ۔
(المومنون : 105 تا 107)
(کیا تمہیں میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں تو تم ان کو جھٹلاتے تھے۔ تو وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے۔ اے ہمارے رب ! ہمیں جہنم سے (ایک مرتبہ) نکال، اگر ہم پھر ایسا کریں تو بیشک ہم ہی ظالم ہوں گے۔ )
کفار کی آہ وزاری اور اس کا جواب
جب کفار جہنم میں بہت زیادہ چیخیں چلائیں گے اور بار بار رحم کی درخواست کریں گے، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ جواب دیا جائے گا کہ اب چیخنے چلانے کا کیا فائدہ، کیا میرے رسول ﷺ نے اسی دن کی یاددہانی کے لیے تمہارے سامنے بار بار ہماری آیات پڑھ کر نہیں سنائی تھیں۔ تم گالیاں دیتے اور ہذیان بکتے تھے، لیکن ہمارا رسول ﷺ رحمت و موعظت کا پیکر بن کر تمہیں آنے والے انجام سے برابر باخبر کرتا رہا لیکن تم نے اس کی کسی بات کا جواب دینے کی زحمت بھی گوارا نہ کی۔ تو کفار جواب میں کہیں گے کہ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری بدبختی اور شقاوت نے ہم پر ایسا غلبہ کیا کہ ہم نے کبھی سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ کے رسول کی باتوں کو اور قرآن کریم کی آیات کو سننے کی زحمت نہ کی۔ بلکہ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہمدردی بڑھتی گئی ویسے ویسے ہماری طرف سے تکذیب میں تیزی آتی گئی۔ آج ہمارے پاس اپنی بدبختی کے اعتراف اور ندامت کے سوا کچھ نہیں۔ الٰہی تو بڑا رحیم ہے، ایک دفعہ ہم پر رحم فرما اور جہنم سے نکال کر ایک دفعہ ہمیں دنیا میں بھیج، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اب اگر ہمیں دنیا میں جانے کا موقع ملا تو ہم ایک نیکوکار کی زندگی گزاریں گے اور اللہ تعالیٰ کے نبی کی ایک ایک نصیحت پر کان دھریں گے۔ لیکن اگر ہم نے اس موقع سے بھی فائدہ نہ اٹھایا اور ہمارا وہی رویہ رہا جو پہلے تھا تو پھر ہم رحم کی اپیل بھی نہیں کریں گے بلکہ ہم تسلیم کریں گے ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں اور ہر طرح کے سلوک کے سزاوار ہیں۔
Ayah 23:108قَالَ اخْسَئُوْ فِیْھَا وَلَا تُکَلِّمُوْنِ ۔ (المومنون : 108)
(اللہ تعالیٰ جواب دے گا، دفع ہو، اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ )
خَسَا کا مفہوم اور کلام نہ کرنے سے مراد ؟
خَسَا … کتے کو دھتکارنے کے لیے آتا ہے۔ کفار سے بھی اسی لہجے میں بات کی جائے گی جس طرح کتے سے کی جاتی ہے۔ ان کی بار بار یہ درخواست کہ ہمیں ایک دفعہ دنیا میں جانے کی اجازت دی جائے، اس کا جواب نہایت حقارت سے دیا جائے گا اور تحقیر میں مزید شدت پیدا کرنے کے لیے کہا جائے گا کہ اب اس سلسلے میں مجھ سے کوئی بات مت کرو۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے عذاب میں مبتلا لوگوں کی یہ آخری بات ہوگی۔ اس کے بعد ان کی زبانیں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گی۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب سمجھا ہے کہ وہ کسی طرح کی بات کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ لیکن سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہر طرح کے کلام پر پابندی نہیں بلکہ پابندی اس بات پر لگائی گئی ہے کہ آئندہ دنیا میں دوبارہ جانے کی درخواست مت کرنا۔ دنیا دارالعمل ہے جہاں ہر آدمی کو ایک ہی دفعہ بھیجا جاتا ہے۔ تم اس سہولت سے ایک دفعہ فائدہ اٹھا چکے ہو، اب دوسری دفعہ جانے کا کوئی امکان نہیں، اب تمہیں ہمیشہ اسی جہنم میں رہنا ہے۔
Ayahs 23:109–111اِنَّہٰ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُالرّٰحِمِیْنَ ۔ فَاتَّخَذْتُمُوْھُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰیٓ اَنْسَوْکُمْ ذِکْرِیْ وَکُنْتُمْ مِّنْھُمْ تَضْحَکُوْنَ ۔ اِنِّیْ جَزَیْتُھُُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْٓا لا اَنَّھُمْ ھُمُ الْفَاْئِزُوْنَ ۔
(المومنون : 109 تا 111)
(بیشک میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو دعا کرتے تھے کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے تو، تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔ تو تم نے ان کو مذاق بنا لیا، یہاں تک کہ ان کے ساتھ تمہارے اس شغل نے تم کو میری یاد سے غافل کردیا اور تم ان پر ہنستے رہے۔ آج ان کے اس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں۔ )
غریب مسلمانوں کی دلآزاری اور ان کی توہین کا انتقام
سابقہ آیت کریمہ میں کفار کو جس طرح دھتکارا گیا ہے اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دھتکارنے کی وجہ دراصل ان کا وہ رویہ ہے جو انھوں نے ان مخلص مسلمانوں کے بارے میں اختیار کر رکھا تھا جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کا حوالہ دیتے، پھر اس سے مغفرت طلب کرتے اور اسی سے رحمت کے خواستگار ہوتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ کفار کی طرف سے ہر طرح کی اذیت رسانی کا عمل بےروک ٹوک جاری تھا اور اس کا نشانہ یہی مخلص مسلمان تھے۔ لیکن وہ اس کی شکایت کرنے کی بجائے ہمیشہ اپنے ایمان اور استغفار کی بات کرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحم کی بھیک مانگتے، لیکن ان ظالموں نے ان کے اس طرز عمل کو ایک مذاق بنا رکھا تھا اور اپنے نہایت مکروہ طرز عمل کو اس طرح اپنا وطیرہ بنا لیا تھا کہ وہی ان کی تفریح تھا اور اسی کو انھوں نے ان کی تضحیک کا ذریعہ بنا رکھا تھا اور اس میں یہ اس حد تک منہمک رہتے تھے کہ انھیں اس بات کا احساس ہی مرگیا تھا کہ ہم مسلمانوں کے جس رویئے کا مذاق اڑا رہے ہیں اس میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور اسی سے بخشش کی طلب اور اسی سے رحم کی درخواست کے سوا اور کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مذاق مسلمانوں کا نہیں اڑا رہے بلکہ ہم نے ذکر اللہ کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ اولاً تو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کا مذاق اڑانا بھی بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے لیکن اگر اس میں ذکر اللہ کا بھی استخفاف ہوتا ہو تو اس حرکت کی شناعت میں انتہائی اضافہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ اسی سے وہ غیرت پھوٹتی ہے جس کی وجہ سے پروردگار نے انھیں اس طرح دھتکارا ہے کہ انھیں ہر طرح کی درخواست پیش کرنے کے حق سے بھی محروم کردیا۔
آیتِ کریمہ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش کے متمردین جن مخلص مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے وہ مسلمانوں کے ان غرباء کا گروہ تھا جو اپنی غریبی اور بےکسی کے باعث اشرارِ قریش کے ظلم و ستم اور مذاق و استہزاء کا ہدف بنے ہوئے تھے اور ان کی رعونت کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے ان غریب مسلمانوں کو جو انسانیت کا وقار تھے سِخْرِیًّابنایا ہوا تھا۔ یہ سخریاس چیز یا اس شخص کو کہتے ہیں جس کو ایک مذاق بنا لیا جائے اور پھر یہ مذاق اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا احترام بھی اٹھ گیا تھا۔
کفار کے طرز عمل کو کراہت سے ذکر کرنے کے بعد ان غریب مسلمانوں پر اپنے افضال و انعامات کا ذکر اس طرح فرمایا گیا ہے جس سے ان کے مرتبہ و مقام میں غیرمعمولی بلندی کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ کفار کی نگاہوں میں نہایت چھوٹے لوگ تھے لیکن انھوں نے جس طرح ان کے تمسخر اور استہزاء کو برداشت کیا بلکہ اسے اپنے ایمان کی جلا کا ذریعہ بنایا اور ان کی بڑی سے بڑی بات پر بھی صبر و استقامت کی نئی تاریخ مرتب کی۔ پروردگار نہایت تحسین کے ساتھ اس کا ذکر فرماتے ہوئے صرف ایک لفظ میں انھیں وہ اعزاز عطا فرما رہے ہیں کہ ایک مومن کی زندگی بھر کی مساعی کا انعام اس سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا۔ ارشاد فرمایا، کہ ہم اعلان کرتے ہیں کہ یہ لوگ جنھیں دنیا میں یہ متمردین اپنے پاس بٹھانا پسند نہیں کرتے تھے اور ان کی بےکسی اور بےبسی کا نہایت حقارت سے مذاق اڑاتے تھے، ہم انھیں فوزوفلاح سے نوازنے کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ دنیا میں بھی اس طرح کامیاب ہوں گے کہ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں ان کے نقوش قدم کو اپنے لیے بصیرت کا سامان سمجھیں گی اور آخرت میں جنت کا بڑے سے بڑا مقام ان کے لیے ہوگا۔