23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsروح القرآن

Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس کلام پر کبھی غور نہیں کیا یا ان کے پاس پیغمبر ﷺ کوئی ایسی چیز لے کر آئے ہیں جو ان کے اگلے آبائو اجداد کے پاس نہیں آئی

اَفَلَمْ یَدَّ بَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآئَ ھُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآئَ ھُمُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (المومنون : 68) (کیا ان لوگوں نے اس کلام پر کبھی غور نہیں کیا یا ان کے پاس پیغمبر ﷺ کوئی ایسی چیز لے کر آئے ہیں جو ان کے اگلے آبائو اجداد کے پاس نہیں آئی۔ ) مشرکین مکہ کی مخالفت کے نام نہاد اسباب مشرکینِ مکہ کا رویہ جو گزشتہ آیات میں متعدد دفعہ زیر بحث آچکا ہے اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کے ساتھ ان کا سلوک جس کو ہر آنکھ دیکھ رہی ہے کیا اس وجہ سے ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کی طرف سے جو کتاب ان کے سامنے پیش کررہے ہیں یعنی قرآن کریم انھوں نے کبھی اس پر غور و فکر نہیں کیا کہ وہ کتاب کیسی ہے ؟ کیسی زبان میں ہے ؟ اس کی فصاحت و بلاغت کا عالم کیا ہے ؟ وہ انھیں کس بات کی دعوت دیتی ہے ؟ اور یا ایسا ہے کہ انھوں نے غور تو کیا ہے لیکن وہ کتاب انھیں سمجھ میں نہیں آئی۔ یہ دونوں باتیں درحقیقت ناقابلِ قبول ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی جو دعوت ان کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے اور کتاب کی تلاوت دلوں کی تسخیر کررہی ہے اور جس کی معجز بیانی نے قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو حیرانی میں مبتلا کررکھا ہے اور جس کی بیان کردہ تعلیم اور نظام زندگی کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ انھوں نے کبھی اس پر غور وفکر نہ کیا ہو ؟ رہی یہ بات کہ ہوسکتا ہے کہ انھیں یہ کتاب سمجھ نہ آئی ہو۔ یہ بات قبول کرنا بھی محال ہے اس لیے کہ وہ کتاب کوئی چیستان نہیں جو سمجھ نہ آتی ہو۔ اس کی زبان الجھی ہوئی زبان نہیں وہ اسی زبان میں نازل ہورہی ہے جسے قریش کی زبان کہا جاتا ہے۔ اس لیے یہ دونوں باتیں ان کے رویے کا باعث نہیں ہوسکتیں۔ تیسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ شاید ان کے موجودہ رویے کا سبب یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ محمد ﷺ ہمارے پاس ایک ایسی دعوت لے کر آئے ہیں اور اللہ کی طرف سے اپنے اوپر ایسی وحی اترنے کا دعویٰ کررہے ہیں اور ایسی باتوں کی تعلیم دے رہے ہیں جو باتیں اور جو وحی ہمارے اگلے آبائو اجداد میں کبھی نہیں آئی۔ ان میں کبھی کسی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اور کبھی یہ بات نہیں کہی کہ تم چونکہ اللہ کے بندے ہو اور اللہ تمہارا معبود ہے اس لیے تمہیں زندگی گزارنے کا طریقہ اور ڈھب اللہ کی طرف سے ملنا چاہیے۔ تم اپنی طرف سے جو اصول حیات اور ضوابطِ حیات طے کرو گے وہ صحیح نہیں ہوں گے۔ اس طرح کی باتیں ہمارے آبائواجداد نے کبھی نہیں سنیں۔ یہ بات بھی پہلی دونوں باتوں کی طرح بالکل غلط ہیں۔ اس لیے کہ جہاں تک نبوت کا تعلق ہے اور اللہ کی طرف سے رہنمائی نازل کیے جانے کا سوال ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ قریش اور دوسرے اہل عرب اپنے تجارتی اسفار میں عراق، شام اور مصر سے گزرتے رہتے ہیں۔ اس لیے وہاں جو نبی مبعوث ہوئے ان کی تاریخ ان کے لیے اجنبی نہیں اور یہ بھی اب امر واقعہ ہے کہ ان کی اپنی سرزمین میں ان کے اپنے آبائواجداد میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) اللہ کے رسول گزرے ہیں۔ اور خود جزیرہ عرب کے اندر حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت شعیب (علیہم السلام) اپنے اپنے وقتوں میں رسول بن کر آئے۔ اور ان کی قومیں ان کی تکذیب کے باعث اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ یہ سب لوگ ان کے جانے پہچانے ہیں اور یہ انھیں اپنے تئیں اللہ کے سچے نبی سمجھتے ہیں۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کو یہ کہہ کر رد کردیں کہ یہ ایک ایسی اجنبی چیز ہے جس سے نہ ہم واقف ہیں اور نہ ہمارے آبائواجداد واقف تھے۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا انھوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں اس وجہ سے ان کے منکر بنے ہوئے ہیں

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَھُمْ فَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ ۔ (المومنون : 69) (یا انھوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں اس وجہ سے ان کے منکر بنے ہوئے ہیں۔ ) مزیدعذرِ لنگ قریش اور دوسرے اہل مکہ کے انکار کا ایک سبب یہ ہوسکتا ہے کہ ایک اجنبی آدمی اٹھا اور اس نے رسالت کا دعویٰ کردیا کہ میں اللہ کی طرف سے اللہ کا پیغام لے کر مبعوث ہوا ہوں۔ اس لیے تم مجھ پر ایمان لائو۔ اب لوگ پریشان ہیں کہ ہم لوگ شخصی طور پر اسے جانتے نہیں اس کے نسب سے واقف نہیں اس کے قبیلے کی کچھ خبر نہیں۔ اس کا سیرت و کردار بیخبر ی کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس سے کبھی کسی معاملہ کرنے کی نوبت نہیں آئی تو ہم ایسے شخص کو اللہ کا رسول مان کر کس طرح کھائی میں چھلانگ لگادیں۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں قریش اور دیگر اہل مکہ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ وہ آنحضرت ﷺ کے خاندان سے واقف ہیں۔ آپ کی نسلی شرافت ان کے یہاں مسلّم ہے۔ شہر مکہ ان کے عزیزوں سے بھرا ہوا ہے۔ ان کا بچپن، ان کا لڑکپن ان کی جوانی ان کے سامنے گزری ہے۔ انھوں نے بکریاں ان کے سامنے چَرائیں۔ تجارت ان کے سامنے شروع کی اور اپنی کاروباری صلاحیت ان سے منوائی۔ چالیس سالہ زندگی ان میں گزاری اور اپنے بےعیب سیرت و کردار کا ان سے لوہا منوایا۔ کل تک مکہ کے لوگ ان کی صداقت وامانت کا اعتراف کرتے رہے۔ ان کو امین اور صادق کہہ کر پکارا جاتا۔ قریش ہی کے خاندان کی ایک معزز خاتون سے انھوں نے شادی کی۔ شب وروز انھیں کے ساتھ گزارے۔ قریش کا ہر آدمی اپنے پیچھے اچھی بری داستانیں رکھتا ہے لیکن آنحضرت ﷺ ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانے پہچانے ہیں جن کے دامن پر کوئی داغ نہیں۔ نبوت کے دعوے تک لوگوں نے ان میں ایسی بو تک نہیں سونگھی جس سے گمان کیا جاسکتا ہو کہ وہ کوئی دعویٰ کرنے والے ہیں۔ کبھی کسی شخص نے ان سے کلمہ نصیحت تک نہیں سنا۔ اب جبکہ وہ اپنی معصوم شخصیت اور معلوم سیرت و کردار کے ہر پہلو سے لوگوں سے خراجِ تحسین حاصل کرچکے ہیں تو اچانک اللہ کا پیغام ان پر نازل ہوتا ہے اور وہ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم چونکہ اس شخص کو جانتے نہیں کہ یہ کس سیرت و کردار کا آدمی ہے آیا نبوت جیسے عظیم منصب کا مستحق بھی ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ تو یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جسے کوئی ذمہ دار آدمی قبول نہیں کرسکتا۔ تو ایسے جھوٹ کی بنیاد پر یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کی دعوت پر ایمان نہ لانے کا سبب ہوسکتا ہے ؟ یقینا ان کے انکار کا سبب کچھ اور ہے۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر کوئی جنون کا اثر ہے۔ نہیں، بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ط بَلْ جَآئَ ھُمْ بِالْحَقِّ وَاَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ ۔ (المومنون : 70) (یا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر کوئی جنون کا اثر ہے۔ نہیں، بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔ ) ایک بیہودہ الزام قریش کا آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہ کرنے کا سبب شاید یہ ہو کہ قریش کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو جنون کا مرض لاحق ہوگیا ہے۔ چناچہ وہ اپنے اس مرض کے زیر اثر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان پر اللہ کی وحی اترتی ہے حالانکہ جب انھیں اس بیماری کا دورہ پڑتا ہے تو ان کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے وہ اسے اللہ کی وحی سمجھنے لگتے ہیں۔ جو شخص بھی آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ کا سرسری مطالعہ بھی رکھتاہو، وہ اس بات کو سن کر حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا قریش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے سمجھدار لوگ تھے لیکن ان کی یہ بات تو نہایت احمقانہ ہے۔ لیکن جس شخص کی نگاہ حسد اور بغض کے محرکات اور آثار و نتائج پر ہو اور وہ کسی حدتک انسانی نفسیات کو سمجھتاہو تو اسے اس میں کوئی حیرانی محسوس نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور کے مستشرقین جنھیں علوم مشرقیہ اور علوم اسلامیہ پر دسترس کا دعویٰ ہی نہیں بلکہ وہ رات دن تحقیق کے کام میں مصروف ہیں اور انھوں نے پر اپیگنڈہ کے زور سے بہت حد تک اپنی غیرجانبداری کو لوگوں کے دلوں میں اتار رکھا ہے، وہ بھی یہ بات کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کو مرگی کا دورہ پڑتا تھا اور وہ اور ان کے دیکھنے والے اسے نزول وحی کی کیفیت سمجھتے تھے۔ اور مرگی چونکہ جنون ہی کی ایک قسم ہے ایسا مریض بعض دفعہ اول فول بھی بکنے لگتا ہے اور بعض چیزیں اس کے تصور میں لہرانے بھی لگتی ہیں۔ تو وہ اسی کیفیت کے نتیجے کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کا باعث سمجھتے ہیں۔ اندازہ فرمائیے ! نبی کریم ﷺ کی زندگی نبوت سے چالیس سال پہلے اور نبوت سے تئیس سال بعد لوگوں کے سامنے گزری ہے۔ دوست اور دشمن اس کے گواہ ہیں۔ نبوت سے پہلے کی زندگی میں آپ نے کاروبار بھی کیا، لوگوں کے معاملات میں شریک بھی رہے، قریش کا کوئی اجتماعی مفاد ایسا نہیں جس میں آپ نے اپنا فرض ادا نہ کیا ہو، غریبوں بےکسوں اور بیوائوں کے گھر آپ کی مدد اور تعاون سے روشن رہے اور کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے حقوق کی واپسی میں آپ نے اپنا فرض انجام دیا۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسی مصروف معاشرتی زندگی میں قریش نے ہمیشہ آپ کو نمونے کا بےعیب آدمی سمجھا اور ہمیشہ آپ کی ہوش مندی اور دانائی کی مثالیں دی جاتیں اور الجھے ہوئے معاملات میں آپ کی معاملہ فہمی پر بھروسہ کیا جاتا اور کبھی کسی کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ تصور پیدا نہ ہوا کہ آپ کو کوئی جنوں لاحق ہے۔ اسی طرح نبوت کے بعد کی تئیس سالہ زندگی دشمنوں اور دوستوں میں اس طرح گزری کہ ہر ایک نے آپ کی اصابتِ فکر اور غیر معمولی حالات میں آپ کی استقامت انتہائی مایوس کن حالات میں آپ کا حیران کن یقین واذعان نہایت محدود افرادی قوت کے ساتھ چند ہی سالوں میں جزیرہ عرب کی قسمت کو بدل ڈالنے والا انقلاب اور آپ کی زبان مبارک سے نکلنے والے جواہر پارے اپنی حکمت و دانش میں آج تک انسانی سطح سے بالا اور آپ کی ہمہ جہت شخصیت کے بےپناہ اثرات آج تک انسانیت کا سب سے بڑا سرچشمہ، کیا ایسا ہوتا ہے جنون ؟ اور کیا ایسے ہوتے ہیں وہ اثرات جو جنون سے پیدا ہوتے ہیں ؟ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قریش کے انکا رکا سبب یہ جنون کا الزام نہ تھا بلکہ سبب کچھ اور تھا۔ ؎ سبب کچھ اور ہے تو خود جسے سمجھتا ہے مخالفت کا حقیقی سبب وہ سبب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کے پاس وہ حق اور سچائی لے کر آئے ہیں جو ان کی اکثریت کو ناگوار گزرتی ہے۔ یہ خواہشاتِ نفس کے اسیر، مال و دولت اور عہدہ ومنصب کی ہوس کے شکار اور اپنی ہی ذات کے گنبد میں بند رہنے والے جب یہ دیکھتے ہیں کہ انھیں ایثار و قربانی اور اللہ کی بندگی کی طرف بلایا جارہا ہے جبکہ ان کی زندگی اس کے بالکل برعکس دوسری طرح سے گزر رہی ہے۔ وہ اپنی بےبسی اور نارسائی کو چھپانے کے لیے داعی الی الحق کو مختلف الزامات کا نشانہ بنانے لگتے ہیں، جس طرح ایک مریض جب طبیب کی تشخیص کردہ دوائوں کو کڑوی اور کسیلی دیکھتا ہے اور وہ انھیں حلق سے نیچے اتارنا نہیں چاہتا تو وہ خود کو مریض تسلیم کرنے کی بجائے الٹا طبیب ہی کے مشورے کو ہذیان قرار دینے لگتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر کہیں حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کا اپنا ذکر لے کر آئے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں

وَلَوِا تَّبَعَ الْحَقُّ اَھْوَآئَ ھُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ ط بَلْ اَ تَیْنٰھُمْ بِذِکْرِھِمْ فَھُمْ عَنْ ذِکْرِھِمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (المومنون : 71) (اور اگر کہیں حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کا اپنا ذکر لے کر آئے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔ ) گزشتہ بات کی وضاحت قریش اور دیگر مخالفین کی جانب سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جتنے امکانات یا جتنے دعوے ہوسکتے تھے، گزشتہ آیات میں ان میں سے ایک ایک کا ذکر فرماکر یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں سے کوئی بات بھی آنحضرت ﷺ کی مخالفت کا اصل سبب نہیں بلکہ اصل سبب دو باتیں ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ قریش اور دیگر مشرکین نے اپنے طور پر دین کے بارے میں کچھ تصورات بنا لیے ہیں اور زندگی گزارنے کا ایک خاص خانہ ساز طریقہ اپنا لیا ہے۔ اب ان کی خواہش یہ ہے کہ جو شخص بھی انسانی اصلاح کا مقصد لے کر اٹھے تو اسے وہی باتیں پیش کرنی چاہئیں جو انھوں نے پہلے سے اختیار کررکھی ہیں اور جس سے مختلف کسی بات کو نہ یہ سننے کے لیے تیار ہیں اور نہ قبول کرنے کے لیے جبکہ ان کی اختیار کردہ باتوں کے پیچھے نہ کوئی فلسفہ کام کررہا ہے اور نہ کوئی زندگی کا مخلصانہ گہرا تجربہ۔ بس ان کی چند خواہشات ہیں جن سے انھوں نے اپنی فکر کا ایک سانچہ تیار کیا ہے، اسی کے مطابق انھوں نے چند عقائد اختیار کرلیے ہیں اور جائز و ناجائز، حلال و حرام اور حسن وقبح کے معیارات میں بھی ان کی خواہشات اور مفادات نے بنیادی کردار ادا کیا ہے لیکن اللہ کا رسول جب اللہ کی طرف سے زندگی کی حقیقی صداقتوں اور واقعی حقائق کو ان کے سامنے واشگاف کرتا ہے اور ان کی اصل حیثیت کو ان کے دل و دماغ میں اتارتا ہے اور زندگی کو مہلت عمل قرار دے کر آخرت کے شعور کو ان کے سامنے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو وہ اپنے مزعومہ تصورات کو اٹل اور حتمی سمجھتے ہوئے اللہ کے رسول کی ہر بات کی مخالفت کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ زندگی کے بارے میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ اس کا کوئی بلند مقصد نہیں۔ یہ درحقیقت خواہشاتِ نفس کو اپنی اپنی ہمت کے مطابق بروئے کار لانے کا ذریعہ ہے۔ جو شخص یہاں اپنی ہمت، صلاحیت اور قابلیت سے اپنی خواہشات کی مملکت بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، وہ دنیا میں ایک کامیاب انسان ہے اور جو ایسا نہیں کرسکتا وہ ایک ناکام شخص ہے۔ اللہ کا رسول جب انھیں زندگی کے مقاصد کی طرف بلاتا ہے جو قدم قدم پر خواہشاتِ نفس کی قربانی مانگتے ہیں تو یہیں سے تصادم شروع ہوجاتا ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہاں بالا دستی اور حکمرانی کا حق خواہشِ نفس کو ہونا چاہیے۔ یہاں اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں۔ کیا چیز اچھی ہے اور کیا بری ؟ اور کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے ؟ سراسر جذباتی اور کتابی باتیں ہیں۔ جن کا کتاب زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ اگر ان کے تصورات کے مطابق حق کو خواہشِ نفس کے تابع کردیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اخلاق تباہ ہوجائیں گے۔ انسانی قدریں پامال ہوجائیں گی۔ نیکی کا تصور مٹ جائے گا۔ خیر کی جگہ شر، عدل کی جگہ ظلم، نیکی کی جگہ بدی، امانت کی جگہ خیانت اور اس سے بڑھ کر توحید کی جگہ شرک اور قیامت کی بجائے انکارِ قیامت جیسے تصورات کا چلن عام ہوجائے گا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کائنات تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ شر کی سرافرازی، ظلم کی بالا دستی، خیانت کی کارفرمائی اور بدی کی حکمرانی سے یہ دنیا درندوں کا بھٹ بن کر رہ جائے گی۔ آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ حق ہوائے نفس کی پیروی کرنے لگے کیونکہ ایسا کرنے سے زمین و آسمان کی ہر چیز تباہ ہوجائے گی۔ البتہ ! انسانی فلاح وبقا کا راستہ یہ ہے کہ ہوائے نفس کو حق کے تابع بنادیاجائے۔ عدل کو ظلم کے تابع کرنے سے تو ظلم بڑھتا ہے اور انسانی خوشیاں غموں میں ڈوب جاتی ہیں اور حقوق محرومیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر ظلم کو عدل کے تابع کردیا جائے تو محرومیاں شادمانیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور غم واندوہ کے بادل مسرتوں کے سایوں میں بدل جاتے ہیں اور یہ تبدیلی اس وقت آتی ہے، جب انسانی معاشرہ اس بات کو قبول کرلے کہ دنیوی زندگی مہلت عمل ہے۔ ہر عمل کی صورت گری انبیائے کرام کی تعلیم اور اللہ کی کتابوں کی رہنمائی سے ہوتی ہے۔ اس لیے پروردگار نے ہر دور میں اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں اور انسانوں کے دل و دماغ میں یہ بات اتاری کہ یہ تمہاری چند سالہ زندگی آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کے لیے کامیابی یا ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔ اس لیے ہر رسول ہر دور کے لوگوں کے لیے یاد دہانی لے کر آتا ہے کہ اس زندگی کی نعمتوں کو حاصل زندگی سمجھ کر عیش و عشرت کا ذریعہ نہ بنائو بلکہ جو تمہیں زندگی کے بلند مقاصد بخشے گئے ہیں ان کے حصول کے لیے اس زندگی کو استعمال کرو۔ لیکن قریش اور دیگر باطل پرستوں کا حادثہ یہ ہے کہ وہ اپنے حصے کی یاددہانی کی طرف توجہ دینے کی بجائے اس سے منہ پھیر رہے اور مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ ذکر کا ایک اور معنی تاریخ اور کہانی بھی ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تمہارے سامنے گزشتہ انبیائے کرام کی دعوت اور معذب قوموں کی تکذیب کی تاریخ بیان کی ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف اللہ کا رسول آتا ہے تو وہ ان کے سامنے دین کی صورت میں ایک ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ اگر وہ قوم اسے قبول کرکے اپنی زندگی کا دستور بنالیتی ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں دنیا کی حکمرانی اور آخرت کی فلاح و کامرانی سے نوازتا ہے۔ لیکن اگر وہ اللہ کے رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد اس قوم پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے اور وہ قوم تباہ کردی جاتی ہے۔ یہ انسانوں کی تاریخ اور انسانیت کی کہانی ہے۔ جو ہر دور میں پیش آتی رہی ہے۔ اب نبی کریم ﷺ پھر اسی ذکر اور کہانی کو لوگوں کے سامنے دہرا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی دنیا وعاقبت کو سنوار لیں۔ بصورتِ دیگر ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو پہلی معذب قوموں کا ہوچکا ہے۔ اسی بات کو قرآن کریم نے ایک اور جگہ دہراتے ہوئے ارشاد فرمایا : لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔ اقبال مرحوم نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے کہا ؎ محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
Ayah 23:72

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کررہے ہیں ؟ آپ کے رب کا دیا ہوا معاوضہ آپ کے لیے بہتر ہے۔ اور وہ بہترین روزی بخشنے والا ہے

اَمْ تَسْئَلُھُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَ بِّکَ خَیْرٌ صلے ق وَّھُوَ خَیْرُالرّٰزِقِیْنَ ۔ (المومنون : 72) (کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کررہے ہیں ؟ آپ کے رب کا دیا ہوا معاوضہ آپ کے لیے بہتر ہے۔ اور وہ بہترین روزی بخشنے والا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی اور آپ کے مخالفین کے لیے سرزنش ہے۔ اور اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل بھی ہے۔ قریش کو شرم دلاتے ہوئے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم جو آنحضرت ﷺ پر نفسانیت کا الزام لگاتے ہو اور تمہارا گمان یہ ہے کہ شاید آپ نے اپنی کسی نفسانی غرض کے لیے نعوذ باللہ من ذالک نبوت کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ خدا لگتی کہو ! کہ وہ جو شب وروز تمہاری اصلاح اور تم تک اللہ کا دین پہنچانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور اس راستے میں تم سے ہر اذیت کو برداشت کرتے ہیں۔ تمہارے الزامات سہتے اور تمہاری خرافات کو برداشت کرتے ہیں تو آخر اس میں ان کا ذاتی مفاد کیا ہے ؟ دنیا میں ہر شخص اپنے مفاد کی خاطر محنت کرتا، وقت صرف کرتا اور دکھ اٹھاتا ہے تو کیا آنحضرت ﷺ نے تمہاری بھلائی اور خیرخواہی کے لیے جو کچھ کیا ہے اس پر کچھ معاوضہ طلب کیا ہے۔ آپ کا بدترین دشمن بھی آپ پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کیونکہ تمام قریش جانتے ہیں کہ آپ ایک کامیاب تاجر تھے مختلف ممالک میں آپ کی تجارت پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن نبوت کی مصروفیات نے نہ صرف آپ کا کاروبار تباہ کیا بلکہ آپ کو نادار کردیا۔ آپ اپنی قوم اور شہر میں سب سے زیادہ ہر دلعزیز اور عزت و شہرت کے مالک تھے۔ لیکن اب انھیں گالیاں دی جارہی اور پتھر مارے جارہے ہیں۔ ملک کا بچہ بچہ آپ کا دشمن ہوگیا ہے۔ آپ کے اپنے ہی بھائی بند خون کے پیاسے ہورہے ہیں۔ اور مزید یہ بات بھی کہ آپ جو دعوت لے کر اٹھے ہیں اور آپ نے جس طرح انسانوں میں تفاوت ختم کرنے اور طبقات کو مٹانے کی کوشش کی ہے وہ تو سراسر قومی تعصبات کے لیے چیلنج ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے تو قریش کے سمجھدار طبقے کو آپ کی بےنفسی اور للہیت پر یقین پیدا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن وہ نہ جانے آنحضرت ﷺ کے بارے میں کس طرح کے تحفظات کا شکار ہوچکے ہیں۔ وہ اپنی طرح آنحضرت ﷺ کے بارے میں بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ اپنی تجارت اور کاروبار اثرورسوخ اور ہر دلعزیزی کو دائو پر لگا کر لوگوں کی فلاح و کامرانی کے لیے کوشاں ہوں گے۔ وہ آپ کو بھی اپنی طرح دنیا کے مفادات کا اسیر سمجھتے ہیں۔ اور انھیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک داعی حق صرف اللہ کی رضا اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے جسم وجان، مال و دولت اور زندگی کی ہر آسائش کو قربان کرسکتا ہے۔
Ayahs 23:73–74

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

بیشک آپ انھیں ایک سیدھی راہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں

وَاِنَّکَ لَتَدْعُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰکِبُوْنَ ۔ (المومنون : 73، 74) (بےشک آپ انھیں ایک سیدھی راہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ اور جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ ) مشرکین کا اصل مرض اس آیت کریمہ میں بھی نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ نہ آپ کی دعوت میں کوئی کجی ہے اور نہ دعوتی جدوجہد میں کوئی کوتاہی ہے بلکہ آپ کی دعوت تو زندگی کی صحیح شاہراہ پر چلنے کی دعوت ہے اور اسی شاہراہ پر چل کر ہی انسان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ قریش کی مخالفت کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ اس شاہراہ کے مسافر نہیں جس کی آپ دعوت دے رہے ہیں اور جس منزل کی طرف آپ انھیں لے جانا چاہتے ہیں وہ سرے سے اس منزل کو تسلیم ہی نہیں کرتے یعنی انھیں آخرت کے وجود ہی سے انکار ہے۔ اور یہ بالکل ایک سیدھی سی بات ہے کہ جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مأل اور نتیجہ نہیں اور اسے کسی کے سامنے اپنی زندگی کے اعمال کی جوابدہی نہیں کرنی۔ تو اسے آخر اس بات کی کیا فکر ہوسکتی ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ؟ اس کے سامنے تو صرف جسمانی ضروریات اور خواہشاتِ نفس کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں۔ اگر پیٹ کا جہنم بھرتا رہے اور نفسانی خواہشات کو غذا مہیا ہوتی رہے تو اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ صراط مستقیم کتنا دور نکل گیا ہے۔ اس کے لیے حقوق اللہ بھی بےمعنی ہیں اور حقوق العباد بھی لایعنی باتیں ہیں۔ اچھائی برائی کا تصور اور اخلاقی پابندیاں محض توہمات کا ایک پھندا ہیں جسے لوگوں نے اپنے گلے میں ڈال رکھا ہے۔ جب تک اس بنیادی تصور میں تبدیلی نہیں آتی اس وقت تک آنحضرت ﷺ کی دعوت اور توحید اور آخرت کی باتیں قریش اور دیگر مخالفین کے لیے بےوقت کی راگنی ہیں جسے ان کی سماعتیں برداشت نہیں کرسکتیں۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اگر ہم ان پر رحم کریں اور وہ تکلیف دور کردیں جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں تو یہ اپنی سرکشی میں اندھے بنے ہوئے بڑھتے جائیں گے

وَلَوْ رَحِمْنٰـھُمْ وَکَشَفْنَا مَابِھِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (المومنون : 75) (اگر ہم ان پر رحم کریں اور وہ تکلیف دور کردیں جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں تو یہ اپنی سرکشی میں اندھے بنے ہوئے بڑھتے جائیں گے۔ ) مشکل الفاظ :۔ لَجُّوْا، اللجاج التمادی فی العناد وتعاطی الفعل المزجور عنہ۔ یعنی عناد و مخالفت میں بڑھے چلے جانا اور جس فعل سے روکا جائے اس کا ارتکاب کرنا۔ یَعْمَھُوْنَ : العمہ، التردد فی الامر من حیرۃٍ ۔ حیرت سے کسی کام میں متردد ہونا۔ حق کے مسلسل انکار کے نتائج آخرت سے مسلسل انکار اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی سے بےنیازی نے ان کی سیرت و کردار میں ایسا بگاڑ پیدا کیا ہے کہ نہ ان کے لیے راحت ہدایت کا باعث بنتی ہے اور نہ کوئی تکلیف انھیں بدلنے پر مجبور کرتی ہے۔ ان کے اس بگاڑ پر تأسف کا اظہار کرتے ہوئے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ آج کل مشرکینِ مکہ قحط کا شکار ہیں اور یہ قحط وہ ہے جو نبوت سے چند سالوں کے بعد آنحضرت ﷺ کی دعا سے اس وقت ان پر مسلط کیا گیا تھا جب ان کی طرف سے سخت مزاحمت شروع ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی اللھم اعنی علیہم بسبع کسبع یوسف (اے اللہ ! ان کے مقابلے میں میری مدد یوسف کے ہفت سالہ قحط جیسے سات برسوں سے فرما۔ ) چناچہ اس دعا کے نتیجے میں عرب میں ایسا سخت قحط پڑا کہ مردار تک کھانے کی نوبت آگئی۔ پھر آنحضرت ﷺ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو دور فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں اس قحط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر ہم اس قحط کو دور بھی کردیں اور اہل مکہ جس مصیبت میں مبتلا ہیں اس سے انھیں نکال لیں تو تب بھی یہ اللہ کریم کا احسان جانتے ہوئے راہ ہدایت کبھی اختیار نہیں کریں گے بلکہ یہ اپنی سرکشی میں اور بڑھتے چلے جائیں گے۔ ان کے نام نہاد دانشور انھیں یہ بات سمجھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے کہ قوموں کو زندگی میں نرم اور گرم ہر طرح کے حالات سے واسطہ پڑتا ہے۔ کبھی خشک سالی ہوتی ہے اور کبھی سیلاب آجاتا ہے، کبھی اشیاء کی فراوانی ہوتی ہے اور کبھی قلت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ زندہ قومیں اس طرح کے حالات کو زندگی کے لوازم میں شمار کرتی ہیں اور اپنی ہمت اور کارگزاری سے اسے بدلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ ایسا کبھی نہیں سوچتیں کہ قحط آیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور فراوانی آئی ہے تو اس کی آزمائش بن کے آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں اللہ تعالیٰ سے غافل قوموں کو افیون کی طرح ایسا نشہ مہیا کرتی ہیں کہ بجائے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی دعوت پر کان دھرنے کے وہ اور زیادہ بگڑتے چلے جاتے ہیں اور جس طرح اندھے کو راستہ سجھائی نہیں دیتا اور وہ اپنے دھیان میں آگے بڑھتا جاتا ہے، اسے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ آگے کتنی بڑی کھائی ہے، یہ بھی اسی طرح زندگی کے سفر میں خیرو شر کی تمیز کیے بغیر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
Ayah 23:76

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

ان کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انھیں تکلیف میں مبتلا کیا تو پھر بھی اپنے رب کی بارگاہ میں نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں

وَلَقَدْ اَخَذْنٰـھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ ۔ (المومنون : 76) (ان کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انھیں تکلیف میں مبتلا کیا تو پھر بھی اپنے رب کی بارگاہ میں نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ ) مشرکین کی حالت سے تائید سابقہ آیت کریمہ میں جو بات ارشاد فرمائی گئی ہے پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے حالات سے اس کی تائید کی گئی ہے کہ موجودہ حالات میں کس بری طرح سے یہ لوگ قحط کی سختیوں میں مبتلا کیے گئے۔ پانی کے جوہڑ تک ختم ہوگئے، کہیں ہریاول کا نام تک نہ رہا، اشیائے خوردنی اس حد تک کمیاب ہوگئیں کہ لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ بایں ہمہ ان لوگوں کی سرکشی اور آخرت سے بےنیازی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ نہ ان کے دلوں میں شکستگی اور خستگی کے آثار پیدا ہوئے اور نہ ان کی آنکھوں سے خشیت یا ندامت کے آنسو بہہ سکے۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلسل کفر اور شرک نے انھیں ہر طرح کے لطیف احساسات سے عاری کردیا ہے انسان کے دل کو بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب صفات کا مرقع بنایا ہے کہ اگر اس میں سوز و گداز پیدا ہوجائے اور خشیت الٰہی کی تخم ریزی ہوجائے تو اس سے وہ برگ و بار پیدا ہوتے ہیں جس کے سائے میں نہ صرف انسانیت پلتی ہے بلکہ فرشتے بھی اس پر رشک کرتے ہیں لیکن اگر یہی دل اللہ تعالیٰ کے تصور سے خالی اور شیطانی خیالات کا مخزن بن جائے تو اس کی سختی پتھروں سے بھی بڑھ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی تبلیغ و دعوت بھی ایسے دلوں پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ استکانۃ : دل کی شکستگی اور خستگی کو کہتے ہیں اور تضرع : گریہ وزاری کو کہتے ہیں جو استکانۃ کا نتیجہ ہوتی ہے۔
Ayah 23:77

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یکایک تم دیکھو گے کہ وہ اس میں بالکل مایوس ہو کر رہ جائیں گے

حَتّٰیٓ اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَابًا ذَاعَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا ھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ ۔ (المومنون : 77) (یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یکایک تم دیکھو گے کہ وہ اس میں بالکل مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔ ) مشرکین کی بےبسی گزشتہ دو آیتوں سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ نہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان میں شکر کے جذبات پیدا کرتی ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبتیں ان کے دلوں میں گداز پیدا کرتی ہیں۔ وہ بظاہر انسان ہیں لیکن حقیقت میں لکڑی کے کندے ہیں جو ہر طرح کے جذباتِ خیر سے تہی دامن ہوچکے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کا انذار جس میں بار بار انھیں عذاب کی دھمکی دی گئی ہے بالکل اثرانداز نہیں ہورہا بلکہ وہ ایسی ہر بات کو قہق ہوں میں اڑا دیتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ دیکھنے والا ان لوگوں کو دیکھ کر یہ گمان کرتا ہے کہ بڑی سے بڑی گرفت بھی انھیں راہ راست پر نہیں لاسکتی کیونکہ ان کے مضبوط اعصاب میں کسی طرح کی لچک دکھائی نہیں دیتی، لیکن انھیں اس بات کا احساس نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو ایک خاص حد تک مہلت عمل دیتا ہے۔ وہ بگاڑ میں آگے بڑھتی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی تدبیر ان کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔ جب وہ لمحہ آجاتا ہے، جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں عذابٍ شدید سے وہی عذاب مراد ہے جو مہلت عمل ختم ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں پر نازل ہوتا ہے۔ اگر ان پر وہ عذاب نازل ہوگیا جیسا کہ ان کے کرتوتوں سے اس کے خدشات پیدا ہوتے جارہے ہیں تو پھر تم دیکھو گے کہ آج جو لوگ بڑی ہیکڑی دکھا رہے ہیں اس عذاب کا سامنے کرتے ہی مایوسی کی تصویر بن جائیں گے۔ ان کے تمام سہارے اور تمام امیدیں یک قلم ختم ہوجائیں گی۔ ابلاس : حیرت اور مایوسی کے مجموعے کو کہتے ہیں۔ بعض دفعہ یہی مایوسی برافروختگی تک پہنچ جاتی ہے، اس وقت انسان ایسا حواس باختہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی نجات کے سارے راستے مسدود نظر آنے لگتے ہیں۔ امامِ قرطبی مبلسون کا مفہوم واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ای یائسون متحیرون لایدرون مایصنعون۔
Ayah 23:78

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو

وَھُوَالَّذِیْٓ اَنْشَاَلَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَوَالْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ (المومنون : 78) (اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ ) انسان اور حیوان میں فرق، اور حقیقت شکر اس سے پہلے خطاب آنحضرت ﷺ سے تھا اس میں قریش کو جو تہدید و وعید کی گئی ہے وہ غائب کے صیغے سے اور نبی کریم ﷺ کے واسطے سے ہے، لیکن اب قریش سے براہ راست خطاب فرمایا جارہا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے سمجھنے کے لیے دل عطا نہ فرمایا ہو۔ اَفْئِدَۃَ فؤاد کی جمع ہے اس کا معنی دل کیا جاتا ہے لیکن انسان کے دل اور حیوان کے دل میں بنیادی فرق ہے۔ حیوان کو بھی دل عطا ہوتا ہے لیکن صرف خون کو پمپ کرنے کے لیے، لیکن انسان کا دل صرف اسی مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے فہم، تفہیم، تأثر اور تاثیر جیسی مختلف قوتیں بھی رکھی ہیں۔ اگرچہ سائنسدان غور و فکر کی صلاحیتوں کا مرکز دماغ کو قرار دیتے ہیں لیکن تمام آسمانی کتابوں نے دل ہی کو انفعالی قوتوں کے مرکز کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب میڈیکل سائنس بھی کسی حد تک اسے تسلیم کرنے لگی ہے۔ یہاں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ یوں تو ان میں بہت سی قوتیں اللہ تعالیٰ نے حیوانوں کو بھی عطا کی ہیں لیکن انسانوں اور حیوانوں میں فرق یہ ہے کہ حیوان صرف ان صلاحیتوں سے جسم اور نفس کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے سامنے جسمانی ضرورتوں اور حاجتوں کے سوا اور کسی چیز کا تصور نہیں ہوتا، لیکن انسان ان ہی قوتوں کے ذریعے اگر چاہے تو اور بھی بہت ساری چیزوں کا علم حاصل کرسکتا ہے۔ یہاں اسی حوالے سے سب سے بنیادی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ حیوان میں اس بات کا شعور نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر بھی ادا کیا جاتا ہے۔ لیکن انسان کو ہر نعمت پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ انسان کے اچھا اور برا ہونے کی ایک ہی شناخت ہے کہ وہ شاکر ہے یا کفور۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والا انسان ہے لیکن اگر وہ شکر کی بجائے کفرانِ نعمت کرتا ہے تو یہ کفر کا راستہ ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ انسان کو جو شکر کا پابند ٹھہرایا گیا ہے تو شکر کیا چیز ہے۔ شکر کے لیے دو باتیں بہت ضروری ہیں۔ پہلی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ جن نعمتوں سے وہ متمتع ہورہا ہے چاہے ان کا تعلق جسم و جان سے ہو، مال و دولت سے ہو، دوسرے انسانوں سے ہو، زمین و آسمان سے ہو یا فضاء اور موسم سے ہو وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ انھیں پیدا کرنے میں نہ اسے کوئی دخل حاصل ہے نہ کسی اور کو۔ اور ان نعمتوں پر اس کا کوئی ذاتی استحقاق بھی نہیں ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت کا ایک مقصد رکھا ہے۔ نعمت کا شکر یہ ہے کہ انسان اس نعمت کو اس مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرے اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہوتے ہوئے زبان سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے اور اعضاء وجوارح سے وہ کام لے جس سے وہ مقصد حاصل ہوسکے جس کے لیے نعمت عطا کی گئی ہے اور دل میں ہمیشہ احسان مندی کے جذبات موجزن رہیں۔ ان تصورات کو سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کریمہ کے الفاظ پر غور کیجیے کہ تمہیں کان اس مقصد کے لیے عطا کیے گئے ہیں کہ تم ان سے وہ نصیحت سنو جو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ تمہارے سامنے پیش کررہے ہیں اور تم اپنی آنکھوں سے آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی وہ نشانیاں دیکھو جو تمہیں حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے والی ہیں اور دل تمہیں اس لیے عطا کیے گئے ہیں تاکہ ان سے ان انشانیوں کو دیکھ کر وہ نتائج اخذ کرو جس سے تمہیں اس کائنات کی حقیقت کو جاننے اور اپنی زندگی کی غائت کو سمجھنے میں مدد مل سکے، لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ان نعمتوں سے جسم اور نفس کے مطالبات پورا کرنے کے ذرائع ہی تلاش کرتے رہو یعنی ان کانوں سے وہی بات سنو اور آنکھوں سے وہی چیز دیکھو جس سے اس فانی زندگی میں عزت و آرام حاصل ہوسکے اور اپنی فکری قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق کو جاننے میں استعمال کرنے کی بجائے اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نئے سے نئے مصارف اختیار کرنے میں صرف کرو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے اپنے آپ کو انسان کی بجائے ایک حیوان سمجھا اور نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے تم نے انھیں جسم و نفس کے مطالبات پورا کرنے کے ذرائع سے زیادہ اہمیت نہیں دی، تو سوچ لو کہ تم میں اور ایک حیوان میں کیا فرق ہے ؟
Ayah 23:79

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور انجام کار اسی کی جناب میں اکٹھے کیے جائو گے

وَھُوَالَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَاِ لَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (المومنون : 79) (اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور انجام کار اسی کی جناب میں اکٹھے کیے جاؤ گے۔ ) اللہ تعالیٰ کے احسانات سے قیامت پر استدلال شکر اور ادائے شکر کے ذرائع کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اب اپنے کچھ احسانات کو اس طرح ذکر فرمایا جارہا ہے کہ وہ بجائے خود اپنے اندر دلیل کی قوت بھی رکھتے ہیں۔ قریش کو براہ راست اور باقی نوع انسانی کو بالواسطہ فرمایا جارہا ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے۔ میاں بیوی سے اولاد پھیلتی ہے جس سے ایک گھر وجود میں آتا ہے جو پھیلتے پھیلتے ایک قبیلے کی شکل اختیار کرلیتا ہے، پھر یہ قبائل قوم میں ڈھل جاتے ہیں اور قومیں زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ انسان اپنی پھیلی ہوئی آبادی کو دیکھ کر کبھی اس طرف دھیان نہیں دیتا کہ ہمارا یہ پھیلائو کس کی عطا و بخشش ہے اور نہ کبھی اس بات پر غور کرتا ہے کہ جس نے ہمیں زمین پر پیدا کیا اور پھیلایا کیا وہ ہمیں کبھی جمع نہیں کرے گا۔ کسان اپنے کھیت میں غلہ بوتا ہے تو محض اس لیے تو نہیں بوتا کہ وہ اُگے، برگ و بار پیدا کرے اور پھر زمین کا رزق ہوجائے بلکہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب وہ اپنے بوئے ہوئے غلے کو اکٹھا بھی کرتا ہے اور پھر اسے ایک کھلیان کی صورت میں ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیتا ہے، اسی طرح پروردگار اس پھیلی ہوئی آبادی کو ایک دن جمع کرے گا اور چونکہ پروردگار کی یہ پھیلی ہوئی فصل اپنے اندر ذمہ داری کی وہ تمام خصوصیات رکھتی ہے جو جوابدہی کے لیے ضروری ہیں، تو انھیں اللہ تعالیٰ اس طرح جمع کرے گا کہ ان کے اعمال بھی جمع ہوں گے اور ہر ایک سے زندگی کے ایک ایک عمل کا حساب لیا جائے گا۔ اس سے واضح طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ زمین پر پھیلی ہوئی آبادی کا ایک دن جمع ہونا اور پھر جس نے پیدا کیا ہے بلاشرکتِ غیرے اس کے سامنے جوابدہی کرنا، یہ ایک ایسا لابدی نتیجہ ہے جس سے عقل انکار نہیں کرسکتی تو پھر امکانِ قیامت اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے کس طرح انکار کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 23:80

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور اسی کے اختیار میں ہے گردش لیل و نہار، تو کیا تم سمجھتے نہیں

وَھُوَالَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَلَہُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔ (المومنون : 80) (اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور اسی کے اختیار میں گردش لیل و نہار، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت سے استدلال اپنے چند مزید احسانات و انعامات کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنی قدرت و حکمت کی طرف بھی متوجہ کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کس قدر عظیم اور کس قدر قوت والی ہے کہ زندگی اور موت اسی کے قبضے میں ہے۔ حیات و ممات ایک ایسا راز ہے جس کا عقدہ آج تک انسان پر نہیں کھل سکا۔ انسان نے ہرچند کوشش کی کہ وہ ان دونوں کی حقیقت کو جان سکے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ کوئی شخص جتنا اس پر غور کرتا ہے اتنا ہی اس یقین میں بڑھتا جاتا ہے کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے۔ جو خانہ ساز قسم کے شرکاء مشرکین نے بنا رکھے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس کی قدرت نہیں رکھتا بلکہ اگر وہ واقعی شخصیتیں ہیں تو خود ان کی زندگی اور موت بھی اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعت کو مزید بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ لیل و نہار کی گردش بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ سورج اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے اور رات اپنے وقت پر اپنا پردہ تان دیتی ہے اور دونوں ایک دوسرے پر اس طرح لپٹے ہوئے آتے ہیں کہ دونوں میں سے کسی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ دونوں کے آنے اور جانے میں آج تک کبھی تخلف نہیں ہوا۔ کبھی دن رات سے آگے نہیں بڑھ سکا اور رات کبھی دن سے سبقت نہیں کرسکی۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی جو گردشیں مقرر کر رکھی ہیں ان میں کبھی ایک منٹ کا فرق واقع نہیں ہوا، ورنہ ہماری جنتریوں کے تمام حساب غلط ہوجاتے۔ موسموں میں تبدیلی کا نظام غارت ہو کر رہ جاتا، زمین کی قوت روئیدگی اپنا کام چھوڑ دیتی۔ ان دونوں کا وقت کی پابندی کے ساتھ آنا اور جانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس مصرفِ حقیقی کے قبضہ میں ہیں جس نے انھیں پیدا کیا ہے یہ اپنی مرضی سے نہ آنے کے مجاز ہیں اور نہ جانے کے۔ اس نظام میں کسی کا دخل انداز نہ ہوسکنا اس بات کی دلیل ہے کہ مصرفِ حقیقی صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ لیل و نہار اپنی صورت اور مزاج میں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ لیکن کائنات کے نظام کو چلانے میں ان دونوں میں جو سازگاری پائی جاتی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات میں ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ کارفرما ہے۔ دن کو چمکتا ہوا سورج جس طرح اپنے طلوع و غروب میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہے اسی طرح وہ اپنے اثرات و نتائج میں بھی اسی کے حکم کے تابع ہے۔ اس کی گرمی سمندر سے بھاپ اٹھنے کے عمل کو روک نہیں سکتی۔ فضاء میں ابر کی چادروں کے بچھنے کا عمل تشنہ تکمیل نہیں رہ سکتا۔ بارش وہیں جا کر برستی ہے جہاں اسے حکم ملتا ہے۔ دن کی گرمی اپنے معمول میں تبدیلی نہیں کرسکتی، اور رات کی ٹھنڈک اور اس کی تاریکی کی تنی ہوئی چادر اپنی بساط کو لپیٹ نہیں سکتی۔ ان میں سے ہر بات ایک ہی دست تصرف کی شہادت دیتی ہے، وہی حقیقی معبود ہے جس کی غلامی میں سب جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ جب چاہے گا لیل و نہار کی گردش رک جائے گی، سورج بےنور ہوجائے گا اور زمین ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ انہی باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ باتیں ہیں جو ہر معمولی عقل کا آدمی بھی جاننے میں دشواری محسوس نہیں کرتا۔ تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے، تم ان باتوں کو کیوں نہیں سمجھتے۔
Ayahs 23:81–83

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بلکہ انھوں نے وہی بات کہی جو پہلے کفار کہا کرتے تھے

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہمیں پھر اٹھایا جائے گا

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

بلاشبہ ہم سے اور ہمارے آبائواجداد کے ساتھ بھی آج سے پہلے یہی وعدہ کیا گیا، یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ ۔ قَالُوْٓائَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْن۔ َ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُ نَا ھٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (المومنون : 81، 83) (بلکہ انھوں نے وہی بات کہی جو پہلے کفار کہا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہمیں پھر اٹھایا جائے گا۔ بلاشبہ ہم سے اور ہمارے آبائواجداد کے ساتھ بھی آج سے پہلے یہی وعدہ کیا گیا، یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں۔ ) قریش کا فسادِ عقیدہ اپنے جاہل آباء کا تسلسل ہے اللہ تعالیٰ کی ان بےپناہ قدرتوں اور کائنات کے اس دقیق اور حکیمانہ نظم و نسق کو دیکھ کر چاہیے تو یہ تھا کہ وہ یہ کہتے کہ یہ کائنات جس ذات عظیم کی شاہکار ہے وہ یقینا تمام صفاتِ کمال سے متصف ہے۔ اس کی قدرت کاملہ کے سامنے مردوں کو زندہ کرنا اور ایک نئی دنیا بسانا اور تمام اگلوں اور پچھلوں کو حساب کتاب کے لیے ایک جگہ جمع کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن ان عقل کے دشمنوں کا حال یہ ہے کہ بجائے اس سامنے کی بات کو تسلیم کرنے کے انھوں نے ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے جو ان کے آبائواجداد نے لگا رکھی تھی کہ ہم جب مرنے کے بعد متفرق ہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے، آخر ہماری ہڈیاں بھی بوسیدگی کی نذر ہوجائیں گی اور مٹی کے ڈھیر کے سوا کوئی چیز باقی نہیں بچے گی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمیں ازسرنو زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے۔ یہ ایک ایسی انہونی بات ہے جس سے ہمارے اگلوں کو بھی ڈرایا گیا اور ہمیں بھی اس کی دھمکی دی جارہی ہے لیکن نہ اس سے پہلے قیامت آئی اور نہ آج آرہی ہے۔ یہ سب پرانے افسانے ہیں، قصے کہانیاں ہیں جنھیں بار بار دہرایا جارہا ہے، ہم ان دھمکیوں میں آنے والے نہیں۔ صدیاں گزر گئیں اگر قیامت کو آنا ہوتا تو وہ کبھی کی آچکی ہوتی۔ ایسی بےسروپا باتوں پر ہم یقین لانے سے قاصر ہیں اور ایسی انہونی بات کو قبول کرکے ہم اپنی زندگیوں کے عیش و آرام کو دائو پر لگانے کے لیے تیار نہیں۔ اَسَاطِیْرُ : نحو و آدب کے امام مبرد نے اس لفظ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اَسَاطِیْرُ اسطورہ کی جمع ہے، جس طرح احادیث احدوثۃ کی جمع ہے۔ اور اعاجیب، اعجوبہ کی جمع ہے۔ یہ ایسی تحریر پر بولا جاتا ہے جو محض دل بہلانے کے لیے لکھی گئی ہو، جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہ ہو۔ تفسیر مظہری کے مصنف کا ارشاد ہے کہ جھوٹی اور بےسروپا باتوں کو اساطیر کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ بھی قرآن کریم کو اسی معنی میں پہلے لوگوں کے اساطیر قرار دیتے تھے۔
Ayahs 23:84–85

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

اے پیغمبر (e) ان سے پوچھئے ! کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے، کس کے ہیں ؟ اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

وہ کہیں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، آپ ﷺ کہئے ! تو کیا تم اس پر غور نہیں کرتے

قُل لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہَ ط قُلْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ۔ (المومنون : 84، 85) (اے پیغمبر (e) ان سے پوچھئے ! کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے، کس کے ہیں ؟ اگر تم جانتے ہو۔ وہ کہیں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، آپ ﷺ کہئے ! تو کیا تم اس پر غور نہیں کرتے۔ ) مشرکین کا فطری تضاد اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ سے کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ زمین اور اس میں جو کچھ ہے یہ کس کی ملکیت اور کس کے تصرف میں ہے اور اس زمین کو اور اس کے اندر جو کچھ ہے اسے کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور اس کے اندر جو کچھ تصرفات ہورہے ہیں وہ کس کے اختیار میں ہیں ؟ زمین کی قوت روئیدگی جو کچھ پیدا کررہی ہے وہ کس کی اجازت سے کر رہی ہے ؟ لیل و نہار کی گردش جس پر مخلوقات کی زندگی کا مدار ہے وہ کس کے قبضے میں ہے ؟ وہ اس سب کے جواب میں یہ کہیں گے، کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے فکری تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے کہ اگر یہ زمین اور اس میں ہونے والی ہر تبدیلی اور اس میں نظر آنے والے تصرفات اور اس کی بقاء اور اس کے اندر پلنے والی مخلوقات کو ملنے والی ضروریات، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو پھر تم وقوع قیامت سے کس طرح انکار کرتے ہو۔ کیونکہ جو ذات زمین کو پیدا کرسکتی اور اس میں ہونے والے تصرفات پر حکمرانی کرسکتی ہے اور جہاں کا ہر لمحہ اس کے اختیار اور تصرف کا محتاج ہے اور جس کی تمام مخلوقات اسی کے احسانات سے گراں بار ہیں اور جہاں زندگی اور موت کا عمل اسی کی قدرت سے ہورہا ہے تو عجیب بات ہے کہ اس کے لیے زمین کو تباہ کردینا اور پھر ازسرنو وجود دے دینا اور اس زمین پر بسنے والے انسانوں کو ہلاک کردینا اور پھر انھیں ازسرنو زندہ کرکے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیشی کے لیے مجبور کرنا آخر اس کے اختیارات سے کیوں مستبعد ہے۔ جو عظیم ذات پہلی دفعہ زمین اور اہل زمین کو پیدا کرسکتی ہے وہ دوبارہ کیوں نہیں کرسکتی۔ تمہارے اس فکری تضاد کا تمہارے پاس کیا جواب ہے کہ تم زمین اور اس پر بسنے والی ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت جانتے ہو اور اس پر قیامت کے نام سے اللہ تعالیٰ کے تصرف سے انکار بھی کرتے ہو۔ تم انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق بھی سمجھتے ہو اور اس کی مخلوق کو اس کے سامنے جوابدہی سے بےنیاز بھی گردانتے ہو۔ آخر یہ کیسی منطق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی مشیت میں یقینا کوئی تضاد نہیں، البتہ تمہاری فکر میں تضاد ہے کہ ایک بات کو تسلیم کرتے ہو، لیکن اس کے تقاضوں اور اس کے نتائج سے انحراف کرتے ہو۔ اسی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم اپنی اس روش پر غور نہیں کرو گے۔
Ayahs 23:86–87

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

ان سے پوچھئے ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

وہ کہیں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تو آپ کہئے تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ اَفَـلَا تَتَّـقُوْنَ ۔ (المومنون : 86 تا 87) (ان سے پوچھئے ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ وہ کہیں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تو آپ کہئے تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے۔ ) قریش کے تضادفکر کی مزید وضاحت سابقہ آیت کریمہ میں سوال زمین اور اہل زمین کے بارے میں تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں سوال کا تعلق ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم سے ہے۔ زمین اگرچہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ متعدد کُرُّوں میں سے سب سے چھوٹا کرہ بیان کی جاتی ہے، لیکن اس پر بسنے والی مخلوق چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اسی زمین میں اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول تشریف لائے ہیں اس لیے اس کی ایک خاص اہمیت ہے۔ زمینیں بھی سات ہیں، اس لیے سابقہ آیت کریمہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ الارض سے اسم جنس مراد ہے۔ اس لیے اس سے مراد صرف ایک زمین نہیں بلکہ ساتوں زمینیں ہیں۔ پھر زمین پر بسنے والی ان مخلوقات کا ذکر نہیں کیا جنھیں انسان جانتا پہچانتا ہے بلکہ مَنْ فِیْھَا کے بارے میں سوال کیا، کیونکہ ساتوں زمینوں میں اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوقات کا وجود بھی ممکن ہے جس سے انسان واقف نہ ہو۔ لیکن وہ فی الجملہ یہ بات سمجھتا ہے کہ کسی زمین پر مخلوق کوئی بھی ہو اس کی باگیں اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کی مخلوق ہے اسی کی ملکیت بھی ہے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم سے متعلق سوال کرکے پوری کائنات کا حصار کھینچ لیا گیا ہے کیونکہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ ساتوں زمینوں اور ساتوں آسمانوں سے باہر نہیں اور پھر ان سب کے اوپر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہے جس کے ہمہ گیر اقتدارِ مطلق کی محسوس علامت عرش عظیم ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، لیکن یہ اپنے قد و قامت اور حجم میں تمام کائنات سے عظیم ہے۔ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری کائنات اس کے سامنے ایسے ہے جیسے ایک صحرا میں پڑی ہوئی انگشتری۔ مقصود یہ ہے کہ کائنات اپنی وسعتوں کے اعتبار سے ہمارے اندازوں اور علم سے ماورا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو ذات اس بےکراں کائنات اور عرش عظیم کی خدا ہے اس نے انھیں بھی بغیر کسی تردد کے اسی طرح پیدا کیا ہے جیسے زمین میں گھاس کی پتی اگتی یا حشرات الارض وجود میں آتے ہیں۔ ایسی ہمہ مقتدر ذات کے مقابلے میں کسی اور کو خدا بنانا یا اس کی خدائی یا اس کی صفات میں شریک کرنا اور یا اس کے حقوق میں شریک کرنا قطع نظر اس سے کہ شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے، عام انسانی عقل اپنے وضعی پیمانوں سے کام لے کر بھی فیصلہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ کبھی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی کہ جن قوتوں کو آج تک انسانوں نے کسی نہ کسی درجے میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا ہے انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور کمالات کے مقابلے میں کیا حیثیت حاصل ہے۔ وہ تو اپنے مخلوق ہونے کے اعتبار سے بھی بیشمار مخلوقات سے ادنیٰ ہیں۔ ان کا اپنا وجود جس طرح تخلیق کا رہین منت ہے اسی طرح اپنی بقاء میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا محتاج ہے۔ وہ ذات جس کی عظمتیں انسانی عقل کی حدود سے ماورا ہیں جو واجب الوجود ہے جو ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، مخلوقات میں سے ہر مخلوق اپنے وجود اور بقاء میں اسی کی محتاج ہے اس کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ کوئی اس کا شریک ہوسکتا ہے یا یہ خیال کرنا کہ وہ ایک دفعہ زمین کو بنا چکا اور انسانوں کو پیدا کرچکا لیکن اب دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا، یہ ایسی بات ہے جس سے زیادہ بےہودہ بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ زمینوں کی طرح ساتوں آسمان اور عرش عظیم بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور مملوک ہیں۔ لیکن اس تضاد فکر کا کیا کیا جائے کہ وہ اتنا واضح عقیدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شرک کا بھی ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تمام تر قوتوں کا اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ انسانوں کو پیدا نہیں کرسکتا اور کائنات کی تباہی کے بعد ازسرنو آخرت برپا نہیں کرسکتا۔ آخر میں فرمایا کہ جس ہستی کے بارے میں تمہارے بنیادی احساسات یہ ہیں تو کیا تم اس کے شریک بناتے ہوئے اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے اس سے ڈرتے نہیں ہو۔