22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsروح القرآن

Ayahs 22:56–57

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

حکمرانی اور سار ا اختیار اس دن اللہ ہی کو حاصل ہوگا وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا۔

اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ ط یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّ بُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (الحج : 56، 57) (حکمرانی اور سار ا اختیار اس دن اللہ ہی کو حاصل ہوگا وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا۔ ) کفار کے لیے وعید اور مسلمانوں کو تسلی اس آیت کریمہ میں روئے سخن اشرارِ قریش کی طرف ہے وہ شب روز قیامت کا مطالبہ اس خیال سے کررہے ہیں کہ اولاً تو قیامت کے آنے کا امکان کوئی نہیں اور اگر ایسا ہو ہی گیا تو پھر ہمارے وہ شرکاء جنھیں ہم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے وہ ہماری شفاعت کریں گے اور اللہ کے عذاب سے ہمیں بچا لیں گے۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن مکمل طور پر اختیار اور حکمرانی اللہ کے لیے ہوگی۔ دنیا کے بڑے سے بڑے شہنشاہ اور ڈکٹیٹرز اس روز دم نہیں مار سکیں گے۔ جو لوگ یہاں اپنے آپ کو جہاں پناہ کہلاتے تھے انھیں وہاں کہیں پناہ نہیں مل سکے گی اور جنھیں جہانگیر اور عالمگیر ہونے کا دعویٰ تھا وہ اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے۔ حقیقت میں تو آج بھی ساری کائنات پر اللہ ہی کی حکومت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے زمین پر بسنے والوں کو بہت کچھ رخصتیں دے رکھی ہیں یہ دنیا جس طرح ایک مومن کا گہوارہ ہے اسی طرح کافر کی بھی پناہ گاہ ہے۔ لیکن قیامت کے دن ہر طرح کا اقتدار اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔ پوچھا جائے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الیَومآج کس کی حکومت ہے ؟ پھر خود ہی جواب دیا جائے گا : لِلّٰہ الوَاحِدِالقَہَّار ” ایک اللہ کے لیے جو قہار ہے “ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ جنھیں اللہ کا شریک بنایا گیا ہے وہ شریک بنانے والوں سے برأت کا اظہار کریں گے۔ وہ دن انصاف کا دن ہوگا۔ ایمان وعمل کا سکہ چلے گا۔ جو لوگ انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں بھی اللہ کے رسول پر ایمان لائے اور جنھوں نے ہر طرح کی ایذارسانیوں میں عمل صالح کی دولت کمائی، وہ نعمتوں کے باغات میں ٹھہرائے جائیں گے۔ جہاں انھیں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے ان کی خواہش کا سفر ختم ہوجائے گا اللہ کی نعمتوں کا سرمایہ ختم ہونے میں نہیں آئے گا۔ کفر اور شرک اپنے بدترین انجام سے دوچار ہوگا، آج قریش کے بڑے لوگ جو بدترین استکبار کا شکار ہیں اور اپنے آپ کو خدا اور رسول کے پیش کردہ حق سے بالا تر سمجھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی غربت کا مذاق اڑاتے ہیں انھیں قیامت کے روز ایسے عذاب کا شکار ہونا پڑے گا جو انھیں رسوا کرکے رکھ دے گا کیونکہ ان کے کفر اور شرک کی سزا انھیں عذاب کی شکل میں ملے گی۔ لیکن ان کے استکبار کا صلہ رسوائی کی صورت میں ان کا مقدر بنے گا۔ جس تعذیب میں توہین و تذلیل شامل ہوجائے اس کی سنگینی کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔
Ayahs 22:58–59

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

(اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا طبعی طور پر فوت ہوئے تو اللہ ان کو اپنے رزق حسن سے نوازے گا اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ انھیں ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے بڑا بردبار ہے۔

وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْمَا تُوْا لِیَرْزُقَنَّھُمُ اللّٰہُ رِزْقًا حَسَنًا ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَخَیْرُالرّٰزِقِیْنَ ۔ لِیُدْخِلَنَّھُمْ مُدْخَلًا یَّرْضَوْنَہٗ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ۔ (الحج : 58، 59) (اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کردیئے گئے یا طبعی طور پر فوت ہوئے تو اللہ ان کو اپنے رزق حسن سے نوازے گا اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ وہ انھیں ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے بڑا بردبار ہے۔ ) راہِ ہجرت میں اول قدم بھی منزل کا حکم رکھتاہے مکہ میں مسلمان جن اندوہناک حالات سے گزر رہے تھے اس کے پیش نظر آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو اجازت دے دی تھی کہ تم اپنے ایمان اور جان کی سلامتی کے لیے اگر ہجرت کرسکتے ہو تو ہجرت کر جاؤ چناچہ اسی اجازت کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے بہت بڑی تعداد میں حبشہ کی طرف ہجرت کی اسی طرح مختلف قبائل اور مختلف علاقوں میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ کسی کو اسلام قبول کرنے کی ہمت دیتا تھا تو وہاں کی سرزمین اسے برداشت کرنے سے انکار کردیتی تھی اور ان کے اپنی بھائی بند جو کل تک ان کے دست وبازو اور ہمدرد و غمگسار تھے ایمان لانے کے بعد ان کے لیے بدترین دشمن ثابت ہوتے تھے۔ چناچہ وہ لوگ بھی اپنی جان اور ایمان کی سلامتی کے لیے کسی نہ کسی طرف ہجرت کرنے پر مجبور تھے۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ ہجرت کوئی آسان کام نہ تھا اپنا وطن، اپنا گھر، اپنے اعزہ واقربا اور اس سرزمین کو چھوڑناجہاں زندگی کی بیشتر بہاریں گزری ہوں زندگی کا سب سے مشکل کام تھا۔ اور مزید یہ بات بھی کہ کوئی ایسی جائے پناہ بھی نہ تھی جہاں ہجرت کرنے والے یہ سوچ کر جاتے کہ وہاں زندگی کی ساری سہولتیں میسر ہوں گی کچھ خبر نہیں کہ وہاں کیسے حالات سے واسطہ پڑے۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ بات حقیقت بنتی جارہی تھی کہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسے مرکز کی تلاش جہاں وہ اسلامی زندگی گزار سکیں اور اس مرکز کی طرف ہجرت تاکہ امت کی شیرازہ بندی ہو سکے، ایک ناگزیر اسلامی اور ایمانی ضرورت ہے۔ اس لیے اس کی حوصلہ افزائی اور اجر وثواب کے حوالے سے اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور یا آئندہ کریں گے اور پھر اس بات کا بھی امکان ہے کہ دشمنانِ دیں انھیں راستے ہی میں قتل کردیں اور یا وہ سفر کی صعوبتیں اٹھاتے ہوئے طبعی موت سے دوچار ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کا ان کے لیے وعدہ ہے کہ وہ انھیں رزق حسن سے نوازیں گے جہاں تک اللہ کے راستے میں قتل ہوجانے کا تعلق ہے وہ تو یقینا شہادت ہے اور شہید کے لیے اللہ نے بےپایاں انعامات رکھے ہیں۔ لیکن ہجرت کے سفر کی عظمت کا کیا کہنا کہ اس میں آنے والی طبعی موت کو بھی شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے وطن سے ہجرت کا ارادہ کرکے نکلتا ہے چاہے وہ دارالہجرت نہ پہنچ سکے، راستے ہی میں اسے موت آجائے یا وطن سے نکلتے ہی اللہ کو پیارا ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے ہی قدم کو منزل قرار دیتے ہوئے اسے ان تمام انعامات سے نوازے گا جو دارالہجرت تک پہنچنے والوں کو عطا فرمائی جائیں گی۔ رزقِ حسن سے مراد ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رزق حسن سے مراد وہ برزخی رزق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران میں شہدا کے حوالے سے ذکر فرمایا ہے۔ بل احیاء عند ربھم یرزقون ” کہ اللہ کے راستے میں شہیدہونے والے مردہ نہیں زندہ ہیں اور وہ اپنے رب کے پاس رزق دئیے جا رہے ہیں “۔ صاحب روح المعانی نے بھی اسی کی تائید کرتے ہوئے فرمایا : (والمراد بہ عندالبعض مایکون للشھداء فی البرزخ من الرزق) برزخ میں دیئے جانے والے اس رزق کو رزق حسن کہہ کر درحقیقت ان بےپایاں انعامات کو ایک جامع تعبیر دی گئی ہے، جس کا ذکر بعض احادیث میں کیا گیا ہے۔ مہاجرین کے لیے عظیم بشارت اور پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے دیکھ کر وہ نہال ہوجائیں گے۔ معلوم ہوتا ہے اس سے مراد جنت ہے، چونکہ اس میں انھیں وہ نعمتیں ملیں گی جنھیں نہ آج تک کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان نے اس کا تصور کیا۔ ہجرت کرنے والوں نے چونکہ اللہ کی خاطر اپنا گھر اور وطن چھوڑا تھا اللہ نے اس کے صلے میں ان کو وہ گھر عطا فرمایا جسے ” جنت “ کہا گیا ہے۔ آیتِ کریمہ کے آخر میں پروردگار نے اپنی دو صفات کا ذکر فرمایا ” علیم اور حلیم “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کی خاطر دشمنانِ دین کے ہاتھوں جو اذیتیں جھیل رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں ہے۔ وہ آپ کی قربانیوں کو بھی دیکھتا ہے اور ادائے حق کی ستم رانیوں کو بھی جانتا ہے۔ آپ کا ایک ایک زخم اور ایک ایک صعوبت بےپناہ اجر وثواب میں تولی جائے گی اور دشمن رسوا کن عذاب کا شکار ہوگا۔ حلیم کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تمہاری تکلیفوں کو دیکھتے ہوئے ہونا تو یہ چاہیے کہ ان بدبختوں کو فوراً عذاب کی نذر کردیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور بردباری کی وجہ سے انھیں مہلت دے رہا ہے اور تمہارے لیے زیادہ سے زیادہ اجر وثواب کا استحقاق پیدا کر رہا ہے چونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب لوگوں کو ان مصائب پر جو اللہ کے راستے میں پیش آئے اجروثواب ملے گا تو ہر شخص تمنا کرے گا کہ کاش ! اللہ کی خاطر میری کھال قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتی اور میں آج اس کا اجر وثواب پاتا۔ البتہ ! دشمنانِ دین اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت عمل اصلاحِ احوال کے لیے ہے اگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو پھر یاد رکھو اس کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ بات یاد رکھو ! اور جس نے ویسا ہی بدلہ دیا جیسا کہ اس کے ساتھ کیا گیا ہے پھر اس پر زیادتی کی گئی تو اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا، بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے۔

ذٰلِکَ ج وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَاعُوْقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْہِ لَیَنْصُرَنَّہُ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ (الحج : 60) (یہ بات یاد رکھو ! اور جس نے ویسا ہی بدلہ دیا جیسا کہ اس کے ساتھ کیا گیا ہے پھر اس پر زیادتی کی گئی تو اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا، بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے۔ ) ایک اہم اعلان ذٰلِکَ : پورے جملے کا قائم مقام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جو کچھ کہا گیا ہے اسے اچھی طرح سمجھ لو اور پلے باندھ لو۔ یہاں بھی اسی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اس سے پہلے کی آیتوں میں مہاجرین فی سبیل اللہ کے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی نوازشات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ گویا یہ تأ ثر دیا گیا ہے کہ جنھیں تم لوگ نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو اور انھیں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے باعث اس قدر اذیت دے رہے ہو کہ ان کا اپنے وطن میں رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ اپنے ایمان اور جان ومال کی حفاظت کے لیے ہجرت کرجائیں۔ وہ تمہاری نگاہوں میں چاہے کیسے ہی بےیارو مددگار ہوں لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کی بارگاہ میں وہی بارپانے کے قابل ہیں اور اللہ کی عنایات اور نوازشات انھیں پر نچھاور ہوتی ہیں۔ ان کے اس مقام و مرتبہ اور اللہ کے یہاں ان کے تقرب کو جان لینے کے بعد تمہیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ تم نے ان پر جو بیشمار مصائب توڑے ہیں اور انھیں نہایت گہرے زخم لگائے ہیں اگر ہجرت کے سفر کے بعد کہیں ان کے زخم ٹیس دینے لگیں اور انھوں نے تم سے مظالم کے انتقام کے سلسلے میں کوئی اقدام کرڈالا اور وہ اقدام بالکل اسی سطح پر رہاجس سطح کے تم نے انھیں دکھ پہنچائے تھے تو اللہ ان سے جواب طلبی نہیں کریں گے کیونکہ انتقام لینا ان کا حق ہے۔ لیکن تم نے یہ دیکھ کر کہ یہ گرے پڑے لوگ ہمارے منہ آنے کی جرأت کرنے لگے ہیں اور ہمیں سے پنجہ لڑانے کی جسارت کررہے ہیں۔ تو انھیں ہم ایسی مار ماریں اور ایسی سزا دیں کہ دوبارہ اس جسارت کا نام لینے کی بھی جرأت نہ کریں۔ تو یاد رکھو ! وہ بےیارومددگار لوگ نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی پشت پر ہے، تم اچھی طرح یہ بات سن لو وہ ان کی ضرور بالضرور مدد کرے گا۔ بعض اہل علم کا خیال ہے اور یہ خیال صحیح معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت کریمہ ہجرت کے وقت نازل ہوئی ہے۔ اس کے بعد مسلمان ہجرت کرکے جب مدینہ منورہ پہنچ گئے تو اسی بشارت کو آیت نمبر 39 اور 40 میں مزید کھول دیا گیا بلکہ پروردگار نے آیت نمبر 39 میں ان کی مدافعت کرنے کو اپنی ذمہ داری بنا لیا۔ چناچہ بعد کے حالات اس بات کے شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی افرادی قوت اور اسلحی صلاحیت کم ہونے کے باوجود ہر میدان میں ان کی مدد فرمائی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی سالوں میں پورا جزیرہ عرب اسلام کی آغوش میں آگیا۔ ایک اسلوب وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَاعُوْقِبَ بِہٖ : ” اور جس نے ویسا ہی بدلہ دیا جیسا اس کے ساتھ کیا گیا “۔ اس میں ملتے جلتے الفاظ صنعت تجانس اور مماثلت کے اسلوب پر ہیں اور یہ اسلوب عربی زبان میں عام ہے۔ جسے قرآن کریم نے کئی جگہ استعمال کیا ہے۔ مثلاً جزاء سیئۃٍ سیئۃٌ مثلھا حالانکہ برائی کا بدلہ برائی نہیں ہوتا بلکہ انصاف ہوتا ہے۔ لیکن یہاں مماثلت کے اسلوب سے کام لیا گیا ہے جیسے عرب شاعر کہتا ہے۔ دِنَّا ھُم کَمَا دَانُوا عفو غفور کے حوالے سے ایک اہم ہدایت اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ : ” بیشک اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے “۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو کسی حد تک انتقام لینے کی اجازت دے کر یہ نوید سنائی جارہی ہے کہ اگر کہیں تم سے کوئی کمی بیشی بھی ہوگئی تو اللہ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ تصور بھی دیا جارہا ہے کہ اب جبکہ ہجرت کے بعد تم ایک مضبوط امت بن کر اٹھو گے تو ممکن ہے کہ قریش کے مظالم کی یاد تمہیں کسی عاجلانہ اقدام پر اکسانے کی کوشش کرے۔ تو بہتر یہ ہے کہ تم ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرو اگرچہ تمہیں اس کا حق ہے کیونکہ تم پر بہت ظلم کیے گئے ہیں لیکن ابھی مناسب وقت نہیں آیا جب وہ موزوں وقت آئے گا تو اللہ تعالیٰ تمہیں خود اس کا حکم دے گا ابھی تمہارے لیے عفو و درگزر کی پالیسی اختیار کرنا بہتر ہے۔ اور شاید اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ تم اگر اپنے انتقام میں کسی کو ایسی سزا دے ڈالو جو انصاف کے مطابق ہو تو تمہیں اس کی اجازت ہے لیکن چونکہ تمہارا پروردگار نہایت درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے وہ قریش اور دیگر مشرکین کے تمرد اور سرکشی کے باعث ان پر عذاب نازل نہیں فرماتا بلکہ انھیں مہلت عمل دے رہا ہے اس کے ” عفو “ ہونے کا یہ تقاضا ہے کہ وہ مجرموں کو زیادہ سے زیادہ مہلت دے۔ تمہارے اخلاق میں بھی اللہ کی صفات کا عکس ہونا چاہیے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ تم انتقام لینے کی بجائے عفو درگزر کو اپنا طرز عمل بنائو۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن میں رات کو داخل کرتا ہے اور بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔ (الحج : 61) (یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن میں رات کو داخل کرتا ہے اور بیشک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ ) وعدہ نصرت پر اللہ کی قدرت سے استشہاد ممکن ہے مشرکین کو اللہ تعالیٰ کی نصرت کے اس وعدے پر یقین نہ ہو کیونکہ وہ اپنے تئیں اپنے مشرکانہ تصور کے باعث اللہ تعالیٰ کو ایک لاتعلق اور بےکا روجود تصور کرتے تھے۔ جو اپنے تمام اخیتار ات اپنے شرکاء کے سپرد کرنے کے بعد کائنات سے دور کسی گوشے میں چھپکر بیٹھ گیا۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے اور مسلمانوں کے لیے اپنی نصرت و تائید کے وعدے کو مستحکم کرنے کے لیے ارشاد فرمارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات سے کہیں دور لاتعلق ہو کر نہیں بیٹھا بلکہ وہی اس کائنات کا متصرفِ حقیقی ہے۔ وہ ہر روز دن کے بعد رات کو لاتا ہے اور رات کے بعد دن کو طلوع کرتا ہے۔ اسی کی قدرت سے کبھی دن طویل ہوتے ہیں اور کبھی راتیں دراز ہوجاتی ہیں۔ یعنی وہ جب چاہتا ہے دن کا ایک حصہ رات میں شامل کردیتا ہے یا رات کا ایک حصہ دن میں شامل کردیتا ہے۔ تو جس ذات عزیز کے تصرفات کا یہ حال ہے اس کے حوالے سے مسلمانوں کی نصرت و تائید کے باب میں اگر کسی کو شبہ ہے تو اسے اپنی سادگی کا علاج کرنا چاہیے۔ مزید فرمایا کہ اللہ ” سمیع “ بھی ہے ” بصیر “ بھی۔ یعنی وہ سب کچھ سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ متصرفِ حقیقی بھی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جن لوگوں نے اس زمین پر فساد برپا کر رکھا ہے انھیں کھلی چھٹی دے دے۔ اور جو لوگ محض اللہ کی دین کی سربلندی اور اس فساد کو ختم کرنے کے لیے شب وروز جان کھپا رہے ہیں اور مفسدین کے مظالم برداشت کررہے ہیں ان کی اللہ تعالیٰ کوئی مدد نہ فرمائے۔ مزید اس طرف بھی اشارہ فرمایا جارہا ہے کہ جس پروردگا رکی قدرت کا یہ عالم ہے کہ کائنات کی گردش اس کے حکم کی پابند ہے اور وہ ہر رات کے بعد دن کا اجالا ضرور لاتا ہے۔ تو اس کی قدرت سے کیا یہ بعید ہے کہ وہ کفر وشرک کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے سے اسلام کی صبح کو طلوع کردے اور اس تاریکی کو دور کرنے کے لیے ایمان کی شمع کو فروزاں کردے۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ ہی معبودِ حقیقی ہے اور جنھیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ سراسر باطل ہیں اور بیشک اللہ ہی ہے جو سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ھُوَ الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ ۔ (الحج : 62) (اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ ہی معبودِ حقیقی ہے اور جنھیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ سراسر باطل ہیں اور بیشک اللہ ہی ہے جو سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔ ) وعدہ نصرت کی ایک اور دلیل مسلمانوں کی نصرت و تائید کی دوسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے وہی کارفرمائے حقیقی ہے۔ اس کا دین حق ہے اور اس کی عبادت کرنا حق ہے اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے اور پوجتے ہیں وہ سب بےحقیقت محض وہم کی ایجاد یکسر فریب اور دھوکہ ہے۔ ان کا مذہب بھی انسانی اوہام و خرافات کا نتیجہ ہے۔ تو مسلمان چونکہ حق سے وابستہ حق کے پجاری اور حق کے ماننے والے ہیں اس لیے حق کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ پتھر اور مٹی کی مورتوں کو پوجنے والوں کے مقابلے میں اہل حق کو تائید ونصرت سے نوازے۔ اور اس کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں اس لیے کہ وہ سب سے بالا و برتر اور سب سے بڑا ہے۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برساتا ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً ز فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً ط اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ۔ (الحج : 63) (کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برساتا ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ہے۔ ) گزشتہ آیات کریمہ میں جب مسلمانوں کی نصرت و تائید کا وعدہ فرمایا تو کفار نے اسے ایک مذاق سمجھا کیونکہ وہ مسلمانوں کے ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے دور دور تک اس کی امید نہ رکھتے تھے کہ مسلمانوں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکتی ہے۔ پروردگار نے ان کے اس تصور استبعاد کو غلط ثابت کرنے کے لیے اپنی بعض صفات کا ذکر فرمایا۔ جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ جس پروردگار کی قدرتوں کا عالم یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں متصرفِ حقیقی ہے اس کے ادنیٰ اشارے سے وجود وعدم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لیل والنہار کی گردش اس کے حکم کی پابند ہیں۔ ایسی صفات والے پروردگار کے لیے مایوس کن حالات میں بھی مسلمانوں کی مدد کرنا کیا مشکل ہے ؟ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی مضمون کو مزید آگے بڑھایا۔ عرب بارش کی کمیابی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی قحط سالی سے خوب واقف تھے۔ بعض دفعہ ان کے لیے پانی جیسی ناگزیر نعمت کمیاب جنس کی صورت اختیار کرجاتی تھی۔ خانہ بدوش پانی کی تلاش میں ریوڑوں کا ہانکتے ہوئے مارے مارے پھرتے دکھائی دیتے تھے۔ وہ آسمان کی طرف باربار نظریں اٹھاتے لیکن کہیں کوئی ل کہ ابر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہر طرف دھول اٹھتی ہوئی دکھائی دیتی اور آسمان پر غبار چھایا ہوا نظر آتا۔ جب مایوسی گہری ہونے لگتی تو اچانک تیز ہوائیں چلتیں وہ نہ جانے کہاں سے بادلوں کو ہانکتی ہوئی لاتیں اور فضا میں بادلوں کو چادروں کی طرح بچھا دیتیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بارش برسنے لگتی۔ جل تھل ایک ہوجاتا اور زیادہ دن نہیں گزرتے کہ ہر طرف سبزہ کی بانات بچھ جاتی۔ یہ وہ منظر ہے جسے زمین پر بسنے والے چاہے وہ عرب ہوں یا عجم ہمیشہ سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔ اس حیران کن منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ جو پروردگار خشک سالی کو برسات سے اور جھلستے ہوئے صحرا کو سبزے کے مخملی فرش میں تبدیل کرسکتا ہے اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ مسلمانوں کی محدود افرادی قوت اور نہایت ناگفتہ بہ حالت کو اس طرح تبدیل کرے کہ وہ عرب کی غالب قوت بن اٹھیں اور جس طرح چند دنوں میں زمین سرسبز ہوجاتی ہے اسی طرح ان کی دعوتی اور تبلیغی کاوشوں سے انسانوں کی بنجر زمینیں ایمان کی ہریاول سے لہلہانے لگیں اور عربوں کا نفرتوں سے ابلتا ہوا معاشرہ حسن اخلاق کے کوثر وتسنیم میں تبدیل ہوجائے۔ لطیف کا مفہوم اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ ” بیشک اللہ لطیف اور خبیر ہے “۔ لطیف کا معنی ہے ” دقیقہ رس اور باریک بیں “۔ یعنی وہ غیر محسوس طریقوں سے اپنے ارادے پورے کرنے والا ہے۔ وہ اپنی تدبیروں کو اس طرح بروئے کار لاتا ہے کہ کسی کو اس کا سان گمان بھی نہیں ہوتا اور پھر مزید قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ خبیر بھی ہے۔ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتایا حکم دیتا ہے۔ تو اس کا مالہ وما علیہ اس کے سامنے ہوتا ہے۔ ماضی بھی اس کے سامنے بےنقاب ہوتا ہے اور مستقبل بھی آئینہ ہوتا ہے۔ اہل مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ تم بظاہر اسلامی دعوت کو ناکام ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہو اور تم محسوس کرتے ہو کہ نبی کریم ﷺ کا قافلہ دعوت ایک بند گلی میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ لیکن اس قافلے کی باگ ڈور اور اس تبلیغ و دعوت کا سررشتہ جس کے ہاتھ میں ہے اس کی دقیقہ رسی اور باریک بینی کو تم نہیں جانتے۔ اس نے جب آذر کے گھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تھا تو نبوت کے بعد ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے کون کہہ سکتا تھا کہ وہ تین چوتھائی دنیا کا پیشوا ثابت ہوگا۔ جب خوردبین ایجاد ہوئی تھی اس وقت کون تصور کرسکتا تھا کہ یہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم تک نوبت پہنچائے گی۔ دنیا کے ایسے بیشمار واقعات ہیں جن کی ابتدا انتہائی حوصلہ شکن تھی لیکن اس کی انتہا نہایت حیرت انگیز ثابت ہوئی۔ یہ سب اللہ کے منصوبے ہیں جن کے انجام کے بارے میں انسان کچھ نہیں جانتا جب تک وہ تکمیل کو نہ پہنچ جائیں۔ عمائدینِ قریش مسلمانوں کی بےسروسامانی اور اہل مکہ کی ناقدری کو دیکھتے ہوئے کچھ بھی گمان کریں لیکن جس طرح بارش کے چند چھینٹے جھلسی ہوئی زمین کو سرسبز و شاداب چمن میں تبدیل کردیتے ہیں اسی طرح وہ وقت دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت کی گھٹائیں مکہ اور گردوپیش کی پتھریلی زمین پر اس طرح برسیں کہ کفر وشرک کی تپش سے تپتی ہوئی سلیں اسلام کا فرحت افزا پیغام بن جائیں۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور بیشک اللہ ہی ہے جو بےنیاز اور سزاوارِ حمد ہے۔

لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (الحج : 64) (اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور بیشک اللہ ہی ہے جو بےنیاز اور سزاوارِ حمد ہے۔ ) قریش کو تنبیہ سابقہ مضمون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ اس نے جن وانس کو فی الجملہ آزادی دے رکھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ شعوروعقل بھی، تاکہ وہ آزادانہ مرضی اور شعوروعقل سے کام لے کر حق و باطل میں سے کسی ایک راستے پر چلنے کا فیصلہ کرے۔ لیکن انسان کو اس آزادی کی نعمت سے متمطع ہوتے ہوئے یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اسے اللہ نے جن نعمتوں سے گراں بار کیا ہے اس کے بارے میں کبھی اس سے باز پرس نہیں ہوگی۔ دنیا کو کوئی حکیم اور دانش ور اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ انسان جیسی عقیل وفہیم اور بیشمار صلاحیتوں سے مالامال مخلوق کو اس طرح بےمقصد پیدا کیا گیا ہوگا کہ وہ من مرضی کی زندگی گزار کر دنیا سے چلی جائے جس طرح خودرو پودے مل دل کر ختم ہوجاتے ہیں اور اسے کسی جواب دہی سے واسطہ نہ پڑے۔ انسان جس ذات کی ملکیت میں ہے اور جس کا اختیار جس پر حاوی ہے ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ اپنے اختیار کو بروئے کار لا کر انسانوں سے جواب طلب کرے گا۔ مزید فرمایا کہ احتیاج سے پاک اور بےنیاز ذات صرف اللہ کی ہے۔ انسان تو قدم قدم پر اللہ کا محتاج ہے۔ اس لیے وہ اپنی احتیاجات کو پورا کرتے ہوئے اگر نیاز مندی کا رویہ اختیار نہیں کرتا تو اسے اس کا جواب دینا ہوگا۔ ممکن ہے کسی کو یہ خیال آئے کہ پروردگار اپنے آپ کو منوانے اور انسانوں کو اپنے آگے جھکانے پر شائد اس لیے اصرار کرتا ہے کہ اسے اپنی حمد وثنا پسند ہے اور وہ اس کا خواہش مند رہتا ہے کہ لوگ اس کی حمدوثنا میں رطب اللسان رہیں۔ اس خیال کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جس طرح بےنیاز ہے اسی طرح سزاوارِ حمد وثنا اور ستودہ صفات بھی ہے۔ وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ خواہ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

(کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کررکھا ہے جو زمین میں ہے اور اس نے کشتی کو بھی مسخر کررکھا ہے وہ چلتی ہے سمندر میں اسی کے حکم سے اور وہ آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ زمین پر گرپڑے مگر یہ کہ اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور بڑا ہی رحیم ہے۔

اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَلَکُمْ مَّافِی الْاَرْضِ وَالْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ط وَ یُمْسِکُ السَّمَآئَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (الحج : 65) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کررکھا ہے جو زمین میں ہے اور اس نے کشتی کو بھی مسخر کررکھا ہے وہ چلتی ہے سمندر میں اسی کے حکم سے اور وہ آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ زمین پر گرپڑے مگر یہ کہ اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور بڑا ہی رحیم ہے۔ ) اللہ کی قدرت اور اس کی رحمت سے استدلال کرتے ہوئے قریش کو وارننگ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور حکومت کو اس طرح بیان فرمایا ہے جس سے مخالفین کو یہ اندازہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اس قدر ہمہ گیر ہے اور اس کی حکومت اس طرح ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے کہ وہ کسی بڑی سے بڑی قوم کو پکڑنا چاہے تو اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ کسی بڑی سے بڑی حکومت کا تختہ الٹنا چاہے تو اس کے لیے معمولی بات ہے۔ اسی طرح مخالفین کے تمام تر وسائل کی موجودگی میں اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد کرنا چاہے جبکہ وہ نہایت بےبسی کی تصویر ہیں۔ نہ ان کے پاس افرادی قوت زیادہ ہے اور نہ انھیں دشمن کے مقابلے میں وسائل کی فراوانی میسر ہے۔ تو اس کے لیے ان کی بےبسی اور ناتوانی کے باوجود ان کی مدد کرنا اور دوسروں پر انھیں غالب کردینا کوئی مشکل کام نہیں۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ قریش اور دوسری مخالف قوتوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ جس طرح اللہ کی قدرتوں کے سامنے بےبس ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے احسانات سے بھی گراں بار ہیں۔ اگر پروردگار ان کے لیے زندگی میں یہ وسائل فراہم نہ کرے اور ان پر اپنی نعمتوں کی بارش نہ کرے تو وہ ایک دن کے لیے بھی زندہ نہ رہ سکیں۔ لیکن بجائے ان نعمتوں کا احسان مند ہونے کے ان کی حماقت کا عالم یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں اور آسانیوں کے بل بوتے پر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ جن نعمتوں سے متمتع ہورہے ہیں، وہ سب اللہ کی دین ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات کو مستحضر رکھنا بڑا ضروری ہے کہ تم نے اللہ کی عطا کردہ جن نعمتوں پر فخر اور تکبر شروع کررکھا ہے اور دوسروں پر تم اسی حوالے سے اپنی دولت وامارت کا رعب جماتے ہو۔ کیا تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ ان میں سے ایک ایک چیز کے وجود اور زندگی کا سررشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی ہر مخلوق اس کے احکام کی پابند ہے۔ زمین کے اندر اور زمین کے اوپر جو کچھ ہے اس کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ البتہ ! اس نے ان تمام قوتوں کو ہماری خدمت میں لگارکھا ہے۔ تسخیر کا یہ معنی نہیں کہ یہ سب چیزیں اصلاً ہماری تابع فرمان ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ ہی کے احکام کی پابند ہے۔ لیکن ان میں سے بہت سی قوتوں کو اللہ نے انسانوں کی خدمت اور افادیت کے لیے حکم دے رکھا ہے۔ زمین اور زمین کی قوت روئیدگی اللہ ہی کے قبضے میں ہے اور اسی کی ملک ہے۔ لیکن اس نے یہ حکم دے رکھا ہے کہ زمین ہمارا بوجھ اٹھائے اس کی قوت روئیدگی ہمارے لیے سبزہ اگائے اور ہمارے لیے غلے کا سامان کرے۔ درختوں کی صورت میں سایہ مہیا کرے اور رسیلے پھلوں سے ہمارے کام ودہن کی لذت کا سامان کرے۔ لیکن ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے والوں کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ جو ان کا حقیقی مالک ہے اور یہ قوتیں جس کے قبضے میں ہیں وہ جب چاہے ان کی طنابیں کھینچ سکتا ہے۔ انسانوں کے سامنے انھیں بغاوت پر آمادہ کرسکتا ہے۔ چناچہ اس کی تفہیم کے لیے اس کے بعد کشتی کا ذکر فرمایا گیا کہ کشتی کو دیکھو کس طرح حیرت انگیز طور پر تمہاری خدمت رسانی کے لیے سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی تیرتی ہے۔ جو اس پر لاد دیتے ہو وہ اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار نہیں کرتی۔ تمہاری تجارت اور تمہاری سفر کا یہ بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ کشتی کو انسان کی خدمت رسانی سے انکار کا حکم دے دے تو چشم زدن میں سب کچھ برباد ہو کر رہ جائے۔ اسی طرح ہم پر آسمان کی چھت تانی گئی ہے۔ ایک ایسی عجیب چھت جس کے اور چھورکا کوئی اندازہ نہیں۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ محض اللہ کے حکم سے بےستون کھڑی ہے۔ اس کے نیچے بیشمار کرّے اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں۔ وہ محض اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہے اور اس کے قانونِ تسخیر نے اسے انسانوں کی خدمت میں لگا رکھا ہے اور اگر کبھی اللہ نہ کرے اس آسمان کا کوئی حصہ زمین پر گرپڑے تو زمین کی ہر چیز تباہ ہوجائے۔ اسی طرح آسمان کے نیچے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیسا رنگا رنگ جہان آباد ہے اور کچھ نہیں تو سائنس نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ بیشمار شہاب ثاقب زمین کی طرف آتے ہیں اور جن میں بعض کا وزن ٹنوں میں ہوتا ہے۔ لیکن وہ زمین تک پہنچ نہیں پاتے بلکہ راستے میں جل کر بھسم ہوجاتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت سے اہل زمین کی حفاظت کے لیے ایک ایسا پردہ تان رکھا ہے جس سے کوئی چیز آگے نہیں گزر سکتی۔ لیکن اس کی قدرت سے یہ بات ہرگز بعید نہیں کہ اگر وہ اسی پردے کا ایک گوشہ ذرا سا سرکا دے تو زمین پر زندگی ناممکن ہو کر رہ جائے۔ جس پروردگار کی قدرت و حکومت کے ساتھ ساتھ الطاف و عنایات کا یہ حال ہو اور انسان انھیں عنایات کے باعث زندگی کا سانس لے رہاہو تو کیا اس کا انکار کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو شریک کرنا اور اس کے رسول کو اذیت پہنچانا کس قدر شرم کی بات ہے۔ اس آیت کریمہ کے آخری جملے میں انھیں حقائق کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رؤف بھی ہے اور رحیم بھی۔ اگر اس کی رأفت اور رحمت نہ ہوتی تو وہ کبھی قریش اور ایسے دوسرے متمردین کو مہلت عمل نہ دیتا اور جس طرح یہ لوگ باربار عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں عذاب کی نذر کردیتا۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی عطا کی پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔

وَھُوَالَّذِیْٓ اَحْیَاکُمْ ز ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ۔ (الحج : 66) (اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی عطا کی پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ ) انسان کے کردار کی بنیادی خرابی اس آیت کریمہ میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ایک تو یہ بات کہ گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ احسانات کا ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ اس کی الطاف و عنایات صرف اس لیے ہیں کہ وہ رؤف ورحیم ہے۔ یہ بات بجائے خود شرم دلانے کے لیے کافی ہے کہ قریش اور دوسرے مشرکین مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں وہ تو اس قابل ہے کہ ان پر عذاب کا کوڑا برسے اور ان کی ڈھٹائی کا حال یہ ہے کہ وہ بجائے اپنی حرکتوں پر نادم ہونے کے باربار پیغمبر سے عذاب کا مطالبہ کررہے ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ رحمت کا سلوک فرماتے ہوئے انھیں مہلت عمل بھی دے رہے ہیں اور نعمتوں سے بھی نواز رہے رہیں کیونکہ یہی ان کی رأفت و رحمت کا تقاضا ہے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کی تم پر بیشمار عنایات ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑی اس کی عنایت یہ ہے کہ اس نے تمہیں زندگی عطا کی۔ اگر زمین پر بیشمار نعمتوں کی حکمرانی ہوتی لیکن ان سے محظوظ ہونے والا کوئی نہ ہوتا تو اس کا کیا فائدہ ہوتا ؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا مزید احسان جتلاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھائو اور اللہ کا شکر بجالائو۔ دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ تم عذاب میں تاخیر کے باعث اللہ کے رسول کے مقابلے میں اور دلیر ہوتے جارہے ہو اور یہ سمجھ رہے ہو کہ اگر اللہ کا عذاب آنا ہوتا تو آج تک آچکا ہوتا۔ چناچہ ان کی اس کوتاہ فہمی پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جس اللہ نے بیشمار نعمتوں سے محظوظ ہونے کے لیے تمہیں زندگی بخشی ہے اور پھر وہی اللہ طبعی زندگی کے اختتام پر تمہیں موت دیتا ہے وہی ایک دن تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ جس طرح تمہیں اس نے پہلی دفعہ زندہ کیا تو اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئی اسی طرح جب وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا، تاکہ تمہاری زندگی کا حساب لیا جائے تو اس وقت بھی اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کیونکہ اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا پہلی دفعہ زندہ کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔ اس میں کہنا یہ ہے کہ تم فرض کرو اگر عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت بہرحال آکر رہے گی۔ قیامت میں سب کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے اور قیامت کا عذاب دنیا کے عذاب سے کہیں شدید ہوگا۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ قریش اور دیگر مشرکین کے رویے اور اللہ کے دین کے مقابلے میں تمرد اور سرکشی کا باعث اصل میں یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔ یہاں انسان سے مراد قریش ہی ہیں کیونکہ روئے سخن انھیں کی طرف ہے۔ البتہ ! ان کا نام لیے بغیر ایک عام لفظ سے ان کا ذکر اظہارِ نفرت کے لیے کیا۔ یعنی اللہ کی نگاہ میں وہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کا نام لیا جائے۔ ناشکرا ہونا چونکہ ان کی بنیادی بیماری ہے اس لیے بڑی سے بڑی نعمت سے وہ متمتع ہورہے ہیں لیکن منعم حقیقی کا شکر بجالانے کی انھیں توفیق نہیں ملتی۔
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر امت کے لیے ایک طریق عبادت مقرر کردیاجس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔ تو اس معاملے میں وہ آپ سے جھگڑا نہ کریں۔ آپ انھیں اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں بیشک آپ اپنے رب کی طرف سے سیدھے راستے پر ہیں۔

لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَامَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ ط اِنَّکَ لَعَلٰی ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الحج : 67) (ہم نے ہر امت کے لیے ایک طریق عبادت مقرر کردیاجس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔ تو اس معاملے میں وہ آپ سے جھگڑا نہ کریں۔ آپ انھیں اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں بیشک آپ اپنے رب کی طرف سے سیدھے راستے پر ہیں۔ ) قریش اور یہود کے اعتراضات اس آیت کریمہ میں ہر امت کے لیے ایک منسک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور یہی مضمون انھیں الفاظ کے ساتھ اسی سورة کی آیت نمبر 24 میں گزر چکا ہے۔ لیکن دونوں منسک کے معنی میں اختلاف ہے۔ آیت نمبر 24 میں منسک کا معنی قربانی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں یہ حکم ” واؤ“ کے ساتھ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مستقل حکم نہیں بلکہ احکام ِ حج ہی کے سلسلے کا ایک حکم ہے اور وہ ظاہر ہے قربانی ہی ہوسکتا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ آیت نمبر 24 میں منسک کے بعد جانوروں پر اللہ کے ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جانوروں پر اللہ کا ذکر قربانی کے تصور سے ہی میل کھاتا ہے۔ لیکن یہاں بغیر ” وائو عاطفہ “ کے یہ حکم آیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک مستقل حکم ہے، سابقہ احکام کا حصہ نہیں۔ ویسے بھی منسک کا حقیقی معنی قربانی نہیں بلکہ عبادت یا طریق عبادت ہے۔ آیت نمبر 24 میں ایک قرینے کی وجہ سے قربانی اس سے مراد لی گئی ہے۔ لیکن یہاں یہ اپنے اصل معنی یعنی طریق عبادت میں استعمال کیا گیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں کے خلات ایک ہنگامہ کھڑا کررکھا تھا کہ تمہیں دعویٰ یہ ہے کہ تم ملت ابراہیمی کو ماننے والے ہو اور تمہارے پیغمبر پر وحی اترتی ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو تم بعض ایسے جانوروں کا گوشت کیوں کھاتے ہو جنھیں سابقہ شریعتوں میں حرام کیا گیا ہے۔ اور مزید یہ بات کہ جو جانور تم اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے (مارتے) ہو اسے حلال سمجھتے ہو اور جسے اللہ ماردیتا ہے اسے حرام اور پلید کہتے ہو۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کا اصولی جواب عنایت فرمایا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جہاں تک مشرکین کی خانہ ساز شریعت کا تعلق ہے وہ تو اس قابل نہیں کہ اس کا ذکر کیا جائے البتہ ! اگر اہل کتاب قریش کو بعض حوالوں سے اکساتے ہیں کہ ہماری شریعت میں یہ یہ جانور حرام تھے اور اسلام نے انھیں حلال کردیا ہے تو ان سے یہ کہا گیا ہے کہ تم اچھی طرح اس بات کو جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جب بھی کوئی رسول بھیجا تو اس پر نئی شریعت اتاری اور نئی کتاب نازل کی۔ نئی شریعت میں سابقہ شریعت کی کچھ باتوں کو باقی رکھا جاتا تھا اور جہاں زمانے کے تقاضے کے مطابق تبدیلی کی ضرورت ہوتی تھی وہاں نیا حکم نازل کردیا جاتا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہر امت کو یہ بات سمجھائی جاتی تھی اگر کسی رسول کی شریعت میں سابقہ شریعت کے کسی حکم سے مختلف حکم ملتا ہے تو اس میں انکار کی کوئی بات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو یقینا اس کا حق حاصل ہے کہ وہ چاہے تو سابقہ شریعت کو علی حالہا قائم رکھے اور چاہے تو کچھ نئے احکام دے دے اور بعض احکام کو منسوخ کر دے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو شخص رسول پر اور اس کی کتاب پر ایمان نہیں لاتا اس کے لیے اس پر نازل ہونے والی شریعت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ چونکہ اس کی ایک ایک بات کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے اس لیے اس کی شریعت کے ہر حکم کو ماننے سے انکار کردیتا ہے اور اس کا یہ رویہ قابل فہم ہے۔ لیکن اس کا یہ بحث کرنا کہ فلاں شریعت میں ایسا تھا تم اس سے مختلف بات کیوں کہہ رہے ؟ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ کسی کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ یہ لوگ اگر اس حوالے سے آپ سے بحث کرتے ہیں تو انھیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے اور آپ انھیں ایسا کرنے کا موقع نہ دیں کیونکہ وہ ایک ایسی حرکت کررہے ہیں کہ نہ دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہمارے مذہب کی تاریخ اس کو جائز رکھتی ہے۔ کسی بھی ملک میں اگر نیا آئین مرتب کیا جاتا ہے اور پہلے سے اگر کوئی آئین موجود تھا اور اسے قوم کے نمائندے اگر منسوخ کردیتے ہیں تو کوئی شخص ان نمائندوں پر یہ قدغن عائد نہیں کرسکتا کہ آپ لوگوں نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لیے کہ اصل اختیار پارلیمنٹ کو ہے۔ اس نے جب پہلا آئین بنایا تو اس کا بھی اسے اختیار حاصل تھا اور اب اگر اس نے نیا آئین بنایا ہے تو اسے اس کا بھی اختیار حاصل ہے اور اگر وہ نیا آئین بنانے کی بجائے سابقہ آئین میں کچھ ترامیم منظور کرتی ہے تو اسے اس کا بھی حق پہنچتا ہے۔ کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہی بات اس آیت میں آنحضرت ﷺ سے کہی جارہی ہے کہ اللہ نے آپ پر جو احکام نازل کیے ہیں یعنی اپنی بندگی کا جو طریقہ آپ کو عطا کیا ہے آپ لوگوں کو اس کی دعوت دیں۔ آپ نہایت دل جمعی سے اس پر قائم رہیں۔ ان لوگوں کا علاج یہ نہیں کہ ان سے احکام میں بحث کی جائے بلکہ آپ انھیں اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے حقوق پر ایمان لائیں۔ جب وہ اسے تسلیم کرلیں گے تو پھر انھیں بات سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ اس بنیادی بات اور اللہ کے حکم کو تسلیم نہیں کرتے تو پھر آپ انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ آپ اللہ کے فضل سے سیدھی راہ پر ہیں تو سیدھی راہ پر چلنے والے کو اس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے کہ دوسرے غلط راستے پر جارہے ہیں۔
Ayahs 22:68–69

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ سے جھگڑ اکریں تو آپ کہہ دیجیے کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا ان امور کے بارے میں جن میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو۔

وَاِنْ جٰدَ لُوْکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (الحج : 68، 69) (اور اگر وہ آپ سے جھگڑ اکریں تو آپ کہہ دیجیے کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا ان امور کے بارے میں جن میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو۔ ) تفویض کا حکم آنحضرت ﷺ کی پہلو تہی کے باوجود وہ لوگ احکام کے حوالے سے بحث وجدال کرنے سے باز نہیں آتے اور آپ کو اس میں الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ ان سے بحث میں الجھ کر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ آپ ان سے صاف صاف کہہ دیں کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس میں کوئی معقولیت ہوتی تو میں تمہیں اس کا ضرور جواب دیتا۔ لیکن تمہاری باتوں کے پیچھے چونکہ مخصوص محرکات ہیں جسے اللہ خوب جانتا ہے اس لیے میں یہ معاملات اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ وہ قیامت کے دن ایک ایک بات کا فیصلہ فرمائے گا۔ اور اس دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ فی ھذہ الایۃ ادب حسن علّمہ اللہ عبادہ فی الرد علی من جادل تعنتاً ومراء اَن لا یجاب ولا یناظر وید فع بھاذا القول الذی علمہ اللہ نبیہ ﷺ ” اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بڑا عمدہ ادب سکھایا ہے کہ جو شخص محض تعصب اور جھگڑا کرنے کے شوق میں تم سے مناظرہ کرنا چاہے اسے کوئی جواب نہ دو اور نہ اس کے ساتھ مناظرہ کرو اس کی تمام غوغا آرائیوں کے جواب میں صرف یہ بات کہہ دو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم پیغمبر کو سکھائی ہے “۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ اس کو جانتا ہے یہ سب چیزیں ایک رجسٹر میں محفوظ ہیں۔ بیشک یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ (الحج : 70) (کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ اس کو جانتا ہے یہ سب چیزیں ایک رجسٹر میں محفوظ ہیں۔ بیشک یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔ ) قریش پر عتاب اس آیت کریمہ میں بظاہر خطاب نبی کریم ﷺ سے ہورہا ہے لیکن حقیقت میں اس کا روئے سخن قریش کی طرف ہے اور اس کے ایک ایک لفظ سے عتاب جھلک رہا ہے۔ قریش اور دیگر مشرکین سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم جو کچھ نبی کریم ﷺ مسلمانوں اور دعوت اسلامی کے ساتھ کررہے ہو اور جس طرح اس کے خلاف منصوبہ بندیاں کرتے ہو تمہیں شاید معلوم نہیں کہ ان میں سے ایک ایک بات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے وہ تمہارے اعمال کو بھی جانتا ہے اور تمہاری نیتوں اور تمہارے عزائم سے بھی واقف ہے۔ اور مزید یہ بات بھی یاد رکھو کہ تمہارے ہر عمل اور ہر سازش کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے رجسٹر یا ایسے دفتر میں محفوظ کررکھا ہے جسے قیامت کے دن تم خود پڑھ سکو گے۔ اس کا ایک ایک لفظ تمہارے خلاف گواہی دے گا۔ تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم قیامت اور سزا کے بارے میں جن باتوں کو ہوائی باتیں سمجھتے تھے وہ حقیقت بن کر تمہارے سامنے موجود ہیں اور اس رجسٹر میں تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ اس طرح محفوظ ہوگا کہ تم اسے دیکھتے ہوئے چیخ اٹھو گے کہ مَالِھٰذَاالْکِتَابِ لاَ یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَاکَبِیْرَۃً اِلَّا اَحْصٰہَا ” یہ رجسٹرکیسا ہے جس میں کوئی بات چھوٹنے نہیں پائی، نہ چھوٹی نہ بڑی۔ اس نے ہر بات کو شمار کر رکھا ہے “۔ تم آج یہ محسوس کرتے ہو کہ تمہارا ایک ایک عمل کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے اور قیامت کے دن ان میں سے ہر بات کا کس طرح حساب لیا جاسکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ پر ان میں سے کوئی بات مشکل نہیں بلکہ بہت آسان ہے اس کی بےپناہ اور لاانتہا قوتوں کا اگر تمہیں ذرا بھی ادراک ہوتا تو تم کبھی ان کوتاہیوں کا شکار نہ ہوتے۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور نہ ان کے بارے میں ان کو کوئی علم ہی ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّمَا لَیْسَ لَھُمْ بِہٖ عِلْمٌ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ۔ (الحج : 71) (اور یہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور نہ ان کے بارے میں ان کو کوئی علم ہی ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ ) مشرکین کے مصنوعی سہارے بیکار ثابت ہوں گے مشرکین کو جن تصورات نے غیر معمولی طور پر بگاڑا اور جن نام نہاد سہاروں نے انھیں اپنی عاقبت سے بیگانہ کردیا ان میں سے ایک غلط تصور یہ تھا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم جن قوتوں کی پرستش کرتے ہیں چاہے پتھر کے تراشیدہ بت ہوں جو کبھی زندہ شخصیتوں کی صورت میں لوگوں کے دلوں میں آباد تھے۔ یا وہ جنات ہوں جنھیں بعض دفعہ وہ اپنے اسفار اور صحرائی قیام میں مدد کے لیے پکارتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اس صحرا اور اس کے قریب پہاڑوں اور ٹیلوں پر ان کا قبضہ ہے اور ان کی پرستش کے بغیر کوئی یہاں خیریت سے نہیں گزر سکتا۔ اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے اور ان کے سامنے پرستش کی مختلف صورتیں اختیار کرتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ اولاً تو قیامت کے آنے کا امکان نہیں اور اگر ایسا ہوا تو اللہ کی بیٹیاں ہمیں اللہ کے غضب سے بچا لیں گی۔ ان نام نہاد اور مصنوعی سہاروں اور غلط تصورات پر تنقید کرتے ہوئے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے سوا جن چیزوں کی پرستش کرتے ہیں یعنی ان کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، ان سے استمداد کرتے ہیں اور ان کے حوالے سے بعض گمراہیوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں ہمیں اللہ نے اس کی اجازت دی ہے اور ہماری ان گمراہیوں کی کوئی نہ کوئی سند ضرور ہے۔ اس آیت کریمہ میں صاف فرمایا گیا ہے کہ ان غلط تصورات اور گمراہیوں پر مشتمل مصنوعی سہاروں کی کوئی سند نہیں۔ ان کے دعو وں کی کوئی حقیقت نہیں۔ کسی پیغمبر کی معرفت اللہ نے ایسا کوئی پروانہ جاری نہیں کیا اور مزید حیران کن بات یہ ہے کہ وحی الہٰی کے علاوہ علم کے اور جتنے ذرائع ممکن ہیں ان میں سے کسی ذریعہ علم کے حوالے سے یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ ان گمراہیوں کی کوئی حقیقت ہے اور ان کے آبائو اجداد نے کبھی ان چیزوں کو علمی حوالوں سے قبول کیا ہے۔ یہ تو سراسر شیطانی وساوس اور گمراہ کن قوتوں کی ملی بھگت سے ایسی چیزوں کو وجود ملا ہے۔ اور ان کے واسطے سے بعض حکمرانوں نے اپنے لیے حکومت کا جواز پیدا کیا اور بعض معبدوں کے پروہتوں کو اپنا کاروبار چلانے کا موقع ملا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایسی بےاصل گمراہ کن باتوں کو اللہ کے حوالے سے لوگوں میں عام کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ خود پر بھی ظلم کرتا ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسے ظالموں کا اللہ کے غضب سے بچانے کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ یہ ان کی سراسر حماقت ہے کہ بعض مفروضہ قوتوں کو یہ اپنا سہارا سمجھتے ہیں، جب یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے تو کوئی انھیں بچانے والا نہیں ہوگا۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو آپ ان کے چہروں پر جنھوں نے کفر کیا، ناگواری کو پہچان سکتے ہیں۔ گویا یہ ان لوگوں پر حملہ کردیں گے جو ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ ان سے کہئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر ناگوار چیز کی خبر نہ دوں ؟ وہ ہے دوزخ کی آگ۔ اس کا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کررکھا ہے جنھوں نے کفر کیا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ )

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِی وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ ط یَکَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا ط قُلْ اَفَاُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکُمْ ط اَلنَّارُ ط وَعَدَ ھَا اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الحج : 72) (جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو آپ ان کے چہروں پر جنھوں نے کفر کیا، ناگواری کو پہچان سکتے ہیں۔ گویا یہ ان لوگوں پر حملہ کردیں گے جو ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ ان سے کہئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر ناگوار چیز کی خبر نہ دوں ؟ وہ ہے دوزخ کی آگ۔ اس کا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کررکھا ہے جنھوں نے کفر کیا۔ اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ) اہلِ کفر کا کفر پر اصرار اور اسلام پر برہمی اس آیت کریمہ سے چند باتوں کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔ ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ کے ہم عصر لوگ قرآن کریم کی بےپناہ تاثیر سے خوف زدہ تھے۔ وہ یہ دیکھتے تھے کہ قرآن پاک جس زبان میں نازل ہوا ہے اور وہ جس بلند سطح سے خطاب کرتا ہے اور اس کے خوبصورت الفاظ جس طرح حیران کن ترکیب سے گزر کر انگوٹھی میں لگے ہیروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جس کے محاورات، تلمیحات اور روزمرے جس طرح کلام کو ایک شان و شکوہ عطا کرتے ہیں اور جس کی فصاحت و بلاغت اپنے اندر ایک معجز بیانی کی شان رکھتی ہے اور جس کا اسلوب بیک وقت شیریں بھی ہے اور پر شکوہ بھی۔ اور جس میں پیش کیے جانے والا نظام زندگی اپنے اندر ایک آئین، قانون، ادب، نصیحت، اور خطابت کی بیک وقت شان رکھتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سننے والے اس کے سحر میں ڈوب جاتے ہیں۔ اہل عرب اپنے اندر ہزاروں کمزوریاں رکھتے تھے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ الفاظ کے جوہری اور کلام کے تیورشناس تھے۔ انھوں نے آج تک اپنے خطباء کے حیرت انگیز خطبے اور اپنے شعراء کے دلوں کو موہ لینے والے اشعار سنے تھے۔ لیکن قرآن کریم صرف خطبات کا مجموعہ تھا اور نہ اس کی زبان شعر کی زبان تھی۔ باایں ہمہ ! وہ اپنی شیرینی اور تاثیر میں سب سے نرالا اور سب سے بالا اور بلند تھا اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت آپ کا اثر میں ڈوبا ہوا لہجہ، آپ کا بےعیب کردار، اور آپ کا بےخوف اندازِ بیان، قرآن کریم سے مل کر ایک ایسی فضا پیدا کردیتا تھا کہ جس کے اثرات سے بےنیاز رہنا سننے والوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ شروع شروع میں تو انھوں نے یہ کیا کہ اوباشوں کو اس کام پر لگا دیا کہ جب اور جہاں بھی نبی کریم ﷺ قرآن پڑھیں تو تم شور مچائوتا کہ تم اس کی تاثیر پر غالب آجاؤ۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ قرآن کریم کے اعجاز کے سامنے اپنی بےبسی محسوس کرتے ہوئے اشتعال کا شکار ہونے لگے۔ کیونکہ علمی طور پر بےمایہ اور دلیل سے خالی جھوٹے آدمی کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ جب وہ ایک سچی بات کا جواب نہیں دے پاتا تو وہ بات کہنے والے کا منہ نوچنے پر تیار ہوجاتا ہے چناچہ اب وہ اسی کمزوری کا شکار تھے۔ جیسے ہی ان کے سامنے قرآن کریم پڑھا جاتا ان کے چہرے بگڑنے لگتے، ان کے چہروں کی ناگواری اور تکدر کو ہر دیکھنے والا محسوس کرتا تھا۔ پھر ان کی یہ بیزاری اشتعال میں ڈھل جاتی ان کی کیفیت یہ ہوتی کہ ابھی قرآن کریم پڑھنے والوں پر پل پڑیں گے اور حملہ کردیں گے۔ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کے پاس علم اور دعوت کے حوالے سے سب سے بڑا ہتھیار خود قرآن کریم اور اس کی دعوت ہے۔ ہم نے کفر اور گمراہی کے مقابلے میں یوں تو عرصے سے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں لیکن جو لوگ ابھی تک کفر کے مقابلے کا تصور رکھتے ہیں ان کے یہاں بھی مقابلے کے لیے مختلف چیزیں اختیار کرلی گئی ہیں۔ جن کا قرآن کریم سے نام کے تعلق کے سوا کوئی تعلق نہیں۔ دوسری بات اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ کفر وشرک اور گمراہی کے حاملین اپنے خیالات اور اعتقادات میں ایسے بےلچک ہوتے ہیں کہ وہ ان کے مقابلے میں قرآن کریم یا اس پر مبنی لٹریچر کو کبھی برداشت کرنے کے تیار نہیں ہوتے۔ وہ یوں تو رواداری، اور وسعت نظر کا بہت ڈھنڈورا پیٹیں گے اور قرآن کریم کی فکرکے لوگوں پر ہمیشہ طعن توڑیں گے۔ کہ یہ لوگ بہت چھوٹے ظرف کے لوگ ہوتے ہیں اپنے خیالات سے مختلف بات سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ لیکن عملی طور پر ان کا رویہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ساری دنیا کو رواداری کا درس دیں گے۔ لیکن خود بچیوں کے سروں پر سکارف تک بھی برداشت نہیں کرپائیں گے۔ جمہوری حقوق کی بات کریں گے لیکن جہاں کہیں قرآن کریم سے تعلق رکھنے والے جمہوری طریقے سے برسر اقتدار آئیں گے تو انھیں تسلیم کرنے سے انکار کردیں گے۔ انھیں شرم وحیا کی ہر بات بری لگے گی لیکن بےحیائی پر ان کی استقامت دیکھ کر آدمی حیرت زدہ رہ جائے گا۔ اگر کوئی آدمی ان کے سامنے بےحیا بننا گوارا نہ کرے تو وہ اسے غیرمہذب قرار دیں گے۔ اور خود بےحیائی پر غیر معمولی اصراران کے نزدیک تہذیب کا زیور کہلائے گا۔ اصل بیماری وہی ہے کہ قرآن کریم اور اس کے دیئے ہوئے نظام زندگی کے بارے میں وہ جب بھی کسی بات کو سنتے ہیں تو ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ تو وہ ایسے لوگوں کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں جن کا رشتہ قرآن کریم سے ہے۔ پروردگار طنز کے انداز میں انھیں ان کی اصل منزل کی خبر دے رہا ہے کہ اگر تمہیں جلنابھننا ہی عزیز ہے تو تم قرآن کریم سن کر ہی کیوں جلو۔ ہم تمہیں اس سے بہتر جلانے والی چیز کی خبر دیتے ہیں وہ ہے جہنم کی آگ۔ اگر جلنا ہی ہے تو جہنم کی آگ تمہارے انتظار میں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا وعدہ کررکھا ہے لیکن کاش ! انھیں معلوم ہوتا کہ وہ کس قدر برا ٹھکانہ ہے۔