Ayah 22:32ذٰلِکَ ق وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ۔ (الحج : 32)
(حقیقت یہ ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا احترام کرتا ہے تو وہ یا درکھے کہ یہ چیز دل کے تقویٰ سے تعلق رکھنے والی ہے۔ )
شعائر کا مفہوم اور ان کے احترام کی شرط
شعائر ...... شعیرۃ بروزنِ فعیلۃ کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے وہ علامت جس سے کسی چیز کی پہچان ہوسکے۔ امام ابن جریر لفظ شعائر کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” وشعائر التی جعلھا امارات بین الحق والباطل “” یعنی جن چیزوں سے حق اور باطل کی شناخت ہوسکے ان کو شعائر اللہ کہتے ہیں “۔ قرآن کریم نے صفا ومروہ کو شعائر اللہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں پہاڑیاں حضرت ہاجرہ کی داستانِ ایثار کی علامت ہیں۔ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان اور ان کے گردوپیش میں ملت ابراہیمی کے حقائق پھیلے ہوئے ہیں۔ یہیں تربیت کی وہ تاریخ بھی ہے جس نے حضرت اسماعیل کو آداب فرزندی سے بہرہ ور کیا۔ یہیں مقام ابراہیم بھی ہے، یہیں بیت اللہ اور حرم میں پھیلے ہوئے اور آثار ہیں یہ سب اللہ کے شعائر ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اسلام کے حقائق کی شناخت وابستہ ہے۔ ان سب کا احترام اس لیے ضروری ہے کہ جن عظیم حقائق کی یہ علامتیں ہیں انھیں ان کی وجہ سے جلا ملتی ہے۔ البتہ ! اس احترام کے حوالے سے ایک بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ کہ چونکہ ان شعائر کا تعلق اسلام کے بنیادی حقائق سے ہے اس لیے ان کا احترام صرف الفاظ کی حد تک وہ نتائج پیدا نہیں کرتا جو اس سے مطلوب ہیں۔ اس لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ شعائر اللہ کا احترام دل و دماغ کی ہم آہنگی سے بجالایا جائے۔ ان کی صحیح تعظیم کا حق اسی وقت ادا ہوسکتا ہے جب ان کا احترام دل سے اٹھے اور اس کے نتیجے میں وہ حقیقت دل میں اتر جائے جس کی انھیں شناخت بنایا گیا ہے۔
Ayah 22:33لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ۔ (الحج : 33)
(تمھارے لیے مویشیوں میں طرح طرح کے فوائد ہیں ایک معین مدت تک، پھر ان کے قربان کرنے کا مقام بیت عتیق کے پاس ہے۔ )
ھدی سے متعلق ضروری ہدایات
گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کا بطور نعمت ذکر فرمایا ہے جن کا عطا فرمانے والا صرف اللہ ہے۔ انسان اپنی ضروریات کے مطابق ان کا گوشت بھی کھاتا ہے، دودھ بھی پیتا ہے اور ان کی اون اور کھال سے نفع بھی اٹھاتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں، وہ اس لیے عطا فرمائی ہیں تاکہ انسان ان سے نفع اٹھائے اور پھر ان پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوا کہ نعمتیں تو فائدہ اٹھانے کے لیے ہی عطا کی گئی ہیں۔ ان ہی میں مویشی اور چوپائے بھی ہیں۔ لیکن یہی مویشی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ھدی بنائے کا حکم دیا ہے اور اپنی رضا کی خاطر قربان کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔ تو کیا جب کوئی جانور ھدی کے طور پر اللہ کے گھر کی طرف لے جایا جارہاہو تو کیا اس سے بھی باقی مویشیوں کی طرح فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ؟ مثلاً اس سے باربرداری کا کام لیا جاسکتا ہے ؟ اس پر سواری کی جاسکتی ہے ؟ اگر وہ دودھ دینے والا جانور ہے تو کیا اس کا دودھ دوہا جاسکتا ہے ؟ اور کیا اس سے اون حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ کیونکہ جب کسی جانور کو ھدی بنادیا جاتا ہے تو وہ شعائر اللہ میں شامل ہوجاتا ہے، جس کا احترام کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ تو کیا اس سے خدمت لینا احترام کے منافی نہیں ہوگا ؟ اس میں اہل علم کی دورائے ہوگئیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد، ضحاک اور عطا خراسانی (رح) علیہم کی رائے یہ ہے کہ ” الی اجل مسمّیً “ سے مراد یہ ہے کہ جب تک کسی جانور کو قربانی کے لیے نامزد نہ کردیا جائے اور ھدی سے موسوم نہ کردیا جائے اس وقت تک اس سے فوائد اٹھانے کی اجازت ہے۔ لیکن جب اسے ھدی بنادیا جائے تو پھر اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ لیکن دوسرے مفسرین جن میں عروہ بن زبیر اور عطا بن ابی رباح شامل ہیں ان کے نزدیک وقت مقررہ سے مرادقربانی کا وقت ہے۔ یعنی جب تک جانور کے ذ بح کیے جانے کا وقت نہ آئے اس وقت تک جانور سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) کی رائے ان دونوں آراء کے بین بین ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی جانور کو ھدی کے لیے نامزد نہیں کیا جاتا اس وقت تک تو اس سے کام لینے میں کسی کو اختلاف ہی نہیں لیکن جب کسی جانور کو ھدی سے موسوم کردیا جاتا ہے اب اس میں خصوصی احترام کا ایک سبب پیدا ہوجاتا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے ذاتی منفعت بالکل نہ لی جائے۔ البتہ ! بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ سفر میں اس سے فائدہ حاصل کرنے کی مجبوری پیدا ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ فائدہ حاصل کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ چناچہ اس حوالے سے جو احادیث آئی ہیں وہ اسے ضرورت پر ہی محمول کرتے ہیں۔ مثلاً نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اونٹ کی مہار تھامے پیدل چلا جارہا ہے اور سخت تکلیف میں ہے۔ آپ نے فرمایا : اس پر سوار ہوجا۔ اس نے عرض کیا کہ یہ ھدی کا جانور ہے۔ آپ نے زور دے کر فرمایا ارے ! سوار ہوجا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تیرے سفر کی ضرورت تقاضا کرتی ہے کہ تجھے اس پر سوار ہوجانا چاہیے۔ ایسی صورت میں اس سے سواری کی خدمت لینے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔
” محلھا “ : کا معنی ہے۔ منحرھا یعنی ” اس کے ذبح کرنے کی جگہ “۔
” الی البیت العتیق “ کائنٌ کے متعلق ہو کر محلھا کا حال ہے۔ یعنی جو جانور حج کے موقعہ پر ھدی کے طور پر اپنے ساتھ لے جایا جاتا ہے اس کے ذبح کرنے کی جگہ ” بیت العتیق “ ہے۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی قربانی کعبہ میں یا مسجد حرام میں کی جائے۔ لیکن ہم نے قرآن کریم میں دیکھا ہے کہ کعبہ یا بیت اللہ یا مسجد حرام بول کر بالعموم حرم مکہ مرا دلیا جاتا ہے۔ یہاں بھی بیت العتیق سے مراد ” حرم “ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ھدی کے جانور کی قربانی حرم شریف میں لے جا کر کی جائے گی۔ منیٰ بھی چونکہ حرم ہی کا ایک حصہ ہے اس لیے اب انتظامی سہولت کے تحت تمام قربانیاں منیٰ میں کی جاتی ہیں۔
Ayahs 22:34–35وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِنْ م بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِط فَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا ط وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ۔ لا الَّذِیْنَ اِذَاذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ عَلٰی مَآ اَصَابَھُمْ وَالْمُقِیْمِی الصَّلٰوۃِ لا وَمِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (الحج : 34، 35)
(اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی ہے تاکہ اللہ نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں ان پر وہ اللہ کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ تو اسی کے آگے سرجھکائو۔ اور اے پیغمبر ! بشارت دے دیجیے عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور ان کو جو مصیبت پہنچتی ہے اس پر صبر کرنے والے ہیں۔ اور نماز کا اہتمام رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ )
قربانی کی قدامت اس کی اہمیت کی دلیل ہے
قربانی کا ذکر اگرچہ اس سے پہلے بھی ہوچکا ہے لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں یہ تأثر دینا مقصود ہے کہ قربانی کا حکم صرف اس آخری امت کو نہیں دیا جارہا بلکہ یہ ایک ایسا حکم ہے جس سے ہر امت گراں بار رہی ہے۔ یعنی اصلاحِ عقائد اور فکری سلامتی کے لیے باقی احکام کے ساتھ ساتھ قربانی بھی نہائت موثر عامل کے طور پر پہلی امتوں کی شریعتوں میں بھی موجود رہی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ تورات میں بھی اور قرآن کریم میں بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کی قربانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی۔
دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ قربانی کا حکم ہر امت کو دیا گیا ہے۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ اللہ نے انھیں جو چوپائے بخشے ہیں ان پر اظہارِ شکر کے لیے ـــضروری ہے کہ اللہ ہی کے نام پر انھیں ذبح کیا جائے۔ اگر ان کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا یا اللہ کے سوا کسی اور کے نام سے انھیں منسوب کردیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چوپایوں کا پیدا کرنے والا اور انسانوں کو عطا کرنے والا صرف اللہ نہیں بلکہ اور بھی شرکاء اس کے ساتھ شامل ہیں۔ جبکہ ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل ہے کبھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوسکتا کہ مخلوقات کی تخلیق میں اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہے۔
اس آیت کریمہ میں قربانی کے لیے ” منسک “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ منسک کا معنی مجاہد نے یہ کیا ہے ” الذبح واراقۃ الدم “ یعنی ” ذبح کرنا اور خون بہانا “۔ جب کوئی شخص ذبح کرتا ہے تو کہا جاتا ہے۔” نَسَکَ یَنْسُکُ نَسکاً “ اور جو جانور ذبح کیا جائے اس کو نسی کہ کہتے ہیں۔ اس کی جمع ” نُسُک “ ہے۔ اس حکم کی عمومیت کو دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف حج پر دی جانے والی قربانی نہیں بلکہ تمام وہ قربانیاں اس میں شامل ہیں، جو پوری امت میں دی جاتی ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی دی۔ ازواجِ مطہرات بقدر ہمت قربانی دیتی رہیں۔ صحابہ کرام کو نہ صرف قربانی دینے کا حکم دیا گیا بلکہ اس کے مسائل بھی بیان کیے گئے اور یہ بھی بتایا گیا کہ قربانی نماز کے بعد ہوتی ہے۔ جس نے پہلے قربانی دے دی اس کی قربانی ادا نہیں ہوئی اور چودہ صدیوں میں اس حکم کی تعمیل میں کبھی انقطاع نہیں ہوا۔ یہ حکم امت میں تعامل کے طور پر زندہ رہا۔
تیسری چیز اس آیت کریمہ میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جس طرح تمہارا خالق ایک ہے اور تمہارے جانوروں کا خالق ایک ہے اسی طرح تمہارا الٰہ بھی ایک ہے۔ اس کے سوا نہ کسی کو تحلیل وتحریم کا حق ہے اور نہ اس کی عطا کردہ نعمتوں میں کوئی اور دخیل ہوسکتا ہے۔ جس طرح نماز صرف اسی کی پڑھی جاسکتی ہے اور روزہ صرف اسی کا رکھا جاسکتا ہے اسی طرح قربانی بھی صرف اسی کی دی جاسکتی ہے۔ اس میں بھی کسی دوسرے کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔ پس پوری یکسوئی آمادگی اور خوش دلی کے ساتھ اپنے آپ کو اسی کے حوالے کردوکیون کہ ہر عبادت کی اصل روح سب کچھ اللہ کے حوالے کردینا اور قربان کردینا ہے۔ جو شخص اپنا سب کچھ اللہ پر قربان کردیتا ہے اور وہ اللہ کی بندگی کی خاطر ہر چیز سے دستبردار ہوجاتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کا حقیقی تعلق اللہ کے ساتھ قائم ہوتا ہے چناچہ ایسے ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ..... ” اور مخبتین کو بشارت دے دو “۔ پست اور نشیبی زمین کو عربی زبان میں ” الخبت “ کہتے ہیں۔ اسی سے ” اخبات “ ہے۔ جس کا معنی ” فروتنی، تذلل اور تواضع کا اظہار “ ہے۔ اسلام کی اصل روح اخبات ہی ہے یعنی اسلام کی تعلیمات کا حاصل یہ ہے کہ ایک مسلم کا دل اپنے رب کے سامنے اس طرح جھک جائے کہ جس میں سوائے عاجزی اور فروتنی کے اور کچھ نہ ہو۔ اس عاجزی اور فروتنی سے جو صفات جنم لیتی ہیں، قرآن کریم نے نہایت فصاحت و بلاغت سے ان کا ذکر فرمادیا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ایسی عاجزی والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اس کی کتاب کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں۔ یہ تصور ہی ان کے کپکپا دینے کے لیے کافی ہے کہ یہ اس ذات کا کلام اور اس کے احکام ہیں جو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ جس کے ایک حکم سے ہر چیز میں زندگی پیدا ہوتی اور اس کے ایک حکم سے موت طاری ہوسکتی ہے۔ وہ چاہے تو سمندر پایاب ہوجائیں اور اس کے ایک اشارے سے سورج بےنور ہوجائے، اور اس کے راستے پر چلنے والے اس اخلاص سے اس کے دین کی سربلندی کے لیے کام کرتے ہیں کہ بڑی سے بڑی رکاوٹ اور بڑے سے بڑا حادثہ ان کے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتا۔ ہر آنے والی مصیبت کا وہ صبر سے سامنا کرتے اور نہائت ہمت سے اسے برداشت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جس نے سب کچھ عطا کیا ہے اسے یقینا یہ استحقاق حاصل ہے کہ سب کچھ اس کی خوشنودی کے لیے جھونک دیاجائے۔ وہ اسی کی یاد اور اسی سے کیے ہوئے عہد کے ایفا کے لیے ہمیشہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ جس طرح صبر سے مصائب کا سامنا کرتے ہیں اسی طرح وہ ہر طرح کے حالات میں اللہ ہی سے مدد کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ان کا قیام اور ان کا رکوع و سجود اسی کی ذات کے لیے وقف ہوتا ہے اور زندگی کی نعمتوں میں جو کچھ انھیں ملتا ہے وہ اسے اللہ کی امانت سمجھتے ہیں اور اسی کے راستے میں انھیں خرچ کردینے کو امانت کی ادائیگی سمجھتے ہیں۔ اللہ کے سامنے ایسا عجز جس میں ہر چیز پر اس کی مہر لگ جائے اور اس کے ساتھ ایسا مضبوط تعلق جو نماز کی تصویر بن جائے اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے ایسی تگ ودو کہ صبر اس کا ہتھیار بن جائے اور مال و دولت کا ایسا انفاق جو قربانی کا عنوان بن جائے یہی درحقیقت قربانی کی حقیقی روح اور اس کی مشروعیت کا حقیقی مقصد ہے۔
Ayah 22:36وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَائِرِاللّٰہِ لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌاصلیق فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا صَوَآفَّج فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ط کَذٰلِکَ سَخَّرْنَاھَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (الحج : 36)
(اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ٹھہرایا ہے۔ تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے۔ پس ان پر اللہ کا نام لو ان کو صف بستہ کرکے۔ پس جب وہ اپنے پہلوئوں پر گرپڑیں تو ان میں سے خود بھی کھائو اور کھلائو قناعت کرنے والے فقیر کو اور سوال کرنے والے کو۔ اسی طرح ہم نے فرمانبردار بنادیا ہے ان جانوروں کو تمہارے لیے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ )
بُدْن کی تحقیق
بُدْنٌ اور بُدُنٌ بُدْنَۃٌکی جمع ہے۔ جس طرح ” ثُمْرٌ اور ثُمُرٌ“ ثَمَرَۃٌ کی جمع ہے۔ یہ لفظ اونٹوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بعض اہل لغت کا خیال ہے کہ بدانۃ سے ماخوذ ہے۔ جس کا معنی ہے ” موٹا تازہ ہونا “۔ نیز علما کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ اس کا اطلاق صرف اونٹ پر ہوتا ہے یا گائے پر بھی ہوتا ہے۔ امامِ شافعی ( رح) کے نزدیک اس کا مصداق صرف اونٹ ہے اور امام ابوحنیفہ ( رح) کے نزدیک اونٹ اور گائے دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام صاحب کے نزدیک ان دونوں کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے جائز ہے اور آپ حضرت جابر ( رض) کی روایت سے جسے مسلم نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی نے بھی، استدلال کرتے ہیں۔ البتہ ! پیش نظر آیت کریمہ میں چونکہ اونٹوں کے ذبح کا طریقہ بیان کیا گیا ہے اس لیے یہاں بدن سے مراد صرف اونٹ ہیں۔
اونٹوں کی قربانی کے بطور خاص ذکر کا سبب
اوپر آیت نمبر 28 میں ان تمام چوپایوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی قربانی مشروع ہے۔ اس کے بعد اونٹوں کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں تھی کیونکہ اونٹ بھی بہیمۃ الانعام میں شامل ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اونٹوں کی قربانی کا بطور خاص ذکر شاید اس لیے فرمایا گیا ہے کیونکہ یہود نے اس کے خلاف خاصہ پر اپیگنڈہ کیا تھا۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ مسلمان اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا وارث کہتے ہیں جبکہ ملت ابراہیمی میں اونٹ کا گوشت حلال نہیں بلکہ تمام انبیائے بنی اسرائیل نے اونٹ کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔ سورة آل عمران میں یہود کے اس الزام کا جواب دیا گیا ہے اور یہود سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کا یہ دعویٰ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو حرام قراردیا تھا ان کے پاس اس کی کوئی سند ہو تو پیش کریں۔
قربانی کا ایک اصول
اونٹ کی قربانی کے حوالے سے قرآن کریم نے ایک اصول کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اصول یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک اس جانور کی قربانی سب سے زیادہ پسندیدہ قرار دی گئی ہے اور اس چیز کا انفاق سب سے زیادہ قابل ترجیح ٹھہرایا گیا ہے جو قربانی دینے والے کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔ اس اصول کے تحت اونٹ کی قربانی سب سے زیادہ اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ ہے کیونکہ اونٹ ایک ایسا جانور ہے جس میں عربوں کے لیے بھلائی کے متعدد پہلو ہیں۔ اونٹ صحرا کا سفینہ ہے۔ اہل عرب کے تجارتی قافلے صحرا سے گزر کر دوسرے ملکوں میں پہنچتے ہیں اور بعض دفعہ صحرا میں پانی تک نصیب نہیں ہوتا۔ اونٹ واحد جانور ہے جو کئی کئی دنوں تک بھوک اور پیاس برداشت کرسکتا ہے۔ پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے وفا کا مادہ اس قدر رکھا ہے کہ اپنی جسامت اور قوت کے باوجود سفر کی صعوبتیں اٹھاتا ہے لیکن مالک سے بغاوت نہیں کرتا۔ وہ نہ صرف ہر طرح کی باربرداری کی تکلیف برداشت کرتا ہے بلکہ ایفا کا یہ پیکر اپنے مالک کی اطاعت سے کبھی سر نہیں ہلاتا۔ اپنے جسمانی ڈیل ڈول اور طاقت کے باوجود خاموشی سے اپنے ذبح کرنے والے کو دیکھتارہتا ہے۔ اس کا گھٹنا باندھ دیا جاتا ہے، اٹھنے اور بھاگنے کا نام نہیں لیتا، نہایت اطاعت کے ساتھ جان دے دیتا ہے۔ پھر اس کے گوشت، پوست اور بالوں سے عرب کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں یہ عام جانی پہچانی بات ہے۔ ایسا منفعت بخش جانور جو اہل عرب کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور ان کی تجارتی سرگرمیوں کا بیشتر انحصار اسی پر ہے۔ اللہ کی خوشنودی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے محبوب جانور کو اس کے نام پر قربان کیا جائے۔
اونٹ کو ذبح کرنے کا طریقہ
حکم دیا گیا ہے کہ تم ان اونٹوں پر اللہ کا نام لو یعنی اللہ کے نام سے ان کو ذبح کرو اور پھر اس کا طریقہ سکھایا گیا ہے کہ ان کو قبلہ رو صف بستہ کھڑا کر کے ان کو ذبح یانحر کرو۔ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اونٹ کا اگلا بایاں گھٹنا باندھ دیتے تھے اور پھر زور سے اس کے حلقوم میں نیزہ مارا جاتا تھا۔ جس سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑتا اور خون نچڑ جانے کے بعد اونٹ اپنے پہلو پر گر جاتا اور جب ٹھنڈا اور ساکت ہوجاتا تو تب اس کی کھال اتاری جاتی اور گوشت کاٹا جاتا۔ یہ صف بستہ کھڑا کرنا نماز میں قیام کے مشابہہ ہے اور ان کا پہلو پر گرنا یہ اللہ کے حضور ان کا سجدہ ہے۔ اس طرح سے ان کی قربانی اللہ کی بندگی اور اس کے سامنے عاجزی کی سب سے مکمل تصویر ہے۔
بعض اہل لغت کا خیال ہے جس میں ” صاحب قاموس “ نمایاں ہیں۔ صوّاف اس اونٹ کو کہتے ہیں، جس کا بایاں ہاتھ باندھ دیا جائے اور وہ اپنے دونوں پائوں اور دائیں ہاتھ کے سہارے کھڑا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ذبح کرنے کا یہی طریقہ ارشاد فرمایا ہے۔ اس طرح اس کے حلقوم میں نیزہ مارا جاتا ہے اور اس سے خون کا فوارہ بہہ نکلتا ہے۔ آنحضرت ﷺ جب کسی بھی جانور کو ذبح فرماتے تھے تو یہ کلمات پـڑھا کرتے تھے :
انی وجھت وجھی للذی فطرالسموات والارض علی ملۃ ابراہیم حنیفا وما انا من المشرکین۔ ان صلوتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین، لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین۔ اللھم منک ولک بسم اللہ اللہ اکبر اور بعض احادیث میں صرف اتنے الفاظ ہیں :
بسم اللہ اللہ اکبر اللہم منک ولک
یہود کا خیال یہ تھا کہ قربانی کا گوشت کھانا قربانی دینے والے کے لیے جائز نہیں۔ اس لیے بطور خاص یہاں فرمایا گیا کہ تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھائو اور دوسروں کو بھی کھلائو۔ ان میں ترجیح کے لائق یہ لوگ ہیں جن کے لیے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔
القانع .... اس فقیر کو کہتے ہیں جو گھر میں بیٹھا رہے اور کسی کے آگے دست سوال دراز نہ کرے۔ یعنی ایک ایسا ضرورت مند جو سفید پوش اور خوددار ہو۔ اور
المعتر اس فقیر کو کہتے ہیں جو ضرورت مند ہو لیکن ضرورت سے مجبور ہو کر سوال بھی کرے۔
اس سے پہلے ہم ذکر کرچکے ہیں کہ قربانی کے جانور کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کرنا سنت ہے۔
1 غریبوں کے لیے 2 اعزہ و احباب کے لیے 3 اپنے لیے
آیت کے آخر میں فرمایا کہ اونٹ ہو یا باقی جانور ان کو ہم نے اپنی حفاظت کے لیے سینگ بھی دے رکھے ہیں یا بعض دوسری مدافعت کی چیزیں بھی اور ان میں توانائی اور ہمت بھی ہے، جس سے وہ بھاگ کر اپنی جان بچاسکتے ہیں۔ لیکن یہ اللہ کا کرم اور اس کی شان ہے کہ وہ انسان کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور اللہ کے نام پر قربان ہوجاتے ہیں اور انسان کی منفعت کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیتے ہیں۔ اللہ کے ایسے احسانات کا کیا یہ تقاضا نہیں ہونا چاہیے کہ انسان اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے سامنے قربانیاں پیش کرے۔
Ayah 22:37لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَلَادِمَآ ؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْط کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَاھَدٰکُمْ ط وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الحج : 37)
(ہرگز نہیں پہنچتے اللہ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون، البتہ ! اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہم نے ان کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تم بڑائی بیان کرو اللہ تعالیٰ کی، اس کی ہدایت بخشی پر۔ اور خوب کاروں کو خوشخبری سنادیجیے۔ )
ایک غلط فہمی کا ازالہ
اس آیت کریمہ میں کفار کے ایک غلط عمل کی تردید کی گئی ہے جو سراسر ایک غلط فہمی پر مبنی تھا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ ہم جب قربانیاں دیتے ہیں تو ان قربانیوں کا خون اور ان کا گوشت اللہ کے حضور پیش کرنا ضروری ہے اور اسی کے نتیجے میں ہماری قربانی قبول ہوتی اور اس کا اجر وثواب ملتا ہے۔ چناچہ جب وہ کسی جانور کو قربان کرتے تو اس کا گوشت کعبہ کے سامنے ڈھیر کردیتے یا اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے اور اس کا خون دیواروں پر اچھالتے، ملتے اور لتھیڑتے۔ چناچہ ان کے اس طرز عمل کو غلط ٹھہراتے ہوئے فرمایا کہ قربانیوں کا گوشت اور خون اللہ تعالیٰ کو نہیں پہنچتا کیونکہ اسے ان کی ضرورت نہیں۔ قربانی کا گوشت تمہاری ضرورت ہے اس لیے تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ اللہ کو جو چیز پہنچتی ہے وہ تمہارے دلوں کا تقویٰ ہے، وہ تمہارے دلوں کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔ اگر تمہارے دلوں میں اخلاص ہے اور صحیح معنی میں جذبہ قربانی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے اور اس کا اجر وثواب عنایت کرتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان اللہ لا ینظر الی صورکم ولا الی الوانکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم۔” اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں اور تمہارے رنگ نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دل اور اعمال دیکھتا ہے “۔ اور اسی پر جزا اور سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔
گزشتہ آیت کریمہ میں قربانی کا مقصد اور اس کی غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان چھوٹے بڑے جانوروں کو جو اپنی جسمانی قوت اور صلاحیتوں کے اعتبار سے تم سے کہیں طاقتور ہیں۔ وہ اگر سرکشی پر آجائیں تو تمہارے لیے ان پر قابوپانا آسان نہیں لیکن یہ کس قدر اللہ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے یہ جانور تمہارے قبضے میں دے دیئے اور تمہارے لیے مسخر کردیئے ہیں۔ اونٹ جیسے بڑے ڈیل ڈول کا جانور بھی اس طرح مسخر کردیا گیا ہے کہ ایک بچہ بھی اس کی مہار پکڑ کر چلتا ہے تو وہ خاموشی سے پیچھے چلتاچلا جاتا ہے۔ قربانی اس لیے لازم کی گئی ہے تاکہ تم اللہ کی اس نعمت پر شکرکا اظہار کرو۔
پیشِ نظر آیت کریمہ میں ایک دوسری علت اور غرض بیان فرمائی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس ذات نے ان جانوروں کو تمہارے تابع فرمان بنایا اور تمہارے لیے مسخر کیا ہے وہ درحقیقت ان جانوروں کا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی۔ اور وہ اس قدر طاقتو رہے کہ کوئی بڑے سے بڑا طاقتور بھی چاہے اس کا تعلق کسی بھی مخلوق سے ہو اس کے سامنے دم نہیں مارسکتا۔ اس نے اونٹ، گائے، بھینسا، مینڈھا اور اسی طرح دوسرے جانوروں کو بڑی طاقتیں عنایت کی ہیں، لیکن یہ سب اس کی قدرت کے سامنے بےبس ہیں۔ اس نے ان کی زمام اور مہار انسانوں کے ہاتھ میں دی ہے کہ وہ جب چاہیں ان پر سامان لادیں، جب چاہیں انھیں طویل سفر پر روانہ کردیں اور جب اور جتنی چاہیں انھیں غذا مہیا کریں۔ وہ کبھی ان کے سامنے سر نہیں اٹھاتے اور جب چاہیں ان کے گلے پر چھری رکھ دیں وہ کبھی اس سے انکار نہیں کرتے۔ اس سے ہمیں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ان جانوروں کو تابع فرمان دیکھ کر اپنی ملکیت نہ سمجھ لینا، ان کا مالک اللہ ہے۔ بڑائی صرف اسی کو زیب دیتی ہے، تمہیں اسی کی بڑائی کے سامنے سرجھکانا ہے اور اسی کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی بندگی بجا لانی ہے اور پوری زندگی کو اس کے احکام کے تابع کرنا ہے۔ یہی ہماری بندگی کا تقاضا ہے اور یہی اس آیت کا سبق ہے۔ آخر میں فرمایا کہ ” اے پیغمبر ! محسنین کو بشارت سنادیجیے “۔ محسنین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہر کام کو جذبہ احسان سے کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس طرح اس کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں جس طرح اطاعت کرنے کا حق ہے اور اپنے جذبہ اخلاص کی اس طرح نگرانی کرتے ہیں کہ اس میں کسی آلودگی کا سایہ بھی پڑنے نہیں دیتے اور وہ اللہ کے راستے میں قربانی دیتے ہیں تو یہ کہتے ہوئے دیتے ہیں : اَللَّھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ ” اے اللہ ! یہ قربانی صرف تیرے لیے ہے اس میں کوئی اور شریک نہیں اور ہمیں اعتراف ہے کہ یہ تیری ہی عطا کردہ ہے ہم تیری ہی عطا کو اپنی بندگی اور اخلاص کے جذبے میں لپیٹ کر تیرے حضور پیش کرتے ہیں “۔
Ayah 22:38اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ ۔ (الحج : 38)
(بےشک اللہ مدافعت کرے گا ان لوگوں کی جو ایمان لائے۔ اللہ ہرگز بدعہدوں اور ناشکروں کو پسند نہیں کرتا۔ )
یُدٰ فِعُ کا مفہوم
اما مِ راغب اصفہانی ” یدافع “ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر ” دفع “ کا صلہ ” الی “ ہو تو اس کا معنی ” کسی کو کوئی چیز دینا ہوتا “ ہے اور اگر اس کا صلہ ” عن “ ہو تو اس میں ” حمایت اور نصرت “ کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ منجد میں بھی اسی کے قریب مفہوم واضح کیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں صلہ چونکہ ” عن “ آیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا ” کفار کے مقابلے میں جب اہل ایمان سینہ سپر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت ان کے شامل حال ہوگی اور وہ ان کا دفاع فرمائے گا “۔
مظلوم مسلمانوں کو بشارت
جمہور مفسرین کا خیال یہ ہے کہ ” آیت نمبر 38 سے 41“ تک چار آیتیں ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں۔ البتہ ! دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آیت نمبر 25 سے مدنی آیات کا آغاز ہوجاتا ہے۔ 38 سے 41 تک چار آیات کے مدنی ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔ اور جہاں تک دوسری رائے کا تعلق ہے اس کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آیت نمبر 25 میں قریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ اور مسجد حرام سے مسلمانوں کو روک رہے ہیں جبکہ مسجد حرام پر کسی کی اجارہ داری نہیں وہ بڑے ہی ظالم لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو دردناک عذاب چکھائے گا۔ اس آیت میں صاف طور پر مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکے جانے کا ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ جب تک مسلمان مکہ معظمہ میں رہے ہیں مسجد حرام میں آنے اور بیت اللہ کا طواف کرنے کے حوالے سے ان پر کوئی پابندی نہیں تھی یہ الگ بات ہے کہ بعض دفعہ مسجد حرام میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے بدسلوکی بھی کی گئی لیکن یہ حقیقت ہے کہ مسجد حرام میں مکمل طور پر مسلمانوں کے داخلے پر پابندی ہجرت کے بعد لگی ہے۔ اور قریش نے علی الاعلان یہ بات کہی کہ مسلمان اب اللہ کے گھر کے قریب نہیں آسکتے۔ اس لیے اگر یہ بات کہی جائے کہ اس قرینے کے باعث آیت نمبر 25 سے مدنی آیات شروع ہوجاتی ہیں تو اس میں کوئی استبعاد نہیں۔ لیکن جو لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ صرف آیت نمبر 38 سے 41 تک کی آیات مدنی ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ مسلمانوں پر مسجد حرام پرداخلے پر پابندی نہیں تھی لیکن انھیں وہ آزادی بھی حاصل نہیں تھی جو باقی اہل مکہ کو تھی اور جہاں تک بیت اللہ میں داخل ہونے کا تعلق ہے تو عثمان بن طلحہ نے آنحضرت ﷺ کے لیے اس کا دروازہ کھولنے سے انکار کردیا تھا۔ تو اگر مسجد حرام سے بیت اللہ مرا دلیا جائے تو پھر تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے۔
آیت نمبر 25 سے جو بعد کی آیات ہیں ان میں بیت اللہ اور مسجد حرام کی تاریخ بیان کی گئی ہے اور مسلمانوں کے ذہنوں کو آہستہ آہستہ تیار کیا گیا ہے کہ بیت اللہ ملت ابراہیمی کی وراثت اور توحید کا مرکز بنایا گیا تھا۔ لیکن قریش نے اسے بتکدے میں تبدیل کردیا اور اس کی تمام روایات کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بیت اللہ کی حیثیت کو ازسر نو بحال کیا جائے اور شرک کی جو آلودگی اور غلاظت وہاں بکھیر دی گئی ہے بیت اللہ اور مسجد حرام کو اس سے پاک کیا جائے۔ چناچہ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو ایک مرکز میسر آیا اور مختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے اصحابِ ایمان ایک جگہ جمع ہوئے اور بطور ایک امت کے ان کی شیرازہ بندی ہوئی تو بظاہرمختصر سہی لیکن ایک مضبوط اجتماعیت کی شکل پیدا ہوگئی اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہ ہجرت کے بعد پہلی دفعہ حج کا موسم آیا تو مسلمانوں پر یہ بات بہت شاق گزری کہ وہ حج کی نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں اور ان پر زیارتِ حرم کا راستہ زبردستی بند کردیا گیا ہے۔ اس احساس نے ان کے وہ زخم بھی تازہ کردیئے جو مکی زندگی کے تیرہ سالوں میں انھوں نے مسلسل برداشت کیے تھے اور اب ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی قریش ان کو چین سے بیٹھنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ وطن چھوٹ چکا تھا، خونی رشتے ٹوٹ چکے تھے، نئی صورتحال سے واسطہ تھا، لیکن قریش کی خون آشامی اور اذیت رسانی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی۔
مسلمان انھیں احساسات کے تحت شدید تأثر کی کیفیت میں تھے کہ پیش نظر آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ جس نے مسلمانوں کے زخموں پر مرہم بھی رکھا اور ساتھ ہی ان کے جذبے کو جلا بھی بخشی کہ مسلمانوں کی اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے گھر کو ان ظالموں سے نجات دلائیں جنھوں نے ملت ابراہیمی کی امانت میں خیانت کی ہے اور اللہ کی بندگی کے اس مرکز کو کفر اور شرک سے بھر دیا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ تسلی بھی دی ہے کہ ہرچند کہ مسلمان اس وقت نہایت کمزور اور حالات کے نرغے میں ہیں، افرادی قوت نہایت کم اور مالی معاملات نہایت ابتر ہیں۔ اسلحہ کے حصول کے لیے ذرائع مفقود ہیں۔ تاہم اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی مدافعت فرمائے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے پائوں پر اٹھنا ہوگا۔ اللہ کے بھروسے پر کفر اور شرک سے پنجہ لڑانا ہوگا۔ اللہ کے باغیوں کے مضبوط جتھوں کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ ان کا حساب اب قریب آرہا ہے کیونکہ اللہ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کا گھر ان لوگوں کی تحویل میں رہے جو اس کے اہل نہیں اور وہ لوگ اس گھر میں داخل نہ ہو سکیں جن کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعائیں مانگی تھیں۔
Ayahs 22:39–40اُذِنَ لِلَّـذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا ط وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُنِ ۔ لا الَّذِ یْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِحَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ط وَلَوْ لَادَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُفِیْھَااسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًاط وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (الحج : 39، 40)
(اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے۔ اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔ جو لوگ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے صرف اس جرم میں کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتارہتا تو تمام خانقاہیں، گرجے، کنیسے اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے سب مسمار کردیئے جاتے۔ اور بیشک اللہ ان لوگوں کی مدد فرمائے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ بیشک اللہ قوی اور غالب ہے۔ )
مسلمانوں کو جہاد کی اجازت
نبیِ کریم ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر جب اپنی قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی اور انھیں یاد دلایا کہ تمہیں اللہ نے اس زمین پر ایک خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے اور تمہاری اس زمین پر ایک خاص حیثیت ہے اور اس حیثیت کے مطابق تم ذمہ داریاں ادا کرنے کے پابند ٹھہرائے گئے ہو۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب تمہاری مقصدی اور منصبی ذمہ داریوں کے حوالے سے تم سے جواب طلب کیا جائے گا۔ زندگی جیسی قیمتی نعمت سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے ایک ایک لمحے کا حساب ہوگا اور تمہیں جو ضابطہ حیات عطا کیا گیا ہے اس کے ایک ایک حکم پر عمل کے حوالے سے نامہ عمل دیکھا جائے گا۔ اہل مکہ نے جیسے ہی آنحضرت ﷺ کی اس طرح کی باتیں سنیں اور ان کی دعوت کا جائزہ لیا تو چند سعید لوگوں کے سوا باقی لوگوں نے بجائے اسے قبول کرنے کے اپنے لیے اسے دشمنی کا پیغام سمجھا۔ جب انھیں بتایا گیا کہ تم اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کی اولاد اور ملت ابراہیم کا وارث سمجھتے ہو جبکہ اس کی بنیاد توحید تھی اور اللہ کا یہ گھر اسی توحید کا مرکز بنایا گیا تھا اور یہیں سے ایک امت مسلمہ کے اٹھائے جانے اور آخری رسول کے مبعوث کیے جانے کی دعائیں کی گئی تھیں۔ لیکن تم نے اس پوری تاریخ کو بدل کر شرک کی بنا ڈالی ہے۔ توحید کے مرکز کو تیرتھ یاترا میں تبدیل کردیا ہے۔ جہاں صرف اللہ کی عبادت ہوتی تھی وہاں تم نے بت پرستی کو رواج دیا ہے۔ تم نے نہ صرف ابراہیم کے نام کو بٹہ لگایا بلکہ ملت ابراہیم کے پرخچے اڑا دیئے۔ تو وہ بجائے اس کے کہ اپنے جرائم کو سمجھتے اور اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے انھوں نے اسے اپنے اور اپنے آبائو اجداد پر ایک الزام سمجھا اور وہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی دشمنی پر تل گئے اور رفتہ رفتہ ان کی یہ دشمنی شرافت کی تمام حدود سے نکل گئی۔ قرابت داری کو بھول گئے، قبائل کے آداب کو بھی نظر انداز کردیا اور اس حدتک مسلمانوں پر مشق ستم کی کہ ظلم اور بربریت کا کوئی ایسا زخم نہیں جو مسلمانوں کو نہ لگایا گیا ہو۔ دہکتے انگاروں پر اسلام کے جانثاروں کو لٹایا گیا، تپتی ہوئی چٹانوں پر ننگے جسموں کو گھسیٹا گیا، آگ کی دھونی دی گئی، تلواروں اور تیغوں کے زخم لگائے گئے۔ ابو جہل جیسے بدقماش انسان نے ایک مومنہ کے اندامِ نہانی میں نیزہ مار کر اسے قتل کردیا۔ آنحضرت ﷺ کے قتل کے منصوبے باندھے جانے لگے۔ مسلمانوں نے روز روز کی اس اذیت رسانی سے نجات حاصل کرنے اور آزادی سے اللہ کا نام لینے کے لیے مکہ سے ہجرت کی تو مکہ کے ظالموں نے مدینہ منورہ میں بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ چراگاہوں پر شب خون مارے جانے لگے، جو جانور ہاتھ آتے انھیں لے اڑتے اور اکاد کا محافظوں کو قتل کرکے بھاگ جاتے۔
مسلمان مسلسل مکہ معظمہ میں تیرہ سالوں تک ان قیامتوں کا سامنا کرتے رہے۔ بڑی سے بڑی مصیبت پر صبر کی تصویر بنے اللہ کی رضا کو دیکھتے رہے۔ اب جبکہ ہجرت کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو ایک مرکز عطا فرمایا اور مسلمانوں کی ایک تنظیمی ہیئت وجود میں آئی تو مسلمانوں میں بیت اللہ سے محرومی کا ایک شدید احساس پیدا ہونے لگا اور قریش کے مظالم کے خلاف ردعمل نے ایک اضطراب کی شکل اختیار کرلی اور دلوں میں یہ بات مچلنے لگی کہ کاش ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں قتال کی اجازت ہوتی تو ہم اللہ تعالیٰ کے گھر کو واگزار کراتے اور ظالموں سے ظلم کا انتقام لیتے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان احساسات کی قدر فرمائی اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی، امیر کی اطاعت اور مرکز اسلام جیسی بنیادی ضرورتوں کے پورا ہوجانے کے بعد قتال کی اجازت دے دی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیش نظر آیت کریمہ میں صرف اجازت دی گئی ہے تاکہ مسلمان اس کے لیے تیاری کی فکر کریں اور اس بات کا اطمینان رکھیں کہ اجازت مل جانے کے بعد عملی طور پر قتال کا حکم اب بہت دور نہیں۔ بعض اہل علم کی تحقیق کے مطابق یہ آیت کریمہ ذی الحج ایک ہجری میں نازل ہوئی اور قتال کا حکم جنگ بدر سے کچھ پہلے رجب یا شعبان دوہجری میں نازل ہوگیا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح پہلے صرف اجازت دی گئی تاکہ طبیعتوں کا اضطراب ختم ہو اور ولولوں کی دنیا آباد ہونے لگے اسی طرح جب قتال کا حکم آیا تو پہلے صرف دفاعی جنگ کی اجازت دی گئی اور ارشاد فرمایا : وَقَا تِلُوا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُو نَکُم ” تم اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑوجو تم سے لڑتے ہیں “۔ پھر حکم آیا : کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کَرْہٌ لَّکُمْ ” تم پر قتال فرض کردیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہارے لیے ناپسندیدہ ہے “ اور فتح مکہ کے بعد حکم نازل ہوا وَاقْتُلُوھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوھُم ” اور انھیں قتل کرو جہاں بھی انھیں پائو “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملی نقطہ نگاہ سے جیسے جیسے ضرورت پیدا ہوتی گئی ویسے ویسے جنگ کے حکم میں بھی وسعت آتی گئی ہے اور اب جبکہ تکمیلِ دین ہوچکی اور جہاد و قتال کے تمام احکام سامنے آگئے تو اب یہ بحثیں بےکار ہیں کہ جنگ دفاعی ہونی چاہیے یا اقدامی ؟ اسلام نے کیا ایک کی اجازت دی ہے یا دونوں کی ؟ جو شخص بھی کھلے دل و دماغ سے قرآن کریم کو پڑھے گا اسے صاف نظر آئے گا کہ حالات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کفر کی طاقت توڑنے اور کبھی ظالم کا ہاتھ روکنے کے لیے ہر طرح کی جنگ کی اجازت دی ہے۔
اجازت کا سبب
یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ کی اجازت کیوں دی ہے۔ مسلمان اپنی جان اور ایمان بچا کر اور سب کچھ اس کے راستے میں قربان کرکے اپنے وطن اور اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ لیکن ان ظالموں نے مدینہ میں بھی ان کو آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔ باربار حملے کرتے، چراگاہیں لوٹتے، اکاد کا لوگوں کو قتل کرتے، اور ساتھ ہی ساتھ مدینہ کے سربرآوردہ لوگوں کو اکساتے کہ یہ مسلمان ہمارے بھگوڑے ہیں انھیں مدینہ سے نکال دو ورنہ ہم تمہارے خلاف بھی طاقت استعمال کریں گے۔ عبداللہ بن ابی کو نہایت تہدیدآمیز خط لکھا گیا۔ کعب بن اشرف کے ساتھ سازش کا تانا بانابنا گیا۔ چناچہ انہی باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اجازت دے دی گئی ہے جن سے کفار مکہ لڑائی کرنا چاہتے ہیں اور آرام سے بیٹھنے نہیں دیتے اور جنھیں برسوں تک ـظلم کا نشانہ بنایا گیا۔
مسلمان اگرچہ نبی کریم ﷺ کی قیادت میں نہایت تیزی سے ایک امت کی شکل اختیار کرتے جارہے تھے۔ انھیں نہایت بےدار مغز اور صالح قیادت میسر تھی۔ مدینہ کی بستی ان کے لیے ایک مرکز کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ مسلمانوں کا ایک ایک فرد اپنے اندر حیات افروز اولوالعزمیوں سے مامور دنیا آباد کرچکا تھا۔ ان میں سے ہر شخص اپنے تئیں ایک انجمن تھا۔ وہ نفع و ضرر کے پرانے پیمانوں سے رشتہ توڑ چکے تھے۔ آنحضرت ﷺ کا کامل اتباع اور اللہ پر بھروسہ اور اعتماد ان کی زندگی کا عنوان بن چکا تھا۔ ان تمام باتوں کے باوجود وہ بہرحال جنگ کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنے کی بظاہر ہمت نہیں رکھتے تھے۔ مدینہ ایک قصبہ سے زیادہ وسعت نہیں رکھتا تھا۔ اس کے وسائل نہایت محدود تھے۔ مسلمانوں کی افرادی قوت کسی بڑے طوفان کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ ان کے معاشی ذرائع اس قابل نہ تھے کہ وہ کسی جنگ کا بوجھ اٹھا سکتے۔ قریش مکہ شائد ان کی ظاہری حالت کو دیکھ کر دلیر ہوئے جارہے تھے۔ پروردگار نے اس پوری صورتحال کو ایک جملے کے ساتھ الٹ ڈالا کہ قریش اور دشمنوں کی نگاہ میں صرف مسلمانوں کی ظاہری حالت ہے اور وہ انھیں کے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی دشمنی اور ایذا رسانی کو وسعت دیتے جارہے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ مسلمان تو خدائی فوجدار ہیں۔ وہ بتوں سے تعلق توڑ چکے، قبیلوں سے منہ موڑ چکے، اور بڑی سے بڑی قوت کو پائوں کی ٹھوکر سے اچھال چکے، اور ایک نئی زندگی کے پیامبر بن کر اٹھے ہیں۔ اس لیے ان کی پشت پر دنیا کی بیشک کوئی قوت نہیں لیکن وہ جس کے نام اور جس کے پیغام کے لیے سب کچھ قربان کرچکے ہیں وہ ان کی پشت پر ہے اور اس نے یہ ذمہ داری لے لی ہے کہ ہم مسلمانوں کی مدافعت کریں گے۔ اس میں مسلمانوں کو حد درجہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ تمہیں دشمن کی قوت سے اثر قبول کرنے کی ضرورت نہیں اللہ کی قوت تمہارے ساتھ ہے اور دشمن کو وارننگ دی گئی ہے کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہاری لڑائی مسلمانوں سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے خدا سے ہے اور ان کا خدا ان کی مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ تم ساری دنیا کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلو تو اللہ کی قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہو۔
آیت کے آغاز میں فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو جنگ کی اجازت دی جارہی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن پر اب تک ظلم کیا گیا ہے اور وہ اس ظلم کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی جان اور ایمان بچانے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکلے ہیں۔ اب دوسری آیت میں مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ بڑے سے بڑا ظلم برداشت کرلیتا ہے لیکن وہ حتی الامکان اپنا گھر چھوڑنا پسند نہیں کرتا۔ گھر انسان کی عزت کی علامت اور اس کی حفاظت کا حصار ہے۔ اس کے چھن جانے کے بعد آدمی کی کوئی پناہ گاہ نہیں رہتی۔ کوئی اس کا حوالہ نہیں رہتا۔ کسی کے گھر چھوڑدینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے زندہ رہنا ناممکن بنادیا گیا ہے۔ چناچہ صحابہ کرام کا اپنے گھروں اور وطن کو چھوڑنا ایسے ہی تمام مصائب کا نتیجہ تھا اور ایسے ہی بےپناہ مظالم تھے جس نے مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا تھا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان سے وطن چھڑا لیا گیا، گھر چھین لیا گیا، لیکن ان کا کوئی قصور نہیں بتایا گیا کیونکہ وہ اپنے معاملات اور سیرت و کردار میں ان لوگوں سے ہزار ہا درجہ بہتر تھے، ان کا قصور اگر کوئی تھا تو صرف یہ کہ انھوں نے شرک کی تمام آلودگیوں سے منہ پھیر کر اور شرک کے ہر آستانے سے سر اٹھا کر صرف اللہ کو اپنا رب قرار دیا تھا۔
خونے نہ کردہ ایم وک سے را نہ کشتہ ایم
جرمم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ ایم
قریش خوب جانتے تھے کہ ربنا اللہ کہنے کا مطلب کیا ہے۔ اللہ کی ربوبیت کا یقین اللہ کے سوا ہر پرستش اور ہر اطاعت سے انسان کو آزا دکر دیتا ہے۔ اللہ کی ربوبیت کے فیضان میں چونکہ کوئی تخصیص نہیں اس کے سورج کی روشنی جس طرح محلات میں پہنچتی ہے اسی طرح غریب کے جھونپڑے کو بھی منور کرتی ہے، تو اس کی ربوبیت کا یقین رکھنے والا انسانوں میں ہر طرح کی تقسیم اور ہر طرح کے تفاوت سے بغاوت کردیتا ہے۔ اس لیے قریش خوب سمجھتے تھے کہ یہ بظاہر درویش صفت لوگ اپنے اندر کیسے طوفانوں کی طاقت رکھتے ہیں اور کس قدر بےپناہ تبدیلیوں کا پیغام بن کر اٹھے ہیں۔
جہاد کی حکمت
وَلَوْ لَادَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَآیتِ کریمہ کے اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی نہایت زریں حکمت بیان کی ہے اور اسی میں مسلمانوں کو قتال کی جو اجازت دی گئی ہے اس کی وجہ بھی ذکر کی گئی ہے۔ انسانی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حق و باطل اور خیر وشر کی آویزش ہمیشہ انسانوں میں جاری رہی ہے۔ پہلے انسان حضرت آدم کو اللہ نے خیر کا نمائندہ بنا کر بھیجا تھا اور ان کے ساتھ ہی ابلیس خیر کی قوتوں کو ناکام کرنے اور شر کی تخم ریزی کے لیے زمین پر اترا تھا۔ ہر دور میں نبی آتے رہے اور خیر کی قوت کی نمائندگی اور اس کے احیاء کے لیے کوششیں کرتے رہے اور ابلیس نے ہمیشہ اپنے منفی کردار کے ذریعے نبوت کی کوششوں کو ناکام کرنے کے لیے ہر طرح کے حربوں سے کام لیا۔ برائی کے بڑے بڑے گروہ وجود میں آئے اور بعض دفعہ تخت وتاج کی قوتیں اس کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ جنھوں نے اپنی حکومت اور وسائل سے کام لے کر برائی کی قوتوں کو سرافراز کیا اور نیکی کے لیے جینا مشکل کردیا۔ خیر وشر کے اس امتیاز کو دیکھتے ہوئے بعض کمزور طبیعتوں نے رہبانیت اور ترک دنیا کا راستہ اختیار کیا اور اس طرح سے خیر کی قوتوں کو مزید کمزور کردیا۔ چناچہ اللہ کی زمین کو فساد سے بچانے اور انسانیت کو تباہی سے محفوظ کرنے کے لیے اللہ نے مختلف ادوار میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے جہاد و قتال کا حکم دیاتا کہ ایسی شیطانی قوتوں کو جو بڑے بڑے دھڑوں کی صورت میں منظم ہوچکی ہیں اور بعض جگہ تخت پر متمکن ہو کر اپنے وسائل کو برائی کے پھیلانے اور نیکی کو ختم کرنے میں بروئے کار لارہی ہیں، سرنگوں کرنے کی کوشش کی جائے۔ چناچہ تاریخ کے مختلف ادوار میں ہم حق و باطل کی اس کشمکش کو حرب وضرب کی قوت میں ڈھلتا ہوا دیکھتے ہیں۔ اس میں اگر ایک طرف ہمیں فرعون اور نمرود اور ہامان اور شداد برائی کے نمائندوں کے طور پر نظر آتے ہیں تو دوسری طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبرد آزما دکھائی دیتے ہیں۔ حضرت طالوت حضرت دائود اور حضرت سلیمان کو خیر کے نمائندوں کی صورت میں خیر اور نیکی کو سربلند کرتے اور بدی کی قوتوں کو سرنگوں کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یہی حق و باطل کی آویزش ہے جو مختلف ناموں سے ہمیشہ جاری رہی اور اسی نے مدینہ منورہ میں جہاد و قتال کی نئی تاریخ رقم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت میں یہ کوئی نئی بات نہیں بقول اقبال ؎
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ شکن نئے
وہی قوت اسداللّٰہی وہی مرحبی وہی عنتری
یہی جہاد و قتال کی وہ قوت ہے جس نے ہمیشہ خیر اور نیکی کے مراکز اور عبادت گاہوں کا تحفظ کیا ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ اس طرح نیک لوگوں کے ذریعے برائی کی قوتوں کی سرکوبی نہ کرتا تو دنیا میں کوئی خانقاہ، کوئی عبادت گاہ اور کوئی مسجد باقی نہ رہتی۔
عبادت گاہوں کے لیے جو الفاظ قرآن کریم نے استعمال کیے ہیں ان کی وضاحت بہت ضروری ہے۔
الفاظ کی وضاحت
صَوَامِعٌ: صَوْمِعَۃٌ کی جمع ہے۔ صَوْمِعَۃٌ اس جگہ کو کہتے ہیں جو بلند پہاڑوں میں گھری ہوئی آبادی سے دور کسی خاموش گوشے میں واقع ہو، جہاں راہب اور سنیاسی اور تارک الدنیا فقیر رہتے ہیں اور عبادت کے لیے خلوت اور گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس کا ترجمہ ” خانقاہ “ کردیا جاتا ہے اور یہ موزوں بھی معلوم ہوتا ہے۔
بِیَعٌ: بِیَعَۃٌکی جمع ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ دونوں کی عبادت گاہوں کے لیے آتا ہے۔ لیکن آگے یہودیوں کی عبادت گاہ کے لیے الگ لفظ آرہا ہے۔ اس لیے قرینہ دلالت کررہا ہے کہ یہاں اس سے مراد صرف نصاریٰ کی عبادت گاہ ہے۔ جسے ” گرجا “ کہا جاتا ہے۔ نصاریٰ میں چونکہ رہبانیت کے نظام کی وجہ سے خانقاہوں اور گرجوں دونوں کو یکساں اہمیت حاصل رہی ہے شاید اس لیے سب سے پہلے ان دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
صَلَوَات : صَلَا ۃ کی جمع ہے۔ یہ لفظ یہود کے کنیسوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہودیوں کے یہاں اس کا نام ” صلوتا “ تھا۔ جو آرامی زبان کا لفظ ہے۔ بعید نہیں کہ انگریزی لفظ ” Salute “ اور ” Salutation “ اسی سے نکل کر لاطینی میں اور پھر انگریزی میں پہنچا ہو۔
یہ حقیقت ہے کہ حق و باطل کی یہ کشمکش جو عبادت گاہوں اور گلی کوچوں سے نکل کر بارہا رزم وبزم کے میدان گرم کرتی رہی ہے اور تاریخ اس کی مکمل شہادت دیتی ہے۔ البتہ ! جس دور میں کسی بھی واجب الاحترام پیغمبر کی دعوت کے نتیجے میں کوئی قابل ذکر امت وجود میں نہ آسکی تو وہاں تو بات دعوت سے آگے نہ بڑھ سکی۔ لیکن جب بھی دعوت نے ایک نئی امت پیدا کی ہے تو پھر کفر کے ساتھ پنجہ آزمائی ضرور ہوئی۔ اس لیے اقبال نے کہا ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی
لیکن عیسائیت نے چونکہ پٹڑی سے اترنے کے بعد رہبانیت کو اپنی منزل بنالیا تو بجائے اس کے کہ عیسائی قوم کے دانشور اپنی اس کمزوری کو سمجھتے اور قوموں کے مزاج کی صحیح تشخیص کرتے ان کے نام نہاد مستشرقین نے یہ کہنا شروع کردیا کہ حضرت محمد ﷺ کی زندگی مکہ میں تو ایک پیغمبر کی زندگی تھی لیکن مدینہ میں آکر ایک حکمران کی زندگی بن گئی۔ وہ درویشی اور مسکینی کو پیغمبر کی زندگی سمجھتے ہیں۔ لیکن جب خیر، طاقت کی صورت اختیار کرتی ہے تو وہاں انھیں حکمرانی نظر آتی ہے۔ اقبال نے اس کی توجیہ کرتے ہوئے ٹھیک کہا ؎
کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
سماتی کہاں اس فقیری میں میری
سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی پیری
ہوئی دین ودنیا میں جس دم جدائی
ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا
فقیری ہے آئینہ دار نذیری
آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ مسلمانوں کی مدد کرے گا کیونکہ اس کا قانون یہ ہے کہ جو اللہ کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ یعنی جو اس کے دین کی سربلندی کے لیے ہر طرح کی قربانی دیتا ہے۔ ضرورت پڑے تو میدانِ جنگ میں خون دیتا اور سرکٹواتا ہے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ اب چونکہ مسلمان اللہ کے دین کی سربلندی اور اللہ کے گھر کی عظمت کو بحال کرنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ان کی مدد نہ کرے اور لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان بیشک کمزور صحیح لیکن اللہ قوت والا ہے، غالب ہے۔ اس کی تائید ونصرت کے بعد مسلمان بھی اس دھرتی کی غالب قوت بن جائیں گے۔
Ayah 22:41اَلَّـذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰ تَوُاالزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ۔ (الحج : 41)
(یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے ہے سارے کاموں کا انجام۔ )
مسلمانوں کے لیے اقتدار کی پیش گوئی
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جن کی مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اور جنھیں جہاد و قتال کی اجازت دی گئی ہے اور جو لوگ سالہاسال تک محض اللہ کے دین کی خاطر بےپناہ مصائب برداشت کرتے رہے اور اب انھوں نے محض اللہ کے دین کے لیے اپنا وطن اور گھربار چھوڑ کر ہجرت کی ہے۔ وہ لوگ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں زمین پر یعنی سرزمینِ مکہ اور سرزمینِ عرب پر اقتدار عطا فرمائے۔ یہ ایک طرح کی پیش گوئی ہے کہ اب میدانِ حرب وضرب گرم ہونے والا ہے اور وہ لوگ جو آج تک مکہ میں درویشی اور مسکینی کی زندگی گزارتے رہے اور جنھوں نے مسلسل دکھ اٹھائے ہیں اب وہ میدانوں میں شہ سواروں کی صورت نکلنے والے ہیں اور چند ہی سالوں میں جزیرہ عرب کی حکومت اللہ تعالیٰ ان کے حوالے کرنے والا ہے۔ جیسے ہی اللہ تعالیٰ انھیں اقتدار عطا فرمائے گا تو وہ قریش کی طرح غاصب اور اجارہ دار بن کر حرم کے مقاصد کو پامال نہیں کریں گے بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جن مقاصد کے لیے اللہ کا گھر بنایا اور اپنی ذریت کو وہاں ٹھہرایا تھا وہ ان تمام مقاصد کو وہاں زندہ کریں گے جن میں سب سے پہلا مقصد اللہ کے گھر میں اللہ ہی کی نماز کو قائم کرنا ہے۔ نماز اللہ کی بندگی کی وہ مجموعی شکل و صورت ہے جس سے ایک فقیر سے لے کر حکمران تک زندگی کا رویہ وجود میں آتا ہے اور جس سے وہ پالیسی جنم لیتی ہے جو اس نئی بننے والی حکومت کی صورت میں وجود میں آنے والی ہے۔ اسی طرح وہ نظام زکوٰۃ کو قائم کریں گے جو ان کی تمام معاشی پالیسیوں کا غماز ہوگا۔ وہ مسند حکومت پر بیٹھ کر اللہ کی یاد سے بھی غافل نہیں ہوں گے اور ان کی حکومت کے خزانے ذاتی آرام و آسائش اور عیش و عشرت میں صرف ہونے کی بجائے غریبوں اور مسکینوں کی ضروریات کو پورا کرنے پر خرچ ہوں گے۔ ان کا اختیار واقتدار نیکی اور خیر کو پھیلانے کے لیے اس طرح صرف ہوگا کہ جہاں جہاں ان کے قدم پہنچیں گے وہیں وہیں نیکی اور تقویٰ کے چمنستان لہلہانے لگیں گے۔ ان کی قوت اللہ کے دین کی قوت ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ برائی اور ابلیسیت کی تمام شکلیں معدوم ہوجائیں گی۔ منکرات خود اپنی موت مرجائیں گے۔ شریعت کی خلاف ورزی ناممکن ہوجائے گی گناہ کا بیج مار دیا جائے گا۔
آخری جملے میں مسلمانوں کو اطمینان دلایا جارہا ہے کہ تم اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے یقینا اضطراب محسوس کررہے ہو لیکن تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہر چیز کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جو کرنا چاہتا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ تمہاری کوششیں بھی سپھل ہو کر رہیں گی اور اللہ کی تائید ونصرت سے غلبہ دین کا یہ کام تمہارے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے گا۔