Ayah 21:11وَکَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَھَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ۔ (الانبیاء : 11)
(اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیاجن کے لوگ اپنے جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے اور ان کے بعد دوسرے لوگ اٹھا کھڑے کیے۔ )
تاریخ کا حوالہ
روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے، ان سے کہا جارہا ہے کہ جس طرح تم ایک قوم کی حیثیت سے یہاں آباد ہو اور تمہاری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول بھیجا ہے اسی طرح تم سے پہلے تم سے زیادہ وسیع سطح پر تم سے بڑی قومیں زمین کے مختلف حصوں میں آباد رہی ہیں ان کی طرف بھی مختلف وقتوں میں رسول بھیجے گئے لیکن جب انھوں نے رسول کی ہدایت کو قبول کرنے کی بجائے ظلم کا راستہ اپنایا یعنی بجائے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اس کی اطاعت کرنے کے شیطان کی بندگی جاری رکھی اور اپنے نفس کے تقاضوں کی پیروی کرتے رہے اور اس طرح انھوں نے اپنے اوپر ظلم ڈھایا کہ جس مقصد کے لیے انھیں پیدا کیا گیا تھا اسے اختیار کرنے کی بجائے اور ہی چیزوں کو اپنا مقصد بنا لیا اور اپنے غلط رویئے سے اپنے اوپر ظلم ڈھانے کے ساتھ ساتھ دوسروں پر بھی زیادتیاں کیں اور اللہ تعالیٰ کی زمین کو ظلم سے بھر دیا تو تب ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور ان کی تمام قوت و شوکت دھری رہ گئی۔ ان کی بیشمار فوجیں ان کا تحفظ نہ کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا عذاب آیا کہ ان کے پرخچے اڑا دیئے گئے۔ اب اگر تم بھی اسی راستے پر بڑھتے چلے جانے پر اصرار کررہے ہو اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کی دعوت قبول کرنے کی بجائے ہر ممکن طریقے سے اسے روکنے کے درپے ہو اور تم نے بھی وہی ظالمانہ روش اپنا لی ہے تو پھر یاد رکھو تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا۔ جس طرح آج وہ تاریخ میں عبرت کا سامان بن کے رہ گئے ہیں اسی طرح تم بھی کہانیوں کا عنوان بن کے رہ جاؤ گے۔
غلط فہمی کا ازالہ
تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ اس علاقے کی رونق اور اس کی آبادی تمہارے دم سے ہے۔ تم نہ ہوتے تو حرم کی پاسبانی کون کرتا اور اللہ تعالیٰ کے گھر طواف و زیارت کے لیے آنے والوں کی دیکھ بھال کون کرتا۔ گویا اس سرزمین کی مانگ کے تم سیندور ہو۔ تمہارے نہ رہنے سے یہ بستی اجڑ جائے گی۔ یاد رکھو پہلی تباہ ہونے والی قومیں بھی اسی پندار کا شکار تھیں۔ انھیں بھی یہ زعم تھا کہ ہم نہ ہوئے تو یہ گلستاں بھی باقی نہیں رہے گا۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ جس اللہ تعالیٰ نے انھیں اس دھرتی پر آباد کیا ہے اس کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ وہ انھیں مٹا دے اور کسی دوسری قوم کو یہاں آباد کردے۔ چناچہ دیکھ لو متذکرہ بالا قوموں کا انجام تمہارے سامنے ہے لیکن جس سرزمین پر وہ آباد تھے وہ زمین آج بھی اسی طرح سرسبز و شاداب ہے۔ زندگی کی رونقیں وہاں آج بھی رقصاں ہیں۔ البتہ وہ لوگ اپنی تباہی اور بربادی کو پہنچ چکے ہیں۔ اس میں تمہارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ تم اپنی آبادی کے لیے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس سرزمین کی آبادی کے لیے تمہارا محتاج نہیں۔
Ayah 21:12فَلَمَّـآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَـآ اِذَا ھُمْ مِّنْھَا یَرْکُضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 12)
(اور جب انھوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا تو لگے وہاں سے بھاگنے۔ )
عذاب سے کوئی پناہ نہیں
اللہ تعالیٰ کے رسول جب ان کے تمرد اور سرکشی کے باعث انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو وہ بھی تمہاری طرح ان کے انذار کو خاطر میں نہیں لاتے تھے بلکہ بڑھ چڑھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے بلکہ کبھی تو ایسا ہوتا کہ بار بار ہمارے رسول کو چڑاتے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ عذاب آخر کہاں رک گیا ہے، آ کیوں نہیں پاتا۔ لیکن جب اس عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور ان کے دروازوں پر دستک دی تو پھر انھیں یقین آیا کہ ہم جسے محض ایک ڈراوا سمجھتے تھے وہ تو واقعی حقیقت بن کر ہمارے سروں پر آپہنچا ہے۔ تب اس سے بچنے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے کہ شاید کوئی چیز ہماری پناہ گاہ بن جائے اور اس کی پناہ میں ہم اس عذاب سے اپنے آپ کو بچا لیں۔ لیکن انھیں کیا خبر کہ جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس سے بچا نہیں سکتی اور جب وہ دبوچ لیتا ہے تو کوئی اس کے چنگل سے نکل نہیں سکتا۔ تم بھی آج اسی خودفریبی میں مبتلا ہو جس میں وہ مبتلا تھے، تم بھی اسی کے انتظار میں ہو کہ عذاب تمہارے دروازوں پر آپہنچے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوگیا تو یاد رکھو تمہیں کوئی پناہ نہیں دے سکے گا۔
Ayah 21:13لاَ تَرْکُضُوْا وَارْجِعُوْٓا اِلٰی مَـآ اُتْرِفْـتُمْ فِیْہِ وَمَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْئَلُوْنَ ۔
(الانبیاء : 13)
(ہم نے کہا) اب مت بھاگو، اور واپس لوٹو اپنے عیش کے سامانوں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم سے بازپرس کی جائے۔ )
ممکن ہے کہ جب اس قوم پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برسا ہو اور وہ اپنے بچائو کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے ہوں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ندا سنائی گئی ہو کہ تم تو اس عذاب کو ایک مذاق سمجھ رہے تھے، اب اس سے بھاگتے کیوں ہو۔ اگر تم میں ہمت ہے تو اس کا سامنا کرو۔
ایک طنزیہ اسلوب
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ صورتحال کی تعبیر ہو، یعنی عذاب نے اپنی زبان حال سے یہ کہا ہو کہ جس عذاب کا تم منہ چڑایا کرتے تھے اور جس کے آنے کا تمہیں گمان تک نہ تھا، اب تم اس سے بھاگتے کیوں ہو۔ تم میں ہمت ہے تو اپنے ان عیش کدوں کی طرف لوٹو جن میں تم رات دن دادعیش دیا کرتے تھے۔ اپنے ان محلات میں جا کر اپنی مسندوں پر فروکش ہوجاؤ جہاں دنیا تمہاری ہیبت کا نظارہ کیا کرتی تھی۔ عیش کے جن سامانوں نے تمہیں ہر طرح کی سنجیدہ بات سے غافل کردیا تھا اور تم اس بات کو بھول گئے تھے کہ کوئی اس کائنات کا خالق ومالک بھی ہے۔ اب انھیں عیش گاہوں اور محلات میں بیٹھ کر دوبارہ اپنے خدم و حشم کو دعوت دو ، تاکہ وہ پھر تمہارے سامنے سرتعظیم و تکریم جھکائیں اور کو رنش بجا لائیں اور پھر اپنی کونسلوں کی میٹنگز بلائو تاکہ وہ تمہاری فہم و فراست سے استفادہ کریں۔ یہ طنزوتضحیک کا ایک انداز ہے کہ تمہارے بس میں ہے تو یہ سب کچھ کرو، لیکن اب تم کچھ نہیں کرسکو گے، اب تو تم اپنے نہایت برے انجام سے دوچار کیے جاؤ گے کیونکہ یہ عذاب تم پر آیا ہی اس لیے ہے کہ تم سے تمہاری بداعمالیوں کا جواب طلب کیا جائے اور تم نے اللہ تعالیٰ کی دعوت کو روکنے کے لیے جو مجرمانہ ہتھکنڈے اختیار کیے رکھے اس کی تم سے بازپرس کی جائے۔ عیش کدے تو تمہارے ساتھ ختم ہوگئے، اب تو تمہیں جوابدہی کے لیے اٹھایا جائے گا تاکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے۔
Ayahs 21:14–15قَالُوْا یٰـوَیْلَنَـآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ فَمَا زَالَتْ تِّلْکَ دَعْوٰ ھُمْ حَتّٰی جَعَلْنٰـھُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 14، 15)
(کہنے لگے، ہائے ہماری کم بختی، بیشک ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔ پس وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انھیں کٹے ہوئے کھیت اور بجھی ہوئی آگ کی مانند کردیا۔ )
بعدازوقت اعتراف کام نہیں آتا
جب عذاب کے تھپیڑوں نے انھیں پٹخنا شروع کیا، تو تب انھیں اپنے اعمال اور اپنے رویئے کی حقیقت یاد آئی۔ اب تک ان کی آنکھوں پر عیش و عشرت کی جو پٹی چڑھی ہوئی تھی جیسے ہی وہ اتری تو انھیں اندازہ ہوا کہ ہم تو واقعی پرلے درجے کے نافرمان تھے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول ہمیں زندگی کے حقائق کی طرف بلاتا تھا لیکن ہمارے سامنے خواہشات کے اتباع کے سوا اور کوئی کام نہ تھا۔ اب ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ ہم واقعی خود اپنے پائوں پر کلہاڑی مار رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر عذاب بھیج کر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ ظلم کی رات ہم نے خود اپنے اوپر تانی ہے۔ اس مصیبت کو ہماری بداعمالیوں نے دعوت دی ہے۔ لیکن اب ان کے پاس واویلا کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا۔ اب وہ اپنی قسمت کو روتے اور اپنی بداعمالیوں کا نوحہ کررہے تھے۔ لیکن قدرت نے اس کی بھی انھیں زیادہ مہلت نہیں دی۔ ان کے رونے دھونے اور چیخ و پکار کا ہنگامہ جاری تھا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں دھن ڈالا۔ صرف زندگی ہی نہیں چھینی گئی جسموں کے پرخچے بھی اڑا دیئے گئے۔ جہاں کبھی بہاریں رقص کرتی اور زندگی کی دلفریبیاں مسکراتی تھیں اب وہاں ان کی لاشیں کٹی ہوئی گھاس کی مانند پڑی تھیں جن میں زندگی کا کوئی شرارہ نہ تھا۔
حَصِیْدًا۔ حَصَدَ…درانتی سے فصل کاٹنے کو کہتے ہیں۔ خٰمِدِیْنَ … خمود سے ہے۔ اس کا معنی ہے، آگ کا بجھانا۔
ان دونوں لفظوں کو اکٹھا لا کر شاید اس طرح اشارہ ہے کہ جب فصل کاٹی جاتی یا گھاس کاٹی جاتی ہے تو پھر اس کے خشک انبار کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ نتیجتاً وہ راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ اب یہ متکبر اور مغرور لوگوں کی قوم راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئی تھی۔
Ayah 21:16وَمَا خَلَقْنَا السَّمَـآئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ ۔ (الانبیاء : 16)
(ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشا کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ )
ایک توجیہ، ایک تبصرہ
اللہ تعالیٰ متمرد قوموں پر جو عذاب بھیجتے ہیں یہ اس کی توجیہ بھی ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت پر توجہ نہیں دیتے اور جس کی تصویر اب قریش تھے ان کے نظریہ حیات پر تبصرہ بھی ہے۔
توجیہ کی صورت یہ ہے کہ اگر اس زمین پر بسنے والے انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کبھی گرفت نہ آئے اور ان کی زندگی بھر کے حساب کے لیے آخرت کا تصور نہ ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کسی حکیم و عادل کی تخلیق نہیں بلکہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے اور یا ایک ایسا تھیٹر ہے جس میں ہر ایکٹر کو اپنا کردار ادا کرنے کی آزادی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس کا کردار اچھا ہے یا برا، اس کے نتائج دنیا اور اہل دنیا پر کس طرح کے مرتب ہوتے ہیں، اسے بہرحال آزادی حاصل ہے کہ وہ اس دنیا میں جیسی چاہے زندگی گزارے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہاں ظالم اور مظلوم میں کوئی فرق نہیں، نیک و بد میں کوئی تمیز نہیں، اچھائی اور برائی یکساں ہیں، علم اور جہالت ہم وزن اور ہم قیمت ہیں۔ اگر اس تصور کو قبول کرلیا جائے تو پھر واقعی یہاں کسی کا کوئی محاسبہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر حقیقت یہ نہیں بلکہ اس کائنات کو تخلیق کرنے والے نے اسے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ اس کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہے۔ اس نے انسان کو حواس اور عقل دے کر جس طرح اپنی ضروریات پیدا کرنے کی صلاحیت دی ہے اسی طرح اپنے پیغمبر اور کتابیں نازل کرکے اسے ہدایت سے بھی نوازا ہے اور اسے یہ بتاتا دیا گیا ہے کہ یہ دنیا تیرے لیے دارالامتحان ہے۔ تجھے آنے والی دنیا کے لیے یہاں رہ کر تیاری کرنا ہے۔ وحی کے ذریعے زندگی کے حسن و قبح، جائز و ناجائز، اچھائی اور برائی اور حلال و حرام کا تعین کردیا گیا ہے اور یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ ایک راستہ وہ ہے جس پر چلنے والے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور دوسرا راستہ وہ ہے جس پر چلنے والے اس کے غضب کا شکار ہوں گے۔ ایک ضابطہ حیات دے کر سب پر لازم کردیا گیا ہے کہ اس کی پابندی کرو گے تو اس کے نتیجے میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات ملیں گے اور اگر اس ضابطے کی خلاف ورزی کرو گے تو دنیا میں بھی اس کا غضب بھڑک سکتا ہے اور آخرت میں تو وہ ہمیشہ کے لیے ایسے لوگوں کو جہنم کی نذر کردے گا۔ یہ سب کچھ واضح کردینے کے بعد اب جب لوگ اس کے طریقے پر چلنے کی بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرتے اور دوسروں کی زندگی کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں اور زمین کو ظلم سے بھر دیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں بھی کبھی محاسبے کے طور پر اس کا عذاب آتا ہے تاکہ اہل دنیا کو معلوم ہوجائے کہ یہ دنیا ایک دارالعمل اور دارالامتحان ہے، کوئی کھیل تماشا نہیں جس میں کوئی بازپرس نہ ہو۔
آنحضرت ﷺ کے مخالفین کے نظریہ حیات پر تبصرہ ان معنوں میں ہے کہ وہ یہی سمجھتے تھے کہ انسان کو دنیا میں پیدا کرکے آزاد چھوڑ دیا گیا ہو۔ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے اور جس طرح چاہے طرز عمل اختیار کرے اس سے کوئی بازپرس ہونے والی نہیں۔ یہ چند روز کی زندگی جیسے کیسے بھی گزر جائے اس کے بعد مکمل فنا ہے اور اس کے بعد کوئی زندگی نہیں جس میں اچھے اور برے کی تمیز سامنے آئے اور اچھائی پر جزا ہو اور برائی پر سزا ملے۔ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اگر یہ تصور قبول کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا یہ سارا نظام کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے جس کا کوئی سنجیدہ مقصد نہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
Ayah 21:17لَوْ اَرَدْنَـآ اَنْ نَّـتَّخِذَ لَھْوًا لاَّ تَّخَذْنٰـہُ مِنْ لَّدُنَّـآ صلے ق اِنْ کُنَّا فٰعِلِیْنَ ۔ (الانبیاء : 17)
(اگر ہم کوئی کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے، اگر ہم یہ کرنے والے ہی ہوتے۔ )
اللہ جیسی ذات سے کھیل اور کارعبث کا صدور ناممکن ہے
عربی زبان میں حرف لَوْ کا استعمال فرضی چیزوں کے لیے ہوتا ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو۔ اور کبھی ایسے موقع پر اس کا استعمال ہوتا ہے جو کہنے والے کی شان کے لائق نہ ہو۔ اس کائنات کے نظام کو کھیل سمجھنا ایک ایسی بات ہے کہ جس کا کوئی وجود نہیں کیونکہ کائنات کے نظام پر غور و فکر کرنے والا اس طرح کی بات کبھی نہیں کہہ سکتا۔ کائنات کی ایک ایک چیز چاہے اس کا تعلق زمین سے ہو یا آسمان سے وہ اس طرح ایک نظام میں جکڑی ہوئی ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے چشم بینا عطا فرمائی ہے اور جس نے علم کے چند جام پیئے ہیں وہ اس میدان میں جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا اور حیرت میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اسے اس کے انتظام و انصرام کا ایک ایک گوشہ سمجھنے میں دشواری تو ضرور پیش آتی ہے لیکن زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی مخلوقات میں ایک حیرت انگیز نظم و ترتیب، ایک بےحد وسیع نظام ربوبیت اور حیرت میں ڈال دینے والا نظام حکمت نگاہوں کے سامنے آئے بغیر نہیں رہتا۔ جس شخص کو ان حقائق کا معمولی سا احساس بھی ہے وہ اس کائنات کو لہو اور کھیل قرار نہیں دے سکتا۔ بالخصوص حضرت انسان جسے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کا گل سرسبد بنایا ہے اور خلافتِ ارضی کا تاج جس کے سر پر سجایا ہے اور جسے نہ صرف جو ہر عقل سے نوازا بلکہ نبوت و رسالت کی عظیم نعمت بھی اسی کے اندر رکھی ہے۔ اس کی زندگی کو لہو و لعب قرار دینا تو اور بھی زیادہ حیران کن ہے۔ اس لیے اس کا ذکر حرف لَوْ سے کیا گیا۔
اور دوسری یہ بات کہ جب انسان کی بصیرت مخلوقات میں حکمتوں پر مبنی وسیع تر نظام کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے تو وہ اس کائنات کے خالق کے بارے میں کیا تصور کرسکتی ہے۔ بجز اس کے کہ قدم قدم پر انسان نہ صرف ورطہ حیرت میں ڈوبتا ہے بلکہ اس کی کمال تخلیق اور کمال قدرت کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس لیے ایسی ذات کے بارے میں یہ سمجھنا کہ اس نے کائنات کو یا حضرت انسان کو محض کھیل تماشے کے لیے پیدا کیا ہے تو کیا کوئی عقل مند آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی اعلیٰ صفات سے میل کھاتی ہے۔
اسی سے متفرع کرتے ہوئے پروردگار نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ چلیے بالفرض اگر ہمیں کھیلنا ہی ہوتا اور اس کے لیے ہمیں کسی کھلونے کی ضرورت ہوتی تو ہم ایسا کھلونا اپنے پاس ہی سے بنا لیتے۔ یہ تو کبھی نہ کرتے کہ انسان جیسی ذی حس، ذی شعور اور ذمہ دار مخلوق کو پیدا کرتے، پھر ان کے درمیان حق و باطل کی ایک خلیج حائل کردیتے اور انھیں بتا دیتے کہ یہ دنیا حق و باطل کی رزم گاہ ہے یہاں جو لوگ میرے ہیں انھیں حق کے لیے جینا اور مرنا ہے اور جو شیطان کے بندے ہیں انھیں باطل کی ہمنوائی میں میدانِ رزم کو گرم کرنا ہے۔ اس طرح سے ہمیشہ کے لیے یہ دنیا ایک ایسی کشمکش میں مبتلا ہے جس میں مختلف وقتوں میں اللہ تعالیٰ کے نام لیوا اور اس کے دین پر چلنے والے اس کی خاطر خون بہاتے اور جانیں دیتے ہیں۔ اس راستے میں کتنے سہاگ لٹتے، کتنے گھر ویران ہوتے، کتنی گودیں اجڑتیں اور کتنے بچے یتیم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آسمانوں سے یہ کھیل دیکھ کر محظوظ ہورہا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پروردگار نے یہ دنیا انسان کے لیے دارالامتحان نہیں بنائی بلکہ یہ ایک رومی اکھاڑہ ہے جہاں غلاموں اور قیدیوں کو بھوکے درندوں سے لڑوایا جاتا اور بوٹیاں نچوا کر امراء خوشی سے ٹھٹھے لگاتے اور محظوظ ہوتے۔ کائنات کا اور انسان کا یہ تصور صرف اسی ذہن میں آسکتا ہے جو نہ اس کائنات کو سمجھتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی عظمت سے آگاہ ہے۔ اس کے نزدیک ظالم اور مظلوم، سرکش و باغی اور وفادار و تابعدار، ناشکرے اور نا بکار اور حق شناس و شکرگزار سب برابر ہیں۔ اس دنیا میں نہ کوئی روزِعدل ہے اور نہ کوئی ایسا دین جو عدل کی تعلیم دے سکے اور لوگوں کو اس کے لیے تربیت دے سکے۔ یہ ایسا بےہودہ تصور ہے جس سے بڑھ کر کسی بےہودگی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
آخری جملہ کہہ کر درحقیقت اسی تصور کی تردیدِ مزید ہے کیونکہ دنیا میں ایسی مشرک قومیں گزری ہیں اور اب بھی ہیں جو اس کائنات کو اپنے دیوتائوں کی ایک تماشا گاہ سمجھتی ہیں اور ہندو فلسفیوں نے اس کو بھگوان کی لیلا سے تعبیر کیا اور آج کی مادہ گزیدہ دنیا جس طرح مادہ پرستی میں حد سے تجاوز کرچکی ہے وہ اگرچہ زبان سے نہ کہے لیکن حقیقت میں اس کے نزدیک بھی دنیا کی حیثیت اس سے مختلف نہیں۔ وہ اس دنیا کو ایک بازیچہ اطفال سمجھتے ہیں اس لیے ان کے ذہنوں میں قیامت کا تصور قرار نہیں پکڑتا اور ویسے بھی اگر وہ اس تصور کو قبول کرلیں تو انھیں اپنی زندگی میں تبدیلی کا عمل پیدا کرنا ضروری ہوجاتا ہے یا کم از کم ان کے ضمیر میں جوابدہی کا ایک شعلہ سا ضرور جلنے بجھنے لگتا ہے جو انھیں مادہ طلبی میں اندھا نہیں ہونے دیتا۔
Ayah 21:18بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ھُوَزَاھِقٌ ط وَلَـکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ۔ (الانبیاء : 18)
(بلکہ ہم حق سے باطل پر چوٹ لگاتے ہیں، پس وہ اسے کچل دیتا ہے، پھر وہ دیکھتے دیکھتے نابود ہوجاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو۔ )
آیت کے دو مفہوم
اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا ایک سنجیدہ نظام سے چل رہی ہے۔ انسان کی سرشت میں نیکی کا پہلو غالب رکھا گیا ہے۔ بدی کی طرف اس کا میلان اس وقت بڑھتا ہے جب نیکی کے لیے کام کرنے والے نیکی کے فروغ میں کوتاہی کرتے ہیں۔ اس کائنات کی سرشت کے مطابق کوئی باطل چیز یہاں جم نہیں سکتی۔ باطل یہاں جب بھی سر اٹھاتا ہے حقیقت سے اس کا تصادم ہو کر رہتا ہے اور آخرکار وہ مٹ کر ہی رہتا ہے۔ حق و باطل کی یہ کشمکش کبھی مختلف نتائج دیتی ہے اس کی وجہ اہل حق کی ناکامی ہوتی ہے ورنہ حق کبھی سرنگوں نہیں ہوتا۔ جب بھی اہل حق، حق کی پیروی میں اخلاص کا ثبوت دیتے ہیں اور حق کی سربلندی میں جان لڑاتے ہیں تو باطل ان کے سامنے کبھی نہیں ٹھہر سکتا۔ اس حقیقت کے حوالے سے قریش سے یہ کہا جارہا ہے کہ اگر تم آج باطل کا ساتھ دے کر اپنی قسمت باطل کے ساتھ وابستہ کرلو گے تو اللہ تعالیٰ کے رسول کا یہ قافلہ جو حق کے علمبرداروں کا قافلہ ہے ایک وقت آئے گا کہ تم اس کے ہاتھوں پٹ جاؤ گے اور اگر تم نے اپنی نام نہاد قوت سے کام لے کر ان کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کردیا تو کوئی تعجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہاری قوت کو توڑ ڈالے اور تمہیں پامال کر کے رکھ دے۔ معذب قوموں کی تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ انھوں نے بھی تمہاری طرح اس کائنات کو محض تماشا گاہ، محض ایک خوان یغما اور محض ایک عیش کدہ سمجھ کر زندگی گزارنے کی کوشش کی اور ہر ممکن طریقے سے حق کا راستہ روکا۔ لیکن انجام کار اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ اس لیے تمہارے لیے عقل کا راستہ یہ ہے کہ تم حقیقت کو سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کرو، اسی میں عافیت ہے اور اسی میں کامیابی ہے۔
دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ہمیشہ حق و باطل کی کشمکش جاری رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ ساتھ باطل کو بھی مہلت دیتا رہتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی نگاہ میں حق و باطل دونوں یکساں ہیں بلکہ باطل کا باقی رہنا صرف اس لیے ہے تاکہ انسان کا امتحان جاری رہے کہ کون حق کو اختیار کرتا ہے اور کون باطل کی پرستش کرتا ہے۔ بالآخر ایک دن آئے گا جب پروردگار حق کا ہتھوڑا باطل کے سر پر اس طرح ماریں گے کہ وہ باطل کا بھیجہ نکال کر رکھ دے گا اور آخری جملے میں فرمایا کہ تم آج جو کچھ کررہے اور کہہ رہے ہو اس وقت تمہیں اندازہ ہوگا کہ اس کے نتیجے میں کیسی تباہی تمہارا مقدر بنتی ہے۔
Ayahs 21:19–20وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَمَنْ عِنْدَہٗ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلاَ یَسْتَحْسِرُوْنَ ۔ یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لاَ یَفْتُرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 19، 20)
(اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ شب و روز اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں۔ )
گزشتہ آیات کریمہ میں مشرکینِ عرب کے مشرکانہ رویئے اور ان کے نظریہ حیات پر تنقید کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اگر مشرکین کے نظریہ حیات کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو پھر پروردگار اور کائنات کے بارے میں ایک ایسا نقطہ نگاہ پیدا ہوتا ہے جس سے کائنات کی پر از حکمت تخلیق اور اللہ تعالیٰ کی صفات بالخصوص اس کی صفت حاکمیت اور صفت عدالت کا تصور بگڑ کر رہ جاتا ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں انسانی زندگی کے بامقصد اور جوابدہ ہونے کے تصورات یکسر تبدیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ان دونوں صفات کے حوالے سے کائنات کی تخلیق کا صحیح تصور، کائنات کے وجود کی صحیح توجیہ اور انسانی زندگی کا صحیح محمل پیش فرمایا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں چند ایسے حقائق کو بیان کیا جارہا ہے جن سے شرک کی جڑ کاٹنا بھی مقصود ہے اور انسان کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونے کے تصور کو واضح کرنا بھی پیش نظر ہے۔
شرک کی تردید
سب سے پہلی یہ بات ارشاد فرمائی کہ تمام آسمانوں اور تمام زمینوں اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان میں سے ایک ایک مخلوق کا خالق، مالک اور حاکم صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو اس کے سوا کسی نے تخلیق نہیں کیا۔ اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا وہ اس کی ملکیت کا دعویٰ کرے۔ ان دونوں باتوں کے قبول کرنے کے بعد یہ بات خودبخود ثابت ہوجاتی ہے کہ اللہ ہی اس کائنات کا حاکم مطلق ہے، اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اس میں آزادانہ تصرف کرے اور کسی اور کو اس کی مرضی کے بغیر کسی طرح کے تصرکی بھی قطعاً آزادی نہیں۔ رہی وہ مخلوقات جو اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں یعنی جو آسمانوں میں ہیں اور جن کی حیثیت کارکنانِ قضاء و قدر کی ہے یا جو حاملینِ عرش ہیں اور یا زمین میں وہ مقدس نفوس جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی اتاری اور کتابیں نازل کی ہیں ان میں سے کوئی بھی اس کی بندگی سے سرتابی کی جرأت نہیں کرسکتا۔ ان میں فرشتے ہوں یا اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول، اس کی اطاعت میں سرمو کمی بیشی کرنا ان کے بس میں نہیں۔ البتہ ! یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیرمعمولی فضائل سے نوازا ہے اور فرشتے تخلیقی طور پر غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے احکام کو براہ راست کائنات پر نافذ کرنا انھیں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ان تمام فضائل اور صلاحیتوں، ذمہ داریوں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی سے سرتابی تو کیا کریں گے وہ تو اس کی عبادت اور بندگی سے نہ کبھی تھکتے اور نہ کبھی سیر ہونے کا نام لیتے ہیں۔ جس طرح مرغن غذائوں سے پیٹ بھر جانے کے باوجود کھانے کے لطف و لذت سے نیت بھرنے میں نہیں آتی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا ذوق بخشا ہے کہ وہ اس کی عبادت اور اس کے احکام کی بجاآوری میں اس سے بڑھ کر لطف و لذت محسوس کرتے ہیں جتنا ایک شخص پر تکلف کھانے کو کھاتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔ اہل عرب نے فرشتوں کی طرف خصوصیت سے بہت سی باتیں منسوب کر رکھی تھیں، مثلاً یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ممکن طریقے سے بیٹیوں کی طرح ان کی نازبرداریاں کرتا ہے اور ان کی ہر ضد کے سامنے اپنے اختیارات سے دستبردار ہوجاتا ہے۔ اس لیے اہل عرب کا خیال یہ تھا کہ اولاً تو قیامت کا تصور ہی محال ہے لیکن اگر قیامت آہی گئی تو اللہ تعالیٰ کی یہ بیٹیاں جن کو ہم اپنی عبادت اور بندگی سے خوش رکھتے ہیں وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گی اور اگر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوا تو وہ ضد کرکے اپنے باپ سے ہمیں چھڑا لیں گی۔ ان کے بارے میں اہل عرب کو توجہ دلاتے ہوئے بطور خاص ارشاد فرمایا گیا ہے کہ فرشتے جنھیں تم اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے ہو وہ تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں اور تم نے جو بعض مشرکانہ باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھی ہیں وہ ان باتوں سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کرتے رہتے ہیں کیونکہ تسبیح کا معنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو ان صفات سے پاک اور منزہ ٹھہرانا ہے جو اس کی شان اور عظمت کے لائق نہیں۔ وہ شب و روز اس کام میں مصروف رہتے ہیں اور کبھی ان میں اس کے لیے اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی۔
Ayah 21:21اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِھَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ھُمْ یُنْشِرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 21)
(کیا انھوں نے زمین کے الگ معبود ٹھہرا لیے ہیں جو (زمین کو یا مردوں کو) زندہ اور شاداب کرتے ہیں۔ )
مشرکین کے ایک واہمہ کا رد
اَنْشَرَ…کا معنی ہے زندہ اٹھا کھڑا کرنا۔ اور اگر اس کا مفعول ارض ہو تو پھر اس کا معنی ہے، مردہ زمین کو زندہ کردینا یعنی سرسبز و شاداب کردینا۔
اہلِ عرب کے علم الاصنام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ یقینا تمام کائنات کا خالق ومالک اور حاکم ہے۔ وہ رب العرش العظیم ہے۔ اس کا عرش سرچشمہ اقتدار ہے اور وہ اس پر براجمان ہو کر تمام کائنات کی دیکھ بھال کرتا اور ان کے لیے احکام جاری کرتا ہے۔ لیکن زمین سے آسمان اور پھر اس کا عرش عظیم اس قدر دور ہے کہ آسمانوں کے ساتھ ساتھ زمینوں کی نگہداشت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے پروردگار زمینوں کا انتظام و انصرام دوسروں کے حوالے کرکے اہل زمین سے الگ تھلگ ہوگیا ہے اب اس کی حاکمیت کا تعلق صرف آسمانوں سے ہے، زمین سے نہیں۔ اسی تصور کے تحت اہل عرب نے زمین کے اِلٰہ الگ ٹھہرا لیے اور یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ وہ اِلٰہ ہیں جو زمین کا انتظام و انصرام چلاتے، اس کو سرسبز و شاداب کرتے اور اہل زمین کی ضروریات کی کفالت کرتے ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ اگر اس تصور کو قبول کرلیا جائے تو پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کا خدا ایک ہے۔ چناچہ یہی وجہ تھی کہ ہزار انکار کے باوجود عملی طور پر اہل عرب زمین کے الگ خدائوں کو مانتے تھے۔ چناچہ اگلی آیت میں اس کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
Ayah 21:22لَوْکَانَ فِیْھِمَـآ اٰلِھَۃٌ اِلاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ج فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔
(الانبیاء : 22)
(اگر ان دونوں کے اندر اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو کے رہ جاتے، تو اللہ، عرش کا مالک، ان چیزوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ )
مشرکین کی ایک دلیل کا جواب اور توحید کا اثبات
سابقہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مشرکینِ عرب کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ آسمان کا اِلٰہ اور ہے اور زمین کا اِلٰہ اور۔ زمین چونکہ کائنات کا ایک دوردراز گوشہ ہے۔ آسمانوں کا اِلٰہ اتنے دوردراز گوشے پر نظر نہیں رکھ سکتا تو اس کا انتظام کیونکہ کرے گا۔ اس لیے اس نے زمین دوسروں کے حوالے کردی اور خود آسمانوں تک محدود ہوگیا۔ اس عقیدے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زمین پر رہنے والے رب العرش کی بندگی کرنے کی بجائے ان خدائوں اور اِلٰہوں کی بندگی کریں جو زمین کے انتظام و انصرام کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ نادانو ! اگر زمین کا خدا کوئی اور ہوتا اور آسمان کا کوئی اور، قطع نظر اس کے کہ اِلٰہ یا خدا وہ کائنات کے کسی ایک حصے میں سمٹ کر نہیں رہتا کیونکہ اس کے بارے میں یہ سمجھنا کہ کائنات کے کسی دوردراز گوشے کا انتظام چلانا میری ہمت سے بڑھ کر ہے تو یہ کمزوری اور احتیاج ہے۔ اِلٰہ مطلق کے لیے ایسی کسی کمزوری کا اثبات اس کی الوہیت سے انکار کے مترادف ہے۔ کیونکہ اگر وہ اِلٰہ ہے تو وہ ہر طرح کی کمزوری سے پاک ہے کیونکہ اِلٰہ وہ ہوتا ہے جو واجب الوجود ہو۔ جو اپنے موجود ہونے میں کسی خالق کا محتاج نہ ہو۔ جو تمام صفاتِ کمال سے متصف ہو اور جملہ نقائص و عیوب سے پاک ہو۔ جو خدا کائنات کے کسی گوشے کا انتظام چلانے کی قدرت نہیں رکھتا تو وہ اِلٰہ کیسے ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ اس کی صفت کمال کے بھی خلاف ہے اور اس کی ذات کے لیے ایک نقص بھی ہے جبکہ وہ تمام نقائص سے پاک ہے۔ اور پھر وہ اِلٰہ کیسا کہ جو تمام کائنات کا خالق ہے لیکن کائنات کا کوئی ایک گوشہ اس کی کمزوری کی وجہ سے اس کی حاکمیت سے باہر ہے اور اس کی الوہیت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
قطع نظر ان حقائق کے یہاں ایک اور آسان سی بات کہی گئی ہے کہ اگر کسی گھر کے دو سربراہ ہوں اور دونوں برابر اختیارات رکھتے ہوں تو وہ گھر دیر تک سلامت نہیں رہ سکتا۔ جس فوج کے دو کمانڈر انچیف ہوں وہ فوج آپس میں لڑے بغیر نہیں رہ سکتی۔ کسی ملک اور کسی قوم نے کبھی آج تک یہ تصور نہیں کیا کہ ہم اپنے ملک کے دو حکمران بنالیں جو قوت و طاقت اور اختیار میں مساوی حیثیت کے مالک ہوں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ اختیار و اقتدار کی ثنویت ہمارے ملک کو تباہ کردے گی۔ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ کائنات جس کا خالق ایک ہے اس کے اِلٰہ ایک سے زیادہ ہوں کیونکہ اگر وہ برابر اختیارات کے مالک ہوئے تو کائنات باقی نہیں رہ سکتی اور اگر ان میں سے ایک برتر ہوا اور دوسرا کم تر یا اس کے ماتحت تو جو کم تر یا ماتحت ہو وہ اِلٰہ نہیں ہوسکتا۔
علاوہ ازیں ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ زمین میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی فعلیت اور انفعالیت میں صرف زمین کے عناصر کی خدمات کارفرما نہیں بلکہ جابجا اس میں فضاء اور آسمان کے عناصر بھی شریک اور کارفرما ہوتے ہیں۔ زمین پر رہنے والوں کو رزق اس وقت ملتا ہے جب زمین کی قوت روئیدگی اپنا کام کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آسمان سے اس کی آبیاری کا سامان ہوتا ہے۔ سورج کی گرمی اس کے غلے اور پھلوں کو پکاتی ہے۔ چاند کی حلاوت ان میں نرمی، مٹھاس اور گداز پیدا کرتی ہے۔ زمین کی قوت اگر پودوں کو قدوقامت عطا کرتی ہے تو آسمان سے برسنے والی شبنم ان کا منہ دھلاتی اور ان میں خوشبو پیدا کرتی ہے۔ اگر کہیں زمین و آسمان کے خدا الگ الگ ہوتے تو زمین غلے کو اگاتی لیکن اس کی سیرابی کا کوئی انتظام نہ ہوتا۔ سورج اپنی گرمی کو روک لیتا جس سے غلے اور پھلوں کے پکنے کے امکانات ختم ہوجاتے۔ اسی طرح انسانی زندگی کی ہمہ ہمی اور سرگرمی موسموں کی خوئے انقلاب کی محتاج ہے۔ یہ موسموں کا انقلاب جس طرح زمین کی گردش سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح سورج کی روشنی سے اس میں رنگ اور روپ آتا اور تبدیلی کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر زمین کی گردش جاری رہتی لیکن آسمان اپنے کُرّوں اور اپنے عناصر کو زمین کی ہم آہنگی سے روک دیتا، تو یہاں کوئی چیز پیدا نہ ہوتی اور جس کے نتیجہ میں انسانی زندگی ناممکن ہوجاتی۔ سوال صرف انسانی زندگی کا نہیں بلکہ زمین اور آسمان دونوں اپنی زندگی اور توانائی میں اس قدر ایک دوسرے کے محتاج ہیں کہ اگر دونوں کو یکسر ایک دوسرے سے لاتعلق کردیا جائے تو دونوں اپنے وجود کو کھو بیٹھیں۔ سردی اور گرمی، پانی اور آگ، ہوا اور مٹی۔ سورج کی گرمی سے پانی سے اٹھنے والے سحاب اور بادلوں میں کوندنے اور گرجنے والی بجلیاں، آسمان سے برستے ہوئے شہابِ ثاقب۔ ایسی ہی لاتعداد اور اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہیں جن کی آپس کی نسبت توافق کی نہیں تخالف کی ہے۔ اگر ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ خدائوں کے زیرفرمان کردیا جائے تو نتیجہ اس کا تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ یہ تو ایک خدا کی جابر و قاہر ذات ہے جو بےپناہ قدرتوں کی مالک ہے اور جس کے علم سے کائنات کا کوئی گوشہ باہر نہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ جس کے تکوینی نظام میں بندھا ہوا ہے اس کے حکم میں یہ قوت ہے کہ وہ ان تمام متضاد اور متخالف عناصر کو ایک خدمت بجالانے اور ایک نتیجہ برآمد کرنے میں ایک دوسرے کی سازگاری پر مجبور کرتا ہے اور کسی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اس کے حکم سے سرتابی کرسکے۔ سورج کبھی چاند سے آگے نہیں بڑھ سکتا، رات کبھی دن سے سبقت نہیں کرسکتی، زمین کی گردش کو کوئی متأثر نہیں کرسکتا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اپنے اپنے محور و مدار میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے طریقے کے مطابق حفظ وامان کے حصار میں زندہ ہیں۔ اگر کہیں دو خدا ہوتے تو ان تمام عناصر کا تضاد اور تخالف ایک دوسرے کو تباہ کرکے رکھ دیتا۔ بادل پانی کی بجائے زمین پر آگ برساتے، اس کی بےتحاشا بجلیاں زمین کے رہنے والوں پر بارش کی طرح برستیں، زمین کی گردش کمزور پڑجانے کے باعث چالیس گھنٹے کا لمبا دن جون کے مہینے میں ہر چیز کو جلا کے رکھ دیتا، سمندروں کے کنارے ٹوٹ جاتے تمام زمین زیرآب آجاتی، پہاڑ لاوا اگلنے لگتے ہر چیز تباہ و برباد ہوجاتی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حاکمانہ اقتدار ہے جس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، پھر اس کا تسویہ کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی اور پھر اپنا اپنا فرض انجام دینے کی ہدایت اور رہنمائی بخشی۔ بجائے اس کے کہ انسان اس پر اس کا شکرگزار ہوتا الٹا اس کے لیے شرک کے دلدل میں اتر کر نئے نئے شریک تجویز کرتا اور زندگی کے تباہی کے راستے کھولتا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کس قدر عظیم ہے کہ وہ اس پر ناراض ہو کر عذاب برسانے کی بجائے صرف یہ کہنے پر اکتفا فرماتی ہے کہ پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے، ان تمام بےہودہ باتوں سے جو اس کے بارے میں مشرک کہتے ہیں۔
Ayah 21:23لاَ یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلَ وَھُمْ یَسْئَلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 23)
(وہ جو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں اس سے پرشس نہیں کی جاسکتی اور ان تمام سے بازپرس کی جائے گی۔ )
اللہ تعالیٰ کی عظمت
اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ وہ جو فیصلے فرماتا اور جو وہ حکم دیتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کے بارے میں سوال کرسکے۔ وہ جسے چاہتا ہے موت دیتا ہے، جس کا کاروبار چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، جس کا چاہتا ہے تخت چھین لیتا ہے، جہاں چاہتا ہے زلزلہ بپا کردیتا ہے، جب چاہتا ہے دریائوں کے بند کھول دیتا ہے، جب چاہتا ہے بادل بےروک ہوجاتے ہیں، وہ جہاں چاہتا ہے زمین انسانوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیتی ہے۔ اس کا جب اشارہ ہوتا ہے تو موسم اپنی شدت سے مخلوقات کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں۔ لیکن کسی کی مجال نہیں کہ اس سے سوال کرسکے کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔ البتہ دنیا میں چاہے انسان ہوں یا جنات، ملائکہ ہوں یا حاملینِ عرش وہ جب چاہے گا ان کے ایک ایک عمل کا حساب لے گا۔ انبیائے کرام اور رسولانِ عظام اپنی تمام تر معصومیت کے باوجود راتوں کو اس کے سامنے کھڑے ہو کر روتے اور مناجات کرتے رہتے ہیں اور قیامت کے دن باوجود اس کے کہ ان کے لیے بلند درجات کا وعدہ ہوچکا ہے نفسی نفسی پکاریں گے۔ کاش ! نادان انسان سوچے کہ جس پروردگار کی عظمت اس قدر ہمہ گیر ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک کیونکر ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
Ayah 21:24اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِـہٖٓ اٰلِھَۃً ط قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ ج ھٰذَا ذِکْرُ مَنْ مَّعِیَ وَذِکْرُ مَنْ قَبْلِیْ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ لا الْحَقَّ فَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 24)
(کیا انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں، اے پیغمبر ان سے کہئے کہ اپنی دلیل پیش کرو، یہ قرآن جو نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو میرے ساتھ ہیں اور ان لوگوں کی بھی جو مجھ سے پہلے ہوئے بلکہ ان میں سے اکثر حق سے بیخبر ہیں، اس لیے وہ اس سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ )
شرک کی تردید میں ایک نقلی دلیل
شرک کی تردید میں عقلی دلائل دینے کے بعد ایک نقلی دلیل پیش کی جارہی ہے۔ اور اس کا انداز یہ اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے جرم کو باردگر ذکر فرمایا گیا ہے کہ باوجود یکہ عقل کی اپیل تو بالکل واضح ہے۔ لیکن ان مشرکین کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئی اور اِلٰہ بنا رکھے ہیں۔ اس لیے بجائے اصرار کرنے کے ہم انھیں سے سوال کے اندار میں ایک نقلی دلیل پیش کررہے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ یہ قرآن کریم جس میں نہایت دیانت و امانت کے ساتھ گزشتہ انبیائے کرام کی تعلیم بھی موجود ہے اور اس امت کے لیے تاقیامت آخری سند بن کر نازل ہوا ہے۔ اس قرآن کریم کو دیکھ لو اور مزید یہ کہ اس سے پہلے نازل ہونے والی کتابیں جو تمہارے ہاتھوں میں ہیں انھیں دیکھ لو پھر ہمیں بتائو کہ کیا ان کتابوں میں تم نے کہیں بھی توحید کیخلاف اور شرک کے اثبات میں کوئی ایک جملہ بھی پڑھا ہے۔ کہیں پروردگار نے کسی علاقے کی الوہیت کسی اور شخص کو تفویض کی ہے یا کسی کو ایسی صفات عطا کی ہیں جن سے الوہیت لازم آتی ہو۔ اگر کوئی ایسی چیز ہے تو اسے پیش کرو۔ ظاہر ہے کہ اس کے جواب میں سناٹا رہا۔ ہر طرح کی باتیں بنانے والے جواب دینے سے عاجز رہے، تو تب پروردگار نے خود فرمایا کہ جہاں تک اہل عرب کا تعلق ہے ان لوگوں کا شرک کے حق میں آستینیں چڑھانا اور توحید کی دعوت دینے والوں کے مقابلے میں سینہ سپر ہونا اس لیے نہیں کہ ان کے پاس کوئی دلیل موجود ہے بلکہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ حق اور صحیح بات سے بالکل بیخبر ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کا اصل مرض جہالت ہے لیکن یہ جہالت کو علم اور بےدانشی کو دانش سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس لیے نہ صرف اپنی بات پہ اڑے ہوئے ہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 21:25وَمَـآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّـہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ۔
(الانبیاء : 25)
(اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے ہیں ان کی طرف یہی وحی کرتے رہے ہیں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میری ہی عبادت کرو۔ )
تاریخ نبوت سے استشہاد
دلیل پیش کرنے سے عاجزی پر ان کی بےبسی کو محسوس کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم دلیل کہاں سے لائو گے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ہم نے کسی رسول کو مبعوث کیا اور اس پر کوئی کتاب اتاری تو ہمیشہ اس پر عقیدہ توحید وحی کیا گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تم کوئی بھی سابقہ آسمانی کتاب اٹھا کے دیکھ لو اگرچہ اس میں ہمہ نوع اور ہمہ جہت قسم کی تحریف ہوچکی ہے لیکن تمہیں کہیں بھی واضح الفاظ میں شرک کی دعوت نظر نہیں آئے گی توحید کا درس تو جابجا نظر آئے گا لیکن شرک کا اثبات کہیں نہیں ہوگا۔ البتہ یہ انسانوں کی بدنصیبی ہے کہ انھوں نے اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہوئے بھی نہ جانے شرک کے راستے کہاں سے نکال لیے۔
Ayahs 21:26–27وَقَالُوْا اتَّخَذَالرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَـہٗ ط بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ۔ لاَ یَسْبِقُوْنَـہٗ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 26، 27)
(اور وہ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن نے (اپنے لیے) اولاد بنا لی ہے، وہ ان باتوں سے پاک ہے بلکہ وہ خدا کے مقرب بندے ہیں۔ اس سے بات کرنے میں سبقت نہیں کرتے وہ بس اس کے حکم ہی کی تعمیل کرتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کے دربار میں فرشتوں کی حیثیت
سابقہ آیات میں پروردگار نے عقلی اور نقلی دلائل سے یہ بات ثابت کردی کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات اور حقوق میں واحد اور یکتا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں۔ لیکن تعجب ہے بعض قوموں پر کہ اس قدر واضح اور عقلاً اور نقلاً مسلمہ حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کی۔ ولد کا معنی عام طور پر بیٹا کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ولد کا لفظ مذکر، مونث اور واحد اور جمع سب پر بولا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ اولاد کیا ہے کیونکہ یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا تھا اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنا لیا اور مشرکینِ عرب نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھا۔ کوئی شخص ایسا کم عقل نہیں ہوتا کہ جو بیٹے کو باپ کے برابر قرار دے دے۔ اس لیے ان مشرک قوموں نے بھی درحقیقت بیٹوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہوئے اس سے برابری کا عقیدہ قائم نہیں کیا۔ البتہ ! اس کی بعض صفات میں شریک بنا کر ان کی بندگی کی اور یہ امید باندھ لی کہ باپ کو چونکہ اپنی اولاد بےحد عزیز ہوتی ہے اور بیٹیاں تو پرایا دھن ہونے کی وجہ سے عموماً زیادہ شفقت کے قابل سمجھی جاتی ہیں۔ اس لیے ان سے امید کی جاسکتی ہے کہ قیامت کے دن اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوا تو یہ ضرور اپنے باپ کو ہمارے حق میں راضی کرلے گی۔ اگر اس کا غضب بھڑکے گا تو یہ اس کی محبت کا واسطہ دے کر غضب کو رحمت میں تبدیل کرالے گی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ یہاں ولد سے فرشتے مراد ہوں کیونکہ عرب ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، ہم اگر یہاں انھیں خوش رکھیں گے تو وہ دنیا میں بھی ہمارے لیے رزق میں افزائش کا باعث بنیں گی اور قیامت کے دن اپنے باپ سے ضد کرکے بھی ہمیں بخشوا لیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تردید فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہو۔ مخلوق کو اولاد کی خواہش اس لیے ہوتی ہے کہ ہر مخلوق پر کبھی نہ کبھی بڑھاپا آتا ہے اور کبھی نہ کبھی اسے دوسری احتیاجات لاحق ہوتی ہیں۔ بڑھاپے اور احتیاج کے وقت اسے شدید ضرورت ہوتی ہے کہ کاش اس کی اولاد ہوتی جو اس بڑھاپے اور احتیاج میں اسے سنبھالا دیتی۔ اللہ تعالیٰ حیی اور قیوم ہے۔ اسے نہ بڑھاپا آئے گا اور نہ کبھی کوئی احتیاج لاحق ہوگی تو اسے اولاد بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ تم نے جنھیں اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا رکھا ہے وہ اولاد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے معزز اور مقرب بندے ہیں۔ یعنی وہ بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز اور اس کی بندگی بجا لانے پر مجبور ہیں جس طرح تم ہو۔ البتہ تم میں اور ان میں فرق یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب اور معزز ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں انھیں کرامت و شرافت کا مقام میسر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام تر قرب کے باوجود ان کی حالت یہ ہے کہ کبھی وہ بات کرنے میں پہل نہیں کرتے۔ جب ان سے کوئی بات پوچھی جاتی ہے تو حدِادب میں اس کا جواب دیتے ہیں۔ کسی معاملے میں ان کی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ وہ ہر وہ خدمت بجا لاتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے لرزاں و ترساں سرتاپا ادب کی تصویر بنے رہتے ہیں۔
تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہاری ہر طرح کی سرکشی اور تمرد کے باوجود تمہاری بندگی کی وجہ سے وہ ضد کرکے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تبدیل کرالیں گے۔ وہ تمہارے کرتوتوں کے باعث تمہیں سزا دینا چاہے گا اور فرشتے اپنے زور و اثر یا نازوتذلل سے اللہ تعالیٰ کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کردیں گے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر طرح کے قرب کے باوجود وہ کبھی پروردگار سے کسی بات میں پہل کرنے کی جرأت نہیں کرتے اور اگر پروردگار کی جانب سے کوئی بات پوچھی جاتی ہے تو نہایت ادب اور عاجزی سے وہ جواب دینے کی جسارت کرتے ہیں۔ اپنی مرضی سے کسی کام کو سرانجام دینا ان کی سرشت اور فطرت کے خلاف ہے۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جس بات کا انھیں حکم دیا جائے وہ اس کی تعمیل کریں۔
Ayah 21:28یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلاَ یَشْفَعُوْنَ لا اِلاَّ لِمَنِ ارْتَضٰی وَھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 29)
(اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر صرف اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے اور وہ اللہ کی خشیت سے لرزاں رہتے ہیں۔ )
شفاعت کون کرے گا ؟
انسان دنیا میں اس طرح زندگی گزارتا ہے کہ وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے گزرا ہوا زمانہ اور گزشتہ اعمال اس کا ماضی بنتے جاتے ہیں اور آنے والا زمانہ جو اس کا مستقبل ہے کبھی اس کو امیدیں دلاتا ہے اور کبھی اس کے لیے ڈرائونا خواب بن جاتا ہے۔ اس کا حال ہر لمحہ ماضی بنتا جا رہا ہے اور ہر آنے والا لمحہ حال میں پہنچنے سے پہلے اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے شناسا کے ” حال “ سے کسی حد تک واقف ہوتا ہے۔ لیکن اس کا ماضی اس کے سامنے نہیں گزرا تو وہ اس سے بالکل بیخبر ہوتا ہے اور مستقبل کے بارے میں نہ وہ اپنے بارے میں جانتا ہے اور نہ دوسرے کے بارے میں۔ تاوقتیکہ مستقبل حال سے گزرتا ہوا ماضی میں غروب نہیں ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کے لیے ماضی، حال اور مستقبل کی کوئی تقسیم نہیں۔ جو گزر چکا وہ بھی اس کے سامنے ہے، جو گزر رہا ہے وہ اس سے بھی باخبر ہے اور جو ابھی پردہ اخفاء میں ہے وہ اس سے بھی پوری طرح آگاہ ہے۔ کیونکہ جس طرح وہ ماضی میں جھانک سکتا ہے اسی طرح وہ مستقبل کو بھی دیکھتا ہے۔ بنابریں یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی فرشتہ یا کوئی اور شخص کسی سے متعلق اس کے علم میں اضافہ کرسکے۔ جو شخص کسی کے حال کو جانتا ہے وہ بھی اس کی گہرائی اور گیرائی کو نہیں جانتا۔ اور جہاں تک ماضی اور مستقبل کا تعلق ہے وہ اس کے احاطہ علم سے بالکل خارج ہے۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ اگر کسی شخص کے بارے میں کوئی فیصلہ فرمائے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ اس کے بارے میں جانتا ہوں۔ اس لیے جن قوتوں یا فرشتوں کے بارے میں مشرکین یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ بھی کریں وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔ آخر وہ کس بنیاد پر سمجھتے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بالکل بےبسی کی تصویر ہیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کرسکتے اور وہ اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں بیخبر ِمحض ہیں، تو وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں کوئی مشورہ کیسے دے سکتے اور اس کے علم میں اضافہ کیسے کرسکتے ہیں ؟ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک اعزاز ضرور رکھا ہے کہ وہ کسی کی شفاعت کریں۔ لیکن وہ شفاعت اس کے لیے کریں گے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرمائیں اور جس کے لیے شفاعت کرنے کی اجازت دیں۔ اس تمام احتیاط اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام عنایات کے باوجود ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں کہ کہیں بیخبر ی میں بھی ان کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہو۔
Ayah 21:29وَمَنْ یَّقُلْ مِنْھُمْ اِنِّیْٓ اِلٰـہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ فَذٰلِکَ نَجْزِیْہٖ جَھَنَّمَ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 29)
(اور جو ان میں سے یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا میں اِلٰہ ہوں تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ )
شرک اللہ تعالیٰ کے مقام سے جہالت کا نتیجہ ہے
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور اپنے نام نہاد معبودوں کو ہر حالت میں اپنا شفیع سمجھنا یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات کے حقیقی مقام و مرتبہ سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ اور یہ جہالت دو طرح کی ہے۔ ایک جہالت تو وہ ہے جس کو علمی جہالت کہنا چاہیے یعنی اس عقیدے کا حامل سرے سے اللہ تعالیٰ کے مقام و مرتبہ سے ناواقف اور اس بارے میں انتہا درجہ جہالت کا مریض ہے۔ اور دوسری جہالت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقام و مرتبہ کو جاننے کے باوجود عملی استخفاف کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے مثلاً جب ایک شخص سے پوچھا جائے کہ اس کائنات کا خالق، مالک، رب، مدبر اور حاکم مطلق کون ہے ؟ تو وہ فوراً جواب دے کہ اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے یا اس کے حقوق کے بارے میں اس کا طرز عمل دیکھا جائے تو صاف معلوم ہو کہ وہ نام لیتے ہوئے بھی ہلکے پن کا اظہار کرتا ہے اور حقوق کی ادائیگی میں تساہل کا شکار ہی نہیں، انکار کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔ اور اس کی شریعت کو اتنا وزن دینیکو بھی تیار نہیں جتنا ہماری زندگی میں وضعی قوانین کو حاصل ہے۔ تو یہ وہ استخفاف ہے جس کے نتیجے میں جانتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم ذات کے بارے میں ہم نے عجیب و غریب تصورات بنا لیے ہیں۔ چناچہ اس استخفاف کو ختم کرنے اور انسان کو جھنجھوڑنے کے لیے پروردگار بعض دفعہ ایسی بات ارشاد فرماتا ہے جو دلوں کو ہلا دینے والی ہوتی ہے۔
پیشِ نظر آیت کریمہ میں یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ جن قوتوں کے بارے میں تم نے شفاعتِ باطل کا عقیدہ بنا رکھا ہے اور تم یہ سمجھتے ہو کہ شاید اللہ تعالیٰ ان قوتوں کے ہاتھ میں ایک کھلونا ہے، وہ جس طرح چاہیں اپنی بات اس سے منوا سکتے ہیں، تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ عظیم ذات ہے کہ اگر فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور انبیائے کرام جو اللہ تعالیٰ کے یہاں نہایت اعلیٰ مقام کے حامل ہیں اگر کہیں ان میں سے بھی کوئی خدا ہونے کا دعویٰ کردے (جو ظاہر ہے کہ بالکل ناممکن ہے) تو اللہ تعالیٰ ایسا دعویٰ کرنے والے کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو کافروں اور ظالموں کے ساتھ کرتا ہے۔ انھیں پکڑے گا اور جہنم میں پھینک دے گا کیونکہ انھوں نے بندگی کی بجائے خدائی کا دعویٰ کرکے اپنے ساتھ ظلم کیا۔ اور جو لوگ اس ظلم میں ان کے ساتھ شریک ہوئے ہیں وہ بھی اس ظلم کا شکار ہوئے۔ اس لیے ان کے اس جرم کی کم سے کم سزا یہی ہے کہ انھیں جہنم رسید کردیا جائے۔ اس سے تصور یہ دینا ہے کہ اس کی ذات کے بارے میں غلط تصور باندھنا یا اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا یا یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے بےبس ہے یہ ایسا جرم ہے کہ اگر ہمارے مقرب بندوں میں سے بھی کوئی اس جرم کا ارتکاب کرے تو ہم اسے بھی سخت سزا دیں گے۔ اس سے اندازہ کرلو کہ کل کو تمہارے ساتھ کیا بیتنے والی ہے۔