20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsروح القرآن

Ayahs 20:53–54

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے نکالے اور آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس سے مختلف نباتات کی گوناگوں قسمیں پیدا کردیں۔

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھائو اور اپنے چوپایوں کو چرائو، اس کے اندر اہل عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا وَّ سَلَکَ لَکُمْ فِیْھَا سُبُلاً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً ط فَاَخْرَجْنَا بِہٖ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبـَاتٍ شَتّٰی۔ کُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُوْلِی النُّھٰی۔ (طٰـہٰ : 53، 54) (وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے نکالے اور آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس سے مختلف نباتات کی گوناگوں قسمیں پیدا کردیں۔ کھائو اور اپنے چوپایوں کو چرائو، اس کے اندر اہل عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔ ) پروردگار کی جانب سے چند توضیحی ہدایات اندازِکلام سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب ” یَنْسَی “ پر ختم ہوگیا ہے۔ اس کے بعد کی چار آیتیں تفہیم و توضیح کے لیے براہ راست اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں۔ قرآن کریم میں اس کی مثالیں جا بجا گزری ہیں کہ کسی واقعہ کو بیان کرنے یا کوئی حکایت رقم کرنے کے بعد پروردگار پندونصیحت کے طور پر یا وضاحت و تفہیم کے لیے کچھ باتیں ارشاد فرماتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب فرعون کے جس سوال کے حوالے سے تھا وہ درحقیقت وہاں سے شروع ہوا تھا جہاں اس نے یہ پوچھا تھا کہ اے موسیٰ ! تمہارا رب کون ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پروردگار کی ہدایت کے مطابق جو جواب ارشاد فرمایا وہ نہایت حکیمانہ اور نہایت جامع تھا۔ اب اسی سوال کے جواب میں نہایت آسان باتیں کہی جارہی ہیں جس سے عوام کے لیے بھی اس جواب کا سمجھنا آسان ہوگیا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے زمین کو انسانوں کے لیے گہوارے کی طرح بچھا دیا ہے۔ ہم اس زمین پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ نہ وہ اتنی نرم ہے کہ اس میں دھنس جائیں اور نہ اتنی سخت ہے کہ اس پر چلنے یا لیٹنے سے جسم چھل جائے۔ پھر جس طرح ماں کے سینے سے بچے کو دودھ ملتا ہے اسی طرح زمین کی آغوش سے انسان کی غذا نکلتی ہے یعنی وہ راحت رسانی کے لحاظ سے بھی گہو ارہ ہے اور نفع رسانی اور اشیائے ضرورت کی بہم رسانی کے اعتبار سے بھی گہوارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ پھر یہ گہوارہ اتنا مکمل ہے کہ انسان موت کے بعد ہمیشہ کے لیے اسی میں سو جاتا ہے۔ زمین میں نہ جانے کن مصلحتوں کے تحت نشیب و فراز رکھے گئے ہیں اور پہاڑی اور میدانی علاقوں میں زمین کو تقسیم کیا گیا ہے۔ لیکن قدرت کی کرم نوازی یہ ہے کہ اس نے زمین کے اندر چلنے کے لیے راستے بنائے اور پہاڑوں میں درے کھول دیئے۔ پھر اس کی ربوبیت کا مزید فیضان یہ ہے کہ زمین کو اس نے اگرچہ قوت روئیدگی سے معمور کردیا لیکن اس کی روئیدگی اس وقت تک اپنا کام نہیں دکھا سکتی جب تک آبیاری کا سامان نہیں ہوتا۔ اس لیے پروردگار نے آسمان سے پانی برسایا اور اس سے قسم قسم کی نباتات اور طرح طرح کے درخت اگائے جن میں سے کچھ انسانوں کی خوراک کے لیے ہیں اور کچھ مویشیوں کا چارہ۔ اس لیے فرمایا کہ زمین کی پیداوار سے خود بھی کھائو اور اپنے چوپایوں کو بھی چرائو۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو بالکل سامنے کی ہیں لیکن اپنے موثر ہونے میں بےمثال ہیں۔ ایک عام آدمی بھی یہ بات سمجھتا ہے کہ جس کی زمین پر میں رہتا ہوں اور جس کی پیدا کردہ خوراک سے پیٹ بھرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا اور پھر زندگی کی تمام سہولتیں مہیا کیں۔ عجیب بات ہے کہ میں اسے چھوڑ کر کسی اور کو رب بنا لوں۔ لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل و خرد سے نوازا ہے وہ اس نظام ربوبیت میں نہ جانے کیا کیا حکمتیں محسوس کرتے ہیں۔ اسی میں ان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت دکھائی دیتی ہے، اسی سے وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر استدلال کرتے ہیں، اسی سے انھیں جزاء و سزا کے تقاضے بھی سمجھ میں آتے ہیں اور ہر طرف قدرت کی رحمت دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اس میں اہل عقل کے لیے قدم قدم پر نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ جب اس میں غور کرتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں : ہر کہ بینم در جہاں غیرے تو نیست یا توئی یا خوئے تو یا بوئے تو
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

(اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔

مِنْھَا خَلَقْنٰـکُمْ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی۔ (طٰـہٰ : 55) (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ ) نظامِ ربوبیت سے قیامت پر استدلال اسی زمین پر جو پروردگار کا نظام ربوبیت پھیلا ہوا ہے اس سے قیامت پر استدلال کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے تمہیں اسی زمین سے پیدا کیا۔ یعنی ان تمام عناصر کا تعلق زمین سے ہے جو انسانی جسم کی بناوٹ میں استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا کیا کہنا کہ جس طرح اس نے زمین کو ہمارے لیے گہوارہ بنایا ہے اسی طرح اسے ہمارے مادہ تخلیق کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ اسی سے بننے والا انسان اور اسی کے سینے پر زندگی گزارنے والا انسان آخرکار ایک دن موت کا شکار ہوتا ہے اور اسی کے سینے پر سر رکھ کر سو جاتا ہے۔ پھر اسی کی آغوش میں اس کی قبر بنتی ہے۔ حشر تک اسی میں سوئے رہنے کے بعد ایک دن اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے اسی زمین سے نکالا جائے گا۔ قدرت نے انسان اسی زمین سے بنایا، اسے اس کا کچھ علم نہیں۔ اسی زمین سے قیامت قائم ہونے سے پہلے اسے نکالا جائے گا۔ جس قادر مطلق نے زمین سے اس کا قالب بنا کر اسے زندگی عطا کی تھی وہ اسی زمین سے اپنے قدرت کاملہ سے اسے دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنے زندگی کے تمام اعمال کی جوابدہی اللہ تعالیٰ کے سامنے کرسکے۔ نیکی کی جزاء ملے اور برائی کی سزا ملے۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور انکار کردیا۔

وَلَقَدْ اَرَیْـنٰـہُ اٰیٰـتِنَا کُلَّھَا فَکَذَّبَ وَاَبٰی۔ (طٰـہٰ : 56) (اور ہم نے اس کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور انکار کردیا۔ ) فرعون کا تمرد یوں تو انسان کی ہدایت کے لیے اس کے گردوپیش میں نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں اور خود اس کا وجود سمجھنے کے لیے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ لیکن فرعون اس قدر بگڑ چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے اپنی تمام نشانیاں دکھائیں۔ ان نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں اور معجزات ہیں جس کا ظہور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر مختلف وقتوں میں ہوا۔ لیکن فرعون نے ہر بات کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم سے روگردانی کی۔ ویسے تو ہر آدمی کے لیے اپنی نفسانی خواہشات کی گرفت سے نکلنا آسان نہیں۔ لیکن جس شخص نے زندگی میں اپنی خواہشات کو مقاصد میں تبدیل کردیا ہو اور اس کی زند گی تمام تر ان سے عبارت ہو کے رہ گئی ہو۔ اس کے لیے یہ خواہشات ایسے پتھر بن جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ زندگی کے دریا میں کبھی تیرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ فرعون تو ایک بڑے ملک کا حکمران تھا اور حکومت ہر حکمران کی کمزوری ہوتی ہے۔ وہ جان دے دیتا ہے لیکن حکومت سے دستبردار نہیں ہوتا۔ اور فرعون صرف حکومت ہی کا اسیر نہیں تھا وہ تو اسے ربوبیت کا ذریعہ بنائے بیٹھا تھا۔ جابجا اس کے اسٹیچوز پوجے جارہے تھے۔ ایسی صورت میں اس کے لیے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی دعوت کو قبول کرنا آسان نہ تھا۔ لیکن دوسری طرف اسے مشکل یہ تھی کہ اس کا مقابلہ ایسے دو افراد سے آپڑا تھا جو اللہ تعالیٰ کے رسول تھے۔ ان کے دلائل، ان کی شخصیتیں، ان کا بےعیب کردار، ان کی تبلیغ و دعوت کا موثر انداز اس کے لیے ایک مصیبت بن کے رہ گیا تھا۔ اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ ان دونوں بزرگوں کو ناکام کرنے کے لیے ایک بہت خطرناک تدبیر سوچی۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

اس نے کہا اے موسیٰ ! کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہماری سرزمین سے نکال باہر کرو۔

قَالَ اَجِئْـتَـنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِکَ یٰـمُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 57) (اس نے کہا اے موسیٰ ! کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہماری سرزمین سے نکال باہر کرو۔ ) ایک خطرناک الزام فرعون نے کہا کہ تم دونوں نے نبوت کا تو بہروپ دھار رکھا ہے درحقیقت تم سیاسی شعبدہ باز ہو۔ تم نبوت کے دعوے کے ذریعے اپنی قوم کو منظم کرنا چاہتے ہو اور میری قوم کو مجھ سے بدگمان کردینا چاہتے ہو۔ اور اس طرح سے تم ہمیں ہماری مملکت سے بےدخل کردینے کا پروگرام لے کر آئے ہو۔ یہ وہ بات تھی جو بہت عرصے سے فرعون اور اس کی قوم کے دماغوں میں بسی ہوئی تھی۔ وہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خوفزدہ تھے۔ انھیں اندیشہ تھا کہ اگر انھیں کوئی حوصلہ مند لیڈر میسر آگیا اور کسی دوسری قوم سے ان کا سمجھوتہ ہوگیا تو یہ ہمارے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ اب جبکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ایسی دعوت لے کر میدان میں آئے ہیں جس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں اور ان کی شخصیتیں ایسی زوردار ہیں کہ لوگ ان میں اپیل محسوس کرتے ہیں، تو یہ دبا ہوا اندیشہ ان کی زبان پر آگیا جس سے ان کے خوف کا بھی اظہار ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی کہ اس طریقے سے وہ اپنی قوم میں متحد رہنے کا جذبہ بھی پیدا کرسکتے ہیں اور ان کو اشتعال بھی دلانا مقصود ہے کہ اگر تم نے ان دونوں حضرات کی باتیں سنیں اور ان سے متأثر ہوئے تو یاد رکھو یہ ملک تم سے چھن جائے گا اور بنی اسرائیل یہاں کے حکمران ہوں گے۔ مزید ایک بات جو فرعون نے کہی وہ یہ ہے کہ تم اپنی کامیابی کے لیے جادو کو ذریعہ بنا چکے ہو اور اسے تم اپنا معجزہ قرار دیتے ہو حالانکہ وہ جادو ہے، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اہل مصر اس فن سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اسی میدان میں تمہارا مقابلہ کیا جائے اور تمہیں شکست دے کر تمہارے ارادوں کو ناکام کردیا جائے۔
Ayahs 20:58–59

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

ہم بھی تمہارے مقابل میں ایسا ہی جادو لائیں گے، پس ہمارے اور اپنے درمیان ایک مقابلے کا دن مقرر کرلو، نہ ہم اس کی مخالفت کریں اور نہ تم کرو، جمع ہونے کی جگہ ہموار اور کھلی ہو۔

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

حضرت موسیٰ نے کہا تمہارا مقابلے کا دن جشن کا دن ہے اور یہ خیال رہے کہ تمام لوگ چاشت کے وقت جمع ہوجائیں۔

فَلَنَاْ تِیَنَّـکَ بِسِحْرٍ مِّثْلِـہٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا لاَّ نُخْلِفُـہٗ نَحْنُ وَلَآ اَنْتَ مَکَانًا سُوًی۔ قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ وَاَنْ یُّحْشَرَالنَّاسُ ضُحًی۔ (طٰـہٰ : 58، 59) (ہم بھی تمہارے مقابل میں ایسا ہی جادو لائیں گے، پس ہمارے اور اپنے درمیان ایک مقابلے کا دن مقرر کرلو، نہ ہم اس کی مخالفت کریں اور نہ تم کرو، جمع ہونے کی جگہ ہموار اور کھلی ہو۔ حضرت موسیٰ نے کہا تمہارا مقابلے کا دن جشن کا دن ہے اور یہ خیال رہے کہ تمام لوگ چاشت کے وقت جمع ہوجائیں۔ ) ہم اپنے ملک کے چیدہ چیدہ جادوگروں کو بلائیں گے جو تمہارے اس جادو کا توڑ کریں گے۔ اس کے بعد لوگوں پر یہ بات کھل جائے گی کہ تم نے جادو کے زور پر لوگوں کو بہکانا چاہا تھا اور پھر اپنے لوگوں میں اپنے بھرم کو باقی رکھنے کے لیے مقابلے کی دعوت دینے میں پہل کی کہ تم وعدے کا کوئی دن یا کوئی جگہ مقرر کرو، ہم ہر جگہ تمہارے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ مَوْعِدُ… یہ ظرف زمان بھی ہے اور ظرف مکان بھی۔ اس لیے اس کا معنی وقت موعود بھی ہوسکتا ہے اور مقام موعود بھی۔ سُوًی کے معنی وسط کے ہیں۔ یعنی ایسی جگہ جو درمیان کی جگہ ہو اور ہر ایک کے لیے وہاں پہنچنا آسان ہو۔ فرعون نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ جو دن اور جگہ متعین ہوجائے اس کی مخالفت نہ ہماری طرف سے ہوگی اور نہ تمہاری طرف سے ہونی چاہیے۔ اور جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں پہنچنا سب کے لیے آسان ہو یعنی ہم بھی وہاں آسانی سے پہنچ سکیں اور تم بھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چونکہ اللہ تعالیٰ پر بےپناہ یقین تھا اس لیے نہایت اعتماد سے فرمایا کہ مجھے تمہارا چیلنج منظور ہے۔ اس لیے میرا خیال یہ ہے کہ مقابلے کا دن ایسا ہونا چاہیے جو مصریوں میں معروف ہو، تاکہ انھیں یاد رہے۔ تمہارے یہاں سال میں دو تین بڑے میلے ہوتے ہیں۔ ان میں سے یوم الزینہ بھی ایک میلہ یا جشن کا دن ہے، بس وہی دن مقرر کرلو۔ لوگ ویسے بھی ایسے جشنوں کے لیے پہلے سے تیار ہوتے ہیں جب وہ اس مقابلے کا سنیں گے تو انھیں ایک اور تفریح ہاتھ آجائے گی اور وہ زیادہ شوق سے پہنچیں گے اور دوسری بات یہ فرمائی کہ چونکہ یہ بہت بڑا اجتماع ہوگا اور ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنی نگاہوں سے اس مقابلے کو دیکھے۔ اس لیے اس کا وقت چاشت کا وقت ہونا چاہیے جبکہ روشنی ہر طرف پھیل چکی ہوتی ہے۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

فرعون وہاں سے پلٹا پھر اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کیں پھر مقابلہ پر آیا۔

فَـتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ کَیْدَہٗ ثُمَّ اَتٰی۔ (طٰـہٰ : 60) (پس فرعون وہاں سے پلٹا پھر اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کیں پھر مقابلہ پر آیا۔ ) فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان جب مقابلہ کی بات مکمل ہوگئی اور باہمی قول وقرار ہوگیا تو پھر فرعون وہاں سے اپنے عمائدین کی طرف آیا۔ دربار کے امراء کو اکٹھا کیا اور آئندہ مقابلے کے لیے تمام ضروری امور پر مشاورت کی۔ ایک ایک پہلو پر غور کیا۔ شکست یا فتح کے نتائج پر گفتگو ہوئی اور ہر پہلو سے مکمل تیاری کے احکام صادر کردیئے گئے۔ جب تمام انتظامات مکمل ہوگئے تو تب فرعون مقابلے کے میدان میں اترا۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

حضرت موسیٰ نے ان سے کہا تمہاری بربادی ہو، اللہ پر جھوٹ نہ باندھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی عذاب سے تمہاری جڑ اکھاڑ دے اور جس نے خدا پر جھوٹ باندھا وہ نامراد ہوا۔

قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰی وَیْلَکُمْ لاَ تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ ج وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی۔ (طٰـہٰ : 61) (حضرت موسیٰ نے ان سے کہا تمہاری بربادی ہو، اللہ پر جھوٹ نہ باندھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی عذاب سے تمہاری جڑ اکھاڑ دے اور جس نے خدا پر جھوٹ باندھا وہ نامراد ہوا۔ ) فَیُسْحِتَکُمْ…اسحات سے ہے۔ اس کا اصلی معنی تو ہڈی پر سے گوشت نوچنے کے ہیں۔ مراد اس سے کسی چیز کا استحاصل کرنا اور اس کی جڑ اکھاڑ دینا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برسرموقع نصیحت معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت کریمہ اس خطاب کا نچوڑ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے عمائدین اور جادوگروں کے سامنے ارشاد فرمایا ہے۔ فرعون سے ایک مقابلہ عام کی قرارداد ہوجانے کے بعد آپ ( علیہ السلام) نے پیغمبرانہ خیرخواہی کا ثبوت دیتے ہوئے اس مقابلے کے ذمہ داروں سے آخری بات کہنا ضروری سمجھا تاکہ وہ اچھی طرح اپنے معاملے پر غور و فکر کرلیں، کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اندیشہ تھا کہ فرعون اور آل فرعون کی یہ جسارت کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو ساحر قرار دے کر جادوگروں کو مقابلے کے لیے بلائیں، کہیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث نہ ہوجائے۔ چناچہ اس اندیشے کی وجہ سے آپ ( علیہ السلام) نے ضروری سمجھا کہ فرعون اور اس کے مصاحبین بیشک میری بات کو قبول نہ کریں لیکن میں اپنا فرض ضرور انجام دوں گا۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ اے شامت زدو، تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ تم کیا کر گزرے والے ہو اور اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔ تم فرعون کے رب ہونے پر اصرار کررہے ہو اور اپنے اس عقیدے کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے جادوگروں کو مقابلے کے لیے بلا رہے ہو اور اس طرح سے تم اللہ تعالیٰ کی ربوبیت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرا کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ فرعون ایک معمولی حکمران ہے وہ اپنی حکومت اور سطوت میں کسی دوسرے کی شرکت گوارا نہیں کرتا۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پروردگار جو کائنات کا خالق ومالک ہے تم اس کی ربوبیت میں کسی کو شریک ٹھہرائو اور پھر اس کے غضب سے بچے رہو۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول نہیں آتا تو لوگوں کو بیخبر ی کا فائدہ پہنچتا رہتا ہے لیکن اس کی طرف سے رسول آجانے اور تبلیغ و دعوت کا حق ادا ہوجانے کے بعد اتمامِ حجت ہوجاتا ہے۔ پھر تکذیب اور انکار کرنے والوں پر کسی وقت بھی عذاب ٹوٹ سکتا ہے۔ تم اس حقیقت کو سمجھو اور اپنے انجام کی فکر کرو اور یہ یقین رکھو کہ جس نے بھی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے وہ نامرادی سے کبھی نہیں بچا۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پس وہ جھگڑنے لگے اپنے معاملے میں آپس میں اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔

فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰی۔ (طٰـہٰ : 62) (پس وہ جھگڑنے لگے اپنے معاملے میں آپس میں اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔ ) آپ ( علیہ السلام) کی نصیحت کا اثر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخلصانہ اور خیرخواہانہ تنبیہ کا اثر یہ ہوا کہ جادوگر اور دوسرے شرکائے مجلس آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ موسیٰ اور ہارون دونوں جادوگر ہیں۔ انھوں نے جو کچھ دکھایا ہے وہ جادو کے کھیل کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہمارے پاس بڑے بڑے ساحروں کی کمی نہیں۔ وہ یقینا اس کا توڑ کرلیں گے۔ لیکن کچھ دوسرے لوگوں کا خیال تھا کہ جو کچھ تم لوگوں نے دیکھا ہے اور جس قسم کی باتیں ان دونوں بھائیوں نے اب تک کی ہیں۔ یہ نہ جادوگری ہے اور نہ وہ دونوں جادوگر ہیں۔ اس لیے تمہیں اس معاملے میں اچھی طرح غور و فکر کرلینا چاہیے۔ اس پر کچھ لوگوں نے رائے دی کہ اس معاملے میں کھل کر اختلاف نہ کرو تمہاری باتیں عام لوگوں تک نہیں پہنچنی چاہئیں۔ چناچہ ان کے مشورے کو قبول کرتے ہوئے انھوں نے پرائیویٹ میٹنگ کی اور نہایت رازداری سے اس کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا۔
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

انھوں نے کہا یہ دونوں بڑے ماہر جادوگر ہیں یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں۔ اور تمہارے اعلیٰ طرز زندگی کو درہم برہم کردیں۔

قَالُوْٓا اِنْ ھٰذٰنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِھِمَا وَیَذْھَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی۔ (طٰـہٰ : 63) (انھوں نے کہا یہ دونوں بڑے ماہر جادوگر ہیں یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں۔ اور تمہارے اعلیٰ طرز زندگی کو درہم برہم کردیں۔ ) اِنْ ھٰذٰنِ …یہ ” اِنْ “ مخففہ ” اِنَّ “ کے معنی میں ہے۔” لَسٰحِرٰنِ “ پر الف اس کا قرینہ ہے۔ یہاں ایک نحوی الجھن ہے، وہ یہ کہ اِنَّ تو ہمیشہ اسم کو نصب دیتا ہے۔ اس لیے آیت یوں ہونی چاہیے تھی اِنْ ھٰذَیْنِ لَسٰحِرٰنِ لیکن یہاں ھٰـذٰنِمرفوع ہے جو نحوی قاعدہ کے خلاف ہے۔ علماء کرام نے اس کے متعدد جواب دیئے ہیں۔ 1 کو فیوں کے نزدیک یہ اِنْ ، اِنَّ کا مخفف نہیں بلکہ نافیہ ہے اور ساحران پر جو لام ہے وہ اِلاَّ کے معنی میں ہے۔ 2 عرب کے بعض قبائل تثنیہ کو رفعی، نصبی، جری حالت میں الف کے ساتھ پڑھتے ہیں جیسے : ان اباھا وابااباھا قدبلغا فی المجدغایتاھا بنی الحرث بن کعب، زبیر، خثعم، کنانہ سب تثنیہ کو الف کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ (قرطبی) علامہ آلوسی نے اسے سب سے عمدہ توجیہ کہا ہے۔ الْمُثْلٰی …امثل کی مونث ہے۔ جیسے افضل سے فضلیٰ ۔ اس کا معنی ہے مثالی، معیاری، اعلیٰ ، عمدہ اور برتر۔ مُثْلٰیکا مفہوم مشاورت کے شرکاء میں جو زیادہ پرجوش تھے انھوں نے کہا کہ تم نہ جانے کن اندیشوں میں مبتلا ہوگئے ہو۔ بات صرف اتنی ہے کہ یہ دونوں بھائی بہت بڑے جادوگر ہیں۔ ان کے پاس دوسرے کو متأثر کرنے اور حالات کو حسب حال بنانے میں جادو ہی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس لیے ہمارے جادوگر بھائیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بنی اسرائیل کے دو معمولی نوجوان جنھوں نے کہیں بھی جادو کا فن سیکھنے میں محنت نہیں کی اور ہمارے بھائی جن کی زندگیاں اس فن کی خدمت کرتے ہوئے گزری ہیں ان کے لیے چیلنج بن جائیں تو یہ ایک بہت تکلیف دہ اور شرمندہ کردینے والی بات ہوگی۔ اس طرح سے تمام جادوگروں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری بات یہ کہی کہ یہ معاملہ صرف ایک مقابلے کا نہیں بلکہ ملک کی بقاء کا ہے۔ یہ لوگ تمہیں اس ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی ملک میں بہت بڑی تعداد ہے وہ ملک کی آبادی کا تقریباً دس فیصد ہیں۔ اور مزید یہ کہ اس ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو حکومت سے ناراض ہیں اور ہر اس قوت کا ساتھ دینے کے لیے بےچین ہیں جو حکومت کو بدل سکتی ہو۔ بنا بریں ہم سب پر عموماً اور جادوگروں پر خصوصاً یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فن کے زور سے ان دو جادوگروں کو شکست دے کر ملک کو بچانے کی تدبیر کریں کیونکہ اگر یہ اس مقابلے میں شکست کھا گئے تو ان کے تمام عزائم خاک میں مل جائیں گے۔ اور اگر یہ جیت گئے تو پھر ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ اور تیسری بات یہ کہی کہ مصر ایک بہت متمدن ملک ہے، اس کی ایک خوبصورت ثقافت ہے، اس کا ایک قومی تشخص ہے۔ صدیوں میں اس نے اپنی ایک تہذیب بنائی اور مخصوص تمدن کو وجود دیا ہے۔ اگر یہ لوگ کامیاب ہوگئے تو ملک میں وہی نظام نافذ کرنے کی کوشش کریں گے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہماری مخصوص تہذیب اور ہمارا خوبصورت تمدن اور ہماری خوشنما ثقافت، ہمارے آرٹ اور ہماری تمام تفریحات اور ہماری خواتین کی آزادیاں سب کچھ سلب ہو کر رہ جائے گا۔ یہ لوگ ہمارے محلات میں گھوڑے باندھیں گے۔ ہماری آزادانہ تقریبات، شریفانہ متانت کا نام دے کر شرم و حیاء کی زنجیروں میں جکڑ دیں گے۔ اگر ہم اس صورتحال سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اس مقابلے میں اپنی پوری قوت صرف کر دینی چاہیے اور بجائے آپس میں اختلاف پیدا کرنے کے ایک متحدہ محاذ بنا کر اور اپنی طاقت کو مجتمع کرکے مقابلے میں اترنا چاہیے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ جو بات فرعون کے ایوان ہائے حکومت میں صدیوں پہلے کہی گئی تھی آج وہی بات مسلمانوں کی حکومتوں کے ایوانوں میں بھی کہی جاتی ہے۔ وہ بھی فرعون کی حکومت کے خطرے کو ملک کی بقاء کا مسئلہ قرار دیتے تھے۔ آج بھی حکمران اپنی بقاء کے لیے ملکی بقاء کا حوالہ دیتے ہیں، جس حکومت کے نظم و نسق میں عوام کا کوئی دخل نہ تھا اسی حکومت کی طرف سے عوام کو استعمال کرنے کے لیے تمہارا ملک، تمہارا تمدن اور تمہاری ثقافت کے نام سے بہکایا جارہا تھا اور آج بھی حکومتیں اسی طرح عوام کہ بہکاتیں اور استعمال کرتی ہیں اور جس طرح آج اصلاح کی ہر کوشش کو حکومت پر قبضہ کرنے کا الزام دے کر پابند سلاسل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بالکل یہی بات فرعون اور اس کے عمائدین بھی کہہ رہے تھے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ صدیوں کے طویل سفر کے باوجود شیطانی حربوں میں کتنی یکسانی اور باطل کے مقاصد میں کتنی ہم آہنگی ہے۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

پس اپنی ساری تدبیریں جمع کرلو، پھر ان کے مقابلے میں متحد ہو کر آئو اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا۔

فَاَجْمِعُوْا کَیْدَکُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا ج وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی۔ (طٰـہٰ : 64) (پس اپنی ساری تدبیریں جمع کرلو، پھر ان کے مقابلے میں متحد ہو کر آئو اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا۔ ) ہر طرح کی تیاری کی تاکید وہ جادوگر جو مقابلے کے لیے بلائے گئے تھے مشاورت کرنے والوں نے حالات کا جائزہ لینے اور خدشات کا اظہار کرنے کے بعد انھیں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام تر کامیابی کا دارومدار تمہاری کاوشوں پر ہے۔ وہ دونوں بھائی چونکہ بہت بڑے جادوگر ہیں اس لیے ایسی کوئی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی جو بےدلی سے کی جائے یا کوشش کرنے والوں میں انتشار پایا جائے۔ اقتدار کے حاشیہ نشینوں اور خدمت گزاروں میں عموماً یہ مسئلہ رہا ہے کہ جب بھی حکومت کو کوئی مہم درپیش ہوتی ہے تو اس کے حمایتی بڑھ چڑھ کر اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہیں، لیکن ان کے اندر دو کمزوریاں ختم ہونے میں نہیں آتیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت کی مہم اور اس کی ترجیحات کو وہ کبھی اپنی ترجیحات نہیں سمجھتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بظاہر ان کی اچھل کود تو دکھائی دیتی ہے لیکن ان کے دل حکومت کی ہمنوائی میں نہیں دھڑکتے اور دوسری یہ بات کہ اقتدار کے حمایتیوں میں ہمیشہ گروہ بندی ہوتی ہے۔ ہر گروہ دوسرے سے آگے بڑھ کر صاحب اقتدار کو یقین دلانا چاہتا ہے کہ اس مہم کی کامیابی میری کاوشوں کے بغیر ممکن نہیں۔ اور میں اس کے لیے جان لڑا دینے سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔ لیکن ان کا آپس کا انتشار ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ فرعون اور اس کے قریبی لوگ معلوم ہوتا ہے اس صورتحال کو سمجھتے تھے۔ اس لیے انھوں نے زور دے کر کہا کہ تمہارے اندر کوئی انتشار نہیں ہونا چاہیے۔ تم اپنی تدبیروں کو باہمی مشاورت سے ایک اجتماعی شکل دینے کی کوشش کرو۔ اور پھر دونوں بھائیوں کے مقابل میں ایک متحدہ محاذ بنا کر اترو اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ آئندہ کی کامرانیاں اس گروہ کے لیے ہیں جو آج کے مقابلے کے لیے کامیاب رہتا ہے۔
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

جادوگروں نے کہا، اے موسیٰ ! تم پیش کرو یا ہم پیش کرنے والے بنتے ہیں۔

قَالُوْا یٰـمُوْسٰٓی اِمَّـآ اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّـآ اَنْ نَّـکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی۔ (طٰـہٰ : 65) (جادوگروں نے کہا، اے موسیٰ ! تم پیش کرو یا ہم پیش کرنے والے بنتے ہیں۔ ) دونوں فریق آمنے سامنے باہمی قرارداد اور پھر مختلف قسم کی تیاریوں کے بعد دونوں فریق مقابلے پر اترے۔ ایک طرف جادوگروں کی ایک بڑی تعداد تھی اور دوسری طرف حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) تھے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ بھی موجود ہوں۔ جادوگروں نے پیشہ ورانہ اخلاق کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت موسیٰ سے کہا کہ تم اپنا پانسہ پھینکو گے یا ہم اپنا ہنر دکھائیں۔ انھوں نے کہنے کی حد تک تو حضرت موسیٰ کو پہل کرنے کی پیشکش کی، لیکن الفاظ کا انتخاب بتاتا ہے کہ وہ پہل کرنے کے لیے بیتاب تھے کیونکہ وہ تجربہ کار جادوگر تھے، وہ خوب جانتے تھے کہ مقابلے میں تقدیم و تاخیر سے مقابلے پر اثر پڑتا ہے اور بعض دفعہ محض تقدیم بازی جیتنے کا سبب بنتی ہے اور محض تاخیر سے بعض دفعہ ہوا خیزی ہوجاتی ہے اور یہ بات تو واضح ہے کہ جادو تو غیرمتوقع نتیجہ خیزی کا نام ہے۔ اگر ایک فریق پہلے ہی ہلہ میں غیرمتوقع اور حیران کن چیزوں کے اظہار سے دماغوں کو مسحور کردیتا ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 20:66–67

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

حضرت موسیٰ نے کہا بلکہ تم ہی پیش کرو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے آپ ( علیہ السلام) کو یوں دکھائی دینے لگیں جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

تو موسیٰ (علیہ السلام) دل میں کچھ ڈرے۔

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا ج فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّـھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی۔ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّـوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 66، 67) (حضرت موسیٰ نے کہا بلکہ تم ہی پیش کرو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے آپ ( علیہ السلام) کو یوں دکھائی دینے لگیں جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) دل میں کچھ ڈرے۔ ) جادو کا اثر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چونکہ اللہ تعالیٰ پر بےپناہ اعتماد تھا اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے بےتأمل کہا کہ تم ہی اپنا ہنر دکھانے میں پہل کرو۔ آیت کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے یہ بات کہی انھوں نے ایک لمحے میں نہ جانے کتنی لاٹھیاں اور کتنی رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ ان کے ڈالنے کی دیر تھی کہ ان کے جادو کے اثر سے لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی طرح رینگنے لگیں اور ایسا لگتا ہے کہ رخ ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف تھا۔ آپ ( علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ سینکڑوں سانپ میری طرف بڑھ رہے ہیں تو اگر کوئی اور شخص ہوتا تو وہ دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہوتا لیکن آپ ( علیہ السلام) اپنی جگہ سے ہلے نہیں البتہ ! آپ ( علیہ السلام) نے اپنے دل میں ایک خوف سا ضرور محسوس کیا کیونکہ آپ ( علیہ السلام) پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انسان بھی تھے کیونکہ ہر پیغمبر انسان ہوتا ہے۔ پیغمبری ایک عظیم منصب ہے جو بندوں اور اللہ کے درمیان پیغام پہنچانے کا فرض انجام دیتا ہے اور پیغمبری کے تقاضوں کے مطابق پیغمبر کو بہت سے کمالات دیئے جاتے ہیں جو دوسرے انسانوں کو نہیں دیئے جاتے۔ وہ اپنی عادات واطوار اور افکار و کردار میں معصوم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اسے ایک ایسامقام حاصل ہوتا ہے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ باایں ہمہ ! وہ ایک انسان ہوتا ہے، اسے بھی بھوک لگتی ہے، وہ بھی بیمار ہوتا ہے، وہ بھی شادی کرتا ہے، اس کے بچے بھی ہوتے ہیں، وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے کاروبار بھی کرتا ہے اور پھر اپنی طبعی عمر گزار کر واصل بحق ہوجاتا ہے۔ پیغمبر ہونے کے باوجود اس کے طبعی اور انسانی تقاضے ختم نہیں ہوتے۔ البتہ وہ شریعت کی حدود سے کبھی آگے نہیں بڑھتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی انسانیت کے تقاضے سے اس صورتحال سے گھبرائے۔ عام انسانوں کی طرح آپ ( علیہ السلام) پر بھی جادو کا اثر ہوا۔ جادو صرف نگاہوں کے راستے سے قوت متخیلہ کو متأثر کرتا ہے۔ کسی شے کی حقیقت و ما ہیت کو تبدیل نہیں کرتا اور حقیقت سامنے آجائے تو فوراً اس کا طلسم پاش پاش ہوجاتا ہے۔ یہ بھی مسمریزم اور ہپناٹزم کی طرح نظربندی کا ایک کھیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جادو کا اثر پیغمبر پر بھی ہوسکتا ہے۔ جس طرح نبی کریم ﷺ پر بعض یہود نے جادو کیا اور روایاتِ حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اسی کے علاج کے لیے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے خبر دینے سے اس جادو کا علاج کیا گیا۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ جادو کے زور سے پیغمبر کے فریضہ رسالت کی ادائیگی کی صلاحیت کو متاثر نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترنے والی وحی اس کے دل و دماغ سے کبھی محو نہیں ہوتی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں خیفۃً کا لفظ یہ بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہونے والا خوف بہت معمولی اور وقتی تھا، لیکن پروردگار نے اس پر بھی دستگیری فرمائی۔
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔

قُلْنَا لاَ تَخَفْ اِنَّـکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔ (طٰـہٰ : 68) (ہم نے کہا ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بن جانے سے جو خدشہ سا پیدا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کے لیے فوراً بشارت نازل فرمائی کہ ڈرو مت، ان جادوگروں کا جادو کتنا بھی عظیم ہو، معجزے پر غالب نہیں آسکتا۔ اس لیے غالب اور سربلند تمہیں رہو گے۔
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

جو تمہارے ہاتھ میں ہے اسے زمین پر ڈال دو ، یہ ان کے سارے سوانگ کو جو انھوں نے رچایا ہے نگل جائے گا، انھوں نے جو کچھ کیا ہے وہ فقط ایک جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے کبھی فلاح نہیں پاتا۔

وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا ط اِنَّمَا صَنَعُوْا کَیْدُسٰحِرٍ ط وَلاَ یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی۔ (طٰـہٰ : 69) (جو تمہارے ہاتھ میں ہے اسے زمین پر ڈال دو ، یہ ان کے سارے سوانگ کو جو انھوں نے رچایا ہے نگل جائے گا، انھوں نے جو کچھ کیا ہے وہ فقط ایک جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے کبھی فلاح نہیں پاتا۔ ) معجزہ اور سحر میں فرق جادوگروں کا کرتب واقعی متأثر کن تھا۔ سینکڑوں سانپ میدان میں رینگتے نظر آرہے تھے اور دیکھنے والے نہایت مرعوبیت کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی وقتی طور پر اس سے متأثر ہوئے لیکن پروردگار نے حکم دیا کہ آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ میں جو عصا ہے اسے زمین پر پھینک دو ۔ تم دیکھو گے کہ جادوگروں نے جو بیشمار سانپ میدان میں پھیلا دیئے ہیں یہ ان سب کو ہڑپ کر جائے گا کیونکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے وہ شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ وہ جادو کا کھیل ہے جو نظر کو فریب تو دے سکتا ہے لیکن حق کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔” تلقف “ کے لفظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ ہڑپ کر جائے گا۔ اس لیے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ میدان میں جادوگروں نے جتنی لاٹھیاں پھینکیں اور رسیاں پھیلائیں وہ سب کو نگل گیا۔ وہ ایک ایسا خوفناک اژدھا تھا جس کی پھنکار دور دور تک سنائی دیتی تھی اور اس کا جبڑا کھلا تھا۔ اسے کسی چیز کو نگلتے ہوئے دشواری پیش نہیں آتی تھی۔ لیکن آیت کریمہ میں ماصنعوا کے الفاظ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کہ اس اژدھا نے رسیوں اور لاٹھیوں کو نہیں نگلا بلکہ اس طلسم اور جادو کے اثر کو نگلا تھا جس کی بدولت وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ نظر آرہی تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ واقعہ کی شکل یہ ہو کہ وہ لاٹھیوں اور سانپوں کو نگلتا ہوا اس طرح آگے بڑھ رہا تھا کہ جادو کا اثر ختم ہوتا جارہا تھا اور پیچھے وہ لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکتا جارہا تھا۔ چناچہ دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ اب میدان میں لاٹھیاں اور رسیاں تو موجود ہیں لیکن ان میں سے کسی میں ہلنے کی سکت نہیں کہ انھیں سانپ گمان کیا جاسکے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ساحر جہاں بھی جائے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جہاں کہیں بھی جادو اور شعبدہ بازی حق کے مقابلے میں آئے گی اور جادوگر اسے ذریعہ بنا کر حق کو شکست دینے کی کوشش کریں گے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے بشرطیکہ اہل حق استقامت اور توکل علی اللہ میں کمزوری نہ آنے دیں۔ جادو وقتی طور پر نگاہوں کو فریب دے سکتا ہے لیکن حق کو شکست نہیں دے سکتا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انبیائے کرام اور ان کے راستے پر چلنے والے اپنے فکر و کردار کی بلندی اور اپنی دعوت کی صداقت کے باعث لوگوں میں ایک صالح تبدیلی پیدا کرتے ہیں اور ان کی زندگی کی سچائی اور ان کی دعوت کا نور دلوں کو روشنی دیتا ہے حتیٰ کہ مخالفین بھی دلوں میں ان کی عظمت کو تسلیم کرنے لگتے ہیں۔ وہ جب تک دنیا میں رہتے ہیں مینارہ نور بن کے رہتے ہیں اور جب دنیا سے جاتے ہیں تو تاریخ کا ورق الٹ کر جاتے ہیں اور ان کی دعوت دنیا کے لیے ایک پیغام ثابت ہوتی ہے۔ جادوگر اپنی تمام طلسم آرائی کے باوجود دنیا میں ایسا کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔ وہ لوگوں کو حیران تو کرسکتے ہیں لیکن کسی تبدیلی کا آغاز نہیں کرسکتے۔ وہ اہل دنیا سے پیسہ بٹور سکتے ہیں لیکن دلوں میں ان کے لیے کبھی احترام پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ معاشرے کے گرے پڑے لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے فرمایا گیا کہ ساحر جہاں بھی ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ نہ اسے کبھی عزت ملتی ہے اور نہ وہ دنیا کو کوئی پیغام دے سکتا ہے۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

تو جادوگر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے کہ ہم نے مان لیا ہارون اور موسیٰ کے رب کو۔

فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَ مُـوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 70) (تو جادوگر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے کہ ہم نے مان لیا ہارون اور موسیٰ کے رب کو۔ ) جادوگروں کا اعترافِ حق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر جادوگروں کی تمام طلسم آرائی کو نگل گیا۔ جادوگر چونکہ جادو کی حدود کو جانتے اور اس کے اثرات کو پہچانتے تھے، انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ عصائے موسیٰ نے جس طرح ہمارے کیے ہوئے سحر کے اثرات کو لقمہ دہن بنایا ہے یہ کسی جادو کا عمل نہیں کیونکہ جادو دوسرے جادو کے اثر کو ختم تو کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ ایسانھیں ہوتا کہ ایک جادو دوسرے جادو کو فوراً نگل جائے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے کرتب میں دوسروں سے بڑھ کر کمال کر اظہار کرے۔ چناچہ جادوگروں کو جب اس بات کا یقین ہوگیا کہ ہمارے مقابلے میں جو کچھ پیش آیا ہے وہ جادو نہیں، معجزہ تھا۔ اور معجزہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کے ہاتھوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے یقینا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ چناچہ یقین ہوتے ہی وہ اس طرح سجدے میں گرے جس طرح میدان میں لاٹھیاں اور رسیاں پھینکی گئی تھیں۔ قرآن کریم نے دونوں کے لیے ایک ہی فعل استعمال کیا ہے بلکہ یہاں فعل مجہول لا کر شاید یہ تصور دینا مقصود ہے کہ حقیقت کے شعور نے انھیں اس حد تک وارفتہ کیا کہ وہ تمام احتیاطوں کو بالائے طاق رکھ کر اور غور و فکر کو نظرانداز کرکے اس طرح سجدے میں گرے جیسے وہ خود نہیں گرے بلکہ اپنی وارفتگی کے ہاتھوں گرائے گئے ہیں اور مزید عجیب بات یہ ہے کہ اہل مصر کے یہاں یہ طریقہ رائج تھا کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے کمال فن کا اعتراف کرتا تھا تو وہ اعتراف کے طور پر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا تھا۔ تو انھوں نے سجدہ ریز ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کمال فن کا اعتراف نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ ہم اس رب کو ماننے کا اعلان کرتے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں جس کی نمائندگی موسیٰ اور ہارون کررہے ہیں۔ اور جس کے حکم نے انھیں یہ قوت اور جسارت بخشی ہے کہ وہ فرعون جیسے پرہیبت حکمران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے اور اس کے ساتھ مقابلے کے لیے میدان میں کھڑے ہیں۔ اس سے ایک اور بات کی طرف بھی ہمیں رہنمائی ملتی ہے وہ یہ کہ یہ مقابلہ درحقیقت جادوگروں کے درمیان نہیں تھا اور نہ یہ معلوم کرنے کی کوشش تھی کہ موسیٰ بڑے جادوگر ہیں یا ساحرانِ مصر ؟ بلکہ مقابلہ اس بات پر ہورہا تھا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کا دعویٰ لے کر آئے ہیں اور اس کے ثبوت کے لیے انھوں نے جو نشانیاں دکھائیں وہ معجزات ہیں یا جادو کا نتیجہ۔ فرعون اور اس کے عمائدین نے اسے معجزہ تسلیم کرنے کی بجائے جادو قرار دے کر مقابلے کا ڈول ڈالا اور یہ کوشش کی کہ مصر کے بڑے بڑے جادوگروں سے مقابلے کے ذریعے یہ ثابت کردیا جائے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جسے معجزہ کہتے ہیں، وہ جادو ہے۔ ورنہ جادوگروں کے مقابلے میں وہ کبھی شکست نہ کھاتا۔ اب جبکہ عصائے موسیٰ نے اژدھا بن کر جادوگروں کے تمام طلسم کو پامال کر ڈالا تو جادوگر سمجھ گئے اور تماشا دیکھنے والے بھی کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور ان کے ہاتھ سے ظاہر ہونے والا یہ کمال جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ معجزہ ہے۔ ظاہر ہے کہ لوگوں میں اس خیال کا پیدا ہوجانا اور مقابلے میں اس بات کا ثابت ہوجانا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں، یہ ایسی خطرناک بات تھی جس کے نتیجے میں مصر میں برپا ہونے والے انقلاب کو روکا نہیں جاسکتا تھا اور فرعون کے لیے یہ ایک ایسی ضرب تھی جو اس کی کمر توڑنے کے لیے کافی تھی۔ چناچہ اس نے نہایت ذہانت سے اس ہاری ہوئی بازی کو جیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ اپنی شکست کو ایک دوسرا رنگ دے کر پیدا ہونے والے خطرناک نتائج سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی ایک موہوم سعی کی۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا، بیشک وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی ہے، اب میں تمہارے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا، پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ط اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج فَـلَاُ قَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلاَ فٍ وَّلَاُ وَصَلِّبَنَّـکُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ ز وَلَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَـآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰی۔ (طٰـہٰ : 71) (فرعون نے کہا کہ تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا، بیشک وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی ہے، اب میں تمہارے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا، پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔ ) فرعون کا آخری حربہ فرعون اس شکست پر بھڑک اٹھا اور جادوگروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے صرف اپنی شکست تسلیم نہیں کی بلکہ موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لانے کا بھی اعلان کیا ہے حالانکہ تمہارا رب میں ہوں اور تم جانتے ہو کہ اس ملک میں کوئی کام میری اجازت کے بغیر نہیں ہوتا، لیکن تم نے میری اجازت کے بغیر اتنا بڑا اقدام کرکے دراصل بغاوت کی ہے، لیکن تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری اس حرکت کی حقیقت کو نہیں جانتے۔ تم نے بظاہر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی نبوت کا اقرار کیا لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم نے ملی بھگت سے موسیٰ کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی ہے۔ وہ تمہارا گرو ہے۔ تم نے یہ جادوگری اسی سے سیکھی ہے۔ تم نے اس کے معجزے سے شکست نہیں کھائی بلکہ تم نے اپنے استاد کے جادو سے شکست کھائی ہے اور تم آپس میں یہ طے کرکے آئے تھے کہ اپنے استاد کا غلبہ ثابت کرکے اور اسے اس کی پیغمبری کا ثبوت بنا کر یہاں سیاسی انقلاب برپا کردو گے۔ سورة الاعراف میں الفاظ زیادہ واضح ہیں : اِنَّ ھَذٰا لَمَکْرٌمَّکَرْتُمُوْہْ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْھَا اَھْلَھَا ” یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے دارالسلطنت میں ملی بھگت کرکے کی ہے تاکہ سلطنت سے اس کے مالکوں کو بےدخل کردو۔ “ اب دیکھو میں تمہیں اس کی سزا کیا دیتا ہوں۔ میں تمہارے بےترتیب ہاتھ پائوں کاٹوں گا اور پھر تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا یعنی تمہیں سولی دینے کے لیے سولی گھر نہیں لے جایا جائے گا بلکہ عام پبلک کے سامنے کھجور کے تنوں پر تمہیں لٹکا دیا جائے گا تاکہ آنے جانے والے تمہاری عبرتناک موت کا نظارہ کریں۔ تب تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ تم نے اپنے گرو سے ڈر کر جس طرح سازش میں شرکت کی ہے وہ تمہیں کس قدر مہنگی پڑے گی۔ تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا گرو جادو کے زور سے تمہیں بڑی سے بڑی سزا دے سکتا ہے لیکن اب تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ وہ ایسی سزا نہیں دے سکتا جیسی سزا میں تمہیں دوں گا۔ یہ ہری ہوئی بازی جیت لینے کے لیے فرعون کا آخری حربہ تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جادوگروں کو ایسی خوفناک سزا سے ڈرا کر میں ان سے اس بات کا اعتراف کرالوں گا کہ انھوں نے واقعۃً حضرت موسیٰ سے ملی بھگت کی تھی اور اس طرح مملکت کے خلاف سازش تیار کی تھی اور ساتھ ہی وہ لوگوں کو یہ تأثر دینے کی کوشش کررہا تھا کہ جادوگروں کا شکست تسلیم کرلینا درحقیقت شکست نہیں بلکہ ایک سازش ہے جس کا ہم سب لوگ شکار ہوئے ہیں۔ لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ اب جادوگروہ نہیں رہے جو مقابلے میں آنے سے پہلے فرعون سے اپنے معاوضے کا سوال کررہے تھے بلکہ اب ان کے اندر ایمان کا نور روشن ہوگیا ہے۔ اس لیے ان کی استقامت نے فرعون کی اس چال کو بھی ناکام بنادیا۔
Ayahs 20:72–73

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انھوں نے کہا کہ ہم ہرگز تمہیں ترجیح دینے والے نہیں ہیں ان روشن دلائل پر جو ہمارے سامنے آئے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، تم کر گزرو جو کچھ کرسکتے ہو، تم زیادہ سے زیادہ اسی زندگی کا فیصلہ کرسکتے ہو۔

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے ہیں تاکہ ہ ہماری خطائوں کو معاف کردے اور اس جادوگری کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا اور اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَاجَـآئَ نَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَـآ اَنْتَ قَاضٍ ط اِنَّمَا تَقْضِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ اِنَّآ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَلَنَا خَطٰیٰـنَا وَمَـآ اَکْرَھْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِ ط وَاللّٰہُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی۔ (طٰـہٰ : 72، 73) (انھوں نے کہا کہ ہم ہرگز تمہیں ترجیح دینے والے نہیں ہیں ان روشن دلائل پر جو ہمارے سامنے آئے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، تم کر گزرو جو کچھ کرسکتے ہو، تم زیادہ سے زیادہ اسی زندگی کا فیصلہ کرسکتے ہو۔ ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے ہیں تاکہ وہ ہماری خطائوں کو معاف کردے اور اس جادوگری کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا اور اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ ) ایمان کا کرشمہ جادوگروں نے فرعون کی دھمکیوں کے جواب میں بجائے کمزور پڑنے کے نہایت جرأت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ ہم تجھے اس وقت تک رب تسلیم کرتے رہے ہیں جب تک حقیقت نے ہماری آنکھیں نہیں کھولی تھیں۔ اب جبکہ واضح دلائل نے ہمیں حقیقت شناس بنادیا ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھ چکے ہیں تو اب ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ تمہاری ان دھمکیوں کو ان دلائل پر جو ہمارے سامنے آچکے ہیں اور تمہاری ذات کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ترجیح دینے کی حماقت کریں۔ رہی یہ بات کہ تم ہمیں بدترین سزا دینا چاہتے ہو تو تم سے جو ہوسکتا ہے کر گزرو۔ تم زیادہ سے زیادہ اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہو کہ ہم سے ہماری زندگیاں اور ہماری دنیا چھین لو۔ لیکن ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس میں ان باتوں کی کوئی قیمت نہیں۔ ہم فانی زندگی کے بدلے میں ابدی زندگی کا سودا کرچکے ہیں اور دنیوی عیش و آرام کے بدلے میں ہم جنت کی نعمتوں کی امید رکھتے ہیں۔ اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں اک جان کا زیاں ہے کوئی ایسا زیاں نہیں حیرانی ہوتی ہے کہ چند لمحے پہلے جو جادوگر فرعون کو رب مانتے تھے اور دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لیے ہر ذلت قبول کرنے کے لیے تیار تھے۔ اب اچانک انھیں کیا ہوا کہ ان کی کایا ہی پلٹ گئی۔ نسلوں کے مسلمان جو اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنا رب مانتے اور اخروی زندگی پر ایمان رکھتے ہیں ان میں کتنی تعداد ایسی ہے جو مادی زندگی کے عشق سے نکلنے کو تیار نہیں اور جنھوں نے معاش یا اقتدار کو اپنا رب سمجھ رکھا ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص دل کی پوری آمادگی اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے راستے پر آتا ہے تو پھر قدرت کی طرف سے نوازنے میں دیر نہیں لگتی۔ اسے اللہ تعالیٰ کی ذات اور آخرت پر ایسا یقین آجاتا ہے کہ وہ اخروی نعمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اب اس کے لیے آخرت کی خاطر دنیا کی بڑی سے بڑی راحت کو چھوڑنا مشکل نہیں رہتا بلکہ صحابہ کرام کی زندگیاں تو ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ آخرت کی طلب میں نقدجان پیش کرنے کے لیے اس طرح بےقرار رہتے تھے جیسے ایک دنیادار دنیوی نعمتوں کے لیے بےقرار ہوتا ہے۔ انھوں رسول اللہ ﷺ کی صحبت نے رخ دوست کا ایسا نظارہ کرایا تھا کہ زندگی ان کے لیے دشوار ہوگئی تھی۔ اقبال اسی کو امامت کا مستحق سمجھتا ہے جو آج بھی مسلمانوں میں ایسا ہی جذبہ بیدار کرسکے۔ وہ کہتا ہے : تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے موت کے آئینہ میں دکھا کر تجھے رخ دوست زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے جادوگروں نے مزید کہا کہ ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے ہیں اب فکر تیری سزائوں کی نہیں اس بات کی ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرما دے۔ ہم نے اب تک جہالت کی وجہ سے نہ جانے کیا کیا گناہ کیے ہیں اور اب تازہ گناہ یہ ہے کہ ہمارا گمان پہلے ہی یہ ہورہا تھا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں، جادوگر نہیں۔ لیکن تم نے ہمیں مجبور کیا تو ہم مجبوراً میدانِ مقابلہ میں اترے۔ ہم اس گناہ پر بھی اللہ تعالیٰ سے بخشش کے طلبگار ہیں۔ اور اگر اس پاداش میں ہمیں جان دینی پڑتی ہے جس کی تو ہمیں دھمکی دے رہا ہے تو ہم اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھ کر قبول کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کے لیے قربانی دینا ہر ایک کے نصیب کی بات نہیں۔ یہ اسی کا مقدر ہوتا ہے جس کو پروردگار اپنے لیے چن لیتا ہے، اور ویسے بھی اس کی راہ میں جان دینا اللہ تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کیونکہ : جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
Ayahs 20:74–76

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لیے جہنم ہے، نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا۔

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا جس نے نیک عمل کیے ہوں گے ایسے لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ جزاء ہے اس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔

اِنَّـہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَـہٗ جَھَنَّمَ ط لاَ یَمُوْتُ فِیْھَا وَلاَ یَحْیٰی۔ وَمَنْ یَّـاْ تِہٖ مُؤْمِنًا قَدْعَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُوْلٰٓئِکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ جَزَ ائُ مَن تَزَکّٰی۔ (طٰـہٰ : 74، 75، 76) (حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لیے جہنم ہے، نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا۔ اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا جس نے نیک عمل کیے ہوں گے ایسے لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں۔ سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ جزاء ہے اس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔ ) ایک تضمین یہ تینوں آیتیں جادوگروں کے کلام کا حصہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے۔ اندازِ کلام بتارہا ہے کہ پروردگار نے جادوگروں کے جواب کے ساتھ اپنی بات ملا کر اس کو مکمل اور مطابقِ حال کردیا ہے اور ویسے بھی جو کچھ ان میں کہا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے شایانِ شان ہے۔ اس میں اصولی بات فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا کوئی خصوصی تعلق نہیں۔ اس کے یہاں نجات اور تقرب کے لیے دو چیزیں درکار ہیں، ایمان اور عمل صالح۔ ان دونوں میں ترقی سے آدمی کے مدارج میں ترقی ہوتی ہے اور جو شخص ان دونوں سے تہی دامن ہے وہ مجرم ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور مجرم کی حیثیت سے پیش ہوگا۔ اس کا انجام یقینا جہنم ہے اور جہنم ایسی ہولناک جگہ ہے جس میں داخل ہونے والا نہ زندہ ہوگا اور نہ مرے گا۔ انسان اگر بڑی سے بڑی تکلیف میں بھی مبتلا کردیا جائے تو وہ ایک حد تک اسے برداشت کرتا ہے۔ لیکن جب وہ تکلیف ناقابلِ برداشت ہوجاتی ہے تو وہ پھر موت کی آرزو کرنے لگتا ہے۔ لیکن اس سزا کی ہولناکی کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں داخل ہونے والا شخص سزا کی شدت سے موت کی آرزو کرتا ہے لیکن موت نہیں آتی بلکہ قرآن کریم میں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ جہنم میں آگ جب جلنے والوں کی کھالیں جلا دے گی تو وہ شاید یہ سمجھیں گے کہ اب ہمارے عذاب میں تخفیف ہوجائے گی لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی کسی کی کھال جل کے جھڑے گی تو ہم اسے نئی کھال پہنا دیں گے تاکہ وہ نئے سرے سے عذاب کا مزہ چکھے۔ ایسی ہولناک سزا کا دنیا میں تصور ہی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہاں ہر سزا کی ایک انتہا ہے اور ہر شدت کا ایک انجام یعنی موت ہے۔ لیکن وہاں دونوں چیزیں نہیں ہوں گی۔ اہل جہنم زندہ رہیں گے لیکن موت سے بدتر اور موت کی تمنا کریں گے لیکن یہ موت کبھی نہیں آئے گی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ نہ وہ مرے گا اور نہ وہ جئے گا اور دوسری آیت میں فرمایا کہ جو شخص مومن ہوگا اور ساتھ اس نے نیک عمل کیے ہوں گے تو اس کے لیے جنت کی بےپایاں نعمتیں ہیں۔ آیت کے اسلوب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح بھی پایا جاتا ہو۔ اور جو ایمان عمل صالح سے بالکل خالی ہے وہ محض موروثی ایمان ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں۔ البتہ اگر ایمان کے ساتھ کسی حد تک بھی عمل کا سرمایہ موجود ہو تو پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بدعملی اور بےعملی کی سزائیں بھگتنے کے بعد کبھی نہ کبھی یہ شخص ایمان کی وجہ سے جنت میں چلا جائے گا۔ لیکن جو شخص صرف اس لیے مومن ہے کہ وہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا، اس کے علاوہ اسے کچھ معلوم نہیں کہ اسلام کے تقاضے کیا ہیں اس کا ایمان ایک ٹھونٹھ درخت کے مانند ہے جو برگ و بار سے بالکل خالی ہے۔ ایسے درخت کی لکڑی جلنے کے سوا اور کسی کام نہیں آتی۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح کی توفیق دی ہے ان کے لیے سدابہار باغات ہیں جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہیں اور پھر اس بات کو مکرر ارشاد فرمایا کہ یہ ان لوگوں کا صلہ ہے جنھوں نے اپنے ظاہر و باطن اور اپنے عقیدہ و عمل کو پاکیزہ بنایا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان کے ساتھ حُسنِ عمل کی کس قدر اہمیت ہے۔