20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsروح القرآن

Ayah 20:22

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور دبا لو اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے وہ وہاں سے ایک دوسری نشانی بن کر چٹا سفید بغیر کسی مرض کے برآمد ہوگا۔

وَاضْمُمْ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓئٍ اٰیَۃً اُخْرٰی۔ (طٰـہٰ : 22) (اور دبا لو اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے وہ وہاں سے ایک دوسری نشانی بن کر چٹا سفید بغیر کسی مرض کے برآمد ہوگا۔ ) یدبیضا، دوسرا معجزہ عصائے موسیٰ کے سانپ بن جانے کے معجزے کے بعد دوسرا معجزہ پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ عطا فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ بغل میں دبا ئو۔ جب تم اس کو بغل سے نکالو گے تو وہ اس طرح چمکتا ہوا نکلے گا جیسے سورج چمکتا ہے۔ بَیْضَآئَ کا اطلاق ایسی سفید چیز پر ہوتا ہے جو روشن اور چمکدار ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکالتے تھے تو وہ ایسے چمکتا تھا کہ اس سے آنکھیں چندھیا جاتی تھیں یہ دوسرا معجزہ تھا جو پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا۔ سانپ کا معجزہ خوف، دہشت اور طاقت کی علامت تھا جس کی وجہ سے کوئی دشمن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حملہ نہیں کرسکتا تھا اور یدبیضا کا معجزہ روشنی کا استعارہ تھا۔ گویا آپ ( علیہ السلام) اپنے ساتھ ایک ایسی ہدایت لے کر آئے تھے جو انسانوں کی زندگیوں میں ایک روشن انقلاب کی نوید تھی۔ اس کے قبول کرلینے سے زندگی اور ماحول میں ایسی روشن تبدیلی آسکتی تھی جس سے انسان کی قسمت جگمگا اٹھتی۔ مِنْ غَیْرِ سُوْٓئٍ کا مفہوم بَیْضَآئَ کے بعد مِنْ غَیْرِ سُوْٓئٍ کا اضافہ ایک غلطی کے ازالے کے لیے کیا گیا۔ تورات میں یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سینے پر رکھ کر اپنا ہاتھ ڈھانپ لیا اور جب اسے نکالا تو وہ برص کی طرح سفید تھا۔ گویا آپ ( علیہ السلام) کا ہاتھ برص کی بیماری میں مبتلا تھا۔ قرآن کریم نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا یہ تو ایک معجزہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ کو سفیدی اور چمک عطا فرمائی تھی لیکن اس میں کوئی بیماری نہ تھی۔ یہاں سوء کا لفظ بیماری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور مزید اس آیت میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ میں یہ تبدیلی اس وقت آئے گی جب آپ ( علیہ السلام) بغل سے اسے نکالیں گے، ورنہ عام حالت میں ہاتھ ویسے ہی رہے گا جیسے قدرت نے اسے بنایا ہے اور بیماری کے بارے میں یہ کہنا ضروری نہیں کہ بیماری وقتی نہیں ہوتی مستقل ہوتی ہے۔ جب تک اس بیماری سے شفاء حاصل نہیں کرلی جاتی۔ ایسی تو کوئی بیماری نہیں ہوتی کہ بغل سے ہاتھ نکالو تو وہ بیماری ظاہر ہوجائے اور کچھ دیر بعد پھر ہاتھ اپنی اصلی حالت میں آجائے۔ قرآن کریم نے تورات کی اس غلطی کی اصلاح فرمائی۔ نیز اس کے بعد ارشاد فرمایا اٰیَۃً اُخْرٰی یہ مستقل جملہ نہیں بلکہ یہ دوسرا حال ہے۔ ایک حال تو یہ ہے کہ وہ بغیر کسی مرض کے چمکتا ہوا نکلے گا اور دوسرا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسری نشانی بن کے نکلے گا۔
Ayah 20:23

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم اپنی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض کا تمہیں مشاہدہ کرائیں۔

لِنُرِیَکَ مِنْ اٰیٰـتِنَا الْکُبْرٰی۔ (طٰـہٰ : 23) (تاکہ ہم اپنی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض کا تمہیں مشاہدہ کرائیں۔ ) دو معجزات دینے کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ صرف انہی دو معجزات پر اکتفا کیا جائے گا بلکہ آئندہ چل کر ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور بڑی بڑی فتوحات سے نوازیں گے۔ یہ دو معجزات تو تمہید کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے آئندہ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں مزید معجزات کی ضرورت پڑے گی اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی مزید تائید اور نصرت کی حاجت محسوس ہوگی تو ہماری قدرت و قہرمانیت اور خوارق ظہور پذیر ہوں گے۔ چناچہ اسی عصائے موسیٰ سے اور کیسے کیسے کرشمے دیکھنے میں آئے۔ بحرقلزم میں راستے اسی عصائے موسیٰ کے مارنے سے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور اسی عصا سے پانی کے بارہ چشمے پھوٹے۔ من وسلویٰ کی صورت میں بنی اسرائیل کو غذا دی گئی۔ پوری قوم کے سر پر بادلوں کا سائبان تان دیا گیا۔ اسی طرح کے اور معجزات جب ضرورت پڑے گی عطا فرمائے جائیں گے۔ ( علیہ السلام) ٍایک سوال کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ معجزات کے باب میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ انبیائے کرام کو اس وقت معجزات عطاء فرمائے گئے ہیں جب ان کی قوموں نے شدت سے ان کا مطالبہ کیا اور مقصود ان سے یہ ہوتا تھا کہ اس سے ان پر اتمامِ حجت ہوجائے اور حق سے انحراف کے لیے کوئی عذر ان کے پاس باقی نہ رہے۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ کیوں ہوا کہ ادھر آپ ( علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور ادھر آپ ( علیہ السلام) کو دو معجزات عطا فرما دیئے گئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ایسی حکمران کے پاس ہدایت کے لیے بھیجا جارہا تھا جو نہایت سرکش اور نہایت ظالم واقع ہوا تھا۔ اس کے پاس غیرمسلح حالت میں جانا اپنے آپ کو خطرات میں جھونکنے کے مترادف تھا۔ فرعون جیسے منتقم اور جبار حکمران سے یہ کوئی بعید نہ تھا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو دیکھتے ہی قتل کا حکم دے دیتا یا اور کوئی فوری اقدام کر گزرتا۔ اس لیے حضرت موسیٰ حضرت ہارون کو عصائے موسیٰ جیسے معجزے سے مسلح کرکے بھیجا گیا کہ جس کے ہوتے ہوئے آپ کو اچانک احتساب میں لانا ممکن نہ تھا۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے فرعون سے پہلی ہی ملاقات میں ان دونوں معجزات کا اظہار بھی کردیا تاکہ فرعون اور آل فرعون کو اندازہ ہوجائے کہ موسیٰ اور ہارون اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے ساتھ بھیجے گئے ہیں اور جس ذات نے انھیں ان قوتوں سے مسلح کیا ہے وہ تمہارے تخت الٹنے اور تاج چھیننے کی بھی قوت رکھتا ہے۔ اس کے دریائوں کا پانی تم پر جھپٹ سکتا ہے اور زمین تمہارے پائوں تلے سے کھینچی جاسکتی ہے۔ یہی وہ تصور تھا جس نے فرعون جیسے کم ظرف اور بدباطن شخص کو کسی بڑے اقدام سے روکے رکھا اور کئی سالوں تک مصر میں آپ ( علیہ السلام) کو دعوت کا کام کرنے کا موقع ملا اور بالآخر آپ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔
Ayah 20:24

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تم فرعون کے پاس جائو، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔

اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰے۔ (طٰـہٰ : 24) (تم فرعون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ادا رسالت کے لیے پہلا حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی گئی اور پھر انھیں سندماموریت کے طور پر اور ظالم حکمران کے دفاع کے لیے معجزات عطا فرمانے کے بعد جو پہلا حکم دیا گیا وہ یہ تھا کہ تم فر عون کے پاس جاؤ، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ اس کی سرکشی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بھی تھی اور بندوں کے ساتھ بھی۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی سرکشی کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو ربِ اعلیٰ کہلاتا تھا۔ وہ مصریوں کے سب سے بڑے دیوتا سورج کا اپنے آپ کو اوتار کہتا تھا اور مصریوں کے دل و دماغ پر اپنے آپ کو مسلط کرنے کے لیے جابجا اس کے اسٹیچو اور بت نصب کیے گئے تھے اور لوگوں کو ان کی پوجا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور بندوں کے ساتھ اس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ امراء کی ایک محدود تعداد کے علاوہ لوگوں کو سر اٹھا کے چلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور بنی اسرائیل کو اس حد تک دبا کے رکھا گیا تھا کہ جب اس نے محسوس کیا کہ ان کی افرادی قوت بڑھتی جارہی ہے اور ان کی نسل میں اضافہ دوسری قوموں کی نسبت کہیں زیادہ ہے تو اس نے سیاسی خودغرضی سے کام لیتے ہوئے حکم دے دیا کہ ان کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردیا جائے یا دریائے نیل میں بہا دیا جائے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھا جائے تاکہ ان سے لونڈیوں کی طرح گھر کی خدمت بھی لی جائے اور سفلی جذبات کی تسکین کا ذریعہ بھیبنایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یوں تو تمام اہل مصر کی طرف مبعوث کیے گئے تھے لیکن مصریوں کے سامنے دعوت عام دینے سے پہلے آپ ( علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ شخصی حکو متوں میں اور وہ بھی فرعون جیسی جابرانہ حکومت میں بادشاہ کی مرضی کیخلاف براہ راست عوام کے سامنے دعوت پیش کرنا اور ان کی اصلاح کے لیے کام کا آغاز کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور تھا۔ بادشاہِ وقت اگر دعوت سے متأثر ہوجائے اور وہ ایمان لے آئے تو پھر اس کی رعایا کا دعوت قبول کرلینا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ لوگ ہمیشہ اپنے بادشاہوں کے دین پر چلتے ہیں۔ اسی لیے انبیائے کرام کا طریق دعوت ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ سب سے پہلے ان قوتوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہیں جنھیں لوگوں پر کسی طرح کا بھی اثرواقتدار حاصل ہوتا ہے تاکہ ان کی قبولیت سے لوگوں میں کام کرنا آسان ہوجائے۔ لیکن جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ قبول کرنے کی بجائے مخالفت اور معاندت پر اتر آئے ہیں تو پھر وہ عام لوگوں کو اپنی دعوت کا ہدف بنا کر اپنی تمام تر صلاحیتیں اس کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی حکمت کے پیش نظر سب سے پہلے فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا گیا۔
Ayahs 20:25–32

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

(حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے سینے کو میرے لیے کھول دے۔

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرے کام کو آسان کردے۔

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ میری بات سمجھیں۔

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے خاندان سے میر وزیر بنا دے۔

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

میرے بھائی ہارون کو۔

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے مضبوط کر میری کمر کو۔

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اس کو میری ذمہ داری میں شریک بنا۔

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِی۔ وَیَسِّرْلِیْٓ اَمْرِیْ ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ ۔ یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ ۔ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ ۔ ہٰرُوْنَ اَخِیْ ۔ اشْدُدْبِہٖٓ اَزْرِیْ ۔ وَاَشْرِکْہُ فِیْٓ اَمْرِیْ ۔ (طٰـہٰ : 25 تا 32) (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے سینے کو میرے لیے کھول دے۔ اور میرے کام کو آسان کردے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ لوگ میری بات سمجھیں۔ اور میرے خاندان سے میر وزیر بنا دے۔ میرے بھائی ہارون کو۔ اس سے مضبوط کر میری کمر کو۔ اور اس کو میری ذمہ داری میں شریک بنا۔ ) منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے دعا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے منصب کی بجاآوری کے لیے جانے کا حکم دیاتو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی منصبی ذمہ داریوں کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے متذکرہ بالا دعائیں کیں۔ ان میں سے پہلی دعا یہ تھی کہ پروردگار میرے سینے کو کھول دے، یعنی شرح صدر فرما دے۔ اس دعا کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلی چیز جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نبوت اور رسالت بہت بڑا منصب ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ کوئی شخص بڑی سے بڑی محنت اور صلاحیت سے بھی اسے حاصل نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انبیائے کرام اس منصب کے ملنے کے بعد اپنے آپ کو بہت گراں بار محسوس کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیے جانے والے علوم نبوت کا تحمل، اللہ تعالیٰ کا دین لوگوں تک پہنچانے کے لیے جانگسل محنت و ریاضت لوگوں کی طرف سے پیش آنے والے نا گفتہ بہ سلوک کی برداشت اور ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے جرأت و استقامت اس راہ کی ناگزیر سنتیں ہیں جن کا تصور ہی کپکپا دینے کے لیے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی جب ان میں سے ایک ایک چیز کا احساس کرتے ہیں تو وہ کانپ اٹھتے ہیں۔ اس ذمہ داری کے منصب کی گراں باریوں سے سینہ بھنچنے لگتا ہے تو وہ بےساختہ اللہ تعالیٰ کے سامنے دست دعا پھیلا دیتے ہیں۔ الٰہی ! جس عظیم کام کے لیے مجھے چنا گیا ہے میرا سینہ اس کے لیے کھول دے، میرے سینے میں جو اضطراب اور تردد پیدا ہورہا ہے اس کو دور فرما دے، میرے سینے کی خلش کو ہمت و عزیمت سے تبدیل کردے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس عظیم منصب کی نزاکتوں کو محسوس کرتے ہوئے سب سے پہلے یہی دعا فرمائی۔ پھر دوسری دعا مانگی کہ الٰہی ! میرے کام کو آسان فرما دے، کیونکہ میری فہم و فراست اور میرا حوصلہ اور تدبر اس عظیم مہم کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ اس راستے کی مشکلات کو دور کرنا تیرے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے تو اپنے فضل و کرم سے راستے کی ہر رکاوٹ کو دور فرما دے۔ ہمارے رسول پاک ﷺ کی بھی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ ہر کام سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اَللّٰھُمَّ الْطُفْ بِنَا فِیْ تَیْسِیْرِ کُلِّ عَسِیْرٍ فَاِنَّ تَیْسِیْرُ کُلِّ عَسِیْرٍ عَلَیْکَ یَسِیْرٌ ” اے اللہ ! ہم پر مہربانی فرما، ہر مشکل کام کو آسان کرنے کے لیے، کیونکہ ہر مشکل کام کا آسان کردینا آپ کے لیے بہت آسان ہے۔ “ زبان کی گرہ کھولنے کا مفہوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تیسری دعا فرمائی کہ یا اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھیں۔ ہمارے قدیم مفسرین نے ” عُقْدَۃً “ سے زبان کی لکنت مراد لی ہے اور اس کی تائید میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دودھ پیتے رہے تو اپنی والدہ کے پاس رہے اور جب دودھ چھڑا دیا گیا تو فرعون کے گھر میں لائے گئے اور وہیں تربیت پانے لگے۔ جب ذرا کھیلنے کی عمر کو پہنچے تو ایک دن فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کے پاس کھیل رہے تھے کہ اچانک فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی اور ایک روایت میں ہے کہ ایک چپت بھی رسید کی اور بعض دوسری روایات کے مطابق فرعون کا تاج اتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ فرعون اس پر برہم ہوگیا اور اس نے آپ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا۔ آسیہ نے کہا : شاہا ! آپ بچے کی بات کا کیا برا مناتے ہیں، بچہ تو کسی بات کی سمجھ نہیں رکھتا وہ تو ہر بات کو کھیل سمجھتا ہے، آپ چاہیں تو اس کا تجربہ کرلیں۔ چناچہ تجربے کے لیے ان کے سامنے ایک تھال میں دھکتے انگارے رکھے گئے اور دوسرے تھال میں ہیرے جواہرات۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواہرات کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ ( علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑ کر انگاروں کی طرف بڑھا دیا۔ آپ ( علیہ السلام) نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا جس سے آپ ( علیہ السلام) کی زبان جل گئی اور لکنت پیدا ہوگئی جو نبوت تک آپ ( علیہ السلام) کی زبان میں باقی رہی۔ اسی کو تفسیر مظہری اور قرطبی نے بھی روایت کیا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی اعتبار سے قابل قبول نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی صحیح روایت میں ایسی کوئی بات ذکر نہیں کی گئی اور جو روایات اس سلسلے میں وارد ہیں وہ نہایت ضعیف بلکہ موضوع ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ خود ان روایات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کی زبان میں لکنت پیدائشی تھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انگارہ منہ میں ڈالنے کا واقعہ افسانے کے سوا کچھ نہیں۔ اور بعض روایات میں فرعون کے سر سے تاج اتارنے کا ذکر ہے اور بعض روایات میں ڈاڑھی نوچنے کا اور اگر درایت سے کام لیا جائے تو تب بھی اس روایت کا قبول کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ بچہ جو چلنے اور کھیلنے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے وہ بڑی آسانی سے آگ کی تپش کو محسوس کرسکتا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بجائے کسی ہیرے کو اٹھانے کے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا کیونکہ جیسے ہی آپ ( علیہ السلام) نے انگارہ ہاتھ میں لیا ہوگا تو ہاتھ کی جلن سے بیتاب ہو کر یقینا آپ ( علیہ السلام) بچے کی طرح چیخے ہوں گے۔ اولاً تو انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا بچے کے لیے ناممکن ہے اور پھر اسے اٹھا کر منہ میں ڈالنا تو سراسر خلاف عقل ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ایسا کیا تو یہ بات بھی چنداں قابل قبول نہیں کیونکہ بجائے اس کے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے واسطے سے آپ ( علیہ السلام) کا ہاتھ جلایا جاتا، یہ بات زیادہ آسان تھی کہ آپ ( علیہ السلام) کا ہاتھ فرعون کے تاج یا ڈاڑھی تک نہ پہنچنے دیا جاتا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لکنت پیدائشی طور پر آپ ( علیہ السلام) کی زبان میں تھی تو یہ بات اس لیے قبول کرنا مشکل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی جس طرح سیرت و کردار میں اہل دنیا سے بلند اور بےعیب ہوتے ہیں اسی طرح وہ کسی خلقی عیب میں بھی مبتلا نہیں ہوتے۔ وہ اپنے دور کے خوبصورت ترین فرد سمجھے جاتے ہیں۔ لکنت ایک ایسا عیب ہے جس سے انسان کی تضحیک ہوتی اور شخصیت بےوزن ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی میں ایسی کسی چیز کا ہونا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ جدید مفسرین کا خیال یہ ہے کہ ” عُقْدَۃً “ سے مرادز بان کی لکنت نہیں بلکہ خطابت کی صلاحیت کا نہ ہونا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اندر اظہاروبیان کے وقت ایک جھجک محسوس کرتے تھے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا تعلق زبان کی لکنت سے نہیں بلکہ طبیعت کے انداز سے ہے۔ ہماری تاریخ میں ایسے لوگ گزرے ہیں جو اپنی تمام تر ذاتی وجاہت کے باوجود تقریر کرنے پر قادر نہیں تھے۔ گفتگو بہت اچھی کرتے تھے لیکن اسٹیج پر آنا پسند نہ تھا۔ برصغیر کے مشہور فقیہ مفتی کفایت اللہ مرحوم گزرے ہیں ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ گفتگو میں بہت مشاق تھے اور نثر نویسی میں بھی کسی سے کم نہ تھے، لیکن تقریر کبھی نہیں کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اندر خطابت کا ولولہ محسوس نہیں کرتے تھے۔ کبھی تقریر کی امنگ آپ ( علیہ السلام) کے اندر پیدا نہیں ہوئی اور شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کبھی اس کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ اب جب آپ ( علیہ السلام) پر ایک ایسی ذمہ داری ڈالی گئی جس کی ادائیگی کے لیے خطابت ایک لازمی ضرورت تھی۔ کیونکہ ایک رسول کے لیے سب سے پہلا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں خطابت اور تقریر ہی ابلاغ و دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا کیونکہ وہ زمانہ پریس کا زمانہ نہ تھا۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ لوگ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے کیونکہ تورات تحریری شکل میں نازل ہوئی تھی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اخبار اور جرائد اس زمانے میں ناپید تھے۔ کسی بات کو عام کرنے کا ذریعہ خطابت اور زبان آوری تھی جس کی قوت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اندر نہیں پاتے تھے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ ( علیہ السلام) اپنے مافی الضمیر کے اظہار پر قادر نہیں تھے۔ آپ ( علیہ السلام) کی گفتگو میں کوئی کمزوری نہ تھی، لیکن اب ذمہ داری وہ آپڑی تھی جس کے لیے نہایت فصاحت و بلاغت کی ضرورت ہے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے دعا فرمائی۔ یا اللہ ! میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے اور اس سے میری کمر کو مضبوط کردے۔ اس دعا میں تو صرف یہ فرمایا گیا ہے کہ میرے بھائی ہارون جو میرے اہل میں سے ہیں انھیں میرے کام میں شریک فرما دے، یعنی جس ذمہ داری پر مجھے فائز کیا گیا ہے اس میں انھیں بھی شریک کردیجیے تاکہ ہم دونوں مل کر اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھا سکیں۔ وزیر کا معنی ہی بوجھ اٹھانے والا اور ذمہ داری میں ہاتھ بٹانے والا ہے۔ لیکن قرآن کریم میں بعض دوسری آیات میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ سورة قصص آیت 34 میں فرمایا گیا ہے کہ ” میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ ان کو ایک معاون کی حیثیت سے میرے ساتھ کردیجیے تاکہ وہ میری تصدیق کریں، مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔ “ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ محسوس فرما رہے تھے کہ میں جب لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کروں گا تو میرا سیدھا اور سپاٹ انداز شاید لوگوں کو متأثر نہ کرسکے۔ اس کے لیے ایک زوردار خطیب کی ضرورت ہے۔ اس لیے اپنے بھائی ہارون کے لیے دعا مانگی کہ انھیں میرے ساتھ کردیجیے کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح ہیں۔ میرے اندر وہ فصاحت نہیں جو ہارون کے اندر ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ضرورت فصاحت کی ہے یعنی بات کو کھول کے بیان کرنے اور زوردار انداز میں کہنے کی، جس کی کمی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) محسوس کررہے تھے۔ بات یہ نہیں تھی کہ میری زبان میں لکنت ہے اور میں صاف بول نہیں سکتا۔ لیکن قرآن کریم میں اور بائیبل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو تقریریں نقل کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں وہ فصاحت اور طلاقتِ لسانی آگئی تھی جو زوردار تقریر کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہم نے مفسرین کے دونوں مؤقف آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں جسے چاہے قبول کرلیجئے لیکن یہ بات ضرورکھٹکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ہکلے یا توتلے آدمی کو اپنا رسول مقرر فرمائے کیونکہ رسول ہمیشہ شکل و صورت، شخصیت اور صلاحیتوں کے لحاظ سے اپنے دور کے ممتاز لوگ ہوتے ہیں۔ جس طرح ان کے کردار میں کوئی خامی نہیں ہوتی اسی طرح وہ اپنی شکل و صورت میں بھی ہر طرح کی خامی سے مبرا ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اور باطن دونوں ان کی نبوت پر دلیل ہوتے ہیں۔ اس خیال سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی۔
Ayahs 20:33–35

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ تیری تسبیح کریں۔

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر کریں۔

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

بیشک تو ہمارا نگران رہا ہے۔

کَیْ نُسَبِّحَکَ کَثِیْرًا۔ وَّنَذْکُرَکَ کَثِیْرًا۔ اِنَّکَ کُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا۔ (طٰـہٰ : 33 تا 35) (تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ تیری تسبیح کریں۔ اور زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر کریں۔ بیشک تو ہمارا نگران رہا ہے۔ ) تسبیح ذکر کا مفہوم حضرت ہارون (علیہ السلام) کو شریک کار بنائے جانے کی درخواست اس لیے ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ تیری تسبیح اور زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر کرسکیں۔ تسبیح سے مراد یہ ہے کہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی شان، اس کی صفات اور اس کی مرضیات اور احکام کے منافی ہیں۔ ہم ہر حالت میں ان کی نفی کریں۔ اور جو چیزیں اس کی شان، اس کی صفات اور اس کی مرضیات اور احکام کے موافق ہیں ان کا اثبات کریں اور انھیں عام کرنے کی کوشش کریں۔ یہ تسبیح اگرچہ انفرادی بھی ہوسکتی ہے لیکن ایک ایسا ماحول جس میں فرعون کی خدائی کا چرچا ہو اور اس کے تراشیدہ بت پوجے جاتے ہوں اور ہر طرف شرک کی سمیّت پھیلی ہوئی ہو۔ ایسے ماحول میں انفرادی تسبیح اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ لیکن اگر کوئی غم بٹانے والا، حوصلہ دینے والا اور تسبیح کا ساتھی موجود ہو تو یہ کام آسان ہوجاتا ہے اور اس میں دل بھی لگتا ہے۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ ہم زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ ذکر سے مراد یاد بھی ہوسکتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فریضہ ٔ نبوت کی ادائیگی کی ایک تعبیر ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نبی اپنی خلوت و جلوت میں جو کچھ کرتا ہے وہ فریضہَ نبوت کی ادائیگی کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہ نماز پڑھتا ہے یا بازار میں کاروبار کرتا ہے۔ وہ مجلس آرائی کرتا ہے یا میدانِ جنگ میں قوت آزمائی کرتا ہے۔ ہرحال میں کارنبوت انجام دیتا ہے۔ اس کی رزم و بزم میں فرق عمل کا نہیں، میدانِ عمل کا ہوتا ہے۔ کیونکہ نماز بھی اسی کے ذکر کے لیے ہوتی ہے اور جہاد بھی اسی کے ذکر کو بلند کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ کاروبار بھی اسی کے احکام کو عام کرنے کے لیے ہوتا ہے اور معاملات بھی اسی کی ہدایات کو چلن بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ غرضیکہ پیغمبر کی زندگی کا کوئی لمحہ بھی تسبیح و ذکر سے خالی نہیں ہوتا۔ کبھی وہ فرد اور معاشرے کو ان چیزوں سے پاک کررہا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں حائل ہیں۔ اور کبھی ان احکام کے نافذ کرنے میں مصروف ہوتا ہے جو اس کے ذکر کی علامت ہیں۔ تیسری آیت دو طرح کے احساسات کی جامع معلوم ہوتی ہے۔ ایک تو یہ احساس کہ الٰہی آج تک ہم پر جو نوازشات ہوتی رہی ہیں وہ تیرے ہی فضل و کرم کا نتیجہ تھیں ورنہ ہمارا ایسا کوئی ذاتی استحقاق نہ تھا جو تیری عنایات کو دعوت دے سکتا۔ تیری ان ہی نوازشات اور عنایات کو دیکھ کر یہ حوصلہ ہوا ہے کہ ان دعائوں کے لیے اپنا دامن تیرے سامنے پھیلا دیا ہے۔ پہلے بھی تیرا ہی سہارا تھا، اب بھی تیرا ہی سہارا ہے۔ تیرے ہی کرم کو تیرے مزید کرم کا سفارشی بنایا ہے۔ دوسرا احساس یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا اللہ ! تو ہماری خلوت و جلوت سے واقف ہے۔ ہماری کمزوریوں اور توانائیوں کو جانتا ہے۔ تو اس حال میں بھی ہمارا نگران ہوتا ہے جب ہم خودفراموشی کا شکار ہو کر اپنے حال سے ناواقف ہوچکے ہوتے ہیں۔ تو ہماری مشکلات سے بھی واقف ہے اور ہماری ضرورتوں کو بھی جانتا ہے اور فریضہ تبلیغ کی جانکاہیوں کا بھی تجھے علم ہے، ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما جس سے ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے قابل ہوسکیں اور ہمیں تیرے حضور سرخروئی حاصل ہوسکے۔
Ayah 20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا ملا تجھ کو تیرا سوال اے موسیٰ (تیری درخواست منظور ہوئی) ۔

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰـمُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 36) (فرمایا ملا تجھ کو تیرا سوال اے موسیٰ (تیری درخواست منظور ہوئی) ۔ سُؤْلَ … سوال کا ہم معنی ہے۔ درخواست اور التجا کو بھی کہتے ہیں۔ اجابت ِدعا اس مختصر سے جملے میں اللہ تعالیٰ کی شان بھی جھلکتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر پیار بھی برس رہا ہے اور آپ ( علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی عنایات کا اظہار بھی ہورہا ہے۔ ادھر دعائیں ختم ہوئیں، ادھر بشارت سنا دی گئی۔ جیسے کوئی حکمران بیک جنبشِ قلم کسی کی درخواست کو منظور کرلیتا ہے۔ اے موسیٰ ! ، کا خطاب بھی اپنے اندر بہت معنویت رکھتا ہے۔ اس میں جو اپنایت اور پیار ہے اس کا تو کیا ہی کہنا لیکن ساتھ ہی گزشتہ آیت کا اثبات بھی ہے کہ اے موسیٰ ! واقعی ہم ہرحال میں تجھے دیکھ رہے ہیں، تو ہم سے دور نہیں ہے۔
Ayahs 20:37–39

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا۔

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وحی کی جو آگے وحی کی جارہی ہے۔

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

کہ اس کو صندوق میں رکھ دو پھر اس کو دریا میں ڈال دو ، پس دریا اس کو کنارے پر ڈال دے کہ اس کو اٹھا لے وہ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے، میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی تاکہ تم پرورش پائو میری آنکھ کے سامنے۔

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْکَ مَرَّۃً اُخْرٰٓی۔ اِذْ اَوْحَیْنَـآ اِلٰٓی اُمِّکَ مَا یُوْحٰٓی۔ اَنِ اقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْہُ عَدُوٌّلِّیْ وَعَدُوٌّلَّـہٗ ط وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ 5 ج وَلِتُصَنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ ۔ (طٰـہٰ : 37، 38، 39) (اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا۔ جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وحی کی جو آگے وحی کی جارہی ہے۔ کہ اس کو صندوق میں رکھ دو پھر اس کو دریا میں ڈال دو ، پس دریا اس کو کنارے پر ڈال دے کہ اس کو اٹھا لے وہ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے، میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی تاکہ تم پرورش پائو میری آنکھ کے سامنے۔ ) اضطراب دور کرنے کے لیے احسانات کا تذکرہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مزید مانوس کرنے اور آپ ( علیہ السلام) پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کا اضطراب دور کرنے اور انھیں یہ بتانے کے لیے کہ آپ ( علیہ السلام) پیدائش سے لے کر اب تک اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایات کا مورد رہے ہیں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم اس سے پہلے بھی آپ ( علیہ السلام) پر احسان کرچکے ہیں اور اب آپ ( علیہ السلام) کو نبوت اور معجزات دے کر اور آپ ( علیہ السلام) کی دعائیں قبول فرما کر آپ ( علیہ السلام) پر جو مزید نوازشات کی گئی ہیں یہ انھیں احسانات کا تسلسل ہیں۔ چناچہ اس سے پہلے جو آپ ( علیہ السلام) پر احسانات کیے گئے تھے اس کی ایک تفصیل بیان فرمائی۔ جس کی ابتدا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرعون نے ایک ظالمانہ حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل کے گھروں میں جو بھی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے اور جو بچی پیدا ہو، اسے زندہ رکھا جائے تاکہ ان بچیوں سے لونڈیوں کا کام لیا جائے۔ روایات میں ہے کہ فرعون کو اس کے نجومیوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری تباہی کا باعث بنے گا۔ فرعون نے اس بچے کا راستہ روکنے کے لیے یہ حکم جاری کیا۔ مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ نجومیوں نے بھی کوئی ایسی اطلاع دی ہو، لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ فرعون اور اس کے مصاحبین یہ محسوس کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں پیدائش کی شرح دوسری قوموں سے زیادہ ہے، ان کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر افزائش کا یہی سلسلہ جاری رہا تو اندیشہ ہوسکتا ہے کہ یہ اپنی افرادی قوت کے بل بوتے پر حکومت کے خلاف بغاوت کردیں۔ اور اگر دوسرے مخالف خاندانوں نے ان کی حمایت کی تو ممکن ہے کہ یہ ملک میں انقلاب برپا کردیں۔ اس اندیشے کا راستہ روکنے کے لیے آج ہی سے ہمیں یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کو زندہ نہ رہنے دیا جائے تاکہ ان کی نسل آگے نہ بڑھے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کہ اسی زمانے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ آپ ( علیہ السلام) کی والدہ نے روایات کے مطابق تین مہینے تک آپ ( علیہ السلام) کو چھپائے رکھا، لیکن جب محسوس کیا کہ خطرہ قریب آرہا ہے تو آپ انتہائی پریشان ہوگئیں، لیکن بچائو کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم ایک تابوت میں بچے کو رکھ کر دریائے نیل کی لہروں کے سپرد کردو، پھر یہ دریا کا کام ہے کہ وہ اس تابوت کو کنارے پر ڈال دے۔ تم اس بارے میں اطمینان رکھو، ہم بچے کو تمہاری طرف لوٹائیں گے اور اس کو اپنا رسول بنائیں گے۔ (یہ دوسری بات سورة قصص میں کہی گئی ہے) مزید فرمایا کہ دریا کے کنارے سے اسے وہ شخص اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی دشمن ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک تو یہ بات کہ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے لیے وحی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ شاید نبیہ تھیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں وحی کا لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، اصطلاحی معنی میں نہیں۔ وحی کا لغوی معنی دل میں کسی بات کا ڈال دینا ہے جسے عام طور پر الٰہام کہا جاتا ہے اور ایسے الہامات عموماً اولیاء اللہ کو ہوتے رہے ہیں۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ اس طرح کی وحی بعض اوقات کسی فرشتے کے واسطے سے بھی ہوسکتی ہے۔ جیسے حضرت مریم کے واقعہ میں اس کی تصریح ہے، لیکن بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ فرشتے کا متمثل ہو کے آنا اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا، اس کا وقوع سابقہ امتوں میں تو ہوا ہے، اس امت میں نہیں۔ کیونکہ ختم نبوت نے ایسے تمام اشتباہات کو ختم کردیا ہے۔ بہرحال یہ بات واضح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں آپ ( علیہ السلام) کو بچانے کے لیے جو ترکیب ڈالی گئی تھی وہ ایک خیال تھا جو آپ کے دل میں ڈالا گیا تھا۔ البتہ اس کا اہتمام ضرور کیا گیا تھا کہ انھیں یہ اطمینان ہوجائے کہ آنے والا خیال اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تاکہ وہ اتنا بڑا اقدام کر گزریں۔ ورنہ کسی ماں کے لیے بچے کو دریا کی لہروں کے سپرد کردینا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ دوسری وضاحت طلب بات یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اس تابوت کو وہ پکڑے گا جو اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن ہوگا۔ فرعون کی دشمنی اللہ تعالیٰ سے تو واضح ہے کیونکہ وہ کافر تھا اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرتا تھا۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی دشمنی کا کیا معنی ؟ جبکہ اس نے ان کی تربیت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ تربیت تو بعد کا عمل ہے لیکن جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تابوت سے نکالا گیا اس وقت تو یقینا فرعون آپ ( علیہ السلام) کا دشمن تھا کیونکہ وہ آپ ( علیہ السلام) کو بنی اسرائیل ہی میں سے کسی کا بچہ سمجھتا تھا اور بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا وہ حکم دے چکا تھا۔ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی قتل کردیتا اگر اس کی بیوی آسیہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی محبت میں مبتلا نہ ہوجاتیں۔ انھوں نے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے ظلم سے بچایا اور پھر فرعون بھی آپ ( علیہ السلام) سے محبت کرنے لگا۔ کیونکہ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا پرتو حضرت موسیٰ پر ڈال دیا تھا۔ چناچہ جو بھی آپ ( علیہ السلام) کو دیکھتا، آپ ( علیہ السلام) کی من موہنی شکل پر فریفتہ ہوجاتا۔ یوں تو پیغمبر اپنے وقت کے حسین ترین لوگ ہوتے ہیں لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چونکہ ایک بڑے ظالم دشمن سے بچانا تھا اس لیے بطورخاص اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا اس طرح پرتو آپ کے چہرے پر ڈالا کہ وہ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دلوں میں اترنے لگے اور اس کے نتیجے میں فرعون ان پر فریفتہ ہوگیا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تابوت جب کنارے پر جا کر لگا تو فرعون اور اس کی بیوی دریائے نیل کے کنارے پر سیر کررہے تھے۔ ان کی نظر اچانک اس تابوت پر پڑی تو وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ اس میں جھانک کے دیکھا تو ایک خوبصورت من موہنا بچہ انھیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ بس بچے کی ایک جھلک ان کے دل میں اتر گئی اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے فرعون کے گھر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت کا سامان کردیا۔
Ayah 20:40

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جبکہ تمہاری بہن جاتی اور یہ کہتی تھی کہ کیا میں تمہیں بتائوں وہ شخص جو اس کی پرورش کرسکتا ہے، پس ہم نے تم کو تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمناک نہ ہو۔ اور تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے تم کو غم سے نجات دی، ہم نے تمہیں خوب اچھی طرح پرکھا، پھر تم کئی سال اہل مدین میں رہے، پھر تم آگئے ایک اندازہ کیے ہوئے وقت پر، اے موسیٰ ۔

ِاذْتَمْشِیْٓ اُخْتُکَ فَـتَـقُوْلُ ھَلْ اَدُلُّـکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْـفُلُـہٗ ط فَرَجَعْنٰـکَ اِلٰٓی اُمِّکَ کَیْ تَقَرَّعَیْنُھَا وَلاَ تَحْزَنَ 5 ط وَقَـتَلْتَ نَفْسًا فَـنَجَّیْنٰـکَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنّٰـکَ فُتُوْنًا قف 5 فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْٓ اَھْلِ مَدْیَنَ 5 لا ثُمَّ جِئْتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 40) (جبکہ تمہاری بہن جاتی اور یہ کہتی تھی کہ کیا میں تمہیں بتائوں وہ شخص جو اس کی پرورش کرسکتا ہے، پس ہم نے تم کو تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمناک نہ ہو۔ اور تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے تم کو غم سے نجات دی، ہم نے تمہیں خوب اچھی طرح پرکھا، پھر تم کئی سال اہل مدین میں رہے، پھر تم آگئے ایک اندازہ کیے ہوئے وقت پر، اے موسیٰ ۔ ) دو احسانات کا ذکر اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر فرما رہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ محترمہ کے پاس لوٹائے جانے کے سلسلے میں کیا۔ ایک تو یہ بات بجائے خود کتنا بڑا احسان تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جان بچانے کے لیے ایک نہایت کارآمد تدبیر ان کی والدہ کے دل میں ڈالی اور اس سے نہ صرف بچے کی جان بچ گئی بلکہ اسے فرعون کے محل میں پہنچا دیا۔ فرعون اور اس کی بیوی دونوں نے اسے اپنی تربیت میں لے لیا۔ اب دوسرا احسان یہ ہے کہ زندگی بچ جانے اور محلات میں تربیت کا سامان ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی والدہ پر یہ احسان فرمایا کہ ایک ایسی تدبیر کی جس کے نتیجے میں حضرت موسیٰ اپنی والدہ کی آغوش میں پہنچ گئے۔ بچے کی جان کو اگر خطرہ لاحق ہو تو ماں کی جان پر بن جاتی ہے۔ اور اگر بچے کی جان بچ جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتی اور ایک اطمینان محسوس کرتی لیکن زیادہ مدت نہیں گزرتی کہ اب بچے سے دور رہنا اس کے لیے سزا سے کم نہیں ہوتا۔ وہ دل و جان سے یہ چاہتی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے مجھے اپنے بچے کو حاصل کرنا ہے، کیونکہ میری آنکھیں اس کے بغیر ٹھنڈی نہیں ہوسکتیں۔ اور میرے دل کو اس کے لمس کے بغیر سکون نہیں مل سکتا۔ اس لیے کسی بھی مامتا پر حقیقی احسان یہ ہے کہ نہ صرف اس کے بچے کی زندگی بچ جائے بلکہ وہ اس کی آغوش میں پہنچ جائے۔ چناچہ یہ دوسری تدبیر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ماں کی آغوش میں پہنچانے کے لیے ان کی ماں کے دل میں ڈالی تو ماں نے اپنی بیٹی کو دریا کے کنارے کنارے تابوت سے کچھ فاصلے پر چلنے اور دیکھتے رہنے کی ہدایت کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کی بیوی دونوں بچے کو اٹھا کر گھر میں لے گئے، اسے نوکروں کے حوالے کیا اور گھر میں جو ملازمائیں تھیں انھیں کہا کہ بچے کو دودھ پلانے کا انتظام کرو۔ آیائوں اور انائوں نے ہر ممکن کوشش کی، لیکن بچے نے کسی کے دودھ کو قبول نہیں کیا۔ انھوں نے حیران اور پریشان ہو کر فرعون کی بیوی کو بتایا کہ بچہ کسی کا دودھ قبول نہیں کررہا۔ حضرت موسیٰ کی بہن کو کسی طرح اس کی اطلاع ملی تو اس نے فرعون کی بیوی سے کسی طرح رابطہ کیا اور یہ تجویز پیش کی کہ اگر آپ لوگ کہیں تو میں ایک ایسے گھر والوں کا پتہ دے سکتی ہوں جو اس بچے کی نہایت اچھی طرح دیکھ بھال کریں گے۔ فرعون کی بیوی چونکہ حضرت موسیٰ کے دودھ نہ پینے کی وجہ سے بہت پریشان تھی، اس نے فوراً اس تجویز کو قبول کرلیا اور اس طرح حضرت موسیٰ کی بہن کو اپنی والدہ کو فرعون کے محل میں لے جانے کا موقع مل گیا۔ والدہ نے جیسے ہی حضرت موسیٰ کو اپنی گود میں لیا تو بچہ ہمکتا ہوا ماں کے سینے سے لگ گیا اور دودھ پینے لگا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ماں کی آغوش میں پہنچا دیا۔ حضرت موسیٰ اپنی ماں کی آغوش میں پلنے لگے لیکن آپ ( علیہ السلام) کی والدہ وقتاً فوقتاً حضرت موسیٰ کو فرعون کی بیوی کے پاس ملانے کے لیے لے جاتیں۔ حضرت موسیٰ کا جب دودھ چھڑا دیا گیا تو پھر آپ ( علیہ السلام) محل میں تربیت پانے لگے۔ حتیٰ کہ شہزادوں کی طرح پل کے جوان ہوگئے۔ بنی اسرائیل یوں بھی پیغمبروں کی اولاد تھے اور حضرت موسیٰ تو خود آگے چل کر پیغمبر بننے والے تھے اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) دوسرے نوجوانوں سے زیادہ طاقتور، زیادہ تنومند، زیادہ خوبصورت اور زیادہ خوش اخلاق ہوں گے۔ پہلے تو آپ ( علیہ السلام) اپنی والدہ کو رضاعی ماں سمجھتے ہوں گے لیکن یقینا کسی نہ کسی وقت ان کو بتادیا گیا ہوگا کہ یہی آپ ( علیہ السلام) کی حقیقی ماں ہے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) محل میں رہنے کے باوجود بار بار اپنے گھر یعنی ماں اور بہن سے ملنے کے لیے آتے۔ اس طرح بنی اسرائیل سے راہ و رسم پیدا کرنے اور ان کی مظلومیت دیکھنے کا موقعہ ملا۔ آپ ( علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کی حیثیت مصر میں غلاموں کی ہے۔ اسی وجہ سے ان کی بستی بھی اصل شہر سے الگ بسائی گئی تھی۔ وہ لوگ صرف خدمت اور بیگار کے لیے شہر جاتے اور وہاں اپنے قبطی آقائوں کے ہاتھوں بری طرح پٹتے اور ذلیل ہوتے۔ حضرت موسیٰ کی غیرت ان مناظر کو دیکھ کر جوش میں آجاتی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے وہ بھی ایسے ہی کسی وقت میں پیش آیا۔ آپ ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ ایک اسرائیلی ایک قبطی کے ہاتھوں پٹ رہا ہے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کو دیکھ کر آپ ( علیہ السلام) سے مدد کی درخواست کی۔ آپ ( علیہ السلام) جب اسے بچانے کے لیے آگے بڑھے تو قبطی اپنے نسلی اور قومی غرور کی وجہ سے آپ ( علیہ السلام) سے بھی الجھ پڑا۔ حضرت موسیٰ چونکہ طاقتور آدمی تھے، آپ ( علیہ السلام) نے اسے ایک گھونسا رسید کیا جو ہمیشہ کسی شخص کی زیادتی کو روکنے کے لیے ہر عزت والا آدمی استعمال کرتا ہے۔ مقصود اس سے صرف دفاع ہوتا ہے، کسی کو قتل کرنا نہیں ہوتا۔ لیکن وہ گھونسا کہیں ایسا بےڈھب پڑا کہ قبطی وہیں ڈھیر ہوگیا۔ یہ واقعہ ہونے کو تو ہوگیا، لیکن حضرت موسیٰ اس کی وجہ سے شدید رنج و غم میں مبتلا ہوگئے۔ بنی اسرائیل پیغمبروں کی اولاد اور مذہب اسرائیل کے وارث ہونے کی وجہ سے مذہب کی بنیادی باتوں سے بیخبر نہ تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اگرچہ ابھی تک نبوت نہیں ملی تھی لیکن آپ ( علیہ السلام) مذہب کی بنیادی باتوں سے آگاہ اور تقویٰ و اخلاص کے احساسات سے بہرہ ور تھے۔ آپ ( علیہ السلام) کو اس بات نے پریشان کردیا کہ اگرچہ اس قتل میں میرا ارادہ شامل نہیں لیکن بہرحال یہ ایک جرم ہے جو میرے ہاتھوں سرزد ہوا ہے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے بار بار اللہ تعالیٰ سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے موسیٰ کو اس غم سے نجات دی یعنی ہم نے اس کی توبہ قبول فرما لی۔ “ اور دوسری بات یہ محسوس ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی چونکہ بنی اسرائیل سے ہمدردیاں کھلتی جارہی تھیں اور آپ ( علیہ السلام) مختلف مواقع پر قبطیوں کے ظلم کو روکنے کی کوشش فرما چکے تھے۔ اس سے فرعونیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر حضرت موسیٰ اسی طرح فرعونیوں کے مظالم کے خلاف سینہ سپر رہے تو بنی اسرائیل کو ایک حوصلہ مند لیڈر ہاتھ آجائے گا۔ کوئی تعجب نہیں کہ کل کو وہ حکومت کے لیے دردسر بن جائیں۔ اس سے اگر یہ گمان کرلیا جائے کہ فرعونیوں نے حضرت موسیٰ کا داخلہ شہر میں بند کردیا تھا تو یہ بات خلاف امکان نہیں۔ لیکن متذکرہ بالا واقعہ پیش آنے کے بعد جب یہ بات کھل گئی (جس کا ذکر سورة قصص میں آئے گا) کہ قبطی کے قاتل حضرت موسیٰ ہیں تو آپ ( علیہ السلام) سمجھ گئے کہ اب حکومت میرے خلاف اقدام کرنے میں تأمل نہیں کرے گی۔ آپ ( علیہ السلام) ابھی اس بات پر سوچ ہی رہے تھے کہ شہر کی دوسری جانب سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپ ( علیہ السلام) کے پاس پہنچا جو حکومت ہی کا آدمی ہوگا، لیکن آپ ( علیہ السلام) سے غائبانہ ہمدردی رکھتا تھا اس نے بتایا کہ فرعون نے آپ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس لیے جتنی جلدی ہوسکے آپ ( علیہ السلام) شہر سے نکل جائیے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) بغیر کسی تیاری کے بےسروسامانی کی حالت میں شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور نجانے کتنے دکھ اٹھا کر آپ ( علیہ السلام) مدین پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور ایک معزز گھر میں آپ ( علیہ السلام) کو پناہ مل گئی۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے فرعون کی گرفت اور سزا کے خطرے سے آپ ( علیہ السلام) کو بچایا اور آپ ( علیہ السلام) کی پریشانی کو دور فرمایا۔ فـتـون کا مفہوم وَفَتَنّٰـکَ فُتُوْنًا …فتون یا تو قعود کے وزن پر ہے یا فتنہ کی جمع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے موسیٰ ہم نے تمہیں کئی بار آزمائش میں ڈالا اور مختلف مشکلات میں ڈال کر پرکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخصیت کو کسی بڑے منصب پر فائز کرنا چاہتا ہے تو اس کی شخصیت کی تعمیر کے لیے اسے مختلف امتحانات سے گزارتا ہے، کبھی مالی مشکلات میں مبتلا کرتا ہے، کبھی جسمانی تکلیفیں دیتا ہے، کبھی نامساعد حالات کی نذر کردیتا ہے۔ کبھی مخالفوں کو کھل کھیلنے کی آزادی دے دیتا ہے اور کبھی اس کے برعکس آزمائش کی شکل یہ ہوتی ہے کہ انعامات و افضال کی بارش کردیتا ہے۔ دولت کی ریل پیل کردیتا ہے، ایک سے ایک بڑھ کر آسانی مہیا کرتا ہے۔ پہلی صورت میں وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرا بندہ صبر کرتا ہے یا بےصبری دکھاتا ہے اور دوسری صورت میں وہ یہ اندازہ کرتا ہے کہ یہ شکر کرتا ہے کہ ناشکری کرتا ہے کیونکہ دین بلکہ زندگی دو ہی چیزوں کا نام ہے، صبر اور شکر۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے نرم اور گرم حالات سے گزارا۔ محلات کی زندگی بھی دیکھی اور اپنے خاندان کی محرومیاں بھی دیکھیں۔ ادھر جوتے چمکتے دیکھے ادھر چہرے بھی ویران دیکھے۔ جوانی میں قدم قدم پر احساس مجروح ہوتے دیکھا، اور ذلتوں کے سائے گہرے ہوتے دیکھے۔ مدین کی تکلیف دہ مسافرت اور بےسروسامانی کے زخم بھی برداشت کیے۔ پھر سالوں تک حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چرائیں۔ پہاڑوں اور دروں میں اور درختوں کے نیچے بکھرے ہوئے کانٹوں پر بھی چلے اور بکریاں سنبھالتے ہوئے طبیعت کے نشیب و فراز سے بھی گزرے اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا تاکہ آپ ( علیہ السلام) ان ذمہ داریوں کا بار اٹھانے کے قابل ہوجائیں اور آپ ( علیہ السلام) کے اندر وہ صفات پیدا ہوجائیں جو انسانوں کی اصلاح اور ان سے معاملات کرتے ہوئے نہایت ضروری ہوتی ہیں۔ ایک مثال سے اس کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک روز ایک لیلا ریوڑ سے الگ ہوگیا۔ اس کی تلاش میں حضرت موسیٰ دن بھر ادھر ادھر دوڑے پھرتے رہے۔ شام کے قریب وہ ہاتھ آیا۔ پکڑ کر غصہ میں اسے زدوکوب کرنے کی بجائے اٹھا کر سینے سے لگا لیا اور کہنے لگے، یہ تو نے کیا کیا، مجھے بھی تھکا دیا اور خود بھی تھک گئے۔ یہ حلم و بردباری اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ اس قدر شفقت پیدا ہو، تب ہی نبوت کے فرائض انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ امامِ طحاوی نے حدیث فتون کے عنوان سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے جسے ہمارے مفسرین نے عموماً ابن کثیر کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ لیکن علامہ ابن کثیر کی رائے یہ ہے کہ یہ مرفوع حدیث نہیں بلکہ حضرت عبداللہ ابن عباس پر موقوف ہے اور انھوں نے حضرت کعب احبار کی روایات کو بیان کیا ہے۔ یوں تو یہ حدیث بہت پرلطف ہے لیکن ہر طرح کے رطب ویابس سے معمور ہے۔ اس لیے ہم اس کا نقل کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْٓ اَھْلِ مَدْیَنَ ” پھر آپ ( علیہ السلام) چند سال اہل مدین میں ٹھہرے۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین میں قیام ہم اس سے پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ جب آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک قبطی مارا گیا اور حکومت نے آپ ( علیہ السلام) کو گرفتار کرنا چاہا تو حکومت چونکہ نہایت ظالم تھی جس سے کسی قسم کے انصاف کی توقع نہ تھی۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور کئی دنوں کے سفر کے بعد آپ ( علیہ السلام) مدین پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ مدین کے ایک چشمے پر پہنچے تو دیکھا کہ کچھ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، لیکن دو لڑکیاں اپنے گلے کو روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) کو بڑی غیرت آئی تو آپ ( علیہ السلام) نے ان لڑکیوں سے پوچھا کہ تم اپنے گلے کو روکے ہوئے کیوں ہو، تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے والد بوڑھے ہیں، بکریاں چرا نہیں سکتے۔ اس لیے ہم دونوں بہنیں ریوڑ لے کر نکلتی ہیں یہاں پانی پلانے کے لیے چونکہ چرواہے موجود ہوتے ہیں اس لیے ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے کہ وہ جائیں تو ہم اپنی بکریوں کو پانی پلائیں۔ آپ ( علیہ السلام) ان کی یہ بات سن کر آگے بڑھے اور ڈول کھینچ کھینچ کر ان کی بکریوں کو پانی پلایا۔ اس کے بعد ایک درخت کے نیچے آ بیٹھے۔ ایک اجنبی جگہ اجنبی ماحول کوئی جان نہ پہچان خالی ہاتھ اور خالی پیٹ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیئے، یا اللہ ! میں اس وقت نہایت محتاج ہوں، مجھے جو بھی عطا کردیا جائے میں ہر طرح سے اس کا مستحق ہوں۔ آپ ( علیہ السلام) دعائوں اور پریشانیوں میں مستغرق تھے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی ایک صاحبزادی آپ ( علیہ السلام) کے پاس پہنچی اور یہ پیغام دیا کہ میرے والد آپ ( علیہ السلام) کو بلاتے ہیں تاکہ آپ ( علیہ السلام) کو اس نیکی کی مزدوری دی جائے جو آپ ( علیہ السلام) نے ہمارے ساتھ کی ہے۔ آپ ( علیہ السلام) حضرت شعیب کے پاس پہنچے، اپنے حالات بیان کیے۔ انھوں نے تسلی دی کہ آپ ( علیہ السلام) فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو ظالموں سے نجات دے دی ہے اور ساتھ ہی یہ پیشکش کی کہ آپ ( علیہ السلام) میری بکریوں کے ریوڑ چرایئے تو میں اس شرط پر آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ اپنی ایک بچی کا نکاح کردوں گا کہ آپ ( علیہ السلام) آٹھ سال تک یا دس سال تک میری بکریوں کو چرائیں گے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے اس مسافرت اور غربت میں آپ ( علیہ السلام) کے لیے جائے پناہ کا انتظام کردیا۔ آپ ( علیہ السلام) وہاں آٹھ یا دس سال گزار کر اپنی بیوی کو ساتھ لے کر مصر جانے کے ارادے سے نکلے۔ اس بات کے جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ کوئی اور بھی تھا یا نہیں۔ سفر میں راستہ بھول گئے۔ تاریک اور یخ بستہ رات، چقماق سے آگ نکالنا چاہی تاکہ گرمی کا سامان کرسکیں، لیکن آگ نہ نکلی۔ ادھر ادھر دیکھا، دور ایک آگ نظر آئی۔ آپ ( علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ آپ یہاں رکیں، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، وہاں جاتا ہوں، کوئی آدمی مل گیا تو راستہ معلوم کرلوں گا یا وہاں سے آگ کی کوئی انگاری لیتا آئوں گا۔ آپ ( علیہ السلام) وہاں آگ لینے پہنچے، تو آپ ( علیہ السلام) کو نبوت دے دی گئی۔ آپ ( علیہ السلام) یہ سمجھ رہے تھے کہ میں راستہ بھول گیا ہوں لیکن درحقیقت آپ ( علیہ السلام) راستہ نہیں بھولے تھے بلکہ آپ کی حقیقی منزل کا یہی راستہ تھا، وہ منزل آپ ( علیہ السلام) کو مل گئی تھی البتہ ! منزل ازخود نہیں مل گئی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے اندازے کے مطابق آپ ( علیہ السلام) اس منزل پر پہنچے تھے۔ پیدائش سے لے کر نبوت ملنے تک آپ ( علیہ السلام) کا یہ سفر اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں طے ہوا۔ اور قدم قدم پر اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کی دستگیری فرمائی اور نوازشات کی بارش کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر وقت آپ ( علیہ السلام) کے ہمرکاب رہی ہے۔ اب آپ ( علیہ السلام) کو جس ذمہ داری پر فائز کیا جارہا ہے، یقین کرلیجئے کہ جس طرح آپ ( علیہ السلام) کی گزشتہ زندگی اس کی حفاظت اور رحمت کے سائے میں گزری ہے اسی طرح آئندہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ رہے گی۔
Ayahs 20:41–43

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

میں نے اپنی ذات (کارِ خاص) کے لیے مخصوص کرلیا ہے۔

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

اب تم اور تمہارا بھائی میری آیات لے کر جائو، اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑنا۔

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

تم دونوں فرعون کے پاس جائو وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔

وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ۔ اِذْھَبْ اَنْتَ وَاَخُوْکَ بِاٰ یٰـتِیْ وَلاَ تَنِیَا فِیْ ذِکْرِیْ ۔ اِذْھَبَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّـہٗ طَغٰی۔ (طٰـہٰ : 41، 42، 43) (میں نے تمہیں اپنی ذات (کارِ خاص) کے لیے مخصوص کرلیا ہے۔ اب تم اور تمہارا بھائی میری آیات لے کر جاؤ، اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑنا۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ ) دونوں بھائیوں کو ادا رسالت کے لیے جانے کا حکم آپ ( علیہ السلام) کو جس عظیم منصب کے لیے ہم نے چنا ہے اور اب تک کی زندگی جس کے لیے ٹریننگ کے طور پر گزری ہے، اب اس منصب کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مصر اور دور دور کا علاقہ کفر اور گمراہی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو انھیں راہ راست دکھا سکے۔ اس کارخاص کے لیے اے موسیٰ ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص کرلیا ہے اور تمہاری دعائوں کے نتیجے میں تمہارے بھائی کو بھی تمہارا شریک کار بنادیا گیا ہے۔ وہ بھی اس مقصد کی بجاآوری اور اس راستے کی مشکلات کا سامنا کرنے میں تمہارا دست راست ہوگا۔ اس لیے اب اس کارخاص کو انجام دینے کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی یاد بھی ہے اور اس کی عبادت بھی۔ کیونکہ اس کی عبادت، اس کی اطاعت اور اس کے سامنے ہاتھ پھیلانا یہ وہ قوت کا سامان ہے جو اس راستے پر چلنے والوں کی پناہ بھی ہے اور اسلحہ بھی۔ اور دوسرا معنی کارنبوت کا انجام دینا ہے یعنی تم دونوں کی جو اصل ذمہ داریاں ہیں یعنی نبوت کے فرائض کی بجاآوری، اس میں سستی نہ ہونے پائے۔ ” ونی “ کمزوری اور کوتاہی کو کہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ اور آپ ( علیہ السلام) کے بھائی کو اپنی آیات لے کر جانے کا حکم دینے کے بعد اگلی آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کا دین لے کر تمہیں فرعون کے پاس جانا ہے۔ یعنی پہلے صرف نکلنے کا حکم دیا اور اس آیت میں اس بات کا تعین کردیا کہ تمہیں جانا کہاں ہے۔ اور یہ بات بھی واضح کردی کہ تمہیں جانا کس مقصد کے لیے ہے۔ اس سلسلے میں فرمایا کہ تمہیں فرعون کے پاس اس لیے جانا ہے کہ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کی ربوبیت کے مقابلے میں وہ حاکم مطلق اور رب بنا بیٹھا ہے۔ تم جا کر اسے اس کی اصل حیثیت واضح کرنے اور سمجھانے کی کوشش کرو۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پس اسے نرمی سے دعوت دو ، شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈرنے لگے۔

فَـقُوْلاَ لَـہٗ قَوْلاً لَّـیِّنًا لَّعَلَّـہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْیَخْشٰی۔ (طٰـہٰ : 44) (پس اسے نرمی سے دعوت دو ، شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈرنے لگے۔ ) طریق دعوت سے متعلق ہدایت اس آیت کریمہ میں طریق دعوت سے متعلق ہدایت دی گئی ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو ہدایت کی جارہی ہے کہ فرعون کے پاس جا کر نہایت نرمی سے اس کے سامنے دعوت پیش کرو۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ ( علیہ السلام) دونوں کمزور ہیں۔ اگر آپ ( علیہ السلام) نے کوئی سختی سے بات کہی تو وہ بگڑ کر نقصان بھی پہنچا سکتا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں وہ عصا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ہیبت اور قوت عطا فرمائی تھی۔ فرعون کے لیے یہ آسان نہ تھا کہ وہ آپ ( علیہ السلام) پر حملہ کرے یا آپ ( علیہ السلام) کو تکلیف پہنچانے کا حکم دے۔ نرمی کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ یہ حق کی فطرت ہے۔ وہ نرمی اور اخلاق سے دلوں میں اترتا ہے، زبردستی مسلط نہیں کیا جاتا۔ داعیِ حق معلم اور مربی ہوتا ہے۔ اس کے اندر معلم کا صبر اور برداشت اور مربی کی ہمدردی اور غمگساری یکساں طور پر اپنی نمود رکھتی ہیں۔ آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا کہ اگر آپ ( علیہ السلام) نے اسے نہایت ہمدردی اور غمگساری سے دعوت دی تو امکان ہے کہ وہ نصیحت کو قبول کرلے کیونکہ زبان سے جھڑنے والے الفاظ پھولوں کی طرح خوشبو دیتے ہیں۔ اور ہمدردی اور غمگساری سے کہی ہوئی بات ہی دلوں کا مرہم بنتی ہے۔ اسی طرح نرمی کے ساتھ ہی اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تذکرہ کیجیے اور اس کے تحمل اور بردباری کو واضح کیجیے۔ اسی طرح اس کی گرفت کے احوال قوموں کی تاریخ کے آئینہ میں دکھایئے۔ اس طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت یا اس کی گرفت سے ڈرنے لگے۔ لَعَلَّ … کے معنی میں جو امید و رجا ہے اس کا تعلق پروردگار کی ذات والا صفات سے نہیں بلکہ حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) سے ہے۔ یعنی تم اس امید پر پوری کوشش کرنا کہ شاید وہ ہدایت کو قبول کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا علم چونکہ نہایت جامع اور مکمل ہے اس لیے اس کے یہاں امید و رجا کا گزر نہیں ہوتا بلکہ وہاں ہر چیز قطعیت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ بھی داعی حق بن کر اٹھتے اور لوگوں میں یہفرض انجام دیتے ہیں انھیں سب سے پہلے اپنی ذات کے گنبد سے آزاد ہونا چاہیے۔ انھیں مخاطب کی کسی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے فریضہ حق ادا کرنے کی سوچ اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ پتھر کو ہیرے کی چمک دے دینا اتنا مشکل نہیں جتنا انسان کو انسان بنانا مشکل ہے۔ جس طرح جوہری ہر ایک نہیں ہوتا اسی طرح داعی حق بننے پر بھی محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے لیے حصول علم کے ساتھ اہل حق کی صحبت اٹھانا اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فہم عطا کرنے کی دعائیں مانگنا بہت ضروری ہے۔