Ayah 20:45قَالاَ رَبَّنَـآ اِنَّـنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَـآ اَوْ اَنْ یَّطْغٰی۔ (طٰـہٰ : 45)
(دونوں نے عرض کی کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر تعدی کرے یا اس کی سرکشی اور بڑھ جائے۔ )
” فَرَطَ “ کا صلہ جب علیٰ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی کے خلاف عاجلانہ اقدام کے ہوتے ہیں۔
دونوں بھائیوں کی طرف سے اندیشے کا اظہار
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) نے گزارش کی کہ الٰہی ! ہمیں فرعون کے پاس جانے میں تو کوئی تأمل نہیں لیکن ہمیں اندیشہ اس بات کا ہے کہ وہ بہت زودرنج اور مشتعل آدمی ہے۔ بات شروع ہوتے ہی بھڑک اٹھے اور کوئی بات سنے بغیر ہم پر چڑھ دوڑے اور یا پھر جتنا وہ پہلے سرکش ہے اس سے بڑھ کر سرکش ہوجائے کہ تم کون ہوتے ہو مجھے سمجھانے والے، میں نہیں جانتا کہ کوئی مجھ سے بڑھ کر بھی صاحب اقتدار ہے، میں خزانوں کا مالک ہوں، دریائے نیل میرے قدموں میں ہے، میرا ملک جس میں ہر چیز کی بہتات ہے اور کسی نعمت کی کمی نہیں وہ مکمل طور پر میرے قبضے میں ہے۔ اس طرح اندیشہ ہے کہ وہ آپ کی شان میں گستاخیاں کرنے لگے۔ لیکن دونوں کا انداز نہایت عاجزانہ اور فدویانہ تھا۔ مقصود حکم کی تعمیل میں پس و پیش نہ تھا بلکہ فرعون کے ظلم اور اپنی بےبسی کی طرف توجہ دلانا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں کوئی وعدہ مل جائے جس کی بنیاد پر ہمارے حوصلے توانا ہوں اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد بڑھے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ فرعون کا ظلم اور سرکشی کوئی ڈھکی چھپی بات تو نہ تھی۔ اس لیے ان دونوں نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا اس سے سب واقف تھے۔
قرآن کریم نے جہاں بھی انبیائے کرام کا ذکر کیا ہے اس میں نہایت تقدس اور احترام پایا جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب اور معزز بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق نہایت عاجزی کا ہے لیکن بندوں پر ان کا احترام اور تعظیم واجب ہے۔ لیکن اس کے برعکس جب ہم بائیبل میں انبیائے کرام کا تذکرہ پڑھتے ہیں تو اس سے دلوں میں احترام اور تقدس پیدا ہونے کی بجائے ہلکے پن کا احساس ہوتا ہے۔ قرآن انھیں جلیل القدر ہستیاں قرار دیتا ہے جن کے دم سے انسانیت کی فلاح وابستہ ہے، لیکن بائبل انھیں جس طرح پیش کرتی ہے اس کا اندازہ آپ اس سے کرلیجئے کہ اسی واقعہ کو جس کو اس آیت میں بیان کیا جارہا ہے بائیبل میں اس طرح پیش کیا گیا ہے۔
سو اب آ، میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے۔ موسیٰ نے خدا سے کہا کہ میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائوں۔
(کتاب خروج 31011)
اسی کتاب کے باب چہارم میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام معجزات عطا فرما دیئے گئے اور پھر انھیں فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا تو بھی آپ ( علیہ السلام) نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
” اب تو جا، میں تیری زبان کا ذمہ لیتا ہوں اور تجھے سکھاتا رہوں گا کہ تو کیا کہے گا۔ تب اس نے کہا اے خداوند ! میں تیری منت کرتا ہوں کسی اور کے ہاتھ سے جسے تو چاہے یہ پیغام بھیج۔ تب خدا وند کا قہر موسیٰ پر بھڑکا۔ “
Ayah 20:46قَالَ لاَ تَخَافَـآ اِنَّنِیْ مَعَکُمَـآ اَسْمَعُ وَاَرٰی۔ (طٰـہٰ : 46)
(فرمایا تم اندیشہ نہ کرو، میں تمہارے ساتھ ہوں، (ہر بات) سن رہا ہوں اور ( ہر چیز) دیکھ رہا ہوں۔ )
نہایت محبت سے تسلی
پروردگار نے فرمایا کہ اے موسیٰ ! اور ہارون ! تمہیں اس بات کا ہرگز اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ فرعون تم پر تعدی کرے گایا اس کی طغیانی میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ تعدی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب آپ بےبس اور بےکس اور بےسہارا ہوں۔ جبکہ امرواقعہ یہ ہے کہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں۔ میں تمہارا پشت پناہ، تمہارا حامی و مددگار اور تمہاری پناہ گاہ ہوں۔ معیت کا لفظ کہنے کو تو مختصر سا ہے لیکن اس کے مضمرات بہت وسیع ہیں۔ اللہ کریم جب کسی سے یہ کہہ دے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو اس کے بعد اسے کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مزید فرمایا کہ وہ تم سے اگر کوئی بات کہے گا تو میں اسے سنوں گا اور اگر کوئی حرکت کرے گا تو میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ جب ہر چیز میری نگاہ میں اور ہر بات میری سماعت میں ہے اور کوئی چیز مجھ سے مخفی نہیں اور میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں تو پھر تمہیں اندیشہ کس بات کا۔ اس میں ایک طرف سے شاہانہ انداز ہے جس سے دشمن کا پِتَّہ پھٹ جاتا ہے اور دوسری طرف نہایت محبت کا اظہار ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت کی پھوار برس رہی ہے اور فرعون اور آل فرعون پر غضب کا اظہار ہورہا ہے۔ اور دونوں کا نتیجہ جاننے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 20:47–48فَاْ تِیٰـہُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلاَ رَبِّکَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ 5 لا وَلاَ تُعَذِّبْھُمْ ط قَدْجِئْنٰـکَ بِاٰیـَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ ط وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔ اِنَّا قَدْ اَوْحِیَ اِلَیْنَا اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ (طٰـہٰ :) 47، 48
(پس اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو ہم دونوں تیرے رب کے رسول ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو دکھ نہ پہنچا، ہم تیرے رب کی طرف سے ایک بڑی نشانی بھی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس شخص پر ہے جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ ہم پر یہ وحی کی گئی ہے کہ ان لوگوں پر عذاب ہے جو جھٹلائیں اور روگردانی کریں۔ )
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی دعوت
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے تردد اور اندیشے کو دور فرمانے کے بعد حکم دیا کہ اب تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے یہ دعوت پیش کرو کہ ہم دونوں تیرے رب کے رسول بن کے آئے ہیں۔ رسول کی حیثیت اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حاصل تھی حضرت ہارون (علیہ السلام) رسول نہیں، نبی تھے۔ لیکن یہاں دونوں کے لیے رسول کا لفظ یا تو علی سبیل التغلب کے طور پر استعمال ہوا ہے اور یا لغوی معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ ہم دونوں اللہ تعالیٰ کے پیغامبر ہیں۔
اس سے پہلے دو دفعہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم گزر چکا ہے، پہلے صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا گیا اور اس کے بعد دونوں کو، جس میں صرف فرعون کے پاس جانے کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کے پاس اس لیے جاؤ کہ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کی اصلاح تمہاری ذمہ داری ہے۔ طغیان یعنی سرکشی کا تعلق ساری زندگی کے بگاڑ سے ہے جس میں زندگی کے تمام شعبے شامل ہیں۔ اس لحاظ سے یہ وسیع المعنی لفظ ہے اور اس کے بعد کی بات Understood معلوم ہوتی ہے کہ اگر وہ تمہاری بات کو قبول نہیں کرتا اور اپنی قوم اور بنی اسرائیل تک تمہاری دعوت کو بھی پہنچنے نہیں دیتا تو پھر اسے یہ کہو کہ اگر تمہیں یہ بات گوارا نہیں کہ ہم اہل مصر کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی بات پیش کریں، تو پھر بنی اسرائیل جو درحقیقت پیدائشی مسلمان ہیں انھیں تمہارے ظلم نے کافر بنا رکھا ہے۔ انھیں ہمارے ساتھ جانے دو ۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ مصر کے مکانوں سے وہ صحرا اچھا ہے جس میں فرعون کی بجائے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکتا ہو اور جس میں فرعون کی غلامی سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی غلامی کی جاسکتی ہو۔ اس لیے ہم مصر سے بنی اسرائیل کو نکال کرلے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ غلامی کی ذلت سے نکل کر آزادی کا سانس لے سکیں اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کا حق ادا کرسکیں۔ تم نے انھیں ظلم کے جس شکنجے میں جکڑ رکھا ہے انھیں اس سے نجات دے دیں کیونکہ فرعون بنی اسرائیل پر بڑے بڑے مظالم کررہا تھا۔ انھیں بیگار میں پکڑا جاتا، بےزبان چوپایوں کی طرح ان سے دن بھر مشقت لی جاتی اور ہر طرح کا ذلت آمیز سلوک کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لیے اپنے ان دو بندوں کو بھیجا تھا۔
مزید فرمایا کہ ہم تیرے پاس اپنے رب کی جانب سے ایک بڑی نشانی لے کر بھی آئے ہیں۔ اس سے مراد شاید عصائے موسیٰ ہے۔ اس کی حیثیت سند ماموریت کی سی محسوس ہوتی ہے۔ یعنی تم یہ نہ سمجھو کہ ہماری طرف سے اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کا دعویٰ محض ایجادِ بندہ ہے۔ عصائے موسیٰ پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ جس کے ہاتھ میں یہ عصا ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہی ہوسکتا ہے۔ اور جس کے ہاتھ پر سورج طلوع ہوتا ہو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوگا۔ ہم اپنی اس حیثیت کے حوالے سے تمہیں یہ کہتے ہیں کہ سلامتی صرف اس شخص کے لیے ہے جو اس ہدایت کی پیروی کرے جسے ہم لے کر آئے ہیں۔ اس کا انداز ملاحظہ فرمایئے کہ بات فرعون سے ہورہی ہے لیکن یک لخت حاضر سے غائب کی طرف کلام کا رخ بدل گیا ہے تاکہ فرعون یہ نہ سمجھے کہ مجھے خصوصی طور پر یہ بات کہی جارہی ہے بلکہ عمومی انداز میں یہ فرمایا گیا کہ جو شخص بھی سلامتی کا طالب ہے اسے ہماری لائی ہوئی ہدایت کی پیروی کرنا ہوگی۔ اسی طرح اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ ہم پر یہ بات وحی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اس شخص کے لیے ہے جو پیغمبروں کی تکذیب کرتا ہے اور ان کی تعلیمات سے روگردانی کرتا ہے۔ یہاں بھی بات عمومی انداز میں فرمائی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے پیغمبر چونکہ دنیا کو توحید سکھانے اور راہ ہدایت پر چلانے کے لیے آتے ہیں اس لیے وہ اپنی اس دعوت پر تو کسی طرح کی مفاہمت کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اپنی دعوت کے بنیادی نکات میں تو وہ کسی طرح اخفا سے کام نہیں لیتے۔ البتہ ! اپنے لب و لہجہ کو اس وقت تک دھیما رکھتے ہیں جب تک مخالفین پر اتمامِ حجت نہیں ہوجاتا۔ اس لیے یہاں فرعون پر اپنی طرف سے عذاب کی کوئی دھونس جمانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کو صرف اللہ تعالیٰ کی اس وحی کی خبر دی ہے جو ان پر آئی تھی کہ تکذیب اور روگردانی کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے۔ اور پھر بات کو بھی عموم کے انداز میں کہا گیا ہے تاکہ فرعون اسے اپنے لیے خاص نہ سمجھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ عموم سے خارج نہیں۔
Ayahs 20:49–50قَالَ فَمَنْ رَّبُّـکُمَا یٰـمُوْسٰی۔ قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَیْ ئٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی۔ (طٰـہٰ : 49، 50)
(فرعون نے سوال کیا، اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ حضرت موسیٰ نے جواب دیا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی کی۔ )
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ فرعون کا مکالمہ
گزشتہ دو آیتوں میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اگرچہ یہ بات ذکر نہیں کی گئی کہ آپ دونوں حضرات فرعون کے پاس گئے یا نہیں۔ لیکن پیش نظر آیات میں فرعون اور ان کے درمیان مکالمہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ دونوں حضرات اس کے پاس پہنچے اور اسے جا کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔
اس پیغام میں تین باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی۔ پہلی یہ بات کہ اے فرعون ! تم اس کائنات اور اس مصر کے رب نہیں ہو بلکہ اس کا رب وہ ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے۔ ہم پہلے اس بات کا ذکر کرچکے ہیں کہ فرعون کی حیثیت مصر میں اوتار بادشاہ کی سمجھی جاتی تھی، وہ مصریوں کے عقیدے میں ان کے سب سے بڑے دیوتا ” سورج “ کا مظہر تھا اور اسی عقیدے کے تحت اس کے بت تمام مصر میں پوجے جاتے تھے۔
دوسری بات اس پیغام میں یہ ہے کہ ہم تیرے رب کی طرف سے رسول بن کے آئے ہیں۔ اور ہمارے پاس دو معجزات بھی ہیں جو ہماری ماموریت کی سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اور تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ زندگی کی کامیابی اور آخرت کا دارومدار ہماری رہنمائی اور ہدایت کے قبول کرنے پر ہے جس نے ہماری رسالت اور ہدایت سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوسکتا ہے۔
یہ تینوں باتیں فرعون کے لیے چونکا دینے والی تھیں۔ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی یہ حیثیت کہ وہ زندہ رب ہے اور کائنات اس کے احکام کی پابند ہے بالکل ایک نئی بات تھی۔ وہ اس بات سے بیخبر نہیں تھا کہ کائنات کا ایک خالق ہے اور اس کی حیثیت سب سے بلند ہے اور وہی اس کائنات کا رب بھی ہے لیکن وہ یہ سمجھتا تھا کہ زبانی کلامی اس کی اس حیثیت کو قبول کرلینا انسانوں کے لیے کافی ہے، عملی زندگی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں اور مزید اسے جس بات نے پریشان کیا وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو زندگی گزارنے کا ایک طریقہ سکھاتا ہے اور اسی پر انسان کی دنیوی اور اخروی فلاح کا دارومدار ہے۔ وہ اپنا طریقہ جن مقدس انسانوں پر نازل کرتا ہے انھیں رسول کہا جاتا ہے۔ ان کی رہنمائی کو قبول کرنا اور ان کی پیروی کرنا نجات کی ضمانت ہے اور جو شخص ان کی تکذیب کرتا اور ان کے طریقے سے روگردانی کرتا ہے وہ دنیا میں بھی عذاب کا شکار ہوسکتا ہے اور آخرت میں تو یقینا اس کے لیے ہمیشہ کی ناکامی ہے۔ اس لیے اس نے سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ پوچھا کہ تم جس رب کی بات کررہے ہو، وہ کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں نہایت اختصار سے جو کچھ ارشاد فرمایا وہ کو زے میں سمندر بند کردینے کی ایک نادر مثال ہے۔ لیکن اس جواب کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ ربوبیت کا مفہوم کیا ہے، تکوینِ وجود کے مراتب کیا ہیں، ربوبیت کی اقسام کیا ہیں، ہدایت کا مفہوم کیا ہے، اس کے مراتب کیا ہیں، انسانوں کے لیے خصوصی ہدایت کیا ہے، اسے قبول نہ کرنے کے نتائج کیا ہیں اور رسالت کیوں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ؟ ؟ ؟ ایسے ہی چند اور حقائق کے فہم پر اس کے جواب کو سمجھنے کا دارومدار ہے۔ بنابریں ہم نے ضروری سمجھا ہے کہ ان حقائق پر ایک تفصیلی گفتگو کی جائے۔
تکوینِ وجود کے چار مراتب
خالقِ کائنات نے اپنی آخری کتاب میں تکوینِ وجود کے چار مراتب بیان فرمائے ہیں۔ خلق، تسویہ، تقدیر اور ہدایت۔ کائنات کی ہر مخلوق کا عدم سے وجود میں آنا اس کی صفت خلق کا اظہار ہے۔ مگر ہر مخلوق کا اس طرح پیدا کیا جانا جس طرح اسے ہونا چاہیے تھا اور اس کے نک سک کا درست ہونا اور اس میں انتہا درجے کا تناسب پایاجانا اور ہر طرح اپنے ماحول سے اس کا مناسبت رکھنا اور ماحول کا اس کے ساتھ مناسب ہونا یہ وہ چیز ہے جس کو تسویہ کہا گیا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات کی ہر مخلوق اپنے وجود کے اعتبار سے اس طرح واقع ہوئی ہے کہ اس کا جسم اور اس کا ماحول باہم دگر ایک دوسرے کے لیے معاون اور مددگار بن گئے ہیں۔ پرند ہوا میں اڑتے ہیں تو انھیں پر عطا کیے گئے۔ مچھلیاں پانی میں پیدا ہوتی ہیں تو انھیں تیرنا سکھایا گیا۔ حشرات الارض کوڑا کرکٹ میں پیدا ہوتے ہیں تو انھیں رینگنا سکھایا گیا۔ چرند اور درند جنگل میں دوڑ پھر رہے ہیں تو انھیں دوڑنا سکھایا گیا۔ مچھلی خشکی میں پید انھیں کی گئی۔ پرندے پانی میں پیدا نہیں کیے گئے کیونکہ ان کا جسمانی تناسب اس کی اجازت نہیں دیتا پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہر مخلوق کے لیے پہلے سے یہ طے کردیا گیا کہ اسے کس طرح کا کام انجام دینا ہے ؟ اس کی حدود کار کیا ہوں گی ؟ اس کی قوت عمل کس طرح کی ہوگی ؟ اسے کب تک کس حال میں رہنا ہے ؟ اور کس حد تک اپنے کام کو انجام دینا ہے ؟ یہ وہ چیز ہے جسے قرآن کریم میں تقدیر کا نام دیا گیا ہے۔ چناچہ سورج اور چاند کو پیدا کیا گیا تو ان کے عمل کا ایک دائرہ ٹھہرادیا گیا، ستارے بنائے گئے تو انھیں ان کی ڈیوٹیاں سمجھا دی گئیں، نباتات سے لے کر آسمان کی ہر مخلوق تک ہر ایک کے لیے ایک تقدیر بنادی گئی۔ چناچہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سورج اپنے دائرئہ کار سے باہرنکل جائے یعنی کائنات کو روشنی دینے اور گرمی پہنچانے سے رک جائے، یہ ممکن نہیں کہ چاند اپنی حلاوت سے اہل زمین کو محروم کردے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ستارے جھلملانا چھوڑ دیں۔ یہ ناممکن ہے کہ پھول خوشبو دینے اور پانی پیاس بجھانے سے انکار کردے۔ ہر ایک اپنے کام پر لگا ہوا ہے اور اسے اپنا دائرئہ کار اچھی طرح معلوم ہے اور پھر شعور کی آنکھ سے مزیدکام لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ تمام مخلوقات کو یہ بھی بتایادیا گیا ہے کہ تمہارا مقصدوجود کیا ہے اور تمہیں اپنے اپنے فرائض کس طرح انجام دینا ہیں۔ مچھلی کو اگر پانی میں تیرنے کا حکم دیا گیا ہے تو ایسانھیں ہے کہ اس کو تیرنا نہ سکھایا گیا ہو۔ پرند کے لیے اگر ہوا میں اڑنے کو مقدر کیا گیا تو ایسا نہیں ہے کہ اسے اڑنے کی تعلیم نہ دی گئی ہو۔ سورج، چاند اور ستاروں کو جس کام پر لگادیا گیا ہے ایسانھیں ہے کہ انھیں اس کی ہدایت نہ دی گئی ہو۔ قرآن کریم کہتا ہے :
” لَاالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَااللَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارَ “
(سورج کی مجال نہیں کہ وہ چاند کو جاپکڑے اور رات کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ دن سے آگے بڑھ جائے ہر ایک کا اپنا دائرہ کار ہے اور اپنے دائرہ کار میں مصروفِ عمل ہے ) ۔
اس ہدایت کی ہمہ گیری کا عالم یہ ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ایسی دکھائی نہیں دیتی کہ اسے وجود ملا ہو اور وہ غائتِ وجود سے بیخبر ہو اور پھر اس کو روبعمل لانے سے وہ بےبہرہ ہو۔ اس نے کلیوں کو پیدا کیا تو انھیں چٹکنا بھی سکھایا، اس نے پھول کو پیدا کیا تو اسے مہکنا بھی سکھایا، اس نے درختوں کو پیدا کیا تو انھیں لہکنا بھی سکھایا، اس نے بادل کو پیدا کیا تو اسے کڑکنا بھی سکھایا، اس نے رعد کو گرجنا اور بجلی کو چمکنا سکھایا، اس نے پرندے کو چہکنا اور ہوا کو چلنا سکھایا، اس نے آگ کو جلانا اور پانی کو بہنا سکھایا، اس نے حسن کو مچلنا اور عشق کو پگھلنا سکھایا۔ غرضیکہ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جسے اس نے تقدیر اور ہدایت سے نہ نوازا ہو۔ حتیٰ کہ اگر غور و فکر کے چند اوراق اور الٹے جائیں تو بعض چیزیں ایسی سامنے آتی ہیں کہ آدمی حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مچھلیوں میں دو کا سفر بہت حیرت انگیز ہے۔
1 سامن مچھلی
یہ اگر کسی ندی میں پیدا ہوتوجوان ہونے کے بعد یہ پہلے دریا میں اور وہاں سے سمندر میں چلی جاتی ہے اور وہاں مدتوں رہتی ہے اور جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی موت قریب آگئی ہے تو وہ واپس چل پڑتی ہے۔ یہ سمندر اور دریا سے ہوتی ہوئی ندی کے اس مقام پر جارکتی ہے جہاں وہ پیدا ہوئی تھی۔ اگر وہ دوران سفر کسی غلط ندی کی طرف مڑجائے تو اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ واپس آجاتی ہے۔
2 ایل مچھلی
یہ کسی ندی میں ہو یا دریا میں جوان ہونے کے بعد اپنے وطن سے چل پڑتی ہے اور ہزاروں میل دورجزائر برمودہ (اوقیانوس) میں چلی جاتی ہے۔ وہاں بچے دے کر مرجاتی ہے یہ بچے وہاں سے چل کر اپنی ماں کے وطن میں آجاتے ہیں اور وہاں سے پھر جزائر برمودہ میں پہنچ کر پہلے بچے دیتے ہیں بعد ازاں مرجاتے ہیں۔
ہدایت کے مدارج
تکوین وجود اور تکمیل وجود کے یہ چار مراحل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو پیدا فرمایا پھر اس کا تسویہ کیا، پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کردی اور پھر اسے اس کی تقدیر کے مطابق زندگی اور معیشت کی راہ پر چلنے کا طریقہ سکھایا۔ یعنی ہدایت عطا فرمائی۔ اس ہدایت پر اگر غور کیا جائے تو اس کے چار طریقے معلوم ہوتے ہیں۔ نباتات میں یہ ہدایت فطری رہنمائی کا درجہ رکھتی ہے جس کے نتیجے میں بیلیں زمین پر پھیلتی، پودے سر اٹھاتے، درخت تن کر کھڑے ہوتے ہیں پھر ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی ہدایت کے مطابق برگ وبار لاتا اور پھل اور پھول دیتا ہے۔ لیکن حیوانات میں ہم اس فطری ہدایت کو اندرونی الہام کی شکل میں دیکھتے ہیں کہ ہر حیوان کا بچہ ادھر پیدا ہوتا ہے ادھر کوئی الہام کرنے والا اسے یہ الہام کرتا ہے کہ تیری غذا ماں کے سینے میں یا تیرے قریب ہی رکھ دی گئی ہے وہاں سے تجھے اس طرح حاصل کرنی ہے۔ چناچہ ہم بلی کے بچے کو دیکھتے ہیں کہ ابھی اس نے آنکھیں کھولی نہیں اور خارج کے مؤثرات نے اسے چھوا تک نہیں مگر وہ اپنی ماں کی چھاتی کو ٹٹولتا ہے اس پر منہ مارتا ہے اور پستان کو منہ میں لے کر چوسنے لگتا ہے اور بلی فرط محبت سے اسے چاٹ رہی ہے۔ آپ نے بلی کو دیکھا ہوگا جسے اس سے پہلے بچہ جننے کا کوئی تجربہ نہیں ہے مگر جیسے ہی اس کے وضع حمل کے دن قریب آتے ہیں وہ الگ تھلگ کونے کی تلاش میں ماری ماری پھرتی ہے اور پھر کسی الگ کونے کو عافیت کی جگہ سمجھتے ہوئے بیٹھ جاتی ہے اور بچے جن دیتی ہے اور پھر وہ جس طرح اپنے بچوں کی نگہداشت کرتی ہے اور ایک موہوم خطرہ محسوس کرتے ہوئے مختلف جگہیں بدلتی ہے یہ سوائے اس کے اور کیا ہے کہ کوئی اندرونی الہام ہے جو اسے ہر معاملہ کی ہدایت دے رہا ہے۔ خود انسان کا بچہ جو جانوروں کے بچوں سے بھی زیادہ بےبس ہوتا ہے جس کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے :
” ھُوَالَّذِیْ اَخْرَ جَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھَاتِکُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ شَیْئًا “
(وہ ذات ہے جس نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے) ۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بچے کے پید اہوتے ہی ماں کی مامتابے تاب ہو کر اسے سینے سے لگاتی ہے اور وہ ماں کی چھاتی کے ساتھ منہ مارنے لگتا ہے اور پستان منہ میں لے کر چوسنے لگتا ہے تاکہ اپنی غذا حاصل کرکے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس بچے کو کون سکھاتا ہے کہ تیری غذا ماں کی چھاتی میں ہے اور تجھے اس طرح اسے چوسنا ہے یہ وہ اندرونی الہام ہے جس کے ذریعے انسان کو سب سے پہلی ہدایت دی جاتی ہے۔
ہدایت کا دوسر امرتبہ حواس اور ادراک کی ہدایت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ حیوانات اس جوہرِدماغ سے محروم ہیں جسے عقل و فکر سے تعبیر کیا جاتا ہے تاہم فطرت نے انھیں ادراک و احساس کی کی وہ تمام قوتیں دے دی ہیں جن کی زندگی ومعیشت کے لیے ضرورت تھی اور ان کی مدد سے وہ اپنے رہنے سہنے، کھانے پینے، توالد وتناسل اور ہدایت و نگرانی کے تمام فرائض حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں۔ پھر حواس وادراک کی یہ ہدایت ہر حیوان کے لیے ایک ہی طرح کی نہیں بلکہ ہر وجود کو اتنی ہی اور ویسی ہی استعداددی گئی جیسی استعداد اس کے احوال کے لیے ضروری تھی۔ چیونٹی کی قوت شامہ نہایت دوررس ہوتی ہے اس لیے کہ اسی قوت کے ذریعے وہ اپنی غذا حاصل کرتی ہے، چیل اور عقاب کی نگاہ تیزہوتی ہے کیونکہ اگر ان کی نگاہ تیز نہ ہو تو بلندی میں اڑتے ہوئے اپنا شکار نہ دیکھ سکیں یہی وہ ہدایت ہے جس کی طرف حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زبانی ارشاد کیا گیا ہے فرعون نے جب پوچھا :
” فَمَنْ رَّبُّکُمَایَاموسٰی “
( اے موسیٰ ! تمہارا پروردگار کون ہے ؟ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :
” رَبُّنَاالَّذِی اعطٰی کُلَّ شَئی خَلْقَہٗ ثُمَّ ھُدٰی “
(ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ پھر اسے ہدایت دی، یعنی اس پر زندگی اور معیشت کی راہ کھول دی )
پھر یہی وہ ہدایت ہے جسے دوسری جگہ راہ عمل آسان کردینے سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ فرمایا :
” مِنْ اَیِّ شَیْئٍ خَلَقَہٗ ، مِنْ نُطْفَۃٍ ، خَلَقَہٗ فَقَدَّ رَہٗ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ “
(اس نے انسان کو کس چیز سے پیدا کیا۔ نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کی تمام ظاہری اور باطنی قوتوں کے لیے ایک اندازہ ٹھہرادیا پھر اس پر زندگی اور عمل کی راہ آسان کردی) ۔
ہدایت کے یہ دو مرتبے ہوئے جنھیں ہم ہدایتِ الہام اور ہدایتِ حواس کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ دونوں مرتبے انسان اور حیوان سب کے لیے ہیں۔ الہام کی ہدایت انسان اور حیوان میں سعی و طلب کا ولولہ پیدا کرتی ہے۔ حواس کی ہدایت کا مرتبہ اس سے بلند تر ہے۔ یہ ہمیں دیکھنے، سننے، چکھنے، چھونے اور سونگھنے کی قوتیں بخشتی ہے اور انہی کے ذریعے ہم خارج کا علم حاصل کرتے ہیں۔ حیوان کے لیے تو ہدایت کے یہ دونوں مرتبے کافی ہیں کیونکہ اسے زندگی کا جو طریقہ اور جو نصب العین سکھایا گیا ہے اس کے لیے کسی تیسرے مرتبہ ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن انسان کے لیے ایک تیسرے مرتبہ ہدایت کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس کے لیے مجرد احساس کافی نہیں اور نہ صرف محسوسات کا علم اس کے لیے کفایت کرتا ہے۔ انسان کو تو استنباط اور استنتاج کی بھی ضرورت ہے۔ احکام کی بھی ضرورت ہے اور کلیات کی بھی ضرورت ہے۔ اور یہ کام صرف حواس کی ہدایت سے ممکن نہیں۔ اس لیے انسان کو ایک تیسرے مرتبہ ہدایت سے نوازا گیا۔ یہ وہ ہے جسے جوہرِ عقل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جوہرِ عقل دراصل اسی قوت کی ایک ترقی یافتہ حالت ہے جس نے حیوانات میں الہام ووجدان اور حواس کی روشنی پید 1 کردی ہے۔ جس طرح انسان کا جسم اجسام ِ ارضی کی سب سے اعلیٰ کڑی ہے اسی طرح اس کی معنوی قوت بھی تمام معنوی قوتوں کا برترین جوہر ہے۔ روح حیوانی کا وہ جو ہرِادراک جو نباتات میں مخفی اور حیوانات کے وجدان و مشاعر میں نمایاں تھا انسان کے مرتبہ میں پہنچ کردرجہء کمال تک پہنچ گیا اور جوہرِعقل کے نام سے پکارا گیا۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہدایتِ فطرت کے ان تینوں مرتبوں میں سے ہر مرتبہ اپنی قوت و عمل کا ایک خاص دائرہ رکھتا ہے۔ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر اس مرتبہ سے ایک بلند تر مرتبہ موجود نہ ہوتا تو ہماری معنوی قوتیں اس حد تک ترقی نہ کرسکتیں جس حد تک فطرت کی رہنمائی سے ترقی کررہی ہیں۔ الہام کی ہدایت ہم میں طلب و سعی کا جوش پیدا کرتی ہے۔ مطلوبات زندگی کی راہ پر لگاتی ہے۔ لیکن ہمارے وجود سے باہر جو کچھ موجود ہے اس کا ادراک حاصل نہیں کرسکتی۔ یہ کام حواس کی ہدایت کا ہے۔ وجدان کی راہنمائی جب درماندہ ہوجاتی ہے تو حواس کی دستگیری نمایاں ہوتی ہے۔ آنکھ دیکھتی ہے، کان سنتے ہیں، زبان چکھتی ہے، ہاتھ چھوتا ہے، ناک سونگھتی ہے اور اس طرح ہم اپنے وجود کے باہر کی تمام محسوس اشیاء کا ادراک حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن حواس کی ہدایت بھی ایک خاص حد تک ہی کام دے سکتی ہے۔ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ آنکھ دیکھتی ہے مگر صرف اسی حالت میں جبکہ دیکھنے کی تمام شرطیں موجود ہوں اور اگر کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے۔ مثلاً روشنی نہ ہو یا فاصلہ زیادہ ہو تو ہم آنکھ رکھتے ہوئے بھی ایک موجودچیز کو براہ راست نہیں دیکھ سکتے۔ علاوہ بریں ! حواس کی ہدایت صرف اتنا ہی کرسکتی ہے کہ اشیاء کا احساس پیدا کردے لیکن مجرد احساس کافی نہیں ہے ہمیں استنباط واستتناح کی بھی ضرورت ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم کلیات وضع کرتے ہیں اور کلیات سے احکام نکالتے ہیں۔ اور یہ کام عقل کی ہدایت کا ہے۔
اسے مثال سے یوں واضح کیا جاسکتا ہے کہ حواس تعمیر کے کام میں مزدوروں کی طرح ہیں۔ جن کا کام خام مواد مہیا کرنا، بکھری ہوئی چیزیں فراہم کرنا اور مسالہ بہم پہنچانا ہے اور عقل کی حیثیت ایک معمار کی ہے جس کا کام بکھرے ہوئے مواد کو جوڑ کر ایک عمارت کی تشکیل دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر حواس کے بعد عقل کا جوہر عطا نہ کیا جاتاتو ہماری بکھری ہوئی معلومات، ہمارے منتشر محسوسات، ہماری زندگی کے کسی شعبہ کے لیے معاون ثابت نہ ہوتے کیونکہ ان سے کام لینا، انھیں ترتیب دینا اور ان سے کلیات وضع کرنا اور پھر ان سے احکام استنباط کرنا۔ عقل کا کام ہے اور عقل کی عدم موجودگی میں ظاہر ہے یہ کام نہیں ہوسکتا تھا اور ہم زندگی کے میدان میں ناکام ہوجاتے۔ پھر ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے وہ یہ کہ جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ وجدان اور فطری الہام کی نگرانی کے لیے حواس کی راہنمائی کی ضرورت ہے کیونکہ وجدان اور احساس غلطیوں سے مبرا نہیں۔ ان کی تصحیح و نگرانی کے لیے ہمیں حواس کی راہنمائی کی ضروت ہے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ حواس کی راہنمائی بھی نارسائی کا شکار ہوتی ہے اور غلطیوں سے محفوظ بھی نہیں۔ مثلاً ہم دور سے ایک چیز دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں ایک سیاہ نقطے سے زیادہ حجم نہیں رکھتی۔ حالانکہ وہ ایک عظیم الشان گنبد ہوتی ہے۔ ہم بیماری کی حالت میں شہد جیسی میٹھی چیز چکھتے ہیں لیکن ہماری قوت ذائقہ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اس کا مزاکڑوا ہے۔ ہم تالاب میں لکڑی کا عکس دیکھتے ہیں لکڑی بالکل سیدھی ہوتی ہے۔ لیکن عکس میں ٹیڑھی دکھائی دیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ کسی عارضے کی وجہ سے کان بجنے لگتے ہیں اور ہمیں ایسی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ جن کا خارج میں کوئی وجود نہیں اب اگر مرتبہ حواس سے ایک بلند تر مرتبہ ہدایت کا وجود نہ ہوتا تو ممکن نہیں تھا کہ ہم حواس کی درماندگیوں میں حقیقت کا سراغ پاسکتے لیکن ان تمام حالتوں میں عقل کی ہدایت نمودار ہوتی ہے۔ وہ حواس کی درماندگیوں میں ہماری راہنمائی کرتی ہے وہ ہمیں بتلاتی ہے کہ سورج ایک عظیم الشان کرہ ہے۔ اگرچہ ہماری آنکھ اسے ایک سنہری تھال سے زیادہ محسوس نہیں کرتی ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہے کہ شہد کا مزاہر حال میں میٹھا ہے اور اگر ہمیں کڑوا محسوس ہوتا ہے تو یہ اس لیے ہے کہ ہمارے منہ کا مزا بگڑ گیا ہے۔ وہ ہمیں بتلاتی ہے کہ بعض اوقات خشکی بڑھ جانے سے کان بجنے لگتے ہیں۔ اور ایسی حالت میں جو صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ وہ خارج کی صدائیں نہیں خود ہمارے دماغ کی گونج ہوتی ہے۔ گذشتہ معروضات میں آپ نے دیکھا کہ وجدان اور الہام کی ہدایت کے بعد حواس کی ہدایت نمودار ہوئی کیونکہ وجدان کی ہدایت ایک خاص حد سے نہیں بڑھ سکتی تھی اور پھر حواس کے بعد عقل کی ہدایت نمودار ہوئی کیونکہ حواس کی ہدایت بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی تھی اور اس کے ساتھ یہ بات بھی کہ وہ غلطیوں اور نارسائیوں سے محفوظ بھی نہیں تھی۔ ٹھیک اسی طرح ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ دونوں کمزوریاں عقل کے ساتھ بھی لگی ہوئی ہیں۔ کیونکہ عقل زندگی کے ہر شعبہ میں نہ تو مکمل رہنما ہے اور نہ بالکل صحیح راہنما ہے۔ اس کا بھی ایک محدود دائرئہ عمل ہے جس سے یہ آگے نہیں بڑھ سکتی اور اس کی کارفرمائی بھی غلطیوں سے مبرانھیں کیونکہ اس کا دائرہ عمل جیسا کچھ بھی ہے وہ محسوسات کے دائرے میں محدود ہے۔ یعنی وہ صرف اس حد تک کام دے سکتا ہے۔ جس حدتک ہمارے حواس خمسہ معلومات بہم پہنچاتے رہتے ہیں۔ لیکن محسوسات کی سرحد سے آگے کیا ہے ؟ اس پردے کے پیچھے کیا ہے ؟ جس سے آگے ہماری چشم حواس نہیں بڑھ سکتی۔ یہاں پہنچ کر عقل ایک قلم درماندہ ہوجاتی ہے اس کی ہدایت ہمیں کوئی روشنی نہیں دے سکتی۔ بقول اقبال :
خرد سے راہ رو روشن بصر ہے
خرد کیا ہے چراغ رہگذر ہے
درونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا
چراغِ رہگذر کو کیا خبر ہے
یوں کہنا چاہیے کہ عقل ایک صحیح راہنما ہے۔ لیکن مکمل نہیں۔ غلطی ہماری ہے کہ ہم اسے ایک مکمل رہنما سمجھ کر زندگی کے ہر دائرہ عمل میں اس سے راہنمائی کے طالب ہوتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی آدمی نے کسی صراف سے یہ پوچھا کہ صراف میاں تمہارا میزان کیسا ہے ؟ اس نے کہا بالکل صحیح ہے۔ بالکل صحیح تولتا ہے۔ ذرہ بھر کمی بیشی نہیں ہونے دیتا۔ اس نے کہا اگر تمہاری بات صحیح ہے تو پھر اس میں اپنی دکان تول کر دکھائو۔ اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور کہا بھلے آدمی یہ دکانیں تولنے کے لیے تھوڑی بنایا گیا ہے۔ اس میں تو سونا چاندی تولتے ہیں۔ اس نے کہا کہ تم نے تو کہا تھا کہ تمہارا میزان صحیح ہے۔ اس نے کہا میں نے صحیح کہا تھا۔ یہ غلطی میزان کی نہیں تمہاری ہے کہ تم اس میں وہ چیز تلوانا چاہتے ہو جو اس کے دائرہ ٔ اختیار سے باہر ہے۔ ہم بھی عقل سے وہ کام لینا چاہتے ہیں جو اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اس کا دائرئہ کار محسوسات تک محدود ہے۔ طبیعیات تک محدود ہے رہی یہ بات کہ محسوسات کے دائرہ کے پیچھے کیا ہے اور مابعد الطبعیات کیا ہے عالم لاہوت اور عالم الٰہیات کیا ہے، عالم ملکوت کا کیا حال ہے ؟ عالم برزخ میں کیا ہو رہا ہے ؟ عالم آخرت میں کیا ہوگا ؟ موت اور زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ روح کس چیز کا نام ہے کائنات کی ابتدا کیا ہے اور انتہا کیا ہے ؟ اللہ کی صفات کیا ہیں ؟ اخلاقی مسلمات کی حقیقت کیا ہے ؟ قوموں کے عروج وزوال کے اصل اسباب کیا ہیں ؟ وہ اخلاقی نقطہ کیا ہے جس سے انسانیت کا آغاز ہوتا ہے اور پھر انسانیت پروان چڑھتی ہے ؟ انسانیت کے مسلّمہ مسائل کا اجتماعی حل کیا ہے ؟ انسان کے اندر بیٹھا ہوا انسان کس چیز سے مرتا اور کس چیز سے جیتا ہے ؟ یہ وہ زندگی اور کائنات کے حقائق ہیں جس سے پردہ اٹھانا عقل کی بساط سے باہر ہے۔ لیکن جب ہم انہی چیزوں کا جواب عقل سے مانگتے ہیں تو ہم اس پر ایک ایسابوجھ لاد دیتے ہیں جس کے تحمل کی طاقت اس میں نہیں ہے بلکہ بعض دفعہ ہم دیکھتے ہیں کہ زندگی کے بالکل پیش پا افتادہ حقائق بھی انسانی عقل کی گرفت سے باہر معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ غور فرمایئے کہ نفس انسانی طرح طرح کی خواہشوں اور جذبوں میں کچھ اس طرح گھرا ہوا، بلکہ اس طرح مقہور واقع ہوا ہے کہ جب بھی عقل اور جذبات میں کشمکش ہوتی ہے تو اکثر حالتوں میں فتح جذبات ہی کی ہوتی ہے۔ بسا اوقات عقل ہمیں یقین دلاتی ہے کہ فلاں فعل مضر اور مہلک ہے لیکن جذبات ہمیں ترغیب دیتے ہیں اور ہم اس کے ارتکاب سے اپنے آپ کو روک نہیں سکتے۔ عقل کی بڑی سے بڑی دلیل بھی ہمیں ایسا نہیں بنا دے سکتی کہ غصے کی حالت میں بےقابو نہ ہوجائیں اور بھوک کی حالت میں مضر غذ ا کی طرف ہاتھ نہ بڑھائیں۔
جذبات تو پھر بھی ایک زور دار شے ہے۔ وہم تو انسانی احساسات میں سے ایک کمزورحس کا درجہ رکھتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات وہم جیسا کمزور جذبہ بھی عقل انسانی پر غالب آجاتا ہے۔ عقل جانتی ہے کہ ایک انسان کو گذرنے کیلیے ایک فٹ یا زیادہ سے زیادہ دو تین فٹ چوڑی گزرگاہ کافی ہے۔ اگر کسی عقل کے پرستار سے یہ پوچھا جائے کہ دریا کے اوپر گزرگاہ بنانے کے لیے کتنا چوڑا پل ہونا چاہیے تو وہ عقل کے مطابق اتنی ہی چوڑائی تجویز کرے گا۔ لیکن اگر کسی عقل کے پرستار سے کسی ایسے پل پر سے گزرنے کو کہا جائے جو تین فٹ چوڑا ہو لیکن اس کے نیچے سے گزرنے والادریا طغیانی پر آیا ہوا ہو جس کی موجیں اچھل کر دریا کے پل کو چھو رہی ہوں تو یہی عقل کا پرستار کبھی اس پل پر سے گزرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ بلکہ اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار ہوکرگذرنے سے صاف انکار کردے گا۔ غور فرمائیے کہ جس عقل کو جذبات اپنا اسیر بنالیں اور وہم اسے شکست دے دے وہ زندگی کے معامالات حل کرنے میں کہاں تک مئو ثر ہوسکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ عقل کے میز ان ہونے اور موثر رہنما ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب اس کے دائرہ کار سے باہر اس کو استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسے ایک مکمل رہنما سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کی کمزوری کا عالم بھی آپ نے دیکھا کہ وہ اپنے آپ کو جذبات اور وہم کی زنجیروں سے آزاد کرنے سے بھی عاجز ہے۔ یہاں تک تو معاملہ پھر بھی عقل کے موثر نہ ہونے کا ہے لیکن اس وقت تو معاملہ بہت خطرناک ہوجاتا ہے جب عقل نہ صرف یہ کہ مؤثر نہیں رہتی بلکہ بعض دفعہ اپنی رہنمائی میں وہ غلط نتائج پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں اخلاقی زندگی تباہ و برباد ہوکررہ جاتی ہے۔ یہ موقع وہ ہے جب عقل کو خواہشات کا غلام بنادیا جاتا ہے انسان عجیب واقع ہوا ہے کہ وہ اصلاً خواہشات کی پیروی کرنا چاہتا ہے لیکن اسے بروئے کارلاتے ہوئے نام عقل کا رکھتا ہے۔ حالانکہ اگر دیانت داری سے غور کیا جائے تو وہاں عمل دخل عقل کا نہیں بلکہ سراسر خواہشات کا ہوتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کریم نے ایک جگہ ارشاد فرمائی :
وَلَوِ اتَّبَعَ الحَقَّ اَھَوَآئُ ھُمْ لَفَسَدَاتِ السَّمٰوٰاتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ
(کہ اگر حق ہوائے نفس کی پیروی کرنے لگے تو زمین و آسمان اور اس میں جو کچھ ہے وہ تباہ ہوجائے ) ۔
اور یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ امر واقعہ ہے کہ فلسفہ قانون میں فلاسفہ کا ایک گروہ پایا جاتا ہے جن کا نمایاں نمائندہ مشہور ماہر قانون ڈاکٹر فرائیڈ میں ہے۔ اس نے اپنے نظریہ کی وضاحت کے لیے ” دی لیگل تھیوری “ کے نام سے ایک کتاب لکھی اس میں ایک جگہ وہ لکھتا ہے :
” عقل صرف انسانی جذبات و خواہشات کی غلام ہے اور اس کو انہی کا غلام ہونا بھی چاہیے۔ عقل کا اس کے سوا اور کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ان جذبات کی بندگی اور ان کی اطاعت کرے۔ “
پھر اس نظریے سے جو نتیجہ نکلنا چاہیے وہ ڈاکٹر فرائیڈ میں کے الفاظ میں یہ ہے کہ :
” اس کے سوا ہر چیز یہاں تک کہ اچھے برے کے تصورات اور یہ الفاظ کہ فلاں کام ہونا چاہیے اور فلاں کام ہونے کے لائق ہے کلی طور پر جذباتی باتیں ہیں اور دنیا میں اخلاق نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ “
ممکن ہے کہ آپ اسے محض ایک فلسفی کی بڑسمجھیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں عقل کی برتری کا دعویٰ کیا جاتا ہے بلکہ عقل کی غلامی کی جارہی ہے وہاں عملی زندگی میں یہی فلسفہ ہمیں حاکم دکھائی دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اخلاق کی ہر قدر رفتہ رفتہ شکست و ریخت کا شکار ہے۔ رحم اتنی بڑی اخلاقی قدر ہے کہ شائد کوئی اس کا انکار نہ کرسکے۔ ہیرو شیما اور ناگاسا کی پر گرائے جانے والے بموں سے انسانیت پر جو ظلم ہوا انسانیت کی پیشانی آج بھی اس سے عرق آلود ہے۔ لیکن اندازہ فرمائیے کہ جب اس واقعہ کو خالصتاً عقل کی نگاہ سے دیکھا گیا تو اسے ظلم کی بجائے رحم بنادیا گیا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جیسی علمی اور عالمی کتاب میں ان تباہ کاریوں کا ذکر بعد میں کیا گیا جو ایٹم بم کی بدولت ہیرو شیما اور ناگاسا کی میں برپا ہوئیں لیکن ایٹم بم کے تعارف میں یہ جملہ سب سے پہلے لکھا گیا ہے :
” سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ایٹم بم نے جنگ کو مختصر کرکے دس لاکھ امریکی سپاہیوں اور اڑھائی لاکھ برطانوی سپاہیوں کی جانیں بچائیں۔ “
اندازہ فرمائیے ! اس قسم کی منطق میں کون سے ظلم وستم اور کون سی سفاکی ایسی ہے جسے عقل کے خلاف کہا جاسکے ؟ اسی طرح شرم وحیاء انسان کا سب سے بڑا جوہر ہے لیکن خالص عقل کے پیروکاروں نے جس طرح اس کی مٹی پلید کی ہے اور اس بنیادی قدر کو جس طرح انسانی زندگی سے خارج کردیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے میں شرم وحیاء سے معذرت کے ساتھ آٹھ سو سالہ پرانی ایک مثال پیش کررہا ہوں۔
” تاریخ اسلام میں ایک فرقہ ” باطنیہ “ کے نام سے گزرا ہے۔ اس کا ایک مشہور لیڈر عبیداللہ القیروانی اپنے ایک مکتوب میں لکھتا ہے :
وما العجب من شئی کالعجب من رجل یدعی العقل ثم یکون لہ اخت او بنت حسناء ولیست لہ زوجۃ فی حسنھا فیحرمھاعلی نفس وینکحھا من اجنبی ولو عقل الجاھل لعلم انہ احق باختہ وبنتہ من الاجنبی وماوجہ ذلک الاان صاحبھم حرم علیھما الطیبات (الفرق بین الفرق لعبدالقاہر البغدادی)
” اس سے زیادہ تعجب کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ ایک شخص عقل کا دعویدار ہونے کے باوجودایسی حماقتیں کرتا ہے کہ اس کے پاس نہایت خوبصورت بہن یا بیٹی موجود ہوتی ہے اور خود اس کی بیوی اتنی حسین نہیں ہوتی مگر وہ اس خوبصورت بہن یا بیٹی کو اپنے اوپر حرام قرار دے کر اسے کسی اجنبی سے بیاہ دیتا ہے۔ حالانکہ ان جاہلوں کو اگر عقل ہوتی تو وہ یہ سمجھتے کہ ایک اجنبی شخص کے مقابلے میں اپنی بہن اور بیٹی کے وہ خود زیادہ حق دار ہیں۔ اس بےعقلی کی وجہ دراصل صرف یہ ہے ان کے آقانے ان پر عمدہ چیزوں کو حرام کردیا ہے۔ “
آپ ممکن ہے کہ اسے آٹھ سو سالہ پرانی غیر ترقی یافتہ حالت کی عکاس سمجھ کر نظر انداز کردیں۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں جس طرح عقل خالص کی پیروی میں اضافہ ہوا ہے اسی طرح اس کے نتیجے میں اخلاقی اقدار کی پامالی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آج کے دور میں بہن سے نکاح باقاعدہ ایک نعرہ بن چکا ہے اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں باقاعدہ اس کے حق میں جلوس نکالے گئے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اس بداخلاقی کو روکنے کے لیے میڈیکل سائنس کے حوالے سے یہ دلیل دی جاتی رہی ہے کہ استلذاذ بالاقارب سے طبی نقصانات ہوتے ہیں۔ لیکن آج مغربی دنیا میں اس موضوع پر کتابیں آرہی ہیں انھوں نے نہ صرف ان طبی نقصانات کی توجیہ کو غلط ثابت کردیا ہے بلکہ استلذاذ بالاقارب کو انھوں نے انسان کی فطری خواہش یعنی ہیومین ارج قرار دے کر انسان کا بنیادی حق تسلیم کرانے کی کوشش کی ہے اور اس پر باقاعدہ کتابیں لکھی جارہی ہیں اور اسی رویہ کا نتیجہ یہ ہے کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ ہم جنس پرستی کے جواز کابل تالیوں کی گونج میں منظور کرچکی ہے اور یہ اخلاقی اعتبار سے انتہائی قابل نفرت خصلت جس کی وجہ سے قوم لوط پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے۔ نہ صرف کوئی برائی نہیں رہی بلکہ اسے باقاعدہ ایک علم بنادیا گیا ہے۔ آپ امریکہ کی لائبریریوں میں جائیں تو وہاں آپ کو اس برائی کے حق میں لکھی ہوئی کتابوں پر مشتمل علیحدہ سیکشن ملے گا۔ جس کا عنوان ہوگا۔” گے اسٹائل آف لائف “
چند سال پیشتر امریکی رسالے ٹائم نے لکھا کہ خلیج کی جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں میں سے تقریباً ایک ہزار افراد کو صرف اس لیے فوج سے نکال دیا گیا کہ وہ ہم جنس پرست تھے۔ لیکن اس اقدام کے خلاف امریکہ میں شور مچ رہا ہے۔ مظاہرے ہورہے ہیں اور چاروں طرف سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ آپ نے جن لوگوں کو ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے فوج کے عہدوں سے برخاست کیا ہے یہ آپ نے ایک خلاف ِعقل حرکت کی ہے۔ اس لیے ان کو دوبارہ بحال ہونا چاہیے اور اس کے حق میں دلیل یہ دی جارہی ہے کہ یہ ایک ہیومن ارج ہے اور ہیومین ارج کو دبایا نہیں جاسکتا اور یہ سب کچھ عقل کی بنیاد پر ہورہا ہے اور اب تو یہ معاملہ یہاں تک بڑھ گیا ہے کہ بات صرف جنس انسانی کی نہیں رہی بلکہ اب تو جانوروں کتوں، گدھوں اور گھوڑوں تک نوبت پہنچ گئی ہے اور اس کو بھی باقاعدہ فخریہ بیان کیا جارہا ہے۔
اس تمام بحث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسان اور حیوان کی زندگی کے تحفظ اور اس کو معیشت کی راہ پر لگانے کے لیے سب سے پہلے فطری رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ ایک خاص حد تک اپنا کام کرتی ہے۔ اس کے بعد باہر کی زندگی کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے حواس خمسہ کی راہنمائی مہیا فرمائی۔ حواس خمسہ نے محسوسات کے دائرے میں رہ کر انسانی زندگی کو آگے بڑھایا۔ پھر جب انسان کے قدم محسوسات سے آگے بڑھے تو اسے عقل کی راہنمائی عطا فرمائی گئی۔ اب ہم نے تفصیل سے دیکھا کہ عقل انسان کی راہنمائی کے لیے بہت مؤثر رہنما ہونے کے باوجود اعمال کی درستگی اور انضباط کے لیے کافی نہیں۔ وہ قدم قدم پر جذبات کی اسیر ہوجاتی ہے اور بعض دفعہ قوت واہمہ سے شکست کھاجاتی ہے اور اگر یہ جذبات ہوائے نفس کی لپیٹ میں آجائیں تو پھر عقل نہ صرف اس کے سامنے بےدست و پا ہوجاتی ہے۔ بلکہ عموماً وہ ہوائے نفس کی وکالت کرنے لگتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اخلاقی قدریں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ عقلی مسلمات شکست وریخت کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اب جس پروردگار نے قدم قدم پر حیوان اور انسان کی راہنمائی فرمائی کیا یہ ممکن ہے کہ وہ انسان کو غلطان وپیچان چھوڑدے کہ وہ ہوائے نفس کا شکار ہو کر اپنی زندگی اور آخرت تباہ کرلے۔ قرآن کہتا ہے کہ اس پروردگار کی رحمت سے یہ بات یقینا بعید ہے کہ وہ عقل کے بعد انسان کو کسی اور راہنمائی سے محروم فرمادے۔ بلکہ قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جس طرح وجدان کے بعد حواس کی رہنمائی پروردگار نے عطا فرمائی اور حواس کے بعد عقل کی، اسی طرح اس نے اپنے ذمہ یہ بات لے رکھی ہے کہ عقل کے بعد زندگی کو رہنما سے محروم نہیں رکھے گا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے جابجا ان مراتب ہدایت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد فرمایا :
اِنَّاخَلَقْنَاالْاِنْسَانَ مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ تَبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنَاہُ سَمِیْعًابَصِیْرًا اِنَّاھَدَیْنَاہُ لََسَبِیْلَ اماشاکراً وَّاِمَّاکَفُوْرًا
(ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا جسے ایک کے بعد ایک، مختلف حالتوں میں پلٹتے ہیں۔ پھر اسے ایسا بنادیا کہ سننے والا، دیکھنے والا وجود ہوگیا۔ ہم نے اس پر راہ عمل کھول دی۔ اب یہ اس کا کام ہے کہ یا تو شکر کرنے والاہو یا ناشکرا۔ یعنی یا تو اللہ کی دی ہوئی قوتیں ٹھیک ٹھیک کام میں لائے اور فلاح وسعادت کی راہ اختیار کرے یا ان سے کام نہ لے اور گمراہ ہوجائے ) ۔
أَ لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ عَیْنَیْنِ وَلِسَانًاوَّشَفَتَیْنٍ وَھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ
(کیا ہم نے اسے ایک چھوڑ دو دو آنکھیں نہیں دے دی ہیں (جن سے وہ دیکھتا ہے) اور زبان اور ہونٹ نہیں دیئے ہیں (جو گویائی کا ذریعہ ہیں) اور کیا اس کو ہم نے (سعادت و شقاوت کی، دونوں راہیں نہیں دکھادیں ؟ ) ۔
وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ قَلِیْلًامَّاتَشْکُرُوْنَ
(اور اللہ نے تمہارے لیے سننے اور دیکھنے کے حواس پیدا کردیئے اور سوچنے کے لیے دل (یعنی عقل) تاکہ تم شکر گذار رہو (یعنی اللہ کی دی ہوئی قوتیں ٹھیک طریقہ پر کام میں لائو) ۔
ان آیات اور ان کے ہم معنی آیات میں حواس اور مشاعر اور عقل و فکر کی ہدایت کی طرف اشارے کیے گئے ہیں، لیکن وہ تمام مقامات جہاں انسان کی روحانی سعادت و شقاوت کا ذکر کیا گیا ہے وحی ونبوت کی ہدایت سے متعلق ہیں۔ مثلاً
” اِنَّ عَلَیْنَالَلْھُدٰی وَاِنَّ لَنَالَلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی “
(بلاشبہ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم راہنمائی کریں اور یقیناآخرت اور دنیادونوں ہمارے ہی لیے ہیں۔ یعنی دنیا وآخرت کی ضرورتوں کے لیے رہنمائی ہماری ذمہ داری ہے ) ۔
وَاَمَّاثَمُوْدُ فَھَدْیَنٰھُمْ فَاسْتَحَبُّوا لْعَمٰی عَلٰی الْھُدٰی
(اور باقی رہی قوم ثمود، تو اسے بھی ہم نے راہ حق دکھلادی تھی۔ لیکن اس نے ہدایت کی راہ چھوڑکر اندھے پن کاشیوہ اختیار کیا) ۔
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَالَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَاوَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ
(اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جانفشانی کی تو ضروری ہے کہ ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیں اور بلاشبہ اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو نیک عمل ہیں) ۔
انسانی زندگی کی ضرورتیں جہاں کھانا پینا، اوڑھنا پہننا، لوگوں سے میل جول رکھنا، عناصر قدرت اور عناصر فطرت سے مستفید ہونا ہیں وہاں اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ یہ جانے کہ باہمی میل جول کے آداب کیا ہیں، خود میری زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ میری زندگی کے کیا فرائض اور کیا حقوق ہیں ؟ شائستگی اور دل بستگی کیا ہے ؟ ان کے آداب کیا ہیں ؟ دوسروں کے مجھ پر حقوق کیا ہیں ؟ ہمسائیگی کیا ہے ؟ اخوت و محبت کسے کہتے ہیں ؟ ماں باپ کا احترام کیا ہے ؟ علم کس چیز کا نام ہے اور اس کی حدود کیا ہیں ؟ عورت اور مرد کا رشتہ کیا ہے اور اس کی نزاکتیں کیا ہیں ؟ محرم کسے کہتے ہیں اور نامحرم کون ہے ؟ عبادات کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ دنیا ہمیشہ رہے گی یا ختم ہوجائیگی ؟ اس کا انجام فنا ہے یا بقاء ہے ؟ کیا کوئی دوسری دنیا بھی ہے ؟ تو اس کی حقیقت کیا ہے ؟ کیا میں مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے فنا ہوجاؤں گا ؟ یہ عالم برزخ کیا ہے ؟ اور عالم آخرت کیا ہے ؟ اللہ کی صفات کیسی ہیں ؟ وہ اگر ہمارا مالک ہے تو وہ کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے ؟ قربانیوں کی حقیقت کیا ہے ؟ آدمی ایک دوسرے کے لیے ایثار کرتا ہے تو اس کا صلہ کیا ہوگا ؟ اخلاقی مسلمات کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ قوموں کے عروج وزوال کے اسباب کیا ہیں ؟ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ کن کاموں سے زندہ ہوتی ہے اور کن کاموں سے مرجاتی ہے ؟ اور اسی طرح کے بیشمار سوالات ہیں جن کا جواب انسان کو ملنا چاہیے۔ مگر یہ امر واقعہ ہے کہ ان کا جواب نہ حواس کے پاس ہے اور نہ عقل کے پاس۔ اب اگر ہمیں اپنے محسوسات کی دنیا میں جوابات دینے کے لیے حواس و عقل کی راہنمائی دی گئی ہے تو کیا عالم ناسوت اور عالم ملکوت کی حقیقتوں اور اپنی دنیا میں سرفرازی اور آخرت میں سرخروئی اور اس آنکھ کے پردے کے پیچھے کے حقائق کو جاننے کے لیے ہمیں کوئی راہنمائی نہیں دی جائے گی ؟ اور ہم بیخبر ی میں غلط سلط فیصلے کرتے رہیں گے۔
یقیناوہ ذات جس نے چیونٹی تک کی ضرورتیں پوری کی ہیں وہ انسان کو اس سے بیخبر نہیں رکھ سکتی۔ چناچہ اس نے حواس اور عقل کے ذریعے کے بعد ہمیں ایک اور ذریعہ علم بھی بخشا جس کا نام وحی اور رسالت ہے اور اس وحی کے حاملین کو پیغمبر نبی یا رسول کہتے ہیں۔ اس ذریعہ سے انسانوں کو وہ سب کچھ بتایا گیا جو اس کی دنیوی، اخروی اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ضرورت تھی بلکہ اس ذریعہ علم کے ذریعے انسانوں کی دنیا بھی اور آخرت بھی تباہ ہونے سے بچالی گئی۔ تاریخی حقائق ہمارے سامنے ہیں کتنی قومیں اس صفحہ ہستی پر قوت کانشان بن کر اٹھیں لیکن اپنی اخلاقی بےراہ روی اور غلط فیصلوں کے نتیجے میں اللہ کے عذاب کانشانہ بنیں۔ آسمانی کتابوں نے جابجا اس تاریخ کو بیان کیا ہے تاکہ انسان اس بات کو سمجھے کہ انسانی بقاء کا دارومدار اس کی اخلاقی زندگی اور توانائی پر ہے کیونکہ اخلاقی زندگی میں گراوٹ انسان کو انسان نہیں رہنے دیتی بلکہ انسانیت سے تہی دامن کردیتی ہے۔ وہ شرم وحیا سے عاری ہوکرکتوں، بلیوں کی سطح پر آجاتا ہے۔ رحم و مروت سے بےبہرہ ہو کر درندوں کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔ حرام و حلال سے بےگانہ ہو کر حشرات الارض کی جگہ نشے کی حالت میں گلی کوچوں میں پڑا دکھائی دیتا ہے۔ آخرت کی محبت سے محروم ہو کر اور حبِّ دنیا کا اسیر بن کر بندہ درہم و دینار بن جاتا ہے۔ اس ناگفتہ بہ صورت حال سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم اس ذریعہ علم کو پہچانیں جسے وحی الہٰی کہا جاتا ہے اور ان کے حاملین کا راستہ اختیار کریں جنھیں پیغمبر اور رسول کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا میں بہت کچھ بدل گیا اور بگڑ گیا ہے مگر پھر بھی آپ کو جہاں تہاں بھی کوئی روشنی دکھائی دیتی اور انسانیت کی نمود ملتی ہے وہ سراسر ان انبیاء ک اور ثہ ہے کیونکہ اگر یہ نہ ہوتے تو ہم اس رہنمائی سے یکسر محروم رہ جاتے۔
Ayah 20:51قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی۔ (طٰـہٰ : 51)
(اس نے پوچھا تو پھر اگلی قوموں کا کیا حال ہے ؟ )
فرعون کا ایک شاطرانہ سوال
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک جملے میں جس طرح ایک پورا مضمون سمیٹ دیا تھا اور نہایت حکیمانہ باتیں فرمائی تھیں۔ فرعون یا تو اسے سمجھ نہیں سکا اور یا اس نے قصداً ان باتوں کا اثر زائل کرنے کے لیے نہایت طنز اور تحقیق کے انداز میں یہ سوال کیا کہ اچھا اگر تم اپنے رب کے پاس سے پیغام لے کے آئے ہو تو پھر تو تمہیں اگلی قوموں کے احوال کی بھی خبر ہوگی، یعنی ہمارے جو آبائواجداد گزر چکے ہیں تم ان کے بارے میں بتاسکتے ہو کہ وہ کس حال میں ہیں۔ اس نے اپنے تئیں ایک بڑا مضبوط جال پھینکا تھا کہ اگر موسیٰ یہ کہیں کہ وہ لوگ بہت اچھی حالت میں ہیں، جنت میں انھیں اعلیٰ مقامات دیئے گئے ہیں تو میں یہ کہوں گا کہ ہم تو انھیں کے طریقے پر چلنے والے لوگ ہیں۔ اگر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں تو پھر تم ہمیں کیا سمجھانے آئے ہو کیونکہ ہماری زندگی تو انھیں کی زندگیوں کا عکس ہے۔ ہمارے طوراطوار بالکل وہی ہیں جیسے وہ زندگی گزارتے تھے۔ اور اگر موسیٰ یہ کہیں کہ وہ گمراہ اور کافر لوگ تھے اس لیے اپنے کفر کی پاداش میں پکڑے گئے ہیں تو میں اسے ایک سیاسی مسئلہ بنا دوں گا اور لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کروں گا کہ سنو ! یہ نام نہاد پیغمبر تمہارے آبائواجداد کو گمراہ کہتے ہیں۔
ہر دور میں برخودغلط اور متکبر لوگوں نے سنجیدہ باتوں کا اسی طرح مذاق اڑایا ہے۔ عوام تو ہمیشہ سے کا الانعام رہے ہیں۔ وہ جذبات پر جیتے اور جذبات پر مرتے ہیں۔ انھیں کسی بھی جذباتی بات پر مشتعل کردینا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ فرعون نے بھی یہی تدبیر کرنے کی کوشش کی۔
Ayah 20:52قَالَ عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِـتٰبٍ ج لاَ یَضِلُّ رَبِّیْ وَلاَ یَنْسَی۔ (طٰـہٰ : 25)
(حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ پہلی قوموں کا حال میرے رب کے پاس، ایک رجسٹر میں (محفوظ) ہے، نہ میرا رب بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے طنز اور طنزآمیز رویہ پر کوئی ردعمل دکھانے کی بجائے نہایت باوقار انداز میں فرمایا کہ جو لوگ گزر چکے ہیں ان کی زندگیوں کے بارے میں ایک ایک بات اللہ تعالیٰ کے پاس ایک عظیم دفتر میں محفوظ ہے۔ اور یہ دفتر ایسا ہے جس میں کوئی چھوٹی بڑی بات چھوٹنے نہیں پائی لیکن یہ محض حفاظت کے لیے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص جب جوابدہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے تو اس کی زندگی کا روزنامچہ اس دفتر سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر اس کے سامنے ہوگا۔ نہ کسی چیز کو چھپایا جاسکے گا اور نہ کسی چیز کا اضافہ کیا جاسکے گا کیونکہ یہ دفتر اور رجسٹر میرے رب کا ہے جس میں انسانوں کے اعمال منضبط کیے جاتے ہیں اور میرا رب ہر طرح کی خطا اور نسیان سے پاک ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے اور نہ وہ بھولتا ہے۔ اس لیے تمہارے سوال کا اصل جواب تو وہاں جا کر کھلے گا۔ میں جو ہدایت لے کے آیا ہوں اس کا براہ راست تعلق ان لوگوں سے ہے جو اس وقت موجود ہیں۔ اس لیے تمہیں میری دعوت پر غور کرنا چاہیے۔ پہلے لوگوں کے حالات جیسے بھی ہوں انھیں قیامت کے دن ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔