Ayahs 19:1–2کٓھٰیٰـعٓصٓ۔ ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہٗ زَکَرِیَّا۔ (مریم : 1، 2)
(کاف ھا یا عین ص) یہ ذکر ہے آپ ﷺ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر فرمائی۔ )
حروف مقطعات
کٓھٰیٰـعٓصٓ … یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ حروف مقطعات کی وضاحت ہم سورة البقرہ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اس پر اگرچہ مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں تاہم قشیری نے حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے اس کا ایک مفہوم نقل کیا ہے۔ ہم بھی دلچسپی کے لیے اسے نقل کررہے ہیں۔” کاف “ سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لیے کافی ہے۔ اور ” ھا “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت دینے والا ہے۔” یا “ سے مراد اس کا ید یعنی ہاتھ ہے جو ساری کائنات پر غالب ہے۔ ” عین “ سے مراد عالم ہے کہ وہ سب کو جاننے والا ہے۔ اور ” ص “ سے مراد صادق ہے یعنی اپنے وعدے کا سچا ہے۔
قرطبی اور روح المعانی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کیا ہے کہ آپ ( رض) دعا مانگتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے یاکٓھٰیٰـعٓصٓ اغفرلی ” اے کاف ہا یا عین ص مجھے بخش دے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی ( رض) کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک ہے۔ بعض علماء نے اس کو اسم اعظم کہا ہے۔
ذکر کا مفہوم
ذکر…بعض اہل علم کے نزدیک اسی طرح اُذْکُرْکے معنی میں ہے۔ جس طرح حضرت مریم [ سے لے کر حضرت ادریس (علیہ السلام) تک تمام انبیاء کرام کا ذکر بصیغہاُذْکُرْ ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا جارہا ہے کہ غافل انسانوں نے انبیاء کرام کے ذکر کو بھلا دیا اور ان سے جو حکمتیں اور نصیحتیں حاصل کی جاسکتی تھیں ان سے روگردانی کی۔ آپ ﷺ ازسرنو لوگوں کو اس کی یاد دہانی کیجیے تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔
بعض دیگر اہل علم کے نزدیک ذکر سے پہلے ہٰذا محذوف ہے۔ اس سورت میں ہٰذا مبتدا ہوگا اور بعد کا فقرہ اس کی خبر ہوگی۔ اس جملے میں تمام انسانوں کو عموماً اور مشرکینِ مکہ کو خصوصاً توجہ دلائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے تمام بندوں پر برسنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ جب کوئی بندہ اس کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے تو وہ اس کی رحمت سے محروم نہیں رہتا۔ اور اسی ضمن میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ اس کی رحمت کا محتاج جس طرح ہر انسان ہے اسی طرح اس کے مقرب بندے بھی اس کی رحمت کے محتاج ہیں۔ وہ بھی رات کی تنہائیوں میں اپنے رب ہی کو پکارتے ہیں اور پھر جس عاجزی، فروتنی اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے پکارتے ہیں اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح بچہ ہمیشہ دودھ اپنی ماں کے سینے میں ڈھونڈتا ہے کسی اور طرف توجہ نہیں کرتا اسی طرح بندوں کو بھی اپنے رب کے آستانے سے ہٹ کر کسی اور آستانے پر نہیں جانا چاہیے کیونکہ یہ آستانہ ان کے رب کا آستانہ ہے۔ رب نے اپنے ذمے یہ کام لے رکھا ہے کہ میں تمام مخلوقات کو عموماً اور اپنے بندوں کو خصوصاً ضروریات زندگی فراہم کروں گا۔ ان کی ہر طرح کی ضرورتیں جو ان کی ظاہری اور معنوی تربیت کی ضرورت ہیں، مہیا کروں گا کیونکہ یہ ربوبیت کا تقاضا ہے کہ انھیں مہیا کی جائیں۔ بچہ جب تک بچپن میں ہے تو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اس کے بچپنے کی ضروریات مہیا کرتی ہے۔ پھر وہ جیسے جیسے بڑا ہوتا جاتا ہے تو اس کی ضروریات بھی بڑھتی چلی جاتی اور تبدیل ہوتی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت بھی ساتھ ساتھ ان تمام تبدیلیوں کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے کیونکہ ربوبیت کا مفہوم ہے اِنْشَائُ الْشَّیِٔ حَالاً فَحَالاً اِلٰی حَدِّالتَّمَامِ ۔
دوسری بات یہ کہی جارہی ہے کہ یوں تو پروردگار کی عنایات اور بوبیت کا فیضان سب کے لیے ہے حتیٰ کہ جو اس کا انکار کرنے والے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے ہیں وہ بھی اس سے محروم نہیں رہتے۔ جو اسے ماننے سے انکار کرتا ہے، انکار کے لیے زبان بھی اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور اس کے انکار پر کبھی اس کی روزی بند نہیں کی جاتی۔ لیکن وہ خصوصی عنایات جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بعض بندوں پہ ہوتی ہیں ان کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ عبدیت کے تقاضے پیش نظر رہیں۔ چناچہ یہاں حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لیے عبدہ کا لفظ لا کر ایک تو ان کے خصوصی مرتبہ و مقام کا اظہار ہے اور دوسرا یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ایسی خصوصی عنایات کے لیے عبدیت کے وہ تقاضے ملحوظ رکھے جانے چاہئیں جو حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں ملحوظ رکھے تھے۔
عبد کی وضاحت
عبد ایک ایسا لفظ ہے جس کا اطلاق تمام ذی روح اور ذی شعور مخلوقات پر ہوتا ہے۔ جن بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، فرشتے بھی اور انسان بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں حتیٰ کہ اس کو ماننے والے بھی اس کے بندے ہیں اور انکار کرنے والے بھی اس کے بندے ہیں، لیکن عَبْدُہٗ کا اعزاز اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی بندوں کو عطا کرتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا :
؎ عبد دیگر عبدہ چیزے دگر
” عبد ہونا اور بات ہے اور عَبْدُہٗ ہونا اور بات ہے۔ “
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے لیے بھی خصوصی طور پر عَبْدُہٗ کا اعزاز پسند فرمایا ہے۔ چناچہ یہاں حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لیے یہ اعزاز دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہوں گے، لیکن بعض مفسرین کی رائے اس سے مختلف ہے۔ بائیبل بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ چناچہ بائبل کی وضاحتوں کو دیکھتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بارے میں ایک نوٹ لکھا ہے ہم اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) کا تعارف
یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) جن کا ذکر یہاں ہورہا ہے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے خاندان سے تھے۔ ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہانت (Priesthood) کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے 12 قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کردیا گیا اور تیرہواں قبیلہ (یعنی لادی بن یعقوب کا گھر) مذہبی خدمات کے لیے مخصوص رہا۔ پھر بنی لادی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو ” مقدس میں خداوند کے آگے نجور جلانے کی خدمت “ اور ” پاک ترین چیزوں کی تقدیس کا کام “ کرتا تھا، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا خاندان تھا۔ باقی دوسرے بنی لادی مقدس کے اندر نہیں جاسکتے تھے بلکہ خداوند کے گھر کی خدمت کے وقت صحنوں اور کوٹھڑیوں میں کام کرتے تھے۔ سبت کے دن اور عیدوں کے موقع پر سوختنی قربانیاں چڑھاتے تھے اور مقدس کی نگرانی میں بنی ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔
بنی ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو باری باری سے مقدس کی خدمت کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ انہی خاندانوں میں سے ایک ابیاہ کا خاندان تھا جس کے سردار حضرت زکریا (علیہ السلام) تھے۔ اپنے خاندان کی باری کے دنوں میں یہی مقدس میں جاتے اور خداوند کے حضور نجور جلانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو بائیبل کی کتاب تواریخ اول۔ باب 23، 24)
Ayahs 19:3–4اِذْنَادٰی رَبَّہٗ نِدَآئً خَفِیًّا۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّلَمْ اَکُنْ م بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا۔ (مریم : 3، 4)
(جب اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔ عرض کی اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور اور بوسیدہ ہوگئی ہیں اور میرا سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے (بالکل سفید ہوگیا ہے) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کے کبھی محروم نہیں رہا۔ )
دُعا کے آداب
یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی وہ دعا ہے جو آپ ( علیہ السلام) نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ ہم سورة ال عمران میں اس کی کسی حد تک وضاحت کرچکے ہیں۔ اسرائیلی روایات کے مطابق اس وقت آپ ( علیہ السلام) کی عمر 70 سال اور بعض روایات کے مطابق 120 سال تھی۔ اور آپ ( علیہ السلام) کی اہلیہ محترمہ کی عمر 98 سال ہوگئی تھی اور ابھی تک آپ ( علیہ السلام) کے ہاں کوئی فرزند تولد نہ ہوا تھا۔ معلوم ہوتا ہے یہ دعا آپ ( علیہ السلام) نے ہیکل سلیمانی میں اعتکاف کی حالت میں کی۔ اس کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ دعا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہوتی ہے اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ دعا کے حقیقی آداب کیا ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے یہ دعا نہایت خاموشی سے کی ہے۔ رات کے ایسے حصے میں جبکہ دیکھنے اور سننے والا کوئی نہ تھا اور ہر سو ماحول پر سَنّاٹا طاری تھا۔ سونے والے گہری نیند کے مزے لوٹ رہے تھے اور حضرت زکریا (علیہ السلام) ایسی گھمبیر تنہائی میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلائے اظہارِ مدعا کررہے تھے۔ قرآن کریم نے بھی ہمیں جو دعا کے آداب سکھائے ہیں اس میں یہی فرمایا گیا ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور نہایت خاموشی سے پکارو اور جو مانگنا چاہو اسی سے مانگو کیونکہ تنہائی اور خلوت کی دعائیں عموماً ریا اور دکھاوے سے پاک ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ چونکہ سینوں کے بھید جانتا ہے اس لیے اس کے سامنے ایسی دعائیں جس میں ریا کا شائبہ بھی ہو کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔
دوسری خوبی دعا کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے عرض مدعا سے پہلے تمہید میں ایسی باتیں عرض کی ہیں جس میں اگر ایک طرف انھوں نے اپنا سینہ چیر کے رکھ دیا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے درِرحمت پر اس طرح دستک دی ہے کہ رحمت کو بھی پیار آنے لگا ہوگا۔ اپنی جسمانی کمزوری اور ناتوانی کو سفارش کے طور پر پیش کیا ہے کیونکہ حضرت زکریا (علیہ السلام) خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کمزور اور ناتوان بندوں پر ہمیشہ مہربان رہتا ہے اور جب کمزوری اور ناتوانی بھی اس انتہا کو پہنچ جائے کہ اس کے بعد مایوسی کے سوا اور کچھ نظرنہ آتا ہو تو اللہ تعالیٰ کے طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مایوس نہیں ہونے دیتا اور پھر اپنی دعا میں مزید اپیل پیدا کرنے کے لیے ایک اور بات بھی فرمائی ہے کہ میں تو ہمیشہ سے اسی گھر کا گدارہا ہوں اور یہی وہ دروازہ ہے جہاں سے میری امیدیں پوری ہوتی رہی ہیں۔ میں اس کے علاوہ کسی اور دروازے کو نہیں جانتا۔ اب جبکہ ضرورت ایسی آپڑی ہے کہ تیرے سوا کوئی پوری بھی نہیں کرسکتا تو میں تیرا دروازہ چھوڑ کر کہاں جاؤں۔
Ayahs 19:5–6وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآئِ یْ وَکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا۔ یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ صلے قوَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا۔ (مریم : 5، 6)
(اور میں ڈرتا ہوں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے اور میری بیوی بانجھ ہے پس بخش دے مجھے اپنی طرف سے ایک وارث۔ جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کی روایات کا بھی اور اے رب، اس کو پسندیدہ سیرت والا بنائیو۔ )
دُعا کا ایک اور سبب
اس آیت کریمہ میں تیسری بات یہ عرض کی کہ یا اللہ میں اس بڑھاپے میں یہ دعا اس لیے کر رہا ہوں کہ مجھے اپنے قریبی عزیزوں اور بھائی بندوں کے بارے میں فکرمندی ہے کہ وہ اپنی بےدینی یا دین سے لاپرواہی کی وجہ سے کہیں اس ذمہ داری پر جو میرے اٹھ جانے سے خالی ہوگی فائز ہو کر اس کے تقاضوں کو پامال نہ کردیں۔ میں ازاول تا آخر تیرے دین کا خدمت گزار ہوں اور تیرے گھر کا چاکر ہوں۔ اگر میرے ہی خاندان اور میرے عزیزوں میں سے کچھ ایسے لوگ میری جگہ لینے میں کامیاب ہوگئے جو اس منصب کے اہل نہیں اور ان کے اس منصب پر فائز ہوجانے کا اندیشہ اس لیے بھی ہے کہ میرا کوئی وارث نہیں، تو ایسی صورت میں میرے قریبی عزیزوں میں کسی شخص کو بھی یہ جگہ مل سکتی ہے لیکن کسی میں بھی اس کی اہلیت موجود نہیں۔ تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ آل یعقوب کی روایات کا احترام نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے گھر کی تولیت کو ایک کھیل بنا کے رکھ دیں گے اور بطور کاہن اعظم کے جو خدمات میں انجام دیتا رہا ہوں انھیں خطرناک حد تک نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ اپنی ناتوانی کا ذکر حضرت زکریا (علیہ السلام) پہلے ہی کرچکے تھے اب اپنی بیوی کے حوالے سے گزارش کررہے ہیں کہ میری بیوی بانجھ ہے۔ آج تک اس کے گھر میں کوئی اولاد نہیں ہوئی اور اب تو وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکی ہے جہاں اولاد کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے میں نے تیرے سامنے جھولی پھیلائی ہے کیونکہ ایسی حالت میں جبکہ اسباب کام کرنا چھوڑ دیں اور بظاہر کوئی سہارا نظر نہ آتا ہو تو پھر تیری ذات کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے سامنے دست سوال دراز کیا جائے تو الٰہی یہ بوڑھا جس کی ہڈیوں میں گودا بھی نہیں رہا جس کا سر بڑھاپے سے ہلنے لگا ہے، جس کی بیوی بانجھ ہوچکی ہے لیکن تیرے دین کے تقاضے میرے بعد ایک صحیح وارث اور جانشین کا تقاضا کررہے ہیں۔ میں اپنی اس ضرورت کو لے کر تیرے سوا کس آستانے پر جاؤں۔ میں نے پہلے بھی ہمیشہ تیرے ہی دروازے پر دستک دی ہے اب بھی تیرے آستانے پر بیٹھا ہوں اور اس وقت تک بیٹھا رہوں گا جب تک میری دعا کو قبولیت کا شرف نہیں مل جاتا۔
قسم آستاں کی نہ اٹھیں گے ہرگز
یہیں دن چڑھے گا یہیں رات ہوگی
فرزند کے لیے دعا صرف اس لیے نہیں کی جارہی کہ آپ ( علیہ السلام) کو ایک بیٹے کی خواہش ہے بلکہ اس لیے کی جارہی ہے کہ فکر اس بات کی ہے کہ آل یعقوب ( علیہ السلام) کی وراثت کو کوئی گزند نہ پہنچے اور اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت کسی نااہل کے سپرد نہ ہوجائے۔ اس لیے عرض کی کہ یا اللہ ! بیٹا وہ عطا فرما جو پسندیدہ سیرت والا ہو۔ ایسا بیٹا جو صحیح معنی میں میرا جانشین ہو، جو تیرے دین کی خدمت کرنے کا اہل ہو۔ آل یعقوب ( علیہ السلام) کی وراثت کو اس سے کوئی نقصان پہنچنے کی بجائے عزت و افتخار ملے۔
جو دعا صحیح وقت پر صحیح مقصد کے لیے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے صحیح جذبے کے ساتھ مانگی جائے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے رد نہیں کی جاتی۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جس طرح دعا مانگی اور جس وقت مانگی اس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا اور پھر جس طرح اپنی بےبسی اور ناتوانی کو دعا کی تمہید کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش فرمایا اس نے قبولیتِ دعا کو اور قریب کردیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اولاد کی خواہش فطری تقاضا ہے لیکن حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنی کسی خواہش کے تحت نہیں بلکہ اس عظیم مقصد کے حوالے سے دعا مانگی جو آپ ( علیہ السلام) کی زندگی کا سرمایہ اور آپ ( علیہ السلام) کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے اور آپ ( علیہ السلام) کے اٹھ جانے سے نااہلوں کے آجانے کے خطرے کے پیش نظر اسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ ان تمام مبارک عوامل نے مل کر درقبولیت پر دستک دی تو وہاں سے قبولیت بشارت بن کر نازل ہوئی۔
Ayah 19:7یٰرَکَرِیَّـآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ نِ اسْمُہٗ یَحْیٰی لا لَمْ نَجْعَلْ لَّـہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا۔ (مریم : 7)
(اے زکریا ! ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا، ہم نے اس سے پہلے کوئی اس کا ہم نام نہیں بنایا۔ )
سَمِیٌ کا معنی
سَمِیٌ کا معنی ہے، ہم نام۔ یہ اس کا متداول معنی ہے، لیکن کبھی نظیر اور مثال کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پہلی صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ ہم آپ ( علیہ السلام) کو جو بیٹا دے رہے ہیں اور اس کا نام بھی تجویز کررہے ہیں۔ اس نام کا لڑکا اس سے پہلے ہم نے کسی کو عطا نہیں کیا یعنی یہ ایک ایسا نادر نام ہے یا پہلا نام ہے جو کسی بچے کا رکھا جارہا ہے اور دوسری صورت میں مفہوم یہ ہے کہ باپ بڈھا کھوسٹ ہو اور ماں بانجھ ہو اور عمر سو سال سے تجاوز کرجائے تو ایسے جوڑے کے ہاں اولاد کی کوئی نظیر اس سے پہلے موجود نہیں، لیکن اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ( علیہ السلام) کے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود آپ ( علیہ السلام) کو فرزند عطا فرما کر ایک مثال اور نظیر بنادیں۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی پرخلوص دعا درِ اجابت سے بشارت بن کر اتری تو ہاتفِ غیب نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو پکار کر خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ آپ ( علیہ السلام) کو خوشخبری دیتے ہیں ایک ایسے سعادت مند بیٹے کی جس کا نام یحییٰ ہوگا، اور یہ ایسا بےنظیر بچہ ہوگا کہ جس کا ہم نام ہم نے اس سے پہلے پیدا نہیں فرمایا اور یہ ان تمام صفات سے متصف ہوگا جو آل یعقوب ( علیہ السلام) کے وارث کے لیے ضروری ہیں اور یہ صحیح معنی میں ویسا ہی ہوگا جیسا آپ اپنے جانشین کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
Ayah 19:8قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّقَدْ َبلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِعِتِیًّا۔
(مریم : 8)
(حضرت زکریا نے کہا اے میرے رب ! کیسے ہوگا میرے ہاں لڑکا، میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔ )
سوال کا صحیح محمل
حضرت زکریا (علیہ السلام) کے اس سوال کو کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ مفسرین نے موضوعِ بحث بنایا ہے۔ جو لوگ سطحی فکر کے مالک ہیں اور نفسیاتی گہرائیوں کو نہیں سمجھتے انھوں نے ایمان کی بحث چھیڑی ہے۔ ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی بشارت یا کسی فیصلے پر تعجب کا اظہار یا اطمینان کے لیے کوئی سوال یہ ایک طرح کا تردد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوچھنے والا اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اطمینان اور یقین نہیں رکھتا جبکہ ایمان تو نام ہی یقین کا ہے اور پیغمبر تو یقین کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوتے ہیں۔ حقیقت میں یہ اعتراض ہی غیرمتعلق ہے کیونکہ سوال یہاں اس بات کا نہیں ہے کہ مجھے اس پر ایمان یا یقین نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے حالات میں اولاد پیدا کرسکتے ہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب کوئی بشارت اس طرح کی ہو جس کے لیے حالات انتہائی نامساعد ہوں اور بظاہر اسباب اس کا کوئی امکان نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ مانگنے والا اس کا انتہائی شوق اور تڑپ رکھتا ہو تو ایسی صورت میں اچانک بشارت کے ملنے سے جو بےانتہا خوشی اور مسرت ہوتی ہے اس کی وجہ سے بعض دفعہ زبان پر ایسے کلمات آجاتے ہیں جس سے مقصود بشارت کا انکار یا اس میں شک نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک فطرت کی آواز ہے جو انتہائی وارفتگی کے عالم میں انسان کے منہ سے نکلتی ہے۔ اور آدمی اگر اپنے گردوپیش واقعات کا تجسس کرے تو اسے ایسی مثالیں مل جائیں گی کہ بےانتہا خوشی میں بعض دفعہ لوگ اس طرح کی باتیں کہتے ہیں اور سننے والے اسے محض خوشی کا اظہار سمجھتے ہیں۔
اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یقین کے درجات اور مراتب ہیں۔ آدمی ایک بات پر یقین رکھتا ہے لیکن جب وہی بات اس سے ایسے حالات میں کہی جائے جن میں اس کا دور دور تک امکان نہ ہو تو وہ پلٹ کر ضرور پوچھتا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کے امکان یا وقوع میں اسے شبہ ہے بلکہ وہ اپنے یقین میں مزید افزونی چاہتا ہے۔ یوں تو ہر اہل یقین کے یہاں یقین ترقی کرتا رہتا ہے اور انبیائے کرام کے یہاں چونکہ مراتب کی کوئی انتہا نہیں اس لیے وہاں ترقی کا سفر زیادہ شائع و ذائع ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب پروردگار سے دعا کی کہ الٰہی مجھے یہ دکھایا جائے کہ مردے کس طرح زندہ ہوتے ہیں تو پروردگار نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس بات کا یقین نہیں کہ ہم مردے کو زندہ کرسکتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی کہ میرے یقین میں کوئی کمی نہیں، البتہ میں دل کا مزید اطمینان چاہتا ہوں۔ ایسی ہی کچھ کیفیت حضرت زکریا (علیہ السلام) کے یہاں بھی معلوم ہوتی ہے۔
محبت کی دنیا کے اپنے طوراطوار ہیں۔ بیٹے کی خواہش جس طرح ایک مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے اسی طرح محبت کا معاملہ بھی ہے۔ بڑھاپا اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے اور تاحال یہ خواب تشنہ تعبیر ہے۔ عمر بھر کی خواہش کو جب اچانک تعبیر ملی اور بشارتِ خداوندی نے آپ ( علیہ السلام) کو نہال کردیا تو زندگی بھر کی محرومی نے اگر تعجب کے اظہار کا راستہ اختیار کیا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے اور ایمان کی کیا بحث ہے ؟
بعض مفسرین نے اس کا ایک دوسرا مفہوم مراد لیا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اظہارِ تعجب نہیں فرمایا تھا بلکہ وضاحت کے لیے درخواست کی تھی کہ یہ بتادیا جائے کہ میرے یہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ کیا ہم میاں بیوی جوان بنا دیئے جائیں گے ؟ یا اور کوئی ایسا حیرت انگیز طریقہ اختیار کیا جائے گا جو سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اگر اس سے مراد وضاحت کی طلب ہے تو پھر تو اعتراض کی کوئی بات باقی نہیں رہ جاتی۔
بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی بشارت ہاتفِ غیب سے سنی تھی۔ انھوں نے احتیاط کے طور پر مزید اطمینان کرنا چاہا۔ اس خیال سے کہ ممکن ہے کہ یہ میرا واہمہ ہو یا اپنے ہی گنبددل کی صدا ہوا جو میرے کانوں نے سنی ہے۔ اگرچہ ہمیں اس بات کو ماننے میں قدرے تأمل ہے کیونکہ اگر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا پیغمبر مانا جائے تو پیغمبر پر ایسی کیفیت کبھی نہیں طاری ہوتی کہ وہ اس طرح کے معاملات میں تردد کا شکار ہو۔ ہاں البتہ ! اگر انھیں پیغمبر کی بجائے کاہنِ اعظم کا درجہ دیا جائے جیسا کہ تورات دیتی ہے تو پھر اس بات کا امکان ہے۔
عِتِیًّا … اس بوڑھے کو کہتے ہیں جس کی ہڈیاں بھی خشک ہوگئی ہوں۔ علامہ راغب اصفہانی نے اس کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : ای حالۃ لاسبیل الی اصلاحھا ومداواتہا ” یعنی بڑھاپے کی وہ حالت جب نقاہت انتہا کو پہنچ جائے اور اس کے دور ہونے کی کوئی صورت نہ ہو۔ “
Ayah 19:9قَالَ کَذٰلِکَ ج قَالَ رَبُّکَ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وَّقَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَکُ شَیْئًا (مریم : 9)
(فرمایا ایسا ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے آسان بات ہے، میں نے تمہیں بھی تو اس سے پہلے پیدا کیا تھا اور تم کچھ بھی نہ تھے۔ )
کَذٰلِکَ …کی خبر محذوف ہے۔ اس حذف نے کلام میں زور پیدا کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کو تعجب ہے کہ اس عمر میں بیٹا کیسے پیدا ہوگا ؟ کیونکہ اسباب اس کی اجازت نہیں دیتے تو خبر دینے والے نے کہا کہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہا گیا ہے، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ اور دلیل اس کی یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اس حال میں پیدا کیا کہ تمہارا کوئی وجود نہ تھا۔ جو ذات عدم محض سے انسان کو وجود دے سکتی ہے اس کے لیے بوڑھے ماں باپ سے اولاد پیدا کردینا کیا مشکل بات ہے ؟
Ayah 19:10قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ اٰیَـۃً ط قَالَ اٰ یَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا (مریم : 10)
(حضرت زکریا نے عرض کی، اے میرے رب ! میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دیجیے۔ جواب ملا، تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم بات نہیں کرسکو گے لوگوں سے، تین رات تک۔ درآنحالیکہ تم بالکل تندرست ہوگے۔ )
نشانی کے لیے درخواست
معلوم ہوتا ہے کہ اس خوشی سے حضرت زکریا (علیہ السلام) پر ایک وارفتگی کی کیفیت طاری ہے۔ ایک تو زندگی بھر کی آرزو پوری ہورہی ہے اور دوسری یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی عنایات مسلسل متوجہ ہیں۔ اس وارفتگی میں پروردگار سے عرض کی کہ یہ کرم نوازی کس وقت ہوگی ؟ کب میرے گھر میں رحمت اترے گی ؟ مجھے اس کا وقت بتا دیجیے، کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے جس سے اندازہ ہوجائے کہ دل کی بند کلی کے کھلنے کا وقت آگیا ہے۔ پروردگار نے اس عرض کو قبول فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ آپ ( علیہ السلام) کے لیے نشانی یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) تین راتوں تک لوگوں سے بات نہ کرسکیں گے اور تین راتوں سے مراد صرف راتیں نہیں بلکہ شب و روز مراد ہیں۔ اور یہ باتیں نہ کرنا کسی بیماری کے سبب سے نہیں ہوگا بلکہ یہ علامت ہوگی کہ اب آپ ( علیہ السلام) کی مراد پوری ہونے والی ہے۔ سَوِیٌّ… کا معنی ہے ایسا شخص جو مرض اور عیب سے بری ہو۔ اس لفظ لانے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) پر جو تین راتوں تک بات چیت نہ کرسکنے کی کیفیت طاری رہے گی یہ کسی بیماری کا نتیجہ نہیں ہوگی بلکہ یہ محض علامت ہوگی کہ حضرت یحییٰ کی ولادت کا وقت آگیا ہے۔
بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ مراد لیا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) تین راتوں تک مسلسل کسی سے بات نہ کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کو بات نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان حضرات نے اس بات پر توجہ نہیں فرمائی کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نشانی مانگی تھی تو اگر حکم دے کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو تین راتوں تک خاموش رکھا گیا تو اس میں نشانی کی کیا بات ہے۔ نشانی تو اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ آپ ( علیہ السلام) بولنے پر قادر نہ رہیں اور قادر نہ رہنا بظاہر مرض معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ( علیہ السلام) بھلے چنگے اور صحت مند ہوں گے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ید بیضا دیا گیا۔ یہ آپ ( علیہ السلام) کی نبوت کی نشانی تھی۔ اس لیے ساتھ ہی اس کی تردید بھی فرمائی کہ یہ کسی بیماری کے سبب سے نہ تھا بلکہ نشانی کے طور پر تھا۔
Ayah 19:11فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا (مریم : 11)
(پس وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اشارے سے کہا کہ تم صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔ )
محراب کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں ایک لفظ محراب استعمال ہوا ہے۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ گمان ہوا ہے کہ یہ بھی کوئی ایسا ہی محراب ہوگا جیسے ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑا ہونے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ایسے ہی کسی محراب میں تھے کہ ان پر بشارت نازل ہوئی اور پھر ان کی درخواست پر علامت کے طور پر تین راتوں تک ان سے تکلم کی صلاحیت واپس لے لی گئی۔ چناچہ اس محراب سے نکل کر آپ ( علیہ السلام) لوگوں کی طرف آئے تو محراب سے یہ محراب مراد نہیں ہے جیسا کہ گمان کیا گیا ہے بلکہ اہل کتاب کی عبادت گاہوں کی عمارت سے متصل سطح زمین سے کافی بلندی پر جو کمرے بنائے جاتے تھے انھیں محراب کہا جاتا تھا۔ ان میں عبادت گاہ کے مجاور اور خدام رہتے تھے اور انھیں کمروں میں لوگ اعتکاف بھی کرتے تھے۔ ممکن ہے ایسے ہی کسی کمرے میں حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی معتکف ہوں جب انھیں یہ بشارت دی گئی۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) وہاں سے نکلے چونکہ آپ ( علیہ السلام) بول نہیں سکتے تھے اور طریقہ یہ تھا کہ جب کاہن اعظم اندر عبادت گاہ کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مصروف ہوں تو دوسرے لوگ اندر نہیں جاسکتے تھے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) جب باہر نکلے تو لوگ آپ ( علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے لیکن آپ ( علیہ السلام) نے انھیں حمدوتسبیح میں مشغول رہ کر انتظار کرنے کا اشارہ کیا جس کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بہت بڑا راز ان پر منکشف ہونے والا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ تسبیح و تحلیل میں مشغول رہ کر اس کا انتظار کریں۔ اس کے بعد یہاں کچھ محذوفات ہیں جو غور کرنے سے سمجھ میں آتے ہیں کہ ان تین راتوں کے ختم ہونے سے پہلے یا اس کے فوراً بعد حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ وہ اپنے عظیم باپ کی نگرانی میں پلے بڑھے۔ ایک خاص عمر کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت سے نوازا۔ کہا جاتا ہے کہ نبوت انھیں بچپن میں دے دی گئی لیکن لوگوں کی اصلاح کا کام اور نبوت کا اعلان آپ ( علیہ السلام) نے کم و بیش تیس سال کی عمر میں شروع کیا۔ چناچہ آپ پر اللہ تعالیٰ کے جو خصوصی احسانات ہوئے ان میں سے چند ایک کا ذکر اگلی آیت میں کیا جارہا ہے۔
Ayahs 19:12–13یٰـیَحْیٰی خُذِالْکِتٰبَ بِقُـوَّۃٍ ط وَاٰ تَیْنٰـہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً ط وَکَانَ تَقِیًّا۔ وَّبَرًّا م بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا۔ (مریم : 12، 13، 14)
(اے یحییٰ ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، ہم نے اس کو بچپن ہی میں قوت فیصلہ عطا فرمائی تھی۔ اور سوز و گداز اور پاکیزگی بخشی تھی اپنی جناب سے اور وہ نہایت پرہیزگار تھا۔ اور وہ والدین کا فرمانبردار تھا اور وہ سرکش اور نافرمان نہ تھا۔ )
کتاب تھامنے کا حکم
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جب سنِ رُشد کو پہنچے تو آپ ( علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) مضبوطی سے کتاب کو تھا میں۔ کتاب سے مراد تورات ہے کیونکہ یہی کتاب انجیل کے نزول تک اہل کتاب کے لیے رہنمائی کا فرض انجام دیتی رہی ہے۔ خود حضرت یحییٰ پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ مضبوطی سے تھامنے کا مطلب یہ تھا کہ شیطان اور اس کے اولیاء آپ ( علیہ السلام) کو اس کتاب سے برگشتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ آپ ( علیہ السلام) اس کتاب پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے تو قدم قدم پر آپ ( علیہ السلام) کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں گی۔ آپ ( علیہ السلام) کی طبیعت کو اس طرف سے ہٹانے کی تدبیریں کی جائیں گی لیکن آپ ( علیہ السلام) کا کام یہ ہے کہ آپ ان تمام موانع کے باوجود اس کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھیں۔
دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ جب آپ پر لوگوں کی اصلاح کا فریضہ عائد کیا جائے اور اس کتاب کی تبلیغ و دعوت آپ کی ذمہ داری ٹھہرے تو آپ اس کو نہایت مضبوطی اور توانائی کے ساتھ انجام دیں۔ چناچہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ان کو نبوت عطا فرمائی تو آپ ( علیہ السلام) نے کتاب اللہ کا حق ادا کرتے ہوئے ملک کے گوشے گوشے اور دورافتادہ صحرائوں اور دشوار گزار پہاڑوں میں جا جا کر لوگوں کو پیغامِ حق سنایا۔ خود درویش منش ہوتے ہوئے قوم کے ہر چھوٹے بڑے طبقے کے گریبان پر ہاتھ ڈالا۔ بڑے سے بڑے آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ بدکردار لوگوں کو بڑی سختی سے جھنجوڑا، بگڑے ہوئے علماء کو درشت لہجے میں خطاب کیا۔ فرمایا ” کہ اے سانپ کے بچو ! تم کو کس نے جتا دیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو، پس توبہ کے موافق حل لائو اور اپنے دلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہام ہمارا باپ ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا ان پتھروں سے ابراہام کے لیے اولاد پیدا کرسکتا ہے اور اب درخت کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے۔ پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ (متی باب 3، آیت 7 تا 10)
آپ ( علیہ السلام) کی دعوت صرف عوام تک محدود نہ تھی بلکہ شاہی دربار بھی آپ ( علیہ السلام) کی حق گوئی اور نعرہ حق سے لرزہ براندام تھے۔ بادشاہِ وقت ہیرودیس نے اپنے بھائی فلپ کی منکوحہ بیوی ہیر ودیاس کو اپنے گھر میں ڈال رکھا تھا۔ آپ ( علیہ السلام) نے اس کو برملا جا کر کہا کہ اپنے بھائی کی بیوی کو رکھنا تیرے لیے روا نہیں۔ انجیل مرقس کی چند آیات ہم یہاں نقل کررہے ہیں اسے ملاحظہ فرمائیں۔
” پس ہیرودیاس اس سے دشمنی رکھتی تھی اور چاہتی تھی کہ اسے قتل کرائے مگر نہ ہوسکا کیونکہ ہیرودیس یوحنا کو راست باز اور مقدس آدمی جان کر اس سے ڈرتا اور اسے بچائے رکھتا تھا اور اس کی باتیں سن کر بہت حیران ہوجاتا تھا مگر سنتا خوشی سے تھا اور موقعہ کے دن جب ہیرودیس نے اپنی سالگرہ میں اپنے امیروں اور فوجی سرداروں اور گلیل کے رئیسوں کی ضیافت کی۔
اور اسی ہیرودیاس کی بیٹی اندر آئی اور ناچ کر ہیرودیس اور اس کے مہمانوں کو خوش کیا تو بادشاہ نے اس لڑکی سے کہا جو چاہے مجھ سے مانگ، میں تجھے دوں گا اور اس سے قسم کھائی کہ جو تو مجھ سے مانگے گی اپنی آدھی سلطنت تک تجھے دوں گا اور اس نے باہر جا کر اپنی ماں سے کہا کہ میں کیا مانگوں ؟ اس نے کہا : یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔ وہ فی الفور بادشاہ کے پاس جلدی سے اندر آئی اور اس سے عرض کی میں چاہتی ہوں کہ تو یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں ابھی مجھے منگوا دے۔ بادشاہ بہت غمگین ہوا اور اپنی قسموں اور مہمانوں کے سبب سے اس سے انکار کرنا نہ چاہا۔ پس بادشاہ نے فی الفور ایک سپاہی کو حکم دے کر بھیجا کہ اس کا سر لائے۔ اس نے جا کر قیدخانہ میں ان کا سر کاٹا اور ایک تھال میں لا کر لڑکی کو دیا اور لڑکی نے اپنی ماں کو دیا۔ (مرقس باب 6، آیت 19 تا 28)
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے کتاب کو مضبوطی سے تھامنے اور اس کی تبلیغ و دعوت کا حق ادا کرنے کے فرض کی انجام دہی میں اپنا سر کٹوا دیا، لیکن اپنی ذمہ داری پر آنچ نہیں آنے دی۔
حکم کا مفہوم
اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جو پر خصوصی عنایات فرمائی ہیں ان میں سے چند ایک کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے اور بعض عنایات کا ذکر یہاں فرمایا جارہا ہے۔ ان میں سے پہلی عنایت یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کو حکم سے نوازا گیا۔ حکم سے مراد وہ قوت و صلاحیت ہے جس سے آدمی حق و باطل، خیر و شر اور حسن و قبح میں فرق کرنے کے قابل ہوجاتا ہے اور وہ قوت فیصلہ ہے جس سے وجہ سے جب آدمی کسی چیز کے بارے اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ صحیح یہ ہے تو پھر اس کے فیصلہ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور کوئی بہکاوا اور کوئی دبائو اسے فیصلہ کرنے سے مانع نہیں ہوتا۔
حنان کا مفہوم
دوسری اللہ تعالیٰ کی عنایت آپ ( علیہ السلام) پر یہ ہوئی کہ آپ ( علیہ السلام) کو حنان عطا فرمایا گیا۔ حنان اس سوز و گداز اور قلب و روح کی اس رقت کو کہتے ہیں جس سے حیوانی صفات پر قابو پانے اور انسانی صفات کو توانائی دینے میں مدد ملتی ہے۔ یہی درحقیقت انسانیت کا سرمایہ ہے۔ جو شخص قلب کے سوز و گداز سے محروم ہے وہ انسان ہوتے ہوئے بھی کبھی حیوان ہوتا ہے اور کبھی درندہ بن جاتا ہے اور مزید آپ ( علیہ السلام) کو دل و دماغ کی پاکیزگی عطا فرمائی۔ یہ پاکیزگی دراصل قلب و دماغ کے سوز کا نتیجہ ہوتی ہے اور یہ وہ پاکیزگی ہے جس کے بعد عقل، عقلِ سلیم بن جاتی ہے اور قلب، قلبِ منیب ہوجاتا ہے۔ اور خواہشات کے جھاڑ جھنکار کو ایسی آگ لگتی ہے کہ ہر غلط چیز جل کے بھسم ہوجاتی ہے اور آدمی اپنے پروردگار سے یہ کہنے کی جسارت کرسکتا ہے :
ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
راہِ خدا کے سالکوں کو یہ صفات اور فضائل پیدا کرنے کے لیے نہ جانے کیسی کیسی محنتیں کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس عظیم سرمایہ کے پیدائشی طور پر وارث ٹھہرائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ انھیں اپنی جناب سے عطا فرمایا۔ چناچہ ان صفات کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ اپنے ظاہری اعمال اور اخلاق و کردار میں بھی نہایت پرہیزگار اور متقی تھے۔ ان کا باطن تو مجلا تھا ہی، ان کا ظاہر بھی دنیوی آرائشوں سے پاک تھا۔
ان کے اتقاء اور دنیوی خواہشوں سے دور رہنے کا حال یہ تھا کہ انھوں نے زندگی بھر دنیا کی کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ وہ ایسے عقاب تھے جنھوں نے اپنا آشیانہ تک نہیں بنایا۔ جنگل میں چلے جاتے اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں سے اپنی بھوک مٹاتے۔ وہ اونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنتے اور چمڑے کا پٹکا کمر سے باندھے رہتے تھے۔ اس فقیرانہ زندگی کے ساتھ وہ منادی کرتے پھرتے تھے کہ ” توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی قریب آگئی ہے۔ “ (متی : 2۔ 3)
وہ اپنے والدین کے نہایت فرمانبردار تھے۔ باوجود اس کے کہ انھوں نے اپنے والدین پر کوئی بار نہیں ڈالا۔ مائیں اپنے بچوں کی تخلیق کے لیے نو مہینوں تک کیسی جانکاہی سے گزرتی ہیں لیکن حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے ان کی والدہ محترمہ کو یہ تکلیف بھی اٹھانا نہ پڑی اور پھر ماں باپ دونوں بچے کی تربیت کے لیے کیسی کیسی صعوبتیں اٹھاتے ہیں لیکن حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والدین کو اللہ تعالیٰ نے ان فرائض سے بھی گراں بار نہیں کیا بلکہ اپنی طرف سے وہ خوبیاں ان کے اندر پیدا کردیں جو تربیت کے مسلسل عمل سے بھی شاید پیدا نہ ہوں۔
جَبَّارٌ اور عَصِیٌ کی وضاحت
ان کی زندگی ایسے اوصاف کا مجموعہ تھی جن میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے اور انھیں جمع کرنے کے لیے انتہا کا ضبط نفس درکار ہے مثلاً ایک طرف تو وہ بادشاہوں کے درباروں میں پہنچ کر انھیں ان کی فاسقانہ حرکتوں پر آزادانہ ٹوکتے تھے اور بڑے سے بڑے آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے لیکن دوسری طرف حال یہ تھا کہ نہایت مسکینی اور درویشی کی زندگی گزارتے تھے جس میں نہ اچھی غذا کا دخل تھا اور نہ کسی اچھے لباس کا۔ ایسے متضاد اوصاف کا جمع کرلینا ان کے لیے اس لیے ممکن تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کرتے تھے۔ شریعتِ خداوندی کے سامنے اپنی ذات کی نفی کرچکے تھے۔ اس لیے کسی قسم کے گناہ اور نافرمانی کا سایہ بھی ان کی زندگی پر نہیں پڑا تھا۔ ایسے اوصاف کا حامل شخص صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اہل دنیا کے نام نہاد عہدہ و منصب سے وہ کبھی خوف نہیں کھاتا۔ ایسی طبیعت کا لازمی اقتضاء یہ ہونا چاہیے کہ وہ عام انسانوں کے لیے سخت گیر اور جابر ثابت ہو کیونکہ جو طاقتور کو خاطر میں نہیں لاتا وہ ضرور کمزوروں پر جبر کرتا ہے لیکن حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا حال یہ تھا کہ وہ مسکینوں کے سامنے انتہائی مسکین اور ظالموں کے سامنے انتہائی طاقتور تھے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ نہ وہ جبار تھے اور نہ وہ نافرمان تھے۔
Ayahs 19:14–15وَسَلٰمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۔ (مریم : 15)
(اور سلامتی ہے اس پر جس روز وہ پیدا ہوا اور جس روز وہ مرے گا اور جس روز وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ )
انسان کے لیے مشکل اوقات
انسان دنیا میں آنے کے بعد جب عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو کامیابیوں سے بھی سرفراز ہوتا ہے اور ناکامیاں بھی دامن گیر ہوتی ہیں اور ان کے دیکھنے اور جاننے والے سینکڑوں لوگ ہوتے ہیں۔ اس میں زندگی گزارنے والے کی محنت کا بھی دخل ہوتا ہے اور تقدیر کے فیصلے بھی شامل ہوتے ہیں لیکن انسان سے متعلق تین وقت ایسے ہیں جن میں کامیابی یا ناکامی سراسر انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ عدل خداوندی بھی اپنا کام کرتا ہے لیکن اہل دنیا اس بارے میں نہیں جانتے کہ ان تین وقتوں میں کسی شخص کے ساتھ کیا ہوا۔ وہ تین وقت انسان کی پیدائش، اس کی موت اور اس کے دوبارہ اٹھائے جانے سے متعلق ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے جس طرح زندگی گزاری ان کے جاننے والے معترف ہیں کہ وہ نہایت پاکیزہ زندگی تھی۔ ان کی زندگی میں آرام و راحت اور خوش عیشی کا کوئی لمحہ نہیں تھا۔ ایک مقصدی زندگی تھی جس میں ہر وقت مقصد کی ادائیگی کی فکر تھی اور اسی فکر کے نتیجے میں آخر شہادت کی موت کو پہنچے۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا آپ ( علیہ السلام) کی موت کو مظلومانہ موت قرار دے، لیکن درحقیقت ان کی زندگی اور موت نہایت کامیاب اور قابل رشک تھیں کیونکہ یہ تین اوقات جو انسان کے لیے سب سے زیادہ سخت اور گراں ہیں۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے لیے یہی اوقات اللہ تعالیٰ کی عنایات کا مورد بنے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ جب وہ پیدا ہوئے تو سلامتی نے ان کا استقبال کیا، فرشتوں نے خوشی کے ترانے گائے اور جس دن وہ اس دنیا سے سفر کریں گے تو فرشتے ان کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے اور وہ مبارک اور سلامت کے ساتھ ان کا خیرمقدم کریں گے اور جب انھیں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو اس روز بھی تحیت کے نعروں کے ساتھ انھیں خوش آمدید کہا جائے گا۔ دنیا نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا اہل دنیا کیا جانیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے بدلے میں کس قدر اجروثواب اور انعامات سے وہ نوازے گئے۔ لیکن وہ تین اوقات جو انسانوں کے لیے انتہائی سخت ہیں ان میں تو عزت و تکریم اور مسرت و شادمانی بارش کی طرح ان پر برستی رہی۔
Ayahs 19:16–17وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ م اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَھْلِہَا مَکَانًا شَرْقِـیًّا۔ فَا تَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًا قف ص فَاَرْسَلْنَـآ اِلَیْھَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سْوِیًّا۔ (مریم : 16، 17)
(اور اے پیغمبر کتاب میں مریم کی سرگزشت بیان کیجیے جب وہ الگ ہوگئیں اپنے گھر والوں سے ایک مکان میں جو مشرق کی جانب تھا۔ پس اس نے اپنے آپ کو لوگوں سے پردے میں کرلیا تو ہم نے اس کی طرف اپنے جبرائیل کو بھیجا جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہوا۔ )
حضرت مریم کا ہیکل سے مشرقی جانب قیام
سورة آل عمران میں یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت مریم [ کی پیدائش سے پہلے ان کی والدہ نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اولاد دے گا تو میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے نذر کردوں گی۔ چناچہ حضرت مریم پیدا ہوئیں تو بچپن گزرنے کے بعد ان کی والدہ انھیں ہیکل میں لے کر آئیں اور وہاں کے ذمہ داروں سے درخواست کی کہ آپ انھیں اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت کے لیے قبول کرلیجئے۔ حضرت مریم چونکہ ابھی بچی تھیں اس لیے سوال پیدا ہوا کہ انھیں کس کی کفالت میں دیا جائے۔ سورة آل عمران میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے خادموں میں اس مسئلے پر آپس میں اختلاف ہوا۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ یہ ذمہ داری اسے دی جائے۔ مریم کے والد چونکہ اس گھر کی ایک بڑی شخصیت رہ چکے تھے تو ان کی بیٹی کی کفالت کرنا ایک اعزاز سے کم نہیں تھا۔ بڑے تردد کے بعد حضرت مریم کو حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دیا گیا۔ آپ ( علیہ السلام) نے ان کو ایک محراب میں رکھا، یعنی ان حجروں میں سے ایک حجرے میں جو بیت المقدس کے خدام اور معتکفین کے لیے بنائے گئے تھے۔ اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ حضرت مریم جس محراب میں رہائش پذیر تھیں وہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں واقع تھا اور مزید یہ بات کہ انھوں نے معتکفین کے عام طریقے کے مطابق ایک پردہ لٹکا کر اپنے آپ کو لوگوں کی نگاہوں سے محفوظ کرلیا تھا۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ حضرت مریم کے بیت المقدس کے مشرقی کونے میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہیکل کا جو حصہ عورتوں کے اعتکاف و عبادت کے لیے خاص تھا وہ مشرقی سمت ہی میں تھا۔ اس میں حضرت مریم کے حجرے کی خصوصیت نہیں۔ اس عہد کے بیت المقدس کے نقشوں میں عورتوں کی جائے عبادت کو مشرق ہی جانب دکھایا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے مکاناً شرقیاً کا یہ سیدھا سادھا مطلب لینے کی بجائے یہ مطلب لیا ہے کہ اس سے مراد ناصرہ کی وہ بستی ہے جس میں مسیحی روایات کے مطابق آپ پیدا ہوئے تھے۔ وہ چونکہ یروشلم سے مشرق کی جانب تھی اس لیے اس سے مراد ناصرہ ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ناصرہ یروشلم کے مشرق میں نہیں بلکہ شمال میں ہے۔
اس واقعہ کو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد لانے کی حکمت
حضرت مریم کے اس واقعہ کو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ذکر کرنے سے شایدیہ بتانا مقصود ہے کہ تم نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے واقعہ میں پڑھا ہے کہ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اولاد کے لیے دعا کی ہے تو وہ کہولت کی انتہائی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ ان کی ہڈیاں تک جسم کا بوجھ اٹھانے سے انکار کررہی تھیں اور ان کی بیوی مدت سے بانجھ تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں تخلیقِ انسانی کے عام ضابطے کے مطابق ماں باپ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی عاجزی اور اخلاص کو قبول فرمایا اور ان کی زندگی کو ایسا ثمر دیا جس کے ثمرآور ہونے کا موسم گزر چکا تھا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کا اتصال اولاد کی تخلیق کا حقیقی سبب نہیں کیونکہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو جسمانی اعتبار سے صحت مند اور توانا ہوتے ہیں لیکن اولاد سے محروم رہتے ہیں۔ حقیقی سبب اولاد کی پیدائش کا وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کا حکم ہے۔ وہ چاہے تو سوکھے ہوئے درختوں کو ثمرآور کردے اور چاہے تو بھلے چنگے درختوں کو بےثمر کردے۔ حضرت یحییٰ کا پیدا ہونا سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار اور اس کی قدرت کی نشانی تھی۔ بایں ہمہ کسی نے حضرت یحییٰ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار نہیں دیا تو کس قدر ستم ظریفی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے دیا جائے کہ ان کا باپ کوئی نہیں تھا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حقیقت میں بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے اس کے باوجود انسان ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے ماں سے پیدا ہوتے ہیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کم عقلی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پہلے حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا کا واقعہ بیان کیا اور اب حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو بیان کیا جارہا ہے۔
حضرت مریم کا امتحان
حضرت مریم بیت المقدس کے مشرقی کونے میں اپنے محراب میں معتکف تھیں، اب وہ عمر کی اس منزل کو پہنچ چکی تھیں جب بچیوں کی شادیاں ہوتی ہیں اور ان پر اولاد کی ذمہ داری ڈالی جاسکتی ہے کہ اچانک ان کی طرف ایک شخص آیا جو نہایت خوبرو اور نہایت صحت مند نوجوان تھا۔ حضرت مریم کی جیسے ہی اس پر نظر پڑی تو عفت اور پاکدامنی کے احساس سے ان کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی اور ساتھ ہی حیرانی نے بھی آپکڑا کہ آج تک میرے حجرے میں کبھی کوئی شخص حضرت زکریا کے علاوہ داخل نہیں ہوسکا (اور ممکن ہے ان کا کمرہ مقفل بھی ہو) تو یہ شخص اندر کیسے آگیا ؟ ایسے موقعوں پر عفت مآب لڑکیاں عموماً چیخ و پکار کرنے لگتی ہیں، لیکن حضرت مریم نے ایسی کوئی کمزوری دکھانے کی بجائے نہایت جرأت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا۔
Ayah 19:18قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا۔ (مریم : 18)
(حضرت مریم نے کہا کہ اگر تم کوئی خدا ترس آدمی ہو تو میں تم سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔ )
حضرت مریم کا کردار
یعنی آپ نے چیخنے اور گھبرانے کی بجائے کہ میں تمہیں نہیں جانتی کہ تم کون ہو ؟ صرف یہ کہا کہ اگر تم کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے آدمی ہو تو میں تم سے خدائے رحمن کی پناہ چاہتی ہوں۔ یہ آنے والا نوجوان حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) تھے جو بشری صورت میں ان کی خواب گاہ میں داخل ہوئے تھے۔ انھیں دیکھ کر حضرت مریم نے جو کچھ کہا اور جو طرزعمل اختیار کیا وہ یہ گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ آپ نہ تو کوئی شادی شدہ خاتون تھیں اور نہ کردار میں کسی کمزوری کو برداشت کرنے والی تھیں۔ ایک مضبوط کردار عفیفہ جو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو اور اس کا اعتماد سراسر اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو اس کا طرز عمل اس سے مختلف نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک طرح سے حضرت مریم کا امتحان بھی تھا جس میں وہ پوری طرح کامیاب ثابت ہوئیں۔ اور شاید اسی لیے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو خوبصورت انسانی شکل میں بھیجا گیا ورنہ صرف فرشتے کی آواز بھی سنائی جاسکتی تھی۔
Ayah 19:19قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ صلے ق لِاَھَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا۔ (مریم : 19)
(حضرت جبرائیل نے کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔ )
حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے سب سے پہلے ان کی یہ پریشانی دور کی کہ میں کوئی عام انسان ہوں جو کسی بری نیت سے آپ کے کمرے میں چلا آیا ہوں۔ میں ایک فرشتہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے معصوم پیدا کیا ہے۔ میں تو اپنے بھیجنے والے کی طرف سے صرف ایک قاصد کا فرض انجام دیتے ہوئے آپ کو ایک خوبصورت بیٹا عطا کرنے کے لیے آیا ہوں یعنی ایک ایسا بیٹا جو سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پیدا ہوگا، میں تو اس کی خبر دینے کے لیے آیا ہوں۔
Ayah 19:20قَالَتْ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَُشٍرٌوَّلَمْ اَ کُ بَغِیًّا۔ (مریم : 20)
(مریم نے کہا میرے لڑکا کیسے ہوگا ؟ حالانکہ نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں بدچلن ہوں۔ )
ان آیات کا مفاد اور لوقا کی بےاصل روایت
آنے والے شخص کی طرف سے اطمینان ہوا تو اس کی بات نے مزید پریشانی میں مبتلا کردیا۔ جب اس نے یہ کہا کہ میں تجھے فرزند دینے کے لیے آیا ہوں تو عفت مآب مریم نے اسے ایک اجنبی کی طرف سے ایک خطرناک اقدام کی دھمکی سمجھا۔ آپ نے نہایت پریشان ہو کر کہا کہ بھلے آدمی یہ کیا کہہ رہے ہو میں ایک کنواری لڑکی ہوں جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی اور نہ میں بدکار ہوں کہ بغیر شادی کے ایسے ویسے کاموں میں دلچسپی رکھوں۔ بچے کا پیدا ہونا تو مرد و عورت کے اتصال کا نتیجہ ہوتا ہے اور مجھے کبھی کسی مرد نے چھوا تک نہیں تو میرے ہاں بچہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ہمارے بعض اہل مغرب سے مرعوب ذہنوں نے لوقا کی روایت کا سہارا لیتے ہوئے یہ لکھ دیا کہ حضرت مریم کا نکاح یوسف نجار نام کے ایک شخص سے ہوچکا تھا۔ قطع نظر اس سے کہ اس روایت کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ یہ سراسر یہودی سازش سے پال کی مہربانیوں سے انجیل میں داخل کی گئی ہے۔ اس آیت کے الفاظ پر بھی غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ ایک شادی شدہ خاتون ہوتیں اور آپ نے جب اپنے کانوں سے سن لیا کہ فرشتہ مجھے ایک پاکیزہ بچے کی ودلات کی اطلاع دے رہا ہے تو وہ خوشی سے جھوم اٹھتیں کیونکہ ایسا بچہ یقینا خوشی اور افتخار کا باعث ہوتا۔ اس کے بالکل برعکس حضرت مریم کا یہ کہنا کہ میرے یہاں بیٹا کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدکار عورت بھی نہیں۔ تو پھر فطرت کے عام اصول کے مطابق میرے یہاں بیٹا کیسے ہوسکتا ہے۔ اس کے جواب میں فرشتے نے کہا :
Ayah 19:21قَالَ کَذٰلِکَ ج قَالَ رَبُّکَ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ ج وَلِنَجْعَلَـہٓٗ اٰیَـۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا ج وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔ (مریم : 21)
(فرشتے نے کہا یونہی ہوگا، تیرے رب کا ارشاد ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے تاکہ لوگوں کے لیے اپنے قدرت کی نشانی اور اپنی جانب سے ایک رحمت بنائیں اور یہ ایسی بات ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ )
حضرت مریم کے استبعاد کا ازالہ
سیاق وسباق اور فحوائے کلام کو دیکھتے ہوئے ” کَذٰلِکَ “ کا مطلب اور مفہوم اس کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ مقصود یہ کہنا ہے کہ بیٹے کی ولادت میں ایک کنواری لڑکی کو کتنا بھی استبعاد معلوم ہو لیکن ویسا ہی ہوگا جیسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کو اطلاع دی گئی ہے۔ رہی یہ بات کہ مردوزن کے اختلاط کے بغیر بیٹا کیسے پیدا ہوسکتا ہے ؟ تو یہ بات فطری قانون دیکھتے ہوئے تو صحیح ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھتے ہوئے اس کے غلط ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ انسانوں کے جدِامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ماں باپ کے اتصال کا نتیجہ نہیں بلکہ سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار تھا۔ کائنات کی نہ جانے کتنی چیزیں ہیں جو نر اور مادہ کے اختلاط کے بغیر پیدا ہوئی ہیں۔ انھیں صرف کلمہ ٔ کن سے اس وقت پیدا کیا گیا جبکہ ان کی کوئی مثال اس سے پہلے موجود نہ تھی۔ اب جبکہ قدم قدم پر مثالیں بھی موجود ہیں اور ماں بھی بفضلہ تعالیٰ اپنا وجود رکھتی ہے تو ایسی تخلیق اس کے لیے کیا مشکل ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے مغرب زدہ متجددین نے اس کا مطلب یہ مراد لیا ہے کہ فرشتے نے حضرت مریم کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں آپ کی جب شادی ہوگی تو رخصتی کے بعد اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائے گا۔ ایسی صورت میں کَذٰلِکَکے لفظ کے بعد کی آیت کا کیا مفہوم باقی رہ جائے گا جبکہ اس میں دلیل پیش کی گئی ہے کہ اے مریم ! تم یہ سمجھتی ہو کہ اولاد ماں باپ کے اتصال کا نتیجہ ہے اور تم تو ابھی تک کنواری ہو تو تمہارے یہاں اولاد کیسی ہوسکتی ہے حالانکہ اولاد اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوتی ہے اور اس کی قدرت کا حال یہ ہے کہ وہ تمہیں اس سے پہلے پیدا کرچکا ہے جبکہ تم سراسر عدم تھے اور اس نے تمہیں معدوم سے وجود بخشا تو جس کی قدرت اس سے پہلے یہ سب کچھ کرچکی ہے تو اب اس کے لیے بغیر باپ کے بیٹا عطا کرنا کیسے مشکل ہوسکتا ہے ؟
یہ بھی ذہن میں رہے کہ قرآن کریم نے اور بھی بعض جگہ اسی طرح کَذٰلِکَ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مثلاً گزشتہ رکوع میں جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو میرے یہاں لڑکا کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ تو جواب میں کہا گیا کہ تم اسباب کو چھوڑو، ہم نے جس طرح کہا ہے ویسا ہی ہو کے رہے گا۔ اسی طرح حضرت سارہ کو بڑھاپے اور بانجھ پن میں بیٹے کی خوشخبری دی گئی تو انھوں نے بھی تعجب کا اظہار کیا۔ تو فرشتے نے جواب میں یہی لفظ استعمال کیا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کا تعجب اپنی جگہ لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو اسی بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمائے گا۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک نشانی ہیں
اس آیت میں مزید یہ فرمایا کہ ہم بغیر باپ کے بیٹے کو جو پیدا کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں تو یہ اس لیے ہے کہ ہم اسے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ نشانی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح نشانی سے نامعلوم چیزوں کا سراغ ملتا اور شبہات کا ازالہ ہوتا ہے اور عقل کے بند دریچے کھلتے ہیں اسی طرح جو لوگ قیامت کے آنے میں شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں اور انھیں اس بات کا یقین پیدا نہیں ہوتا کہ بغیر اسباب کے ازسرنو انسانوں کو کیسے پیدا کردیا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خارق عادت ولادت ان کے لیے قیامت کے آنے کی ایک نشانی ہوگی اور اس بات کی دلیل کہ اللہ تعالیٰ تخلیق میں اسباب کا محتاج نہیں جس طرح وہ آدم کو بغیر ماں باپ کے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے کلمہ ٔ کن سے تخلیق کرسکتا ہے۔ اسی طرح وہ کلمہ ٔ کن سے قیامت برپا کرسکتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ انجیل اور قرآن دونوں میں آپ کو کلمۃ اللہ کہا گیا ہے۔