19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsروح القرآن

Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو ڈرایئے حسرت کے دن سے جبکہ معاملہ کا فیصلہ کردیا جائے گا اور یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔

وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْقُضِیَ الْاَمْرُ م وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّ ھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ (مریم : 39) (اور ان کو ڈرایئے حسرت کے دن سے جبکہ معاملہ کا فیصلہ کردیا جائے گا اور یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔ ) اے پیغمبر ! ان کفار کو آگاہ کیجیے کہ قیامت کے دن جب ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی تو اس روز یہ تمنا کریں گے کہ کاش ! ہمیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع ملے تو ہم ایمان اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرکے جنت کے مستحق ہوجائیں، لیکن یہ خیال ان کے لیے اس وقت حسرت کا سبب بن جائے گا جب ان کے زندگی بھرکے معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ مہلت عمل جو ہمیں دنیا میں ملی تھی، اب نہیں ملے گی۔ یہ تو یوم الجزاء ہے یہاں ہمارے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا حساب ہوگا اور ان کا بدلہ دیا جائے گا جن لوگوں نے غفلت میں زندگی گزاری تھی۔ آج ان کی غفلت ان کے لیے عذاب کا باعث بنے گی۔ اب ازسرنو زندگی گزارنے کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ جو باتیں قیامت کو پیش آنے والی ہیں ان میں سے ایک ایک بات پہلے بتادی گئی ہے تاکہ انسان ان کو سمجھیں اور دنیا میں آخرت کی تیاری کریں۔ جس طرح ہر شخص کے اعمال کا حساب ہوجانے کے بعد اس کے مستقبل کا فیصلہ کردیا جائے گا پھر وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں ہوگا یا جہنم میں۔ اسی طرح حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی فیصلہ کردیا جائے گا کہ پہلی زندگی ہمیشہ کے لیے ختم کردی گئی، اب نئی زندگی اور نئی دنیا کا آغاز ہورہا ہے اور اسے کبھی زوال نہیں آئے گا۔ دوام اس کا مقدر ہے۔ اس دنیا کی جنت بھی ہمیشہ رہنے والی ہے اور جہنم بھی ہمیشہ کے لیے ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ موت کو سرمئی مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا پھر ایک منادی یہ ندا کرے گا، اے اہل جنت ! تو وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا، تم اس کو پہچانتے ہو۔ وہ کہیں گے ہاں، یہ موت ہے۔ اور وہ سب اس کو دیکھ لیں گے۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کردیا جائے گا۔ پھر وہ منادی کہے گا، اے اہل جنت ! اب دوام ہے، موت نہیں ہے۔ اور کہے گا، اے اہل دوزخ ! اب دوام ہے، اور موت نہیں ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے زیربحث آیت کریمہ پڑھی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 4730، صحیح مسلم رقم الحدیث 2849، سنن الترمذی رقم الحدیث 3156)
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

بیشک زمین اور روئے زمین پر بسنے والوں کے وارث ہم ہوں گے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْھَا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ۔ (مریم : 40) (بیشک زمین اور روئے زمین پر بسنے والوں کے وارث ہم ہوں گے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔ ) نصیحت کے انداز میں ایک تنبیہ انسان کو جو چیزیں حق اور صواب کی طرف آنے نہیں دیتیں ان میں سے ایک چیز عہدہ و منصب اور مال و دولت کا وہ پندار ہے جو انسان کے اندر مخصوص قسم کا کردار پیدا کردیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میری اپنی ذات اور تمام وہ چیزیں جو میری ملکیت میں شامل ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والی نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے پندار سے نکلنے پر قادر نہیں ہوتا۔ اسے ہمیشہ اپنی طاقت اپنے اختیار اور اپنی خوشحالی پر ایسا ناز رہتا ہے کہ اسے یہ کبھی خیال ہی نہیں آتا کہ آخر ایک نہ ایک دن مجھے اس دنیا سے جانا ہے اور جو کچھ میرے پاس ہے یہ میری ملکیت نہیں بلکہ اس کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ میرے پاس چند روزہ امانت ہے، لیکن اس کا طرز عمل کبھی اس تصور کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ ہر قول و فعل کے پیچھے اس کی یہ رعونت کارفرما ہوتی ہے کہ میں ایک بہت بڑی حیثیت کا مالک ہوں۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ یوں تو آج بھی ہم زمین اور اہل زمین کے مالک ہیں اور تمام کائنات ہماری ملکیت ہے لیکن ہم نے عارضی طور پر بہت ساری چیزیں انسانوں کی تحویل میں دی رکھی ہیں تاکہ انسان ان سے فائدہ اٹھائیں، لیکن انسانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ وہ ان تمام چیزوں کے مالک ہیں لیکن قیامت کے دن وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ زمین اور زمین پر بسنے والوں کے ہم ہی وارث اور مالک ہیں۔ اور زمین پر بسنے والا ہر شخص کشاں کشاں ہماری طرف آرہا ہے۔ ہر ایک کو اپنی زندگی کے پل پل کا حساب دینا ہے، تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ان کا اور ان کی زیرتصرف چیزوں کا اصل مالک کون ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن یہ ندا گونجتی ہوئی سنائی دے گی (لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمُ لِلّٰہِ الْوَاحِدُالْقَھَّارْ ) ” بتائو آج کس کی حکومت ہے (ہر طرف سناٹا ہوگا پھر پروردگار خود ہی جواب دے گا) کہ آج اس ایک اللہ کی حکومت ہے جو قہار ہے۔ “
Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

(اور کتاب میں حضرت ابراہیم کی سرگزشت کو ذکر کیجیے، بیشک وہ راست باز اور نبی تھے۔

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰھِیْمَ 5 ط اِنَّـہٗ کَانَ صِدِّیْـقًا نَّبِیًّا۔ (مریم : 41) (اور کتاب میں حضرت ابراہیم کی سرگزشت کو ذکر کیجیے، بیشک وہ راست باز اور نبی تھے۔ ) روئے سخن قریش مکہ کی طرف ہے گزشتہ دو رکوعوں میں خطاب اگرچہ مشرکینِ مکہ سے تھا لیکن درحقیقت روئے سخن نصاریٰ کی طرف تھا کیونکہ جس طرح یہود نبی کریم ﷺ کی مخالفت میں قریش مکہ کی مدد کررہے ہیں اور مختلف سوالات کی صورت میں نبی کریم ﷺ کو زچ کرنے کی کوشش کررہے تھے اسی طرح نصاریٰ بھی ان کاوشوں میں شریک ہوچکے تھے۔ انھیں بھی جب موقع ملتا وہ قریش مکہ کی پیٹ ٹھونکتے اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت کے مختلف طریقے انھیں سمجھاتے۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا تفصیلی واقعہ حقیقتِ مسیح اور پیغامِ مسیح کو واضح طور پر بیان کرنے کے بعد اب روئے سخن قریش مکہ کی طرف پھر رہا ہے اور براہ راست ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش مکہ کو یہ زعم تھا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واسطے سے اولاد ہیں۔ اس لحاظ سے ہم حسب و نسب کے اعتبار سے دوسروں سے بلند ہیں اور ہماری عظمت کی مزید دلیل یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے گھر کے متولی ہیں اور جب انھیں کہا جاتا کہ اگر تم واقعی ان نسبتوں کو عزیز رکھتے ہو تو پھر تم بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو۔ تو وہ جواب میں سب سے بڑی دلیل یہ دیتے تھے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بتوں کی پرستش کرتے دیکھا ہے اور وہ یقینا حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے پر ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا طریقہ دراصل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ ہے۔ ہمیں دین انھیں سے ملا ہے۔ ہمارے ابائواجداد نے انھیں سے بت پرستی کی تعلیم پائی ہے۔ ان کے اس رویئے کا ابطال کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان کے سامنے حضرت ابراہیم کی سرگزشت بیان کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں جو تصورات قائم کر رکھے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت کو شروع کرنے سے پہلے ان کی حیثیت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صدیق اور نبی تھے۔ صدیق کے معنی میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ صدیق وہ ہوتا ہے جس نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور دوسرا قول یہ ہے کہ صدیق وہ ہے جس کے عقیدے اور قول و عمل میں کوئی تضاد نہ ہو، یعنی جس بات پر وہ دل میں یقین رکھتا اور اس کی سچائی کا معترف ہے وہی بات اس کی زبان پر بھی ہو اور اس کا ہر فعل اسی اعتقاد کا ترجمان ہو۔ نبی کا معنی و مفہوم نبی کے معنی میں بھی اہل لغت نے اختلاف کیا ہے۔ بعض اس کو لفظ نبأ سے مشتق قرار دیتے ہیں۔ نبا کا معنی ہوتا ہے، خبر۔ اس لحاظ سے نبی کا معنی ہوگا، خبر دینے والا۔ اللہ تعالیٰ جس کو نبوت عطا فرماتے ہیں، اس کا اصل کام ہی یہ ہے کہ وہ دنیا کی حقیقت کی خبر دے، آخرت کی حقیقت واضح کرے، انسانی زندگی کی بھلائی کس میں ہے اور تباہی کس میں، اس کا عقدہ کھولے۔ زندگی کے وہ حقائق جن کا تعلق عالم غیب، عالم آخرت اور اخلاق سے ہے ان کے بارے میں یہ بتائے کہ اس بارے میں پروردگار کے احکام کیا ہیں۔ غرضیکہ کہ وہ اس بات کی خبر دے کہ اللہ تعالیٰ کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں میں ناراض ہوتا ہے اور تمہاری کامیابی کے راستے کیا ہیں اور ناکامی کے کیا ہیں۔ بعض اہل لغت کا خیال ہے کہ نبی کا مادہ نَبُؤ ہے، یعنی رفعت اور بلندی۔ اس معنی کے لحاظ سے نبی کا مطلب ہوگا، بلند مرتبہ اور عالی مقام۔ ازہری نے کسائی سے ایک تیسرا قول بھی نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لفظ دراصل نبیٔہے، جس کا معنی طریق اور راستے کے ہیں اور انبیاء کو نبی اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔ صدیق کا مفہوم صدیق اور نبی کو ایک ساتھ جب کسی عظیم شخصیت کی صفت کے طور پر ذکر کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے نبی ہونے کی حیثیت سے زندگی اور آخرت کے بارے میں جو عقائد، احکام اور آداب وحی کیے گئے ہیں جن کے مجموعے کو دین کہتے ہیں اس کی ساری زندگی اس کی تصویر ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین اور شریعت کو جس طرح اپنے دل میں سچ اور حق سمجھتا ہے اسی طرح اس کا مصداق بن کر زندگی گزارتا ہے۔ اس کا ہر عمل اس کے اعتقاد کی تائید ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل تعارف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت عطا فرمائی اور ان پر صحیفے نازل فرمائے۔ آپ ( علیہ السلام) کو جو بنیادی اعتقادات اور شریعت دی گئی آپ ( علیہ السلام) نے ساری زندگی اس کا مصداق بن کر گزاری اور اس راستے میں جو بھی امتحان دینا پڑا اس میں کامیاب ہوئے اور جو بھی تکلیف اٹھانا پڑی اسے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ تبلیغ و دعوت کے آغاز ہی میں گھر در اور وطن چھوڑنا پڑا اور قوم چھوڑنا پڑی۔ آپ ( علیہ السلام) نے نہایت استقامت سے یہ قربانی دی۔ پھر اللہ تعالیٰ کے دین کو عام کرنے کے لیے کبھی ملک شام میں نظر آئے، کبھی فلسطین کی خاک چھانی، کبھی مصر میں اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کی۔ وطن سے بےوطن ہو کر نہ جانے کیسی کیسی صعوبتیں اٹھائیں، لیکن کبھی حرف شکایت زبان پر نہ آیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے قریب بیوی اور نوزائیدہ فرزند کو چھوڑنے کا حکم دیا، تو آپ ( علیہ السلام) نے اس کی تعمیل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ بچہ بڑا ہوا تو اس کی قربانی مانگ لی گئی تو اس کے پیش کرنے میں ذرا تأمل سے کام نہیں لیا اور زندگی کے اس مشکل ترین امتحان سے سرخرو ہو کر گزرے۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو صدیق کا خطاب دیا۔ کیونکہ آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کو سچا کر دکھایا اور دنیا پر یہ بات واضح کردی کہ بندگی رب کا حق کس طرح ادا کیا جاتا ہے۔ قریش مکہ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی کا عنوان اللہ تعالیٰ کے احکام کو سچا ثابت کرنا اور اس کا مصداق بن کر جینا ہے اور اس راستے میں آنے والے ہر امتحان سے خندہ پیشانی سے گزرنا ہے۔ تمہیں اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کا دعویٰ ہے بلکہ تم اپنے آپ کو ان کی وراثت اور ان کے ساتھ نسبت کا حقدار سمجھتے ہو تو پھر تمہیں اس عہد کو پورا کرکے دکھانا ہوگا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ باندھا تھا۔ وہ عہد تو کامل توحید اور بندگی رب کا تھا جس میں کسی شرک اور بت پرستی کا گزر بھی ممکن نہ تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ نسبت کا دعویٰ بھی رکھتے ہو اور بت پرستی پر فخر بھی کرتے ہو۔ تم اگر واقعی اپنے آبائواجداد کے دین پر ہو تو تمہارے اصل جدِامجد تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور ان کی زندگی خدا پرستی کا پیغام ہے اس میں بت پرستی کا تو شائبہ تک نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعارف کے بعد ان کے پیغام کا ذکر کیا جارہا ہے اور اس میں خاص طور پر یہ بات نمایاں کی جارہی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پیغام وہی تھا جس کی دعوت نبی کریم ﷺ دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے باپ اور ان کی قوم نے وہی کچھ کیا تھا جو تم آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والوں کے ساتھ کررہے ہو۔
Ayahs 19:42–45

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

یاد کرو ! جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ ! آپ کیوں پرستش کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ وہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے میرے باپ ! میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، سو آپ میری پیروی کریں، میں آپ کو سیدھی راہ دکھائوں گا۔

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے میرے باپ ! شیطان کی بندگی نہ کیجیے، بیشک شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے میرے باپ ! میں ڈرتا ہوں کہیں آپ کو رحمن کا کوئی عذاب نہ آپکڑے، پھر آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں۔

اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓـاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَالاَ یَسْمَعُ وَلاَ یُبْصِرُ وَلاَ یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْ قَدْجَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَالَمْ بَاْ تِکَ فَا تَّبِعْنِیْٓ اَھْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ لاَ تَعْبُدِالشَّیْطٰنَ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا۔ (مریم : 42، 43، 44، 45) (یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ ! آپ کیوں پرستش کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ وہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں۔ اے میرے باپ ! میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، سو آپ میری پیروی کریں، میں آپ کو سیدھی راہ دکھائوں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان کی بندگی نہ کیجیے، بیشک شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ اے میرے باپ ! میں ڈرتا ہوں کہیں آپ کو رحمن کا کوئی عذاب نہ آپکڑے، پھر آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں۔ ) اپنے والد کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ان چار آیتوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وہ تقریر ہے جو آپ ( علیہ السلام) نے اپنے والد کے سامنے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا کی تو انبیائے کرام کے طریقے کے مطابق یقینا اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو دعوت کا آغاز اپنے اہل خانہ اور قریبی عزیزوں سے کرنے کا حکم دیا ہوگا۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے اس حکم کے مطابق مناسب موقع دیکھ کر اپنے والد کے سامنے اپنی دعوت رکھی۔ اس دعوتی تقریر میں اصل پیغام سمجھنے سے پہلے چند مزید باتیں قابل توجہ ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باربار اپنے والد کو باپ کہہ کر خطاب کررہے ہیں۔ اگر آذر آپ ( علیہ السلام) کے باپ نہیں بلکہ چچا تھے تو قرآن کریم نے بار بار باپ کے لفظ کا تکرار کیوں کیا۔ باپ نے آپ ( علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں جو سخت رویہ اختیار کیا اگر آذر آپ ( علیہ السلام) کے حقیقی باپ نہ تھے تو قرآن کریم انھیں چچا کا خطاب دے کر یہ بات واضح کرسکتا تھا کہ ان کی سختی کی وجہ جہاں بت پرستی سے شدید محبت تھی، وہاں یہ بھی تھی کہ وہ آپ ( علیہ السلام) کے حقیقی باپ نہ تھے۔ اس لفظ کے تکرار سے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آذر آپ ( علیہ السلام) کے باپ تھے۔ تو رہی یہ بات کہ تورات نے انھیں چچا قرار دیا ہے تو، تورات کی ہر بات کو قبول کرنا ہمارے لیے ضروری نہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ تورات میں جابجا تحریف ہوچکی ہے اور ایک سے زیادہ مرتبہ تورات کو مکمل جلائے جانے کے بعد اسے ازسرنو لکھوایا گیا ہے جس میں تورات بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ بن کے رہ گئی ہے اور نہ جانے اس کے کتنے باب گم ہوچکے اور کتنے مقامات پر ترمیم اور تحریف ہوچکی ہے۔ دوسری بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جتنی باتیں اپنے والد سے ارشاد فرمائی ہیں ان میں ہر بات سے پہلے یٰٓـاَبَتِکہہ کر خطاب کیا ہے۔ یہ لفظ عربی لغت کے اعتبار سے باپ کی تعظیم و محبت کا خطاب ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں، اے میرے باپ ! بلکہ اس میں ادب کے تقاضے بھی شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ اگرچہ بت پرست اور کافر تھے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی تعظیم و تکریم میں کوئی کمی نہ آنے دی اور پھر اس لفظ کا تکرار آپ ( علیہ السلام) کی دلسوزی، دردمندی اور استمالت کی دلیل ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) اپنے باپ کی گمراہی سے سخت آزردہ ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) کی دلی تمنا ہے کہ کسی طرح وہ ایمان لا کر آخرت میں سرخروئی کا سامان کرلیں اور آپ ( علیہ السلام) کا یہ رویہ اسلام کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔ اسلام نے کافر اور فاسق ماں باپ کے بھی احترام کا حکم دیا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن کو جس طرح اپنے باپ کی تعظیم کرنی چاہیے اس سے کہیں بڑھ کر اس کی ہدایت کے لیے نہایت دردمند ی اور حکمت سے کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اس تقریر کے چند اہم نکات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی تقریر میں چار باتیں ارشاد فرمائیں۔ ان میں سب سے پہلی بات جو پہلی آیت میں فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ابا جان ! آپ ان بتوں کو معبود مانتے اور ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ جو نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ آپ کے کسی کام آتے ہیں۔ کسی کو معبود ماننے کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ وہ اپنی عظمت اور بڑائی کے حوالے سے اس لائق ہے کہ اس کے سامنے سجدہ کیا جائے اور اس کی پوجا کی جائے اور وہ اپنی قدرت کے لحاظ سے یہ حق رکھتا ہے کہ اپنی ناتوانیوں اور ضرورتوں میں اس کے سامنے دست سوال دراز کیا جائے اور وہ اپنے بےپناہ علم اور وسعت کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اپنی تنہائیوں میں اسے پکارا جائے اور اس سے اس وقت مدد مانگی جائے جبکہ ہر سہارا جواب دے دے کیونکہ محض کسی کو معبود بنا لینا کوئی کھیل نہیں، یہ تو انسانی ضرورت ہے۔ جب ہر سہارا ٹوٹنے لگتا ہے اور تنہائیاں ڈسنے لگتی ہیں اور ناتوانی عذاب بن جاتی ہے تو پھر آدمی خواہی نخواہی کسی کو پکارتا ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کو تو اس لیے پکارتا اور اس کی بندگی کرتا ہے کہ اس نے اسے پیدا کیا ہے، اس کی زندگی کی ہر ضرورت مہیا کی ہے اور اسے احساس اور عقل کی دولت عطا کی ہے اور پھر اس کی فریادوں کو سنتا، اس کے دکھ درد کو دیکھتا اور ہر مشکل وقت میں اس کی دستگیری کرتا ہے۔ لیکن آپ جن بتوں کو پکارتے ہیں وہ آپ کے ہاتھوں کی گھڑی ہوئی مورتیاں ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکتی ہیں اور جن اَن دیکھی قوتوں کو آپ نے معبود بنا رکھا ہے ان کی حیثیت بھی وہم و گمان سے زیادہ نہیں۔ تو پھر یہ آپ کے نام نہاد معبود آخر کس مرض کی دوا ہیں۔ یہ ایک ایسی بدیہی دلیل ہے، عقلِ سلیم جس کا جواب نہیں دے سکتی۔ دوسری آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ عبادت اور بندگی کس کی ہونی چاہیے ؟ پرستش کے کون لائق ہے ؟ وہ کون سی ذات ہے جسے مطاع مطلق مانا جاسکتا ہے ؟ وہ کون ہے جس کی ذات نارسائیوں سے پاک ہے ؟ جو ہر طرح کی خواہش، غرض، جانبداری اور عصبیت سے بلند ہے، جو انسانی فطرت کو سمجھنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتی، جس کا فرمایا ہوا ہر خطا و نسیان سے پاک ہے۔ ان باتوں کے جواب کے لیے علم چاہیے۔ ایسا علم جو بجائے خود ہر غلطی سے مبرا ہو۔ عقلِ سلیم اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ ایسا علم حقیقی صرف خدا کی طرف سے آسکتا ہے اور اس کا ذریعہ وحی الٰہی ہے اور یہ محض مفروضہ نہیں بلکہ قوموں اور مذاہب کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے نبی مبعوث ہوئے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اتری جس نے آکر ان کی زندگی کے مقاصد اور زندگی گزارنے کے طریقے کو واضح کیا اور ان انبیاء کی بےعیب زندگی اور ان کا بےعیب کردار اور انسانوں کے ساتھ ان کی گہری ہمدردی اور غمخواری اور بغیر کسی لالچ اور معاوضے کے زندگی بھر ان کی ہدایت کے لیے کوشاں رہنا، یہ وہ دلائل ہیں جس نے نبوت اور وحی الٰہی کی تصدیق کی ہے۔ ابا جان ! اللہ تعالیٰ نے اس دور میں مجھے وہ علم عطا فرمایا ہے جو نبوت کے ذریعے ملتا ہے۔ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے، میں زندگی کے حقائق کو وحی الٰہی کی روشنی میں دیکھتا ہوں۔ آپ چونکہ اس علم سے بےبہرہ ہیں، آپ کا احترام سر آنکھوں پر، لیکن ہدایت کے لیے آپ کو میری پیروی کرنا ہوگی۔ میں اس صراط مستقیم اور سیدھے راستے کی آپ کو خبر دوں گا جو اس دنیا میں کامیابی کی ضمانت اور آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ ہے۔ تیسری آیت میں یہ حقیقت واضح فرمائی کہ آپ اگر میری پیروی نہ کرکے صحیح علم سے ابا کریں گے تو آپ درحقیقت شیطان کی بندگی کریں گے اور شیطان اللہ تعالیٰ کے راستے کا دشمن ہے، اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرکے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگتے ہوئے صاف صاف اعلان کیا کہ میں آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو گمراہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا۔ آپ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا انکار کرکے شیطان کی بندگی کررہے ہیں جبکہ آپ جانتے ہیں کہ شیطان اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ تو جو شخص اس کی بندگی کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں میں شامل ہوجائے گا۔ اس آیت کریمہ میں لاَ تَعْبُدِالشَّیْطٰنْ فرمایا گیا ہے۔ جس کا معنی عام طور پر کیا جاتا ہے شیطان کی پرستش اور اس کی پوجا پاٹ نہ کرو حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ شیطان کی پرستش کبھی کسی نے نہیں کی۔ ہر وہ شخص جو شیطان کی حقیقت کو جانتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو وہ ہمیشہ شیطان پر لعنت بھیجتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ شیطان گمراہی کا ذریعہ ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ شیطان کی عبادت نہ کرو، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہاں عبادت پرستش کے معنی میں نہیں بلکہ اطاعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ سب فاسق و فاجر اور گمراہ لوگ شیطان کو گالیاں بھی دیتے ہیں اور اس کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عبادت اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے اور قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں اسی معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ آپ پرستش تو بتوں کی کرتے ہیں لیکن زندگی کا رویہ شیطان کی اطاعت پر مبنی ہے۔ تو آپ ان دونوں سے توبہ کریں ورنہ آپ شیطان کے پیروکاروں میں شامل ہوجائیں گے۔ چوتھی آیت کریمہ میں یہ حقیقت واضح فرمائی کہ جب تک کسی شخص کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت نہیں آتی تو اس کے پاس عذر ہوتا ہے، بےعلمی اور بیخبر ی کا اور وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جا کر یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے تو کسی نے نہیں بتایا تھا کہ صراط مستقیم کیا ہے کیونکہ ہمارے پاس نہ کوئی نبی آیا اور نہ کوئی نبی کے راستے پر چلنے والا۔ چناچہ آج تک ابا جان آپ کے پاس بھی یہ عذر موجود تھا۔ لیکن اب جبکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبوت دی ہے اور میں علم الٰہی لے کر آپ کے پاس آیا ہوں تو اب اگر آپ اس علم کی پیروی سے انکار کریں گے تو مجھے اندیشہ ہے کہ آپ پر کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ ٹوٹ پڑے اور آپ کو شیطان کا ساتھی قرار دے کر اس انجام سے دوچار نہ کردیا جائے جو شیطان کی پیروی کرنے والوں کا مقدر ہے۔
Ayahs 19:46–47

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

آذر نے کہا اے ابراہیم، کیا تو میرے خدائوں سے اعراض کرنے والا ہے، اگر تو بازنہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا، تو مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجا۔

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

حضرت ابراہیم نے کہا آپ کی سلامتی رہے، میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت مانگوں گا بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِھَتِیْ یٰٓـاِبْرٰھِیْمُ ج لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا۔ (مریم : 46) (آذر نے کہا اے ابراہیم، کیا تو میرے خدائوں سے اعراض کرنے والا ہے، اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا، تو مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجا۔ ) مَلِیٌّ کا مفہوم مَلِیٌّ …زمانہ طویل کے معنی میں آتا ہے۔ تقدیرِ کلام یوں ہوسکتی ہے وَاھْجُرْنِیْ ہِجْرًا مَلِیًّااس کا ایک معنی تو یہ ہوسکتا ہے کہ تم مجھے لمبی مدت تک کے لیے چھوڑ دو ۔ یعنی زندگی بھر کے لیے چھوڑ دو اور دوسرا معنی ہے، میرے سامنے سے دفعہ ہوجاؤ، کبھی اپنی شکل مجھے نہ دکھائیو۔ تقریر کا ردِّعمل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر سن کر ان کا باپ بھڑک اٹھا اور غصے سے بےقابو ہوتے ہوئے کہا کہ تمہاری اس تقریر کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم بت پرستی چھوڑ کر تمہارے ایک خدا کی پرستش شروع کردیں۔ اس طرح سے تم خود بھی ہمارے خدائوں کا انکار کررہے ہو اور مجھے بھی ان سے برگشتہ کرنے کی کوشش کررہے ہو۔ تمہارے لیے عافیت اس میں ہے کہ تم اپنی دعوت بند کرو اور اپنے طرزعمل کو درست کرو اور بت پرستی کو اپنا شعار بنا لو ورنہ میں تمہیں سنگسار کردوں گا۔ اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اندازہ لگا لیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی دعوت اور اپنے مؤقف پر اس طرح قائم ہیں کہ اس سے ہٹنے کا سو ال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو تب اس نے کہا کہ میرے سامنے سے دور ہوجاؤ۔ اور کبھی مجھے اپنی شکل نہ دکھانا اور اگر میں نے تمہیں دوبارہ دیکھا تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا۔ بعض لوگوں نے اس رجم کو رجم بالید یا رجم باللسان پر محمول کیا ہے حالانکہ آیت کریمہ کے الفاظ میں جو زور ہے وہ خود بول رہا ہے کہ اس سے مراد رجم باللسان یا رجم بالید مراد نہیں بلکہ پتھروں سے سنگسار کرنا مراد ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قبائل کی زندگی میں جس طرح ایک آقا کو اپنے غلام پر غیرمحدود اختیارات حاصل ہوتے تھے اس طرح باپوں کو بھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں پر یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ انھیں قتل کردیں، سنگسار کردیں یا زندہ درگور کردیں، اور اس اختیار کے استعمال سے انھیں کوئی روکنے والا نہ تھا۔ قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْکَ ج سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ ط اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا۔ (مریم : 47) (حضرت ابراہیم نے کہا آپ کی سلامتی رہے، میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت مانگوں گا بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے والد کسی طرح بات سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں بلکہ وہ خونی رشتوں کو بھی بھول گئے ہیں اور انھوں نے کھڑے کھڑے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو سنگسار کرنے کی دھمکی دے دی ہے اور فوری مطالبہ یہ کیا کہ اس وقت فوراً میری آنکھوں کے سامنے سے دور ہوجاؤ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس حد تک غضبناک ہوگئے ہیں کہ اپنے بیٹے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن اگر اتنی بڑی سزا کے بعد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا رویہ نہیں بدلتا اور وہ توحید پر قائم رہتے ہیں تو پھر دوسری سزا یہ تھی کہ انھیں سنگسار کردیا جائے گا۔ اس کے بعد کہنے سننے کی تو کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ اسلام کا مفہوم آپ ( علیہ السلام) نے باپ کی دوسری سزا پر عمل کرتے ہوئے باپ کو الوداعی سلام کہا کہ اچھا اگر آپ مجھے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو یہ تو ہو نہیں سکتا کہ میں آپ کے غضبناک ہونے کی وجہ سے حق کو چھوڑ دوں۔ البتہ میں آپ کی سزا کو قبول کرتے ہوئے گھر سے جارہا ہوں۔ گھر سے جاتے ہوئے شائستگی کا ثبوت دیتے ہوئے باپ کو سلام کہا جسے وداعی سلام یا سلام رخصت کہنا چاہیے جو ہر شائستہ آدمی کہیں سے بھی رخصت ہوتے ہوئے کہتا ہے، چاہے اس کا رخصت ہونا نہایت تکدر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے سلام کے بارے میں یہ سوال اٹھانا کہ کافر کو سلام کہنا جائز ہے یا نہیں ایک غیرمتعلق سی بات ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے کسی سے شائستگی سے علیحدہ ہونے کے لیے اسی طریقے کی تعلیم دی ہے۔ ارشادِخداوندی ہے، وَاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَ مًا ” جب جاہل اور کج بحث لوگ بات کو الجھانا چاہیں تو انھیں سلام کہہ کر رخصت ہوجاؤ “۔ یہ علیحدگی کا شائستہ طریقہ ہے جو قرآن کریم نے سکھایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسی طریقے کے مطابق اپنے باپ سے الگ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اگرچہ ناگواری سے یا زخمی دل کے ساتھ علیحدہ ہورہا ہوں لیکن اس بات کا اطمینان رکھئے کہ میرے دل کے جذبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ میں پہلے کی طرح آپ کا خیرخواہ رہوں گا۔ سلام کی بحث کو چھیڑتے ہوئے علماء نے لکھا ہے کہ حدیث میں کسی کافر کو ابتداء ً سلام کہنے کی ممانعت آئی ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، یہود و نصاریٰ کو ابتداء ً سلام نہ کہو مگر اس کے بالمقابل بعض روایات اور احادیث میں ایک ایسے مجمع کو ابتدائی سلام کرنا خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے جس میں کفار و مشرکین اور مسلمان سب جمع تھے۔ جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم ہی میں حضرت اسامہ ( رض) کی روایت سے ثابت ہے۔ اس لیے فقہائے امت کا اس کے جواز و عدم جواز میں اختلاف ہوا جس کی تفصیل قرطبی نے احکام القرآن میں اسی آیت کے تحت بیان کی ہے۔ اور امام نخعی کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر تمہیں کسی کافر یہودی یا نصرانی سے ملنے کی کوئی دینی یا دنیوی ضرورت پیش آجائے تو اس کو ابتدائی سلام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ بےضرورت سلام کی ابتدا کرنے سے بچنا چاہیے۔ اس طرح مذکورہ دونوں حدیثوں میں تطبیق ہوجاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا استغفار کا وعدہ دوسری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ کہی کہ میں گھر سے تو جارہا ہوں لیکن میں آپ کے لیے اپنے رب سے استغفار کرتا رہوں گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کا اپنے باپ کو سلام کہنا اسی دردمندی اور رقت قلبی کا نتیجہ تھا جس کا اظہار استغفار کے وعدے کی صورت میں ہورہا ہے۔ اندازہ کیجیے کہ باپ اپنے بیٹے کو رجم کی دھمکی دے رہا ہے اور گھر سے نکلنے کا حکم دے رہا ہے اور بیٹے کے حُسنِ اخلاق کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کے کفر کی وجہ سے انتہائی پریشان ہے اور ہمدردی و غمگساری کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لیے ہمیشہ دعا کرنے کا وعدہ کررہا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ اگرچہ میرے رب کو تسلیم نہیں کرتے، اس لحاظ سے اسی رب سے آپ کی مغفرت طلب کرنا عجیب سے بات معلوم ہوتی ہے، لیکن میرا رب چونکہ میرے حال پر انتہائی مہربان ہے، وہ میرے رنج و الم کو جانتا ہے۔ وہ مجھ پر مہربانی فرماتے ہوئے ممکن ہے آپ کو ہدایت دے دے اور اس طرح سے آپ کی مغفرت کا سامان ہوجائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس رویئے پر اشکال وارد ہوتا ہے کیونکہ کفار کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت کی دعا کرنے سے منع فرمایا ہے، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے یہ وعدہ کیسے کرلیا۔ قرآن کریم نے سورة توبہ میں اس اشکال کا جواب دیا ہے۔ ارشاد ہے : وَمَا کَانَ اِسْتَغْفَارُ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلاَّ عَنْ مَوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَـہٗ اَنَّـہٗ عَدُوُّلِلّٰہِ تَبَرَّأَ مِنْہُ ” حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا اس وعدے کی وجہ سے تھا جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا مگر جب یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو آپ ( علیہ السلام) نے اس سے براءت کا اعلان کردیا۔ “ اندازہ کریں باپ کے لیے اللہ تعالیٰ نے استغفار کی اجازت نہیں دی۔ باوجود اس کے کہ بیٹے کا دل اپنے باپ کے کفر کی وجہ سے زخمی ہے اور وہ کافر کے انجام کو جانتے ہوئے اپنے باپ کے لیے معافی حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ اجازت کی صورت میں ایک تو وہ مستقل قانون ٹوٹ جاتا جس کے مطابق کسی کافر کی نجات نہیں ہوگی اور دوسری یہ بات کہ پیغمبر جس طرح دنیا میں رحمت بن کر آتا ہے، اسی طرح وہ دینی حمیت کا پیکر بھی ہوتا ہے۔ یہ بات غیرت و حمیت کے خلاف ہے کہ کافر کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا جائے چاہے وہ باپ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ باپ کا رشتہ اللہ تعالیٰ کے رشتے سے بڑھ کر ہے۔
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں چھوڑ کے الگ ہورہا ہوں تمہیں اور ان کو جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، میں صرف اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا، امید ہے کہ اپنے رب کی بندگی کرکے میں محروم نہیں رہوں گا۔

وَاَعْتَزِلُـکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَاَدْعُوْا رَبِّی عَسٰٓی اَلَّآ اَکُوْنَ بِدُعَآئِ رَبِّیْ شَقِیًّا۔ (مریم : 48) (اور میں چھوڑ کے الگ ہورہا ہوں تمہیں اور ان کو جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، میں صرف اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا، امید ہے کہ اپنے رب کی بندگی کرکے میں محروم نہیں رہوں گا۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی غیرت و حمیت ایک طرف تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی رقت قلبی کا عالم یہ ہے کہ اپنے باپ کے ظالمانہ رویئے پر بھی وہ ان کے لیے استغفار کرتے ہیں اور ان کی دردمندی اس نامناسب سلوک پر بھی شکست نہیں کھاتی اور دوسری طرف غیرت و حمیت کا عالم یہ ہے کہ اپنے گھر کو چھوڑتے ہوئے نہایت جرأت کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ میں اگرچہ گھر سے جارہا ہوں، اپنا شہر چھوڑ رہا ہوں، اپنی قوم سے الگ ہورہا ہوں، غربت اور مسافرت میں نہ جانے مجھ پر کیا گزرے گی، لیکن میں یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اپنے اعتقادات کے بارے میں ہرگز کسی لچک کا روادار نہیں ہوں، مجھے اپنے مؤقف کے حق ہونے کا مکمل یقین ہے۔ اس لیے میں تم سب سے بھی الگ ہورہا ہوں اور جن قوتوں کو تم پکارتے ہو، چاہے وہ شخصیتیں ہوں جن کے تم نے بت تراش رکھے ہیں اور چاہے تمہارے خودساختہ دیوی دیوتا ہوں، میں ان سب سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ تم یہ سمجھتے ہو کہ جو بھی ان دیویوں اور دیوتائوں کا انکار کرتا ہے، اس پر ان کی مار پڑتی ہے۔ لیکن میں اس جہالت کو ماننے سے انکار کرتا ہوں۔ میں صرف اپنے رب کی بندگی کروں گا، اسی کو پکاروں گا، اسی کے سامنے سرِنیاز جھکائوں گا۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ میں تمہیں اور وطن کو چھوڑ کر جس تنہائی کا شکار ہورہا ہوں اللہ تعالیٰ اس کی ضرور تلافی فرمائیں گے اور مجھے اپنی رحمتوں سے نوازیں گے۔
Ayahs 19:49–50

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پس جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو اور ان چیزوں کو جن کو وہ خدا کے ماسوا پوجتے تھے چھوڑ کر الگ ہوگئے تو ہم نے انھیں اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) عطا کیے، اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا۔

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ہم نے ان کو نہایت پائیدار شہرت عطا فرمائی۔

فَلَمَّا اْعَتَزَلَہُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لا وَھَبْنَا لَـہٗٓ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ط وَکُلاًّ جَعَلْنَا نَبِیًّا۔ وَوَھَبْنَا لَھُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَھُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۔ (مریم : 49، 50) (پس جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو اور ان چیزوں کو جن کو وہ خدا کے ماسوا پوجتے تھے چھوڑ کر الگ ہوگئے تو ہم نے انھیں اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) عطا کیے، اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا۔ اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ہم نے ان کو نہایت پائیدار شہرت عطا فرمائی۔ ) ہجرت اور اس کی برکات گزشتہ آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کی دھمکیوں کے بعد گھر، وطن اور ان کی دیویوں اور دیوتائوں کو چھوڑنے کا اعلان کرکے گویا ہجرت کرنے کا اعلان کردیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے ہجرت کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے تو اس کے بعد نہ جانے کتنے سالوں کے حالات محذوف ہیں کیونکہ آپ ( علیہ السلام) مختلف ملکوں میں دعوت الی اللہ کے سلسلے میں تشریف لے گئے۔ جب کسی شہر میں اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرتے تو شدید مخالفت کے پیش نظر وہ شہر چھوڑنا پڑتا حتیٰ کہ رفتہ رفتہ جب اس ملک کی سرزمین بھی تنگ ہوجاتی تو پھر آپ ( علیہ السلام) دوسرے ملک کا رخ کرتے، کیونکہ آپ ( علیہ السلام) کی زندگی کا حقیقی مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کو عام کرنا اور اسے سربلند کرنا تھا۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) پہلے ملک شام میں داخل ہوئے۔ وہاں جب آپ ( علیہ السلام) پر حالات شدید ہوگئے تو پھر مصر تشریف لے گئے۔ اس طرح نہ جانے اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر کہاں کہاں کی خاک چھانی۔ بالآخر آپ ( علیہ السلام) فلسطین کے قریب اپنا ٹھکانہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کا چونکہ وعدہ ہے کہ جو اس کے راستے میں ہجرت کرتا، قربانیاں دیتا اور سب کچھ اس کے لیے تیاگ دیتا ہے تو وہ بھی اپنی نعمتوں کے دروازے اس کے لیے کھول دیتا ہے۔ چناچہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دین پر قربان کردیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی۔ آپ ( علیہ السلام) گھر سے نکالے گئے تھے تو آپ ( علیہ السلام) کو گھر دیا گیا۔ وطن چھوڑنا پڑا تھا، آپ ( علیہ السلام) کو وطن عطا کردیا گیا۔ اپنے اعزہ و اقرباء سے محروم ہو کر تنہائی کا شکار ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو بیویاں بھی عطا فرمائیں اور اولاد بھی عطا فرمائی۔ اس طرح آپ ( علیہ السلام) کی تنہائی کا علاج کیا گیا اور آپ ( علیہ السلام) کو سکون کی زندگی عطا فرمائی گئی تاکہ آپ ( علیہ السلام) اطمینان سے اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرسکیں۔ آپ ( علیہ السلام) کو جو اولاد دی گئی وہ صرف اولاد ہی نہ تھی بلکہ انھیں دنیا کا مقتداء بنایا گیا۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) تمام بنی اسرائیل کے امام اور مقتداء ہیں اور حضرت یعقوب کا چونکہ نام اسرائیل تھا اس لیے آپ ( علیہ السلام) کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی اور صدیوں تک اللہ تعالیٰ نے دینی قیادت سے ان کو نوازا۔ نہ جانے کتنے انبیاء و رسل ان میں مبعوث ہوئے اور دنیا کی قابل ذکر تاریخ ان کی وجہ سے وجود میں آئی۔ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) آپ کے پوتے ہیں۔ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے بعد آپ ( علیہ السلام) کے انتہائی بڑھاپے کی اولاد ہیں اور میں نہیں جانتا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں پیدا ہوئے ہیں یا آپ ( علیہ السلام) کی رحلت کے بعد دنیا میں تشریف لائے۔ لیکن ان کا ذکر معلوم ہوتا ہے کہ دو وجہ سے کیا گیا ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ ان کے ذکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس حد تک نوازا کہ ان کی اولاد میں نہ صرف پے در پے نبی پیدا ہوئے بلکہ وہ اس سلسلہ دعوت کے امین اور امام بنائے گئے جس نے صدیوں تک اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کا کام کیا۔ کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہوئے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے تھے۔ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر میں ٹھکانہ دیا اور وہاں ایک نئی تاریخ نے جنم لیا۔ اور دوسری وجہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ذکر کرنے کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس بات کا اطمینان دلانا ہے کہ ہم نے جو آپ ( علیہ السلام) کو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا ہے تو آپ ( علیہ السلام) کے ذہن میں کبھی یہ خیال نہ آئے کہ نہ جانے اسے طویل زندگی ملے گی یا نہیں۔ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) لمبی عمر پائیں گے اور وہ صاحب اولاد ہوں گے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند اللہ تعالیٰ ان کو عطا فرمائے گا۔ اگلی آیت میں اسی سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو خوب خوب اپنی رحمت سے نوازا۔ ان میں انبیاء کا ایک سلسلہ چلا اور ان کی اولادوں سے ایک قوم وجود میں آئی اور اس طرح ہم نے انھیں نہایت پائیدار شہرت سے نوازا۔ لِسَانَ صِدْقٍ میں لِسَانَسے مراد ذکر اور شہرت ہے۔ صدق کا معنی سچائی ہوتا ہے، لیکن قَدَمَ صِدْقٍکی طرح یہاں صِدْقٍ کا معنی رسوخ، پائیداری اور استحکام ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں دعوت الی اللہ کے کام کو خوب فروغ بخشا، اور صدیوں تک آپ ( علیہ السلام) کی اولاد دنیا کے قابل ذکر حصے پر نہ صرف حکمران رہی بلکہ ان کی امامت و قیادت بھی کی۔ حضرت دائود، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ جیسے عظیم پیغمبر پیدا ہوئے اور اول الذکر دو شخصیتیں تو اپنے دور کی عظیم حکمران بھی رہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا جاہ و جلال اور حکومت کی وسعت تو شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہو۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی اولاد سے نبی آخرالزمان ﷺ پیدا ہوئے اور اس طرح سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شہرت اور عظمت کو بقائے دوام حاصل ہوئی۔ آج بھی مسلمان اپنی نمازوں میں ان پر درود بھیجتے ہیں۔ اپنی قربانیوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت قرار دیتے ہیں اور حج کے مناسک کا بیشتر حصہ انھیں کی یادگار ہے۔ ان کی عظمت و شہرت کا اس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا ہوگا کہ یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں مذاہب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا احترام کرتے اور ان کو اپنا مقتداء سمجھتے ہیں۔ ایک الجھن کا ازالہ یہاں ایک بات کھٹکتی ہے کہ ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہجرت کا پہلا ثمر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شکل میں ملا ہے کیونکہ وہ آپ ( علیہ السلام) کے پہلے فرزند ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس سلسلہ کلام میں ان کا ذکر تک نہیں۔ اس کی درحقیقت دو وجہ ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ چونکہ اس سورت اور بالخصوص اس رکوع میں روئے سخن اصل میں مشرکینِ عرب کی طرف ہے اور قریش بالخصوص حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ اس نسبت سے اس سلسلہ کلام کی رواروی میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر کردینا مناسب معلوم نہیں ہوا بلکہ چند آیتوں کے بعد ان کا مستقل ذکر فرمایا جارہا ہے تاکہ ان کی اہمیت اور عظمت نمایاں ہو اور دوسری وجہ شاید یہ ہے کہ اس رکوع سے پہلے دو رکوعوں میں دو واقعات بیان کیے گئے ہیں جن کا تعلق خارق عادت سے ہے، یعنی حضرت زکریا (علیہ السلام) کے گھر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا پیدا ہونا جبکہ ان کے والدین اولاد کی عمر سے گزر چکے تھے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے صرف ماں سے پیدا ہونا یہ ایسے معجزات ہیں جن سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے، وہ کسی کام میں بھی اسباب کا پابند نہیں۔ تو تم ایسی قادر مطلق ذات کے ساتھ مخلوقات کو کیسے شریک ٹھہراتے ہو۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بڑھاپے کی اولاد ہیں جبکہ ان کی والدہ محترمہ حضرت سارہ اولاد سے بانجھ ہوچکی تھیں اور جب ان کو خبر دی گئی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمانے والا ہے تو انھوں نے بھی حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت مریم کی طرح نہایت تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تو ایک بانجھ عورت ہوں، میرے یہاں بچہ کیسے پیدا ہوسکتا ہے ؟ اس نسبت سے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر محل کلام کے عین مطابق ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت مطلقہ کو مزید دلوں میں راسخ کیا جائے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ کو اس وقت عطا کیے تھے جبکہ وہ جوان تھیں۔ سیاق کلام کی مناسبت سے ان کا ذکر اسی سلسلہ کلام میں کرنے کی بجائے الگ فرمایا گیا کیونکہ ان کی حیثیت بالکل الگ ہے اور وہ ویسے بھی ایک نئی قوم کے جدِ امجد اور مورث اعلیٰ ہیں اور جن کی اولاد میں نبی کریم ﷺ جیسی عظیم تر شخصیت پیدا ہوئی ہے۔
Ayah 19:51

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

(اور اس کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے، بیشک وہ ایک چیدہ اور رسول نبی تھا۔

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مُوْسٰٓی ز اِنَّـہٗ کَانَ مُخَْلَصًا وَّ کَانَ رَسُوْلاً نَّبِیًّا۔ (مریم : 51) (اور اس کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے، بیشک وہ ایک چیدہ اور رسول نبی تھا۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذُرِّیت میں اللہ تعالیٰ نے جو برکت عطا فرمائی اور ان میں سلسلہ نبوت جاری فرمایا تو اس سلسلہ کے جلیل القدر نبی اور رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کی وضاحت کے لیے اس آیت کریمہ میں تین لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ مخلص، رسول اور نبی۔ مخلص کا معنی و مفہوم مخلص کا معنی ہوتا ہے، چیدہ، چنا ہوا، کسی کارخاص کے لیے انتخاب کیا ہوا۔ اس معنی کے لحاظ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کوئی خصوصیت نہیں کیونکہ تمام انبیائے کرام ایک کارخاص ہی کے لیے منتخب کیے گئے تھے۔ چناچہ قرآن کریم میں انبیائے کرام کی شان میں کہا گیا ہے : اِنَّا اَخْلَصْنٰـہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ ” ہم نے ان کو ایک خاص کام یعنی آخرت کی یاددہانی کے لیے منتخب کیا تھا۔ “ تمام انبیائے کرام میں اس عموم کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بطور خاص سوائے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اور کسی کے لیے بھی مخلص کا وصف استعمال نہیں کیا گیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی وصفِ امتیازی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ ان کے لیے لقب امتیازی ہے تو پھر اس کا مفہوم کیا ہے ؟ اور وہ کیا وجہ ہے جس کی باعث حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس لقب سے ملقب ہوئے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) باقی رسولانِ گرامی کی طرح ایک تو اہل مصر اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے آپ ( علیہ السلام) کی ذمہ داری عام رسولوں کی طرح تھی۔ لیکن آپ ( علیہ السلام) کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) صرف فرعون اور آل فرعون ہی کی ہدایت کے لیے ہی تشریف نہیں لائے تھے بلکہ ان کے ہدایت قبول نہ کرنے کی صورت میں آپ ( علیہ السلام) کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ آپ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو وہاں سے نکالیں اور انھیں اس ظالمانہ غلامی سے نجات دیں جس میں وہ بری طرح گرفتار تھے۔ اس دو گونہ ذمہ داری کے باعث آپ ( علیہ السلام) کو مخلص کے لقب سے ملقب کیا گیا۔ بعض دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ مخلص کے لفظ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس امتیاز و اختصاص کی طرف اشارہ ہے جو صرف ان کی خصوصیت ہے، کسی اور پیغمبر کو حاصل نہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں شرف ہم کلامی بخشا تھا۔ قرآن کریم نے ان کے اس امتیازی وصف کو کئی جگہ ذکر فرمایا۔ تیسرے پارے کی پہلی آیت میں رسولوں پر ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تھا۔ اسی طرح سورة النساء کی آیت 164 میں ارشاد ہے کہ وَکَلَمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا ” اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ اسی وصف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ رسول کا معنی ہے فرستادہ یعنی بھیجا ہوا۔ عربی زبان میں قاصد، پیغام بر، ایلچی اور سفیر پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ ملائکہ کے لیے بھی یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے جب انھیں کسی کار خاص کے لیے بھیجا گیا۔ ان برگزیدہ انسانوں کو رسول کہا جاتا ہے جو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مبعوث ہوتے ہیں اور ان پر جو کتاب اترتی ہے اور جو اس کی تشریحات نازل ہوتی ہیں وہ انھیں لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ نبی کے معنی اور مفہوم کے حوالے سے سابقہ رکوع میں ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ اختصار کے طور پر یوں کہہ لیجئے کہ نبی خبر دینے والے کو بھی کہتے ہیں اور بلند مرتبہ اور عالی مقام کو بھی۔ اور اس کا ایک معنی طریقہ اور راستہ بھی کیا جاتا ہے۔ نبی اور رسول میں فرق قرآن مجید میں یہ دونوں لفظ بالعموم ہم معنی استعمال ہوئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شخص کو کہیں صرف رسول کہا گیا ہے اور کہیں صرف نبی اور کہیں اسے رسول اور نبی دونوں لفظوں کے ساتھ یاد کیا گیا ہے۔ لیکن بعض مقامات پر رسول اور نبی کے الفاظ کا اطلاق اس طرح کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے معنی میں فرق ہے۔ مثلاً سورة حج کے رکوع 7 میں فرمایا گیا ہے : وَمَااَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَلاَ نَبِیٍّ ” ہم نے تم سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نہ کوئی نبی۔ “ اس استعمال سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی اور رسول دو الگ الگ اصلاحیں ہیں۔ چناچہ اسی باعث اہل تفسیر میں ان دونوں لفظوں کے معنی اور مفہوم کے تعین میں اختلاف ہوا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ نبی کو اللہ تعالیٰ کسی بھی قوم کی اصلاح کے لیے بھیجتا ہے لیکن اس پر کتاب نازل نہیں کرتا، وہ پہلی کتاب سے استفادہ کرتا ہے اور اگر کہیں اس میں ترمیم یا تحریف ہوئی ہے تو اس پر چونکہ وحی اترتی ہے اس لیے وہ اس وحی کی روشنی میں اس کی اصلاح کرتا ہے اور رسول وہ ہوتا ہے جس پر کوئی کتاب اتری ہو، کوئی نئی شریعت نازل ہوئی ہو اور قرآن کریم میں تدبر کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول ان جلیل القدر ہستیوں کے لیے بولا گیا ہے جن کو عام انبیاء کی بہ نسبت زیادہ اہم منصب سپرد کیا جاتا ہے۔ کچھ مفسرین یہ کہتے ہیں کہ رسول کے آنے سے حجت تمام ہوجاتی ہے۔ جس قوم کی طرف اس کی بعثت ہوتی ہے، اگر وہ قوم اسے قبول نہیں کرتی بلکہ اس کی جان لینے کے درپے ہوجاتی ہے تو اسے ہجرت پر مجبور ہونا پڑتا ہے تو حجت کی تمام ہوجانے کے باعث ایسی قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے۔ ان تمام احتمالات میں اتنی بات تو ثابت معلوم ہوتی ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہے اور رسول خاص ہے اور نبی عام اور اسی لحاظ سے دونوں کے مرتبہ و مقام اور ذمہ داریوں کی نوعیت میں بھی فرق ہوگا، کیونکہ حاکم نے حضرت ابوذر ( رض) سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے 313 یا 315 بتائی۔ اور انبیاء کی تعداد پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے ایک لاکھ 24 ہزار بتائی۔ اس حدیث کی سندیں اگرچہ ضعیف ہیں مگر ایک سند دوسری سند کے لیے تقویت کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح بڑی حد تک ضعف دور ہوجاتا ہے۔ رہے دوسرے احتمالات ان پر کوئی واضح دلیل نہیں۔