Ayahs 19:81–82وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَہُمْ عِزًّا۔ کَلَّاط سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًّا۔ (مریم : 81، 82)
(اور انھوں نے اللہ کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے پشت پناہ بنیں۔ ہرگز نہیں، وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے دشمن ہوجائیں گے۔ )
مشرکین کا معبودانِ باطل پر اعتماد
مشرکین نے قیامت کے بارے میں جو غلط تصورات بنا رکھے تھے اور اسی طرح دنیوی مشکلات پر قابو پانے کے لیے جو سہارے تراش رکھے تھے ان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے علاوہ کچھ اور بھی معبود بنا رکھے ہیں جن کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ ہمارے لیے قوت کا ذریعہ اور طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ ” عِزًّا “ طا قت اور قوت کو کہتے ہیں بلکہ ایسی طاقت جو ضرورت اور مشکل کے وقت پشت پناہی اور پشتیبانی کا فرض انجام دے کیونکہ آدمی ہر مشکل وقت میں کسی ایسے سہارے کی تلاش میں ہوتا ہے جس سے وہ ٹیک لگا سکے اور اس سے قوت حاصل کرسکے۔
مشرکین کے زعم باطل کا رد
مشرکینِ عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے تھے اور ان کا گمان یہ تھا کہ یہ بیٹیاں اپنے باپ کو مجبور کرکے ہماری مشکلات کو حل کرتی ہیں اور ان کی وجہ سے ہمارے رزق کی تنگی دور ہوتی ہے اور اگر ہمیں قیامت سے واسطہ پڑا تو یہی بیٹیاں اپنے باپ کو مجبور کرکے ہمیں عذاب سے بچا لیں گی۔ اور مشرکین کے دوسرے طبقوں نے اسی قسم کے اور بہت سے معبود بنا رکھے تھے جنھیں وہ اپنے لیے سہارا سمجھتے تھے۔ لیکن پروردگار فرماتا ہے کہ ان نادانوں کو یہ علم نہیں کہ قیامت کے دن وہ یہ تسلیم کرنے سے انکار کردیں گے کہ ہم نے ان کو اجازت دی تھی کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنائیں اور ہمیں اپنی مشکلات میں معاون اور مددگار سمجھیں بلکہ قرآن کریم میں متعدد مواقع پر یہ منظر دکھایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ بڑے لوگ جن کے اعتماد پر لوگوں نے شرک کیا ہوگا اور ان کی پیروی کی ہوگی جب وہ انھیں دیکھیں گے تو چیخ اٹھیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں دنیا میں گمراہ کیا اور ہمیں یقین دلایا تھا کہ ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ آج انھیں گرفتار کیا جائے اور دگنا عذاب دیا جائے۔ لیکن وہ صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے تمہیں کب کہا تھا کہ تم ہمارے پیروی کرو۔ تم نے اگر اپنے طور سے ہماری پیروی کی ہے تو اس میں ہماری کیا ذمہ داری ہے۔ اور وہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں اس طرح کا رویہ اختیار کریں گے کہ وہ گویا ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور جنھیں لوگ اپنا پشتیبان سمجھتے تھے وہ ان کی دشمنی پر اتر آئیں گے اور صاف صاف براءت کا اظہار ہی نہیں کریں گے بلکہ ان پر برہمی کا اظہار بھی کریں گے۔
Ayahs 19:83–84اَلَمْ تَرَ اَنَّـآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تُؤْزُّھُمْ اَزًّا۔ فَلاَ تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ ط اِنَّمَا نَعُدُّلَھُمْ عَدًّا۔ (مریم : 83، 84)
(کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیاطین کو چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں خوب خوب برانگیختہ کررہے ہیں۔ تو آپ ان کے فیصلے کے لیے جلدی نہ کریں، ہم ان کے لیے اچھی طرح گنتی کررہے ہیں۔ )
اَرْسَلْنَا کا مفہوم
اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ کا معنی امام رازی، علامہ قرطبی اور علامہ آلوسی کے نزدیک یہ ہے کہ ہم نے شیاطین کو کافروں پر مسلط کردیا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اَرْسَلْنَا تسلیط کے معنی کو متضمن ہے۔
بعض اہل لغت کے نزدیک عرب جب اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہیں ” ارسل الکلب علی الصید “ تو اس کے معنی ہوتے ہیں ” کتے کو شکار پر چھوڑ دیا “ اس آیت کریمہ میں بھی اسی اسلوب پر یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے ” کہ ہم نے ان کافروں پر شیاطین کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ جتنا انھیں دعوت حق کیخلاف اکسا سکتے ہیں اکسا لیں۔ “
اَزَّ یَـؤُزُّ کا مفہوم
اَزًّا … اَزَّ یَـؤُزُکا معنی ہے برانگیختہ کرنا، بھڑکانا اور اکسانا۔ عربی لغت میں اَزَّ ، ھَزَّ ، فَزَّ ، حَضَّسب ایک معنی میں بولے جاتے ہیں۔ البتہ خفت و شدت اور کمی و زیادتی کے لحاظ سے ان میں باہمی فرق ہے۔ اَزَّ کے معنی میں سب سے زیادہ شدت پائی جاتی ہے۔
سنت اللہ
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حق و باطل میں کشمکش اپنے عروج کو چھو رہی تھی۔ کفار ہر ممکن طریقے سے دعوت اسلامی کا خاتمہ کردینا چاہتے تھے اور آئے دن مخالفت اور اذیت کے نئے سے نئے طریقے ایجاد کیے جارہے تھے۔ ایسے میں نبی کریم ﷺ اور مظلوم مسلمانوں کی نگاہیں بار بار آسمانوں کی طرف اٹھتی تھیں اور وہ اپنی بےبسی کے حوالے سے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نصرت و رحمت کے منتظر تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جب اندھیرا شدید ہوجاتا ہے تو سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی انسانی فطرت کے تقاضوں کے مطابق انھیں پریشانی بھی لاحق ہونے لگتی تھی۔ چناچہ اس پوری صورتحال میں بعض حکمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے یہ خلاف توقع نہیں۔ حق و باطل کی کشمکش میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب مخالفین اور معاندین ہر ممکن طریقے سے اللہ تعالیٰ کے رسول کا راستہ روکنے اور اس عظیم نعمت کی ناشکری کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ وہ انھیں اس بات سے روک دے بلکہ وہ مخالفت کے اسباب میں مزید اضافہ کردیتا ہے اور ان کی قبولیت کے سوتوں کو بالکل خشک کردیتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِالرَّحٰمَنِ نُقَیِّضْ لَـہٗ شَیْطْانًا فَھُوَلَـہٗ قَرِیْنٌ (زخرف آیت 36) ” جو شخص رحمن کے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس پر شیطان مسلط کردیتے ہیں، پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ “ ان لوگوں نے چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت سے نہ صرف اعراض کیا بلکہ اس کی مخالفت کی انتہا کردی ہے، تو اب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعراض کو مزید پختہ کرنے کے لیے ان پر شیاطین چھوڑ دیئے ہیں۔ ان کا کام شب و روز یہ ہے کہ وہ انھیں زیادہ سے زیادہ اسلام دشمنی پر اکساتے ہیں۔ اگر کبھی ان کی مصلحتیں آڑے آنے لگتی ہیں تو یہ انھیں اور بھڑکاتے ہیں تاکہ یہ لوگ اسلام دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔
تاریخ کے گہرے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا مذکورہ بالا قانون اللہ تعالیٰ کے رسول جیسی عظیم نعمت کی ناقدری کرنے پر حرکت میں آتا ہے اسی طرح مسلمانوں میں بھی اس وقت حرکت میں آتا ہے جب وہ اسلام کی نعمت عظمیٰ کی ناقدری کرتے ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک میں اللہ تعالیٰ کے قانون کو نافذ کریں، لیکن وہ بجائے نافذ کرنے کے اس کو زندگی کے ایک ایک دائرے سے خارج کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ تو شروع شروع میں تو اللہ تعالیٰ انھیں مختلف تنبیہات سے متنبہ فرماتا ہے، لیکن جب وہ راہ ِراست پر نہیں آتے تو پھر اس ملک کے رہنے والوں کی اکثریت کو اسلام کے حقیقی تصور سے بیگانہ کردیتا ہے اور اسلام کے مخلص اہل علم کی کاوشیں ان کے لیے بیکار ثابت ہونے لگتی ہیں۔ وہ اسلام کو ازکاررفتہ دین سمجھنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں بھی (اللہ تعالیٰ معاف کرے) ایسی ہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کے مجبور و مہجور مسلمانوں کو محض اپنے فضل و کرم سے پاکستان جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور ایک خونخوار اور منہ زور اکثریت سے انھیں محفوظ فرمایا۔ انگریزوں اور ہندوئوں کی تمام تر سازشوں کے باوجود یہ ملک وجود میں آگیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اس وعدے اور نعرے کی لاج رکھی کہ پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ۔ اور ان کے لیڈرانِ کرام کے اس وعدے کو آزمائش کے طور پر قبول کرلیا کہ ہم پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے تاکہ اس تجربے کی کامیابی کو دیکھ کر پوری دنیا اسلام کی طرف مائل ہونے پر مجبور ہوجائے۔ لیکن پاکستان بنتے ہی جس طرح ان وعدوں کی مٹی پلید کی گئی اور آہستہ آہستہ اس ملک کا ایک ایک ادارہ اسلام سے آزاد ہوتا گیا، اس کا شاید نتیجہ ہے کہ آج ملک کی اکثریت اسلامی قانون کے نفاذ کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ تعلیمی اداروں سے نکلنے والے اسے بےوقت کی راگنی سمجھتے ہیں۔ ملک میں ابھی تک مخلص اور نیک لوگوں کا ایک طبقہ موجود ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے اپنی ہمت سے بڑھ کر مساعی بروئے کار لا رہا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون شاید نافذ ہوچکا ہے کہ شیاطین کو اکثریت پر مسلط کردیا گیا ہے۔ شاید اسی کا اثر ہے کہ ان پر اسلام کے لیے کی جانے والی کاوشوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا۔ اللہ تعالیٰ کرے میرا یہ احساس غلط ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی صورتحال سے محفوظ رکھے۔
فَلاَ تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ …متذکرہ بالا صورتحال میں نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں کی قوت مدافعت کو دیکھتے ہوئے بار بار اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نصرت کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ سے یہ کہا جارہا ہے کہ ان مخالفین کے خلاف جو فیصلہ ہونے والا ہے آپ ﷺ اس میں جلدی نہ کریں۔ آپ تسکین اور اطمینان رکھیں کیونکہ ان کی مخالفت جتنی شدت اختیار کرتی جارہی ہے اتنی ہی وہ اپنی مصیبت کو قریب لا رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو شاید ہراساں کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور وہ دعوت اسلامی کا کام چھوڑ دیں گے، لیکن انھیں یہ معلوم نہیں کہ ان کی یہ حرکتیں ان کی بربادی کو ان کے قریب کر رہی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے مزید کہا جارہا ہے کہ ہم ان کے ایک ایک لمحے کو شمار کررہے ہیں۔ گھڑی کی سوئی اپنے آخری نقطہ پر پہنچنے والی ہے۔ پس جیسے ہی ان کی مہلت عمل ختم ہوگی، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ان پر مسلط ہوجائے گا اور وہ اپنی مخالفت اور اسلام دشمنی کی پاداش میں اپنے بدترین انجام کو پہنچ جائیں گے۔
Ayahs 19:85–86یَوْمَ نَخْشُرُالْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا۔ وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وِرْدًا۔
(مریم : 85، 86)
(یاد کرو جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے۔ اور مجرموں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے۔ )
وَفْدًا کا معنی
وَفْدًا… وَفَدَ وَفْدًا کے معنی ہیں کہیں عزت و احترام کے ساتھ جانا، جس طرح سفیر اور قاصد بادشاہ اور امیر کے پاس جاتے ہیں۔ مختار الصحاح کے مطابق وفد ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بادشاہوں کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ المفردات میں بھی یہی لکھا گیا ہے۔
وِرْدًا کا معنی
وِرْدًا … وَرَدَیَرِدُ سے اسم ہے، اس کے معنی گھاٹ پر اترنے کے ہیں، جس طرح پیاسے اونٹ گھاٹ پر جاتے ہیں۔ ورد کا اصل معنی یقینا پانی کا قصد کرنا ہے۔ لیکن ابن عرفہ نے کہا ورد اس قوم کو کہتے ہیں جو پانی پر جاتی ہے۔ اس لیے جو لوگ پانی کی طلب میں پانی پر جاتے ہیں ان کو بھی ورد کہتے ہیں اور یہ بات بھی واضح ہے کہ جو آدمی یا جانور پانی پر جاتا ہے وہ پیاس ہی کے وقت جاتا ہے۔ اس لییورد کا ترجمہ پیاسا بھی کیا جاتا ہے۔
قیامت کے روز مومنوں اور کفار سے ہونے والا سلوک
کفار اور مشرکین کی چیرہ دستیوں اور حد سے بڑھے ہوئے کفر پر اصرار کے ذکر اور مسلمانوں کو ایسی ناگفتہ بہ اور ناقابلِ برداشت صورتحال پر تسلی دینے کے بعد اب ان دنوں گروہوں کے ساتھ قیامت کے دن جو سلوک ہونے والا ہے اسے بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور ہر طرف سے منہ موڑ کر اسی کے راستے پر چلنے والے اور اسی پر سب کچھ قربان کرنے والے ہیں کیونکہ دنیا میں سب سے بڑا دکھ اور اپنے عہد وفا کی پاسداری کی سب سے بڑی سزا انھوں نے ہی کفار کے ہاتھوں اٹھائی ہے اور کفار نے صرف ان کو جسمانی اذیتیں ہی نہیں پہنچائیں بلکہ بار بار ان کی غربت اور بےبسی کے طعنوں سے ان کے شیشہ دل کو مجروح کیا اور ان کی عزت نفس پامال کی ہے۔ اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ آج تم جن لوگوں کو حقیر سمجھتے ہو، قیامت کے دن ہم انھیں لوگوں کو اس طرح اپنے حضور بلائیں گے جیسے بادشاہوں کے یہاں معزز مہمان جایا کرتے ہیں۔ مہمان کے اکرام کا حکم ہر چھوٹے بڑے مومن کو دیا گیا ہے۔ اس لیے ہر سطح کا مسلمان اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنے مہمان کی تواضع کرتا ہے۔ کیا کہنے ہیں اس مہمان کے جو خالق کائنات اور شہنشاہِ ارض و سما کا مہمان ہو۔ اس کی جیسی کچھ آئوبھگت ہوگی اور جیسی کچھ عزت افزائی کی جائے گی اور جس طرح اس پر نعمتیں نچھاور ہوں گی، اس دنیا میں تو اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔ البتہ اس کے ذکر سے جو ایک سرشاری کی کیفیت اور مسرت و شادمانی کی لہر دل میں اٹھتی ہے وہ بھی مسلمان کا بہت بڑا سرمایہ ہے۔ اس کے بعد کفار کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اپنے آپ کو اس دنیا کی عزتوں کا مالک سمجھتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ اس دنیا کی نیک نامیاں اور عزت افزائیاں شاید انھیں کے گھر کی لونڈی ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ ہم انھیں قیامت کے دن اس طرح لائیں گے کہ فرشتے انھیں جہنم کی طرف ہانک رہے ہوں گے اور ان کی حالت ایک پیاسے اونٹ کی ہوگی جو پیاس سے بیتاب ہو کر پانی کی طرف دیوانہ وار بڑھتا ہے لیکن بجائے پانی ملنے کے جہنم کی آگ اس کا استقبال کرتی ہے۔ کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت ان کی بےسروسامانی اور بےبسی کا عالم کیا ہوگا۔ وہ پانی کے ایک ایک گھونٹ کو ترس رہے ہوں گے اور آگ کے شعلے ان کی پیاس کی شدت کو اور بھڑکا رہے ہوں گے۔
Ayah 19:87لاَ یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَۃَ اِلاَّ مَنِ اتَّخَذَعِنْدَالرَّحْمٰنِ عَھْدًا۔ (مریم : 78)
(لوگ شفاعت و سفارش کا اختیار نہیں رکھتے مگر جس نے لے لیا ہے رحمن سے وعدہ۔ )
عَھْدًا کا مفہوم
قیامت کے دن کفار اور مشرکین جب جہنم کی طرف ہانکے جارہے ہوں گے اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہوگا تو وہ شدید تمنا کریں گے کہ کاش آج ہمیں کوئی بچانے والا ہوتا۔ وہ جن فرشتوں اور جنات کو اس لیے پکارتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتے رہے کہ وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کریں گے، وہ دیکھیں گے آج ان کی کوئی سفارش کرنے کی جرأت نہیں کررہا، کیونکہ آج اگر کسی کے حق میں شفاعت ہوسکتی ہے تو وہ، وہ شخص ہے جس نے رحمن سے کوئی عہد لے لیا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی سفارش کی جرأت کرسکتا ہے تو وہ بھی وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے عہد لے لیا ہے۔ کیونکہ اتَّخَذ کے لفظ میں یہ دونوں مفہوم شامل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا ہے۔ اس کے بارے میں امام ابن جریر نے کہا کہ عہد سے مراد اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کے رسول کی تصدیق کرنا اور رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے پاس سے جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس کا اقرار کرنا اور جو کچھ آپ ﷺ نے حکم دیا، اس پر عمل کرنا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے صحابہ ( رض) سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا، کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر صبح اور شام اللہ تعالیٰ سے عہد لے۔ صحابہ ( رض) نے پوچھا، یارسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ہر صبح و شام کو یہ کہے ” اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور شہادت کو جاننے والے، میں تیری طرف اس دنیا کی زندگی میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میں یہ شہادت دوں گا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، تو واحد ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں اور بیشک محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو مجھے میرے نفس کی طرف نہ سونپ دینا، کیونکہ اگر تو نے مجھے میرے نفس کی طرف سونپ دیا تو وہ مجھے خیر سے دور اور شر کے قریب کر دے گا اور میں تیری رحمت کے سوا اور کسی چیز پر اعتماد نہیں کرتا۔ تو میرے لیے اپنے پاس عہد کرلے جس کو تو قیامت کے دن پورا کرے گا، بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ “ پس جب وہ یہ کلمات پڑھ لے گا تو اللہ تعالیٰ ان کلمات پر مہر لگا کر ان کو عرش کے نیچے رکھ دے گا اور جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی یہ ندا کرے گا، کہاں ہیں وہ لوگ جن کا اللہ تعالیٰ کے پاس عہد ہے۔ پھر وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
(المعجم الکبیر رقم الحدیث 8917، المستدرک رقم الحدیث 3418)
شفاعت کا مفہوم
شفاعت سے متعلق قرآن و سنت سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ شفاعت کا مقام انبیائے کرام، شہدائے عظام، اولیائے امت اور چھوٹی عمر میں انتقال کرجانے والے اور نیک لوگوں کو نصیب ہوگا۔ شفاعتِ کبریٰ پر صرف نبی کریم ﷺ فائز ہوں گے۔
شفاعت کے لیے کوئی شخص بھی پیش قدمی نہیں کرسکے گا، صرف وہ شخص شفاعت کرے گا جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملے گی۔
اسی طرح شفاعت ان کے لیے کی جائے گی جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت عنایت ہوگی۔
قرآن و سنت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت کی اجازت ان لوگوں کے لیے دی جائے گی جنھوں نے زندگی ایمان کے ساتھ اور شرعی احکام کے مطابق گزاری ہوگی۔ اس کے باوجود ان سے جو کو تاہیاں رہ جائیں گی اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ان کی بخشش کے لیے اپنے بندوں میں سے کسی کو شفاعت کی اجازت مرحمت فرمائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو محض اس لیے شریعت کے احکام کو پامال کرتے اور بدعملی کو اپنا رویہ بنا لیتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمیں رسول اللہ ﷺ یا اولیائے کرام کی شفاعت میسر آئے گی اور ہم ان تمام کمزوریوں کی سزا سے بچ جائیں گے۔ فرائض اور حقوق کی بازپرس ساقط ہوجائے گی اور محض شفاعت کے باعث ہمیں جنت میں بھیج دیا جائے گا اور کبھی یہ سہارا انھیں اللہ تعالیٰ سے بغاوت پر اکساتا اور جرأ ت دیتا ہے۔ ایسے لوگ یقینا کسی بھی اللہ تعالیٰ کے نیک بندے کی شفاعت کی عزت نہیں پاسکیں گے۔
Ayah 19:88وَقَالُوا اتَّخَذَالرَّحْمٰنُ وَلَدًا۔ (مریم : 88)
( اور وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے اولاد بنا رکھی ہے۔ )
انسان کی کمزوری
انسان کی ہمیشہ سے یہ کمزوری رہی ہے کہ وہ ہر ایسی بات کو قبول کرنے سے پہلوتہی کرتا رہا ہے جس سے اس کی زندگی میں صالح تبدیلی کا راستہ کھلتا ہو۔ انسان کو ہمیشہ اپنی خواہشات کی پیروی میں زندگی گزارنا محبوب معلوم ہوتا ہے اور ایسے راستے پر چلنا جس میں ایمان و کردار کی پختگی اور ایثار و قربانی کا رویہ اختیار کرنا پڑے بوجھل معلوم ہوتا ہے۔ وہ حیوانوں کی طرح یہ چاہتا ہے کہ میں زندگی اس طرح گزاروں جس طرح میرا نفس چاہتا ہے اور جس میں میرے سفلی جذبات کو تسکین ملتی ہے۔ لیکن جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہر دور کے اچھے اور سچے انسان ہمیشہ ایک ایسی روش کی طرف بلاتے رہے ہیں جس میں اپنی بہت ساری مرضیات کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی مرضی کو اختیار کرنا پڑتا ہے، تو بجائے اس کے کہ وہ اس بات کو اختیار کرلے یا بالکل انکار کردے وہ بیچ کا راستہ اختیار کرتا ہے کہ جس سے ان سچے لوگوں کی دی ہوئی صداقتوں سے یکسر منہ پھیرنے کی نوبت بھی نہ آئے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین کا سامان بھی ہوتا رہے۔ چناچہ اس نے ہمیشہ اس کے لیے کبھی شفاعتِ باطلہ کا راستہ نکالا جس کی تردید گزشتہ آیت کریمہ میں ہوچکی ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کی تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی بازپرس اور اس کے عتاب سے بچا جاسکے۔ چناچہ انسان کی اسی کمزوری اور سہولت پسندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے رحمن کے لیے اولاد کا تصور اختراع کیا ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ رحمن دنیا کا نظام اکیلا کیسے چلا سکتا تھا اس نے اپنی مدد کے لیے اپنی اولاد بھی بنا رکھی ہے۔ چناچہ یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنایا اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور اس کی قدرت میں شریک ٹھہرایا اور مشرکینِ عرب نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا۔
ولد کا معنی
یہ بات یاد رہے کہ ولد کا لفظ واحد جمع مذکر مونث سب کے لیے آتا ہے۔ اس لیے اس کا معنی صرف بیٹا نہیں بلکہ اولاد ہے۔ چناچہ اس آیت کریمہ کے مفہوم میں جس طرح اہل کتاب کے بنائے ہوئے بیٹوں کا ذکر ہے اسی طرح مشرکینِ عرب کے عقیدے کے مطابق بیٹیوں کا ذکر بھی ہے۔ ان تمام قوموں نے اپنی بداعمالیوں اور بداطواریوں سے بچنے کے لیے ایک شارٹ کٹ نکالا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بنا ڈالی اور اپنے تئیں یہ سمجھ کر مطمئن ہوگئے کہ اولاً تو خدا کے سامنے حاضری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر بفرض محال حاضری ہوئی بھی تو اللہ تعالیٰ کی اولاد ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لے گی۔
Ayahs 19:89–91لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا۔ تَکَادُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَحِزُّالْجِبَالُ ھَدًّا۔ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ (مریم : 89، 90، 91)
(یقینا تم نے ایک سخت معیوب بات کہی ہے۔ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑے اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ دھماکے کے ساتھ گرپڑیں۔ کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ رحمن کا ایک بیٹا ہے۔ )
اِدًّا … اَی مُنْکَرًا عَظِیْمًا یعنی سخت معیوب اور قبیح چیز۔ جوہری نے کہا الادَّم والادَّۃ۔ الدَّاھِیَۃُ وَالْاَمْرُالْفَظِیْعُ (قرطبی)
ھَدًّا … اس کا معنی کسی دیوار وغیرہ کے دھماکے کے ساتھ گرنے کے ہیں۔
اسلوبِ کلام کی تبدیلی
پہلی آیت میں سب سے پہلی بات جو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ اسلوبِ کلام کی تبدیلی ہے۔ سابقہ آیت کریمہ میں بات غائب کے صیغے سے کہی گئی ہے اور اس آیت میں صیغہ خطاب استعمال ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے تو گمراہ اور مشرک قوموں کے طرز عمل کا ذکر فرماتے ہوئے یہ فرمایا کہ ان بدبختوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بنا رکھی ہے اور اس کا انتساب پروردگار کی طرف کیا جارہا ہے۔ ایک تو یہ دریدہ دہنی کے ساتھ ساتھ حد سے بڑھی ہوئی جسارت ہے کہ اپنی گمراہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے اور دوسرا ان کی گمراہیوں کا اصل سبب ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسی باتوں کا تذکرہ بھی نہایت پر جلال انداز میں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے نہایت مثبت اور پرسکون انداز میں ان کی گمراہی کا تذکرہ کیا۔ لیکن پھر یکلخت شدت غضب میں جن لوگوں کا غائب سے تذکرہ کیا جارہا تھا ان سے خطاب کرکے فرمایا کہ بدبختو، تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی جو نسبت کی ہے یہ کتنی بڑی بات ہے۔ اس سے زیادہ مکروہ، معیوب اور بےہودہ بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ یہ تو اتنی بڑی بات ہے کہ تم انسانوں کو تو شاید اس کا اندازہ نہیں لیکن باقی کائنات کے لیے تو اس بات کا برداشت کرنا آسان نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ انھیں اسے برداشت کرنے کا حکم نہ دیتا اور پھر ساتھ ہی اس کی طاقت عطا نہ کرتا تو قریب تھا کہ آسمان پھٹ جاتے، زمین شق ہوجاتی اور پہاڑ ایک دھماکے سے گرجاتے جبکہ انسان کے دل کا پھٹ جانا اور اس پر موت واقع ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ لیکن زمین و آسمان کا پھٹ جانا اور پہاڑوں کا گر جانا ایک بہت بڑی بات ہے۔ لیکن پروردگار فرماتے ہیں کہ یہ ساری مخلوقات چونکہ ہمارے حکم کے تابع ہیں اس لیے انھوں نے جیسے کیسے اس ظلم کو برداشت کیا، ورنہ ان پر جو گزری ہے اس کا نتیجہ لازماً یہی ہونا چاہیے تھا کہ وہ اپنی حیثیتِ عرفی کھو دیتے۔ ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ یہ اندازِ بیان سراسر مجاز ہے، محاوراتی انداز میں یہ بات کہہ دی گئی ہے ورنہ حقیقت میں زمین و آسمان کا پھٹنا مراد نہیں۔ اس لیے کہ زمین، آسمان اور پہاڑ یہ سب ازقسمِ جمادات ہیں جن میں نہ روح ہے نہ شعور۔ تو ان کا صدمے سے پھٹ جانے کا کیا معنی ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندر روح یا شعور ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیسا ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ لیکن قرآن و سنت سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ چٹانیں اللہ تعالیٰ کے خوف سے پھٹ جاتی ہیں اور بعض دفعہ بڑے بڑے پتھر اللہ تعالیٰ کے خوف سے لڑھک جاتے ہیں۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کے جلال و جمال سے تأثر ضرور رکھا گیا ہے۔ وہ پروردگار کی عظمت و جلال کا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس لیے یہ بات قرین قیاس ہے کہ جس پروردگار کو وہ خالق کائنات، مالک ارض و سما اور مدبر کائنات سمجھتے ہیں اس کے بارے میں وہ یہ ہر زہ سرائی کیسے گوارا کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد بھی ہے جو یقینا اس کی شریک وسہیم بھی ہوگی کیونکہ یہ تصور اس کے قدیم و ازلی اور حیی قیوم ہونے کے سراسر خلاف ہے۔ مزیدبرآں یہ بھی کہ پدری و فرزندی کا رشتہ حدوث و احتیاج کا لازمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفاتِ قدیمہ اور قائمہ کی ضد ہے۔
اللہ تعالیٰ کی غیرت کو چیلنج
اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کو ہمسر اور کفو قرار دینا اس کی یکتائی کو بٹہ لگانا اور اللہ تعالیٰ کی غیرت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ اور یہ بات سامنے کی ہے کہ جس بات پر اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑکتی ہے اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کی دیگر مخلوقات کی غیرت بھی اس پر جوش میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حلم اور اس کی بردباری اس کے غضب اور جلال پر غالب آجاتی ہے تو کفار اور مشرک بسا اوقات دنیا میں اس کے غضب سے بچے رہتے ہیں۔ لیکن اس کی مخلوقات بالخصوص زمین و آسمان اور پہاڑ یقینا اپنے اوپر وہ قابو نہیں رکھتے۔ اس لیے قریب ہے کہ وہ ایسی باتوں پر پھٹ جائیں اور گرجائیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم انھیں بےقابو نہیں ہونے دیتا بلکہ ان کی باگیں کھینچ کر رکھتا ہے۔ اس لیے وہ چاہتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کیخلاف کوئی اقدام نہیں کرسکتے۔
اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ اس آیت کریمہ میں مزید وضاحت فرما دی کہ زمین و آسمان اور پہاڑوں کے غیض و غضب کو پروردگار نے جو بیان فرمایا ہے اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر اولاد کی تہمت لگائی ہے اور اسی سے یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے لیے اولاد ثابت کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ اسی وجہ سے اس نے باردگر اس کو کھول کر بیان فرمایا ہے۔
Ayah 19:92وَمَا یَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا۔ (مریم : 92)
(اور یہ بات خدا کے شایاں نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنا لے۔ )
ایک آسان دلیل
اس آیت کریمہ میں نہایت سہل انداز میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے حوالے سے ان گمراہ لوگوں کی تردید فرمائی گئی ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا رکھی ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت کیا ہے ؟ اولاد کی ضرورت کسی نہ کسی احتیاج کے وقت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے پاک ہے یا یہ خواہش ہوتی ہے کہ میری اولاد بڑھاپے میں میری لاٹھی بنے۔ اللہ تعالیٰ پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔ کبھی یہ سوچا جاتا ہے کہ بعد میں میرا نام لینے والا کون ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ پر کبھی موت طاری نہیں ہوگی کہ کبھی ایسا زمانہ آئے جب وہ نہ ہو، کبھی اپنے کاموں کی بجاآوری میں کسی شریک اور معاون کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کیونکہ اکیلے وہ کام کیے نہیں جاسکتے اور اللہ تعالیٰ کو ایسی کوئی ضرورت لاحق نہیں کیونکہ وہ پوری کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے یکہ اور تنہا کافی ہے۔ یہی کچھ احتیاجات ہیں جو کسی کو اپنے جانشین کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات حیی وقیوم ہے، قدیم، ازلی اور ابدی ہے۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو ” کن “ کہتا ہے تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے، تو اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ اپنی اولاد بنائے جو سراسر اس کی ذات کے لیے ایک دھبے کے سوا کچھ نہیں۔
ایک نکتہ
ان آیات میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے رحمن کا اسم گرامی بار بار استعمال ہوا ہے۔ حقیقت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نام کے لانے سے عیسائیوں کے عقیدہ ” کفارہ “ کا ابطال مقصود ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان چونکہ پیدائشی طور پر گنہگار پیدا ہوتا ہے، اس کے گناہوں کی بخشش کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو اپنا بیٹا بنایا اور اسے انسانوں کے گناہوں کے کفارے کے لیے سولی پر چڑھایا گیا۔ اس طرح انسان کی نجات کا ایک راستہ نکلا۔ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ رحمن ہے تو اسے گنہگار انسانوں کو بخشنے کے لیے اس امر کی حاجت نہیں کہ اس کا ایک بیٹا ہو اور اس معصوم اور بےگناہ کو دنیا بھر کے بدکاروں اور سیاہ کاروں کی پاداش میں سولی چڑھایا جائے۔ وہ رحمن ہے، اس کی رحمت کا دامن بڑا وسیع ہے۔ لوگوں کی بخشش کے لیے اس کی رحمت کافی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کی صفت رحمت کے ساتھ ساتھ چونکہ اس کی ایک صفت عدالت بھی ہے تو انسانوں کی فلاح و نجات کے لیے اس کی دونوں صفات کا ظہور ہوا ہے۔
Ayah 19:93اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا۔ (مریم : 93)
(آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدائے رحمن کے حضور بندے ہی کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔ )
اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ہونے کی ایک دلیل
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ہونے کی ایک اور عجیب دلیل بیان فرمائی گئی ہے، وہ یہ کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے حضور سب انسان حاضر ہوں گے تو ظاہر ہے کہ ان انسانوں میں مختلف مقام و مرتبہ کے حامل لوگ ہوں گے۔ ان میں انبیائے کرام بھی ہوں گے، شہدائے عظام بھی، صدیقین بھی ہوں گے اور صالحین بھی۔ عباد و زہاد بھی ہوں اور فساق و فجار بھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور سب ایک ہی حیثیت میں حاضر ہوں گے، وہ حیثیت ہے ان کے بندہ ہونے کی۔ بندہ ہونے کی حیثیت سے سب برابر ہوں گے۔ البتہ اپنے کمالات میں فرق کی وجہ سے اجروثواب اور تقرب میں ضرور فرق سے نوازے جائیں گے۔ لیکن ان میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جس کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ وہ بلندیِ درجات کے باعث بندہ ہونے کی صفت سے نکل گیا ہے اور اب اس میں خدائی شان پیدا ہوگئی ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب خدائے رحمن کے حضور حاضر ہونے والے سب بندے ہوں گے تو پھر وہاں کوئی خدا کی اولاد کیسے ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بیٹا تو بندہ اور غلام نہیں ہوتا۔ وہ تو اپنے باپ کا جز اور سِّر ہوتا ہے اور جبکہ قیامت میں ہر شخص بندگی کی تصویر بنے اس کے حضور حاضر ہوگا۔
Ayahs 19:94–95لَقَدْ اَحْصٰہُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا۔ وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا۔ (مریم : 94، 95)
(اللہ تعالیٰ نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور اچھی طرح گن رکھا ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک اس کے حضور قیامت کے دن یکہ و تنہا حاضر ہوگا۔ )
بدگمانی کا ازالہ
کفار اور مشرکین کی بےبسی کو واضح کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جب کفار کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور لایا جائے گا تو یہ گمان نہ کیا جائے کہ یہ بےہنگم بھیڑ کی شکل میں لائے جائیں گے اور اس بات کا کوئی امکان ہوگا کہ ان میں سے کوئی اگر گھسکنا یا بھاگنا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے، نہیں۔ ان میں سے ہر شخص پوری طرح اللہ تعالیٰ کے حصار میں ہوگا۔ اس نے سب کا احاطہ کر رکھا ہوگا، کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ اپنی جگہ سے ادھر ادھر ہوسکے اور سب کو شمار کرکے لایا جائے گا اور ان کی نگرانی اتنی مکمل ہوگی کہ شمار و قطار میں کوئی کمی نہیں آسکے گی اور مزید یہ کہ آج جبکہ یہ اپنے جتھے بنائے بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہ اپنے جتھوں سمیت اٹھائے جائیں گے، ہرگز نہیں، یہ ہمارے حضور یکہ و تنہا لائے جائیں گے۔ نہ ان کی اولاد ان کے ساتھ ہوگی، نہ ان کے اعوان و انصار ان کے ہمراہ ہوں گے۔ نہ ان کے شرکاء و شفعاء کہیں دکھائی دیں گے۔ نفسی نفسی کا عالم ہوگا اور ہر شخص اپنی فکر میں غلطاں و پریشاں ہوگا۔
Ayah 19:96اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۔ (مریم : 96)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے عنقریب ان کے لیے خدائے رحمن مہر و محبت پیدا کردے گا۔ )
آیت کی وضاحت دو حوالوں سے
اس آیت کریمہ کی وضاحت دو حوالوں سے کی جاسکتی ہے اور اس عاجز کے خیال میں ان میں سے کوئی بھی غلط نہیں۔ ایک حوالہ تو یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ مسلمانوں کی معاشی بدحالی اور معاشرتی بےکسی کا مذاق اڑاتے ہوئے ہمیشہ مسلمانوں پر طنز توڑتے تھے اور جیسے ہی کوئی غریب مسلمان ان کے قریب سے گزرتا جس کا لباس بوسیدہ، جوتے دریدہ اور جسم فاقہ زدہ ہوتا تو عمائدینِ قریش اپنے ساتھیوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہتے کہ دیکھئے صاحب یہ لوگ ہیں جو قیصرو کسریٰ پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ انھیں زعم یہ ہے کہ ایک نہ ایک دن عجم ان کے سامنے جھک جائے گا اور عرب کے مالک ہوجائیں گے۔ اور کبھی یہ کہتے کہ ان بیچاروں کو دنیا میں پوچھتا کوئی نہیں۔ تو یہ اپنی محرومیوں کے مداوے کے لیے آخرت کی نعمتوں کے تذکرے سے اپنا دل بہلاتے رہتے ہیں۔ ان کے جواب میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ یہ حالت دیر تک رہنے والی نہیں ہے۔ تمہاری خوشحالیاں اور تمہاری سیادتیں عنقریب دم توڑنے والی ہیں اور یہ بےبس اور بےکس مسلمان بہت جلد لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے والے ہیں۔ ان کے اعمالِ صالحہ اور اخلاق حسنہ یقینا لوگوں میں نفوذ پیدا کریں گے اور جیسے ہی لوگوں کو ان کے قریب آنے کا موقع ملا تو انھیں اندازہ ہوجائے گا کہ اس دھرتی کا اصل سرمایہ تو یہی لوگ ہیں۔ ان کی خدا خوفی اور ان کا اخلاص ان کی دیانت و امانت اور انسانیت سے ان کی گہری ہمدردی بہت جلد لوگوں کو اپنی طرف کھینچے گی۔ آج کی تنی ہوئی گردنیں انشاء اللہ تعالیٰ ان کے اخلاق اور حقانیت کے سامنے جھکتی چلی جائیں گی۔ غلط پروپیگنڈا اور بدگمانیاں دیر تک اپنا اثر باقی نہیں رکھ سکتیں۔ جو آج مسلمانوں کو بےکسی اور بےبسی کی تصویر دیکھ رہے ہیں جب انھیں ان کے اندر کا انسان نظر آئے گا تو وہ محسوس کریں گے کہ یہ لوگ تو انسانیت کا چراغ اور اقدارِ انسانیت کی تصویر ہیں۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی بعثت مبارکہ کے انیس سال کے بعد عمرہ کرنے مکہ معظمہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کے ساتھ صرف پندرہ سو صحابہ کرام ( رض) تھے جو آپ ﷺ کی انیس سالہ انتھک مخلصانہ مساعی کا نتیجہ تھے۔ لیکن جب حدیبیہ کے معاہدے کے دو سال بعد آپ ﷺ نے مکہ پر یلغار کی تو آپ ﷺ کے ہمراہ دس ہزارنفوسِ قدسیہ تھے اور جب ایک ڈیڑھ سال کے بعد آپ ﷺ نے تبوک کا رخ کیا تو آپ ﷺ کی معیت میں تیس ہزار کا لشکر جرار تھا اور جب آپ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا تو آپ ﷺ کے سامنے تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہ کرام ( رض) حاضر تھے۔ یہ سب کچھ اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائی گئی پیشگوئی کی تعبیر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے ایسی مہر و محبت پیدا کی کہ وہ جدھر بھی گئے لوگوں نے ان کے سامنے آنکھیں بچھائیں۔ مفسدین نے اگرچہ فساد اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن سادہ دل عوام نے مسلمانوں کے سامنے دیدہ و دل فرشِ راہ کردیئے۔
دوسرا حوالہ یہ ہے کہ کافر آج مسلمانوں کی کسمپرسی اور بےبسی پر پھولے نہیں سماتے، لیکن انھیں معلوم نہیں کہ اس دنیا کی ایک دن صف لپیٹی جانے والی ہے، پھر سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے، وہاں کفار کے ساتھ جو گزرے گی گزشتہ آیات میں ہم اس کا تذکرہ پڑھ چکے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ جو عزت افزائی اور کرم فرمائی کا سلوک ہونے والا ہے وہ یہ کافر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ آج کے غریب اور بےکس کل کے تخت نشین ہوں گے۔ ان کے لیے خیرمقدمی ترانے گائے جائیں گے۔ ہر طرف سلام و تحیت کی آوازیں آئیں گی۔ اللہ رب العلمین کی طرف سے بھی ان کو سلام کہا جائے گا۔ خود اہل جنت بھی نہایت خوشی اور تشکر کے جذبات سے ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔ چاروں طرف مبارک سلامت کا شور ہوگا، تب کفار کو اندازہ ہوگا کہ ہم دنیا میں جنھیں کمزور اور ذلیل سمجھتے تھے۔ آج عزتیں انھیں کے قدموں پر نثار ہورہی ہیں۔
Ayah 19:97فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَبِہٖ قَوْمًا لُّدًّا۔ (مریم : 97)
(پس ہم نے اس قرآن کریم کو آپ ﷺ کی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو بشارت دیں اور جھگڑالو قوم کو انذار کریں۔ )
یَسَّرْنٰـہُ … میں ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے کیونکہ بِلِسَانِکَ اس پر قرینہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کے منصبی فرائض قرآن کریم نے شمار کیے ہیں ان میں پہلا فرض قرآن کریم لوگوں کو پڑھ کر سنانا ہے اور اس کی تبلیغ و دعوت دینی ہے۔ اور یہ کام زبان کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ تو اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب یہ کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کی زبان پر اس کو ہم نے آسان کردیا ہے جس کا پڑھ کے سنانا اور جس کی تبلیغ و دعوت آپ ﷺ پر فرض ہے تو یقینا اس سے مراد قرآن کریم کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔
تیسیر کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ ہم نے اس قرآن کریم کو آسان کردیا ہے۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ شاید قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے کسی غوروتدبر کی ضرورت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کو یقینا اللہ تعالیٰ نے آسان بنایا ہے۔ یعنی اس میں وہ پیچیدگیاں نہیں رکھیں جو عام طور پر ایسی کتاب میں ہوسکتی ہیں جس کا موضوع انسان ہو اور جو انسان کو ایک ضابطہ حیات مہیا کررہی ہو اور انسان کی قانونی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اس کی نفسیاتی، معاملاتی، اخلاقی، تمدنی، تہذیبی، ناسوتی، لاہوتی اور اخروی غرضیکہ انسان کی ہر ضرورت کو زیربحث لاتی، محاکمہ کرتی اور حرف آخر کہتی ہو۔ قرآن کریم نے ان میں سے ہر بات اس طرح کہی ہے کہ وہ انسانی فطرت کی آواز معلوم ہوتی ہے اور اتنے دلنشیں انداز میں کہی ہے کہ سننے والا اس سے اکتاہت محسوس کرنے کی بجائے اپنایت محسوس کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے بعض مباحث یقینا علماء کے سمجھنے کے ہیں۔ لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ عوام کو اس کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔ مزیدبرآں یہ بات بھی ہے کہ پروردگار نے قرآن کریم کو نصیحت کے لیے آسان قرار دیا ہے، ہر پہلو سے نہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ تیسیر کا وہ مفہوم نہیں جو تسہیل سے ذہن میں آتا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کی مراد، نصب العین اور مقصد کو سامنے رکھ کر تمام لوازم سے آراستہ کرکے نہایت موزوں اور سازگار بنایا جائے۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو تیسیر کے نقطہ نگاہ سے بھی قرآن کریم اپنی مثال آپ ہے۔ پھر اس تیسیر کا ایک پہلو یہ ہے کہ اسے عربی زبان میں اتارا گیا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کی زبان عربی تھی تاکہ اسے آپ ﷺ آسانی سے سمجھ سکیں اور اگر لوگ اسے سمجھنا چاہیں تو آپ ﷺ انھیں آسانی سے سمجھا سکیں اور مزید یہ کہ انسانی اصلاح کے دو ہی طریقے ہیں، ترغیب یا ترہیب۔ قرآن کریم میں ان دونوں طریقوں کے حوالے سے متقین کے لیے بشارتیں رکھی گئیں اور کافروں کو ان کے برے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے ایک تسلی بھی ہے کہ آپ ﷺ کی تمام تر کاوشوں کے باوجود اگر کچھ لوگ ایمان نہیں لاتے ہیں تو آپ ﷺ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ ﷺ کی ذمہ داری انھیں قائل کرنا اور جبراً صاحب ایمان بنانا نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کا کام تو یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں انھیں ان کی کامیابی اور کامرانی کی خوشخبری سنا دیں۔ اور جو لوگ آپ ﷺ کی بات قبول کرنے کی بجائے لڑتے جھگڑتے اور کج بحثی سے کام لیتے ہیں اور ہر وقت مخالفت پر تلے رہتے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خبردار کردیں۔
لُدًّا اَلَدُّکی جمع ہے۔ اَلَدُّ کا معنی جھگڑالو، ضدی اور ہٹ دھرم ہے۔ اہل عرب اپنی بدویت کی وجہ سے اکھڑ تو تھے ہی، اپنی امیت اور اَن پڑھ ہونے کی وجہ سے اپنے خیالات اور جاہلی طوراطوار میں بہت متعصب اور جامد تھے۔ اسی وجہ سے نہ وہ قرآن کریم کو سننے کے روادار ہوتے تھے، نہ حضرت نبی کریم ﷺ کی خیرخواہانہ تبلیغی مساعی ان پر اثرانداز ہوتی تھیں بلکہ وہ ہر ممکن طریقے سے آپ ﷺ کو پریشان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
Ayah 19:98وَکَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ط ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِکْزًا (مریم : 98)
(اور کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہم نے ہلاک کردیا، کیا آپ ان میں سے کسی کی (موجودگی) محسوس کرتے ہیں یا آپ ان کی بھنک سنتے ہیں ؟ )
کافروں کے انجام پر سابقہ امتوں سے استشہاد
اے پیغمبر ! آپ ﷺ کا کام تبشیر و انذار ہے۔ جو لوگ آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرکے آپ ﷺ کے راستے پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور پھر اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر کرتے ہیں تو آپ ﷺ انھیں وہ بشارتیں پہنچا دیجیے جو قرآن کریم نے ایسے لوگوں کے لیے دی ہیں یا ان کا آپ ﷺ کے دل پر نزول ہوتا رہتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو آپ ﷺ کی تبلیغی مساعی کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے اور آپ ﷺ کی ہمدردی اور اخلاص کو کوئی وزن دینے کے لیے تیار نہیں۔ اور آپ ﷺ جس طرح خون جگر پی پی کر اللہ تعالیٰ کا کلام انھیں سناتے اور سمجھاتے ہیں اور وہ اسے سننے کے بھی روادار نہیں تو آپ ﷺ کو ان کی روش سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہر دور میں ایسے لوگ گزرے ہیں جن میں کچھ راہ حق پر چلنے والے ہوتے ہیں اور کچھ اس راستے کے دشمن ہوتے ہیں۔ دشمنوں نے نہ اس سے پہلے آوازہ حق کو برداشت کیا ہے نہ وہ آج کریں گے۔ وہ پہلے بھی اپنے جرم کی پاداش میں تباہ ہوچکے ہیں۔ آج یہ لوگ بھی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پہلے جو لوگ ہلاک ہوچکے انھیں زمین کی مٹی کھا گئی تاریخ میں وہ عبرت کا نشان ہیں۔ آپ ﷺ اگر ان کے کھنڈرات میں گھومتے ہوئے ان کی بوباس کو محسوس کرنا چاہیں تو نہیں کرسکیں گے۔ وہ دنیا کے لیے فتنہ سامان قومیں تھیں، لیکن آج تاریخ میں ان کی بھنک بھی سنائی نہیں دیتی۔ یہی حال ان کا بھی ہونے والا ہے، لیکن نہ اس سے پہلے لوگوں نے کبھی تاریخ سے عبرت حاصل کی تھی اور نہ یہ لوگ کریں گے۔ آپ ﷺ انھیں ان کے انجام کے سپرد کردیں۔