19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsروح القرآن

Ayah 19:22

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پس حضرت مریم نے اس بچہ کا حمل اٹھا لیا اور وہ اس کو لے کر ایک دور کے مقام کو چلی گئیں۔

فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا۔ (مریم : 22) (پس حضرت مریم نے اس بچہ کا حمل اٹھا لیا اور وہ اس کو لے کر ایک دور کے مقام کو چلی گئیں۔ ) دُور کی جگہ سے مراد بیت اللحم ہے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک ماری اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حاملہ ہوگئیں، جب وہ پیٹ میں حمل کو محسوس کرنے لگیں تو اس خیال نے انھیں پریشان کردیا کہ آہستہ آہستہ یہ راز دوسروں پر بھی آشکارا ہونے لگے گا تو میں اس حجرے میں اعتکاف کی حالت میں محصور ہونے کے باوجود لوگوں کو کیسے مطمئن کرسکوں گی کہ یہ ایک راز الٰہی ہے اور اگر انھیں بتا بھی دوں تو اسے تسلیم کون کرے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ کہ میرے اپنے اور پرائے مجھ پر حملہ آور ہوں گے، طرح طرح کی الزام تراشیاں ہوں گی، لوگ میرا جینا دوبھر کردیں گے، میرے خاندان کے لیے میرا وجود ایک تہمت بن کر رہ جائے گا، لوگ کہیں گے کہ ایک نیک نام خاندان کی لڑکی جو بظاہر اعتکاف میں رہتی تھی لیکن اس کی سیرت ایسی گھنائونی تھی کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ ان باتوں کو سوچ کر حضرت مریم نے عافیت اسی میں سمجھی کہ یہاں سے نکل کر کسی دوردراز گوشے میں چلی جائے۔ قرآن کریم نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دور کا گوشہ کون سا تھا ؟ لیکن انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیت اللحم چلی گئی تھیں۔ یہاں ایک لمحہ رک کر اپنے ذہن سے پوچھئے کہ جب کوئی شادی شدہ لڑکی حاملہ ہوتی ہے اور وہ بھی شادی کے بعد پہلی دفعہ تو کیا وہ خوش ہونے کی بجائے اس طرح کی پریشانیوں میں گھر جاتی ہے اور وہ اندیشہ ہائے دور دراز کو محسوس کرکے اپنا گھر چھوڑ دیتی ہے، نہ اپنے میکے رہتی ہے اور نہ اپنے سسرال جاتی ہے۔ لیکن حضرت مریم کا یہ طرزعمل جس کی قرآن کریم تصویب کررہا ہے، کیا بتانے کے لیے کافی نہیں کہ آپ شادی شدہ نہ تھیں۔ یہ سب کچھ کنوارپن میں ہور ہا تھا اور اسی لیے آپ اپنی اس حالت کو چھپانا چاہتی تھیں۔ قَصِیٌّ … دور کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں مکان کی صفت واقع ہوا ہے اس لیے اس کا معنی دور جگہ ہوگا، یعنی ایسی جگہ جو حضرت مریم کا مامن بن سکے۔
Ayah 19:23

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پس لے آیا اس کو درد زِہ کھجور کے تنے کے پاس، اس وقت اس نے کہا کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور میں بھولی بسری ہوچکی ہوتی۔

فَاَجَآئَ ھَالْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ ج قَالَتْ یٰـلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا۔ (مریم : 23) (پس لے آیا اس کو درد زِہ کھجور کے تنے کے پاس، اس وقت اس نے کہا کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور میں بھولی بسری ہوچکی ہوتی۔ ) اَجَائَ ، جَاَئَ پر ہمزہ کا اضافہ کرکے متعدی بنادیا گیا ہے۔ اب اس کا معنی ” آیا “ کی بجائے ” لایا “ ہوگا۔ مَخَاضُ … مصدر ہے وَجْعُ الْوِلاَدَۃِ دردِزِہ کو کہتے ہیں۔ جب بچہ باہر نکلنے کے لیے شکم میں حرکت کرنے لگے تو عرب کہتے ہیں مَحَضَتِ الْمَرْئَ ۃُ (مظہری) جب حمل کا وقت پورا ہوگیا اور وضع کا درد شروع ہوگیا تو آپ ایک کھجور کے تنے کی اوٹ میں آگئیں۔ النَّخْلَۃِپر الف لام سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کھجور کا یہ درخت کوئی خاص درخت تھا جس سے حضرت مریم پہلے سے آگاہ تھیں۔ ممکن ہے خواب میں آپ کو بتادیا گیا ہو کہ جب آپ کو دردِزِہ شروع ہو تو آپ اس کھجور کی اوٹ میں آجائیے گا۔ ایک تأثر اور استدلال ان الفاظ کو دیکھتے ہوئے عجیب سا احساس ہوتا ہے کہ ایک نہایت نیک نام خاندان کی عزت مآب عفیفہ ایک عجیب امتحان میں مبتلا ہوگئی ہے۔ کنوارپن میں اس پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ ایک بچہ جنے جو آگے چل کر اللہ تعالیٰ کا رسول ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں پر حجت بھی ہو، اور اسے قیامت کے وقوع کے لیے نشانی بھی قرار دیا جائے اور یونانی فلسفے کے پیروکار جو علت اور معلول کے رشتے پر ناقابلِ تغیر یقین رکھتے ہیں، اس کی پیدائش انھیں یہ بتائے کہ اللہ تعالیٰ کسی نتیجہ کو اخذ کرنے یا کسی کو پیدا کرنے کے لیے علت اور معلول کے ضابطے کا پابند نہیں۔ وہ اگر چاہے تو بغیر باپ کے بھی بیٹے کو پیدا کرسکتا ہے۔ دنیا کو یہ سبق دینے اور اس عظیم ذمہ داری کی بجاآوری کے لیے حضرت مریم کو چنا گیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کی ادائیگی کا بوجھ تو اٹھا لیا لیکن اس تصور سے ان کا دل خون ہونے لگا کہ اگر میرے عزیزوں اور بیگانوں کو معلوم ہوا کہ میں کنوارپن میں حاملہ ہوگئی ہوں تو ان کی عزت پر کیا گزرے گی اور وہ میرے ساتھ کیا قیامت برپا کریں گے۔ اس لیے اپنی اس امانت کو لے کر دور مقام پر چلی گئیں اور پھر جب بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو جس بدنامی پر آج تک وہ پردہ ڈالنے کی کوشش کررہی تھیں اب اس کے افشا ہونے کا وقت آگیا۔ تو حضرت مریم کی پریشانیاں اپنی انتہا کو پہنچ گئیں۔ دردِزِہ شروع ہوتے ہی اپنا گھر چھوڑ کر ایک ویرانے میں آگئیں جس میں کھجور کا ایک سوکھا درخت کھڑا تھا اس کی اوٹ میں بیٹھ گئیں لیکن دل مسلسل اس تصور سے کٹتا جارہا تھا کہ وضع حمل کے بعد میں اپنے بچے کو لوگوں کی نگاہوں سے کیسے مخفی رکھوں گی۔ چناچہ شدت احساس سے ان کی زبان پر یہ حسرت بھرے الفاظ آگئے کہ اے کاش اس فضیحتے سے پہلے میں مرگئی ہوتی اور صرف مر ہی نہیں گئی ہوتی بلکہ لوگوں کے حافظہ سے میری یاد بھی محو ہوچکی ہوتی۔ اندازہ فرمایئے کہ اگر یہ حمل شادی کا ہوتا تو وہ اپنے گھر میں آرام سے کسی پلنگ پر لیٹی ہوتیں، ممکن ہے ایک آدھ دایا خبر گیری کے لیے بھی پاس ہوتی اور وہ بجائے اس طرح کے الفاظ کہنے کے بچے کا تصور کرتے ہوئے خوش ہورہی ہوتیں، لیکن حضرت مریم اس تصور کی شدت سے بیچارگی اور درماندگی کا شکار ہورہی ہیں کہ میں اس بچے کو لے کر اپنی قوم میں کیسے جاؤں گی کیونکہ نہ میں شادی شدہ ہوں اور نہ میں آوارہ ہوں۔ دنیا میری عفت مآبی کی گواہی دیتی ہے اور میرے خاندان کی نیک نامی کے گن گائے جاتے ہیں۔ اس لیے آپ اپنے آپ کو کو سنبھالتے ہوئے دردِزِہ کی شدت کے باوجود جنگل میں نکل آئی ہیں اور ایک کھجور کے تنے کی اوٹ میں بیٹھی اپنی بیچارگی پر آنسو بہا رہی ہیں۔ یٰـلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا … حضرت مریم کے اس قول سے بعض لوگوں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ ایک مومن کے لیے موت کی تمنا کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ حضرت مریم ایک مومنہ خاتون تھیں تو آپ نے موت کی تمنا کیونکر کی ؟ آیت کے سیاق وسباق اور پس منظر کو دیکھتے ہوئے اسے موت کی تمنا قرار دینا آیت کے مفہوم میں ایک نئی بات داخل کرنے کے مترادف ہے۔ جب کوئی شخص ایسی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے جس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو اور نتیجے میں اس کا نقصان بھی یقینی ہو، وہ اس صورتحال کو حق کا نتیجہ سمجھتے ہوئے بھی اس طرح کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اس طرح کی باتیں اس کی زبان پر آجاتی ہیں۔ آپ اس کو غلبہ حال قرار دے لیں یا اختیاری طور پر حالات کا نوحہ۔ لیکن تمنائے موت کسی طرح بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد فرشتے کی ندا نے انھیں تسلی تو دی ہے لیکن اس بات پر انھیں سرزنش نہیں کی کہ آپ ایک ایسی بات کیوں کہہ رہی ہیں جو ایک مومنہ کی زبان پر نہیں آنی چاہیے۔
Ayah 19:24

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پس کھجور کے نیچے سے فرشتے نے اس کو آواز دی کہ غمزدہ نہ ہو تمہارے پائیں سے تمہارے پروردگار نے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔

فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِھَآ اَلاَّ تَحْزَنِیْ قَدْجَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا۔ (مریم : 24) (پس کھجور کے نیچے سے فرشتے نے اس کو آواز دی کہ غمزدہ نہ ہو تمہارے پائیں سے تمہارے پروردگار نے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔ ) حضرت مریم کو بشارت حضرت مریم کی پریشانی اور بیچارگی نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حرکت دی۔ فرشتے نے اس کھجور کے درخت کے نیچے سے آواز دی کہ اے مریم تو بہت بڑے امتحان میں ڈال دی گئی ہے لیکن غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، یہ دیکھ کہ تیرے رب کی عنایات کس طرح تیری طرف متوجہ ہیں۔ اس نے تیرے پائیں اور تیرے قریب ایک چشمہ جاری کردیا ہے تاکہ اس کے ٹھنڈے پانی سے تو اپنی پیاس بجھائے۔ سَرِیٌّ … چھوٹی نہر یا چشمہ پر بولا جاتا ہے۔ اگرچہ لغت میں اس کا استعمال دوسرے معنوں میں بھی ہے لیکن اس آیت کریمہ میں جمہور علماء کے نزدیک اسی معنی کے لیے بولا گیا ہے۔
Ayahs 19:25–26

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور اپنی طرف کھجور کے تنے کو ہلائو، تم پر تروتازہ خرمے گرنے لگیں گے۔

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

پس کھائو اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو اسے اشارے سے کہو کہ میں نے خدائے رحمن کے روزے کی منت مان رکھی ہے تو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔

وَھُزِّیْٓ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا۔ فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا ج فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنْ الْبَشَرِ اَحَدًا لا فَقُوْلِیْٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا۔ (مریم : 25، 26) (اور اپنی طرف کھجور کے تنے کو ہلائو، تم پر تروتازہ خرمے گرنے لگیں گے۔ پس کھائو اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو اسے اشارے سے کہو کہ میں نے خدائے رحمن کے روزے کی منت مان رکھی ہے تو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔ ) اللہ تعالیٰ کی عنایات کھجور کے تنے کو اپنی طرف کھینچو یعنی اسے حرکت دو ۔ حضرت مریم جیسی نوخیز اور پریشانیوں میں ڈوبی ہوئی لڑکی اس تنے کو کیا حرکت دے سکتی تھی۔ مقصد صرف یہ ہے کہ تم اسے اس طرح ہاتھ لگائو جیسے اسے حرکت دے رہی ہو۔ تم پر عمدہ پکی ہوئی کھجوریں گرنے لگیں گی۔ کھجور حضرت مریم کے لیے کوئی نئی بات نہ تھی، ان کی خوراک کا حصہ تھی جس سے روزانہ سابقہ پڑتا تھا، لیکن یہ کھجور معلوم ہوتا ہے لطف و لذت میں غیرمعمولی ہوگی کیونکہ یہ خشک تنے سے بغیر موسم کے حضرت مریم کے جھنجوڑنے سے محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے برسنے لگی تھیں۔ تو ویسے بھی تمام انواع کی کھجوریں مٹھاس اور مزے میں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور پھر خصوصی طور پر اس چشمے کے پانی اور کھجور کی یہ تاثیر ہوگی کہ وہ آپ کی پریشانیوں کا مداوا بنے۔ اطباء کا خیال ہے کہ ایام زچگی میں عورت کے لیے بہترین خوراک تازہ اور شیریں کھجور ہے اور یہ کھجوریں تو پیدا ہی اس لیے کی گئی تھیں کہ آپ کے دل کی تقویت کا باعث بنیں اور آپ کے لیے سکون کا باعث ہوں، تو یقینا ان میں صرف لطف و لذت ہی نہیں اور نہ جانے کیا کیا فوائد رکھے گئے ہوں گے۔ فرشتے نے ان کھجوروں کو کھانے اور پانی کو پینے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو ٹھنڈا رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو توجہ دلائی گئی ہے کہ ذرا اپنے نومولود لال کی طرف تو دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس کے چہرے میں تیرے لیے کیا ٹھنڈک کا سامان رکھا ہے تو اس کو دیکھتے ہی تم اپنا غم بھول جاؤ گی۔ چناچہ اس سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرو اور مزید یہ کہا کہ اگر راستے میں کوئی شخص ملے اور وہ گود میں بچہ دیکھ کر پوچھنے کی کوشش کرے کہ ایک کنواری لڑکی کی گود میں بچہ کہاں سے آگیا تو اسے اشارے سے کہہ دیجیے کہ میں نے خدائے رحمن کے روزے کی نذر مان رکھی ہے، اس لیے میں کسی انسان سے گفتگو نہیں کرسکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم کو سب سے زیادہ جس بات کا اندیشہ تھا وہ یہ تھی کہ جب میں اپنے بچے کو لے کر اپنے گھر جاؤں گی تو چونکہ میں ایک بڑے پاکیزہ اور نیک نام گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، لوگ میرے خاندان کو جانتے پہچانتے ہیں تو جس شخص کو بھی معلوم ہوگا کہ اس خاندان کی ایک کنواری لڑکی بغیر شادی کے ایک بچے کی ماں بن گئی ہے تو وہ یقینا میرے گھر کا رخ کرے گا اور میرے اہل خانہ بھی اجنبیوں سمیت پریشانی کی حالت میں مجھ سے پوچھیں گے کہ مریم تم نے یہ کیا کیا۔ اس آیت میں مریم سے کہا جارہا ہے کہ جب بھی اس بچے کے بارے میں کوئی تم سے سوال کرے تو تمہیں جواب دینے کی ضرورت نہیں، تم کہہ دینا کہ میں خاموشی کے روزے سے ہوں اس لیے کسی انسان سے بات نہیں کرسکتی۔ خاموشی کا روزہ یہاں ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو کہ حضرت مریم ایام زچ کی میں روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں تو پھر انھوں نے روزہ کیسے رکھ لیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روزہ خاموشی کا روزہ تھا اور یہود کے یہاں مجرد خاموشی کے روزے کا رواج بھی تھا اور ان کی شریعت میں اس کی اجازت بھی تھی۔
Ayahs 19:27–28

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پس وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی، لوگوں نے کہا، اے مریم ! تم نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن نہ تمہارا باپ ہی کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدچلن تھی۔

فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَھَا تَحْمِلُہٗ ط قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا۔ یٰٓـاُخْتَ ھٰرُوْنَ مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا۔ (مریم : 27، 28) (پس وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی، لوگوں نے کہا، اے مریم ! تم نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن نہ تمہارا باپ ہی کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدچلن تھی۔ ) حضرت مریم کو خاندان والوں کی ملامت حضرت مریم جب چلنے پھرنے کے قابل ہوئیں تو اپنے بچے کو لے کر اپنے گھر لوٹیں۔ اہل خانہ دیکھتے ہی ہک دھک رہ گئے۔ ان کے لیے یہ تصور بھی ناقابلِ برداشت تھا کہ ان کے خاندان کی کوئی لڑکی اور وہ بھی مریم جیسی زاہدہ و عابدہ کبھی اس حرکت کا ارتکاب کرسکتی ہے۔ خاندان کے دوسرے لوگوں کو علم ہوا تو سب مرد و زن دوڑے ہوئے آئے اور مریم پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ ان میں سے ہر ایک نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مریم تم نے بہت بری حرکت کی ہے۔ تم ہارون کی بہن ہو، یعنی تمہارا اس قبیلے سے تعلق ہے جو قبیلہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہے تم اس پیغمبر کی اولاد ہو۔ (عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی شخص کو کسی قبیلے سے منسوب کرکے پکارنا چاہتے تھے تو وہ اسے اس قبیلے کا بھائی کہتے تھے۔ مثلاً قبیلہ مضر کے آدمی کو یا اخامضر کہہ کر پکاریں گے ” اے مضر کے بھائی۔ “ یعنی مضر قبیلے سے منسوب شخص۔ اس طرح کوئی قبیلہ ہمدان سے تعلق رکھتا ہے تو اسے کہیں گے یا اخاہمدان ” اے ہمدان کے بھائی۔ “ یعنی اے وہ شخص جو ہمدان قبیلے سے منسوب ہے۔ ) قبیلے کی عزت و حرمت کو تم نے پامال کردیا ہے، اور تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ تمہارا باپ کس قدر صالح اور نیک نام آدمی تھا اور تیری ماں کیسی عفیفہ تھی۔ تم نے تو ایسی حرکت کی ہے جیسے بدنام، بدکردار اور بدکار مردوزن کی اولاد حرکتیں کرتی ہے۔ ہارون سے مراد ؟ مفسرین نے یٰٓـاُخْتَ ھٰرُوْنَپر بحث کرتے ہوئے دونوں معنی مراد لیے ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضرت مریم کے ایک بھائی کا نام ہارون تھا اور وہ بھی نہایت صالح اور نیک نام نوجوان تھے۔ اس لیے اس کا حوالہ دے کر مریم کو ملامت کی گئی اور اس پر ایک حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے جسے صحیح مسلم نے روایت کیا ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ( رض) جب نجران گئے تو وہاں کے عیسائیوں نے ان سے پوچھا کہ قرآن میں مریم کو ہارون کی بہن کہا گیا ہے حالانکہ ہارون مریم سے صدہا سال پہلے گزرے ہیں۔ حضرت مغیرہ ( رض) اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ جب واپس آئے تو بارگاہِ رسالت ﷺ میں اس واقعہ کو بیان کیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں ان کو یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ بنی اسرائیل کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کے نام انبیاء کرام اور پہلے بزرگوں کے ناموں پر رکھا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کے ایک بھائی تھے جن کا نام حسب دستور حصول برکت کے لیے ہارون کے نام پر رکھا گیا تھا۔ بعض دیگر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت مریم کے نسبی بھائی نہیں ہیں بلکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) ہیں جن کی طرف ان کا خاندان منسوب تھا اور کسی کو کسی قبیلے کی طرف منسوب کرنے کے لیے قبیلے کا بھائی بھی کہہ دیا جاتا تھا۔ جیسے کہ میں اس سے پہلے وضاحت کرچکا ہوں، تو ممکن ہے یہاں بھی اختہارون سے مراد ہارون خاندان کی ایک لڑکی مراد ہو۔ دونوں باتیں ہی اپنی جگہ وزن رکھتی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ حضرت مریم کے بھائی کا نام ہارون ہو، جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے تصریح فرمائی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ قبیلہ کی نسبت سے مریم کو پکارا گیا ہو، لیکن جو بات اس آیت میں زور دے کر کہی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اے مریم، تم اتنی پاکیزہ نسبتیں رکھتے ہوئے ایسے گناہ کا ارتکاب کیونکر کر بیٹھی۔ استدلال یہاں رک کر ذرا غور فرمایئے کہ کیا کسی شادی شدہ لڑکی کی گود میں پہلوٹی کے بچے کو دیکھ کر کبھی لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا ہے۔ کیا ماں اپنے پہلوٹی کے بچے کو دیکھ کر باغ باغ ہوتی ہے یا وہ اسے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ سمجھتی ہے اور اہل خانہ اس بچے کو اپنی عزت اور خوشی کا باعث سمجھتے ہیں یا اپنے لیے عاربنا لیتے ہیں۔ کیا یہ رویہ دلالت نہیں کرتا کہ حضرت مریم کنواری لڑکی تھیں۔ اس آیت سے پہلی آیت کے آخر میں فَرِیًّا کا لفط آیا ہے۔ جوہری نے اس کے دو معنی کیے ہیں۔ ” ایک گھڑا ہوا بناوٹی “ اور دوسرا ” العظیم “ یعنی ” بہت بڑا “۔ امامِ راغب نے اس کا معنی ” حیران کن “ کیا ہے، لیکن علامہ ابن حیان اندلسی نے اس کا معنی کیا ہے ” بہت قبیح فعل “ (بحر) ۔ علامہ آلوسی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر بڑے کام کے لیے خواہ وہ برا ہو یا اچھا، قول ہو یا فعل، یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ وضاحت مذکورہ بالا سب معانی پر حاوی ہے اور موقع کے بھی مناسب ہے۔
Ayah 19:29

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

(مریم نے اس (بچہ) کی طرف اشارہ کیا، لوگ کہنے لگے ہم اس سے کس طرح بات کریں جو ابھی گود میں ( کمسن) بچہ ہے۔

فَاَشَارَتْ اِلَیْہِ ط قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِ صَبِیًّا۔ (مریم : 29) (مریم نے اس (بچہ) کی طرف اشارہ کیا، لوگ کہنے لگے ہم اس سے کس طرح بات کریں جو ابھی گود میں (کمسن) بچہ ہے۔ ) نصرتِ خداوندی کا ظہور لوگوں کے مسلسل نفرت سے بھرپور سوالات پر حضرت مریم نے کچھ کہنے کی بجائے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا مقصد یہ تھا کہ میں چونکہ خاموشی کا روزہ رکھ چکی ہوں، میں کوئی جواب نہیں دے سکتی، اس بچے سے پوچھو۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے فرزند بخشا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نشانی بن کر آیا ہے۔ اس لیے اپنے اندر غیرمعمولی صفات رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ کام سونپا ہے کہ مجھ پر جس طرح تہمتیں باندھی جارہی ہیں وہی اس کا جواب دے گا۔ لیکن لوگوں نے حضرت مریم کے اس اشارے کو ایک مذاق سمجھا اور نہایت برہم ہو کر کہنے لگے کہ تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہی ہو، خود خاموشی کی تصویر بنی بیٹھی ہو اور ہمیں اس شیرخوار بچے سے گفتگو کرنے کے لیے کہہ رہی ہو جو ابھی جھولے میں جھول رہا ہے۔ پیشِ نظر آیت کا وہ مفہوم جو الفاظ سے واضح ہورہا ہے اور حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کے تسلسل میں نہایت فطری معلوم ہوتا اسے ہم نے بیان کردیا لیکن بعض لوگوں نے ” کان “ پر بحث چھیڑ کر اپنے غلط عقیدے کے حق میں دلیل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے ہم یہاں ” ضیاء القرآن “ سے اس بحث کو نقل کررہے ہیں۔ کان فعل ناقص ہے اور ماضی کا صیغہ ہے جو گزشتہ زمانہ پر دلالت کرتا ہے۔ اس طرح آیت کا معنی یوں ہوگا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گزشتہ زمانے میں پنگھوڑے میں بچہ تھا۔ یہ معنی کسی طرح پسندیدہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے علماء اسلام طاب اللہ ثراھم نے اس آیت کے ضمن میں کان پر بڑی مفید بحث کی ہے۔ ابوعبیدہ (امام نحو و ادب) نے کہا ہے کہ یہاں کان زائدہ ہے اور محض تاکید کا فائدہ دیتا ہے اور کسی زمانہ پر دلالت نہیں کرتا۔ کان زائدۃ لمجرد التاکید من غیردلالۃ علی الزمان۔ (روح المعانی) بعض نے کہا ہے کہ یہ تامہ ہے۔ ان دونوں صورتوں پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر کان زائدہ ہوتا تو ” صَیِّبًا “ خبر کو کیسے نصب دیتا اور اگر کانتامہ تھا تو اسے خبر کی ضرورت ہی نہ تھی حالانکہ یہاں ” صَیِّبًا “ خبر مذکور ہے۔ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ” صَیِّبًا “ خبر نہیں بلکہ حال ہے اور اسی وجہ سے منصوب ہے۔ علامہ ابن حیان اندلسی یہ لکھنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ کان ناقصہ ہے اور ” صَیِّبًا “ اس کی خبر ہے اور کان زمانہ ماضی پر دلالت کرنے کے ساتھ زمانہ حال میں اس فعل کے پائے جانے کی نفی نہیں کرتا بلکہ یہ بتاتا ہے کہ زمانہ ماضی میں پائے جانے کے ساتھ ساتھ وہ فعل زمانہ حال میں بھی بدستور پایا جارہا ہے جیسے کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ غفورورحیم تھا اور اب بھی ہے یا جیسے ولاتقربوا الزنی انہ کان فاحشہ زنا کے قریب تک بھی نہ جاؤ۔ یہ پہلے بھی بےحیائی کا کام تھا اور اب بھی ہے۔ یہ نہیں کہ گزشتہ زمانہ میں تو زنا فحش و قبیح تھا اور اب نہیں ہے۔ والظاہرا نھانا قصۃ فتکون بمعنی صارا وتبقی علی مدلولھا من اقتران مضمون الجملۃ بالزمان الماضی ولایدل ذلک علی الانقطاع کمالم یدل فی قولہ وکان اللہ غوراً رحیمًا وفی قولہ ولاتقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ۔ والمعنی کان وھوالان علی ماکان ولذلک عبربعض اصحابنا ان کان ہذہ بانھا ترادف لم یزل۔ (البحر المحیط) دو قابل توجہ باتیں اس کے بعد اگلی آیت کریمہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جھولے میں جھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قدرت سے قوم کے سامنے اپنا تعارف رکھا ہے جس سے حضرت مریم پر کیے جانے والے ایک ایک سوال کا جواب دے دیا گیا۔ اس سے پہلے کہ ہم اسے پڑھیں ہمیں دو باتوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک تو یہ بات کہ یہ غیرمعمولی واقعہ کیوں پیش آیا اور دوسری یہ بات کہ پنگھوڑے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں بلوایا گیا جبکہ حضرت مریم ہی سے اس طرح جواب دلوایا جاسکتا تھا جس سے کسی حد تک قوم مطمئن ہوجاتی۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ایک خاص حد تک امتحان لیتا ہے۔ ان کی بندگی اور وفاداری کو آزماتا ہے۔ لیکن جب وہ ہر مرحلہ میں سو فیصد کامیاب ثابت ہوتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ حضرت مریم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ انھیں ایک خاص امانت حوالے کی گئی، لیکن اس امانت کا حق ادا کرنے کے راستے میں قدم قدم پر بےپناہ رکاوٹیں تھیں، تہمتوں کے اندیشے تھے اور خاندانی رسوائی کا سامان تھا۔ لیکن حضرت مریم نے نہایت صبر کے ساتھ اس امانت کا بوجھ اٹھایا۔ پھر جب اسے ادا کرنے کا وقت آیا تو اگرچہ ان کی ہمت چٹخنے لگی لیکن ان کی زبان پر شکوہ کبھی نہیں آیا۔ گھر چھوڑ کر ویرانے میں جا بیٹھیں۔ نہ جانے وہاں تنہائی میں کیسے وقت گزرا اور کیسے اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوئیں۔ جب چلنے پھرنے کے قابل ہوئیں تو نہایت استقامت کے ساتھ اپنے اہل خانہ میں واپس آئیں۔ یہاں تک کہ جب انھوں نے ہر قدم پر کامیابی سے ہر آزمائش سے گزر کر دکھا دیا اور ہرحال میں صابر و شاکر رہیں تو تب اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا دروازہ کھلا تو آپ پر لگنے والی تہمتوں اور رسوائیوں کا جواب دلوانے کے لیے اس نوزائیدہ بچے کو مکلف بنایا اور ہمت عطا کی اور حضرت مریم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ٹھہریں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف حالات سے گزرتے ہوئے اب مکمل طور پر اپنے آپ کو نااہل ثابت کرچکے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی محرومی کو مکمل کرنے اور انھیں سزا دینے کے فیصلے کو نافذ کرنے سے پہلے پسند فرمایا کہ ایک پیغمبر ان کی طرف ایسا بھیجا جائے جو اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہو۔ وہ اپنی ولادت ہی سے پہچانا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانی بن کر آیا ہے۔ اس کا بچپن، اس کے لیے مزید گواہی کا باعث بنے، پھر اس کی نبوت کی زندگی ایسے معجزات کے ظہور سے روشن ہو جو کسی پیغمبر کے ہاتھ ہی سے ظاہر ہوسکتے ہیں۔ اس طرح سے بنی اسرائیل پر پوری طرح سے حجت تمام کردی گئی، پھر جب وہ اپنی کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ کر اور کھلے کانوں سے سب کچھ سن کر بھی بجائے ایمان لانے کے اللہ تعالیٰ کی اس مقرب ترین ہستی کے اس حد تک دشمن بن کر اٹھے کہ اپنے تئیں انھیں صلیب دینے میں کامیاب ہوگئے تو تب اللہ تعالیٰ نے انھیں سزا دیتے ہوئے تاریخ میں عبرت بنادیا۔
Ayahs 19:30–32

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

بچے نے جواب دیا، میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور اس نے مجھے سرچشمہ خیروبرکت ٹھہرایا ہے، میں جہاں کہیں بھی ہوں، اور اس نے مجھے نماز ادا کرنے کا حکم دیا اور زکوٰۃ دینے کا، میں جب تک زندہ رہوں۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور مجھے اپنی ماں کا فرمانبردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہے۔

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ قف ط اٰ تٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔ وَّجَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ ص وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا۔ وَّبَرًّا م بِوَالِدَتِیْ ز وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا۔ (مریم : 30، 31، 32) (بچے نے جواب دیا، میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔ اور اس نے مجھے سرچشمہ خیروبرکت ٹھہرایا ہے، میں جہاں کہیں بھی ہوں، اور اس نے مجھے نماز ادا کرنے کا حکم دیا اور زکوٰۃ دینے کا، میں جب تک زندہ رہوں۔ اور مجھے اپنی ماں کا فرمانبردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہے۔ ) گہوارے میں حضرت مسیح کے ارشادات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دودھ پی رہے تھے۔ لوگوں کی باتیں اور ملامت سن کر دودھ چھوڑ دیا اور اپنی بائیں کروٹ پر سہارا لے کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا ہم اسے چار پر تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ اس ارشاد کی ضرورت شاید اس لیے محسوس کی گئی کہ میری غیرمعمولی ولادت کو دیکھ کر اور جھولے میں میری حیران کن باتوں کو سن کر کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہوجائے کہ میں شاید انسان نہیں کچھ اور ہوں اور میرے اندر خدائی کے اوصاف پائے جاتے ہیں اور میں کوئی مافوق البشر ہستی ہوں۔ میں صرف ایک اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ نہ خدا ہوں اور نہ خدا کا بیٹا۔ عبرانی زبان میں ابن کا لفظ بندے اور بیٹے دونوں کے لیے آتا ہے۔ موقع محل سے اس کا تعین کیا جاتا ہے۔ عبرانی زبان میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کا یہ جملہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہوں ان کی واضح تعلیمات کی روشنی میں اس کا یہ مطلب لینے کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ میرا اللہ تعالیٰ سے وہ رشتہ ہے جو بیٹے کا باپ سے ہوتا ہے بلکہ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں کیونکہ ابن کا معنی جیسا کہ عرض کیا عبرانی میں جیسے بیٹا ہے اس طرح بندہ بھی ہے۔ پروردگار کو تو معلوم تھا کہ آگے چل کر پال کی کوششوں سے عیسائیوں میں تثلیث کا فتنہ اٹھایا جائے گا اور جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے کر خدائی میں حصہ دار بنادیا جائے گا۔ اس لیے اس کا صحیح مفہوم بیان کرتے ہوئے پہلی بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، میں اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک نہیں ہوں بلکہ اس کی بندگی کا پابند ہوں۔ دوسری یہ بات ارشاد فرمائی کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ یعنی اس شیرخوارگی کی عمر میں نبوت اور کتاب مجھے عطا فرما دی گئی ہے حالانکہ کسی پیغمبر کو چالیس سال کی عمر سے پہلے نبوت اور کتاب نہیں ملتی۔ مفسرین نے اس کی وضاحت میں مختلف باتیں کہی ہیں۔ 1 بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی میں انھیں نبوت اور کتاب سے سرفراز فرما دیا تھا، لیکن علامہ قرطبی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ 2 علامہ قرطبی اور اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ جو چیز علم الٰہی میں مقدر ہوچکی ہو وہ اگرچہ وقوع پذیر نہ ہو پھر بھی اس کو زمانہ ماضی سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے واقعہ ہونے میں کسی قسم کا شائبہ نہیں۔ ویسے بھی عربی زبان میں یہ قاعدہ ہے اور قرآن کریم نے بھی کئی مقامات پر اسے اپنے اسلوب میں جگہ دی ہے کہ جب کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ یہ یقینا ہو کے رہے گی تو اسے ماضی کی صورت میں بیان کرتے ہیں یعنی یوں کہیں گے کہ یہ کام ہوگیا ہے، یہ بات ہوگئی ہے، یہ چیز ہوگئی ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ اس کا ہونا یقینی ہے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے نبوت اس وقت عطا کردی گئی تھی جبکہ آدم (علیہ السلام) ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ان کا خمیر ہی تیار ہورہا تھا۔ اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے لیے عطائے نبوت کا وعدہ قطعی اور یقینی تھا۔ یہاں بھی اسی یقینی نبوت اور کتاب کو ماضی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے حضرت مریم کے دامن عفت پر لگے ہوئے تہمت کے داغوں کو دور کرنا بھی مقصود ہے۔ وہ اس طرح کہ وہ بچہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی نشانی بنایا اور جھولے میں جس نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور یہ خبر دی کہ اللہ تعالیٰ مجھے کتاب بھی عطا کرے گا اور یہ دونوں باتیں اس قدر یقینی ہیں گویا کہ وہ وقوع پذیر ہوچکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو بچہ اللہ تعالیٰ سے اتنا قرب رکھتا ہے اور ایسے کمالات کا حامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے سرچشمہ خیروبرکت بنایا ہے کیا وہ کسی فاحشہ عورت کا بیٹا ہوگا، ہرگز نہیں۔ اس کی ماں تو یقینا ایک عفیفہ زاہدہ، صدیقہ اور قانتہ ہوگی۔ تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے زندگی بھر کے لیے نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کی ہدایت فرمائی ہے۔ قرآن کریم کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ وصیت کا لفظ زیادہ تاکید کے لیے آتا ہے۔ یہاں بھی معلوم ہوتا ہے۔ یہی بتلانا مقصود ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کی خصوصی طور پر تاکید کی ہے کیونکہ نماز اور زکوٰۃ ایسی عبادتیں ہیں جو تمام دین و شریعت کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے تمام آسمانی شرائع میں ان کا ذکر آتا ہے۔ ان کی ظاہری شکلیں مختلف ادیان میں مختلف رہی ہیں لیکن بندگی رب اور ہمدردیِ خلق کی روح ان کی ہر شکل میں محفوظ رہی ہے۔ نماز آدمی کو اس کے رب سے صحیح طور پر جوڑتی ہے اور زکوٰۃ سے اس کا تعلق خلق کے ساتھ استوار ہوتا ہے۔ انھیں دونوں چیزوں کی استواری پر تمام دین کے قیام کا انحصار ہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو کبھی مالدار ہی نہیں ہوئے۔ نہ گھر بنایا اور نہ کچھ جمع کیا، تو پھر زکوٰۃ کا ان کو حکم دینا کس بنا پر ہے ؟ تو اس کا مقصد واضح ہے کیونکہ شریعت میں قانون یہ بنادیا گیا تھا کہ جس شخص کے پاس مال ہو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کے مخاطب ہیں کہ جب کبھی مال بقدرنصاب جمع ہوجائے تو زکوٰۃ ادا کریں تو پھر اگر عمر بھر میں کبھی مال جمع ہی نہ ہو تو یہ اس کے منافی نہیں۔ (روح المعانی) مَادُمْتُ حَیًّا…” میں جب تک زندہ رہوں۔ “ اس میں یہ کہنا مقصود ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت مدت العمر تک ہے۔ جب تک آدمی زندہ ہے یہ فرائض اس سے کبھی ساقط نہیں ہوتے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی یہ دونوں فرض تھے۔ لیکن اس میں شرط زندگی کی ہے۔ جب تک آپ ( علیہ السلام) دنیا میں رہے تو آپ ( علیہ السلام) دونوں کے پابند تھے اور جب آپ ( علیہ السلام) کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا تو وہ زمانہ رخصت کا ہے، پھر جب دوبارہ آپ ( علیہ السلام) دنیا میں آئیں گے تو پھر ان فرائض کی پابندی کرنا ہوگی۔ چوتھی بات یہ فرمائی کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے والدین کی اطاعت نہیں کرتا اور ان کے سامنے عاجزی اختیار نہیں کرتا بلکہ سرکشی دکھاتا ہے وہ جبار اور شقی ہے۔ مزید یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے والدین کا فرمانبردار بنایا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے حالانکہ فرمانبرداری تو دونوں کی فرض ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صرف والدہ سے پیدا ہوئے تھے اس لیے ان کی فرمانبرداری آپ ( علیہ السلام) پر فرض تھی۔ اگر آپ ( علیہ السلام) کے والد ہوتے تو یقینا ان کا بھی ذکر کیا جاتا۔ اسی لیے قرآن کریم نے جب بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے تو عیسیٰ ابن مریم کہا ہے، باپ کا نام کبھی نہیں لیا، حالانکہ شریعت میں ہمیشہ نسب باپ سے چلتا ہے اور نسبت بھی باپ سے ہوتی ہے۔ عرب میں آج بھی بیٹے کے ساتھ باپ کا نام لگتا ہے، ماں کا نام کبھی نہیں لگتا اور اگر کسی شخص کو ماں کی طرف منسوب کیا جائے اور اسی حوالے سے اسے پکارا جائے اور وہی حوالہ اس کی شناخت کا ذریعہ بنے تو سننے والے سمجھ جاتے ہیں کہ اس شخص کا نسب ثابت نہیں اور کچھ خبر نہیں کہ اس کا باپ کون تھا۔ اور یہ بات کسی بھی شریف شخص کے لیے قابل قبول نہیں ہوتی۔ اتنی بڑی واضح شہادت کے بعد بھی اگر کچھ الجھے ہوئے دماغ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یوسف نجار کا بیٹا قرار دیتے ہیں تو انھیں اپنی عقل پر رونا چاہیے۔
Ayah 19:33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جائوں گا۔

وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا۔ (مریم : 33) (اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔ ) ولادت، موت اور بعث بعدالموت میں حضرت مسیح کا اعزاز گزشتہ رکوع کے آخر میں آیت نمبر 15 میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے متعلق بھی اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ وہ بھی ہرحال میں سلام و تحیت کے مستحق تھے اور اسی طرح حضرت مسیح بھی اپنی ولادت، موت اور بعث بعدالموت کے ہر مرحلے میں سلام اور تحیت کے مستحق ہیں۔ جب وہ پیدا ہوئے تو فرشتوں نے ایک دوسرے کو سلام تحیت کہا یعنی مبارکباد دی۔ اور جب ان کا انتقال ہوگا تو ایسے ہی اعزاز کے ساتھ ان کی روح کو قبول کیا جائے گا۔ اور جب وہ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے تو تب بھی انھیں نہایت اعزاز اور احترام کے ساتھ لے جایا جائے گا۔ دنیا نے ان کے ساتھ جو سلوک بھی کیا ہو وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں میں نہایت اعزازو اکرام کے مستحق سمجھے گئے ہیں۔ وہ آسمانوں پر اپنے عارضی قیام کے بعد جب زمین پر آئیں گے تو دجال سے ایک فیصلہ کن معرکے کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں مسلمانوں کی حکومت عطا فرمائے گا۔ جن یہودیوں نے انھیں صلیب تک پہنچانے کی کوشش کی تھی ان کے نام لیوا ایک ایک کرکے قتل کردیئے جائیں گے اور نصاریٰ پر حجت تمام ہوجانے کی وجہ سے ان پر اسلام کا راستہ کھل جائے گا۔ آپ ( علیہ السلام) ایک عادلانہ حکومت قائم کریں گے پھر اسی طرح موت کے مرحلے سے گزریں گے جس طرح دنیا میں آنے والا ہر انسان گزرتا ہے اور رسول اللہ و کے پہلو میں دفن کیے جائیں گے۔ اور حاکمیت کے اس دور میں آپ ( علیہ السلام) یقینا ہر طرح کے اعزاز اور سطوت اور اقبال سے نوازے جائیں گے۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم، (اور یہ ہے وہ) سچی بات جس میں لوگ جھگڑ رہے ہیں۔

ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ ج قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ ۔ مَاکَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ لا سُبْحٰنَـہٗ ط اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَـہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (مریم : 34، 35) (یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم، (اور یہ ہے وہ) سچی بات جس میں لوگ جھگڑ رہے ہیں۔ اللہ کے شایاں نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے، وہ پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ کہتا ہے، ہوجا۔ پس وہ ہوجاتا ہے۔ ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل حقیقت گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے ان کی اصل حقیقت واضح فرمائی ہے، جس سے ایک تو حضرت مریم کا پاک دامن ہونا ثابت ہوتا ہے اور دوسری طرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خارق عادت ولادت سے جو غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی تھیں ان کا تدارک ہوجاتا ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) باوجود اس کے کہ آپ ( علیہ السلام) کا باپ کوئی نہ تھا لیکن آپ ( علیہ السلام) اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہوتے ہوئے بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت جلالتِ قدر سے نوازا تھا اور آپ ( علیہ السلام) کو وہ کمالات عطا فرمائے تھے جن سے آپ ( علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کا انتہائی مقرب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور یہ بات بھی کہ آپ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ آپ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی تھی اور آپ ( علیہ السلام) کو پیدائش اور موت اور بعث بعدالموت ہرحال میں مبارک بنایا تھا اور سلامتی کو آپ ( علیہ السلام) کا حصار بنادیا تھا لیکن یہ آپ ( علیہ السلام) کی تمام صفات عظیم اور نادر ہونے کے باوجود ایک عظیم انسان کی صفات ہی تھیں جس میں خدائی کا کوئی شائبہ نہ تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں انھیں باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تھی اصل حقیقت عیسیٰ ابن مریم کی۔ لیکن لوگوں نے اس میں جو کٹ حجتی اور کج بحثی کے راستے نکالے ہیں۔ وہ ان کی اپنی گمراہی کے نتائج تھے۔ اِمْتِرَاء … جو یَمْتَرُوْنکا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہوتا ہے ” بکری کے تھن کو اچھی طرح نچوڑنا۔ “ یہیں سے یہ لفظ کٹ حجتی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ عیسائیوں نے سینٹ پال کی پیروی کرتے ہوئے جس طرح سیدھی سادی حقیقت کو ایک گورکھ دھندا بنا کے رکھ دیا ہے وہ اسی کٹ حجتی اور بات کو بتنگڑ بنانے کا نتیجہ ہے۔ سورة المائدہ میں تفصیل سے یہ بحث گزر چکی ہے کہ کس طرح عبرانی کے لفظ ” اب “ کو باپ کے معنی میں مخصوص کرکے ایک چیستان تخلیق کی گئی ہے اور کس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے کر الٰہیات کے تصورات میں پیچیدگی پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اولاد سے پاک ہونے پر فطری دلیل دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابن اللہ ہونے پر بہت اصرار ہے۔ اگر وہ اپنے علم کلام کے وضعی پیمانوں سے نکل کر سیدھے سادے طریقے سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو یقینا وہ یہ بات سمجھ سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بات ہرگز زیبا نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ علماء نے منطقی انداز میں اس پر بہت سے اعتراضات وارد کیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں بالکل سادہ انداز میں یہ بات سمجھائی کہ اولاد کی خواہش ہر شخص کو اس لیے ہوتی ہے تاکہ وہ بڑھاپے میں باپ کی لاٹھی بنے اور اس کی بیچارگی اور کمزوری میں اس کے کام آئے۔ اور پھر دنیا سے اس کے چلے جانے کے بعد اس کے نام کو زندہ رکھے لیکن اللہ تعالیٰ کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ وہ اس حد تک قدرت کا مالک ہے کہ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے بروئے کار لانے کے لیے اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ کُن کہتا ہے اور وہ کام ہوجاتا ہے۔ اور کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو کُن کہنے سے وہ چیز پیدا ہوجاتی ہے اور اسے چونکہ زوال نہیں وہ ازلی اور ابدی ہے تو اسے اپنے نام کی بقا کے لیے بیٹے کی کیا ضرورت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا سبحانہ کہ اللہ تعالیٰ ایسی ہر احتیاج سے پاک ہے۔ احتیاج کو پورا کرنے کے لیے بیٹے کی ضرورت پڑتی ہے تو جب وہ احتیاج سے پاک ہے تو وہ اولاد سے بھی پاک ہے۔
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ کے شایاں نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے، وہ پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ کہتا ہے، ہوجا۔

وَاِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ (مریم : 36) (اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی، سو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ ) جملہ معترضہ کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات کا آخری حصہ اس آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس میں بعض اہل علم کو یہ اشکال پیش آیا ہے کہ یہ کلام کس کا ہے، پروردگار کا یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا، حالانکہ یہاں اس اشکال کا کوئی محل نہیں، کیونکہ گزشتہ دو آیتیں دراصل جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان آیتوں سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات جاری تھے۔ ان کے درمیان میں پروردگار نے عیسائیوں کو متوجہ کرنے اور ان کے شرک کی تردید کے لیے ان دو آیتوں کو لانا ضروری سمجھا۔ اب جملہ معترضہ کے ختم ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات کا آخری ٹکڑا نقل کیا جارہا ہے کہ انھوں نے مذکورہ ارشادات کے علاوہ آخر میں یہ بات بھی فرمائی تھی اور یہی ان کا اصل پیغام بھی ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، پس اسی کی عبادت کرو کیونکہ اس کے قرب اور نجات کے حصول کے لیے یہی سیدھا راستہ ہے، اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ اس آیت کریمہ میں عیسائیوں کی گمراہیوں کے اصل سبب پر انگلی رکھی گئی ہے وہ سبب یہ ہے کہ انجیلوں میں آج تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے یہ بات نقل چلی ہوتی چلی آرہی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا بھی باپ ہے اور تمہارا بھی باپ ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے یہ کہنے سے کہ اللہ تعالیٰ میرا بھی باپ ہے، عیسائیوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنا لیا، لیکن اسی قول کا دوسرا حصہ کہ وہ تمہارا بھی باپ ہے، اسے نظرانداز کردیا حالانکہ اس کے حوالے سے یہ ہونا چاہتے تھا کہ ساری خدائی اللہ تعالیٰ کی اولاد ہوتی اور ہر شخص اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتا۔ قرآن کریم میں اس غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ عبرانی زبان میں چونکہ ” اب “ باپ اور رب دونوں معنوں میں بولا جاتا ہے، البتہ اس کے صحیح مفہوم کا تعین اس کے محل استعمال سے ہوتا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ” اب “ کا لفظ ” رب “ کے معنی میں استعمال کیا تھا، لیکن عیسائیوں نے اسے باپ کے معنی میں لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے دیا۔ اس آیت میں قرآن کریم نے واضح کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اصل قول یہ تھا جو اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے۔ عیسائیوں نے اس میں معنوی ترمیم کرکے کچھ سے کچھ بنادیا۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرو، کیوں ؟ دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ تم عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمہارا رب ہے۔ یعنی تمہیں اس نے پیدا کیا اور تمہاری نمود و پرداخت کے تمام امکانات پیدا کیے، تمہیں تمام ضروریاتِ زندگی فراہم کیں، تمہاری بقاء کے لیے جس چیز کی بھی ضرورت تھی اسے مہیا کیا، تمہیں حواس اور عقل دے کر زندگی کا راستہ آسان بنایا، جس ذات کے یہ احسانات ہوں اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس کی عبادت اور بندگی کی جائے۔ لیکن مشرکین نے ان لوگوں اور ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے جو انسانوں کے کسی کام نہیں آتیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو سمجھاتے ہوئے یہی بات فرمائی تھی کہ آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ آپ کے کسی کام آتے ہیں۔ یہ شرک کے ابطال اور توحید کے اثبات پر ایک ایسی دلیل ہے جس میں سادگی بھی ہے اور پرکاری بھی، جو انسانی عقل کو بھی اپیل کرتی ہے اور انسانی فطرت پر بھی دستک دیتی ہے۔
Ayahs 19:36–37

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

پس وہ ہوجاتا ہے۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی، سو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر ان کے اندر سے مختلف فرقوں نے باہم اختلاف کیا، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، اس دن کی حاضری سے جو بہت بڑا ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ م بَیْنِہِمْ ج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْھَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (مریم : 37) (پھر ان کے اندر سے مختلف فرقوں نے باہم اختلاف کیا، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، اس دن کی حاضری سے جو بہت بڑا ہے۔ ) حقیقتِ مسیح سے عیسائیوں میں اختلافات گزشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے جو کچھ بیان ہوا وہی حضرت مسیح کی اصل حقیقت ہے اور اس بیان کو دیکھ لینے کے بعد کوئی الجھن باقی نہیں رہ جاتی۔ ہر بات اپنے تئیں بالکل واضح ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کیسے ہوئی، آپ کی والدہ کی اصل حیثیت کیا ہے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے کیوں پیدا فرمایا، پھر آپ ( علیہ السلام) کو کیا ذمہ داریاں سپرد کی گئیں اور اس دنیا اور دوسری دنیا میں آپ ( علیہ السلام) کی کیسی عزت افزائی ہوگی اور آپ ( علیہ السلام) کا تعلق اپنی والدہ سے کیسا رہے گا، ان میں سے ہر بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات سے بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ لیکن جن کو اختلاف کی راہ پر چلنا ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی طرح اپنی راہ نکال لیتے ہیں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد یہود نے جو کچھ کہا اور جو کچھ کیا وہ تو اپنی جگہ ہے لیکن خود عیسائیوں میں حقیقتِ مسیح کے بارے میں اس قدر اختلاف پیدا ہوا کہ اس کے نتیجے میں ان میں مختلف فرقے پیدا ہوگئے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود خدا تھے جو انسان بن کر دنیا میں آئے۔ ان لوگوں کو یعقوبیہ کہا جاتا ہے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا وہ خدا نہیں، خدا کے بیٹے تھے۔ ان کے پیروکار نسطوریہ کہلاتے تھے۔ کچھ اور لوگوں نے کہا کہ مسیح تین میں کا تیسرا تھے جنھیں اقانیمِ ثلاثہ کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اسرائیلیہ کہا گیا۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جنھوں نے کہا کہ وہ نہ خدا تھے، نہ خدا کے بیٹے نہ تین میں ایک بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے، اس کے رسول، اس کی روح اور اس کا کلمہ تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شمعون کے پیرو تھے اور یہی لوگ نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے اور ان ہی کی قرآن نے تعریف کی۔ پھر یہی اختلاف آگے بڑھتا رہا حتیٰ کہ مستقل صورت اختیار کرگیا۔ آج کیتھولک، پروٹسٹنٹ، آرتھوڈیکس، ان کے علاوہ بھی چھوٹے بڑے فرقے بھی موجود ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے (الجامع لاحکام القرآن، جز 11، ص 32، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ ) شمعون کے پیروکار اگرچہ قلیل تعداد میں تھے اس لیے اہل کتاب میں سے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے والے بہت تھوڑے لوگ ہوئے۔ لیکن انیسویں صدی سے یورپ کے جید علماء کا رجحان حضرت مسیح کے اللہ تعالیٰ کا رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح کے عقیدے کی طرف ہے۔ ڈی ایف سٹراس (DAVID FRIEDRICH STRAUSS) کی کتاب حیات مسیح (LIFE OF JESUS) مطبوعہ 1835 ء اور ای۔ رینان (ERNEST RENAN) کی کتاب حیات مسیح مطبوعہ 1863 ء کے بعد عیسائی حلقوں میں اس نظریہ کو بےپناہ شہرت حاصل ہوئی۔ مختصر الفاظ میں نظریہ، یہ تھا کہ مسیح دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے لیکن انھیں اللہ تعالیٰ کی قوت و شہود کی معرفت اوروں سے زیادہ حاصل تھی۔ THIS IMPLIED THAT JESUS WAS A MAN LIKE OTHER MEN, BUT WITH HEIGHTENED AWARNESS OF THE PRESENCE AND POWER OF GOD. (ENCY OF BRI VOL.13-PAGE 25) مشہد کا مفہوم حقیقتِ مسیح اور دین مسیح میں اختلاف کرنے والوں اور نبی کریم ﷺ کے ہمعصر کفار کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ ان کے لیے ہلاکت ہے، عظیم دن کے مشہد سے۔ عظیم دن سے تو ظاہر ہے کہ قیامت کا دن مراد ہے۔ لیکن مشہد کا مفہوم کیا ہے اس کے بارے میں مختلف باتیں کہی گئی ہیں۔ کیونکہ مشہد کا معنی پیش ہونا اور حاضر ہونا بھی ہوتا ہے۔ اور مشہد حاضری کی جگہ کو بھی کہتے ہیں اور مشہد گواہی پر بھی بولا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں معنے ہی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ان کفار کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج تو انھیں کفر کرتے ہوئے کسی چیز کی پروا نہیں اور مسلمات میں اختلاف کے لیے راہیں نکالتے ہوئے بھی کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن قیامت کا دن کیسا ہولناک ہوگا اور وہاں کی حاضری کس قدر پتا پانی کردینے والی ہوگی اور لوگ کس طرح نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے اور کس طرح خونی رشتے ایک دوسرے کو پہچاننے سے انکار کردیں گے۔ اس عظیم اور ہولناک دن میں دہلا دینے والی حاضری کا انھیں اگر ہلکا سے تأثر بھی نصیب ہوجائے تو ان کی زبانیں گنگ ہو کر رہ جائیں اور یہ چوکڑیاں بھرنا بھول جائیں۔ اسی طرح مشہد کا معنی گواہی بھی لیا جاسکتا ہے اور بعض اہل علم نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام انبیائے کرام سے ان کی امتوں کے بارے میں شہادت طلب کرے گا۔ چناچہ ان کی امتوں نے جیسا کچھ ان کے ساتھ اور ان کی دعوت کے ساتھ سلوک کیا تھا وہ کھول کر بیان کریں گے۔ اس کے بعد ان امتوں پر جس طرح گھڑوں پانی پڑجائے گا اس کا تصور کرنا مشکل نہیں۔ اسی طرح عیسائی امت کے سامنے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے گواہی طلب کی جائے گی۔ سورة المائدہ میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شہادت کا ضروری حصہ یہاں نقل کررہے ہیں جس سے اندازہ ہوجائے گا کہ وہاں حقیقتِ مسیح اور دین مسیح میں اختلاف کرنے والوں پر کیا گزرے گی۔ اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھِیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط قَالَ سُبْحٰنَکَ مَایَکُوْنُ لِیْ اَنْ اَقُوْلَ مَالَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ ط اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہُ ط تَعٰلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ط اِنَّک اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ 5 مَاقُـلْتُ لَھُمْ اِلاَّ مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖ اَنِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَہِیْدًامَّادُمْتُ فِیْھِمْ ج فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ ط وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ 5 اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ ج وَ اِنْ تَغْفِرُلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ (المائدٓۃ : 116۔ 117) جبکہ اللہ پوچھے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنائو ؟ وہ کہیں گے تو پاک ہے میرے لیے یہ کس طرح زیبا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہی ہوگی تو تو اسے جانتا ہے۔ جو کچھ میرے جی میں ہے اس کو تو جانتا ہے لیکن جو کچھ تیرے جی میں ہے اس کو میں نہیں جانتا۔ بیشک غیب کا راز دان تو ہی ہے۔ میں نے تو ان سے صرف وہی بات کہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ ہی کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ میں جب تک ان کے اندر رہا ان پر گواہ رہا، پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو ان کا نگرانِ حال تو تھا اور تو ہر چیز سے باخبر ہے۔ اگر تو ان کو سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخشے تو تو غالب اور حکیم ہے۔
Ayah 19:38

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

کیسے سنتے ہوں گے اور کیسے دیکھتے ہوں گے جس دن وہ ہمارے سامنے پیش ہوں گے، لیکن ظالم آج کے دن کھلی گمراہی میں ہیں۔

اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ لا یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰـکِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (مریم : 38) (کیسے سنتے ہوں گے اور کیسے دیکھتے ہوں گے جس دن وہ ہمارے سامنے پیش ہوں گے، لیکن ظالم آج کے دن کھلی گمراہی میں ہیں۔ ) اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ …یہ دونوں فعلِ تعجب کے صیغے ہیں کہ قیامت کے دن جب یہ کفار اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے تو جو حقیقتیں ان کو آج دکھائی نہیں دیتیں اور جو باتیں ان کو سنائی نہیں دیتیں وہ کس قدر زیادہ سنتے ہوں گے اور کس قدر زیادہ دیکھتے ہوں گے یا کس تیزی سے سنتے اور دیکھتے ہوں گے کہ دیکھنے اور سننے والا تعجب کا اظہار کرنے لگے گا۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میں تعجب کا مفہوم ہم بھی اپنی زبان میں جب کسی شخص کی کسی حرکت یا کسی حالت کو معمول سے بڑھا ہوا دیکھتے ہیں تو اس پر اظہارِتعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ واہ، کیا تیزی ہے ؟ ایک کمزور شخص جو مشکل سے چلتا ہو اور وہ تیز تیز چلنے لگے تو دیکھنے والے تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک لا ابالی آدمی امتحان میں اعلیٰ نمبر حاصل کرلے تو تعجب کا اظہار کرتے ہوئے داد دی جاتی ہے تو عموماً ایسا اس وقت ہوتا ہے جبکہ تعجب کا سبب مخفی ہو یا تعجب کے سبب سے ناواقفیت ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے کلام میں اظہارِ تعجب بظاہر ناقابلِ فہم بات معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ ہر فعل کے پس منظر اور اس کے تہہ منظر کو بھی جانتا ہے۔ پھر اس کا کفار کے سننے اور دیکھنے کے حوالے سے تعجب کا اظہار کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ چناچہ بعض لوگوں نے اس اشکال کو محسوس کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اس آیت میں سرے سے یہ فعلِ تعجب کے صیغے نہیں بلکہ فعلِ امر کے صیغے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ انھیں خوب سنائیے اور دکھائیے اور جن لوگوں نے اسے واقعی فعل تعجب کے صیغے سمجھا ہے انھوں نے اس کی کوئی نہ کوئی توجیہ کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ قرآن کریم انسانوں کی زبان اور انھیں کے اسالیب کے مطابق نازل ہوا ہے۔ یہاں تعجب کا اظہار پروردگار کی جانب سے نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ تم آج ان کی حالت دیکھ رہے ہو کہ یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں زندگی گزار رہے ہیں اور اس گمراہی سے نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا عظیم پیغمبر انھیں جو کچھ سمجھاتا ہے اور جو کچھ انھیں سناتا ہے ان کے سر کے اوپر سے گزر جاتا ہے۔ یہ کسی بات کو سن کے نہیں دیتے، قبول کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ باتیں واقعی ان کو نہ سنائی دیتی ہیں اور نہ دکھائی دیتی ہیں لیکن یہی لوگ جب اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے تو وہاں چونکہ دنیا کے پردے اٹھ چکے ہوں گے ہر چیز کھل کر سامنے آچکی ہوگی اور یہ اپنا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے تو پھر کل تک جو بات انھیں سمجھ نہیں آرہی تھی اب اس کو خوب سمجھیں گے اور اپنے انجام پر روئیں گے اور ان کو جاننے والا حیران ہو کر دیکھے گا کہ کیا یہی لوگ ہیں جو کل یہ کہتے تھے کہ ہمارے دل تو غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں، ان میں باہر سے کوئی چیز داخل نہیں ہوسکتی، لیکن آج ان کی قوت مشاہدہ اور قوت سماعت کس قدر تیزی سے کام کررہی ہے، یہ درحقیقت تفہیم کا ایک اسلوب ہے جو انسانوں میں شائع و ذائع ہے اور قرآن کریم نے اسی بات کی اہمیت اور عظمت کو واضح کرنے کے لیے متعدد مواقع پر یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ لیکن اب ان کے سننے اور دیکھنے سے حسرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے اگلی آیت میں فرمایا :