Ayahs 19:64–65وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلاَّ بِاَمْرِ رَبِّکَ ج لَہٗ مَابَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ ج وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا فَاعْبُدْہُ وَاصْطَبِرْلِعِبَادَتِـہٖ ط ھَلْ تَعْلَمُ لَـہٗ سَمِیًّا۔ (مریم : 46، 65)
(اور ہم نازل نہیں ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے، اسی کی ملکیت (اور اختیار میں) ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہیں اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب کسی چیز کو بھولنے والا نہیں۔ وہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، پس آپ اسی کی بندگی کریں اور اسی کی بندگی پر ثابت قدم رہیں، کیا آپ جانتے ہیں اس کی کوئی نظیر ؟ )
وسطِ کلام میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف سے ایک وضاحت
بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ جتنا ہمارے پاس آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے۔ تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو کچھ کہا وہ ان آیات میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو اس کلام خداوندی سے جواب دیا گیا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ بعثتِ مبارکہ کے بعد مسلسل حق و باطل کی کشمکش سے گزر رہے تھے۔ آئے دن نئی نئی مخالفتوں سے واسطہ پڑتا۔ اہل مکہ ہر روز دشمنی کے نئے ارادوں سے آپ ﷺ کے راستے میں حائل ہوتے۔ اور کبھی کبھی لوگوں کے سامنے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں، اہل کتاب سے مدد لے کر عجیب و غریب سوالات آپ ﷺ کے سامنے پیش کرتے۔ اور کبھی اصحابِ ایمان کی طرف سے بعض ایسی باتیں پوچھی جاتیں جن کا جواب وحی الٰہی پر منحصر ہوتا۔ ایسے ہر موقع پر آنحضرت ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی ضرورت محسوس کرتے۔ دشمنوں کی طرف سے کوئی سوال کیا جاتا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا جواب دیا جائے تو اس کے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر اتریں اور آپ ﷺ دشمنوں کے سامنے اسے پڑھ کر سنائیں اور اگر مخالفتوں کا ہجوم اور اذیت رسانیوں کی ہولناکی اس قدر شدید ہوجاتی کہ اس کا برداشت کرنا بعض دفعہ مسلمانوں کے لیے مشکل ہوجاتا تو آنحضرت ﷺ اور مسلمان اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت اور نئے احکام کے منتظر رہتے۔ غرضیکہ کشمکش کے اس دور میں قدم قدم پر آنحضرت ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی ضرورت محسوس کرتے۔ اور ویسے بھی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نشان اور نوری مخلوق کے سردار ہیں اور برکتیں آپ کے جلو میں چلتی ہیں، اس لیے بھی حضور ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ ایک انس محسوس کرتے اور ان کی تشریف آوری سے آپ ﷺ کو سہارا بھی ملتا اور آپ ﷺ کی طبیعت میں فرحت و مسرت کی لہر بھی اٹھتی۔
اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے لیے اشتیاق سمجھ میں آتا ہے، لیکن حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو جواب دیا اس سے اگر ایک طرف مشرکین کے غلط عقیدے پر چوٹ پڑتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نہایت مقدس اور طاقتور مخلوق ہونے کے باوجود کیا حیثیت رکھتے ہیں۔
سب سے پہلی بات حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے یہ فرمائی کہ ہمارا آنا ہمارے اپنے اختیار میں نہیں۔ ہم تو آپ ﷺ کے رب کے حکم سے اترتے ہیں۔ بظاہر ہم کارکنانِ قضا و قدر ہیں، لیکن قدرت اور اختیار سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کائنات میں کوئی پَتّا بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا، کوئی کونپل اس کے حکم کے بغیر نہیں پھوٹتی، کوئی کلی اس کی اجازت کے بغیر نہیں چٹکتی۔ ہم ہر طرف سے اس کے حصار میں ہیں۔ ہر طرف اس کی حکومت اور اس کا اختیار کارفرما ہے۔ جب اس کا حکم ہوتا ہے، ہم حاضر ہوجاتے ہیں اور جب تک اس کا حکم نہیں ہوتا، ہم اترنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کبھی نسیان کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے ہم دیر بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ امرواقعہ یہ ہے کہ آپ ﷺ جس کشمکش سے گزر رہے ہیں اس کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک واقعہ اس کے علم میں ہے۔ وہ اپنے وسیع علم کے باوجود اگر ہمیں اترنے کا حکم نہیں دیتا تو اس میں بھی اس کی کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ آپ ﷺ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ آپ ﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہیں۔ ہمارے آنے میں تعجیل یا تاخیر اسی کے حکم اور اس کی مشیت کے تابع ہے۔
دوسری آیت میں فرمایا کہ آپ ﷺ کا معاملہ اس ذات کے ساتھ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر وہ کہیں بھولنے لگے تو کائنات کا نظام تلپٹ ہو کے رہ جائے، لیکن ہمیں اس پورے عالم تکوین میں کہیں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔ اس لیے آپ ﷺ کو اسی کی بندگی اس طرح کرنی ہے کہ اس کے راستے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ حائل نہ ہوسکے۔ آپ ﷺ کی بندگی کے راستے میں قدم قدم پر کا وٹیں آئیں گی۔ آپ کو نہ صرف ان پر صبر کرنا ہے بلکہ استقامت بھی دکھانی ہے۔ صبر اور اصطبار دونوں کا مادہ ایک ہے، لیکن عربی کا قائدہ ہے : ” کَثْرَۃُ الالفاظ تدل علی کثرۃ المعنی “ یعنی الفاظ کی کثرت معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے۔ اصطبار میں چونکہ صبر سے زیادہ الفاظ ہیں، اس لیے اس کا معنی ہوگا، ایسا صبر جس میں استقامت اور استقلال ہو۔
آخر میں فرمایا کہ آپ ﷺ کے رب کی شانیں تو بیشمار ہیں لیکن ایک شان ایسی ہے جو آپ ﷺ کے علم میں تو ہے لیکن یاد دہانی کے لیے اس پر توجہ بھی دلائی جا رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ کیا آپ ﷺ اپنے اللہ کا کوئی ہم نام جانتے ہیں۔ ” سَمِیٌ“ کا معنی ہم نام بھی ہوتا ہے اور نظیرومثیل بھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ مشرکین نے ذات خداوندی کے ساتھ بیشمار قوتوں کو شریک کیا اور انھیں اپنے شرک پر ندامت کے بجائے فخر رہا۔ لیکن انھوں نے کبھی بھی کسی شریک خدا کے لیے اللہ تعالیٰ کا نام تجویز نہیں کیا۔ جتنی مشرک قومیں گزری ہیں آپ ان کے عقائد کا استقصا کرکے دیکھ لیجئے وہ اپنے کسی معبود کو اللہ کے نام سے نہیں پکارتے۔ اور دوسرا معنی تو بالکل واضح ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر، کوئی نظیر اور کوئی مثیل نہیں، تو پھر اس کے ارادوں میں کون مزاحم ہوسکتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ مخالفتوں کی پرواہ نہ کیجیے، وہ ہزاروں سہی اور مخالفت کرنے والے نہایت زورآور سہی لیکن اللہ تعالیٰ کا ہمسر کوئی نہیں۔ اس لیے وہ اپنی تمام کوششوں میں ناکام ہوں گے اور آپ ﷺ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کے بھروسے پر دین کی دعوت پیش کررہے ہیں تو آپ ﷺ انشاء اللہ تعالیٰ ایک نہ ایک دن ضرور کامیاب ٹھہریں گے۔
حاصل کلام یہ کہ یہ دونوں آیتیں گزشتہ اور آئندہ کلام خداوندی کے درمیان جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن انھیں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کیونکہ ان میں ایک طرح سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں معذرت پیش کی گئی ہے کہ آپ ﷺ کا شوق و انتظار ہمارے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں لیکن ہماری حیثیت یہ ہے کہ ہم ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے پابند ہیں۔ ہم اپنی مرضی سے وحی لے کر نہیں اترتے بلکہ ہمارا اترنا تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ہماری حاضری میں کبھی تاخیر ہوجاتی ہے تو اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مشیت ہوتی ہے۔ اس میں ایک طرف تو نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تاخیر سے بھی تشریف لائیں جب بھی اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ ہی کی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کو نہایت اطمینان اور دلجمعی کے ساتھ تبلیغ و دعوت کے کام کو جاری رکھنا چاہیے اور دوسری طرف مشرکینِ مکہ کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ تم جن فرشتوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ان کے سردار اور مطاع ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تک نہیں ہوسکتے اور وہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے پابند ہیں تو کسی دوسرے فرشتے کے بارے میں تم یہ کیسے توقع کرسکتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تمہیں چھڑا لے گا۔
مزید یہ بھی فرمایا گیا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی آمد میں تاخیر سے یہ نہ سمجھا جائے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی یاد میں نہیں رہے۔ آپ ﷺ کا رب بھولنے والا نہیں۔ کوئی چیز اس کی نگاہوں اور علم سے مخفی نہیں رہتی۔ آپ ﷺ ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہیں۔ وہ تو عبادت میں آپ ﷺ کے اٹھنے بیٹھنے کو بھی دیکھتا ہے۔ تبلیغ و دعوت میں آپ ﷺ کی مساعی برابر اس کے علم میں ہیں اور دشمنوں کی طرف سے جو سلوک روا رکھا جارہا ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں۔ بایں ہمہ ! اس کی طرف سے خاموشی یقینا کسی نہ کسی حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتی ہے۔ آپ ﷺ کو اس پر یقین رکھتے ہوئے اس کی عبادت اور بندگی کو جاری رکھنا چاہیے اور اس راہ میں آنے والی تکلیفوں پر حتی المقدور صبر کرنا چاہیے۔
Ayahs 19:66–67وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ئَ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا۔ اَوَلاَ یَذْکُرُالْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ یَکُ شَیْئًا۔ (مریم : 66، 67)
(اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا۔ اور کیا انسان یہ یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ )
منکرینِ قیامت کے دلائل کی تردید
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی معذرت کے بعد اب پھر اصل سلسلہ بیان شروع ہورہا ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف سے پیش کردہ کلام میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا شدت سے انتظار رہتا تھا کیونکہ مخالفین کی جانب سے جیسے جیسے تکلیفوں اور اذیتوں میں شدت بڑھتی جاتی اور مسلمانوں کے مصائب میں اضافہ ہوتا جاتا، ویسے ویسے آنحضرت ﷺ محسوس فرماتے کہ ان حالات میں رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے شاید کوئی نیا حکم آنے والا ہو، تو اس کے لیے آپ ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے منتظر ہوجاتے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں مشرکین کی مخالفت کے پس منظر میں توحید و رسالت کے بعد جو بنیادی عقیدہ کارفرما تھا وہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کا عقیدہ تھا۔ مشرکین اگرچہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق اور رازق مانتے تھے لیکن اس بات میں انھیں شبہ تھا کہ مرنے کے بعد کوئی شخص زندہ کرکے دوبارہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ان کی عقل میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ ایک شخص سالوں گزر جانے کے بعد مٹی میں مل جاتا ہے اور اس کے جسم کا نشان تک نہیں رہتا تو آخر اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جاسکتا ہے ؟ ان میں اگرچہ ایسے لوگ بھی تھے جو بالکل قیامت کے منکر تھے، لیکن بیشتر لوگ کھلے انکار کی بجائے تردد کا شکار تھے اور عقلی استبعاد کے باعث اس عقیدہ کو قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اور اس طرح کی باتیں اور عقلی استبعاد کا اظہار چند نام نہاد دانشوروں کی طرف سے نہیں بلکہ اس دور کے عام انسانوں کی یہی سوچ تھی، لیکن کہنے والی زبانیں اگرچہ ان لوگوں کی ہوتی ہیں جو کسی بھی معاشرے کے سربرآوردہ لوگ ہوتے ہیں تو اس آیت میں بھی مراد وہی ہیں لیکن انسان کا لفظ لا کر اس عقیدے کی گہرائی اور عموم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پروردگار نے نہایت سہل اور سادہ انداز میں اس کا رد فرماتے ہوئے ایسی عقلی دلیل دی ہے جو عام سے عام آدمی بھی سمجھتا ہے اور بڑے سے بڑا عقلمند بھی اس کے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا۔ دلیل کا حاصل یہ ہے کہ تمہیں دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہی کے لیے جمع ہونے سے انکار اس لیے ہے کہ تمہاری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی کہ ایک شخص جو موت کا شکار ہوگیا پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اسے زمین میں دفن کردیا گیا۔ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باعث مٹی اس کے جسم کو بھی کھا گئی۔ جان اس کی پہلے ہی نکل چکی تھی، جسم کا نشان باقی تھا وہ بھی اب ختم ہوگیا۔ ایسی صورت میں اس شخص کا دوبارہ زندہ ہونا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ اعتراض کرنے والا انسان کیا بھول گیا ہے کہ وہ اپنے وجود میں آنے سے پہلے لاشے اور عدم محض تھا اور اگر اس کے آغاز کو لیا جائے تو پھر یہ کہنا چاہیے کہ اس کے تو ماں باپ تھے جن کے اتصال سے اس کی تخلیق ہوئی، لیکن اس کے جدِامجد یعنی انسانِ اول کو جب پیدا کیا گیا تو اس کے تو ماں باپ بھی نہ تھے یعنی وہ اپنے ہونے سے پہلے وجود کی کوئی علت بھی نہیں رکھتا تھا۔ تو ایسے عدم محض سے اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کے پیدا ہونے کا جو پر اسس ہے وہ بجائے خود عقل کے لیے چیلنج ہے۔ اور پھر دنیا میں اس کی آمد، پھر قدم قدم پر اس کی نشوونما، حتیٰ کہ شعور اور بلوغت کی عمر کو پہنچ کر اس کا مکمل انسان بن جانا، اس میں کون سا ایسا موقع ہے جو انسان کے لیے حیرانی کی دنیا پیدا نہیں کردیتا اور اس سب کچھ کا آغاز عدم محض اور کچھ نہ ہونے سے ہوا اور اب جبکہ انسان ایک وجود رکھتا ہے اور موت کا شکار ہو کر بھی ممکن ہے اس کے وجود کی کوئی نہ کوئی رمق کہیں باقی رہ گئی ہو اور اگر ایسا نہیں تو اس کا ایک نمونہ تو بہرحال موجود ہے، اس سے اس کا ازسرنو پیدا کیا جانا کیا پہلے پیدا کیا جانے سے مشکل ہے ؟ جو قادر مطلق ذات عدم محض اور کچھ نہ ہونے سے پیدا کرسکتی ہے، اس کے لیے کچھ ہونے سے پیدا کرنا تو بہت آسان ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ جو مشکل ترین چیز تھی اسے تم نے تسلیم کرلیا اور جو نسبتاً آسان ہے، اس کا انکار کررہے ہو۔
Ayah 19:68بریں عقل و دانش بباید گریست
فَوَرَبِّکَ لَنَحْشُرَنَّھُمْ وَالشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّھُمْ حَوْلَ جَھَنَّمَ جِثِیًّا۔ (مریم : 68)
(پس آپ کے رب کی قسم ہم ضرور جمع کریں گے ان کو بھی اور ان کے شیطانوں کو بھی، پھر ہم ان کو جہنم کے گرد اس طرح حاضر کریں گے کہ وہ دوزانو بیٹھے ہوئے ہوں گے یا گھنٹوں کے بل گرے پڑے ہوں گے۔ )
کفار کے انجام سے ترہیب
قیامت کے وقوع پر قرآن کریم نے بیشمار دلائل دیئے جن میں عقلی بھی ہیں، نقلی بھی۔ آفاقی بھی ہیں اور انفسی بھی۔ واقعاتی بھی ہیں اور تاریخی بھی۔ لیکن ان کے باوجود جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں لاتے بلکہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پیغمبرانہ ہمدردی اور خیرخواہی کے حوالے سے دعوت و ہدایت کی ایک ہی شکل باقی رہ جاتی ہے کہ قیامت کے آجانے کے بعد انکار کرنے والوں کے ساتھ جس طرح کے حالات پیش آنے والے ہیں ان کی ایک تصویر ان کے سامنے رکھ دی جائے کہ اگر ان کی قبولیت کی استعداد پر بالکل پتھر نہیں پڑگئے تو شاید وہ اپنے انجام کی فکر کرکے صحیح راستہ اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں قیامت پر ایک فطری اور واقعاتی دلیل دینے کے بعد قیامت میں ان کے ساتھ پیش آنے والے احوال کا ذکر کیا جارہا ہے اور وہ بھی انتہائی حتمی انداز میں تاکہ سننے والے پوری طرح متنبہ ہوسکیں۔ ارشاد فرمایا : کہ اے پیغمبر ! آپ کے رب کی قسم۔ اس قسم میں اگر ایک طرف آنحضرت ﷺ کے لیے نہایت تلطف کا اظہار ہے تو دوسری طرف شاید یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ آپ ﷺ کے مخالفین بھی اس بات کے تو قائل ہیں کہ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، تو آپ ﷺ کا رب کیسے جھوٹ بول سکتا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کو خبردار ہونا چاہیے کہ جس قیامت کا یہ انکار کررہے ہیں اس دن ہم انھیں ان کے شیطانوں کے ساتھ ضرور اکٹھا کریں گے۔ شیاطین کے ساتھ وائو مع کے معنی میں ہے۔ یعنی ان میں سے ایک ایک کافر کو اس طرح محشر میں لایا جائے گا کہ جن شیاطینِ جن و انس نے انھیں گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی ہر کافر کا شیطان اس کے ساتھ بندھا ہوگا۔ یہ سب زنجیروں میں جکڑے ہوئے محشر میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے گرد اس طرح حاضر کریں گے کہ وہ دوزانو بیٹھے ہوئے ہوں گے۔
جَثِیٌّ کا مفہوم
جَثِیٌّ … جَاثٌ کی جمع ہے۔ جَثَا جَثُوا کے معنی دوزانو اور اکڑوں بیٹھنے کے ہیں۔ غلام اپنے آقا کے سامنے اور مجرم عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے اسی طرح بیٹھتے ہیں۔ بعض اہل لغت کے نزدیک جَثَا کا معنی گھٹنوں کے بل جھکنا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ حشر کی ہولناکیوں کی وجہ سے کافر سیدھے کھڑے نہ ہوسکیں گے اور گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے۔ مجاہد ( رض) اور قتادہ ( رض) نے یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ دونوں کے مآل میں کوئی فرق نہیں کہ وہ جہنم کے گرد غلاموں کی طرف اکڑوں بیٹھے فیصلے کا انتظار کررہے ہوں گے یا جہنم کی ہولناکی کی وجہ سے ان کی ٹانگیں ان کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیں گی اور وہ گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے۔
یہ منظرکشی اس لیے کی جارہی ہے تاکہ مشرکین کے عمائدین کو شاید تنبہ ہوسکے کہ آج جبکہ وہ اپنی معمولی دولت اور امارت کے نشے میں اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس کی دعوت کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب انھیں اس انجام سے دوچار ہونا پڑے گا کہ وہ جہنم کے پاس غلاموں کی طرح بیٹھے یا گرے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں ہوں گے کہ اب ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور عام کفار کو بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم جن سرداروں اور لیڈروں کے پیچھے چل کر یا جنات کے موہوم تصورات کا یقین باندھ کر قیامت کا انکار کررہے ہو، کل کو تم اور تمہارے یہ گمراہ کرنے والے سردار ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے گھٹنوں کے بل جہنم کے پاس پڑے اپنے انجام کا انتظار کررہے ہوں گے۔ یہ تو انھیں اندازہ ہوجائے گا کہ ہمیں بہرصورت جہنم میں جانا ہے۔ انتظار صرف اس بات کا ہوگا کہ کس کے لیے جہنم کے کس وارڈ میں جانے کا حکم ہوتا ہے۔
Ayah 19:69ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ اَیُّھُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا۔ (مریم : 69)
(پھر ہم چھانٹ کر الگ کرلیں گے ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو جو خدائے رحمن سے سب سے زیادہ سرکش رہے ہوں گے۔ )
کفار کے لیڈروں پر ضرب
یہ اس تصویر کا دوسرا منظر ہے کہ جب سب کافر جہنم کے گرد نہایت بیچارگی کے ساتھ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اپنے انجام کے انتظار میں ہوں گے تو اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا کہ ان میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیا جائے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کی رسول کے مخالف رہے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف تحریکیں چلاتے رہے اور قدم قدم پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہدایت کے جواب میں رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کیے، اور ہر ممکن طریقے سے اللہ تعالیٰ کے نبی اور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی اور اس طرح سے انھوں نے عام کافروں کی قیادت کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے قریب بھی نہ آسکیں۔ آج انھیں نکال کر الگ کھڑا کیا جائے گا اور انھیں کہا جائے گا کہ جس طرح تم ضلالت و گمراہی میں لوگوں کی قیادت کرتے رہے ہو، آج جہنم میں جانے کے لیے بھی ان کی قیادت کرو۔ اس طرح سے وہ اپنی پیروی کرنے والوں کو اپنی قیادت میں وہاں وہاں پہنچائیں گے جو ان کی سزا کی جگہ ہوگی اور پھر وہ خود ان سے بھی بڑھ کر عذاب کی جگہ پر رکھے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے :
اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنَاھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَاکَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ۔ (النحل : 88)
” جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا، ہم ان کے عذاب پر مزید عذاب کو زیادہ کریں گے کیونکہ وہ فساد پھیلاتے تھے۔ “
Ayah 19:70ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ ھُمْ اَوْلٰی بِھَا صِلِیًّا۔ (مریم : 70)
(پھر بیشک ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو جہنم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ سزاوار ہوں گے۔ )
صِلِیًّا … علامہ قرطبی نے جوہری کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب کسی چیز کو تم آگ میں جھونک دو تو عرب کہتے ہیں : صلیت الرجل نارا اذا ادخلتہ النار وجعلتہ یصلاھا۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ کفار کی جہنم پر ایسی بھیڑ ہوگی جس کا شمار ہی ممکن نہیں ہوگا، تو ایسی افراتفری میں کون جان سکے گا کہ کون جہنم کے کس حصے اور کس وادی میں داخل کیے جانے کا مستحق ہے اور ممکن ہے اس بھیڑ میں ایسے لوگ بھی دھر لیے جائیں جو سرے سے جہنم میں داخل کیے جانے کے مستحق نہ ہوں۔ اس طرح کی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے فرمایا کہ ایسی غلط فہمی صرف اس شخص کو ہوسکتی ہے جو ہمارے علم کی وسعت سے ناواقف ہے۔ دنیا میں ہماری مخلوقات بیشمار رہی ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خاکی مخلوق کو سمندر میں پیدا کردیا ہو اور آبی مخلوق کو کسی صحرا میں جنم دیا گیا ہو۔ پھر مخلوقات کی بیشمار اقسام ہیں۔ ان میں سے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق رزق دیا جارہا ہے۔ کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا کہ کسی مخلوق کو دوسری مخلوق کا رزق دے دیا گیا ہو۔ منطقہ باردہ کے جانور منطقہ حارہ میں نہیں پائے جاتے۔ اور منطقہ حارہ کے جانور منطقہ باردہ میں نہیں ہوتے۔ حشرات الارض کی ایسی قسمیں بھی ہیں جو زمین کے نیچے اور چٹانوں کے گوشوں میں آباد ہیں، لیکن وہیں ان کی ضرورت کے مطابق انھیں غذا مل رہی ہے۔ جس پروردگار کی علمی وسعت کا یہ عالم ہو اس کے بارے میں یہ سمجھنا کہ وہ اہل جہنم کے بارے میں کیسے صحیح فیصلہ کرسکے گا، کج فکری کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لیے پروردگار نے فرمایا کہ ہم خوب جانتے ہیں، اب بھی جانتے ہیں اور اس وقت بھی جانتے ہوں گے کہ کون شخص جہنم کا سزاوار ہے اور کس وارڈ میں رکھے جانے کے قابل ہے۔ اور جن شیاطین نے دوسروں کو گمراہ کیا انھیں الگ نکال کر زیادہ سزا کی وادیوں میں کہاں رکھا جاسکتا ہے۔
اسی سے کفار کے اس عقیدے پر بھی چوٹ لگانا مقصود ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے وہ شاید یہ کہہ کر ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑا لیں کہ ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں، اس لیے ہم سفارش کرتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یہ بہت اچھے لوگ ہیں انھیں چھوڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر ایسے تصورات کی جڑ کاٹ دی کہ ہم سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔ اس لیے نہ ہمیں کسی کے مشورے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی یہ کہنے کی جسارت کرسکتا ہے کہ ہم اس مجرم کو زیادہ جانتے ہیں اور یہ نرمی کا مستحق ہے۔
Ayahs 19:71–72وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُھَا ج کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُالظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا۔ (مریم : 71، 72)
(اور بیشک تم میں سے ہر شخص ضرور دوزخ پر وارد ہوگا، یہ آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ایک طے شدہ امر واجب ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا، اور ظالموں کو اس میں اوندھا گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ )
قیامت کے دن کی ہولناکی
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ” مِنْکُمْ “ کی ضمیر خطاب اور ” وارد “ کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ مفسرین کا یہ اختلاف بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق کوئی صحیح روایت منقول نہیں، کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے بعد مفسرین میں اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جن لوگوں نے ضمیرخطاب کو عام رکھا اور ورود کا معنی دخول کیا ہے، انھوں نے اس پر حضرت جابر بن عبداللہ ( رض) سے ایک روایت بھی بیان کی ہے جسے مسنداحمد نے تیسری جلد میں نقل کیا ہے اور حافظ زین نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ حدیث قابل قبول ہے تو پھر مفسرین جن میں بڑے بڑے نام شامل ہیں انھوں نے اختلاف کیسے کیا ؟ اس لیے صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کوئی صحیح حدیث اس بارے میں ہم تک نہیں پہنچی۔ اس سلسلہ میں عکرمہ ( رض) اور سعید بن جبیر ( رض) سے جو قول منقول ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کے اقوال میں سے بھی ایک قول یہی ہے، وہ سیاق کلام سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ سابقہ آیات میں جن کفار کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ہم انھیں ضرور محشر میں جمع کریں گے اور پھر اس حالت میں انھیں جہنم پر لائیں گے کہ وہ فیصلے کے انتظار میں جہنم کے کنارے گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے، پھر ان کے ہر گروہ میں سے ہم بڑے بڑے لوگوں کو نکالیں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے زیادہ مخالف رہے ہوں گے، انھیں سے خطاب فرماتے ہوئے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ تمہیں ہر صورت میں جہنم پر وارد ہونا ہے۔ اس صورت میں وردو کا معنی دخول ہی زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے، تو مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں ہر صورت میں جہنم میں داخل ہونا ہوگا، اور یہ ایسا طے شدہ امر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے واجب کر رکھا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس طرح سے اسلوب میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے کہ پہلے جو بات بصیغہ غائب کہی جارہی تھی، اب بصیغہ خطاب کہی جارہی ہے، تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اسلوب میں یہ تبدیلی قرآن کریم میں عام ہے اور عرب اپنے خطبات میں کثرت سے اس کا استعمال کرتے تھے اور دونوں کے اپنے اپنے فوائد ہیں۔ پہلی آیت میں غائب کے صیغے سے کفار کا ذکر یہ تصور دینے کے لیے ہے کہ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ پروردگار ان کی طرف التفات فرمائیں۔ اور پیش نظر آیت میں غائب کی بجائے خطاب کا صیغہ لا کر یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ شدید غضب اور جلال کے انداز میں انھیں کافروں کو جنھیں التفات کے قابل نہیں سمجھا گیا تھا سے خطاب فرمائے گا کہ اب تمہارے لیے دادوفریاد اور عذرومعذرت کا کوئی موقع نہیں، اب تم میں سے ہر ایک کو جہنم میں داخل ہونا ہے۔ اور اس طرح سے آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی دینا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب آپ ﷺ خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ یہ لوگ کس طرح جہنم میں جل رہے ہوں گے۔
جن مفسرین نے اس آیت کی ضمیرخطاب کو کفار کے لیے مخصوص کیا ہے اور مومنوں کو اس میں شامل نہیں کیا ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰی اُوْلَئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ ۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا
(بیشک جن کے لیے ہمارا اچھا وعدہ ہوچکا ہے وہ اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے، وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے)
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو جہنم سے دور رکھا جائے گا اور وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سن پائیں گے، تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ کافروں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں۔
یہ تفسیر جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے سیاق کلام سے زیادہ موافقت رکھتی ہے لیکن اس میں دشواری یہ ہے کہ دوسری آیت کریمہ کا مفہوم جو اس آیت کے مضمون کی تکمیل کرنے والا ہے اس سے میل نہیں کھاتا کیونکہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر داخل ہوں گے، مسلمانوں کو جہنم کی آہٹ بھی سنائی نہیں دے گی کیونکہ انھیں جہنم سے بہت دور رکھا جائے گا جبکہ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ پھر ہم ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہے اس جہنم سے نجات دے دیں گے اور کافروں کو اسی حالت میں اس میں چھوڑ دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب مسلمان جہنم میں داخل ہی نہیں ہوں گے تو پھر ان کو نجات دینے کا کیا معنی ؟ اس سوال سے بچنے کے لیے مندرجہ بالا تفسیر کے قائلین نے یہ تاویل کی ہے کہ فِیْھَا کی ضمیر کا مرجع اگرچہ جہنم ہی ہے لیکن مراد اس سے جہنم کا وہ حصہ ہے جس میں ابتدائی طور پر تمام لوگوں کو لایا جائے گا اور جہاں داروغے ان کا جائزہ لے کر ان میں درجہ بندی کریں گے۔ مسلمانوں کو تو یہاں سے جنت میں بھیج دیا جائے گا اور کافر اسی حالت میں انتظار میں رہیں گے کہ انھیں کس وادی میں بھیجا جاتا ہے تاآنکہ انھیں ان مقامات پر پہنچا دیا جائے گا جو ان کے عذاب کے لیے مخصوص ہوں گے۔
بعض مفسرین نے ایک دوسرے انداز سے ان آیات کی تفسیر بیان کی ہے۔ انھوں نے دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت کی تفسیر میں ورود سے مراد دخول نہیں لیا بلکہ مرور لیا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام کافر اور مسلمان اللہ تعالیٰ کے حتمی فیصلے کے مطابق جہنم پر گزریں گے۔ مومن گزر کر جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافر جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔ رہی یہ بات کہ ان کا گزرنا جہنم کے کناروں سے ہوگا یا پل صراط کے ذریعے، دونوں ہی صورتیں ممکن ہیں۔ اگر دوسری صورت مراد لی جائے تو پھر ان احادیث سے مطابقت ہوجاتی ہے جن میں اہل ایمان کا پل صراط کے ذریعے گزرنے کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے مدارج کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ یہ یاد رہے کہ ورود کا معنی دخول جس طرح بعض اہل لغت کے نزدیک معتبر ہے اسی طرح دیگر اہل لغت کے نزدیک نامعتبر بھی ہے وہ اس کا صحیح معنی مرور قرار دیتے ہیں اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) سے یہی مضمون حدیث میں منقول ہے اور ایک قول اس کی تائید میں حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کا بھی احادیث میں وارد ہوا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 19:73وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا لا اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌمَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا۔ (مریم : 73)
( جب ان پر ہماری آیات وضاحت سے تلاوت کی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایمان والوں سے سوال کرتے ہیں کہ فریقین میں سے کس کی رہائش گاہ آرام دہ ہے اور کس کی نشست گاہ خوبصورت ہے۔ )
مقام اور ندی کا مفہوم
” مقام “ اور ” ندی “ کا ہم نے ترجمہ رہائش گاہ اور نشست گاہ کیا ہے۔ قرطبی نے اسی کو علامہ جوہری سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ” مقام “ مرتبہ کے معنی میں اور ” ندی “ سوسائٹی پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ان کے معنی میں عموم پایا جاتا ہے۔
کفار کی مغرورانہ ذہنیت
اس آیت کریمہ میں قیامت اور آخرت کا انکار کرنے والوں کی ذہنیت کو اجاگر کیا جارہا ہے یعنی ان کا انکار صرف عقلی استبعاد کی وجہ سے نہیں بلکہ اصل سبب اس کا یہ ہے کہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ ہم دنیا میں جس طرح عیش و آرام اور ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزار رہے ہیں اور ہمیں معاشرے میں عزت کا جو مقام حاصل ہے اور جس طرح ہمارے دروازوں پر ضر ورت مندوں کا ہجوم رہتا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ لوگ ہیں۔ کیونکہ یہ دنیا اس کی دنیا ہے، وہ یہ کیسے پسند کرسکتا ہے کہ اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو دنیوی مال و دولت اور آرام و راحت سے نوازے۔ اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہم واقعی اس کی نگاہوں میں پسندیدہ ہیں تو اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر واقعی قیامت کا ظہور ہو ہی گیا تو وہاں بھی ہم اسی مقام و مرتبہ کے مالک سمجھے جائیں گے کیونکہ یہ بات سراسر نامعقول ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں جن کو محبوب رکھتا تھا انھیں آخرت میں عذاب کی نذر کردے۔ اسی طرح وہ مسلمانوں کے بارے میں اس کے مفہوم ِمخالف سے استدلال کرتے تھے کہ تم جو اپنے آپ کو جنت کا وارث سمجھتے ہو اور خود کو اللہ تعالیٰ کا محبوب گردانتے ہو، تمہیں نہ کوئی دنیا کا آرام میسر ہے نہ معاشرے میں تمہیں عزت کا مقام حاصل ہے، تم بےنوائوں اور بےکسوں کا ایسا ٹولہ ہو جن کی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ قیامت میں بھی تمہیں کوئی مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہوگا۔ جس طرح یہاں تم ذلت کی زندگی گزار رہے ہو، وہاں بھی تمہیں ایسی ہی صورتحال سے واسطہ پڑے گا۔
مشرکینِ مکہ دو مغالطوں کا شکار تھے۔ ایک تو یہ کہ آخرت دنیوی زندگی کا عکس ہے۔ جو شخص یہاں جس حالت میں ہے قیامت میں بھی اسی حالت میں ہوگا اور دوسرا مغالطہ یہ تھا کہ ظاہری مال و دولت، خدم و حشم اور ریاست و حکومت یہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کی علامتیں ہیں۔
اشرافِ مکہ اس طرح کے دلائل کا سہارا لے کر مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم خود موازنہ کرکے دیکھو کہ تم اور ہم دو فریق ہیں، دونوں میں سے بہتر حالت میں کون ہے، بس جنت کو بھی اسی کا عکس سمجھو، اگر تم واقعی جنت میں جانا چاہتے ہو تو ہماری پیروی کرو تاکہ ہماری طرح دنیا میں بھی عیش کرو اور آخرت میں بھی تمہیں عیش کی زندگی ملے۔ لیکن تم بجائے اس بات کو سمجھنے کے ہمیں دعوت دیتے ہو کہ ہم تمہاری زندگی جیسی زندگی اختیار کرلیں، تو اس سے بڑھ کر حماقت اور کیا ہوگی کہ ہم اپنی دنیا بھی گنوا لیں اور آخرت میں بھی عذاب بھگتیں۔
قرآن کریم نے جابجا ان دونوں مغالطوں کا رد فرمایا ہے۔ اس کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ یہاں کے گدا، وہاں منعم بنا دیئے جائیں اور یہاں کے حکمران اور دولت مند وہاں جہنم کی پست ترین وادیوں میں پھینک دیئے جائیں، کیونکہ اس کے نزدیک قدر و قیمت، مال و دولت اور مقام و مرتبہ کی نہیں بلکہ ایمان اور حُسنِ عمل کی ہے۔ وہاں نسب و حسب نہیں، کردار کو اہمیت ملے گی۔ فراعنہ اور نماردہ ذلت کی وادیوں میں ہوں گے اور حضرت بلال اور حضرت خباب ؓ جیسے عزت کے تحت پر براجمان ہوں گے۔
Ayah 19:74وَکَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ھُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِئْـیًا۔ (مریم : 74)
(اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چھوڑیں جو ان سے سازوسامان اور شان و شوکت میں کہیں بہتر تھیں۔ )
مغروروں کے معارضہ کا جواب
” قَرْن “ کے معنی ہیں ایک دور کے لوگ، امت اور قوم۔ ” الاثاث “ متاع البیت، یعنی گھر کے سامان کو کہتے ہیں۔ رِئْـیًا خوش منظر اور شان و شوکت پر بولا جاتا ہے۔ تاج العروس میں اس کی تشریح ان الفاظ سے کی گئی ہے۔ وھومارأتہ العین من حالۃ حسنۃ وکسوۃ ظاہرۃ ” وہ دلکش حالت اور ظاہری لباس جو آنکھوں سے دکھائی دے۔ “
اشرافِ قریش کی دلیل اور ان کے معارضہ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اسباب و سامان اور شان و شوکت کسی فرد یا کسی قوم کے اللہ تعالیٰ کے یہاں مقرب ہونے کی دلیل نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے فراعنہ اور نماردہ اور سکندر و چنگیز اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوتے اور دنیا کی رہنمائی کرتے اور وہ قومیں کبھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار نہ ہوتیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی شان و شوکت سے نوازا تھا اور دنیا ان کی عظمتوں کے سامنے جھکتی تھی لیکن جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی دکھائی اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کردیا۔ قوم عاد اور قوم ثمود دنیا کی طاقتور ترین قومیں تھیں۔ فرعون اور اہل فرعون ہر طرح کی فراخی اور عیش و عشرت سے بہرہ ور اور بڑی بڑی فوجوں کے مالک تھے، لیکن ان کا جو انجام ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔
Ayah 19:75قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰـلَۃِ فَلْیَمْدُدْلَـہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا 5 ج حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَۃَ ط فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ ھُوَشَرٌّمَّکَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدًا (مریم : 75)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں تو اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ ان کی رسی اچھی طرح دراز کرے حتیٰ کہ جب وہ دیکھ لیں اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے خواہ عذاب دنیا یا قیامت۔ تو وہ جان لیں گے کون مرتبے کے اعتبار سے بدتر ہے اور کون لائولشکر کے اعتبار سے کمزور تر ہے۔ )
اسلوب کی تبدیلی سے ایک حکمت کی طرف اشارہ
تشریح سے پہلے ترجمے کے حوالے سے ایک ضروری بات۔ آیت کریمہ میں فَلْیَمْدُدْ کا ترجمہ عام طور پر یہ کردیا جاتا ہے ” دراز کرتا ہے۔ “ یہ ترجمہ اگرچہ غلط نہیں لیکن عام اسلوب سے ہٹا ہوا اور اس حکمت کے ذکر سے خالی ہے جس کی طرف یہاں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ ” دراز کرتا ہے “ نہیں کیا بلکہ یہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ اس کی رسی دراز کرے۔ قرآن کریم میں اسالیب میں جو بلاغت پائی جاتی ہے اس کی یہ بھی ایک مثال ہے۔ اسلوب کی تبدیلی سے ایک گہری حکمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کفار کی سرکشی اور تمرد کو دیکھتے ہوئے فوراً ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ پروردگار ایسے لوگوں کو عذاب کا شکار کیوں نہیں کردیتا۔ کیا اس کی زمین ایسی ہی سستی اور اس کی نعمتیں ایسی ہی بےمایہ ہیں کہ اس زمین پر ایسے سرکش لوگوں کو رہنے اور نعمتوں سے متمتع ہونے کا موقع دیا جائے۔ چناچہ اس کا جواب اس اسلوب کے ذریعے اس طرح دیا گیا ہے کہ جزاء و سزا کے عام قانون کو دیکھتے ہوئے تو یہ لوگ واقعی اس قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اپنی شان رحمت اور شان استغنا بھی ہے جس وجہ سے زمین پر انسانوں کی ہمہ ہمی ہے، ورنہ اگر ہر چیز عدل کے ترازو میں تلتی اور فوراً جزاء و سزا کا قانون مرتب ہوجاتا تو یہاں کچھ بھی باقی نہ رہتا۔ اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ غلطیاں کریں یا سرکشی کا راستہ اختیار کریں وہ انھیں سنبھلنے کے لیے مہلت پہ مہلت دیتا چلا جائے تاآنکہ جب اتمامِ حجت ہوجائے یا قیامت کا ساحل طلوع ہوجائے تو تب انھیں گرفت میں لے۔ اس حکمت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے یہاں یہ اسلوب اختیار کیا گیا۔
کفار کے بیہودہ دعاوی کا جواب
اشرافِ مکہ نے مسلمانوں سے یہ کہا تھا کہ تم جو بار بار ہمیں اسلام کی دعوت دیتے ہو اور آخرت کو ماننے کی ترغیب دیتے ہو، تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا تو وہ یقینا ہمیں خوشحالی میں نہ رکھتا اور اگر تم سے خوش ہوتا تو تمہیں ان برے حالوں میں نہ رکھتا۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ قیامت چونکہ دنیا ہی کے اعمال کا پھل اور یہاں کے حالات کا عکس ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ دنیا میں جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رضامندی سے نوازے، آخرت میں انھیں عذاب کے حوالے کردے۔ اس کے جواب میں پروردگار نے فرمایا کہ کتنی ایسی قومیں ہیں جو زندگی کے عیش اور خوشحالی میں تم سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی سرکشی کے باعث ہلاک کردیا۔ تو تمہاری یہ خوشحالی تمہیں سرکشی کے انجام سے بچا نہ سکے گی۔ اس سے سوال پیدا ہوا کہ پھر مشرکینِ مکہ کو کیوں نہیں ہلاک کیا جارہا۔ اس کے جواب میں پیش نظر آیت کریمہ میں قرآن کریم نے اس سنت الٰہی کو بیان کیا ہے جو اس نے سرکشوں اور نافرمانوں کے بارے میں طے کر رکھی ہے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں کہ جیسے ہی کوئی پیغمبر کسی قوم کی طرف ہدایت کے لیے مبعوث ہوں اور قوم اس کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردے تو وہ فوراً ان پر عذاب بھیج دے کیونکہ نافرمانوں اور جرائم پیشہ لوگوں پر فوری گرفت کمزور حکمرانوں کا شیوہ رہا ہے۔ انھیں خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ان لوگوں کو بچ نکلنے کا موقع دیا گیا ہے تو ممکن ہے یہ زیادہ طاقت پکڑ جائیں یا کوئی بڑا جتھہ بنالیں اور پھر ہماری گرفت میں نہ آسکیں۔ اس لیے جیسے ہی ان پر قابو پانا ممکن ہوتا ہے حکمران انھیں گرفت میں لے لیتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ قادر مطلق اور اور ہمہ گیر حکمرانی کا مالک ہے اس کی قدرت سے کسی کو بھاگ نکلنے کی طاقت نہیں۔ اس لیے وہ پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت پہ مہلت عطا فرماتا ہے۔ اس طرح سے جن لوگوں میں اصلاح پذیری کی کچھ بھی رمق ہوتی ہے وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جن میں قبولیت اور اثرپذیری کی استعداد کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں وہ اگرچہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے لیکن ان کی فائل موٹی ہوتی جاتی ہے اور ان کے جرم کا ثبوت حتمی صورت اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ مزیدبراں ایک اور بات بھی ہے جس کی طرف ہم اس سے پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات رحیم و کریم بھی ہے بلکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے۔ اس کی رحمت کا بھی یہ تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو سنبھلنے کا موقع دے اور یہ موقع اس وقت تک طویل ہوتا جائے جب تک اتمامِ حجت نہ ہوجائے۔
اہلِ مکہ پر عذاب کا نہ آنا اللہ تعالیٰ کی اسی سنت کا مظہر ہے۔ انھیں مہلت دی گئی ہے اور یہ مہلت اس وقت تک چلے گی جب تک اتمامِ حجت کے بعد اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آجاتا یا قیامت وقوع پذیر نہیں ہوجاتی۔ اگر عذاب آگیا اور ان لوگوں نے کفر سے توبہ نہ کی یا اپنے کفر سمیت قیامت تک پہنچ گئے تو وہاں انھیں اندازہ ہوجائے گا کہ اپنے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے کون بدتر ہے اور کس کا لشکر زیادہ کمزور ہے۔ آج وہ جن قوتوں پر ناز کرتے اور مسلمانوں پر برتری جتاتے ہیں اس دن ان پر اس کی حقیقت کھل جائے گی۔
Ayah 19:76وَیَزِیْدُاللّٰہُ الَّذِیْنَ اھْتَدَوْا ھُدًیط وَالْبٰـقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌعِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ مَّرَدًّا۔ (مریم : 76)
(اور اللہ تعالیٰ اضافہ فرماتا ہے ان لوگوں کی ہدایت میں جو ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اور باقی رہنے والے اعمالِ صالحہ تیرے رب کے نزدیک اجر کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور انجام کار کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں۔ )
ایک اور سنت اللہ کا بیان
اس آیت کریمہ میں ایک اور سنت الٰہی کا ذکر ہے وہ یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ نافرمانوں اور سرکشوں کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائیں یا پھر اپنے انجام کو بدتر سے بدتر بنالیں۔ اسی طرح وہ ان لوگوں کی ہدایت میں بھی اضافہ کرتا ہے جو ہدایت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہدایت کو چار معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ہم نے سورة فاتحہ کی تشریح میں اور سورة بقرہ کے آغاز میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ان معنوں میں سے ایک معنی قلبی نوروبصیرت ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ جب وہ کسی نئے راستے کو اختیار کرتا یا نئے نظریئے کو قبول کرتا ہے تو شروع میں اس کا دماغ قبولیت کے مراحل طے کرتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ وہ بات دل میں اترنے لگتی ہے۔ دل کبھی اسے قبول کرتا ہے اور کبھی توہمات کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی کشمکش میں آخر ایک دن ایسا آتا ہے جب دل اس بات پر ٹھک جاتا ہے۔ اور پھر دنیا کا کوئی تغیر دل کے اس اطمینان کو شکست نہیں دے سکتا۔ اسی کو قلبی بصیرت یا قلبی نور کا نام دیا گیا ہے۔ ایک مومن کی معراج یہی ہے۔ جب وہ ہدایت کے راستے کو اختیار کرتا ہے تو وہ ہر طرح کے مراحل سے گزرتا ہے لیکن جب اس راستے میں پیش آنے والی ذہنی الجھنوں اور عملی مشکلات پر ثابت قدم رہتا ہے تو بالآخر اس کے دل میں ایک نور روشن ہوتا ہے جو ہر طرح کے وہم اور بےیقینی کو جلا کے رکھ دیتا ہے۔ جو لوگ ساری عمر دماغی کاوشوں تک محدود رہتے ہیں اور ان کے دل کی کلی کھلنے میں نہیں آتی ان کے بارے میں کھٹکا ہی رہتا ہے کہ وہ کسی وقت بھی کوئی اور فیصلہ کر بیٹھیں۔ اسی لیے اقبال مشورہ دیتا ہے :
دل کا نور کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
ہم جو صحابہ کرام ( رض) کے اس طرح کے اقوال پڑھتے ہیں کہ آج اگر ہمارے سامنے عالم غیب کی وہ ساری چیزیں جن کی اطلاع ہمیں قرآن و سنت نے دی ہے کھل کر سامنے آجائیں اور ہم انھیں بہ چشم سر دیکھیں تو ہمارے ایمان و یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ ہم یقین کی اس دولت کو پاچکے ہیں جو دیکھنے اور سننے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اسی قانون کا اظہار ہے جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ صحابہ کرام ( رض) نے چونکہ اس راستے کی ہر وادی کو سر کرلیا تھا اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے مستحق ٹھہرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا تھا۔ پھر اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ ہر کام کرنے سے پہلے دنیا کے نفع عاجل کو نہیں بلکہ نفع آجل کو دیکھتے تھے جس کا حاصل یہ تھا کہ ان کا ہر عمل باقی رہنے والا تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو اَلْبٰـقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ کہا گیا ہے۔ ہر وہ نیک عمل جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے لیے کیا جاتا ہے وہ باقیات میں شامل ہے۔ اور جو کام دنیا کے لیے کیا جاتا ہے وہ فانی دنیا کی طرح فنا ہو کر رہ جاتا ہے۔
Ayahs 19:77–80اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَبِاٰیٰـتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالاً وَّوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَعِنْدَالرَّحْمٰنِ عَہْدًا۔ کَلَّا ط سَنَکْتُبُ مَایَقُوْلُ وَنَمُدُّلَـہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا۔ وَّنَرِثُـہٗ مَایَقُوْلُ وَیَاْ تِیْنَا فَرْدًا۔ (مریم : 77، 78، 79، 80)
(بھلا آپ نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیات کا منکر ہوا اور کہا کہ مجھے مل کر رہے گا مال اور اولاد۔ کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے۔ ہرگز نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔ اور جن چیزوں کا وہ مدعی ہے اس کے وارث ہم بنیں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا حاضر ہوگا۔ )
ایک اور خودفریبی کا رد
مشرکینِ مکہ جن خودفریبیوں کے باعث قیامت کے انکار کررہے تھے ان میں سے ایک خودفریبی یہ تھی کہ جو خوشحالی، عیش اور آرام ہمیں دنیا کی زندگیوں میں میسر ہے یہ سب کچھ اگر آخرت وقوع پذیر ہوئی تو وہاں بھی ہمیں ملے گا۔ یہاں کے مالدار اور صاحب اولاد وہاں بھی ایسے ہی ہوں گے اور جو دنیا میں بدحالی میں مبتلا ہیں اور نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں وہ آخرت میں بھی اسی طرح ٹھوکریں کھائیں گے۔ بعض روایات سے ان کی اس خودفریبی کی تائید ہوتی ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت خباب ( رض) بن الارت کی روایت ہے کہ ان کا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمہ تھا۔ یہ اس کے پاس تقاضا کے لیے گئے۔ اس نے کہا میں تمہارا قرض اس وقت تک ادا نہیں کروں گا جب تک تم محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہ کرو۔ حضرت خباب ( رض) نے جواب دیا کہ میں یہ حرکت ہرگز نہیں کروں گا یہاں تک کہ تو مرجائے اور پھر تجھے قیامت کے دن اٹھایا جائے۔ اس نے ازراہِ مذاق کہا کہ جب مرنے کے بعد میں قبر سے اٹھوں گا، اس وقت میرے پاس دولت کی فراوانی ہوگی، اس وقت میرے پاس آنا، میں تمہارا قرض ادا کردوں گا۔ (بخاری و مسلم) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں جن بداعمالیوں میں مبتلا تھے اس کے بارے میں ان کے لیے فکرمندی کا کوئی موقع نہ تھا کیونکہ ان کا غالب گمان یہ تھا کہ اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں، جو شخص مرجاتا ہے اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے اور قبر ایک دن اس کے جسم کو بھی کھا جاتی ہے۔ اور اگر فرض کریں کہ قیامت کے آنے کا کوئی امکان ہے جس کی وجہ سے لوگ دو باہ اٹھائے جائیں گے اور محشر میں اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہوں گے تو انھیں ان کی بھی تشویش نہیں تھی کیونکہ وہ اس مغالطے میں مبتلا تھے کہ جو شخص دنیا میں خوش عیشی سے زندگی گزار رہا ہے، آخرت میں بھی اسے ایسی ہی زندگی اور زندگی کے ایسے ہی حالات نصیب ہوں گے۔ قرآن کریم نے ان کے اس مغالطے کا رد کرتے ہوئے اسی انداز میں ارشاد فرمایا کہ آنے والی زندگی میں جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ یکسر غیب کا معاملہ ہے جس پر آج اطلاع ممکن نہیں۔ اسے جاننے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ صرف وحی الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر اترتی ہے اور تمہارے نزدیک یہ ذریعہ قابل قبول نہیں۔ ایسی صورت میں تمہارا اس عالم غیب کے بارے میں کوئی بات کہنا اس کے سوا ممکن نہیں کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ تم نے اس غیب کی دنیا کو جھانک کر دیکھ لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی انسان کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ایک ایسی بات کہہ رہے ہو جو تمہاری دسترس سے باہر ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ تم نے خدائے بزرگ و برتر سے کوئی عہد لے رکھا ہو کہ آخرت میں ہمارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو دنیا میں ہورہا ہے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ بات کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسا عہد لے لے۔ ان تمام امکانات کے مردود ٹھہرنے اور مسترد کیے جانے کے بعد ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ ایسی بات کہنے والا ایک ناروا جسارت کا ارتکاب کررہا ہے اور اسے بالکل اندازہ نہیں کہ میں اس طرح کی بات کرکے کتنی بڑی گستاخی کررہا ہوں۔ اس لیے پروردگار نے فرمایا، ایسی جسارتیں کرنے والے کو ہم فوری طور پر تو نہیں پکڑتے، البتہ ! یہ ضرور ہے کہ ہم اس کی اس طرح کی یا وہ گوئی کو لکھ رکھیں گے، یعنی ہمارے فرشتے اس کی اس طرح کی باتوں کا ریکارڈ رکھیں گے۔ اور قیامت کے دن اس کے کفر کے باعث جو اسے سزا ملنے والی ہے اس طرح کی یا وہ گوئی کی وجہ سے اس میں ہم مزید اضافہ کردیں گے، یعنی کفر کی سزا الگ ہوگی اور اس طرح کی دریدہ دہنی اور بکواس کی سزا اس پر مستزاد ہوگی، جس طرح ہمارے یہاں عدالتیں اس مجرم کو مختلف قسم کی سزائیں دیتی ہیں جس کے جرائم ایک سے زیادہ ہوں۔ ایسے مجرم کا قیامت کے دن بھی یہی حال ہوگا۔
مزید فرمایا کہ اسے غلط فہمی یہ ہے کہ دنیا میں میرے پاس جو مال و دولت ہے یہ شاید ہمیشہ میرے پاس رہے گا حالانکہ جب اسے موت آجائے گی تو دنیا میں جس مال و دولت اور عہدہ و منصب کے باعث یہ اپنے مالک و آقا کے سامنے بھی گستاخی سے باز نہیں آتا وہ سب کچھ اپنے پیچھے چھوڑ جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے بعد اس کے وارث ہم ہوں گے اور جن اعوان و انصار اور لائولشکر پر اسے بڑا گھمنڈ اور غرور ہے وہ قیامت کے دن اکیلا ہمارے پاس آئے گا اور کوئی ان میں سے ان کے ساتھ نہیں ہوگا۔ اور جن شرکاء و شفعاء پر اسے بھروسہ تھا کہ وہ قیامت کے دن میرے کام آئیں گے ان میں کوئی اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔ جس طرح وہ دنیا میں تنہا گیا تھا اسی طرح وہ تنہا ہمارے پاس آئے گا۔
انسان کی بےبصیرتی
انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور شعور سے نوازا ہے اور دنیا میں جتنی ہمہ ہمی اور رنگا رنگی نظر آتی ہے وہ سب کچھ اس کی عقل کے طفیل ہے انسانی عقل نے وہ وہ کارنامے انجام دیئے ہیں کہ خود عقل اسے دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے۔ گزشتہ زمانے میں کون تصور کرسکتا تھا کہ کبھی لوہے میں بھی قوت پرواز پیدا ہوجائے گی اور وہ فضاء میں اڑنے لگے گا اور کبھی ایک ایسی مشین ایجاد ہوجائے گی جو انسانی دماغ کی طرح کام کرے گی۔ لیکن یہ سب کچھ کے باوجود انسان اس قدر بےبصیرت واقع ہوا ہے کہ وہ مادہ کے اس پار دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ موت ایک حقیقت ہے لیکن وہ اس کا استحضار نہیں رکھتا۔ قوموں اور انبیاء کی شہادت سے جو حقائق ثابت ہیں اور انسانیت جن اقدار سے ہمیشہ عبارت رہی ہے محض خواہشاتِ نفس کی تعمیل کے لیے ان سے انکار کردینا بلکہ اسے پامال کردینا انسان کی روایت رہی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا تھا :
روندنے والا یہ ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
یہی وہ بےبصیرتی اور خرد کی تنگ دامانی ہے جس کا یہاں گلہ کیا جارہا ہے۔