19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsروح القرآن

Ayahs 19:52–53

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو طور کے داہنی جانب سے پکارا، اور راز و سرگوشی کے لیے اس کو قریب کیا۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور عطا کیا ہم نے اسے اپنی رحمت سے ہارون کو نبی بنا کر۔

وَنَادَیْنٰـہٓ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَقَرَّبْنٰـہُ نَجِیًّا۔ (مریم : 52) (اور ہم نے اس کو طور کے داہنی جانب سے پکارا، اور راز و سرگوشی کے لیے اس کو قریب کیا۔ ) اَ لْاَیْمَنِکا مفہوم اس آیت کریمہ میں الْاَیْمَنِ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا معنی مقدس اور مبارک بھی ہوتا ہے اور داہنے کو بھی کہتے ہیں۔ بعض اہل علم نے پہلا معنی مراد لیا اور بعض نے دوسرا، جبکہ امکان دونوں معنوں کا ہے۔ اگر پہلا معنی مراد لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو جاتے ہوئے رات کی تاریکی میں راستہ بھول گئے۔ دور سے انھوں نے پہاڑ کے اوپر آگ جلتی دیکھی۔ آپ ( علیہ السلام) نے اپنے بچوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو، میں وہاں سے کوئی انگاری لے کر آتا ہوں تاکہ تمہارے لیے آگ جلائوں اور تم سردی کی شدت سے بچ سکو اور اگر وہاں کوئی باخبر شخص مل گیا تو اس سے راستہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن جب آپ ( علیہ السلام) اس وادی میں داخل ہوئے جہاں آپ ( علیہ السلام) نے آگ دیکھی تھی تو وہاں انھوں نے ایک آواز سنی جس کے بارے میں پروردگار فرما رہے ہیں کہ وہ آواز جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سنائی دی تھی وہ وادی مقدس طویٰ کی سمت سے سنائی دی تھی تو اس وادی کو ایمن یعنی مقدس اس لیے کہا گیا تھا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جلوہ گاہ تھی۔ دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر جاتے ہوئے جس راستے سے گزر رہے تھے وہ کوہ طور کے جنوب سے جاتا ہے اور جنوب کی طرف سے اگر کوئی شخص طور کو دیکھے تو اس کے دائیں جانب مشرق اور بائیں جانب مغرب ہوگا۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت سے طور کے مشرقی دامن کو داہنی جانب فرمایا گیا ہے۔ اس میں شاید تأثر دینا یہ مقصود ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو کوہ طور کو ایک پہاڑ سمجھ کر اس کے پاس سے گزر رہے تھے لیکن انھیں کیا خبر تھی کہ میں جہاں سے گزر رہا ہوں میرے دائیں جانب اللہ تعالیٰ کی جلوہ گاہ ہے اور وہاں سے مجھے نبوت کی عظمت ملنے والی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو نوازتا ہے یا کسی کو کسی کارخاص کے لیے چن لیتا ہے تو اس کی طبیعت، اس کی صلاحیتوں اور اس کے کردار و عمل کو پہلے سے اپنے طریقے سے تربیت فرماتا رہتا ہے لیکن جس کی تربیت ہورہی ہوتی ہے اسے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ میں کس عظیم منصب کے لیے چن لیا گیا ہوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایسے ہی تجربے سے دوچار ہوئے۔ نَجِیًّا کا مفہوم اگلے جملے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے اسے راز کی گفتگو کے لیے قریب کیا، یعنی اسے تقرب عطا فرمایا شرف ہم کلامی دے کر اور یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا تحمل انسان کے بس کی بات نہیں۔ کسی انسان میں اگر یہ تحمل پیدا کرنا مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے اندر اپنے قرب کی کوئی ایسی صلاحیت پیدا فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا بوجھ برداشت کرلیتا ہے۔ مراد اس سے صرف یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہم کلامی کے لیے چن لیا۔ کیونکہ پروردگار کا انبیائے کرام کے بارے میں معمول یہ رہا ہے کہ وہ کبھی ان سے براہ راست کلام نہیں فرماتے بلکہ ہمیشہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا واسطہ درمیان میں ہوتا ہے۔ ان کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کا پیغام ان تک پہنچتا ہے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے براہ راست اللہ تعالیٰ کا کلام سنا اور یہ شرف صرف آپ ( علیہ السلام) کا حصہ ہے۔ وَوَھَبْنَا لَـہٗ مِنْ رَّحْمَتِنَـآ اَخَاہُ ھٰرُوْنَ نَبِیًّا۔ (مریم : 53) (اور عطا کیا ہم نے اسے اپنی رحمت سے ہارون کو نبی بنا کر۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک اور احسانِ عظیم سورة طٰہٰ میں کسی قدر تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے نوازا اور نشان ماموریت کے طور پر دو معجزات بھی عطا فرمائے اور پھر آپ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ آپ ( علیہ السلام) فرعون کی ہدایت کے لیے جائیں، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس ذمہ داری کی عظمت کو محسوس کرتے ہوئے چند دعائیں فرمائیں۔ ان میں سے ایک دعا جس کا ذکر آیت 29 تا 34 میں فرمایا گیا ہے، یہ تھی کہ ” اے میرے رب ! میرے لیے میرے اہل خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو وزیر مقرر کردے، اس کے ذریعہ سے میری کمر کو مضبوط فرما اور اس کو میری ذمہ داری میں شریک کر، تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ تیری تسبیح کرسکیں اور زیادہ سے زیادہ تیرا ذکر پھیلا سکیں۔ “ چناچہ اس کے بعد آیت 36 اور 37 میں اللہ تعالیٰ نے احسان جتلاتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا کو قبول فرمایا اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرما کر ان کا شریک کار کردیا۔ انبیاء کرام کی تاریخ میں یہ ایک نادر واقعہ ہے جس کی اور کوئی مثال کم از کم تاریخ میں دستیاب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول بھی مبعوث فرمائے ان میں سے ہر ایک نے تنہا اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ البتہ ! ایمان قبول کرنے والوں میں اللہ تعالیٰ نے انھیں انصار اور معاونین مہیا فرمائے، لیکن کسی عظیم رسول کے ساتھ کسی نبی کو وزیر اور شریک کار کی حیثیت سے مقرر کیا جانا ایک ایسی امتیازی خصوصیت ہے جو صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے مخصوص ہے۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں بطورخاص اس کا ذکر فرمایا گیا اور ممکن ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا ذکر اس وجہ سے بھی ہو کہ یہود نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کے لیے بعض سنگین جرائم کا انتساب ان کی طرف کیا تھا جبکہ وہ باقی انبیاء کرام کی طرح معصوم اور تمام فضائلِ نبوی سے موصوف تھے۔ چناچہ ان کی اصل حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے یہاں بطور خاص ان کا ذکر فرمایا گیا، جسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اظہار بھی قرار دیا گیا اور ان کی نبوت کو بطور خاص نمایاں کیا گیا۔
Ayahs 19:54–55

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی سرگزشت کو ذکر کیجیے، بیشک وہ وعدے کے پکے اور رسول نبی تھے۔

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ ز اِنَّـہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلاً نَّبِیًّا۔ وَکَانَ یَاْمُرُاَھْلَـہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ ص وَکَانَ عِنْدَ رَبِّـہٖ مَرْضِیًّا۔ (مریم : 54، 55) (اور کتاب میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی سرگزشت کو ذکر کیجیے، بیشک وہ وعدے کے پکے اور رسول نبی تھے۔ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے۔ ) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ قرائن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے مراد حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس سے پہلے انہی آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کے پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن ان کے ساتھ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا گیا جبکہ وہ آپ ( علیہ السلام) کے سب سے بڑے فرزند ہیں۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے صاحبزادے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے بنی اسرائیل جیسی امت اٹھائی گئی اور ان میں بڑے بڑے نبی مبعوث ہوئے، اسی طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بنی اسماعیل کو پیدا کیا گیا اور قریش ان میں نامور ہوئے اور ان میں محمد ﷺ جیسی عظیم شخصیت کو مبعوث فرما کر انھیں تمام امتوں کا امام بنادیا گیا۔ اگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی باقی اولاد کے ساتھ رواروی میں کردیا جاتا تو پھر شاید اس بات کی طرف اشارہ نہ ہوسکتا جبکہ اس سورة کے مکی ہونے کی وجہ سے اس میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ذکر کی ایک خاص اہمیت ہے اور اس میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جو پہلی صفت بیان کی گئی ہے اس میں اسی اہمیت کی طرف اشارہ بھی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) صادق الوعد یعنی وعدے کو سچا کر دکھانے والے تھے جبکہ کوئی نبی بھی غدروعد اور شکست عہد کے جرم کا کبھی ارتکاب نہیں کرتا۔ انبیاء کرام تو خیر معصوم ہوتے ہیں، ان پر ایمان لانے والے، ان کے راستے پر چلنے والے بھی کبھی وعدہ توڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایک مومن کبھی وعدہ خلافی کرسکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہرگز نہیں۔ بعض احادیث میں نبی کریم ﷺ نے عہد کو قرض قرار دیا ہے اور بعض احادیث میں یہاں تک فرمایا لاَدِیْنَ لِمَنْ لاَ عَہَدَ لَـہٗ ” اس آدمی کا دین نہیں جس میں وعدے کی پابندی نہیں۔ “ خود آنحضرت ﷺ کے بارے میں حدیث شریف میں آتا ہے اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن ابی الخمساء سے انتظار کرنے کا وعدہ فرمایا۔ وہ صاحب جا کر بھول گئے۔ تیسرے دن یاد آیا، وعدے کی جگہ پر پہنچے تو آپ ﷺ کو منتظر پایا، آپ ﷺ نے صرف یہ کہا کہ تم نے مجھے بہت تکلیف دی، میں تین دن سے تمہارے انتظار میں ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی صفت کے طور پر بطور خاص صادق الوعد کا ذکر عام معنی میں نہیں بلکہ ایک خاص حوالے سے ہے۔ وہ حوالہ جانا پہچانا اور معروف ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب خواب دیکھا کہ آپ ( علیہ السلام) اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں ذبح کررہے ہیں۔ پیغمبر کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے، اس لیے تو آپ ( علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ منشاء خداوندی ہے۔ آپ ( علیہ السلام) نے صبح بیٹے سے استمزاج کیا کہ میں نے اس طرح خواب دیکھا ہے، تمہاری کیا رائے ہے ؟ بیٹا چونکہ اپنے باپ کو اللہ تعالیٰ کا رسول جانتا تھا۔ اس لیے بےتأمل کہا کہ ابا جان ! اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو جو حکم دیا ہے، اسے کر گزریئے، مجھے انشاء اللہ تعالیٰ آپ ( علیہ السلام) صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے اور جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انھیں لے کر منیٰ کی ایک وادی میں پہنچے اور انھیں ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے بےتردد گردن آپ ( علیہ السلام) کے سامنے پیش کردی۔ باپ نے پوری قوت سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی کوشش کی اور بیٹے نے قربان ہونے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ تب اللہ تعالیٰ کا حکم آیا کہ مقصود اسماعیل کو ذبح کرنا نہ تھا بلکہ صرف یہ دیکھنا تھا کہ باپ بیٹا تعمیل حکم میں کہاں تک آمادہ، پُرجوش اور ثابت قدم ہیں۔ تاریخ انسانی کا یہ حیرت انگیز واقعہ ایفائے عہد کی ایک ایسی تابندہ مثال ہے جس کی نظیر شاید کہیں اور نہ مل سکے۔ اس لیے اس واقعہ کے حوالے سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو صادق الوعد قرار دیا گیا ہے اور آپ ( علیہ السلام) کی صفات میں اسے نمایاں مقام عطا فرمایا گیا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دوسری صفت دوسری آیت میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے مقام و مرتبہ کی وضاحت کے لیے یہ فرمایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے۔ ایفائے عہد جس کی معراج اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان دے دینا ہے، یہ دراصل ایمان و اسلام کی دوسری تعبیر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانا درحقیقت ایک عہد ہے اور پھر قدم قدم پر احکام کی تعمیل اور سنت کا اتباع اسلام ہے۔ چناچہ ایمان و اسلام کی وضاحت کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ وہ نماز اور زکوٰۃ (جو درحقیقت حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ایک جامع تعبیر ہے) کا کس حد تک اہتمام کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نماز تمام حقوق اللہ کی ایک قانونی تعبیر ہے اور زکوٰۃ تمام حقوق العباد کی۔ ان دونوں کے گر جانے یا زندگیوں سے نکل جانے سے دین و شریعت کو کیا نقصان پہنچتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نماز اور زکوٰۃ کی پابندی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی تقاضا کرتی ہے اور تربیت کی صحیح جگہ ہوش سنبھالنے کے ساتھ ہی گھر ہے۔ اس لیے آپ اپنے اہل خانہ کو جس میں بیوی کے ساتھ ساتھ بچے شامل ہیں انھیں ان دونوں باتوں کا بطور خاص حکم دیتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کو بھی قرآن پاک میں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے : وَاْمُرْاَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَا ” اپنے اہل خانہ کو نماز کا حکم دیجیے اور خود بھی اس کی پابندی کیجیے۔ “ اسی طرح مسلمانوں کو بھی خود نماز کی پابندی کرنے اور اپنے اہل خانہ کو آگ سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر بطور خاص عمل پیرا تھے اور آپ ( علیہ السلام) اس میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے تھے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) کے اس طریقے کو قیامت تک کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔ مزید اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ تبلیغ و دعوت اور تعلیم و تربیت کا کام ہمیشہ گھر سے شروع کیا جانا چاہیے۔ اگر پیغمبر کا اپنا گھر علم و دعوت کا مرکز بن جائے تو اسے ایک مدرسے اور مرکز کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے اور یہیں سے ہدایت کی شعاعیں پھوٹنا شروع ہوجاتی ہیں اور رفتہ رفتہ دوسرے گھر بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے، لیکن اگر خدانخواستہ داعی کا اپنا گھر ہی دعوت کے آثار و نتایج سے محروم ہو تو یہ گھر بجائے مرکز بننے کے طریق ہدایت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اہل دنیاکا طریقہ ہے کہ وہ سب سے پہلے داعی کے اپنے گھر اور اس کے گھر کے افراد کو جانچتے اور پرکھتے ہیں اور اسی سے دعوت کے حق و باطل ہونے کا بھی اندازہ لگاتے ہیں۔ اس لیے نبی کریم ﷺ کو بھی سب سے پہلے اپنے قریبی عزیزوں کو دعوت دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی تیسری صفت آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے تھے، ان کی اپنی ذات سرفروشی اور اتباعِ امر کا نمونہ تھی۔ اور آپ ( علیہ السلام) تبلیغ و دعوت کی باریکیوں کو کما حقہ سمجھتے تھے۔ ایک پیغمبر میں رسول اور نبی ہونے کی حیثیت سے جتنی خوبیاں ہوسکتی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) میں جمع کردی تھیں۔ اسی لیے آپ ( علیہ السلام) کو پسندیدہ ہونے کے لقب سے نوازا گیا یعنی آپ ( علیہ السلام) بالکل ویسے تھے جیسے اللہ تعالیٰ اپنے کسی نبی اور رسول کو دیکھنا چاہتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر اس اہتمام کے ساتھ شاید اس لیے کیا گیا ہے تاکہ قریش مکہ کو توجہ دلائی جائے کہ تم جو اپنے آپ کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کہتے ہو، تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ تم میں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اعتقادات اور سیرت و کردار میں کوئی نسبت نہیں پائی جاتی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے۔ اسی کی نماز اور اسی کی زکوٰۃ کی تلقین کرتے تھے۔ ان کی اپنی عبدیت کی انتہا یہ تھی کہ وہ اپنی جان بھی جان آفرین کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہوگئے تھے اور تم نے نہ جانے کس کس کو اس کا شریک بنا رکھا ہے اور نہ جانے کس کس کے سامنے تمہارے سر جھکتے ہیں اور تمہاری عبدیت میں کون کون شریک ہے۔ تم ہر ایک کے سامنے جھکتے ہو اور ہر ایک سے ڈرتے ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا چاہتے ہو، نہ ڈرنا چاہتے ہو، تو آخر تمہیں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے کیا نسبت ہے ؟ اور دوسری وجہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر الگ کرنے کی یہ بھی ہے کہ یہود نے اسلام دشمنی کے جوش میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی تاریخ بالکل مسخ کرکے رکھ دی تھی۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی زندگی پر تو انھوں نے اس طرح پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ کسی کو سراغ لگانے سے بھی ان کا سراغ نہ مل سکے۔ ان کی زندگی سے جن پہاڑوں، جن وادیوں اور جن شہروں کو نسبت تھی ان میں سے ہر ایک کا انھوں نے نام بگاڑا اور انھیں کھینچ تان کر ملک شام لے گئے اور ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ذبح ہونا ہے، اسی لیے انھیں ذبیح اللہ کہا جاتا ہے۔ چناچہ انھوں نے یہ خطاب بھی ان سے چھین کر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو دے دیا۔ انھوں نے اپنے تئیں تحریفات کا ایسا طلسم پیدا کیا ہے کہ بظاہر کہیں بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شخصیت دکھائی نہیں دیتی، لیکن اللہ تعالیٰ اہل حق کی قبروں کو ٹھنڈا رکھے۔ انھوں نے تمام تحریفات کا پردہ چاک کرکے ازسرنو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی تاریخ کو زندہ کردیا ہے۔ ان میں مولانا حمیدالدین فراہی ( رح) کے کام کو خصوصیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر سے نوازے۔
Ayahs 19:56–57

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں حضرت ادریس کو یاد کیجیے، بیشک وہ صدیق اور نبی تھے۔

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انھیں رتبہ بلند پر پہنچایا۔

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ ز اِنَّـہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔ وَّرَفَعْنٰـہُ مَکَانًا عَلِیًّا۔ (مریم : 56، 57) (اور کتاب میں حضرت ادریس کو یاد کیجیے، بیشک وہ صدیق اور نبی تھے۔ اور ہم نے انھیں رتبہ بلند پر پہنچایا۔ ) حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر یہاں جس اہتمام کے ساتھ سلسلہ انبیاء کی تاریخ بیان کرتے ہوئے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر انھیں جن خطابات سے نوازا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول تھے اور ان کی زندگی میں یقینا ایثار و قربانی، تبلیغ و دعوت سرفروشی کے عظیم کارنامے درخشندہ تھے۔ انھیں دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ان کا ذکر یقینا تورات میں کہیں نہ کہیں موجود ہوگا۔ لیکن آج جب ہم اسفارِ یہود اور بائیبل ہسٹری کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کے بارے میں کوئی چیز نہیں ملتی۔ قرآن کریم سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ عظیم نبی تھے اور ساتھ ہی ساتھ صدیق بھی تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح صدیق کا خطاب اس لیے دیا گیا تھا کہ انھیں بہت ساری آزمائشوں سے گزارا گیا اور وہ ہر آزمائش میں پورے اترے۔ تب اللہ تعالیٰ نے انھیں صدیق کہہ کر خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ آپ ( علیہ السلام) نے واقعی ہر امتحان میں اپنے آپ کو سچا ثابت کر دکھایا۔ سورة انبیاء میں ان کا ذکر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ساتھ کیا گیا ہے اور سابقہ آیت کریمہ میں بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس کی زندگی میں یقینا کوئی اہم مشابہت ہے جس وجہ سے دونوں کو صابرین میں سے قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے ایک بہت بڑے امتحان کے وقت صبر دکھایا، اسی طرح حضرت ادریس (علیہ السلام) نے بھی صبر کے ساتھ زندگی گزاری اور آپ ( علیہ السلام) کی زندگی کا اہم عنوان بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی طرح صابر اور صادق الوعد ہی رہا۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ سے کوئی صحیح حدیث ہم کو ایسی نہیں ملی جن سے ان کی شخصیت کے تعین میں کوئی مدد ملتی ہو۔ البتہ ! قرآن کریم سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور حضرت نوح (علیہ السلام) سے متقدم ہیں کیونکہ اوپر جن انبیاء کرام کا ذکر ہوا ہے ان کے حوالے سے بعد والی آیات میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ انبیاء کرام حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت اسرائیل کی اولاد میں سے ہیں۔ جب ہم ان انبیاء کرام کی ترتیب کو دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ حضرت یحییٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ تو اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے بعد صرف حضرت ادریس (علیہ السلام) ہی رہ جاتے ہیں جن کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ روح المعانی نے مستدرک حاکم کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے اجداد میں سے ہیں اور یہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے ایک ہزار سال پہلے ہوئے ہیں۔ حضرت ابوذر ( رض) کے حوالے سے زمحشری نے لکھا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے نبی اور رسول ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے 30 صحیفے نازل فرمائے اور جدید تحقیق یہ ہے کہ بحرمردار کے غاروں میں سے کچھ کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جن کے بارے میں گمان ہے کہ یہ حضرت ادریس (علیہ السلام) پر نازل ہونے والے صحیفے ہیں، لیکن ان کی زبان چونکہ مردہ زبانوں میں شمار ہوتی ہے اس لیے پڑھی نہیں جاسکی۔ تو جب تک اسے پڑھا نہ جائے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کتابیں کیسی ہیں اور کس پر نازل ہوئی تھیں۔ بحر محیط میں لکھا گیا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) سب سے پہلے انسان ہیں جنھوں نے قلم سے لکھنا شروع کیا اور کپڑا سینا ایجاد کیا۔ اس سے پہلے لوگ عموماً جانوروں کی کھال لباس کے طور پر پہنتے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے ناپ تول کے طریقے آپ ( علیہ السلام) نے ہی ایجاد کیے اور اسلحہ کی ایجاد بھی آپ ( علیہ السلام) سے شروع ہوئی اور آپ ( علیہ السلام) نے اسلحہ تیار کرکے بنوقابیل سے جہاد کیا۔ (بحرِ محیط، قرطبی، مظہری، روح المعانی) لیکن ان باتوں میں سے کسی بات کو تاریخی سند کا درجہ حاصل نہیں۔ اسرائیلی روایات میں رطب و یابس سب کچھ موجود ہے۔ خود تورات کا حال یہ ہے کہ وہ کئی مرتبہ دنیا سے غائب ہوئی اور کئی مرتبہ اسے زبانی روایات کے ذریعہ سے مرتب کیا گیا۔ اس وجہ سے اس کے نسخوں میں اختلاف بھی ہوا اور اس کے اندر برابر کمی بیشی بھی ہوتی رہی۔ تو جو باتیں بائبل میں بیان ہوئی بھی ہیں ان کی ثقاہت کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔ مفسرین کا عام خیال یہ ہے کہ بائیبل میں جن بزرگ کا نام حنوک بتایا گیا ہے وہی حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے متعلق بائبل کا بیان یہ ہے کہ (اور حنوک 65 برس کا تھا جب اس سے متوسلح پیدا ہوا اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک 300 برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا… اور وہ غائب ہوگیا، کیونکہ خدا نے اسے اٹھا لیا) ۔ (پیدائش باب 5 آیت 21۔ 24) تلمود کی اسرائیلی روایات میں ان کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے جب بنی آدم میں بگاڑ کی ابتدا ہوئی تو اللہ کے فرشتے نے حنوک کو جو لوگوں سے الک تھلگ زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے، پکارا کہ ” اے حنوک ! اٹھو ! گوشتہ عزلت سے نکلو اور زمین کے باشندوں میں چل پھر کر ان کو وہ راستہ بتائو جن پر ان کو چلنا چاہیے۔ اور وہ طریقے بتائو جن پر انھیں عمل کرنا چاہیے “۔ یہ حکم پا کر وہ نکلے اور انھوں نے جگہ جگہ لوگوں کو جمع کرکے وعظ و تلقین کی اور نسل انسانی نے ان کی اطاعت قبول کرکے اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرلی۔ حنوک 353 برس تک نسل انسانی پر حکمران رہے۔ ان کی حکومت انصاف اور حق پرستی کی حکومت تھی۔ ان کے عہد میں زمین پر اللہ کی رحمتیں برستی رہیں۔ (تفہیم القرآن) وَرَفَعْنٰـہُ مَکَانًا عَلِیًّا کا مفہوم آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ” ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھا لیا “ جس کے ذہن میں کوئی پیچیدگی نہ ہو یا پہلے سے آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ دماغ میں نہ ہو تو وہ یقینا یہ سمجھتا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر اور آزمائشوں میں ثابت قدمی کی وجہ سے وہ مقام و مرتبہ عطا فرمایا جو رسالت کے بعد صدیقیت کا مرتبہ ہے، جس پر اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فائز کیا گیا تھا۔ لیکن ذہنی اپچ کے مریضوں کو تو کوئی عجوبہ ملنا چاہیے اور اتفاق سے اسرائیلی روایات میں پہلے سے ایسی خرافات موجود تھیں، انھوں نے ان روایات کو دلیل بنایا اور اس جملے کا یہ مفہوم پیدا کردیا کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے چوتھے آسمان پر اٹھالیا اور مزید اس بات سے انھیں تصدیق مل گئی کہ آنحضرت ﷺ کی معراج کی رات چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات ہوئی تھی حالانکہ ملاقات تو آپ ﷺ کی اور بھی رسولانِ گرامی سے ہوئی تو کیا انھیں بھی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر زندہ اٹھایا تھا۔ مجھے تو حیرانی ایک جدید مفسر صاحب پر ہوئی جو ماشاء اللہ شیخ الحدیث بھی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مَکَاناً عَلِیًّاکا معنی اس کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ ( علیہ السلام) کو کسی بلند جگہ پر اٹھایا گیا حالانکہ معمولی عربی جاننے والا جو محاورات کی زبان سے بالکل بیخبر نہ ہو وہ بھی جانتا ہے کہ یہ لفظ مقام و مرتبہ کے معنی میں ہمیشہ استعمال ہوتا ہے، بشرطیکہ اس سے مختلف معنی پر کوئی قرینہ موجود نہ ہو اور یہاں اس کے حق میں قرینہ تو کیا ہوگا البتہ ! اس کے خلاف پر قرینہ موجود ہے، وہ اس طرح کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمانوں پر اٹھائے جانے کو قرآن کریم نے واضح طور پر اہتمام کے ساتھ بیان کیا اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات نے اس میں کوئی اخفاء باقی نہیں رہنے دیا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا آسمان پر زندہ اٹھایا جانا بھی ایک غیرمعمولی بات تھی اور دنیا کی ہر علمی کتاب کا یہ طریقہ ہے کہ ہر غیرمعمولی بات پر دلیل پیش کی جاتی اور اسے اہتمام سے بیان کیا جاتا ہے لیکن یہ جملہ ایک سپاٹ جملہ ہے جو محاورہ کے مفہوم کو متضمن ہے اس لیے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے رسول ہونے کے ساتھ ساتھ صدیق کے بلند مرتبے پر بھی فائز فرمایا تھا۔ ویسے بھی تلمود نے جن الفاظ میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کے آسمانوں پر اٹھائے جانے کو ذکر کیا ہے ان میں جو غرابت اور رکاکت پائی جاتی ہے وہ بجائے خود اس کے ناقابلِ قبول ہونے کا قرینہ ہے۔ تلمود میں ایک طویل قصہ بیان ہوا ہے جس کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ ” حنوک ایک بگولے میں آتشیں رتھ اور گھوڑوں سمیت آسمان پر چڑھ گئے۔ “
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے نبیوں میں سے اپنا فضل فرمایا، آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے حضرت نوح کے ساتھ سوار کیا اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسرائیل کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور جن کو برگزیدہ کیا جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو گر پڑ تے ہیں سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے۔

اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّـۃِ اٰدَمَ ق وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ز وَّمِنْ ذُرِّیَّـۃِ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْرَآئِ یْلَ ز وَمِمَّنْ ھَدَیْنَا وَاجْتَبَیْنَا ط اِذَاتُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا۔ (مریم : 58) (یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے نبیوں میں سے اپنا فضل فرمایا، آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے حضرت نوح کے ساتھ سوار کیا اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسرائیل کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور جن کو برگزیدہ کیا جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو گر پڑ تے ہیں سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے۔ ) تمام مذکورہ انبیاء کرام کا مشترک وصف پیشتر ازیں جن انبیائے کرام کا ذکر ہوا ہے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ان میں کچھ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور کچھ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اور کچھ حضرت ابراہیم اور حضرت اسرائیل (علیہ السلام) کی ذُرِّیَت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اپنے ادوار اور اپنی قوموں کے گل سرسبد تھے۔ انھیں کے آگے پیچھے اور بھی انبیائے کرام اور رسولانِ گرامی تشریف لائے لیکن یہ چند نفوسِ قدسیہ اپنی خصوصی صفات، درخشندہ کارناموں اور اپنی عزیمت و استقامت میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں جس نے تاریخ پر اپنا اثر چھوڑا ہے۔ اسی سلسلۃ الذہب کی اور بھی نمایاں کڑیاں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا۔ لیکن جن کا ذکر فرمایا ہے ان میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذُرِّیَت سے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور حضرت اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ کی سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ یہ تمام بزرگ یقینا تاریخ کی عظیم شخصیات ہیں جن کے سامنے تاریخ سر جھکا کے گزرتی ہے۔ ان میں سے ایک ایک بزرگ نے امتوں کو ہدایت بخشی۔ قرآن کریم نے ان کی داستانِ حیات کو انسانوں کے لیے نمونے کے طور پر ذکر فرمایا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انسانوں کی جن کمزوریوں کے باعث شرک جیسی لعنت جنم لیتی ہے انسانوں کو بچانے کے لیے یہ بیان کرنا ضروری سمجھا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے اور انتہائی عظیم شخصیتوں کے مالک تھے لیکن ان کے کردار و عمل کا اصل جوہر جس نے ان کو اللہ تعالیٰ کے قرب سے مشرف کیا، وہ یہ تھا کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گرپڑتے تھے یعنی وہ اپنی عظمتوں کا سارا سرمایہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ڈھیر کردیتے تھے اور اسی کو اپنی معراج سمجھتے تھے۔ چناچہ ان کا حال یہ تھا کہ جیسے ہی ان کے سامنے کوئی ایسی آیت پڑھی جاتی جس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے، سجدہ کرنے، تضرع کرنے اور عاجزی کرنے کا ذکر ہوتا تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے آنسوئوں کا نذرانہ پیش کرتے۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ جب بھی کسی آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو آیت سجدہ کے مضمون کو دیکھتے ہوئے ساتھ مناسب دُعائیں پڑھی جانی چاہئیں اور بعض احادیث میں آنحضرت ﷺ سے مختلف دُعائیں منقول بھی ہوئی ہیں۔ ان دُعائوں کا عربی میں یاد کرنا ضروری نہیں، ان کا مضمون اگر ذہن میں رہے تو اپنی زبان میں جو دعا دل سے اٹھے وہ مانگ لینی چاہیے۔
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ان کی جگہ آئے نا خلف جنھوں نے نماز ضائع کردی اور خواہشوں کے پیچھے پڑگئے تو یہ لوگ عنقریب اپنی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔

فَخَلَفَ مِنْ م بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا۔ (پھر ان کے بعد ان کی جگہ آئے نا خلف جنھوں نے نماز ضائع کردی اور خواہشوں کے پیچھے پڑگئے تو یہ لوگ عنقریب اپنی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ ) (مریم : 59) خَلْفٌ … لام کے سکون کے ساتھ، ناخلف یعنی برے جانشین کو کہتے ہیں۔ اور خلف لام کے فتحہ کے ساتھ، اچھے اور صالح جانشین پر بولا جاتا ہے۔ ناخلف جانشینوں کا تذکرہ سابقہ آیت کریمہ میں چند اولوالعزم اور برگزیدہ رسولوں اور انہی کے راستے پر چلنے والے چنیدہ لوگوں کا ذکر فرماتے ہوئے بطور خاص یہ بات فرمائی کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ یہ سوچ کر کہ یہ اس اللہ کا کلام ہے جو خالق کائنات اور قادرمطلق ہے، اس کی عظمت کے سامنے جھک جاتے ہیں اور روتے ہوئے اس کی پناہ طلب کرتے اور اس کی توفیق کی آرزو کرتے ہیں۔ ان کا یہی وہ خصوصی طرزعمل ہے جس نے انھیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے وابستہ رکھا ہے اور ان کی زندگی ہمیشہ شریعت کی پابند رہی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کی زندگی کا اصل رنگ اور اس کا حقیقی مقصد صرف یہ رہا کہ ہم کسی طرح اپنے اللہ کو راضی کرلیں اور اس کی خوشنودی کا حصول ہمارا مقدر بن جائے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ان کے بعد پھر ایسے لوگ آئے جو بظاہر ان کے نام لیوا تھے جو اللہ تعالیٰ کا کلام سن کر سجدہ ریز ہوجاتے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت سے ان کی آنکھیں اشکبار ہوجاتیں، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے یکسر غافل ہوگئے۔ نماز جو اس کے استحضار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس سے بار بار آدمی کو تجدیدِ عہد کا موقع ملتا ہے اور بار بار اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے رکوع، سجود اور قیام کے ذریعے یہ بات تازہ رہتی ہے کہ تم ہرحال میں اور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ ہی کے بندے ہو اور اسی کی یاد تمہاری زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔ لیکن ان کے نالائق جانشینوں کی زندگیوں سے یہ نماز جیسی عظیم دولت خارج ہوگئی۔ نماز ہی ہے جو آدمی کو برائی کے کاموں سے روکتی ہے۔ جب وہ چیز جو برائی کے راستے میں رکاوٹ تھی باقی نہ رہی تو ان کی زندگیوں پر خواہشاتِ نفس کا غلبہ ہوگیا اور وہ اس راستے پر چل پڑے جو نفس اور شیطان کا راستہ ہے جس کا نتیجہ بالآخر تباہی ہے۔ ضیاعِ صلوٰۃ کا مفہوم آیتِ کریمہ میں اَضَاعُوا الصَّلٰوۃ کا جملہ استعمال ہوا ہے جس کا معنی ہے کہ ان نالائق جانشینوں نے نماز کو ضائع کردیا۔ ضیاع صلوٰۃ کا لفظ دو معنوں کے لیے بولا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ انھوں نے سرے سے نماز کو اپنی زندگیوں سے خارج کردیا۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع شروع میں تو نماز میں تبدیلیاں کی گئیں بالآخر اس کی انتہا یہ ہوئی کہ اگر کسی شخص نے ساری زندگی میں ایک دفعہ بھی نماز کی نیت سے کسی جگہ اپنی پیشانی رکھ دی اور ماتھا ٹیک دیا تو اس نے گویا کہ نماز کا حق ادا کردیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ انھوں نے حقیقتِ صلوٰۃ گم کردی کیونکہ نماز درحقیقت اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعتراف، اپنی بندگی کا اعلان اور اللہ تعالیٰ کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالنے کا نام ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تصورات اسی وقت تک ایک نمازی کے اندر رہ سکتے ہیں جب تک وہ نماز کی اس حقیقت کو سمجھ کر نماز ادا کرتا ہے۔ اس لیے صحابہ کرام ( رض) جب کسی شخص کو دیکھتے تھے کہ وہ نماز کے اعمال تو بجا لاتا ہے لیکن اس میں نہ خشوع ہے نہ خضوع، نہ تعدیلِ ارکان، نہ وقت کی پابندی اور نہ اس کا اہتمام۔ ایسی نماز ظاہر ہے نماز کہلانے کی مستحق نہیں، تو وہ صاف فرما دیتے تھے کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ حضرت حذیفہ ( رض) نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز کے آداب اور تعدیلِ ارکان میں کوتاہی کرتا ہے۔ تو اس سے دریافت کیا کہ تم کب سے نماز پڑھتے ہو ؟ اس نے کہا کہ چالیس سال سے۔ حضرت حذیفہ ( رض) نے فرمایا کہ تم نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی۔ اگر تم اسی طرح کی نمازیں پڑھتے ہوئے مرگئے تو یاد رکھو کہ فطرتِ محمد ﷺ کے خلاف مرو گے۔ ترمذی میں حضرت ابومسعود انصاری ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو نماز میں اقامت نہ کرے۔ مراد یہ ہے کہ جو رکوع اور سجدہ میں اور رکوع سے کھڑے ہو کر یا دو سجدوں کے درمیان سیدھا کھڑا ہونا یا سیدھا بیٹھنے کا اہتمام نہ کرے، اس کی نماز نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں معنوں میں کوئی تضاد نہیں۔ ضیاع صلوٰۃ کا عمل آداب صلوٰۃ کے چھوٹنے سے شروع ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص لاپرواہی سے نماز پڑھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر سے حقیقتِ صلوٰۃ نکل چکی ہے۔ پھر یہ لاپرواہی رفتہ رفتہ نماز کی پابندی کو ختم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے اور پھر آخر ایک وقت آتا ہے جب نماز بالکل چھوٹ جاتی ہے۔ جب تک نماز کی عادت رہتی ہے تو نماز کے چھوٹ جانے سے ایک انقباض سا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن چند دفعہ نماز چھوٹنے سے انقباض بھی ختم ہوجاتا ہے۔ تو نماز جو ارکانِ صلوٰۃ میں بہت اہمیت کا حامل رکن ہے، جب وہ چھوٹ جاتا ہے تو دین کے باقی احکام بھی قدر و قیمت کھو دیتے ہیں۔ اسی لیے حضرت عمرفاروق ( رض) نے ایک موقع پر اپنے سب عمال حکومت کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ ان اہم امرکم عندی الصلوٰۃ، فمن ضیعھا فھو لماسواھا اضیع ” میرے نزدیک تمہارے سب کاموں میں سب سے زیادہ اہم نماز ہے، تو جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے تو دوسرے تمام احکامِ دین کو بھی اور زیادہ ضائع کرے گا۔ “ نماز چونکہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے اور یاد رکھنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ تو جب ایسا ذریعہ زندگی سے نکل جاتا ہے تو پھر شہوات کے حملوں کو روکنے کے لیے کوئی مانع باقی نہیں رہتا۔ تو پھر ایک شخص مومن ہوتے ہوئے بھی شہوات کا پیروکار ہو کے رہ جاتا ہے۔ غَیًّاکا مفہوم فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا…اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے نماز کو چھوڑ دیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شہوات کے راستے پر چل پڑے تو بالآخر تم دیکھو گے کہ وہ گمراہی کا شکار ہوجائیں گے۔ اب ان کی زندگیوں میں خیر کے سوتے خشک ہوجائیں گے اور گمراہی کا سرطان پھیلتا چلا جائے گا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہاں گمراہی سے مراد گمراہی پر ملنے والی سزا ہے یا گمراہی کا انجام ہے۔ دنیا میں اس کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں اور آخرت میں اس کا انجام جہنم ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ غَیٌّ جہنم کی ایک غار کا نام ہے جس سے جہنم بھی پناہ مانگتی ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اس زنا کار کے لیے تیار کیا ہے کہ جو اپنی زنا کاری پر اصرار کرتا ہے، اور اس شراب پینے والے کے لیے ہے جو شراب کا عادی ہے اور کسی قیمت پر شراب کو چھوڑنا نہیں چاہتا، اور اس سود خور کے لیے ہے جو سودخوری سے باز نہیں آتا، اور ان لوگوں کے لیے ہے جو ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہیں، اور جھوٹی شہادت دینے والوں کے لیے اور اس عورت کے لیے جو دوسرے کے بچہ کو اپنے شوہر کا بچہ بنا دے۔ (قرطبی)
Ayahs 19:60–61

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کی، یہی لوگ ہیں جو جائیں گے جنت میں، اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

ہمیشگی کے باغ جن کا خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے عالم غیب میں وعدہ کر رکھا ہے،

اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ شَیْئًا۔ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدَالرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بِالْغَیْبِ ط اِنَّـہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا۔ (مگر جس نے توبہ کی اور ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کی، یہی لوگ ہیں جو جائیں گے جنت میں، اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ ہمیشگی کے باغ جن کا خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے عالم غیب میں وعدہ کر رکھا ہے، بیشک اس کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ ) (مریم : 60، 61) جنت میں جانے کا ذریعہ ایمان و عمل ہے کفر، شرک اور اتباع شہوات کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ قیامت کے دن ایسے لوگ جہنم کی اس وادی میں پھینکے جائیں گے جسے غَیٌّ کا نام دیا گیا ہے اور یا یوں کہہ لیجئے کہ وہ اپنی گمراہی کے انجام کو پہنچیں گے، یعنی جس طرح کی گمراہی میں جس حد تک وہ آلودہ ہوں گے، ویسا ہی ان کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ ہاں اگر کوئی شخص یا کوئی قوم یا انسانوں کا کوئی گروہ گمراہی اور گمراہی کے انجام سے بچنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول پر ایمان لائے اور ان تمام صداقتوں کی تصدیق کرے جنھیں ایمانیات کہا جاتا ہے اور پھر شریعت کے تمام احکام پر شریعت کے سکھائے ہوئے آداب کے مطابق عمل کرے۔ اور اپنے دل کو خشوع و خضوع سے آباد رکھے، تو ایسے لوگوں کے بارے میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ ان کا حسب و نسب کیا ہے۔ یا وہ کس طرح کی مالی حیثیت اور معاشرتی سٹیٹس رکھتے ہیں بلکہ ان کا ایمان و عمل صالح اللہ تعالیٰ کے یہاں سرخروئی کے لیے کافی ہوگا۔ آخرت میں چلنے والا سکہ ایمان و عمل کے سوا کچھ نہیں۔ وہاں وہ چیز جو انسان کی قدر و قیمت کا تعین کرتی ہے وہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ ایک کالا کلوٹا مومن جو اعمالِ صالحہ کا خزانہ رکھتا ہے، وہ اس گورے چٹے خاندانی نجابت کے حامل شخص سے ہزار درجہ بہتر ہے جو ایمان اور عمل صالح میں اس سے فروتر ہے۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ جس نے توبہ کی یعنی جو کفر اور شرک اور بدعملی سے ایمان و اطاعت کی طرف لوٹ آیا ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ایسا نہیں ہوگا کہ جو کسی کا حق بنتا ہو اسے وہ حق نہ دیا جائے یا حق سے کم دیا جائے۔ دنیا میں دونوں طرح کی زیادتیاں ہوتی ہیں۔ حقدار کو حق نہیں ملتا یا جتنا ملنا چاہیے اس میں کمی کردی جاتی ہے۔ اہل جنت کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں چونکہ حسب و نسب کا سکہ نہیں چلے گا بلکہ ایمان و عمل کی بات چلے گی۔ اس لیے جیسا کوئی ایمان و عمل صالح کا سرمایہ لے کر جائے گا اسے ویسے ہی اجر اور صلہ سے نوازا جائے گا۔ ایمان و عمل کے حامل لوگوں کو کس طرح کی جنت دی جائے گی، اس کا حقیقی علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، لیکن قرآن کریم نے جابجا اس کا ایک مرقع پیش کیا ہے اور ہر جگہ یہ بات تکرار کے ساتھ فرمائی گئی ہے کہ جنت میں باغات ہوں گے اور وہ بھی ہمیشہ رہنے والے باغات، جن پر کبھی خزاں کا سایہ نہیں پڑے گا، جن پر موسم اثرانداز نہیں ہوں گے، سدابہار باغات اور ہمیشہ لطف و لذت سے معمور اور عجیب بات یہ ہے کہ اہل ایمان نے ہمیشہ اسی جنت کی طلب میں جانیں دی ہیں اور دنیا کی دلفریبیوں سے منہ پھیرا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کی قدرافزائی کے طور پر فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جنت دینے کا وعدہ فرمایا، ایسے حال میں کہ یہ جنت سے غیب میں ہیں یعنی جنت کو دیکھ نہیں سکتے، محض اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کے بتانے پر یقین رکھتے ہیں اور اس وعدہ کو مزید موکد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا اور اس موعود تک اللہ تعالیٰ کے تمام حقدار بندوں کی یقینا رسائی ہوگی۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہمیں وعدہ فردا سے بہلایا جارہا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 19:62

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

بیشک اس کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا۔ وہ اس جنت میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے، بس سلام سنیں گے، اس میں ان کے لیے صبح و شام رزق مہیا ہوگا۔

لاَ یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا اِلاَّ سَلٰمًا ط وََلَھُمْ رِزْقُھُمْ فِیْھَا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا۔ (مریم : 62) (وہ اس جنت میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے، بس سلام سنیں گے، اس میں ان کے لیے صبح و شام رزق مہیا ہوگا۔ ) جنت میں اہل جنت کو جو بیش بہا نعمتیں میسر آئیں گی آج تو ان کا تصور بھی ممکن نہیں لیکن قرآن و سنت سے ایسا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو وہاں وہ سب کچھ ملے گا، اس کا نفس جس کی خواہش کرے گا۔ اور یہ نعمت ایسی ہے جو دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ بڑے سے بڑا حکمران بھی اپنی خواہشات کی تکمیل سے ہمیشہ عاجز رہتا ہے۔ جب کوئی شخص طاقت اور اقتدار میں بگٹٹ ہوجاتا ہے تو اس کا جی چاہتا ہے کہ میں تمام دنیا پر قابض ہوجاؤں اور تمام دنیا کے وسائل میری گرفت میں آجائیں۔ یہ اس کے نفس کا ایسا ارمان ہے جو ہمیشہ اس کے اندر مچلتا رہتا ہے، لیکن اس کی تکمیل کبھی نہیں ہوتی۔ لیکن وہاں ہر جنتی اس آسودگی سے بہرہ ور ہوگا۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک اور نعمت بھی ہے جو بظاہر بہت معمولی سی ہے لیکن بالعموم انسان اس کے حصول سے عاجز رہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ کبھی کوئی ایسی بات نہ سنے جو اسے ناگوار گزرے یا جسے لغو اور بیہودہ کہا جاسکے کیونکہ ہر چھوٹا بڑا آدمی تغیرات کی زد میں ہے۔ یہ انقلاب اس کے اندر بھی برپا رہتا ہے اور اس کے گردوپیش میں بھی۔ ہزار جتن کیا جائے یہ ممکن ہی نہیں ہوسکتا کہ کبھی کوئی ایسی آواز کان میں نہ پڑے جسے لغو کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اہل جنت اس نعمت سے بھی نوازے جائیں گے کہ جنت میں کبھی کوئی بول ان کے کانوں میں ایسا نہیں پڑے گا اور کوئی منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ایسا نہیں آئے گا جو ان کی خوشیوں کو مکدر کردے۔ وہ جب بھی سنیں گے، سلامتی کی بات سنیں گے۔ اور جب بھی دیکھیں گے، سلامتی کا منظر دیکھیں گے۔ چونکہ ان کے چاروں طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی اس لیے وہ ایک دوسرے سے ملتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سلام کہیں گے، یعنی مبارکباد دیں گے۔ وہ جدھر نکلیں گے فرشتے انھیں سلام کہیں گے اور مبارکباد دیں گے۔ اہلِ جنت کا رزق اور انھیں صبح و شام ان کا رزق دیا جائے گا۔ ان کے رزق سے مراد یقینا وہ غذا ہے جس کی اہل جنت کو طلب ہوگی، لیکن آج ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ غذا کیسی ہوگی۔ اگرچہ جنت میں پھلوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور ان کے خوش ذائقہ ہونے کا بھی۔ اسی طرح دودھ اور شہد کی نہروں کا بھی تذکرہ ہے۔ لیکن یہ دودھ اور شہد اور یہ پھل اور فواکہ کیا دنیا جیسے ہوں گے ؟ یا اس کی حقیقت بھی روحانی ہوگی ؟ اس کی حقیقت تو جنت میں جا کے ہی کھلے گی۔ صاف اور سیدھی بات تو یہ ہے کہ جنت ایک ایسی جگہ ہے جہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی اور ناگواری کا کوئی غبار بھی اڑ کر جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا، لیکن جیسا کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا اصل رزق تو وہ ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتا ہے۔ اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے وہاں رزق کی صورت میں جو کچھ دیا جائے وہ برکاتِ الٰہی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی وہ تجلیات ہوں جو اہل جنت کی تمام ضرورتوں اور خوشیوں کا سامان بنیں۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ صبح و شام اہل جنت کو رزق دیا جائے گا اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ جیسے ملازموں یا فوجیوں کے لیے کھانے کے اوقات مقرر ہوتے ہیں اور عموماً صبح شام ہی انھیں کھانا مہیا کیا جاتا ہے اور دوپہر کو اگر انھیں بھوک لگے تو بھوک برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ صبح و شام جنت کے ہیں جس کی حقیقت سے کوئی واقف نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ محاورۃً یہ بات کہی گئی ہو، تو محاورہ میں صبح شام سے دو متعین اوقات مراد نہیں ہوتے بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انھیں ہر وقت رزق مہیا کیا جائے گا، جب وہ اس کی خواہش کریں گے۔
Ayah 19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ وہ جنت ہے جن کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ان کو بنائیں گے جو پرہیزگار ہوں گے۔

تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا۔ (مریم : 63) (یہ وہ جنت ہے جن کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ان کو بنائیں گے جو پرہیزگار ہوں گے۔ ) یہ تعریض ہے ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اس خوش فہمی میں زندگی گزار رہے تھے کہ جس طرح ہمیں دنیا میں دولت و ثروت میسر ہے اور ہم اپنی دولت کے زور سے جو چاہتے ہیں حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح سے ہماری دنیا ہی ہماری جنت ہے۔ تو قیامت کے دن بھی اسی طرح ہمیں اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائیں گے۔ اور کچھ لوگ اس امت میں بھی ہیں جو قرآن و سنت کو اپنے پاس رکھتے ہوئے بھی نجات کے لیے انھوں نے کچھ خودساختہ راہیں نکال رکھی ہیں۔ بنی ہاشم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ چونکہ ہمیں نبی کریم ﷺ سے ایک خاندانی نسبت حاصل ہے، اس لیے شریعت کی پابندیوں سے ہم آزاد ہیں۔ ہمارا سَیّد ہونا ہماری نجات کے لیے کافی ہے اور ایسے لوگ تو بڑی تعداد میں ہیں جو فرائض اور حقوق کو ایک طرف رکھ کر چند رسوم کی پابندی کو نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ پروردگار نے اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم اپنی جنت کا وارث ان لوگوں کو بنائیں گے جو متقی اور پرہیزگار ہوں گے۔ جن کے عقیدہ و عمل میں کوئی خرابی نہیں ہوگی، وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہوں گے۔