18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsروح القرآن

Ayahs 18:1–4

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

(ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا۔

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور بشارت دے دے ایمان لانے والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں کہ ان کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے۔

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ رہیں گے ہمیشہ۔

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور وہ خبردار کرے ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنائی ہے۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّـہٗ عِوَجًا۔ قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاسًاشَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْـہُ وَیُبَشِّرَالْمُوْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا حَسَنًا۔ مَّا کِـثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا۔ وَّیُنْذِرَالَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَاللّٰہُ وَلَدًا۔ (الکہف : 1 تا 4) (ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا۔ بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور بشارت دے دے ایمان لانے والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں کہ ان کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے۔ جس میں وہ رہیں گے ہمیشہ۔ اور وہ خبردار کرے ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنائی ہے۔ ) انسان رہنمائی کا محتاج ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا تو اسے زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی کے وسائل بھی مہیا کیے۔ محسوسات میں رہنمائی کے لیے حواس خمسہ عطا کیے اور معقولات میں عقل عطا فرمائی۔ لیکن زندگی کے وہ دائرے اور وہ شعبے جو حواس اور عقل کی حدود سے ماورا ہیں جن کے بارے میں یا تو یہ دونوں فیصلہ نہیں کرسکتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو اپنی نارسائی کے باعث عموماً غلطی اور کوتاہی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے دائروں اور شعبوں میں انسان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی الٰہی سے انسان کو نوازا ہے۔ انسان اپنی جسمانی اور دماغی ضرورتوں کی تکمیل حواس اور عقل کی رہنمائی میں بروئے کار لاسکتا ہے۔ اس کے لیے یہ بات بہت آسان ہے کہ اپنی اشیائے خوردونوش اور زندگی کی دوسری ضروریات کو ان دونوں کی مدد سے ایجاد کرے اور ترقی دے۔ چناچہ ہم آج جو ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں تنوع دیکھتے ہیں یہ سب انسانی عقل کی کارفر مائی ہے۔ اس طرح زندگی میں ہم اپنے گردوپیش میں جو ہما ہمی اور زیب وزینت دیکھتے ہیں یہ سب انسانی عقل کے معجزے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی عقل سے یہ معلوم کرنا چاہے کہ میرا خالق کیسا ہے ؟ وہ کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے اور کن باتوں سے راضی ہوتا ہے ؟ میری زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی ابتدا کیا ہے اور انتہا کیا ہے ؟ عالم برزخ کیا ہے ؟ عالم غیب کیا ہے ؟ روح کیا چیز ہے ؟ بعث بعدالموت کی حقیقت کیا ہے ؟ اعمال کی جزا اور سزا کی نوعیت کیا ہوگی ؟ جنت اور جہنم کیا ہے ؟ عالم آخرت کی صفات کیا ہیں ؟ انسان کی روحانیت کن باتوں سے توانا ہوتی ہے اور کن اسباب سے مردہ ہوجاتی ہے ؟ ایسے بیشمار سوال ہیں جن کا جواب انسان کے لیے اپنی عقل کی مدد سے ممکن نہیں۔ جس طرح حواس اور عقل کی بخشش اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان حیوانوں سے بدتر ہے۔ جو چیز اسے حیوانوں سے الگ کرتی ہے وہ اس کا جوہرِ عقل ہے جس پر وہ جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے تھوڑا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی وہ ہدایت اور رہنمائی ہے جو اس نے وحی الٰہی کے ذریعہ عطا فرمائی ہے کیونکہ حواس اور عقل سے آدمی اپنی دنیا تو بنا سکتا تھا، کھانے پینے اور اوڑھنے پہننے کے طریقے تو اختیار کرسکتا تھا لیکن انسانیت اور اقدارِ انسانیت، مکارمِ اخلاق، معرفتِ حق، ہمدردی و خیرخواہی، سچ اور اس پر استقامت، ایثار اور قربانی، عزت نفس اور خودداری جیسی کتنی صفات ہیں جنھیں انسان اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے بغیر حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ غور فرمایئے وہ زندگی کیسی زندگی ہوتی جس میں ان صفات کا نہ کوئی عکس ہوتا نہ عمل دخل ہوتا۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ صفات ہیں جنھیں انسانیت کا حقیقی سرمایہ کہا جاسکتا ہے۔ انسان کی تخلیق اور تربیت کے بعد انسان پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ان بنیادی وسائل کا فراہم کرنا ہے جن سے یہ صفات وجود میں آتی اور جنم لیتی ہیں۔ رہنمائی کا سرچشمہ قرآن و سنت ہیں پیش نظر آیت کریمہ میں ان دو بنیادی وسائل کا ذکر فرمایا گیا ہے جو انسانی ہدایت کا سرچشمہ ہیں اور جن کے ذریعے انسان کو انسانیت نصیب ہوتی ہے اور زندگی کا وہ طریقہ اور رویہ عطا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسان، انسان بنتا ہے، اس کی زندگی پاکیزہ ہوتی ہے اور آخرت میں اس کے سرخرو ہونے کا سامان ہوتا ہے۔ وہ دو بنیادی وسائل یا سورسز اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ ہیں۔ اور پھر ان وسائل کی قدر افزائی اور ہمارے دلوں میں اس کی عظمت اتارنے کے لیے اپنی حمد اور اپنا شکر ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے ہے یا ہر طرح کا شکر اس اللہ کے لیے ہے۔ (کیونکہ حمد کے یہ دونوں ہی معنی کیے جاسکتے ہیں) جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری، بندے سے مراد یہاں رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے اور کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ یہ دونوں ہمارے لیے رہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ ہیں۔ قرآن ہمیں اصول دیتا ہے اور رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی ہمیں ان کے انطباق کی تعلیم دیتی ہے۔ قرآن متن ہے آنحضرت ﷺ اس کی شرح ہیں۔ قرآن قول ہے اور حضور ﷺ کی زندگی اس کا عمل ہے۔ قرآن ایک تھیوری ہے اور آنحضرت ﷺ کی ذات اس کا پریکٹیکل ورک ہے۔ قرآن کریم خاموش ہدایت ہے اور آنحضرت ﷺ کی زندگی بولتی ہوئی ہدایت اور قرآن ناطق ہے۔ دونوں مل کر وہ دستور اور قانون مہیا کرتے ہیں جسے ہم اسلامی شریعت اور اسلامی آداب کہتے ہیں۔ ان دونوں پر چونکہ انسانی زندگی کا دارومدار ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انسانوں کی دنیا اور آخرت کا دارومدار ہے۔ اس لیے ازبس ضروری ہے کہ اس کتاب میں کوئی کجی نہ ہو۔ کہیں بھی کسی غلط بات یا کسی باطل کی طرف میلان نہ ہو۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو ہر طرح کی کجی سے محفوظ رکھا۔ نہ اس کے الفاظ میں کجی ہے نہ معنی میں۔ نہ اس کے بیان میں لکنت ہے نہ اس کے ابلاغ میں نقص۔ اس کا ہر لفظ اس کے جملوں میں اس طرح روشن ہے جیسے انگشتری میں نگینہ ہوتا ہے۔ اس کا ہر جملہ بلاغت کا شاہکار ہے۔ اس کا کوئی محاورہ مرورایام کے ساتھ تغیر کا شکار نہیں ہوا۔ اس کا کوئی اسلوب آج تک متروک نہ ہوسکا۔ اس کا پیش کردہ نظام ہر اختلاف سے پاک، ہر نارسائی سے مبرا اور ہر ناکامی سے پاک ہے۔ جب بھی اسے روبہ عمل لایا گیا زندگیوں میں انقلاب آگیا، فضا میں بہار آگئی، ہر چیز کی پیداوار بڑھ گئی، زمین سونا اگلنے لگی، نفرتیں محبتوں میں بدل گئیں، حریص لوگ قناعت آشنا ہوگئے، دولت مند دولت کے امین بنگئے اور غریب لوگ بےنیاز اور خوددار ہوگئے۔ غرضیکہ لفظی، معنوی اور عملی تینوں اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی یہ کتاب ہر نقص اور کمزوری سے پاک ہے اور ہر الجھن سے محفوظ ہے۔ قَیِّمًاکا معنی و مفہوم دوسری آیت کا پہلالفظ قَیِّمًا پہلی آیت میں لَمْ یَجْعَلْ لَّـہٗ عِوَجًا کی تاکید بھی ہے اور مثبت انداز میں وضاحت بھی۔ یعنی قرآن کریم میں کجی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ قَیِّم ہے، قَیِّم کا ایک معنی ہوتا ہے، مستقیم۔ مستقیم وہ ہوتا ہے جس میں کوئی ادنیٰ کجی اور کسی جانب میلان نہ ہو بلکہ اس کی ہر بات حق کے ترازو پر تلنے والی فطرت کے پیمانوں میں پوری اترنے والی اور دلوں میں گھر کر جانے والی ہے۔ انکار کرنے والے اس کا انکار تو کرسکتے ہیں لیکن اس میں کوئی سقم تلاش نہیں کرسکتے۔ قیم کا دوسرا معنی نگران اور محافظ بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ قرآن کریم جس طرح اپنی ذات میں ہر قسم کی کجی اور افراط وتفریط سے پاک ہے، اسی طرح یہ دوسروں کو بھی ہر کجی اور افراط وتفریط سے بچانے والا اور بندوں کی تمام مصالح کی حفاظت کرنے والا ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ قرآن کریم اپنی ذات میں ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے۔ اور اپنی رہنمائی میں ہر لحاظ سے نہایت جامع و مانع ہے جو اپنی پیروی کرنے والوں کو بھی کمال اور تکمیل سے نوازتا ہے۔ نزولِ قرآن کا مقصد اس کے بعد اس کتاب کے نازل کرنے کا مقصد بیان فرمایا گیا ہے کہ پروردگار نے اس کتاب کو اس لیے نازل کیا ہے تاکہ وہ انکار کرنے والوں کو انذار کرے اور ایمان لانے والوں کو بشارت دے۔ اس جملے میں لِّیُنْذِرَ کا فاعل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور عبد یعنی رسول بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے سے انکار کرنے والوں کو انذار کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کو بشارت دیتا ہے۔ اور اگر اس کا فاعل رسول کو بنائیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب اس لیے اتاری ہے تاکہ اس کے رسول کریم ﷺ انکار کرنے والوں کو انذار کریں اور ایمان لانے والوں کو بشارت دیں۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ انذار کا ذکر پہلے ہے اور تبشیر کا ذکر بعد میں۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم اور تبلیغ میں اپنے مخاطب کو پہلے ہر اس برے انجام سے خبردار کرنا چاہیے جو اس کے غلط رویئے کے نتیجے میں پیش آسکتا ہے اور اپنی اصلاح کی صورت میں جو بہتری پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے جو فوائد نکل سکتے ہیں اس کی بشارت بعد میں دی جانی چاہیے، لیکن اگر تدبر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی جب دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں تو ان کے سامنے سب وہ لوگ ہوتے ہیں جو انھیں نبی اور رسول ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ بات انتہائی معقول ہوگی کہ انھیں ان کے انکار کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا جائے۔ اور اگر ان کے اندر اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف کچھ میلان پیدا ہو تو پھر انھیں بہتر مستقبل کی بشارت دی جائے کیونکہ ایسے لوگ جو سرے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان تمام باتوں کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ دعوت دے رہا ہے تو ایسے لوگوں کے سامنے اگر اسلام کی قبولیت کے نتیجے میں ملنے والی نعمتوں کا ذکر کیا جائے گا اور بہتر مستقبل کی خبر دی جائے گی تو بجائے اثر قبول کرنے کے وہ اس پر ہنسیں گے۔ اس لیے یہ بات کہ انذار پہلے ہونا چاہیے یا تبشیر، کفار کے حوالے سے تو بالکل واضح ہے۔ لیکن جہاں تک گنہگار مسلمانوں کا تعلق ہے اس کا دارومدار داعی کی اپنی فراست اور فہم و بصیرت پر ہے۔ وہ طبائع کا اندازہ کرنے کے بعد فیصلہ کرسکتا ہے کہ مجھے اس وقت کون سا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ چناچہ ہم نبی کریم ﷺ کو دونوں ہی طریقوں پر عمل کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے کبھی انذار سے کام لیا اور کبھی تبشیر سے۔ کیونکہ طبیعتیں کبھی خوفزدہ ہو کر راہ راست کی طرف اور مائل بہ عمل ہوتی ہیں اور کبھی ترغیب اور تشویق ان کے اندر جذبہ عمل کو ابھارتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت قرآن کریم کی خبر کے مطابق بروبحر میں فساد پھیل چکا تھا، یعنی دنیا کا کوئی گوشہ اس فساد سے محفوظ نہیں تھا۔ خود وہ مقام جہاں اللہ تعالیٰ کا گھر ایستادہ تھا اور جسے حرم ہونے کی حیثیت حاصل تھی، وہ 360 خدائوں کا مرکز بن چکا تھا اور یہ حرم خداوندی حرم کی بجائے تیرتھ معلوم ہوتا تھا۔ پورا جزیرہ عرب اگرچہ اللہ تعالیٰ کے اس گھر سے بےپناہ عقیدت رکھتا تھا اور سال بہ سال اس کی زیارت کے لیے بھی لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ بایں ہمہ ان کی زندگی کا بگاڑ باقی دنیا سے کم نہ تھا۔ فساد کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جو ان میں پائی نہ جاتی تھی اور اسی بگاڑ اور اللہ تعالیٰ سے دوری کا نتیجہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو اس سورت کے نزول کے وقت تک کئی سال دعوت دیتے ہوئے گزر چکے تھے، لیکن ان کے بگاڑ میں کوئی قابل ذکر کمی نہ آئی تھی۔ ان کی حالت اور ان کے رویئے کو دیکھتے ہوئے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے یہ کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ ہمارا رسول ﷺ براہ راست اہل مکہ اور بالواسطہ دوسرے لوگوں کو اس سخت ترین عذاب سے ڈرائے جو انکار کرنے والی قوموں پر ہمیشہ آیا کرتا ہے اور جس کے آنے کے بعد وہ دھرتی بانجھ ہوجاتی ہے اور اس قوم کی جڑ اکھاڑ دی جاتی ہے۔ لِّیُنْذِرَکا فاعل (جیسا میں پہلے عرض کرچکا ہوں) اگر اللہ تعالیٰ کو سمجھا جائے تو پھر مِّنْ لَّدُنْـہُ کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اپنے اہتمام اور خصوصی فضل و کرم سے نازل فرمایا ہے تاکہ اس کا رسول اس کا انکار کرنے والوں کو عذاب سے ڈرائے اور اگر اس کا فاعل آنحضرت ﷺ کو ٹھہرایا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ تعالیٰ کی کتاب کا انکار کرنے والوں کو اس عذاب سے ڈرائے جو معمولی عذاب نہیں ہوگا بلکہ بطور خاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گا جو اس کے قہر کا اظہار ہوگا۔ انذار کا ذکر کرنے کے بعد قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق تبشیر کا ذکر فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی بعثت اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ وہ انکار کرنے والوں کو انذار کریں۔ اسی طرح اس کا یہ مقصد بھی ہے کہ وہ ایمان لانے والوں کو بشارت دیں اور ساتھ ہی اس کے یہ قید بھی لگا دی کہ وہ ایمان لانے والے ایسے ہوں جو نیک اعمال بھی کریں۔ اس پر ہمارے بعض اہل علم نے اپنے فہم کے مطابق قرآن و سنت سے استفادہ کرکے اعمالِ صالحہ کی ایک فہرست مرتب کی ہے، لیکن اس کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہر وہ عمل جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور اس کی شریعت کے احکام کے مطابق کیا جائے وہ عمل صالح کہلاتا ہے۔ اس لیے ہر عمل کرنے والا خوب جانتا ہے کہ میں جو عمل کررہا ہوں کس نیت سے کر رہا ہوں اور کیا اسلامی شریعت اس کی اجازت دیتی بھی ہے یا نہیں۔ اور میرا ایمان اس کا تقاضا کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ جب ان احتیاطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے زندگی گزاری جائے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم ایسے صاحب ایمان لوگوں کو بہترین اجر عطا فرماتے ہیں۔ دنیا میں اس کا اجر یہ ہے کہ ایک باعمل مومن حیات طیبہ سے نوازا جاتا ہے اور آخرت میں اسے وہ جنت عطا کی جاتی ہے جس کی ایک ایک نعمت اپنا بدل نہیں رکھتی اور پھر یہ کہ نعمتوں بھرا عیش چند روزہ نہیں ہوگا بلکہ جو جنت میں داخل ہوگیا وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ اور اسے ہر وہ نعمت میسر آئے گی جس کی وہ چاہت کرے گا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس کی چاہتیں ختم ہوجائیں گی لیکن نعمتیں ختم نہیں ہوں گی۔ چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا رسول ان لوگوں کو بھی انذار کرتا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بنا رکھی ہے۔ اس میں اس دور کے تینوں مشہور اور گمراہ فرقوں کا ذکر آگیا۔ یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ٹھہرا رکھا تھا۔ اور مشرکینِ مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اس مختصر سی آیت میں تینوں کا ابطال فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ ولد کا معنی صرف بیٹا نہیں، اولاد بھی ہوتا ہے جس میں مذکر اور مونث دونوں شامل ہیں۔ اس لحاظ سے اس سے تینوں گمراہ فرقوں کی تردید ہوجاتی ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرنا صرف دینی لحاظ سے غلط نہیں بلکہ کوئی معقول آدمی ایسی حرکت کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچتا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہیں وہ اس کا بیٹا کیسے قرار دے سکتے ہیں کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا ہم جنس ہوتا ہے۔ جس طرح انسان کا بیٹا انسان اور حیوان کا بیٹا حیوان کہلاتا ہے۔ اسی طرح خدا کا بیٹا خدا کہلائے گا تو پھر خدا واحد کیسے رہ گیا۔ اور مزید یہ کہ بیٹے کی احتیاج تو اسے ہوتی ہے جسے بڑھاپے کا اندیشہ ہو تاکہ بیٹا پڑھاپے کی لاٹھی بنے، یا اس بات کی فکر ہو کہ مرنے کے بعد کوئی تو میرا نام لیوا ہونا چاہیے۔ تو جو شخص اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے تصورات رکھتا ہے اس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ماننے کی حماقت نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا بھی انکار کردیا۔ علیٰ ھذا القیاس اس پر جتنا بھی غور کرتے جایئے یہ بات جہالت اور بےوقوفی کے سوا اور کچھ نہیں کہی جاسکتی۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

ان کے پاس اس باب میں کوئی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا کو (اس بارے میں کوئی علم تھا) بڑی ہے وہ بات جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے، وہ صرف جھوٹ بول رہے ہیں۔

مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلاَ لِاٰبَآئِ ہِمْ ط کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِہِمْ ط اِنْ یَّـقُوْلُوْنَ اِلاَّ کَذِبًا۔ (الکہف : 5) (ان کے پاس اس باب میں کوئی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا کو (اس بارے میں کوئی علم تھا) بڑی ہے وہ بات جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے، وہ صرف جھوٹ بول رہے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرنا جہالت کی وجہ سے ہے دنیا بھر کے مشرکین نے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد فرض کر رکھی ہے، حقیقی اولاد کی شکل میں یا متبنیٰ کی صورت میں، اس جسارت کی بنیاد علم نہیں بلکہ ان کا غلو اور جہالت ہے۔ معاصر مشرکین تو محض آبائواجداد کی تقلید میں ایسا کہہ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے آبائواجداد کے پاس اس کی کچھ سند ہوگی، حالانکہ امرواقعہ یہ ہے کہ ان کے آبائواجداد بھی اس معاملے میں نرے جاہل تھے۔ انھوں نے بھی غلو کرتے ہوئے بعض اعتقادات فرض کرلیے تھے اور ان کی جہالت نے اس پر انھیں جامد کردیا تھا۔ آنحضرت ﷺ اس لیے تشریف لائے ہیں کہ آپ ﷺ ان جاہلوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا حقیقی علم عطا فرمائیں اور انھیں اس بات سے خبردار کریں کہ تم نے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس طرح کے اعتقادات بنا لیے ہیں، یہ ایک بہت بڑی گستاخی اور جسارت ہے جس کا تم ارتکاب کررہے ہو۔ تم نے اسے معمولی بات سمجھا اور شاید اپنے تئیں اسے محبت کا اظہار سمجھتے ہو، جیسے کسی شخص کو یہ کہا جائے کہ سنا ہے کہ تمہارے گھر میں بیٹا ہوا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے کہ اس کا جانشین آگیا۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی شاید ایسا ہی بےہودہ تصور رکھتے ہیں، لیکن یہ تصور اس قدر گستاخی پر مبنی ہے کہ اس پر جتنی بھی لعنت بھیجی جائے تھوڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد تصور کرنا اپنے اندر جو مضمرات رکھتا ہے ان میں سے ایک ایک بات اللہ تعالیٰ کی الوہیت سے متصادم ہے۔ اس کی شان صمد ہونا ہے لیکن ہم نے اسے محتاج تصور کرکے اس کی اولاد بنا ڈالی۔ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیٍٔ اس کی شناخت ہے اور اس کی اولاد مان لینے سے نہ صرف شناخت ختم ہوتی ہے بلکہ اس کا مثیل وجود میں آجاتا ہے۔ وہ اپنے بارے میں فرماتا ہے کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلاَّ وَجْہَہٗاور جنھیں اس کی اولاد بنایا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون سے مستثنیٰ نہیں کیونکہ : جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا جب احمد ﷺ مُرسل نہ رہے کون رہے گا یہ چند مثالیں ہیں ورنہ اس بےہودہ تصور کے مضمرات بہت شنیع اور گھنائونے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑی بات قرار دیا کہ جس کا زبانوں پر لانا بھی زبان کے کٹ جانے سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اور مزید فرمایا کہ ایسا کہنے والے سراسر جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کی کوئی سند نہیں۔ کوئی ایسا حوالہ نہیں جسے علم تسلیم کرتا ہو اور جن بڑوں کی طرف منسوب کرکے وہ ایسا کلمہ ناروا کہنے کی جسارت کرتے ہیں اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

تو شاید آپ ﷺ گھونٹ ڈالیں گے اپنی جان کو ان کے پیچھے اس غم کی وجہ سے اگر وہ اس بات پر ایمان نہیں لاتے۔

فَلَعَلَّـکَ بَاخِعٌ نَّـفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا۔ (الکہف : 6) (تو شاید آپ ﷺ گھونٹ ڈالیں گے اپنی جان کو ان کے پیچھے اس غم کی وجہ سے اگر وہ اس بات پر ایمان نہیں لاتے۔ ) نہایت دلنواز انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور نہایت پیار کے ساتھ ایک ایسے غم پر آپ ﷺ کی دلجوئی کی جارہی ہے جس غم کی شدت کا عالم یہ ہے کہ اس سے اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ یہ کہیں آپ ﷺ کی جان ہی نہ لے لے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ ﷺ کا یہ غم اس بات پر ہوگا کہ مخالفین کی مخالفت میں شدت آتی جارہی ہے۔ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی زندگی اس شہر میں اتنی مشکل بنادی گئی ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مخالفتوں کے ہجوم میں آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی روز بروز تنہا ہوتی جارہی ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسانی فطرت کے حوالے سے اگرچہ یہ غم بہت بڑا غم ہے لیکن آنحضرت ﷺ اس غم کو خندہ پیشانی سے برداشت کررہے ہیں۔ آپ ﷺ جانتے ہیں کہ تکلیفوں کا آنا اور اذیت رسانی کا عمل دعوت الی اللہ کے راستے کی ایسی سنتیں ہیں جنھیں زندہ کیے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ اس لیے آپ ﷺ اسے نہایت شرح صدر کے ساتھ برداشت کررہے ہیں۔ آپ ﷺ کا حقیقی غم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات جو عظمتوں کا سرچشمہ اور ہر طرح کی کبریائی کی مستحق ہے اس کی ذات اور صفات میں ان ظالم مشرکین نے نہ جانے کس کس کو شریک کر رکھا ہے۔ اور وہ ہر طرح کی افہام و تفہیم کے باوجود اپنی روش بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی عظمت کو چیلنج کررہے ہیں اور دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی بڑی بڑی باتیں کہتے ہیں جس کا تصور بھی کپکپا دینے کے لیے کافی ہے۔ کبھی اس کے لیے بیٹا ثابت کرتے ہیں، کبھی کسی کو متبنیٰ ٹھہراتے ہیں اور کبھی فرشتوں کو اس کی بیٹیاں بتاتے ہیں جبکہ اپنے لیے بیٹیوں کو عار سمجھتے ہیں۔ اور اس پر بھی مزید جس بات سے حضور ﷺ کا دل پگھلتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ یقین سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ ظالم اگر اپنی روش سے باز نہ آئے تو یا تو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوں گے، ورنہ آخرت میں تو یقینا جہنم میں جلیں گے۔ آپ ﷺ انتہائی دل گرفتگی کے ساتھ رب کریم کے حضور ہاتھ اٹھاتے ہیں کہ الٰہی میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ کس قدر خطرناک راستے پر چل رہے ہیں جس کا انجام جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں، لیکن میں کیا کروں، میں اپنی ساری کوششوں کے باوجود انھیں بدلنے پر قادر نہیں ہوسکا۔ اور کبھی سننے والوں کے سامنے اپنے اس غم کا اظہار اس طرح فرماتے ہیں کہ میری اور تمہاری مثال ایسی ہے کہ میں نے تاریکی میں آگ جلائی روشنی کے لیے اور پروانے آکر اس میں گرنے لگے۔ میں چاروں طرف ہاتھ مار رہا ہوں کہ بچ جاؤ یہ آگ ہے، اس میں گرو گے تو جل جاؤ گے، لیکن پروانے ہیں کہ وہ اس پر گرنے سے باز نہیں آتے۔ جیسے جیسے کافروں کے رویئے میں شدت آتی جارہی ہے ویسے ویسے آپ ﷺ کے غم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان قبول نہیں کرتے تو یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری نہیں، ان کی اپنی ذمہ داری ہے اور وہ خود اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوئی کمی نہیں کی۔ آپ ﷺ نے بڑی سے بڑی صعوبت اٹھا کر بھی اپنا فرض انجام دیا اور ان کی تمام نفرتوں اور اذیتوں کے باوجود آپ ﷺ نے ان سے ہمدردی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کے باوجود ان کا ایمان قبول نہ کرنا ان کے لیے فکرمندی کا باعث ہونا چاہیے، آپ ﷺ کے لیے نہیں۔ اس لیے آپ ﷺ ہرگز اس غم کو اپنے دل میں جگہ نہ دیجیے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اس کے لیے سنگار تاکہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ ان میں کون اچھا عمل کرتا ہے

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَا لِنَبْلُوَھُمْ اَیُّـھُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ۔ (الکہف : 7) (ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اس کے لیے سنگار تاکہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ ان میں کون اچھا عمل کرتا ہے۔ ) کفار کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب اس آیت کریمہ میں کفار کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب بیان کیا گیا ہے۔ یہ سبب کہنے کو تو بہت معمولی ہے لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے بہت گہرا ہے۔ وہ سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے لیے نہیں بھیجا یا یوں کہہ لیجئے کہ صرف حیوانوں کی طرح شب و روز گزارنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس دنیا کو انسان کے لیے دارالامتحان بنایا ہے اور خود انسان کی زندگی اسی دنیا کے حوالے سے امتحان کا ایک پر چہ ہے جسے انسان نے سوچ سمجھ کر حل کرنا ہے اور اس پر مشکل یہ پیدا کردی گئی ہے کہ ایک طرف تو انسان کو عقل اور تمیز عطا کی گئی ہے تاکہ وہ اس سے کام لے کر خیر و شر میں تمیز کرے اور اس کا فیصلہ کرے کہ اسے اپنی خواہشوں کے اتباع میں زندگی گزارنا ہے یا اسے آخرت کا طالب بننا ہے۔ اور دوسری طرف حال یہ ہے کہ دنیا پر حسن و زیبائی کا ایک پُرفریب پردہ تان دیا گیا ہے۔ خواہشات میں ایک ایسا حسن رکھا گیا ہے جس کی گرفت سے بچ نکلنا آسان نہیں۔ پھر دنیا اور آخرت میں ایک عجیب تقابل ہے کہ دنیا کی ہر چیز میں ایک کشش اور ترغیب ہے۔ اور اس کا ہر نفع، نفعِ عاجل ہے۔ انسان کے گردوپیش میں اتنی نعمتیں ہیں، چاہے وہ مال و دولت کی صورت میں ہوں، چاہے زمین یا اس کی نباتات کی شکل میں اور چاہے وہ ترقیات اور مناصب کے نام سے ہوں۔ ان میں سے ہر چیز اپنے اندر ایک ترغیب رکھتی ہے۔ جو شخص اس کے جال میں پھنس جاتا ہے وہ نکلنا بھی چاہے تو آسانی سے نہیں نکل سکتا۔ اور دوسری طرف آخرت کے سفر میں قدم قدم پر امتحان ہے۔ اوامرونواہی ہیں، قواعد و ضوابط ہیں۔ اس کے منافع اور اس کی کامرانیاں اور کامیابیاں نقد نہیں بلکہ ادھار ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے آخرت پر مضبوط یقین کی ضرورت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ پر بےپناہ توکل ہی راستے کا سرمایہ ہے۔ دنیا کے فریب کا اسیر شخص جو ہاتھوں پر سرسوں جمانا چاہتا ہے اس کے لیے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا، اس راستے میں قربانیاں دینا ایک لگی بندھی زندگی گزارنا، نگاہوں کو پاکیزہ رکھنا، دل و دماغ کو آوارگی سے بچانا، خواہشات کی پیروی کی بجائے حقیقی مقاصد کو سامنے رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ کفار چونکہ دنیا کی آرام طلبیوں اور عیش و عشرت کے عادی ہوچکے ہیں اور ان کی نظر پیکرمحسوس کی خوگر ہوچکی ہے تو ان کے لیے آخرت کا یقین اور اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنا چونکہ ایک فریب معلوم ہوتا ہے اس لیے وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور ہم بالآخر کردینے والے ہیں جو کچھ اس زمین پر ہے سب کو چٹیل میدان۔

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْھَا صَعِیْدًا جُرُزًا۔ (الکہف : 8) ( اور ہم بالآخر کردینے والے ہیں جو کچھ اس زمین پر ہے سب کو چٹیل میدان۔ ) اس دنیا کا انجام ” جُرُزْ “ بےآب وگیاہ زمین کو کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اہل دنیا، دنیا کے جس زیب وزینت کے فریب میں مبتلا ہو کر ہمیشہ یہ سمجھتے رہے کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے، آخرت نام کی چیز ایک وہم اور بہلاوے کے سوا کچھ نہیں۔ ایک وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ اس زمین کی ہر چیز کو فنا کر دے گا اور یہ زمین چٹیل میدان بن کر رہ جائے گی۔ ایسا شاید قیامت میں ہوگا۔ اس وقت انسان حیران ہو کر دیکھے گا کہ زمین کے جس زیب وزینت پر میں جان دیتا رہا ہوں، آج وہ کہاں ہے ؟ تب اسے معلوم ہوگا کہ ان میں سے کوئی چیز بھی اپنی حقیقت نہیں رکھتی تھی، ایک فریبِ نظر تھا جس میں سب لوگ مبتلا تھے۔ دنیا میں اگرچہ قدرت نے ہر طرف عبرت کے نمونے رکھے ہیں لیکن یہاں کا رنگ و بو انسان کو ایسا اندھا کرتا ہے کہ اسے ساون کے اندھے کی طرح ہر طرف ہرا ہی ہرا یعنی دنیا ہی کی لذتیں نظر آتی ہیں۔ قیامت کو جب اس کی حقیقت کھلے گی تو انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا، لیکن اس وقت یہ احساس کام نہیں آئے گا۔
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں تھے۔

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْـکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ لا کَانُوْا مِنْ اٰیٰـتِنَا عَجَبًا۔ (الکہف : 9) (کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں تھے۔ ) مخاطب کون ہے ؟ اس آیت کریمہ کا پہلا لفظاَمْ حَسِبْتَ کا مخاطب کون ہے ؟ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس کے مخاطب آنحضرت ﷺ ہیں۔ لیکن اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نبوت کے بعد سے مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں دیکھیں اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ سورت سورة بنی اسرائیل کے بعد نازل ہوئی ہے جیسا کہ بعض اہل علم کا خیال ہے تو پھر تو آپ ﷺ معراج شریف کے سفر میں جو کچھ دیکھ چکے ہیں اس کے بعد کسی نشانی کو عجیب سمجھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ویسے بھی قرآن کریم میں مختلف انبیائے کرام کے معجزات کا ذکر ہوا ہے اور مختلف قوموں کی تاریخ بیان ہوئی ہے۔ اصحابِ کہف کا واقعہ ان سے زیادہ عجیب تو نہیں ہے۔ اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ اس میں خطاب آنحضرت ﷺ کو نہیں بلکہ ہر شخص اس کا مخاطب ہے۔ خطاب کا یہ انداز اپنے اندر اس قدر عموم رکھتا ہے کہ جن لوگوں اور جس قوم سے خطاب ہورہا ہے اس کا ایک ایک شخص مخاطب ہوتا ہے۔ یہ سوال بھی چونکہ قریش کی طرف سے آیا تھا اس لیے اسی عموم اور تاکید کے ساتھ انھیں متوجہ کرتے ہوئے جواب دیا جارہا ہے۔ رقیم سے کیا مراد ہے ؟ قریش نے اہل کتاب کی انگیخت پر آنحضرت ﷺ سے تین سوال کیے تھے جن میں سے ایک سوال اصحابِ کہف کے بارے میں تھا۔ چناچہ یہ اسی کا جواب دیا گیا ہے۔ کہف عربی زبان میں وسیع غار کو کہتے ہیں اور غار تنگ کھوہ کو۔ لیکن اردو زبان میں یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں۔ قرآن کریم اور دوسری تاریخی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف جس غار میں پناہ گزین ہوئے تھے وہ ایک وسیع غار تھا۔ اور تاریخ میں وہ غار والے (اصحابِ کہف) ہی کے نام سے مشہور ہوئے۔ لیکن یہاں قرآن کریم نے انھیں اَصْحٰبَ الْـکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ لا کہا ہے۔ اہل علم میں اس بات پر اختلاف ہوا ہے کہ رقیم سے کیا مراد ہے ؟ بعض صحابہ اور تابعین اس طرف گئے ہیں کہ یہ اس بستی کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا لیکن بعض قدیم مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ کتبہ ہے جو اصحابِ کہف کے دریافت ہونے کے بعد ان کی یادگار کے طور پر ان کی غار پر لگایا گیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم نے اپنی تفسیر ترجمان القرآن میں پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ مقام وہی ہے جسے بائبل کی کتاب یشوع (باب 18 آیت 27) میں رقم یا راقم کہا گیا ہے۔ پھر وہ اسے نبطیوں کے مشہور تاریخی مرکز پیٹرا کا قدیم نام قرار دیتے ہیں۔ لیکن مولانا مودودی کا خیال یہ ہے کہ کتاب یشوع میں رقم یا راقم کا ذکر بنی بن یمین کی میراث کے سلسلے میں آیا ہے اور خود اسی کتاب کے بیان کی رو سے اس قبیلے کی میراث کا علاقہ دریائے اردن اور بحرلوط کے مغرب میں واقع تھا جس میں پیٹرا کے ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ پیٹرا کے کھنڈر جس علاقے میں پائے گئے ہیں اس کے اور بنی بن یمین کی میراث کے درمیان تو یہوداہ اور ادومیہ کا پورا علاقہ حائل تھا۔ اسی بنا پر جدید زمانے کے محققینِ آثارِ قدیمہ نے یہ بات ماننے میں سخت تأمل کیا ہے کہ پیٹرا اور راقم ایک چیز ہیں۔ مولانا مودودی کا خیال اس تحقیق کی بنا پر یہ ہے کہ رقیم سے مراد کوئی بستی نہیں بلکہ کتبہ ہے جو ان کے غار پر لگایا گیا تھا۔ لیکن چند سال پہلے جو ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے اس کا ہم آگے چل کر ذکر کریں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف کا غار اردن کے علاقے میں عمان کے قریب دریافت ہوا ہے اور اس غار کے قریب ایک بستی ہے جس کے بارے میں سینہ بہ سینہ روایات یہ ہیں کہ اصحابِ کہف وہاں کے رہنے والے تھے۔ اسے بدو لوگ اپنی زبان میں رجیب کہتے ہیں۔ خیال یہ ہے کہ یہ رقیم کی بگڑی ہوئی شکل ہے کیونکہ یہاں کے بدو اکثر قاف کو جیم اور میم کو با سے بدل کر بولتے ہیں۔ مسیحی مصادر میں تقریباً جزم کے ساتھ یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ ترکی کے شہر افسس کے قریب پیش آیا تھا جس کا اسلامی نام طرسوس ہے اور وہیں پر ایک غار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اصحابِ کہف کا غار ہے۔ شاید انھیں مسیحی روایات کے زیراثر بہت سے مسلمان مفسرین اور مؤرخین نے بھی اصحابِ کہف کا محل وقوع افسس ہی کو بتایا ہے۔ اس سلسلے میں صاحب تفہیم القرآن نے ایک طویل نوٹ لکھا ہے، ہم اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔ اس قصے کی قدیم ترین شہادت شام کے ایک عیسائی پادری جیمس سروجی کے مواعظ میں پائی گئی ہے جو سریانی زبان میں لکھے گئے تھے۔ یہ شخص اصحابِ کہف کی وفات کے چند سال بعد 452 ء میں پیدا ہوا تھا اور اس نے 474 ء کے لگ بھگ زمانے میں اپنے یہ مواعظ مرتب کیے تھے۔ ان مواعظ میں وہ اس پورے واقعہ کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہی سریانی روایت ایک طرف ہمارے ابتدائی دور کے مفسرین کو پہنچی جسے ابن جریر طبری نے مختلف سندوں کے ساتھ اپنی تفسیر میں نقل کیا، اور دوسری طرف یورپ پہنچی جہاں یونانی اور لاطینی زبانوں میں اس کے ترجمے اور خلاصے شائع ہوئے۔ گبن نے اپنی کتاب ” تاریخ زوال و سقوطِ دولت روم “ کے باب 33 میں ” سات سونے والوں “ کے عنوان کے تحت ان مآخذ سے اس قصے کا جو خلاصہ دیا ہے وہ ہمارے مفسرین کی روایات سے اس قدر ملتا جلتا ہے کہ دونوں قصے قریب قریب ایک ہی ماخذ سے ماخوذ معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً جس بادشاہ کے ظلم سے بھاگ کر اصحابِ کہف غار میں پناہ گزین ہوئے تھے، ہمارے مفسرین اس کا نام دقینوس یا دقیانوس یا دقیوس بتاتے ہیں اور گبن کہتا ہے کہ وہ قیصر ڈیسیس (Decirs) تھا جس نے 249 ء سے 251 ء تک سلطنت روم پر فرمانروائی کی ہے اور مسیح (علیہ السلام) کے پیروئوں پر ظلم و ستم کرنے کے معاملہ میں جس کا عہد بہت بدنام ہے جس شہر میں یہ واقعہ پیش آیا اس کا نام ہمارے مفسرین افسس یا افسوس لکھتے ہیں، اور گبن اس کا نام افسس (Ephesus) بتاتا ہے جو ایشیائے کو چک کے مغربی ساحل پر رومیوں کا سب سے بڑا شہر اور مشہور بندرگاہ تھا، جس کے کھنڈر آج موجودہ ٹرکی کے شہر ازمیر (سمرنا) سے 20۔ 25 میل بجانب جنوب پائے جاتے ہیں (ملاحظہ ہو نقشہ نمبر 2 صفحہ 43) ۔ پھر جس بادشاہ کے عہد میں اصحابِ کہف جاگے اس کا نام ہمارے مفسرین تیذوسیس لکھتے ہیں اور گبن کہتا ہے کہ ان کے بعث کا واقعہ قیصر تھیوڈوسیس (Theodosius) ثانی کے زمانے میں پیش آیا جو رومی سلطنت کے عیسائیت قبول کرلینے کے بعد 408 ء سے 450 ء تک روم کا قیصر رہا۔ دونوں بیانات کی مماثلت کی حد یہ ہے کہ اصحابِ کہف نے بیدار ہونے کے بعد اپنے جس رفیق کو کھانا لانے کے لیے شہر بھیجا تھا اس کا نام ہمارے مفسرین یملیخا بتاتے ہیں اور گبن اسے یملیخس (Jamblchus) لکھتا ہے۔ قصے کی تفصیلات دونوں روایتوں میں یکساں ہیں اور ان کا خلاصہ یہ ہے کہ قیصر ڈیسیس کے زمانے میں جب مسیح (علیہ السلام) کے پیروئوں پر سخت ظلم و ستم ہورہے تھے، یہ سات نوجوان ایک غار میں جا بیٹھے تھے۔ پھر قیصر تھیوڈوسیس کی سلطنت کے اڑتیسویں سال (یعنی تقریباً 445 ء یا 446 ء میں) یہ لوگ بیدار ہوئے جبکہ پوری رومی سلطنت مسیح (علیہ السلام) کی پیرو بن چکی تھی۔ اس حساب سے غار میں ان کے رہنے کی مدت تقریباً 196 سال بنتی ہے۔ بعض مستشرقین نے اس قصے کو قصہ اصحابِ کہف کا مترادف ماننے سے اس بنا پر انکار کیا ہے کہ آگے قرآن ان کے قیام غار کی مدت 309 سال بیان کر رہا ہے لیکن اس کا جواب ہم نے حاشیہ نمبر 25 میں دے دیا ہے۔ اس سریانی روایت اور قرآن کے بیان میں کچھ جزوی اختلافات بھی ہیں جن کو بنیاد بناکر گبن نے نبی کریم ﷺ پر ” جہالت “ کا الزام لگایا ہے، حالانکہ جس روایت کے اعتماد پر وہ اتنی بڑی جسارت کررہا ہے اس کے متعلق وہ خود مانتا ہے کہ وہ اس واقعہ کے تیس چالیس سال بعد شام کے ایک شخص نے لکھی ہے اور اتنی مدت کے اندر زبانی روایات کے ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچنے میں کچھ نہ کچھ فرق ہوجایا کرتا ہے۔ اس طرح ایک روایت کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ حرف بحرف صحیح ہے اور اس سے کسی جز میں اختلاف ہونا لازماً قرآن ہی کی غلطی ہے، صرف ان ہٹ دھرم لوگوں کو زیب دیتا ہے جو مذہبی تعصب میں عقل کے معمولی تقاضوں تک کو نظرانداز کر جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن) ایک اور تحقیق مسیحی اور مسلمان مؤرخین کی اس تاریخی تحقیق کے پہلو بہ پہلوہم یہ دیکھتے ہیں کہ واقعہ کی تفصیل سے قطع نظر جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا تھا اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ( رض) کی ایک روایت تفسیر ابن جریر میں مروی ہے، جس میں حضرت ابن عباس ( رض) نے فرمایا ہے کہ اصحابِ کہف کا غار ایلہ (خلیج عقبہ) کے قریب یعنی اردن میں واقعہ ہے۔ اس روایت اور متعدد دوسرے قرائن کی بنیاد پر آخری دور کے بہت سے محققین نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ یہ غار اردن میں واقع ہے۔ حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے قصص القرآن میں اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے اور متعلقہ تاریخی اور جغرافیائی شواہد کی روشنی میں اسی کو درست قرار دیا ہے کہ یہ غار اردن میں ہے اور مولانا سیدسلمان ندوی ( رح) نے بھی ارض القرآن میں اردن کے قدیم شہر پٹرا کو رقیم قرار دیا ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے بھی تفسیر معارف القرآن میں مفصل بحث کے بعد اسی طرف رجحان ظاہر فرمایا ہے کہ یہ غار اردن میں ہے۔ اور مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کی رائے بھی یہی تھی۔ ان تمام حضرات کی تحقیق کا حاصل بھی یہی ہے کہ اردن کے مشہور تاریخی شہر پٹرا کا اصل نام رقیم تھا جسے رومی حکومت نے بدل کر پٹرا کردیا اور یہ غار اسی کے قریب واقع تھا۔ اور ہم عرض کرچکے ہیں کہ مولانا مودودی کو اس سے اختلاف ہے کہ پٹرا اور رقیم ایک ہی چیز ہیں۔ مولانا محمد تقی عثمانی نے اپنے سفرنامہ ” جہانِ دیدہ “ میں اردن کے ایک مشہور محقق کی تحقیق کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اور خوداپنے چشم دید واقعات بھی اسی حوالے سے سپردقلم کیے ہیں۔ ہم ان کی تحریر کو یہاں نقل کررہے ہیں۔ 1953 ء میں اردن کے محقق تیسیر ظبیان صاحب کو کسی طرح پتہ چلا کہ عمان کے قریب ایک پہاڑ پر ایک ایسا غار واقع ہے جس میں کچھ قبریں اور مردہ ڈھانچے موجود ہیں اور اس غار کے اوپر ایک مسجد بھی بنی ہوئی ہے۔ چناچہ وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ اس غار کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ یہ جگہ عام راستے سے ہٹ کر واقع تھی۔ اس لیے کئی کلو میٹر دشوار گزار راستہ طے کرکے وہ اس غار کے دہانے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ تیسیرظبیان صاحب کے الفاظ ہیں : ” ہم ایک اندھیرے غار کے سامنے کھڑے تھے جو ایک دورافتادہ جگہ اور ایک چٹیل پہاڑ پر واقع تھا، غار میں اس قدر اندھیرا تھا کہ ہمارا اندر داخل ہونا مشکل ہوگیا، ایک چرواہے نے ہمیں بتایا کہ غار کے اندر کچھ قبریں ہیں اور ان میں بوسیدہ ہڈیاں پڑی ہیں، غار کا دروازہ جنوب کی سمت تھا اور اس کے دونوں کناروں پر دو ستون تھے جو چٹان کو کھود کر بنائے گئے تھے۔ میری نظر اچانک ان ستونوں پر بنے ہوئے نقوش پر پڑی تو اس پر بیزنطی نقوش نظر آرہے تھے، غار کو ہر طرف سے پتھروں کے ڈھیروں اور ملبے نے چھپایا ہوا تھا اور یہاں سے تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر ایک بستی تھی جس کا نام ” رجیب “ تھا۔ “ تیسیرظبیان صاحب نے اپنی تحقیق جاری رکھی، محکمہ آثار قدیمہ کو متوجہ کیا بالآخر ایک ماہر اثریات رفیق رجانی صاحب نے ماہرانہ تحقیق کے بعد یہ رائے ظاہر کی کہ یہی غار اصحابِ کہف کا غار ہے، چناچہ 1961 ء میں اس کی کھدائی کا کام شروع ہوا تو اس رائے کی تائید میں بہت سے قرائن و شواہد ملتے چلے گئے جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں : 1 اس غار کا دہانہ جنوب کی طرف ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس پر قرآن کریم کی یہ آیت پوری طرح صادق ہے۔ وَتَرٰی الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُعَنْ کَـھُفِھِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضْھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَھُمْ فِیْ فَجْوَۃٍ مِّنْہْ ۔ اور سورج جب طلوع ہوتا تو ان کے غار سے دائیں جانب جھکتا ہوا گزرتا اور جب غروب ہوتا تو ان کے بائیں جانب سے کترا کر گزرتا اور یہ لوگ اس غار کے کشادہ حصے میں تھے۔ اس غار میں صورتحال یہی ہے کہ دھوپ کسی وقت اندر نہیں آتی بلکہ طلوع و غروب کے وقت دائیں بائیں سے گزر جاتی ہے اور غار کے اندر ایک کشادہ خلا بھی ہے جس میں ہوا اور روشنی آرام سے پہنچتی ہے۔ 2 قرآن کریم نے یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ بستی کے لوگوں نے اس غار کے اوپر مسجد بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ چناچہ اس غار کے ٹھیک اوپر کھدائی کرنے اور ملبہ ہٹانے کے بعد ایک مسجد بھی برآمد ہوئی ہے جو قدیم رومی طرز کے پتھروں سے بنی ہوئی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ شروع میں بازنطینی طرز کا ایک معبد تھا اور عبدالملک بن مروان کے زمانے میں اسے مسجد بنادیا گیا۔ 3 عصر حاضر کے بیشتر محققین کا کہنا یہ ہے کہ وہ مشرک بادشاہ جس کے ظلم و ستم سے تنگ آکر اصحابِ کہف نے غار میں پناہ لی تھی ٹراجان تھا جو 98 ء سے 117 ء تک حکمران رہا ہے اور اس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ بت پرستی سے انکار کرنے والوں پر سخت ظلم ڈھاتا تھا، تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ ٹرا جان نے 106 ء میں شرق اردن کا علاقہ فتح کرلیا تھا اور اسی نے عمان کا وہ سٹیڈیم تعمیر کیا تھا جس کا ذکر پیچھے آچکا ہے اور وہ بادشاہ جس کے عہد میں اصحابِ کہف بیدار ہوئے اس کا نام جدید محققین تھیوڈوسیس بتاتے ہیں جو پانچویں صدی کے آغاز میں گزرا ہے۔ دوسری طرف اس نئے دریافت شدہ غار کے اندر جو سکے پڑے ہوئے ملے ہیں ان میں سے کچھ ٹرا جان کے زمانے کے ہیں (موقع اصحاب الکہف ص 35) جس سے اس خیال کو بہت تقویت ملتی ہے کہ یہی اصحابِ کہف کا غار ہے۔ 4 قرآن کریم نے اصحابِ کہف کو ” اصحاب الکہف والرقیم “ (غار اور رقیم والے) کہا ہے، رقیم کیا چیز ہے ؟ اس کی تشریح میں مختلف آراء بیان کی جاتی ہیں لیکن بیشتر محققین کا خیال یہ ہے کہ رقیم اس بستی کا نام تھا جس میں ابتداً یہ حضرات آباد تھے۔ اب جس جگہ یہ غار واقع ہے وہاں سے نکل کر سو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی بستی ” رجیب “ کہلاتی ہے۔ رفیق الدجانی صاحب کا خیال یہ ہے کہ یہ ” رقیم “ کی بگڑی ہوئی شکل ہے کیونکہ یہاں کے بدو اکثر قاف کو جیم اور میم کو با سے بدل کر بولتے ہیں (موقع اصحاب الکہف ص 118) چناچہ اب حکومت اردن نے اس بستی کا نام سرکاری طور پر ” رقیم “ ہی کردیا ہے بعض قدیم علماء جغرافیہ نے بھی رقیم کی بستی کو عمان کے قریب بتایا ہے۔ چناچہ معروف جغرافیہ نگار ابوعبداللہ البشاری المقدسی اپنی کتاب ” احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم “ میں لکھتے ہیں : والرقیم بلد فی شرق الأردن بالقرب من عمان، حیث وجدت مغارۃ فیھا عدد من الجثث غیرالبالیۃ۔ (موقع اصحاب الکہف، ص 49) رقیم شرق اردن میں عمان کے قریب ایک شہر ہے جہاں ایک غار بھی پایا گیا ہے جس میں کچھ انسانی ڈھانچے بھی ہیں جو زیادہ بوسیدہ نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ علامہ یاقوت حموی ( رح) نے بھی رقیم کی تشریح کرتے ہوئے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ : ان بالبلقاء بأرض العرب من نواحی دمشق موضعا یزعمون آنہ الکہف والرقیم قرب عمان۔ دمشق کے مضافات میں جو عربی سرزمین بلقا کہلاتی ہے اس میں شہر عمان کے قریب ایک جگہ ہے جس کے بارے میں ان لوگوں کا خیال ہے کہ وہی کہف اور رقیم ہے۔ 5 تیسیرظبیان صاحب نے بعض روایات نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قرون اولیٰ کے مسلمان اسی علاقے کے کسی غار کو اصحابِ کہف کا غار سمجھتے تھے۔ حضرت عبادہ بن صامت ( رض) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر ( رض) نے انھیں بادشاہ روم کے پاس ایلچی بناکر بھیجا تو وہ راستے میں شام و حجاز کے راستے پر ایک پہاڑ سے گزرے جس کا نام جبل الرقیم تھا، اس میں ایک غار بھی تھا جس میں کچھ ڈھانچے تھے اور وہ بوسیدہ بھی نہیں ہوئے تھے۔ نیز تفسیر قرطبی میں حضرت ابن عباس ( رض) کے بارے میں بھی مروی ہے کہ وہ اس غار سے گزرے تھے اور اسے اصحابِ کہف کا غار قرار دیا تھا۔ فتوح الشام میں واقدی نے بھی حضرت سعید بن عامر ( رض) کا ایک طویل قصہ لکھا ہے کہ وہ شام کی طرف جہاد کے لیے روانہ ہوئے اور راستہ بھول گئے، بالآخر بھٹکتے بھٹکتے جبل الرقیم کے پاس پہنچے تو اسے دیکھ کر پہچان گئے۔ اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ یہ اصحابِ کہف کا غار ہے، چناچہ وہاں نماز پڑھ کر عمان شہر میں داخل ہوئے۔ (موقع اصحاب الکہف ص 46، 47، 103) بہرکیف ! اتنے پرانے واقعہ کے محل وقوع کے بارے میں حتمی طور پر سو فیصد یقین کے ساتھ کچھ کہنا تو مشکل ہے لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ اب تک جتنے مقامات کے بارے میں مقام اصحابِ کہف ہونے کی رائے ظاہر کی گئی ہے ان سب میں جتنے زیادہ قرائن و شواہد اس غار کے حق میں ہیں، کسی اور غار کے حق میں اتنے قرائن موجود نہیں ہیں۔ تیسیرظبیان صاحب نے اپنی کتاب میں افسس کے غار سے اس غار کا موازنہ بھی کیا ہے، اس موازنے سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ غار عمان شہر سے 7 کلو میٹر جنوب میں واقع ہے اور اردن کی مرکزی شاہراہ جو عقبہ سے عمان تک گئی ہے اس سے اس کا فاصلہ 3 کلو میٹر ہے۔ ہم تقریباً 9 بجے صبح یہاں پہنچے۔ اب کاروں کے لیے پہاڑ کے اوپر تک جانے کے لیے راستہ بنادیا گیا ہے۔ کار سے اتر کر تھوڑا سا اوپر چڑھے تو ایک کشادہ صحن سا ہے جس میں قدیم طرزتعمیر کے کچھ ستون وغیرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس صحن کو عبور کرکے غار کا دہانہ ہے، دہانہ کے فرش پر ایک خاصی چوڑے پتھر کی بنی ہوئی ایک چوکھٹ سی ہے، اس سے غار کے اندر اترنے کے لیے تقریباً دو سیڑھیاں نیچے جانا پڑتا ہے۔ یہاں آکر یہ غار تین حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ ایک حصہ دہانے سے سیدھا شمال تک گیا ہے، دوسرا دائیں ہاتھ مشرق کی طرف مڑ گیا ہے اور تیسرا بائیں ہاتھ مغرب کی طرف۔ مشرقی اور مغربی حصوں میں 8 تابوت نما قبریں بنی ہوئی ہیں۔ مشرقی حصے کی ایک قبر میں ایک چھوٹا سا سوراخ بھی ہے۔ اس سوراخ میں جھانک کر دیکھیں تو ایک انسانی ڈھانچہ صاف نظر آتا ہے۔ اگر اندھیرا ہو تو غار کا مجاور موم بتی جلا کر اندر کا منظر دکھا دیتا ہے۔ لیکن غار کا جو حصہ جنوب سے شمال کی طرف سیدھا گیا ہے، وہ تقریباً سپاٹ ہے اور اسی کے بارے میں تیسیرظبیان صاحب کا خیال یہ ہے کہ یہی وہ ” فجوہ “ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ جب 1961 ء میں اس غار کی صفائی اور کھدائی کا کام شروع ہوا تو رفیق الدجانی کہتے ہیں کہ غار کی اسی درمیانی جگہ میں ایک جانور کا جبڑا پڑا ہوا ملا جس میں ایک نوکیلا دانت اور چار داڑھیں محفوظ تھیں۔ تیسیرظبیان صاحب کا خیال ہے کہ یہ اصحابِ کہف کے کتے کا جبڑا تھا۔ اس کے علاوہ اسی جگہ پر رومی، اسلامی اور عثمانی دور کے بہت سے سکے ٹھیکری کے برتن، کوڑیوں کے ہار، پیتل کے کنگن اور انگوٹھیاں بھی پڑی ہوئی ملی تھیں۔ اب یہ ساری چیزیں ایک الماری میں جمع کرکے غار کی شمالی دیوار میں محفوظ کردی گئی ہیں جو ہم نے بھی دیکھیں۔ غار کے مشرقی حصے میں ایک اوپر کو بلند ہوتی ہوئی چھوٹی سے سرنگ ہے جو دھواں نکالنے والی چمنی کی شکل میں ہے، یہ سرنگ غار کی چھت پر جو مسجد بنی ہوئی ہے اس میں جا کر نکلی ہے لیکن جب یہ غار دریافت ہوا اس وقت اس سرنگ کے بالائی دھانے پر ایک پتھر رکھا ہوا ملا تھا۔ اتفاق سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے لشکر کے ایک جرنیل اسامہ بن منقذ نے اپنی کتاب ” الاعتبار “ میں بھی ذکر کیا ہے کہ میں 30 شہسواروں کے ساتھ اس غار میں گیا اور وہاں نماز پڑھی لیکن وہاں ایک تنگ سرنگ تھی اس میں داخل نہیں ہوا۔ تیسیرظبیان صاحب کا خیال ہے کہ یہ وہی تنگ سرنگ ہے۔ (موقع اصحاب الکہف، ص 49) غار کو جب صاف کرکے دیکھا گیا تو اس کی دیواروں پر خط کوفی اور خط یونانی میں کچھ عبارتیں بھی لکھی ہوئی تھیں، جو اب پڑھی نہیں جاتیں۔ غار سے باہر نکلے تو سامنے کے صحن میں ایک گول دائرہ بنا نظر آیا، مجاور نے بتایا کہ غار کی دریافت کے وقت یہاں ایک زیتون کے درخت کا تنا برآمد ہوا تھا۔ رفیق الدجانی صاحب نے لکھا ہے کہ زیتون کا یہ درخت بدوی دور کا ہے اور اس کے قریب ایک مسقف قبر بھی تھی اور جب ہم نے پہلے پہل یہاں کھدائی اور صفائی شروع کی تو آس پاس کے معمر لوگوں نے بتایا کہ زیتون کا یہ درخت 20 سال پہلے تک تروتازہ تھا اور ہم اس کا پھل بھی کھایا کرتے تھے۔ غار کے ٹھیک اوپر ایک قدیم مسجد کی دیواریں ایک محراب سمیت چند فٹ تک ابھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ جب شروع میں تیسیرظبیان اور رفیق الدجانی صاحب یہاں پہنچے تھے اس وقت یہ مسجد نظر نہ آتی تھی، کھدائی اور صفائی کے بعد مسجد برآمد ہوئی۔ یہ مسجد دس میٹر لمبی اور دس میٹر چوڑی ہے اور کھدائی کے دوران اس کے بیچ میں چار گول ستون برآمد ہوئے جو رومی طرز کے ہیں یہاں سے رومی بادشاہ جسٹن کے عہد (517 ء۔ 527 ء) کے کچھ پیتل کے سکے بھی کھدائی کے دوران برآمد ہوئے، ڈیڑھ میٹر کے برابر ایک چھوٹا سا کمرہ بھی نکلا جس کی چھت کو شاید اذان کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اسی کے قریب کچھ مٹی کے لوٹے بھی پائے گئے جو وضو میں استعمال ہوتے ہوں گے۔ یہ یہیں سے ایک کتبہ بھی برآمد ہوا جس کی تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ احمد بن طولون کے بیٹے خمارویہ کے زمانے (895 عیسوی) میں اس مسجد کی مرمت کی گئی تھی۔ اس تمام مجموعے سے ماہرین نے جو نتائج نکالے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدا میں یہاں رومیوں نے ایک عبادت گاہ بنائی تھی۔ عہد اسلام میں (غالباً عبدالمالک بن مروان کے زمانے میں) اسے مسجد میں تبدیل کردیا گیا لیکن مسلمانوں نے اس کے طول و عرض میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ اس وقت اردن کے محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ اوقاف نے اس غار کے تحفظ اور اس کی صفائی وغیرہ پر خاص توجہ صرف کی ہے۔ اس کے قریب ایک نئی مسجد بھی تعمیر کردی ہے۔ زائرین کی سہولت کے لیے راستہ آسان بنادیا ہے اور غار کے اندر کتبات لگا دیئے ہیں۔
Ayahs 18:10–12

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جس وقت کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور انھوں نے دعا کی اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اس معاملے میں ہمارے لیے رہنمائی کا سامان فرما۔

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں کئی سالوں کے لیے انھیں تھپک کے سلا دیا۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو بیدار کیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون مدت قیام کو صحیح شمار کرتا ہے۔

اِذْا اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْـکَھْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً وَّھَیِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا۔ فَضَرَبْنَا عَلٰٓی اٰذَانِہِمْ فِی الْـکَھْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا۔ ثُمَّ بَعَثْـنٰـھُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰی لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا۔ (الکہف : 10 تا 12) (جس وقت کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور انھوں نے دعا کی اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اس معاملے میں ہمارے لیے رہنمائی کا سامان فرما۔ تو ہم نے غار میں کئی سالوں کے لیے انھیں تھپک کے سلا دیا۔ پھر ہم نے ان کو بیدار کیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون مدت قیام کو صحیح شمار کرتا ہے۔ ) ان تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کے واقعہ کا جو مرکزی مضمون ہے اسے بیان فرما دیا ہے اور اس کے بعد اسی کی نسبتاً تفصیل بیان فرمائی ہے۔ البتہ وہ باتیں جو کسی بات کو کہانی بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں یا جنھیں زیب داستاں کہا جاتا ہے، قرآن کریم اس سے تعرض نہیں کرتا۔ وہ اپنے بیان کو صرف ان باتوں تک محدود رکھتا ہے جس کا تعلق واقعہ کے اصل مضمون نصیحت یا عبرت سے ہو۔ واقعہ اصحابِ کہف میں تعجب خیز بات کیا ہے ؟ اصحابِ کہف کے واقعہ میں جو بات تعجب خیز ہے اور جسے دلچسپی سے سنا جاتا اور جاننے کی کوشش کی جاتی ہے وہ چند جوانوں کا ایک غار میں سالہاسال تک سوئے رہنا اور پھر زندہ حالت میں اٹھ کھڑے ہونا اور لوگوں سے ملاقات کرنا ہے، لیکن قرآن کریم اسے کوئی تعجب کی چیز نہیں سمجھتا۔ اس کے نزدیک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک بڑی آبادی والے شہر میں جبکہ آبادی کا بیشتر حصہ بت پرستی میں مبتلا تھا اور اقتدار نہ صرف بت پرستی کی پشت پناہی کر رہا تھا بلکہ زبردستی لوگوں سے اس کا اعتراف بھی کروا رہا تھا۔ ایسی صورتحال میں جبکہ لوگوں کا رجحان حالات کا رخ، تعلیم و تربیت کی نہج اور قانون اور اقتدار کا جبر باطل کے ساتھ ہو۔ کسی شخص کا حق کی طرف مائل ہونا اور پھر اس پر اس حد تک ثابت قدم رہنا کہ وہ اقتدار کی فہمائش کو بھی خاطر میں نہ لائے اور جب حالات کے تیوروں کو بگڑا ہوا دیکھے تو بستی چھوڑ کر غاروں کی پناہ ڈھونڈے، یقینا ایک مشکل بات ہے۔ اس بڑے شہر کی تمام آبادی میں کسی نے اس مشکل کا ارتکاب نہیں کیا، بجز چند نوجوانوں کے۔ فتیۃ عربی زبان میں جمع قلت کا وزن ہے جس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو نوجوان بت پرستی سے بغاوت کرکے توحید کا علم سے کر اٹھے، ان کی تعداد آٹھ نو سے زیادہ نہیں تھی۔ عام تاریخی روایات اور قرآن کریم کے اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سات نوجوان تھے۔ اس سے اشارہ شاید اس طرف ہے کہ حالات کتنے بھی بگڑ جائیں نوجوانوں کو حق کی طرف مائل کرنا بڑوں کی نسبت آسان ہوتا ہے کیونکہ ان کے ساتھ مفادات کے پتھر معلق نہیں ہوتے۔ بیوی بچوں کی کمزوریاں انھیں لاحق نہیں ہوتیں۔ وہ بڑی سے بڑی تکلیف اپنی جان پر برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور جب ایک دفعہ وہ حق کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو پھر بڑے سے بڑا خطرہ بھی ان کے پائوں کی زنجیر نہیں بن سکتا۔ اس سے نوجوانوں کو یہ سبق ملتا ہے : بنا کرتی ہے اس دنیا میں ملت نوجوانوں سے سنبھلتی ہے ہمیشہ قوم ہمت نوجوانوں سے اور امت مسلمہ کے اصحابِ اقتدار اور اربابِ علم و فضل کو شاید یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر وہ اس امت کی تاریخ اور اس کے تسلسل کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انھیں نوجوان نسل سے کبھی بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں جہاں سے ان کے دل و دماغ کے بگاڑ کے اسباب پیدا ہوتے ہیں ان کا سختی سے انسداد کرنا امت کے بڑے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ نوجوانوں کے بگڑنے سے قوم کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر وہ بطور قوم کے آبرومندی سے زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ نوجوان اگر ایک طرف جوانوں کا ولولہ رکھتے تھے کہ حالات سے ٹکرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو دوسری طرف ان کے اندر دینی شعور اس حد تک تھا کہ انھوں نے اس راستے پر چلنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے ہدایت کی دعا مانگی اور راستے کی مشکلات کی آسانی کے لیے اسی سے مدد چاہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان یہ کیا کہ انھیں غار میں صرف رہنے کا موقع نہیں دیا بلکہ نہایت پیار اور محبت سے اس طرح سلایا جیسے ماں اپنے لاڈلے بچے کو تھپک تھپک کر سلاتی ہے۔ پھر ایک مدت کے بعد انھیں اٹھایا جو اس سارے واقعہ سے اصل مقصود تھا کہ وہ آپس میں بحث کریں کہ ہم کتنی دیر تک سوئے رہے۔ کوئی کہے ایک پہر، کوئی کہے سارا دن، لیکن کسی ایک بات پر اتفاق نہ کرسکیں۔ اس سے انھیں یہ سمجھانا مقصود تھا کہ جس طرح تم چند سو سال کی نیند کے بارے میں جان نہیں سکے کہ کتنا عرصہ سو تے رہے ہو، اسی طرح برزخی زندگی کے اختتام پر بھی جب تمہیں قیامت کے لیے اٹھایا جائے گا تو تم یہ کہتے ہوئے اٹھو گے کہ ہماری نیند سے ہمیں کس نے اٹھا دیا، ہم ابھی تو سوئے تھے یعنی برزخ کی ہزاروں سال کی زندگی سونے والے کو چند گھنٹوں کی زندگی محسوس ہوگی، تو اللہ تعالیٰ کی جو ذات اس بات پر قادر ہے کہ دنیا کے فانی نظام میں سونے والوں کو صدیوں تک سلائے رکھے اور انھیں احساس بھی نہ ہونے پائے کہ ہم کتنا سوئے ہیں، اس کے لیے کیا مشکل ہے، وہ برزخ میں بھی مرنے والوں پر ایک لمبی نیند طاری کردے اور جب قیامت کے لیے انھیں اٹھائے تو وہ ایسے ہی احساس میں مبتلا ہوں، لیکن آج آخرت کا انکار کرنے والے چونکہ اس شعور سے بہرہ ور نہیں اس لیے وہ اس کے ادراک سے عاجز ہیں۔