18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsروح القرآن

Ayah 18:43

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اس کے پاس نہ کوئی جتھا تھا جو خدا کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود ہی انتقام لینے والا بن سکا۔

وَلَمْ تَکُنْ لَّـہٗ فِئَۃٌ یَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مُنْتَصِرًا۔ (الکہف : 43) (اور اس کے پاس نہ کوئی جتھا تھا جو خدا کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود ہی انتقام لینے والا بن سکا۔ ) یعنی جب اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو جس طرح اس کی اپنی صلاحیتیں کسی کام نہ آئیں اور اس کے غرور اور گھمنڈ نے اس کا ساتھ نہ دیا، اسی طرح وہ اپنی جس افراد ی قوت اور گروہی طاقت پر ناز کرتا تھا اور مردمومن سے یہ کہتا تھا کہ میں تم سے مال میں بھی بڑھ کر ہوں اور افراد کی تعداد کے اعتبار سے بھی زیادہ طاقتور ہوں، وہ اس کی افرادی قوت اور اس کی پارٹی اس کے کسی کام نہ آئی اور وہ سب مل کر بھی اس کو تباہی سے نہ بچا سکے۔ اور اس کے سارے غرور اور تکبر کے باوجود اس کے اندر بھی ایسا کس بل نہ تھا کہ وہ اپنے اللہ تعالیٰ سے انتقام لینے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا۔
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

تب اسے معلوم ہوا کہ سارا اختیار خدائے برحق ہی کا ہے اور وہ بہترین اجر اور بہترین انجام والا ہے۔

ھُنَالِکَ الْوَلاَ یَۃُ لِلّٰہِ الْحَقِّ ط ھُوَ خَیْرٌ ثَـوَابًا وَّخَیْرٌ عُقْبًا۔ (الکہف : 44) (تب اسے معلوم ہوا کہ سارا اختیار خدائے برحق ہی کا ہے اور وہ بہترین اجر اور بہترین انجام والا ہے۔ ) وَلاَ یَۃُ … وائو پر زبر کے ساتھ دوستی اور مدد کرنے کا معنی دیتا ہے۔ اور وائو کے نیچے زیر کے ساتھ اس کا معنی ہے غلبہ۔ عَقَبْ اور عَاقِبَۃً عموماً دونوں ہم معنی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا معنی ہے انجام۔ بعداز خرابیِ بسیار حقیقت کا ادراک جب اس مغرور شخص پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور دولت کے جس ذریعے پر وہ مغرور تھا جب اس کے سامنے تباہ و برباد ہوگیا اور وہ اس کے بچائو کے لیے کچھ نہ کرسکا تب اس کے ذہن میں یہ بات آئی کہ واقعی اختیار اور قوت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، باقی سب سہارے ہمارا وہم ہیں۔ جن قوتوں پر انسان تکیہ کرتا ہے اور یا اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بعض دفعہ غلط اقدام کر گزرتا ہے خود اس کا انجام بتادیتا ہے کہ یہ اقدام کرنے والا اپنی ذات میں کس قدر کمزور ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہر طرح کے شخص کی حفاظت بھی کرتا ہے اور معاونت بھی، لیکن مہلت عمل بےپایاں نہیں رکھی گئی اس کی ایک انتہا ہے۔ جب کسی کی نافرمانیاں اور اس کا تمرد اس حد سے گزرنے لگتا ہے تو پھر عموماً گرفت شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی تنبیہ کے لیے معمولی گرفت کی جاتی ہے اور کبھی سزا کے لیے گرفت آتی ہے تو تباہی و ہلاکت انجام بن جاتی ہے، لیکن بہترین اجر اور بہترین انجام وہ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے، اس کے راستے پر چلنے والے یہاں بھی اس کے مستحق ہوتے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ہوں گے۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

(اور بیان کیجیے ان کے سامنے حیات دنیا کی تمثیل جس طرح پانی کہ ہم نے اسے آسمان سے نازل کیا کہ گنجان ہوجاتی ہے اس سے زمین کی پود پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ خشک بوسیدہ گھاس ہوجاتی ہے جسے ہَوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآئٍ اَنْزَلْنٰـہُ مِنَ السَّمَآئِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ ہَشِیْمًا تَذْرُوْہُ الرِّیٰـحُ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ مُّقْتَدِرًا۔ (الکہف : 45) (اور بیان کیجیے ان کے سامنے حیات دنیا کی تمثیل جس طرح پانی کہ ہم نے اسے آسمان سے نازل کیا کہ گنجان ہوجاتی ہے اس سے زمین کی پود پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ خشک بوسیدہ گھاس ہوجاتی ہے جسے ہَوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ ) حیاتِ دنیا کی تمثیل ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ اشرافِ قریش اور دیگر قبیلوں کے سردار آنحضرت ﷺ سے تقاضا کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے اردگرد جو انتہائی نادار اور مفلس لوگ جمع رہتے ہیں جن کے پسینے کی بدبو پاس بیٹھنے والوں کو بیزار کردیتی ہے، ہم ایسے غریب لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر آپ ﷺ چاہتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کی دعوت پر غور کریں تو آپ ﷺ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹایئے یا ہمارے لیے الگ نشست کا اہتمام کیجیے، کیونکہ ایسے گرے پڑے لوگ اس قابل نہیں کہ ایک نشست میں ہمارے برابر بیٹھیں۔ اس آیت کریمہ میں انھیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ تم دنیوی زیب وزینت کی جس فراوانی کے باعث غریب لوگوں سے نفرت کرتے ہو، تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ یہ زیب وزینت ہمیشہ رہنے والی نہیں۔ اور جن چیزوں پر تم اتراتے ہو ان کی حیثیت فریبِ نظر کے سوا کچھ بھی نہیں اور جن لوگوں کو تم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو وہ اگرچہ ان چیزوں سے تہی دامن ہیں لیکن ان کے پاس سیرت و کردار کی وہ رعنائیاں ہیں جن سے تم محروم ہو۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں کام آنے والی دولت وہ سیرت و کردار کی خوبیاں اور باقیات الصالحات ہیں۔ اور وہ اعمالِ حسنہ ہیں جو انسانیت کا زیور ہیں وہی انسان کے ساتھ باقی رہنے والا سامان ہے جو آخرت میں ہر اس شخص کے کام آئے گا جو اس سامان سے گراں بار ہوگا۔ قرآن کریم نے انھیں چیزوں کو حیات دنیا قرار دیا ہے جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں اور ان کی وضاحت بھی فرمائی۔ سورة حدید آیت نمبر 20 میں فرمایا گیا : اِعْلُمْوٓا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھُوٌ وَّزِیْـنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌ م بَیْنَکُمْ وَّ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ ط کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُـفَّارَ نَبَاتُـہٗ ثُمَّ یَھِیْجُ فَتَرٰہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا (یاد رکھو کہ دنیا کی زندگی یعنی کھیل کود، آرائش و زیبائش، باہمی تفاخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے مسابقت کی تمثیل اس طرح ہے کہ بارش ہو جس کی اپجائی ہوئی نباتات کافروں کے دلوں کو موہ لیں پھر وہ خشک ہوجائے اور تم دیکھو کہ وہ زرد پڑگئی ہے۔ ) ایک دنیا دار آدمی جن چیزوں پر فریفتہ ہوتا ہے ان میں سب سے پہلی چیز لہو ولعب ہے، کیونکہ دنیادار زندگی کو سنجیدہ نگاہ سے نہیں دیکھتا، اس کے نزدیک یہ دنیا ایک کھیل تماشا ہے اور ہم یہاں کھیلنے کے لیے آئے ہیں۔ وہ ہر چیز میں دلچسپی کا سامان ڈھونڈتا ہے۔ اگر اس کی یہ دلچسپی کھانے پینے میں ہے تو مطعومات و مشروبات میں تنوع پیدا کرنا اور اس سے محظوظ ہونا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔ اس کا کھانا پینا اس لیے نہیں کہ یہ زندگی کی ضرورت ہے بلکہ وہ زندہ اس لیے رہتا ہے تاکہ وہ بہتر سے بہتر غذا حاصل کرسکے۔ اور اگر اس کی دلچسپی سفلی جذبات کے تحت جنسی ضرورت بن جاتی ہے تو پھر وہ اسے زندگی کا مقصد بنا کر اس حد تک آگے بڑھ جاتا ہے کہ اس میں اور کتے بلیوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ بہتر سے بہتر اور طاقتور سے طاقتور غذا کے بغیر زندگی بےکیف ہے اور نئے سے نئے جنسی تعلق کے بغیر زندگی میں کوئی لطف نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص لطف و لذت سے ہٹ کر کسی سنجیدہ کام میں دلچسپی نہیں لے سکتا۔ اس کے نزدیک حقوق و فرائض ایک بےمعنی بات ہے۔ انسانی اقدار محض ایک مفروضہ ہیں۔ اخلاقی قدریں زندگی کو ویران کردینے کا نام ہیں۔ آدمی کو زندگی ایک دفعہ ملتی ہے، اسے اس طرح گزارنا چاہیے جس سے زیادہ سے زیادہ خواہشِ نفس کی تکمیل ہوسکے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لطف و لذت کا حصول دولت و طاقت کے سوا ممکن نہیں۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا اور پھر اسے اپنی خواہشات کی تکمیل میں خرچ کرنا زندگی کی ضرورت بن جاتا ہے اور طاقت کے حصول کے لیے قبائلی زندگی میں اولاد کی کثرت سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ اس لیے اس دور کا ہر بڑا آدمی نرینہ اولاد کی کثرت پر فخر کرتا تھا کیونکہ وہ اس کے لیے طاقت کا ذریعہ تھی۔ دوسرے لوگوں پر جوان بیٹوں کی قوت سے رعب بٹھانے کا کام لیا جاتا تھا اور پھر اسی پر بس نہیں مال اور اولاد کی کثرت پر دوسروں سے مقابلے ہوتے تھے اور شراب کے نشے میں دھت ہو کر ہر شرابی اس کا اظہار کیے بغیر نہیں رہتا تھا کہ اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالاً وَّاَعْزُّنَفَرًا اور آج کے دور میں یہی چیزیں اور یہی خواہشیں نئی شکل اختیار کرگئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہوس نے نئے رنگ اختیار کیے ہیں لیکن ہوس کی فراوانی وہی ہے۔ اب لہو ولعب نے ایسے کھیلوں کی شکل اختیار کی ہے جو کئی کئی روز تک ختم ہونے میں نہیں آتیں اور عیش و تنعم نے وہ لبادے اوڑھے ہیں کہ کسی سنجیدہ تحریر میں جن کا ذکر بھی باعث شرم ہے۔ اور تفریح نے سینما اور تھیٹر کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اب تو ذرائع ابلاغ تفریح کے نام پر سفلی جذبات کے ابھارنے کا وہ کاروبار کر رہے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ اور مال و دولت نے پرانے وقتوں کی سادگی کو لپیٹ کر کار کوٹھی، مال و جائیداد، بینک بیلنس، عہدے اور مناصب اور نہ جانے کن کن ناموں سے اپنے آپ کو متعارف کرایا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو ایک دنیا دار کے اہداف ہیں، یہی وہ سرمایہ ہے جو اس کے لیے باعث افتخار ہے اور زندگی کا یہی وہ رنگ ہے جس پر وہ فریفتہ ہے۔ قرآن کریم ان کی بےثباتی اور ناپائیداری کو واضح کرنے کے لیے مثال دیتا ہے کہ جب بنجر اور خشک زمین پر بارش برستی ہے تو اس کے نتیجہ میں زمین کی قوت روئیدگی کو بروئے کار آنے کا موقع ملتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین جہاں دھول اڑتی تھی مخملی لباس میں ملبوس ہوجاتی ہے۔ جیسے جیسے بارشیں ہوتی ہیں ویسے ویسے سبزہ گھنا ہوتا چلا جاتا ہے، فصلیں لہلہانے لگتی ہیں، لیکن پھر عرصہ کے بعد وہی خوش رنگ لہلہاتی ہوئی گھاس مرجھانے لگتی ہے اور بالآخر بوسیدہ ہو کر بھس بن کر رہ جاتی ہے اور ہَوائیں اسے اڑا کر ادھر ادھر بکھیر دیتی ہیں۔ یہی حال انسانی زندگی کا بھی ہے کہ انسان جن چیزوں پر فریفتہ ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ان پر کبھی خزاں نہیں آئے گی وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سے ہر چیز زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ نہ زندگی کا کوئی بھروسہ ہے اور نہ زندگی کی رعنائی کا۔ سانس کی آمدورفت زندگی کی ضامن ہے اور اس کا رک جانا زندگی کا خاتمہ ہے اور بعض دفعہ اس کے رکنے پر اتنا وقت بھی صرف نہیں ہوتا جتنا حباب کے ٹوٹنے پر۔ لہو ولعب کے مزے جوانی اور صحت کے زمانے کی چیزیں ہیں اور صحت بیماری میں فاصلہ ہی کتنا ہے ؟ اسی طرح مال و دولت اور بچوں کی کثرت کس حد تک بھروسے کے لائق ہے۔ لہو ولعب پر فریفتہ شخص تو شاید اس کا اندازہ نہ کرسکے لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم سے نوازا ہے وہ اس کی حقیقت کو خوب سمجھتا ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھرجاتی نہیں تن کی دولت چھائوں ہے، آتا ہے دھن جاتا ہے دھن دنیا کی ہر چیز ناپائیدار اور بےثبات ہے، زندگی جس کے لیے ہر چیز وجود میں آتی ہے اور جس سے ہر چیز جنم لیتی ہے خود اس کی بےثباتی اور ناپائیداری اظہرمن الشمس ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حقیقت صرف ایک ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمیشہ رہنے والا اور وہی حقیقت میں قدرت والا ہے۔ دھن دولت آنی جانی ہے، یہ دنیا رام کہانی ہے یہ عالم، عالم فانی ہے، باقی ہے ذات خدا بابا
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والے اعمالِ صالحہ، باعتبارِ ثواب اور باعتبارِ امید تمہارے رب کے نزدیک بہتر ہیں۔

اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَالْبٰـقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌعِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌاَ مَلاً ۔ (الکہف : 46) (مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والے اعمالِ صالحہ، باعتبارِ ثواب اور باعتبارِ امید تمہارے رب کے نزدیک بہتر ہیں۔ ) مال و اولاد اور اعمالِ صالحہ کا تقابل عرب میں جیسے پہلے عرض کرچکا ہوں چونکہ قبائلی زندگی تھی اس لیے ان کی تمام تر قوت کا دارومدار مال کی کثرت اور اولاد کی کثرت پر تھا۔ قحط کے زمانے میں قبیلے کا سردار اپنے جانوروں کے ریوڑ اپنے قبیلے کے لوگوں کے لیے ذبح کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا اور اس طرح سے ان کی بھوک کا علاج کرتا اور اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑ دیتا۔ اور دوسروں پر اپنا رعب اور دبدبہ جمانے کے لیے اولاد میں کثرت کا خواہش مند ہوتا کیونکہ قبائل کی زندگی میں طاقت کی زبان ہی اصل زبان ہوتی ہے اور طاقت جس طرح دولت سے پیدا ہوتی ہے اسی طرح قبائلی زندگی میں بیٹوں کی کثرت بھی اس کا اہم سبب تھا۔ اس لیے وہ لوگ مال اور اولاد کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے اور ان پر فخر بھی کرتے تھے۔ قرآن کریم نے دونوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہاری دنیوی زندگی کی زینت ہیں لیکن تم جانتے ہو کہ نہ تمہاری زندگی کو دوام حاصل ہے اور نہ ان چیزوں کو۔ دوام اگر میسر ہے تو ان پاکیزہ اعمال کو ہے جن کی یاد ہمیشہ باقی رہتی ہے اور جن کے اثرات سے انسانیت توانا ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اگرچہ بعض مواقع پر تسبیح و تہلیل اور بعض اذکار کو باقیات الصالحات قرار دیا اور کبھی بعض اعمال کو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو شریعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے وہ باقیات الصالحات میں شامل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کبھی اسے ضائع نہیں ہونے دیتا۔ ہمدردی و غمخواری، رحم دلی و مروت، جودوسخاوت، قربانی و ایثار اور اطاعت و عبادت یہ تمام اعمال حُسنِ نیت کے ساتھ باقیات الصالحات میں شامل ہیں اور اپنے اصل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے یہاں تو یقینا ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں، دنیا میں بھی اس کے اثرات تادیر قائم رہتے ہیں۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے یہاں بہترین اجر چاہتے ہو تو وہ بھی تمہیں اعمالِ صالحہ کے نتیجہ میں ملے گا اور اگر تم انسانیت کے لیے بہترین امید کے خواہاں ہو یا اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے اچھے انجام کی امید رکھنا چاہتے ہو تو اس کی ضمانت بھی ایمان کے بعد اعمالِ صالحہ کے سوا کسی اور چیز سے نہیں دی جاسکتی۔ اس لیے اہل دنیا کو اگر انسانیت کی بھلائی مقصود ہے تو وہ ان چیزوں میں نہیں جو حیات دنیا کی زینت ہیں بلکہ ان اعمال میں ہے جو حیات دنیا کی بقاء کا ذریعہ اور اس کی پائیداری کا سبب ہیں۔
Ayahs 18:47–48

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اس دن کا خیال کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور تو زمین کو دیکھے گا بالکل عریاں اور ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے کسی کو چھوڑیں گے نہیں۔

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور وہ سب تیرے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے صف بستہ، ہم ان سے کہیں گے کہ تم ہمارے پاس آئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہرگز تمہارے لیے ہم کوئی یوم موعود مقرر نہیں کریں گے۔

وَیَوْمَ نُسَیِّرُالْجِبَالَ وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً لا وَّ حَشَرْنٰـہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْمِنْھُمْ اَحَدًا۔ وَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا ط لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا کَمَا خَلَقْنٰـکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ز م بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًا۔ (الکہف : 47، 48) (اس دن کا خیال کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور تو زمین کو دیکھے گا بالکل عریاں اور ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے کسی کو چھوڑیں گے نہیں۔ اور وہ سب تیرے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے صف بستہ، ہم ان سے کہیں گے کہ تم ہمارے پاس آئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہرگز تمہارے لیے ہم کوئی یوم موعود مقرر نہیں کریں گے۔ ) آنے والے دن کی فکر کرو دنیا کی ہر چیز جب موت کا شکار ہوجاتی ہے تو پھر دوبارہ اسے زندگی نہیں ملتی، لیکن جن و انس کا معاملہ اس سے مختلف ہے، انھیں صرف اس بات کو یاد نہیں رکھنا چاہیے کہ ایک نہ ایک دن انھیں موت آنے والی ہے بلکہ ان کی اصل یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ موت کے بعد ایک مدت تک وہ عالم برزخ میں رہیں گے۔ وہ بظاہر فنا ہوجائیں گے لیکن حقیقت میں جب قیامت برپا ہوگی تو انھیں زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ انھیں درحقیقت اس دن کو یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ دن ہے جس دن ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ اس لیے کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ تم دنیا کی زیب وزینت پر مرتے ہو اور تمہارا جینا مرنا اسی دنیا کے حوالے سے ہے۔ اسی کی خوشیاں تمہاری خوشیاں ہیں اور اسی کے غم تمہارے لیے اصل غم ہیں۔ لیکن تمہیں کبھی بھی اس بات کا خیال نہیں آتا کہ ہمیں اس دن کی فکر کرنی چاہیے جس دن کی ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پہاڑ چلتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ قرآن میں ایک دوسری جگہ فرمایا گیا ہے وَتَریٰ الْجِبَالَ تَحْسَبُھَا جَامِدَۃً وَھِیَ تَمُرُّمَرَّالْسَّحَاب ” تم پہاڑوں کو دیکھتے اور گمان کرتے ہو انھیں زمین پر جما ہوا اور وہ ( قیامت کے دن) اس طرح چلیں گے جیسے بادل چلتے ہیں۔ “ اور سورة القارعہ میں کہا گیا کہ قیامت کے دن پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ ہر چیز تباہ و برباد ہوجائے گی۔ اس کے بعد قیامت کے دوسرے مرحلے میں نئی زمین وجود میں آئے گی، نئی کائنات ہوگی۔ ایک بہت بڑے میدان میں سب انسانوں کو جمع کیا جائے گا اور اس میدان میں اللہ تعالیٰ اس طرح سب کو جمع کرے گا کہ کسی کو پیچھے رہ جانے کی مجال نہیں ہوگی۔ اور اس روز زمین بالکل برہنہ ہوجائے گی یعنی آج جبکہ زمین پر پہاڑ گڑے ہوئے ہیں، سربفلک محلات کھڑے ہیں، نہایت مضبوط قلعے ایستادہ ہیں، باغوں اور چمنوں سے آراستہ ہے لیکن قیامت کے دن ہر چیز اکھاڑ پھینکی جائے گی اور زمین صفا چٹ میدان بن جائے گی جس میں لوگوں کو قطار در قطار صف بستہ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جس طرح تم دنیا میں خالی ہاتھ گئے تھے، اسی طرح آج ہمارے پاس خالی ہاتھ آگئے ہو۔ جس دولت اور جن اشیاء پر تمہیں ناز تھا ان میں سے کچھ بھی تمہارے پاس نہیں۔ آج نہ تمہارے ساتھ خدم و حشم ہیں اور نہ وہ مال و اسباب جن پر تم اتراتے تھے۔ اب تم اللہ تعالیٰ کے سامنے غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہو جبکہ دنیا میں اپنے پٹھوں پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے تھے۔ تمہارا گمان تو یہ تھا کہ ہمیں دنیا میں اللہ تعالیٰ نے خودرو پودوں کی طرح اٹھایا ہے جن کا کوئی مقصد زندگی نہیں۔ جن کے لیے کوئی قیامت برپا نہیں ہوگی جہاں انھیں حساب کتاب کے لیے بلایا جائے لیکن آج تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے جو کچھ فرمایا تھا وہ سب صحیح اور حق تھا۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور رجسٹر رکھا جائے گا تو آپ ﷺ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ خوف زدہ ہیں اس سے جو کچھ اس کے اندر ہے اور وہ کہیں گے ہائے ہماری شامت، یہ رجسٹر عجیب ہے کہ نہ چھوٹا گناہ چھوڑتا ہے اور نہ بڑا، ہر ایک کو شمار کرتا ہے اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا وہ سب اس رجسٹر میں موجود پائیں گے، اور تیرا رب کسی پر کوئی ظلم نہیں کرے گا۔

وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِھٰذَا الْکِتٰبِ لاَ یُغَادِرْ صَغِیْرَۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰھَا ج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ط وَلاَ یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحْدًا۔ (الکہف : 49) (اور رجسٹر رکھا جائے گا تو آپ ﷺ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ خوف زدہ ہیں اس سے جو کچھ اس کے اندر ہے اور وہ کہیں گے ہائے ہماری شامت، یہ رجسٹر عجیب ہے کہ نہ چھوٹا گناہ چھوڑتا ہے اور نہ بڑا، ہر ایک کو شمار کرتا ہے اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا وہ سب اس رجسٹر میں موجود پائیں گے، اور تیرا رب کسی پر کوئی ظلم نہیں کرے گا۔ ) دفتر اعمال کی کیفیت جب لوگ میدانِ حشر میں صف بستہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے فیصلے کے انتظار میں کھڑے ہوں گے تو ان کے سامنے ایک رجسٹر لایا جائے گا جس میں ساری دنیا کے اعمال لکھے گئے ہوں گے۔ اس کی شکل کیا ہوگی، وہ کتنا بڑا ہوگا یہ سب عالم غیب کی باتیں ہیں اور متشابہات میں سے ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن اس کی تفصیل سے ہم واقف نہیں، لیکن اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ اس رجسٹر یا دفترِعمل کی ساخت ایسی ہوگی کہ دیکھنے والے فوراً سمجھ جائیں گے کہ یہ ہمارا زندگی بھر کا روزنامچہ ہے جس میں ہمارے ہر عمل کی تفصیل درج ہے، پھر جب ہر ایک کا نامہ عمل اس کے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ اسے دیکھتے ہی چیخ اٹھے گا کہ ہائے میری بدنصیبی کہ یہ کیسا نامہ عمل ہے جس میں میرا کوئی عمل درج کرنے سے نہیں چھوڑا گیا۔ انتہائی تنہائی اور تاریکی میں کیے ہوئے اعمال بھی اس میں پوری تفصیل سے مندرج ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر ایک کے اعمال کی تفصیل گواہوں سمیت اس لیے ہر شخص کے سامنے پیش کی جائے گی تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ میرے ساتھ کچھ زیادتی ہوئی ہے۔ نہ کسی کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی نہ کسی کی برائیوں میں اضافہ ہوگا۔ جس شخص کے ساتھ جو سلوک بھی ہوگا وہ خود کہے گا کہ یہ عین انصاف کا تقاضا تھا۔ کیونکہ تمہارا رب اپنے بندوں پر ظالم نہیں منصف ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ وہ رحیم و کریم بھی ہے۔ جنت انعام کر کہ دوزخ میں جلا وہ رحم ترا ہے یہ عدالت تیری
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

(اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جن قوم میں سے تھا پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، (اے اولادِ آدم) کیا تم بناتے ہو اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا اپنا کارساز حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں، ظالموں کے لیے بہت برا بدلہ ہے۔

وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ ط اَفَـتَـتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗٓ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِیْ وَھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ ط بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلاً (الکہف : 50) (اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جن قوم میں سے تھا پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، (اے اولادِ آدم) کیا تم بناتے ہو اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا اپنا کارساز حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں، ظالموں کے لیے بہت برا بدلہ ہے۔ ) قصہ آدم و ابلیس کو یہاں لانے کا سبب اس سے پہلے مختلف مقامات بالخصوص سورة البقرہ اور سورة الاعراف میں قصہ آدم و ابلیس کی تفصیل گزر چکی ہے اور ہم اس پر مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ سیاق کلام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہاں اس واقعہ کو اس لیے لایا جارہا ہے تاکہ قریش کو اس بات پر متنبہ کیا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی دعوت کو رد کرکے اور اس پر ایمان لانے سے انکار کرکے دراصل اس راستے پر چل رہے ہو جو ابلیس کا راستہ ہے۔ اس نے اس وقت جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کی مخلوقات پر ان کی برتری ظاہر کرنے اور ان کی خلافت تسلیم کرانے کے لیے فرشتوں اور بالتبع زمینی مخلوقات کو انھیں سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو سب نے سجدہ کیا، لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی اور زمین پر اس کے نمائندوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کی ابتدا ابلیس نے کی۔ اور پھر اس نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے مہلت عمل کی درخواست کرتے ہوئے صاف صاف کہا کہ میں چونکہ آدم کی وجہ سے ایک بڑی آزمائش میں ڈالا گیا ہوں اس لیے میں اولادِ آدم سے جہاں تک بس چلے گا انتقام لوں گا۔ میں زندگی کے ہر میدان میں انھیں گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ چناچہ وہ اپنے اس چیلنج کو اس وقت سے لے کر آج تک پوری قوت سے نبھاتا چلا آرہا ہے، تو قریش سے کہا جارہا ہے کہ تم درحقیقت ایسے بدنصیب ہو کہ اولادِ آدم ہوتے ہوئے اپنے جدِامجد کا راستہ چھوڑ کر تم ان کے اور اپنے کھلے دشمن کی پیروی کررہے ہو۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ تمہیں اس کا احساس بھی نہیں کہ جب تم اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے اور اس کے رسول ﷺ کی رہنمائی کو قبول کرنے کی بجائے شیطانی قوتوں کی رہنمائی کو قبول کرتے ہو، عقائد اور زندگی کے دوسرے معاملات میں وہ جس طرح تمہیں رہنمائی دیتا ہے تم وہی عقیدہ اپناتے ہو اور وہی طرز عمل اختیار کرتے ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ابلیس اور اس کی ذُرِّیت کو اپنا کارساز بنا لیا ہے، حالانکہ ہر پیغمبر اور ہر مذہب نے اپنے اپنے دور میں لوگوں کو بتایا کہ ابلیس اور اس کی ذُرِّیت تمہارے بدترین دشمن ہیں۔ غور کرو تم نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو تمہارا حقیقی کارساز ہے ابلیس کو اپنا کارساز بنا کر کس قدر برا بدل تلاش کیا ہے۔ بدل کا دوسرا مفہوم آیت کے آخری جملے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہر طرح سزاوار ہے کہ اسے اپنا کارساز، اپنا دوست اور اپنا آقا ومالک سمجھا جائے، کیونکہ جس طرح اس نے انسان کو تخلیق کیا ہے، اسی طرح اس کی تربیت کے بھی جملہ انتظامات کیے ہیں۔ زندگی کے ہر دور میں اس کی ضروریات مہیا کی ہیں اور اس کو رہنمائی دی ہے۔ جب وہ بالکل بےبس بچہ تھا تو اسے ماں باپ کی نعمت عطا کی گئی۔ جب وہ ذرا بڑا ہوا تو اسے حواس عطا کیے گئے، جب اس کی عمر اور آگے بڑھی تو اسے جوہرِعقل سے نوازا گیا اور جب بلوغ کے بعد اسے اپنا راستہ خود طے کرنے اور زندگی کے فیصلے کرنے کا موقع آیا تو وحی الٰہی سے اسے رہنمائی دی گئی۔ اس طرح زندگی کا کوئی مرحلہ ایسا نہیں جب وہ اللہ تعالیٰ کی کارسازی سے بیگانہ رہا ہو۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہیں کہ وہی حقیقت میں تمام مخلوقات کا کارساز ہے، لیکن جب انسان اس کی بجائے دوسرے کو اپنا ولی اور اپنا کارساز بناتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ یعنی اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ظلم کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس کی کارسازی میں کوئی اور شریک نہیں اور یہ دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ اس کی ذات اور اس کی صفات میں کوئی اس کا ہمسر نہیں اور یہ اس کے مقابلے میں دوسرے سہارے تلاش کرتا ہے۔ وہی ایک ذات ہے جو ہر طرح کے حالات میں رہنمائی دینے کے قابل ہے کیونکہ کوئی چیز اس کی نگاہوں سے مخفی نہیں۔ وہ حسن و قبح کی حقیقت سے واقف ہے۔ اس کی نگاہ ہر فاصلے کو ناپتی اور ہر تاریکی میں دیکھتی ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم اس کے یہاں کوئی تقسیم نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے عیاں ہے۔ ایسی ذات کو رہنما بنانے کی بجائے کسی اور کو رہنما بنانا ایک ایسا غلط فیصلہ ہے جسے ظلم کے سوا کچھ اور نہیں کہا جاسکتا۔ ایسے ظالموں کے بارے میں فرمایا گیا کہ قیامت کے دن انھیں اپنے کرتوتوں کا بہت برا بدلہ ملے گا، یعنی ایسی سزا ان لوگوں کو دی جائے گی کہ آج اس کا تصور بھی کپکپا دینے کے لیے کافی ہے۔ ابلیس جنات میں سے تھا اس آیت کریمہ میں ایک نئی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ ابلیس فرشتہ نہیں، جن تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جن کے نام سے جو الگ مخلوق پیدا کی ہے اور جسے نار سے بنایا گیا ہے، یہ اس کا ایک فرد تھا۔ اسی وجہ سے اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب سمجھا ہے کہ چونکہ جنوں کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے اور اس کی فطرت میں تمرد اور سرکشی ہے اس لیے اس نے اپنی فطرت کے مطابق جب یہ دیکھا کہ میں ایک ایسے عنصر سے پیدا ہوا ہوں جس کی فطرت رفعت ہے اور آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں جس کی فطرت پستی ہے، تو رفعت پستی کے سامنے کیسے جھک سکتی ہے، اس سوچ نے اس میں تمرد اور سرکشی پیدا کی۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہاں درحقیقت ایک غلط فہمی کا ازالہ مقصود ہے۔ لوگوں میں یہ بات نہ جانے کیسے مشہور ہوگئی ہے کہ ابلیس معلم الملکوت تھا، اور وہ فرشتہ تھا۔ جب تمام فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تو اس کے سجدہ نہ کرنے کا آخر سب کیا تھا۔ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ فرشتہ نہیں، جن تھا۔ فرشتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ یعنی ان کی فطرت اور سرشت اس طرح کی بنائی گئی ہے کہ وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ لاَیَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَااَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤمَرُوْنَ ” وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے، انھیں جیسا حکم دیا جاتا ہے، وہ ویسا ہی کرتے ہیں “۔ لیکن ابلیس چونکہ جن تھا اور جنوں میں انسانوں کی طرح جس طرح اطاعت کا مادہ رکھا گیا ہے اسی طرح انکار اور نافرمانی کی سرشت بھی رکھی گئی ہے۔ چناچہ اس نے اسی آزادی سے کام لے کر حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ یہ انکار چونکہ اس کی اپنی مرضی اور اختیار کا نتیجہ تھا، اس لیے اسے اس کی سزا بھی دی گئی اور مزید قیامت کے دن دی جائے گی۔ ابلیس کی اولاد بھی ہے اس سے ایک اور بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابلیس کی بھی ذُرِّیت یعنی اولاد ہے، جس طرح انسانوں کے یہاں اولاد ہوتی ہے، اسی طرح جنوں کے یہاں بھی اولاد ہوتی ہے اور ابلیس بھی چونکہ جن ہے، اس لیے اس کی بھی اولاد ہونا کوئی مستبعد بات نہیں۔ امامِ قرطبی نے حمیدی کی کتاب الجمع بین الصحیحین سے ایک صحیح حدیث نقل کی ہے۔ حضرت سلمانِ فارسی ( رض) نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ نصیحت فرمائی کہ تم ان لوگوں میں سے نہ بنو جو سب سے پہلے بازار میں داخل ہوجاتے ہیں یا وہ لوگ جو سب سے آخر میں بازار سے نکلتے ہیں کیونکہ بازار ایسی جگہ ہے جہاں شیطان نے انڈے بچے دے رکھے ہیں۔ بعض اہل علم نے ذُرِّیت سے مراد مددگار اور پیروکار لیے ہیں اور یہ بات قطعی دلائل سے ثابت ہے کہ شیطان کے مددگار جو اس کی شیطنت کی نشرواشاعت میں اس کی مدد کرتے ہیں وہ جنوں میں سے بھی ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے نہیں بلایا تھا آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت اور نہ خود انھیں کو پیدا کرتے وقت بلایا تھا، اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو بنایا نہیں کرتا۔

مَآ اَشْھَدْتُّھُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلاَ خَلْقَ اَنْفُسِھِمْ ص وَمَا کُنْتُ مُتَّخِذَالْمُضِلِّیْنَ غَضُدًا۔ (الکہف : 51) (میں نے نہیں بلایا تھا انھیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت اور نہ خود انھیں کو پیدا کرتے وقت بلایا تھا، اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو بنایا نہیں کرتا۔ ) ایک دوسرے پہلو سے قر یش کو عار دلائی جارہی ہے اس آیت میں بھی روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے، انھیں شرم دلاتے ہوئے یہ فرمایا جارہا ہے کہ جن قوتوں کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا کر اپنا معبود اور کارساز بنا لیا ہے ذرا سوچو تو سہی ان کی اوقات کیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو تخلیق فرمایا ہے تو کیا تمہارے ان معبودانِ باطل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد کے لیے بلایا تھا بلکہ ان کی بےبسی کا عالم تو یہ ہے کہ یہ خود مخلوق ہیں۔ انھیں خود نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کس طرح پیدا فرمایا۔ اپنے مخلوق ہونے کا انھیں علم ضرور ہے اور تخلیق کا وہ عمل جو ان کے اندر رائج ہے، اس کا علم بھی انھیں سماع سے ہے لیکن اس سے زیادہ وہ خود اپنی ابتدا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم نے ہر پہاڑ کے الگ الگ جن اور بھوت بنا رکھے ہیں اور ان کے عتاب سے بچنے کے لیے ان کی جے پکارتے ہو اور ان کو نذرانے اور چڑھاوے پیش کرتے ہو اور بعض معبودانِ باطل کو راضی رکھنے کے لیے تم اپنی اولاد تک کی قربانی پیش کردیتے ہو، حالانکہ ان کی بےبسی کا عالم یہ ہے کہ وہ تخلیق کے عمل میں شریک تو کیا ہوتے، اس کی حقیقت سے بھی واقف نہیں۔ اور پھر تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور سرکش ہیں اور اپنی مرضی سے جو چاہتے ہیں سو کرتے ہیں لیکن ذرا عقل سے سوچو کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے اختیارات میں اپنے نافرمانوں اور سرکشوں کو مددگار بنائے گا۔ مختصر یہ کہ تمہاری ہر بات خلاف عقل بھی ہے اور خلاف واقعہ بھی۔ اس پر تمہیں شرم بھی آنی چاہیے اور ندامت بھی محسوس کرنی چاہیے۔
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ کفار کو فرمائے گا کہ بلائو میرے ان شریکوں کو جن کو تم نے میرا شریک گمان کر رکھا تھا، تو وہ ان کو بلائیں گے لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ حائل کردیں گے۔

وَیَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ قَدَعَوْھُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَھُمْ وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ مَّوْبِقًا۔ (الکہف : 52) (اور یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ کفار کو فرمائے گا کہ بلائو میرے ان شریکوں کو جن کو تم نے میرا شریک گمان کر رکھا تھا، تو وہ ان کو بلائیں گے لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ حائل کردیں گے۔ ) قیامت کی منظرکشی مشرکین کو شرم دلانے کے لیے ان کے سامنے قیامت کے دن کی منظرکشی کی جارہی ہے کہ تم جن قوتوں کو یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہارے کام آسکتی ہیں، وہ دنیا میں بھی تمہارا سہارا ہیں اور اگر قیامت آئی تو وہاں بھی تمہارا سہارا ہوں گی۔ ان کا حال قیامت کے دن یہ ہوگا کہ ان مشرکین اور پکارنے والوں کو کہا جائے گا کہ دنیا میں جنھیں تم اپنی مدد کے لیے پکارتے اور اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے رہے ہو، آج انھیں اپنی مدد کے لیے پکارو۔ چناچہ یہ ان کو پکاریں گے، وہ انھیں کوئی جواب نہیں دیں گے۔ اس لیے کہ اگر وہ بت ہیں تو وہ جہنم میں ایندھن کے طور پر جل رہے ہوں گے اور اگر وہ انسان اور جن ہیں جو طاغوتی قوت بن کر اپنے ماننے والوں سے اپنی پوجا کراتے رہے تو وہ بھی اپنی سزا میں گرفتار ہوں گے۔ انھیں اپنی پڑی ہوگی وہ اپنے پکارنے والوں کو کیا جواب دیں گے اور ان کی کیا مدد کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کے درمیان ” موبق “ حائل کردیں گے۔ موبق ہلاکت کا کھڈ یا تباہی کے گڑھے کو کہتے ہیں۔ امام قرطبی کہتے ہیں اور انھوں نے ابن اعرابی کا قول نقل کیا ہے کُلُّ شَیْ ئٍ حَاجِزٌ بَیْنَ الشَّیْئَیْنِ فَہُوَمُوْبِقٌہر وہ چیز جو دو چیزوں کے درمیان آڑ اور رکاوٹ ہو، اسے موبق کہتے ہیں۔ حضرت انس ( رض) کا قول ہے کہ جہنم کی ایک وادی کا نام موبق ہے جو پیپ اور خون سے بھری ہوگی۔ ایسی کوئی بھی رکاوٹ اور اوٹ ان کے درمیان حائل کردی جائے گی جس سے وہ ایک دوسرے کے قریب نہیں آسکیں گے اور بعض اہل علم نے اس کا معنی دشمنی کیا ہے کہ جب پکارنے والے دیکھیں گے کہ جنھیں ہم زندگی میں پکارتے رہے ہیں آج وہ ہمیں کوئی جواب نہیں دیتے تو ان کے دلوں میں نفرت کا ایک طوفان اٹھے گا۔ اور جب وہ لوگ دیکھیں گے کہ ان کی وجہ سے ہمارے عذاب میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہ ان پر لعنت بھیجیں گے۔ اس طرح سے دونوں ایک دوسرے کی دشمنی میں جلیں مریں گے۔
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم جہنم کی آگ کو دیکھیں گے تو وہ گمان کریں گے کہ وہ اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے کوئی مفر نہیں پائیں گے۔ )

وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْا اَنَّھُمْ مُّوَاقِـعُوْھَا وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْھَا مَصْرِفًا (الکہف : 53) (اور مجرم جہنم کی آگ کو دیکھیں گے تو وہ گمان کریں گے کہ وہ اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے کوئی مفر نہیں پائیں گے۔ ) مشرکین کی بےبسی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے کفر اور شرک کا جرم کرنے والے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کو دیکھ رہے ہوں گے اور وہ خیال کررہے ہوں گے کہ اس آگ میں یقینا انھیں کو ڈالا جائے گا اور اب ہمارا انجام اس آگ میں جلنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس وقت ان کی جو کیفیت ہوگی آج اس کا تصور بھی انسان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ دنیا میں بڑے سے بڑا ہولناک تصور بھی قیامت کے تصور کی مثل نہیں ہوسکتا۔ تو اپنی آنکھوں سے اپنا انجام دیکھ کر بھی اس بات پر قادر نہیں ہوں گے کہ وہ یہاں سے بھاگ نکلیں۔ کوئی پناہ گاہ انھیں اپنی پناہ میں لے لے۔ ان کی بےبسی ایسی ہوگی کہ جس کا دنیا میں تصور کرنا محال ہے۔ کس قدر بےبس ہے وہ شخص جو اپنے سامنے اپنے انجام کو دیکھ رہا ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ لیکن اس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا، بلکہ اس کی بےبسی اس کے پائوں کی زنجیر بن جاتی ہے۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

(اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں، لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَالْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَشَیْ ئٍ جَدَلاً ۔ (الکہف : 54) (اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں، لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ ) تصریف کا مفہوم صَرَّفْنَا … تصریف اس کا مصدر ہے۔ تصریفِ آیات قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز ہے اور مختلف مواقع پر قرآن کریم نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ تصریف سے مراد یہ ہوتی ہے کہ کسی بات کی تفہیم کے لیے جتنے ممکن طریقے ہوسکتے اور جتنے اسالیب اختیار کیے جاسکتے ہیں ان تمام سے کام لیا جائے۔ موقعہ کی مناسبت سے جو طریقہ موثر ہوسکتا ہو اسے اختیار کیا جائے۔ انسان کی طبیعت اس طرح کی واقع ہوئی ہے کہ کبھی وہ عقلی دلائل سے بات کو سمجھتا ہے اور کبھی جذباتی اپیل اسے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کبھی ترغیب کا انداز اسے متأثر کرتا ہے اور کبھی ترہیب اس کے احساسات کو حرکت میں لاتی ہے۔ قرآن کریم ان تمام طریقوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ علاوہ ازیں انسانی ذوق بھی یکساں نہیں ہے، کسی کا ذوق ادب سے لگائو رکھتا ہے تو وہ اس بات سے متأثر ہوتا ہے جس کی تفہیم کے لیے ادبی انداز اختیار کیا گیا ہو اور کبھی انسان رواں دواں انداز کو زیادہ پسند کرتا ہے تو ایسے لوگوں کے لیے قرآن کریم خطابی انداز اختیار کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ مقصد صرف تفہیم ہوتا ہے اس کے لیے مختلف طریقوں کو اختیار کرنا اور مختلف اسالیب اپنانا سامع کی ایک ضرورت ہے جسے متکلم اپنی فراست سے سمجھتا اور اپنی گفتگو کو اسی انداز میں ڈھال دیتا ہے۔ اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں یہی وہ چیز ہے جسے قرآن کریم نے تصریف کے نام سے یاد فرمایا ہے اور دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسی ذریعہ سے قوموں پر اتمامِ حجت ہوا ہے۔ مَثَل سے مراد مِنْ کُلِّ مَثَلٍ … مثل، مثال یا ملتی ہوئی بات کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم نے دیگر آسمانی کتابوں کی طرح اس صنف سخن سے بھی کئی مقامات پر کام لیا ہے۔ کبھی تو اس سے مراد عالم غیب اور آخرت کے حقائق ہوتے ہیں جسے صاف اور سپاٹ زبان میں ادا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان حقائق کے لیے ہماری زبان میں مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ ہر زبان میں الفاظ کا ذخیرہ، اس زبان کے بولنے والوں کے حالات، ضروریات اور ماحول کے مطابق وجود میں آتا اور پروان چڑھتا ہے لیکن جو حقائق اس دنیا میں انسان کی ضرورت نہ ہوں اور ان کا تعلق عالم آخرت سے ہو تو انھیں کسی حد تک فہم کے قریب لانے کے لیے مثال اور تشبیہ کا انداز اختیار کیا جاتا ہے اور کبھی مشکل بات کو آسان کرنے کے لیے ایسی مثال دی جاتی ہے جس سے اس مشکل بات کا اشکال دور ہوجاتا ہے اور وہ آسانی سے دماغ کی گرفت میں آجاتی ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ قرآن کریم نے اظہارِ بیان کے ہر طریقے کو آزمایا اور مشکل بات کو آسان کرنے کے لیے ہر قسم کی مثال دے کر بات کو سمجھایا۔ اس کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ انتہائی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ وہ اپنی خواہشِ نفس پر پہرا بٹھانے کی بجائے اور اپنے مفادات کو چھوڑ کر حقیقت کی طرف آنے کی بجائے ہر بات میں میں میخ نکالتا ہے۔ بات کو الجھا کر خوش ہوتا ہے اور سنجیدہ سے سنجیدہ باتوں کا مذاق اڑاتا ہے اور بعض دفعہ یہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتا کہ تمہاری باتیں ہمارے دماغوں میں داخل نہیں ہوتیں۔ وہ بات کو سمجھتا ہے لیکن اپنی بات کو چھوڑنا اسے منظور نہیں۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کو ایمان لانے سے نہیں روکا جبکہ ان کے پاس ہدایت آگئی اور مغفرت طلب کرنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ ( وہ منتظر ہیں) کہ آجائے ان کے پاس اگلوں کا دستور یا آجائے ان کے پاس طرح طرح کا عذاب

وَمَا مَنَعَ الَنَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُؤٓا اِذْجَآئَ ھُمُ الْھُدٰی وَیَسْتَغْفِرُوْا رَبَّھُمْ اِلَّآ اَنْ تَاتِیْہَمُ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْیَاتِیَھُمُ الْعَذَابُ قُـبُـلاً ۔ (الکہف : 55) (اور لوگوں کو ایمان لانے سے نہیں روکا جبکہ ان کے پاس ہدایت آگئی اور مغفرت طلب کرنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ ( وہ منتظر ہیں) کہ آجائے ان کے پاس اگلوں کا دستور یا آجائے ان کے پاس طرح طرح کا عذاب۔ ) انسان کی کج فکری نبی کریم ﷺ کی بعثت مبارکہ اور قرآن کریم کے نزول کے بعد ہدایت کا ہر راستہ روشن ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت اور قرآن کریم کے اعجاز نے ہر مشکل آسان کردی۔ کوئی ایسا اشکال باقی نہ رہا جو ہدایت قبول کرنے سے مانع ہو، مگر قریش کا عجیب حال ہے کہ ان کی اکثریت برابر اپنے کفر پر جمی ہوئی ہے اور اپنی ڈگر سے ہٹنے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ اظہارِ بیان کے تمام طریقے اور دلائل کے تمام انداز اختیار کرلیے گئے مگر وہ کسی بات کو قبول کرکے دینے کے لیے تیار نہیں۔ ان کی جسارت کا عالم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے کافرانہ رویئے کی وجہ سے جب انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے اور پہلی معذب قوموں سے عبرت پکڑنے کے لیے کہتے تو بجائے متأثر یا خوفزدہ ہونے کے منہ پھاڑ کر کہتے کہ لے آئیے ہم پر وہ عذاب جو عاد وثمود پر آچکا ہے۔ اور یا وہ یہ کہتے کہ ہم تو اس وقت آپ ﷺ کی بات پر غور کریں گے جب ہم عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے (کیونکہ ” قُبُل “ کا معنی سامنے اور رودررو کے ہیں) اس کے بغیر ہم اس آیت پر ایمان لانے اور توبہ و استغفار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عجیب بات ہے کہ انسان بعض دفعہ ضد میں آکر معمولی عقل سے بھی تہی دامن ہوجاتا ہے۔ ہر شخص یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ تم جس قہرالٰہی کو دعوت دے رہے ہو، اس کے نمودار ہوجانے یا اس کے واقع ہوجانے کے بعد کیا تم بچے رہو گے۔ عذاب کے آجانے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہر چیز تباہ و برباد ہوجائے۔ اسی طرح جب عذاب سامنے آجاتا اور دکھائی دیتا ہے تو پھر وہ ٹلا نہیں کرتا اور یہ ظالم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا دیدار کرا کے واپس چلا جائے گا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے سوا کسی قوم سے عذاب آجانے کے بعد ٹلا نہیں بلکہ ان کی جڑ اکھاڑ دی گئی اور بعض قوموں کی دھرتی تک الٹ دی گئی۔ امامِ قرطبی کے نزدیک قُبُل، قبیل کی جمع ہے، جس طرح سُبُل، سبیل کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے طرح طرح کا عذاب۔ امام فراء نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس کا معنی ہے مُتْفَرِّقًا یَتْلُوْبَعْضُہٗ بَعْضًا یعنی ایک عذاب کے بعد دوسرا عذاب۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کے بھیجتے ہیں اور کافر باطل کی مدد سے کٹ حجتیاں کرتے ہیں تاکہ وہ اس سے حق کو مٹا دیں اور انھوں نے میری آیات کو اور اس چیز کو جس سے وہ ڈرائے گئے تھے مذاق بنا لیا ہے۔

وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج وَیُجَادِلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ وَا تَّخَذُوْٓا اٰیٰـتِیْ وَمَـآ اُنْذِرُوْا ھُزُوًا۔ (الکہف : 56) (اور ہم رسولوں کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کے بھیجتے ہیں اور کافر باطل کی مدد سے کٹ حجتیاں کرتے ہیں تاکہ وہ اس سے حق کو مٹا دیں اور انھوں نے میری آیات کو اور اس چیز کو جس سے وہ ڈرائے گئے تھے مذاق بنا لیا ہے۔ ) رسولوں کی بعثت کا مقصد اس آیت کریمہ میں سابقہ آیت کے مضمون کی مزید وضاحت فرمائی گئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تبلیغ و دعوت سے کافروں پر ہدایت پوری طرح واضح ہوچکی۔ کوئی اشتباہ ایسا نہیں جسے کھولا نہ گیا ہو، اور کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب نہ دیا گیا ہو۔ اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ لوگ ہدایت قبول کرتے اور اب تک جو کچھ کرتے رہے ہیں اس پر اپنے رب سے معافی چاہتے۔ لیکن انھوں نے بجائے اس کے عذاب کا مطالبہ شروع کردیا اور ایسی بےتکی باتیں بھی کہیں کہ ہمیں عذاب آتا ہوا دکھا دو تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنے رسولوں کو ان لوگوں کے لیے جو حق کو قبول کرتے ہیں خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجتے ہیں، اور ان لوگوں کے لیے جو حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ان کے برے انجام اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں۔ ان کا کام لوگوں کو سمجھا بجھا کر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانا اور اس کی ناراضی سے محفوظ کرنا ہے۔ ان کا یہ کام ہرگز نہیں کہ وہ قوم پر عذاب لائیں۔ عذاب دینا یا نہ دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، رسول کا کام تو ہر ممکن طریقے سے اپنی قوم کو عذاب سے بچانا ہے۔ لیکن کافروں کا رویہ یہ ہے کہ وہ باطل یعنی بےسروپا دلائل سے اللہ تعالیٰ کے دین کو مٹانے، اسے پسپا کرنے اور بےاثر کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور جب وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہیں یا آخرت کے ہولناک انجام سے آگاہ کرتے ہیں، تو یہ ان باتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ ان باتوں کو حقیقت سمجھنے کی بجائے محض ڈراوے کی باتیں سمجھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ اپنی بات کو منوانے کے لیے اپنی طرف سے گھڑ گھڑ کر قوم کے سامنے بیان کرتا رہتا ہے۔ لیکن اس کی حقیقت ان پر اس وقت کھلے گی جب دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سامنا ہوگا اور آخرت میں جہنم ان کے سامنے دہک رہا ہوگا۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سے نصیحت کی گئی تو اس نے اس سے روگردانی کی اور فراموش کردیا اس نے ان اعمالِ بد کو جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے، ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی (تاکہ وہ قرآن کو نہ سنیں) اور اگر تم انھیں ہدایت کی طرف بلائو تو وہ تب بھی ہدایت قبول نہیں کریں گے۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَیِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعْرَضَ عَنْھَا وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ ط اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّـۃً اَنْ یَّفْقَھُوْہُ وَفِیْٓ اٰذَانِھِمْ وَقْرًا ط وَاِنْ تَدْعُھُمْ اِلَی الْھُدٰی فَلَنْ یَّھْتَدُوْٓا اِذًا اَبَدًا۔ (الکہف : 57) (اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سے نصیحت کی گئی تو اس نے اس سے روگردانی کی اور فراموش کردیا اس نے ان اعمالِ بد کو جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے، ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی (تاکہ وہ قرآن کو نہ سنیں) اور اگر تم انھیں ہدایت کی طرف بلائو تو وہ تب بھی ہدایت قبول نہیں کریں گے۔ ) محرومی سے متعلق اللہ تعالیٰ کا قانون روئے سخن معلوم ہوتا ہے ان بڑے بڑے کفار کی طرف ہے جن کی سرکشی اور تمرد حد سے بڑھ چکے تھے۔ لیکن بات اس طرح کہی جارہی ہے جس میں ہر وہ شخص شامل ہوجاتا ہے جس کی زندگی کا رویہ وہ ہو جس پر یہاں افسوس کیا جارہا ہے۔ جس شخص یا جس قوم کے سامنے ایک ایسی نصیحت آئے جس سے زندگی کی فلاح و کامرانی کا رشتہ بندھا ہوا ہو اور جس کے قبول کرنے پر نجات کا دارومدار اور جس کے رد کردینے پر ہلاکت یقینی ہو اور پھر اس نصیحت کی یاددہانی کے لیے وہ شخصیت آئے جس کی دلآویزی، جس کی سچائی، جس کا حُسنِ کردار اور جس کی بےعیب زندگی اپنی مثال نہ رکھتی ہو اور وہ ایسی کتاب پیش کرے جس کے سامنے اہل دنیا کی فصاحت و بلاغت جھک جائے، علم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے اور جس کی حقانیت اور صداقت کی منکرین کے دل بھی تصدیق کیے بغیر نہ رہ سکیں تو ایسی نصیحت کو رد کردینا اور اس کی پرواہ نہ کرنا بدنصیبی کے سوا اور کیا ہے اور جو شخص یا قوم یہ رویہ اختیار کرے ایسے شخص یا ایسی قوم کی بدنصیبی میں کیا شبہ ہوسکتا ہے اور مزیدبراں ان کا حال یہ ہو کہ نصیحت کو صرف رد ہی نہ کریں بلکہ اس سے پوری طرح رخ پھیر لیں، اس پر کان دھرنے کو بھی تیار نہ ہوں۔ اور اپنی ذات اور اپنے اعمال جن کا استحضار انسان کے لیے ضروری ہے اور کوئی بھی ہوش و خرد کا مالک انسان اپنے اعمال سے ناواقف نہیں رہ سکتا، انھیں تو یکسر بھلا دیا جائے اور کبھی بھول کر بھی اس کا خیال نہ کیا جائے کہ مجھے جو ہاتھ بھلائی جمع کرنے کے لیے دیئے گئے تھے میں نے ان سے کیسے کیسے گناہ کمائے اور اپنی بداعمالیوں کا کتنا بڑا ذخیرہ اپنے آگے بھیج چکا ہوں اور جب انھیں اس کی طرف توجہ دلائی جائے تو بجائے اپنی بداعمالیوں کو یاد کرنے کے کہنے والے کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجائیں تو ایسے لوگ یقینا اس کے مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو قوتیں انھیں نصیحت کو سننے اور سمجھنے کے لیے عطا کی تھیں دینے والے کی ناشکری ہے بلکہ انسانی عقل و خرد کی توہین بھی ہے وہ ان سے چھین لی جائیں۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے چونکہ اپنی صلاحیتوں کو صحیح استعمال کرنے کی بجائے غلط استعمال کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھنے اور سننے سے محروم کردیا۔ یہ دو ہی راستے ہیں جس سے انسان کسی بات کو قبول کرسکتا ہے کہ وہ کسی نصیحت کو سنے اور پھر غور و فکر کے بعد عقل سے کام لے کر اسے قبول کرے یا رد کردے۔ لیکن جو شخص سننے سے محروم ہو تو اس کے لیے نصیحت کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔ اسی طرح اگر وہ کسی نصیحت کو سنتا ہے لیکن اس پر غور و فکر کی صلاحیت سے محروم یا صحیح بات سمجھنے سے عاجز ہے تو ایسے شخص کی بیچارگی پر رحم تو ضرور آئے گا اور ہوسکتا ہے کہ یہ خیال بھی آئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ یہ زیادتی کیوں کی، لیکن اگر ذہن میں یہ بات رہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جس قوت کو استعمال نہ کیا جائے اور یا اسے غلط استعمال کیا جائے تو وہ ایک مدت کے بعد اللہ تعالیٰ کے قانون کی گرفت میں آکرمفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی حال ایمان و کفر کا ہے۔ ایمان تب نصیب ہوتا ہے جب ان قوتوں کو صحیح استعمال کیا جائے۔ غلط استعمال سے آدمی صحیح راستے پر چلنے کی بجائے غلط راستے پر چلے گا جسے کفر کہا جاتا ہے اور اگر وہ اس سے پلٹنے کا کبھی نام نہ لے تو پھر آخر وہ صلاحیت اس سے چھین لی جاتی ہے۔ اب اس کی حالت ہی نہیں بگڑتی، قسمت بھی بگڑ جاتی ہے اور ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جس کا اس آیت کے آخر میں ذکر فرمایا گیا کہ اگر تم انھیں ہدایت کی طرف بلائو، تب بھی وہ کبھی ہدایت کی طرف نہیں آسکیں گے کیونکہ وہ صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ محرومی کا یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ جلدی نہیں فرماتا۔ مہلت پہ مہلت دی جاتی ہے، لیکن جب مہلت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا تو پھر اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آتا ہے۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور آپ ﷺ کا رب بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے، اگر وہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے فوراً پکڑنا چاہتا تو ان پر فوراً عذاب بھیج دیتا لیکن ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے اور وہ اس کے مقابل میں کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔

وَرَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذُوالرَّحْمَۃِ ط لَوْیُؤَاخِذُھُمْ بِمَا کَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَھُمُ الْعَذَابَ ط بَلْ لَّھُمْ مَّوْعِدٌلَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِہٖ مَوْئِلاً ۔ (الکہف : 58) ( اور آپ ﷺ کا رب بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے، اگر وہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے فوراً پکڑنا چاہتا تو ان پر فوراً عذاب بھیج دیتا لیکن ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے اور وہ اس کے مقابل میں کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ ) مَوْئِل … آلَ یَئُوْلُ سے ظرف ہے، پناہ کی جگہ۔ مجرموں کو مہلت دینے کی حکمت گزشتہ آیت سے یہ معلوم ہوا کہ افراد اور قوموں کو ایک خاص حد تک مہلت دی جاتی ہے لیکن جب وہ اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ تمرد اور سرکشی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں اور نصیحت کی کسی بات کو سننے کے روادار نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی محرومی کا فیصلہ کردیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے۔ نہ وہ کسی بات کو سنتے ہیں اور نہ کسی بات کو سمجھتے ہیں۔ قریش کے بیشتر لوگوں کا ایسا ہی حال ہوگیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی تمام تر مساعی جمیلہ ان کے لیے ایک بےکار کوشش کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ ایک عام آدمی جب اس صورتحال کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ سوال آئے بغیر نہیں رہتا کہ ایسے لوگوں کو بارزمین بنائے رکھنے کا آخر کیا فائدہ ؟ ان کے لیے زمین کا پیٹ زمین کی سطح سے بہتر تھا اور پھر جبکہ وہ خود بار بار عذاب کا تقاضا کررہے تھے تو انھیں یقینا عذاب کی نذر کردینا چاہیے تھا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ درحقیقت تمہارا رب بہت بخشنے والا اور بہت رحمت والا ہے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ لوگوں کو ان کی غلطیوں پر فوراً پکڑے۔ اگر ایسا ہوتا تو یقینا وہ عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا۔ لیکن اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مہلت دی جائے تاکہ وہ اگر سنبھلنا چاہیں تو سنبھل جائیں۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ بعض دفعہ ایک ہی دفعہ نصیحت کو قبول کرلیتا ہے اور بعض دفعہ کئی دفعہ کی کوشش کے بعد اس کا ذہن نصیحت کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور بعض دلوں کی زمینیں ایسی سنگلاخ ہوتی ہیں کہ ان پر برسوں محنت کرنی پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا معاملہ دودھ بلونے والے کی طرح ہے کہ جب تک دودھ سے آخری پھٹکی بھی مکھن کی نہیں نکل آتی بلونے والا اسے بلوتا رہتا ہے۔ اسی طرح پروردگار بھی اس وقت تک ان کو مہلت دیتا رہتا ہے جب تک کسی ایک کے بھی ایمان لانے کی امید ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ سوتے بالکل خشک ہوجاتے ہیں تو پھر وہ ان پر عذاب بھیجتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جسے موعد کہا گیا ہے اور کبھی اسے اجل مسمیٰ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ موعد یا اجل انسانی علم کی گرفت میں آنے والی چیز نہیں۔ اسے صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کسی قوم کی قبولیت کی استعداد کب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ اسی کا ذکر کرتے ہوئے یہاں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عذاب دینے میں بھی رحمت کا معاملہ کرتی ہے کیونکہ اگر وہ ایمان سے انکار، سرکشی یا بدعملی پر فوراً پکڑنے لگتی تو پھر شاید کوئی شخص بھی اس عذاب سے نہ بچ سکتا۔ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَاتَرَکَ عَلٰی ظَہْرِھَامِنْ دَآبَّۃٍ ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑنے لگتا تو زمین پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑتا “ اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد سزا نہ دینا بلکہ ان کی سزا کو مؤخر کرتے چلے جانا، یہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کے مطابق ہے جسے قانونِ رحمت کہنا چاہیے۔ اگر اس کا یہ قانون اس زمین پر کارفرما نہ ہوتا بلکہ وہ ہر بدعملی اور بےایمانی پر پکڑنے لگتا تو پھر اس کا عذاب تاخیر نہ کرتا بلکہ پہلے ہی موقع پر آدھمکتا، لیکن ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کو یہاں موعد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جب وہ وقت مقرر آجائے گا تو پھر یہ کہیں پناہ نہیں پاسکیں گے۔ نہ کوئی جگہ ان کو پناہ دے سکے گی اور نہ کوئی شخص ان کو پناہ دے سکے گا۔