Ayahs 18:92–98ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمَا قَوْمًا لا لاَّ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ قَوْلاً ۔ قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا۔ قَالَ مَامَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌفَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا۔ اٰ تُوْنِیْ زُبَرَالْحَدِیْدِ ط حَتّٰیٓ اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ط حَتّٰیٓ اِذَا جَعَلَـہٗ نَارًا لا قَالَ اٰ تُوْنِٓیْ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا۔ فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ یَّظْھَرُوْہُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَـہٗ نَقْبًا۔ قَالَ ھٰذَا رَحْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّیْ ج فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَـہٗ دَکَّآئَ ج وَکَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّا۔ (الکہف : 92 تا 98)
(پھر وہ ایک اور راہ پر روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ دو پہاڑوں کے درمیان کے درے تک جا پہنچا تو اس نے دونوں پہاڑوں کے پیچھے ایک ایسی قوم کو پایا جو کوئی بات سمجھ نہیں سکتے تھے۔ انھوں نے درخواست کی کہ اے ذوالقرنین یاجوج و ماجوج ہمارے ملک میں فساد مچاتے رہتے ہیں تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم مقرر کردیں آپ کے لیے کچھ خراج تاکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردیں۔ اس نے جواب دیا وہ دولت جس میں میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے وہ بہتر (کافی) ہے، پس تم جسمانی مشقت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک اوٹ کھڑی کیے دیتا ہوں۔ میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لائو، یہاں تک کہ بیچ کے خلاء کو بھر دیا جو دو پہاڑوں کے درمیان تھا تو اس نے حکم دیا کہ اس کو خوب دھونکو یہاں تک کہ جب اس کو آگ کردیا تو اس نے کہا کہ اب تانبا لائو اس پر انڈیل دوں۔ سو یاجوج ماجوج بڑی کوشش کے باوجود اسے سر نہ کرسکے اور نہ ہی اس میں سوراخ کرسکے۔ اس نے کہا یہ میرے رب کا فضل ہے اور جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا وہ اسے ریزہ ریزہ کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے۔ )
ذوالقرنین کی تیسری مہم
مشکل الفاظ کی تشریح : خَرْج اور خراج ہم معنی ہیں۔ رَدْمًا مضبوط دیوار کو کہتے ہیں۔ صَدَفکا معنی ہے بلند اور مضبوط عمارت۔ اَلصَّدَفُ کُلُّ بِنَائٍ عَظِیْمٌ مُرْتَفَعٌ (قرطبی) قَطَرْ کا معنی ہے پگھلا ہوا تانبا۔ والقطرعند اکثر المفسرین النحاس المذاب وقیل الحدید المذاب وقیل الرصاص المذاب۔ (قرطبی)
یہاں ذوالقرنین کی تیسری مہم کا ذکر ہے۔ مؤرخین نے اس مہم کا کوئی ذکر نہیں کیا، البتہ اتنا ضرور بتاتے ہیں کہ ذوالقرنین بابل کی فتح کے بعدشمال مشرق کی سمت میں ایک سفر پر روانہ ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی منزل بحرخزر کے مشرق میں ترکستان کی جانب تھی۔ جب وہ دو پہاڑی سلسلوں کے درمیان پہنچا۔ چونکہ ان دونوں پہاڑی سلسلوں کے اس طرف یاجوج ماجوج کا علاقہ تھا، اس لیے لامحالہ ان پہاڑوں سے مراد کا کیشیا کے وہ پہاڑی سلسلے ہی ہوسکتے ہیں جو بحر خزر (کیسپین) اور بحر اسود کے درمیان واقع ہیں تو وہاں اس نے ایسے لوگوں کو پایا جو متمدن دنیا سے بالکل الگ تھلگ زندگی گزارنے کی وجہ سے کوئی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ انھوں نے کسی نہ کسی طرح سے ذوالقرنین کو اپنی مصیبت سنائی کہ ان پہاڑوں کے پیچھے یاجوج ماجوج رہتے ہیں۔ انھیں جب موقع ملتا ہے وہ ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہمیں بےپناہ نقصان پہنچاتے ہیں، آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی کردیجیے جو ہمیں ان کی دست برد سے محفوظ کردے۔
یاجوج ماجوج
یاجوج ماجوج سے مراد جیسا کہ اس سے پہلے واضح کیا جا چکا ہے کہ ایشیا کے شمالی مشرقی علاقے کی وہ قومیں ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر غارت گرانہ حملے کرتے رہی ہیں اور جن کے سیلاب وقتاً فوقتاً اٹھ کر ایشیا اور یورپ دونوں طرف رخ کرتے رہے۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ یاجوج ماجوج حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی وہ اولاد ہے جو ایشیا کے شمالی علاقوں میں آباد ہوئی۔ بائیبل کی کتاب پیدائش (باب : 10) ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی نسل میں شمار کیا گیا ہے اور یہی بیان مسلمان مؤرخین کا بھی ہے۔ حزقی ایل کے صحیفے (باب : 39۔ 38) میں ان کا علاقہ روس اور توبل اور مسک بتایا گیا ہے۔ حزقی ایل فرماتے ہیں ” اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا کہ اے آدم زاد جوج کی طرف جو ماجوج کی سرزمین کا ہے اور روش، مسک اور توبل کا فرمانروا ہے، متوجہ ہو اور اس کے خلاف نبوت کر۔ “
اور کہہ خداوند یوں فرماتا ہے ” دیکھ اے جوج روش، مسک اور توبل کے فرمانروا میں تیرا مخالف ہوں اور میں تجھے پھرا دوں گا اور تجھے لیے پھروں گا اور شمال کے دوراطراف سے چڑھا لائوں گا۔ “ (حزقی ایل 39، 1۔ 2)
روش، مسک اور توبل کے نام اب تک رشیا، ماسکو اور توبالسک کی صورت میں موجود ہیں اور یہ علاقے فلسطین سے شمال کے بعید اطراف میں ہیں۔ یاجوج و ماجوج کے قبائل بحر خزر کے شمال کی جانب اور وسطی ایشیا میں منگولیا کے علاقے میں آباد تھے۔ اسرائیلی مؤرخ یوسیفوس ان سے مراد سیتھین قوم لیتا ہے جس کا علاقہ بحر اسود کے شمال اور مشرق میں واقع تھا۔ جیروم کے بیان کے مطابق ماجوج کا کیشیا کے شمال میں بحر خزر کے قریب آباد تھے۔ ایران پر ان کی تاخت ترکستان کے رستے سے بھی ہوتی تھی اور کوہ قفقاز کے درے کی راہ سے بھی۔ کوہ قفقاز ذوالقرنین کے دارالحکومت سے ٹھیک شمال کو ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ بادشاہ نے درے کو بند کرکے اس خطرے کا سدباب کردینا چاہا ہو۔ لیکن اس کا فوری سبب اس قوم کی اپیل بنی جو براہ راست یاجوج ماجوج کے حملوں کی زد میں تھی۔ ذوالقرنین نے ان کی درخواست کو قبول کرلیا تو انھوں نے پیشکش کی کہ ہم اس دیوار کی تعمیر کے اخراجات کے لیے ٹیکس یا خراج دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ اس کے مصارف کا بار آپ پر نہ پڑے۔ ذوالقرنین چونکہ عادل اور رحم دل بادشاہ تھا اس نے اس پیشکش کو رد کردیا کیونکہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ اب چونکہ یہ علاقے میری قلمرو میں شامل ہیں اور یہاں کے رہنے والے میری رعایا ہیں تو اپنی رعایا کی حفاظت کرنا میری قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اس کے لیے ان سے ٹیکس لینا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ چناچہ اس نے ان کی پیشکش کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے دے رکھا ہے وہ تمہارے ٹیکس سے بہتر بھی ہے اور کافی بھی، کیونکہ ” خیر “ کا معنی بہتر بھی ہوتا ہے اور کافی بھی، یعنی مجھے جو اللہ تعالیٰ نے مالی استحکام دے رکھا ہے تو میرے خزانے اس کام کے لیے کافی ہیں، مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں۔ یا ممکن ہے اس کا مطلب یہ ہو کہ تم جو ٹیکس مجھے دو گے نہ جانے تمہارے وسائل اور ذرائع کیسے ہیں جن سے حاصل کرکے تم مصارف پورے کرنے کی کوشش کرو گے، ان میں بیشتر وسائل ناجائز نہیں تو مشکوک ضرور ہوں گے (کیونکہ وہ ایک غیرمہذب اور مذہب سے بیگانہ قوم تھی) ۔ البتہ تم جسمانی مشقت اور افرادی قوت کی فراہمی سے میری مدد کرو، یعنی لیبر تم مہیا کرو باقی تمام مصارف اور ٹیکنیکل گائیڈنس میں مہیا کروں گا۔ دیوار کی تعمیر کے لیے جو خام مال درکار تھا وہ تو یقینا اسی علاقے سے ہی فراہم ہونا تھا، اس لیے ذوالقرنین نے کہا کہ سب سے پہلے تم مجھے لوہے کے ٹکڑے مہیا کرو ” زُبر “” زُبرۃ “ کی جمع ہے، چادروں کو بھی کہتے ہیں اور لوہے کے ٹکڑوں کو بھی۔ میں ان آہن پاروں سے دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلاء کو بھر دوں گا۔ چناچہ جب یہ خلاء بھر دیا گیا تو پھر ذوالقرنین نے اسے دھونکنے کا حکم دیا یعنی اس پر اتنی آگ جلائو کہ لوہا آگ بن جائے۔ اس کے بعد اس پر تانبا پگھلا کر ڈالا گیا۔ اس طرح لوہے اور تانبے کی ایک ایسی دیوار بن گئی جس کو گرانا یا پھاندنا یا اس میں نقب لگانا ناممکن تھا۔ اس دور میں تخریب اور تباہی کے جتنے ذرائع انسانوں نے دریافت کیے تھے اس دیوار کا ان سے ٹوٹنا ممکن نہ تھا۔ اور پھر یاجوج ماجوج جسمانی قوت اور اینٹ پتھر اور بھالوں کے سوا اپنے پاس کوئی جدید ہتھیار نہیں رکھتے تھے، اس لیے ان کے لیے تو اب اس علاقے کو عبور کرنا ناممکن ہوگیا اور یہ اتنا بڑا کارنامہ اور ان لوگوں کے لیے اتنا بڑا احسان تھا کہ اس پر ذوالقرنین کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، لیکن وہ چونکہ ایک مومن قانت تھا اس لیے اس کارنامے کو تفاخر کا ذریعہ بنانے کی بجائے اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف منسوب کیا اور یہ کہا کہ اب یاجوج ماجوج تم پر حملہ آور نہیں ہوسکیں گے۔ لیکن یہ مت سمجھو کہ یہ دیوار ہمیشہ کے تحفظ کی ضمامت ہے۔ ہمیشہ کا تحفظ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ممکن ہے زمانہ چند کروٹوں کے بعد اتنی ترقی کرجائے کہ ایسی رکاوٹیں ان کے لیے کوئی رکاوٹیں نہ ہوں اور یا اس سے اشارہ قیامت کی طرف ہے کہ میرے رب کا وعدہ ہے کہ وہ ایک دن ایسا لائے گا جب ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، تو ظاہر ہے کہ یہ دیوار بھی کھڑی نہیں رہے گی۔ تمہیں فکر اس دن کی ہونی چاہیے۔ اس دن تمہیں پروردگار کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
ہم نے سدذوالقرنین اور یاجوج ماجوج کے بارے میں قرآن کریم اور تاریخ کی روشنی میں بقدرکفایت عرض کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ بعض احادیث میں بڑی تفصیل سے یاجوج ماجوج اور اس کے ضمن میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق وضاحت فرمائی گئی ہے۔ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب نے بڑی تفصیل سے احادیث کا ذکر کیا ہے اور آخر میں علامہ سیّد انور شاہ صاحب کے حوالے سے کچھ باتیں نقل کی ہیں جو ان مباحث کے سلسلے میں بحث کے بعض نئے گوشوں کو وا کرتی ہیں۔ ان کی اہمیت کے پیش نظر ہم یہاں اسے نقل کررہے ہیں۔
حضرت الاستاذ حجۃ الاسلام سیّدی حضرت مولانا انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے اپنی کتاب عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں یاجوج ماجوج اور سد ذوالقرنین کا حال اگرچہ ضمنی طور پر بیان فرمایا ہے مگر جو کچھ بیان کیا ہے وہ تحقیق و روایت کے اعلیٰ معیار پر ہے، آپ نے فرمایا کہ مفسد اور وحشی انسانوں کی تاخت و تاراج سے حفاظت کے لیے زمین پر ایک نہیں بہت سی جگہوں میں سدِّیں (دیواریں) بنائی گئی ہیں جو مختلف بادشاہوں نے مختلف مقامات پر مختلف زمانوں میں بنائی ہیں، ان میں سے زیادہ بڑی اور مشہور دیوارِ چین ہے، جس کا طول ابوحیان اندلسی (دربارِ ایران کے شاہی مؤرخ) نے بارہ سو میل بتلایا ہے اور یہ کہ اس کا بانی فغفور بادشاہِ چین ہے اور اس کی بنا کی تاریخ ہبوط حضرت آدم (علیہ السلام) سے تین ہزار چار سو ساٹھ سال بعد بتلائی ہے اور یہ کہ اس دیوارِچین کو مغل لوگ اتْکُووَہْ اور ترک لوگ بورقُْورْقَہ کہتے ہیں، اور فرمایا کہ اسی طرح کی اور بھی متعدد دیواریں (سدِّیں) مختلف مقامات پر پائی جاتی ہیں۔
ہمارے خواجہ تاش مولانا حفظ الرحمن سہواری ( رح) نے اپنی کتاب قصص القرآن میں حضرت شیخ ( رح) کے اس بیان کی تاریخی توضیح بڑی تفصیل و تحقیق سے لکھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :
یاجوج ماجوج کی تاخت و تاراج اور شروفساد کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ ایک طرف کا کیشیا کے نیچے بسنے والے ان کے ظلم و ستم کا شکار تھے تو دوسری جانب تبت اور چین کے باشندے بھی ہر وقت ان کی زد میں تھے، انہی یاجوج ماجوج کے شروفساد سے بچنے کے لیے مختلف زمانوں میں مختلف مقامات پر متعدد سدِّیں تعمیر کی گئیں، ان میں سب سے زیادہ بڑی اور مشہور دیوارِ چین ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔
دوسری سدّ وسط ایشیا میں بخارا اور ترمذ کے قریب واقع ہے، اور اس کے محل وقوع کا نام دربند ہے۔ یہ سدّ مشہور مغل بادشاہ تیمور لنگ کے زمانے میں موجود تھی اور شاہ روم کے خاص ہمنشین سیلابرجر جرمنی نے بھی اس کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے اور اندلس کے بادشاہ کسٹیل کے قاصد کلافچو نے بھی اپنے سفرنامہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ 1403 ء میں اپنے بادشاہ کا سفیر ہو کر جب تیمور کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس جگہ سے گزرا ہے، وہ لکھتا ہے کہ باب الحدید کی سدّ موصل کے اس راستہ پر ہے جو سمرقند اور ہندوستان کے درمیان ہے۔ (ازتفسیر جواہر القرآن طنطاوی ج 9، ص 198)
تیسری سدّ روسی علاقہ داغستان میں واقع ہے، یہ بھی دربند اور باب الابواب کے نام سے مشہور ہے۔ یاقوت حموی نے معجم البلدان میں، ادریسی نے جغرافیہ میں اور بستانی نے دائرۃ المعارف میں اس کے حالات بڑی تفصیل سے لکھے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :
” داغستان میں دربند ایک روسی شہر ہے، یہ شہر بحرخزر (کاسپین) کے غربی کنارے پر واقع ہے، اس کا عرض البلد 3۔ 43 شمالاً اور طول البلد 15۔ 48 شرقاً ہے اور اس کو دربند نوشیرواں بھی کہتے ہیں اور باب الابواب کے نام سے بہت مشہور ہے۔ “
چوتھی سدّ اسی باب الابواب سے مغرب کی جانب کا کیشیا کے بہت بلند حصوں میں ہے، جہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک درہ درہ داریال کے نام سے مشہور ہے۔ اس جگہ یہ چوتھی سدّ جو قفقاز یا جبل قوقا یا کوہ قاف کی سدّ کہلاتی ہے، بستانی نے اس کے متعلق لکھا ہے :
” اور اسی کے (یعنی سد باب الابواب کے) قریب ایک اور سدّ ہے جو غربی جانب بڑھتی چلی گئی ہے، غالباً اس کو اہل فارس نے شمالی بربروں سے حفاظت کی خاطر بنایا ہوگا کیونکہ اس کے بانی کا صحیح حال معلوم نہیں ہوسکا، بعض نے اس کی نسبت سکندر کی جانب کردی ہے اور بعض نے کسریٰ و نوشیرواں کی طرف اور یاقوت کہتا ہے کہ یہ تانبا پگھلا کر اس سے تعمیر کی گئی ہے۔ “
(دائرۃ المعارف جلد 7، ص 651، معجم البدان جلد 8 ص 9)
چونکہ یہ سب دیواریں شمال ہی میں ہیں اور تقریباً ایک ہی ضرورت کے لیے بنائی گئی ہیں، اس لیے ان میں سے سدّ ذوالقرنین کونسی ہے، اس کے متعین کرنے میں اشکالات پیش آئے ہیں اور بڑا اختلاط ان آخری دو سدّوں کے معاملہ میں پیش آیا کیونکہ دونوں مقامات کا نام بھی دربند ہے اور دونوں جگہ سدّ بھی موجود ہے، مذکورالصدر چار سدّوں میں سے دیوارِچین جو سب سے زیادہ بڑی اور سب سے زیادہ قدیم ہے اس کے متعلق تو سدّ ذوالقرنین ہونے کا کوئی قائل نہیں اور وہ بجائے شمال کے مشرق اقصیٰ میں ہے اور قرآن کریم کے اشارے سے اس کا شمال میں ہونا ظاہر ہے۔
اب معاملہ باقی تین دیواروں کا رہ گیا جو شمال ہی میں ہیں، ان میں سے عام طور پر مؤرخین مسعودی، اصطخری، حموی وغیرہ اس دیوار کو سدّ ذوالقرنین بتاتے ہیں جو داغستان یا کا کیشیا کے علاقہ باب الابواب کے دربند میں بحر خزر پر واقع ہے، بخارا و ترمذ کے دربند اور اس کی دیوار کو جن مؤرخین نے سدّ ذوالقرنین کہا ہے وہ غالباً لفظ دربند کے اشتراک کی وجہ سے ان کو اختلاط ہوا ہے، اب تقریباط اس کا محل وقوع متعین ہوگیا کہ علاقہ داغستان کا کیشیا کے دربند باب الابواب میں یا اس سے بھی اوپر جبل قفقاز یا کوہ قاف کی بلندی پر ہے اور ان دونوں جگہوں پر سدّ کا ہونا مؤرخین کے نزدیک ثابت ہے۔
ان دونوں میں سے حضرت الاستاذ مولانا سیّد محمد انور شاہ قدس سرہ نے عقیدۃ الاسلام میں کوہ قاف قفقاز کی سدّ کو ترجیح دی ہے کہ یہ سدّ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی ہے۔ (عقیدۃ الاسلام ص 297)
سدّ ذوالقرنین اس وقت تک موجود ہے اور قیامت تک رہے گی یا وہ ٹوٹ چکی ہے ؟
آج کل تاریخ و جغرافیہ کے ماہرین اہل یورپ اس وقت ان شمالی دیواروں میں سے کسی کا موجود ہونا تسلیم نہیں کرتے اور نہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اب بھی یاجوج ماجوج کا راستہ بند ہے، اس بنا پر بعض اہل اسلام مؤرخین نے بھی یہ کہنا اور لکھنا شروع کردیا ہے کہ یاجوج ماجوج جن کے خروج کا قرآن و حدیث میں ذکر ہے وہ ہوچکا ہے، بعض نے چھٹی صدی ہجری میں طوفان بن کر اٹھنے والی قوم تاتار ہی کو اس کا مصداق قرار دے دیا ہے، بعض نے اس زمانے میں دنیا پرز غالب آجانے والی قوموں روس اور چین اور اہل یورپ کو یاجوج ماجوج کہہ کر اس معاملہ کو ختم کردیا ہے مگر جیسا کہ اوپر بحوالہ روح المعانی بیان ہوچکا ہے کہ یہ سراسر غلط ہے، احادیث صحیحہ کے انکار کے بغیر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جس خروج یاجوج ماجوج کو قرآن کریم نے بطور علامتِ قیامت بیان کیا اور جس کے متعلق صحیح مسلم کی حدیث نواس بن سمعان وغیرہ میں اس کی تصریح ہے کہ یہ واقعہ خروجِ دجال اور نزول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور قتل دجال کے بعد پیش آئے گا۔ وہ واقعہ ہوچکا، کیونکہ خروجِ دجال اور نزول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بلاشبہ اب تک نہیں ہوا۔
البتہ یہ بات بھی قرآن و سنت کی کسی نص صریح کے خلاف نہیں ہے کہ سدذوالقرنین اس وقت ٹوٹ چکی ہو اور یاجوج ماجوج کی بعض قومیں اس طرف آچکی ہوں بشرطیکہ اس کو تسلیم کیا جائے کہ ان کا آخری اور بڑا ہلہ جو پوری انسانی آبادی کو تباہ کرنے والا ثابت ہوگا وہ ابھی نہیں ہوا، بلکہ قیامت کی ان بڑی علامات کے بعد ہوگا جن کا ذکر اوپر آچکا ہے یعنی خروجِ دجال اور نزول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ۔
حضرت الاستاذ حجۃ الاسلام علامہ کشمیری ( رح) کی تحقیق اس معاملہ میں یہ ہے کہ اہل یورپ کا یہ کہنا تو کوئی وزن نہیں رکھتا کہ ہم نے ساری دنیا چھان ماری ہے ہمیں اس دیوار کا پتہ نہیں لگا کیونکہ اول تو خود انہی لوگوں کی یہ تصریحات موجود ہیں کہ سیاحت اور تحقیق کے انتہائی معراج پر پہنچنے کے باوجود آج بھی بہت سے جنگل اور دریا اور جزیرے ایسے باقی ہیں جن کا ہمیں علم نہیں ہوسکا۔ دوسرے یہ بھی احتمال بعید نہیں کہ اب وہ دیوار موجود ہونے کے باوجود پہاڑوں کے گرنے اور باہم مل جانے کے سبب ایک پہاڑ ہی کی صورت اختیار کرچکی ہو لیکن کوئی نص قطعی اس کے بھی منافی نہیں کہ قیامت سے پہلے یہ سدّ ٹوٹ جائے یا کسی دوردراز کے طویل راستہ سے یاجوج ماجوج کی کچھ قومیں اس طرف آسکیں۔
اس سدّ ذوالقرنین کے تاقیامت باقی رہنے پر بڑا استدلال تو قرآن کریم کے اس لفظ سے کیا جاتا ہے کہ فَاَذَا جَآئَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَہٗ دَکَّآئَ یعنی ذوالقرنین کا یہ قول کہ جب میرے رب کا وعدہ آپہنچے گا (یعنی خروج یاجوج ماجوج کا وقت آجائے گا) تو اللہ تعالیٰ اس آہنی دیوار کو ریزہ ریزہ کرکے زمین کے برابر کردیں گے۔ اس آیت میں وَعْدُ رَبِّیْ کا مفہوم ان حضرات نے قیامت کو قرار دیا ہے حالانکہ الفاظِ قرآن اس بارے میں قطعی نہیں کیونکہ وَعْدُ رَبِّیْکا صریح مفہوم تو یہ ہے کہ یاجوج ماجوج کا راستہ روکنے کا جو انتظام ذوالقرنین نے کیا ہے یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہمیشہ اسی طرح رہے، جب اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ ان کا راستہ کھل جائے تو یہ دیوار منہدم و مسمار ہوجائے گی، اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ بالکل قیامت کے متصل ہو۔ چناچہ تمام حضرات مفسرین نے وَعْدُ رَبِّیْکے مفہوم میں دونوں احتمال ذکر کیے ہیں۔ تفسیر بحر محیط میں ہے والوعد یحتمل ان یرادبہ یوم القیمۃ و ان یرادبہ وقت خروج یاجوج وماجوج۔
اس کا تحقق یوں بھی ہوسکتا ہے کہ دیوار منہدم ہو کر راستہ ابھی کھل گیا ہو اور یاجوج ماجوج کے حملوں کی ابتداء ہوچکی ہو، خواہ اس کی ابتداء چھٹی صدی ہجری کے فتنہ تاتار سے قرار دی جائے یا اہل یورپ اور روس و چین کے غلبہ سے، مگر یہ ظاہر ہے کہ ان متمدن قوموں کے خروج اور فساد کو جو آئینی اور قانونی رنگ میں ہورہا ہے وہ فساد نہیں قرار دیا جاسکتا جس کا پتہ قرآن و حدیث دے رہے ہیں کہ خالص قتل و غارت گری اور ایسی خونریزی کے ساتھ ہوگا کہ تمام انسانی آبادی کو تباہ و برباد کردے گا بلکہ اس کا حاصل پھر یہ ہوگا کہ انہی مفسد یاجوج ماجوج کی کچھ قومیں اس طرف آکر متمدن بن گئیں۔ اسلامی ممالک کے لیے بلاشبہ وہ فساد عظیم اور فتنہ عظیمہ ثابت ہوئیں مگر ابھی ان کی وحشی قومیں جو قتل و خونریزی کے سوا کچھ نہیں جانتیں وہ تقدیری طور پر اس طرف نہیں آئیں اور بڑی تعداد ان کی ایسی ہی ہے کہ ان کا خروج قیامت کے بالکل قریب میں ہوگا۔
دوسرا استدلال ترمذی اور مسنداحمد کی اس حدیث سے کیا جاتا ہے جس میں مذکور ہے کہ یاجوج ماجوج اس دیوار کو روزانہ کھودتے رہتے ہیں مگر اول تو اس حدیث کو ابن کثیر نے معلول قرار دیا ہے، دوسرے اس میں بھی اس کی کوئی تصریح نہیں کہ جس روز یاجوج ماجوج انشاء اللہ کہنے کی برکت سے اس کو پار کرلیں گے وہ قیامت کے متصل ہی ہوگا اور اس کی بھی اس حدیث میں کوئی دلیل نہیں کہ سارے یاجوج ماجوج اسی دیوار کے پیچھے رکے ہوئے رہیں گے، اگر ان کی کچھ جماعتیں یاقو میں کسی دوردراز کے راستہ سے اس طرف آجائیں جیسا کہ آج کل کے طاقتور بحری جہازوں کے ذریعے ایسا ہوجانا کچھ مستبعد نہیں اور بعض مؤرخین نے لکھا بھی ہے کہ یاجوج ماجوج کو طویل بحری سفر کرکے اس طرف آنے کا راستہ مل گیا ہے تو اس حدیث سے اس کی بھی نفی نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن و سنت میں کوئی ایسی دلیل صریح اور قطعی نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ سدّ ذوالقرنین قیامت تک باقی رہے گی یا ان کے ابتدائی اور معمولی حملے قیامت سے پہلے اس طرف کے انسانوں پر نہیں ہوسکیں گے۔ البتہ ! وہ انتہائی خوفناک اور تباہ کن حملہ جو پوری انسانی آبادی کو برباد کردے گا اس کا وقت بالکل قیامت کے متصل ہی ہوگا جس کا ذکر بار بار آچکا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن و سنت کی نصوص کی بنا پر نہ یہ قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ سدّ یاجوج ماجوج ٹوٹ چکی ہے اور راستہ کھل گیا ہے اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ازروئے قرآن و سنت اس کا قیامت تک قائم رہنا ضروری ہے۔ احتمال دونوں ہی ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال۔
Ayahs 18:99–101وَتَرَکْنَا بَعْضَھُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰـہُمْ جَمْعًا۔ وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکٰـفِرِیْنَ عَرْضَانِ ۔ الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَـآئٍ عَنْ ذِکْرِیْ وَکَانُوْا لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۔ (الکہف : 99 تا 101)
(اور ہم واگزار کردیں گے بعض کو اس دن وہ تند موجوں کی طرح دوسروں سے ٹکرائیں گے اور صور پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ ہم اس دن جہنم کو کافروں کے سامنے پیش کریں گے۔ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا رہا اور وہ کلمہ حق سننے کی تاب نہیں لاتے تھے۔ )
آیات کے مختلف مفاہیم
ان آیات کا حقیقی مفہوم تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں لیکن مفسرین نے ان آیات کی وضاحت میں جو مختلف احتمالات بیان فرمائے ہیں انھیں سامنے رکھتے ہوئے چند باتیں بالکل واضح ہیں۔ پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ذوالقرنین کی گفتگو کا تسلسل ہے جسے پروردگار نے پورا فرمایا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ یہ جو میں نے سد تمہارے لیے یاجوج ماجوج سے بچائو کے لیے کھڑی کی ہے اس وقت تک یاجوج ماجوج اس سد کو عبور نہیں کر پائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہوگا۔ لیکن جب وہ وقت جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تباہی کے لیے مقرر کر رکھا ہے، آجائے گا تو پھر یہ دیوار ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور ریزہ ریزہ ہو کر ہموار ہوجائے گی۔ اس کے بعد یاجوج ماجوج اس طرح دنیا پر حملہ آور ہوں گے کہ اپنی کثرت تعداد کے باعث ایک دوسرے سے الجھتے اور ٹکراتے ہوئے اس طرح آگے بڑھیں گے جیسے موج موج میں گھس جاتی ہے اور پھر طوفان کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب اہل دنیا سائنسی طور پر اس قدر ترقی کر جائیں گے اور ایسے سریع السیر اور تباہ کن ہتھیار تیار کرلیں گے کہ کوئی رکاوٹ راستے میں باقی نہیں رہے گی، دریا ئوں اور پہاڑوں کی رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی، ملکوں کی باہم دوریاں سمٹ کر رہ جائیں گی اور قومیں ایک دوسرے میں گھستی چلی جائیں گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ ہر قوم ایک موج کی طرح دوسرے سے ٹکرا جانا چاہتی ہے۔ جس طرح آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور ملکوں کو کوئی اخلاقی قوت اپنی حدود میں رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی، وہ جب اپنا مفاد دیکھتے ہیں تو تیل کی قوت پر قبضہ کرنے اور دوسروں کو زیر کرنے کے لیے اس ملک پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ انسانی خون ان کے منہ کو ایسا لگا ہے کہ اس کی لذت ان کے ظلم کے نشے کو روزبروز بڑھاتی چلی جارہی ہے۔ وہ ملک جن کے وجود کی کبھی دنیا کو خبر تک نہ تھی آج وہ ہر ملک کی تباہی کے درپے ہیں۔ ہر ملک کی تجارت، سیاست، معیشت حتیٰ کہ ان کی آزادی ان کے رحم و کرم پر ہے۔
تیسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جب یافث کی اولاد یعنی یاجوج ماجوج کا ظہور ہوگا تو جس طرح قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے حَتَّی اِذَافُـتِحَتْ یَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَھُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُوْنَ ” یہاں تک کہ جب یاجوج وماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے پل پڑیں گے۔ “ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جب یاجوج وماجوج ایک طوفان کی طرح ہر پست و بلند سے دنیا پر حملہ آور ہوں گے تو اسی طوفان کے اندر سے قیامت نمودار ہوجائے گی اور اس کے بعد ظاہر ہے کہ کوئی رکاوٹ اپنی جگہ باقی نہیں رہے گی، ہر چیز کو تباہ کردیا جائے گا۔ اس قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ سب کو میدانِ حشر میں جمع فرمائیں گے اور جو لوگ آج تک جہنم کا مذاق اڑاتے رہے اور جہنم کے وجود کو محض ایک وہم قرار دیتے رہے، جہنم ان کے سامنے پوری ہولناکی کے ساتھ ظاہر کردی جائے گی تاکہ ان عقل کے اندھوں کو چشم سر سے دیکھنے کا موقع ملے اور اپنی قسمت کو روئیں کہ جسے ہم ایک وہم سمجھتے تھے وہ تو اب ہمارے سامنے ہے۔ ایسے عقل کے اندھوں کے بارے میں مزید فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ تھے کہ ہمارے پیغمبر ہماری تنبیہات کو ان تک پہنچاتے تھے لیکن انھیں ہماری ہر بات ناگوار گزرتی تھی۔ ان کے تکبر کا عالم یہ تھا کہ یہ ہمارے پیغمبر کی باتوں اور ہماری کتاب کی آیات کو سننے کے بھی روادار نہ تھے۔
Ayah 18:102اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ یَّـتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِٓیْ اَوْلِیَآئَ ط اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰـفِرِیْنَ نُزُلاً ۔ (الکہف : 102)
(کیا ان کافروں نے گمان کیا کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کارساز بنالیں گے، ہم نے ایسے کافروں کے لیے جہنم بطور ضیافت تیار کر رکھی ہے۔ )
خاتمہ سورت کی آیات
یہاں سے سورة کے اختتام تک کی آیات خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کا ربط ذوالقرنین کے واقعہ میں تلاش کرنے کی بجائے پوری سورت کے مجموعی مضامین میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا عمومی اسلوب یہ ہے کہ وہ جس مضمون سے سورت کا آغاز کرتا ہے انسانی زندگی کی رہنمائی کے لیے مختلف ضرورتوں کو پورا کرتا ہوا خاتمہ سورة میں اسی مضمون پر کلام کا اختتام کرتا ہے۔ جب اس سورة کے آغاز کے مضمون کو ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت دنیا یوں تو ہمہ گیر اور متنوع گمراہیوں کا شکار تھی، لیکن جس گمراہی کو تمام گمراہیوں کی بنیاد کہنا چاہیے وہ یہ تھی کہ انسان دنیا کی زیب وزینت اور رنگ و بو میں گم ہو کر آخرت کو بھول چکا تھا اور اس کے نتیجے میں اس کی زندگی خواہشات اور مفادات کی اسیر ہو کر رہ گئی تھی۔ ہر شخص اور ہر قوم اپنے مفادات اور اپنی خواہشات اور اپنے قومی تعصبات کے دائرے میں گم ہو کر اس طرح زندگی گزار رہی تھی کہ اب اس کے لیے اس سے باہر دیکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ کوئی شخص اس سے ہٹ کر اخلاقی حوالے سے یا انسان کی حقیقت کے حوالے سے بات کرتا تھا تو وہ انھیں نہایت اجنبی بلکہ خطرناک محسوس ہوتی تھی اور وہ بات کہنے والے کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجاتے تھے۔ اہل مکہ بھی اسی صورتحال سے دوچار تھے۔ اس سورت کے آغاز میں پروردگار نے نبی کریم ﷺ کی بعثت اور قرآن کریم کے نزول کا سبب بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں صرف تمہاری زندگی کے نتائج سے باخبر کرنے اور غلط انجام سے انذار کے لیے بھیجا ہے۔ تم دنیا کی زیب وز ینت کے اسیر ہو کر جس طرح آخرت فراموشی اور خدا فراموشی کا شکار ہوئے ہو اس سے تمہاری دنیا تو تباہ ہوئی ہے آخرت بھی تباہ ہوجائے گی۔ تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو، آخرت کا یقین پیدا کرو اور دنیا کی حقیقت کو سمجھو، یہی وہ مضمون ہے جسے لپیٹتے ہوئے سورة کے آخر میں بیان کیا جارہا ہے۔
پوری سورة میں مختلف طریقوں سے مشرکین کے شرک کی تردید اور ان کے رویئے کے خطرناک انجام پر بار بار تنبیہ کے بعد ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ان کافروں کا اب بھی یہ گمان ہے کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا اپنا کارساز بنالیں گے اگر بالفرض قیامت آبھی گئی تو وہ انھیں قیامت کے عذاب اور اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔ ان بدبختوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت میں کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔ وہاں ایمان و عمل اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا کوئی سہارا کارآمد نہیں ہوگا۔ رہے یہ لوگ جو ابھی تک سہاروں پر یقین لگائے ہوئے ہیں ہم نے ان کی مہمانی کے لیے جہنم تیار کررکھا ہے۔
بعض الفاظ کی تشریح
آیتِ کریمہ کے بعض الفاظ غور طلب ہیں۔ مثلاً اَلَّذِیْنَ کَفَرَوْا سے کون مراد ہیں ؟ عبادی کا مفہوم کیا ہے ؟ اولیاء کا کیا معنی ہے ؟
عبادی کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے مراد ہیں۔ مثلاً مشرکینِ عرب نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا، یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا۔ اس صورت میں الذین کفروا سے مراد یہودونصاریٰ اور مشرکینِ عرب مراد ہوں گے۔ ایک صورت یہ ہے کہ عبادی سے مراد وہ تمام قوتیں ہوں جن کی دنیا میں پوجا کی گئی ہے۔ اس صورت میں الذین کفروا سے مراد تمام کفار ہیں جو جنات اور شیاطین کی پرستش کرتے اور طاغوتی قوتوں کے سامنے جھکتے ہیں اور اسی طرح وہ تمام لوگ بھی مراد ہوں گے جو معبوداتِ باطلہ مثلاً بُت، آگ اور ستاروں وغیرہ کی پوجا کرتے رہے ہیں۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ آج کا انسان چونکہ فکری طور پر بہت ترقی کرگیا ہے اور اس نے علم کے تقریباً ہر گوشے میں نام پیدا کیا ہے۔ اس لیے اب اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آج بھی انسان اس شرک میں مبتلا ہوگا جس کی تردید قرآن کریم نے بار بار کی ہے۔ لیکن جب ہم انسانوں کے حالات دیکھتے ہیں تو یہ بات خوش فہمی کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں رکھتی، کیونکہ آج بھی دنیا میں ہر سطح کے انسان پائے جاتے ہیں۔ البتہ وہ ملک اور معاشرے جہاں انسانوں نے بظاہر ترقی کی ہے اور ٹیکنالوجی کے فروغ نے ان کے ذہنی افق کو بہت روشن کردیا ہے اور زندگی کے بارے میں ان کے تصورات بھی بہت حد تک تبدیل ہوگئے ہیں۔ یقینا ان میں ہمیں وہ پرانی بت پرستی نظر نہیں آتی اور بہت ساری وہ باتیں بھی ختم ہوگئی ہیں جن کی بنیاد صرف توہمات پر تھی۔ لیکن یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ انسان پتھروں کے تراشے ہوئے بتوں کے سامنے نہیں جھکتا لیکن کیا یہ امرواقعہ نہیں کہ جن بڑے شخصیتوں کے تصورات اور رہنمائی کو قبول کرلیا جاتا ہے چاہے وہ رہنمائی کیسے ہی غلط کیوں نہ ہو ان شخصیتوں کے مجسمے جابجا استادہ کیے جاتے ہیں۔ بت پرست تو اپنے بتوں کے سامنے عبادت کے وقت جھکتے تھے لیکن آج انسان اپنے پسندیدہ رہنمائوں کی تصویروں کو اپنی خواب گاہوں میں بھی آویزاں کرتا ہے۔ جن شخصیتوں کو وہ اپنا ہیرو قرار دے لیتا ہے ان کی ایک ایک بات پر دوسروں سے لڑائی مول لیتا ہے۔ پارٹی لیڈرز کو وہ مقام دے دیا جاتا ہے جو کسی پیغمبر کو بھی حاصل نہیں۔ ان کی ہر بات کو حرف آخر سمجھ کر پیروی کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ پارٹی لیڈر کا خاندان ایک ایسا مقدس حوالہ بن جاتا ہے کہ پارٹی لیڈر اگر دنیا سے اٹھ جاتا ہے تو اس کی نالائق اولاد کو بھی لوگ اپنے سروں پر بٹھاتے اور رہنمائی کے منصب پر فائز کردیتے ہیں۔ کتنے ایسے رہنما گزرے ہیں جنھیں بہت سے لوگ مسترد کرچکے ہیں لیکن آج بھی ان کے مجسموں کے سامنے سر جھکائے جاتے ہیں۔ ان کی برسی کے دن ان کے اقوال کو دہرایا جاتا ہے اور ان سے وفاداری کے لیے تجدیدِ عہد کیا جاتا ہے۔ بعض ایسے ممالک بھی ہیں جو صدیوں پیشتر جاہلیتِ قدیمہ کے سرغنوں کو اپنا جدِامجد قرار دے کر لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام جس نے حسب و نسب اور دولت کے بت توڑے ہیں اور صرف کردار کی عظمت کو اجالا ہے اس کے نام لیوائوں میں ایسے ملک موجود ہیں جہاں نیشنلزم کو بتوں کی طرح پوجا جاتا ہے۔ نسلی انتسابات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ کمیونزم، کیپٹل ازم، لبرل ازم اور نیشنلزم یہ دنیا کے نئے خدا ہیں جن کی وجہ سے انسانیت تقسیم ہوگئی ہے اور ان میں اتنا بعد پیدا ہوگیا ہے کہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوگئے ہیں۔ ان تازہ خدائوں میں اقبال کی فکرکے مطابق وطن سب سے بڑا خدا ہے جس کی محبت کو غلط طور پر ایمان کا جز قرار دے کر دوسروں کے ساتھ دشمنی کا ذریعہ بنایا گیا ہے اور اسے مذہب پر فوقیت دے کر مذہب کی بنیاد اکھاڑی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس روشنی علم و ہنر کے زمانے میں جس قدر بت تراشے گئے ہیں اور جتنے نئے خدا بنائے گئے ہیں نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت بت پرستی کی ہمہ گیری کا یہ عالم نہیں تھا۔ اس لیے اقبال نے بالکل ٹھیک کہا تھا اور ہمیں اس کا ادراک ہونا چاہیے :
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الٰہ الا اللہ
اولیاء ولی کی جمع ہے جو متعدد معانی پر بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں اس سے مراد کارساز اور حاجت روا ہے جو معبودِبرحق کی خاص صفت ہے۔ نُزُلاً … عام طور پر مہمانی کو کہتے ہیں بلکہ عرب اس مہمانی کو نزل کہتے ہیں جو مہمان کے گھر میں داخل ہونے کے بعد ابتدائی طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت میں کافروں پر تعریض کی گئی ہے کہ تم جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کیے جاؤ گے تم چونکہ ایک نووارد اور مہمان کی طرح اس نئی دنیا میں اترو گے تو تمہاری مہمانی جہنم سے ہوگی، لیکن بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ رہائش کیا ہے کہ قیامت ایک دوسری دنیا ہے، پہلی دنیا کے خاتمے پر دوسری دنیا میں ہر شخص کو نئی رہائش کی ضرورت ہوگی۔ تمہارے لیے پہلے سے رہائش تیار کردی گئی ہے اور وہ جہنم ہے۔
Ayahs 18:103–105قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً ۔ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۔ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَلِقَـآئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلاَ نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا۔ (الکہف : 103 تا 105)
(اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ ناکام و نامراد کون لوگ ہیں۔ وہ تمام لوگ کہ بھٹکی رہی جن کی تمام سعی دنیا کی زندگی میں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، سو برباد گیا ان کا کیا ہوا تو ہم ان کے اعمال (تولنے) کے لیے کوئی ترازو نصب نہیں کریں گے۔ )
سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے
دنیا میں ہر شخص اپنی جو ترجیحات مقرر کرچکا ہے اس کے مطابق وہ درجہ بدرجہ وقت صرف کرتا اور محنت کرتا ہے اور جس کام پر اس کی سب سے زیادہ توجہ رہتی ہے۔ اسی میں کامیابی کو حقیقی کامیابی سمجھتا ہے اور ناکامی کو حقیقی ناکامی گردانتا ہے۔ اس کی تمام تر خوشیاں اسی کامیابی سے وابستہ ہوتی ہیں اور اس کے تمام غم اسی ناکامی میں پنہاں ہوتے ہیں۔ دنیا کا ہر شخص اور دنیا کی ہر قوم اسی طلسم ہوشربا کا شکار ہے۔ اشرافِ مکہ بھی اسی فریبِ نظر کے اسیر تھے۔ وہ تمام غلط انسانوں کی طرح یہی سمجھتے تھے کہ انسانی ضروریات کا بہتر سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ حصول انسان کا سب سے اہم مقصد ہے۔ وہ اسی لیے زندہ ہے کہ اس کی غذا دوسروں سے بہتر ہو، اس کا معاشرتی مقام دوسروں سے بلند ہو، اس کے مکان کے کنگرے سب سے اونچے ہوں، اس کے پاس دولت کی ریل پیل ہو، اس کے پاس سواریوں کی فراوانی ہو، اس کا قبیلہ سب سے بڑا ہو، اس کی ذات قوت و وجاہت کا پیکر سمجھی جائے۔ قطع نظر اس سے کہ اس کی اخلاقی حالت کیسی ہو۔ اس کے محلات بلند ہونے چاہئیں، چاہے وہ دوسروں کے کھنڈرات پر تعمیر ہوں، اس کی دولت بڑھنی چاہیے، چاہے اس میں اضافے کے لیے کیسے ہی غلط طریقے اختیار کیے جائیں۔ یوں کہنا چاہیے کہ اس کی پوری زندگی پر اس کا معدہ حکمران ہے۔ یہ ایک ایسا کعبہ ہے جس کا طواف کرتے ہوئے اس کی ساری زندگی گزر جاتی ہے۔ چند خواہشات ہیں جن کا حصول ایسا ہدف بن جاتا ہے کہ اس کے لیے انسانیت کی بھی قربانی دینا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں ہوتا۔ اشرافِ قریش کی زندگی کا یہ ڈھب ہے جس پر انھیں ناز ہے۔ ان کی زندگی کے اس رویئے پر چوٹ لگاتے ہوئے قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ یہ اپنے جن کاموں پر فخر کرتے ہیں انھیں اندازہ نہیں کہ یہی ان کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامیاں ہیں۔ آپ تصور کریں کہ ایک انسان زندگی بھر محنت کرکے ایک خوبصورت مکان بناتا ہے، پھر وہ شادی کرتا ہے، بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کی تعلیم، ان تعلیمی اداروں میں دلانے کی کوشش کرتا ہے جو زندگی کے حیوانی تصور پر سب سے زیادہ زور دیتے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف یہ ہے کہ ایسا نوجوان تیار کیا جائے جو فر فر انگریزی بولتا ہو، جو مغربی تہذیب کا دلدادہ ہو، جس کے آداب زندگی پر مغرب کی چھاپ لگی ہو۔ قطع نظر اس کے کہ انسانی رشتوں کو وہ کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کے پیش نظر صرف یہ بات ہو کہ مجھے ایک ایسی زندگی گزارنی ہے جس میں لذت اور عزت دو سب سے بڑے معبود ہوں۔ میری اپنی ذات میرا مبدا و معاد ہو کہ میری سوچ کی ابتدا بھی اسی سے ہے اور انتہا بھی اسی پر، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسی زندگی میں خواہشات کا حصول تو ہے چاہے اس کی کوئی سی قیمت ادا کرنی پڑے لیکن اس میں ایثار اور قربانی کا کوئی دخل نہیں۔ ایسا نوجوان جب تعلیم سے فارغ ہو کر گھر میں پہنچتا ہے تو وہ نہ اپنے ماں باپ کے حقوق کو پہچانتا ہے اور نہ ان کے احترام کو۔ وہ گھر کو صرف ایک شب باشی کی جگہ سمجھتا ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک عارضی پڑائو۔ اس کے تقدس اور احترام سے اسے دور کا بھی تعارف نہیں۔ اس گھر میں دوسرے اہل قرابت کا آنا جانا اس کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے اور ماں باپ کے حوالے سے جو رشتے اس کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں وہ محض انھیں جہالت کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ ہمسائیگی کے حقوق، انسانوں کا احترام، انسانی اقدار کی اہمیت، ملک و ملت کے حقوق، مذہب اور اس کے دیئے ہوئے عقائد یہ سب کچھ اس کے نزدیک وہ زنجیریں ہیں جنھیں توڑے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ ایسا نوجوان جب شادی کرے گا تو وہ ایک ایسا معاہدہ ہوگا جس کی کوئی اخلاقی قیمت نہیں بلکہ محض جنسی ضرورت ہے، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی بھی آتی ہے اور خیانت کے راستے بھی کھلتے ہیں۔ اگر اسے اللہ تعالیٰ نے اولاد دی تو وہ اپنی اولاد کو بھی انھیں راستوں پر چلائے گا۔ چناچہ اولاد بڑی ہو کر اسی کی طرح ہر اخلاق پابندی سے آزاد اور اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ سے بےنیاز ہوگی۔ یہ ایک عجیب گھر ہوگا جس میں باپ کے دل میں وہ شفقت نہیں ہوگی جو اللہ تعالیٰ سے تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ بچوں کے دل میں وہ احترام نہیں ہوگا جو مذہب پیدا کرتا ہے اور میاں بیوی کے تعلق اور نگاہوں میں وہ پاکیزگی نہیں ہوگی جو تقویٰ عطا کرتا ہے تو ایسا گھر ایک چھت ضرور مہیا کرسکتا ہے لیکن سکون مہیا نہیں کرسکتا۔ اولاد ماں باپ سے بیگانہ، ماں باپ اولاد سے شاکی، میاں بیوی دونوں ایک دوسرے سے بیزار۔ یہ گھر بظاہر خوشیاں جمع کرنے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن نفرتوں، الجھنوں اور محرومیوں کا مخزن بن کر رہ جائے گا۔ اسی پر آپ باقی معاشرے اور ریاست کو قیاس کرلیجئے۔ ان افکار، ان خواہشات اور ان اہداف کو آپ کیا کریں گے جس کے نتیجہ میں ایک گھر بھی وجود میں نہیں آسکتا۔ اور ایسے گھروں سے جو معاشرہ بنتا ہے اس میں سوائے جرائم اور نفرتیں پلنے کے اور کسی چیز کی توقع نہیں ہوسکتی۔ اس لیے قرآن کریم نے کہا کہ جو لوگ خدا بیزار زندگی گزارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے فرار میں کامیابی سمجھتے ہیں، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ بظاہر دنیا میں کیسے بھی اعمال بروئے کار لائیں اس کے نتیجے میں جو فصل تیار ہوگی وہ کانٹے بکھیرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتی۔
غلط فہمی
تیسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اس طرح کی زندگی گزارنے والے لوگ دراصل وہ لوگ ہیں کہ جنھیں غلط فہمی یہ ہے کہ ہم دنیا میں خودبخود پیدا ہوگئے ہیں۔ نہ اس کائنات کا کوئی بنانے والا ہے اور نہ ہمیں کسی نے پیدا کیا ہے۔ خدا کا تصور محض جہالت کا نتیجہ ہے یا محض اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ اس کے سوا تخلیقِ کائنات کی گتھی کو سلجھانے کی اور کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی۔ انھیں اس بات سے شدید انکار ہے کہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری بھی ہوگی یعنی قیامت آئے گی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسے قبول کرلینے سے زندگی کی وہ آزادیاں ختم ہوجاتی ہیں جو حیوانوں کی طرح من مرضی کی زندگی گزارنے کی اجازت دیتی ہیں اور اگر کچھ لوگ خدا کا اقرار کرتے بھی ہیں تو محض یہ سمجھ کر کہ اس کا اقرار کرنا ہماری ایک ضرورت ہے لیکن اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ وہی ہمارا آقا، ہمارا معبود اور ہمارا اِلٰہ بھی ہے جس نے زندگی گزارنے کے لیے ہمیں ایک شریعت دے رکھی ہے اور اس کے احکام کے ہم پابند ہیں۔ دونوں صورتوں کا نتیجہ ایک ہی رہتا ہے کہ ایسی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی شریعت سے آزاد رہتی ہیں۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اپنی مرضی سے اور اپنی ترجیحات کے مطابق کرتے ہیں۔ بظاہر وہ دنیا میں بڑے بڑے کارنامے بھی انجام دیتے ہیں۔ محلات بناتے ہیں، یونیورسٹیاں تعمیر کرتے ہیں، لائبریریاں، کارخانے، سڑکیں، ریلیں، مختلف صنعتیں اور علوم و فنون کا جال بچھا دیتے ہیں اور پھر ان پر فخر بھی کرتے ہیں، لیکن چونکہ ان کی تعمیر میں ایک خرابی کی صورت مضمر ہے۔ اس لیے یہ سب کچھ انسان کو اس کے دکھوں میں اضافہ کے سوا اور کچھ نہیں دیتے۔ آخر ایک دن ایسا آئے گا جب یہ سب کچھ تباہ کردیا جائے گا اور انسان کا کیا دھرا سب اکارت ہو کر رہ جائے گا اور وہ لوگ جو اپنے کارناموں پر فخر کرتے تھے اور اپنی عظمتوں کے گن گاتے تھے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کسی کام کو وزن دینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اور دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھیں اس قابل بھی نہیں سمجھا جائے گا کہ ان کے اعمال کو تولنے کے لیے ترازو نصب کیا جائے۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز ایک آدمی قدآور اور فربہ آئے گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے برابر بھی وزن دار نہ ہوگا۔
اور حضرت ابوسعید خدری ( رض) فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز ایسے ایسے اعمال لائے جائیں گے جو جسامت کے اعتبار سے تہامہ کے پہاڑوں کے برابر ہوں گے، مگر میزانِ عدل میں ان کا کوئی وزن نہ ہوگا۔
Ayahs 18:106–108ذٰلِکَ جَزَآؤْھُمْ جَھَنَّمْ بِمَا کَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰیٰـتِیْ وَرُسُلِیْ ھُزُوًا۔ (الکہف : 106)
(یہی جہنم ان کا بدلہ ہے، بسبب اس کے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایا۔ )
یہ اشرافِ قریش اور دیگر اہل مکہ آج جس جہنم کا انکار کررہے ہیں قیامت کے دن یہی جہنم ان کے اعمال کا بدلہ ہوگی۔ آج یہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں کل یہی تمسخر اور استہزاء ان کی تباہی کا باعث بنے گا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لاَ یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلاً ۔ (الکہف : 107، 108)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ اس جگہ کو بدلنا نہیں چاہیں گے۔ )
کامیابی ایمان و عمل میں ہے
جن لوگوں کی تمام تگ و دو اور تمام مساعی دنیا اور اسباب دنیا ہی کے حصول ہی میں گم ہو کر رہ گئیں انھوں نے جب بھی کسی چھوٹے یا بڑے کام کا آغاز کیا تو پیش نظر صرف یہ رہا کہ اس سے ہمیں دنیوی طور پر کیا فائدہ پہنچے گا اور اس سے ہمارے اسباب دنیا میں کیا اضافہ ہوگا۔ ہماری عزت اور شہرت کو کیسے چاند لگیں گے اور کس طرح ہمارے لیے اقتدار کی راہ آسان ہوگی۔ ان کی محنتوں کا ہدف صرف وہ چیزیں ٹھہریں جن کا تعلق انسان کی غذا، لباس یا آرام و راحت سے ہے۔ اور انھوں نے اپنی دماغی کاوشوں کو اگر صرف کیا تو مطعومات، مشروبات، ملبوسات اور تعیشات میں تنوع پیدا کرنے میں یا ان علوم و فنون کو آگے بڑھانے میں جن کا تعلق انسان کے سفلی جذبات کے تقاضوں، شہرت کی طلب یا ذکر دوام کی ہوس سے ہے۔ رہے وہ علوم و فنون جن کا تعلق انسانی قدروں سے ہے یا انسانی اخلاق سے یا انسان کے اندر مکارمِ اخلاق اور ملکاتِ عالیہ سے یا ان راہوں سے جن پر چل کر انسانیت سربلند ہوتی اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کا حق ادا ہوتا اور پیغمبر کریم ﷺ کے نقوش زندگی کو توانائی ملتی ہے تو اس کا ان کی سوچ، اس کی فکر اور ان کے عمل سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ گزشتہ آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال دنیا ہی میں رہ جائیں گے، آخرت میں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی بلکہ وہ حرف غلط کی طرح مٹا دیئے جائیں گے۔ لیکن جن لوگوں نے ان بنیادی حقائق اور صداقتوں پر یقین پیدا کیا جنھیں پیغمبر لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور جو انسانیت کا حقیقی سرمایہ ہیں اور پھر انھوں نے اپنی زندگی نفسانیت اور خواہشات کی پیروی میں گزارنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق گزاری، ان کے لیے رہنما صرف اللہ کی کتاب رہی اور ان کا آئیڈیل صرف اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی زندگی رہی۔ دنیا کی زیب وزینت نے نہ ان کی نگاہوں کو خیرہ کیا اور نہ ان کی عملی قوت صراط مسقیم کے سوا کسی اور راستے پر صرف ہوئی۔ ان کا یقین ان کے لیے قیامت کے دن مشعل بنے گا اور ان کا ایک ایک عمل قیامت کے دن اتنا وزنی ہوگا کہ میزانِ عدل میں اس کا پلڑا سب سے جھکا رہے گا۔ جس طرح حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کی کمزور اور پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر صحابہ اپنی ہنسی نہ روک سکے، لیکن آنحضرت ﷺ کو اس سے ناگواری ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کیا جانو، اللہ تعالیٰ کے ترازو میں ان پنڈلیوں کا وزن کیا ہے۔ قیامت کے دن یہ پنڈلیاں کوہ احد سے بھی بھاری ہوں گی۔ گزشتہ آیت میں کافروں کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جہنم ان کی مہمانی کے لیے تیار ہوگا اور اس آیت میں ان مومنوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے باغات ان کے لیے بطور ضیافت تیار ہوں گے۔ ہر ایسی نعمت جس کے وجود یا جس کی لذت کا تصور بھی ممکن نہ ہو وہ بھی وہاں موجود ہوگی۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ ” نزل “ کا معنی جس طرح مہمانی ہے اسی طرح منزل بھی ہے۔ اس سورت میں معنی یہ ہوگا کہ جنت الفردوس ایسے مومنوں کی منزل اور رہائش گاہ ہوگی۔ یہ جنت الفردوس عام جنت نہیں۔ ویسے تو عام جنت بھی نعمتوں کے اعتبار سے بےمثال اور بینظیر ہے۔ لیکن جنت الفردوس خصوصی مقام و مرتبہ کی حامل اور بعض روایات کے مطابق سب سے بالاقدر جنت ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے جب بھی مانگو جنت الفردوس مانگو کیونکہ ایک مومن کی دعا کا ہدف بھی جنت ہی کی طرح سب سے بلند ہونا چاہیے۔
ایک سوال کا جواب
انسانی فطرت کے حوالے سے عام طور پر ایک سوال کیا جاتا ہے کہ انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا گیا ہے اس کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے یکرنگی اور یکسانی کو پسند نہیں کرتا۔ انسان تلون پسند اور تغیر پسند واقع ہوا ہے۔ اسے کبھی میٹھا اچھا لگتا ہے اور کبھی نمکین۔ وہ کبھی دھوپ پسند کرتا ہے اور کبھی سایہ، کبھی میدانی علاقے میں رہنا چاہتا ہے اور کبھی پہاڑوں کے زیروبم اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ہر روز گوشت کھانے پر بھی انسان اکتفا نہیں کرسکتا۔ وہ مختلف چیزیں کھانے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس کی طبیعت کے اس تقاضے کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ جنت کی یکرنگی اور یکسانی پر کیسے صبر کرسکے گا۔ وہ جنت کی نعمتوں سے اکتا کر کبھی جنت سے باہر کی دنیا کو دیکھنا بھی پسند کرے گا بلکہ ہمارے شاعر نے تو کہا کہ ابدی زندگی بھی ایک مجبوری بن جائے تو اس میں کیا لذت باقی رہ جاتی ہے۔
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے آخر میں فرمایا گیا کہ جنت ایک ایسا مقام ہے جس میں داخل ہونے والا کبھی اس سے اکتا نہیں سکتا۔ وہ کبھی اس سے مختلف منزل تلاش نہیں کرے گا۔ جس طرح جنت کی مثال بلکہ اس کی ہر نعمت کی مثال اس دنیا میں ممکن نہیں، وہ دنیا اس دنیا سے بالکل مختلف ہوگی۔ وہاں کے احساسات بھی یہاں کے احساسات سے مختلف ہوں گے۔ ہمارے تاثیر وتأثر کے پیمانے وہاں بدل جائیں گے، وہاں سوچ کا انداز مختلف ہوگا، غم، پریشانی اور اکتاہٹ جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ وہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی، یہاں ہر خوشی کی ایک انتہا ہے وہاں کسی خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوگی، یہاں خوشی کی انتہا تک پہنچنا بعض دفعہ انسان کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے وہاں کوئی چیز ناممکن نہیں ہوگی۔ یہاں کی خوشیاں بھی محدود ہیں اور اس کے متعلقات بھی محدود ہیں، وہاں جس طرح زندگی ابدی ہے اسی طرح ہر چیز ابدی ہوگی۔ اس لیے یہاں کی زندگی پر قیاس کرکے وہاں کی زندگی پر حکم لگانا قیاس مع الفارق کی بدترین قسم ہے۔