18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsروح القرآن

Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کردیا جبکہ ان کے لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کیا۔ )

وَتِلْکَ الْقُرٰٓی اَھْلَکْنٰـھُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَھْلِکِھِمْ مَّوْعِدًا۔ (الکہف : 59) (اور یہ بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کردیا جبکہ ان کے لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کیا۔ ) گزشتہ آیت پر تاریخی شہادت گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ آیت کریمہ اس پر دلیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی طرف اپنا رسول بھیجتا ہے تو اس قوم کا امتحان شروع ہوجاتا ہے کہ وہ اس رسول کی دعوت کو قبول کرکے کامیابی اور نجات کا راستہ اختیار کرتی ہے یا اس دعوت کو رد کرکے اپنے لیے تباہی اختیار کرتی ہے۔ رسول اپنی قوم کی اصلاح کے لیے شب و روز محنت کرتا ہے۔ ہر طریقے سے ان کے خیالات کو بدل کر انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے پر ڈالنے کا جتن کرتا ہے۔ لیکن جب وہ قوم اللہ تعالیٰ کی طرف آنے سے انکار کردیتی ہے اور اپنی سرکشی میں بڑھتی چلی جاتی ہے اور پیغمبر کی ساری کاوشیں ناکام ہوجاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک وقت مقرر کردیتا ہے، اس وقت کے آنے تک اسے ڈھیل ملتی رہتی ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی اصلاح کرلیں، لیکن جب یہ ڈھیل کا وقت گزر جاتا ہے اور قوم اپنی اصلاح کی ہر کوشش کو جھٹک دیتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب انھیں تباہ کردیتا ہے۔ وہ بستیاں جن پر قریش اپنے تجارتی سفروں میں گزرا کرتے تھے مراد اس سے قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم لوط کی بستیاں ہیں جن کے کھنڈرات یا ان کے کچھ آثار ابھی تک قائم ہیں جنھیں ہر دیکھنے والا دیکھ کر اندازہ کرسکتا تھا کہ کسی زمانے میں ان بستیوں کے رہنے والے لوگ نہایت ترقی یافتہ تھے۔ دنیا کی ہر نعمت انھیں میسر تھی، لیکن انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنا رشتہ توڑ لیا تھا جس کے نتیجے میں انسانیت کی ایک ایک قدر کو انھوں نے پامال کر ڈالا۔ ان کی اصلاح کے لیے رسول بھیجے گئے لیکن انھوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے ان کی دشمنی اور اذیت رسانی پر کمر باندھ لی۔ حتیٰ کہ ان کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول بار بار انھیں تنبیہ کرتا رہا کہ تم اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرو، میں تمہارا خیرخواہ بن کے آیا ہوں، لیکن اگر تم نے میری خیرخواہی سے فائدہ نہیں اٹھایا تو وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آسکتی ہے۔ قدرت کی طرف سے تمہاری تباہی کا ایک وقت مقرر ہوچکا ہے اس سے پہلے پہلے تم اپنی اصلاح کرلو اور اللہ تعالیٰ کے آستانے پر جھک جاؤ لیکن جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی خیرخواہی سے فائدہ اٹھانے کی بجائے سرکشی اور تمرد کی انتہا کردی تو پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تباہ کردیا۔ ان بستیوں کے کھنڈرات ان کی تباہی کی داستان سنانے کے لیے کافی ہیں۔ قریش کے لوگ وہاں سے گزرتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے ان کھنڈرات کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور ان کی زبان حال سے وہ داستان سن بھی سکتے ہیں۔ اب بالکل وہی صورتحال قریش کو بھی درپیش ہے۔ اگر انھوں نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کو قبول نہ کیا اور اپنے کافرانہ اور مشرکانہ رویئے کو نہ چھوڑا تو یہاں بھی انھیں بستیوں کی تاریخ دہرائی جائے گی کیونکہ انھیں کی طرح ان کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہوچکا ہے اور یہ آہستہ آہستہ اس وقت کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں جب وہ ہلاکت کا وقت آجائے گا تو پھر ان کو کہیں پناہ نہیں مل سکے گی اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہوگا۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

(اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا تھا میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک دونوں دریائوں کے سنگم پر نہ پہنچ جائوں یا میں مدتوں چلتا رہوں گا۔

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِفَـتٰـہُ لَآاَبْرَحُ حَیّٰٓ اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا (الکہف : 60) (اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا تھا میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک دونوں دریائوں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یا میں مدتوں چلتا رہوں گا۔ ) آیت کا پس منظر یہاں سے ان واقعات کا بیان شروع ہورہا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے درمیان پیش آئے جنھیں مسلسل قرآن کریم نے دو رکوعوں میں پیش فرمایا ہے۔ عوام میں ان واقعات کو قصہ موسیٰ و خضر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سابقہ آیات کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت اس دور میں داخل ہوچکی تھی جبکہ اہل مکہ کی جانب سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی مخالفت دشمنی کی صورت اختیار کرتی جارہی تھی۔ اذیتوں کی بھٹی پوری طرح گرم ہوچکی تھی۔ آنحضرت ﷺ جیسے جیسے دعوت و تبلیغ میں تیزی پیدا کرتے جارہے تھے ویسے ویسے مشرکین کی جانب سے انکار اور اذیت رسانی کے عمل میں بھی تیزی آتی جارہی تھی حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ نے قریش کو یہ وارننگ دینا ضروری سمجھا کہ تم لوگوں نے اگر اپنے رویئے میں تبدیلی نہ کی اور تمہاری مخالفتیں اسی طرح جاری رہیں تو مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں حق کی قبولیت سے محروم نہ کردیا جائے، یعنی تمہارے دلوں پر محرومی کی مہر نہ لگا دی جائے۔ اسی صورت میں پھر یہ خطرہ یقین کی صورت اختیار کرجاتا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کا عذاب دور نہیں، وہ کسی وقت بھی تم پر نازل ہوسکتا ہے اور اسی طرح مسلمانوں کو بھی یہ بات یاد دلانا ضروری تھا کہ تمہیں کفار کی اذیت رسانیوں کے مقابلے میں صبر اور حوصلے سے کام لینا ہوگا۔ بظاہر تم دیکھ رہے ہو کہ مخالفتوں کے ہجوم میں حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں اور کفار کی اذیت رسانیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کفار جب دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں اور کوئی ذات ہمارا ہاتھ روکنے والی نہیں تو وہ اپنے کافرانہ رویئے میں اور دلیر ہوجاتے ہیں اور مسلمان جب دیکھتے ہیں کہ ہماری مظلومیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے تو وہ اسلام کے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں اس سے پہلے کہ کوئی غلط فیصلہ حالات کی رفتار پر اثرانداز ہو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسی رہنمائی ملنی چاہیے جس سے جانبین کو صحیح بات سمجھنے اور صحیح رائے اختیار کرنے میں آسانی ہو۔ چناچہ ایسے ہی حالات میں یہ واقعات مسلمانوں کو سنائے گئے کہ تم بظاہر دیکھ رہے ہو کہ مسلمانوں کی مظلومیت گہری ہوتی جارہی ہے اور انھیں کہیں سے کسی مدد ملنے کی امید دکھائی نہیں دیتی۔ اور دوسری طرف کافروں کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ اس سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اندھیر نگری ہے جس میں کسی چوپٹ راجے کی حکومت ہے، جس میں طاقت کی بات چلتی ہے اور مظلومیت زخم چاٹتی رہ جاتی ہے۔ کوئی حق، حق نہیں۔ اور کوئی باطل، باطل نہیں۔ اگر حق کمزور ہے تو اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں اور باطل طاقتور ہے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ انھیں ان واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تم ظاہر بیں نگاہ سے جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ دراصل حقیقت نہیں اور جو حقیقت ہے وہ تمہاری نگاہوں سے مخفی ہے۔ اس قصے میں پروردگار نے اپنی مشیت کے گوشے سے پردہ اٹھا کر یہ دکھایا ہے کہ تم جو کچھ ظاہر میں دیکھتے ہو ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو، ان واقعات کے آئینہ میں دیکھو کہ بظاہر واقعہ کیا پیش آیا ہے اور بعد میں اس کی تعبیر کیسی سامنے آئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسان جو کچھ بظاہر دیکھتا ہے ضروری نہیں کہ انجام کے اعتبار سے بھی وہی ہو۔ شانِ نزول ہماری اس گزارش سے تو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ آیات سے ان واقعات کا یہ ربط ہے اور اس پس منظر میں ان واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کا فوری سبب کیا ہوا تو بعض اہل علم نے ایسے ہی پس منظر کو اس کا سبب قرار دیا ہے اور جو سبب صراحتاً حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے اس کا نہ صرف انکار کیا ہے بلکہ کسی حد تک استخفاف بھی کیا ہے۔ یہ ایک بڑی جسارت ہے، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اس کے فوری سبب کی تفصیل صحیح بخاری و مسلم باب التفسیر میں حضرت ابی بن کعب ( رض) کی روایت میں بیان کی گئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے آپ ( رض) سے یہ سوال کیا کہ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں سب سے زیادہ علم والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مقرب بارگاہ بندوں بالخصوص انبیائے کرام کو ایسی تربیت سے نوازتے ہیں جس سے وہ پوری دنیا کے لیے منارہ نور بن جاتے ہیں۔ اس لیے یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی کیونکہ ادب کا مقتضیٰ یہ تھا کہ اس کو اللہ تعالیٰ کے علم کے حوالے کرتے یعنی یہ کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ ساری مخلوق میں سب سے بڑا عالم کون ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب پر اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبہ فرمایا اور آپ ( علیہ السلام) پر وحی نازل کی کہ ہمارا ایک بندہ مجمع البحرین پر ہے، وہ آپ ( علیہ السلام) سے بڑا عالم ہے۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ان کا اتہ پتہ معلوم کیا اور پھر ان سے استفادہ کے لیے ایک طویل سفر کیا جس کی تفصیل ان دو رکوعوں میں بیان کی گئی ہے۔ بائبل کی خاموشی، تلمود کی بیخبر ی بائبل چونکہ اس واقعہ کے باب میں بالکل خاموش ہے۔ البتہ تلمود میں اس کا ذکر ہے، مگر وہ اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بجائے، ربی یہوحانان بن لاوی کی طرف منسوب کرتی ہے اور اس کا بیان یہ ہے کہ ربی مذکور کو یہ واقعہ حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا۔ اس کی تفصیل پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تلمود نے ان واقعات کو محفوظ نہیں رکھا بلکہ اس کی کڑیاں کہیں سے کہیں جا کر جوڑ دی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بائبل اور تلمود وغیرہ صرف شرعی احکام کے بارے میں ہی غیرمعتبر نہیں بلکہ تاریخی واقعات کے بارے میں بھی ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے، لیکن تلمود کی اس روایت سے متأثر ہو کر مسلمانوں میں سے بعض لوگوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ قرآن میں اس مقام پر موسیٰ سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہیں بلکہ کوئی اور موسیٰ ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ قرآن کریم نے بیسیوں دفعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تفصیل سے ذکر فرمایا۔ ان کی زندگی کی ضروری تفصیلات تک قرآن کریم میں موجود ہیں، تو کیا صرف یہی ایک واقعہ ایسا تھا کہ جسے کسی مجہول الحال موسیٰ کی طرف منسوب کرکے اس طرح بیان کیا جاتا کہ جس میں کوئی اشارہ بھی اس بات کا نہ ہوتا کہ یہ صاحب کوئی اور موسیٰ ہیں۔ اس لیے قرآن کریم کا اپنا انداز قطعی طور پر اس کی تردید کے لیے کافی ہے، لیکن مزید اطمینان کے لیے یہ کہہ دینا کافی ہے کہ صحیحین میں حضرت سعید بن جبیر ( رض) کی یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عباس ( رض) سے اس موسیٰ کے بارے میں دریافت کیا اور انھیں بتایا کہ نوفل بکالی کا خیال ہے کہ اس واقعہ میں جس موسیٰ کا ذکر ہے وہ موسیٰ بنی اسرائیل نہیں بلکہ یہ موسیٰ بن افراثیم بن یوسف ہے۔ حضرت ابن عباس ( رض) نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن نے جھوٹ بکا، ہمیں حضرت ابی ابن کعب ( رض) نے بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور اس کے بعد وہ پوری روایت بیان فرمائی جس کا ہم اس سے پہلے صحیحین کے حوالے سے ذکر کرچکے ہیں۔ فتیٰ کا مفہوم اور مراد اس آیت کریمہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمسفر کو فتیٰ کے لفظ سے یاد فرمایا گیا ہے۔ فتیٰ کا لفظی معنی نوجوان ہوتا ہے۔ جب یہ لفظ کسی خاص شخص کی طرف منسوب کرکے استعمال کیا جائے تو پھر اس سے مراد عام طور پر اس کا خادم یا شاگرد ہوتا ہے اور اس کو فتیٰاس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ خادم یا نوکر اکثر قوی جوان کو دیکھ کر ہی رکھا جاتا ہے جو ہر طرح کے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فتیٰسے مراد یوشع بن نون ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو سفروحضر میں حضرت کلیم اللہ کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔ بعض لوگوں نے انھیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھتیجا قرار دیا ہے، لیکن اس پر کوئی ثقہ روایت موجود نہیں۔ یہی نوجوان ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد نبوت سے سرفراز کیے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے 110 سال کی عمر میں وفات پائی اور اردن میں مدفون ہوئے۔ آج بھی ان کی قبر محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ مجمع البحرین سے مراد اس آیت کریمہ میں مجمع البحرین کا لفظ آیا ہے جس کا معنی ہے دو دریائوں کا سنگم۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہاں پہنچ کر اپنے ایک بندے سے ملنے کا حکم دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ مجمع البحرین کون سی جگہ ہے ؟ دنیا میں ایسی جگہ بیشمار ہیں جہاں دو دریا آپس میں ملتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں چونکہ اس کا تعین نہیں فرمایا گیا اس لیے مفسرین کے اس میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت قتادہ ( رض) نے فرمایا کہ بحرفارس و روم کے ملنے کی جگہ مراد ہے۔ ابن عطیہ ( رض) نے آذربائیجان کے قریب ایک جگہ کو کہا۔ بعض نے بحر اردن اور بحر قلزم کے ملنے کی جگہ بتلائی ہے۔ بعض نے کہا یہ مقام طنجہ میں واقع ہے۔ حضرت ابی ابن کعب ( رض) سے منقول ہے کہ یہ افریقہ میں ہے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہ خلیج عقبہ اور سویز کا وہ مقام اتصال ہے جہاں سے بعد کے مراحل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساتھ گزرے۔ مولانا مودودی کا گمان یہ ہے کہ غالباً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ سفر سوڈان کی جانب تھا اور مجمع البحرین سے مراد وہ مقام ہے جہاں موجودہ شہر خرطوم کے قریب دریائے نیل کی دو بڑی شاخیں البحرالابیض اور البحرالازرق آکر ملتی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی پوری زندگی جن علاقوں میں گزاری ہے ان میں یا تو یہ جگہ مجمع البحرین سے مراد لی جاسکتی ہے اور یا اس سے خلیج عقبہ اور سویز کا مقام اتصال مراد لیا جاسکتا ہے، لیکن زیادہ قرین قیاس مولانا مودودی کی رائے معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ حُقُب کا مفہوم حُقُب کے معنی زمانہ، سال، 80 سال یا اس سے بھی زیادہ مدت کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اس سفر کی ہدایت چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعے کی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نگاہ میں اس کی تعمیل نہ صرف ضروری تھی بلکہ ذوق و شوق کی حامل بھی تھی۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے نہایت عزم و جزم کے ساتھ اپنے خادم سے کہا کہ یا تو میں مجمع البحرین میں اس مقام تک پہنچ جاؤں گا جہاں مجھے جانے کا حکم دیا گیا ہے اور وہاں میں اس اللہ تعالیٰ کے عظیم بندے سے استفادہ کروں گا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے خاص علم عنایت فرمایا ہے اور یا پھر میں مدت العمر چلتا رہوں گا اور یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ برسوں چلتا رہوں گا۔ اس میں ذوق و شوق کا اظہار بھی ہے اور عزم صمیم کا بھی۔ اس سے پیشتر کہ ہم اگلی آیات کی مدد سے اس واقعہ کی تفصیلات عرض کریں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مستشرقینِ مغرب نے اس قصے کے مآخذ کا کھوج لگاتے ہوئے اپنے جس خبث باطن کا اظہار کیا ہے اور جس سے ان کی نام نہاد علمی تحقیق کا پول کھلتا ہے اس کا کسی حد تک ذکر کردیں۔ تفہیم القرآن میں مولانا مودودی رقم طراز ہیں۔ مستشرقین کی یا وہ گوئی اور اس کا رد مستشرقینِ مغرب نے اپنے معمول کے مطابق قرآن مجید کے اس قصے کے بھی مآخذ کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے اور تین قصوں پر انگلی رکھ دی ہے کہ یہ ہیں وہ مقامات جہاں سے محمد ﷺ نے نقل کرکے یہ قصہ بنا لیا ہے اور پھر دعویٰ کردیا کہ یہ تو میرے اوپر بذریعہ وحی نازل ہوا ہے۔ ایک داستانِ گلگامیش، دوسرے سکندر نامہ سریانی اور تیسرے وہ یہودی روایت جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے لیکن یہ بدطینت لوگ علم کے نام سے جو تحقیقات کرتے ہیں اس میں پہلے اپنی جگہ یہ طے کرلیتے ہیں کہ قرآن کو بہرحال منزل من اللہ تو نہیں ماننا ہے اب کہیں نہ کہیں سے اس امر کا ثبوت بہم پہنچانا ضروری ہے کہ جو کچھ محمد ﷺ نے اس میں پیش کیا ہے۔ یہ فلاں فلاں مقامات سے چرائے ہوئے مضامین اور معلومات ہیں۔ اس طرز تحقیق میں یہ لوگ اس قدر بےشرمی کے ساتھ کھینچ تان کر زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں کہ بےاختیار گھن آنے لگتی ہے اور آدمی کو مجبوراً کہنا پڑتا ہے کہ اگر اسی کا نام علمی تحقیق ہے تو لعنت ہے اس علم پر اور اس تحقیق پر۔ ان کی اس متعصبانہ افترا پردازی کا پردہ بالکل چاک ہوجائے اگر کوئی طالب علم ان سے صرف چار باتوں کا جواب طلب کرلے : اول یہ کہ آپ کے پاس وہ کیا لیل ہے جس کی بنا پر آپ دو چار قدیم کتابوں میں قرآن کے کسی بیان سے ملتا جلتا مضمون پا کر یہ دعویٰ کردیتے ہیں کہ قرآن کا بیان لازماً انہی کتابوں سے مآخوذ ہے ؟ دوسرے یہ کہ مختلف زبانوں کی جتنی کتابیں آپ لوگوں نے قرآن مجید کے قصوں اور دوسرے بیانات کی ماخذ قرار دی ہیں اگر ان کی فہرست بنائی جائے تو اچھے خاصے ایک کتب خانے کی فہرست بن جائے۔ کیا ایسا کوئی کتب خانہ مکہ میں اس وقت موجود تھا اور مختلف زبانوں کے مترجمین بیٹھے ہوئے محمد ﷺ کے لیے مواد فراہم کررہے تھے ؟ اگر ایسا نہیں ہے اور آپ کا سارا انحصار ان دو تین سفروں پر ہے جو نبی کریم ﷺ نے نبوت سے کئی سال پہلے عرب سے باہر کیے تھے، تو سوال یہ ہے کہ آخر ان تجارتی سفروں میں آنحضرت ﷺ کتنے کتب خانے نقل یا حفظ کر لائے تھے۔ ؟ اور اعلانِ نبوت سے ایک دن پہلے تک بھی آنحضرت ﷺ کی ایسی معلومات کا کوئی نشان آپ ﷺ کی بات چیت میں نہ پائے جانے کی کیا معقول وجہ ہے ؟ تیسرے یہ کہ کفار مکہ اور یہودی اور نصرانی، سب آپ ہی لوگوں کی طرح اس تلاش میں تھے کہ محمد ﷺ یہ مضامین کہاں سے لاتے ہیں۔ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے معاصرین کو اس سرقے کا پتہ نہ چلنے کی کیا وجہ ہے ؟ انھیں تو بار بار تحدی کی جارہی تھی کہ یہ قرآن منزل من اللہ ہے، وحی کے سوا اس کا کوئی ماخذ نہیں ہے، اگر تم اسے بشر کا کلام کہتے ہو تو ثابت کرو کہ بشر ایسا کلام کہہ سکتا ہے۔ اس چیلنج نے آنحضرت ﷺ کے معاصر دشمنانِ اسلام کی کمر توڑ کر رکھ دی مگر وہ ایک ماخذ کی بھی نشاندہی نہ کرسکے جس سے قرآن کے ماخوذ ہونے کا کوئی معقول آدمی یقین تو درکنار شک ہی کرسکتا۔ سوال یہ ہے کہ معاصرین اس سراغ رسانی میں ناکام کیوں ہوئے اور ہزار بارہ سو برس کے بعد آج معاندین کو اس میں کیسے کامیابی نصیب ہورہی ہے ؟ آخری اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس بات کا امکان تو بہرحال ہے ناکہ قرآن منزل من اللہ ہو اور وہ پچھلی تاریخ کے انہی واقعات کی صحیح خبریں دے رہا ہو جو دوسرے لوگوں تک صدیوں کے دوران میں زبانی روایت سے مسخ ہوتی ہوئی پہنچی ہوں اور افسانوں میں جگہ پا گئی ہوں۔ اس امکان کو کس معقول دلیل کی بنا پر بالکل ہی خارج از بحث کردیا گیا اور کیوں صرف اسی ایک امکان کو بنائے بحث و تحقیق بنا لیا گیا کہ قرآن ان قصوں ہی سے ماخوذ ہو جو لوگوں کے پاس زبانی روایات اور افسانوں کی شکل میں موجود تھے ؟ کیا مذہبی تعصب اور عناد کے سوا اس ترجیح کی کوئی دوسری وجہ بیان کی جاسکتی ہے ؟ ان سوالات پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ اس نتیجے تک پہنچے بغیر نہ رہ سکے گا کہ مستشرقین نے ” علم “ کے نام سے جو کچھ پیش کیا ہے وہ درحقیقت کسی سنجیدہ طالب علم کے لیے قابل التفات نہیں ہے۔
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں دو دریائوں کے ملنے کی جگہ پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے اپنا راستہ سرنگ کی طرح دریا میں بنا لیا۔

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِھِمَا نَسِیَا حُوْتَھُمَا فَا تَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا (الکہف : 61) (پھر جب وہ دونوں دو دریائوں کے ملنے کی جگہ پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے اپنا راستہ سرنگ کی طرح دریا میں بنا لیا۔ ) گزشتہ آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عازم سفر ہوتے ہوئے اپنے خادم سے فرمایا تھا کہ چاہیے کتنا عرصہ لگ جائے مجھے بہرصورت مجمع البحرین پہنچنا ہے یعنی جہاں دو دریا آپس میں ملتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) اپنی منزل کی طرف عازم سفر ہوگئے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کتنی دیر تک آپ ( علیہ السلام) چلے، بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے آپ ( علیہ السلام) کو اپنے ساتھ زنبیل میں ایک مچھلی رکھنے کا حکم دیا تھا، لیکن اس روایت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مچھلی بھنی ہوئی تھی یا اپنی اصلی حالت میں تھی۔ وہی آپ ( علیہ السلام) کا زاد سفر تھی یا سفر کا کھانا اس کے علاوہ آپ ( علیہ السلام) کے ہمراہ تھا، بہرحال اتنی بات تو واضح ہے کہ وہ مچھلی زندہ نہیں تھی کیونکہ مچھلی جب پانی سے باہر آتی ہے تو کچھ دیر کے بعد مرجاتی ہے اور پھر اسے تو ایک زنبیل میں ڈال کر ایک عرصہ کے لیے سفر میں ساتھ رکھا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہمسفر کے ساتھ مجمع البحرین پہنچے تو آپ ( علیہ السلام) نے کچھ تھکاوٹ محسوس کی تو وہاں کسی چٹان کے سائے میں آرام کے لیے لیٹ گئے۔ آپ ( علیہ السلام) کی آنکھ لگ گئی لیکن آپ ( علیہ السلام) کے خادم جاگ رہے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ زنبیل سے مچھلی نکلی اور یہ دونوں چونکہ دریا کے کنارے پر تھے وہ باہر نکلتے ہیں پانی میں کود گئی۔ ایک تو مچھلی کا زندہ ہو کر پانی میں کود جانا نہایت تعجب کی بات ہے اور اس پر مزید تعجب یہ ہوا کہ آپ ( علیہ السلام) کے خادم نے دیکھا کہ مچھلی پانی میں ڈوبتی ہوئی اس طرح گزری کہ پانی میں سرنگ کانشان بن گیا۔ سرنگ کہتے ہیں پہاڑوں میں کھودے ہوئے راستے کو۔ مچھلی کے گزرنے سے بھی پانی میں ایک راستہ سا بن گیا، یعنی جہاں سے وہ گزری وہاں چاروں طرف سے پانی منجمد ہو کے رہ گیا اور درمیان میں ایک گزرگاہ سی بنتی گئی۔ نَسِیَا حُوْتَھُمَاکا مفہوم اس آیت کریمہ میں نَسِیَا حُوْتَھُمَا کے الفاظ آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا مفہوم کیا ہے ؟ معنی تو اس کا یہ ہے کہ وہ دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے۔ اگر تو اس سے مراد یہ ہے کہ مچھلی جس طرح زندہ ہو کر پانی میں داخل ہوئی اور غائب ہوگئی اور اسے صرف آپ ( علیہ السلام) کے خادم نے دیکھا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت سو رہے تھے تو ایسی تعجب خیز بات ضروری تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کا خادم آپ ( علیہ السلام) کو بتاتا، لیکن وہ آپ ( علیہ السلام) کو بتلانا بھول گیا۔ اس صورت میں تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ خادم مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا، لیکن یہاں فرمایا گیا ہے کہ وہ دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے۔ اس کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے کہ بعض دفعہ ایک چیز کی نسبت علی سبیل التغلیب دو کی طرف کردی جاتی ہے جبکہ اس کا تعلق دو سے نہیں ایک سے ہوتا ہے، جس طرح قرآن کریم میں سورة الرحمن میں فرمایا گیا یَخْرُجُ مِنْھُمَا الْلُؤلُؤُ وَالْمَرْجَانْان دونوں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں، حالانکہ موتی دریائے شیریں سے نہیں دریائے شور سے نکلتے ہیں، لیکن نسبت دونوں کی طرف کی گئی۔ اسی طرح یہاں بھی بجائے خادم کی طرف نسبت کرنے کے دونوں کی طرف نسبت کردی گئی۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ جس زنبیل میں مچھلی ڈالی گئی تھی اسے دونوں حضرات آگے سفر پہ روانہ ہوتے ہوئے اس چٹان کے پاس بھول گئے جہاں انھوں نے آرام کیا تھا۔
Ayah 18:62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

جب وہ آگے بڑھ گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے شاگرد سے کہا ہمارا کھانا لائو، بیشک ہمیں اپنے سفر میں بڑی مشقتبرداشت کرنا پڑی ہے۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰـہُ اٰتِنَا غَدَآئَ نَا ز لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا۔ (الکہف : 62) (جب وہ آگے بڑھ گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے شاگرد سے کہا ہمارا کھانا لائو، بیشک ہمیں برداشت کرنا پڑی ہے اپنے سفر میں بڑی مشقت۔ ) آرام کرنے کے بعد پھر سفر شروع کیا۔ بعض اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن اور ایک رات چلتے رہے، اب تک تو آپ ( علیہ السلام) کو تکان محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن اس لمبے سفر کے بعد آپ ( علیہ السلام) رکے اور اپنے خادم سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لائو، اس سفر نے ہمیں بہت تھکا دیا ہے۔
Ayahs 18:63–65

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

خادم نے کہا، کیا عرض کروں، جب ہم چٹان کے پاس (سُستانے کے لیے) ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی، مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

حضرت موسیٰ نے فرمایا یہی تو وہ ہے جس کی ہم جستجو کررہے تھے، پس وہ اپنے نقوش قدم دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

تو انھوں نے پایا ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو، جس کو ہم نے اپنے خاص فضل سے نوازا تھا اور جس کو خاص اپنے پاس سے علم عطا فرمایا تھا۔

قَالَ اَرَئَ یْتَ اِذْ اَوَیْنَـآ اِلَی الصَّخْرَۃِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ ز وَمَـآ اَنْسٰنِیْـہُ اِلاَّ الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ ج وَا تَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ صلے ق عَجَبًا۔ قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ صلے ق فَارْتَدَّا عَلٰٓی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔ فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَـآ اٰ تَیْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰـہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔ (الکہف : 63، 64، 65) (خادم نے کہا، کیا عرض کروں، جب ہم چٹان کے پاس (سُستانے کے لیے) ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی، مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا یہی تو وہ ہے جس کی ہم جستجو کررہے تھے، پس وہ اپنے نقوش قدم دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔ تو انھوں نے پایا ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو، جس کو ہم نے اپنے خاص فضل سے نوازا تھا اور جس کو خاص اپنے پاس سے علم عطا فرمایا تھا۔ ) خادم کی معذرت خادم نے کہا کہ حضرت میں کیا عرض کروں، میں شرمندہ ہوں حالانکہ بات ایسی اہم تھی کہ مجھے فوری طور پر آپ ( علیہ السلام) سے کہنی چاہیے تھی، لیکن میں بھول گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے مجھے بھلایا تھا کہ میں آپ ( علیہ السلام) سے ذکر نہ کرسکوں۔ وہ بات یہ تھی کہ جب آپ ( علیہ السلام) اس چٹان کے پاس آرام کررہے تھے اور میں جاگ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ وہ مردہ مچھلی زندہ ہو کر دریا میں کود گئی اور گئی بھی ایسے عجیب طریقے سے تھے کہ جہاں سے وہ گزری بجائے پانی کے آپس کے ملنے کے سرنگ کی طرح راستہ بنتا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چونک کر کہا، ارے وہی تو ہماری منزل مراد تھی، ہمیں اسی جگہ پہنچنا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے آپ ( علیہ السلام) کو یہی علامت بتائی تھی، کیونکہ مجمع البحرین کوئی ایسی چھوٹی سے جگہ تو نہیں ہوتی کہ وہاں آدمی کسی شخص کو ڈھونڈ سکے۔ تو علامت یہ طے ہوئی تھی کہ جہاں تمہاری زنبیل میں رکھی ہوئی مچھلی یا تمہارے کھانے کی مچھلی زندہ ہو کر پانی میں داخل ہوجائے تو سمجھ لینا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے اس عظیم بندے سے ملاقات ہوگی جس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اتنا لمبا سفر کیا۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) اپنے ہی نقوش قدم کو پہچانتے ہوئے واپس لوٹے تاکہ ہم اس جگہ کی بجائے کسی اور جگہ نہ پہنچ جائیں۔ چناچہ اس اس جگہ پہنچے تو آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندے کو وہاں پایا۔ اس بندے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اس لیے فرمائی ہے تاکہ اس کی فضیلت کا اظہار ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس بندے کو بعض امور خاص کی بجاآوری پر متعین کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک خاص علم اسے عطا کر رکھا ہے جو اکتسابی نہیں بلکہ سراسر اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا معاملہ ان کے ساتھ خصوصی ہے۔ اس لیے یہاں پروردگار نے ان پر اپنی رحمت کا ذکر فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے تو آپ ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ ایک صاحب سفید چادر اڑھے لیٹے ہوئے ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) نے انھیں سلام کہا، انھوں نے چادر منہ سے ہٹائی، سلام کا جواب دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بتایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ اس اللہ تعالیٰ کے بندے نے کہا، موسیٰ بنی اسرائیل۔ آپ ( علیہ السلام) نے کہا، ہاں۔ پھر پوچھا آپ ( علیہ السلام) نے کیسے جان لیا کہ میں موسیٰ بنی اسرائیل ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے بندے نے کہا کہ جس نے آپ ( علیہ السلام) کو میرے پاس بھیجا ہے اسی نے مجھے آپ ( علیہ السلام) کے متعلق بتایا ہے۔ عبد سے کیا مراد ہے ؟ قرآن کریم نے یہاں اپنے جس بندے کا ذکر فرمایا ہے، اس بندے سے کیا مراد ہے ؟ ہم نے اس رکوع کے آغاز میں حضرت ابی ابن کعب ( رض) کی جو روایت اس واقعہ کے بارے میں جو نقل کی ہے اس میں واضح طور پر آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس بندے کو خضر کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کی بات میں کوئی وزن نہیں جو اس سے حضرت الیاس ( علیہ السلام) کو مراد لیتے ہیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک تو یہ حدیث جو صحیح طور سے ہم تک پہنچی ہے، اس کی موجودگی میں کسی اور نام کو متعین کرنا سراسر بےدینی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت الیاس ( علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کئی سو سال بعد ہوئے ہیں۔ اولاً تو یہ بات محل نظر ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اگر اسے مان بھی لیا جائے تو وہ اپنے پیدا ہونے سے پہلے تو زندہ نہیں ہوسکتے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات بےمعنی بات ہے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نبی ہیں یا نہیں حضرت خضر (علیہ السلام) کے بارے میں ایک اختلاف یہ بھی ہے کہ آیا وہ نبی ہیں یا نہیں ؟ جمہور کی رائے یہ ہے کہ وہ نبی ہیں، رسول نہیں ؟ ان پر وحی آتی ہے لیکن ان پر کوئی شریعت نازل نہیں ہوئی اور انسانوں کے کسی گروہ کی طرف ان کی بعثت نہیں ہوئی۔ جہاں تک ان کی نبوت کا تعلق ہے اس کی دلیل ان واقعات میں موجود ہے جس میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے صاف طور پر فرمایا کہ میں نے جو کچھ کیا اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا۔ جن میں بظاہر دو واقعات ایسے ہیں جو تمام مذاہب اور تمام شریعتوں کی اساس کے خلاف ہیں کیونکہ کسی شریعت میں کسی متنفس کی بغیر شرعی سبب کے جان نہیں لی جاسکتی اور کسی کی ملکیت میں کسی چیز کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ آپ ( علیہ السلام) کا ایسے امور کو سرانجام دینا جس کا جواز کسی شریعت میں نہ ہو اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کا تعلق کس مخلوق سے ہے ایک بحث یہ بھی ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) انسان ہیں یا آپ کا تعلق کسی اور مخلوق سے ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ آپ ( علیہ السلام) انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں یا کسی ایسی مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں جو تکلیفِ شرعی کی مکلف نہیں تو پھر وہ کوئی سا کام بھی کریں چاہے وہ شریعت کے مطابق ہو یا خلاف ان پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع ہیں اور کسی شریعت کے پابند نہیں۔ لیکن اس میں مشکل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) کے سفر کے واقعہ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو نہ صرف یہ بات کہ قدم قدم پر احساس ہوتا ہے کہ دو انسان ایک سفر پر اکٹھے جا رہے ہیں بلکہ بعض واقعات بھی ایسے پیش آئے ہیں جن سے ان کے انسان ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً جب وہ ایک گائوں میں پہنچے اور گائوں والوں سے کھانا مانگا تو انھوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا۔ اس آیت کریمہ میں کھانا مانگنے کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی ہے۔ اور اہل دہ کا مہمانی سے انکار دونوں سے متعلق ہے اور سب جانتے ہیں کہ فرشتے کھانے پینے سے مبرا ہیں، انھیں بھوک پیاس نہیں لگتی۔ لیکن حضرت خضر (علیہ السلام) کا کھانے کو مانگنا یہ واضح اشارہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) انسان تھے اور انسانی ضرورتیں رکھتے تھے۔ البتہ اس پر ایک سوال وارد ہوتا ہے کہ اگر وہ انسان ہیں تو وہ پھر وہ انسانوں کی طرف آنے والی شریعتوں کے بھی مکلف ہیں۔ ان کی زندگی اللہ تعالیٰ نے بہت طویل رکھی ہے تو یقینا انھیں بہت سی شریعتوں سے واسطہ پڑا ہوگا اور اگر اب بھی وہ زندہ ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے تو آج وہ نبی کریم ﷺ کی شریعت کے پابند ہوں گے، لیکن ان کا کشتی کو داغدار کرنا اور ایک معصوم لڑکے کو قتل کر دینایہ دونوں ایسے افعال ہیں جو کسی شریعت میں بھی جائز نہیں ہیں، تو آپ ( علیہ السلام) نے ان کا ارتکاب کیسے کیا ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) انسان تو ہیں لیکن انسانوں میں آپ ( علیہ السلام) کی ایک خاص حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض تکوینی امور کی انجام دہی پر آپ ( علیہ السلام) کو لگا رکھا ہے۔ کسی کو ناحق مار دینا، کسی کو بیمار کردینا، کسی کی کشتی خراب کردینا یا کسی کو فائدہ پہنچانا، یہ تکوینی امور ہیں۔ ان کا شر یعت سے کوئی تعلق نہیں۔ فرشتے بھی ایسے امور کو انجام دیتے ہیں تو وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کے احکام کے پابند ہوتے ہیں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اس لیے تکوینی امور سے متعلق ان پر وحی اترتی ہے اور وہ وحی کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق انسانوں کی اصلاح اور تشریعی معاملات سے ہے۔ آپ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں، آپ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو بہت سی خصوصیات سے نوازا۔ آپ ( علیہ السلام) رسول ہونے کی حیثیت سے حضرت خضر (علیہ السلام) سے افضل ہیں کیونکہ علم تشریع کو علم تکوین پر فضیلت حاصل ہے۔ البتہ آپ ( علیہ السلام) کو حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیجنا اس مقصد کے لیے تھا کہ علم کی کئی شاخیں ہیں۔ ایک انسانی اصلاح اور بھلائی کا علم ہے جسے علم شریعت کہتے ہیں۔ اور ایک علم تکوین ہے جس کے مطابق دنیا کا نظام چلتا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم شریعت تو دیا ہے اور یہ سب سے افضل ہے لیکن آپ ( علیہ السلام) کو تکوینی معامات کا علم نہیں بخشا، کیونکہ آپ ( علیہ السلام) کو اس کی ضرورت نہیں۔ اس کی ایک جھلک آپ ( علیہ السلام) کو اس لیے دکھائی گئی تاکہ آپ ( علیہ السلام) کو علم کی وسعت کا اندازہ ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ بعض دفعہ ظاہری حالات سے نتائج کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ہر طرح کے حالات میں صبر کا دامن تھامے رکھنا اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہنا اور ہرحال میں اسی کی رضا کا حصول ایک مومن کے ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیے۔
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

حضرت ِ موسیٰ نے حضرت خضر سے کہا کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں، اس شرط کے ساتھ کہ جو علم آپ کو عطا ہوا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیں۔

قَالَ لَـہٗ مُوْسٰی ھَلْ اَتَّبِعُکَ عَلٰٓی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا۔ (الکہف : 66) (حضرت ِ موسیٰ نے حضرت خضر سے کہا کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں، اس شرط کے ساتھ کہ جو علم آپ کو عطا ہوا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیں۔ ) حصولِ علم کے لیے ادب بہت ضروری ہے اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات جس پر توجہ دینا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جلالتِ شان کے باوجود کس قدر ادب و احترام کے ساتھ حضرت خضر (علیہ السلام) سے علم کے حصول کی درخواست کررہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حصول علم اور استفادہ کے لیے ادب اور احترام بہت ضروری ہے۔ بالخصوص ایسا علم جس کا تعلق انسانی اصلاح سے ہو آدمی اس کی حقیقی معرفت سے کوسوں دور رہتا ہے جب تک کہ علم اور معلم کی قدر و منزلت کا حق نہ پہچانے اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ کوئی ایسا کمال جو اپنا احترام رکھتا ہو وہ اگر کسی اپنے سے کم درجہ شخص کے پاس بھی ہو اس کے حصول کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یقینا حضرت خضر (علیہ السلام) سے افضل ہیں لیکن آپ ( علیہ السلام) ان سے اس علم کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر ان کو عطا فرمایا ہے۔
Ayahs 18:67–70

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

حضرت خضر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں اس بات پر جس کی آپ کو پوری طرح خبر نہیں۔

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

آپ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے، میں کسی معاملے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

حضرت خضر نے کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو کسی چیز کے متعلق مجھ سے اس وقت تک کچھ نہ پوچھئے جب تک میں خود ہی اس کا ذکر نہ چھیڑوں۔

قَالَ اِنَّـکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ خُبْرًا۔ قَالَ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَآاَعْصِیْ لَکَ اَمْرًا۔ قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلاَ تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْ ئٍ حَتّٰیٓ اُحْدِثَ لَکَ مِنْہُ ذِکْرًا۔ (الکہف : 67 تا 70) (حضرت خضر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اور آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں اس بات پر جس کی آپ کو پوری طرح خبر نہیں۔ آپ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے، میں کسی معاملے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر نے کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو کسی چیز کے متعلق مجھ سے اس وقت تک کچھ نہ پوچھئے جب تک میں خود ہی اس کا ذکر نہ چھیڑوں۔ ) حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے درمیان معاہدہ رفاقت حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ مجھے آپ ( علیہ السلام) کو اپنے ساتھ رکھنے میں تو کوئی اعتراض نہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) میرے ساتھ رہ نہیں سکیں گے اور پھر اس کی وجہ بھی بیان فرما دی کہ آپ ( علیہ السلام) ان باتوں پر کیسے صبر کرسکیں گے جن کے بارے میں آپ ( علیہ السلام) کچھ نہیں جانتے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک صاحب شریعت رسول ہیں۔ میں جب کوئی ایسا کام کروں گا جو علم تکوین کے مطابق تو صحیح ہو لیکن علم شریعت کے خلاف ہو تو آپ ( علیہ السلام) رسول ہونے کی حیثیت سے یقینا اسے برداشت نہیں کر پائیں گے اور ضرور مجھ پر اعتراض کریں گے اور جب معاملہ اعتراض تک پہنچ جائے یعنی شاگرد استاد پر اعتراض کرنے لگے تو پھر افادہ و استفادہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اس لیے تفسیر مظہری میں صوفیائے کرام کا یہ قول نقل کیا گیا ہے اِنَّہُ یَجِبُ عَلَی الْمُرِیْدِ تَرْکَ الْاَعْتِرَاضْ عَلَی الشَّیْخ ” مرید پر لازم ہے کہ اپنے شیخ پر اعتراض نہ کرے۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے وعدہ کیا کہ آپ ( علیہ السلام) مجھے ہر مرحلہ پر انشاء اللہ صابر پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ ( علیہ السلام) کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس وعدے پر ایک شرط کا اضافہ کیا اور آپ ( علیہ السلام) کو اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ شرط یہ تھی کہ میں جو کچھ بھی کروں وہ چاہے آپ ( علیہ السلام) کے نزدیک صحیح ہو یا غلط، آپ ( علیہ السلام) مجھ سے اس کے بارے میں کوئی سوال نہ کریں جب تک کہ میں خود اس کا ذکر نہ چھیڑوں اور اس کی وضاحت نہ کروں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ وعدہ اس اعتماد پر کرلیا ہوگا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں وہ یقینا کوئی ایسا کام تو نہیں کریں گے جو شریعت کی نگاہ میں حلال یا جائز نہ ہو، لیکن ان کا دھیان شاید اس طرف نہیں گیا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کا تعلق تکوینی معاملات سے ہے جن کے لیے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام آتے ہیں، اس لیے شریعت سے ان کا استثنیٰ ہوجاتا ہے اور وہ مخصوص واقعات شرعی احکام سے مستثنیٰ ہوجاتے ہیں۔ مثلاً بےگناہ کا قتل ہر شریعت میں حرام ہے، لیکن حضرت خضر (علیہ السلام) نے ( جیسے آگے آرہا ہے) ایک لڑکے کو قتل کر ڈالا تو شریعت کی نگاہ میں ان کا یہ فعلِ حرام کا ارتکاب تھا، لیکن چونکہ انھوں نے ایسا اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا تھا تو یہ کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم نے اس لڑکے کے قتل کو قتل نفس کے حکم سے مستثنیٰ کردیا۔
Ayah 18:71

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

(پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو حضرت خضر نے اس کشتی میں شگاف کردیا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا آپ نے اس کشتی میں اس لیے شگاف کیا ہے کہ اہل کشتی کو غرق کردیں، یقینا آپ نے بہت برا کام کیا ہے۔

فَانْطَلَقَا وقفۃ حَتّٰیٓ اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیْنَۃِ خَرَقَہَا ط قَالَ اَخَرَقْـتَـھَا لِتُغْرِقَ اَھْلَھَا ج لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا۔ (الکہف : 71) (پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو حضرت خضر نے اس کشتی میں شگاف کردیا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا آپ نے اس کشتی میں اس لیے شگاف کیا ہے کہ اہل کشتی کو غرق کردیں، یقینا آپ نے بہت برا کام کیا ہے۔ ) اِمْر …عجیب اور منکر کام کو کہتے ہیں۔ جب کوئی برا کام ہوجائے تو عرب کہتے ہیں اَمِرَ الاَمرعلامہ بغوی نے کہا ہے کہ عربی لغت میں اِمْرٌ کا معنی داھیۃ (خوفناک) ہے۔ کشتی کا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) کے درمیان جب قول وقرار ہوگیا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کرلیا کہ میں آپ ( علیہ السلام) کے کسی معاملے پر اعتراض نہیں کروں گا تو پھر دونوں تربیتی سفر پر روانہ ہوئے چونکہ دونوں ساحل دریا پر تھے تو دریا کے پار جانے کے ارادے سے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کچھ آگے چل کر دریا ہی میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا ایک تختہ توڑ ڈالا۔ شریعت کے اعتبار سے حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک ایسا کام کیا جو نہ صرف گناہ تھا بلکہ بدتر گناہ یا دہرا گناہ، ایک تو گناہ اس بات کا کہ کسی شخص کی مملوکہ کشتی کو بغیر کسی وجہ کے توڑ ڈالا جو کہ ایک جرم اور ظلم ہے اور دوسری یہ بات کہ اس سے سواریوں کے ڈوب جانے کا امکان پیدا کردیا کیونکہ اگر اس شگاف سے پانی کشتی میں بھر گیا اور کشتی ڈوب گئی تو سواریاں بھی ساتھ ڈوبیں گی۔ اتنے بڑے گناہ پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسا صاحب جلال پیغمبر کیسے خاموش رہ سکتا تھا۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) بھڑک اٹھے اور کہا یہ آپ ( علیہ السلام) نے کیا ظلم کیا ؟ ایک تو آپ ( علیہ السلام) نے کشتی کو عیب دار بنایا اور دوسرا لوگوں کے ڈوبنے کا انتظام کردیا حالانکہ انسان وہ ہے جو انسان کو بچاتا ہے اور اگر انسان انسانوں کو ڈبونے لگیں تو یہ دنیا تو درندوں کا بھٹ بن کر رہ جائے۔ ” جگر “ نے کیسی بات کہی : جب تک کہ غمِ انساں سے جگر انسان کا دل معمور نہیں جنت ہی سہی دنیا لیکن جنت سے جہنم دور نہیں اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بولنا احقاقِ حق تھا جو آپ ( علیہ السلام) کی ذمہ داری تھی۔ لیکن دوسری طرف یہ حال تھا کہ آپ ( علیہ السلام) حضرت خضر (علیہ السلام) سے وعدہ کرچکے تھے کہ میں آپ ( علیہ السلام) کے کسی کام پر اعتراض نہیں کروں گا۔ اس لیے حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا :
Ayahs 18:72–73

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

حضرت خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میری بھول چوک پر مواخذہ نہ کیجیے اور میرے معاملہ میں زیادہ سخت گیری نہ فرمایئے۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَلاَ تُرْھِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا۔ (الکہف : 72، 73) (حضرت خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میری بھول چوک پر مواخذہ نہ کیجیے اور میرے معاملہ میں زیادہ سخت گیری نہ فرمایئے۔ ) ارھاقکا مفہوم ارھاق… کے معنی، کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا، کسی کو مبتلائے آفت کرنا۔ لاَ تُرْھِقْنِیْ ، قِیْلَ مَعْنَاہُ لاَ تُکَلِّفِنِیْ مُشَقَّۃً ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کا جواب دینے کی بجائے صرف انھیں ان کا وعدہ یاد دلایا اور اپنی بات یاد دلائی کہ میں نے پہلے ہی آپ ( علیہ السلام) سے کہا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) میرے ساتھ سفر نہیں کرسکیں گے۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے معذرت چاہی اور آئندہ کے لیے محتاط ہونے کا یقین دلایا۔ البتہ یہ ضرور کہا کہ آپ ( علیہ السلام) میرے معاملے میں سخت گیری سے کام نہ لیجئے بلکہ نرمی اختیار فرمائیے۔
Ayah 18:74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے اسے قتل ڈالا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے، آپ ( علیہ السلام) نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلے کے بغیر قتل کر ڈالا، یہ تو آپ ( علیہ السلام) نے بڑی ہی منکر بات کی۔

فَانْطَلَقَا وقفۃ حَتّٰیٓ اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ لا قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِیَّۃً م بِغَیْرِ نَفْسٍ ط لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّـکْرًا۔ (الکہف : 74) (پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے اسے قتل ڈالا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے، آپ ( علیہ السلام) نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلے کے بغیر قتل کر ڈالا، یہ تو آپ ( علیہ السلام) نے بڑی ہی منکر بات کی۔ ) لڑکے کے قتل کا واقعہ گزشتہ واقعہ پر معافی تلافی کے بعد پھر دونوں بزرگ روانہ ہوئے تو راستے میں ایک لڑکا ملا، حضرت خضر (علیہ السلام) نے بغیر کسی وجہ کے اسے قتل کر ڈالا۔ ایک نابالغ اور بےگناہ کے قتل پر ایک پیغمبر کیسے خاموش رہ سکتے تھے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھڑک اٹھے۔ کہنے لگے یہ آپ ( علیہ السلام) نے کیا کر ڈالا ؟ ایک نابالغ اور معصوم بچے کو جس نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا آپ ( علیہ السلام) نے کس جرم میں قتل کردیا، یہ تو آپ ( علیہ السلام) نے بہت نازیبا حرکت کی۔
Ayahs 18:75–76

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا میں نے آپ ( علیہ السلام) سے نہیں کہا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اب اگر میں آپ ( علیہ السلام) سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ ( علیہ السلام) مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ ( علیہ السلام) میری جانب سے حدعذر کو پہنچ گئے۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّـکَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ قَالَ اِنْ سَاَلْـتُکَ عَنْ شَیْ ئٍم بَعْدَھَا فَلاَ تُصٰحِبْنِیْ ج قَدْبَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا۔ (الکہف : 75، 76) (حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا میں نے آپ ( علیہ السلام) سے نہیں کہا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اب اگر میں آپ ( علیہ السلام) سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ ( علیہ السلام) مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ ( علیہ السلام) میری جانب سے حدعذر کو پہنچ گئے۔ ) حضرت خضر (علیہ السلام) نے ان کو پھر اپنی بات یاد دلائی کہ کیا میں نے آپ سے پہلے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ نہیں رہ سکیں گے۔ حضرت موسیٰ نے پھر معافی مانگی اور کہا کہ اب اگر اس کے بعد میں آپ سے کوئی سوال کروں تو آپ کو حق ہوگا کہ آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ پھر آپ میری طرف سے معذور ہوں گے۔
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی والوں کے پاس تو ان سے کھانا کھلانے کی درخواست کی تو انھوں نے ان کی میزبانی سے صاف انکار کردیا، پھر ان دونوں نے اس گائوں میں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی، تو حضرت خضر نے وہ دیوار کھڑی کردی، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر آپ چاہتے اس محنت پر مزدوری ہی لے لیتے۔

فَانْطَلَقَا وقفۃ حَتّٰیٓ اِذَآ اَتَیَا اَھْلَ قَرْیَۃِ نِ اسْتَطْعَمَآ اَھْلَھَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْھُمَا فَوَجَدَا فِیْھَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَہٗ ط قَالَ لَوْشِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْہِ اَجْرًا۔ (الکہف : 77) (پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی والوں کے پاس تو ان سے کھانا کھلانے کی درخواست کی تو انھوں نے ان کی میزبانی سے صاف انکار کردیا، پھر ان دونوں نے اس گائوں میں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی، تو حضرت خضر نے وہ دیوار کھڑی کردی، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر آپ چاہتے اس محنت پر مزدوری ہی لے لیتے۔ ) بستی والوں کا واقعہ پھر وہ آگے چلے، چلتے چلتے ایک بستی میں پہنچے، بھوک لگی ہوئی تھی، بستی والوں سے کچھ کھلانے کے لیے کہا۔ اچھے لوگ تو ہمیشہ مہمانوں کے کہے بغیر کھانا پیش کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں لیکن وہ ایسے خسیس لوگ تھے کہ انھوں نے ان دنوں بزرگوں کے کھانا مانگنے پر بھی کھانا دینے سے انکار کردیا۔ بجائے اس کے کہ یہ دونوں بزرگ اس بستی والوں پر برہمی کا اظہار کرتے بستی میں انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا کہ جو گرا چاہتی ہے تو حضرت خضر نے محنت کے ساتھ بغیر اجرت لیے اس دیوار کو سیدھا کردیا اور اس بات کی قطعاً پرواہ نہ کی کہ بستی والوں نے ہم سے کیا سلوک کیا تھا اور میں ان کے ساتھ کیا سلوک کررہا ہوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت میں چونکہ جلال تھا ان سے نہ رہا گیا، انھوں نے کہا کہ آپ ( علیہ السلام) بھی خوب آدمی ہیں کہ انھوں نے تو ہمیں کھانا تک دینا گوارا نہ کیا اور آپ ( علیہ السلام) نے ان کی دیوار بغیر کسی مزدوری لیے مرمت کردی۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ ( علیہ السلام) ان سے اس محنت کی مزدوری طے کرلیتے تاکہ ہم خرید کر کھانا تو کھا سکتے۔
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

حضرت خضر نے کہا بس اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت آگیا ہے، اب میں آپ ( علیہ السلام) کو ان باتوں کی حقیقت بتائوں گا جن پر آپ ( علیہ السلام) صبر نہ کرسکے۔

قَالَ ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَبَیْنِکَ ج سَاُنَبِّئُکَ بِتَاْوِیْلِ مَالَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْہِ صَبْرًا (الکہف : 78) (حضرت خضر نے کہا بس اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت آگیا ہے، اب میں آپ ( علیہ السلام) کو ان باتوں کی حقیقت بتائوں گا جن پر آپ ( علیہ السلام) صبر نہ کرسکے۔ ) حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سنی تو کہا کہ جناب حجت تمام ہوچکی۔ آپ ( علیہ السلام) نے مجھے حق دیا تھا کہ اگر آپ ( علیہ السلام) میری کسی بات پر اب کوئی سوال کریں تو میں اپنی مصاحبت سے الگ کردوں۔ چناچہ اب میں آپ ( علیہ السلام) سے کہتا ہوں کہ اب ہماری جدائی کا وقت آگیا ہے اور اب میں آپ ( علیہ السلام) کو ان اسرارِتکوینیہ سے آگاہ کرتا ہوں جن پر آپ ( علیہ السلام) سکوت اختیار نہ کرسکے، پھر آپ ( علیہ السلام) نے یکے بعد دیگرے تمام واقعات کی حقیقت آپ ( علیہ السلام) کے سامنے کھول دی۔
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

رہی کشتی تو وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں (ملاحی کا) کام کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی ضبط کررہا تھا۔

اَمَّا السَّفِیْنَۃُ فَکَانَتْ لِمَسٰکِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْر ِفَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَھَا وَکَانَ وَرَآئَ ھُمْ مَّلِکٌ یَّاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا۔ (الکہف : 79) (رہی کشتی تو وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں (ملاحی کا) کام کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی ضبط کررہا تھا۔ ) کشتی کے توڑنے کی حکمت یعنی میں نے اس کشتی کو اس لیے توڑا تاکہ وہ ہر دیکھنے والے کی نظر میں ایک ناکارہ کشتی معلوم ہو اور یہ میں نے اس لیے کیا کہ آگے جا کے انھیں ایک ایسے ظالم حکمران سے واسطہ پڑنے والا تھا جو ہر کارآمد کشتی کو زبردستی چھین رہا تھا۔ میں نے اس لیے اسے عیب دار بنایا کہ جب وہ اسے دیکھے گا تو ناکارہ سمجھ کر چھوڑ دے گا، تو بظاہر میرا یہ فعل ظلم اور حق تلفی تھی لیکن حقیقت میں ایک بڑے ظلم سے بچانے کی کوشش تھی۔
Ayahs 18:80–81

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ صاحب ایمان تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بڑا ہو کر سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدّی نہ کرے۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

پس ہم نے چاہا کہ ان کا رب ان کو اس کی جگہ بہتر بدلہ (اولاد) عطا فرمائے پاکیزہ نفسی میں اور وہ بڑھ کر ہو مروت و دردمندی میں۔

وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَآ اَنْ یُّرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَّکُـفْرًا۔ فَاَرَدْنَـآ اَنْ یُّبْدِلَہُمَا رَبُّھُمَا خَیْرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا۔ (الکہف : 80، 81) (اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ صاحب ایمان تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بڑا ہو کر سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدّی نہ کرے۔ پس ہم نے چاہا کہ ان کا رب ان کو اس کی جگہ بہتر بدلہ (اولاد) عطا فرمائے پاکیزہ نفسی میں اور وہ بڑھ کر ہو مروت و دردمندی میں۔ ) زَکٰوۃ …کا معنی ہے طبیعت اور اخلاق کی پاکیزگی یعنی پاکیزہ نفسی۔ رُحْم … کا معنی ہے رقت قلب، ہمدردی اور محبت و شفقت۔ لڑکے کے قتل کی حکمت حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک لڑکا قتل کردیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس پر برہم ہوگئے تھے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لڑکے کے قتل کی حکمت یہ تھی کہ اس کے ماں باپ مومن تھے، یعنی ایسے صاحب ایمان جن کی زندگی ایمان کا پیکر تھی اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر سرکشی اور ناشکری سے اپنے ماں باپ کو مبتلائے اذیت کرے گا اور ایک فتنہ بن جائے گا اور اس کی محبت ماں باپ کے لیے ایک آزمائش بن جائے گی۔ ہم نے ارادہ کیا کہ اسے واپس لے لیں یعنی اس کی زندگی ہماری دین ہے، اسے واپس لے کر ہم اس کے بدلے میں ایک ایسی بہتر اولاد دیں جو اعمال و اخلاق میں بھی پاکیزہ ہو اور ماں باپ کے حقوق بھی احسن طریقہ سے ادا کرے۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر سرکش نکلے گا تو پھر اس کو بڑا نہ ہونے دینا یہ تو ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کے علم کو ناتمام کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن یہ محض غلط فہمی ہے اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر یہ بڑا ہوگا تو سرکش ہوگا لیکن ماں باپ کی فرمانبرداری اور سعادت مندی نے اللہ تعالیٰ سے یہ انعام حاصل کرلیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیٹے کو ان کے لیے آزمائش بننے سے پہلے اٹھا لیا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ والدین کو چونکہ اس بچے سے محبت تھی اس لیے اس کا قتل کیا جانا یقینا ان کے لیے ایک بڑے صدمے کی بات تھی تو کیا ان کے ایمان کا یہ صلہ تھا کہ انھیں ایسا سخت صدمہ پہنچایا جاتا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض دفعہ اہل ایمان کو کسی تکلیف میں اس لیے مبتلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس پر صبر کرکے اپنے لیے جنت میں کوئی بڑا مقام پیدا کرلیں۔ ان کے لیے اس سے بڑا مقام اور کیا ہوگا کہ انھیں اس کے بدلے میں بہتر اولاد بھی دی گئی اور قیامت تک کے لیے ان کے ذکر کو دوام بھی بخش دیا گیا جس کا نتیجہ یقینا یہ ہوگا کہ وہ قیامت کے دن کسی بڑے مقام سے نوازے جائیں گے۔ ابن ابی شیبہ، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے بروایت عطیہ نقل کیا ہے کہ مقتول لڑکے کے والدین کو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں ایک لڑکی عطا فرمائی جس کے بطن سے ایک نبی پیدا ہوا۔ اور حضرت ابن عباس ( رض) کی ایک روایت یہ ہے کہ اس کے بطن سے دو نبی پیدا ہوئے اور بعض روایات میں ہے کہ اس کے بطن سے پیدا ہونے والے نبی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی امت کو ہدایت فرمائی۔