Ayahs 18:13–14نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاَھُمْ بِالْحَقِّ ط اِنَّھُمْ فِـتْیَۃٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّھِمْ زِدْنٰـھُمْ ھُدًی۔ وَّرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اِذْقَامُوْا فَـقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰـھًا لَّقَدْ قُلْنَـآ اِذًا شَطَطًا۔ (الکہف : 13، 14)
(ہم آپ ﷺ کو ان کی سرگزشت ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں، وہ (اصحابِ کہف) چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، ہم نے ان کے ایمان میں برکت عطا فرمائی۔ اور ان کے دلوں کی گرہ مضبوطی سے باندھ دی، جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی اور کو ہرگز معبود کے طور پر نہیں پکاریں گے، اگر ہم نے ایسا کیا تو تب ہم کہیں گے حق سے نہایت ہٹی ہوئی بات۔ )
اجمال کے بعد تفصیل
اس سے پہلے چار آیتوں میں اصحابِ کہف کے واقعہ کو نہایت اختصار سے بیان فرمایا۔ اب اسے تفصیل سے بیان فرمایا جارہا ہے، لیکن یہ تفصیل ایسی نہیں جس میں واقعات کی جزئیات پر زور دیا گیا ہو اور وہ باتیں بیان کی گئی ہوں جو زیب داستان کے لیے ضروری ہیں۔ بالحق سے دو باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو یہ بات کہ اس واقعہ کے بارے میں اصحابِ کہف کے نام لیوائوں میں جو غلط باتیں مشہور ہوگئی ہیں انھیں نظرانداز کیا جائے یا کسی حد تک ان کی اصلاح کردی جائے۔ اور دوسری یہ بات کہ داستان سرائی کی بجائے وہ باتیں بیان کی جائیں جن کا تعلق اصل مقصود اور حکمت و موعظت سے ہے۔ اور جن باتوں سے قیامت تک صاحب ایمان لوگ اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
فِـتْیَۃٌ کا مفہوم
اس آیت میں سب سے پہلا لفظ جو ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرتا ہے، وہ فِـتْیَۃٌ کا لفظ ہے۔ یہ فتیً کی جمع ہے اور جمع قلت کا وزن ہے جس کا اطلاق دس سے کم عدد پر ہوتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان نوجوانوں کی تعداد آٹھ نو سے زیادہ نہیں تھی اور یہ سب نوخیز نوجوان تھے جن کی مسیں ابھی بھیگ رہی تھیں، جن کی اٹھتی جو انیاں ابھی شاید طوفانوں سے آشنا نہیں تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ پر ایمان نے انھیں ایسا جری بنادیا کہ وہ یہ دیکھتے ہوئے کہ وقت کی حکومت انھیں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ بت پرستی کے مقابلے میں توحید کو اپنے لیے موت سمجھتے ہیں، لیکن جوان بچے چونکہ مفادات کے بوجھ تلے دبے ہوئے نہیں ہوتے اور مصلحت پرستی ابھی ان کا شعار نہیں بنا ہوتا۔ چناچہ جب وہ کسی حقیقت کو حقیقت سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں تو اس کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے جب اس بات کو تسلیم کرلیا کہ شرک سراسر ایک واہمہ ہے اور توحید اس کائنات کی اصل حقیقت ہے تو پھر وہ ہر طرح کی مصلحتوں کا جال توڑ کر اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، لیکن وقت کے اقتدار نے جب دیکھا کہ ان لڑکوں نے ایک مختلف راستہ اختیار کرلیا ہے تو انھوں نے ہر ممکن جبر سے ان کو دبانا چاہا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے انھیں اپنے دربار میں طلب کیا اور انھوں نے جب صاف صاف اپنے مؤقف کا اظہار کیا، توحید کی حمایت کی اور شرک کے باطل ہونے پر دلائل دیئے تو بادشاہ نہایت برہم ہوا اور اس نے انھیں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں، تم اپنے قدیم مذہب پر واپس آجاؤ ورنہ تمہیں سنگسار کردیا جائے گا۔ ان نوخیز نوجوانوں کے لیے یہ دھمکی کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یقینا اس دھمکی سے ان کا ریشہ ریشہ کانپ اٹھا ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب انھوں نے ہماری طرف آنے کا راستہ اختیار کرلیا تو ہم نے اس ہدایت میں پھر مزید اضافہ کردیا اور ان کے دلوں کی گرہ کو باندھ دیا۔ یہ ایک محاورہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انھیں عزیمت کے راستے پر چلنے کا حوصلہ دیا اور ہر طرح کے خطرات سے بےنیاز ہو کر آگے بڑھنے کی ہمت دی۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس کے راستے پر اسباب سے بےنیاز ہو کر چل پڑتا ہے تو وہ اس کے لیے اسباب بھی خود فراہم کرتا ہے۔ وہ ترک اسباب کی تعلیم تو نہیں دیتا، لیکن جب ایمان کے راستے پر چلنے کے لیے اسباب کو چھوڑنا ضروری ہوجائے تو پھر وہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہٗ مَخْرَجَاً اور جو شخص اللہ کا ہوجاتا ہے، اللہ اس کے لیے بند گلی میں سے راستہ نکال دیتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ زلیخا نے تمام دروازے مقفل کردیئے اور وہ گناہ کی دعوت دے رہی ہے تو آپ ( رض) نے اپنے ایمان اور حیا کو بچانے کے لیے صرف ایک ہی راستہ دیکھا کہ مجھے ہر دروازے تک دوڑ کر جانا چاہیے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ دروازوں کے قفل کھول دے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جس دروازے پر پہنچتے، قفل ٹوٹ کے گر جاتا۔ یہ وہ ہدایت میں اضافہ اور برکت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بھروسہ کرنے والے بندوں کو عطا فرمایا کرتا ہے، لیکن اس راستے پر چلنے کے لیے چونکہ مضبوط حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے اور نوجوان اپنی ناتجربہ کاری کے باعث اس سے آگاہ نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا۔ جب انھوں نے بادشاہ یا لوگوں کے سامنے صاف صاف یہ کہا کہ ہمارا رب صرف وہ ہے جو ارض و سما کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا اگر کسی اور کو معبود بنالیں تو اس سے زیادہ کوئی غلط اور حق سے ہٹی ہوئی بات نہیں ہوسکتی، کیونکہ نہ ہدایت یافتہ لوگ اسے تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی انسانی عقل، (اگر وہ بگڑ نہ چکی ہو) اس کائنات کے ایک رب کے سوا کسی دوسرے رب کو تسلیم کرنے کے لیے تیارہوسکتی ہے۔
Ayah 18:15ھٰٓؤْ لَآئِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً ط لَوْلاَ یَاْ تُوْنَ عَلَیْھِمْ بِسُلْطٰنٍ م بَیِّنٍ ط فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا۔ (الکہف : 15)
(یہ ہے ہماری قوم جنھوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ یہ ان پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے، تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ )
نوجوانوں کی یکسوئی
گزشتہ آیت اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف اپنے مؤقف اور اپنے رویئے میں بالکل یکسو تھے۔ وہ ایک لمحہ کے لیے بھی سوچنے کو تیار نہ تھے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کرلیں۔ وہ دل کے پورے یقین کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے معبود کو ماننا اور اس کی بندگی بجا لانا بالخصوص بتوں کی پوجا کرنا ایک ایسی بےہودہ حرکت ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ رہے یہ لوگ جو ہماری قوم میں سربرآوردہ ہیں یا وہ لوگ جو اقتدار پر فائز ہیں اور وہ زبردستی اور طاقت سے ہمیں بت پرستی پر مجبور کرنا چاہتے ہیں یہ تو اس قابل بھی نہیں کہ ان سے بحث کی جائے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس علم ہوتا تو یہ آج تک اپنے نقطہ نگاہ پر کوئی واضح دلیل پیش کرتے۔ اس طرح کی باتیں کہنا کہ ہم نے اپنے آبائواجداد کو اسی طریقے پر پایا ہے ان کے پاس یقینا کوئی الٰہی سند موجود ہوگی۔ یہ محض جھوٹی عقیدت کے سہارے ہیں اور بلادلیل اور بغیر کسی سند کے ایک خیالی بات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے بڑی زیادتی کا ارتکاب کررہے ہیں کیونکہ کسی شخص کی طرف بھی کسی جھوٹی بات کو منسوب کرنا اور پھر اس سے دلیل پکڑنا بجائے خود اخلاق سے گری ہوئی بات ہے۔ لیکن اگر وہ ذات جس کی طرف کسی غلط بات کو منسوب کیا جارہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہو تو پھر تو بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 18:16وَاِذِ اعْـتَزَلْتُمُوْھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ اِلاَّاللّٰہَ فَاْوٗٓا اِلَی الْـکَھْفِ یَنْشُرْلَـکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ وَیُھَیِّیْٔ لَـکُمْ مِّنْ اَمْرِکُمْ مِّرْفَـقًا۔ (الکہف : 16)
(اور اب جبکہ تم ان کو اور ان کے معبودوں کو جنھیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں چھوڑ کر الگ ہوگئے ہو تو غار میں پناہ لے لو تو پھیلائے گا تمہارے لیے تمہارا رب اپنی رحمت کا دامن اور مہیا کرے گا تمہارے لیے تمہاری ضرورت کا سامان۔ )
مِرْفَقْ… ضرورت اور منفعت کی چیز کو کہتے ہیں۔
ایمان کو بچانے کے لیے ہر ممکن تدبیر
گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف نے جب بت پرستی اور شرک کو چھوڑ کر توحید اور بندگیِ رب کا راستہ اختیار کیا تو اسے انھوں نے صرف اپنی حد تک چھپا کے نہیں رکھا بلکہ لوگوں میں اسے پھیلانے کی کوشش بھی کی۔ دلائل سے اپنی بات کو مؤکد کیا اور مشرکین کے مؤقف کی کمزوری کو بھی واضح کیا، لیکن آہستہ آہستہ جب یہ بات بادشاہ تک پہنچی تو بادشاہ نے انھیں بلا کر وارننگ دی اور تین دن کی مہلت دے کر انھیں سوچنے کا موقع دیا، لیکن اصحابِ کہف چونکہ اپنے مؤقف کے سلسلے میں بالکل یکسو تھے اور انھیں اپنے برسرحق ہونے کا مکمل یقین تھا، تو انھوں نے حالات کے بگڑے ہوئے تیوروں کو دیکھتے ہوئے آپس میں مشورہ کیا کہ اب جب کہ تم توحید اور خدا پرستی کی وجہ سے ان مشرکین سے اپنا راستہ الگ کرچکے ہو اور جن لوگوں کے ہاتھوں میں زمام اقتدار ہے وہ تمہارے اس رویئے کو کسی قیمت پر بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شہر کے گلی کو چے اور اس کے رہنے والے سب تمہارے دشمن ہیں۔ یہاں تمہارے لیے کوئی جائے امان نہیں۔ تو اب ایک ہی صورت ہے کہ زندگی بچانے اور بہتر حالات کا انتظار کرنے کے لیے کسی غار میں پناہ لے لو۔ کہف پر چونکہ الف لام آیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غار وہ پہلے سے منتخب کرچکے تھے کہ اگر ہمیں اہل شہر نے برداشت کرنے سے انکار کردیا تو ہم اس غار میں پناہ گزین ہوجائیں گے اور مصارف کے لیے کچھ سکے بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے اور ساتھ ہی انھیں اس بات کا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر ایمان بچانے کے لیے نکلنے والا ہم پہلا گروہ نہیں ہیں۔ ہر دور میں جب حالات اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ ایمان اور جان میں سے صرف ایک ہی چیز بچ سکتی ہو تو ایسی صورت میں ہجرت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہوتا اور اہل حق کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب بھی صاحب ایمان لوگوں نے اپنا ایمان بچانے کے لیے ہجرت کی ہے تو وہ کیسے بھی بےسروسامان ہوں، اللہ تعالیٰ کبھی انھیں بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ ہجرت کے بعد انھیں وہ آسانیاں دیتا اور وہ سامان مہیا کرتا ہے جو ہجرت سے پہلے انھیں میسر نہیں رہا ہوتا۔ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی ہجرت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس سنت سے آگاہی کی وجہ سے انھوں نے نہایت یقین کے ساتھ آپس میں یہ بات کہی کہ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم اہل باطل کے مقابلے میں کوئی کمزوری دکھانے کی بجائے پہاڑوں کا راستہ اختیار کریں۔ اس کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ ہم پر اپنی رحمت کی چادر تان دے اور ہمارے لیے ضرورت اور منفعت کا سامان مہیا کرے۔ قرآن کریم اس کی تائید کرتا ہوا اس بات کو بطور اصول کے بیان کرتا ہے جس کا حوالہ ہم اس سے پہلے بھی دے چکے ہیں۔ وَمَنْ یَّـتِقّ اللّٰہَ یَجْعَل لَہٗ مَخْرَجَاً وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَیَحْتَسِبْ ط ” اور جو شخص اللہ سے ڈرتا اور اسی کا ہوجاتا ہے، اللہ اس کے لیے (بند جگہ سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اس کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ “
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزاروں شجر سایہ دار راہ میں ہیں
Ayah 18:17وَتَرَی الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ کَھْفِھِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَھُمْ فِیْ فَجْوَۃٍ مِّنْہُ ط ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ط مَنْ یَّھْدِاللّٰہُ فَھُوَالْمُھْتَدِ ج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَـہٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۔ (الکہف : 17)
(اور آپ ﷺ سورج کو دیکھتے ہیں کہ جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب کو بچ کے نکل جاتا ہے، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس کی کشادہ جگہ میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردے تو آپ ﷺ اس کے لیے کوئی دستگیری کرنے والا اور رہنمائی کرنے والا نہیں پاسکتے۔ )
تَّزٰوَرُ اصل میں تَتَزٰوَرُ ہے، اس کا معنی ہے ہٹ جانا، کترا جانا، اوپر سے گزر جانا۔
تَّقْرِضُھُمْ قرض کے معنی کاٹنے اور کترانے کے ہیں۔ اسی سے قرض المکان کا محاورہ پیدا ہوا، جس کے معنی ہیں اس جگہ سے ہٹ گیا، کترا گیا، گریز کرگیا۔
فَجْوَۃٍ کشادہ جگہ کو کہتے ہیں۔ اسی طرح گھر کے صحن پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
غار میں اللہ تعالیٰ کے انعامات
گزشتہ آیت میں اصحابِ کہف نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر غیرمعمولی بھروسہ کرتے ہوئے جن امیدوں کا اظہار کیا تھا، اس آیت کریمہ میں ان میں سے کچھ بیان کی گئی ہیں۔ اصحابِ کہف چونکہ شہر سے نکل کر غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے تو سب سے پہلے اس پناہ گاہ میں اللہ تعالیٰ نے جو انھیں سہولتیں مہیا فرمائیں اور جس طرح ان کی حفاظت فرمائی اور جس طرح انھیں اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنادیا، ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ اگر آپ ﷺ اس غار کو دیکھتے تو سب سے پہلی جو چیز آپ ﷺ کو حیران کردیتی وہ یہ تھی کہ دھوپ ان کے جسموں پر نہیں پڑتی۔ روشنی بقدر ضرورت ان کے غار میں داخل ہوتی لیکن دھوپ سے انھیں محفوظ رکھا جاتا تھا تاکہ ان کے جسم دھوپ کی تمازت سے بچے رہیں اور طویل عرصہ نیند کی حالت میں رہنے کی وجہ سے دھوپ ان کے جسموں پر اثرانداز نہ ہوسکے۔ چناچہ سورج جب طلوع ہوتا تو ان کے دائیں طرف سے بچتا ہوا گزر جاتا اور جب غروب ہوتا تو ان کے بائیں طرف سے کتراتا ہوا ڈوب جاتا اور معلوم ہوتا ہے کہ دائیں اور بائیں غار دو کمروں کی مانند تھی۔ اور درمیان میں اس کے کشادہ جگہ تھی۔ اسی کو قرآن کریم نے فجوہ قرار دیا ہے۔ وہ اسی کشادہ جگہ میں آرام کررہے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ غار کا دہانہ شمال یا جنوب میں تھا جس کی وجہ سے آفتاب کی تمازت اور دھوپ اندر داخل نہیں ہوتی تھی۔ ہمارے بعض مفسرین نے تو باقاعدہ اس غار کا حدوداربعہ اور نقشہ بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ سائنسی انداز میں واضح کیا جائے کہ اس میں سورج کی دھوپ کیوں نہیں آتی تھی۔ لیکن اس کی چنداں ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ دھوپ نہ آنے کے دو ہی سبب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ غار کا محل وقوع ایسا ہو اور اس کا دہانہ شمال کی طرف ہو تو سورج طلوع اور غروب کے وقت یقینا اس سے ہٹتا ہوا گزرے گا۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس کا محل وقوع کیسا بھی ہو، سورج کو اس بات کا حکم دے دیا گیا ہو کہ تمہیں ہمارے ان صالح بندوں کو روشنی اور حرارت تو مہیا کرنی ہے لیکن اپنی تمازت سے انھیں محفوظ رکھنا ہے۔ یہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی وہ قدرت ہے جس نے غار کی اس کیفیت کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنادیا۔
مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دیتا ہے وہ ایسی ہی نشانیوں سے ہدایت حاصل کرتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے اس کے لیے اس طرح کی نشانیاں بھی بیکار ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ اصل بات کسی بھی نشانی سے نصیحت قبول کرنے کی ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قبولیت کا مادہ انسان کی طبیعت میں موجود نہ ہو۔ ایک کافر اور مشرک چونکہ اپنے کفر اور شرک کے باعث قبولیت کے مادہ سے محروم ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے دائیں بائیں، آگے پیچھے ہزاروں نشانیاں پھیلی ہوئی دیکھتے ہیں لیکن انھیں ہدایت قبول کرنے کی توفیق نہیں ملتی، کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس سے محروم کرچکے ہوتے ہیں۔
Ayah 18:18وَتَحْسَبُھُمْ اَیْقَاظًا وَّھُمْ رُقُوْدٌ صلے ق وَّنُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِصلے ق وَکَلْبُھُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیْدِ ط لَوِاطَّلَعْتَ عَلَیْھِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْھُمْ فِرَارًا وَّلَمُلِئْتَ مِنْہُمْ رُعْبًا۔ (الکہف : 18)
(اور آپ گمان کرتے انھیں جاگتا ہوا حالانکہ وہ سو رہے تھے اور ہم انھیں کروٹیں دلاتے داہنے بائیں اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے ( سورة ا) تھا۔ اگر آپ ان کو ایک نظر دیکھ لیتے تو آپ وہاں سے الٹے پائوں بھاگ کھڑے ہوتے اور آپ کے اندر ان کی دہشت سما جاتی۔ )
حفاظت کے انتظامات
اصحابِ کہف کا غار میں طویل مدت تک سونا اور پھر خرق عادت کے طور پر اٹھ کھڑا ہونا اور ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کے جسموں کا محفوظ رہنا یقینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نتیجہ تھا، لیکن بظاہر کچھ ایسے اسباب بھی مہیا تھے جن کی وجہ سے بھی ان کے جسم ہر طرح کی گزند سے محفوظ رہے اور یہ اسباب اور انتظامات بھی اسبابِ عادیہ کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور اور اس کی بےپایاں رحمت کا نتیجہ تھا۔ چناچہ ان اسباب کو یہاں پروردگار نے اس لیے ذکر فرما دیا ہے کہ وہ نظر جو پیکر محسوس کی خوگر ہے اس کی تشفی کا سامان بھی ہوسکے۔
سب سے پہلی بات یہ ذکر فرمائی گئی ہے کہ ہم نے انھیں غار میں اس طرح رکھا تھا کہ اے پیغمبر ﷺ آپ یا کوئی بھی دیکھنے والا اگر انھیں دیکھ پاتا تو وہ یہ سمجھتا کہ جس حال میں یہ لوگ لیٹے ہوئے ہیں اور جس طرح ہر طرف زندگی کے آثار دکھائی دیتے ہیں اور ان کے لیٹنے کا انداز زندہ اور بیدار آدمیوں کے لیٹنے کی طرح ہے، تو یقینا وہ خوابیدہ حالت میں نہیں بلکہ وہ بیدار ہیں، لیکن حقیقت میں وہ بیدار نہیں تھے بلکہ سو رہے تھے، ان کی ظاہری حالت اس لیے بیداری پر دلالت کررہی تھی تاکہ کوئی شخص انھیں مردہ یا سویا ہوا سمجھ کر اندر داخل ہونے کی جرأت نہ کرے۔
دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ وہ گہری نیند سو رہے تھے لیکن پروردگار کی جانب سے باقاعدہ ان کو کروٹیں بدلوائی جاتی تھیں تاکہ زیادہ دیر تک ایک ہی کروٹ پر لیٹے رہنے سے ان کے جسم کو نقصان نہ پہنچے۔ اعصاب میں تنائو پیدا نہ ہو اور مسلسل زمین پر لیٹے رہنے کی وجہ سے اس بات کا اندیشہ ہوسکتا تھا کہ زمین ان کے جسموں کو نقصان پہنچائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مٹی میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ ہر چیز کو کھا جاتی ہے۔ اگر یہ ایک ہی کروٹ پر لیٹے رہتے تو یقینا مٹی ان کے جسم کو کھانے کی کوشش کرتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا طبعی اور تکوینی قانون برابر اپنا عمل جاری رکھتا ہے۔ اس میں صرف انبیائے کرام اور شہداء کا استثنیٰ ہے۔
تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ غار کی دہلیز پر ان کا کتا ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے، یعنی جیسے کتے کے بیٹھنے کا انداز ہے کہ وہ اگلی دونوں ٹانگیں جنھیں کتے کے ہاتھ کہا جاتا ہے، پھیلا کے بیٹھتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتا اس طرح بیٹھا تھا کہ سر بجائے اپنی ٹانگوں پر رکھنے کے اٹھائے ہوئے تھا۔ کتا نیند کی حالت میں سر بھی اپنی ٹانگوں پر یا زمین پر رکھ دیتا ہے۔ لیکن وہ بالکل اس طرح سویا ہوا تھا جیسے وہ بیدار حالت میں بیٹھا ہوا ہو۔ اس کے اس طرح بیٹھنے سے کسی جانور اور درندے کو بھی اتنے طویل عرصہ تک غار کے اندر جانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ بعض اہل علم نے اس بحث کو چھیڑا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس گھر میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا جس گھر میں کتا ہو۔ تو یہ نوجوان جو شریعت کی عملی تصویر تھے انھوں نے اپنے ساتھ کتا کیوں لیا۔ لیکن یہ بحث عجیب سی معلوم ہوتی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کتے کے بارے میں یہ حکم ہماری شریعت میں ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ پہلی شریعتوں میں اس کی اجازت رہی ہو۔ اور دوسری یہ بات کہ اسلامی شریعت میں بھی اپنی حفاظت اور کھیتی باڑی کی حفاظت کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کی بیان کردہ وعید سے اسے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نوجوان خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یقینا حفاظتی نقطہ نگاہ سے ان کے خاندانوں نے گھروں میں کتے رکھے ہوں گے اور کتے کی یہ خصلت ہے کہ وہ اپنے مالک کا وفادار ہوتا ہے۔ یہ نوجوان جب اپنے گھروں سے نکلے ہیں تو یہ کتا وفاداری دکھاتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ انھوں نے ہرچند کوشش کی ہوگی کہ اسے واپس آبادی میں بھیج دیں لیکن کتے نے ان سے الگ ہونا پسند نہیں کیا۔ وہ غار تک ان کے پیچھے پیچھے چلا آیا اور غار کے دہانے پر پائوں پسار کر بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ نے جب اپنی رحمت سے ان کی حفاظت کا انتظام کیا تو کتا اس رحمت سے محروم نہیں رکھا گیا۔
ان نوجوانوں کا اس طرح لیٹنا کہ جیسے وہ جاگ رہے ہوں اور پھر وقفے وقفے سے پہلو بدلنا اور کتے کا غار کے دہانے پر سر اٹھائے پہرہ دینا اس سے ایک ایسی فضا پیدا ہوئی اور ایک ایسے ماحول نے جنم لیا کہ اگر وہاں سے کسی کا گزر ہوا بھی تو اس نے آگے بڑھ کر دیکھنے کی جرأت نہیں کی۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی نے ان کو ڈاکو سمجھا اور خوف کی وجہ سے اندر جانے کی جرأت نہیں کی اور کسی نے انھیں تارک الدنیا راہب جانا تو بےادبی کے خیال سے قدم آگے نہیں بڑھائے۔ اور کسی نے گمان کیا کہ یہ کسی اور جہان کی مخلوق معلوم ہوتے ہیں۔ احساسات کچھ بھی ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کردہ تھے جس نے ان کی حفاظت کو ممکن بنایا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ قلعوں میں محفوظ لوگ موت سے محفوظ نہیں رہتے، مارے جاتے ہیں۔ حفاظتی دستے بعض دفعہ ناکام ہوجاتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی کو بچانے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو ایک کتے کو دہلیز پر بٹھا کر اور ایک ہیبت ناک ماحول طاری کرکے حفاظت کا ایسا سامان کردیتا ہے جو بڑے سے بڑے قلعے سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔ غارِثور میں آنحضرت ﷺ کی حفاظت مکڑی کے جالے اور فاختہ کے انڈوں سے کی گئی۔ قریش کا تعاقب کرنے والا دستہ سر پر پہنچ کر مکڑی کے جالے کو عبور نہ کرسکا۔
Ayahs 18:19–20وَکَذٰلِکَ بَعَـثـْنٰـھُمْ لِیَتَسَآئَ لُوْا بَیْنَھُمْ ط قَالَ قَـآئِلٌ مِّنْھُمْ کَمْ لَبِثْـتُمْ ط قَالُوْا لَبِثْـنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ ط قَالُوْا رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْـتُمْ ط فَابْعَثُوْٓا اَحَدَکُمْ بِوَرِقِکُمْ ھٰذِہٖ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّھَآ اَزْکٰی طَعَامًا فَلْیَاْ تِکُمْ بِرِزْقٍ مِّنْہُ وَلْیَتَلَطَّفْ وَلاَ یُشْعِرَنَّ بِکُمْ اَحَدًا۔ اِنَّھُمْ اِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوْکُمْ اَوْیُعْیِدُوْکُمْ فِیْ مِلَّتِھِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا۔ (الکہف : 19، 20)
(اور اسی طرح ہم نے ان کو جگایا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا تم یہاں کتنی دیر ٹھہرے ہو، وہ بولے کہ ہم ٹھہرے ہیں ایک دن یا ایک دن سے بھی کم، بولے تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے، جتنی دیر تم ٹھہرے ہو، پس بھیجو اپنے میں سے ایک کو شہر کی طرف یہ رقم دے کر، تو وہ اچھی طرح دیکھ لے کون سا کھانا ستھرا ہے، پھر وہ اس میں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لائے اور چاہیے کہ وہ دبے پائوں جائے اور کسی کو تمہارے بارے میں جتا نہ دے۔ اگر وہ تمہاری خبر پا گئے تو تمہیں پتھروں سے مار ڈالیں گے یا تمہیں اپنے دین میں لوٹا دیں گے، پھر تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے۔ )
تشبیہ کی وضاحت
کَذٰ لِکَ یہ لفظ تشبیہ و تمثیل کے لیے آتا ہے، یہاں اس تشبیہ سے مراد یہ ہے کہ جس طرح ہم نے اصحابِ کہف کو صدیوں تک سُلائے رکھا اور پھر جس طرح ہم نے ان کے غار کو موسموں کے شدائد سے محفوظ رکھ کر ان کے جسموں کی حفاظت کی اور جس طرح آفتاب ان کے دائیں اور بائیں اپنی کرنیں سمیٹتے ہوئے گزرتا رہا اور جس طرح ہم نے طویل نیند میں ان کے جسموں کو بےحس ہونے سے بچانے کے لیے کروٹیں دیں اور مٹی کے اثرات سے بھی محفوظ رکھا اور اس طرح سے ہم نے قدم قدم پر اپنی کارسازی کی شانیں دکھائیں، اسی طرح ہم نے انھیں ایک طویل نیند کے بعد جگایا اور اٹھایا۔ معمول سے زیادہ نیند جسم کی بیماری یا موت کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ کوئی بھی جسم چاہے وہ حالت بیداری میں ہو یا حالت خواب میں اسے بہرحال غذا ملنی چاہیے۔ بغیر غذا کے تین سو سال گزار دینا، یہ ایک ایسی ناممکن بات ہے جو اس دنیا کے طبعی قوانین کے تحت ممکن نہیں، لیکن اس ناممکن کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے کمال قدرت سے بالکل اسی طرح ممکن بنایا جس طرح ان کی طویل نیند کو ممکن بنایا تھا۔
لِیَتَسَآئَ لُوْا کے لام کی وضاحت
لِیَتَسَآئَ لُوْا بَیْنَھُمْ ” تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں۔ “ اس کے لام کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہوا، بعض کا خیال ہے کہ لام علت کے لیے نہیں، یعنی انھیں اس لیے نہیں اٹھایا گیا کہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں بلکہ اٹھائے جانے کی علتیں اور مصلحتیں اور ہیں۔ اس لیے لام یہاں لام عاقبت یا لام صیرورت ہے، لامِ علت نہیں۔ دیگر اہل علم کا خیال ہے کہ یہ لام علت کے لیے ہے کہ انھیں اس لیے اٹھایا گیا کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ ہم یہاں کتنا عرصہ سوئے رہے اور جب وہ کسی نتیجہ تک نہ پہنچ سکیں تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ مرنے کے بعد برزخ کی زندگی کا بھی یہی حال ہوگا۔ قیامت کو جب لوگ اٹھیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ اس حالت میں وہ ایک دن یا اس سے بھی کم رہے۔
نیند سے بیدار ہونے کے بعد قرآن کریم نے ان کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم یہاں کتنا عرصہ ٹھہرے یعنی کب تک سوتے رہے ہیں۔ تو وہ بولے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک دن سوئے ہیں یا دن کا کچھ حصہ چونکہ ان کے پاس وقت کے ٹھیک تعین کا کوئی ذریعہ نہ تھا، تو آپس میں کہنے لگے کہ تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ تم کتنی دیر تک سوئے ہو۔ نیند کی حالت میں یہ بیخبر ی اور وارفتگی ان لوگوں کو لاحق ہوئی ہے جو تین سو سال سے بھی زیادہ عرصہ تک سوئے رہے۔ اس سے یہ بات سمجھنا نہایت آسان ہوجاتا ہے کہ برزخی زندگی کیا ہوگی اور وہاں کس طرح لوگ قیامت تک سوئے رہیں گے حالانکہ یہی برزخی زندگی کا تصور قیامت کے منکرین کے لیے ہمیشہ ایک رکاوٹ بنا رہتا ہے۔
اس قدر طویل نیند سے طبعی طور پر تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ یا انھیں موت واقع ہوجاتی اور یا وہ بھوک اور پیاس کے احساس سے تہی دامن ہوجاتے، لیکن ان کے احساسات بالکل اسی طرح زندہ اور توانا تھے جیسے ایک صحت مند آدمی کے ہوتے ہیں۔ اس بحث میں الجھنے کی بجائے کہ ہم کتنی دیر سوئے رہے، انھوں نے بھوک کو محسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے میں سے کسی کو کھانا لانے کے لیے بھیجنا چاہیے، لیکن ایسے شخص کو بھیجو جسے اس بات کا اندازہ ہو کہ حلال اور طیب کھانا کہاں سے مل سکتا ہے، کیونکہ جب وہ اپنے گھروں سے نکلے تھے تو یہ شہر بت پرستوں کا شہر تھا اور بتوں کے نام پر جانور ذبح ہوتے تھے، لیکن اس بات کا امکان تھا کہ شہر میں کچھ اہل کتاب بھی ہوں تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے نام پر جانور ذبح کرتے ہوں گے، اس لیے انھیں خیال پیدا ہوا کہ ایسا کھانا تلاش کیا جائے جس میں حرام کی آمیزش نہ ہو اور یااَزَکَیٰکا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صحت کے اعتبار سے صاف ستھرا کھانا تلاش کرکے لایا جائے اور دوسری یہ بات کہ ہم میں سے جانے والا دبے پائوں نہایت احتیاط سے دیکھ بھال کرتا ہوا جائے تاکہ اسے پہچان نہ لیا جائے اور اگر کسی کو اس پر شبہ ہوجائے تو وہ سادگی میں ہماری خبر نہ دے دے۔ کیونکہ اگر انھیں پتہ چل گیا کہ ہم کون لوگ ہیں تو وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے، ہمیں دوسروں کے لیے عبرت بنانے کے لیے مجمعِ عام میں ہمیں سنگسار کریں گے اور یا اذیتیں دے کر ہمیں مجبور کردیں گے کہ ہم بھی ان کی طرح بت پرستی اختیار کرلیں۔
Ayah 18:21وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَاعَلَیْھِمْ لِیَعْلَمُوْٓااَنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لاَرَیْبَ فِیْھَاق ج اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَھُمْ اَمْرَھُمْ فَقَالُوْا ابْنُوْا عَلَیْھِمْ بُنْیَانًا ط رَبُّھُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ ط قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓی اَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا۔ (الکہف : 21)
(اسی طرح ہم نے ان پر لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے، اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، وہ وقت بھی یاد کرو جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے ان کے معاملے میں، پھر کہنے لگے ان پر ایک عمارت بنادو، ان کا رب انھیں خوب جانتا ہے، کہا ان لوگوں نے جو ان کے معاملے میں غالب آگئے کہ ہم تو ان کے غار پر ایک مسجد بنائیں گے۔ )
ایک اور کرم فرمائی
یہاں بھیکذٰ لِکَکا لفظ لا کر یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اصحابِ کہف کو طویل نیند سلانا اور پھر انھیں نیند سے بیدار کرنا اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا اظہار تھا، اسی طرح یہ بھی اس کے کمال قدرت کی ایک شان تھی کہ ہرچند جاگنے والوں نے اپنے تئیں ہر طرح کی احتیاط کی اور بازار جانے والے کو ہر طرح کی تاکید کرکے بھیجا کہ دیکھنا کہیں اپنا راز کھلنے نہ دینا، لیکن انھیں کیا خبر تھی کہ ہم نے انھیں اٹھایا ہی اس لیے ہے تاکہ لوگوں کو ان کے بیدار ہونے اور لمبی نیند کے بعد جاگنے کا علم ہو اور اس سے آخرت اور قیامت پر استشہاد کیا جاسکے۔ یہاں پروردگار نے ان واقعات کو بیان نہیں فرمایا جو شہر جانے والے اصحابِ کہف کے ساتھی کو پیش آئے اور جس سے ان کا راز افشا ہوا، لیکن تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف جس شہر سے نکل کے گئے تھے وہ بت پرستوں کا شہر تھا اور بعض روایات کے مطابق اس کا نام افسس یا افسوس تھا اور بعض اہل علم کے نزدیک اس شہر کا نام رقیم تھا۔ اور اس میں جو حکمران تھا جس کے ظلم نے ان نوجوانوں کو نکلنے پر مجبور کیا تھا اس کا نام دقیانوس تھا، لیکن جب اصحابِ کہف اپنی نیند سے بیدار کیے گئے تو اس وقت یہ شہر مسیحی دعوت کو قبول کرچکا تھا اور اس کی آبادی کا بیشتر حصہ دین توحید پر قائم تھا اور تفسیرِمظہری کے مطابق اس وقت جو حکمران اس شہر پر حکومت کر رہا تھا وہ ایک صالح آدمی تھا، اس کا نام بیدوسیس تھا۔ اس کی حکومت میں اگرچہ توحید کو بالادستی حاصل تھی لیکن ابھی تک رومی شرک و بت پرستی اور یونانی فلسفہ کے اثرات کافی طاقتور تھے جن کی وجہ سے بہت سے لوگ آخرت سے انکار یا اس کے ہونے میں شک کا اظہار کرتے تھے، پھر شک و انکار کو سب سے زیادہ جو چیز تقویت پہنچا رہی تھی وہ یہ تھی کہ اس شہر میں یہودیوں کی بڑی آبادی تھی، ان میں سے ایک فرقہ جسے صدوقی کہا جاتا تھا آخرت کا کھلم کھلا منکر تھا۔ یہ فرقہ تورات سے آخرت کے انکار پر دلیل لاتا تھا اور مسیحی علماء کے پاس اس کے مقابلے میں مضبوط دلائل موجود نہ تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر اس وقت کے نیک دل بادشاہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ روایات کے مطابق اس نے ٹاٹ کے کپڑے پہنے اور راکھ کے ڈھیر پر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور الحاح وزاری کی کہ یا اللہ ! آپ کی کوئی ایسی صورت پیدا فرما دیں کہ ان لوگوں کا عقیدہ صحیح ہوجائے اور یہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا اس طرح قبول فرمائی کہ اصحابِ کہف کو بیدا کردیا اور انھوں نے اپنا ایک آدمی جس کا نام تملیخا بتلایا جاتا ہے، اسے بازار میں کھانا خریدنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ کسی دکان پر پہنچا اور تین سو برس پہلے بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا سکہ کھانے کی قیمت میں پیش کیا تو دکاندار حیران رہ گیا کہ یہ سکہ کہاں سے آیا، اسے گمان ہوا کہ اس شخص کو کہیں سے کوئی خزانہ ہاتھ آیا ہے اور اس سے یہ سکہ نکال کے لایا ہے۔ اس نے دوسرے دکانداروں کو اکٹھا کرلیا۔ یہ نوجوان بیچارہ پریشان، ہرچند اس نے اپنی صفائی پیش کی لیکن لوگ مطمئن نہ ہوئے۔ انھوں نے اسے گرفتار کر کے بادشاہ کے حضور پیش کیا۔ بادشاہ کو جب اصل صورتحال کا علم ہوا تو اسے چونکہ اس شہر سے چند نوجوانوں کے غائب ہوجانے کا علم تھا اور کہا جاتا ہے کہ ان کے ناموں کی تختی خزانے میں محفوظ تھی جسے بادشاہ دیکھ چکا تھا۔ اس نے ان کی بیداری کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھا اور وہ اس کے ساتھیوں سے ملاقات کے لیے غار پر گیا۔ بہت سے اہل شہر بھی اس کے ہمراہ تھے۔ جب وہ غار کے قریب آیا تو تملیخا نے کہا کہ آپ ذرا ٹھہریں، میں ذرا جا کے اپنے ساتھیوں کو حقیقتِ معاملہ سے باخبر کردوں کہ اب بادشاہ مسلمان موحد ہے اور قوم بھی مسلمان ہے، وہ ملنے کے لیے آئے ہیں، ایسا نہ ہو کہ اطلاع کے بغیر آپ پہنچیں تو وہ سمجھیں کہ ہمارا دشمن بادشاہ چڑھ آیا ہے۔ اس کے مطابق تملیخا نے پہلے جا کر ساتھیوں کو تمام حالات سنائے تو وہ لوگ اس سے بہت خوش ہوئے۔ بادشاہ کا استقبال تعظیم کے ساتھ کیا، پھر وہ اجازت لے کر اپنے غار کی طرف لوٹ گئے اور اکثر روایات میں یہ ہے کہ غار میں لیٹتے ہی ان کی وفات ہوگئی، لیکن اس واقعہ سے جو مقصود تھا وہ پورا ہوگیا۔ ان کا تین سو سال کے بعد زندہ حالت میں اٹھنا قیامت کے آنے اور انسانوں کے دوبارہ زندہ اٹھائے جانے کی ایسی دلیل تھی جس کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ کیونکہ منکرینِ قیامت کو انسانوں کے دوبارہ اٹھنے کا کسی طرح یقین نہ آتا تھا۔ اس واقعہ نے انھیں اس پر یقین لانے پر مجبور کردیا اور لوگ آخرت کے قائل ہوگئے۔
یادگار کے بارے میں اختلاف
اصحابِ کہف کے دوبارہ غار میں سو جانے یا موت کا شکار ہوجانے کے بعد جو لوگ ان کی زیارت کے لیے گئے تھے ان میں اختلاف پیدا ہوا کہ اب ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ ایک رائے یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کے مقام و مرتبہ سے واقف ہے، تم ان کا معاملہ خدا کے سپرد کرو۔ البتہ ان کی یادگار کے لیے غار کے سامنے ایک عمارت بنادو تاکہ لوگوں کو معلوم ہوتا رہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے اور ان کا وجود قیامت کی بہت بڑی دلیل تھا۔ اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ ہم اس غار کے قریب ایک مسجد بنائیں گے۔ چناچہ ان کی رائے غالب آئی تو انھوں نے غار پر ایک مسجد بنادی۔ اس سے بعض علماء نے استدال کیا ہے کہ اولیا و صلحاء کی قبور کے پاس نماز کے لیے مسجد بنادینا کوئی گناہ نہیں اور جس حدیث میں قبور انبیاء کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں اس سے مراد خود قبور کو سجدہ گاہ بنادینا ہے جو بالاتفاق شرک اور حرام ہے، لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہاں جن لوگوں کے مسجد بنانے کا ذکر ہے اور ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ ان کے معاملے پر غالب تھے وہ اصل میں اربابِ اقتدار تھے اور انھوں نے مسجد بنا کر درحقیقت اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی پوجا پاٹ کا ایک انتظام کردیا تھا۔ اس خیال کی تائید میں صاحب تفہیم القرآن نے جو نوٹ لکھا ہے وہ بھی قابل توجہ ہے، اس لیے ہم اسے یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔
اس سے مراد رومی سلطنت کے اربابِ اقتدار اور مسیحی کلیسا کے مذہبی پیشوا ہیں جن کے مقابلے میں صالح العقیدہ عیسائیوں کی بات نہ چلتی تھی۔ پانچویں صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے عام عیسائیوں میں اور خصوصاً رومن کیتھولک کلیسا میں شرک اور اولیاء پرستی اور قبر پرستی کا پورا زور ہوچکا تھا۔ بزرگوں کے آستانے پوجے جارہے تھے اور مسیح ( علیہ السلام) ، مریم اور حواریوں کے مجسمے گرجوں میں رکھے جارہے تھے۔ اصحابِ کہف کے بعث سے چند ہی سال پہلے 431 ء میں پوری عیسائی دنیا کے مذہبی پیشوائوں کی ایک کونسل اسی افسس کے مقام پر منعقد ہوئی تھی جس میں مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت اور حضرت مریم ( علیہ السلام) کے ” مادرِخدا “ ہونے کا عقیدہ چرچ کا سرکاری عقیدہ قرار پایا تھا۔ اس تاریخ کو نگاہ میں رکھنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓی اَمْرِھِمْسے مراد وہ لوگ ہیں جو سچے پیروانِ مسیح کے مقابلے میں اس وقت عیسائی عوام کے رہنما اور سربراہ کار بنے ہوئے تھے اور مذہبی و سیاسی امور کی باگیں جن کے ہاتھوں میں تھیں یہی لوگ دراصل شرک کے علم بردار تھے اور انھوں نے ہی فیصلہ کیا کہ اصحابِ کہف کا مقبرہ بنا کر اس کو عبادت گاہ بنایا جائے۔
مسلمانوں میں سے بعض لوگوں نے قرآن مجید کی اس آیت کا بالکل الٹا مفہوم لیا ہے۔ وہ اسے دلیل ٹھہرا کر مقابرِ صلحاء پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں حالانکہ یہاں قرآن ان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو نشانی ان ظالموں کو بعث بعدالموت اور امکان آخرت کا یقین دلانے کے لیے دکھائی تھی اسے انھوں نے ارتکابِ شرک کے لیے ایک خداداد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ چلو، کچھ اور دلی پوجا پاٹ کے لیے ہاتھ آگئے۔ پھر آخر اس آیت سے قبور صالحین پر مسجدیں بنانے کے لیے کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کے یہ ارشادات اس کی نہی میں موجود ہیں :
لعن اللہ تعالیٰ زائرت القبور والمتخذین علیھا المساجد والسرج۔
(احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی۔ ابن ماجہ)
اللہ نے لعنت فرمائی ہے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر، اور قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں پر۔
الاوان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبورانبیاء ھم مساجد فانی انھکم عن ذلک (مسلم)
خبردار رہو، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیتے تھے، میں تمہیں اس حرکت سے منع کرتا ہوں۔
لعن اللہ تعالیٰ الیھود والنصاریٰ اتخذوا قبور انبیآء ھم مساجدا۔
(احمد، بخاری، مسلم، نسائی)
اللہ نے لعنت فرمائی یہود اور نصاریٰ پر، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔
ان اولئک اذا کان فیہم الرجل الصالح فمات بنوا علی قبرہ مسجدا وصوروافیہ تلک الصوراولئک شرارالخلق یوم القیٰمۃ۔
(احمد، بخاری، مسلم، نسائی)
ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ اگر ان میں کوئی مردصالح ہوتا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر مسجدیں بناتے اور اس کی تصویریں تیار کرتے تھے۔ قیامت کے روز بدترین مخلوقات ہوں گے۔
نبی کریم ﷺ کی ان تصریحات کی موجودگی میں کون خدا ترس آدمی یہ جرأت کرسکتا ہے کہ قرآن مجید میں عیسائی پادریوں اور رومی حکمرانوں کے جس گمراہانہ فعل کا حکایتہ ذکر کیا گیا ہے اس کو ٹھیک وہی فعل کرنے کے لیے دلیل و حجت ٹھہرائے ؟
اس موقع پر یہ ذکر کردینا بھی خالی از فائدہ نہیں کہ 1834 ء میں ریورنڈ ٹی ارنڈیل (Arundell) نے ” ایشیائے کو چک کے اکتشافات “ (Discoveries ni Asia Minor) کے نام سے اپنے جو مشاہدات شائع کیے تھے ان میں وہ بتاتا ہے کہ قدیم شہر افسس کے کھنڈرات سے متصل ایک پہاڑی پر اس نے حضرت مریم اور ” سات لڑکوں “ (یعنی اصحابِ کہف) کے مقبروں کے آثار پائے ہیں۔
Ayah 18:22سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰـثَـۃٌ رَّابِعُھُمْ کَلْبُھُمْ ج وَیَقُوْلُوْنَ خَمْسَۃٌ سَادِ سُہُمْ کَلْبُھُمْ رَجْمًا م بِالْغَیْبِ ج وَیَقُوْلُوْنَ سَبْعَۃٌ وَّثَامِنُھُمْ کَلْبُھُمْ ط قُلْ رَّبِّیْٓ اَعْلَمُ بِعِدَّتِہِمْ مَّا یَعْلَمُھُمْ اِلاَّ قَلِیْلٌقف 5 فَلاَ تُمَارٍ فِیْھِمْ اِلاَّ مِرَآئً ظَاہِرًا ص وَّلاَ تَسْتَفْتِ فِـیْھِمْ مِّنْھُمْ اَحَدًا۔ (الکہف : 22)
(اب یہ کہیں گے، وہ تین تھے چوتھا ان کا کتا تھا، اور کہیں گے یہ پانچ تھے، چھٹا ان کا کتا تھا، بالکل اٹکل پچو اور کہیں گے یہ سات تھے، ان کا آٹھواں ان کا کتا تھا، کہہ دیجیے میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے، ان کی خبر نہیں رکھتے مگر تھوڑے لوگ، آپ ﷺ ان کے بارے میں بحث نہ کیجیے، مگر سرسری بحث، اور ان کے بارے میں کسی سے نہ پوچھئے۔ )
جملہ معترضہ
یہ ایک جملہ معترضہ ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ اصحابِ کہف کے بارے میں جو اصل حقیقت تھی وہ بتادی گئی اور اس واقعہ کے ضمن میں جن حکمتوں کا جاننا ضروری تھا، وہ واضح کردی گئیں۔ اس کے باوجود یہ لوگ آپ ﷺ سے اس طرح کے سوالات کریں گے کہ یہ بتائیے کہ ان کی تعداد کتنی تھی اور خود ان کے بارے میں کسی حتمی بات سے آگاہ نہیں۔ ان میں بعض لوگ یہکہتے ہیں کہ ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ فرمایا یہ سب باتیں محض اٹکل پچو ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ البتہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ وہ سات تھے، آٹھواں ان کا کتا تھا۔ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے۔ اور ان کی اصل تعداد کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ پروردگار نے اس آیت کریمہ میں اصحابِ کہف کی تعداد کے سلسلے میں تین قول نقل کیے ہیں۔ تین، پانچ اور سات۔ تین اور پانچ کے حوالے سے تو فرمایا کہ وہ محض اٹکل پچو ہے، لیکن سات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔ اس میں شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی تعداد سات تھی۔ غالباً حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے اسی اشارے کو سمجھتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو ان کی تعداد کو جانتے ہیں۔ میرے نزدیک ان کی تعداد سات تھی اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔
فضول بحث سے گریز کی ہدایت
آنحضرت ﷺ کو ایک اصولی بات کی طرف رہنمائی فرمائی گئی ہے، وہ یہ کہ انسانی ہدایت کے لیے جن جن باتوں کی ضرورت ہوتی ہے پروردگار خود اسے واضح فرما دیتے ہیں اور یا آپ ﷺ پر وحی غیرمتلو کے طور پر اس کا علم اتار دیا جاتا ہے اور جہاں خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور لوگ اس کے بارے میں بحث کرنا چاہتے ہیں تو آپ ﷺ کبھی اس بحث میں شرکت نہ فرمائیے۔ وہ ضیاع وقت کے سوا کچھ نہیں۔ درحقیقت جن لوگوں کو بحث و مناظرہ کا روگ لگ جاتا ہے انھیں اصل حقیقت سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ انھیں صرف بحث سے سروکار ہوتا ہے۔ وہ بحث کی خاطر مختلف وادیوں میں خود بھی ٹامک ٹوئیاں مارتے پھریں گے اور بحث کے شرکاء کو بھی الجھائے رکھیں گے۔ ایسے لوگوں کا ایک ہی علاج ہے کہ ان کو خوبصورتی سے ٹال دیا جائے۔ یہاں بھی آپ ﷺ کو اسی بات کی ہدایت کی جارہی ہے۔ کہ وہ آپ ﷺ سے بحث کرنا چاہیں گے، آپ ﷺ اس بحث میں شریک ہونے سے اجتناب کریں اور اگر کچھ کہنا ضروری ہو تو سرسری انداز میں کچھ کہہ کر ٹالنے کی کوشش فرمائیں۔
Ayah 18:23وَلاَ تَقُوْلَنَّ لِشَایْ ئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا۔ اَلاَّ ٓ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ز وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ وَقُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّھْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ ھٰذَا رَشَدًا۔ (الکہف : 23، 24)
(اور آپ ﷺ نہ کہیں کسی چیز کے لیے کہ میں یہ کل کردوں گا۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے اور جب آپ ﷺ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کریں اور کہیں کہ امید ہے کہ میرا رب اس سے بھی کم مدت میں صحیح بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے۔ )
آیت کا شان نزول اور وعدہ سے متعلق ہدایت
گزشتہ آیت کریمہ جس کی حیثیت ایک جملہ معترضہ کی ہے اس کے آخر میں نبی کریم ﷺ کو ایک ہدایت فرمائی کہ جو لوگ محض بحث و مناظرہ کے لیے سوالات کریں یا بات کو آگے بڑھائیں آپ ﷺ ان کے ساتھ اس فضول مشق میں شریک نہ ہوں۔ اسی پر اضافہ کرتے ہوئے اس آیت کریمہ میں دوسری ہدایت جاری فرمائی۔ البتہ اس کا ایک شان نزول بھی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے روایت ہے کہ جب قریش نے یہود کے اکسانے پر نبی کریم ﷺ سے چند سوالات کیے جن میں ایک سوال اصحابِ کہف کے بارے میں تھا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں کل اس کا جواب دوں گا۔ مقصد یہ تھا کہ چونکہ اشرافِ قریش آپ ﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کی دعوت سے دلچسپی کا اظہار کررہے تھے کیونکہ مختلف سوالات کرنا یقینا اسی ضمن میں تھا تو آپ ﷺ نے یہ سوچا کہ ان کے سوالات کا جواب انھیں جلد از جلد ملنا چاہیے تاکہ ان کی دلچسپی میں کمی نہ آنے پائے اور وقت پر جواب جو اثر رکھتا ہے یقینا تاخیر اس اثر کو کم کردیتی ہے اور مزید یہ بات بھی کہ آپ ﷺ کی طبیعت میں لوگوں کے ایمان کے بارے میں جو شدید حرص پائی جاتی تھی اس کا بھی تقاضا یہ تھا کہ آپ ﷺ جواب دینے میں جلدی کریں۔ چناچہ آپ ﷺ کی اسی شدید خواہش کے باعث جو سراسر خیر ہی خیر تھی آپ ﷺ کے ذہن سے یہ بات نظرانداز ہوگئی کہ میں جس بات کا جواب دین کی مصلحت کے لحاظ سے جلدی دینا چاہتا ہوں، عین ممکن ہے کہ حکمت الٰہی کا تقاضا اس کے برعکس ہو۔ مشیتِ الٰہی کا فیصلہ یہ ہو کہ انھیں جواب بالکل نہ دیا جائے یا تاخیر سے دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ وحی کے اعتماد پر کوئی غیرمشروط وعدہ کر بیٹھے بلکہ اس کے بلند مرتبے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا ہر وعدہ خدا کی مشیت کے ساتھ مشروط ہونا چاہیے۔ اس لیے آئندہ کے لیے یہ ہدایت کی گئی کہ آپ ﷺ جب بھی کسی سے کوئی وعدہ فرمائیں تو انشاء اللہ ضرور کہیں۔ یہ انشاء اللہ کہنا نہ تو تعلیق کے معنی میں ہے اور نہ یہ فقہی معنی میں شرط ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی کے لیے انشاء اللہ کہنا تو بسا اوقات حکمت الٰہی کا تقاضا ہوتا ہے، لیکن عام امت کے لیے ایسا کہنا تبرک کے لیے ہے۔ اور اب چونکہ یہ مسلمانوں کی روایت بن چکا ہے اس لیے مسلمانوں کی ثقافت کا حصہ ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا کہ اگر آپ کبھی انشاء اللہ کہنا بھول جائیں تو جب یاد آئے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں یعنی انشاء اللہ کہیں اور پھر اس پر اس بات کا اضافہ فرمایا کہ آپ ﷺ جس بات کا وعدہ فرما رہے ہیں تو یقینا آپ ﷺ کے ذہن میں یہ ہے کہ اس بات میں یقینا خیر ہے۔ لیکن آپ ﷺ کو حتمی طور پر یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس میں خیر ہے یا نہیں، کیونکہ مستقبل کے حالات سے تو صرف اللہ تعالیٰ باخبر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرتے ہوئے آپ ﷺ یہ بھی کہا کریں کہ کیا عجب اللہ تعالیٰ مجھے اس معاملے میں اس سے بھی زیادہ صحیح بات یا صحیح طرزعمل کی رہنمائی فرما دے۔
Ayahs 18:24–26وَلَبِثُوْا فِیْ کَـھْفِھِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا۔ قُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا ج لَـہٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَبْصِرْبِہٖ وَاَسْمِعْ ط مَالَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ ز وَّلاَ یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا۔ (الکہف : 25، 26)
( اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور نو سال مزیدبراں۔ کہہ دیجیے اللہ ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت وہ رہے ہیں، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا، زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اس کے سوا نہیں اور وہ اپنے اختیار میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ )
آیت کے مفہوم میں اختلاف
اس آیت کریمہ کے مفہوم کے تعین میں مفسرین میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آیت 22 سے جو جملہ معترضہ شروع ہوا تھا وہ آیت 24 پر ختم ہوا۔ یہ آیت اسی جملہ معترضہ کا حصہ ہے یعنی سلسلہ عبارت یوں ہے کہ کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا … اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے ہیں۔ اور بعض لوگ اس مدت کے شمار میں نو سال اور بڑھ گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تین سو نو سال کا قول انھیں لوگوں کے اقوال میں سے ہے جو اصحابِ کہف کی تعداد میں اختلاف کرتے تھے اور انھیں ان کی حتمی تعداد کا علم نہیں تھا۔ اسی طرح انھیں اس بات کا بھی علم نہیں کہ اصحابِ کہف غار میں کتنے سال رہے۔ اصحابِ کہف کی تعداد کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے۔ اور یہاں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہی لوگ غار میں قیام کی مدت کے بارے میں اختلاف کررہے ہیں، آپ ﷺ انھیں کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدت قیام کو خوب جانتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ لوگوں کے قول کی حکایت ہے، اللہ تعالیٰ کا اپنا قول نہیں۔ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اگر تین سو سال والا قول اللہ تعالیٰ کا ہوتا تو یہ کہنے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) بھی اسی تاویل کے قائل تھے۔ دیگر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ تین سو نو سال والا قول اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ یہ مدت پروردگار نے بیان فرمائی ہے۔ نسقِ قرآن سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ابن کثیر نے اسی کو جمہور مفسرین سلف و خلف کا قول قرار دیا ہے۔ ابوحیان اور قرطبی وغیرہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ اگر یہ قول پروردگار کا ہے تو پھر یہ کہنے کا کیا موقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کی مدت قیام کو بہتر جانتا ہے۔ جمہور مفسرین اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ دونوں جملے حق تعالیٰ کا کلام ہیں۔ پہلے میں حقیقتِ واقعہ کا بیان ہے اور دوسرے میں اس سے اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ ہے۔
9 سال کے اضافہ کا مفہوم
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں پہلے اصحابِ کہف کی مدت قیام تین سو سال بیان کی اور پھر اس کے بعد نو کا اس پر اضافہ کردیا۔ مفسرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہودونصاریٰ میں چونکہ شمسی سال کا رواج تھا اس کے حساب سے تین سو سال ہی ہوتے ہیں۔ اور اسلام میں چونکہ رواج قمری سال کا ہے اور قمری حساب میں ہر سو سال پر تین سال کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے تین سو سال شمسی پر قمری حساب سے نو سال مزید ہوگئے۔ ان دونوں سالوں کا امتیاز واضح کرنے کے لیے قرآن کریم نے یہ تعبیر اختیار کی۔
مدتِ قیام کے بارے میں قرآن کریم کی وضاحت کو مؤکد کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ دوسرے لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہ تو اٹکل پچو کے سوا کچھ بھی نہیں، لیکن قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے۔ دوسروں کو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا اس نے بتایا ہے، باقی سب رطب و یابس کا مجموعہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے علم کی غائت درجہ تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کیا کہنے ہیں اس کے دیکھنے اور سننے کے۔ کائنات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے احاطہ سمع و بصر سے باہر ہو۔ جس طرح وہ اپنے سمع و بصر میں لاانتہا اور لامحدود ہے، اسی طرح اس کی قوتیں بھی بےمثال ہیں، چونکہ وہ ہر چیز سے واقف ہے اس لیے اسے اس بات کی احتیاج نہیں کہ کوئی دوسرا اس کے پاس شفاعت کرے۔ اسی طرح وہ اپنی قدرتوں میں بےپناہ ہے تو کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مقابلے میں کوئی کسی کی مدد کرسکے اور وہ اس بات سے بالکل مستغنی ہے کہ کسی کو وہ اپنے اختیار میں شریک کرے۔