Ayah 18:82وَاَمَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَۃِ وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنْزٌلَّھُمَا وَکَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا ج فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَآ اَشُدَّھُمَا وَیَسْتَخْرِجَا کَنْزَھُمَا صلے ق رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ج وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیْ ط ذٰلِکَ تَاْوِیْلُ مَالَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْہِ صَبْرًا۔ (الکہف : 82)
(اور رہا دیوار کا معاملہ سو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا، آپ کے رب نے یہ چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں، یہ تیرے رب کی عنایت سے ہوا اور یہ جو کچھ میں نے کیا اپنی رائے سے نہیں کیا، یہ ہے حقیقت ان چیزوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔ )
دیوار کی مرمت کی حکمت
وہ خسیس لوگ جنھوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کی میزبانی کرنے سے انکار کردیا تھا اور حضرت خضر (علیہ السلام) نے بجائے ناراض ہونے کے اس بستی کی ایک گرتی ہوئی دیوار کو مرمت کرکے سیدھا کردیا تھا تو اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ آپ ان سے اجرت طے کرلیتے تو ہمارے کام آتی۔ اب اس کی حقیقت بیان کی جارہی ہے۔ یہ دیوار دراصل دو یتیموں کی تھی ان کے باپ نے جو ایک صالح آدمی تھے اس کے نیچے ان کے لیے ڈھیروں مال یا سونے کا کوئی حصہ جسے خزانہ کہا گیا ہے دفن کر رکھا تھا تاکہ اس کی موت کی صورت میں یہ یتیمی کے دھکے نہ کھاتے پھریں بلکہ بڑے ہو کر یہ خزانہ نکالیں اور اطمینان کی زندگی گزاریں۔
بچے ابھی چھوٹے تھے کہ دیوار گرنے کے قریب ہوگئی۔ اب اگر گر جاتی تو وہ خسیس لوگ جو دو بزرگوں کو کھانا دینے کے روادار نہ تھے یقینا یہ خزانہ ہڑپ کر جاتے اور وہ یتیم اس سے محروم ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے صالح باپ کی نیکی کی لاج رکھی اور ان کا خزانہ تباہ ہونے سے محفوظ کردیا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا سراسر فضل و کرم تھا جو اس صالح آدمی کی نیکی کی وجہ سے تھا اس بستی والوں کی وجہ سے نہیں تھا۔ حضرت ابن عباس ( رض) کا ارشاد ہے کہ وہ سونے کی ایک تختی تھی جس پر نصیحت کے مندرجہ ذیل کلمات لکھے ہوئے تھے۔ یہ روایت حضرت عثمان ابن عفان نے مرفوعاً نبی کریم ﷺ سے نقل فرمائی ہے۔ (قرطبی)
1 بسم اللہ الرحمن الرحیم
2 تعجب ہے اس شخص پر جو اس پر ایمان رکھتا ہے کہ رزق کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے پھر ضرورت سے زیادہ مشقت اور فضول قسم کی کوشش میں کیوں لگتا ہے۔
3 تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے، پھر غمگین کیونکر ہوتا ہے۔
4 تعجب ہے اس شخص پر جو موت پر ایمان رکھتا ہے پھر خوش و خرم کیسے رہتا ہے ؟
5 تعجب ہے اس شخص پر جو حساب آخرت پر ایمان رکھتا ہے پھر غفلت کیسے برتتا ہے ؟
6 تعجب ہے اس شخص پر جو دنیا کو اور اس کے انقلابات کو جانتا ہے پھر کیسے اس پر مطمئن ہو کر بیٹھتا ہے ؟
7 لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ والدین کی نیکی کا فائدہ اولاد کو پہنچاتے ہیں بلکہ بعض واقعات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی نیک بندے اور ولی اللہ کا وجود پورے علاقے اور شہر کے لیے رحمت کا باعث ہوتا ہے۔ قرطبی میں ہے کہ حضرت شبلی فرمایا کرتے تھے کہ میں اس شہر اور پورے علاقے کے لیے امان ہوں۔ جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کے دفن ہوتے ہی کفار ویلم نے دریائے دجلہ کو عبور کرکے بغداد پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت لوگوں کی زبان پر یہ تھا کہ ہم پر دوہری مصیبت آئی ہے یعنی شبلی کی وفات اور ویلم کا قبضہ۔ (قرطبی ص 29، ج 11)
اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے ایک اشکال کا حل کرنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں تین واقعات سے متعلق حضرت خضر (علیہ السلام) نے جو حکمتیں بیان فرمائی ہیں ان میں اسلوبِ بیان کا ایک اشکال ذہن کو پریشان کرتا ہے، وہ یہ کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنی گفتگو کو ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے جو کچھ کیا اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا۔ آپ کی اس وضاحت سے مطابقت رکھنے والا اسلوب صرف ایک ہی ہوسکتا ہے کہ آپ نے جو بھی ان واقعات میں کیا اس کی نسبت پروردگار کی طرف کی جائے، جس طرح ایک واقعہ میں آپ نے یہ کہا فَاَرَادَرَبُّکَ ” یعنی تیرے رب نے یہ چاہا “ لیکن ہم ان واقعات کی حکمتوں کے ضمن میں حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس اسلوب کی پابندی کرتا ہوا نہیں دیکھتے۔ مثلاً انھوں نے جب کشتی کو عیب دار کرنے کا ذکر کیا تو فرمایا فَاَرَدتُّ اَنْ اَعِیْبَہَا ” میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں “ اس میں آپ ( علیہ السلام) نے کشتی توڑنے کی نسبت اپنی طرف کی، لیکن جب آپ ( علیہ السلام) نے لڑکے کو قتل کرنے کا ذکر کیا اور اس کی حکمت بیان فرمائی تو آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا فَخَشِیْنَایعنی ہمیں اندیشہ ہوا اور مزید فرمایا فَاَرَدْنَاپس ہم نے ارادہ کیا اور جب حضرت خضر (علیہ السلام) نے دیوار کو سیدھا کرنے کی حکمت بیان فرمائی تو کہا فَاَرَادَرَبُّکَ پس تیرے رب نے ارادہ کیا۔ اسلوبِ بیان کا یہ تفاوت یقینا ذہنوں میں خلجان پیدا کرتا ہے کہ آخر اس اختلاف کا سبب کیا ہے ؟
اس خلجان کو دور کرنے کے سلسلے میں ہماری گزارش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں بالخصوص نبیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے ارادوں اور اللہ تعالیٰ کے ارادوں میں کامل یکسانی ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی ذات کی نفی کرکے اور اپنی خواہشات اور ارادوں کو مٹا کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ارادوں میں فنا کردیتے ہیں۔ اس صورت میں ان کا ہر کام اللہ تعالیٰ کا کام ہوتا ہے کیونکہ اس کا حکم اور اس کی رضا اس کے پس منظر میں ہوتی ہے۔ اس میں دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ جو کام اللہ تعالیٰ کے بندے کے ہاتھ سے وجود پذیر ہے آیا اس کا تعلق خیر سے ہے یا شر سے، نفع سے ہے یا ضرر سے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان سب کا خالق حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، لیکن شر اور ضرر میں چونکہ تکدر کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے بندے چونکہ سرتاپا ادب اور عرفان ہوتے ہیں وہ کبھی شر یا ضرر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کرتے۔ بجز اس کے کہ کوئی شرعی مصلحت اس کا تقاضا کررہی ہو۔ جس طرح ہم جانتے ہیں کہ مرض اور صحت دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ شفا بھی وہی دیتا ہے اور بیمار بھی وہی کرتا ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ان کا ذکر فرمایا تو یہ کہا وَاِذَامَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِ ” اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے۔ “ بیماری میں چونکہ ایک بدنمائی ہے اس لیے اس کی نسبت اپنی طرف کی اور شفا میں خوبصورتی اور خوشی ہے تو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی۔ اسی طرح حضرت خضر (علیہ السلام) نے جب کشتی کی شکست کا ذکر کیا تو چونکہ اس میں ایک بدنمائی تھی اس لیے اس کی نسبت اپنی طرف کی حالانکہ اسے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ ( علیہ السلام) نے انجام دیا تھا۔ لیکن جب آپ ( علیہ السلام) نے دیوار کو یتیموں کا دفینہ بچانے کے لیے سیدھا کیا تو چونکہ یہ کام ہر لحاظ سے خوشنما اور احسن تھا اس لیے اس کی نسبت پروردگار کی طرف کی۔ لیکن جب لڑکے کے قتل کا ذکر ہوا تو اس کے دو پہلو تھے وہ اس پہلو سے تو خیر تھا کہ اس کے قتل کے نتیجہ میں والدین کے ایمان کی سلامتی تھی اور اس کے بدلے میں ان کو ایسی اولاد ملنے والی تھی جن سے بہت بڑا خیر ظہورپذیر ہونے والا تھا لیکن قتل غلام فی نفسہ شر تھا تو اس میں پہلی بات تو یہ فرمائی کہ ہمیں اندیشہ ہوا حالانکہ اندیشہ حضرت خضر کو تو ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ کو اندیشہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کا کوئی کام بھی یقین سے خالی نہیں ہوتا۔ اندیشہ ہونا سراسر اجتہادی صفت ہے۔ لیکن اس کے پس منظر میں چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو وحی کے ذریعہ آپ ( علیہ السلام) تک پہنچا ہے اور آپ ( علیہ السلام) کا اندیشہ اسی حکم کی مصلحت کو سلجھانے کی ایک کوشش ہے اس لیے اس میں جمع کا صیغہ استعمال کیا تاکہ حکم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف رہے اور اندیشہ کی نسبت اپنی طرف اور پھر اَرَدْنَاکا لفظ استعمال فرمایا کہ قتل غلام کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والا خیر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ایک معصوم بچے کی جان لینا بظاہر ایک شر ہے۔ اس لیے اس کی نسبت حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنی طرف کرتے ہوئے اَرَدْنَا کا لفظ استعمال کیا۔ اگر ان گزارشات کی طرف توجہ دی جائے تو امید ہے کہ اسلوب کا خلجان دور ہوجائے گا۔ علامہ بدرالدین الزرکشی نے قریب قریب اسی توجیہ کو پسند فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
لما اراد ذکرالعیب للسفینۃ نسبہ لنفسہ ادبا مع الربوبیۃ فقال اردت ولما کان قتل الغلام مشترک الحکم بین المحمود والمذموم استتبع نفسہ مع الحق فقال فی الاخبار نبون الاستتباع لیکون المحمود من الفعل وھوراحۃ ابویہ المومنین من کفرہ، عائدا علی الحق سبحنہ والمذموم ظاہرا وھو قتل الغلام بغیرحق، عائدا الیہ، وفی اقامۃ الجدارکان خیرا محضا فنسبہ للحق۔ (البرہان فی علوم القرآن الزرکشی جلد 4 ص 60)
اہلِ علم میں حضرت خضر (علیہ السلام) کی زندگی اور موت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ صاحب معارف القرآن نے اس پر جو لکھا ہے ہم اسے نقل کرتے ہیں۔
حضرت خضر (علیہ السلام) زندہ ہیں یا ان کی وفات ہوچکی ہے
قرآن کریم میں جو واقعہ حضرت خضر (علیہ السلام) کا مذکور ہے اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) اس واقعہ کے بعد وفات پا گئے یا زندہ رہے، اسی لیے قرآن و سنت میں اس کے متعلق کوئی صریح بات مذکور نہیں۔ بعض روایات و آثار سے ان کا اب تک زندہ ہونا معلوم ہوتا ہے۔ بعض روایات سے اس کے خلاف مستفاد ہوتا ہے، اسی لیے اس معاملے میں ہمیشہ سے علماء کی رائیں مختلف رہی ہیں، جو حضرات ان کی حیات کے قائل ہیں ان کا ستدلال ایک تو اس روایت سے ہے جس کو حاکم نے مستدرک میں حضرت انس ( رض) سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو ایک شخص سیاہ سفید داڑھی والے داخل ہوئے اور لوگوں کے مجمع کو چیرتے پھاڑتے اندر پہنچے اور رونے لگے، پھر صحابہ کرام ( رض) کی طرف متوجہ ہو کر یہ کلمات کہے :
اِنَّ فِی اللّٰہِ عَزَائً مِّنْ کُلِّ مُصِیْبَۃٍ وَعِوَضًا مِّنْ کُلِّ فَائِتٍ وَخَلَفًا مِّنْ کُلِّ ھَالِکٍ فَاِلَی اللّٰہِ فَاَنِیْبُوْا وَاِلَیْہِ فَارْغَبُوْا فَاِنَّمَا الْمَحْرُوْمُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ ۔
(اللہ کی بارگاہ میں صبر ہے ہر مصیبت سے اور بدلا ہے ہر فوت ہونے والی چیز کا، اور وہی قائم مقام ہے ہر ہلاک ہونے والے کا اس لیے اسی کی طرف رجوع کرو اسی کی طرف رغبت کرو کیونکہ محروم وہ شخص ہے جو مصیبت کے ثواب سے محروم ہوجائے۔ )
یہ آنے والے کلمات مذکورہ کہہ کر رخصت ہوگئے تو حضرت ابوبکر اور علی مرتضیٰ ( رض) نے فرمایا کہ یہ حضرت خضر (علیہ السلام) تھے، اس روایت کو جزری ( رح) نے حصن حصین میں بھی نقل کیا ہے جن کی شرط یہ ہے کہ صرف صحیح السند روایات اس میں درج کرتے ہیں۔
اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ دجال مدینہ طیبہ کے قریب ایک جگہ تک پہنچے گا تو مدینہ سے ایک شخص اس کے مقابلہ کے لیے نکلے گا، جو اس زمانے کے سب انسانوں میں بہتر ہوگا، یا بہتر لوگوں میں سے ہوگا، ابواسحاق نے فرمایا کہ یہ شخص حضرت خضر (علیہ السلام) ہوں گے۔ (قرطبی)
اور ابن ابی الدنیا نے کتاب الہواتف میں سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کی تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے ان کو ایک دعا بتلائی کہ جو اس کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرے اس کے لیے ثواب عظیم اور مغفرت و رحمت ہے۔ وہ دعا یہ ہے :
یَامَنْ لاَیُشْغِلُہٗ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ وَیَامَنْ لاَ تُغْلِطُہُ الْمَسَائِلُ وَیَامَنْ لاَیَبْرَمُ مِنْ اِلْحَاحِ الْمُلِحِّیْنَ اَذِقْنِیْ بَرْدَعَفْوِکَ وَحَلاَ وَۃَ مَغْفِرَتِکَ (قرطبی)
(اے وہ ذات جس کو ایک کلام کا سننا دوسرے کلام کے سننے سے مانع نہیں ہوتا اور اے وہ ذات جس کو بیک وقت ہونے والے (لاکھوں کروڑوں) سوالات میں کوئی مغالطہ نہیں لگتا اور وہ ذات جو دعا میں الحاح و اصرار کرنے اور بار بار کہنے سے ملول نہیں ہوتا، مجھے اپنے عفو و کرم کا ذائقہ چکھا دیجیے اور اپنی مغفرت کی حلاوت نصیب فرمایئے۔ )
اور پھر اسی کتاب میں بعینہٖ یہی واقعہ اور یہی دعا اور حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کا واقعہ حضرت فاروق اعظم ( رض) سے بھی نقل کیا گیا ہے۔ (قرطبی)
اسی طرح اولیاء امت میں حضرت خضر (علیہ السلام) کے بیشمار واقعات منقول ہیں،
اور جو حضرات خضر (علیہ السلام) کی حیات کو تسلیم نہیں کرتے ان کا بڑا استدلال اس حدیث سے ہے جو صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) سے منقول ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عشاء کی نماز اپنی آخرحیات میں پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور یہ کلمات ارشاد فرمائے :
اَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہٖ فَاِنَّ عَلٰی رَأْسِ مَائَۃِ سَنَۃٍ مِنْھَا لاَ یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَا عَلٰی ظَھْرِالْاَرْضِ اَحَدٌ،
(کیا تم اپنی آج کی رات کو دیکھ رہے ہو، اس رات سے سو سال گزرنے پر کوئی شخص ان میں سے زندہ نہ ہوگا جو آج زمین کے اوپر ہے۔ )
حضرت ابن عمر ( رض) نے یہ روایت نقل کرکے فرمایا کہ اس روایت کے بارے میں لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ سو سال پر یہ قرن ختم ہوجائے گا،
یہ روایت مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ ( رض) سے بھی تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ منقول ہے، لیکن علامہ قرطبی ( رح) نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس میں ان لوگوں کے لیے کوئی حجت نہیں جو حیات حضرت خضر (علیہ السلام) کو باطل کہتے ہیں کیونکہ اس روایت میں اگرچہ تمام بنی آدم کے لیے عموم کے الفاظ ہیں اور عموم بھی مؤکد کرکے لایا گیا ہے، مگر پھر بھی اس میں نص نہیں کہ یہ عموم تمام اولادِ آدم (علیہ السلام) کو شامل ہی ہو کیونکہ اولادِ آدم میں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ہیں جن کی نہ وفات ہوئی اور نہ قتل کیے گئے، اس لیے ظاہر یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ عَلَی الْاَرْضِ میں الف لام عہد کا ہے اور مراد ارض سے ارض عرب ہے، پوری زمین جس میں ارض یاجوج و ماجوج اور بلادشرق اور جزائر جن کا نام بھی عربوں نے نہیں سنا اس میں شامل نہیں، یہ علامہ قرطبی کی تحقیق ہے۔
اسی طرح بعض حضرات نے مسئلہ ختم نبوت کو حیات خضر کے منافی سمجھا ہے، اس کا جواب بھی ظاہر ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات ختم نبوت کے منافی نہیں حضرت خضر (علیہ السلام) کی حیات بھی ایسی ہی ہوسکتی ہے۔
بعض حضرات نے حیات خضر پر یہ شبہ کیا ہے کہ اگر وہ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں موجود ہوتے تو ان پر لازم تھا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ ﷺ کے تابع ہو کر اسلامی خدمات میں مشغول ہوتے، کیونکہ حدیث میں ارشاد ہے : لَوْ کَانَ مُوْسیٰ حَیًّا لَمَا وَسِعَہٗ اِلاَّ اتِّبَاعِیْ ” یعنی اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آج زندہ ہوتے تو ان کو بھی میرا ہی اتباع کرنا پڑتا (کیونکہ میرے آنے سے دین موسوی منسوخ ہوچکا ہے) ۔ لیکن یہ کچھ بعید نہیں کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کی زندگی اور ان کی نبوت عام انبیاء شریعت سے مختلف ہو، ان کو چونکہ تکوینی خدمات منجانب اللہ سپرد ہیں وہ ان کے لیے مخلوق سے الگ تھلگ اپنے کام پر مامور ہیں، رہا اتباع شریعت محمد ﷺ یہ تو اس میں کوئی بعد نہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت کے بعد سے انھوں نے اپنا عمل شریعتِ محمد یہ ﷺ پر شروع کردیا ہو، واللہ اعلم۔
ابوحیان نے تفسیر بحرمحیط میں متعدد بزرگوں کے واقعات حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کے بھی نقل کیے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ :
وَالْجُمْھُوْرُ عَلٰی اَنَّہٗ مَاتَ ، (بحرمحیط، ص 147 ج 6)
” جمہور علماء اس پر ہیں کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کی وفات ہوگئی۔ “
تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ( رح) نے فرمایا کہ تمام اشکالات کا حل اس میں ہے جو حضرت سید احمد سرہندی مجدد الف ثانی ( رح) نے اپنے مکاشفہ سے فرمایا وہ یہ کہ میں نے خود حضرت خضر (علیہ السلام) سے اس معاملہ کو عالم کشف میں دریافت کیا، انھوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت الیاس (علیہ السلام) ہم دونوں زندہ نہیں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ قدرت بخشی ہے کہ ہم زندہ آدمیوں کی شکل میں متشکل ہو کر لوگوں کی امداد مختلف صورتوں میں کرتے ہیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
یہ بات میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کی موت وحیات سے ہمارا کوئی اعتقادی یا عملی مسئلہ متعلق نہیں، اسی لیے قرآن و سنت میں اس کے متعلق کوئی صراحت و وضاحت نہیں کی گئی، اس لیے اس میں زیادہ بحث و تمحیص کی بھی ضرورت نہیں، نہ کسی ایک جانب کا یقین رکھنا ہمارے لیے ضروری ہے، لیکن چونکہ مسئلہ عوام میں چلا ہوا ہے اس لیے مذکورہ صدر تفصیلات نقل کردی گئی ہیں۔
Ayah 18:83وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ ط قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْکُمْ مِّنْہُ ذِکْرًا۔ (الکہف : 83)
(وہ آپ ﷺ سے ذو القرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ ﷺ کہہ دیجیے میں ابھی تمہارے سامنے اس کا حال بیان کروں گا۔ )
یہود کی انگیخت پر قریش کا سوال
ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قریش نے یہود کی انگیخت پر آنحضرت ﷺ سے کچھ سوالات کیے تھے، وہ سوالات ایسے تھے جن کا عرب دنیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ یہود نے قریش کی معرفت یہ چاہا تھا کہ چونکہ ان سوالات کا جواب محمد ﷺ دے نہیں پائیں گے تو قریش کو یقین ہوجائے گا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی آپ ﷺ پر ایمان لانے میں متردد ہیں۔ اس سے ان کا تردد یقینی انکار میں بدل جائے گا۔ اس طرح سے آنحضرت ﷺ کی دعوت اپنا اثر کھو بیٹھے گی۔ آپ ﷺ نے نہ صرف ان کے سوالوں کو سنا بلکہ ان کے ایک ایک سوال کا جواب دیا۔ یہ آخری سوال ہے جس کا نہایت حتمی انداز میں قرآن کریم نے جواب دینے کا آغاز فرمایا ہے اور قرآن چونکہ آپ ﷺ کی زبان سے ادا ہوتا تھا تو یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ قریش کے سامنے یہ واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔
ذوالقرنین کون ہے ؟
اس واقعہ کا مرکزی کردار چونکہ ذو القرنین ہے۔ اس لیے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ ذوالقرنین کون تھے ؟ ہمارے مفسرین نے ان کے شخصی تعین میں اختلاف کیا ہے۔ قرآن کریم نے تاریخی اور شخصی لحاظ سے ان کا تعین نہیں فرمایا اور یہود نے بھی قریش کے واسطے سے اس تعین پر اصرار نہیں کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اسے جانتے تھے بلکہ جس طرح ہم واقعہ معراج کے تاریخی حقائق کے ضمن میں یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ ایک بادشاہ نے بخت نصر کے مظالم سے یہود کو نجات دی تھی۔ دوبارہ انھیں یروشلم میں آباد ہونے کی اجازت دی تھی، پھر اسی کی اجازت سے ہیکل سلیمانی ازسرنو تعمیر ہوا تھا اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کی پیغمبرانہ کاوش سے ازسرنو تورات کو مدوّن کیا گیا تھا۔ وہ اس بادشاہ کو سائرس کے نام سے جانتے اور اس کو اپنا محسن سمجھتے تھے۔ قرآن کریم نے جب اس کی علامتیں بیان کردیں اور تاریخی کارناموں کی طرف اشارے کردیئے تو وہ اس سے مطمئن ہوگئے اور مزید سوال کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔
ہمارے گمان میں یہود کو تو اس بارے میں کوئی شبہ نہ تھا لیکن مؤرخین نے اور انھیں کے زیراثر بعض مفسرین نے ذوالقرنین کے مصداق کے حوالے سے مختلف حکمرانوں کے نام دیئے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ سکندر رومی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم کی صراحتوں کو دیکھتے ہوئے سکندر کا تو وہم بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قرآن کریم ذوالقرنین کے حوالے سے جس حکمران کا ذکر کررہا ہے وہ سچا مومن، عادل اور رعایا پرور ہے۔ اور سکندر میں تو ایسی کوئی بات نہیں پائی جاتی۔ وہ یونان کا باشندہ تھا اور باقی اہل یونان کی طرح وہ بھی بت پرست تھا۔ اور جہاں تک عدل اور رعایا پروری کا تعلق ہے اس کا اندازہ تو اس سے ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے معصوم سوتیلے بھائی کا قاتل تھا اور بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ اپنے باپ کے قتل میں بھی وہ شریک تھا اور رعایا پر اس کے مظالم کی داستانیں تو کوئی چھپی ہوئی باتیں نہیں ہیں۔ اس لیے اسے ذوالقرنین قرار دینا تو بہت بڑی جسارت ہے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ سکندر کی فتوحات کا دائرہ اتنا وسیع نہیں تھا جتنا وسیع قرآن نے ذوالقرنین کی فتوحات کا بیان کیا ہے۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ تاریخ سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسے ذوالقرنین کے نام سے یاد کیا جاتا ہو۔ بعض لوگوں نے ذوالقرنین سے دارا مراد لیا ہے اور اس کی بعض مشرقی اور مغربی مہمات کو دلیل کے طور پر پیش کیا حالانکہ اس راہ میں اس کی حیثیت پیشرو کی نہیں بلکہ وہ درحقیقت سائرس کی ہی قائم کردہ ریاست کو مستحکم کرنے والا تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی تحقیق
ذوالقرنین کے حوالے سے جس عظیم حکمران کی طرف تاریخ واضح اشارہ کرتی ہے وہ کیخسرو ہے جسے خورس یا سائرس بھی کہا جاتا ہے۔ اس پر ہم کچھ کہنے کی بجائے مولانا ابوالکلام آزاد کی تحقیق، ان کی تفسیر ترجمان القرآن سے بحوالہ ضیاء القرآن نقل کررہے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں رقم طراز ہیں کہ پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا قدیم کتابوں میں ذوالقرنین کا لفظ کہیں استعمال ہوا ہے اور اگر ہوا ہے تو ان کے نزدیک اس سے مراد کون ہے۔ پھر یہ دیکھنا ہے کہ اس ذوالقرنین میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جو قرآن کریم نے ذکر کی ہیں اور کیا وہ کارنامے اس سے صادر ہوئے جنھیں قرآن نے اس کی طرف منسوب کیا ہے جیسے کہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ یہ سوال یہود کی طرف سے اہل مکہ کو سکھایا گیا تھا کہ وہ حضور ﷺ سے پوچھیں کہ ذوالقرنین کون ہے ؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شخص یہود کے نزدیک اس لقب سے معروف تھا۔ اس کے متعلق ہمیں حضرت دانیال (علیہ السلام) کی کتاب کے آٹھویں باب میں یہ آیتیں ملتی ہیں۔ حضرت دانیال (علیہ السلام) اپنا خواب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :
” تب میں نے آنکھ اٹھا کر نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ دریا کے پاس ایک مینڈھا کھڑا ہے جس کے دو سینگ ہیں۔ اسی باب کی بیسویں آیت میں اس کی تعبیر ان الفاظ میں کرتے ہیں :
جو مینڈھا میں نے دیکھا اس کے دونوں سینگ مادی (میڈیا) اور فارس کے بادشاہ ہیں اور وہ جسیم بکرا یونان کا بادشاہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مادی (میڈیا) اور فارس کی مملکتوں کو دو سینگوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور ان دونوں کے فرمانروا کو مینڈھے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جب بخت نصر نے ہیکل کو برباد کیا تھا۔ بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور بنی اسرائیل کو قیدی بنا کر بابل لے آیا تھا اور ان کی جمعیت ختم کرنے کے لیے بھیڑبکریوں کی طرح انھیں لوگوں میں تقسیم کردیا تھا۔ حضرت دانیال (علیہ السلام) نبی بھی اسیروں میں تھے۔ آپ ( علیہ السلام) کو خواب میں بنی اسرائیل کی رہائی کی خوشخبری دی گئی تھی کہ دو سینگوں والا مینڈھا کھڑا ہے۔ چناچہ کچھ عرصہ بعد سائرس (SERUS) فارس کا حکمران بنا اور اس نے کچھ عرصہ بعد میڈیا کو فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا اور اسی کے حکم سے بنی اسرائیل کو آزادی نصیب ہوئی اور اسی کی کوشش اور حکم سے ہیکل کی دوبارہ تعمیر ہوئی۔ جس طرح سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ پہلے تو یہ صرف گمان تھا کہ اس خواب کی وجہ سے یہود سائرس کو ذوالقرنین (سینگوں والا) کے لقب سے ذکر کرتے ہیں لیکن 1938 ء کے ایک انکشاف نے اس قیاس کو ایک تاریخی حقیقت ثابت کردیا اور معلوم ہوگیا کہ فی الحقیقت شہنشاہ سائرس کا لقب ذوالقرنین تھا اور یہ محض یہودیوں کا کوئی مذہبی تخیل نہ تھا بلکہ خود سائرس کا اور باشندگانِ فارس کا مجوزہ اور پسندیدہ نام تھا۔ یہ سائرس کی ایک سنگی تمثال ہے جو اصطخر کے کھنڈروں میں دستیاب ہوئی۔ اس میں سائرس کے دونوں طرف عقاب کے پر بھی ہیں اور سر پر مینڈھے کی طرح دو سینگ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ میڈیا اور فارس کا شہنشاہ ہونے کے باعث سائرس ذوالقرنین کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
اور ہوسکتا ہے کہ حضرت دانیال (علیہ السلام) کے خواب سے ہی سائرس کو یہ لقب اختیار کرنے کا خیال پیدا ہوا ہو کیونکہ فارس کے بادشاہوں کو بنی اسرائیل کے انبیاء سے بڑی عقیدت تھی۔ سائرس نے بابل کو فتح کیا تو بنی اسرائیل کی اسیری اور جلاوطنی کے دن ختم ہوئے اور اس نے ان کو فلسطین واپس جانے اور ہیکل کو ازسرنو تعمیر کرنے کی اجازت دی اور ہیکل کے سونے چاندی کے جو برتن بخت نصر لوٹ کر لایا تھا اور انھیں اپنے خزانے کی زینت بنایا تھا سائرس نے حکم دیا کہ وہ بھی بنی اسرائیل کو واپس دیئے جائیں اور پہلے کی طرح ہیکل میں داخل کیے جائیں۔ سائرس کا بچپن بڑی گمنامی کی حالت میں گزرا۔ جنگلوں اور پہاڑوں میں سارا وقت بسر ہوا۔ قدرت نے گوشہ گمنامی سے اٹھایا اور فارس کا تاجدار بنادیا۔ تھوڑے عرصہ میں ہی اس نے سب سے بڑی اور مضبوط حکومت میڈیا کو مغلوب کرلیا۔ بابل کو اپنی قلمرو میں داخل کرلیا جس سے اس کی شہرت بام عروج پر پہنچی اور اس کی عظمت سے دل تھرانے لگے۔ یہ ہی وہ چیز ہے جسے قرآن نے انامکنا لہ فی الارض کے جامع الفاظ سے بیان فرمایا۔
تین مہمات
اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ذوالقرنین کی جن تین مہموں کا قرآن نے ذکر کیا ہے کیا ان کی رہنمائی سائرس نے کی۔ اس کی ایک مہم مغرب الشمس کی طرف، دوسری مطلع الشمس کی طرف، تیسری ایک ایسے مقام کی طرف جہاں کوئی وحشی قوم آباد تھی اور یاجوج و ماجوج آکر لوٹ مار مچایا کرتے تھے۔
سائرس کے مؤرخین بتاتے ہیں کہ جب اس نے میڈیا کو فتح کرکے اپنی سابقہ مملکت فارس کے ساتھ ملایا تو اس کے فوراً بعد ایشیائے کو چک کی ایک ریاست جو لیڈیا کے نام سے مشہور تھی اس کے بادشاہ کرویسس نے اس پر حملہ کردیا اور صلح کے ان تمام ان معاہدات کو بالائے طاق رکھ دیا جو کرویسس اور سائرس کے باپ کے درمیان ہوئے تھے۔ سائرس مقابلہ پر مجبور ہوگیا اور اپنے حریف کو جنگ میں شرمناک شکست دی اور لیڈیا کی ساری حکومت پر قابض ہوگیا۔ اب تمام ایشیائے کو چک بحر شام سے لے کر بحر اسود تک اس کے زیرنگین تھا۔ وہ برابر بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ مغربی ساحل پر پہنچ گیا۔ اس نے فارس سے لے کر لیڈیا تک چودہ سو میل کا فاصلہ طے کرلیا لیکن سمندر نے اس کی پیش قدمی روک دی۔ اس نے بصد حسرت نگاہ اٹھا کر دیکھا تو حدِنظر تک پانی ہی پانی تھا اور سورج اس کی لہروں میں ڈوب رہا تھا۔ ایشیائے کو چک کا مغربی ساحل چھوٹی چھوٹی خلیجوں کا مجموعہ ہے اور سمندر کم گہرا ہونے کی وجہ سے پانی گدلا ہے۔ اسی کو قرآن نے ان الفاظ سے بیان فرمایا وجدھام تغرب فی عین حمئۃ اگرچہ سورج تو اپنے آسمانی مدار میں متحرک رہتا ہے اور کہیں ڈوبتا نہیں لیکن سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر غروب آفتاب کا نظارہ کرنے والے کو کیا یہ دکھائی نہیں دیتا کہ سورج آہستہ آہستہ پانی کی گہرائیوں میں غوطہ لگانے کے لیے نیچے اتر رہا ہے۔ جس قوم سے سائرس کو وہاں واسطہ پڑا تھا وہ قوم تھی جنھوں نے کرویسس کی سر کردگی میں اس پر حملہ کیا تھا اور اس کا تاج و تخت چھیننے کی کوشش کی تھی۔ وہ لوگ اس کے قبضہ میں تھے جس طرح چاہتا ان کے ساتھ برتائو کرسکتا تھا لیکن سائرس کے مؤرخین یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ اس نے قطعاً کسی پر زیادتی نہیں کی بلکہ اس نے اپنی حملہ آور فوج کو تاکیدی حکم دیا تھا کہ دشمن کے سپاہی کے سوا کسی پر ہاتھ نہ اٹھانا اور اگر وہ بھی نیزہ جھکا دے تو اس سے بھی تعرض نہ کرنا۔ قرآن کے بیان سے بھی مؤرخین کے اس بیان کی تصدیق ہوتی ہے واما من امن لہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ خود مومن تھا اور نیک اعمال کا قدردان تھا۔
اس کی دوسری مہم مشرق کی جانب تھی جبکہ مملکت کے مشرقی اطراف میں بعض خانہ بدوش قبائل نے فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا دی تو اس کو فروکر نے کے لیے اسے مشرق کا رخ کرنا پڑا اور وہ بلخ اور باختر کے قبائل کی سرکوبی کے لیے بڑھا۔ سب کو مطیع بنایا۔ آگے پہاڑوں کا طویل اور انچا سلسلہ تھا۔ اس کے باعث آگے بڑھنے کے لیے کوئی راستہ نہ تھا۔ لم نجعل لھم من دونھم سترا سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ باغی قبیلہ صحرا نورد تھا۔ قلعوں اور محلات کا تو ذکر ہی کیا وہاں کوئی باقاعدہ بستی ہی نہ تھی جہاں مکانات تعمیر کیے جاتے اور ان میں رہائش کی جاتی۔ کبھی درختوں کے کسی جھنڈ کی آڑ میں وقت بسر کرلیا۔ کبھی کوئی معمولی سا خیمہ تان لیا۔ دھوپ وغیرہ سے بچنے کے لیے ان کے پاس کوئی معقول انتظام نہ تھا۔
تیسری مہم : اس مہم کے متعلق قرآن نے بتایا کہ ذوالقرنین دو پہاڑوں کے درمیانی درہ تک پہنچا تو وہاں اسے ایک قوم ملی جو ان کی بولی سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سدین سے مقصود کا کیشیا کا پہاڑی درہ ہے۔ اس کے داہنی طرف بحر خزر ہے جس نے شمال اور مشرق کی راہ روکی ہوئی ہے۔ بائیں جانب بحر اسود ہے جو شمال مغرب کے لیے قدرتی رکاوٹ ہے۔ درمیانی علاقہ میں اس کا سربفلک سلسلہ کوہ ایک قدرتی دیوار کام دے رہا ہے۔ اس درمیانی درے کے علاوہ شمالی قبائل کے لیے ادھر آنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور یقینا یہیں سے یاجوج و ماجوج آکر ان پر حملہ کرتے اور ان کے علاقہ کو تاخت و تاراج کیا کرتے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک سد (بند) تعمیر کرکے ان کا راستہ بند کردیا گیا۔ جو لوگ اس علاقہ میں آباد تھے اور آئے دن یاجوج ماجوج کے حملوں سے ان کا امن برباد ہوتا رہتا تھا انھوں نے ہی سائرس سے التجا کی ہوگی کہ وہ انھیں اس بلائے بےدرماں سے نجات دلائے۔
قرآن کریم کی تصریحات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف مومن ہی نہ تھا بلکہ بڑا فیاض اور رعایا کا ہمدرد اور خیرخواہ بادشاہ بھی تھا۔ ہمیں اس کے ایمان کے متعلق مطمئن ہونے کے لیے کسی بڑی کدو کاوش کی ضرورت نہیں بلکہ انبیاء بنی اسرائیل کی پیشگوئیاں ہی اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ وہ مومن تھا۔ حضرت دانیال (علیہ السلام) کی پیشگوئی تو آپ پڑھ آئے ہیں اب حضرت یسعیاہ (علیہ السلام) نبی کی پیشگوئی سنئے۔
جو خورس (سائرس) کے حق میں کہتا ہوں کہ وہ میرا چرواہا ہے اور میری مرضی بالکل پوری کرے گا اور یروشلم کی بابت کہتا ہوں کہ وہ تعمیر کیا جائے گا اور ہیکل کی بابت کہ اس کی بنیاد ڈالی جائے گی۔ (یسعیاہ باب 44: آیت 48) اسی کتاب کے باب 45 کی پہلی آیت بھی ملاحظہ فرمایئے :
خداوند اپنے ممسوح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اس کا داہنا ہاتھ پکڑا کہ امتوں کو اس کے سامنے زیر کروں اور بادشاہوں کی کمریں کھلوا ڈالوں اور دروازوں کو اس کے لیے کھول دوں اور پھاٹک بند نہ کیے جائیں گے۔
یاجوج ماجوج کون تھے ؟
یاجوج اور ماجوج کا ذکر قرآن کریم میں دو بار آیا ہے۔ ایک یہاں اور دوسرا سورة الانبیاء میں۔ یورپ کی زبانوں میں انھیں (GOG AND MAGOG) کہا جاتا ہے۔ یہ کون سی قوم تھی، تمام تاریخی قرآئن متفقہ طور پر شہادت دیتے ہیں کہ اس سے مقصود صرف ایک ہی قوم ہوسکتی ہے یعنی شمال مشرقی میدانوں کے وہ وحشی اور طاقتور قبائل جن کے مشرقی حملوں کی روک تھام کے لیے چین کے شہنشاہ شین ہوانگ ٹی کو وہ عظیم الشان دیوار بنانی پڑی جو پندرہ سو میل تک چلی گئی ہے اور جو دیوارچین کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی تعمیر 214 ق۔ م میں شروع ہوئی اور دس برس میں ختم ہوئی۔ اس نے شمال اور مغرب کی طرف منگولین قبائل کے حملوں کی تمام راہیں مسدود کردیں۔ اس لیے ان کے حملوں کا رخ پھر وسط ایشیا کی طرف مڑ گیا۔ انھیں کے حملوں کو روکنے کے لیے سائرس نے سد تعمیر کی۔ شمال مشرق کے اس علاقہ کا بڑا حصہ اب منگولیا کہلاتا ہے لیکن چینی ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا اصلی قدیم نام ” موگ “ ہے جو چھ سو برس ق۔ م یونانیوں میں میگ اور میگاگ پکارا جاتا تھا اور یہی لفظ عبرانی میں ماجوج ہوگیا۔
سدِّذوالقرنین کا محل وقوع
آخر میں ہمیں یہ تحقیق کرنا ہے کہ سائرس نے جو سد تعمیر کی تھی اس کا محل وقوع کہاں ہے۔ بحر خزر کے مغربی ساحل پر ایک قدیم شہر دربند آبا ہے۔ یہ ٹھیک اس مقام پر واقع ہے جہاں کا کیشیا کا سلسلہ کوہ ختم ہوتا ہے اور بحر خزر سے مل جاتا ہے۔ یہاں ایک دیوار ہے جس کا طول پچاس میل اور اونچائی انتیس فٹ اور موٹائی دس فٹ ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا)
اس مقام سے مغرب کی طرف درہ دانیال جو دو بلند پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے یہاں بھی قدیم زمانے سے ایک دیوار ہے اور اسے آہنی دروازہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے خیال کے مطابق آخری دیوار وہ ہے جو قرآن میں مذکور ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (یہ تفصیلات بیشتر مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن سے ماخوذ ہیں)
آخری پیرے میں اگرچہ سد ذوالقرنین کی کافی وضاحت آچکی ہے تاہم مزید توضیح و تسہیل کے لیے صاحب تفہیم القرآن کا مندرجہ ذیل نوٹ بھی ملاحظہ کرلینا فائدے سے خالی نہیں ہوگا۔
سد سے متعلق مزید وضاحت
ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد مشہور دیوارِچین ہے حالانکہ دراصل یہ دیوار قفقاز (Caucasus) کے علاقہ داغستان میں دربند اور داریال (Darial) کے درمیان بنائی گئی تھی۔ قفقاز اس ملک کو کہتے ہیں جو بحیرہ اسود (Black Sea) اور بحیرہ خزر (Caspian) کے درمیان واقع ہے۔ اس ملک میں بحیرہ اسود سے داریال تک تو نہایت بلند پہاڑ ہیں اور ان کے درمیان اتنے تنگ درے ہیں کہ ان سے کوئی بڑی حملہ آور فوج نہیں گزر سکتی۔ البتہ دربند اور داریال کے درمیان جو علاقہ ہے اس میں پہاڑ بھی زیادہ بلند نہیں ہیں اور ان میں کوہستانی راستے بھی خاصے وسیع ہیں۔ قدیم زمانے میں شمال کی وحشی قومیں اسی طرف سے جنوب کی طرف غارت گرا نہ حملے کرتی تھیں اور ایرانی فرمانروائوں کو اسی طرف سے اپنی مملکت پر شمالی حملوں کا خطرہ لاحق رہتا تھا۔ انہی حملوں کو روکنے کے لیے ایک نہایت مضبوط دیوار بنائی گئی تھی جو 50 میل لمبی 290 فیٹ بلند اور 10 فیٹ چوڑی تھی۔ ابھی تک تاریخی طور پر یہ تحقیق نہیں ہوسکا ہے کہ یہ دیوار ابتداً کب اور کس نے بنائی تھی۔ مگر مسلمان مؤرخین اور جغرافیہ نویس اسی کو سدذوالقرنین قرار دیتے ہیں اور اس کی تعمیر کی جو کیفیت قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے اس کے آثار اب بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔
ابن جریر طبری اور ابن کثیر نے اپنی تاریخوں میں یہ واقعہ لکھا ہے اور یاقوت نے بھی معجم البلدان میں اس کا حوالہ دیا ہے کہ حضرت عمر ( رض) نے آذربائیجان کی فتح کے بعد 22 ہجری میں سراقہ بن عمرو کو باب الابواب (دربند) کی مہم پر روانہ کیا اور سراقہ نے عبدالرحمن بن ربیعہ کو اپنے مقدمۃ الجیش کا افسر بنا کر آگے بھیجا۔ عبدالرحمن جب ارمینیہ کے علاقے میں داخل ہوئے تو وہاں کے فرمانروا شہربراز نے جنگ کے بغیر اطاعت قبول کرلی۔ اس کے بعد انھوں نے باب الابواب کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر شہر براز نے ان سے کہا کہ میں نے اپنے ایک آدمی کو سد ذوالقرنین کا مشاہدہ اور اس علاقے کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجا تھا، وہ آپ کو تفصیلات سے آگاہ کرسکتا ہے۔ چناچہ اس نے عبدالرحمن کے سامنے اس شخص کو پیش کردیا۔ (طبری، ج 3، ص 235 تا 239 البدایۃ والنہایہ ج 7، ص 122 تا 125۔ معجم البلدان، ذکر باب الابواب)
اس واقعہ کے دو سو برس بعد عباسی خلیفہ واثق (227۔ 233 ہجری) نے سد ذوالقرنین کا مشاہدہ کرنے کے لیے سلام الترجمان کی قیادت میں 50 آدمیوں کی ایک مہم روانہ کی جس کے حالات یاقوت نے معجم البلدان میں اور ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں خاصی تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ یہ وفد سامرہ (سُرَّمَنْ رَأیٰ ) سے تفلیس، وہاں سے السریر، وہاں سے علی الاعلان ہوتا ہوا فیلان شاہ کے علاقے میں پہنچا، پھر خزر کے ملک میں داخل ہوا اور اس کے بعد دربند پہنچ کر اس نے سد کا مشاہدہ کیا۔ (البدایہ والنہایہ ج 2، ص 111۔ ج 7، ص 122 تا 125۔ معجم البلدان، باب الابواب) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی ہجری میں بھی مسلمان عام طور پر قفقاز کی اس دیوار ہی کو سدذوالقرنین سمجھتے تھے۔
یاقوت نے معجم البلدان میں متعدد دوسرے مقامات پر بھی اسی امر کی تصریح کی ہے۔ خزر کے زیرعنوان وہ لکھتا ہے کہ ہی بلادالترک خلف باب الابواب المعروف بالدربند قریب من سد ذی القرنین ” یہ ترکوں کا علاقہ ہے جو سدذوالقرنین کے قریب باب الابواب کے پیچھے واقع ہے جسے دربند بھی کہتے ہیں۔ “ اسی سلسلہ میں وہ خلیفہ المقتدر باللہ کے سفیر احمد بن فضلان کی ایک رپورٹ نقل کرتا ہے جس میں مملکت خزر کی تفصیلی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ خزر ایک مملکت کا نام ہے جس کا صدر مقام اتل ہے۔ دریائے اتل اس شہر کے درمیان سے گزرتا ہے اور یہ دریا روس اور بلغار سے آکر بحر خزر میں گرتا ہے۔
باب الابواب کے زیرعنوان لکھتا ہے کہ اس کو الباب اور دربند بھی کہتے ہیں۔ یہ بحر خزر کے کنارے واقع ہے۔ بلادکفر سے بلاد مسلمین کی طرف آنے والوں کے لیے یہ راستہ انتہائی دشوار گزار ہے۔ ایک زمانہ میں یہ نوشیروان کی مملکت میں شامل تھا اور شاہان ایران اس سرحد کی حفاظت کو غایت درجہ اہمیت دیتے تھے۔
Ayahs 18:84–85اِنَّا مَکَّـنَّا لَـہٗ فِی الْاَرْضِ وَاٰتَیْنٰـہُ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ سَبَبًا۔ فَاَتْبَعَ سَبَبًا (الکہف : 84، 85)
(ہم نے اس کو زمین میں بڑا اقتدار بخشا تھا اور ہم نے اسے ہر چیز (تک رسائی حاصل کرنے) کا سازوسامان دیا تھا۔ پس وہ درپے ہوا اسباب و وسائل کے۔ )
سَبَبْ …کا معنی تفسیر مظہری کے مطابق مَایُوْصَلُ اِلَیْہِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْقُدْرَۃِ وَالْآلاَتِاور کبھی یہ لفظ راستہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
ذوالقرنین پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ایک معمولی حیثیت سے اٹھا اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس وقت کی معلوم دنیا کا سب سے بڑا حکمران بن گیا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ذوالقرنین جسے کیخسرو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کا اصل نام کو رش تھا۔ یہ چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط میں اپنے والد کمبوچیہ کی چھوٹی سی ریاست انشان کا والی مقرر ہوا۔ اپنی طبعی ذہانت اور بیدار مغزی سے حالات کا جائزہ لیا۔ سرحدوں کی حفاظت کے لیے جو بن پڑا اس میں کوتاہی نہیں کی۔ پڑوس کے حکمرانوں نے اس ابھرتی ہوئی طاقت سے خوف محسوس کیا۔ چناچہ مادہ کے حکمران نے اس پر حملہ کردیا۔ اس نے نہایت مستعدی سے حملہ آور کا مقابلہ کیا اور فتح پائی۔ یہ فتح اس کی آئندہ فتوحات کے لیے تمہید ثابت ہوئی۔ چناچہ آہستہ آہستہ اس نے چند ہی سالوں میں تمام بڑی ریاستوں کو زیر کرلیا اور بلخ اور مکران سے لے کر بحیرہ روم تک اس کی حکمرانی کا پھریرا لہرانے لگا۔ اس دور میں اور اس سے پہلے بھی اس سے زیادہ وسیع اور پر شکوہ سلطنت کوئی اور قائم نہیں ہوئی۔
فَاَتْبَعَ سَبَبًا…” پس وہ درپے ہوا اسباب و وسائل کے۔ “
اتباع کا مفہوم
اتبع، اتباع اس کا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہوتا ہے، تعاقب کرنا، درپے ہونا اور پیچھے لگنا۔ اَتْبَعَ سَبَبًا کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ فتوحات کے لیے اسباب و وسائل کی فراہمی میں لگ گیا۔ اور یا اس کا یہ مفہوم ہے کہ اس نے اپنے پاس وسائل و ذرائع کا جائزہ لیا اور اس کا اہتمام کیا۔ پھر یہیں سے ترقی کرکے یہ محاورے کے طور پر استعمال ہونے لگا اور اسے کسی مہم کی تیاری کے معنی میں بولا جانے لگا۔ یہاں یہ تمام معانی مراد ہوسکتے ہیں کہ اس نے ارادہ کرلیا کہ جہاں تک میرے وسائل اجازت دیں افرادی قوت اور جنگی استعداد جہاں تک ساتھ دے سکے میں فتوحات کا پھریرا لہراتا ہوا آگے بڑھتا جاؤں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو تمام ممالک کو مسخر کرلوں۔ چناچہ اس نے مغرب، مشرق اور شمال کی طرف باری باری مہمات کا آغاز کیا۔
Ayah 18:86حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَعِنْدَھَا قُوْمًا 5 ط قُلْنَا یٰـذَا الْقُرْنَیْنِ اِمَّـآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّـآ اَنْ تَتَّخِذَفِیْھِمْ حُسْنًا۔ (الکہف : 86)
(یہاں تک کہ جب وہ سورج کے غروب ہونے کے مقام تک پہنچا تو اس نے سورج کو پایا کہ گویا وہ ایک سیاہ چشمے میں ڈوب رہا ہے اور وہاں اس نے ایک قوم پائی، ہم نے کہا اے ذوالقرنین چاہو ان کو سزا دو ، چاہو ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرو۔ )
ذوالقرنین کی مہم
اس آیت کریمہ میں ذوالقرنین کی پہلی مہم کی طرف اشارہ ہے جو اس کے دارالسلطنت کہ متانہ (موجودہ ہمدان) سے مغرب کی طرف ہوئی۔ وہ اپنے دارالسلطنت سے نکلا اور مغربی ملکوں کا رخ کرتے ہوئے سب سے پہلے اس نے مادا (موجودہ عراق و شام) اور لیڈیا (موجودہ ترکی) کو زیرنگیں کیا۔ لیڈیا کا اس وقت حکمران کر اسس تھا۔ اس کے اگرچہ اس کے والد کے ساتھ معاہدات تھے تاہم اس نے معاہدوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ذوالقرنین پر حملہ کردیا، تو مجبوراً ذوالقرنین کو اس کے مقابلے کے لیے نکلنا پڑا۔ لیڈیا کے دارالحکومت سارڈیس (نزد سمرنا) میں اس نے کر اسس کو شکست دی حالانکہ اسے بابل، مصر اور اسپارٹا کے حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ چناچہ ان علاقوں کی فتوحات کے بعد ذوالقرنین آگے بڑھتا گیا۔ اب کوئی بڑی رکاوٹ اس کے راستے میں نہ تھی، حتیٰ کہ وہ بحیرہ روم کے ساحل پر پہنچ گیا اور سمندر حائل ہونے کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔
مغرب الشمس سے مراد سورج کے غروب ہونے کی جگہ نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ملک پر ملک فتح کرتا ہوا وہاں پہنچ گیا جہاں خشکی ختم ہوجاتی ہے اور آگے سمندر ہی سمندر دکھائی دیتا ہے اور سمندر کے کنار کے کھڑے ہو کر دیکھنے سے غروب آفتاب کے وقت یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آفتاب سمندر میں اتر رہا ہے۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ یہ ایشیائے کو چک کا مغربی ساحل ہوگا جہاں بحرایجین چھوٹی چھوٹی خلیجوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں سمندر زیادہ گہرا نہیں اور پانی کی کمی کے باعث گدلا اور سیاہ دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍکے الفاظ استعمال کیے ہیں جس کا معنی ہے سیاہ چشمہ۔ یعنی پانی گدلا ہونے کی وجہ سے سیاہ دکھائی دے رہا تھا اور چونکہ یہاں سمندر خلیجوں میں تقسیم ہوگیا تھا اس لیے سمندر نہیں ایک چشمہ محسوس ہورہا تھا۔
قول کا مفہوم
اس علاقے میں ذوالقرنین نے ایک قوم کو دیکھا، ہوسکتا ہے یہ قوم کروسس کی قوم ہو جس کو ذوالقرنین نے شکست دی تھی۔ اس کے بارے میں پروردگار نے ذوالقرنین کو اختیار دیا کہ چاہے تم انھیں سزا دو اور چاہے ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرو۔ یہاں چونکہ پروردگار نے ذوالقرنین سے خطاب فرمایا ہے اس لیے بعض لوگوں کو گمان ہوا کہ ذوالقرنین نبی تھے یا محدَّث تھے۔ اسی لیے پروردگار نے براہ راست ان سے خطاب کیا حالانکہ یہ محاوراتی یا اشاراتی زبان ہے اور یہ اسلوب قرآن کریم میں جا بجا استعمال ہوا ہے۔ مراد اس سے یہ نہیں کہ ہم نے ذوالقرنین سے یہ کہا بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم نے اسے ایسی شاندار فتح سے نوازا اور اس کے دشمن کو اس کے سامنے ایسا بےبس کردیا کہ حالات زبان حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ ذوالقرنین یہ قوم اب تیرے رحم و کرم پر ہے۔ تم اگر ان پر ظلم کرنا چاہو تو یہ مدافعت نہیں کرسکتے۔ اور اگر حُسنِ سلوک کرو تو یہ تمہاری عالی ظرفی ہے۔ بصورتِ دیگر اگر یہ مراد لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو اس بات کا اختیار دیا تھا کہ تم ظلم کرو یا حُسنِ سلوک کرو، ہر طرح تمہیں اجازت ہے تو یہ ایک ایسی بات ہے جو مذہب کی تعلیم سے یکسر بیگانہ ہے کیونکہ مذہب کسی کو ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ جب کسی کو طاقت اور اختیار دیتا ہے تو اسے عدل اور حُسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کی مثالیں موجود ہیں مثلاً حضرت دائود (علیہ السلام) کو خطاب کرکے پروردگار نے فرمایا : یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰـکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحُکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلَّـکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ م بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسْابِ ۔ (صٓ۔ 26)
(اے دائود ( علیہ السلام) ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا دے۔ ، جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جائیں گے، ان کے لیے سخت عذاب ہے بوجہ اس کے کہ وہ روز حساب کو بھول بیٹھے۔ )
اسی طرح کا خطاب سورة صٓمیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے بھی ہے۔ ہٰذَا عَطَائُ نَا فَامْنُنْ اَوْاَمْسِکْ ” یہ ہماری تمہارے اوپر بےحساب بخشش ہے تو چاہے تم لوگوں پر احسان کرو چاہے روک رکھو۔ “
پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو حکمرانی دی لیکن ساتھ ہی لوگوں میں عدل کرنے کا حکم دیا اور دوسری سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح انسان کو ایک آزادی حاصل ہے کہ چاہے وہ ایمان لائے اور چاہے کفر کی راہ اختیار کرے اسی طرح اس کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں پا کر چاہے تو جودوکرم اور احسان اور انفاق کی راہ اختیار کرے اور چاہے خست اور بخالت کی، لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ان دونوں میں سے ایک پسندیدہ ہے اور اسی کا اپنے بندوں سے وہ مطالبہ کرتا ہے۔ ذوالقرنین سے بھی یہی کہا گیا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن قوت سے نوازا ہے۔ یہ لوگ تمہارے سامنے بول نہیں سکتے لیکن اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے کہ تم ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرو اور اللہ تعالیٰ کے یہاں سے اجر پائو۔
Ayahs 18:87–88قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُـہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّـہٖ فَـیُـعَذِّبُـہٗ عَذَابًا نُّـکْرًا۔ وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَـہٗ جَزَآئَ نِ الْحُسْنٰی ج وَسَنَقُوْلُ لَـہٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا۔ (الکہف : 87، 88)
(ذوالقرنین نے کہا جو ان میں سے ظلم کا مرتکب ہوگا ہم اس کو سزا دیں گے پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت ترین عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور عمل صالح اختیار کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس بھی اچھا بدلہ ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ آسان معاملہ کریں گے۔ )
قول ذوالقرنین کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں قَالَ کا فاعل ذوالقرنین ہے۔ بظاہر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہقُلَنَا کا جواب ہے کہ پروردگار نے سابقہ آیت میں ذوالقرنین سے جو کچھ فرمایا تھا اس کے جواب میں ذوالقرنین نے یہ بات کہی، لیکن ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قول ہمیشہ کہنے ہی کے معنی میں نہیں آتا بلکہ بعض دفعہ رویئے کے اظہار کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بھی قول سے مراد قول بلسانِ حال ہے۔ ذوالقرنین نے اس مفتوح قوم کے سامنے جو ہر طرح اس کے اختیار میں تھی اپنا رویہ یہ اختیار کیا اور یہ پالیسی بنائی کہ ہم فاتح ہونے کی حیثیت سے ظلم کا دروازہ نہیں کھولیں گے جیسا کہ عموماً فاتحین کیا کرتے ہیں، بلکہ ہم مفتوح قوم کے ساتھ نہ صرف عادلانہ رویہ اختیار کریں گے بلکہ فاتح اور مفتوح کا فرق مٹاتے ہوئے نہایت مساویانہ رویہ قائم کریں گے کہ جو شخص ان میں ظلم و زیادتی کرے گا اسے ہم سزا دیں گے۔ اور ساتھ ہی اسے تربیت کے انداز میں سمجھانے کی کوشش بھی کریں گے کہ اسے اسی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا بلکہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے روبرو بھی حاضر ہونا ہے۔ ہماری سزائیں اس عذاب کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں جس سے اسے وہاں سابقہ پیش آنے والا ہے۔ البتہ جس شخص نے نیک چلنی کا رویہ اختیار کیا یعنی وہ ایمان لایا اور اعمالِ صالحہ کو اپنا توشہ بنایا اس کے لیے ہمارے پاس بہترین بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی وہ شخص اچھے انجام سے سرفراز ہوگا اور ہم اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کریں گے جس کی وجہ سے اسے زندگی گزارنے میں آسانی پیدا ہو۔ اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے نرم پالیسی اختیار کریں گے۔ ایسی پالیسی جو ایک طرف عدل اور مساوات اور دوسری طرف رحم اور مروت پر مبنی ہوگی۔
ذوالقرنین کا سلوک
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کا اپنی مفتوحہ قوموں کے ساتھ ایسا ہی رویہ تھا۔ اس کی فوج کے کسی سپاہی کی مجال نہ تھی کہ وہ مفتوح قوم کے کسی فرد پر ظلم کرسکتا۔ اس نے جن علاقوں کو بھی فتح کیا وہاں لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آیا۔ جو پہلے سے ان پر بھاری ٹیکس عائد کیے گئے تھے وہ اس نے سب معاف کردیئے حتیٰ کہ خراج بھی لینا پسند نہ کیا جو ہر فاتح لیا کرتا ہے۔ اس کے بدترین دشمن بھی جب گرفتار کرکے اس کے سامنے لائے گئے تو اس نے انھیں معاف کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ جو علاقے اس نے فتح کیے وہاں کے رہنے والے لوگ اس کے سلوک سے متاثر ہو کر دل کی گہرائیوں سے اس کے وفادار ثابت ہوئے اور کہیں بھی اسے بغاوت سے سابقہ پیش نہیں آیا۔ اس سفر میں اس نے جس بادشاہ کو شکست دی تھی اس کے ساتھ اس کا رویہ حیرت انگیز حد تک فیاضانہ تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ ذوالقرنین نے اس بادشاہ کو اس کی موت تک اپنے محل میں رکھا اور اسے دس ہزار پیادے اور پانچ ہزار سوار عطا کیے تاکہ اس کی حیثیتِ عرفی کو گزند نہ پہنچے۔
ذوالقرنین مومن تھا
ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین ایک مومن اور آخرت پر یقین رکھنے والا شخص تھا۔ اسی لیے وہ ایمان و عمل کی بات کرتا ہے اور آخرت کا حوالہ دیتا ہے۔ جن لوگوں نے ذوالقرنین سے سکندر مراد لیا ہے ان کی تردید کے لیے یہی بات کافی ہے کہ سکندر میں نہ ایمان تھا نہ عمل صالح اور نہ اس کا رویہ اپنے دشمنوں کے ساتھ فیاضانہ تھا۔ بلکہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کا مقالہ نگار جلد 1، ص 567 میں لکھتا ہے کہ سکندر نے اپنے باپ فلپ کے مرنے کے بعد اپنے معصوم ننھے سوتیلے بھائی کو جو قلوپطرا کے بطن سے تھا قتل کرا دیا اور اسی طرح اپنے چچازاد بھائی منٹاس کو بھی اس نے مروا ڈالا۔ نیز اس کے متعلق یہ بھی گمان کیا جاتا ہے کہ اس کے باپ کے قتل میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ ایسے شخص کی اس بلند کردار شخص سے کیا نسبت ہوسکتی ہے جس طرح کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے۔
ذوالقرنین زردشت کا ہمعصر اور اس کا پیرو تھا اور زردشت کی اصل تعلیمات میں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا صحیح تصور موجود تھا۔ اگرچہ بعد میں نہ اس سے منسوب کتاب محفوظ رہی اور اس کا مذہب حقیقی صورت میں باقی رہا۔ حتیٰ کہ آج وہ ایک آتش پرست مذہب کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ ذوالقرنین کا جانشیں دارا ظاہر ہے جو اپنے پیشرو کے طریقے پر چلنے والا ہوگا اس کے بارے میں دستیاب ہونے والے بعض کتبوں سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ وہ اہورمزدا کی عبادت کیا کرتا تھا اور اپنی سلطنت کو اس کے فضل و کرم سے منسوب کرتا تھا اور اس سے راہ راست پر قائم رہنے کی توفیق مانگتا تھا۔ اس کی یہ دینداری یقینا ذوالقرنین کے اثرات کا نتیجہ تھی۔
Ayahs 18:89–91ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَذَھَا تَطْلُعُ عَلٰی قُوْمٍ لَّـم نَجْعَلْ لَّھُمْ مِّنْ دُوْنِھَا سِتْرًا۔ کَذٰلِکَ ط وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْہِ خُبْرًا۔ (الکہف : 89 تا 91)
( پھر اس نے ایک اور مہم کی تیاری کی۔ یہاں تک کہ جب وہ طلوع آفتاب کے مقام پر پہنچا تو اس نے سورج کو پایا ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے ہوئے جس کے لیے دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی آڑ ہم نے نہیں بنائی تھی۔ ایسا ہی ہم نے کیا اور ہم اس کے احوال سے خوب باخبر تھے۔ )
ذوالقرنین کی دوسری مہم
اس آیت کریمہ میں ذوالقرنین کی دوسری مہم کا ذکر ہے۔ پہلا سفر اس کا مغرب کی جانب تھا۔ یہ سفر اس کا مشرقی سمت میں تھا۔ اس سمت میں وہ فتح کا پھریرا لہراتا ہوا متمدن اور مہذب دنیا کی آخری حد تک پہنچ گیا۔ وہاں اس نے ایسی قوم کو دیکھا جو انتہائی وحشی اور غیرمتمدن لوگ تھے۔ انھیں یہ تک معلوم نہیں تھا کہ موسم کی شدت سے بچنے کے لیے گھر بنانا بھی ضروری ہیں۔ وہ تعمیر و تمدن کی ہر ضرورت سے ناآشنا، حیوانوں کی طرح وحشت کی زندگی گزار رہے تھے اور خانہ بدوشوں کی طرح چلتے پھرتے ان کی زندگی گزرتی تھی۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ ذوالقرنین کے اس سفر کا سبب مکران، قندھار اور بلخ کے وحشی اور صحرا گرد قبائل کی سرکشی تھی۔ انھوں نے مشرقی سرحد پر ایسی بدامنی پھیلا رکھی تھی کہ جس کا سدباب کرنے کے لیے ذوالقرنین کو یہ سفر کرنا پڑا۔ چناچہ اپنی مشرقی سرحدوں کو محفوظ کرنے کے لیے ذوالقرنین نے اس پورے علاقے کو فتح کیا تاکہ ان وحشی قبائل کی دست برد سے محفوظ رہا جاسکے۔ اس کے بعد یہ جو فرمایا گیا کہ ہم اس کے احوال سے خوب باخبر تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین کی یہ فتوحات سکندر اور چنگیز کی فتوحات کی طرح نہیں تھیں جس میں ظلم وتعدی کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ ان فتوحات کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید کام کررہی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتے تھے کہ ذوالقرنین کی صلاحیتوں اور اس کی سیرت و کردار کا کیا عالم ہے۔ چناچہ جب اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ ثابت کیا اور اس نے اپنی قوت و طاقت کو ظلم کا ذریعہ بنانے کی بجائے خدمتِ خلق اور نظام عدل کے قیام کا ذریعہ بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے فتوحات کے دروازے کھول دیئے۔