Ayah 18:27وَا تْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ج ط لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ قف ج وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا۔ (الکہف : 27)
(آپ ﷺ کے رب کی کتاب سے جو کچھ آپ ﷺ پر وحی کیا گیا ہے اسے پڑھ کر سنایئے، اس کے کلمات کو کوئی نہیں بدل سکتا اور آپ ﷺ اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں پاسکتے۔ )
آپ کو یاد ہوگا کہ اس سورت کا آغاز اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے ہوا تھا کہ اس نے اپنے عظیم و جلیل بندے پر ایسی کتاب اتاری جو انسانی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر لحاظ سے تشفی بخش اور ہر کجی اور ہر کوتاہی سے پاک ہے۔ اس کا پیش کردہ نظام زندگی انسانی فطرت کا عکاس اور انسانی ضروریات کا کفیل ہے۔ اس کے بعد اس کتاب کے نزول اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کے مقصد کی طرف توجہ دلائی گئی۔
آیت کا ماسبق
جب اس کتاب کا نزول ہورہا تھا اور اس کی دعوت رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہی تھی تو ویسے ویسے قریش کی طرف سے مخالفت میں بھی شدت پیدا ہوتی جارہی تھی۔ وہ ایک طرف آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والوں کو طاقت کے استعمال سے ہراساں کردینا چاہتے تھے اور دوسری طرف اہل کتاب سے پوچھ پوچھ کر ایسے سوالات کرتے تھے جن کا جواب دینا ان کے خیال میں آنحضرت ﷺ کے لیے ممکن نہ تھا۔ چناچہ انھوں نے اپنی اس پالیسی کے تحت آپ ﷺ سے چند سوالات کیے جن میں اصحابِ کہف کا واقعہ بھی تھا۔ قرآن کریم نے اس کا جواب ایک تو اس وجہ سے دیا تاکہ انھیں یقین ہوجائے کہ آنحضرت ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ ﷺ اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے جبکہ عرب بھر میں اس کا جاننے والا کوئی نہ تھا۔ اور دوسری وجہ اس کا جواب دینے کی یہ بھی تھی کہ مسلمان قریش کی بڑھتی ہوئی اذیت رسانی کے باعث نہایت تکلیف میں تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان ہی دنوں ہجرت حبشہ کا واقعہ بھی پیش آیا ہوگا۔ چناچہ مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں تکلیفوں کا پیش آنا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہ اس راستے کی ایسی سنت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ کل اصحابِ کہف ایسی ہی اذیت رسانیوں سے تنگ آکر اپنے شہر سے ہجرت کرکے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے تھے اور آج اہل حق مکہ میں اس دعوت حق کو قبول کرنے کے نتیجے میں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ سبب ایک ہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے دین کے ماننے والوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو اس سے ہراساں نہیں ہونا چاہیے۔
ضمنی مباحث کے بعد اصل مضمون کا ذکر
اصحابِ کہف کے واقعہ کو مکمل کردینے کے بعد پھر مضمون کے اسی پہلے رشتے کو پکڑ لیا گیا ہے جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا اور چناچہ فرمایا جارہا ہے کہ انسانی ہدایت کے لیے اصل نسخہ شفا وہ یہی قرآن کریم ہے۔ اسی کی قبولیت اور اسی سے وابستگی دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کی ضمانت ہے۔ اسی کی دعوت پر پہلے بھی مخالفین مشتعل ہوتے رہے ہیں اور آج بھی ہورہے ہیں، لیکن اہل حق کی استقامت کو دیکھ کر انھوں نے ہر دور میں کمپرومائز کرنے کی کوشش کی ہے اور اہل حق کو مجبور کیا ہے کہ آپ اپنی دعوت میں کوئی نرمی پیدا کریں۔ کچھ باتیں ہماری مان لی جائیں، کچھ ہم آپ کی مان لیتے ہیں۔ چناچہ ایسے ہی مطالبات نبی کریم ﷺ سے بھی کیے جارہے تھے۔ مثال کے طور پر سورة یونس کی آیت نمبر 15 میں ارشاد فرمایا گیا وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰـتُـنَا بَیِّنَاتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لاَیَرْجُوْنَ لِقَائَ نَا اِئْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِھٰذَا اَوْبَدِّلْـہُ ” جب ہماری آیات صاف صاف ان کو سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو کبھی ہمارے سامنے حاضر ہونے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس کی بجائے کوئی اور قرآن لے آئو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ “ قریش بھی آنحضرت ﷺ سے اس طرح کی توقعات رکھتے تھے، لیکن ایسی توقع اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں اس حد تک گری ہوئی تھی کہ پروردگار نے نفرت سے ان کی طرف سے منہ پھیر کر آنحضرت ﷺ سے خطاب فرمایا، لیکن روئے سخن انھیں کی طرف ہے کہ آپ ﷺ پر کتاب کا جو حصہ بھی اتارا جا رہا ہے، آپ ﷺ انھیں جوں کا تون پڑھ کر سنا دیں اور اچھی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام ان تک پہنچا دیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کو بھی اس کا اختیار نہیں۔ آنحضرت ﷺ تو ظاہر ہے ایسی کسی بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ قریش کے سامنے اس جرم کی شناعت کو مبرہن کرنے کے لیے آپ ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر آپ ﷺ بھی ایسی کو تبدیلی کرنا چاہیں تو آپ ﷺ بھی اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بھاگ کر کہیں جائے پناہ تلاش نہیں کرسکتے، تو قریش کو اس سے اندازہ ہوجانا چاہیے کہ جو وہ توقع باندھے بیٹھے ہیں اس کی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی گنجائش نہیں بلکہ وہ ایسا شدید جرم ہے جس کی سزا سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
Ayah 18:28وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدُعُوْنَ رَبَّـھُمْ بِالْغَدٰو ۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ وَلاَ تَعْدُ عَیْنٰـکَ عَنْہُمْ ج تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحٰیوۃِ الدُّنْیَا ج وَلاَ تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا۔ (الکہف : 28)
(اور آپ ﷺ روکے رکھئے اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا کے طلبگار ہیں اور آپ ﷺ کی نگاہیں ان سے ہٹنے نہ پائیں کیا آپ ﷺ دنیوی زندگی کی زینت چاہتے ہیں آپ ﷺ اس شخص کی بات کی طرف دھیان نہ دیں جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کا اتباع کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے۔ )
دعوت کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کو ہدایات
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ امت ِ مسلمہ کی نظریاتی بنیاد قرآن کریم ہے، اس سے ناقابل شکست وابستگی اور اس کی ہر طرح کے اضمحلال سے پاک اطاعت اور اس کے ناقابلِ تغیر اور ناقابلِ ترمیم ہونے کا یقین اس امت کے ایک ایک فرد کا حقیقی سرمایہ ہے۔ ایسی نظریاتی دعوت کو قبول کرنے والے آغاز میں ہمیشہ غریب اور نوجوان ہوتے ہیں۔ عمررسیدہ لوگوں کو ان کے مفادات اور ان کے اندیشہ ہائے دور دراز کسی بڑے فیصلے کے لیے آمادہ نہیں ہونے دیتے۔ اسی طرح طبقہ امراء کے لوگ اپنی عیش و عشرت سے مامور زندگی کو بدلنے پر کبھی تیار نہیں ہوتے۔ ہرقل شاہ روم نے جنابِ ابوسفیان ( رض) سے پوچھا تھا کہ اس دعویٰ نبوت کرنے والے شخص پر ایمان لانے والے امیر ہیں یا غریب، تو انھوں نے جواب دیا کہ غریب لوگ ہیں۔ تو بعد میں ہرقل نے بتایا کہ ہر سچے نبی پر ایمان لانے والے آغاز میں ہمیشہ غریب ہی لوگ ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ مصائب کا برداشت کرنا اور زندگی کی مکمل تبدیلی اور علائق دنیوی سے مکمل انقطاع اور صرف ایک تعلق کو باقی رکھنے کے لیے باقی ہر تعلق کی قربانی یہ نہ عمررسیدہ لوگوں کے لیے ممکن ہوتی ہے اور نہ امیر لوگ اس کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ محلات میں رہنے والے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا سکتے ہیں لیکن طوفانوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے۔ ولولوں کی دنیا ہمیشہ غریبوں کے جھونپڑوں میں پیدا ہوتی ہے۔ یہاں سے وہ طوفان اٹھتے ہیں جن میں محلات بہہ جایا کرتے ہیں۔ اس لیے ہم حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے احوال میں بھی دیکھتے ہیں کہ ان کے ہمرکاب اور ان کے ہمنشین غریب لوگ تھے جن پر امراء طنز کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ( رض) کہتے ہیں کہ قریش بھی نبی کریم ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ یہ بلال ( رض) اور صہیب ( رض) اور عمار ( رض) اور خباب ( رض) اور ابن مسعود ( رض) جیسے غریب لوگ جو آپ ﷺ کی صحبت میں بیٹھا کرتے ہیں، ہم ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ انھیں آپ ﷺ ہٹائیں تو ہم آپ ﷺ کی مجلس میں آسکتے ہیں۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ عیینہ بن حصن الفزاری جو قبیلہ مضر کا سردار تھا۔ اسلام لانے سے پہلے ایک دفعہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، وہاں حضرت سلمانِ فارسی، ابوذر اور دیگر فقراء صحابہ ( رض) آنحضرت ﷺ کے فیض صحبت سے مستفیض ہورہے تھے، گرمی کا موسم تھا، پیسنے کی بو ان غریبوں کے اونی جبوں سے اٹھ رہی تھی۔ عیینہ کہنے لگا کیا یہ بدبو آپ ﷺ کو تنگ نہیں کرتی۔ ہم قبیلہ مضر کے سردار ہیں، ہم آپ ﷺ کے پاس آنا چاہتے ہیں لیکن ان غریب اور بدبودار کپڑوں والوں کے ساتھ تو ہم نہیں بیٹھ سکتے، آپ ﷺ انھیں ہٹائیں تو ہم آپ ﷺ کے پاس بیٹھنے کو تیار ہیں۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ کو تلقین کی گئی کہ آپ ﷺ کی حقیقی قوت اور آپ ﷺ کا اصل سرمایہ یہی آپ ﷺ کے فداکار اور سرفروش ہیں۔ یہ ان امراء کی نگاہوں میں چاہے کیسے بھی حقیر ہوں، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو انھیں کا مقام ہے، کیونکہ یہی اس مجلس کے اصل چراغ ہیں۔ یہ انھیں حقیر سمجھ کر بجھا دینا چاہتے ہیں لیکن :
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
غریب اور مخلص کارکن ہی دعوت کی قوت ہیں
چناچہ ان غرباء کے لیے آنحضرت ﷺ سے جو کچھ کہا گیا، اس سے ایک طرف ان جاں نثاروں کے دلوں میں آپ ﷺ کی قدروقیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کتنا بلند مقام رکھتے ہیں۔ رہے وہ طبقہ امراء کے لوگ جو انھیں ہٹانے کے مطالبات کررہے تھے ان کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کس حیثیت کے مالک ہیں۔ چناچہ ہم اسی ترتیب سے ان تینوں باتوں کو واضح کرتے ہیں۔
1 آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ یہ لوگ غریب سہی ان کے پاس پہننے کو ڈھب کے کپڑے بھی نہیں ہیں، مجبوراً اونی کپڑے پہنتے ہیں کیونکہ ان سے زیادہ اور کوئی سستا کپڑا نہیں ہوتا اور پھر پھٹتے بھی جلدی نہیں، لیکن گرمیوں میں ان میں اتنا پسینہ جمع ہوجاتا ہے کہ جس مجلس میں بھی بیٹھیں اس سے سڑاند اٹھنے لگتی ہے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی ناگواری کے لیے کافی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خوش مزاج بنایا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود آپ ﷺ انھیں اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے، کیونکہ یہی آپ ﷺ کی اصل قوت ہیں۔ اور مزید یہ کہ آپ ﷺ اگر انھیں دور ہٹائیں گے تو ان کے دل پارہ پارہ ہوجائیں گے، وہ ساری دنیا سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور آپ ﷺ کی ایک نگاہ کی طلب کے لیے آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ آپ ﷺ کی نگاہ کرم ان کے غموں کا مداوا ہے۔ آپ ﷺ کی محبت کی ایک نگاہ ان کے دلوں کا چراغ ہے۔ وہ پیٹ پر پتھر باندھ سکتے ہیں لیکن آپ ﷺ کے تغافل کو برداشت نہیں کرسکتے۔ وہ مخالفین کی اذیتوں کو اس وقت بھول جاتے ہیں جب آپ ﷺ ایک دفعہ انھیں مسکرا کے دیکھتے ہیں، اس لیے فرمایا لاَ تَعْدُعَیْنَاکَ عَنْہُمْ ” آپ ﷺ کی نگاہیں ان سے ہٹنے نہ پائیں۔ “ یہاں تعدو واحد مونث غائب کا صیغہ ہے اور تنصرف کے معنی بھی استعمال ہوا ہے۔ اس لیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ﷺ اپنی نگاہیں ان سے نہ پھیریں بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نگاہیں ان سے پھر نی نہیں چاہئیں، کیونکہ جیسے ہی آپ ﷺ کی نگاہ پھرے کی یا توجہ ہٹے گی، ان کی دنیا اجڑ جائے گی۔ وہ دنیا جس پر لوگ جان دیتے ہیں اسے تو وہ آپ ﷺ کی خاطر آگ لگا کے آئے ہیں۔ اب اگر آپ ﷺ کی توجہ ان سے ہٹ گئی تو ان کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا۔
2 اسی سے غرباء کے مقام و مرتبہ کا اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ان کی باتیں پروردگار ارشاد فرما رہا ہے، گویا پروردگار ان کا وکیل ہے اور ان کی خوشی اس حد تک پروردگار کو عزیز ہے کہ جس بات سے ان کی خوشی مکدر ہوسکتی ہے اس سے بچنے کے لیے حضور ﷺ سے سفارش کی جارہی ہے اور مزید یہ بات کہ زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر ضروری تو نہیں ہوتا کہ وہ دل کا ترجمان ہو۔ بعض دفعہ زبان ایک بات کو دہراتی ہے لیکن دل اس کی تصدیق سے خالی ہوتا ہے لیکن کیا مقام و مرتبہ ہے ان لوگوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذکر، ان کی یاد اور ان کی دعائوں کو حُسنِ قبول کی سند دیتے ہوئے فرمارہا ہے کہ ان کا اپنے رب کو پکارنا محض پکارنا نہیں بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا جذبہ بھی کارفرما ہے۔ اس سے بڑھ کر کسی کا اور اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔
3 رہی ان امراء کی بات جو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لیے غریبوں کا دور کیا جانا ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے تئیں جو چاہیں سمجھیں لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی قدر و قیمت اتنی نہیں کہ وہ آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے کے قابل ہوں اور نہ وہ اس لائق ہیں کہ آپ ﷺ انھیں منہ لگائیں۔ یہ لوگ دنیا کے خزف ریزوں کے پجاری ہیں، ان کی نگاہ میں دین کی کوئی قدر و قیمت نہیں اور نہ انسانیت کا کوئی مقام ہے۔ ہر چیز کو درہم و دینار کے ترازو میں تولتے ہیں۔ ان کے دلوں کی دنیا مسمار ہوچکی ہے۔ ہم نے ان کے دلوں کو اپنی یاد سے غافل کردیا ہے۔ انھیں معلوم ہی نہیں کہ ان کی زندگی کے کچھ مقاصد بھی ہیں، یہ صرف ہوائے نفس کی پیروی کرنا جانتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ جس طرح حیوان صرف اپنی ضروریات اور خواہشات کے پیچھے چلتا ہے اسے انسانی اقدار کا کچھ پتہ نہیں، یہی حال ان کا بھی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا ہر کام اعتدال سے ہٹا ہوا اور افراط وتفریط پر مبنی ہے کیونکہ ” فرط “ کا معنی اسراف، ظلم اور حدود سے تجاوز کے ہیں۔ الامر الفرطاس معاملہ کو کہتے ہیں جو حدود سے بالکل متجاوز ہوگیا ہو۔
یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ نبی کریم ﷺ طبقہ امراء کے لوگوں کو زیادہ پسند کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ آپ ﷺ کی نشستیں ہوں۔ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں ہر انسان کے لیے قبولیتِ ایمان کی جو شدید حرص پائی جاتی تھی اس کے پیش نظر آپ ﷺ خیال فرماتے کہ اگر یہ بااثر لوگ کسی طرح مسلمان ہوجائیں تو ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بڑی تیزی سے دائرہ ایمان میں داخل ہوسکتے ہیں اور جب وہ امیر لوگ اس طرح کی خواہش کا اظہار کرتے کہ ہم ان غرباء کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہیں، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہمارے یہاں کوئی بڑا زمیندار کسی کمی کمین کے ساتھ بیٹھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ دیہات میں غریب لوگوں کو کمی کمین کہا جاتا ہے، یعنی وہ انتہائی گرے ہوئے لوگ ہیں۔ یہی حال قریش کا بھی تھا۔ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں اشاعتِ اسلام کے جذبے کے تحت کبھی یہ خیال آتا ہو کہ میں اگر ان کے لیے الگ نشست کا اہتمام کروں تو شاید یہ لوگ متاثر ہوں اور حلقہ ایمان میں آجائیں، لیکن اس سے غریب جاں نثاروں کے دل پر جو چوٹ لگ سکتی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے پسند نہیں فرمایا اور آنحضرت ﷺ کو اس بات سے روک دیا گیا۔
Ayah 18:29وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّـکُمْ قف فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآئَ فَلْیَکْـفُرْ لا اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا لا اَحَاطَ بِہِمْ سُرَادِقُـھَا ط وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآئٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ ط بِئْسَ الشَّرَابُ ط وَسَآئَ تْ مُرْتَفَقًا۔ (الکہف : 29)
(اور کہہ دیجیے یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے، پس جس کا جی چاہے وہ ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرتا رہے، ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتوں نے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے، اور اگر وہ (پانی کے لیے) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کی جائے گی ایسے پانی سے جو پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا، چہروں کو بھون ڈالے گا، کیا ہی برا پانی ہوگا اور کیا ہی برا ٹھکانہ۔ )
سُرَادِقُـھَا : سُرَادِقْکے اصل معنی ہیں، قناتیں اور پردے، جو کسی خیمہ گاہ کے گرد لگائے جاتے ہیں۔ بعض اہل لغت نے لکھا کہ سُرَادِقْ ہر وہ چیز ہے جو کسی کو اپنے گھیرے میں لے لے، جیسے دیوار اور خیمہ وغیرہ۔
ترمذی اور مسند احمد کی ایک روایت میں کہا گیا ہے کہ حضرت ابوسعید خدری ( رض) نے رسول کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد آگ کی چار دیواریں ہیں۔ ہر ایک اتنی موٹی ہوگی کہ اسے طے کرنے کے لیے چالیس سال درکار ہوں گے۔
مُھْل : مجاہد سے اس کا یہ معنی روایت کیا گیا ہے کہ مُھْلپیپ اور خون کو کہتے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ( رض) سے مروی ہے کہ وہ تیل کا سیاہ تلچھٹ ہے جو نیچے جم جاتا ہے۔ بعض حضرات نے اس لفظ کا معنی لاوے سے کیا ہے، یعنی زمین کے وہ مادے جو شدت حرارت سے پگھل گئے ہوں۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد پگھلی ہوئی دھات ہے۔ مثلاً پگھلا ہوا تانبا۔
متکبرین کے لیے کلمہ حق
آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ان امراء کی ناز برداریاں چھوڑیئے، آپ ﷺ کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہے، یہ وہ راستہ ہے جس پر اصحابِ کہف چلے۔ شاید اسی لیے ان کا تذکرہ پہلے کیا گیا ہے کہ ان کے اپنوں اور بیگانوں نے انھیں سمجھایا، بجھایا، بہلایا اور آخر دھمکایا لیکن انھوں نے صاف اعلان کیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی اور کو اِلٰہ ماننے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اور جب وہ اپنی طویل نیند سے بیدار ہوئے تو تب بھی انھیں فکر اسی بات کی تھی کہ اگر ہماری قوم کو پتہ چل گیا کہ ہم کون ہیں، تو وہ ہمیں یا تو رجم کردیں گے اور یا دوبارہ ہمیں مشرک بنادیں گے اور ہم کسی قیمت پر توحید سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ مسلمانوں کے لیے بھی یہی ایک راستہ ہے۔ اور آنحضرت ﷺ سے اعلان کرایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ قریش سے صاف صاف کہہ دیجیے کہ حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوگیا ہے اور جسے میں نے صاف صاف تم تک پہنچا دیا ہے۔ اب تمہیں اختیار ہے چاہو اسے تسلیم کرو اور چاہے اپنے کفر پر قائم رہو، درمیان کا کوئی راستہ نہیں۔ اور یہ تمہاری اپنی ذمہ داری ہے کہ تم صحیح راستے پر چلو۔ یہ بہانے کہ ان غریبوں کو اٹھائو تو ہم آئیں گے یہ تمہیں تمہارے برے انجام سے نہیں بچا سکتے۔ ہاں ! ایک بات یا رکھو کہ اگر تم کفر کا راستہ اختیار کرتے ہو تو پھر ہم تمہیں آگاہ کیے دیتے ہیں کہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ کیا بیتنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انھیں اپنے گھیرے میں لے چکی ہیں۔ قیامت کا اعلان ہونے کی دیر ہے یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ اس آگ سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی، یہ جلتے ہوئے جب پانی کی فریاد کریں گے تو انھیں پگھلے ہوئے تابنے کا پانی دیا جائے گا جو چہروں کو بھون دے گا۔ اندازہ کرو، وہ کیسا پانی ہوگا جس کا ایک گھونٹ سب کچھ جلا دینے کے لیے کافی ہوگا اور وہ کیسا ٹھکانہ ہوگا جس کی آگ کی لپٹیں قناتوں اور دیواروں کی طرح اپنے حصار میں لے لیں گی اور کبھی بھی اس سے جان نہیں چھوٹے گی۔
Ayahs 18:30–31اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لاَ نُضِیْعُ اَجْرَمَنْ اَحْسَنَ عَمَلاً ۔ اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَمِنْ ذَھْبٍ وَّیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَآئِکِ ط نِعْمَ الثَّوَابُ ط وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔ (الکہف : 31)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے کام کیے تو ہم خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے۔ یہی وہ خوش نصیب ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے جنت ہیں، جن کے نیچے نہریں رواں ہیں، وہ ان جنتوں میں سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، وہ سبز باریک ریشمی کپڑوں اور موٹے ریشمی کپڑوں کی پوشاک پہنیں گے، وہ تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، کیا ہی خوب صلہ ہے اور کیا ہی خوب ٹھکانہ۔ )
سُنْدُس : اس کا واحد سُنْدُسَہہے۔ وہ کپڑا جو باریک ریشم سے بنایا گیا ہو۔
اِسْتَبْرَق : اس کپڑے کو کہتے ہیں جو موٹے ریشم سے بنایا گیا ہو۔
اَرَآئِک : اس کا واحد ہے اَرِیْکَۃٌ مرصع پلنگ یا تخت کو کہتے ہیں۔
صاحبِ ایمان لوگوں کو صلہ
قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق پہلے کافروں کے انجام کو بیان فرمایا، اب اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا اور ان پر انعامات کا ذکر ہے جو ایمان لائے اور مخالفین کی اذیتوں کا ہدف بنے۔ ان کے بارے میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ کسی بھی مومن کا اصل سرمایہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ جو شخص ان دونوں خوبیوں سے آراستہ ہے اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ یوں تو کسی نیکی کا اجر بھی ضائع نہیں ہوتا لیکن خاص طور پر وہ لوگ جنھوں نے اخلاصِ نیت سے بہترین اعمال کیے یعنی نہ تو نیت میں کوئی خلل ہو اور نہ عمل کرنے کے طریقے میں کسی طرح کی شریعت کی مخالفت ہو۔ ایسا عمل یقینا احسن عمل کہلاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا اجر کبھی اللہ تعالیٰ ضائع نہیں فرماتے۔ ممکن ہے اس میں اشارہ ان صحابہ کرام کی طرف ہو جو اس وقت ایمان لا چکے تھے وہ نہ صرف ایمان اور عمل صالح سے آراستہ ہیں بلکہ وہ ایمان کے تمام تقاضوں سے بہرہ ور ہیں۔ اور عمل کی تمام خوبیوں سے متصف ہیں۔ دوسری آیت میں فرمایا یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم ایسی جنتیں عطا فرمائیں گے جنھیں کبھی زوال نہیں ہوگا۔ جن کے نیچے سے نہریں رواں ہوں گی۔ انھیں بادشاہوں کی طرح سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس سندس اور استبرق سے تیار ہوگا۔ سندس باریک ریشم کے کپڑے کو اور استبرق دبیز ریشم کے کپڑے کو کہتے ہیں اور بعض لوگوں نے استبرق مخمل کے معنی میں لیا ہے اور وہ ایسے پلنگوں اور تختوں پر خوشنما تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے جیسے دلہن آراستہ بستر پر بٹھائی جاتی ہے۔
اس میں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اہل جنت کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنانے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سبز ریشمی کپڑوں کی قبائیں پہنیں گے اور ان کی مسندیں ایسی ہوں گی جیسے دلہنوں کی آراستہ مسندیں ہوتی ہیں۔ ان تمام باتوں میں نسوانیت کا احساس ہوتا ہے جبکہ مرد کے لیے نسوانیت باعث فخر نہیں۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ اس کا حقیقی جواب تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت اور جہنم کی تفصیلات اور ان کی کیفیات مشتبہات سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ وہ عالم غیب کی باتیں ہیں، عقل جن کا ادراک نہیں کرسکتی۔ اگر یہ بات قبول کرلی جائے تو پھر ان تعبیرات پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ مقصود نہ سونے کے کنگن ہیں، نہ ریشم کے کپڑے اور نہ دلہن کے پلنگ بلکہ مقصود صرف یہ کہنا ہے کہ جنت میں داخل ہونے والا ہر شخص اس طرح جنت میں رہے گا جیسے بادشاہ اپنے محلات میں رہتے ہیں۔ وہ اس طرح لباس پہنے گا جس طرح کی پوشاک بادشاہ پہنتے ہیں اور اس کی آرام گاہ ایسے بیش قیمت سامان پر مشتمل ہوگی جیسے بادشاہوں کی ہوتی ہے۔ تو مقصود ان کے مقام و مرتبہ کا اظہار کرنا ہے لیکن اس کے لیے تعبیر وہ اختیار کی گئی ہے جس کو اہل عرب آسانی سے سمجھ سکتے تھے اور جس کا ان کے زمانے میں رواج بھی تھا کیونکہ اس زمانے کے بادشاہوں کا لباس بھی ایسا ہی تھا، مسند بھی ایسی تھی اور ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہننا مرغوب بھی تھا۔
دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ حال ان لوگوں کا بیان کیا گیا ہے جو قریش کی نگاہوں میں انتہائی بےوقعت یعنی کمی کمین لوگ تھے۔ جن کی غربت کا ہمیشہ مذاق اڑایا جاتا تھا۔ قریش اپنی امارت سے بہتر مستقبل کی امید لگائے بیٹھے تھے اور ان کی غربت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جیسا حال تمہارا یہاں ہے اگر قیامت آئی تو ایسا ہی تمہارا حال وہاں بھی ہوگا۔ انھیں بتایا گیا ہے کہ تمہارا ٹھاٹ باٹ تو جہنم کا سامان بننے والا ہے اور جنھیں تم ناداری کے طعنے دیتے ہو اور جن کی بےکسی کا مذاق اڑاتے ہو قیامت کے دن یہی مستقبل کے بادشاہ ہوں گے اور ان میں سے ایک ایک فرد ایسی نعمتوں سے متمتع ہوگا آج تم جن کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
Ayah 18:32وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلاً رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِھِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰـھُمَا بِنَخْلٍ وَّجَعَلْنَا بَیْنَھُمَا زَرْعًا۔ (الکہف : 32)
(اور اے پیغمبر ! ان کے سامنے دو آدمیوں کی مثال بیان کیجیے ان میں سے ایک کے لیے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ان دونوں باغوں کو کھجور کے درختوں کی باڑ سے گھیرا اور ان کے درمیان کھیتی کے قطعات بھی رکھے۔ )
قریش کے لیے ایک تمثیل
نبی کریم ﷺ باقی انبیاء و رسل کی طرح اہل دنیا کی اصلاح کے لیے تشریف لائے تھے۔ اصلاح کا عمل چونکہ خیالات کی تبدیلی اور قلب و دماغ کی درستی سے ہوتا ہے۔ اس لیے وہ حتی المقدور اپنے مخاطب لوگوں کو مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے غلط خیالات کو صحیح خیالات سے بدلتے ہیں، ان کے شبہات کا ازالہ کرتے ہیں اور اگر وہ سادہ انداز میں بات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں تو اپنی دعوت کی تسہیل کے لیے مثالوں سے بھی کام لیتے ہیں اور ان پر جو کتاب اترتی ہے اس کے ذریعے پروردگار انھیں مختلف طریقوں سے رہنمائی دیتا ہے۔ چناچہ اسی سلسلے کی یہ آیات ہیں جن میں روئے سخن تو قریش ہی کی طرف ہے کیونکہ وہی آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اولین اور براہ راست مخاطب تھے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے آج دنیا کا ہر فرد اس کا مخاطب ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ اہل مکہ کو دو آدمیوں کی مثال دے کر جن میں سے ایک مومن ہے اور دوسرا کافر یہ بات سمجھایئے کہ ایک کافر دنیا کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک مومن کس نگاہ سے۔ اس طرح ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنی اصلاح پر آمادہ ہوسکیں۔
مثال میں جن دو شخصوں کا ذکر ہے ان میں جیسے عرض کیا ایک مومن ہے اور دوسرا کافر اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ کافر کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بیشتر نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن مومن وہ اگرچہ ایمان کی دولت اور قلب کی آسودگی سے مالامال ہے لیکن دنیوی نعمتوں کے اعتبار سے تہی دامن ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس کافر شخص کو جو نعمتیں دی گئی تھیں اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔
تمثیل اور اہل عرب میں مطابقت
سرزمینِ عرب چونکہ ایک بےآب وگیاہ اور بنجر زمین تھی جس میں روئیدگی اور سبزہ کی انتہائی کمیابی تھی۔ زمین سنگلاخ اور ہوا آتش افشانی کرتی تھی اور لوئوں کی لپٹ اور باد صرصر کے طوفانوں کا وہ زور کہ الامان و الحفیظ۔ کہیں کہیں کھجوروں کے جھنڈ دکھائی دیتے تو لوگ اسے جنت سمجھتے۔ ایسے لوگوں کی نگاہوں میں باغ سب سے بڑی نعمت تھی۔ اس لیے قصداً پروردگار نے باغ کا ذکر فرمایا۔ تأثر یہ دینا مقصود ہے کہ اس شخص کو وہ نعمت دی گئی تھی جو اس ملک میں انتہائی بیش قیمت تھی اور پھر اپنی نعمت کی تکمیل کا ذکر فرماتے ہوئے یہ فرمایا کہ ہم نے اسے ایک نہیں دو باغ دیئے تھے۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص اسلوب ہے کہ جب وہ کسی نعمت کی فراوانی کا ذکر کرتا ہے تو ایک کی بجائے دو کا ذکر کرتا ہے۔ اہل جنت کو بےپایاں نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ جہاں ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نعمت ملے گی وہیں ان کی قدرافزائی کا یہ عالم ہوگا وَمِنْ دُوْنِہِمَا جَنَّتَان یعنی ان کو دو باغ بھی عطا کیے جائیں گے، حالانکہ اہل جنت کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہر جنتی کو وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کرے گا، تو دو کا کیا ذکر، وہ اگر سینکڑوں باغ بھی مانگے تو وہ بھی دیئے جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دو کا عدد تکمیلِ نعمت کا اظہار ہے اس سے معدود کو متعین کرنا مقصود نہیں۔ اس کے بعد ان باغوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور یہ نقشہ وہ ہے جو کسی بھی باغ کی بہترین تصویر ہے۔ عرب جس باغ کو نمونے کا باغ سمجھتے تھے اور حقیقت میں بھی ایسا باغ نمونے ہی کا باغ ہوتا تھا اس کی انھیں خوبیوں کا ذکر کیا جاتا تھا جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ ان میں تین خصوصیات کا ذکر تو اس آیت کریمہ میں ہے اور ایک کا ذکر دوسری آیت میں آرہا ہے۔
پسندیدہ باغ کی خصوصیات
اس باغ کی پہلی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں انگوروں کی البیلی شاخیں نگاہوں کو تراوت بخشتی تھیں۔ انگور کی بیل کا گھنا سایہ تو ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے پتوں کی گہری ہریالی بجائے خود اپنے اندر غیرمعمولی حسن رکھتی ہے۔ باغ میں داخل ہونے والا اس کے اس حسن سے بیگانہ نہیں رہ سکتا۔
اس باغ کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ اس کے اردگرد کھجور کے درختوں کی باڑ لگائی گئی تھی۔ اس کے دو فائدے تھے۔ ایک تو یہ کہ باغ باہر ہی سے انتہائی خوشنما معلوم ہوتا تھا کیونکہ قطاروں میں لگے ہوئے کھجور کے درخت خوبصورتی میں اپنی مثال نہیں رکھتے۔ جن لوگوں نے کھجور کے باغات دیکھے ہیں وہ اس بات کی شہادت دیں گے کہ کوئی درخت بھی اپنے قد و قامت، اپنے پتوں کے رنگ اور فضا میں لہراتی ہوئی شاخوں اور پھلوں کی خوش رنگی میں کھجور کے درخت کی ہمسری نہیں کرسکتا۔ اور دوسرا فائدہ اس کا یہ ہے کہ عرب کے موسم گرما میں چلنے والی باد صر صر نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ حیوانوں اور درختوں کے لیے بھی انتہائی مہلک اور اذیت ناک چیز ہے۔ انسان تو اپنے کپڑوں میں لپٹ کر اور کسی اوٹ کے پیچھے بیٹھ کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ زہریلی ہوا ان کے نتھنوں میں داخل ہو کر انھیں اندرونی طور پر زخمی نہ کردے، لیکن درختوں، پودوں اور بیلوں کو بچانے کے لیے وہ یہ انتظام کرتے تھے کہ ان کے گرد کھجوروں کے درختوں کی باڑ لگاتے تھے۔ یہ درخت اتنا مضبوط اور اتنی قوت مدافعت کا مالک ہے کہ نہ صرف خود باد صر صر کا مقابلہ کرتا ہے بلکہ باغ کے اندرونی حصوں کو حتی الامکان محفوظ بھی رکھتا ہے۔
تیسری خصوصیت اس باغ کی یہ تھی کہ اس باغ میں صرف انگوروں کی بیلیں ہی پھیلی ہوئی نہیں ہوتی تھیں بلکہ کچھ قطعات خالی بھی چھوڑے جاتے تھے تاکہ حسب ضرورت اس میں دوسری چیزیں کاشت کی جاسکیں۔
Ayah 18:33کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُکُلَھَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْہُ شَیْئًا لا وَّ فَجَّرْنَا خِلٰـلَہُمَا نَھَرًا (الکہف : 33)
(یہ دونوں باغ خوب اپنے اپنے پھل لائے، اس میں ذرا کمی نہیں کی، اور ان کے درمیان ہم نے نہر بھی جاری کردی۔ )
باغ کی چوتھی خصوصیت اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اس کی سیرابی اور شادابی کے لیے ہم نے اس میں ایک نہر بھی رواں کر رکھی تھی جس سے پورا باغ سینچا جاتا تھا۔ اور ہر طرف پانی کی نالیاں پھیلا دی گئی تھیں۔
ان خصوصیات کا نتیجہ یہ تھا کہ یہ دونوں باغ خوب پھل لائے۔ کھجوروں نے اپنا پھل دینے میں اور انگوروں نے اپنی بہار دکھانے میں اور باقی باغ کے مختلف قطعات میں پھیلے ہوئے غلے کی فصلوں نے لہلہانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش نے اسی پر اکتفا نہیں فرمایا تھا بلکہ اگلی آیت میں ارشاد فرمایا :
Ayah 18:34وَّکَانَ لَـہٗ ثَمَرٌ ج فَـقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَھُوَیُحَاوِرُہٗٓ اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالاً وَّ اَعَزُّ نَفَرًا۔
(الکہف : 34)
(اور اس شخص کے اور بھی اموال تھے تو (ایک روز) اس نے اپنے ساتھی سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ میں مال میں بھی تم سے زیادہ ہوں اور تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ طاقتور ہوں۔ )
ثمر کا مفہوم
وَّکَانَ لَـہٗ ثَمَرٌ … اس کا ایک ترجمہ یہ کیا گیا ہے اور اس کے پھلوں کا موسم ہوا تو۔ اور دوسرا ترجمہ وہ ہے جو ہم نے کیا ہے۔ یہ دونوں ترجمے یقینا صحیح ہیں۔ البتہ آیت کا دوسرا جملہ اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالاً دوسرے ترجمے کو تقویت دے رہا ہے کہ اسے اپنے باغ کی سرسبزی اور شادابی پر تو بجاطور پر ناز تھا لیکن ساتھ ہی وہ اس کا اظہار کیے بغیر بھی نہ رہ سکا کہ میرے پاس صرف یہی دولت نہیں بلکہ سونا چاندی کے ڈھیر بھی موجود ہیں۔ ان نعمتوں کی فراوانی کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہوتا۔ شکر کے اظہار کے لیے اس کے احکام پر عمل کرتا اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے بندوں کی ضرورتوں پر خرچ کرتا اور اس بات کا یقین رکھتا کہ یہ جو کچھ میرے پاس ہے یہ سب میرے اللہ تعالیٰ کی عطا ہے ورنہ کتنے لوگ ہیں جو مجھ سے زیادہ محنت کرتے اور تدبیر لڑاتے ہیں، لیکن وہ کبھی بھی رزق کی فراوانی سے بہرہ ور نہیں ہوتے، لیکن اس کے برعکس اس نے جو طرز عمل اختیار کیا وہ یہ تھا کہ جب اس کے ہمسائے نے جو ایک مردمومن تھا اس کے الجھے ہوئے خیالات اور بگڑے ہوئے اخلاق اور تکلیف دہ طرز عمل کو دیکھ کر اسے نصیحت کرنے کی کوشش کی کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو کچھ تمہیں ملا ہے اس پر اس کا شکر بجا لائو، تو اس نے اسے اپنی توہین سمجھا اور اس مردمومن کی غربت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ تم کون ہوتے ہو مجھے نصیحت کرنے والے، میں ہر لحاظ سے تم سے بہتر ہوں۔ میں مال و دولت کی کثرت سے بہرہ ور ہوں جبکہ تم نان شبینہ کے محتاج ہو۔ اور میرے پاس حامیوں کا جتھا ہے اور نوکر چاکر بھی کثرت سے ہیں اور تمہیں کوئی منہ لگانے کو تیار نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جس طرح زندگی گزار رہا ہوں اور جس طرح کے تصورات رکھتا ہوں وہ یقینا تیرے عقائد اور تیرے طرز عمل سے بہتر ہیں، کیونکہ اگر میں غلط ہوتا تو مجھے یہ دولت کی فراوانی میسر نہ ہوتی اور تم اگر اپنے خیالات و عمل میں درست ہوتے تو اس طرح جوتے نہ چٹخاتے پھرتے۔ درحقیقت ہر وہ شخص جو دنیا اور دولت دنیا کے حصول ہی کو حاصل زندگی سمجھتا ہے وہ اسی دلیل سے اپنے آپ کو برحق ثابت کرتا ہے۔ خیالات کا یہی فساد ہے جس نے قریش کو بھی ہدایت سے دور رکھا اور اکثر دنیا کے پرستار اسی دلیل کے سہارے اپنی گمراہیوں کا جواز پیدا کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دولت کی کمی بیشی ہدایت کا معیار نہیں بلکہ اس کا معیار صرف اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہی دونوں واسطوں سے ہمیشہ انسانوں کو اپنی رہنمائی سے نوازا ہے اور ان کے تصورات کی اصلاح کی ہے۔ چناچہ ہر وہ تصور اور وہ خیال جو ان دونوں معیارات سے ہٹا ہوا ہو یعنی جس کے پیچھے وحی الٰہی کی سند نہ ہو وہ یقینا گمراہی ہے لیکن طبقہ امراء کا ہمیشہ یہ حال رہا ہے کہ وہ اپنی امارت کو اپنے برسرہدایت ہونے اور دوسروں کی غربت کو ان کے گمراہ ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں۔ محولہ بالا شخص بھی ایسی ہی گمراہیوں کا شکار تھا اس لیے اس مرد مومن سے بات کرتے ہوئے اس نے اپنے مال و دولت کی کثرت اور افرادی قوت کی زیادتی پر نہ صرف فخر کیا بلکہ اپنے برسرحق ہونے کی دلیل بھی بنایا۔
Ayahs 18:35–36وَدَخَلَ جَنَّـتَـہٗ وَھُوَ ظَالِمٌ لِّـنَفْسِہٖ ج قَالَ مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ ھٰذِہٖٓ اَبَدًا۔ وَّمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَـآئِمَۃً لا وَّلَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْھَا مُنْقَلَـبًا۔ (الکہف : 35، 36)
(اور (ایک دن) وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنی جان پر ظلم ڈھا رہا تھا، اس نے کہا کہ میں خیال نہیں کرتا کہ یہ (سرسبزوشاداب باغ) کبھی برباد ہوگا۔ اور میں یہ گمان بھی نہیں کرتا کہ کبھی قیامت بھی برپا ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو اس سے بھی بہتر مرجع پائوں گا۔ )
کافر اور مومن کی ذہنیت کا فرق
ان آیات میں مومن اور کافر کی ذہنیت کے فرق کو نمایاں کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کافر اس دنیا کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے اور مومن دنیاکو کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ چناچہ ایک کافر کے دنیا کے بارے میں تصورات اور خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے پہلی یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اس کے نزدیک دنیا کا ٹھاٹ باٹ اور کروفر اور دولت کی فراوانی حاصل زندگی ہے۔ اسی کے لیے وہ جیتا اور مرتا ہے، اسی کو وہ عزت کا معیار سمجھتا ہے اور عنداللہ اور آخرت میں بھی وہ اسی کو کامیابی کی ضمانت گردانتا ہے اور اسی دنیا کو جنت قرار دیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہے کہ آج جو شخص خوشحال ہے وہ قیامت میں بھی خوشحال ہوگا اور جو آج بدحال ہے وہ قیامت میں بھی بدحال ہوگا۔ اور دوسری خصوصیت اس آیت کریمہ میں یہ بتائی گئی ہے کہ وہ جس طرح دنیا کی محبت میں انسانیت سے تہی دامن ہوجاتا ہے اور انسانی اقدار کو انسان کے لیے ضروری سمجھنے کی بجائے دولت دنیا کو ضروری سمجھتا ہے۔ اس طرح سے اس کی اپنی شخصیت دنیا میں گم ہوجاتی ہے۔ اور یہ فساد بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچتا ہے کہ ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں، ہر بڑے اور چھوٹے آدمی کو موت آئے گی، لیکن اس کے فسادِعقل و فکر کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنی دولت اور اپنے باغات کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہے کہ یہ کبھی ہلاک نہیں ہوں گے اور ان پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔ اس کے اس فکری فساد کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ قیامت کبھی نہیں آئے گی۔ اس لیے زندگی کے بارے میں کبھی حساب کتاب نہیں ہوگا اور کبھی بازپرس نہیں کی جائے گی۔ جس طرح یہاں ایک حیوان زندگی گزارتا ہے کہ جبلت اس کو جس طرف کھینچتی ہے وہ اس طرف چل دیتا ہے۔ اس کا نہ کوئی مقصد زندگی ہے اور نہ شعور زندگی۔ یہ بھی بالکل حیوان کی طرح زندگی کے عیش و عشرت کے سوا اور کسی چیز سے سروکار نہیں رکھتا۔ وہ دنیا میں آنے کا مقصد صرف یہ سمجھتا ہے کہ اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھایا جائے، خواہشِ نفس کی پیروی کی جائے اور ہر وہ کام کیا جائے جو طبیعت چاہے۔ چاہے انسانیت اس کی اجازت دے یا نہ دے۔ اس اندازِ فکر سے بنیادی تبدیلی یہ آتی ہے کہ انسان بندہ خدا بننے کی بجائے بندہ درہم و دینار اور بندہ شکم بن جاتا ہے۔ اب اس کا محور و مدار بلکہ مطاف معدہ ٹھہرتا ہے۔ وہ دماغ سے کم اور معدہ سے زیادہ سوچتا ہے، اس کے عزائم قلب کی گہرائیوں سے نہیں بلکہ معدہ سے پھوٹتے ہیں اور یہ فرق اس قدر خطرناک ہے کہ صرف زندگی کے تصورات ہی کو نہیں بدلتا بلکہ قسمت اور انجام کو بھی بدل دیتا ہے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
اسی غلط طرزفکر کی انتہا یہ ہے کہ اس کافر شخص نے یہ کہا کہ اولاً تو قیامت قائم نہیں ہوگی اور اگر بفرضِ محال قیامت آہی گئی تو تب بھی میرے لیے فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہاں بھی مجھے بہتر مقام و مرتبہ ملے گا، بلکہ دنیا سے بھی زیادہ اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا اور امرواقعہ یہ ہے کہ گمراہ لوگوں کا سہارا یہی طرز فکر ہے بالخصوص طبقہ امراء کے لیے یہ ایک ایسی دلیل ہے جو وہ ہمیشہ ہر اس صاحب ایمان شخص کے سامنے پیش کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے جو ایمان کی دولت تو رکھتا ہے لیکن ان کی طرح دولت کی فراوانی اس کے پاس نہیں۔ امیر لوگ ایسے غریبوں پر طنز کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے یہ کبھی نہیں چاہتا کہ وہ لوگوں میں دھکے کھائے اور دنیا کے ہاتھوں ذلیل ہو۔ اس لیے جسے اس نے دنیا میں عزت دی ہے وہ یقینا اس کا محبوب ہے۔ اور جسے دنیا میں تہی دامن رکھا ہے وہ یقینا اس کی نگاہوں سے گرا ہوا ہے۔
Ayah 18:37قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَھُوَ یُحَاوِرُہٗٓ اَکَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَکَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْـفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰکَ رَجُلاً ۔ (الکہف : 37)
(اس کے ساتھی نے اس سے بحث کرتے ہوئے کہا، کیا تو انکار کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر پانی کی ایک بوند سے، پھر بنا سنوار کر تجھے ایک مرد بنادیا۔ )
کافر کا اصل مرض
اس کے مومن دوست نے اس سے کہا جبکہ وہ دونوں آپس میں بحث کررہے تھے کہ تیرا اصل مرض یہ ہے کہ تو اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھا ہے، تجھے یہ بھی خبر نہیں کہ تیرا وجود کسی کی عطا ہے، تیری زندگی کسی کی بخشش ہے۔ زندگی کے مختلف مدارج میں تیری تربیت اور تیری افزائش کسی کی رہین منت ہے۔ کیا تو اس ذات کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے عدم سے ہست کیا، تیرے جدِامجد کو اس نے مٹی سے بنایا اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تیرے جسم کی تخلیق میں ان عناصر سے کام لیا گیا جن کی اصل مٹی ہے۔ پھر توالد و تناسل کے سلسلے میں تجھے گندے پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا، پھر تو ایک طویل عرصے تک ماں کے پیٹ میں پانی سے خون بنا، خون سے گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل ہوا، پھر تیری شکل و صورت بنائی گئی اور تیرا نک سک درست کرکے تجھے ایک خوبصورت مرد بنادیا کہ مخلوق میں جس کی خوبصورتی کی مثال نہیں۔ اور مزید یہ کہ تو دنیا میں آیا تو تجھے کسی بات کی خبر نہ تھی۔ جس ذات کا تو انکار کرتا ہے اس نے تیرے ماں باپ کے دل میں محبت اور شفقت پیدا کی۔ اور انھوں نے تمہیں ہر دکھ سکھ اور ہر غم و راحت میں اپنی جان سے بڑھ کر عزیز رکھا۔ پھر تجھے حواس کی دولت عطا کی اور تجھے جوہرِعقل سے نوازا اور تجھے ایک ایسا انسان بنادیا گیا جو خلا پر کمندیں ڈالتا اور لوہے میں قوت پرواز پیدا کردیتا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ جس ذات کے تجھ پر اس قدر احسانات ہیں تو اس کا انکار کرتا ہے اور تیری اپنی ذات جو قدم قدم پر اس کی مرہونِ احسان ہے، اسے اس کے مقابلے میں لاتا ہے اور اس کے احکام کے مقابلے میں اپنی خواہشِ نفس کو ترجیح دیتا ہے۔
تری ہر ادا میں بل ہے، تری ہر نگہ میں الجھن
مری آرزو میں لیکن نہ بیچ ہے نہ خم ہے
محض اللہ تعالیٰ کا اعتراف ایمان کے لیے کافی نہیں
ایک بات جس کی طرف توجہ دینا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے اس آیت میں دیکھا ہے کہ مردمومن اس شخص کو کافر قرار دے رہا ہے اور یہ الزام دے رہا ہے کہ تو نے اس ذات سے کفر کیا ہے جس نے تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر بنا سنوار کر ایک مرد بنادیا جبکہ اس سے پہلے کی آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ متذکرہ شخص نے یہ کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ قیامت قائم ہوگی، لیکن اگر قیامت واقعی برپا ہوئی اور مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میں اس دنیا سے بھی بہتر مرجع پائوں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کافر نہیں بلکہ اس کا ماننے والا ہے۔ تو پھر مرد مومن نے اسے کافر کیسے قرار دیا ؟ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ محض اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف انسان کو مومن نہیں بنا دیتا بلکہ اس کے وجود کے اعتراف کے ساتھ ساتھ یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ وہی میرا اِلٰہ ہے، وہی حقیقی حکمران ہے، اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ انسانوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ دے۔ ان کے لیے ایک آئین اور قانون مقرر کرے جس کے مطابق وہ زندگی گزاریں اور اپنے رسولوں کی معرفت ان پر یہ بات واضح کردے کہ یہ میری شریعت ہے جس کے اوامر کی تعمیل اور جس کے نواہی سے اجتناب تمہارے لیے ضروری ہے اور ایک دن آئے گا جب میں تم سے اس حوالے سے بازپرس کروں گا۔ جن لوگوں نے میرے احکام کے مطابق زندگی گزاری وہ نجات پائیں گے اور دوسرے جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔ جب تک ان تمام باتوں پر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا اور اس کے مطابق عمل نہیں کرتا، محض اللہ تعالیٰ کے مان لینے سے وہ مومن نہیں ہوجاتا۔ یہ ایک ایسی غلط فہمی ہے جو ہمیشہ انسانوں میں پائی گئی ہے اور آج کا انسان بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں وہ بھی مومن کہلاتے ہیں اور جو لوگ اپنے آپ کو سیکولر کہتے ہیں انھیں بھی اپنے مسلمان ہونے پر اصرار ہے۔ کیونکہ وہ ایمان اور اسلام کا صرف یہی مفہوم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف اور اللہ تعالیٰ کے نبی کا میلاد منا لینا ہمارے مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے، چاہے ہماری زندگی اسلام سے کوسوں دور ہو۔ اس آیت کریمہ نے واضح طور پر اس غلط فہمی کا ازالہ کردیا ہے۔
Ayah 18:38لٰـکِنَّـاْ ھُوَاللّٰہُ رَبِّیْ وَلَآ اُشْرِکُ بِرَبِّیْٓ اَحَدً ۔ (الکہف : 38)
(لیکن (میرے نزدیک) وہ اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ )
لٰـکِنَّـاْ … اصل میں لٰـکِنْ اَنَاہے۔
مومن کا اظہارِ حق
مردِمومن نے اسے فہمائش کرنے کے بعد واضح طور پر اپنا مؤقف بیان کیا کہ تم صرف اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتے ہو لیکن اس کی حیثیت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تمہارے نزدیک وہ ایسا وجود ہے جو مخلوقات کو خلق کرنے کے بعد کسی کونے میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے اور اس کا نظام کائنات کے چلنے میں کوئی عمل دخل نہیں، لیکن میں جس اللہ کو مانتا ہوں، وہ میرا رب ہے۔ جس طرح وہ ظاہری طور پر میری تربیت کررہا ہے اسی طرح اس کی ربوبیت معنوی طور پر بھی میری ضرورتیں پوری کررہی ہے۔ اس نے مجھے جس طرح حواس دیئے اور عقل کا چراغ بخشا، اسی طرح اس نے میری کردار سازی، میرے افکار کی پاکیزگی اور میری منزل کے تعین میں بھی میری رہنمائی فرمائی۔ وہ میرا صرف خالق ہی نہیں بلکہ میرا معبود، میرا مسجود، میرا حاکم اور میرا محبوب بھی ہے۔ میں نہ اس کی ذات میں کسی کو شریک ٹھہراتا ہوں، نہ اس کی صفات میں کسی کو شریک مانتا ہوں۔ جس طرح وہ اپنی ذات میں یکتا ہے اسی طرح اپنی صفات میں بھی وحدہ لاشریک ہے۔ عبادت اور بندگی صرف اسی کی، غیرمشروط اطاعت بھی اس کے لیے، زبان اور دل کی شہادت بھی صرف اس کی خاطر۔ تم بھی اگر اسے مانتے ہو تو اس طرح مانو جس طرح میں مانتا ہوں۔
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتان آذری
Ayahs 18:39–41وَلَوْلَآ اِذْدَخَلْتَ جَنَّـتَکَ قُلْتَ مَاشَآئَ اللّٰہُ لا لاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ ج اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْکَ مَالاً وَّ وَلَدًا۔ فَعَسٰی رَبِّیْٓ اَنْ یُّـؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِکَ وَیُرْسِلَ عَلَیْھَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآئِ فَـتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَـقًا۔ اَوْیُصْبِحَ مَـآؤْ ھَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَـہٗ طَلَبًا۔ (الکہف : 39، 40، 41)
(اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے اس طرح کیوں نہ کہا، یہ جو کچھ ہے سب اللہ کا فضل ہے، اللہ کے سوا کسی کو کوئی قوت حاصل نہیں، اگر تم مال اور اولاد کے اعتبار سے مجھے اپنے سے کم دیکھتے ہو۔ تو امید ہے کہ میرا رب مجھے تمہارے باغ سے بہتر باغ عطا کردے اور تمہارے باغ پر بھیج دے کوئی آسمانی آفت کہ وہ چٹیل میدان ہو کر رہ جائے۔ یا اس کا پانی نیچے اتر جائے اور تم اسے کسی طرح تلاش نہ کرسکو۔ )
ایمان کا تقاضا
مردِمومن نے مزید کہا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کو مانتے ہو تو تمہیں اپنے باغ میں داخل ہوتے ہوئے شیخی بگھارنے اور اپنی امارت پر اترانے کی بجائے یہ کہنا چاہیے تھا کہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ محض اللہ کی عطا ہے۔ انسان اگرچہ حصول رزق کے لیے محنت کرتا اور دوڑ بھاگ کرتا ہے لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ میں جن قوتوں سے کام لے رہا ہوں یہ کس نے پیدا کی ہیں اور میری محنتوں کو سپھل کرنا کس کے ہاتھ میں ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ذات نہیں جو دینے پر بھی قادر ہے اور چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ اگر تمہارے ذہن میں اپنے پروردگار کا صحیح تعارف ہوتا تو تم کبھی ایسی لغو بات نہ کہتے کہ میرا گمان یہ ہے کہ اس باغ پر کبھی ہلاکت اور تباہی نہیں آئے گی کیونکہ وجودوعدم کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جس طرح دینے پر قادر ہے اسی طرح وہ چھین لینے اور کسی چیز کو تباہ و برباد کردینے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔ رہی یہ بات کہ میں مال اور اولاد میں تم سے کم ہوں تو یہ کوئی ایسی بات نہیں، دولت آنی جانی چیز ہے۔ آج وہ ایک کے پاس ہے کل دوسرے کے پاس ہوتی ہے۔ اسی طرح اولاد بھی ایک آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد نہ دے کر مجھے اس آزمائش سے محفوظ رکھا بلکہ میری آزمائش یہ ہے کہ میں مال اور اولاد کی کمی پر شکوہ سنج ہوتا ہوں یا صبر کرتا ہوں، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سب کچھ اسی کے ہاتھوں میں ہے اور وہی ہر طرح کی قوت کا مالک ہے۔ آج اگر اس نے تمہیں باغ عطا فرمایا ہے اور مجھے اس سے محروم رکھا ہے تو میں بجائے شکوہ کرنے کے اسی سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے تیرے باغ سے بہتر باغ عطا فرمائے گا لیکن میں جس طرح اس کے نہ دینے پر شکوہ کناں نہیں ہوں اسی طرح اس کے عطا کرنے پر متکبر اور مغرور نہیں ہوں گا۔ البتہ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ تمہارا یہ تکبر اور غرور اور تمہاری یہ سرکشی کہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب نہ بن جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بلائے آسمانی تمہارے اس باغ کو تباہ کردے۔ ایسی ژالہ باری ہو کہ کوئی چیز باقی نہ بچے یا ایسی ہوا چلے جو ہر چیز کو جلا کے رکھ دے اور تمہارا باغ چٹیل میدان ہو کے رہ جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہارے باغ کو جو نہر سیراب کرتی ہے اس کا پانی خشک ہوجائے اور یا وہ اس قدر نیچے اتر جائے کہ تم ہزار کوشش سے بھی اس کا سراغ نہ پا سکو۔
حُسْبَان … حُسْبَانَۃٌ کی جمع ہے، کڑک اور اولے کو کہتے ہیں اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بلائے آسمانی یا بلائے ناگہانی پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔
زَلَقْ … اس زمین کو کہتے ہیں جو بالکل چٹیل اور سبزہ روئیدگی سے محروم ہو۔ غَوْرًا … زمین میں پانی کے اتر جانے کو کہتے ہیں۔ اس کا ترجمہ خشک ہوجانا بھی کیا گیا ہے، لیکن دونوں میں فرق کوئی نہیں، کیونکہ جب کسی نہر کا پانی زمین کے نیچے اتر جائے تو نہر یقینا خشک ہوجاتی ہے۔
آیت 39 میں مَاشَآئَ اللّٰہُ لا لاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ ج کا جملہ آیا ہے، اس کے بارے میں حدیث میں آتا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی چیز انسان کو اچھی لگے اور نظریں اس پر جم کے رہ جائیں تو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اسے نظر نہ لگ جائے اور اسے نقصان نہ پہنچ جائے۔ اس لیے دیکھنے والا اگر یہ جملہ اپنی زبان سے کہہ دے تو اس کی پسندیدہ چیز نظر کے نقصان سے محفوظ ہوجاتی ہے۔ عام طور پر بچوں کو زیادہ نظر لگتی ہے کیونکہ زیادہ پیارے لگتے ہیں اور نظر بھی عموماً چاہنے والوں بالخصوص ماں باپ کی لگتی ہے، اس لیے ماں باپ اور دوسرے چاہنے والوں کو یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ جب بھی وہ بچے کو پیار سے دیکھیں تو اس جملے کی تلاوت کرلیں۔ انشاء اللہ وہ بچہ نظر بد سے محفوظ رہے گا۔
Ayah 18:42وَاُحِیْطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَـفَّیْہِ عَلٰی مَـآاَنْفَـقَ فِیْھَا وَھِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا وَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِکْ بِرَبِّیْٓ اَحَدًا۔ (الکہف : 42)
(اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل، پھر صبح کو وہ رہ گیا ہاتھ ملتا ہوا اس مال پر جو اس نے اس باغ پر خرچ کیا تھا اور وہ باغ اپنی چھتریوں پر گرا پڑا تھا اور وہ کہہ رہا تھا، اے کاش ! میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناتا۔ )
آخر وہی ہوا جس سے مردمومن نے ڈرایا تھا
معلوم ہوتا ہے کہ مردمومن کی نصیحت کا اس مغرور شخص پر کوئی اثر نہ ہوا، وہ اپنے معمول کے مطابق شرک اور نافرمانی کی روش پر چلتا رہا، جس کے نتیجے میں روزبروز اس کے تکبر اور غرور میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آخرکار اس کی مہلت عمل ختم ہوگئی اور کسی آفتِ ارضی یا سماوی نے اس کے باغ کو آگھیرا اور آناً فاناً تمام باغ تباہ کرکے رکھ دیا۔ جن چھتریوں اور چھپروں پر انگور کی بیلیں چڑھائی گئی تھیں وہ فرشِ زمین ہوگئیں۔ جس باغ کی کمائی پر وہ اس حد تک مغرور تھا کہ اس غرور نے اس کے دماغی توازن کو درہم برہم کردیا تھا۔ اب جبکہ اس نے دیکھا کہ پورا باغ ایک لاش کی طرح اس کی قدموں میں پڑا ہے اور وہ اس کے بارے میں یہ گمان رکھتا تھا کہ اس باغ پر کبھی زوال نہیں آئے گا اور کبھی خزاں طاری نہیں ہوگی۔ اب سوائے کفِ افسوس ملنے کے اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ جس باغ کو میں دولت کا ذریعہ سمجھ رہا تھا وہ تو میرے وہ اخراجات بھی لے کر بیٹھ گیا جو آج تک اس کے بنانے سنوارنے پر میں نے صرف کیے تھے۔ اب اسے اس مرد مومن کی نصیحت یاد آئی کہ ساری طاقتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، تم غلط پندار میں مبتلا ہوگئے ہو۔ وہ جس طرح کسی کو نوازتا ہے اسی طرح تہی دامن بھی کرسکتا ہے۔ اس کی قدرت کے سامنے کسی کا زور نہیں چلتا۔ کائنات کی بڑی بڑی قوتیں اس کے سامنے پَرِکاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔ تم نے جو اپنی ذات اور اپنی قوتوں کو اس کے مقابل لا کھڑا کیا ہے یہ تمہاری وہ بھول ہے جس پر تمہیں پچھتانا پڑے گا۔ اب جبکہ اس کی دماغی کاوشوں اور جسمانی محنتوں کا حاصل اس کے قدموں میں پڑا تھا تو تب اسے خیال آیا کہ اس مردمومن نے مجھ سے ٹھیک کہا تھا۔ کاش میں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا ہوتا۔ میں اسی کی ذات اور اس کے فیصلوں پر یقین رکھتا تو آج یہ بات میرے لیے تسلی کا باعث ہوتی کہ اگر اس نے مجھ سے یہ باغ چھین لیا ہے تو یقینا اس میں میرے لیے آزمائش ہوگی، وہ انشاء اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ بھی ایسا ہی باغ عطا کرے گا۔