Ayah 20:11: طٰہٰ قراءت : طاء کو استعلاء کی وجہ سے تفخیم سے اور ھاء کو امالہ سے ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ حمزہ، علی، خلف و ابوبکر نے دونوں میں امالہ کیا دیگرقراء نے دونوں میں تفخیم کی ہے۔
حسن و مجاہد ضحاک وعطاء کا جو قول مروی ہے کہ اس کا معنی یا رجل ہے۔ اگر یہ قول صحیح ہے تو ظاہر ہے۔ ورنہ حق بات وہی ہے جو ہم سورة بقرہ کی ابتداء میں رقم کرچکے فلیر اجع الیہ۔
Ayah 20:2قرآن مشقت کے لئے نہیں اتارا :
2: مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ (ہم نے نہیں اتارا تم پر قرآن کو کہ) اگر طہٰ کو اسمائے حروف میں سے شمار کریں تو یہ ابتدائے کلام ہے۔ اور اگر تم اس کو سورت کا نام قرار دو تو پھر اس کے متعلق خبر ہونے کا احتمال ہے اور وہ مبتدا کی جگہ میں ہے اور اس کا جواب بن جائے اور وہ قسم ہو۔ القرآن کو ضمیر کی جگہ ظاہر لائے کیونکہ وہ قرآن ہے۔
لِتَشْقٰی (آپ تھک جائیں) ان پر بہت زیادہ افسوس کرتے ہوئے اور ان کے کفر پر افسوس کرتے ہوئے تھک جائیں۔ نمبر 2۔ ان کے ایمان نہ لانے پر افسوس کرتے ہوے تنگی محسوس کریں۔ نمبر 3۔ قیام لیل کی وجہ سے اپنے آپ کو تھکان پہنچائیں۔ روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے رات کو نماز ادا کی یہاں تک کہ قدم مبارک سوج گئے اس پر جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا اپنا کچھ خیال کریں۔ نفس کا بھی آپ پر حق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو اسلئے نہیں اتارا کہ آپ ﷺ اپنے نفس کو عبادت سے سخت سزا دیں۔ آپ کو میانہ روی والی حقیقت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔
Ayah 20:33: اِلَّا تَذْکِرَۃً (مگر ایسے شخص کی نصیحت کیلئے)
نحو : استثناء منقطع ہے ای لکن اَنْزَلْنَاہُ تَذْکِرَۃ (لیکن اس کو نصیحت کیلئے اتارا) ۔ نمبر 2۔ یہ حال ہے۔ لِّمَنْ یَّخْشٰی (جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے) اس کے لئے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ نمبر 2۔ اس کیلئے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ خشیت اختیار کرلے گا۔
Ayah 20:44: تَنْزِیْلاً (یہ اتارا ہوا ہے) ۔
نحو : یہ تذکرۃ سے بدل ہے۔ جبکہ اس کو حال قرار دیا جائے۔ نمبر 2۔ نزل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 3۔ مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 4۔ یخشی کی وجہ سے اس کا مفعول بنکر منصوب ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے انزلہ اللّٰہ تذکرۃ لمن یخشی تنزیل اللّٰہ۔ (اللہ تعالیٰ نے ان کو اس شخص کیلئے نصیحت بنایا جو اللہ تعالیٰ کی تنزیل سے ڈرنے والا ہے) ۔
مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ (اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین اور آسمان کو)
نحو : یہ تنزیلاً کے متعلق ہے جو اس کا صلہ ہے۔
الْعُلٰی (بلند) یہ العلیا کی جمع ہے۔ اور اعلیٰ کی تانیث ہے۔ آسمانوں کی صفت العلیٰ لا کر اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت پر اس کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔
Ayah 20:55: اَلرَّحْمٰنُ (وہ بڑا مہربان ہے) یہ مدح کی وجہ سے مرفوع ہے ای ھوالرحمان۔ عَلَی الْعَرْشِ (عرش پر) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ اسْتَوٰی (مستوی ہے) استیلاء کے معنی میں ہے جو زجاج سے مروی ہیں۔ عرش کا ذکر کر کے اس بات پر متنبہ کیا گیا کہ اس کا استیلاء دوسروں پر ہے۔ اس لئے کہ عرش اس کی مخلوقات میں سب سے بڑا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے جب عرش پر استواء بادشاہی کے مترادف ہے تو اس کو ملک سے کنایہ قرار دیا اس لئے عرب کے لوگ کہتے ہیں استوی علی العرش ای ملک اگرچہ وہ چارپائی یا تخت پر بالکل نہ بیٹھا ہو اور یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں۔ یدُ فلانٍ مَبسوطَۃٌ یعنی وہ سخی ہے اگرچہ سرے سے اس کا ہاتھ ہو ہی نہ۔
استواء کے متعلق قول علی ؓ :
اہل السنت کا مسلک وہی ہے جو حضرت علی المرتضی ؓ کا ارشاد ہے۔ الاستواء غیر مجہول والکیفیۃ غیر معقول والایمان بہٖ واجب والسوال عنہ بدعۃٌ استواء محمول نہیں کیفیت معقول نہیں اور اس پر ایمان واجب ہے اور اس کے متعلق سوال بدعت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تھا جبکہ کوئی مکان نہیں تھا پس وہ اسی طرح ہے جیسا کہ مکان کی پیدائش سے پہلے تھا جس طرح تھا اس سے تبدیل نہیں ہوا۔
Ayah 20:66: لََہٗ مَا فِی السٰمٰوتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ( جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی ہی کا ہے)
نحو : یہ خبر اور مبتدا ہے اور وما بینھما کا عطف مبتدا پر ہے۔
وَ مَا بَیْنَھُمَا (اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے) یعنی سارے کا سارا اس کی ملک ہے۔ وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی ( اور جو کچھ ثرٰی کے نیچے ہے) یعنی جو سات زمینوں کے نیچے ہے۔ نمبر 2۔ ثر ٰی سے مراد وہ چٹان ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
Ayah 20:77: وَاِنْ تَجْھَرْ بِالْقَوْلِ (اور اگر تم پکار کر بات کہو یعنی تم اپنی آواز کو بلند کرو) فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ (پس بیشک وہ چپکے سے کہی ہوئی بات کو جانتا ہے) یعنی وہ بات جو تم بطور راز کے دوسرے سے کہو۔ َواَخْفٰی (اور اس سے زیادہ مخفی بات کو بھی) اس سے مراد وہ باتیں ہیں جو تیرے دل میں بطورخیالات کے آتی ہیں۔ یا وہ باتیں جن کو تم اپنے دل میں چھپاتے ہو یا جن میں تم رازداری کرو گے۔
Ayah 20:8کفار کے تقویٰ کی تردید :
8: اَللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْاَسْمَآ ئُ الْحُسْنٰی ( اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے سارے اچھے اچھے نام ہیں) یعنی وہ اپنی ذات کے لحاظ سے اکیلا ہے۔ اگرچہ اس کی صفات کی تعبیرات جدا جدا ہیں۔ اس آیت میں کفار کے اس مقولے کی تردید ہے کہ تم تو ہمیں کئی معبودوں کی طرف دعوت دیتے ہو۔ یہ بات انہوں نے اسوقت کہی جبکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بہت سے نام سنے۔ الحسنیؔ یہ احسن کی تانیث ہے۔
Ayah 20:9حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تفصیلی واقعہ :
9: وَھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی ( کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی خبر پہنچی) ھَلْ یہاں قد کے معنی میں ہے اور حدیث کا معنی خبر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں آپ کو خطاب کرنے کے بعد اس لئے سنایا تاکہ نبوت کی مشقتیں اور صعوبتیں برداشت کرنی اور ناپسندیدہ باتوں کے پیش آنے کی صورت میں صبر کرنے میں آپ ان کے طرز عمل کو سامنے رکھیں تاکہ آپ اسی طرح بلند مرتبہ پائیں جیسے موسیٰ (علیہ السلام) نے پایا۔
Ayah 20:10واقعہ طور اور نبوت کا ملنا :
10: اِذْ رَ ٰایٰ نَارًا (جبکہ انہوں نے آگ دیکھی) اذمضمر کا ظرف ہے ای حین رای نارًا کان کیت و کیت جب انہوں نے آگ دیکھی تو معاملہ ایسا ایسا تھا۔ (2) اذکر محذوف کا مفعول بہٖ ہے۔ روایت تفصیلیہ میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے شعیب (علیہ السلام) سے والدہ کی خدمت میں جانے کی اجازت طلب کی اور اپنے گھروالوں کو لے کر چل دیے راستہ میں ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ایک ایسی رات میں ہوئی جو اندھیری اور برفانی تھی اور آپ راستہ میں بھی بھول گئے اور جانور بھی آپ کے منتشر ہوگئے۔ آپ کے پاس پانی بھی نہیں تھا۔ آپ نے چقماق جلایا مگر اس کی ضرب بےفائدہ گئی۔ اسی دوران آپ نے یہ آگ دیکھی جو ان کے اپنے خیال میں تو اس وقت آگ تھی اور حقیقت میں وہ نور تھا۔
فَقَالَ لِاَھْلِہٖ (پس اپنی بیوی سے آپ نے کہا) امْکُثُوْا (تم ٹھہرو) یعنی اپنی اسی جگہ میں اقامت اختیار کرو۔ اِنِّیْ اٰنَسْتُ نَارًا ( میں نے آگ دیکھی ہے) ایناس اصل میں کسی چیز کو اس طرح دیکھنا کہ جس سے آدمی مانوس ہوجائے۔ لَّعَلِّیْ اٰتِیْکُمْ مِّنْھَا (شاید میں اس میں سے تمہارے پاس کچھ لے آئوں) آپ نے معاملے کی بنیاد یہاں رجاء اور امید پر رکھی۔ تاکہ کہیں ایسے وعدے کی نوبت نہ آجائے کہ جس میں وفا کا یقین نہ ہو۔ بِقَبَسٍ (ایک شعلہ) لکڑی کے سر پر آگ کا تھوڑا ساشعلہ یا ڈیوٹ انگارہ اَوْاَجِدُ عَلَی النَّارِ ھُدًی ( یا آگ کے پاس راستہ کا پتہ مجھے مل جائے)
نحو : ھدی سے یہاں ذوی ھدی مراد ہے۔ یعنی ایسے لوگ مل جائیں جو راستے کی طرف میری راہنمائی کردیں اور علی النار میں استعلاء کا معنی ظاہر کرتا ہے کہ آگ والوں کا اس سے قریبی مکان پر غلبہ ہوگا۔
Ayah 20:1111: فَلَمَّا اَتٰھَا (جب آگ کے پاس آپ پہنچے) ھا کی ضمیر آگ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ آپ نے آگ کو سفید پایا جو ایک سبز رنگ کے درخت سے نیچے سے لے کر اوپر تک بھڑک رہی تھی۔ اور وہ درخت عناب کا تھا یا عوسج کا درخت تھا۔ عوسج ایک کانٹے دار جھاڑی ہے۔ آپ نے اس کے پاس کسی شخص کو نہ پایا۔ روایت میں ہے کہ جب اس آگ کی طلب میں آگے بڑھتے تو وہ آگ ان سے دور ہوتی اور جب چھوڑ دیتے تو وہ ان کے قریب ہوتی پس اس جگہ۔ نُوْدِیَ (موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی) ۔ یٰمُوْسٰٓی (اے موسی) ۔
Ayah 20:1212: اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ ( میں تمہارا رب ہوں) اِنیہمزہ مقصورہ کے ساتھ یعنی آواز دے کر یہ کہا گیا یموسیٰ انی اور اس لئے بھی کہ ندا قول ہی کی قسم میں سے ہے اس لئے قول والا معاملہ کیا گیا کیونکہ قال کے بعد اِنَّ آتا ہے۔
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے اَنِّیْ پڑھا ہے۔ اس صورت میں تقدیر کلام یہ ہے نُودِیَ بِاَ نّی اَنَا رَبُّکَ یعنی آواز دی گئی اس لئے کہ میں تمہارا رب ہوں اَنَا مبتدا ہے یا تاکید ہے۔ یا ضمیر فصل ہے۔ اور ضمیر کو دوبارہ معرفہ کی تحقیق اور ازالہ شبہ کیلئے لایا گیا ہے۔ روایت میں ہے کہ جب آواز دی گئی یا موسیٰ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی من المتکلم ؟ اس پر اللہ نے فرمایا انا ربک پس اس سے انہوں نے پہچانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے اس کو اپنی شش جہات سے سنا اور اپنے تمام اعضاء سے سنا۔
فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ (تم اپنے دونوں جوتے اتاردو) ان جوتوں کو اتار دو تاکہ تمہارے دونوں قدموں کو مقدس وادی کی برکت پہنچے۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ (2) اس لئے کہ وہ دونوں جوتے گدھے کی غیر مدبوغ کھال کے بنے ہوئے تھے۔ (3) ننگے پائوں ہونا اللہ کی بارگاہ میں تواضع کی علامت تھی۔ اور اسی لئے ہی سلف صالحین بیت اللہ کا طواف ننگے پائوں کرتے ہیں اور قرآن کی دلالت بھی اسی بات پر ہے۔ کہ یہ جوتوں کا اتارنا اس مقام کے احترام اور تعظیم کیلئے تھا۔ پس آپ نے جوتے اتار کر وادی کے پیچھے پھینک دیئے۔
اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی ( بیشک تم طو ٰی کی مقدس وادی میں ہو) مقدس کا معنی مطہر یا مبارک۔ طوٰی جہاں تنوین سے آئے تو یہ وادی کا نام ہے۔ اور یہ وادی مقدس سے بدل ہے۔ شامی اور کوفی نے تنوین سے پڑھا۔ دیگرقراء نے بغیر تنوین کے پڑھا۔ اور انہوں نے بقیہ کی تاویل کی اور ابو زید نے طاء کے کسرہ اور تنوین کے بغیر پڑھا۔
Ayah 20:1313: وَاَنَا اخْتَرْتُکَ (اور میں نے تم کو پسند کرلیا ہے) یعنی نبوت کیلئے چن لیا ہے۔
قراءت : حمزہ نے اِنَّا اِخْتَرْنَاکَ پڑھا ہے۔
فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی ( جو کچھ تمہاری طرف وحی کیا جارہا ہے اس کو غور سے سن لو) یوحی ای الیک۔ فاستمع للذی یوحٰیپس تم کان لگائو اس کو جو وحی کی گئی یا فاستمع للوحی وحی کو غور سے سنو۔ لما کی لام استمع کے متعلق ہے یا اخترتک کے متعلق ہے۔
Ayah 20:1414: اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ٓاَنَا فَاعْبُدْنِیْ ( میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری ہی عبادت کرو) یعنی مجھے اکیلا جان کر میری طاعت کرو۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃ لِذِکْرِیْ (اور میری ہی یاد کیلئے نماز پڑھا کرو) تاکہ تم مجھے نماز میں یاد کرو کیونکہ نماز اذکار پر مشتمل ہے۔ (2) نماز کو قائم کرو اس لئے کہ میں نے اس کا تذکرہ نماز میں کردیا اور اس کا حکم دیا (3) تاکہ میں تمہارا تذکرہ مدح اور ثناء کے ساتھ کروں (4) یہ خاص میری یاد کیلئے کہ اس میں غیر کے ذکر کی ملاوٹ نہ ہو۔ (5) تاکہ تو مجھے یاد کرنے والا بن جائے نہ کہ بھولنے والا۔ (6) میری یاد کے اوقات میں نماز کو قائم کرو اور اوقات سے مراد وہ نمازوں کے اوقات ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتابًا موقوتا ] النساء : 103[
مسئلہ : اس آیت کو نماز کے بھول جانے کے بعد یاد آنے پر بھی محمول کیا گیا مگر یہ مفہوم اس وقت درست ہوسکتا ہے جبکہ مضاف کو حذف مانا جائے۔ تقدیر اس طرح ہوگی ای لِذِکْرِ الصَّلٰوۃ اس سے ایک بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ توحید کے بعد سب سے بڑا فریضہ نماز ہے۔
Ayah 20:1515: اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ ( بیشک قیامت آنے والی ہے) بہر صورت۔ اَکَادُ اُخْفِیْھَا (میں اس کے وقت مقررہ کو پوشیدہ رکھوں گا) اَکَادَ کا معنی اُرِیْدُہے ( میں چاہتا ہوں) یہ اخفش سے مروی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ صلہ ہے ایک قول یہ ہے کہ اخفیھا اضداد میں سے ہے اس کا معنی جبکہ خفی یخفی (ض) سے ہو تو تو اظہرھا ہے یعنی میں اس کو ظاہر کرنے والا ہوں۔ یا چھپانے والا ہوں۔ پس میں نہیں کہوں گا کہ وہ آنے والی ہے کیونکہ میرا ارادہ اس کو چھپانے کا ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا جو اس کے آنے کے متعلق اطلاعات میں موجود رہے اس کے ساتھ ساتھ کہ اس کے وقت میں حکمت کی وجہ سے عموم ہی اختیار کیا گیا ہے۔ عموم یہ کہ وہ نہیں جانتے کہ کب وہ قائم ہوگی پھر اس صورت میں وہ میری خبر کی بنا پر خوف زدہ رہیں گے۔
لِتُجْزٰ ی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا تَسْعٰی (تاکہ ہر نفس کو بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی) اس کی کوشش خواہ وہ خیر سے ہو یا شر سے یہ جملہ حکم عبادت کی علت یا جملہ مستانفہ یا معترضہ ہے۔ (مترجم)
Ayah 20:1616: فَلاَ یَصُدَّ نَّکَ عَنْھَا (پس تم کو نہ پھیر دے قیامت سے) نمبر 1۔ قیامت کیلئے اعمال کرنے سے تمہیں نہ روک دے۔ نمبر 2۔ نماز قائم کرنے سے نہ روک دے۔ نمبر 3۔ قیامت پر ایمان سے نہ روک دے۔ اس میں خطاب موسیٰ (علیہ السلام) کو ہے۔ اور مراد اس سے ان کی امت ہے۔ مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِھَا (وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتا) جو اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ وَاتَّبَعَ ھَوٰہٗ (اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہے) اس کے حکم کی مخالفت میں فَتَرْدٰی (پس تم بھی ہلاک ہوجائوگے) ۔
Ayah 20:1717: وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰـمُوْسٰی (اے موسیٰ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے) ۔
نحو : مامبتدا اور تلکؔ اس کی خبر ہے۔ اور تلک اگرچہ اشارہ بعید ہے مگر یہاں ہذہٖ کے معنی میں ہے۔ بیمینک ؔ یہ حال ہے۔ اس میں اشارہ کا معنی عامل ہے۔ ای قارّۃ یا ماخوذۃ بیمینک نمبر 2۔ تلک موصول ہے۔ اس کا صلہ بیمنیک ہے۔ اور سوال اس لئے کیا تاکہ متنبہ ہوں اور معجزے کا اظہار اس کے متعلق خوب پختگی کے بعد ہو کہ میں اندھیرے میں کہیں اکڑا ہوا سانپ تو نہیں اٹھا لایا۔ نمبر 2۔ عادی بنانے کیلئے تاکہ اس کے بدلنے سے وہ نہ گھبرائیں نمبر 3۔ مانوس کرنے کیلئے اور مکالمہ کی مصیبت کو زائل کرنے کیلئے۔
Ayah 20:1818: قَالَ ھِیَ عَصَایَ اَتَوَ کَّؤُا عَلَیْھَا ( کہا یہ میری لاٹھی ہے اس سے ٹیک لگاتا ہوں) یعنی جب میں تھک جاتا ہوں تو اس سے سہارا لیتا ہوں۔ یا جب میں گلے کے کنارے پر کھڑا ہوتا ہوں تو اس سے سہارا لیتا ہوں اور جب اترتا ہوں تب بھی اس سے سہارا لیتا ہوں۔ وَ اَھُشُّ بِھَا عَلٰی غَنَمِیْ ( اور اس کے ذریعے اپنی بکریوں کیلئے پتے جھاڑتا ہوں) درختوں کے پتے اپنی بکریوں کیلئے جھاڑتا ہوں تاکہ وہ اس کو کھائیں۔
وَلِیَ فِیْھَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی ( اور میری اس سے اور ضرورتیں بھی وابستہ ہیں)
قراءت : حفص نے وَلِیَ فیھا پڑھا ہے۔ مأرب جمع مأربۃ تینوں حرکات کے ساتھ اس کا معنی ضرورت۔ اخرٰی میں قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اخر ہو۔ اخری جماعت کا لحاظ کر کے کہا ہے یا آیت کے چلائو کی وجہ سے جیسے الکبرٰی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض کو بطور شکریہ کے ذکر کردیا تو حیاء ً طوالت سے بچتے ہوئے باقی نعمتوں کو مجمل کردیا۔ یا اس لئے تاکہ اللہ ان سے پوچھیں تو اس میں عظمت اور بڑھ جائے۔ دوسرے کام مندرجہ ذیل تھے۔ آپ اس سے جانوروں کو چلاتے اور دشمنوں اور درندوں سے اس کے ذریعے مقابلہ کرتے۔ اور وہ رسّی باندھ لینے سے رسّی کنویں کی لمبائی کے مطابق لمبی ہوجاتی۔ اور اس کے دونوں کناروں پر ڈول لٹکائے جاسکتے اور رات کو اس کے دونوں کنارے دو شمعیں بن جاتے اور وہ آپ کے زاد راہ کو کندھے پر رکھنے کا ذریعہ بنتا۔ اور جب اس کو گاڑ دیتے تو پسندیدہ پھل والا درخت بن جاتا اور جب اس کو گاڑ دیتے تو پانی کا چشمہ اس سے پھوٹ پڑتا جب اکھاڑ لیتے کو خشک ہوجاتا۔ اور کیڑوں مکوڑوں سے وہ ان کی حفاظت کرتا۔ اور آپ سے باتیں کرتا جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اضافہ نعمت پر شکریہ کو شمار کرنے کے لئے تھا۔ یا اس بنا پر کہ وہ ایک سوال کا جواب تھا کیونکہ جب انہوں نے کہا وہ میری لاٹھی ہے تو ان کو کہا گیا تم اس سے کیا کرتے ہو تو وہ اس کے منافع شمار کرنے لگے۔
Ayah 20:1919: قَالَ اَلْقِھَا یٰـمُوْسٰی ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ اس کو پھینک دو ) تم اپنی لاٹھی پھینک دو کہ اس سے تم فارغ ہوجائو جس پر تم سہارا لیتے ہو۔ اب تمہیں سکون ہماری ہی ذات سے ہوگا اور تم اس کے حقیقی فائدے دیکھو گے۔ پس مقاصد میں پھر تمہیں ہم پر اعتماد ہوگا۔
Ayah 20:2020: فَاَلْقٰھَا ( تو انہوں نے اس کو پھینک دیا) فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی (دیکھتے کہ وہ لاٹھی ایک سانپ ہے جو دوڑرہا ہے) یعنی تیزی سے چل رہا ہے دوسرا قول یہ ہے کہ وہ بڑا سانپ بن گیا۔ جو چٹانوں اور درختوں کو نگلتا جارہا تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ہر چیز نگلتے دیکھا تو خوف زدہ ہوئے یہاں اس کو حیۃ سے اور دوسرے مقام پر ثعبان سے جبکہ وہ اژ دہا کو کہتے ہیں اور تیسرے مقام پر جان سے تعبیر کیا جو باریک سانپ کو کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حیۃ اسم جنس ہے اس کا اطلاق مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر آتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ پہلے اس نے باریک سانپ کی شکل اختیار کی ہو پھر اس کا جسم بڑھتے بڑھتے اژدہا بن گیا۔ پس جانّ بول کر پہلی حالت مراد لی گئی اور ثعبان بول کر آخری حالت مراد لی گئی یا ایک قول یہ ہے کہ وہ جسامت میں اژدہا تھا اور تیزی میں جان تھا۔ ایک قول یہ ہے اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ تھا۔
Ayah 20:2121: قَالَ خُذْھَا وَلَا تَخَفْ ( کہا اس کو پکڑ و اور کچھ اندیشہ نہ کرو) جب اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا کہ پکڑو اور ڈر نہیں ان کا خوف اس طرح دور ہوگیا کہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دیا اور اس کے دونوں جبڑوں سے پکڑ لیاسنُعِیْدُہَا (عنقریب ہم اس کو لوٹا دیں گے) سِیْرَتَھَا الْاُوْلٰی (اس کی پہلی حالت میں) الاولی اول کی مؤنث ہے اور سیرت اس حالت کو کہتے ہیں جس پر انسان ہو خواہ کسبی ہو خواہ طبعی ہو یہ اصل میں سیر سے فعلۃٌ کا وزن ہے۔ جیسے رکبۃ رکوب سے ہے پھر حالت اور طریقہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا ظرفیت کی بنا پر یہ منصوب ہے ای سنعیدھا فی طریقتہا فالاولٰی یہاں طریقہ بمعنی اس حال کے ہے۔ جس پر وہ لاٹھی تھی اور مطلب یہ ہے ہم اس کو عصا کی صورت میں لوٹا دیں گے جیسا کہ پہلے تھی موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطبت کے وقت یہ دکھائی گئی تاکہ اس سے وہ گھبرائیں نہیں۔ جبکہ وہ فرعون کے پاس سانپ بن جائے۔
Ayah 20:2222: وَاضْمُمْ یَدَک اِلٰی جَنَا حِکَ (اور ملائو تم اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بازو کے ساتھ) پھر دوسری آیت کے بارے میں متنبہ
کرتے ہوئے فرمایا۔ واضمم یدک الی جناحک ملائو تم اپنے ہاتھ کو اپنے پہلو کے ساتھ یعنی اپنے پہلو کی طرف بازو کے نیچے۔ انسان کے دونوں بازو دونوں طرفین ہیں۔ اور اصل جو ہے مستعار منہ پرندے کے دو بازو ہیں۔ ان کو جناح کہا گیا کیونکہ اڑنے کے وقت وہ ان کو ہلاتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس کو اپنے بازو کے نیچے داخل کرو۔
تَخْرُجْ بَیْضَآ ئَ (وہ سفیدہو کر نکلے گا) مطلب یہ ہے کہ اس کی شعائیں سورج کی شعائوں کی طرح آنکھوں کو ڈھانپ لیں گی۔ مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ (برص وغیرہ کی بیماری کے بغیر) اٰیَۃًاُخْرٰی ( یہ ایک اور نشانی ہے) آپ کی نبوت کی صداقت پر۔
نحو : بیضاء اور آیۃ یہ دونوں اکھٹے حال ہیں۔ مِن بیضاء کا صلہ ہے جیسے کہتے ہیں ابیضت من غیر سوئٍ اور یہ بھی درست ہے کہ آیت کا نصب فعل محذوف کی وجہ سے ہو۔ لام جس کے متعلق ہو۔
Ayah 20:2323: لِنُرِیَکَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْکُبْرٰی (تاکہ ہم آپ کو اپنی بڑی نشانیاں دکھائیں) یعنی یہ نشانی بھی لو اس کے بعد کہ لاٹھی کو سانپ بنایا گیا۔ تاکہ ہم ان آیات کے ساتھ اور بعض بڑی آیات دکھائیں۔ نمبر 2۔ تاکہ آپ کو ان دونوں کے ذریعہ ہماری آیات میں سے بڑی آیات دکھائیں۔ نمبر 3۔ یا معنی یہ ہے ہم نے یہ کیا تاکہ تمہیں اپنی بڑی آیات دکھائیں۔
Ayah 20:2424: اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی (تو فرعون کے پاس جا بیشک وہ سرکش ہوگیا) عبودیت کی حد سے تجاوز کر کے ربوبیت کے دعویٰ کی طرف بڑھ گیا۔
Ayah 20:2525: جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سرکش فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا اور ان سے انہوں نے سمجھ لیا کہ ان پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ جس کے لئے وسیع سینہ کی ضرورت ہے جس میں خوب قوت برداشت ہو۔ قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ (کہا اے میرے رب تو میرے لئے میرے سینے کو کھول دے) اس کو وسیع کر دے تاکہ وحی دیگر مشقتوں کو برداشت کرے۔ اور فرعون اور اس کے لشکر کی بدسلو کی کو سہہ سکے۔
Ayah 20:2626: وَ یَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ (اور میرے لئے میرے معاملے کو آسان کر دے) رسالت کا پیغام جس کے فرعون تک پہنچانے کا مجھے حکم ملا ہے اس کو مجھ پر آسان کر دے۔
نکتہ : اور اشرح لی صدری میں اشرح صدری کی نسبت زیادہ تاکید ہے کیونکہ اس میں ایک ہی معنی کا تکرار اجمال و تفصیل دونوں طریقوں سے لایا گیا ہے۔ کیونکہ اشرح لی ویسرلی سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ وہاں کوئی ایسی چیز ہے جو مشروح و میسر ہے پھر ابہام کو صدرؔ اور امرؔ کا ذکر کر کے رفع کردیا۔
Ayah 20:2727: وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ (اور میری زبان کی گرہ کھول دے) احلل کا معنی کھولنا آتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں گرہ تھی اس انگارے کی وجہ سے جس کو اپنی زبان پر بچپن میں رکھ لیا تھا۔ اور اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی ڈاڑھی کو پکڑ کر اس کے منہ پر طمانچہ مارا۔ یہ بچپن کا زمانہ تھا۔ فرعون نے قتل کروانے کا ارادہ کیا اس پر آسیہ نے کہا یہ بچہ بےسمجھ ہے اے بادشاہ ! اگر چاہیں تو تجربہ کرلیں۔ دو تھال منگوائے گئے ایک میں آگ کے انگارے اور دوسرے میں یاقوت سرخ۔ وہ دونوں موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے رکھ دیئے گئے۔ آپ نے یاقوت کا قصد کیا فرشتے نے آپکا ہاتھ آگ کی طرف پھیر دیا۔ آپ نے ایک کوئلہ اٹھا کر زبان پر رکھ لیا۔ جس سے زبان جل گئی اور اس میں لکنت پیدا ہوگئی ایک روایت میں یہ ہے کہ موسیٰ کا ہاتھ جل گیا فرعون نے اس کے علاج کی بہت تگ و دو کی مگر درست نہ ہوا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو دعوت دی تو فرعون نے کہا تو مجھے کس رب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اس رب کی طرف جس نے میرا ہاتھ درست کیا جس کے علاج سے تو عاجز رہا۔
فائدہ : من لسانی یہ عقدۃ کی صفت ہے۔ گویا اس طرح کہا : عقدۃ من عقد لسانی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زبان میں لکنت باقی رہی اس کا کچھ حصہ زائل ہوا۔ مگر اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ وہ گرہ مکمل طور پر ختم ہوگئی۔
Ayah 20:2828: یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ (تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں) تیری رسالت کا پیغام پہنچانے کے وقت۔
Ayah 20:2929: واجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا (اور میرے لے مددگار مقرر فرما) ایسا پشت پناہ جس پر میں اعتماد کرسکوں۔
اللغۃ وزیرایہ الوزر سے ماخوذ ہے جس کا معنی بوجھ ہے وزیر کو اسلئے وزیر کہتے ہیں کیونکہ وہ بادشاہ سے بوجھ اور مشقتیں اٹھاتا ہے۔ نمبر 2۔ الوَزَر سے ہے جس کا معنی پناہ گاہ ہے کیونکہ بادشاہ اس کی رائے سے مضبوطی حاصل کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اس کی پناہ حاصل کرتا اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ نمبر 3۔ مددگار۔ اس صورت میں یہ الموازرۃ سے لیا گیا۔ یہ باب مفاعلہ ہے جس کا معنی باہم مدد کرنا۔
نحو : اجعل کا مفعول اول وزیر ہے اور دوسرا مفعول من اہلی ہے۔ نمبر 2: لِیْ وزیرًایہ دونوں مفعول ہیں۔ مِنْ اَھْلِیْ (میرے اہل ہیں) ۔
Ayah 20:3030: ھٰرُوْنَ یہ وزیر کا عطف بیان ہے۔ اور اَخِی یہ بدل یا عطف بیان ثانی ہے۔ نمبر 3۔ وزیرًا اور ہارون یہ دونوں مفعول ہیں
دوسرے کو اول پر مقدم اس لئے کیا تاکہ وزارت کے معاملہ کی اہمیت معلوم ہو۔
Ayah 20:3131: اُشْدُدْبِہٖٓ اَزْرِیْ (اس سے تو مضبوط کر میری کمر کو) میری پشت کو اس سے مضبوط کر دے۔ نمبر 2۔ الازرؔ قوت کو کہا جاتا ہے یعنی میری قوت مضبوط کر دے۔
Ayah 20:3232: وَاَشْرِکْہُ فِیْ اَمْرِیْ (اور اس کو میرے اس کام میں شریک کردے) اس کو میری نبوت و رسالت میں شریک بنا۔
قراءت : شانی نے أَشدُدْ و اُشْرِکْہٗ کو نفس حکایت کے طور پر جواب قرار دیکر پڑھا۔ جبکہ دیگر قراء نے دعا اور سوال کے طور پڑھا۔
Ayah 20:3333: کَیْ نُسَبِّحَکَ کَثِیْرًا (تاکہ ہم تیری کثرت سے تسبیح بیان کریں) تیرے لئے نماز پڑھیں اور تسبیح کرتے ہوئے تیری پاکیزگی بیان کریں۔
Ayah 20:3434: وَّنَذْکُرَکَ کَثِیْرًا (اور تیری بہت یاد کریں) نمازوں میں اور نمازوں سے باہر۔
Ayah 20:3535: اِنَّکَ کُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا (بیشک تو ہمیں دیکھنے والا ہے) ہمارے حالات سے بخوبی واقف ہے۔
Ayah 20:36اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر ان کا جواب مرحمت فرمایا :
36: قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰـمُوْسٰی (کہا اے موسیٰ تمہارا سوال تمہیں دیدیا گیا) جو تم نے مانگا وہ عنایت کردیا گیا۔
اللغۃ : السُول طلب کو کہا جاتا ہے اس کا وزن فعل ہے اور بمعنی مفعول ہے جیسا کہ خبز بمعنی مخبوز آتا ہے۔ (اکل بمعنی ماکول)
قراءت : ابو عمرو نے سولک کو بلا ہمزہ پڑھا ہے۔
Ayah 20:3737: وَلَقَدْ مَنَنَّا (اور ہم احسان کرچکے) انعام کرچکے عَلَیْکَ مَرَّۃً (تم پر ایک مرتبہ) ایک بار اُخْرٰی (دوسری) اس سے پہلے۔ اس کی وضاحت فرمائی۔
Ayah 20:38ولادت کے وقت احسانات کا تذکرہ :
38: اِذْاَوْحَیْنَـآ اِلٰٓی اُمِّکَ مَایُوْحٰٓی (جبکہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات بتلائی جو الہام سے بتانے کی تھی) وحی کا معنی یہاں الہام ہے۔ نمبر 2۔ خواب۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ فرعون تیرے ہم مثلوں کو قتل کر رہا تھا۔ اذؔ یہ منناؔ کا ظرف ہے۔ پھر ما یوحیؔ کی تفسیر اس ارشاد سے فرمائی۔
Ayah 20:3939: اَنِ اقْذِفِیْہِ (اس کو تو رکھ) ڈال دو فِی التَّابُوْتِ (صندوق میں) ان مفسرہ ہے کیونکہ وحی یہاں قول کے معنی میں ہے۔ فَاقْذِِفِیْہِ فِی الْیَمِّ (پھر اس کو ڈال دو دریا میں) یعنی دریائے نیل میں۔ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ (پس موسیٰ کو دریا کنارے پر لے آئے گا) ۔
اللغۃ : الساحلؔ۔ جانب کو کہتے ہیں اس کو ساحل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ پانی اس کو چھیلتا ہے۔
نکتہ : امر کا صیغہ ماقبل کی مناسبت سے لایا گیا مگر وہ خبر کے معنی میں ہے۔ یعنی یلقیہ الیم بالساحل۔ دریا اس کو ساحل پر لا ڈالے گا۔ یَاْ خُذْہُ عَدُوٌّ لِّیْ وَعَدُ وٌّ لَّہٗ (اس کو ایسا شخص لے لے گا۔ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے) مراد اس سے فرعون ہے اور تمام ضمائر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ بعض ضمائر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ بعض ضمائر کو موسیٰ (علیہ السلام) اور بعض کو تابوت کی طرف لوٹانے سے نظم میں تنافر پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ مقذوف فی البحر اور الملقی الی الساحل تابوت ہی ہے۔ لیکن تابوت کے اندر تو موسیٰ (علیہ السلام) ہیں (اور اصل مقصود وہی ہیں)
روایت میں ہے کہ تابوت میں دھنکی ہوئی روئی رکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کو اس میں رکھا گیا تھا اور صندوقچہ کو تارکول لگائی گئی تھی پھر اس کو دریا کے حوالہ کیا گیا تھا۔ دریائے نیل کی ایک بڑی نہر فرعون کے باغ کی طرف جاتی تھی۔ فرعون اپنے باغ میں ایک تالاب کے کنارے آسیہ ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اچانک صندوقچہ پر نظر پڑی۔ فرعون نے اس کو نکالنے کا حکم دیا۔ اس کو نکال کر کھولا گیا ایک خوبصورت بچہ پایا۔ جس کا چہرہ جمال و صباحت سے مزین تھا۔ فرعون کو دیکھتے ہی اس بچہ سے شدید محبت پیدا ہوگئی اس بات کو اس ارشاد میں ذکر کیا گیا۔
وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ (میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈالی) مِنّی یہ اَلْقَیْتُ کے متعلق ہے۔ مطلب یہ ہوا میں نے تمہیں محبوب بنا لیا۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں دل بھی اسی کو چاہتے ہیں۔ پس ان کو جو کوئی دیکھتا وہ ان سے محبت کرنے لگتا۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس قدر ملاحت تھی کہ جو بھی ان کو دیکھتا ان سے محبت کرنے لگتا۔
وَلِتُصْنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ (تاکہ تم میری نگرانی میں پرورش پائو) وَلِتَصْنَعَ کا عطف محذوف پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے والقیت علیک محبۃ لتحب ولتصنع میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی تاکہ تجھے محبوب بنایا جائے اور تیری پرورش کی جائے۔ علی عینی ؔ ہماری نگرانی میں تمہاری تربیت ہو۔ اور یہ اصل میں صنع الفرس سے لیا گیا۔ اچھی دیکھ بھال کی اور حسن سلوک سے پیش آیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہاری نگرانی اور نگہبانی کرنے والے ہیں جس طرح کوئی آدمی اس چیز کی نگرانی کرتا ہے جس کی طرف خاص متوجہ ہو۔ ولتصنعَ لام کے سکون اور جزم سے مراد یہ ہے کہ یہ امر ہے۔
Ayah 20:4040: اِذْ تَمْشِیْ (جب چلتی ہوئی آئی) یہ اِذْ اوحیناؔ سے بدل ہے کیونکہ بہن کا چل کر آنا یہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان تھا۔ اُخْتُکَ فَتَقُوْلُ ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْفُلُہٗ (تمہاری بہن۔ پس وہ کہہ رہی تھی کیا میں تم کو ایسی عورت کا پتہ بتادوں جو اس کو پالے) روایت میں ہے کہ ان کی بہن مریم ان کی اطلاع معلوم کرنے کیلئے آئیں تو اس کا سامنا ایسے لوگوں سے ہوگیا جو ایسی دودھ پلانے والی عورت ڈھونڈ رہے تھے۔ جس کے دودھ کو وہ بچہ قبول کرلے۔ اب تک موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی عورت کا دودھ قبول نہ کیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا کہ تمہیں ایسے لوگ نہ بتلا دوں جو اپنے ہاں رکھ کر اس کی تربیت کریں اور اس سے ان کی مراد دودھ پلانے والی عورت تھی۔
وجہ : فعل کو مذکر لانامَنْ کی رعایت کرتے ہوئے ہے۔ انہوں نے مریم کی بات سن کر ہاں میں جواب دیا۔ اور اس کو مرضع کے بلوا لانے کا حکم دیا۔ وہ اپنی والدہ کو لے آئیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دودھ کو قبول کرلیا۔ اسی بات کا ذکر اس ارشاد میں فرمایا۔ فَرَجَعْنٰکَ پس ہم نے تمہیں لوٹا دیا۔ اِلٰٓی اُمِّکَ (تمہاری ماں کی طرف۔ ) جیسا کہ ہم نے اس کا وعدہ اپنے اس قول سے کیا۔ انارادوہ الیک۔ ] القصص : 7[ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُھَا (تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو) تمہارے اس کے ہاں قیام کی وجہ سے۔ وَلَا تَحْزَنْ (اور وہ غمگین نہ ہو) تمہاری جدائی پر۔
قبطی کا قتل اور پھر مدین جانا :
وَقَتَلْتَ نَفْسًا ( اور تم نے ایک شخص کو قتل کردیا) ایک قبطی کافر کو۔ فَنَجَّیْنٰکَ مِنَ الْغَمِّ (پس ہم نے تمہیں غم سے نجات دی) یعنی قصاص سے۔ دوسرا قول یہ ہے الغمؔ کا لفظ لغت قریش میں قتل کے معنی میں آتا ہے۔
تیسرا قول یہ ہے آپ کو قتل پر اللہ تعالیٰ کی سزا کے خوف کا غم طاری تھا۔ اور فرعون کے قصاص لینے کا بھی غم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تو ان کے استغفار کی وجہ سے بخش دیا۔ استغفار اس طرح تھا قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی اور فرعون سے بچا کر مدین میں پہنچا دیا۔ وَفَتَنّٰکَ فُتُوْنًا (اور تمہیں آزمایا آزمانا) ہم نے تمہاری اس طرح آزمائش کی کہ تمہیں مشقتوں میں ڈالا اور پھر ان سے نکالا۔
اللغۃ : الفتون یہ القعود کی طرح مصدر ہے نمبر 2۔ یہ فتنۃ کی جمع ہے۔ ای فتناک ضروبًا من الفتن اور الفتنۃ مشقت کو کہتے ہیں۔ ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمائے وہ فتنہ ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے ونبلونکم بالشروا لخیر فتنۃ ] الانبیاء : 35[
فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْ اَھْلِ مَدْیَنَ (پس تم ٹھہرے کئی سال اہل مدین میں) یہ مدین شعیب (علیہ السلام) کا شہر ہے۔ یہ مصر سے آٹھ مراحل پر واقع ہے۔ بقول وہب کے شعیب (علیہ السلام) کے پاس 28 سال ٹھہرے۔ دس سال تو اپنی بیوی صفوراء کا مہر تھا۔ اور 18 سال اس کے بعد ان کے ہاں قیام کیا یہاں تک کہ ان کے ہاں اولاد ہوگئی۔ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوْسٰی (پھر تم ایک خاص وقت پر آئے) وعدہ کا وقت اور وہ مقدار جو رسالت کیلئے مقدر تھی۔ وہ چالیس سال کی عمر تھی۔