Ayah 19:11: كۗهٰيٰعۗصۗ سدی نے کہا ! یہ اللہ تعالیٰ کا اسم عظم ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ سورة کا نام ہے۔
قراءت : علی و یحییٰ نے ھاؔ اور یاؔ کے کسرہ سے پڑھا ہے نافع نے فتحہ اور کسرہ کے درمیان اور فتحہ کے زیادہ قریب کر کے۔ ابو عمرو نے کسرہ ھاؔ اور فتحہ یاؔ کے ساتھ اور حمزہ نے اس کا عکس اور دیگر قراء نے دونوں کا فتحہ پڑھا ہے۔
Ayah 19:22: ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ (یہ تذکرہ ہے تیرے رب کی مہربانی کا)
نحو : یہ ھذا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔
عَبْدَہٗ زَکَرِیَّا (جو اسنے اپنے بندے زکریا پر کی) عَبْدَہٗ یہ رحمت کا مفعول ہے اور زَکَرِیَّا یہ عبدہ کا بدل ہے۔
قراءت : زکریا کو قصر کے ساتھ ہمزہ علی اور حفص نے پڑھا ہے۔
Ayah 19:3حضرت زکریّا ( علیہ السلام) کی بڑھاپے میں دعا :
3: اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآئً خَفِیًّا (جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پوشیدہ طور پر پکارا) اذ یہ رحمت کا ظرف ہے۔ خَفِیًّا کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے پوشیدہ طور پر اللہ کو پکارا جیسا کہ حکم ہے یہ دعا ریاکاری سے دور اور اخلاص کے قریب تر ہے۔
نمبر 2۔ یا اس کو اس لئے پوشیدہ رکھا تاکہ بڑھاپے کے زمانے میں لڑکے کی طلب پر ان کو ملامت نہ کی جائے کیونکہ اس وقت ان کی عمر 75 یا 80 سال تھی۔
Ayah 19:4ہڈیوں کے تذکرہ کی وجہ :
4: قَالَ رَبِّ (عرض کیا اے میرے رب) یہ دعا کی تفسیر ہے رب اصل میں یا رَبِّ ہے حرف ندا اور مضاف الیہ کو اختصار کیلئے حذف کردیا گیا۔ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ بیشک میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں) یعنی میں ضعیف ہوگیا یہاں عَظْم کو خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا کیونکہ وہ سارے بدن کیلئے بمنزلہ ستون کے ہے اور اسی سے بدن کا قوام ہے جب ہڈیاں ہی کمزورہو جائیں تو ساری قوت ختم ہوجاتی ہے اور کمزور پڑجاتی ہے کیونکہ ہڈیاں جسم میں سب سے زیادہ مضبوط اور سخت ہوتی ہیں جب یہ کمزور پڑجائیں تو اس کے علاوہ بقیہ اجزاء اس کی نسبت کمزور تر ہوتے ہیں۔ العظم کو واحد لائے کیونکہ یہ جنسیت پر دلالت کرتا ہے مقصد یہ ہے کہ یہ جنس جو کہ جسم کا ستون اور قوام ہے اور جسم کے ترکیبی اجزاء میں مضبوط تر ہے اس کو کمزوری پہنچ چکی۔
وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا (اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل گئی ہے) شیبا یہ تمیز ہے مطلب یہ ہے کہ میرے سر کے بالوں میں سفیدی ایسی پھیل گئی کہ گویا آگ بھڑک اٹھی۔ اشتعال نار اس وقت کہا جاتا ہے جس وقت اپنی لپٹوں میں متفرق ہو کہ شعلہ زن ہوجائے یہاں بڑھاپے کو سفیدی میں آگ کے شعلے سے تشبیہ دی ہے اور بالوں میں سفیدی کے پھیلنے کو اور چھا جانے کو اشتعال نار سے تعبیر کیا ہے اور یہ جملہ فصاحت کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ نمبر 2۔ ذرا توجہ کرو تو کلام اتنا تھا : یا رب قد شخت کیونکہ بڑھاپا ضعف بدن اور بالوں کی سفیدی جو ان دونوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور اس سے زیادہ بہتر جملہ ضعف بدنی و شاب راسی ہے اس میں اور زیادہ تفصیل ہے جبکہ اس سے بھی قومی ترجملہ وَ ھَنت عِظَام بَدَنِیْ ہے کیونکہ اس میں تصریح سے کنایہ کی طرف عدول ہے اور کنایہ تصریح سے افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ بہتر جملہ اَنَا وَھَنت عِظَام بَدَنِیْ اور زیادہ بہتر اِنِّیْ وَھَنت عِظَام بَدَنِیْ ہے۔ اور اس سے مزید بہتر : اِنِّیْ وھَنت العِظَام مِنْ بَدَنِیْ کیونکہ اس میں اجمال اور تفصیل دونوں طریقوں کو آزمایا گیا ہے اور اس سے زیادہ مضبوط مفہوم والا جملہ : انی وھنت العظام مِنّیْ اس میں بدن کا واسطہ چھوڑ دیا گیا۔ اور اس سے بہتر انی وھن العظم منی ہے کیونکہ اس میں وھن ہڈیوں کے ہر ہر فرد کو شامل کر رہا ہے اس وجہ سے کہ جمع کی بجائے مفردکو استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ مجموعی کمزوری بعض سے بھی حاصل ہوجاتی ہے بجائے ہر ہر فرد کے۔ اور اسی لئے حقیقی معنی کو شاب رأسِی میں ترک کرکے اس سے زیادہ بلیغ استعارے کی زبان استعمال کی گئی جس کے نتیجے میں یہ جملہ حاصل ہوا۔ اِشْتَعَل شَیْبَ رَاسِیْ مگر اس سے زیادہ بلیغ اشتعل راسی شیبا ہے۔ کیونکہ اس میں اشتعال کی نسبت بالوں کے مکان اور اگنے کی جگہ کی طرف ہے جو کہ سر ہے تاکہ اشتعال سارے سر کو شامل کرنے کا فائدہ دے۔
کیونکہ اشتعل شیب راسی اور اشتعل راسی شیبا دونوں ہم وزن ہیں جیسا کہ اشتعل النار فی بیتی اور اشتعل بیتی نارًا ہم وزن ہیں مگر ان دونوں میں فرق واضح ہے کیونکہ اس میں اجمال اور تفصیل ہے جیسا کہ تمیز کے طریقے میں معلوم ہوچکا مگر اس سے زیادہ بلیغ واشتعل الراس منی شیبا ہے وجہ گزر چکی مگر اس سے بلیغ تر یہ جملہ ہے واشتعل الراس شیباکیون کہ اس میں مخاطب کے علم پر اکتفا کیا گیا کہ وہ زکریا (علیہ السلام) کا ہی سر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کا عطف وھن العظم منی پر ہورہا ہے۔
میں کبھی نامراد نہ ہوا :
وَّ لَمْ اَکُنْم بِدُعَآ ئِکَ رَبِّ شَقِیًّا (اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی بھی نامراد نہیں رہا) دعائک میں مصدر کی اضافت مفعول کی طرف ہے تقدیر عبارت یہ ہے : ای بد عاءی ایّاک شقیا کا مطلب یہ ہے کہ میں آج کے دن سے پہلے مستجاب الدعوات تھا اور اس کے ساتھ خوش نصیب تھا نامراد و بدبخت نہ تھا۔ عربی کا محاورہ ہے سعد فلانًا بحاجتہ جبکہ وہ اس ضرورت کو پالے اور شقی فلان بحا جتہٖ جبکہ اس میں ناکام ہوجائے اور اس کو نہ پاسکے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ ایک محتاج نے آپ سے سوال کیا اور کہا میں وہ شخص ہوں کہ جس پر تم نے فلاں وقت میں احسان کیا تو آپ نے فرمایا تمہیں خوش آمدیدہو کہ تم نے ہماری ہی ذات کو ہمارے سامنے وسیلہ بنایا اور اس کی ضرورت پوری کردی۔
Ayah 19:55: وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ (اور میں اپنے رشتہ داروں سے اندیشہ رکھتا ہوں) الموالیؔ سے ان کے عصبات یعنی بھائی، چچا کے بیٹے مراد ہیں اور یہ بنی اسرائیل کے شریرلوگ تھے۔ پس ان کو خطرہ ہوا کہ وہ دین کو نہ بدل ڈالیں اور آپ کی امت پر وہ اچھی نائبیت انجام نہ دیں اس لئے انہوں نے اپنی صلبی اولاد میں صالح فرزند کی درخواست کی تاکہ دین کو زندہ کرنے میں ان کی اقتداء کی جاس کے۔
مِنْ وَّ رَآ ئِ یْ (اپنے بعد) اپنی موت کے بعد۔ قراءت : قصر اور فتحہ یاؔ کے ساتھ ھدای کی طرح مکی نے پڑھا ہے۔
نحو : اس ظرف کا خفت سے تعلق نہیں کیونکہ موت کے بعد وجود خوف کا کوئی تصور نہیں۔ لیکن محذوف سے متعلق ہے۔ نمبر 2: یا الموالی میں الولایہ کا معنی ہے یعنی مجھے موالی کے فعل سے خدشہ ہے اور وہ فعل انکا تبدیل کرنا اور میرے بعد بری قائم مقامی ہے۔ نمبر 3۔ مجھے ان لوگوں سے خطرہ و اندیشہ ہے جو میرے بعد معاملے کے ذمہ دار ہونگے۔
وکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا (اور میری بیوی بانجھ ہے) بچہ جننے کے قابل نہیں رہی۔ فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ (پس تو مجھے اپنی طرف سے عنایت کردے) بلا سبب جو محض تیرے فضل کا عطیہ ہو۔ کیونکہ میں اور میری بیوی اولاد جننے کے قابل نہیں۔ وَلِیًّا (ایک وارث) ایک ایسا بیٹا جو تیرے معاملے کا میرے بعد ذمہ دار ہوگا۔
Ayah 19:6وارث علم کی طلب :
6: یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ (جو میرا وارث ہو سو وارث ہو) دونوں رفع کے ساتھ ولیًا کی صفت ہیں۔ یعنی مجھے ایسا بیٹا عنایت فرما۔ جو میرے علم اور آل یعقوب کی نبوت کا وارث ہو۔
وراثت ِنبوت :
کا معنی یہ کہ وہ وحی کی صلاحیت رکھتا ہو نفس نبوت میں وراثت مراد نہیں۔
قراءت : ابوعمرو اور علی نے دونوں کو جزم سے پڑھا۔ اس طرح کہ یہ دعا کا جواب ہے کہا جاتا ہے : ورثتہ وورثت منہ۔
مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ (آل یعقوب بن اسحاق) وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا (اے میرے رب اس کو اپنا پسندیدہ بنا) ایسا پسندیدہ جس کو آپ چاہتے ہوں یا جو آپ سے راضی اور آپ کے حکموں پر خوش ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کیا اور فرمایا۔
Ayah 19:7ایک بےمثال لڑکا :
7: یٰذَکَرِیَّـآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ اڑسْمُہٗ یَحْیٰی (اے زکریّا ہم آپ کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا) اللہ تعالیٰ نے بطور تشریف کے نام خود تجویز فرمایا۔
قراءت ـ: نَبشُرک کو حمزہ نے تخفیف سے پڑھا ہے۔
لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا (ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا) اس سے پہلے یحییٰ کسی کا نام نہ تھا۔ اور یہ دلیل ہے کہ یہ موضع حال میں ترجیح کے قابل ہے۔ نمبر 2۔ مثال اور تشبیہ مراد ہے اور ان کی مثال اس لئے نہ تھی کیونکہ انہوں نے کبھی نہ کوئی نافرمانی کی اور نہ ہی اس کا ارادہ کیا اور وہ بوڑھے باپ اور بوڑھی ماں کے اکلوتے تھے۔ اور یہ عورت سے بےرغبت تھے۔
Ayah 19:88: جب فرشتوں نے ان کو بشارت دے دی۔ قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ (کہا اے میرے رب میرے لئے لڑکا کیسے ہوگا) اَنّٰی کَیْفَ کے معنی میں ہے۔ یہ استبعاد نہیں بلکہ اس بات کو ظاہر کرانے کیلئے ہے کہ وہ کس طریقہ سے ہوگا۔ کیا وہ دونوں اسی حالت میں رہیں گے اور وہ ان کو عنایت کیا جائے گا۔ یا نمبر 2۔ جوانی میں لوٹ کر جائیں گے۔
وَّ کَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا (اور میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے میں انتہائی عمر کو پہنچ چکا ہوں) ای بَلَغْتُ عِتِیًّا۔ عتیًا خشکی کو کہتے ہیں۔ جوڑوں اور ہڈیوں میں لاغری جیسا خشک ٹہنی جو بڑھاپے کی وجہ سے ہو۔ اور انتہائی عمر کو پہنچنا۔
قراءت : عِتِیًّا، صِلِیًّا، ] مریم : 70[، جِثِیًّا ] مریم : 68[ بُکیًا ] مریم : 58[ تمام کے شروع میں حمزہ و علی، حفص نے کسرہ پڑھا۔ مگر ب کیا میں حفص نے باؔ پر ضمہ پڑھا ہے۔
Ayah 19:99: قَالَ کَذٰلِکَ (کہا اسی طرح) ۔ کاف مرفوع ہے تقدیر یہ ہے : الاَ مْرُ کَذٰلِک۔ اس میں ان کی تصدیق کی ابتداء کرتے ہوئے کہا : قَالَ رَبُّکَ تمہارے رب نے کہا۔ نمبر 2۔ یہ قال کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور ذٰلِک سے اس مبہم کی طرف اشارہ کیا جس کی تفسیر ھو عَلَیَّ ھَیِّنٌ کر رہا ہے۔ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وہ مجھ پر آسان ہے) یعنی یحییٰ کا دو بوڑھوں سے پیدا کردینا آسان ہے۔ وَّ قَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ اس سے پہلے ہم نے تجھے پیدا کیا) یحییٰ سے پہلے تمہیں وجودد یا۔
قراءت : حمزہ، علی نے خلقناک پڑھا ہے۔ وَلَمْ تَکُ شَیْئًا (اور تو کچھ نہ تھا) کیونکہ معدوم کوئی چیز نہیں ہوتا۔
Ayah 19:1010: قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ اٰیَۃً (کہا اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقر رفرما) ایسی علامت جس سے میں اپنی عورت کا حاملہ ہونا پہچان سکوں۔ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا (کہا تیری نشانی یہ ہے کہ تو لوگوں سے تین راتیں صحیح سالم ہونے کے باوجود کلام نہ کرسکے گا) سَوِیًّا یہ تکلم کی ضمیر سے حال ہے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ حال کو نک سویّ الاعضاء واللسان۔ مطلب ہوا کہ تیری علامت یہ ہے کہ تو کلام سے رک جائے گا اس کی طاقت نہ ہوگی حالانکہ تیرے اعضاء صحیح سالم ہونگے گونگے پن کا نام نہ ہوگا۔
نحو : یہاں لیالی کا ذکر کیا جبکہ آل عمران میں ایام کا۔ اس لئے کہ اس سے یہ بتلایا کہ کلام سے یہ رکنا مسلسل تین دن رات رہے گا۔ ایام کا ذکر کرنے سے اس کے ساتھ والی راتیں خود شامل ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح عرف عام میں بھی راتیں بول کر جو ان سے متصل دن ہے وہ مراد لیا جاتا ہے۔
Ayah 19:111 1: فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ (وہ اپنی قوم کے پاس مسجد سے نکل کر گئے) محراب سے نماز کی جگہ مراد ہے۔ وہ ان کے انتظار میں تھے۔ آپ کو کلام پر قدرت نہ رہی : فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ (پس آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا) انگلی سے اشارہ مراد ہے۔ اَنْ سَبِّحُوْا (تم تسبیح کرو) یعنی نماز پڑھو۔ یہ اَن مفسرہ ہے۔ بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا (صبح، شام) فجر و عصر کی نماز مراد ہے۔
Ayah 19:12یحییٰ ( علیہ السلام) کی صفات :
12: یٰـیَحْیٰی خُذِالْکِتٰبَ اے یحییٰ تو کتاب کو پکڑ) مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو یحییٰ عطا کیا اور ہم نے یحییٰ کو ولادت کے بعد یا خطاب کے زمانے میں کہا اے یحییٰ کتاب سے تورات مراد ہے۔ بِقُوَّۃٍ (مضبوطی کے ساتھ) یہ حال ہے مطلب یہ ہے کہ خوب کوشش کے ساتھ اور اللہ کی تائید و توفیق کی پشت پناہی کے ساتھ۔ وَّاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا ہم نے بچپن میں ہی ان کو حکم دیا) حکم سے مراد یہاں توراۃ کی سمجھ اور دین کی فہم ہے۔ صَبِیًّا یہ حال ہے ایک قول یہ ہے کہ بچے حضرت یحییٰ کو کھیلنے کیلئے بلاتے تو آپ فرماتے ہم کھیل کیلئے پیدا نہیں کئے گئے۔
Ayah 19:1313: وَّ حَنَا نًا (اور شفقت) شفقت اور حمت اپنے والدین اور دوسروں کے حق میں )
نحو : کو اس کا عطف الحکم پر ہے : مِّنْ لَّدُنَّا (اپنی طرف سے) وَزَکٰوۃً ( اور پاکیزگی) یعنی طہارت و بھلائی کہ انہوں نے کوئی گناہ نہ کیا : وَّکَانَ تَقِیًّا ( اور وہ متقی تھے) یعنی فرما نبردار اور اطاعت شعار۔
Ayah 19:1414: وَّبَرًّا مبِوَالِدَیْہِ (والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے) یعنی ان کے ساتھ بھلائی کرنے والے تھے ان کی نافرمانی نہ کرتے تھے۔ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا (اور وہ متکبر اور نافرمان نہ تھے) عصیًا کا معنی اپنے رب کا نافرمان۔
Ayah 19:15پروانہ سلامتی :
15: وَ سَلٰـمٌ عَلَیْہِ (اور ان کے لئے سلامتی ہے) یعنی اللہ کی طرف سے ہر دکھ اور اذیت سے امان ہے۔ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ (جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ مریں گے) یعنی ولادت کے وقت شیطان کے اثرات سے اور موت کے وقت فتنہ قبر سے۔ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا (اور جب وہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے) یعنی بڑی گھبراہٹ سے محفوظ کردیئے جائیں گے۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں یہی تین موقعے سب سے زیادہ و حشت ناک ہیں۔
Ayah 19:16حضرت مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ :
16: وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ (اور یاد کیجئے یا تذکرہ کیجئے کتاب میں مریم کا) کتاب سے قرآن مراد ہے مطلب یہ ہے کہ ان کو مریم کا واقعہ پڑھ کر سنائیں تاکہ اس کی ان کو اطلاع ہو اور جو کچھ ان پر گزرا اس کا ان کو علم ہوجائے۔
نحو : اِذْ یہ مریم کا بدل الا شتمال ہے کیونکہ اوقات اس سب پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جو ان سب میں پایا جاتا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ مریم کے تذکرے میں مقصود اس وقت کا ذکر کرنا ہے۔ جس میں یہ عجیب واقعہ پیش آیا۔ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَھْلِھَا (الگ ہوگئی اپنے اہل سے) یعنی دور ہوگئی : مَکَانًا شَرْقِیًّا (مشرقی جانب والے مکان میں) یعنی ایسے مکان میں عبادت کیلئے علیحدگی اختیار کی جو بیت المقدس کے مشرقی جانب تھا۔ یا گھر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہوگئیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اپنے گھر کے مشرقی کونے میں غسل حیض کیلے بیٹھیں۔
Ayah 19:1717: فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِھِمْ حِجَابًا (انہوں نے گھر والوں سے پردہ ڈال لیا) یعنی انہوں نے اپنے اور گھر والوں کے درمیان اسلئے پردہ لٹکایا تاکہ اس پردے کے پیچھے غسل کرسکیں۔ فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا (پس ہم نے بھیجا ان کے پاس جبرئیل امین کو) روحَنَا کی اضافت تشریف کیلئے ہے اور ان کو روح اسلئے کہا جاتا ہے کیونکہ دین ان سے زندہ ہے وہ اس کی وحی لاتے رہے ہیں۔ فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا (پس ان کے سامنے پورا آدمی بن کر نمودار ہوئے) یعنی جبرئیل ایک نوجوان آدمی کی صورت میں ان کے سامنے آئے جن کا چہرہ چمک رہا تھا۔ بال گھنگریالے اور منہ پر ڈاڑھی نہ تھی۔ سَوِیًّا کا معنی اعضاء بند ان کے بالکل درست تھے۔ جبرئیل صورت انسانی میں ان کے سامنے اسلئے آئے تاکہ ان کی کلام سے وہ مانوس ہوں اور متنفرنہ ہوں اگر وہ ان کے سامنے صورت ملکیہ میں آتے تو وہ نفرت کرتیں اور انکا کلام سننے کی قدرت نہ پاتیں۔
Ayah 19:1818: قَالَتْ اِنِّیْ اَعُوْذُبِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا (کہنے لگی میں تجھ سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو متقی ہے) یعنی اگر تجھ سے تقویٰ کی امید ہے تو تب بھی میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں یا اس شرط کی جزاء محذوف ہے کہ اگر تو تقوے والا ہے تو تقویٰ کا تقاضا بدکاری کی طرف اقدام نہ کرنا ہے۔
Ayah 19:19حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کی گفتگو :
19: قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ (جبرئیل نے کہا بیشک میں تیرے رب کا قاصد ہوں) اس کو اس سلسلے میں مطمئن کیا جس سے وہ ڈر رہی تھی اور اس کو اطلاع دی کہ وہ انسان نہیں بلکہ وہ اسی رحمان کا قاصد ہے جس کی وہ پناہ طلب کررہی ہیں۔ لِاَھَبَ لَکِ تاکہ میں تجھے عطا کروں) ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یا لڑکا عطا کرنے کا میں گریبان میں پھونک مار کر سبب بن جائوں۔
قراءت : نافع اور ابوعمرو نے لِیَھَبَ لک پڑھا ہے۔ یعنی لیھب اللہ لک۔ غُلٰمًا زَکِیًّا (پاکیزہ لڑکا) یعنی گناہوں سے پاک یا خیر و برکت پر نشونما پانے والا۔
Ayah 19:2020: قَالَتْ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ (کہا میرے لڑکا کیسے ہوگا) اَنّٰی یہاں کیف کے معنی میں اور غلام ابن کے معنی میں ہے۔ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ (اور مجھے کسی انسان نے نہیں چھوا) یعنی نکاح سے کوئی میرا خاوند نہیں۔ وَّلَمْ اَ کُ بَغِیًّا (اور میں نے برا کام بھی نہیں کیا) یعنی فاجرہ عورت۔ جو مردوں کو تلاش کرتی پھرے یعنی کسی بھی آدمی سے اپنی شہوت کو پورا کرے اور عادت یہ ہے کہ لڑکا ان دو صورتوں سے ہی ہوتا ہے۔ مبرد کہتے ہیں کہ بغی فعول کے وزن پر ہے اصل بغوی ہے وائو کو یا کر کے اس میں ادغام کردیا اور اتباعا غین کو کسرہ دیا اسی وجہ سے اس میں تائے تانیث نہیں جس طرح کہ امرئۃ صبور و شکور میں دیگر علماء نحو نے یہ کہا کہ یہ فعیل کے وزن پر ہے اور اس کے آخر میں ہ نہیں آتی کیونکہ یہ مفعولہ کے معنی میں ہے۔ اور اگر فاعلہ کے معنی میں ہو تو کبھی اس میں مشابہت ہوجاتی ہے جیسے : ان رحمت اللّٰہ قریبٌ] الاعراف : 56[
Ayah 19:2121: قَالَ کَذٰلِکِ (جبرئیل نے کہا اسی طرح) یعنی معاملہ اسی طرح ہے جس طرح تم نے کہا کہ تمہیں کسی مرد نے نکاح سے یا زنا سے نہیں چھوا۔ قَالَ رَبُّکِ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ (تمہارے رب نے کہا ہے کہ وہ مجھ پر آسان ہے) یعنی بغیر باپ کے لڑکا دینا میرے لئے آسان ہے۔ وَّلِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ (اور تاکہ ہم اس کو لوگوں کیلئے نشانی بنادیں) یہ جملہ تعلیلیہ ہے اس کا معلل محذوف ہے تقدیر کلام اس طرح ہے ولنجعلہ آیۃ للناس فعلنا ذالک یا تعلیل مضمر پر اس کا عطف ہے تقدیر کلام اس طرح ہوگی لنبین بہٖ قدرتنا ولنجعلہ آیۃ للناس یعنی ہماری قدرت پر دلیل اور عبرت ہوگا۔ وَرَحْمَۃً مِّنَّا اور رحمت ہماری طرف سے) اس کے لئے جو ان پر ایمان لائے گا وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًا (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی خلقت طے شدہ کام ہے) مَقْضِیًّا کا معنی مقدر اور لوح کے اندر لکھا ہوا۔
Ayah 19:22حمل مریم کے متعلق ابن عباس ؓ کا قول :
22: جب وہ ان کی بات سے مطمئن ہوگئیں تو ان کے قریب ہوئیں جبرئیل نے ان کے گریبان میں پھونک ماری وہ پھونک ان کے پیٹ تک پہنچی۔ فَحَمَلَتْہُ (پس وہ اس بچے سے حاملہ ہوگئیں) یعنی جو بچہ ان کو عطا کرنا تھا۔ مریم کی اس وقت عمر تیرہ سال یا دس یا بیس سال تھی۔ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ (پس اس حمل کو لیکر ایک جگہ میں چلی گئیں) یعنی وہ دور چلی گئیں اس حال میں کہ حمل ان کے پیٹ میں تھا۔
نحو : یہ جار اور مجرور موضع حال میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ان کی مدت حمل ایک لمحہ تھی جو نہی وہ حاملہ ہوئیں اسی وقت وہ الگ ہوگئیں ایک کمزور قول یہ ہے کہ چھ مہینے مدت تھی دوسرا قول سات مہینے تیسرا قول آٹھ مہینے۔ آٹھ مہینے کا کوئی بچہ بھی سوائے عیسیٰ کے زندہ نہیں رہا ایک قول یہ ہے کہ ایک ساعت میں حاملہ ہوئی دوسری ساعت میں ان کی تصویر بنی اور تیسری ساعت میں عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے۔ مَکَانًا قَصِیًّا (دور جگہ میں) جو گھرو الوں سے دورپہاڑ کے پیچھے تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جب انہوں نے حمل کو محسوس کیا تو ملامت کے خوف سے وہ اپنی قوم سے دور بھاگ گئی۔
Ayah 19:2323: فَاَجَآ ئَ ھَا الْمَخَاضُ (پس دردزہ ان کو لے آیا) لے آیا یا ان کو مجبور کیا۔ یہ جاء سے منقول ہو کر آیا البتہ اس کا استعمال اِلْجَاء کے معنی کی طرف منتقل ہونے سے بدل گیا۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس طرح نہیں کہتے۔ جئت المکان، اجاء فیہ زیدٌ المخاص دردزہ۔ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ (کھجور کے تنے کی طرف) کھجور کی جڑ کی طرف اور یہ درخت خشک تھا۔ اور یہ موسم سردی کا تھا۔ النخلۃ کو معرفہ لا کر ظاہر کیا۔ کہ یہ کھجور کا معروف درخت تھا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ تعریف جنس کو ظاہر کرنے کیلئے ہو۔ یعنی جذع ھذہ الشَّجَرَۃ اس درخت کے تنے کی طرف گویا کہ اللہ تعالیٰ نے کھجور کی طرف اس کی راہنمائی کی تاکہ وہ اس سے تر کھجور کھائے۔ کیونکہ نفاس والی عورتوں کی یہ مخصوص خوراک ہے۔ پھر تکلیف کی شدت کی وجہ سے قالت بول اٹھی۔ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا (اے کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی) ھٰذاکا مشار الیہ الیومؔ ہے۔
قراءت : مدنی، کوفی نے سوائے ابوبکر کے مِتُّ کسرہ سے اور دیگر قراء نے مُتُّ پڑھا ہے۔ کہا جاتا ہے مات یموت و یمات وَ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا ( اور ہوجاتی بھولی بسری) ایسی متروکہ چیز جو نہ معروف ہو اور نہ قابل تذکرہ ہو۔
قراءت : حمزہ، حفص نے نسیًا کو فتحہ نون سے اور دیگر قراء نے کسرہ سے۔ مگر دونوں کا معنی یکساں ہے۔ ایسی چیز کو کہتے ہیں۔ جو پھینکے جانے اور حقارت کی وجہ سے بھلا جانے کے قابل ہو۔
Ayah 19:24تسلی جبرئیل۔ :
24: فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِہَا (اس کو آواز دی اس کے پائیں مکان سے) یعنی اس شخص نے جو اس کے بائیں جانب تھا۔ نادٰی کا فاعل جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ وہ اس سے گہرے مقام میں تھے۔ نمبر 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو خطاب کیا ان کے اپنے دامن کے نیچے سے۔
قراءت : مدنی، کوفی نے سوائے ابوبکر کے من تَحْتھا اس کا فاعل مضمر ہے اور وہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
نمبر 3۔ جبرئیل (علیہ السلام) اور تحتھا کی ضمیر نخلہ کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ ان کو شدید تکلیف کا سامنا تھا اس لئے ان الفاظ سے تسلی دی۔ اَلَّا تَحْزَنِیْ (تو مغموم مت ہو) اکیلے پن کا غم نہ کر اور طعام و شراب کی فکر تجھے دامن گیرنہ ہو اور لوگوں کی باتوں کے سلسلہ میں دلگیر نہ ہو۔ ان یہ ای کے معنی میں ہے۔
ندی کا جاری ہونا :
قَدْجَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا (تیرے رب نے تیرے پائیں سے ایک نہر پیدا کردی) تحت سے قرب مراد ہے۔ نمبر 2۔ تیرے حکم کے ماتحت کردی اگر تو حکم دے گی چلے گی اور تو اس کو ٹھہرائے گی تو ٹھہر جائے گی۔ السری، چھوٹی نہر، عند الجمہور۔ آنحضرت ﷺ سے سری کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا ھو الجدول ] رواہ الطبرانی فی الصغیر[ حضرت حسن کہتے ہیں السری سخی سردار مراد عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ روایت میں ہے کہ خالد بن صفوان نے ان کو کہا عرب تو جدول کو سری کہتے ہیں تو حسن نے کہا تو نے سچ کہا اور خالد کے قول کی طرف رجوع کرلیا۔
Ayah 19:2525: حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) یا جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنی ایڑی زمین پر ماری جس سے میٹھے پانی کا چشمہ ابلنے لگا خشک نہر جاری ہوگئی اس سے کھجور سرسبز ہوگئی۔ اور پھل آگیا اور پھل پک کر تیار ہوگیا۔ اس پر مریم کو کہا گیا۔ وَھُزِّیْ (تو حرکت دے) اِلَیْکِ (اپنی طرف) بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ کھجور کے تنے کو (ابو علی کا قول با ؔ زائدہ ہے ای ھزی جذع النخلۃ۔ تُسٰقِطْ عَلَیْکِ (وہ تیرے اوپر تروتازہ کھجوریں گرائے گا) ۔
قراءت : اول تا کو دوسری میں ادغام کردیا مکی، شامی، مدنی، ابو عمرو، علی، ابوبکر کے ہاں اسی طرح ہے۔ یہ اصل میں تتسا قط ہے۔ تَسَاقَطْ تا، قاف کے فتحہ کے ساتھ، دوسری تاؔ کو گرادیا سین میں تخفیف سے حمزہ نے پڑھا۔ اور یساقط یاؔ کا فتحہ، قاف کا فتحہ، سِیْن مشدد۔ یہ یعقوب، سھل، حماد، نصیرنے پڑھا۔ تساقط مفاعلہ سے حفص نے پڑھا۔ اور تسقط، یُسقطِ وَتَسقُط وَیَسقُط تاؔ النخلۃ کی وجہ سے اور یاؔ الجذع کیلئے یہ کل نو قراءتیں ہیں۔
رُطَبًا یہ تمیز ہے نمبر 2۔ مفعول بہٖ ہے قراءت کے مطابق جَنِیًّا تازہ۔ لوگوں نے کہا زمانہ قدیم میں نفاس والی عورتوں کو کھجور دیتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے نفساء کیلئے کھجور سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اور مریض کیلئے شھد سے بہتر کوئی شیء نہیں۔
Ayah 19:26ہدایات :
26: فَکُلِیْ (پس تو کھا) اس چنی ہوئی کھجوروں میں سے۔ وَاشْرَبِیْ (اور نہر کا پانی پی) ۔ وَقَرِّیْ عَیْنًا ( اور تو اپنی آنکھیں دودھ پیتے بچے سے ٹھنڈی کر) عیناًؔ یہ تمیز ہے۔ تو عیسیٰ سے اپنے نفس کو خوش کر اور غم والی چیز اپنے سے دور رکھ۔ فَاِمَّا اس کی اصل اِنْؔ ما ہے اِنْ شرطیہ کو ماؔ سے ملا کر اس میں ادغام کردیا۔ تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا فَقُوْلِیْ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا (پس اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو اس سے کہ دینا کہ میں نے آج اللہ کیلئے خاموش رہنے کی نذرمانی ہے) یعنی اگر تو کسی آدمی کو دیکھ پائے اور وہ تم سے تمہارا حال دریافت کرے تو تو خاموش رہ اور کلام سے اپنے کو روک کر رکھ جیسا کہ کھانے پینے کا روزہ رکھتے ہیں۔ نمبر 2۔ یہ حقیقتاً روزہ تھا۔ ان کے روزے میں خاموشی تھی اور خاموشی کا التزام روزے کا التزام تھا۔
آپ ﷺ نے خاموشی کے روزے سے منع فرمایا پس یہ ہماری شرع میں منسوخ ٹھہرا۔ حضرت مریم کو خاموشی کی نذر ماننے کا حکم تھا۔ کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو ان کی براءت کیلئے کافی تھی۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ احمق لوگ جدال پر نہ اتر آئیں۔
مسئلہ : اس میں یہ بتلایا کہ بیوقوف کی بات سے خاموشی لازم ہے اور اعراض وغیرہ سے روکا جائے اور اس کی زبان کی لگام کو
بالکل آزاد نہ چھوڑے۔ حضرت مریم نے ان کو نذر ؔ کی اطلاع اشارہ سے دی اور اشارہ کو کلام و قول سے تعبیر کیا۔ جیسا شاعرنے قبور کی تعریف میں کہا۔ و تکلّمت عن اَوْجہ تبلی۔ تو تکلم کی نسبت قبور کی طرف کی۔ ایک قول یہ ہے کہ خاموشی اس کلمہ کے کہنے کے بعد لازم تھی۔ یا اتنی مقداران کے لئے نطق سے بنائی گئی۔
فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا (میں ہرگز آج کسی انسان سے کلام نہ کرونگی) اِنْسِیًّا سے آدمی مراد ہے۔
Ayah 19:2727: فَاَتَتْ بِہٖ (پس پھر اس کو لے کر آئیں) عیسیٰ (علیہ السلام) کو قَوْمَھَا (اپنی قوم کے پاس) نفاس سے پاکیزگی کے بعد تَحْمِلُہٗ اٹھائے ہوئے) ھاؔ ضمیر سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئی۔ جب انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کے ساتھ دیکھا تو۔ قَالُوْا یٰـمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًافَرِیًّا (کہنے لگے اے مریم تو نے بہت برا کام کیا) فریًّا اوپری عجیب، اصل الفری کا معنی کاٹنا ہے گویا وہ عادت کو کاٹنا ہے۔
Ayah 19:2828: یٰٓـاُخْتَ ھٰرُوْنَ (اے ہارون کی بہن) یہ مریم کا باپ کی طرف سے حقیقی بھائی تھا۔ اس زمانہ کے بنی اسرائیل کے افضل ترین لوگوں میں سے شمار ہوتا تھا۔ نمبر 2۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی کا نام ہے اور یہ ان کے اجداد میں سے تھے اور ان کے مابین ایک ہزار برس کا فاصلہ ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں یا اخا عمران یعنی ان میں سے ایک یاؔ نمبر 3۔ کوئی نیک آدمی یاؔ نمبر 4۔ ان کے زمانے میں بدترین آدمی اس کے ساتھ مریم کو تشبیہ بھلائی میں دی۔ نمبر 5۔ یہ کہہ کر وہ مریم کو گالی بک رہے تھے۔
مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَاَسَوْئٍ (اور تمہارا باپ برا آدمی نہ تھا) ابوک سے عمران مراد ہیں۔ امراء سواء کا مطلب زنا کار۔
وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا (اور نہ تیری ماں زنا کار تھی) بغیًا زانیہ کو کہتے ہیں۔
Ayah 19:29اشارئہ مریم :
29: فَاَشَارَتْ اِلَیْہِ (پس مریم نے اس کی طرف اشارہ کیا) عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کہ وہ ان کو جواب دیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کو کہا لَاتَحْزَنِیْ واحیلی بِالْجَوَابِ عَلی۔ غم نہ کرنا اور انکا جواب دینا میرے حوالہ کرنا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو یہ حکم دیا۔ جب اشارہ کیا تو وہ سب ناراض ہوگئے اور متعجب ہوئے اور قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ (کہنے لگے ہم اس سے کیسے بات کریں جو ہے) گود کا بچہ اور موجود ہے۔ فِی الْمَہْدِ پنگھوڑے میں صَبِیًّا اس حال میں کہ وہ بچہ ہے) صَبِیًّا یہ حال ہے۔
Ayah 19:30معجزانہ خطاب عیسیٰ d:
30: قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ (کہا بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں) جب مریم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی بولنے والی زبان کو روک لیا تو اللہ تعالیٰ نے خاموش زبان کو اس کے لئے قوت گویائی سے نواز دیا۔ جس نے سب سے قبل اپنی عبودیت کا اعتراف کیا اس وقت ان کی عمر چالیس راتوں کی تھی۔ دوسرا قول ایک دن کی عمر تھی۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا اور بلند آواز سے کہا بیشک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ اس میں نصاریٰ کے قول (ابن اللہ) کی تردید ہے۔
ٰاتٰنِیَ الْکِتٰبَ (اور وہ مجھے کتاب دے گا) ۔ کتاب سے انجیل مراد ہے۔ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا (اور اس نے مجھے نبوت سے نوازا۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ وہ پنگھوڑے میں نبی تھے۔ اور ان کا کلام معجزہ نبوت تھی۔ نمبر 2۔ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں تقدیرالٰہی میں طے شدہ ہیں نمبر 3۔ مستقبل کے واقعہ کو لامحالہ ہونے کی بنا پر اس طرح ذکر کیا گویا کہ وہ موجود ہے۔
Ayah 19:3131: وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰـرَکًا اَیْنَ مَاکُنْتُ (اور مجھے بابرکت بنایا۔ جہاں بھی ہوں) مُبَارَکًا فائدہ پہنچانے والا جہاں بھی ہوں۔ نمبر 2۔ خیر کا معلم وَاَوْصٰنِیْ (اور مجھے حکم دیا) بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ (نماز اور زکوٰۃ کا) اگر میں مال کا مالک ہوا۔ نمبر 2۔ زکوۃ سے صدقہ الفطر مراد ہے۔ نمبر 3۔ تطھیر بدن مراد ہے۔
ایک احتمال یہ ہے اَوْ صَانِیْ بان امرکم بالصلاۃ والزکٰوۃ کہ مجھے اس نے تمہیں نماز و زکوۃ کی وصیت کرنے کا حکم دیا۔ مَا دُمْتُ حَیًّا زندگی بھر۔
نحو : حیًّا ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای مدۃ حیاتی ساری زندگی۔
Ayah 19:3232: وَبَرًّام بِوَالِدَتِیْ اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنا یا)
نحو : اس کا عطف مبارکًا پر ہے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنے والا اس کی تکریم و تعظیم کرنے والا۔
Ayah 19:33وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا (اور اس نے مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا) جبار کا معنی متکبر شَقِیًّا (بدبخت) یعنی عاق و نافرمان۔
33: وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ (اور مجھ پر سلام جس روز میں پیدا ہو)
نحو : یوم ظرف ہے اور عامل اس میں عَلَیّ خبر ہے۔
وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (اور جس روز میں مر جائوں گا اور جس روز زندہ کر کے اٹھایا جائونگا) یہ سلامتی کے مواقع جو یحییٰ کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں۔ وہ مجھے بھی میسر آنے والے ہیں۔ : یہ مطلب اس صورت میں ہے جبکہ الف، لام عہد کے ہوں۔ نمبر 2: اور اگر الف لام جنس کا ہو تو اس وقت مطلب یہ ہے کہ جنس سلام مجھ پر ہو۔
فائدہ : اس میں مریم اور اسکے بیٹے کے دشمنوں کیلئے لعنت کی تعریض ہے کیونکہ جب اس نے کہا کہ سلامتی کی جنس میرے لئے ہے تو یہ تعریض کردی اسکی ضد اور عکس تمہارے لیے ہوگا۔ کیونکہ یہ موقع انکار وعناد کا ہے۔ اسلئے اس قسم کی تعریض اس سے نکلے گی۔
Ayah 19:3434: ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ (یہ عیسیٰ ابن مریم ہے) ۔
نحو : ذلک مبتدا عیسیٰ خبر اور ابن مریم خبر کی صفت ہے۔ یا نمبر 2۔ دوسری خبر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ذلک الذی قال انی عبداللّٰہ وکذا و کذا عیسیٰ بن مریم لا کما قالت النصاری انہٗ الہٌ او ابن اللّٰہ۔ یہی جس نے انی عبداللہ الخ کہا عیسیٰ ابن مریم ہے۔ وہ نہیں جو نصاریٰ نے کہا وہ معبود یا ابن اللہ ہے۔
قَوْلَ الْحَقِّ (سچی بات) اللہ تعالیٰ کا کلمہ۔ القول کلمہ کو کہتے ہیں اور الحق اللہ تعالیٰ کی ذات نمبر 2۔ ان کو کلمہ اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کنؔ سے بلا واسطہ باپ کے پیدا ہوا۔
نحو : یہ مرفوع اس لئے ہے کہ دوسری خبر ہے۔ نمبر 2۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 3۔ بدل ہے۔ نصبؔ کو شامی و عاصم نے بطور مدح کے اختیار کیا ہے۔
الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ (جس کے متعلق لوگ شک میں پڑے ہیں) المریہ سے یمترون بنا ہے جس کا معنی شک آتا ہے۔ نمبر 2۔ المراء سے لیں تو اختلاف کرنا معنی ہوگا۔ یہود نے تو ساحر کذاب کہا اور نصارٰی نے ابن اللہ اور ثالث ثلاثۃ کہا۔
Ayah 19:3535: مَاکَانَ لِلّٰہِ اللہ تعالیٰ کیلئے یہ زیبا نہیں) مناسب نہیں اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ کہ وہ بیٹا بنائے۔
نحو : یہاں مِنْ تاکید نفی کیلئے لایا گیا ہے۔
سُبْحٰنَہٗ وہ پاک ہے) بیٹا بنا لینے سے اس کی ذات کو منزہ قرار دیا گیا۔ اِذَا قَضٰی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُجب وہ کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کو کہتا ہے ہوجا۔ پس وہ ہوجاتا ہے)
قراءت : شامی نے نصب سے پڑھا۔ یعنی کما قال لِِعیسٰی کن فکان من غیرابٍ جو نہی عیسیٰ کو کن کہا وہ بلا باپ بن گیا اور جو اس صفت سے متصف ہو وہ اس بات سے منزہ ہے کہ وہ حیوان والد کے مشابہ ہو۔
Ayah 19:3636: وَاِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ اور بیشک اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے پس تم اسی کی عبادت کرو۔
قراءت : شامی اور کوفی نے ابتداء کی وجہ سے مکسور پڑھا اس صورت میں یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلام میں سے ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے کما انا عبدہٗ فانتم عبیدہ وعلیّ وعلیکم ان نعبدہ جس طرح میں اس کا بندہ ہوں تم بھی اس کے بندے ہو اور مجھ پر اور تم پر اس کی عبادت لازم ہے۔ نمبر 2۔ جنہوں نے فتحہ دیا انہوں نے الصَّلاۃ پر عطف کیا تقدیر عبارت یہ ہے اوصانی بالصلاۃ وبالزکاۃ و بان اللّٰہ ربی و ربکم فاعبدوہ۔ اس نے نماز و زکوۃ کی وصیت فرمائی اور اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے اس کی عبادت کرو۔ ھٰذَا یہ) جس کا میں نے تذکرہ کیا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (سیدھا راستہ) پس اسی کی تم عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو۔
Ayah 19:37احزاب کا مراد :
37: فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ (پس پھر بھی مختلف گروہوں نے باہم اختلاف ڈالا) الحزب وہ فرقہ جو دوسروں سے راستے میں منفرد ہو یہ تین فرقے ہیں نمبر 1۔ نسطور یہ نمبر 2۔ یعقوبیہ نمبر 3۔ ملکانیہ۔
مِنْم بَیْنِہِمْ (اپنے مابین) عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کے مابین نمبر 2۔ اپنی قوم کے درمیان نمبر 3۔ لوگوں کے درمیان۔ اور وہ اس طرح ہے کہ نصارٰی نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق رفع کے وقت اختلاف کیا پھر انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ تین کے قول کی طرف رجوع کریں یہ ان کے زمانہ میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔ ان کے نام یعقوب ٗنسطور، ملکاء تھے۔
نمبر 1۔ یعقوب کا قول وہ بعینہٖ اللہ تعالیٰ ہے جو زمین پر اتر آیا۔ پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا نمبر 2۔ نسطور نے کہا وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے جسطرح چاہا اس کو ظاہر کردیا پھر اس کو اٹھایا۔ نمبر 3۔ ملکاء نے کہا ان دونوں نے جھوٹ بولا ہے۔ وہ مخلوق بندے نبی تھے اب ان میں سے ہر ایک کی اتباع ایک گروہ نے کی۔
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (پس کافروں کیلئے بڑی خرابی ہے) کافروں سے یہ گروہ مراد ہیں کیونکہ ان میں سے ایک حق پر تھا۔ مِنْ مَّشْہَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (ایک بڑے دن کی حاضری سے) یوم عظیم سے قیامت کا دن مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن حساب وجزاء کے لئے حاضر ہونگے۔ نمبر 2۔ وہ دن ان پر شہادت دے گا۔ انبیاء اور ملائکہ اور خود ان کے جوارح ان کے متعلق کفر کی گواہی دیں گے۔ نمبر 3۔ مکان شہادت سے ان کے لئے خرابی ہے۔ نمبر 4۔ وقت شہادت مراد ہے۔ نمبر 5۔ مشورہ کیلئے ان کے اجتماع کا دن مراد ہے۔ اس کو یوم عظیم قرار دیا اس لئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو کچھ وہ ملاحظہ کریں گے اس سے وہ گھبرا جائیں گے۔
Ayah 19:3838: اَسْمِعْ بِھِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْ تُوْنَنَا (کس قدر زیادہ سننے اور دیکھنے والے ہونگے جبکہ یہ ہمارے پاس آئیں گے)
جمہور کی رائے :
کہ اَسْمِعْ وَ اَبْصِرْ صیغہ ہائے امر ہیں مگر معنی تعجب دے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ تعجب سے پاک ہے۔ لیکن جمہور کے نزدیک مراد یہ ہے کہ انکا سننا اور دیکھنا اس لائق ہے کہ اس پر تعجب کیا جائے اس کے بعد کہ یہ دنیا میں اندھے بہرے تھے۔
قول قتادہ m :
جبکہ وہ دنیا میں حق سے اندھے اور بہرے رہے پس ایسے دن ان کے سننے اور ہدایت کے راستہ کو دیکھنے کا کیا فائدہ جبکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔
بہم یہ فاعلیت کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے جیسے اکرم بزیدٍ اس کا معنی کرم زیدٌ جدا۔
لٰکِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ (لیکن ظالم آج کے دن) یہاں ظاہر کو ضمیر کی بجائے لایا گیا۔ ای لکنھم الیوم فی الدنیا بظلمہم انفسہم حیث ترکوا الا ستماع والتظر حین یجدی علیھم ووضعوا العبادۃ فی غیر موضعھا۔ لیکن وہ آج کے دن انہوں نے اپنے نفوس پر اس طرح ظلم کیا کہ حق کو سننا چھوڑ دیا اور حق کے راستے کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا۔ جبکہ ان کو حق کا فائدہ تھا اور انہوں نے عبادت کو اس کے غیر مقام پر رکھا۔
فِیْ ضَلٰلٍ (یہ حق سے گمراہی میں ہیں) ۔ مُّبِیْنٍ (ظاہر) ۔ کھلی اور وہ انکا یہ عقیدہ کہ عیسیٰ الٰہ و معبود ہے حالانکہ اس میں حدوث کے آثار ظاہر ہیں۔ اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں۔
Ayah 19:39یوم حسرت :
39: وَاَنْذِرْھُمْ (اور ان کو ڈرائیں) یَوْمَ اْلحَسْرَۃِ (حسرت کے دن سے) اس سے قیامت کا دن مراد ہے کیونکہ اس سے گزشتہ پر شرمندگی ہوگی۔ حدیث میں وارد ہے یہ حسرت اس وقت ہوگی جب وہ اپنے مقامات جنت میں دیکھیں گے اگر وہ ایمان لے آتے۔ اِذْ یہ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ حسرت کا ظرف ہے اور وہ مصدر ہے) ۔ قُضِیَ الْاَمْرُ جبکہ معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا) ۔ جب حساب سے فارغ ہوجائیں گے اور اہل جنت جنت اور اہل جہنم جہنم کی طرف لوٹ جائیں گے۔
وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ (اور وہ لوگ غفلت میں پڑے ہیں) یہاں دنیا میں غافل ہیں اسی لئے وہ اس مقام کیلئے اہتمام نہیں کرتے۔ وَّ ھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (اور وہ ایمان نہیں لاتے) وہ تصدیق نہیں کرتے ( خبر رسول کی)
نحو : پہلا ھمؔ اور دوسرا ھمؔ یہ دونوں حال ہیں۔ یعنی آپ ان کو ڈرائیں اس حالت میں کہ وہ غافل ہیں اور ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Ayah 19:4040: اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْھَا (بیشک ہم ہی زمین اور جو کچھ اس پر ہے اس کے وارث ہونگے) ملک وبقاء میں ہم منفرد ہونگے جبکہ ہر چیز پر ہلاکت و فناء عام ہوگی۔ مَنْؔ کو عقلاء کی تغلیب کیلئے ذکر کیا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ (اور ہماری طرف ان کو لوٹایا جائے گا)
قراءت : یُرجعون یاء کے ضمہ اور جیم کے فتحہ کے ساتھ البتہ یاء کے فتحہ سے یعقوب نے پڑھا ہے۔ یعنی وہ لوٹیں گے اور پورا پور ان کو بدلہ دیا جائے گا۔