Ayah 19:41ابراہیم ( علیہ السلام) کی والد کے ساتھ گفتگو :
41: وَاذْکُرْ ( اور تم تذکرہ کرو اپنی قوم کو) فِی الْکِتٰبِ (قرآن مجید میں) اِبْرٰھِیْمَ (یعنی ابراہیم کا واقعہ جو ان کے والد کے ساتھ پیش آیا۔ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا (بےشک وہ صدیق نبی تھے) ۔
قراءت : نَبِیًّا بغیر ہمزہ کے البتہ نافع نے اس کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ صادق اس کو کہتے ہیں جو افعال میں مستقیم ہو اور صدیق وہ ہے جو احوال میں مستقیم ہو۔ پس صدیق یہ مبالغہ کا وزن ہے اس کی مثال الضَّحِیْک ہے۔ مراد اس سے بہت زیادہ اس کا سچا ہونا اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کی غیبی صفات اور آیات اور کتابیں اور رسول جن کا بیان اللہ نے کیا ان کی تصدیق کرنے والا یعنی کہ وہ تمام انبیاء اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنے والے تھے اور خود بھی پیغمبر تھے یہ درحقیقت جملہ معترضۃ ہے جو ابراہیم اور جو اس کا بدل ہے اس کے مابین واقع ہے۔
Ayah 19:4242: اِذْ قَالَ (جب اس نے کہا) ۔
نحو : اذکو کان کے متعلق کریں جائز ہے یا صدیقًا نَبِیًّا کے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خطابات ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے والد کو کہے تو اس وقت وہ صدیقین اور انبیاء کی خصوصیات کو اپنے اندر جمع کرنے والے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو ان کے تذکرہ کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جو واقعہ قرآن مجید میں آیا ہے وہ ذکر کریں اور لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ان کو پہنچائیں جیسا کہ دوسرے قول میں موجود ہے۔ واتل علیھم نبأ ابراہیم ] شعرائ : 69[ ورنہ تو اللہ تعالیٰ اس کا خود تذکرہ فرمانے والے ہیں اور قرآن میں اتارنے والے ہیں۔
لِاَبِیْہِ یٰٓاَبَتِ (اپنے والد کو کہ اے میرے باپ) قراءت اَبَتِ کی تاء کو فتحہ اور کسرہ سے ابن عامر نے پڑھا۔ تاء یائے اضافت کے عوض ہے اس طرح نہیں کہتے کہ یَابَتِ تاکہ عوض اور معوض دونوں جمع نہ ہوجائیں۔ لِمَ تَعْبُدُ مَالَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ (تم ان کی عبادت کیوں کرتے ہو جو نہ سنتے اور نہ دیکھتے ہیں۔ )
نحو : ان دونوں میں مفعول نیت میں نہیں بلکہ نسیامنسیا ہے البتہ مقدر مانناجائز ہے ای لا یسمع شیئًا و لا یبصر شیئا وَلَا یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا (اور نہ آپ کے کچھ کام آسکتی ہے) ۔
نحو : شیئا کے متعلق یہ احتمال ہے کہ مصدر کی جگہ ہو ای شیئا من الغنی دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ مفعول بہ ہو پھر اس محاورے میں ہو أغن عنِّی وجھک اے بعد یعنی چہرے کو مجھ سے دور کردے۔
Ayah 19:4343: یٰٓاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ (اے میرے باپ میرے پاس ایسا علم آچکا) علم سے یہاں وحی یا معرفت رب مراد ہے۔ مَالَمْ یَاْتِکَ (جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ ) اس میں ” ما “ ما لایسمع کی طرح موصولہ یا موصوفہ ہوسکتا ہے۔ فَاتَّبِعْنِیْ اَہْدِکَ (آپ میرا کہنا مانیے میں آپ کو راہ دکھائوں گا) یعنی ہدایت کی طرف تمہاری راہنمائی کرونگا۔ صِرَاطًا سَوِیًّا (سیدھے راستے کی طرف) یہاں سَوِیًّا مُسْتَقِیْم کے معنی میں ہے۔
Ayah 19:4444: یٰٓاَبَتِ لَاتَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ (اے میرے باپ تو شیطان کی عبادت نہ کر) یعنی اس بات میں اس کی اطاعت نہ کر جو اس نے تیرے لیے بتوں کی عبادت کو مزین کر رکھا ہے۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عصِیًّا (بیشک شیطان رحمان کا نافرمان ہے) ۔ عَصِیًّا : عاصی کے معنی میں ہے نافرمانی کرنے والا۔
Ayah 19:4545: یٰٓاَبـَتِ اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا (اے میرے باپ مجھے ڈر ہے رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آپ پر نہ آجائے۔ پھر آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں) ایک قول کے مطابق یہاں اَخَافُ اَعْلَمُ کے معنی میں ہے۔ وَلِیًّا کا معنی آگ میں ساتھی بنے گا۔ تو اس کے ساتھ ہوگا اور وہ تیرے ساتھ ہوگا۔
فائدہ : اس میں غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نصیحت کرنے میں انہوں نے اپنے والد کے ساتھ کس طرح نرمی حسن اخلاق اور ادب کا لحاظ رکھا۔ جیسا کہ حکم دیا گیا ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تو میرا خلیل ہے پس تمہارے اخلاق عمدہ ہونے چاہئیں خواہ کفار کے ساتھ ہو ایسا کرنے سے تم ابرار کے مقامات میں داخل ہوجائو گے۔ (ذکرہ الھیثمی فی مجمع الزوائد) نمبر 1۔ اسی لئے آپ نے اپنے خطاب میں سبب کا مطالبہ کیا جیسا کہ اصرار کرنے والے کو اس کے اصرار پر متنبہ کیا جاتا ہے اور اس کے افراط اور انتہاء پسندی کے متعلق اس کو خبردار کیا جاتا ہے کیونکہ جو شخص مخلوق میں سب سے زیادہ درجہ والے یعنی انبیاء ( علیہ السلام) کی عبادت میں لگے۔ اس پر کھلی گمراہی کا حکم لگایا جائے گا۔ تو وہ کیونکر گمراہ نہ ہوگا۔ جو درخت، پتھر کی پوجا کرتا ہو۔ جو کہ اپنے عابد کے نہ ذکر کو سنتے ہیں اور نہ ہی اس کی کیفیت عبادت سے واقف ہیں۔ اور نہ اس سے بلاء و مصیبت کو دور کرنے کی ان میں طاقت ہے اور نہ اس کی وہ حاجت روائی کرسکتے ہیں۔
نمبر 2۔ پھر دوسرے مرحلہ میں نرمی کے ساتھ اس کو حق کی طرف دعوت دی اور خوش خلقی کا مظاہرہ کیا اس لئے والد کو جہل مفرط میں مبتلا اور نہ اپنے آپ کو علم فائق والا قرار دیا۔ البتہ یہ کہا کہ میرے ساتھ ایسا علم ہے جو تیرے ساتھ نہیں اور علم والا درست راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ پس اس طرح خیال کرو کہ میں اور تم دونوں ایک راہ پر ہیں اور میرے پاس ہدایت کی معرفت موجود ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے۔ پس تم میرے ساتھ چلے آئو ! میں تمہیں راستہ بھولنے اور تحیرو حیرانی میں مبتلا ہونے سے بچا لو نگا۔
تیسرے مرحلہ میں ان کو اس بات سے روکا۔ جس میں وہ مبتلا تھا۔ کہ وہ شیطان جو رحمان کا سب سے بڑا نافرمان ہے اس نے تمہیں بتوں کی عبادت میں مبتلا کر رکھا ہے اور اس کو مزین کر کے تمہارے سامنے پیش کیا ہے۔ حقیقت میں تو شیطان کی عبادت کر رہا ہے۔ حالانکہ رحمان نے تمام تر نعمتیں تجھے بخشی ہیں۔
نمبر 4۔ پھر چوتھے مرحلہ میں برے انجام سے اس کو ڈرایا۔ کہ جس کی وہ جرأت کر رہا ہے اس میں کیا وبال و نقصان ہے۔ مگر ان تمام مراحل میں ادب کی رعایت کرتے ہوئے یہ تصریح نہیں کی کہ عقاب اس کو پہنچنے والا ہے۔ اور عذاب اس کو چمٹنے والا ہے۔ بلکہ کہا اخاف ان یمسک عذاب۔ عذاب کو نکرہ لائے جو تقلیل کو ظاہر کرتا ہے گویا اس طرح کہا انی اخاف ان یمسک قلیل من عذاب الرحمان۔ مجھے خطرہ ہے کہ تمہیں رحمان کا تھوڑا سا عذاب چھو لے گا۔ اور شیطان کی دوستی اور اس کے حمایتیوں اور معاونین میں داخلے کو عذاب سے بڑا قرار دیا جس طرح کہ اللہ کی رضا مندی ثواب میں سب سے بڑھ کر ہے اور ہر نصیحت کو یٰٓاَبَتِ کے قول سے شروع کیا جس سے ان کے ساتھ اپنے تعلق اور مہربانی اور والد کے احترام کے لازم ہونے کو ظاہر کرنا مقصود ہے اگرچہ وہ باپ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
Ayah 19:4646: قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِھَتِیْ یٰٓاِِبْرٰھِیْمُ بطور توبیخ کے (آذر نے کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے نفرت کرتا ہے) یعنی کیا تو ان کی عبادت سے اعراض کرتا ہے والد نے انکا نام لیکر کہا یٰٓاَبَتِ کے مقابلے میں یا بنی نہیں کہا اور خبر کو مبتدا سے پہلے ذکر کیا کیونکہ وہ اس کے ہاں زیادہ اہم چیز تھی۔
لَپنْ لَّمْ تَنْتَہِ (اگر تو باز نہ آیا) یعنی بتوں کو گالیاں دینے سے لَاَ رْجُمَنَّکَ (میں تجھے پتھر ماروں گا) میں تمہیں پتھروں سے ختم کر دوں گا یا پتھروں سے میں تجھے مارتا رہوں گا یہاں تک کہ تو مجھ سے دور ہٹ جائے یا میں تمہیں ضرور گالی دونگا۔ وَاھْجُرْ نِیْ (اور تو مجھے چھوڑ دے) اس کا محذوف پر عطف ہے جس پر لَاَرْجُمَنَّکَ دلالت کر رہا ہے تقدیر عبارت یہ ہے فاحذرنی واہجرنی (تو مجھ سے بچ اور مجھے چھوڑ دے) مَلِیًّا (ایک زمانہ) یہ ظرف ہے یہ ملاوۃ سے ہے اس کا معنی طویل زمانہ ہے۔
Ayah 19:47ابراہیم ( علیہ السلام) کا ملاطفت سے ُ پر جواب
47: قَالَ سَلٰـمٌ عَلَیْکَ (کہا تم پر سلام ہو) یہ الوداعی سلام ہے اور سلام متارکت یا تقریب اور ملاطفت کیلئے کہا اور اسی لئے استغفار کا اس قول کے ساتھ وعدہ کیا۔ (سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ ) کہ عنقریب اللہ تعالیٰ سے میں تمہارے لئے معافی طلب کروں گا یعنی اپنے رب سے یہ سوال کروں گا کہ وہ تمہیں اہل مغفرت میں سے بنا دے اور اسلام کیلئے تمہاری راہنمائی فرما دے۔ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا (بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے) عمومی نعمتیں دیکر نرمی کرنے والا ہے یا رحم کرنے والا ہے۔ یا عزت دینے والا ہے۔ الحفاوۃؔ نرمی اور عظمت کو کہا جاتا ہے۔
Ayah 19:4848: وَاَعْتَزِلُکُمْ (اور میں تم لوگوں سے الگ ہوجائوں گا) علیحدگی کے ارادے سے مراد وہ ہجرت ہے۔ جو انہوں نے بابل سے شام کی طرف کی۔ وَمَاتَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو) یعنی جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو۔ وَاَدْعُوْا رَبِّیْ (اور میں اپنے رب کو پکاروں گا) یعنی اپنے رب کی عبادت کرونگا پھر آپ نے بطور تواضع اور کسر نفسی کے کہا اور ان کے بتوں کو پکارنے کی وجہ سے بدبختی سے اعراض کرتے ہوئے کہا۔
عَسٰٓی اَلَّآاَکُوْنَ بِدُعَآ ئِ رَبِّیْ شَقِیًّا (مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کی پکار سے بدنصیب نہ ہونگا) یعنی جس طرح تم بتوں کی عبادت کر کے بدنصیب ہوگئے۔
Ayah 19:49انعاماتِ الٰہیہ :
49: فَلَمَّا اعْتَزَلَھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (جب علیحدگی اختیار کرلی ان سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے) یعنی کفار اور ان کے معبودوں سے علیحدگی اختیار کرلی۔ وَھَبْنَالَہٗ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ ( تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا
کئے) اسحاق بیٹا اور یعقوب پوتا۔ اپنی طرف سے زائد تاکہ وہ ان دونوں سے مانوس ہوں۔ وَکُلًّا ( اور ہر ایک) یعنی ہر ایک ان دونوں میں سے جَعَلْنَا نَبِیًّا (اس کو ہم نے پیغمبر بنایا) یعنی جب انہوں نے کفار اور فجار کو چھوڑ دیا اور وہ چھوڑنا فقط اللہ کی رضا مندی کی خاطر تھا اس کے بدلے میں مومن اور انبیاء ان کی اولاد میں پیدا کردیئے۔
Ayah 19:5050: وَوَھَبْنَا لَھُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا (اور ہم نے ان کو اپنی مہربانی سے دیا) یعنی مال اور اولاد وَجَعَلْنَا لَھُمْ لِسَانَ صِدْقٍ (اور ہم نے ان کو سچی زبان دی) لِسَانَ صِدْقٍسے مراد اچھی تعریف ہے اور اس سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اٰلِ ابراہیم کیلئے نمازوں میں دعا کرنا ہے اور اس دعا کو لسان سے ہی تعبیر کیا کیونکہ یہ زبان سے ہی ادا ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہاتھ سے ہونے والے کاموں کو ید سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ عطیہ ہے۔ عَلِیًّا (بلند اور مشہور ) ۔
Ayah 19:51تذکرہ موسیٰ d:
51: وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مُوْسٰٓی اِنَّہٗ کَانَ مُخْلَصًا (اور کتاب میں موسیٰ کا تذکرہ کرو۔ بیشک وہ خالص کئے ہوئے تھے)
قراءت : کوفی قراء نے مفضل کے علاوہ مخلصًا پڑھا ہے یعنی اللہ نے ان کو خالص کیا اور چن لیا اور دیگرقراء نے مُخْلِصًا پڑھا ہے یعنی انہوں نے خود اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کیلئے خالص کردیا اور اصل فطرت میں جو سعادت ہوتی ہے وہ اس میں خالص تھے اور جو ان کے ذمے عبادت تھی پوری ہمت کے ساتھ اس میں بھی خالص تھے۔
وَّکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا (اور یہ رسول نبی تھے) رسول وہ ہے جس کو کوئی کتاب دی جائے اور نبی وہ ہے جو اللہ کی طرف سے خبر دے اگرچہ اس کے ساتھ کتاب نہ ہو جیسے یوشع بن نون۔
Ayah 19:5252: وَنَادَیْنٰـہُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ (اور ہم نے اس کو طور کے ایک جانب سے آواز دی) یعنی اس کو دعوت دی اور جمعہ کی رات ہم نے اس سے کلام کی۔ الطورؔ یہ مدین اور مصر کے مابین پہاڑ ہے۔ الایمن : دائیں یہ یمین سے ہے یعنی اس کی دائیں جانب سے۔
جمہور کے نزدیک اس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کی دائیں جانب ہے کیونکہ پہاڑ کا دایاں بایاں ہوتا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ مدین سے مصر کی طرف آرہے تھے تو درخت سے آواز دی گئی اور وہ درخت سے پہاڑ کے ایک جانب میں جو موسیٰ (علیہ السلام) کی دائیں طرف تھی۔ وَقَرَّبْنٰہُ (اور ہم نے ان کو قریب کیا) مرتبہ کے اعتبار سے قریب مراد ہے جگہ و مکان کے اعتبار سے نہیں۔ نَجِیًّا مناجات کیلئے۔
نحو : نجیًّا یہ حال ہے اس حال میں کہ وہ مناجات کرنے والے تھے۔ اس کی دوسری نظیر ندیم بمعنی منادم ہے۔
Ayah 19:5353: وَوَھَبْنَا لَہٗ مِں ْ رَّحْمَتِنَآ (اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے عطاء کیا) منؔ اجلیہ ہے اپنی رحمت کے سبب سے اور اس پر اپنی مہربانیوں کی وجہ سے اَخَاہُ ھٰرُوْنَ نَبِیًّا (اس کے بھائی ہارون کو نبوت )
نحو : اخاہؔ مفعول اور ھارونؔ اس کا بدل اور نبیًاؔ حال ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ووھبنالہ نبوۃ اخیہ ہم نے اس کو ان کے بھائی ہارون کی نبوت ھبہ کردی ورنہ ہارون تو ان سے عمر میں بڑے تھے۔ ان کے ھبہ کا کوئی معنی نہیں۔
Ayah 19:54اسماعیل ( علیہ السلام) کی صفات کا تذکرہ :
54: وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ (اور کتاب میں تذکرہ کریں اسماعیل کا) صحیح قول کے مطابق یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ (بیشک وہ وعدے کے سچے تھے) انہوں نے ایک آدمی سے وعدہ کیا کہ وہ اسی جگہ اس کے آنے تک کھڑے ہوں۔ ایک سال تک اسی جگہ اس کا انتظار کیا یہاں تک کہ وہ واپس لوٹا۔ یہ روایت صحت کے لحاظ سے واللہ اعلم کیسی ہے۔ وعدہ وفائی کیا یہ کافی نہیں کہ انہوں نے ذبح پر صبر کا قول دیا تھا جو پورا کردیا۔ (ستجدنی انشاء اللّٰہ من الصابرین) ۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب سے جو وعدہ کیا وہ پورا کردیا۔ صدقِ وعدہ کو ان کی خصوصی صفت بطور تشریف کے ذکر کیا ورنہ تو تمام انبیاء (علیہم السلام) ہی سچے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ اس صفت سے معروف و مشہور تھے۔ وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا (وہ رسول نبی تھے) بنو جرھم کی طرف رسول تھے۔ نبیًا یعنی منذرو مخبر صادق تھے۔
Ayah 19:5555: وَکَانَ یَاْمُرُ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ (وہ اپنے اہل کو نماز اور زکوۃ کا حکم کیا کرتے تھے) اھلہؔ سے ان کی امت مراد ہے۔ کیونکہ پیغمبرامت کا باپ ہوتا ہے اور امت والے اس کے اہل بیت ہوتے ہیں۔ اس میں دلیل ہے کہ وہ دوسروں کے متعلق مدافعت کرنے والے نہ تھے۔ صلوۃ ٗزکوۃ کا خاص طور پر اسلئے ذکر کیا کیونکہ یہ دونوں عبادتیں تمام عبادات بدنیہ اور مالیہ کی بنیاد ہیں۔ وَکَانَ عِنْدَرَبِّہٖ مَرْضِیًّا (وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھا)
قراءت : مَرْضِیًّا کو مَرْضُوًّا اصل کی بنیاد پر پڑھا گیا۔
Ayah 19:5656: وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ (اور کتاب میں ادریس کا تذکرہ کرو) انہیں کا نام اخنوخ تھا یہ آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے رسول ہیں اور پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا اور لباس کو سیا۔ یہ علم نجوم اور حساب میں گہری نظر رکھتے تھے آپ نے سب سے پہلے ترازو اور ماپ کے آلات اور اسلحہ ایجاد کیا اور قابیل کی اولاد سے قتال کیا۔
ایک تحقیق :
بعض لوگوں نے ان کے متعلق یہ بات کہی ہے کہ ان کو ادریس اسلئے کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کے بہت زیادہ پڑھنے والے تھے یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہ افعیل کے وزن پر درس کے لفظ سے لیا جائے تو اس میں ایک ہی سبب بنتا ہے۔ اور وہ علمیت ہے اور یہ منصرف بنے گا حالانکہ اس کا غیر منصرف ہونا معروف ہے اور عجمہ ہونے کی دلیل ہے پس الدرس سے مشتق ہونے کا کوئی معنی ہی نہیں۔ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا (بیشک وہ صدیق نبی تھے) ان پر اللہ تعالیٰ نے تیس صحیفے اتارے۔
Ayah 19:57مرادِ رفع :
57: وَّ رَفَعْنٰـہُ مَکَانًا عَلِیًّا (اور ان کو ہم نے بلند کیا اونچے مکان پر) مکان سے مراد یہاں شرف نبوت اور اللہ کے ہاں مرتبہ ہے بعض نے کہا کہ رفع مکان سے مراد چوتھے آسمان کی طرف اٹھانا ہے اور فرشتے ان کو اٹھا کرلے گئے تھے نبی اکرم ﷺ نے معراج کی رات ان کو دیکھا۔
حضرت حسن رحمۃ اللہ (رح) کا قول ہے کہ رفع سے مراد جنت کی طرف اٹھانا ہے کیونکہ کوئی چیز جنت سے اعلی نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کثرت عبادت کی وجہ سے وہ ملائکہ کے محبوب بن گئے انہوں نے موت کے فرشتے کو کہا کہ مجھے موت چکھائو تاکہ وہ مجھ پر آسان ہوجائے اس نے ایسا کیا پھر اللہ کے حکم سے وہ دوبارہ زندہ کئے گئے پھر اس کو کہا کہ مجھے آگ میں داخل کرو تاکہ اللہ کا ڈر زیادہ ہوجائے اس نے ایسا کردیا پھر کہا مجھے جنت میں داخل کرو تاکہ اس کی رغبت بڑھ جائے اس نے اس طرح کردیا پھر اس نے کہا تم جنت سے نکلو ادریس کہنے لگے میں نے موت کو چکھا اور میں آگ میں وارد ہوا اب میں جنت سے نہیں نکلوں گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے میرے حکم سے ایسا کیا اور میرے اذن سے وہ داخل ہوا پس اس کو چھوڑ دو ۔
Ayah 19:58اعلیٰ جماعت کا ذکر :
58: اُولٰٓىِٕكَ (یہ) اُولٰٓىِٕكَ اسم اشارہ سے حضرت زکریا سے لے کر ادریس (علیہ السلام) تک جو مذکورہ ہیں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ (وہ لوگ جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیاء (علیہم السلام) میں سے) یہ مِنْ بیانیہ ہے کیونکہ تمام انبیاء انعام یافتہ ہیں۔ مِنْ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ (آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے) یہ من تبعیض کیلئے ہے ادریس (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کے قرب کیوجہ سے ان کی اولاد میں سے تھے یہ نوح (علیہ السلام) کے والد کے دادا لگتے تھے۔
وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ (اور ان میں سے جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ سوار کیا) ابراہیم (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) کی اس اولاد میں سے ہیں جن کو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا گیا کیونکہ وہ سام بن نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ وَّ مِنْ ذُرِّیَّۃِ اِبْرٰھِیْمَ (اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے) اس سے اسماعیل ‘ اسحاق اور یعقوب مراد ہیں۔ وَاِسْرَآئِیْلَ یعنی (اسرائیل کی اولاد میں سے) مراد اس سے یعقوب (علیہ السلام) ، موسیٰ ، ہارون، زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ ہیں کیونکہ مریم ان کی اولاد میں سے تھیں۔ وَمِمَّنْ ھَدَیْنَا ( اور ان میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی) اس کا عطف پہلے مِنْ پر ہے اور دوسرا مَنْ پر ہے۔ ھَدَیْنَاسے مراد ہم نے ان کی راہنمائی اسلام کے محاسن کی طرف کردی۔
وَاجْتَبَیْنَا (اور ہم نے ان کو چنا) یعنی لوگوں میں سے یا شریعت کی وضاحت اور حقیقت کو کھولنے کیلئے۔ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ (جب ان کے سامنے رحمان کی آیات پڑھی جاتی تھیں) آیات الرحمان سے مراد اللہ کی ان زمانوں میں اتاری جانے والی کتابیں۔
نحو : اگر الذین کو اُولٰٓىِٕكَ کی خبر بنایا جائے تو یہ جملہ مستانفہ ہے اور اگر اس کو تم اُولٰٓىِٕكَ کی صفت بنائو تو پھر یہ خبر ہے۔
قراءت : قتیبہ نے یتلی پڑھا ہے کیونکہ فاصل موجود ہے اس کے باوجود کہ تانیث غیر حقیقی ہے۔ خَرُّوْا سُجَّدًا ( وہ سجدہ میں گرپڑتے ہیں) یعنی وہ رغبت کے ساتھ چہروں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔
وَّ بُکِیًّا (روتے ہوئے) جمع بَاکٍکی ہے جیسے سجود اور قعود جمع ساجد اور قاعد کی ہے۔ بُکِیًّا کا معنی دور سے روتے ہوئے۔ حدیث میں ہے تم قرآن کی تلاوت کرو اور رئو و اگر تمہیں رونا نہ آئے تو بتکلف رونے والی کیفیت بنائو۔ (رواہ احمد ابو داود) صالح مری کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں رسول اکرم ﷺ کے سامنے قرآن مجید پڑھا آپ نے مجھے فرمایا اے صالح یہ تو قراءت ہوئی بکاء کہاں ہے۔
مسئلہ : سجدئہ تلاوت میں سبحان ربی الا علٰی تین مرتبہ کہنا چاہیے۔
Ayah 19:59نالائق لوگ :
59: فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِ ھِمْ خَلْفٌ (پھر آئے ان کے بعد کچھ ایسے نالائق) ان فضیلت والے لوگوں کے بعد بری اولاد آئی۔ خَلْفَ یہ لام کے فتح کے ساتھ لائق اولاد کیلئے آتا ہے۔ اور جزم کے ساتھ نالائق کیلئے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد یہود ہیں۔ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ (جنہوں نے نماز کو برباد کیا) یعنی فرضی نماز کو چھوڑ دیا۔ وَاتَّبَعُوا الشَّھَوٰتِ (اور انہوں نے نفسانی خواہشات کی پیروی کی) شہوات سے مراد نفوس کی لذتیں ہیں۔ حضرت علی المرتضی ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ آدمی ہے جس نے مضبوط مکانات بنائے اور جس چیز کو دیکھا اسی کے پیچھے پڑگیا اور جس نے شہرت والا لباس پہنا۔ قتادۃ ؓ کہتے ہیں اس امت کے لوگ مراد ہیں۔
فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ( پس یہ لوگ عنقریب خرابی پائیں گے) یعنی گمراہی کی سزا پائیں گے اہل عرب کے ہاں ہر شر غَیّ جیسا کہ ہر خیر رَشَاد کہلاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں غیّ جہنم کی ایک وادی ہے جو پانچ قسم کے گناہوں پر اصرار کرنے والے کیلئے تیار کی گئی ہے۔ (1) زنا پر اصرار کرنے والا۔ (2) شراب کا عادی (3) سود خوری سے باز نہ آنے والا۔ (4) ماں باپ کی نافرمانی پر جما رہنے والا (5) جھوٹی گواہی پر اصرار کرنے والا۔ ] رواہ ابن مردویہ[
Ayah 19:60تائبین کیلئے خصوصی انعام :
60: اِلَّا مَنْ تَابَ (مگر وہ شخص جس نے توبہ کرلی) یعنی کفر سے لوٹ آیا۔ وَاٰمَنَ (اور ایمان لے آیا) اس کی شرائط کے ساتھ وَعَمِلَ صَالِحًا (اور اس نے نیک عمل کئے) اپنے ایمان لانے کے بعد فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ (پس ایسے لوگ جنت میں جائیں گے)
قراءت : مکی ‘ بصری اور ابوبکر نے یدخلون کو یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی یُدخَلُوْنَ پڑھا ہے۔
وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیئًا (اور ان کی ذرا بھر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی) یعنی ان کے اعمال کی جزاء میں ذرا بھر بھی چیز کم نہ کی جائے گی اور نہ اس سے روکے جائیں گے بلکہ ان کیلئے بدلے کو بڑھا دیا جائے گا۔ (2) ان کے ظلم میں سے کوئی چیز بھی کم نہ کی جائے گی۔
Ayah 19:6161: جَنّٰتِ عَدْنِ اڑلَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ (ہمیشہ رہنے کے وہ باغات جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے)
نحو : جنّٰت یہ الجنت سے بدل ہے کیونکہ جنت جنّٰتِ عدن پر مشتمل ہے اور جنت جنس ہے۔ (2) یا یہ مدح کی بنا پر منصوب
ہے اور عدن یہ معرفہ ہے کیونکہ معرفہ ہونے کی وجہ سے العدن کے معنی میں ہے جس کا معنی اقامت ہے۔ (3) یا یہ جنت کی زمین کا نام ہے کیونکہ وہ اقامت کی جگہ ہے عبادہ سے مراد رجوع کرنے والے مؤمنین ہیں جو کہ اعمال صالحہ کرتے رہیں جیسا کہ ان کا تذکرہ بھی گزرا اور اس لئے بھی کہ ان کی اضافت اپنی طرف فرمائی جو کہ اختصاص کی دلیل ہے پس یہ خاص لوگ ہوئے۔ بِالْغَیْبِ (غائبانہ طور پر) یعنی جنت کا ان سے ایسے حال میں وعدہ کیا کہ وہ ان سے غائب تھی ان کے سامنے موجود نہ تھی یہ جنت سے غائب ہیں۔ اور اس کا مشاہدہ نہیں کر رہے (لیکن اس کے باوجود اس پر ایمان لانے والے ہیں) اِنَّہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا ( بیشک اللہ تعالیٰ کی وعدہ کی ہوئی چیز کو وہ ضرور پہنچیں گے) ہ ضمیر شان ہے۔ یا ضمیر کا مرجع الرحمان ہے۔ وعدہ سے مراد موعودہ جس کا وعدہ کیا گیا یعنی جنت۔ مأ تِیًّایہ اسم ظرف ہے یا اسم مفعول جو بمعنی فاعل ہے یعنی جنت میں وہ ضرور جائیں گے۔
Ayah 19:6262: لَایَسْمَعُوْنَ فِیْھَا (وہ لوگ اس میں نہیں سنیں گے) یعنی جنت میں لَغْوًا (کوئی فضول بات) یعنی فحش یا جھوٹ یا فضول کلام لغو اس کو کہا جاتا ہے جس کو کلام میں سے نکال دیا جائے۔
نحو : اس میں متنبہ کردیا کہ لغو سے پرہیز کرنا اور بچنا لازم ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو لغو سے پاک قرار دیا جس میں کوئی تکلیف نہیں۔
اِلَّا سَلٰمًا (مگر سلام) یعنی وہ ملائکہ سے سلام سنیں گے (2) ایک دوسرے سے سلام سنیں گے (3) وہ اس میں کوئی ایسی بات نہ سنیں گے مگر وہ بات کہ جو عیب اور نقص سے پاک ہو جمہور علماء کے نزدیک یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ اور ایک اور قول کے مطابق سلام کا معنی سلامتی کی دعا ہے جبکہ دارالسلام کے رہنے والے سلامتی کی دعا سے مستغنی ہوں تو ظاہر کے اعتبار سے یہ بھی لغو بات میں شامل ہے اور فضول بات کا حصہ ہے اگر اس میں اکرام کا فائدہ نہ مانا جائے۔
وَّلَھُمْ رِزْقُھُمْ فِیْھَابُکْرَۃًوَّ عَشِیًّا (اور اس میں ان کیلئے صبح و شام رزق ہوگا) یعنی ان کو ان کا رزق دنیا کے دن کی دونوں اطراف کی مقدار سے عطا کئے جائیں گے کیونکہ وہاں نہ رات ہے نہ دن وہ ہر وقت نور کے اندر رہیں گے دن کی مقدار وہ پردوں کے اٹھانے اور رات کی مقدار پردوں کے لٹکانے سے معلوم کریں گے صبح اور شام کا رزق اہل عرب کے ہاں افضل ترین زندگی کا حصہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کی اس سے تعریف فرمائی دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد رزق کا دوام ہے جیسے محاورہ میں کہتے ہیں : انا عند فلانٍ بکرۃ وعشیا کہ میں فلاں کے پاس صبح شام ہوتا ہوں مراد اس سے دوام ہوتا ہے۔
Ayah 19:63اعمال کی میراث :
63: تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا (یہ جنت ایسی ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ایسے لوگوں کو بنائیں گے) یعنی ان کے اعمال کی میراث اس کو قرار دیں گے میراث سے مراد پھل اور انجام ہے دوسرا قول یہ ہے وہ ایسی اقامت گاہوں کے وارث ہونگے جو اہل نار کی ہونگی۔ اگر وہ ایمان لاتے کیونکہ کفر حکماً موت ہے۔ مَنْ کَانَ تَقِیًّا ( جو خدا سے ڈرنے والے ہوں) تقیًّا سے یہاں مراد شرک سے بچنے والے ہیں۔
Ayah 19:6464: : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اے جبرئیل تمہیں ہماری زیادہ ملاقات سے کون سی چیز روکنے والی ہے جتنی کہ اب تم ملاقات کرتے ہو تو اس پر یہ آیت اتری :
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ( اور ہم نہیں اترتے مگر آپکے رب کے حکم سے) ] رواہ البخاری[ التنزل کے دو معنے ہیں۔ (ا) تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اترنا (2) مطلقاً اترنا۔ یہاں پہلا معنی زیادہ مناسب ہے یعنی ہمارا اترنا وقتًا فوقتًا اللہ کے حکم ہی سے ہوتا ہے۔ لَہٗ مَابَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا (اور اسی کی ملک ہیں ہمارے سامنے کی سب چیزیں اور ہمارے پیچھے کی سب چیزیں اور انکے درمیان کی سب چیزیں ہیں اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ) ۔ بین ایدی ؔ
سے مراد جو ہمارے سامنے ہے۔ اور خلفجو ہمارے پیچھے چیزیں ہیں اور بین ذٰلک سے مراد جن میں ہم ہیں۔ ہم ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہی منتقل ہوتے ہیں اصل میں وہ خود ہی ہر حرکت و سکون کو جاننے والا اور حفاظت کرنے والا ہے اور جو حالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں اس کے متعلق غفلت و نسیان کا تصور بھی جائز نہیں۔ پس ہمارے لئے اس کی بادشاہی میں کیسے ممکن ہے کہ ہم ادھر ادھر جائیں سوائے اس کے کہ وہ ہمیں اجازت مرحمت فرمائے۔
Ayah 19:6565: رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ( وہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا رب ہے)
نحو : رب السمٰوٰت (1) یہ رَبُّکَ سے بدل ہے۔ (2) یہ مبتدا محذوف ھُوَ کی خبر ہے۔
پھر اپنے رسول ﷺ کو فرمایا کہ جب آپ نے جان لیا کہ وہ ان صفات سے متصف ہے تو فَاعْبُدْہُ (پس تم اسی ہی کی عبادت کرو) یعنی اس کی عبادت پر قائم رہو۔ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہٖ (اور اس کی عبادت پر مضبوطی سے جمے رہو) یعنی معبود کی عبادت پر حاسدوں کی تکالیف پر صبر کیجئے اور خالق کائنات کی عبادت کیلئے مشقتوں کو برداشت کیجئے تاکہ اس عبادت پر آپ کو جمائو حاصل ہو اس صورت میں لام اجلیہ ہے۔ ھَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا (کیا تم کسی کو اس کا ہم صفت جانتے ہو) سَمِیًّا کا معنی شبہاً و مثلاً یعنی مشابہ اور مماثل (2) کیا کسی اور کا نام اس کے سوا اللہ ہے کیونکہ یہ نام تو معبود حقیقی کیلئے خاص ہے یعنی جب یہ بات صحیح ثابت ہوگئی کہ کوئی ایسا معبود نہیں جس کی طرف بندے عبادت میں متوجہ ہوسکیں سوائے اس اکیلی ذات کے تو اب اس کی عبادت کے بغیر بھی کوئی چارہ کار نہیں۔ اور اس کی عبادت کی مشقتیں اٹھانے کے بغیر بھی گزارہ نہیں۔
Ayah 19:6666: شان نزول : ابی بن خلف جمنی نے ایک بوسیدہ ہڈی کو ہاتھ سے چورا کرتے ہوئے کہا کیا ہم اس طرح ہوجانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے پس یہ آیت نازل ہوئی۔
وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ئَ اِذَا مَامِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا (کیا انسان یوں کہتا ہے کہ جب میں مرجائوں گا تو کیا پھر زندہ کرکے نکالا جائوں گا) ۔
نحو : اذا میں عامل دلالت کلام کے مطابق البعث ہے تقدیر کلام یہ ہے : اِذَامَامِتُ أبعثُ اس کو اخرجْ کی وجہ سے منصوب قرار دینا درست نہیں کیونکہ لام ابتدائیہ کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا اس طرح نہیں کہا جاسکتا : الیوم لزید قائم۔ مضارع پر جو لام ابتدائی داخل ہوتی ہے وہ حال کا معنی دیتی ہے اور مضمون جملہ کی تاکید کرتی ہے۔ اب جب حرف استقبال آگیا تو خالص تاکید کا فائدہ اس سے حاصل ہوا اور حال کا معنی معدوم ہوگیا۔
ماؔ۔ اذاما میں تاکید ہی کیلئے ہے گویا اس طرح کہا گیا : أحقًا اَنَّا سَنُخْرِجُ مِنَ الْقُبُوْرِ اَحْیَاء حِیْنَ یتمکن فِیْنَا الموت والہلاک۔ کیا یہ برحق ہے کہ ہم عنقریب قبور سے زندہ کر کے نکالے جائیں گے جبکہ موت و ہلاکت ہم پر اپنے پنجے مکمل طور پر گاڑلے گی۔ اور یہ بطور استنکارو استبعاد ہے۔ ظرف کو مقدم کرنا اور پھر حرف انکار کے قریب لانا اسی قبیل سے ہے کہ موت کے بعد والے وقت میں زندگی کا ہونا انوکھی چیز ہے اور اسی سے ان کو انکار تھا۔
Ayah 19:67منکرین بعثت کو جواب :
67: اَوَلَا یَذْکُرُ الْاِنْسَانُ (کیا یہ شخص اس بات کو نہیں سمجھتا کہ )
قراءت : شامی، نافع وعاصم نے الذکر سے قراردے کر تخفیف سے پڑھا ہے۔ اور باقی قراء نے ذالؔ اور کاف کی تشدید سے پڑھا ہے اور اس کی اصل یتذکر ہے جیسا کہ حضرت ابی ؓ کی قراءت ہے تاء کا ذال میں ادغام کردیا۔ اس کا معنی اَوْلَایَتَدَبَّرُ ؟ (کیا وہ تدبر نہیں کرتے) وائو عاطفہ ہے اور یقول پر اس کا عطف ہے۔ اور ہمزہ انکار معطوف علیہ اور معطوف کے درمیان لائے ہیں۔ مطلب یہ ہے : ایقول ذلک ولا یتذکر حال النشأۃ الاولی حتی لا ینکر النشأۃ الاخری ؟ کیا وہ یہ بات کہتے ہوئے پہلی پیدائش کا حال یاد نہیں کرتا تاکہ وہ دوسری کا انکار نہ کرتا ؟ اول حالت خالق کی قدرت پر زیادہ دلالت کرنے والی ہے۔ اس طرح کہ اس نے جو اہر و اعراض کو عدم سے وجود بخشا۔ اور دوسری حالت تو صرف اجزائے موجودہ کو جوڑ دینا اور تفریق کے بعد مجموعہ کی شکل دینا ہے۔ اَنَّا خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ (بیشک ہم نے اس کو اس سے قبل پیدا کیا) اس حالت سے پہلے جس میں وہ ہے اور وہ حالت بقاء ہے۔ وَلَمْ یَکُ شَیْئًا (وہ کچھ بھی نہ تھا) اور وہ دلیل ہے کہ معدوم کوئی چیز نہیں۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ البتہ معتزلہ کا اس میں اختلاف ہے۔
Ayah 19:6868: فَوَرَبِّکَ لَنَحْشُرَ نَّھُمْ (پس قسم ہے آپ کے رب کی ہم ضرور ان کو جمع کریں گے) بعث کے انکار کرنے والے کفار کو وَالشَّیٰطِیْنَ (اور شیاطین کو) وائو بمعنی مع زیادہ وقیع ہے تقدیر عبارت یہ ہے : یحشرون مع قرنائھم من الشیاطین الذین اغو وھم۔ ان کو ان کے قرین شیاطین کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔ وہ شیاطین جنہوں نے ان کو اغواء کیا ہر کافر کو شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جکڑ دیا جائے گا۔
نکتہ : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف اپنی نسبت کر کے قسم اٹھائی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہے۔
ثُمَّ لَنُحْضِرَ نَّھُمْ حَوْلَ جَھَنَّمَ جِثِیًّا (پھر ہم ان سبکو جہنم کے ارد گردگھٹنوں کے بل حاضر کردیں گے) ۔
نحو : جثیًا یہ حال ہے اور جاثٍ کی جمع ہے۔ زانو کے بل بیٹھنا اس کا وزن فعول ہے کیونکہ یہ اصل میں جثو و ہے جیسے : سجود و ساجد ہے کفار کو محشر سے جہنم کے کنارے کی طرف ان کی اسی حالت پر کھینچ کر لایا جائے گا۔ جس حالت میں وہ میدان حشر میں گھٹنوں کے بل تھے۔ قدموں پر نہ چلایا جائے گا۔
Ayah 19:69بڑے سرکش :
69: ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ کُلِّ شِیْعَۃٍ (پھر ہم ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو علیحدہ کریں گے) شیعہ پیروگروپ کو کہتے ہیں جس نے گمراہوں میں سے کسی گمراہ کی پیروی کی ہو۔ اَیُّھُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا (جو ان میں سے سب سے زیادہ رحمان کی سرکشی کرتا تھا) جو زیادہ تھا جرأت میں یا فجور و فسق میں۔ مطلب یہ ہے گمراہوں کے گروہوں میں سے پہلے سب سے زیادہ سرکش (سرغنے) گروہ کو ہم نکالیں گے اور پھر ان کے بعددرجہ بدرجہ۔ جب وہ جمع ہوجائیں گے تو ہم ان کو بالترتیب آگ میں ڈال دیں گے عذاب کے اولین حقداروں کو اولًا ان کے بعد والوں کو بعد میں۔ دوسراقول یہ ہے کہ : اشدھم عتیًا سے مراد ان کے سربراہ کیونکہ ان کے جرائم دو گنا ہیں کیونکہ وہ خود نمبر 1۔ گمراہ ہیں۔ نمبر 2۔ گمراہ کرنے والے ہیں۔
نحو : سیبویہ (رح) کا قول ایتھم مبنی علی الضم ہے کیونکہ صدر جملہ جو کہ اس کا صلہ تھا وہ ساقط ہوگیا اور وہ ھو من اشد ہے اگر اس کو لایا جاتا تو اس کا اعراب نصب والا ہوتا۔ ایک قول یہ ہے یہ اصل میں : ایھم ھُواَشَدُّہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے صلہ موصول کی وضاحت وتبیین کرتا ہے جیسا کہ مضاف الیہ مضاف کی وضاحت کرتا ہے اور اس کی تخصیص کا فائدہ دیتا ہے پس جس طرح حذف مضاف الیہ من قبلؔ میں مضاف کو لازمًا مبنی بناد یتا ہے۔ اسی طرح حذف صلہ سے بھی موصول مبنی بنانا چاہیے۔ یا کم ازکم ایسی چیز بنے جس کو بناء لازم آئے۔ اور ننزعؔ کی وجہ سے یہ محلاً منصوب ہے۔
خلیل (رح) کا قول :
ایھم معرب ہے اور مبتدا ہے اور اشد اس کی خبر ہے اس کو رفع حکایۃ دیا گیا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : لننزعن الذین یقال فیھم ایھم اشد علی الرحمان عتیًا۔ اور یہ بھی درست ہے کہ نزعمن کل شیعۃؔ پر واقع ہونے والا ہو۔ جیسا کہ اس ارشاد میں : ووھبنا لھم من رحمتنا۔ ] مریم : 5[ اس صورت میں کلام اس طرح ہے : لننزعن بعض کل شیعۃ ( ہم ہر بڑے گروپ کے بعض کو کھینچیں گے) گویا کہ کوئی کہنے والا اس طرح کہہ رہا ہے۔ من ھم ؟ وہ کون ہیں ! تو جواب دیا ایھم اشد عتیا جو ان میں سے سرکشی میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ اور علیٰؔ یہ افعل کے متعلق ہے۔ کلام اس طرح ہے : عتو ھم اشدّ علی الرحمان۔ ان کی سرکشی رحمان پر بہت ہی زیادہ ہے۔
Ayah 19:7070: ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ ھُمْ اَوْلٰی بِھَا (پھر ہم ضرور اچھی طرح جانتے ہیں ان لوگوں کو جو دوزخ میں داخلے کے سب سے
زیادہ مستحق ہونگے) بھاؔ کی ضمیر نار کی طرف ہے یعنی آگ کے زیادہ حقدار صلیًا تمیز ہے اور اس کا معنی داخلہ ہے باء ؔ یہ اولٰی کے متعلق ہے ( ثُمّ یہاں تراخی زمان کیلئے نہیں بلکہ تراخی مرتبہ کیلئے ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : ثم کان من الذین امنوا) ۔
Ayah 19:71جہنم پر ورود :
71: وَّاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا ( اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر کہ اس نے دوزخ پر وارد ہونا ہے) وارد کا معنی یہاں داخل ہے اور ھا سے مراد نار ہے جمہور اہلسنّت کے نزدیک ورود کا معنی یہاں دخول ہے جیسا کہ یہ حضرت علی اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس لئے کہ دوسرے ارشاد میں فرمایا :اور دھم النار ] سورة ہود : 98[ اور ایک اور ارشاد میں ہے : لو کان ھٰؤلاء الھۃ ما وردوھا [ الانبیاء : 99] اور ایک اور ارشاد میں اس طرح فرمایا : ثم نُنَجِّی الذی اتقوا ] مریم : 72[ کیونکہ نجات کا تصور داخلے کے بعد ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی جس کو امام احمد نے روایت کیا الورود کا معنی دخول ہے۔ لا یبقی بر و لا فاجر الا دَخَلَہَا فتکون علی المؤمنین بردًا و سلاما کما کان تلی ابراہیم ] رواہ احمد[ دوسری روایت میں ہے کہ آگ مومن کو کہے گی جز یا مومن فان نورک اطفاک لَھَبِی ] رواہ طبرانی[ دوسرا قول یہ ہے کہ ورود دخول ہی کے معنی میں ہے لیکن یہ کفار کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ قراءت ِ ابن عباس ؓ میں سے وان منھمپس قراءت مشہورہ کو التفات پر محمول کیا جائے گا۔ اور ایک قول کے مطابق جو حضرت عبد اللہ ؓ سے منقول ہے کہ ورود کا معنی حضور ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَلَما ورد ماء مدین ] القصص : 23[ اور دوسرے ارشاد میں فرمایا : اولٰٓئِک عنھا مُبعَدون ] الانبیائ : 101[ تو عنہا میں ھا سے مراد جہنم ہے۔ مگر اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ھا سے مراد اس کا عذاب ہے۔
حضرت حسنو قتادہ رحمہما اللہ کا قول :
کہ ودود یہاں مرور علی الصراط کے معنی میں ہے کیونکہ صراط جہنم کے اوپر بنا ہوا ہے پس اہل جنت اس سے بچے رہیں گے اور اہل نار اس میں گرتے جائیں گے۔
مجاہد کا قول :
یہ ہے کہ مومن کا آگ میں وارد ہونا اس پر ہوگا جس طرح دنیا میں بخار اس کے جسم میں چڑھ جاتا ہے اس لئے آپ علیہ
السلام نے ارشاد فرمایا کہ بخار آگ میں سے ہر مومن کا حصہ ہے۔ (رواۃ البزاز)
ایک صحابی ؓ نے دوسرے کو کہا کہ کیا تمہیں ورود نار کا یقین ہے ؟ اس نے کہا ہاں اس نے کہا کہ کیا تمہیں واپس لوٹنے کا یقین ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ اس نے کہا پھر ہنستے کیوں ہو اور بوجھل کیوں بنتے ہو۔ (رواہ احمد فی الزہد)
کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ( یہ تیرے رب کے ذمے لازم ہے جو ضرور پورا ہو کر رہے گا) یعنی ان کا ورود لازم ہے۔ جس جس کا فیصلہ ہوچکا۔ الحتمؔ یہ مصدر ہے حتم الا مر کا۔ یہ اس وقت کہا جاتا ہے جبکہ اس کام کو اپنے اوپر لازم کرلے اور پس اس اس کا نام موجب رکھا جاتا ہے جیسے ان کا قول ہے ضرب الامیر۔
Ayah 19:7272: ثُمَّ نُنَجِّی ( پھر ہم نجات دیں گے)
قراءت : علی نے اسکو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا ( وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا) اتَّقَوْا سے مراد شرک سے بچنا ہے۔ اور مراد اس سے مومن ہیں۔ وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا ( اور ہم چھوڑ دیں گے ظالموں کو اس میں زانوں کے بل بیٹھا ہوا) ۔
نکتہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ تمام داخل ہونگے اس لئے آگے ونذر فرمایا اور ندخُلُ نہیں فرمایا اہل السنت کا مسلک یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ممکن ہے اپنے گناہوں کی مقدار کے مطابق سزا پاکر پھر بچالیا جائے اور یہ نجات پانا اس کا یقینی ہے۔
مرجیہ کا قول ہے کہ اس کو سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ اسلام کے ساتھ معصیت ان کے ہاں نقصان دہ نہیں ہے۔ معتزلہ کا قول یہ ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہے گا۔
Ayah 19:73مشرکین کا فقرائے صحابہ ؓ کو استہزاء :
73: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُنَا ( جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتیں) آیات سے مراد یہاں قرآن ہے۔ بَیِّنٰتٍ واضح یعنی جن کا معجزہ ہونا ظاہر ہے۔ یا بینات کا معنی دلائل وبراہین۔
نحو : یہ حال موکدہ ہے جیسا کہ اس آیت میں : وَھُوَ الحَقُّ مصدقًا ] البقرہ : 91[ اس لئے کہ آیات اللہ تو واضح ہی ہوتی ہیں اور دلیل ہی ہوتیں ہیں۔ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (تو کافر کہتے ہیں) یعنی کافروں سے یہاں مشرکین قریش مراد ہیں جو کہ مالدار اور اپنے بالوں کو کنگھی کرنے والے اور زینت میں تکلف کرنے والے تھے۔ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ( ان لوگوں کو جو ایمان لائے یعنی فقرائے صحابہ کو جن کے سروں کے بال پراگندہ اور کپڑے کھردرے اور موٹے تھے) اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ (دونوں جماعتوں میں سے کون سی جماعت ہم یا تم) خَیْرٌ مَّقَامًا (مرتبے کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہے) ۔
نحو : مقامًا میم کے فتحہ کے ساتھ موضع قیام کو کہتے ہیں مراد اس سے جائے سکونت اور مکان ہے اور ضمہ کے ساتھ جیسا کہ مکی نے پڑھا موضع اقامت اور منزل مراد ہے۔
وَ اَحْسَنُ نَدِیًّا (زیادہ اعلیٰ ہے مجلس کے لحاظ سے۔ ) ندیا ایسی مجلس جس میں مشورے کیلئے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے ایسی نشانی اتاردی جس میں دلائل وبراہین تھے تو انہوں نے اس میں تدبیر سے اعراض کر کے مال و دولت اور حالت و مکان کی خوبصورتی پر فخر کی طرف رخ کرلیا۔ پس اسی لئے ارشاد فرمایا :
Ayah 19:7474: وَکَمْ اَھْلَکْنَاقَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ (ہم نے ان سے پہلے بہت سے قرن والوں کو تباہ کردیا)
نحو : کَمْ اھلکنا کا مفعول ہے اور مِنْ ابہام کی وضاحت کیلئے ہے مطلب یہ ہے بہت سے اہل زمانہ کو ہم نے ہلاک کیا اور ہر زمانے والے بعد والوں کیلئے اہل قرن ہیں۔ ھُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا ( جو کہ ان سے زیادہ اچھے تھے دنیوی سامان کے اعتبار سے )
نحو : یہ محل نصب میں کَمْ کی صفت ہے ذرا توجہ فرمائیں اگر تم ھُمْ کو چھوڑ دو تو اَحْسَن صفت کی وجہ سے منصوب ہوگا۔ اثاثا گھر کے سامان کو کہتے ہیں یا جو گھر کا بستر وغیرہ میں سے جو عمدہ ہو۔ وَّ رِئْ یًا (اور ظاہری دکھاوت میں) یعنی منظر وہیئت میں۔
نحو : فعیل کا وزن ہے جو مفعول کے معنی میں ہے اور یہ ی أیتُ سے لیا گیا ہے۔
قراءت : اور ورِیًّا بغیر ہمزہ کے تشدید کے ساتھ نافع اور ابن عامرنے پڑھا۔ کیونکہ ہمزہ ساکن تھی ماقبل کسرہ تھا اس لئے یاء میں بدل کر مدغم ہوگئی۔ (2) الرِّیُّ وہ سیرابی جو نعمت سے ہو۔
Ayah 19:75استدراج اور اس کا طریقہ :
75: قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰـلَۃِ (آپ کہہ دیں کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں) ضلالت سے یہاں کفر مراد ہے۔ فَلْیَمْدُ دْ لَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا (تو رحمٰن اس کو ڈھیل دیتا جار ہا ہے)
نحو : یہ مَنْ شرطیہ کا جواب ہے اور یہ امر خبر کے معنی میں ہے یعنی من کفر مَدَّلہ الرحمٰن یعنی اس کو مہلت دیتا ہے اور عمر بڑھا دیتا ہے تاکہ سرکشی اور گمراہی بڑھ جائے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ انما نُمْلِی لھم لیزدا دوا اثما البتہ امر کا صیغہ یہاں لایا گیا تاکہ اس کے لازم ہونے کو واضح کردیا جائے اور اس بات کو واضح کرنے کیلئے کہ یہ ہر صورت میں ہو کر رہے گا۔ جس طرح کہ مامور بہٖ انجام پذیر ہوتا ہے۔ تاکہ اس سے گمراہوں کی معذرتیں منقطع کی جاسکیں۔
حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَایُوْعَدُوْنَ ( یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے) یہ جملہ خیرٌ مقامًا واحسن نَدِیًّا کے ساتھ متصل ہے اور ان کے درمیان جملہ معترضہ ہے مطلب یہ ہوا وہ یہ بات کہتے رہیں گے یہاں تک کہ وعدہ کئے ہوئے عذاب کو آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے۔ اِمَّا الْعَذَابَ ( خواہ عذاب کو) یعنی دنیا میں اور یہ مسلمانوں کو عذاب دینا ہے قتل اور قید کے ساتھ۔ وَاِمَّا السَّاعَۃَ ( یا قیامت) اور جو وہاں ان کو عذاب اور رسوائی ہوگی۔ یہ دونوں الساعۃ اور العذاب ما یوعدون سے بدل ہیں۔ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ ھُوَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا (پس عنقریب وہ جان لیں گے مکان کے اعتبار سے برا کون ہے اور لشکر کے اعتبار سے کمزور کون ہے) جُنْد سے مراد یہاں معاونین و مددگار ہیں اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے جس کا انہوں نے اندازہ لگایا تھا اور جگہ ان ہی کی بدترین ہے اور معاونین انہی کے کمزور تر ہیں نہ مکان میں کوئی خیر ہے۔ نہ مجلس میں حسن ہے۔ اور بلاشبہ ایمان والے ان کے کہنے کے برخلاف حالت میں ہیں۔
(2) یہ بھی جائز ہے کہ یہ قریب کے ساتھ متصل ہو اس صورت میں معنی یہ ہوگا بیشک جو لوگ گمراہی میں ہیں وہ گمراہی کے اندر دراز کردیئے گئے ہیں۔ وہ اپنی گمراہی سے اسوقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ اپنی آنکھوں سے ایمان والوں کیلئے اللہ کی نصرت کو نہ دیکھ لیں یا قیامت کا مشاہدہ نہ کرلیں اور حتی کے بعد جملوں کو بطور حکایت لایا جاتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ جملہ شرطیہ اس کے بعد آرہا ہے۔ اذاراوا ما یوعدون فسیعلمون (پس عنقریب وہ جان لیں گے) ۔
Ayah 19:7676: وَیَزِیْدُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اھْتَدَوْا ھُدًی ( اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کیلئے ہدایت کو بڑھا دیتا ہے جنہوں نے ہدایت پائی)
نحو : اس جملے کا عطف فلیمدد پر ہے کیونکہ یہ خبر کی جگہ واقع ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے من کان فی الضلالۃ مدًا او یَمُدّلَہُ الرحمٰن ویزید فی ضلال الضلاَّل بخذلانہ و یزید المھتدی ای المؤمنین ھدًا۔ (جو آدمی گمراہی میں ہو اس کی گمراہی میں دراز کردیا جاتا ہے یا رحمٰن اس کی گمراہی کو دراز کرتے اور بڑھاتے ہیں اور گمراہ کی گمراہی میں اضافہ اس کو رسوا کرنے کے ذریعے ہوتا ہے اور ہدایت والوں یعنی مؤمنین کی ہدایت میں اضافہ کردیتے ہیں) ھدی مصدر سے مراد ہدایت پر ثابت قدمی یا یقین یا توفیق الٰہی سے بصیرت کا بڑھ جانا ہے والباقیات الصالحات (اور باقی رہنے والے نیک اعمال) اس سے تمام آخرت کے اعمال مراد ہیں۔ (2) پانچوں نمازیں (3) سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا ( تیرے رب کے ہاں بہت بہتر ہے ثواب میں) ان کاموں کے مقابلے میں جن پر کفار کو فخر ہے۔
وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا ( اور بہت بہتر ہیں انجام کے اعتبار سے) مردًاا معنی مرجوع اور انجام ہے اس فضیلت میں کفار سے تحکم اور استہزاء کیا گیا کیونکہ وہ دنیا میں ایمان والوں کو فخر سے کہا کرتے تھے ای الفریقین خیر مقامًا واَحْسَنُ نَدِیًّا۔
Ayah 19:77کافروں کے بڑے بول کا جواب :
77: اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُ وْتَیَنَّ مَالاً وَّ وَلَدًا ( کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے ضرور مال اور اولاد دیا جائے گا) وَلَدَ کا لفظ وائو کے ضمہ اور لام کے سکون کے ساتھ چار مقام پر حمزہ اور علی نے پڑھا ہے (1) اس آیت میں (2) سورة زخرف میں (3) سورة نوح میں اس سورت میں یہ ولد کی جمع ہے جیسے اسد اسد میں یا بمعنی ولد کے ہے جیسے عُرب اور عَرب۔
فائدہ : اشیاء کو آنکھوں سے دیکھنا علم کا راستہ ہے اور اس سے صحیح اطلاع حاصل ہوتی ہے اس لئے اہل عرب نے ارئیت کو اخبر کے معنی میں استعمال کیا ہے اور فاء جو ہے تعقیب کا فائدہ دے رہی ہے گویا اس طرح فرمایا : اَخبر ایضًا بقصۃ ھذا الکافر واذکر حدیثہٗ عقیب حدیث اولئک اس کافر کے واقعہ کی تم اطلاع دو اور ان لوگوں کی بات کے بعد اس کی بات ذکر کرو۔ لاوتینَّ یہ مضمر قسم کا جواب ہے۔
Ayah 19:7878: اَطَّلَعَ الْغَیْبَ ( کیا اس کو غیب کا علم ہوگیا) یہ عربوں کے محاورہ اطّلع الجبل (وہ پہاڑ کی چوٹی کی طرف چڑھا) اس سے لیا گیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہے کہ کیا وہ غیب کی طرف چڑھا ہے یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا ہے یہ ہمزہ استفہام کا ہے اور ہمزہ وصل کا محذوف ہے مطلب یہ ہوا کہ اس نے لوح محفوظ کو دیکھا کہ جس میں اس نے اپنی تمنا کو دیکھ لیا۔
اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا ( یا اس نے رحمٰن کے ہاں کوئی عہدلے لیا ہے) یعنی پکا وعدہ کہ وہ اس کو ضرور دیں گے۔ یا عہد شہادت و گواہی والی بات کو کہتے ہیں۔ حضرت حسن کا قول کہ یہ ولیدبن مغیرہ کے بارے میں اتری مشہور یہ ہے کہ عاص بن وائل کے بارے میں اتری شیخین نے روایت نقل کی کہ خباب بن ارت نے عاص بن وائل کے لئے چاندی پگھلائی پھر خباب بن ارت نے عاص بن وائل سے اس کی مزدوری مانگی اور عاص کہنے لگا کہ تمہارا خیال یہ ہے کہ تم دوبارہ اٹھائے جائو گے اور جنت میں سونا اور چاندی بھی ہے میں تیرا قرضہ وہاں ادا کروں گا۔ مجھے وہاں مال اور اولاد ملے گی۔
Ayah 19:7979: کَلَّا سَنَکْتُبُ مَایَقُوْلُ (ہرگز نہیں ہم اس کا کہنا لکھتے ہیں) کَلّا یہاں ردعیہ ہے اور غلطی پر تنبیہ کیلئے آیا ہے۔ یعنی جو
صورت وہ اپنے نفس کیلئے تجویز کر رہا ہے۔ اس میں وہ خطا کار ہے اس کو اس میں باز رہنا چاہیے۔
سنکتب مایقول یعنی (اس نے جو بات کہی ہے وہ ہم نے لکھ لی ہے) مقصدیہ ہے کہ اس کے سامنے عنقریب ہم ظاہر کریں گے اور اس کو بتلادیں گے کہ اس کی بات ہم نے لکھ لی ہے کیونکہ جیسے ہی اس نے کہی بغیر تاخیر کے لکھ لی گئی۔ جیسا کہ دوسری آیت میں خود فرمایا : ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید ] سورة ق : 18[ اور یہ اسی طرح ہے جیسے کسی نے کہا : اذ ما انتسبنالم تلدنی لئیمۃ (یعنی یہ جان لیا جائے گا اور نسبوں کے ذریعے یہ واضح ہوجائے گا کہ میں کمینی عورت کی اولاد نہیں)
وَنَمُدُّ لَہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا (اور ہم اس کیلئے عذاب اسی طرح بڑھائیں گے بڑھانا) جیسا کہ افتراء اور جرأت کرنے میں بڑہتا ہے یہ نمد المدد سے ہے کہا جاتا ہے مَدّہٗ وامَدَّہٗ دونوں کا ایک ہی معنی ہے اور مدًا یہ مصدر ہے جس کے ذریعے تاکیدلائی گئی تاکہ غضب الٰہی کا خوب اظہار ہوجائے۔
Ayah 19:8080: وَّ نَرِثُہٗ مَایَقُوْلُ (اور ہم مالک رہ جائیں گے ان چیزوں کے جو وہ کہتا ہے ہم اس سے دور کردیں گے اس چیز کو جن کے پالینے کا آخرت میں یہ خیال کرتا ہے۔ اور مراد وہ چیز ہے جو یہ کہتا ہے یعنی مال اور اولاد۔
وَیَاْتِیْنَا فَرْدًا ( یہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا)
نحو : یہ حال ہے یعنی بغیر مال اولاد کے آئے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ولقد جئتمونا فرادی ] الانعام : 94[ پس اس کا تمنا کرنا اور قسمیں اٹھانا کچھ کام نہ آئے گا۔