Ayah 19:8181: وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ٰالِھَۃً (اور انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود تجویز کر رکھے ہیں) یعنی ان مشرکین نے بت بنائے ہوئے ہیں جن کی یہ پوجا کرتے ہیں : لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزًّا ( تاکہ ان کو عزت حاصل ہو) یعنی وہ اپنے الٰہوں کے ذریعے عزت حاصل کریں۔ اور وہ معبود ان کیلئے سفارشی اور معاون بن جائیں اور وہ ان کو عذاب سے چھڑا لیں۔
Ayah 19:82معبودین کی بیزاری :
82: کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِھِمْ ( ہرگز ایسا نہیں عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے) کلا یہاں ردعیہ ہے اور ان کے ایمان کی تردید کیلئے آیا ہے ھم کی ضمیر آلہۃ کی طرف جارہی ہے کہ عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور اس سے ناواقفیت ظاہر کرتے ہوئے کہیں گے اللہ کی قسم تم نے ہماری عبادت نہیں کی تم جھوٹے ہو (2) یہ ضمیر مشرکین کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی وہ اس بات سے انکار کردیں گے کہ انہوں نے ان بتوں کی عبادت کی ہے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا اور کہیں گے اللہ کی قسم تم نے ہماری عبادت نہیں کی تم جھوٹے ہو یا مشرکین کو کہیں گے یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انہوں نے بتوں کی عبادت کی ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : واللّٰہ ربنا ماکنا مشرکین ] الانعام : 23[
وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا ( اور وہ ہونگے ان کے مخالف) یعنی وہ بت مشرکین کے خلاف جھگڑیں گے اللہ ان کو قوت گویائی دیں گے۔ ضدًا (مخالف) کیونکہ اللہ ان کو بولنے کی طاقت دیں گے پس وہ کہیں گے اے ہمارے رب ان لوگوں کو عذاب دے جنہوں نے ہماری عبادت کی۔ ضِدْ کا لفظ جمع اور واحد دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ لہم عِزًّا کے مقابلے میں آیا ہے اور مراد عزت کی ضد یعنی ذلت و رسوائی ہے یعنی وہ ان کے مخالف ہونگے جس کا انہوں نے قصد کیا یعنی ان کے لئے ذلت کا باعث ہونگے عزت کا باعث نہ بنیں گے اگر سَیَکْفُرُوْنَ اور یَکُوْنُوْنَ کی ضمیر مشرکین کی طرف لوٹائیں تو مطلب یہ ہوگا وہ مشرکین ان کے خلاف ہوجائیں گے یعنی انکا انکار کردیں گے۔ باوجود اس کے کہ وہ ان کی عبادت کرتے رہے۔
Ayah 19:8383: پھر اپنے اس ارشاد سے اپنے پیغمبر کو تعجب دلایا۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّا اَرْسَلْنَاالشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیطان کو کفار پر چھوڑ رکھا ہے یعنی ہم نے شیاطین اور ان کے درمیان دوستی بنادی۔ یہ درحقیقت ارسلتُ البَعِیْر کے محاورہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی اونٹ کو کھول دینا آزاد چھوڑ دینا ہے۔ (2) اغوا کے ذریعے ان پر تسلط جمانا مراد ہے۔
تَؤُزُّھُمْ اَزًّا ( وہ ان کو خوب ابھارتے ہیں) یعنی اغوا کے ذریعے گناہوں پر آمادہ کرتے ہیں۔ الَازّ اور الھِزُّ یہ دونوں ایک ہی قسم کے لفظ ہیں دونوں کا معنی بھڑکانا اور بہکا کر پیچھے لگانا آتا ہے۔
Ayah 19:8484: فَـلَا تَعْجَلْ عَلَیْھِمْ اِنَّمَا نَعُدُّلَھُمْ عَدًّا (آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کریں ہم یقینا ان کے لئے گنتی رکھتے ہیں مکمل طور پر ) جلدی نہ کرنے کا مطلب عذاب اور عذاب کے لانے میں جلدی ہے۔ اور نَعُدُّ لَھُمْ کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے اعمال بدلے کیلئے شمار کر رہے ہیں۔ یا فناء کیلئے ان کے سانس گن رہے ہیں۔
نکتہ : ابن سماک نے یہ آیت مامون الرشید کے سامنے پڑھی تو اس نے کہا کہ جب سانس بھی گنتی کے ہیں اور اس کیلئے کوئی مدد بھی نہیں ہے یعنی اضافہ بھی نہیں ہے تو کتنی جلدی وہ ختم ہو رہے ہیں اور ختم ہونے والے ہیں۔
Ayahs 19:85–86متقین کا اعزاز اور مجرمین کی ذلت :
85، 86: یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا (اس دن کو یاد کرو جس روز ہم متقین کو رحمٰن کی بارگاہ میں مہمان بنا کر جمع کریں گے) اس حالت میں کہ وہ عمدہ قسم کی اونٹنیوں پر سوار ہونگے۔ جن کے کجاوے سونے کے اور ان کی مہاریں یاقوت و زبردج کی ہونگی۔ وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وِرْدًا ( اور مجرمین کو ہم دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے) مجرمین سے کافر مراد ہیں۔ سوق سے مراد ہے چوپائیوں کی طرح ہانک کرلے جانا کیونکہ وہ دنیا میں چوپائیوں سے بھی زیادہ گمراہ تھے اور وردًا کا معنی پیاسے کیونکہ جو آدمی گھاٹ پر وارد ہوتا ہے اس کو پیاس ہی گھاٹ پر لاتی ہے ورد کی حقیقت یہ ہے پانی کی طرف چلنا اس لئے جانے والوں کو وارد کہا جاتا ہے اور وفد جمع وافد کی ہے جیسے رکب جمع راکب کی ہے اور ورد جمع وارد کی ہے۔
نحو : یوم فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے وہ یوم نحشر ہے اور نَسُوقُ کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں گروہوں کے ساتھ وہ سلوک کریں گے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرا معنی اذکر یوم نحشرھم (تم اس دن کو یاد کرو جب ہم ان کو جمع کریں گے) یہاں متقین کا تذکرہ اس طرح کیا کہ ان کو اپنے اس رب کی بارگاہ میں اکٹھا کیا جائیگا۔ جو اپنی رحمت سے ان کو ڈھانپ لے گا۔ جس طرح کہ بادشاہ کے پاس خیر سگالی وفد آتے ہیں اور کافروں سے اس طرح سلوک کیا جائے گا کہ ان کو آگ کی طرف لے جایا جائے گا گویا کہ وہ پیاسے اونٹ ہیں جن کو بطور تذلیل کے پانی کی طرف چلایا جائے۔
Ayah 19:8787: لَایَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَۃَ (وہ شفاعت کا اختیار نہ رکھیں گے ) ۔
: یہ حال ہے وائوؔ کو اگر ضمیر قرار دیں تو عبادؔ کی طرف لوٹے گی جس پر متقین مجرمین کا تذکرہ دلالت کررہا ہے کیونکہ بندے انہی دونوں قسموں پر مشتمل ہیں۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ جمع کی علامت ہو جیسا کہ اس مثال میں اکلونی البراغیث اور فاعل من اتخذ ہے کیونکہ وہ معناً جمع ہے۔ اور من اتخذؔ محلاً مرفوع ہے کیونکہ یہ وائو سے بدل ہے جو یملکون ؔ میں ہے۔ نمبر 3۔ فاعلیت کیوجہ سے مرفوع ہے۔ نمبر 4۔ حذف مضاف کی تقدیر پر منصوب ہے ای الا شفاعۃُ من اتخذ اور مقصود یہ ہے وہ اس بات کا اختیار نہ رکھیں گے کہ ان کے لئے سفارش کی جائے۔
اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّ حْمٰنِ عَھْدًا (مگر جس نے رحمان کے پاس اجازت لے لی ہے) اس طرح کہ وہ ایمان لایا۔ حدیث میں وارد ہے کہ : من قال لا الہ اِلاَّ اللّٰہ کان لہ عند اللّٰہ عھد ] طبرانی فی الکبیر[ جس نے لا الٰہ کہا اس کیلئے اللہ تعالیٰ کے
ہاں عہد ہے۔
( علیہ السلام) حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ کیا عاجز ہے تم میں سے ہر ایک کہ وہ ہر صبح اور ہر شام اللہ تعالیٰ کے ہاں عہد لے ! صحابہ نے عرض کیا۔ یہ کس طرح ممکن ہے تو آپ نے فرمایا ہر صبح و شام وہ اس طرح کہے : اللّٰھم فاطر السٰمٰوت والارض عالم الغیب والشہادۃ انی اعھد الیک بانی اشھد ان لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک وان محمدًا عبدک ورسولک وانک ان تکلنی الی نفسی تقربنی من الشر وتباعدنی من الخیر وانی لا اثق الا برحمتک فاجعل لی عھدا توفّینیہ یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد۔ جب اس نے یہ کہہ لیا تو اس پر مہر لگا دی جاتی ہے (اخرجہ الثعلبی) اور اس کو عرش کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا ایک منادی عرش کے نیچے سے ندا دیگا۔ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے رحمان سے عہد لیا ہے پس انکو جنت میں داخل کردیا جائیگا۔
نمبر 2۔ یہ اس محاورہ کے مطابق ہے عَہِدَ الا میرالی فلان بکذا جبکہ وہ کسی بات کا حکم دے دے۔ اب مطلب آیت کا یہ ہے اس کے ہاں کوئی شفاعت نہ کرے گا۔ مگر وہی جس کو شفاعت کا حکم اور اذن ملا۔ یہ مضمون تو لا یشفع عندہ الا باذنہ کے مناسب ہے۔
Ayah 19:88اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا بدترین حرکت ہے :
88: وَّقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا (اور انہوں نے کہا کہ رحمان نے بیٹا بنا لیا ہے) کہنے والے یہودو نصاری ہیں اور اسی طرح مشرکین عرب جنہوں نے ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا۔
Ayah 19:8989: لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا (تم نے نہایت سخت حرکت کی ہے) یہاں غائب سے خطاب کی طرف التفات کیا گیا ہے اور اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ انہیں یہ کہیں۔ اَلْادّ عجیب یا بڑ احادثہ اَلْاِدّۃ سختی اور کہتے ہیں ادّنی الامر کہ مجھے کام نے بوجھل کردیا اور مجھ پر بہت گراں گزرا۔
Ayah 19:9090: تَکَادُ السَّمٰوٰتُ (قریب ہے کہ آسمان) ۔
قراءت : نافع و علی نے یاء سے پڑھا ہے۔ تَکَادُ قریب ہونے کے معنی میں ہے۔
یَتَفَطَّرْنَ (وہ پھٹ جائیں) قراءت : بصر ی، شامی، حمزہ، خلف، ابوبکر نے نون سے پڑھا۔ انفطارؔ یہ فطرہٗ سے ہے جبکہ اس کو پھاڑا جائے۔ التفطر یہ فطرہٗ سے ہے جبکہ شققہٗ اس کو پھاڑا جائے۔ مِنْہُ (اس سے) اس بات کی بڑھائی کی وجہ سے وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ (اور زمین پھٹ جائے) دھنس جائے اور اس کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ (اور گرپڑیں پہاڑ) ھَدًّا (ٹوٹ کر) ٹکڑے ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر۔ الھدۃ : (آسمان سے بجلی کی آواز) ۔
نحو : یہ مصدر ہے ای تھدھدًا وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں ان کی بات سن کر۔ نمبر 2۔ مفعول لہ ہے نمبر 3۔ حال ہے۔ اس حال میں کہ ریزہ ریزہ ہوں۔
Ayah 19:9191: اَنْ دَعَوْا (اس بات سے کہ انہوں نے نسبت کی) اس لئے کہ انہوں نے انکا نام رکھا ہے۔
نحو : یہ منہ کی ھا سے بدل ہونے کی بنا پر محل جر میں ہے۔ نمبر 2۔ منصوب ہے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے گویا خرور کی علت ھدّاؔ سے بیان کی۔ اور ریزہ ریزہ ہونا رحمان کیلئے اولاد تجویز کرنے کی بنا پر ہے۔
نمبر 2۔ ھدًّا کا فاعل ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ھدھا دعا ؤھم للرحمان ولدًا ان کو ریزہ ریزہ کیا ان کے رحمان کی طرف بیٹے کی نسبت نے۔
Ayah 19:9292: وَمَا یَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا (اور رحمان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اولاد اپنے لئے تجویز کرے) انبغی یہ بغٰی کا مطاوع بن کر آتا ہے۔ اس کا معنی طلب کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طلب شئی کے بعد اس شیٔ کے ہوجانے کی باری آتی ہے۔ اب اگر بالفرض اللہ تعالیٰ اپنے لئے اولاد کا طالب بھی ہو۔ تب بھی اولاد اس کیلئے ممکن نہیں۔ اس کی اولاد ہو ہی نہیں سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکا بنانا حاجت و جنسیت کو چاہتا ہے اور اس کی ذات ان دونوں باتوں سے پاک ہے۔ کیونکہ یہ دونوں نقص و عیب ہیں۔
نکتہ : رحمان کے لفظ کو بار بار دھرایا گیا تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ رحمان اکیلا ہی اس صفت کا حقدار ہے اور کوئی اس کا مستحق نہیں کیونکہ تمام نعمتوں کا سرچشمہ وہی ہے اے انسان اپنی آنکھوں سے پردہ ہٹا اور پھر دیکھ جو کچھ بھی تیرے پاس ہے سب اس کا عطیہ ہے پس جنہوں نے اس کی طرف اولاد کی نسبت کی انہوں نے اس کو مخلوق کا حصہ قرار دیا اور اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کا انکار کیا حالانکہ اس کا وہی اکیلا مستحق ہے۔
Ayah 19:93سب رحمٰن کے عاجز بندے :
93: اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (کیونکہ جتنے بھی کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے) ۔
نحو : منؔ نکرہ موصوفہ ہے اس کی صفت فی السٰمٰوت والارض ہے اور کل کی خبر ہے۔
اِلَّا ٰاتِی الرَّحْمٰنِ (مگر وہ رحمان کے روبر وآنے والا ہے) نحو : آتی و آتیہِ واحد لائے گئے کیونکہ کلکا لفظ واحد ہے۔ یہ اسم فاعل کا صیغہ ہے از اتی یأتی اور اس کا معنی مستقبل والا ہے۔ ای یأتیہ وہ آئے گا۔
عَبْدًا (غلام ہو کر) یہ حال ہے عاجز، ذلیل، مطیع ہو کر مطلب یہ ہے جو بھی آسمانوں و زمین میں ہیں خواہ ملائکہ ہوں اور لوگ ہوں مگر وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقراری بن کر آئیں گا۔ اور عبودیت اور بیٹا ہونا دونوں ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر باپ اپنے بیٹے کا خریداری سے مالک بن جائے تو خرید تے ہی وہ آزاد ہوجائے گا۔ تمام مخلوق کی نسبت اللہ تعالیٰ سے غلام و آقا و الی ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ بعض تو بیٹے بن جائیں اور بعض غلام رہیں۔
قراءت : ابن مسعود ؓ نے آت الرحمان اصل کے مطابق پڑھا جیسا اضافت سے پہلے تھا۔
Ayah 19:9494: لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا (اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کر رکھا ہے گن کہ اور اس کا احاطہ کر رکھا ہے) اپنے علم سے ان کو محصور و محیط کر رکھا ہے کہ کوئی شئی اس کے دائرئہ علم سے باہر نہیں۔
Ayah 19:9595: وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا (اور قیامت کے دن ہر ایک اس کے پاس تنہا آئے گا) یعنی ان میں سے ہر ایک اکیلا آئے گا جب کہ اس کے پاس مال و اولاد اور معین و مددگار نہ ہوگا۔
Ayah 19:96رحمٰن کی حجت :
96: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ (جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے یقینا اللہ تعالیٰ ان کے لئے) لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا (محبت پیدا کر دے گا) اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیگا۔ ربیع کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کریں گے اور ان کو لوگوں کے ہاں محبوب بنادیں گے۔
حدیث میں وارد ہے کہ مومن کی محبت ابرار کے دلوں میں ڈالتا ہے اور فجار کے دلوں میں انکا رعب طاری کردیتا ہے۔ قتادہ اور ھرم کہتے ہیں جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندوں کے دل اس کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔ کعب کہتے ہیں بندے کی تعریف زمین میں اس وقت قائم رہتی ہے جب آسمان میں اس کی تعریف قائم و پختہ ہوجاتی ہے۔
Ayah 19:9797: فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ (پس ہم نے اس قرآن کو آسان کیا ہے) ہٗ کی ضمیر کا مرجع قرآن ہے کہ ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا۔ بِلِسَانِکَ (آپ کی زبان میں) آپ کی لغت میں۔
نحو : یہ حال ہے لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ (تاکہ آپ اس سے متقین کو خوشخبری سنائیں) متقین سے مومن مراد ہیں۔ وَتُنْذِرَبِہٖ قَوْمًا لُّدًّا ( اور آپ ڈرائیں جھگڑالو قوم کو) جو باطل جھگڑے میں بڑے سخت ہیں جو کہ ہر جھگڑے اور اختلاف میں پڑے ہیں جدال ہو یا دکھلاوا۔ لُدّا یہ اَلَد کی جمع ہے۔ مراد اس سے اہل مکہ ہیں۔
Ayah 19:98تخویف کفار :
98: وَکَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ( اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کیا) اس میں اہل مکہ کیلئے تخویف و انذار ہے (کہ ان کو ان سے عبرت حاصل کرنا چاہیے) ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِّنْ اَحَدٍ (کیا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو) یعنی کیا تم پاتے ہو۔ نمبر 2۔ دیکھتے ہو نمبر 3۔ جانتے ہو۔ الاحساسؔ حاسہ سے کسی چیز کو جاننا۔ اَوْتَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزًا یا (ان کی آہٹ سنتے ہو) ۔
رکزاؔ ہلکی آواز، الرکازؔ اسی سے ہے۔ یعنی جب ہمارا عذاب آیا تو کوئی ایسا شخص باقی نہ رہا جو نظر آسکے۔ اور کوئی آواز باقی نہ تھی جو سنائی دے۔ مطلب یہ ہے تمام ہلاکت کے گھاٹ اتر گئے۔ پس انکا حشر بھی ایسا ہونے والا ہے اگر انہوں نے قرآن میں تدبر سے اعراض قائم رکھا۔ پھر انکا انجام ہلاکت ہی ہے۔ پس انکا معاملہ آپ پر گراں نہ گزرنا چاہیے۔
تمت ترجمۃ سورة مریم ثما نیۃ عشر من رمضان 1423ھ من الہجرۃ یوم الاحد قبل الظہر والحمدللہ علی ذلک