Ayah 18:1قرآن و صاحب قرآن کی عظمت :
1: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ (تمام تعریف اس اللہ تعالیٰ کیلئے جس نے اپنے بندے پر کتاب کو اتارا) ۔ عبدہؔ سے حضرت محمد ﷺ مراد ہیں۔ الکتابؔ سے قرآن مجید مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود تلقین فرمائی اور خود بتلایا کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی تعریف کریں اور کیسے اس کی کثیر وجزیل نعمت پر شکریہ ادا کریں۔ وہ سب سے بڑی نعمت اسلام ہے اور وہ کتاب ہے جو اس نے حضرت محمد ﷺ پر اتاری جو کہ ان کے لئے سبب نجات ہے۔ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا (اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی) ذرہ بھر بھی کجی نہیں۔ عوج کا لفظ معانی میں وہی مفہوم ادا کرتا ہے۔ جوعَوْج کا لفظ اعیان میں۔ جیسے کہتے ہیں فی رَأیِہٖ عِوَجٌ و فِی عصا عوج لاٹھی میں ٹیٹرھاپن ہے۔ یہاں مقصود معنی میں اختلاف و تناقض کی نفی ہے۔ اور اس سے جو چیز بھی نکلتی ہے وہ پر حکمت ہے۔
Ayah 18:2قرآن قیم ہے :
2: قَیِّمًا (استقامت کے ساتھ) یہ فعل مضمر جَعَلَہٗ سے منصوب ہے۔ ای جعلہ قیمًا کیونکہ جب کجی کی اس سے نفی کردی تو گویا استقامت اس کے لئے خودثابت ہوگئی عِوَج کی نفی اور اثبات استقامت دونوں کو اسلئے جمع کردیا۔ باوجودیکہ ایک دوسرے سے مستغنی ہے۔ تاکہ تاکید ہوجائے بہت سے سیدھے لوگ جن کی استقامت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جانچ پڑتال کے وقت تھوڑی بہت ٹیڑھ سے خالی نہیں ہوتے۔ (اس لئے دونوں صفات لاکرا دنی کی بھی نفی کردی) نمبر 2۔ تمام کتابوں کا قرآن قیم ہے۔ ان کی تصدیق کرنے والا اور ان کی صحت کا گواہ ہے۔
لِّیُنْذِرَ (تاکہ وہ ڈرائے) ان لوگوں کو جو کفر کرنیوالے ہیں۔ بَاْسًا شَدِیْدًا (سخت پکڑ) یعنی سخت عذاب سے۔ لِیُنْذِرَ دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے اِنَّا اَنْذَرْنٰکُمْ عذاباقریبًا ] النساء : 40[ یہاں ایک پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ اصل اس طرح ہے لینذرالذین کفروا باسًا شدیدًا بأس عذاب کو کہتے ہیں۔ یہاں اکتفاء علی المفعول کی وجہ یہ ہے۔ منذربہٖ وہی ہے جس کی طرف چلایا جارہا ہے پس اس پر اکتفاء کیا گیا۔
مِّنْ لَّدُنْہُ (جو اس کی طرف ہوگا) اس کی طرف سے صادر ہونے والا ہے۔ وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ ( اور وہ خوشخبری دے ان ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرنے والے ہیں کہ ان کے لئے) اس وجہ سے کہ ان کے لئیاَجْرًا حَسَنًا (اچھا اجر ہے) یعنی جنت ہے۔
Ayah 18:3قراءت : یُبْشِرَ سکونِ باء کے ساتھ حمزہ و علی نے پڑھا ہے۔
3: مَّا کِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا (وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) یہ ماکثین حال ہے لَہُمْ کے ساتھ ھمؔ ضمیر سے۔ فیہؔ سے مراد اس کا اجر و بدلہ یعنی جنت ہے اَبَدًا ہمیشہ کے معنی میں آتا ہے۔
Ayah 18:44: وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا (اور وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے) یہاں ان لوگوں کو ذکر کردیا جن کو ڈرایا گیا ہے منذربہٖ کا ذکر نہیں کیا۔ پہلے مقام میں اس کا عکس ہے۔ اس لئے کہ پہلے تذکرہ ہوچکا اب دوبارہ ضرورت نہیں۔
Ayah 18:5کفار کی بات سفید جھوٹ ہے :
5: مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ (ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں) بیٹے بنالینے کی نمبر 2۔ بیٹا ہونے کا یہ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ بات کسی علمی دلیل پر مبنی نہیں۔ بلکہ جہل مرکب کا نتیجہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنانا ہی ناممکن ومحال ہے تو پھر انہوں نے یہ کیونکر کہہ دیا مالہم بہٖ من علم ؟ اس کا مطلب یہ ہے ان کو اس کا کچھ بھی علم نہیں کیونکہ وہ ایسی بات ہی نہیں جو علم میں آئے کیونکہ وہ محال ہے۔ اور کسی چیز کے متعلق علم کی نفی یا تو اس لئے ہوتی ہے کہ اس تک پہنچنے والا راستہ معلوم نہیں یا اس لئے کہ وہ اپنی ذات کے لحاظ سے محال و ناممکن ہوتی ہے۔ وَّ لَالِاٰ بَآئِھِمْ (اور نہ ان کے آباء کے پاس) جن کی یہ تقلید کرنے والے ہیں۔ کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ (بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے) کلمۃً یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور اس میں تعجب کا معنی پایا جاتا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ ان کی بات بات ہونے کے اعتبار سے کتنی بڑی ہے۔ کبرؔ میں ضمیر اتخذ اللّٰہ ولدًاکی طرف لوٹتی ہے۔ اور اس کو کلمہ جیسا کہ قصیدہؔ نام رکھتے ہیں۔ تخرج من افواہِھِمْ یہ کلمہ کی صفت ہے۔ جو اس کلمہ کی بڑائی کو ظاہر کررہی ہے۔ کیونکہ انہوں نے اس کو بولنے کی جرأت کی تھی۔ اور اپنے مونہوں سے بک دیا تھا۔ بلاشبہ شیطان بہت سے وساوس منکرہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی سے ڈالتا رہتا ہے۔ جن کو زبان پر لانے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ بلکہ اس کو پی جاتے پھر اس منکر ترین بات کا حال خود سمجھ لو۔
اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا (وہ جھوٹ ہی کہتے ہیں) وہ یہ بات نہیں کہتے اِلَّاکَذِبًا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی قولًا کذبًا جھوٹی بات۔
Ayah 18:6اعراض پر غم نہ کرو :
6: فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ (شاید کہ آپ اپنی جان کو ہلاک کردیں گے) اپنی جان کو قتل کرنے والے ہیں۔ عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ (ان کے پیچھے) کفار کے پیچھے۔ آیت میں آپ کو اور کفار کے منہ موڑنے، ایمان نہ لانے کو اور ان کے اعراض پر جو آپ پر غم طاری ہوتا ہے ایک ایسے آدمی سے تشبیہ دی جس کے دوست اس سے جدا ہوں اور وہ ان کے نشانہائے قدم پر حسرت وافسوس سے اپنے آپ کو گرارہا ہو۔ اور ان پر غم کی شدت اور جدائی پر افسوس میں ہلاکت کے قریب کردے۔
اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَاالْحَدِیْثِ (اگر وہ اس کلام پر ایمان نہیں لاتے) حدیثؔ سے قرآن مجید مراد ہے۔ اَسَفًا (افسوس کے طور پر) یہ مفعول لہ ہے۔ یعنی شدت و غم وافسوس سے۔ اور اسفؔ غم وغضب میں مبالغہ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 18:7دُنیا آزمائش گڑھ ہے :
7: اِنَّا جَعَلْنَا مَاعَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَا (بیشک ہم نے بنادیا جو کچھ زمین پر ہے اس کو زمین کیلئے زینت بنایا ہے) یعنی ایسی چیزیں ہیں جو زمین اور اہل زمین کیلئے باعث زینت بن سکتی ہیں۔ جیسے زخارف ارض اور جو ان میں سے عمدہ ہیں۔
لِنَبْلُوَھُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے) حسن عمل یہ ہے کہ دنیا سے زہد بےرغبتی اختیار کرے اور اس کی وجہ سے غرور میں مبتلا نہ ہو۔
Ayah 18:8تمام زمینیں چٹیل میدان بن جائے گی :
8: پھر اس کی طرف میلان میں بےرغبتی دلانے کیلئے فرمایا وَاِنَّا لَجَا عِلُوْنَ مَا عَلَیْہَا (بیشک ہم زمین کی تمام چیزوں کو بنانے والے ہیں) ھاؔ سے مراد دنیا کی زینت۔ صَعِیْدًا (چٹیل زمین) جُرُزًا (خشک) جس میں نباتات باقی نہ رہے اس کے بعد کہ سرسبز اور گھاس والی تھی۔ حاصل یہ ہے کہ ہم حیوانات کو موت دیکر اس کی آبادی کو ختم کرکے ویرانے میں بدل دیں گے اس کے تمام درخت و نبات وغیرہ کو خشک کردیں گے۔
Ayah 18:9مختصر واقعہ اصحاب کہف :
9: جب کلی آیات کا تذکرہ تزیین ارض اور اس کے اوپر جو قسم قسم کے اشیاء بےحساب پیدا کیں۔ اور پھر ان تمام کے ازالہ کہ گویا انکا وجود ہی نہ تھا سے کیا جاچکا تو فرمایا۔ اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ (کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ کہف و رقیم والے) یہ آیات اصحاب کہف کے واقعہ اور مدت دراز تک ان کی زندگی کے بقاء سے زیادہ عجیب تر ہیں۔ الکہفؔ پہاڑ میں وسیع غار کو کہتے ہیں۔ الرقیمؔ نمبر 1۔ ان کے کتے کا نام ہے۔ نمبر 2۔ ان کی بستی کا نام ہے نمبر 3۔ اس کتاب اور تختی کا نام ہے جو ان کے حالات کے سلسلہ میں لکھی گئی ہے۔ نمبر 4۔ اس پہاڑ کا نام ہے جس میں وہ غارواقع تھا۔
کَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا (وہ ہماری عجیب نشانیوں میں سے تھے) یعنی وہ عجیب نشانی تھے ہماری نشانیوں میں سے۔ مصدر کو بطور صفت لایا گیا۔ نمبر 2۔ مضاف کو محذوف مانیں یعنی اے ذات عجب۔
Ayah 18:10غار میں آنا :
10: اِذْ اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْکَھْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ ٰاتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً (وہ وقت قابل ذکر ہے۔ جب ان نوجوانوں نے اس غار میں جاکر پناہ لی تھی۔ انہوں نے کہا۔ اے ہمارے رب ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرما) اذؔ سے پہلے اذکر محذوف ہے۔ رحمۃؔ سے مراد اپنی رحمت کے خزائن میں سے خصوصی رحمت اور وہ مغفرت، رزق، دشمنوں سے حفاظت ہے۔ وَّھَیِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا (اور ہمارے لئے اس کام میں درستی کا سامان مہیافرما) امرناؔ سے مراد کفار سے جدائی والامعاملہ رَشَدًا (درستی) تاکہ اس کے سبب سے ہم راشدین ومہتدین میں سے ہوجائیں۔ نمبر 2۔ ہمارے سارے معاملے کو درستی والا بنا دے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں۔ رأیت مِنْکَ اسدًا۔ نمبر 3۔ اپنی رضا مندی کا طریق ہمارے لئے آسان کردے۔
Ayah 18:11سونا :
11: فَضَرَبْنَا عَلٰٓی اٰذَانِھِمْ فِی الْکَھْفِ (ہم نے ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا) یعنی نیند کا پردہ لٹکا دیا۔ یعنی گہری نیند ان کو سلادیا۔ جس میں ان کو آوازیں نہ جگا سکیں۔ یہاں ضربنا کا مفعول حجاب حذف کردیا۔ سِنِیْنَ عَدَدًا (سالہا سال تک) گنتی والے۔ عددؔ اصل میں سنین کی صفت ہے۔ زجاج (رح) کہتے ہیں یہ تعدعددا لکثر تھا ہے کہ ان کو کثرت کی وجہ سے گنتی سے شمار کیا جاتا ہے۔ کیونکہ قلیل کو گننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب زیادہ ہوجائیں تو تب شمار کیے جاتے ہیں۔ البتہ دراھم معدودۃ ] یوسف : 20[ قلیل ہی مراد ہیں۔ کیونکہ اہل مصر قلیل کو گنتے اور کثیر کا وزن کرتے ہیں ( اسلئے عددوہاں وزن کے تقابل میں ہے)
Ayah 18:12نیند سے بیداری :
12: ثُمَّ بَعَثْنٰھُمْ (پھر ہم نے ان کو اٹھایا) نیند سے بیدار کیا لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ (تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ ان دونوں گروہوں میں کون گروہ) جو دو گروہ ان کے قیام کی مدت میں اختلاف کررہے تھے۔ کیونکہ جب وہ بیدار ہوئے تو خود بھی انہوں نے اختلاف کیا اور اس کا تذکرہ اس ارشاد : قال قائل منہم کم لبثتم قالوا لبثنا یومًا اوبعض یوم قالوا ربکم اعلم بما لبثتم اور وہ لوگ جنہوں نے ربکم اعلم بما لبثتم کہا تھا یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اندازہ کیا کہ وہ زیادہ دیر رہے ہیں۔
نمبر 2۔ الحزبین سے وہ دوسرے لوگ مراد ہیں جو ان کے متعلق اختلاف کرنے والے تھے۔ اَحْصٰی لِمَالَبِثُوْا اَمَدًا (ان کے رہنے کی مدت کو زیادہ شمار کرنے والے ہیں) امدغایت کو کہتے ہیں۔
: احصٰی فعل ماضی اور امدًا اس کا ظرف ہے یا مفعول لہ ہے۔ اور فعل ماضی ای مبتدا کی خبر ہے۔ اور خبرومبتدا ملکرنعلم کے دو مفعول کے قائم مقام ہیں۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ ایھم ضبط امد الا وقات لبثہم واحاط علما بامد لبثہم۔ ان میں سے کس نے ان کی اقامت کے اوقات کو ضبط کیا اس مدت قیام کو پورے طور پر جانا۔
نمبر 2۔ احصی یہ احصاء سے افعل کا وزن ہے۔ اور احصاء کا معنی شمار کرنا ہے۔ توانکا قول غلط ہے۔ کیونکہ غیر ثلاثی مجرد سے اس کا وزن قیاسی نہیں آتا۔
سوال : اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے مگر یہاں لِنَعْلَمَ کا صیغہ کیوں لایا گیا ؟
جواب : نمبر 1۔ یہاں علم سے مراد ظہور ہے۔ تاکہ عبرت اور ایمان میں اضافہ ہو اور اس زمانہ کے ایمان والوں کے لئے کفار کے خلاف ایک واضح نشانی بن جائے۔ نمبر 2۔ تاکہ ہم انکا اختلاف موجود کے اعتبار سے جان لیں۔ جیسا کہ ہم اس کو وجود سے قبل اپنے علم کے اعتبار سے جانتے ہیں
Ayah 18:13تفصیلی واقعہ :
13: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاَھُمْ بِالْحَقِّ (ہم آپ سے انکا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں) سچائی کے ساتھ اِنَّھُمْ فِتْیَۃٌ (بیشک وہ نوجوان تھے) فِتْیَۃٌ جمع فتیٰ ہے۔ الفتوتؔ سخاوت کرنا، ایذاء سے اپنے کو روکنا، شکوی کو ترک کرنا، محارم سے اجتناب، مکارم کا استعمال کرنے کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں۔ الفتیؔ اس کو کہا جاتا ہے جو فعل کے کرنے سے قبل اس کا دعوٰی نہ کرے اور کرنے کے بعد اپنے آپ کو پاک قرار نہ دے۔ اٰمَنُوْا بِرَبِّھِمْ وَزِدْنٰـھُمْ ھُدًی (وہ اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی دے دی) یقین بڑھا دیا۔ یہ دقیانوس بادشاہ کے خاص لوگوں میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کو ڈال دیا۔ اور ان کو خطرہ محسوس ہوا۔ اور آپس میں کہنے لگے ہم میں سے دو ، دو خلوت میں جاکر ایک دوسرے کو اپنی خفیہ بات بتلادیں۔ انہوں نے ایسا کیا تو وہ سب ایمان پر متفق نکلے۔
Ayah 18:14دلوں کو ایمان پر مضبوط کرنا :
14: وَّرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیے) ہم نے ان کو وطن چھوڑنے پر مضبوطی سے جمادیا۔ اور دین میں پختگی عنایت کی اور کسی غار میں پناہ گزینی پر پختہ کردیا۔ کلمہ حق پر قائم رہنے کی جرأت دی اور اسلام کے ظاہر کرنے کی جسارت بخشی۔ اِذْ قَامُوْا ( جبکہ وہ کھڑے ہوئے) اس ظالم دقیانوس کے سامنے سے کھڑے ہوئے۔ اور عبادت اصنام کے ترک پر اس کے عتاب کی کوئی پرواہ نہ کی۔ فَقَالُوْارَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (پھرکہنے لگے ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے) یہ بات انہوں نے بطور فخر کہی۔ لَنْ نَّدْعُوَا مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰـہًا (ہم اس کے سوا اور کسی معبود کی ہرگز عبادت نہ کریں گے۔ ) اگرچہ ہم نے انکا الٰہ ہی نام بولا ہے۔ لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا (اگر ہم ایسا کریں گے تو اس وقت ہم حد سے بڑھی ہوئی بات کریں گے) ایسی بات کہیں گے جو زیادتی والی ہے۔ الشططؔ ظلم میں افراط اور زیادتی کرنا۔ یہ شَطَّ یَشُطُّ اور یَشِطُّ سے لیا گیا جب کہ دور جائے۔
Ayah 18:15قومی مذہب :
15: ھٰٓؤُلَآ ئِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً (ہماری اس قوم نے اس کے سوا دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے)
نحو : ھؤلاء مبتدا ہے اور قَوْمُنَا اس کا عطف بیان ہے۔ اِتَّخَذُوْا اس کی ایک خبر ہے۔ یہ جملہ خبر یہ ہے۔ جو انکار کے معنی میں ہے۔
لَوْلَا یَاْتُوْنَ عَلَیْھِمْ بِسُلْطٰنٍم بَیِّنٍ (وہ اس پر کوئی واضح دلیل کیونکر نہیں لاتے) یہاں لولاؔ یہ ھَلَّا کے معنی میں ہے۔ یَأتُوْنَسے مراد ان بتوں کی عبادت کرنے پر۔ مضاف کو حذف کردیا۔ سُلْطَانٍ بَیِّنٍ سے حجت ظاہرہ مراد ہے۔ درحقیقت اس میں ان کو رلانا مقصود ہے۔ کیونکہ بتوں کی عبادت پر صحیح دلیل کاملنا محال ہے۔ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (پس اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا) کہ اللہ تعالیٰ کی طرف شریک کی نسبت کی۔
Ayah 18:16باہمی فیصلہ :
16: وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْ ھُمْ (جب تم ان سے الگ ہوجائو) اس میں انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب کیا جبکہ اپنے دین کو بچانے کیلئے بھاگنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ وَمَا یَعْبُدُوْنَ (اور جن کی یہ عبادت کرتے ہیں) ھم ضمیر پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی واذا عتزلتموھم واعتزلتم معبودتہم۔
اِلَّا اللّٰہَ (اللہ تعالیٰ کے سوا) یہ مستثنیٰ متصل ہے۔ کیونکہ وہ خالق کا اقرار کرتے تھے۔ اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے۔ جیسا کہ اہل مکہ نمبر 2۔ مستثنی منقطع ہے ای اذاعتزلتم الکفار والاصنام التی یعبدونھا من دون اللّٰہ۔ جب تم کفار اور ان اصنام سے الگ ہوجائو جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہیں۔ نمبر 3۔ یہ جملہ معترضہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کے متعلق خبردی ہے۔ کہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرنے والے نہ تھے۔ فَاْوٗا اِلَی الْکَھْفِ (تو تم غار میں ٹھکانہ بنالو) لوغار کی طرف منتقل ہوجائو۔ نمبر 2۔ اس کو اپنا مسکن بنالو۔
یَنْشُرْلَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ (تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت کو فراخی عنایت کرے گا) رحمت سے یہاں رزق مراد ہے۔ وَیُھَیِّیْٔ لَکُمْ مِّنْ اَمْرِکُمْ مِّرْفَقًا (اور تمہارے تمام امور میں فائدے کا سامان فراہم کرے گا) مرفقاؔ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اور یہ بات انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل پر کامل یقین کی بناء پر اور اس سے قوی امید اور اس پر کامل توکل اور انتہائی خالص یقین کی بناء پر کہی۔ نمبر 2۔ اس بات کی اطلاع ان کو اس زمانہ کے پیغمبر کی زبانی کی گئی۔
Ayah 18:17قراءت : مدنی و شامی نے مَرْفِقًا پڑھا ہے۔
کیفیت ِغار :
17: وَتَرَی الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰ وَرُ (اے مخاطب تم دیکھو گے کہ دھوپ جب نکلتی ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب کو بچھی جاتی ہے) قراءت : کوفی نے تَزْوَرُ پڑھا ہے۔ اور شامی نے تَزَّاور اور دیگر نے تز اور۔ اس کی اصل تتز اور ہے۔ تخفیف کردی تاءؔ کو زاء میں ادغام کر کے یا پھر اس کو حذف کردیا۔ یہ تمام الزور سے ہے اور وہ میلان کو کہا جاتا ہے اور اسی سے زارہ کہتے ہیں جبکہ وہ اس کی طرف مائل ہو۔ الزور (جھوٹ) سچ سے میلان اختیار کرنا۔
عَنْ کَھْفِھِمْ (ان کے غار سے) اس سے مائل ہوجاتا اور اس کی شعاعیں ان پر نہ پڑتیں۔ ذَاتَ الْیَمِیْنِ (دائیں جانب) اور حقیقت میں اس سے مراد وہ جہت ہے جس کا نام یمین رکھا جاتا ہے۔ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُہُمْ (اور جب غروب ہوتی تو ہٹی رہتی) تقرضہم کا معنی ہے کہ کاٹتا ان کو یعنی ان کو چھوڑتا اور ان سے پھرجاتا۔ ذَاتَ الشِّمَالِ وَھُمْ فِیْ فَجْوَۃٍ مِّنْہُ (بائیں طرف سے اس حال میں کہ وہ غار کے وسیع مقام میں تھے) غار کے وسیع حصہ میں مطلب یہ ہے کہ وہ سائے میں تھے۔ تمام دن طلوع سے غروب تک سورج کی دھوپ ان کو نہ پہنچتی تھی۔ اس کے باوجود کہ وہ غار کے کھلے و وسیع مقام میں تھے۔ جو دھوپ کے پہنچ جانے کی جگہ تھی اگر اللہ تعالیٰ سورج کی دھوپ کو نہ روکتے۔ نمبر 2۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ غار کی ایسی کشادہ جگہ میں تھے۔ جہاں ہوا کے جھونکے اور نسیم کی ٹھنڈک ان کو پہنچتی جس سے غار کی گھٹن ان کو محسوس نہ ہوتی تھی۔
ذٰلِکَ (یہ) جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سلسلہ میں سورج کے میلان کا معاملہ کیا۔ اور طلوع و غروب میں ان سے پھر کر گزرنا یہ ایک نشانی تھیمنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے) یعنی جو اس جانب میں تھا۔ اس جانب کو دھوپ پہنچتی مگر خود ان کو کرامت کے طور پر دھوپ نہ پہنچتی تھی۔ نمبر 2۔ دوسرا قول یہ بھی ہے غار کا دروازہ شمالی جانب نبات نعش کے سامنے تھا۔ پس وہ ایسے مقام میں تھے۔ جہاں سورج کی شعاعیں کبھی نہیں پڑتیں۔ اس صورت میں آیات اللہ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی حالت اور بات یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔
جو اللہ کا ہوا اللہ اس کا ہوگیا :
مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ (جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہ ہدایت پانے والا ہے) ۔ جیسا کہ سبحان الذی اسرٰی میں گزرا۔ یہ درحقیقت ان کی تعریف ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر جہاد کیا۔ اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس بلند کرامت کو پانے کیلئے ان کی راہنمائی کردی۔
وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا (جس کو وہ گمراہ کر دے پس ہرگز تم اس کے لئے کوئی مددگار و راہنما نہ پائو گے) جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پس اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
Ayah 18:18سونے کی کیفیت :
18: وَتَحْسَبُھُمْ (اور تم ان کو گمان کرو گے)
قراءت : شامی و حمزہ عاصم نے اعشیٰ کے علاوہ فتحہ سین سے پڑھا ہے۔ اس میں ہر ایک کو خطاب ہے۔ اَیْقَا ظًا (بیدار) ۔ یہ جمع یقظ کی ہے۔ وَّھُمْ رُقُوْدٌ (حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں) رقودؔ کا معنی سوئے ہوئے۔ نمبر 2۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ سوئے ہوئے تھے۔ اسلئے دیکھنے والا ان کو بیدارخیال کرتا۔
وَّنُقَلِّبُہُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ (اور ہم انکو دائیں اور بائیں پلٹ رہے تھے) بعض نے کہا سال میں وہ دو پلٹیاں لیتے ایک اور قول یہ ہے کہ عاشوراء کے دن ایک ہی پلٹی ان کو دی جاتی۔ (مگر نقلّب کا لفظ اس تخصیص کی بجائے سونے والے کی طرح کثرت سے طبعی طور پر پلٹنے کا متقاضی ہے اور قدرت الٰہی کے اظہار کیلئے بھی یہ مناسب ہے۔ واللّٰہ اعلم۔ مترجم)
وَکَلْبُہُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ (اور انکا کتا اپنے دونوں اگلے ہاتھ پھیلانے والا تھا) یہ ماضی کی حالت کا تذکرہ ہے کیونکہ ماضی کے معنی میں لینے سے اسم فاعل عمل نہیں کرتا۔ بِالْوَصِیْدِ (چوکھٹ پر) صحن میں نمبر 2۔ چوکھٹ پر۔ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْھِمْ (اے مخاطب ! اگر تم ان کو جھانک کر دیکھ پائو) لَوَلَّیْتَ مِنْہُمْ (تو تو ان سے منہ موڑ لے گا اور بھاگ کھڑا ہوگا) فِرَارًا (بھاگنا) مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ معنی وَلَّیْتَ مِنْہُمْ کا ہے کہ تو ان سے بھاگ جائے گا۔
وَّ لَمُلِئْتَ مِنْہُمْ رُعْبًا (اور تو ضرور بھر جائے گا ان کے رعب سے) مبالغہ ہے حجازی نے مُلِئت کی لام پر تشدید پڑھی ہے۔ رُعبًا تمیز ہے۔ علی اور شامی نے ضم ِراء کے ساتھ پڑھا۔ رُعبؔ اس خوف کو کہا جاتا ہے جس سے سینہ مرعوب ہوجائے یعنی بھر جائے۔ اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رعب کا لباس پہنادیا تھا۔ یا نمبر 2۔ ان کے ناخنوں اور بالوں کی لمبائی اور ان کے اجسام کے بڑے ہونے کی وجہ سے (مگر یہ بات درست نہیں کیونکہ جب وہ اٹھے تو کسی چیز میں تغیرنہ پا کر انہوں نے لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْم ورنہ بالوں وغیرہ کا بڑھنا تو کھلی علامت طویل ٹھہرنے کی تھی۔ جو کسی معمولی عقل سے بھی مخفی نہیں چہ جائیکہ ان عقل مند ترین لوگوں سے فافہم و تدبر)
حضرت معاویہ ؓ کے متعلق آیا ہے کہ انہوں نے غزوئہ روم میں اس کہف سے گزر کیا۔ پس انہوں نے کہا میں غار میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ تو ابن عباس ؓ نے کہا اس کو جو تم سے بہت بہتر تھے یہ کہا گیا لولّیت منہم فرارًا پھر ان کے حکم سے ایک جماعت غار میں داخل ہوئی ان کو ہوا نے جلادیا۔
Ayah 18:1919: وَکَذٰلِکَ بَعَثْنٰھُم (اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا) جس طرح ہم نے اس نیند سے ان کو سلایا۔ اسی طرح ہم نے ان کو سلانے اور اٹھانے پر قدرت کے اظہار کے لئے ان کو بیدار کیا۔ لِیَتَسَآ ئَ لُوْا بَیْنَہُمْ (تاکہ وہ آپس میں سوال و جواب کریں) اور ایک دوسرے کی حالت کو پہچانیں اور اپنے ساتھ اللہ کے سلوک کو معلوم کر کے مزید عبرت حاصل کریں اور اس کی عظیم قدرت پر اس سے استدلال کریں جس سے ان کے یقین میں مزید اضافہ ہو اور اللہ نے جو ان پر انعام فرمایا اس کا شکریہ ادا کریں۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ (ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا) یعنی ان کے سربراہ نے کہاکمْ لَبِثْتُمْ (تم کتنا ٹھہرے ہو۔ ) یعنی تمہارے ٹھہرنے کی مدت کتنی ہے۔ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ (انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں) انکا یہ جواب غالب ظن کی بنا پر تھا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اجتہاد جائز ہے اور اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ظن غالب سے بات کہی جاسکتی ہے۔ قَالُوْا رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ (وہ کہنے لگے تمہارے رب کو بخوبی علم ہے کہ تم لوگ کتنی دیر رہے ہو) یعنی تمہارے ٹھہرنے کی مدت کتنی ہے۔ یہ بعض کی طرف سے پہلوں کی بات کا انکار ہے گویا کہ انہوں نے دلائل سے معلوم کرلیا یا ابہام سے ان کو معلوم ہوا کہ مدت طویل ہے جس کی مقدار اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ تفسیری روایت میں ہے کہ وہ غار میں چاشت کے وقت داخل ہوئے اور زوال کے بعدبیدار ہوئے پس انہوں نے گمان کیا کہ وہ اسی دن میں ہیں جب انہوں نے اپنے ناخنوں اور بالوں کی لمبائی کو دیکھا تو یہ کہا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسی آیت سے یہ استدلال کیا کہ ان کی صحیح تعداد سات ہے کیونکہ آیت میں یہ بات فرمائی گئی قال قائل تو یہ قائل ایک ہوا قالوا اس کے جواب میں انہوں نے لبثنا یوما اَوْ بَعْض یَوْم کہا اور قالوا کم سے کم تین کیلئے بولا جاتا ہے کیونکہ وہ جمع ہے۔ پھر کہا ربکم اعلم تو کم بھی جمع جو کم سے کم تین کے لئے ہیں اس لحاظ سے وہ سات ہوگئے۔
باہمی مکالمہ :
فَابْعَثُوْا اَحَدَکُمْ (پس تم اپنے میں سے ایک کو بھیجو) گویا کہ انہوں نے کہا تمہارا رب اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے اس مدت کو صحیح جاننے کا راستہ تمہارے پاس نہیں ہے۔ پس دوسری اہم چیز کو تم اختیار کرو کہ اپنے میں کسی ایک یعنی یملیخا کو بھیجو۔ بِوَرِقِکُمْ ھٰذِہٖ (اپنا یہ روپیہ دے کر) یہ چاندی کے روپے تھے یا فقط چاندی تھی جس پر مہر نہ تھی۔ قراءت : ابوبکر ‘ حمزہ اور ابو عمرونے ورق کو راء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ (شہر کی طرف) اس شہر کا نام ترسوس تھا۔ وہ اپنے ساتھ گھر سے نکلتے وقت چاندی لائے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خرچہ اپنے ساتھ لے جانا اور وہ چیزیں جو مسافر کیلئے کام آسکتی ہوں۔ یہ اللہ پر توکل کرنے والوں کی شان ہے۔ یہ ان لوگوں کا وطیرہ نہیں جو اتفاق پر بھروسہ کیا کرتے ہیں اور لوگوں کے برتنوں میں پائے جانے والے نفقات پر جن کی نگاہ ہوتی ہے بعض علماء کے بارے میں وارد ہے کہ ان کو بیت اللہ کا بہت شوق تھا۔ اور وہ فرمایا کرتے تھے اس سفر کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ شد الھمیان والتوکل علی الرحمان نمبر 1۔ ہمیانی پاس ہو۔ نمبر 2۔ رحمان پر بھروسہ ہو۔ فَلْیَنْظُرْ اَیُّھَا (پس وہ دیکھ لے کون سا ان میں سے) یعنی اس شہر کے رہنے والوں میں سے۔ یہاں مضاف کو حذف کردیا جس طرح کہ اس آیت میں ہے : واسئل القریۃ ] یوسف : 82[ ایٌّ مبتدا ہے۔ اور اس کی خبر ازکٰی ہے۔
اَزْکٰی کا معنی زیادہ پاکیزہ یعنی حلال اور پاکیزہ یا مقدار میں زیادہ اور سستا طَعَامًا (کھانا) یہ تمیز ہے۔ فَلْیَاْتِکُمْ بِرِزْقٍ مِّنْہُ وَلْیَتَلَطَّفْ (پس وہ اس میں سے تمہارے پاس کچھ کھانا لے آئے اور خوش تدبیری سے کام لے) یعنی خریدو فروخت کے معاملے میں بتکلف نرمی اختیار کرے تاکہ غبن واقع نہ ہو یا معاملے کو پوشیدہ رکھنے کی صورت میں خوش تدبیری سے کام لے تاکہ کسی کو پتہ نہ چل سکے۔ وَلَایُشْعِرَنَّ بِکُمْ اَحَدًا (اور کسی کو تمہاری سن گن نہ ہونے پائے) یعنی کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے نادانستگی میں تمہارے متعلق پتہ چل جائے۔ اس نادانستہ حرکت کا نام اشعار رکھا کیونکہ یہ سبب اشعار ہے۔ (یعنی سبب اطلاع ہے) ۔
Ayah 18:2020: اِنَّھُمْ اِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ کیونکہ اگر ان لوگوں نے تمہاری اطلاع پائی۔ انہم کی ضمیر اہل کی طرف جارہی ہے جو کہ ایّھا میں مقدر ہے اور ان یظہر کا مطلب مطلع ہونا اور قابو پالینا ہے۔ یَرْجُمُوْکُمْ وہ تم کو سنگسار کردیں گے۔ یعنی بدترین انداز سے تمہیں قتل کردیں گے۔ اَوْیُعِیْدُوْکُمْ فِیْ مِلَّتِھِمْ ( یا وہ تم کو اپنے مذہب میں لوٹا لیں گے زبردستی۔ یہاں عود کا معنی صیرورت ہوجانا اور یہ کلام عرب میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ (صیرورت کا معنی داخل کرنا) وَلَنْ تُفْلِحُوْا اِذًا اَبَدًا (اور اس وقت کبھی بھی تم فلاح نہیں پائو گے) اذا یہاں شرط پر دلالت کر رہا ہے تقدیر عبارت اس طرح ہوگی ولن تفلحوا ان دخلتم فی دینھم ابدًا۔ یعنی تم ہرگز کامیاب نہ ہوگے اگر تم ان کے دین میں کبھی بھی داخل ہوگئے۔
Ayah 18:2121: وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْھِمْ (اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے متعلق مطلع کردیا) اور جیسا کہ ہم نے سلایا اور ان کو نیند سے جگایا اسی طرح ان کے بارے میں لوگوں کو حکمت کی بناء پر مطلع کردیا۔ لِیَعْلَمُوْا ( تاکہ وہ لوگ اس بات کا یقین کرلیں) یعنی وہ لوگ جن کو ہم نے ان کے حالات کے متعلق مطلع کیا۔ اَنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ (کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے) وعدہ سے بعث بعد الموت والا وعدہ مراد ہے۔ حق کا مطلب یہ ہے کہ یقینا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ ان کی نیند والی حالت اور اس کے بعد اس سے بیداری والی کیفیت اس آدمی جیسی ہے جو فوت ہو پھر اس کو اٹھایا جائے۔ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَارَیْبَ فِیْھَا (اور بیشک قیامت میں کوئی شبہ نہیں) وہ ان کے معاملے سے بعث کے صحیح ہونے پر استدلال کریں گے۔ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ (جب کہ وہ ان کے متعلق باہمی جھگڑ رہے تھے) یہ اَعْثَرْنَا کے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : اعثرنا ھم علیھم حین یتنازع اہل ذلک الزمان۔ ہم نے ان کے متعلق اس وقت لوگوں کو مطلع کیا جبکہ اس زمانہ کے لوگ باہم جھگڑ رہے تھے۔ بَیْنَہُمْ اَمْرَھُمْ (اپنے درمیان ان کے معاملہ میں) یعنی اپنے دین کے معاملہ میں اور حقیقت بعث کے متعلق اختلاف کر رہے تھے ( ان میں سے بعض کہتے تھے کہ فقط ارواح کو اٹھایا جائے گا اجساد کو نہیں اور دوسروں کا کہنا یہ تھا کہ روح مع الجسد اٹھائی جائے گی) تاکہ اختلاف رفع ہوجائے اور معاملہ کھل جائے کہ اجسام کو حسّ کے ساتھ زندہ کر کے ارواح کے موت سے پہلے والے تعلق کو بحال کردیا جائیگا۔
فَقَالُوا (انہوں نے کہا) جب اصحاب کہف مرگئے۔ ابْنُوْا عَلَیْھِمْ بُنْیَانًا (ان کے پاس کوئی عمارت بنادو) ان کی غار کے دروازے پر عمارت بنادو تاکہ لوگ غار کے اندر نہ گھس سکیں ان کی قبور کی حفاظت کیلئے جیسا کہ قبر رسول ﷺ کو چار دیواری سے محفوظ کردیا گیا ( مگر یہ قیاس درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ آپ کی قبر مبارک تو پہلے ہی خصوصیت نبوت کی بناء پر مکان کے اندر بنائی گئی نہ کہ بعد میں چار دیواری کی گئی) رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِھِمْ (انکا رب ان کو خوب جانتا تھا) یہ آپس میں تنازع کرنے والوں کا کلام ہے گویا انہوں نے باہمی مذاکرہ کیا اور ان کے انساب و احوال کی طرف کلام کو منتقل کیا اور ان کی مدت قیام میں بھی گفتگو کی جب ان تمام معاملات میں حقیقت کی طرف راستہ نہ ملا تو اس وقت کہنے لگے ربہم اعلم بہم کہ رب تعالیٰ کو ان کے متعلق حقیقت حال کا علم ہے۔
نمبر 2۔ یا یہ ادخال الٰہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسی فضول بحثوں میں پڑنے والوں کو فرمایا میں انکا رب ان کی حقیقت کی صحیح خبر رکھتا ہوں۔ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓی اَمْرِھِمْ (ان لوگوں نے کہا جو اپنے کام پر غالب تھے) یعنی مسلمان اور حکام اور وہ ان کے قریبی عزیز بھی تھے اور ان کے قریب تعمیر کے زیادہ حقدار تھے۔ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْہِمْ (ہم ضر ور ان کے پاس بنائیں گے) غار کے دروازے پر مَّسْجِدًا (ایک مسجد) جس میں مسلمان نماز ادا کریں گے اور ان کے مقام سے برکت پائیں گے۔ روایت تفسیر یہ میں ہے کہ اہل انجیل نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا اور ان کے بادشاہوں نے سرکشی اختیار کر کے بتوں کی عبادت شروع کردی اور لوگوں کو ان کی عبادت پر مجبور کیا۔ ان سختی پسندوں میں دقیانوس تھا۔ اس نے اپنے قوم کے نوجوانوں کو شرک میں مبتلا کرنے کا ارادہ کیا اور ان کو شرک اختیار نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکی دی۔ مگر انہوں نے ایمان پر ثابت قدمی دکھائی اور اس میں پختگی اختیار کی۔ پھر انہوں نے غار کی طرف فراراختیار کیا۔ انکا گزر ایک کتے کے پاس سے ہوا وہ بھی ان کے پیچھے چل دیا۔ انہوں نے اس کو بہت بھگایا مگر وہ انکا پیچھا کرنے سے باز نہ آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بولنے کی زبان دی۔ اس نے کہا تم میرے متعلق کیا چاہتے ہو ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں سے محبت ہے تم جب آرام کر وگے۔ تو میں تمہاری حفاظت کرونگا۔
تفسیری روایات سے تفصیل :
دوسرا قول یہ ہے کہ انکا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ کتا تھا۔ چرواہا ایمان لے آیا اور وہ تمام غار میں جا بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں کو تھپکی دے کر سلا دیا۔ اور ان کے اٹھانے سے پہلے وہاں کی حکمرانی ایک نیک صالح مومن آدمی کو دے دی۔ اس کے زمانہ حکومت میں لوگوں کے مابین بعث میں اختلاف ہوا۔ ہر دو فریق ضد پر تھے۔ بادشاہ اپنے گھر میں داخل ہوا۔ اور اپنا دروازہ بند کر کے ٹاٹ کا لباس پہن لیا۔ اور زمین پر بیٹھ کر بارگاہ الٰہی میں اس مسئلے کا حل طلب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ایک چرواہے کے دل میں بات ڈال دی جس نے اس رکاوٹ کو جو ان کی غار کے منہ پر تھی گرا دیا تاکہ اس کو بکریوں کا باڑہ بنائے۔ جب وہ کھانا خریدنے کیلئے شہر میں داخل ہوا اور اس نے سکہ نکالا تو وہ دقیانوس کا مہر شدہ تھا۔ لوگوں نے اس کو اس تہمت میں گرفتار کرلیا کہ اس نے خزانہ پالیا ہے۔ وہ اس کو پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔ اس نے اپناواقعہ ان کو من و عن بیان کردیا۔ بادشاہ شہروالوں سمیت ان کی ملاقات کیلئے آیا اور ان کو آنکھوں سے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی تعریف کی کہ اس نے بعث بعد الموت کی دلیل مہیا کردی۔ پھر ان نوجوانوں نے بادشاہ کو کہا ہم تمہیں الوداع کہتے ہیں اور جن و انس کے شرّ سے تیرے لئے پناہ کی دعا کرتے ہیں۔ پھر وہ اپنی خوابگاہوں کی طرف واپس لوٹ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو قبض کرلیا۔ بادشاہ نے ان پر اپنا کپڑا بطور کفن ڈال دیا۔ اور ہر ایک کیلئے سونے کا تابوت بنایا۔ مگر خواب میں اس نے دیکھا کہ وہ سونے کو ناپسند کرتے ہیں تو اس نے ساگوان کی لکڑی سے تابوت تیار کر کے اس میں دفن کردیا۔ اور غار کے منہ پر ایک مسجد تعمیر کرادی۔
Ayah 18:22تعداد میں تنازعہ :
22: سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَۃٌ رَّ ابِعُہُمْ کَلْبُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ خَمْسَۃٌ سَادِسُہُمْ کَلْبُھُمْ رَجْمًام بِالْغَیْبِ وَیَقُوْلُوْنَ سَبْعَۃٌوَّ ثَامِنُھُمْ کَلْبُھُمْ (بعض لوگ تو کہیں گے وہ تین ہیں چوتھا انکا کتا اور بعض کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا انکا کتا اور یہ لوگ بلا تحقیق اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں اور بعض لوگ کہیں گے، سات ہیں آٹھواں انکا کتا) سیقولونؔ کی ضمیر ان لوگوں کی طرف راجع ہے جو آپ ﷺ کے زمانہ اقدس میں اہل کتاب اور مؤمنین میں سے جو اس قصہ کے متعلق گفتگو کر رہے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو جواب کو ان کے سلسلہ میں وحی تک مؤخر کیا گیا۔ پس یہ آیت ان کے مابین اختلاف کی حقیقت بتلانے کیلئے اتاری گئی کہ ان میں جو گروہ ان کی تعداد سات اور آٹھواں کتا بتلاتا ہے وہ صحیح ہے۔
اور ایک تفسیری روایت یہ بھی ہے کہ سید اور عاقب اور ان کے ساتھ آنے والے نجرانی افراد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تھے۔ اصحاب کہف کا تذکرہ چھڑ گیا۔ تو سید نے کہا یہ یعقوبی تھا۔ کہ وہ تین تھے اور چوتھا انکا کتا تھا۔ عاقب نے طرح دی اور یہ نسطوری تھا۔ کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا انکاکتا تھا۔ مسلمانوں نے کہا وہ سات تھے۔ اور آٹھواں انکا کتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی بات کی تصدیق فرما دی۔ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کے اطلاع دینے سے یہ بات کہی جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے۔
اسمائے اصحاب کہف :
حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ وہ سات تھے ان کے نام یہ تھے۔ نمبر 1۔ یملیخا نمبر 2۔ مکثلینا نمبر 3۔ مثلبینا یہ بادشاہ کے دائیں جانب کے مقرب تھے اور اس کے بائیں جانب والے نمبر 4۔ مرنوش نمبر 5۔ دبر نوش نمبر 6۔ شاذ نوش بادشاہ ان چھ سے مشاورت کرتا تھا۔ ساتواں وہ چرواہا کعسططیونس جو ایمان لا کر ان کے ساتھ دقیانوس کی حکومت سے بھاگا۔ ان کے شہر کا نام افسوس اور ان کے کتے کا نام قطمیر تھا۔ ] الطبرانی الاوسط[
: سیقولونؔ میں سین استقبال کیلئے ہے۔ اگرچہ پہلے فعل پر داخل ہے۔ بقیہ دونوں افعال بوجہ عطف اس کے حکم میں داخل ہیں۔ جیسا کہ قد اکرم و انعم اس جملہ میں دونوں فعلوں میں توقع کا معنی مراد لیا گیا ہے۔ یا یفعل ؔ سے استقبال کا معنی مراد لیا جائے جو کہ اس کے مناسب ہے۔ ثلاثۃ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای ھم ثلاثۃ اسی طرح خمسۃ، سبعۃ۔ رَابِعُھُمْ کلبھم ؔ یہ جملہ اسمیہ ثلاثہؔ کی صفت ہے۔ اسی طرح سادسھم کلبھم اور ثامنھم کلبھم جملے ان کی صفت ہیں۔
رجما بالغیب (یہ بےتحقیق اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں) یہ مخفی خبر و اطلاع سے اٹکل لگا رہے ہیں۔ اور اسی کو لا رہے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ویقذفون بالغیب ] سبا : 53[ یعنی وہ پوشیدہ بات اٹکل سے کرتے ہیں۔ یاؔ نمبر 2۔ الرجمؔ کو الظّن کی جگہ رکھا گویا اس طرح کہا ظنًّا بالغیبغیب کے متعلق گمان لڑاتے ہیں کیونکہ اہل عرب اکثر کہتے ہیں : رجم بالظن بجائے اس کے کہ ظن فلان کہتے۔ یہاں تک کہ ان کے ہاں دونوں تعبیروں میں کوئی فرق نہیں رہا۔
واؤ جو تیسرے جملہ پر داخل ہوئی ہے۔ یہ وہ واؤ ہے جو اس جملہ پر لائی جاتی ہے جو نکرہ کی صفت بنے جیسا کہ اس جملہ پر جو معرفہ سے حال بنے اس پر وائو آتی ہے مثلاً جاءنی رجل ومعہ آخر و مررت بزید و فی یدہ سیف۔ وائو کا فائدہ نمبر 1۔ یہ ہے کہ صفت موصوف کے ساتھ تاکیداً متصل ہے۔ نمبر 2۔ موصوف کا اس صفت سے متصف ہونا ایک ثابت شدہ بات ہے۔ نمبر 3۔ یہی وہ وائو ہے جس نے یہ اعلان کیا کہ جنہوں نے کہا سبعۃ و ثامنھم کلبھم انہوں نے حقیقت ثابتہ بتلائی۔ انہوں نے اٹکل کا تیر نہیں چلایا۔ جیسا کہ دوسروں نے کیا۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے دونوں اقوال کے بعد رجمًا بالغیب فرمایا اور تیسرے اس قول کے بعد یہ ارشاد لائے۔ قُلْ رَّبِّیْ اَعْلَمُ بِعِدَّ تِھِمْ (یعنی کہہ دیں کہ میرا رب ان کی صحیح تعداد کو جانتا ہے) اور اس نے تمہیں اس کی خبر سبعۃ و ثا منھم کلبھمکہہ کر دے دی ہے۔
مَّا یَعْلَمُھُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ (اور نہیں ان کو جانتے مگر تھوڑے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں ان قلیل میں سے ہوں دوسرا قول یہ ہے کہ الا قلیل سے مراد اہل کتاب میں سے قلیل یعنی عنقریب ان کے متعلق اہل کتاب طرح طرح کی باتیں کہیں گے مگر ان کو اس کا کچھ بھی علم نہیں سوائے قلیل لوگوں کے ان کی اکثریت گمان وتخمین کی پیرو ہے۔
فَـلَا تُمَارِفِیْھِمْ (پس ان کے متعلق بحث نہ کریں) یعنی اصحاب کہف کے متعلق اہل کتاب سے مجادلہ و مباحثہ نہ کریں اِلَّا مِرَآ ئً ظَاھِرًا (مگر سرسری بحث) مگر سرسری بات چیت۔ کرید کی ضرورت نہیں اور وہ اس طرح ہے کہ آپ ان کے سامنے وہ واقعہ بیان فرما دیں جو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اتارا پس یہی کافی ہے۔ اس میں کسی قسم کا اضافہ نہ فرمائیں ان کی تجہیل کیلئے۔ نمبر 2۔ لوگوں کے سامنے واقعہ بتلا دیں تاکہ آپ کی صداقت ظاہر ہوجائے۔
وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْہِمْ مِّنْھُمْ اَحَدًا (اور آپ ان کے متعلق ان میں سے کسی سے استفتاء نہ کریں) کسی سے ان کے قصہ کے متعلق سوال نہ کریں۔ ایسا سوال جو متعنت لوگ کرتے ہیں۔ تاکہ اسے کسی بات کے کہنے کا موقع ملے اور پھر آپ اس کی تردید فرمائیں۔ اور پھر وہ بکے جو اس کے پاس ہو۔ اور نہ ہی راہنمائی حاصل کرنے کیلئے کسی سے سوال کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو ان کے قصہ کی صحیح راہنمائی فرما دی ( کہ جس پر نہ اضافہ ہوسکتا ہے اور نہ حاجت ہے) ۔
Ayah 18:23کل کا وعدہ انشاء اللہ سے کرو :
23: وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْ ئٍ (اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کریں کہ میں اس کو کل کردونگا) کسی چیز کے متعلق تو پختہ ارادہ کرے اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ (کہ بیشک میں اس کو کرنے والا ہوں) اس چیز کو غَدًا ( کل زمانہ مستقبل میں) خاص کل کا دن مراد نہیں۔ اِلَّآ اَنْ یَّشَآ ئَ اللّٰہُ (مگر یہ کہ چاہے اللہ تعالیٰ ) نمبر 1۔ آپ اس وقت کہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے دیں۔ نمبر 2۔ تم ہرگز اس کو نہ کہو مگر یہ کہ چاہے اللہ یعنی اس کی مشیت سے۔ یہ حال واقع ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی الا متلبسًابِمَشِیّۃ اللّٰہ قائلا ان شاء اللّٰہمگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ملا ہوا ہو تم کہنے والے ہو، انشاء اللّٰہ
زجاج کا قول :
اس کا معنی یہ ہے تم ہرگز نہ کہو کہ میں اس کو کروں گا مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے۔ کیوں کہ جب کہا جائے انا افعل ذلک ان شاء اللّٰہتو اس کا مطلب ہے کہ میں اس کو نہیں کرونگا مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے۔ یہ نہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تادیب کیلئے ہے۔ جبکہ یہود نے قریش کو کہا تم اس سے روح ٗاصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کرو۔ انہوں نے سوال کیا آپ نے فرمایا تم کل میرے پاس آجائو میں تمہیں بتلا دوں گا۔ اور آپ نے استثناء نہ کیا۔ پس وحی میں دیر ہوگئی یہاں تک کہ آپ پر گراں گزرا۔
Ayah 18:24ذکر کا حکم :
24: وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ (اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کا ذکر کریں) جب مشیت رب سے متعلق کرنا۔ فرط نسان سے بھول جائیں تو کہیں انشاء اللہ۔ اذا نسیت کا معنی کلمہ استثناء کا بھولنا ہے۔ پھر آپ اس پر متنبہ ہو کر انشاء اللہ کہہ کر تدارک کریں حضرت حسن (رح) کہتے ہیں۔ مجلس ذکر میں جب تک ہو اس وقت تک بعد میں انشاء اللہ کہنے سے تدارک ہوسکتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ایک سال کے بعد یاد آئے تب بھی انشاء اللہ سے تدارک ہوجائے گا۔ یہ ارشاد اس انشاء اللہ کا ہے۔ جو بطور تبرک کے کہا جائے۔ البتہ وہ استثناء جو حکم کو بدلنے والا ہے وہ متصل ہی درست ہے۔
نکتہ : حکایت ہے کہ منصور عباسی خلیفہ کو اطلاع ملی کہ ابوحنیفہ نے استثناء منفصل میں ابن عباس ؓ کی مخالفت کی ہے۔ منصور نے آپ کو دربار میں بلایا تاکہ آپ کی تنکیر کرے۔ ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا یہ اعتراض آپ پر وارد ہوتا ہے۔ آپ خلافت کی بیعت قسم کے ساتھ لوگوں سے لیتے ہیں۔ کیا آپ پسند کرتے ہیں۔ کہ وہ جب آپ کے پاس سے باہر نکل کر جائیں تو وہ استثناء کردیں اور آپ کی بیعت سے نکل جائیں۔ منصور کو امام صاحب کی یہ بات بہت پسند آئی اور جس نے اس کے ہاں امام صاحب کی چغلی کھائی تھی اس کو نکال دینے کا حکم جاری کیا۔
نمبر 2۔ اس کا معنی یہ ہے تم اپنے رب کو یاد کرو تسبیح و استغفار کے ساتھ جبکہ استثناء کا کلمہ رہ جائے تاکہ شدت سے اس کا اہتمام ہوجائے۔ اور بھول چوک سے بچت رہے۔ نمبر 3۔ نماز جب بھول کر رہ جائے تو جب یاد آئے اس کو ادا کرلیا کریں۔ نمبر 4۔ جب تم وہ کہنا بھول جائو تو اس کو یاد کرلو تاکہ وہ بھولا ہوا ہو یاد دلائے۔
وَقُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّھْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ ھٰذَا رَشَدًا (اور کہہ دیں کہ مجھے امید ہے کہ میرا رب اس سے بھی زیادہ بہتری کو قریب الوصول بنا دے گا) یعنی جب کوئی چیز تو بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر اور بھولنے کے وقت رب کا ذکر اس طرح ہے کہ تم کہو عسی ربی ان یھدین یعنی لِشیئٍ اخَرَ بدل ھذا المنسی اقرب منہ رشدا وادنٰی خیرًا و منفعۃ یعنی امید ہے کہ میرا رب میری راہنمائی کرے گا کسی اور چیز کی طرف جو اس بھولی ہوئی چیز کے بدلے میں ہوگی اور راہنمائی کیلئے اس سے زیادہ قریب اور فائدے اور بھلائی میں اس سے نزدیک تر ہوگی۔
قراءت : ان یھدین، ان ترنِ ، ان یوتین، ان تعلمنم کی نے دونوں حالتوں میں اسی طرح پڑھا اور ابوعمرو نے اس کی موافقت کی اور مدنی نے صرف وصل میں پڑھا۔
Ayah 18:25غار میں تین سو نو سال قیام :
25: وَلَبِثُوْا فِیْ کَہْفِھِمْ ثَلٰثَ مِا ئَۃ سِنِیْنَ (اور وہ ٹھہرے رہے اپنے غار میں تین سو سال) مراد اس سے زندگی کی حالت میں انکا اس میں ٹھہرنا ہے۔ جبکہ اس مدت میں ان کے کانوں پر نیند کی تھپکی دیدی گئی تھی یہ فضر بنا علی اذانھم الی آخرہٖ میں جس کو مجمل رکھا گیا تھا اس کا بیان ہے اور سنین کا لفظ یہ ثلث مائۃ کا عطف بیان ہے۔
قراءت : حمزہ اور علی نے ثلاثۃ مائۃ سنین اضافت کے ساتھ پڑھا اس طرح کہ تمیز میں جمع کو واحد کی جگہ رکھ دیا گیا جیسا کہ دوسری آیت میں بھی موجود ہے بالاکثرین اعمالا ] الکہف : 3[ وَازْدَادُوْتِسْعًا (اور نو برس زیادہ رہے ) ۔
نحو : یہاں تِسْعًا کے بعد بھی اس کی تمیز تِسْعًا ہے کیونکہ ماقبل میں بھی دلالت موجود ہے اور تسعاً مفعول بہٖ ہے کیونکہ زَادَ دو مفعولوں کو چاہتا ہے اور اِزْدَادَ ایک ہی مفعول کو چاہتا ہے۔
Ayah 18:26حقیقی مدت کا علم اللہ کے پاس ہے :
26: قُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا (آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کتنا زمانہ تک وہ رہے) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے ان کی مدت قیام میں اختلاف کیا اور حق وہی ہے جس کی اس نے تمہیں خبر دے دی۔ نمبر 2۔ اہل کتاب کے کلام کی حکایت ہے۔ اور قل اللہ اعلم سے ان کی تردید فرمائی۔ جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے غار میں مدت قیام کی خبر دی گئی ہے کہ وہ اپنی غار میں اتنی مدت ٹھہرے۔
لَہٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں ہیں) اسی کی ملکیت و تصرف میں ہیں۔ اس آیت میں آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزوں کے علم کا خصوصاً تذکرہ فرمایا اور ان کے اندررہنے والوں کے مخفی احوال کی خبر اسے ہی ہے۔ اَبْصِرْبِہٖ وَاَسْمِعْ وہ عجیب طرح کا سننے اور دیکھنے والا ہے۔ اَسْمِع کے بعد بھی بہٖ مقدر ہے۔ مطلب یہ ہے وہ ہر موجود کو کیا خوب دیکھنے اور ہر مسموع کو کیا خوب سننے والا ہے۔ مَالَہُمْ (اور ان کے لئے نہیں ہے) اہل سمٰوٰت وارض کیلئے مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ (اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی کا رساز) جو ان کے امور کا متولی و ذمہ دار ہو۔ وَّ لَایُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا (اور نہ وہ اپنے حکم میں ان میں سے کسی کو شریک کرتا ہے) حکمہ سے مراد فیصلہ۔ احد ًا سے مراد ان میں سے کسی ایک کو۔
Ayah 18:27قراءت : شامی نے اس کو نہی قرار دیکر لاتشرک پڑھا ہے۔
27: کفار اکثر کہا کرتے ائت بقرٰان غیرھذا او بدلہ ] یونس : 15[ اس کے جواب میں فرمایا۔
کفار کا جواب :
وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ (آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے جو کتاب بذریہ وحی بھیجی گئی آپ وہ پڑھا کریں) کتابؔ سے قرآن مجید مراد ہے اور آپ ان کے اس ہذیان کو مت سنیں۔ کہ اس میں تبدیلی کردیں اس لئے کہ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ (اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں) یعنی کسی کو ان کے اندر تبدیلی کی قدرت نہیں اور نہ ہی ردو بدل کا اختیار ہے اس پر قدرت اسی وحدہ لا شریک کو ہے۔
وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا ( اور تم ہرگز اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائو گے) ملتحدًا کا معنی جائے پناہ جس کی طرف تم مائل ہوسکو اگر تم اس کا قصد کرو۔
Ayah 18:28غیر مسلموں کا مقام :
28: جب کفار کے رئوساء نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان غریب مسلمانوں اور غلاموں کو جیسے صہیب ‘ عمار ‘ خباب وغیرہ کو اپنے پاس سے ہٹائو تو پھر ہم آپ کے پاس بیٹھیں گے تو یہ آیت اتری۔ وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ (اپنے آپ کو قائم رکھو اور جمائے رکھو ان لوگوں کے ساتھ جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں) ان کے ساتھ روک کر رکھو اور اپنے آپ کو مضبوط کر کے رکھو بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ (صبح اور شام میں) جو ہر وقت میں اللہ کو پکارنے کے عادی ہیں نمبر 2۔ صبح کو اللہ سے توفیق اور آسانی مانگتے ہیں اور شام کو اپنی تقصیر ات کی معافی مانگتے ہیں نمبر 3۔ غداۃ سے مراد فجر کی نماز اور عَشِیّ سے عصر کی نماز مراد ہے۔
قراءت : شامی نے غُدوۃٌ پڑھا۔ یُرِیْدُ وْنَ وَجْھَہٗ (وہ صرف اپنے رب کی خوشنودی کو حاصل کرنا چاہتے ہیں) وجہہ بول کر رضائے الٰہی مراد ہے۔ وَلَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْہُمْ (نہ ہٹنے پائیں آپ کی آنکھیں ان سے) یعنی تجاوز نہ کریں۔ عداہ اس وقت بولتے ہیں جب تجاوز کر جائیں یہاں اس کو عن سے متعدی کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں نبأ کے معنی پائے جاتے ہیں جیسا اس قول میں نَبَتَ عَنْہُ عینہٗ
فائدہ : تضمین کا فائدہ یہ ہے کہ دونوں معنوں کا مجموعہ اس میں آگیا اور یہ الگ معنی دینے سے زیادہ قوی ہے۔ تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اس حال میں کہ آپ دنیوی زندگی کی رونق کا خیال کرتے ہوں۔ ) یہ جملہ حال ہے۔ وَلَاتُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا (اور جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا۔ اس کے کہنے پر آپ نہ چلیں) یعنی اس کے دل کو ذکر سے غافل کردیا۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے افعال کا خالق ہے جیسا کہ جمہور اہلسنت کا مسلک ہے۔
وَاتَّبَعَ ھَوٰ ہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا (اور وہ اپنی خواہش پر چلتا ہے۔ اور اس کا حال حد سے گزرا ہوا ہے۔ ) یعنی وہ حق سے تجاوز کرنے والا ہے۔