Ayah 18:69اقرارِ موسوی :
69: قَالَ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآ ئَ اللّٰہُ صَابِرًا (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے) صابر کا معنی انکار اور اعتراض سے اپنے آپ کو روکنے والا۔ وَّلَآ اَعْصِیْ لَکَ اَمْرًا (اور میں آپ کے کسی حکم کے خلاف نہیں کروں گا) ۔
نحو : یہ جملہ محل نصب میں صابرا پر عطف ہونے کیوجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی سَتَجِدُ نِیْ اِلٰی آخرہٖ صابرًا وغیرعاص۔ کہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا اور نافرمانی نہ کرنے والا پائیں گے۔ نمبر 2۔ یا اس کا عطف سَتَجِدُنی پر ہے اور اس صورت میں اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔
Ayah 18:70شرط خضری :
70: قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَـلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ حَتّٰی اُحْدِثَ لَکَ مِنْہُ ذِکْرًا (خضر (علیہ السلام) نے کہا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کے متعلق اس وقت تک نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کے متعلق ابتداء ً ذکر نہ کروں)
قراءت : فَـلَا تَسْئَلْنِیْ اس میں مدنی اور شامی نے لام کا فتحہ اور نون مشدد پڑھا ہے۔ اور دیگر قراء نے لام کا سکون اور نون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یا نسب کے نزدیک قائم رہے گی عن شیء کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے میرے ساتھ چلنے کی شرط یہ ہے کہ جب تم میری طرف سے کوئی انوکھی چیز دیکھو اور تم جانتے ہو کہ وہ صحیح ہے البتہ اس کے صحیح ہونے کی وجہ مخفی ہے۔ اور تم نے اس چیز کو اپنے دل میں اوپرا خیال کیا ہے۔ تو تم اس چیز کے متعلق سوال میں مجھ سے ابتدا نہ کرو اور نہ اس کے بارے میں میری طرف رجوع کرو جب تک کہ میں اس کو تمہارے سامنے نہ کھول دوں یہ درحقیقت عالم کے سامنے متعلم کا ادب ہے اور متبوع کیلئے تابع کا لحاظ ہے۔
Ayah 18:71سفر پر روانگی :
71: فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیْنَۃِ خَرَقَہَا (پس دونوں چل دئیے یہاں تک کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ دیا) یعنی سمندر کے ساحل پر کشتی تلاش کرتے ہوئے چلے جب دونوں سوار ہوگئے تو کشتی والوں نے کہا یہ دونوں چور ہیں کشتی کے مالک نے کہا مجھے تو یہ پیغمبروں کے چہرے لگتے ہیں پس انہوں نے بغیر کرائے کے بٹھا لیا جب وہ بھنور میں پہنچے تو خضر ( علیہ السلام) نے ہتھوڑا لیکر کشتی کو پھاڑ دیا وہ اس طرح کہ پانی کے قریب والے دو تختے اکھاڑ دیئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس پھٹے ہوئے مقام کو اپنے کپڑے سے بند کرنے لگے اور پھر فرمانے لگے۔
موسیٰ ( علیہ السلام) کا سوال :
قَالَ اَخَرَقْتَھَا لِتُغْرِقَ اَھْلَھَا (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تو نے کشتی والوں کو ڈبونے کیلئے کشتی کو پھاڑ دیا)
قراءت : ہمزہ اور علی نے لِیَغْرَقَ اھلھا پڑھا ہے یہ غرق سے ہے۔
لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا (آپ نے بہت بڑی حرکت کی ہے) یعنی آپ نے بڑی سخت حرکت کی ہے۔ امرًا یہ اَمِرَالْاَمْرَ سے لیا گیا ہے۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب معاملہ بہت بڑا ہوجائے۔
Ayah 18:72خضر ( علیہ السلام) کی یاد دہانی :
72: قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا اس نے ( یعنی خضر (علیہ السلام) نے کہا) کیا آپ سے میں نے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے۔
Ayah 18:73یہ بھول ہوئی اس پر مؤاخذہ نہ ہوگا :
73: قَالَ لَا تُؤَا خِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ (کہا آپ اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کریں جو میں بھول گیا تھا) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ پھٹی ہوئی جگہ سے پانی داخل نہیں ہورہا ہے تو کشتی سے باہر نہیں نکل بھاگے۔ مانسیت کا معنی الذی نسیتہٗ وہ جس کو میں بھول گیا یا وہ چیز جس کو میں بھول گیا یا میرے نسیان کے سبب۔ ان کی مراد اس سے وصیت کا بھولنا تھا اور بھولنے والے پر مؤاخذہ نہیں ہے یا پھر نسیان سے ترک مراد ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ آپ کی نصیحت کو پہلی مرتبہ چھوڑنے پر مجھ سے آپ مؤاخذہ نہ کریں۔ وَ لَا تُرْھِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا (اور میرے اس معاملہ میں تنگی مت پیدا کریں) رھقہ اس وقت بولتے ہیں جب کسی چیز کو ڈھانپے یعنی میرے معاملے میں مجھے تنگی سے مت ڈھانپیں اور یہی ان کی اتباع ہے اور اپنی پیروی کو مجھ پر مشکل نہ کیجئے اور چشم پوشی کر کے اور مناقشہ (اعتراض) چھوڑ کر آسانی پیدا کیجئے۔
Ayah 18:7474: فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ (دونوں چل دئیے کہ یہاں تک کہ جب دونوں ایک لڑکے کو ملے تو خضر نے اس کو قتل کردیا) ایک قول یہ ہے کہ اس کے سر کو دیوار پر مارا اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس کو لٹا کر چاقو سے ذبح کردیا۔ نکتہ : آیت میں قتلہ سے پہلے فاء لائی گئی ہے مگر خرقا سے پہلے فاء نہیں کیونکہ خرقا کو تو شرط کی جزاء بنایا گیا اور قتلہٗ کو جملہ شرطیہ بنایا گیا جس پر عطف ہورہا ہے اور جزاء قال اَقَتَلْتَ نَفْسًاہے۔ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا (اس نے کہا کیا تم نے ایک جان کو قتل کردیا) ان دونوں کے درمیان خرق اس لئے لایا گیا کیونکہ کشتی کا پھٹنا سوار ہونے کے فورًا بعد نہیں تھا البتہ لڑکے کا قتل اس کی ملاقات کے فوراً بعد تھا اس لئے ایک پر فاء لائی گئی دوسرے پر نہیں۔
زَکِیَّۃً (پاکیزہ) جو گناہوں سے پاک ہو خواہ اس بنا پر کہ اس کے ہاں وہ پاک تھا کیونکہ اس کو گناہ کرتے اس نے نہ دیکھا تھا یا اس لئے کہ وہ چھوٹی عمر والا تھا۔ اپنی بلوغت کو ہی نہ پہنچا تھا۔
قراءت : حجازی اور ابو عمرو نے زاکیہ پڑھا ہے۔
بِغَیْرِ نَفْسٍ (بغیر کسی نفس کے) یعنی اس نے کسی جان کو قتل نہیں کیا کہ اس سے قصاص لیا جائے۔
نکتہ : حضرت عبدا للہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میری طرف نجدہ حروری خارجی نے لکھا کہ اس کا قتل کیسے جائزتھا جبکہ رسول اللہ ﷺ نے بچوں کے قتل کی ممانعت فرمائی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں میں نے ان کی طرف لکھا کہ اگر تمہیں بھی بچوں کے حالات کا اسی طرح علم ہوجائے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے حاکم کو تھا تو تیرے لئے بھی قتل جائز ہے۔
موسیٰ ( علیہ السلام) تو نے انوکھا کام کردیا :
لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّکْرًا (اور تم نے بلاشبہ ناجائز کام کیا ہے) نکر منکر کام کو کہا جاتا ہے بعض نے کہا کہ یہ نکرا امْرًا سے کم ہوتا ہے کیونکہ ایک جان کو قتل کرنا پوری کشتی کو ڈبونے سے کم ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تو نے ایک ایسا کام کیا ہے جو پہلے سے زیادہ عجیب ہے کیونکہ پھٹی ہوئی چیز کا تدارک بند لگا کر ممکن ہے لیکن قتل کا تدارک ممکن نہیں۔
Ayah 18:75خضر کی یاد دہانی :
75: قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا (اس نے کہا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ رکنے کی طاقت نہیں رکھتا) اس دفعہ خضر نے اپنے کلام میں لک کا اضافہ کیا ہے تاکہ خطاب کے ذریعے معاہدہ کے چھوڑنے پر عتاب کا زیادہ اظہارہو۔
Ayah 18:76موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا اگر اب اعتراض کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھنا :
76: قَالَ اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَیْ ئٍ مبَعْدَ ھَا (موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اگر میں آپ سے اس کے بعد سوال کروں) ھاؔ ضمیر سے مراد یہاں اس مرتبہ کے بعد یا اس مسئلہ کے بعد۔ فَـلَا تُصٰحِبْنِیْ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا (تم مجھے ساتھ نہ رکھنا بیشک تم میری طرف سے عذر کی انتہاء کو پہنچ چکے ہو) یعنی تم میرے اور اپنے درمیان جدائی میں معذور ہو۔
قراءت : مدنی اور ابوبکر نے لَدُنّی کی نون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 18:77تیسرا سفر :
77: فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَآ اَتَیَآ اَھْلَ قَرْیَۃٍ (پھر دونوں پیدل چل دیئے یہاں تک کہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے) بقول ابن عباس وہ انطاکیہ تھی بقول ابن سیرین وہ ایلہ تھی وہ آسمان سے اللہ کی زمین پر سب سے زیادہ دور تھی۔
ان سے کھانا طلب کیا :
ِاِسْتَطْعَمَآ اَھْلَھَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْھُمَا (تو دونوں نے وہاں کے لوگوں سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے میزبانی کرنے سے انکار کردیا ( ضیف کا معنی مہمان بنانا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ بستی والے کمینے لوگ تھے اس روایت کو نسائی نے کبرٰی میں نقل کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ بدترین بستی تھی جنہوں نے مہمانی پر بھی بخل کیا۔ فَوَجَدَا فِیْھَا جِدَارًا (ان دونوں نے اس بستی میں دیوار پائی) اس کی لمبائی سو ہاتھ تھی۔ یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ (وہ گرنا چاہتی تھی) استعارۃ ًارادے کا لفظ گرنے کے قریب ہونے اور جھکنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ جس طرح کہ الہم اور عزم کا لفظ بھی اس کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
فَاَقَامَہٗ (پس اس کو سیدھا کردیا) یعنی اپنے ہاتھ سے یا اس کو اپنے ہاتھ سے چھوا تو وہ سیدھی ہوگئی یا اس کو توڑ کر نئے سرے سے بنایا یہ حالت اضطرار اور کھانے کی چیزوں کی محتاجی کی تھی۔ اور ضرورت نے ان کو آدمی کی اس آخری کمائی کی طرف محتاج کردیا تھا یعنی سوال لیکن انہوں نے کوئی بھی ہمدرد نہ پایا جو غمخواری کرتا اس کے باوجود جب خضر نے دیوار کو سیدھا کردیا تو موسیٰ اپنے اختیار میں نہ رہے کہ ایک طرف شدید ضرورت اور دوسری طرف محرومی اسلئے فرمایا۔
موسیٰ ( علیہ السلام) کا فرمانا کہ اس پر مزدوری لیتے :
قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْہِ اَجْرًا (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر تم چاہتے تو اس پر مزدوری لے لیتے) یعنی اپنے اس عمل پر انعام کا مطالبہ کرتے تاکہ اس سے ضرورت پوری ہوسکتی۔
قراءت : بصری نے لتخذت میں تائ کی تخفیف اور خائؔ کا کسرہ اور ذالؔ کا ادغام پڑھا ہے اور مکی نے ذال کا اظہار اور حفص نے تائؔ کی تشدید اور خاء ؔ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور دیگر قراء نے تاء کی تشدید اور خاء کے فتحہ اور ذال کے تائؔ میں ادغام کے ساتھ پڑھا ہے۔ تاتَخِذَ میں اصل ہے جیسا کہ تبع میں ہے اور اتخذ یہ افتعل کے وزن پر ہے جیسا اتبع تبع سے اس کا اخذؔ سے ذرا بھی تعلق نہیں۔
Ayah 18:78خضر تیری میری جدائی ہے :
78: قَالَ ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَبَیْنِکَ (اس نے کہا یہ میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے) ھٰذا کا مشار الیہ تیسرا سوال ہے یعنی یہ اعتراض جدائی کا سبب ہے۔ اور اصل ؔ اسطرح ہے ھذافراقُ بینی و بینک اور اس کو پڑھا گیا پس مصدر کو ظرف کی طرف مضاف کردیا جیسا کہ مفعول بہٖ کی طرف مضاف کردیا جاتا ہے۔ سَاُ نَبِّئُکَ بِتَاْوِیْلِ مَالَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْہِ صَبْرًا (میں عنقریب تمہیں ان چیزوں کی اندرونی تشریح بتلاتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا) ۔
Ayah 18:79تینوں معاملات کی حقیقت کا انکشاف :
79: اَمَّا السَّفِیْنَۃُ فَکَانَتْ لِمَسٰکِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ (اور کشتی تو چند غریبوں کی تھی جو دریا میں کمائی کرتے تھے) نمبر 1۔ وہ دس بھائی تھے جن میں پانچ اپاہج تھے اور پانچ دریا میں کام کرتے تھے۔ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَھَا (میں نے اس کو عیب دار کرنا چاہا) تاکہ عیب والی بنا دوں۔ وَکَانَ وَرَآئَ ھُمْ مَّلِکٌ (ان سے آگے ایک بادشاہ تھا) نمبر 1۔ وراء کا معنی امام ہے نمبر 2۔ پیچھے۔ ان کی واپسی کے راستہ پر وہ بادشاہ تھا اور ان کو اس کی اطلاع نہ تھی اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو بتلادیا۔ اور اس بادشاہ کا نام جلندی تھا۔
یَّاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا (وہ ہر کشتی کو چھین لیتا تھا) ہرا چھی کشتی کو جس میں عیب نہ ہو وہ چھین لیتا۔ اگر وہ عیب دار ہوتی تو اس کو چھوڑ دیتا۔ غَصْبًا مصدر ہے نمبر 2۔ مفعول لہٗ ہے۔
نکتہ : فاردت ان اعیبھا یہ غصب کے خطرہ کا سبب ہے مناسب یہ تھا کہ سبب کے بعد آتا۔ جواب یہ ہے کہ اس سے مراد تاخیر ہے صرف غایت کو مقدم کیا۔
Ayah 18:8080: وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَآ اَنْ یُّرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا (اور رہا وہ لڑکا تو اس کے ماں باپ ایمان دار تھے ہم کو اندیشہ ہوا کہ یہ ان پر سرکشی اور کفر کا اثرڈال دے) ہمیں خطرہ ہوا کہ وہ مومن والدین کو سرکشی سے ڈھانپ لے اور ان کی نافرمانی کر کے ان کے انعامات کا منکر ہوجائے۔ اور ان سے بدسلوکی کرے جس سے ان کو شر اور مصیبت پہنچے۔
نمبر 2۔ اپنی بیماری ان تک منتقل کر دے۔ نمبر 3۔ اپنی گمراہی سے ان کو گمراہی میں ڈال دے جس سے وہ مرتد ہوجائیں۔ یہ خضر (علیہ السلام) کا کلام ہے خضر کو اس بچے کی طرف سے یہ خطرہ محسوس ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ان کو علم دیا اور اس کے پوشیدہ معاملے کی اطلاع دی اور اگر اس کو قول باری تعالیٰ قراردیا جائے تو خشینا علمنا کے معنی میں ہے ہم نے جانا کہ اگر یہ زندہ رہا تو اپنے والدین کے کفر کا سبب بن جائے گا۔
Ayah 18:8181: فَاَرَدْنَا اَنْ یُّبْدِ لَھُمَا رَبُّھَمَا (پس ہم نے چاہا کہ انکا رب اس کے عوض عنایت فرما دے)
قراءت : مدنی اور ابو عمرو نے یبدلھما پڑھا ہے۔
خَیْرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً (جو پاکیزگی میں اس سے زیادہ بہترہو) طہارت اور گناہوں سے پاکیزگی میں وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا (اور مہربانی اور رحم کرنے کے لحاظ سے بڑا قرب رکھنے والاہو) رحم کا معنی رحمت و شفقت ہے۔
نحو : زکاۃؔ اور رُحمًاؔ ہر دو تمیز ہیں۔
تفسیری روایت ہے ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کی شادی ایک پیغمبر سے ہوئی جس سے ایک پیغمبر کی ولادت ہوئی نمبر 2۔ ستّر پیغمبروں کی پیدائش ہوئی۔ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بدلے میں مومن بیٹا عنایت فرمایا جو انہی جیسا نیک مومن تھا۔
Ayah 18:82قراءت : شامی نے رُحُمًا پڑھا ہے اور یہ دونوں لغات ہیں۔
82: وَاَمَّا الْجِدَارُ فَکَا نَ لِغُلٰمَیْنِ (اور پھر دیوار وہ تو دو بچوں کی تھی) اصرم، اصریم کی تھی۔
یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَۃِ (جو یتیم شہر میں رہتے تھے) یہ اسی بستی کو المدینہ سے تعبیر کیا۔ وَکَانَ تَحْتَہُ کَنْزٌ لَّھُمَا (اور دیوار کے نیچے ان کا خزانہ تھا) یعنی ایک سونے کی تختی تھی جس پر یہ لکھا تھا مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے پھر غمگین ہوتا ہے نمبر 2۔ اس آدمی پر تعجب ہے جو حساب پر ایمان رکھتے ہوئے غافل ہے۔ نمبر 3۔ اس انسان پر تعجب ہے جو رزق پر ایمان رکھتا ہے پھر کس طرح تھکتا اور مشقت اٹھاتا ہے۔ نمبر 4۔ اس انسان پر تعجب ہے جو موت پر یقین رکھنے کے باوجود خوشیاں کر رہا ہے۔ نمبر 5۔ اس انسان پر تعجب ہے جو دنیا کو جانتا ہے اور دنیا والوں کو دنیا کا پلٹنا بھی جانتا ہے مگر پھر بھی دنیا پر مطمئن ہے۔ (لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ) نمبر 2۔ سونا چاندی مدفون تھا۔ نمبر 3۔ صحائف مدفون تھے جن میں علم تھا۔ ان میں سے پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کیلئے کنز حلال تھا مگر ہمارے لئے حرام ہے پہلے لوگوں پر غنیمت حرام تھی وہ ہمارے لئے حلال کردی گئی۔
وَکَانَ اَبُوْھُمَاصَالِحًا (اور ان دونوں کا والد نیک تھا) ۔ ایک قول یہ ہے کہ انکا ساتواں دادا نیک تھا۔ صالحاؔ یعنی ان میں سے ہوگا جو میرا ساتھی بنے گا۔
نکتہ : حسین بن علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک گفتگو میں خارجی کو کہا۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں لڑکوں کی حفاظت کس وجہ سے فرمائی اس نے جواب دیا ان کے والد کی بھلائی و نیکی کی وجہ سے تو حضرت حسین ؓ نے فرمایا پھر میرے والد اور نانا تو اس سے بہت بہتر تھے۔
یہ میں نے اپنے اختیار سے نہیں کئے ‘ کرائے گئے ہیں :
فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَآ اَشُدَّ ھُمَا وَیَسْتَخْرِجَا کَنْزَھُمَا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ وَمَا فَعَلْتُہٗ (پس تیرے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی بھر پور جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا دفینہ نکال لیں اور میں نے یہ سارے کام تیرے رب کی مہربانی سے کئے) اَشُد کا معنی جوانی۔ رحمۃً یہ مفعول لہ ہے نمبر 2۔ ارادربک کا مفعول کیونکہ رحمھماؔ کے معنی میں ہے۔ اور مافعلتہ اور میں نے یہ کام جو تم نے دیکھے۔ عَنْ اَمْرِیْ اپنے اختیار سے نہیں کیے اپنے اجتہاد کی بنیاد پر بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیے۔ ھا ؔ کی ضمیر تمام کی طرف راجع ہے۔ نمبر 2۔ یا دیوار کی طرف۔ ذٰلِکَ کا مشار الیہ تینوں جواب ہیں۔ تَاْ وِیْلُ مَالَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْہِ صَبْرًا (یہ تعبیر ان کی ہے جن پر آپ صبر نہ کرسکے) تائؔ کو تخفیف کے طور پر حذف کیا۔
اعتراض : بعض لوگوں کے قدم اس مسئلہ میں گمراہی کی وجہ سے پھسل گئے کہ انہوں نے ولی کو نبی سے افضل قرار دے دیا حالانکہ یہ کھلا کفر ہے۔ انہوں نے اپنے استدالال کو اس طرح پیش کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر سے علم حاصل کرنے کا حکم دیا حالانکہ وہ ولی ہیں۔
جواب : اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ خضر نبی ہیں۔ اگرچہ وہ اس طرح نہیں جیسا کہ بعض کو گمان ہوا یہ درحقیقت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ابتلاء تھا کہ بقول اہل کتاب کے یہ موسیٰ وہ موسیٰ بن عمران نہیں ہیں۔ بلکہ وہ موسیٰ بن مانان ہیں۔
ولی کیلئے تو ولی بننا بھی ناممکن ہے جب تک وہ نبی پر ایمان نہ لائے پھر یہ کیونکر درست ہوا کہ نبی ولی سے کم ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے طلب علم میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں کیونکہ علم میں اضافہ خود مطلوب ہے۔ اولاً ذکر کیا گیا فاردتؔ کیونکہ وہ ظاہر میں اس چیز کو بگاڑنا ہے اور وہ خضر ہی کا فعل ہے اور تیسری مرتبہ کہا فارادربکؔ کیونکہ یہ محض انعام خدا وندی تھا۔ اور بشر کی قدرت و طاقت میں نہیں تھا اور دوسری مرتبہ فرمایا فاردناؔ کیونکہ وہ فعل کے اعتبار سے بگاڑ نا اور تبدیلی کے اعتبار سے انعام ہے اس لئے جمع متکلم بولدیا۔
قول زجاج (رح) فاردنا کا معنی فاراد اللّٰہ عزوجل اور اس کی امثلہ قرآن میں بہت ہیں۔
Ayah 18:83ذوالقرنین کا واقعہ :
83: وَیَسْئَلُوْنَکَ (اور وہ آپ سے سوال کرتے ہیں) یعنی یہودی بطور امتحان سوال کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ ابو جہل اور اس کے معاونین عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ (ذوالقرنین کے متعلق) یہ وہ سکندر ہے جس نے دنیا پر حکو مت کی۔
دوسرا قول یہ ہے دنیا پر حکومت چار بادشاہوں نے کی دو مسلمان اور دو کافر۔ مسلمان سلیمانؔ نمبر 2۔ اور ذوالقرنین اور دو کافر ہیں۔ نمبر 1۔ نمرود نمبر 2 بخت نصر اور یہ سکندر نمرود کے بعد ہوا ہے ایک قول کے مطابق یہ ایک نیک بندہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر حکمرانی دی اور علم و حکمت سے نوازا اور اندھیرا اور روشنی اس کے مطیع کی۔ جب وہ چلتا تو روشنی اس کے آگے راہنما ہوتی اور اندھیرا پیچھے چھایا رہتا۔ نمبر 2۔ ایک قول کے مطابق یہ پیغمبر ہے۔ نمبر 3۔ ایک اور قول میں اس کو فرشتہ قرار دیا گیا۔
نمبر 4۔ قول علی ؓ : یہ نہ فرشتہ تھا اور نہ نبی مقرب بلکہ ایک صالح بندہ تھا اس کے سرکے دائیں حصہ میں اللہ تعالیٰ کی طاعت کی خاطر ضرب لگائی گئی جس سے وہ مرگیا۔ پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے اٹھایا۔ پھر دوسری مرتبہ اس کے سر کے بائیں جانب ضرب لگائی گئی جس سے اس پر موت واقع ہوگئی اللہ تعالیٰ نے دوبارہ اس کو اٹھایا اسی وجہ سے اس کا لقب ذوالقرنین پڑگیا اور تم میں اس کی مثل موجود ہے اور وہ میں ہوں۔
نمبر 5۔ وہ لوگوں کو توحید کی طرف بلاتا۔ پس لوگ اس کو قتل کردیتے۔ اللہ تعالیٰ دوبارہ اس کو زندہ کردیتا۔حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کو ذوالقرنین اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے دونوں جانب پھرا یعنی مشرق و مغرب۔ نمبر 6۔ اس کے سر پر دو مینڈیاں تھیں۔ دو زلفیں تھیں۔ نمبر 7۔ اس کے زمانہ میں لوگوں کے دو قرن گزرے۔ نمبر 8۔ وہ دو بڑی سلطنتوں روم، فارس کا حکمران بنا۔ نمبر 9۔ ترک و روم پر حکمرانی کی۔ نمبر 10۔ اس کے تاج پر دو سینگ بنے ہوئے تھے۔ نمبر 11۔ اس کے سر کے دونوں کناروں پر سینگ کی طرح دو ابھار تھے۔ نمبر 12۔ وہ نجیب الطرفین تھا اور یہ رومی تھا۔ قُلْ سَاَ تْلُوْاعَلَیْکُمْ مِّنْہُ ذِکْرًا (کہہ دیں میں عنقریب اس کا تذکرہ تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں) منہؔ کی ضمیر ذوالقرنین کی طرف راجع ہے۔
Ayah 18:8484: اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ (بیشک ہم نے اس کو زمین میں ٹھکانہ دیا) اور اس کو اس میں غلبہ اور مرتبہ عنایت فرمایا۔ وَاٰتَیْنٰہُ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ سَبَبًا (اور ہم نے اس کو ہر چیز کے اسباب مہیا فرمائے) کل شیء سے ملک میں جو کچھ تھا اس کے اغراض و مقاصد مراد ہیں۔ سببًا ذریعہ اور راستہ جس سے وہ اپنے مقاصد تک پہنچ سکے۔
Ayah 18:85پہلا سفر مغربی جانب اور اس کے احوال :
85: فَاَتْبَعَ سَبَبًا (وہ ایک راہ پر ہولیا) السبب اس چیزکو کہتے ہیں جس سے مقصود کو پہنچ سکیں خواہ وہ علم ہو یا قدرت اس نے مغرب کی جانب پہنچنے کا ارادہ کیا پس وہ ایک راستہ پر ہولیا۔ جو اس کو مغرب تک پہنچائے یہاں تک کہ وہاں پہنچ گیا اسی طرح اس نے مشرق کا ارادہ کیا اور اس کے اسباب کے پیچھے ہو لیا۔ اور اس نے سدین میں پہنچنے کے لیے اسباب تیار کیے۔
قراءت : کوفی نے ثم اتبع اور شامی نے بھی اسی طرح باقی قراء نے الف کو ملا کر تاؔ ء کی تشدید کے ساتھ اصمعی نے اتبع بمعنی ملنا اتبع پیچھے پڑنا اگرچہ نہ ملے۔
Ayah 18:8686: حَتّٰی اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ (یہاں تک کہ وہ آفتاب کے غروب ہونے کے مقام پر پہنچا) مغرب کی جانب آبادی کے اختتامی مقام تک۔ اسی طرح طلوع میں آبادی کے آخری کنارے تک۔ نبی کریم (علیہ السلام) نے فرمایا اس کے معاملے کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ اس نے کتاب میں لکھا پایا کہ سام کی اولاد میں سے ایک عین حیات کا پانی پی کر ہمیشہ رہے گا۔ پس وہ اس چشمے کی تلاش میں چل دیا۔ خضر اس کے وزیر اور خالہ زاد تھے ‘ وہ پانے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے پانی پی لیا۔ مگر ذوالقرنین کو کامیابی نہ ہوئی۔ وَجَدَھَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ (اس کو سیاہ چشمے میں غروب ہوتا محسوس کیا) حمئۃ سے مراد ذات حماۃ یہ حمئت البئر سے ہے یعنی جب کہ اس میں گار بن جائے۔
قراءت : شامی، کوفی، حفص کے علاوہ نے حَامِیَۃ پڑھا یہ گرم کے معنی میں آتا ہے۔
روایت ابو ذر ؓ : کہ میں آنحضرت ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا۔ آپ نے سورج کو غروب ہوتے دیکھا تو فرمایا۔ اے ابو ذر ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے میں نے عرض کیا اللّٰہ و رسولہ اعلم آپ نے فرمایا وہ گرم چشمے میں ْغروب ہوتا ہے۔ (الدرالمنثور)
واقعہ : ابن عباس ؓ معاویہ ؓ کے پاس تھے معاویہ ؓ نے حامیہ پڑھاتو ابن عباس نے حمئۃ پڑھا اس پر معاویہ نے عبداللہ بن عمرو ؓ کو کہا تم کس طرح پڑھتے ہو۔ انہوں نے کہا جیسا امیر المؤمنین پڑھتے ہیں۔ پھر کعب احبار کی طرف متوجہ ہو کر کہا تم سورج کو کس طرح غروب ہوتا پاتے ہو۔ اس نے کہا پانی اور مٹی میں۔ اسی طرح ہم اس کو تو رات میں پاتے ہیں۔ تو انہوں نے ابن عباس ؓ کی موافقت کی۔ کیونکہ حمئہ کا معنی کیچڑ ہے۔
محاکمہ : مگر ان دونوں میں کوئی منافات نہیں کیونکہ یہ درست ہے کہ چشمہ دونوں اوصاف کو جامع ہو۔
وَّ وَجَدَ عِنْدَ ھَا (اور اس کے پاس پایا) اس چشمے کے پاس قَوْمًا (ایک قوم کو) ننگے۔ انکا لباس شکار کی کھالیں۔ اور انکا کھانا سمندر کی باہر پھینکی ہوئی مچھلی تھا اور وہ کافر تھے۔ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْھِمْ حُسْنًا (ہم نے کہا اے ذوالقرنین تو چاہے تو ان کو سزا دے اور چاہے تو ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کر) اگر وہ پیغمبر تھا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی اور اگر نبی نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے پیغمبر کو وحی کی جس نے اس کو حکم دیا۔ نمبر 2۔ الہام کیا گیا جس میں ان کو قتل کی سزا دینے کی اجازت دی گئی اگر وہ کفر پر اصرار کریں اور ان سے نرم سلوک کریں اور انکا اکرام کریں اور شریعت کے احکام سکھائیں اگر وہ ایمان لے آئیں نمبر 3۔ تعذیب سے مراد قتل اور اتخاذ حسن سے مراد قید کرنا ہے۔ کیونکہ بمقابلہ قتل یہ احسان ہے۔
Ayah 18:8787: قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکْرًا (ذوالقرنین نے کہا جو ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے پھر وہ اپنے رب کی بارگاہ میں لوٹ کر جائے گا وہ اس کو سخت عذاب دیگا) عذابؔ سے قتل مراد ہے۔ یردؔ سے مراد قیامت کی حاضری ہے۔ مطلب یہ ہے وہ شخص جس کو اسلام کی میں دعوت دوں اور وہ ظلم عظیم پر برقرار رہے یعنی شرک پر قائم رہے یہ شخص دونوں جہانوں میں عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
Ayah 18:8888: وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآئَ نِالْحُسْنٰی (اور جو ایمان لے آئے گا اور اچھے کام کرے گا۔ اس کے لئے نیکی کا اچھا بدلہ ملے گا) عمل صالح سے وہ اعمال مراد ہیں جو تقاضائے ایمان کے مطابق ہیں۔ جزاء الحسنی ؔ سے مراد اچھے عمل کا بدلہ ہے جو کہ کلمہ شہادت ہے۔
قراءت : کوفی نے سوائے ابوبکر کے جزاء الحسنی پڑھا ہے۔ یعنی اس کے لئے اچھا عمل بدلہ میں ہے۔
وَسَنَقُوْلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِنَایُسْرًا (اور ہم اپنے برتائو میں اس کے لئے آسان بات کہیں گے) یعنی ذَایُسر آسانی والی۔ مطلب یہ ہے ہم اس کو کسی مشکل اور گراں کام کا حکم نہ دیں گے۔ بلکہ آسان حکم جیسے زکوۃ، خراج وغیرہ۔
Ayahs 18:89–90دوسرا سفر مشرقی جانب اور اس کے احوال :
89، 90: ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا حَتّٰی اِذَ ا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَطْلُعُ عَلٰی قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّھُمْ مِّنْ دُوْنِھَا سِتْرًا (پھر وہ اسباب کے پیچھے لگا۔ یہاں تک کہ وہ مشرقی جانب سورج کے طلوع ہونے کے مقام تک پہنچا تو وہاں اس نے سورج کو ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا کہ ہم نے ان کے لئے سورج سے ورے کوئی روک نہ بنائی تھی) قومؔ سے حبشی مراد ہیں۔ دُوْنِھَا سے سورج سے ورے مراد ہے۔ سَتْرًا سے مراد تعمیرات ہیں کعب کہتے ہیں : ان کی سر زمین میں دیواریں قائم نہ ہوسکتیں تھیں۔ وہاں سرنگیں موجود تھیں۔ جب سورج طلوع ہوتا تو ان سرنگوں میں داخل ہوجاتے۔ اور جب دن بلندہو جاتا تو اپنے کام کاج میں نکل جاتے۔ نمبر 2۔ سِتْر سے لباس مراد ہے۔ مجاہد کہتے ہیں۔ یہ سیاہ فام لوگ کپڑے نہ پہنتے تھے۔ مطلع شمس کے پاس ان کی تعداد تمام لوگوں سے زیادہ ہے۔
Ayah 18:9191: کَذٰلِکَ (ذوالقرنین کا معاملہ اسی طرح رہا) جیسا ہم نے اس کے معاملے کو بڑا کر کے بیان کیا ہے۔ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْہِ خَبْرًا (اس طرح ہم ذوالقرنین کے پاس جو سامان تھا اس کی پوری خبر رکھتے تھے) مَالَدَیْہِ سے لشکر کے آلات حرب و ضرب، اسباب مملکت مراد ہیں۔
نحو : خُبْرًا پر نصب مصدر ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ اَحَطْنَا کا معنی خَبَرْنَاہے ای خَبَرْنَا خَبْرًا۔ نمبر 2۔ طلوع شمس تک پہنچنا اسی طرح ہے جیسا مغرب میں پہنچنا۔ نمبر 3۔ وہ سورج ایک قوم پر اسی طرح طلوع ہوتا تھا جیسا کہ وہ قوم جن پر غروب ہوتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بھی کافر تھے۔ اور انکا حکم بھی تعذیب وبقاء میں پہلے کفار والا تھا۔ اور ایمان والوں کے ساتھ احسان بھی اسی طرح تھا۔
Ayahs 18:92–93تیسرا سفر بجانب شمال اور اس کے احوال :
92، 93: ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًاحَتّٰی اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ (پھر وہ اسباب کے پیچھے لگا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا) سَدَّیْن سے دو پہاڑ مراد ہیں۔ یہ وہ دو پہاڑ ہیں جن کے درمیان سَدِّ ذوالقرنین ہے۔
قراءت : مکی، ابو عمرو اور حفص نے السَّدِیْن سَدًا پڑھا ہے۔ جبکہ حمزہ، علی نے السدین سُدًا پڑھا ہے۔ دیگر قراء نے دونوں ضموں کے ساتھ پڑھا ہے۔ بعض نے کہا جو خلقۃً مسدود ہو وہ مضموم ہوتا ہے۔ اور جس کو بندے بند کردیں وہ مفتوح ہوتا ہے۔
نحو : بینؔ بلغ کا مفعول بہٖ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ جیسا کہ یہ : ھٰذا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِکََ میں اضافت کی وجہ سے مجرور ہے اور لقد تقطع بینکم ] الانعام : 94[ میں مرفوع ہے۔ کیونکہ یہ ان ظروف میں سے ہے جو اسماء اور ظروف دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں۔ سدینؔ والی جگہ مشرقی جانب جہاں ترکوں کا علاقہ ختم ہوتا ہے۔ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمَا (اور اس کو ایک ایسی قوم ملی) سدین کے پیچھے قَوْمًا (یہ ترکی لوگ ہیں) لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ قَوْلًا (جو تقریبًا کوئی بات بھی نہ سمجھتی تھی) یعنی بات کو بڑی جہد و مشقت سے سمجھتے تھے جیسے اشارہ کنایہ سے۔
قراءت : حمزہ و علی نے یُفْقَھُوْنَ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے وہ سامع کو اپنا کلام نہ سمجھا سکتے اور نہ وضاحت کرسکتے کیونکہ ان کی لغت وبولی نامانوس و مجہول تھی۔
Ayah 18:94تذکرہ یاجوج ماجوج :
94: قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْ جُوْجَ (کہنے لگے اے ذوالقرنین بیشک یا جوج اور ماجوج) ۔
نحو و قراءت : یہ دو عجمی نام ہیں۔ کیونکہ غیر منصرف استعمال ہوتے ہیں۔ فقط عاصم نے ان کو ہمزہ سے پڑھا ہے۔ نمبر 1۔ یہ دونوں اولاد یا فث سے ہیں۔ نمبر 2۔ یاجوج ترکوں سے ہیں اور ماجوج، جیل اور دیلم سے ہیں۔ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ (وہ زمین میں فساد پیدا کرنے والے ہیں۔ ) ایک قول یہ ہے کہ انسانوں کو کھاتے تھے۔ دوسرا قول یہ موسم ربیع میں نکلتے کوئی سبزہ پاتے اس کو کھا جاتے اور خشک کو اٹھا کرلے جاتے اور انکا کوئی آدمی اسوقت تک نہ مرتا جب تک اپنی پشت میں سے ایک ہزار مذکرنسل نہ دیکھتا۔ تمام مسلح رہتے تھے۔
تیسرا قول یہ ہے ان کی دو قسمیں ہیں۔ جو لمبے ہیں وہ انتہائی لمبے ہیں اور نمبر 2۔ جو چھوٹے ہیں وہ انتہائی چھوٹے ہیں۔ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا (کیا ہم تمہارے لئے خراج مقرر کردیں)
قراءت : حمزہ، علی نے خرجاً کو خراجًا پڑھا ہے۔ یعنی انعام و عطیہ جس کو ہم اپنے اموال میں مقرر کرلیں۔ اس کی نظیر النول اور النوال دونوں طرح مستعمل ہے۔ عَلٰٓی اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا (اس شرط پر کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان دیوارقائم کر دے)
Ayah 18:9595: قَالَ مَامَکَنِّیْ (اس نے کہا جس مال میں مجھے اختیار دیا)
قراءت : یہ ادغام کے ساتھ ہے۔ مکی نے فکِ ادغام سے پڑھا ہے۔ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌ (میرے رب نے وہ بہت بہتر ہے) جس مال میں مجھے ذمہ دار بنایا ہے۔ اور جو وسعت مالی اس نے دے رکھی ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو تم مجھے بطور خراج دو گے مجھے اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ ( تم افراد قوت سے میری اعانت کرو) عمل اور کاریگروں سے جو اچھی تعمیر کرسکتے ہوں۔ اور کام اور آلات۔ اَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ رَدْمًا (میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک دیوار قائم کردیتا ہوں) ۔ ردمؔ دیوار نمبر 2۔ ایسی روک جو پختہ اور مضبوط ہو۔ الردمؔ یہ سدّ سے بڑی دیوار کو کہتے ہیں۔
Ayah 18:9696: اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ (تم میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لائو) الزبرۃؔ لوہے کا بڑا ٹکڑا۔ نمبر 1۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے کھدائی کی یہاں تک کہ پانی تک پہنچ گیا۔ اور بنیاد میں چٹانیں ڈالیں۔ اور پگھلا ہوا تانبا اور لوہے کے ٹکڑوں کی دیوار کے درمیان لکڑی اور کوئلہ رکھا۔ یہاں تک کہ جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی درے کو بھر کر ان پہاڑوں سے بلند کردیا۔ پھر پھونکنے والے آلات لگائے اور آگ نے لکڑی اور کوئلے کی مدد سے لوہے کو آگ کی طرح گرم کردیا۔ تو گرم لوہے پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دیا گیا جو سوراخوں اور رخنوں میں پیوست ہوتا چلا گیا۔ اور وہ لوہے کے ٹکڑے ایک دوسرے سے پیوست ہوگئے یہ مضبوط پہاڑ کی طرح بن گیا دوسرا قول یہ ہے کہ سدین کے درمیانی فاصلہ کی مقدار سو فرسخ ہے۔ واللہ اعلم۔
حَتّٰی اِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ (یہاں تک کہ جب درے ملاتے ملاتے دونوں سروں کو برابر کردیا) صَدَفین کو دونوں فتحوں سے پڑھا گیا ہے۔ مراد اس سے پہاڑوں کی جانبین ہیں۔ کیونکہ وہ پہاڑ آپس میں متقابل تھے۔
قراءت : مکی و بصری و شامی نے الصُدُفَین پڑھا۔ اور ابوبکر نے الصُدْفَیْن۔ قَالَ انْفُخُوْا (اس نے کہا دھونکنا شروع کرو) یعنی ذوالقرنین نے عملہ کو کہا لوہے پر پھونک لگائو۔
حَتّٰی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا (یہاں تک کہ جب اس کو آگ کی طرح کردیا) لوہے کو آگ کی طرح سرخ کردیا۔ قَالَ ٰاتُوْنِیْ (اس نے کہا تم میرے پاس لائو) تم مجھے دو ۔ اُفْرِغْ (میں اس پر انڈیل دوں) عَلَیْہِ قِطْرًا (پگھلا ہوا تانبا) کیونکہ وہ قطرات کی صورت میں گرتا ہے۔ قطرًاؔ یہ افرغؔ کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ٰاتُوْنِی قطرًا اُفْرِغ علیہ قطرًا اول کو حذف کردیا کیونکہ ثانی اس پر دلالت کر رہا تھا۔
قراءت : حمزہ نے قال ائتونی کو وصل سے پڑھا جب اس سے ابتداء کریں تو الف مکسور ہوگا۔ اس کا معنی لانا ہے۔
Ayah 18:9797: فَمَا اسْطَاعُوْا (پس نہ ان کو طاقت رہی) تاءؔ کو تخفیف کیلئے حذف کردیا کیونکہ تاءؔ اور طاءؔ کا مخرج قریب ہے۔ اَنْ یَّظْھَرُوْہُ (کہ وہ اس پر چڑھ سکیں) وہ دیوار کی بلندی پر چڑھیں۔ وَ مَااسْتَطَاعُوْا لَہٗ نَقْبًا ( اور نہ اس میں نقب لگا سکیں) اس پر چڑھنے کیلئے ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اور نہ اس میں سوراخ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ انتہائی مضبوط ہے۔
Ayah 18:9898: قَالَ ھٰذَا رَحْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّیْ (اس نے کہا یہ میرے رب کی مہربانی ہے) یہ دیوار میرے اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور اس کے بندوں پر رحمت ہے۔ نمبر 2۔ یہ برابر دیوار بنانے کی قدرت و طاقت یہ میرے رب کی مہربانی ہے۔ فَاِذَا جَآ ئَ وَعْدُ رَبِّیْ (جب میرے رب کا وعدہ آئے گا) جب قیامت کا دن آئے گا اور آنے کے قریب ہوگا۔ جَعَلَہٗ (وہ اس کو کر دے گا) اس دیوار کو دَکًّا (گرنے والا) زمین بوس، کوٹ کر زمین پر پھیلا ہوا۔ ہر وہ چیز جو بلندی کے بعد پھیل جائے اس کو عرب اندک سے تعبیر کرتے ہیں۔
قراءت : دکاء کوفی نے پڑھا یعنی برابر زمین۔
وَکَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّا (اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے) یہ سکندر کی آخری بات ہے۔
Ayah 18:99مرحلہ قیامت کی ابتداء :
99: وَتَرَکْنَا (اور ہم نے کردیا) بَعْضَھُمْ (بعض مخلوق کو) یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ (کہ وہ گڈ مڈ ہوجائیں گے) فِیْ بَعْضٍ (ایک دوسرے میں) یعنی وہ مضطرب ہونگے اور انسان اور جنات حیرانی سے گڈ مڈ ہوجائیں گے۔ نمبر 2۔ یہ بھی جائز ہے کہ ضمیریا جوج ماجوج کی طرف ہو کہ وہ اس وقت موجیں مارنے والے ہونگے۔ جب دیوار کے پیچھے سے نکلیں گے شہروں میں ہجوم کردیں گے۔
روایت تفسیر میں ہے کہ وہ سمندر پر آئیں گے تو اس کے پانی کو پی جائیں گے اور اس کے جانداروں کو کھا جائیں گے پھر درختوں کو اور جو انسان ان کے ہاتھ آئے۔ مگر وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ اور اسی طرح بیت المقدس میں۔ پھر اللہ تعالیٰ اونٹ و بکریوں کے ناک میں پایا جانے والا کیڑا ان کی گردنوں میں پیدا کردیں گے۔ وہ ان کے کانوں میں گھس جائے گا جس سے سب مرجائیں گے۔ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ (اور صور میں پھونک مار دی جائے گی) قیامت کیلئے اٹھنے کی خاطر۔ فَجَمَعْنٰھُمْ (پس ہم ان کو اکٹھا کریں گے) یعنی مخلوق کو ثواب و عقاب کیلئے جمع کیا جائیگا۔ جَمْعًا جمع کرنا یہ ماقبل کی تاکید ہے۔
Ayah 18:100جہنم سامنے :
100: وَّعَرَضْنَا جَھَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکٰفِرِیْنَ عَرْضًا (اور اس دن جہنم کو کافروں کے بالکل سامنے کردیا جائے گا) ان کے سامنے ظاہر کردیں گے وہ اس کو دیکھیں گے اور اس کا مشاہدہ کریں گے۔
Ayah 18:101101: اَلَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآ ئٍ عَنْ ذِکْرِیْ (وہ لوگ جن کی آنکھوں پر میری یاد کی طرف سے پردہ پڑا ہوا تھا) نمبر 1۔ میری وہ آیات جن کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے لئے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا۔ نمبر 2۔ قرآن کہ اس کا تذکرہ تعظیم سے کرتے نمبر 3۔ قرآن کے متعلق کہ وہ اس کے معانی پر غور کرتے۔ وَکَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا (وہ سننے کی طاقت نہ رکھتے تھے) یعنی وہ بہرے تھے۔ یہ الفاظ اصمؔ کی بجائے زیادہ بلیغ ہیں کیونکہ بہرے کو زور سے آواز دیں تو وہ سن پاتا ہے۔ اور یہ لوگ تو اس طرح تھے کہ گویا ان کے کان بہرے کردیئے گئے ان میں سرے سے سننے کی قوت مفقود ہوچکی۔
Ayah 18:102بندوں کو کارساز بنانے والے کافر ہیں :
102: اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْ اَوْلِیَآ ئَ (کیا پھر بھی ان کافروں کا خیال ہے کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں) یعنی کفار نے میرے بندوں کو گمان کرلیا۔ یعنی عبادی سے عیسیٰ (علیہ السلام) اور کفار مراد ہیں۔ کارساز بنانا جو ان کو فائدہ دیگا ؟ یہ بدترین گمان ہے جو انہوں نے کیا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے اَنْؔ اپنے صلہ کے ساتھ مل کر افحسب کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ اور عِبَادِیْ اَوْلِیَاء یہ دونوں اَنْ یَتَّخِذُوْا ؔ کے مفعول ہیں۔ اور یہ وجہ بہت اعلیٰ ہے مطلب یہ ہے وہ بندے ان کے کارساز نہیں ہیں۔ میرے بندوں کو کارساز بنانے والا گمان کفار کا گمان ہے وہ کارساز نہیں ہیں : اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلًا (بےشک ہم نے جہنم کو کافروں کی مہمانی کیلئے تیار کیا ہے۔ نُزُل اس چیز کو کہا جاتا ہے جو مہمان کیلئے بنائی جائے۔ اور اس کی مثال دوسری آیت میں ہے : فبشرھم بعذاب الیم ] آل عمران : 21[
Ayah 18:103سب سے زیادہ گھاٹے والے کافر ہیں :
103: قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا (کہہ دیں کیا ہم بتلائیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون ہے) اعمالاًؔ یہ تمیز ہے اور اس کو جمع لائے حالانکہ قیاس کا تقاضہ مفرد تھا کیونکہ لوگوں کی خواہشات متنوع اور قسم قسم کی ہیں۔ نمبر 1۔ اس سے مراد اہل کتاب ہیں نمبر 2۔ رمضان ہے۔
Ayah 18:104104: اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ (وہ لوگ جن کی کی ہوئی تمام کوششیں اکارت گئیں) ضائع اور باطل ہوگئیں وہ محل رفع میں ہے۔ ای ھم الذینَ ۔ فِی الْحَیٰوۃِالدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (دنیا کی زندگی میں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ ان کو کارکردگی کا بہترین بدلہ ملے گا)
Ayah 18:105105: اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَلِقَآ ئِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَـلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا (یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کیا پس اس لئے ان کے تمام اعمال ضائع ہوگئے قیامت کے دن
ہم ان کے نیک اعمال کا ذرا بھی وزن قائم نہیں کرینگے) یعنی ہمارے ہاں انکا کوئی وزن یا قدر نہ ہوگی۔
Ayah 18:106106: ذٰلِکَ جَزَآ ؤُھُمْ جَھَنَّمُ (ان کی یہ سزا یعنی دوزخ ہوگی) جہنم یہ جَزَائُ ھم کا عطف بیان ہے۔ بِمَا کَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْا اٰیٰـتِیْ وَرُسُلِیْ ھُزُوًا (اس سبب سے کہ انہوں نے کفر کیا تھا اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایا تھا) یعنی ان کی جہنم والی سزا ان کے کفر کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزاء کے نتیجے میں ہے۔
Ayahs 18:107–108مومن اور فردوس کی ضیافت :
107، 108: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَایَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلًا (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغ ہونگے وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ہٹنا نہ چاہیں گے) خلِدِیْنَ فِیْھَا یہ حال ہے اور حِوَلًا کا معنی کسی دوسرے کی طرف منتقل ہونا یعنی اس عطیے پر وہ خوش ہو کر ایسا نہ چاہیں گے۔ عرب کے ہاں محاورہ ہے : حَال مِنْ مَکَانِہٖ حِوَلًا یعنی اس پر کوئی اضافہ نہیں یہاں تک کہ ان کے نفسوں نے ان سے تنازع کیا کہ وہ اپنی اغراض اور تمنائوں کو جمع کرلیں۔ یہ انتہائی تعریف ہے کیونکہ انسان دنیا میں جس نعمت میں بھی ہو وہ اس سے بہتر کا طالب اور خواہش مند ہوتا ہے۔ یا مراد اس سے پھرنے کی نفی اور خلود کی تاکید ہے۔