Ayah 18:29قبولِ حق میں اختیار البتہ کافر کا انجام برا اور مومن کا بہت خوب ہے :
29: وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ (اور کہہ دیں کہ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے ہے) حق سے مراد اسلام یا قرآن ہے۔
نحو : الحق کا لفظ ہو مبتدا محذوف کی خبر ہے۔
فَمَنْ شَآ ئَ فَلْیُؤْ مِنْ وَّمَنْ شَآ ئَ فَلْیَکْفُرْ (اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کافر رہے) یعنی حق آگیا اور رکاوٹیں دور ہوگئیں اب صرف تمہارے نفسوں کا اختیار باقی ہے نجات کا راستہ تم اختیار کرنا چاہتے ہو یا ہلاکت کے راستے پر چلتے ہو یہاں لفظ امر کا لایا گیا جو کہ یہاں تخییل کے لئے ہے کیونکہ جب اس نے انسان کو یہ قدرت دے دی کہ ان میں سے جس کو چاہے
اختیار کرلے تو گویا بندہ مختار ہوا اور اس بات پر مامور ہوا کہ دونوں راستوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرے پھر اختیار کرنے والے کی جزاء کو بھی ذکر کردیا فرمایا۔
اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ (بیشک ہم نے ظالموں کیلئے تیار کررکھا ہے) اعتداء سے مراد تیار کرنا اور ظالم سے کافر مراد ہیں پس سیاق سے اس بات کو مقید کیا (جس طرح کہ حقیقت امر اور تخییر کو سیاق کیوجہ سے چھوڑ دیا) اور وہ یہ آیت ہے انا اعتدنا للظالمین نَارًا اَحَاطَ بِھِمْ سُرَادِقُھَا (ایسی آگ کہ جس کی قناتیں ان کو گھیر لیں گی) اس آیت میں ان کو گھیرنے والی آگ کو سرادق سے تشبیہ دی سرادق اس حجرے کو کہا جاتا ہے۔ جو خیمے کے اردگرد ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ یا سرادق سے مراد وہ دھواں ہے۔ جو کفار کے آگ میں داخل ہونے سے قبل ان کو گھیرے گا۔ نمبر 3۔ یا آگ کی وہ دیوار جو ان کے چاروں طرف چھا جائے گی۔
وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا (اور اگر وہ پانی مانگیں گے) شدت پیاس کی وجہ سے یُغَاثُوْا بِمَآ ئٍ کَالْمُہْلِ (تو ان کو ایسا پانی دیا جائے گا جو مہل کی طرح ہوگا) المہل زیتون کے تیل کی میل کو کہتے ہیں نمبر 2۔ زمین کے جواہرات کو پگھلانے سے جو میل نکلتی ہے اس میں ان کا مذاق اڑایا گیا۔ یَشْوِی الْوُجُوْہَ (جو چہروں کو بھون ڈالے گا) جب ان کے سامنے پینے کے لئے پیش کیا جائے گا تو اس کی حرارت سے چہرے بھن جائیں گے۔ بِئْسَ الشَّرَابُ (وہ بدترین مشروب ہے) وَ سَآ ئَ تْ مُرْتَفَقًا (اور وہ آگ بری آرام گاہ ہے) مرتفق کا معنی ٹھکانہ یہ المرفق سے بنا ہے یہ اس قول کے ہمشکل ہے وَحَسُنَتْ مرتفقا ] الکہف : 31[ باقی جہنم والوں کیلئے آرام گاہ ہے ہی نہیں۔
Ayahs 18:30–3130، 31: اب ان لوگوں کے بدلہ کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے ایمان کو چنا پس فرمایا اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَانُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا اُولٰٓپکَ لَھُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ہم انکا اجر ضائع نہ کریں گے۔ جنہوں نے اچھی طرح کام کیے ایسے لوگوں کیلئے ہمیشہ رہنے کے باغات ہونگے) یہ جملہ مستانفہ ہے اس میں اجر مبہم کو بیان فرمایا۔
نحو : انا لانُضِیْعُاور اُولٰئِکَدونوں کو اکٹھی خبریں بنایا جائے۔ مطلب یہ ہے جو ان میں سے اچھے عمل والے ہیں جیسا کہ کہتے ہیں السمن منوان بدرھم۔ نمبر 2۔ کیونکہ من احسن عملاً اور الذین امنوا وعملوا الصالحات دونوں کو ایک معنی اپنے اندر پرونے والا ہے۔ اس لئے من احسنؔ کی بجائے ضمیر لائے۔
تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ (جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہاں اہل جنت کو سونے کے کنگنوں کا زیور پہنایا جائے گا)
نحو : من ابتدائیہ ہے اور اَسَاوِرَ کو جو جمع اَسْوِرَۃٌ کی ہے۔ اور وہ سوار کی جمع ہے کو نکرہ لائے کیونکہ اَحْسَنَ میں انکا معاملہ مبہم ہے مِنْ ذَھَبٍ میں منؔ تبیین کیلئے ہے۔
وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ (وہ سبز رنگ، باریک ریشم کے کپڑے) سندسؔ بمعنی باریک ریشموَّ اِسْتَبْرَقٍ (اور موٹا ریشم) دونوں اقسام کو جمع کرنے والے ہونگے مُّتَّکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَآ ئِکِ (اور مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے) اتکاء کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا کیونکہ یہ خوش حال لوگوں اور بادشاہوں کی ہیئت ہے کہ وہ اونچے تختوں پر تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں۔ نِعْمَ الثَّوَابُ (کیا خوب صلہ ہوگا) یعنی جنت وَحَسُنَتْ (اور بہت خوب ہے) جنت اور مسہریاں مُرْتَفَقًا (آرام گاہ ہونے کے لحاظ سے) تکیہ گاہ ہونے کے اعتبار سے۔
Ayah 18:32اچھے برے انجام کی مثال کیلئے دو بھائیوں کا واقعہ :
32: وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَـلًا رَّجُلَیْنِ (اور آپ ان کے سامنے ان دو آدمیوں کا حال بیان کریں) کفار اور مؤمنین کے حال کی مثال بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کی ہے جو بھائی تھے ایک ان میں کافر جس کا نام قطر وس تھا۔ اور دوسرا مسلمان جس کا نام یہودا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وہ دو آدمی ہیں جن کا تذکرہ سورة الصافات کی اس آیت میں ہے۔ قال قائل منہم انی کان لی قرین ] الصّافات : 51[
ان دونوں کو باپ کی وراثت میں آٹھ ہزار دینار ملے۔ انہوں نے اس کے دو حصے کئے۔ کافر نے ایک ہزار کی زمین خریدی مومن نے کہا اے اللہ میرے بھائی نے ایک ہزار دینار کی زمین دنیا میں لی ہے۔ میں ایک ہزار دینار کی زمین جنت سے خریدتا ہوں۔ اس نے وہ صدقہ کردیے پھر اس کے بھائی نے ایک ہزار میں کوٹھی تعمیر کی تو دوسرے نے کہا اے اللہ میں ایک ہزار دینار کے بدلہ جنت کا مکان خریدتا ہوں۔ وہ بھی صدقہ کردیئے۔ اس کے کافر بھائی نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے شادی کی۔ تو مسلمان نے کہا اے اللہ میں ایک ہزار کو جنت کی حور کا مہر بناتا ہوں (اس کو صدقہ کردیا) پھر اس کے کافر بھائی نے ایک ہزار دینار میں گھر کا سامان و اثاثہ اور خدام خریدے۔ تو اس مسلمان نے کہا اے اللہ میں نے جنت کے دو ولدان تجھ سے خرید لیے۔ اور ان کو بھی صدقہ کردیا۔ پھر اس مسلمان کو کوئی ضرورت پیش آئی تو بھائی کے راستہ میں بیٹھ گیا وہ اپنے نوکروں چاکروں کے ساتھ گزرا۔ وہ اس کے سامنے آیا اس نے دور بھگا دیا اس کو مال صدقہ کردینے پر ڈانٹ ڈپٹ کی۔
جَعَلْنَا لِاَ حَدِھِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ (ان دو شخصوں میں سے ایک کیلئے ہم نے انگور کے دو باغ دیئے) انگوروں کی بیلوں کے دو باغ وَّحَفَفْنٰـھُمَا بِنَخْلٍ (اور ہم نے ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنا رکھا تھا) ان دونوں باغوں کے اردگرد کھجور کے درخت تھے۔ انگوروں کی بیلوں والے اس بات کو زیادہ پسند کرتے ہیں کہ پھل دار درخت باڑ کے طور پر لگے ہوں کہا جاتا ہے حفوہ جبکہ وہ اس کے گردا گرد لگائیں اور حففتہٗ بہم ای جعلتھم حافین حولہ میں نے ان کو اس کے گرد گھیرا لگانے والا کردیا۔ یہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ اور باؔ اس میں دوسرے مفعول کا اضافہ کردیتی ہے۔
وَّ جَعَلْنَا بَیْنَہُمَا زَرْعًا (اور ان دونوں کے درمیان کھیتی پیدا کردی) درمیان والی زمین کو ہم نے فروٹ و خوراک کا جامع بنادیا۔ تعمیر کی تعریف اس طرح فرمائی کہ وہ آپس میں جال کی طرح ملی ہوئی متصل ہے۔ کوئی چیز ایسی درمیان میں نہیں جو اس کو منقطع کرے اور اس پر اضافہ یہ کہ شکل بھی خوبصورت اور ترتیب بھی عمدہ۔
Ayah 18:3333: کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ ٰاتَتْ (یہ دونوں باغ دیتے تھے) دیتے۔ اٰتَتْ لفظ پر محمول کیا کیونکہ کِلتَا لفظ مفرد ہے۔ اگر آتتامعنی کا لحاظ کر کے کہا جاتاتو جائز ہوتا۔ اُکُلَھَا (اس کا پھل) وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْہُ (کسی کی پیداوار میں ذرا بھی کمی نہ تھی) اور اس کے پھل میں کمی نہ ہوتی تھی۔ شَیئًا وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَھُمَا نَھَرًا (کچھ بھی اور ہم نے چلا دی ان دونوں باغوں کے اندر ایک نہر) ان دونوں باغوں کی تعریف پورا پھل دینے اور تمام پھل بغیر کسی کمی کے آتا۔ پھر غلہ کی اصل اور بنیاد جس سے وہ سیراب ہوتا اس کا ذکر کیا۔ اور نہر جاری کو افضل ترین ذریعہ سیرابی کا قرار دیا۔
Ayah 18:3434: وَّکَانَ لَہٗ (اور اس کیلئے) یعنی باغ والے کیلئے ثَمَرٌَ (مالداری کا ذریعہ) انواع و اقسام کا مال یہ ثمر مالہ کہا جاتا ہے جبکہ اس کو بڑھائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں باغوں کے مالک کے پاس بہت سا مال سونا، چاندی وغیرہ کی قسم میں سے تھا۔
قراءت : لہ ثمر وَاُحِیْطُ بِثَمَرِہٖ عاصم نے فتحہ ثاومیم سے پڑھا۔ اور ابو عمرو نے ثاؔ کے ضمہ اور سکون میم کے ساتھ۔ اور دیگر قراء نے ثاومیم ہر دو کے ضمہ کے ساتھ پڑھا۔
امیر کا قول :
فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَھُوَ یُحَاوِرُہٗ (اس نے اپنے ساتھی کو کہا اس حال میں کہ وہ اس سے گفتگو کررہا تھا) یُحَاوِرُ کا معنی بات کو لوٹانا۔ یہ حَارَ یَحُوْرُ سے ہے۔ جبکہ وہ لوٹے۔ قطر وس نے اپنے مسلمان بھائی کا ہاتھ پکڑا اور دونوں باغوں میں اس کو پھرانے لگا۔ تاکہ وہ باغ اس کو دکھائے۔ اور اس کی بجائے مال سے جس چیز کا وہ مالک ہوا ہے اس پر فخر کا اظہار کرے۔
اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَّ اَعَزُّنَفَرًا (مال اور خشم و خدم اور معاونین کے اعتبار سے) یا نمبر 2۔ مذکر اولاد کے اعتبار سے زیادہ ہوں کیونکہ ان کے ساتھ جتھا بنتا ہے۔ نہ کہ عورتوں کے ساتھ۔
Ayah 18:3535: وَدَخَلَ جَنَّتَہٗ (وہ اپنے باغ میں پہنچا) دونوں میں سے ایک باغ میں نمبر 2۔ دونوں کو ایک کہا کیونکہ دونوں کی بیرونی دیوار ایک تھی۔ اور دو اس لئے کہا کیونکہ ان کے مابین نہر جاری تھی۔ وَھُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ (اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا تھا) اپنے نفس کو کفر کا نقصان پہنچانے والا تھا۔ قَالَ مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ ھٰذِہٖ ٓ اَبَدًا (میں خیال نہیں کرتا کہ یہ کبھی تباہ ہوگا) کہ یہ باغ برباد ہو۔ اس کو اپنے باغ کی بربادی میں شک اس لئے پیدا ہوا کیونکہ اس کی امید لمبی اور غفلت طویل و دراز تھی اور مہلت کی وجہ سے وہ دھو کے میں پڑا ہوا تھا۔ آج کے زمانہ کے اکثر مسلمان مالداروں کو بھی تم دیکھو گے کہ اس قسم کی گفتگو ان کی زبانوں پر ہوتی ہے۔ (اللّٰھم احفظ السنتنا من ہذہ الخرافات)
Ayah 18:36انکارِ قیامت :
36: وَّمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً (اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہونے والی ہے) یعنی واقع ہونے والی ہے۔ وَّ لَپنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْہَا مُنْقَلَبًا (اور اگر بالفرض مجھے لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہی پڑا تو اس سے بہتر نتیجہ وہاں ضرور ضرور ملے گا) اس میں اس نے قسم اٹھائی ہے کہ اگر بالفرض والتقدیر اپنے رب کی طرف میں لوٹایا گیا جیسا کہ میرا بھائی گمان کرتا ہے تو وہ آخرت میں دنیا کے باغ سے بھی بہتر باغ وہاں پائے گا۔ اس آیت میں اپنے دوسرے بھائی پر عزت افزائی کا دعوٰی اور اونچے مرتبے کا ذکر ہے۔ مُنْقَلَبًا یہ تمیز ہے اس کا معنی انجام اور لوٹنے کی جگہ۔
Ayah 18:37دوسرے کا جواب :
37: قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَھُوَ یُحَاوِرُہٗ اَکَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَکَ مِنْ تُرَابٍ (اس کے ساتھی نے اس کو کہا جبکہ وہ اس سے گفتگو کر رہا تھے۔ کیا تو اس ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا) تیرے اصل کو مٹی سے بنایا۔ کیونکہ اس کے اصل کا پیدا کرنا یہ اس کے پیدا ہونے کا سبب ہے اور اس سبب کا بنانا خود اسی کا بنانا ہوا۔
ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ (پھر نطفہ سے) تمہیں نطفہ سے بنایا۔ ثُمَّ سَوّٰکَ رَجُلًا (پھر تمہیں ٹھیک مرد بنادیا) برابر کیا اور تمہیں مکمل انسان، مذکر، جوانی کو پہنچنے والا بنایا۔ اس کو اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والا اس لئے شمار کیا کیونکہ اس نے بعث کا انکار کردیا تھا۔
Ayah 18:3838: لٰکِنَّا۔ (لیکن میری بات تو یہ ہے) قراءت : وصل میں الف کے ساتھ شامی نے پڑھا۔ باقی قراء نے بلا الف پڑھا۔ اور الف کے ساتھ وقف کی حالت میں تمام قراء کا اتفاق ہے۔ اس کی اصل لٰکِنْ اَنَا ہے۔ ہمزہ کو حذف کیا اس کی حرکت لٰکِنْ کے نون پر ڈال دی گئی۔ دو نون ملے پہلی کو دوسری میں ساکن کرنے کے بعد ادغام کردیا۔
ھُوَ اللّٰہُ رَبِّیْ (وہی اللہ میرا رب ہے) ہو ضمیر شان ہے تقدیر عبارت یہ ہے الشان اَللّٰہ رَبِّیْ اور پورا جملہ اَناؔ کی خبر ہے۔ اور یاءؔ ضمیر اس کی طرف لوٹنے والی ہے۔ اکفرتکا استدراک ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے قال لا خیہ انت کافر باللّٰہ لکنی مومن موحّد اس نے اپنے بھائی کو کہا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔ لیکن میں مومن موحد ہوں۔ جیسا کہتے ہیں زید غائب لکن عمرًوا حاضر اس میں حذف ہے ای اقول ھو اللّٰہ اور اس کی دلیل ولا اشرک بربی احدًا کا عطف ہے۔ وَلَآ اُشْرِکُ بِرَبِّیْ اَحَدًا (اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا)
Ayah 18:3939: وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَاشَآ ئَ اللّٰہُ (جب تم باغ میں داخل ہوئے تھے تو تم نے کیوں ماشاء اللّٰہ لا قوۃ الا باللّٰہ نہیں کہا)
نحو : لو لا ھَلاَّ کے معنی میں ہے۔ ماشاءؔ کا ماؔ موصولہ ہے اور مبتدا محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اَلْاَمْرُ مَاشَائَ ۔ نمبر 2۔ ماؔ شرطیہ ہے اور موقع کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور جز اء محذوف ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے ای شیء شاء اللّٰہ کان۔ جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں ہوجاتی ہے۔
اب مطلب یہ ہوا تم نے باغ میں داخلے کے وقت اور جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق دیا اس کو دیکھ کر ماشاء اللہ والی بات کیوں نہ کہی جس سے یہ اعتراف ہوتا کہ یہ باغ اور جو کچھ اس میں ہے وہ تمام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے میسر ہوا ہے اور اس کا معاملہ اب بھی اس کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ اگر چاہے اس کو آباد رہنے دے اور اگر چاہے اس کو برباد کردے۔
لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ (نہیں ہے قوت مگر اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ) یہ اقرار کرتے ہوئے کہ اس کی تعمیر و آبادی اور تمام ترتدابیر اس کی اعانت سے میسرہوئی ہے۔ اور اس کی تائید میں شامل حال ہے۔
اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْکَ مَالًا (اگر تو دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال و اولاد میں کم ہوں)
قراءت و نحو :
جنہوں نے اقَلَّ کو منصوب پڑھا انہوں نے اَنَا کو فاصل قرار دیا۔ اور جنہوں نے (کسائی وغیرہ نے) رفع دیا انہوں نے اناؔ کو مبتدا اور اقلُّ کو خبر بنایا۔ اور جملہ ترنی کا مفعول دوم ہے۔ وَّوَلَدًا اس میں ان مفسرین کی بات کو پختگی ملتی ہے جنہوں نے نفرؔ کی تفسیر اس آیت میں اولاد سے کی ہے۔ واعزنفرا ] الکہف : 34[
Ayah 18:40مجھے باغ جنت ملے گا :
40: فَعَسٰی رَبِّیْ اَنْ یّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِکَ (پس امید ہے کہ عنقریب میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر اور بڑھیا چیز عنایت فرمائیگا) دنیا میں یا آخرت میں وَیُرْسِلَ عَلَیْھَا حُسْبَانًا (اور تیرے باغ پر تقدیری آفت بھیج دے گا) حسباناؔ سے عذاب مراد ہے۔ مِّنَ السَّمَآ ئِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًا (آسمان سے پھر وہ چٹیل چکنا میدان بن جائے گا) صعیداً زلقاً سفید زمین جس کی ملائمت کی وجہ سے اس پر لوگ پھسلیں۔
Ayah 18:41تیرا باغ تباہ ہوگا :
41: اَوْیُصبِحَ مَآ ؤُھَا غَوْرًا (یا اس کا پانی زمین میں اتنی گہرائی میں چلا جائے) غورا کا معنی غائر یعنی زمین کی گہرائی میں جانے والافَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَہٗ طَلَبًا (کہ تو اس کو تلاش بھی نہ کرسکے) اس کی طلب و تلاش تیرے لئے ممکن نہ ہو۔ پالینا تو درکنار رہا۔ مطلب یہ ہے اگر تو مجھے فاقہ مست دیکھ رہا ہے۔ میں قدرت الٰہی سے اس بات کی توقع رکھتا ہوں کہ وہ مجھے تیرے باغ سے بہتر باغ دے دے گا اور تیرے کفر انِ نعمت کے باعث ہر چیز تجھ سے چھین لے گا اور تیرے باغ کو برباد کر دے گا۔
Ayah 18:42نتیجہ کفر و شرک میں تباہی :
42: وَاُحِیْطَ بِثَمَرِہٖ (اور احاطہ کرلیا گیا اس کے پھلوں کا) ہلاکت کی تعبیر ہے۔ اصل میں یہ احاطہ بہ العدو سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ دشمن جب گھیرلے تو وہ اس کا مالک اور اس پر مسلط ہوجاتا ہے پھر یہ ہر ہلاکت کیلئے استعمال ہونے لگا۔ فَاَصْبَحَ (پس اس کافر نے صبح کی) یُقَلِّبُ کَفَّیْہِ (وہ کفِ افسوس مل رہا تھا) ایک ہاتھ کو دوسرے پر افسوس و شرمندگی سے مار رہا تھا۔ دو ہاتھوں کا پلٹنا یہ ندامت و حسرت سے کنایہ ہے کیونکہ شرمندہ اپنی ہتھیلیوں کو الٹتا ہے جیسا کہ اس سے بعض ہتھیلی اور سقوط فی الیدکنایۃً مراد لی جاتی ہے۔ اور اس لئے بھی کہ یہ ندامت کے معنی میں ہے۔ اس کو علی سے متعدی لائے گویا اس طرح کہا۔ فاصبح یندم۔
عَلٰی مَآ اَنْفَقَ فِیْھَا (اس پر جو کچھ اس نے خرچ کیا تھا) اس کی آبادی و تعمیر میں وَھِیَ خَا وِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا (وہ باغ
اپنی چھتر یوں سمیت زمین پر گرا پڑا تھا) اس کی بیلیں جن چھتریوں پر چڑھی ہوئی تھیں وہ چھتریاں زمین بوس ہو کر بیلوں کو تباہ کرچکی تھیں۔ چھتریوں کے ملبہ پر بیلیں ڈھیر ہوچکی تھیں۔
وَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِکْ بِرَبِّیْ اَحَدًا (اور وہ کہنے لگا کیا اچھا ہوتا اگر میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا)
اس کو اپنے بھائی کی نصیحت یاد آئی جس سے اس کو معلوم ہوگیا کہ یہ وبال اس کے کفر اور سرکشی کی وجہ سے آیا ہے۔ پس اس کے دل میں تمنا پیدا ہوئی کاش کہ وہ شرک نہ کرتا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کا باغ تباہ نہ کرتا مگر یہ بےوقت کی تمنا تھی۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ اس کا مطلب شرک سے توبہ ہو اور گزشتہ حرکت پر شرمندگی اور ایمان میں داخل ہونا مراد ہو۔
Ayah 18:4343: وَلَمْ تَکُنْ لَّہٗ فِئَۃٌ یَّنْصُرُوْنَہٗ (اور اس کے پاس کوئی ایسا مجمع نہ تھا جو اس کی مدد کرتا) جو اس کی مدد کرنے پر قدرت رکھتا۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے سوا) یعنی وہ اکیلا ہی اس کی نصرت پر قادر تھا۔ اس کے سوا کوئی ایک بھی اس کی مدد نہ کرسکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی وجہ سے اس کی مدد نہ کی۔ وَمَا کَانَ مُنْتَصِرًا (نہ وہ خود ہم سے بدلہ لے سکا) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انتقام کو قوت سے روک نہ سکا۔
Ayah 18:44اصل مدد کا اختیار اللہ کو :
44: ھُنَالِکَ الْوَلَایَہُ لِلّٰہِ الْحَقِّ (وہاں مدد کرنا اللہ برحق ہی کا کام ہوگا)
قراءت : حمزہ اور علی نے پچھلی آیت میں تکن کو یکن اور الولایۃ کو کسرئہ وائو سے پڑھا ہے۔ الولایۃ ؔ نصرت، دوستی اور کسرہ کے ساتھ غلبہ اور بادشاہی کے معنی میں ہے۔ ھنالک کا مطلب اس مقام میں وہ حال خالص اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کا ہوگا۔ اس کے سوا کسی کو اختیار نہ ہوگا۔ اور نہ کسی کو طاقت ہوگی۔ یہ لم تکن لہٗٗ فئۃ ینصرونہ من دون اللّٰہ کی تقریر ہے۔
نمبر 2۔ وہاں سلطنت اور بادشاہت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جو مغلوب نہیں ہوسکتا۔ نمبر 3۔ اس سخت حالت میں اللہ تعالیٰ ہی ذمہ دار ہونگے اور ہر مجبور اس پر ایمان لے آئے گا۔ یعنی اس کا قول یَا لَیْتَنِیْ لَمْ اُشِْرکْ بِرَبِّیْ احدًا مجبوری کا کلمہ ہے۔ جس پر وہ مجبورہوا جبکہ اس نے کفر کی نحوست سامنے دیکھی اگر وہ مصیبت نہ دیکھتا تو ایسا نہ کہتا۔
نمبر 4۔ وہاں ولایت اللہ تعالیٰ کیلئے ہے۔ وہ اپنے مؤمنین بندوں کی کفار کے خلاف مدد کرتا ہے اور ان کے لئے کفار سے انتقام لیتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندے کی کافر کے خلاف مدد کی اس کی بات کو سچا کردیا۔ فعسٰی ربی ان یوتین خیرًا من جنتک ویرسل علیھا حسبانا من السماء اور اس کی تائید آیت کے اگلے حصہ سے بھی ہوتی ہے۔ ھُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا (اسی کا ثواب سب سے بہتر ہے اور اسی کا نتیجہ سب سے اچھا ہے) یعنی اپنے اطاعت گزاروں کو سب یعنی سے بہتر بدلہ دیتا ہے۔ نمبر 5۔ ھنالک سے آخرت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اس جہان میں ولایت اللہ ہی کیلئے ہے جیسا کہ اس ارشاد میں لمن الملک الیوم ] غافر : 16[
قراءت : ابو عمرو اور علی نے الحق کو مرفوع پڑھا اور اس کو الولایۃ کی صفت قرار دیا۔ نمبر 2۔ یا مبتدا محذوف ھِیَ کی خبر ہے یا ہُوَکی۔ دیگر قراء نے کسرہ سے پڑھا اس صورت میں اللہ کی صفت ہے۔ عُقْبًا کو عاصم، حمزہ نے سکون قافؔ سے پڑھا جبکہ دیگر نے ضمہ کے ساتھ۔ اور شاذ قراءت میں عُقْبٰی کو فُعْلٰی کے وزن پر پڑھا گیا۔ تمام کا معنی عاقبت و نتیجہ ہے۔
Ayah 18:45بےثباتی ٔ دنیا کی مثال :
45: وَاضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآٓ ئٍ اَنْزَلْنٰـہٗ مِنَ السَّمَآ ئِ (آپ ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حالت بیان کیجئے کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا) وہ دنیا کی زندگی میں پانی جیسی ہے جس کو آسمان سے اتارا۔
فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ (پھر اس کے ذریعہ زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی) ۔ نمبر 1۔ اس کے سبب سے گھنی ہوگئی اور آپس میں لپٹ گئی ایک دوسرے میں گھس گئی۔ نمبر 2۔ پانی نبات میں اثر انداز ہو کر اس سے مل جل گیا یہاں تک کہ وہ نبات سیراب ہوگئی۔
فَاَصْبَحَ ھَشِیْمًا (پھر وہ ریزہ ریزہ ہوگئی) خشک اور ٹکڑے ٹکڑے ھشیما کا واحد ھشیمۃ ہے خشک ریزہ ریزہ۔ تَذَرُوْہُ الرِّیٰحُ (کہ ہوائیں اس کو اڑائے پھرتی ہیں) یعنی منتشر کرتی اور اڑائے پھرتی ہیں۔
قراءت : حمزہ اور علی نے الرِّیْحَ پڑھا ہے۔
وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر) پیدا کرنے اور فناء کرنے کی مُّقْتَدِرًا (قدرت رکھتے ہیں) آیت میں دنیا کی تروتازگی رونق و بہارکو اور جو اس کے بعد ہلاکت و فناء اس پر طاری ہونی ہے اس کو نباتات سے تشبیہ دی جو پہلے سرسبز پھر خشک ہو کر اس کو ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں گویا موجود ہی نہ تھی۔
Ayah 18:46مال و اولاد قبر کا زاد راہ نہیں بلکہ نیک عمل ہیں :
46: اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (مال و اولاد دنیا کی زندگی کی ایک رونق ہیں) قبر کا زادراہ نہیں اور نہ آخرت کا سامان ہے۔ وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ (اور باقی رہنے والے نیک اعمال) وہ اعمال خیر جن کا پھل انسان کیلئے باقی رہتا ہے۔ نمبر 2۔ پانچوں نمازیں نمبر 3۔ سبحان اللّٰہ، الحمد للّٰہ، لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ واللّٰہ اکبر۔
خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا (بدر جہا بہتر ہیں آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے) بدلہ کے اعتبار سے وَّ خَیْرٌ اَمَلًا (اور امید کے لحاظ سے بھی افضل ہیں) کیونکہ وہ سچا وعدہ ہے اور اکثر امیدیں تو جھوٹی ہوتی ہیں یعنی ان باقیات صالحات کو کرنے والا دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ثواب کا امیدوار ہے اور آخرت میں وہ اس ثواب کو پالے گا۔
Ayah 18:47قیامت کا منظر :
47: وَیَوْمَ (اور اس دن کو یاد کرو) نُسَیِّرُ الْجِبَالَ (جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے)
قراءت : مکی، شامی اور ابو عمرونے تُسَیَّرالجبال پڑھا ہے۔ اس کا معنی وہ فضاء میں تیریں گے اور چلائے جائیں گے۔ نمبر 2۔ ان کو ختم کر کے بکھرے ہوئے باریک ذرات بنادیا جائے گا۔ وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً (اور تم زمین کو کھلا ہوا دیکھو گے) اس پر کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جو اس کو ڈھانپے جیسے کہ پہاڑ، درخت وغیرہ۔
وَّ حَشَرْ نٰھُمْ (اور ہم ان سب کو اٹھا کھڑا کریں گے) یعنی مردوں کو فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اَحَدًا (پس ہم ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے) ہم نہ چھوڑیں گے۔ غادر کا معنی ترک ہے اور اسی سے الغَدَر ہے وفاداری کو چھوڑنا ہے الغدیر : وہ پانی جس کو سیلاب چھوڑ جائے۔
Ayah 18:48پیشی ٔ بارگاہ الٰہی :
48: وَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا (اور تمام کو تیرے رب کے روبرو برابرکھڑا کر کے پیش کیا جایگا) اس حال میں کہ صف باندھنے والے روبروآنے والے ہونگے۔ ان کی جماعت بھی اسی طرح سامنے نظر آئے گی جیسے ایک سامنے آتا ہے۔ ایک دوسرے کے سامنے رکاوٹ نہ ہوگا۔ لوگوں کی پیشی کو ایسے لشکر سے تشبیہ دی جو بادشاہ کے سامنے پیش ہونے والا ہو۔
لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا (تحقیق تم ہمارے پاس آئے ہو) یعنی ہم ان کو کہیں گے واقعی تم ہمارے سامنے آگئے ہو یہ جئتمونا مضمر یوم نُسیِّرُ کے نصب میں عامل ہے۔ کَمَاخَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا) ہم نے تمہیں اسی طرح اٹھا دیا جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔ نمبر 2۔ تم ہمارے پاس ننگے آئو گے تمہارے پاس کوئی چیز نہ ہوگی۔ جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔ اور وَحَشَرْنَا ہُمْ کو ماضی کے صیغہ اور نُسَیِّر اور تری ؔ کو مضارع لائے۔ کیونکہ ان کے حشر کے لئے تیسیر اور بروز سے قبل دلالت موجود ہے۔ تاکہ وہ ان اھوال کو ملاحظہ کرسکیں۔ گویا اس طرح فرمایا۔ وَحَشَرْنَا ھُمْ قَبْلَ ذٰلِکَ (مگر یہ بات سمجھ نہیں آرہی کیونکہ پہاڑوں کا اڑانا اور زمین کا چٹیل بننا پہلے و ہلہ قیامت میں ہوگا۔ جبکہ حشر نفخہ ثانیہ کے ساتھ ہوگا۔ اس وقت پہاڑوں کا وجود نہیں ہوگا۔ زمین چٹیل میدان ہوگی۔ مترجم)
بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًا (بلکہ تم یہ سمجھتے رہے کہ ہم تمہارے لیے کوئی وقت موعود نہ لائیں گے) ایسا وقت جس میں وہ وعدہ پورا ہو جو انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی کیا گیا کہ دوبارہ اٹھا یا جائے گا اور تمام مخلوق کو جمع کیا جائے گا۔ نمبر 2۔ محاسبہ کے مکان کا وعدہ۔
Ayah 18:49نامہ عمل کا کھلنا :
49: وَوُضِعَ الْکِتٰبُ (اور اعمال نامے رکھے جائیں گے) الکتاب سے صحائف اعمال مراد ہیں۔ فَتَرَی الْمُجِرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ (پس آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ ڈرتے ہونگے) مشفقین کا معنی خائفین ہے۔ مِمَّا فِیْہِ (اس سے جو کچھ اس میں ہوگا) یعنی گناہ۔
وَیَقُوْلُوْنَ یٰـوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً (اور وہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اس نامہ اعمال کی عجیب حالت ہے کہ نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑتا ہے اور نہ بڑا) یعنی کسی معمولی گناہ کو بھی نہیں چھوڑتا۔ اِلَّا اَحْصٰھَا (بغیر لکھے اور شمار کیے) ان کو ضبط کرنے اور قلم بند کرنے والا ہے۔ وَوَجَدُ وْا مَاعَمِلُوْا حَاضِرًا (اور جو کچھ انہوں نے عمل کیا اس کو وہ موجود پائیں گے) نامہ اعمال میں۔ خواہ وہ سرکشی تھی یا بدلہ کسی چیز کا جو انہوں نے عمل کیا۔ وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا (اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا) کہ وہ اس کے ذمہ وہ لکھ دے جو اس نے عمل نہیں کیا۔ نمبر 2۔ یا اس کی سزا زیادہ دے دے۔ نمبر 3۔ بلا جرم سزا دے دے۔
Ayah 18:50سجدئہ ملائکہ اور سرکشی شیطان :
50: وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُ وْا لِاٰدَمَ (اور جب ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں) یہ سجدہ تحیہ تھا۔ نمبر 2۔ سجدہ اطاعت وانقیاد تھا۔ فَسَجَدُوْا اِلَّآ اِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ (پس انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنات میں سے تھا) یہ جملہ مستانفہ ہے گویا کوئی کہتا ہے اس نے سجدہ کیوں نہ کیا تو جواب دیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِرَبِّہٖ (پس اس نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل نہ کی) وہ اس سے نکل گیا جو اس کے رب نے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
نکتہ : یہ دلیل ہے کہ اس کو بھی ملائکہ کے ساتھ سجدہ کا حکم ملا تھا۔
سب کو دوست مت بنائو :
اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗ (کیا پھر بھی تم اس کو اور اس کی اولاد کو بناتے ہو) اس میں ہمزہ انکار اور تعجب کیلئے ہے۔ گویا تقدیر عبارت یہ ہے کیا ایسی بات کے پائے جانے کے بعد بھی تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا کا رساز بناتے ہو۔ اَوْلِیَآ ئَ مِنْ دُوْنِیْ (میرے سوا رفیق ودوست) اور ان کو میرے بدلے میں اختیار کرتے ہو۔ شیطان کی ذریت سے مراد نمبر 1۔ لاقیس یہ نماز میں وسوسے ڈالتا ہے۔ نمبر 2۔ الاعور یہ زنا کی طرف راغب کرتا ہے۔ نمبر 3۔ بتریہ مصائب میں مبتلا کرتا ہے۔ نمبر 4۔ مطوس افواہیں پھیلاتا ہے۔ نمبر 5۔ داسم یہ جہاں اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے ان کے ساتھ ملکر کھاتا ہے۔ وَھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ( وہ تمہارے دشمن ہیں) عد و کا لفظ مفرد ہے مگر معنی جمع کا ہے۔ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا (ظالموں کا بدلہ بہت برا ہے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ابلیس جس کو بدلے میں ملے یہ بدترین بدلہ ہے۔ اس لئے کہ اس نے ابلیس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بدلے اختیار کرلیا۔
Ayah 18:5151: مَآ اَشْھَدْ تُّھُمْ (میں نے ان کو نہیں بلایا) ابلیس اور اس کی اولاد کو خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں) تم نے ان کو عبادت میں میرا شریک بناڈالا۔ یہ عبادت میں شریک تب بنتے۔ جبکہ الوھیت میں شریک ہوتے۔ پس الوھیت میں شراکت کی نفی ما اشھد تہم خلق السمٰوٰت والارض سے کردی کہ ان کی پیدائش میں ان سے مدد لیتا۔ نمبر 2۔ ان سے کم ازکم مشورہ کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان اشیاء کی تخلیق میں میں یکتا ہوں تو تم اے انسانو ! عبادت میں مجھے یکتا مانو ! وَلَا خَلْقَ اَنْفُسِہِمْ (اور نہ ان کو پیدا کرنے کے وقت) ان ہی میں سے بعض کی پیدائش کے وقت دوسروں کو میں نے نہیں بلایا۔ یہ اس طرح ہے جیسا اس ارشاد میں ولا تقتلوا انفسکم ] النساء : 29[ وَمَا کُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا (اور میں گمراہوں کو معاون بنانے والا نہ تھا) یعنی میں ان کو مددگار بنانے والا نہ تھا۔ یہاں ضمیر کی بجائے المضلینؔ ظاہر استعمال فرمایا تاکہ اضلال پر ان کی مذمت زیادہ ہوجائے۔ پس جب وہ تخلیق میں میرے معاون نہ تھے تو تم ان کو عبادت میں میرا شریک کیوں بناتے ہو ؟
Ayah 18:5252: وَیَوْمَ یَقُوْلُ (اور اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) اللہ تعالیٰ کفار کو فرمائیں گے۔
قراءت : حمزہ نے نَقُولُ پڑھا ہے۔
نَادُوْا (تم پکارو) بلند آواز سے پکارو۔ شُرَکَآ ئِ یَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ (میرے ان مفروضہ شریکوں کو جن کو تم میرا شریک گمان کرتے تھے) کہ وہ میرے شریک ہیں اور میرے عذاب سے وہ تمہیں بچائیں گے۔ مراد یہاں جن لئے اور شرکاء کا لفظ بطور توبیخ کے ان کے گمان کے پیش نظر بڑھایا گیا۔ فَدَعَوْھُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہُمْ وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمْ مَّوْبِقًا (پھر وہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ حائل کردیں گے) موبقًا ہلاکت گاہ یہ وبق یبق وبوقًا سے لیا گیا جس کا معنی ہلاک ہونا۔ نمبر 2۔ موعد کی طرح یہ مصدر میمی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان کے درمیان ایک جہنم کی وادی حائل کردیں گے۔ اور وہ وادی ہلاکت کی جگہ ہوگی اور سخت عذاب کا مقام ہوگا اور اس میں وہ اکٹھے ہلاک ہونگے۔
نمبر 2۔ ملائکہ، عزیر، عیسیٰ (علیہم السلام) مراد ہیں۔ اور الموبقؔ سے مراد آڑ اور دور والا پردہ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم ان نیک لوگوں اور ان کے مابین بہت فاصلہ کردیں گے کیونکہ یہ کفار تو جہنم کی گہرائی میں ہونگے اور وہ صالحین اعلیٰ جنتوں میں ہونگے۔
Ayah 18:53مجرم کو آگ کا یقین ہوجائے گا :
53: وَرَأ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْا (اور مجرمین آگ کو دیکھ کر یقین کرلیں گے) ان کو پختہ یقین ہوجائے گا۔ اَنَّھُمْ مُّوَاقِعُوْھَا (کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں) اس میں جلنے والے اور پڑنے والے ہیں۔ وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْھَا ( اور وہ اس آگ سے نہ پائیں گے) ھاؔ کا مرجع نار ہے۔ مَصْرِفًا (بچنے کی راہ) لوٹنے کا راستہ۔
Ayah 18:54قرآن کے مضامین عمدہ ہیں :
54: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ (اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے واسطے ہر قسم کے عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان کردیئے) کُلِّ مَثَلٍ سے مراد جن کی ان کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔ وَّکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْ ئٍ جَدَلًا (مگر انسان جھگڑا کرنے میں سب سے بڑھ کر ہے) جَدَلاً یہ تمیز ہے۔ ان تمام چیزوں سے جن کی طرف سے جھگڑا ہوتا انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔ اگر تم ان کو الگ الگ کر کے جھگڑے کیلئے اور باطل جھگڑنے کیلئے جدا کرو۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا جھگڑا ہر چیز کے جھگڑے سے بڑھ کر ہے۔
Ayah 18:55مگر ایمان سے رکاوٹ یہ ہے کہ وہ پہلے لوگوں کی طرح منتظر عذاب ہیں :
55: وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا اِذْجَآ ئَ ھُمُ الْھُدٰی (اور لوگوں کو ہدایت آنے کے بعد ایمان سے نہیں روکا) الھُدٰی سے مراد سبب ہدایت اور وہ کتاب اور رسول ہیں۔ وَیَسْتَغْفِرُوْا رَبَّھُمْ اِلَّا اَنْ تَاْ تِیَہُمْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْیَاْ تِیَہُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا (اور اپنے پروردگار سے معافی مانگنے سے اور کوئی مانع نہیں رہا مگر یہ بات کہ ان کے ساتھ گزرے ہوئے لوگوں کا سا معاملہ ہو یا اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کے سامنے آکھڑا ہو) پہلا اَنْؔ نصب اور دوسرا مرفوع ہے۔ اور اس سے قبل مضاف محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وما منع الناس الایمان والاستغفار الا انتظار ان تاتیھم سنۃ الاولین وھی الاھلاک او انتظار ان یاتیہم العذاب ای عذاب الآخرۃ۔ اور لوگوں کو ایمان لانے اور استغفار سے اس بات نے روک دیا کہ ان کے پاس پہلے لوگوں کا طریقہ یعنی ہلاکت آجائے۔ یا اس انتظار نے کہ آخرت کا عذاب ان کے سامنے آکھڑا ہو۔
قراءت : قبُلًا کوفی نے ضمّتین سے پڑھا ہے قبیل کی جمع ہے اور معنی اقسام ہوگا۔ باقی قراء نے قِبَلًا پڑھا جس کا معنی ہے سامنے ظاہر۔
Ayah 18:56رسول تو صرف مبشر ومنذر ہیں :
56: وَمَانُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ (اور ہم رسولوں کو بشارت دینے اور ڈرانے کیلئے بھیجتے ہیں)
قراءت : اس پر وقف کیا جائے گا۔ اور جملہ وَیُجَادِلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْابِالْبَاطِلِ مستانفہ ہے (اور کافر ناحق باتیں پکڑ کر جھگڑے نکالتے ہیں) باطل سے مراد انکا وہ مشہور مقولہ ہے جو انہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) کو کہا : ما انتم الا بشر مثلنا ولو شاء اللّٰہ لانزل ملائکۃ وغیر ذٰلک۔
کافر حق کو مٹانے کے لئے ان سے ناحق جھگڑتے ہیں :
لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ (تاکہ اس کے ذریعہ وہ حق بات کو پھسلا دیں) حق سے نبوت مراد ہے تاکہ وہ جھگڑا ڈال کر نبوت کے اثرات کو زائل اور باطل کردیں۔ وَاتَّخَذُوْا اٰیٰتِیْ (اور انہوں نے بنایا میری آیات کو) یعنی قرآن کو وَمَآ اُنْذِرُوْا (اور جس سے ان کو ڈرایا گیا) ماؔ موصولہ ہے۔ اور صلہ کی طرف راجع ضمیر محذوف ہے۔ یعنی جس عذاب سے ان کو ڈرایا گیا نمبر 2۔ ماؔ مصدریہ ہے اور انکا ڈرانا۔ ھُزُوًا (اس کا مذاق بنایا) استہزاء کی جگہ بنا لیا۔
قراءت : حمزہ نے زاء کے سکون اور ہمزہ سے پڑھا۔ حفص نے ہمزہ کو وائو سے بدل کر اور دیگر قراء نے راء کے ضمہ اور ہمزہ سے پڑھا ہے۔
Ayah 18:57قرآن سے نصیحت کی جاتی ہے مگر یہ منہ موڑنے والے ہیں :
57: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ (اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا۔ جس کو اس کے رب کی آیات کے ذریعہ نصیحت کی گئی) آیات سے قرآن مراد ہے۔ اسی لئے ضمیر اَنْ یفقہوہُ میں مذکر لائی گئی ہے۔ فَاَعْرَضَ عَنْہَا (پھر اسنے ان آیات سے اعراض کیا) نصیحت کے وقت نصیحت کو قبول نہ کیا۔ اور نہ تدبر سے کام لیا۔ وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہٗ (اور جو کچھ وہ کرچکا اس کو بھول گیا) یعنی اس کے انجام کو بھول گیا جو اس کے ہاتھوں نے کر کے آگے بھیج دیا ہے۔ جیسے کفر، معاصی بلاکسی سوچ و بچار اور بغیر اس بات کو پیش نظر رکھنے کے کہ گناہ گار اور نیکو کار کو بدلہ ملے گا۔ پھر ان کے نسیان اور اعراض کی تعلیل یہ بیان کی کہ ان کے دلوں پر مہر کی جاچکی اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً (ہم نے ان کے دلوں پر حق سے پردے ڈال دیئے ہیں) اکنّہ کا معنی پردے یہ کنان کی جمع ہے وہ ڈھکنے کو کہتے ہیں۔ اَنْ یَّفْقَھُوْہُ وَفِیْ اٰذَانِھِمْ وَقْرًا (کہ وہ اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ رکھ دیئے) وقرؔ حق کے سننے سے بوجھ کو کہتے ہیں اور مفرد کے بعد پھر جمع لفظ من کے لحاظ سے لائی گئی ہے اور اس کا معنی یہ ہے۔ اے محمد ﷺ اگر تم ان کو۔
وَاِنْ تَدْعُھُمْ اِلَی الْھُدٰی فَلَنْ یَّھْتَدُوْا (ہدایت کی طرف بلائو تو وہ ہرگز راہ راست پر نہ آئیں گے) الھدٰی سے ایمان مراد ہے۔ لن یہتدوا کہہ کر بتلایا کہ وہ بالکل ہدایت کو قبول نہ کریں گے۔ اِذًا (اس وقت) یہ جزاء اور جواب شرط ہے یہ دلالت کر رہی ہے کہ انہوں نے دعوت رسول سے ہدایت کو قبول نہیں کیا۔ اس طرح کہ جو چیز ان کی ہدایت کا سبب بننا چاہیے تھی اس کو انہوں نے ہدایت سے رکنے کا ذریعہ بنا لیا۔ اور اس طور پر کہ یہ رسول کو جواب ہے جبکہ تقدیر عبارت اس طرح ہو۔ مَالِیَ لَا اَدْعُوْھُمْ حِرْصًا عَلٰی اِسْلَامِہِمْ ؟ میں ان کے اسلام کی حرص کے باوجودان کو دعوت کیوں نہیں دے رہا ؟ تو جواب دیا کہ اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف دعوت دیں بھی پھر بھی اسوقت ہرگز ہدایت کو قبول نہ کریں گے۔
اَبَدًا (کبھی بھی) مکلفؔ بنائے جانے کے پورے زمانہ میں۔
Ayah 18:58وقت موعود تک رحمت سے بچے ہوتے ہیں :
58: وَرَبُّکَ الْغَفُوْرُ (اور آپکا رب بخشنے والا ہے) انتہائی بخشش کرنے والا۔ ذُوالرَّحْمَۃِ رحمت والا ہے۔ رحمت کی صفت سے متصف ہے۔ لَوْ یُؤَا خِذُھُمْ بِمَا کَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَھُمُ الْعَذَابَ (اگر ان سے ان کے اعمال پر دا روگیر کرتا تو ان پر فوراً ہی عذاب واقع کردیتا) یعنی اہل مکہ سے جلد مواخذہ نہ کرنا۔ یہ محض اسکی رحمت ہے حالانکہ اہل مکہ کو رسول ﷺ سے شدید دشمنی ہے۔ بَلْ لَّھُمْ مَّوْعِدٌ (بلکہ ان کیلئے ایک وعدہ کا وقت ہے) اور وہ یوم بدر ہیلَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِہٖ مَوْ ئِلًا (وہ اس سے ورے کوئی پناہ کی جگہ نہیں پاسکتے) مَوپلًا کا معنی پناہ گاہ، نجات کی جگہ کہا جاتا ہے آل فلان جب کہ وہ نجات پا جائے آل الیہؔ جب کہ وہ پناہ لے۔
Ayah 18:5959: وَتِلْکَ الْقُرٰی اَھْلَکْنٰـھُمْ (یہ بستیاں جن کو ہم نے ہلاک کردیا )
نحو : تلک مبتدا ہے القریؔ یہ صفت ہے کیونکہ اسمائے اشارہ کی صفت اسم جنس سے لائی جاتی ہے۔ اھلکنا ہُمْ یہ خبر ہے۔ نمبر 2۔ تلک القُرٰی یہ اَہْلَکْنَا فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور دوسرا اَہْلَکْنَا اس کی تفسیر ہے۔ مطلب یہ ہے یہ بستیوں والے جن کو ہم نے ہلاک کردیا مراد ان سے قوم نوح، عاد، ثمود ہیں۔ لَمَّا ظَلَمُوْا (جب انہوں نے ظلم کیا) جیسا کہ اہل مکہ کر رہے ہیں۔ وَجَعَلْنَا لِمَھْلِکِھِمْ مَّوْعِدًا (اور ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر کیا) اور ہم نے ان کی ہلاکت کیلئے ایک معلوم و مقرر وقت طے کردیا۔ جس سے یہ پیچھے نہ ہٹائے گئے۔ جیسا کہ اہل مکہ کیلئے یوم بدر المھلکؔ ہلاک کرنا اور اس کا وقت
قراءت : حفص نے اس کو میم کے فتحہ اور لام کے کسرہ سے پڑھا ہے اور ابوبکر نے دونوں کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ اے لِوَقْت ھَلَاکِہِمْ یا لِھَلَاکِھِمْ اور الموعدؔ وقت کے معنی میں ہے یا مصدر ہے بمعنی وعدہ کرنا۔
Ayah 18:60موسیٰ ( علیہ السلام) اور خضر ( علیہ السلام) کا واقعہ :
60 : وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِفَتٰہُ (اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جوان کو کہا) اِذْ سے پہلے اُذْکر محذوف ہے۔ فتاہؔ سے یوشع بن نون مراد ہیں۔
نکتہ : یہاں فَتَاہ فرمایا کیونکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کرتے تھے اور ان کے ساتھ رہتے اور ان سے علم حاصل کرتے تھے۔ لَآ اَبْرَحُ (میں برابر چلا جائوں گا) نہ ہٹوں گا۔ دلالت کلام اور حال کی وجہ سے خبر کو حذف کردیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ حالت سفر تھی اس لئے خبر کو ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دوسرا اس لئے کہ انکا قول حَتّٰی اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ ایک غایت مقرر تھی جو مقصد کو خود متعین کر رہی تھی۔ اب اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا میں چلتا جائوں گا یہانتک کہ دو دریائوں کے جمع ہونے کی جگہ پہنچ جائوں اور یہ وہی مقام تھا جہاں موسیٰ (علیہ السلام) سے خضر (علیہ السلام) کی ملاقات کا وعدہ تھا۔ یہ بحرفارس اور روم کے ملنے کی جگہ ہے۔ خضر کو خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں پہنچتے انکا اردگرد سبز ہوجاتا ہے۔ اَوْاَمْضِیَ حُقُبًا (یا اسی طرح زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا) زمانہ طویل تک چلتا رہوں گا ایک قول یہ ہے کہ اسّی سال تک۔
روایات تفسیریہ میں یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مصر پر بنی اسرائیل کے ساتھ غالب آگئے۔ اور قبطیوں کی ہلاکت کے بعد وہاں قرار اختیار کیا تو انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا۔ آپ کو اپنے بندوں میں کونسا بندہ پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو مجھے یاد کرتا ہے اور کبھی نہیں بھولتا۔ دوسرا سوال یہ کیا کہ تیرے بندوں میں سے سب سے بہتر فیصلے والا کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو حق کا فیصلہ کرتا ہے اور خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا۔ تیسرا سوال یہ کیا کہ کونسا بندہ زیادہ علم والا ہے۔ جواب آیا جو لوگوں کا علم اپنے علم کے ساتھ ملاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کوئی ایسا کلمہ مل جائے جس سے راہنمائی میسر آئے یا ہلاکت سے اس کو بچا لے۔
پھر عرض کیا اگر تیرے بندوں میں کوئی مجھ سے زیادہ علم والا ہے۔ تو مجھے اس کی راہنمائی فرما دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ سے زیادہ علم والا خضر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ میں کہاں اس کو تلاش کروں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا چٹان کے پاس ساحل کے کنارے۔ پھر عرض کیا اے میرے رب میں کیسے اس سے مل سکتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم ایک مچھلی تو شہ دان میں لو۔ جہاں وہ گم ہوجائے وہاں تم اس کو پا لوگے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے خادم کو کہا جب مچھلی غائب ہوجائے تو مجھے اطلاع کردینا۔ دونوں پیدل سفر پر روانہ ہوگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) چٹان کے پاس سو گئے۔ مچھلی تڑپ کر سمندر میں جاپڑی جب صبح کے کھانے کا وقت آیا تو موسیٰ علیہ اسلام نے مچھلی طلب کی۔ خادم نے اطلاع دی کہ وہ سمندر میں چلی گئی چناچہ دونوں واپس چٹان کے پاس آئے تو وہاں کپڑوں میں لپٹا ہوا ایک شخص ملا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو سلام کیا۔ اس نے کہا ہمارے علاقے میں سلام کہاں ؟ ( یہاں تو سلام کا رواج نہیں) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا تعارف کروایا۔ تو خضر (علیہ السلام) نے کہا اے موسیٰ ! میں ایک ایسے علم پر ہوں جو میرے رب نے مجھے دیا ہے اور آپ اس کو نہیں جانتے اور تم ایک ایسا علم رکھتے ہو جس کو میں نہیں جانتا۔
Ayah 18:61مجمع البحرین میں پہنچنا :
61: فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِھِمَا (جب وہ دونوں مجمع البحرین پر پہنچے) نَسِیَا حُوْتَھُمَا (وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے) یعنی یوشع بن نون مچھلی کو بھول گئے کیونکہ کھانے کے ذمہ دار وہی تھے اور اس کی دلیل یہ آیت ہے فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ اور یہ تثنیہ اسی طرح لایا گیا جیسا کہ محاورہ میں کہتے ہیں نَسُوا زَادَھُمْ وہ تمام زاد راہ بھول گئے حالانکہ زاد راہ کا ذمہ دار اس کو بھولنے والا ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ مچھلی نمک لگی ہوئی تھی وہ دونوں ایک رات حیات کے چشمہ پر اترے۔ موسیٰ (علیہ السلام) سوگئے جب مچھلی تک اس مائے حیات کی خوشبو پہنچی اور ٹھنڈک میسر آئی تو وہ زندہ ہوگئی اور پانی میں چلی گئی۔
مچھلی غائب :
فَاتَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ (اس نے سمندر میں اپنا راستہ بنا لیا) اپنا راستہ خشکی سے سمندر کی طرف جانے کا اختیار کرلیا۔ سَرَبًا (سرنگ کی صورت میں) ۔ نحو : یہ مصدر ہونے کی بنا پر منصوب ہے ای سرب فیہ سربًا یعنی وہ داخل ہو کر سمندر میں چھپ گئے۔
Ayah 18:6262: فَلَمَّا جَاوَزَا (جب وہ دونوں آگے گزر گئے) مجمع البحرین سے اور پھر اترے اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ انہوں نے کتنا راستہ طے کیا۔ قَالَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ): لِفَتٰہُ ٰاتِنَا غَدَآ ئَ نَا لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا (اپنے جو ان کو کہا ہمارے لئے کھانا لائو۔ اس سفر میں ہم بہت تھک گئے) نصبؔ تھکاوٹ اس سے قبل نہ بھوک لگی نہ تھکاوٹ محسوس کی۔
Ayah 18:63مقام کی علامت سے نشاندہی :
63: قَالَ اَرَئَیْتَ اِذْ اَوَیْنآ اِلَی الصَّخْرَۃِ (کہا دیکھئے تو جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے) وہی وعدہ کی جگہ تھی۔ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ (تو میں مچھلی بھول گیا) پھر معذرت کرتے ہوئے اگلا جملہ کہا : وَمَآ اَنْسٰنِیْہُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ (اور مچھلی کو یاد رکھنا ‘ مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا)
قراءت : انسانیہُکی ہٗ کو ضمہ کے ساتھ حفص نے پڑھا۔ اَنْ اَذْکُرَہٗ (کہ میں اس کو یاد رکھتا) ہٗ ضمیر یہاں انسانیہ کی ہٗ ضمیر کا بدل ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وما انسانی ذکرہٗ الا الشّیطان شیطان نے ہی مجھے اس کی یاد بھلائی ہے۔ )
وَاتَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا (اور اس نے سمندر میں عجیب انداز سے اپنا راستہ بنایا) اور وہ اس طرح ہوا کہ اس کا نشان پڑتا گیا جہاں سے وہ گزرتی گئی (حالانکہ پانی پر نقش قائم نہیں رہتا)
Ayah 18:64ہماری تلاش :
64: قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ (اس نے کہا یہی تو ہم تلاش کرتے تھے) ہم تلاش کرتے ہیں۔
قراءت : مکی نے یاء سے نَبْغِیْپڑھا۔ ابو عمرو اور علی نے اس کی موافقت کی اور مدنی نے وصل میں موافقت کی۔ اور یاءؔ کے بغیر وصل و فصل میں دیگر قراء نے اختیار کیا۔ خط مصحف کا لحاظ کرتے ہوئے ذٰلک کا لفظ راستہ بنانے کی طرف اشارہ ہے تقدیر کلام اس طرح ہے ذٰلک الَّذِی کُنَّا نطلبکیون کہ مچھلی کا غائب ہونا خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کی علامت تھی۔ فارْتَدَّا عَلٰٓی اٰثَارِھِمَا (پس وہ دونوں اپنے نشان ہائے قدم پر واپس لوٹے) وہ اسی راستے پر واپس لوٹے جس پر گئے تھے۔ قَصَصًا (نشان کی پیروی کرتے ہوئے) اس حال میں کہ وہ نشانات پر چل رہے تھے۔ ای یتبعان آثار ھما اتباعًا وہ اپنے قدموں کے نشانات کی پیروی کر رہے تھے اچھی طرح پیروی کرنا۔
قول زجاج (رح) (القصص) کا معنی ہے نشان قدم کی اتباع کرنا۔
Ayah 18:6565: فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا (پس ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا) عبد سے مراد خضر ہیں نمبر 1۔ جو ایک کپڑے کے نیچے آرام فرما رہے تھے۔ نمبر 2۔ سمندر میں بیٹھے تھے۔ اٰتَیْنٰہٗ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا (جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطاء کی تھی) رحمت سے مراد وحی، نبوت نمبر 2۔ علم نمبر 3۔ طول حیات وَعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا (اور اس کو ہم نے اپنی طرف سے علم دیا تھا) اخبار غیوب کا علم نمبر 2۔ علم لدنی جو بطور الہام کے بندے کو ملتا ہے۔
Ayah 18:6666: قَالَ لَہٗ مُوْ سٰی ھَلْ اَتَّبِعُکَ عَلٰٓی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مفید علم آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ آپ مجھے بھی سکھائیں) رُشْدًا سے ایسا علم جو رُشْد والا ہو جس سے میں اپنے دین میں راہنمائی حاصل کروں۔
قراءت : ابو عمرو نے رَشدًا پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں لغات ہیں البخل البَخل۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ کسی کو طلب علم چھوڑنا نہ چاہیے اگرچہ وہ علم کی انتہاء کو پہنچ جائے اور اس آدمی کے سامنے تواضع کرے جو اس سے زیادہ علم والا ہو۔
Ayah 18:6767: قَالَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا (اس نے کہا تم ہرگز میرے ساتھ رکے رہنے کی طاقت نہیں رکھتے )
قراءت : حفص نے معی کو یاءؔ کے فتحہ سے پڑھا اسی طرح اس سورت میں جو بعد میں بھی آرہا ہے۔ صبرؔ کا مطلب انکار اور سوال سے رکنا ہے۔
Ayah 18:68جس چیز کا علم نہ ہو اس پر جمائو نہیں :
68: وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ خُبْرًا (اور کس طرح آپ صبر کرسکتے ہیں اس بات پر جس کا آپ کو پورا علم نہ ہو) ۔ خبرًا تمیز ہے اور صبر کی استطاعت کی نفی کو مؤکد کر رہی ہے۔ اور اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ بعض ایسے کاموں کے ذمہ دار ہیں جو بظاہر ممنوع اور برے ہیں اور نیک آدمی ان ممنوعہ کاموں کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا چہ جائیکہ ایک پیغمبر ان کو دیکھ کر خاموش رہے۔