Ayah 17:11: سُبْحٰنَ (پاک ہے عیوب سے) تمام عیوب سے اس کی پاکیزگی بیان فرمائی۔ یہ لفظ تسبیح کا علم ہے جیسے عثمان کا لفظ آدمی کیلئے کہ اللہ تعالیٰ کے اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کا فعل ہمیشہ مضمر ہوتا ہے ظاہر نہیں کیا جاتا اور اسی وجہ سے یہ منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہے : اسبح اللہ سبحان میں اللہ سبحان کی تسبیح کرتا ہوں۔ یہ حذف فعل کے بعد اس کے قائم مقام استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ انتہائی پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے۔ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِ ہٖ وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا۔ عبدہؔ سے محمد ﷺ مراد ہیں اور سری اور اسری یہ دو لغات ہیں۔ لَیْلًا (رات کو) ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
وجہ : اسراء تورات ہی کو ہوتا ہے پھر اس کو لیلاً سے مقید کرنے کی وجہ تاکید ہے۔ نمبر 2۔ لیلًا کی تنوین تنکیر کیلئے ہو تاکہ اسراء کی مدت میں تقلیل کو ظاہر کیا جائے۔ اور آپ کو رات کے بعض معمولی حصہ میں مکہ مکرمہ سے شام تک چالیس راتوں کے سفر کو طے کرایا۔
مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (مسجد حرام سے) آپ کو ام ھانی بنت ابی طالب کے گھر سے رات کو لے جایا گیا۔ مسجد حرام سے یہاں حرم مراد ہے۔ کیونکہ وہ مسجد کو چاروں اطراف سے محیط ہے۔ اور وہ حرم اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ الحرم کلہ مسجد۔ حرم سارا مسجد کے حکم میں ہے۔ نمبر 2۔ مسجد حرام بعینہٖ مراد ہے۔ اور ظاہر قول یہی ہے کیونکہ پیغمبر (علیہ السلام) نے فرمایا بینا انا فی المسجدالحرام فی الحجر عندا لبیت بین النائم والیقظان ] الحدیث رواہ البخاری، مسلم، احمد [ دریں اثناء کہ میں بیت اللہ کے پاس مقام حجر میں سونے اور جاگنے کے درمیان حالت میں تھا۔ جبکہ جبر ئیل (علیہ السلام) میرے پاس براق لائے اور اس رات میں مجھے آسمانوں پر لے جایا گیا۔ اور یہ عروج سماء بیت المقدس سے شروع ہوا۔ آپ ﷺ نے سفر سے واپسی پر قریش کے قافلے اور اس کے اونٹوں کی تعداد اور ان کے احوال بتلائے۔ اور آپ نے آسمانوں پر جو عجائبات دیکھے ان کو بیان فرمایا۔ آپ کی انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقات ہوئی۔ آپ بیت المعمور اور سدرۃ المنتہی تک پہنچے، معراج کا واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل پیش آیا۔ اور یہ معراج حالت بیداری میں ہوا۔
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ فقد جسد رسول اللہ ﷺ لیکن آپ کی روح کو معراج ہوئی۔ حضرت معاویہ ؓ سے بھی اس کی مثل مروی ہے ( مگر اسنادی اعتبار سے یہ روایات انتہائی کمزور ہیں مترجم)
قول جمہور :
معراج جسد مع الروح کے ساتھ ہوئی۔ کیونکہ خواب دیکھنا کوئی فضیلت نہیں اور نہ سونے والے کو کوئی درجہ حاصل ہے۔
اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی (مسجد اقصیٰ کی طرف) یہی بیت المقدس ہے کیونکہ ان دنوں وہاں مسجد نہ تھی۔ الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ (جس کے اطراف میں ہم نے برکت رکھی ہے) اس سے دین و دنیا کی برکات مراد ہیں کیونکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کی عبادت کی جگہ اور وحی کا مہبط ہے وہاں بیشمار جاری چشمے اور پھل دار درختوں کی کثرت ہے۔ لِنُرِیَہٗ (تاکہ ہم اس کو دکھائیں) محمد ﷺ کو مِنْ اٰیٰتِنَا (اپنی قدرت کے نشانات) جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبوت محمد ﷺ پر دلالت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کا آسمانوں اور ان کے اندر جو کچھ نشانات ہیں۔ اس کا دیکھنا یہ آپ کی نبوت کی علامت ہے۔ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ (بیشک وہی تمام باتوں کو سننے والا) یعنی اقوال کو الْبَصِیْرُ (دیکھنے والا ہے) احوال کا۔
نکتہ : بلاغت کا طریقہ التفات یہاں لایا گیا ہے کہ کلام غائب و متکلم اَسْرٰی پھر بَارَکْنَا اور پھر اِنَّہٗ ہُوَ کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔
Ayah 17:2موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کا تذکرہ :
2: وَ ٰاتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنٰہُ (اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور اس کو بنایا) ہٗ کی ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے اور کتاب سے مراد تورات ہے۔ ھُدًی لِّبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (بنی اسرائیل کیلئے موجب ہدایت) اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلًا (اور ان سے کہہ دیا کہ تم میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا) ای لا تتخذوا۔
قراءت : ابو عمرو نے یاء ؔ سے پڑھا ہے۔ ای لئلا یتخذوا تاکہ وہ نہ بنائیں میرے سوا کارساز۔ وکیل کا معنی ایسا رب کہ جس کے حوالے اپنے امور کو کرو۔
Ayah 17:33: ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَامَعَ نُوْحٍ (اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا) نمبر 1۔ یہ اختصاص کی وجہ سے منصوب ہے نمبر 2۔ نداء کی وجہ سے منصوب ہے یہ ان کے نزدیک ہے جنہوں نے تاء کے ساتھ پڑھا اور اس کو نہی قرار دیا۔ یعنی ہم نے انہیں کہہ دیا میرے سوا کسی کو وکیل نہ بنائو اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔
اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا (بیشک وہ نوح بڑا شکر گزار بندہ تھا) ہٗ کی ضمیر نوح (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے۔ مشکورًاوہ شکر گزار تھا تنگدستی و خوشحالی ہر دو حالتوں میں۔ الشکرکہتے ہیں نعمت کے مقابلہ میں منعم کی تعریف کرنا۔ روایت میں ہے کہ وہ جب کھاتے، پیتے، پہنتے تو الحمدللہ کہتے۔ اے لوگو ! تم ان کی اولاد ہو جو ان پر ایمان لائے اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار کیے گئے۔ پس ان کی ذات کو نمونہ بنائو۔ جس طرح تمہارے آبائو اجداد نے بنایا۔ اولاد کے صحیح ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے آباء کے طرز عمل کو صحیح طور پر اپنائیں۔ اور آباء کا حال تمہیں معلوم ہوچکا۔ پس اے بیٹو ! تم بھی اس طرح بنو۔
Ayah 17:4سرکش بنی اسرائیل :
4: وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو صاف بتلا دیا تھا کہ تم ضرور زمین میں فساد کرو گے) ہم نے ان کی طرف فیصلہ کن و حی اتاری یعنی قطعی طے شدہ بات ہے کہ وہ زمین میں فساد کریں گے۔ الکتابؔ سے تورات مراد ہے۔ لَتُفْسِدُنَّ یہ قسم محذوف کا جواب ہے نمبر 2۔ قطعی فیصلہ قسم کے قائم مقام ہے اور لَتُفْسِدُنَّ اس کا جواب ہے گویا اس طرح فرمایا اقسمنا لتفسدن فی الارض۔ مَرَّتَیْنِ (دو مرتبہ) پہلی مرتبہ جب زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا اور ارمیاء (علیہ السلام) کو قید میں ڈالا گیا۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ان کو ڈرایا۔ اور دوسری مرتبہ جب یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کو قتل کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا۔ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا (اور تم بڑی سخت سرکشی کروگے) اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے تکبر اختیار کروگے۔ یہ اسی طرح ہے جیسا دوسری آیت میں علو کا معنی ہے : اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ ] القصص : 4[ اس سے مراد ظلم، سرکشی اور مفسدین کا اصلاح کرنے والوں پر غلبہ پانا ہے۔
Ayah 17:5سرکشی اوّل سزا :
5: فَاِذَا جَآ ئَ وَعْدُ اُوْلٰھُمَا (جب ان دو بار میں سے پہلی بار کا وقت آیا) وعدؔ سے پہلی مرتبہ کا عذاب ہے۔ بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ (ہم نے تم پر بھیجے) مسلط کردیئے عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ ( اپنے وہ بندے جو بڑے جنگجو تھے) لڑائی میں بہت سخت تھے۔ نمبر 2۔ نینوی کے سخاریب اور اس کی فوج۔ نمبر 3۔ بخت نصر با بلی۔ نمبر 4۔ جالوت۔ انہوں نے علماء کو قتل کیا۔ تورات کو جلا ڈالا۔ مسجد کو اجاڑ دیا۔ اور ستر ہزار افراد کو قید و بند میں ڈال دیا۔ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ (وہ تمہارے شہروں میں پھیل گئے) وہ گھروں میں لوٹ مار کیلئے پھرنے لگے۔ زجاج (رح) کہتے ہیں۔ الجوسؔ کسی چیز کو انتہائی کوشش سے ڈھونڈنا۔ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا (اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا) وعدہ سزا بہر صورت نافذ ہونا تھا۔
Ayah 17:6دوبارہ درستگی :
6: ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ (پھر ہم نے تمہیں ان دشمنوں پر دوبارہ غلبہ دیا) سلطنت و غلبہ عَلَیْھِمْ جو تم پر مسلط کئے تھے۔ جب تم توبہ کر کے فساد سے باز آگئے اور تکبر چھوڑ دیا۔ نمبر 1۔ ایک قول یہ ہے کہ بخت نصر کا قتل مراد ہے۔ اور اس کے ہاتھوں سے قیدیوں کی رہائی و آزادی۔ اموال کی واپسی سلطنت کو دوبارہ میسر ہوجانا۔ نمبر 2۔ طالوت کو بادشاہی دیکر ہم نے سلطنت میسر کردی۔ داود (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کردیا۔ وَاَمْدَدْنٰکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا اور ہم نے تمہاری اموال اور اولاد سے مدد کی اور تمہیں لشکر کے لحاظ سے زیادہ کردیا ) ۔ اس سے جتنی تعداد میں پہلے تھے۔ نفیراً یہ تمیز ہے یہ نفر کی جمع ہے وہ آدمی جو اپنی قوم کے ساتھ کوچ کرے۔
Ayah 17:77: اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا (اگر تم اچھے عمل کروگے تو اس کا فائدہ تمہارے ہی لئے ہوگا۔ اور اگر تم برے کام کروگے تو بھی اپنے ہی لئے کروگے) ایک قول نمبر 1۔ یہ ہے کہ لام علیٰ کے معنی میں ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ ] البقرہ : 286[ صحیح قول یہ ہے کہ وہ اپنے معنی میں ہے۔ کیونکہ اختصاص کیلئے ہے عامل اپنے عمل کے بدلے کے ساتھ خاص ہے خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ یعنی احسان، برائی دونوں تمہارے نفوس کے ساتھ خاص ہیں۔ انکا نفع و نقصان غیر کی طرف متعدی نہیں ہوسکتا۔ حضرت علی ؓ فرماتے کہ نہ احسان میں نے کسی کے ساتھ کیا اور نہ زیادتی ( مگر وہ اپنے نفس کے ساتھ کی) پھر آپ نے یہ آیت پڑی : ان احسنتم الایۃ۔
دوسرا موقعہ سزا :
فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ (جب دوسرے وعدے کا وقت آیا) دوسرا وعدہ آیا۔ ہم نے ان کو مقر کردیا۔ لِیَسُوْئٗ یعنی یہ لوگ وُجُوْھَکُمْ (تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں) اور بعثناؔ کو حذف کردیا کیونکہ اوّلاً اس کے تذکرہ کی وجہ سے اس پر دلالت موجود ہے۔ یعنی لیجعلوھا بادیۃ ٰاثار المساءہ الکابۃ فیھا تاکہ ان کو ایسا بنادیں کہ جس میں برائی اور اکتاہٹ کے آثار ظاہر و نمایاں ہوں جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : سیئت وجوہ الذین کفروا۔] الملک : 27 [
قراءت : یسوء شامی ‘ حمزہ ابوبکر نے پڑھا ہے۔ اس میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہوگی نمبر 2۔ وعدے کی طرف نمبر 3۔ بعث کی طرف۔ علی نے لنسوءؔ پڑھا ہے۔ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ (تاکہ وہ مسجد میں گھس جائیں) اَلْمَسْجِدَ سے بیت المقدس مراد ہے۔ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَاعَلَوْا تَتْبِیْرًا (جس طرح پہلی مرتبہ گھس گئے اور اس لئے کہ جس چیز پر وہ غلبہ پالیں اس کو برباد کرڈالیں) مَاعَلَوْایہ لِیُتَبِّرُوْا کا مفعول ہے تاکہ وہ ہلاک کر ڈالیں ہر اس چیز کو جس پر غالب آئیں اور مسلط ہوں۔ نمبر 2۔ غلبہ کا زمانہ اور مدت مراد ہے۔
Ayah 17:8گنجائش توبہ :
8: عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ( عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے) دوسری مرتبہ کے بعد۔ اگر تم دوسری مرتبہ توبہ کرلو اور معاصی سے باز آگئے۔ وَاِنْ عُدْتُّّمْ عُدْنَا (اگر تم نے پھر وہی کیا تو ہم بھی پھر وہی کریں گے) تیسری مرتبہ تمہاری سزا کی طرف لوٹیں گے انہوں نے معاصی کی طرف جھکائو اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اکاسرہ کو ان پر مسلط کردیا۔ اور ان پر خراج مقرر کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قیامت تک مسلمانوں کو ان پر مسلط کردیا۔ وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا (اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا) حَصِیْرًا کا معنی قیدخانہ۔ اس کے مُحْصِر، حَصِیْر دونوں نام بولتے ہیں۔
Ayah 17:9قرآنی دوست و راہنما :
9: اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ (بیشک یہ قرآن اس راستہ کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو بالکل سیدھا ہے) اس حالت کیلئے جو حالات میں سب سے زیادہ درست و صحیح ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں پر ایمان اس کی طاعات پر عمل ہے۔ نمبر 2۔ ملت کیلئے۔ نمبر 3۔ راستہ کیلئے۔ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ (اور ان ایمان والوں کو خوشخبری دیتا ہے جو نیک عمل کیا کرتے ہیں) ۔
قراءت : حمزہ، علی نے یبشر پڑھا ہے۔ اَنَّ لَھُمْ ای بِاَنَّ لَہُمْ کہ ان کے لئے اَجْرًا کَبِیْرًا (بہت بڑا اجر ہے) وہ جنت ہے۔
Ayah 17:1010: وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ ای بان الذین۔ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَا (کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے تیار کر رکھا ہے) لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (ان کے لئے دردناک عذاب) آگ۔
ردِاعتزال :
معتزلہ کے اس قول کی تردید ہے گناہ گار نہ مومن رہتا ہے اور نہ کافر ہوتا ہے یہاں ایمان والوں اور ان کے بدلہ کا ذکر کیا اور کفار اور ان کی سزا کا تذکرہ کیا۔ درمیان والوں کا ذکر نہیں کیا۔
Ayah 17:11انسان بددعا میں جلد باز ہے :
1 1: وَیَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآ ئَ ہٗ بِالْخَیْر (انسان جس طرح (جلدی) سے بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے) تکلیف کے موقعہ پر ناراض ہو کر اپنے نفس اور اہل و عیال اور مال واولاد کیلئے بدعاء کرتا ہے جیسا کہ ان کیلئے خیر کی دعا کرتا ہے۔ نمبر 2۔ جلد ملنے والے نفع کا طالب ہے۔ اگرچہ وہ نفع قلیل مقدار میں ہو۔ اس نقصان کے بدلے میں جو بدیر آنے والا ہو اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا ہو۔ وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا (اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے ہر وہ چیز جو اس کے دل میں آتی ہے اس کو جلد طلب کرتا ہے صابر کی طرح اس میں انتظار نہیں کرتا۔ نمبر 2۔ انسان سے کافر مراد ہے کیونکہ وہ عذاب کو بطور استہزاء مانگتا ہے اور جلد طلب کرتا ہے جیسا کہ جب تکلیف پہنچے تو جلدی سے رفاہیت کا طالب ہے اور انسان کے جلد باز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عذاب بہرصورت آنے والا ہے۔ پھر اس جلدی مچانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس سے نضر بن حارث مراد ہے۔ اسی نے یہ کہا اللھم ان کان ھذا ھوالحق فامطر علینا الآیۃ ] انفال : 32[ پس اس کا جواب اس طرح ملا کہ پکڑ کر اس کی گردن ماری گئی۔ یدعؔ میں وائو کا خط سے ساقط ہونا مناسبت لفظی کی بناء پر ہے۔
Ayah 17:12قدرت کی دو نشانیاں :
12: وَجَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّھَارَ ٰایَتَیْنِ فَمَحَوْنَآ اٰیَۃَ الَّیْلِ وَجَعَلْنَآ ٰایَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً (اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن) یعنی دن اور رات قدرت کی دو نشانیاں ہیں۔ آیت کی اضافت لیل و نہار کی تبیین و وضاحت کیلئے ہوگی جیسا کہ عدد کی اضافت معدود کی طرف کردی جائے۔ مطلب یہ ہے پس ہم نے مٹا دیا یعنی دھندلا بنادیا اس نشانی کو جو کہ رات ہے اور دن والی نشانی کو دیکھنے والا بنادیا۔
نمبر 2۔ رات و دن کے نیر کو دونشانیاں بنایا۔ اس سے مراد سورج و چاند ہیں۔ اور محونا ٰایۃ اللَّیْل سے چاند مراد ہے اس کو دھیمی روشنی والا بنایا۔ جس میں شعاع نہیں۔ سورج کی شعاعیں ہیں اس کی روشنی میں اشیاء واضح اور صاف نظر آتی ہیں۔ لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ (تاکہ تم اپنے رب کا فضل (روزی) تلاش کرو) تاکہ دن کی سفیدی میں تم اپنے کام کاج میں ادھر ادھر جا سکو۔ وَلِتَعْلَمُوْا (تاکہ تم جان لو) تاکہ تم ان دونئی چیزوں سے عَدَدََ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ (برسوں کی گنتی اور حساب) عدد کا حساب، اعمال کے کرنے کے مواقع، اگر یہ دونوں ایک جیسے ہوتے تو دن رات کی پہچان نہ ہوسکتی اور حریص کمانے والے اور تجار آرام نہ پاسکتے۔ وَکُلَّ شَیْ ئٍ (اور ہر چیز کی) جن چیزوں کے تم دین و دنیا میں ضرورت مند ہو۔ فَصَّلْنٰہُ تَفْصِیْلًا (ہم نے (بخوبی) تفصیل کردی ہے) ایسی و ضاحت جس میں التباس نہیں۔ اسباب بھی تمہارے سامنے واضح کردیئے تمہارے لئے انکار کی کوئی حجت باقی رہنے نہیں دی جو ہمارے خلاف پیش کرسکو۔
Ayah 17:13ہر انسان اپنا عمل ساتھ لئے پھرتا ہے جو قیامت کو ظاہر ہوگا :
13: وَکُلَّّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ (اور ہم نے ہر انسان کے اعمال) طائر سے عمل مراد ہے۔ فِیْ عُنُقِہٖ (اس کے گلے میں لٹکا دیے ہیں) یعنی اس کا عمل اس کو اس طرح لازم پکڑنے والا ہے جیسے ہار گلے کیلئے نمبر 2۔ گردن کا طوق بنادیں گے جو اس سے جدا نہ ہوگا۔ وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقٰہُ مَنْشُوْرًا (اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا)
نحو : یلقاہ یہ کتاب کی صفت ہے۔
قراءت : شامی نے یُلَقَّاہُ منشورًایہ یلقاہ سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لپٹا ہوا نہ ہوگا کہ اس کو آسانی سے پڑھا جاس کے۔ نمبر 2۔ یہ دونوں کتاب کی صفتیں ہیں۔ اور ہم اسے کہیں گے۔
Ayah 17:1414: اِقْرَاْ کِتٰبَکَ (تو اپنا نامہ عمل پڑھ لے) تو اپنا نامہ عمل پڑھ۔ ہر ایک کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ وہ پڑھا ہوا ہوگا۔ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا (آج تو خود اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے) بنفسکؔ کی باء زائدہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے کہ کفی نفسک حَسِیْبًا یہ تمیز ہے۔ نمبر 2۔ اور حَاسِبْ کے معنی میں ہے علیٰؔ اس کے متعلق ہے جیسا کہتے ہیں حَسِبَ عَلَیْہِ کَذَا۔ نمبر 3۔ کافیؔ کے معنی میں ہے۔ اس کو شہید کی جگہ رکھ کر علیٰؔ سے متعدی کیا۔ کیونکہ گواہ مدعی کے اہم معاملہ کیلئے کفایت کرتا ہے۔ حَسِیْباًؔ کو ذکر کردیا کیونکہ وہ شَہِیْد کے قائم مقام ہے۔ اسی طرح قاضی امیر کے بھی قائم مقام ہے۔ کیونکہ غلبہ والے کو چاہیے کہ وہ ان امور کا ذمہ دار مردوں کو بنائے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ نمبر 1۔ کفی نفسک رجلا حسیبا نمبر 2۔ نفس کی تاویل شخص و ذات سے کی جائے۔
Ayah 17:15ہدایت کے اپنے فائدے :
15: مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا (جو شخص راہ پر چلتا ہے۔ وہ اپنے نفع کیلئے راہ پر چلتا ہے۔ اور جو شخص بےراہی کرتا ہے۔ پس وہ بھی اپنے ہی نقصان کے لئے بےراہ ہوتا ہے) اس کو ہدایت کا ثواب اور ضلال کا وبال پہنچے گا۔ وَلَاتَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی (اور کوئی شخص کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا) ہر نفس خود اپنا بوجھ اٹھائے گا۔ کسی دوسرے نفس کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا (اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے) ہم کسی قوم کو دنیا میں استیصال کا عذاب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک رسول بھیج کر ان پر حجت تمام نہیں کردیتے۔
Ayah 17:16ہلاکت تکمیل ِحجت کے بعد ہے :
16: وَاِذَا اَرَدْنَآاَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا (اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں) قریہ سے اہل قریہ مراد ہیں۔ مُتْرَفینؔ سے مالدار اور زبردست لوگ مراد ہیں۔ اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا ان کو طاعت کا حکم دیتے ہیں۔ یہ ابو عمرو اور زجاج کی قراءت میں ہے۔ فَفَسَقُوْا فِیْھَا (پھر وہ لوگ وہاں شرارت کرتے ہیں) وہ حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ جیسا کہ کہتے ہیں۔ امر تہ فعصٰی۔ نمبر 2۔ کثرت و اضافہ کرنا۔ اس کی دلیل۔ قراءت : یعقوب آمرنا ہے اور اسی معنی میں یہ روایت ہے خیر المال سکۃ مأبورۃ اومھرۃ مامورۃؔ ] احمد، طبرانی[ کثرت نسل والا گھوڑا ہے۔ فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ (پھر ان پر حجت پوری ہوجاتی ہے) اس پر وعید لازم ہوجاتی ہے۔ فَدَمَّرْ نٰھَا تَدْمِیْرًا (پھر اس بستی کو تباہ اور غارت کر ڈالتے ہیں) ہم اس کو پورے طور پر ہلاک کردیتے ہیں۔
Ayah 17:17پہلوں سے عبرت پکڑو :
17: وَکَمْ اَھْلَکْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ 0 بَعْدِ نُوْحٍ (اور ہم نے بہت سی امتوں کو نوح ( علیہ السلام) کے بعد ہلاک کیا ہے)
نحو : کم مفعول ہے۔ من القرون یہ کمؔ کا بیان ہے۔ بَعْدَ نُوْحٍ ؔ سے عاد وثمود وغیرہ مراد ہیں۔ وَکَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًام بَصِیْرًا (اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کا جاننے والا دیکھنے والا کافی ہے) اگرچہ وہ اس کو اپنے سینوں میں مخفی رکھنے کی کوشش کریں۔ بصیرًا یعنی خواہ وہ اس کو بیسیوں پردوں کے اندر کریں۔
Ayah 17:18دنیا چاہنے والے کو دینا :
18: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَعَجَّلْنَا لَہٗ فِیْھَا مَانَشَآ ئُ (جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں) نہ وہ جو چاہتا ہے۔ لِمَنْ نُّرِیْدُ یہ لہؔ کا بدل ہے حرف جار کو دوبارہ لایا گیا ہے۔ یہ بدل البعض ہے۔ ضمیر کا مرجع منؔ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے من کانت العاجلۃ ھمہ ولم یرد غیرھا کالکفرۃ تفضلنا علیہ من منافعھا بما نشاء لمن نرید جس کا مقصد جلدی ملنے والی چیز (دنیا) ہو اور اس کے علاوہ وہ کسی چیز کا طالب نہ ہو جیسا کہ کفار تو ہم دنیا کی منفعتیں جتنی چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں اس کو دے دیتے ہیں۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اپنی مشیت سے مقید فرمایا۔ اور معجل لہ کو اس کے ارادہ سے۔ اور واقعہ میں حالت اسی طرح ہے بہت سے دنیا پرستوں کو دیکھتے ہو بیشمار تمنائیں دل میں لئے بیٹھے ہیں۔ مگر ان کو ملتی اس میں سے چند ہیں اور بہت لوگ تھوڑی تمنائیں کرتے ہیں۔ مگر اس سے بھی محروم رہتے ہیں ان کے لئے دنیا و آخرت کا فقر جمع کردیا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف متقی مومن وہ آخرت کی غناء کا طالب ہوتا ہے دنیابقدر حصہ مل جاتی ہے۔ بسا اوقات فقر تو اس کے لئے اور زیادہ بہتر رہتا ہے۔ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَھَنَّمَ یَصْلٰھَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا (پھر ہم اس کے لئے جہنم تجویز کریں گے وہ اس میں بدحال راندہ ہو کر داخل ہوگا) آخرت میں وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ اس حالت میں مذموماؔ مغضوب مَدْحُوْرًا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکارا ہوا۔
Ayah 17:19آخرت کے لئے مومن کی محنت قابل قدر ہے :
19: وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا ( اور جو شخص آخرت کی نیت کرے گا اور اس کے لئے جیسی کوشش کرنی چاہیے ویسی ہی کوشش کرے گا) سعیہاؔ یہ سعیٰ کا مفعول بہٖ ہے۔ ایسی کوشش جس کوشش کرنے کا اس کو حق ہے۔ اور کفایت والے اعمال صالحہ۔
وَھُوَ مُؤْمِنٌ (بشرطیکہ وہ شخص مومن بھی ہو) وہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور وعیدوں کی تصدیق کرنے والا بھی ہو۔ فَاُولٰٓپکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا (پس ایسے لوگوں کی یہ کوشش مقبول ہوگی) ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول اور قابل ثواب ہے۔
قول بعض سلف :
جس کو تین چیزیں میسر نہ ہوں اس کا عمل نفع بخش نہیں نمبر 1۔ پختہ ایمان نمبر 2۔ نیت صادقہ نمبر 3۔ درست عمل اور پھر یہ آیت تلاوت کی اس میں تین شرائط ہی مذکور ہیں۔ نمبر 1۔ کوشش قابل قدروہی ہے جو آخرت کی غرض سے ہو۔ نمبر 2۔ اور کوشش اسی قدر جس کا وہ مکلف بنایا گیا نمبر 3۔ مضبوط ایمان۔
Ayah 17:20عطیہ رزق ہر ایک کو :
20: کُلًّا نُّمِدُّ ھٰٓؤُلَآ ئِ وَھٰٓؤُلَآ ئِ مِنْ عَطَآ ئِ رَبِّکَ وَمَاکَانَ عَطَآ ئُ رَبِّکَ مَحْظُوْرً (اور آپ کے رب کی عطا میں سے تو ہم ان کی بھی امداد کرتے ہیں اور ان کی بھی اور آپ کے رب کی عطا بند نہیں) کُلًّا فریقین میں سے ہر ایک۔ تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ یہ نُمِدُّ ھَؤُلَائِ ؔ کی وجہ سے منصوب ہے ھٰؤُلَائِ یہ کُلاًّ کا بدل ہے۔ ای نُمِدُّ ھٰؤُلَائِ پہلے ھٰؤُلَائِ سے دنیا پرست اور دوسرے ھٰؤُلَائِ سے طالبین آخرت مراد ہیں۔ مِنْ عَطَآ ئِ رَبِّکَ تیرے رب کا عطیہ جو اس نے عنایت کر رکھا ہے۔ مِنْؔ کا تعلق نُمِدُّسے ہے۔ اَلْعَطَاء دی جانے والی چیز کا نام ہے۔ یعنی ہم ان کے لئے اپنے عطیات بڑھا دیتے ہیں اور گزشتہ کیلئے پیوستہ کو مددبنا دیتے ہیں۔ اور منقطع نہیں کرتے۔ نافرمان و فرمانبردار کو محض اپنے فضل سے رزق دیتے اور تیرے رب کا یہ رزق والا عطیہ باوجود نافرمانی روکا نہیں جاتا۔
Ayah 17:21دنیا میں درجے ہم نے دیئے :
21: اُنْظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ (آپ دیکھ لیجئے کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دی) انظرؔ تم عبرت کی نگاہ سے دیکھو کیف فَضَّلْنَا الایۃ کس طرح ہم نے مال وجاہ کشادگی و کمال میں ایک دوسرے پر فضلیت دے رکھی ہے۔
آخرت پھر آخرت ہے :
وَلَلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکْبَرُتَفْضِیْلًا (اور البتہ آخرت درجوں کے اعتبار سے بھی بہت بڑی اور فضیلت کے اعتبار سے بھی
بہت بڑی ہے) روایت میں وارد ہے کہ کچھ اشراف اپنے متعلق لوگوں کے ساتھ عمرفاروق ؓ کے دروازے پر جمع ہوئے۔ بلالو صہیب ؓ کو اجازت مل گئی ابو سفیان ؓ کو اس بات سے گرانی ہوئی تو سہیل بن عمرو ؓ نے کہا اس میں ہمارا اپنا قصور ہے۔ انہیں اور ہمیں سب کو اسلام کی طرف دعوت دی گئی انہوں نے جلدی کی ہم نے تاخیر کی۔ اور یہ تو عمر ؓ کا دروازہ ہے۔ آخرت کے دروازہ میں کتنا بڑا فرق ہوگا ؟ اگر تم عمر کے دروازہ میں پہلے جانے پر ان سے حسد کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے جنت ان کے لئے جو تیار کر رکھی ہے وہ تو بہت بڑی اور زیادہ ہے۔
Ayah 17:22اللہ کے ساتھ اور معبود مت بنائو یہ اللہ کا فیصلہ ہے
22: لَاتَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ (اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود مت تجویز کرو) اس میں اگرچہ خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہے مگر مراد اس سے آپ کی امت ہے۔ فََتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا (ورنہ تو بدحال اور بےیارو مددگار ہو کر بیٹھ رہے گا) اے مخاطب تو اپنے نفس کیلئے ذلت و رسوائی دونوں کو جمع کرنے والا ہوگا۔ نمبر 2۔ ذلت آمیز سلوک کیا ہوا اور معاونت سے محروم ہوگا کیونکہ اَلْخُذْ لَانَیہ نصرت و معاونت کی ضد ہے اس کی دلیل یہ ارشاد الہٰی ہے۔ ان ینصرکم اللّٰہ فلا غالب لکم وان یخذلکم فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہٖ ] آل عمران : 160[ اس آیت میں خُذْلَان کے مقابلہ میں نصرت کو ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 17:23والدین کے ساتھ حسن سلوک :
23: وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُ وْا اِلَّا اِیَّاہُ (اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ سوائے اس کے کسی کی عبادت مت کرو) قضٰی کا معنی ہے قطعی حکم دینا۔ الا تعبدواؔ میں اَنْ مفسرہ ہے لاتعبدوا نہی ہے۔ نمبر 2۔ یہاں باءؔ محذوف ہے۔ بِاَلَّا تَعْبُدُوْا تیرے رب نے اپنی ہی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا (اور تم ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو) نمبر 1۔ احسانًا یہ فعل محذوف اَحْسِنُوْا کا مفعول ہے۔ ای بالوالدین احسانا نمبر 2۔ باءؔ کے ماتحت ای بان تحسنوا بالوالدین احسانا اور والدین کے ساتھ تم احسان کرنا۔
اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ (اگر تیرے پاس پہنچ جائے ان میں سے) نحو : امّاؔ نمبر 1۔ میں اِنْ شرطیہ اور مَاؔ تاکید کیلئے ملایا گیا۔ اسی لئے نون مؤکدہ فعل پر داخل کیا گیا۔ اگر فقط اِنْ لاتے تو درست نہ ہوتا کیونکہ اس طرح کہنا درست نہیں۔ اِنْ تُکرمنّ زیدًا یکرمک۔ البتہ یہ درست ہے اما تکرمنہ۔ اَحَدُ ھُمَآ اَوْ کِلٰھُمَا (ایک یا دونوں کو بڑھاپا) اَحَدُ ھُمَایہ یَبْلُغَنَّ کا فاعل ہے۔ حمزہ اور علی کی قراءت میں یبلغانّ ہے۔ اس میں الفؔ اس ضمیر کے بدلہ میں ہے جو والدین کی طرف راجع ہے۔ کلاھماؔ کا عطف احدھما پر ہے۔ یہ فاعل و بدل ہے۔ فَلاَ تَقُلْ لَّھُمْا اُفٍّ (تو ان کو کبھی ہوں بھی مت کہنا)
قراءت : مدنی، حفص نے اُفٍّ پڑھا۔ جبکہ مکی و شامی نے اُفَّ پڑھا اور دوسروں نے اُفُّ پڑھا ہے۔ یہ اسم صوت ہے جو اکتاہٹ پر دلالت کرتا ہے، کسرہ کی وجہ تو یہ ہے کہ ساکن کو کسرہ دیا جاتا ہے۔ اور فتحہ بطور تخفیف ہے اور تنوین تنکیر پر دلالت کیلئے ہے۔ مطلب ؔ اس طرح ہوا کیا تم ان سے اکتاتے ہو اکتانا ؟ اور تنوین جب نہ پڑھیں تو اس کا مقصد معرفہ قرار دینا ہے۔ ای اتضجّر التضجّرالمعلوم کیا تو جانی پہچانی اکتاہٹ محسوس کرتا ہے ؟
وَّلَا تَنْھَرْھُمَا (اور نہ ان کو جھڑکنا) تو ان کو اس بات میں مت جھڑک جو وہ کریں اور تمہیں پسند نہ ہو۔ ممانعت اور النہر (ڈانٹ) ایک چیز ہیں۔ وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا (اور ان سے خوف ادب سے بات کرنا) اف اور ڈانٹ کے بدلے خوبصورت نرمی والی بات کہو جیسا کہ حسن ادب کا تقاضا ہے۔ نمبر 2۔ اس طرح کہے اباجی۔ اماں جی۔ انکا نام لیکر نہ بلائے کیونکہ یہ بھی بدخلقی ہے۔ اور ان کی غیر موجودگی میں نام لینے میں حرج نہیں جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ نے نحلنی ابوبکر کذا۔
عندک کا فائدہ :
یہ ہے کہ جب دونوں کا ضعف کی وجہ سے بیٹے پر دار و مدار رہ جائے اور گھر میں انکا کوئی کفیل و نگہبان نہ ہو۔ تو یہ مزیدمشکل وقت ہے۔ پس ایسے موقع پر اس کو حکم دیا گیا کہ ان دونوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آئے۔ اور اگر ان کی بات و فعل سے اکتا جائے تو تب بھی ایسی بات نہ کہے جو ان کے تکدّر ِطبع کا باعث ہو۔ مثلاً اُف۔ چہ جائیکہ اس سے بڑی اور سخت بات۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق وصیت میں مبالغہ فرمایا وہ اس طرح کہ والدین کے احسان کو اپنی توحید کے ساتھ ملا کر ذکر کیا۔ پھر ان کی رعایت میں دائرے کو اور زیادہ تنگ کیا اور ایسے کسی کلمہ کے کہنے کی اجازت بھی نہیں دی جو تنگ آئے ہوئے انسان کو نقل کرنے درست ہیں باوجودیکہ اکتاہٹ کے ایسے حالات موجود ہوں جن میں اپنے آپ کو روکنا انتہائی مشکل ہو۔
Ayah 17:2424: وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ (اور ان کے سامنے انکساری کے ساتھ) ان کے لئے تو اپنے بازو کو جھکا دے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا واخفض جنا حک للمؤمنین ] الحجر : 88[
نکتہ : جناح کی اضافت اَلذُّل کی طرف اسی طرح ہے جیسا کہ حاتم کی اضافت جود کی طرف کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے تو ان کے لئے اپنے عاجز بازو کو جھکا۔ مِنَ الرَّحْمَۃِ (مہربانی سے جھکے رہنا) ان پر بہت شفقت کرتے ہوئے اور بڑھاپے کی وجہ سے ان کے ساتھ مہربانی برتتے ہوئے اور اس وجہ سے کہ آج وہ اس کے محتاج بنے بیٹھے ہیں جو کل مخلوقات میں سب سے زیادہ انکا محتاج تھا۔
قول زجاج (رح) : آیت کا معنی یہ ہے کہ تو ان سے نرم پہلو برت اس حال میں کہ انتہائی مہربانی سے ان کے سامنے جھکنے والا ہو۔
وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَاکَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا (اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرما جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا) اے انسان ! تو فقط ان پر مہربانی کرنے پر اکتفاء نہ کر کیونکہ یہ تو عارضی چیز ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کر کہ اے اللہ تو ان پر اپنی باقی رہنے والی رحمت فرما۔ اور اس دعا کو اپنے بچپن کی شفقت کا بدلہ سمجھ اور اپنی تربیت کی جزاء قرار دے۔ اس میں خطاب سے آنحضرت ﷺ کے علاوہ مراد ہے۔ اور یہ دعا اس وقت جائز ہے جبکہ ماں، باپ مسلمان ہوں۔ نمبر 2۔ اگر کافر ہوں تو ایمان لانے کی شرط کے ساتھ ان کے لئے رحمت کی دعا کرے اور ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے رضا اللّٰہ فی رضا الوالدین و سخطہ فی سخطھما ] ترمذی[ دوسری روایت میں ہے کہ یفعل البار ماشاء ان یفعل فلن یدخل النار و یفعل العاق ماشاء ان یفعل فلن یدخل الجنۃ۔ (الثعلبی)
ایک اور روایت میں جس کو مجمع الزوائد میں نقل کیا گیا ہے۔ اِیَّاکُمْ وَعَقُوْقَ الْوَالِدَیْنِ تم اپنے آپ کو والدین کی نافرمانی سے بچائو۔ جنت کی خوشبو ایک ہزار میل کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے والدین کے نافرمان کو جنت کی خوشبو بھی میسر نہ ہوگی۔ اسی طرح قطع رحمی کرنے والا اور زانی بوڑھا نہ تکبر سے چادر لٹکانے والا۔ بڑائی اللہ رب العالمین کے لائق ہے۔
Ayah 17:2525: رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّ ا بِیْنَ غَفُوْرًا۔ (تمہارا رب تمہارے باطن کو خوب جانتا ہے) جو تمہارے دلوں میں والدین کے ساتھ نیکی کا ارادہ اور ان کی خدمت میں خوشی اور عظمت چھپی ہوتی ہے۔
اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ : (اگر تم سعادت مند ہو) یعنی درستی اور احسان کا قصد کرنے والے ہو۔ پھر غصہ کی حالت میں تم سے کوئی زیادتی ہوجائے اور سینے کی تنگی کے وقت تنگ دلی صادر ہو جو ان کی ایذاء کا باعث بن جائے پھر تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلو اور استغفار کر لوفَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا (تو وہ توبہ کرنے والوں کی خطا معاف کردیتا ہے) اَلْاَوَّابُ : وہ شخص ہوتا ہے جو گناہ کے بعد توبہ کی طرف جلد رجوع کرے یہ بھی درست ہے کہ یہ عام ہو اور ایسے آدمی کو شامل ہو جس سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے۔ پھر وہ اس سے توبہ کرے۔ آپ اس کے ماتحت والدین کے حق میں گناہ کا مرتکب بھی ہوجائے گا۔ جو گناہ کے بعد جلد توبہ کرلے۔
Ayah 17:26قرابت دار کا حق :
26: وَاٰتِ ذَاالْقُرْبٰی (اور دو اپنے قرابت والے کو) جو تیرا قریبی ہو حَقَّہٗ ( اس کا حق) اس وقت خرچ کرنا جبکہ محرم مساکین ہوں۔ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ (مساکین اور مسافر) یعنی ان کو زکوٰۃ میں سے انکا حق دو ۔ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا ( اور تم فضول خرچی نہ کرو) اسراف نہ کرو۔ نمبر 2۔ ایک قول یہ ہے کہ تبذیر مال کو ایسے مقام پر خرچ کرنا جو حلال نہ ہو اور نہ خرچ کا مقام ہو۔ مجاہد (رح) کہتے ہیں اگر کسی نے ایک مُدْ غلط مقام پر خرچ کیا تو وہ بھی تبذیر میں شامل ہے۔ کسی آدمی نے خیر میں بہت مال خرچ کیا تو اس کے دوست نے کہا اسراف میں خیر نہیں تو اس نے برجستہ جواب دیا خیر میں اسراف نہیں۔
Ayah 17:27تبذیر کی ممانعت :
27: اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ (بیشک فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں) جو شرارت میں ان کی مثل ہیں۔ یہ انتہائی مذمت کا کلمہ ہے کیونکہ شیطان سے بڑھ کر کوئی شریر نہیں۔ نمبر 2۔ وہ ان کے بھائی اور دوست ہیں کیونکہ وہ اسراف وغیرہ کے کام جن کا وہ حکم دیتے ہیں ان میں ان کی پیروی کرتے ہیں۔
وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا (اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے) ان باتوں میں اطاعت کرنا مناسب ہے۔ شیطان اس کام کی طرف دعوت دیتا ہے۔ جو اس کے اپنے فعل کی طرح ہو۔
Ayah 17:2828: وَاِمَّاتُعْرِضَنَّ عَنْھُمْ (اور اگر تمہیں ان سے رخ پھیرنا پڑے) اگر تم قرابت والوں اور مساکین، ابن سبیل سے واپس لوٹانے سے حیا کرتے ہوئے اعراض کرو۔ ابْتِغَآ ئَ رَحْمَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ تَرْجُوْھَا فَقُلْ لَّھُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا ( اس رزق کی امید میں جس کے تم اپنے رب کی طرف سے امیدوار ہو تو ان کو نرمی والی بات کہو) یعنی اگر تم اس رزق کے نہ ہونے کی وجہ سے اعراض کرتے ہو جس کے ملنے کی تمہیں امید ہے تو ان کو اچھی بات کہہ کر لوٹائو۔ آیت میں رزق کو رحمت سے تعبیر فرمایا۔ اور فقدؔ کی بجائے اِبْتِغَائکا لفظ لایا گیا۔ یہ اس کا لازم ہے کیونکہ رزق کو گم پانے والا اسکا متلاشی ہوتا ہے گویا فقد ؔ سبب ابتغاء ہے اور ابتغاء مسبب عنہ ہے۔ پس مسبب کو سبب کی جگہ لایا گیا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے یسر الامروعُسر جیسے سُعِد الرجل و نُحس۔ یہ مفعول ہے۔
نمبر 2۔ کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ انہیں اس طرح کہہ دو ۔ رزقنا اللّٰہ و ایاکم من فضلہ اس صورت میں یہ ان کے حق میں وسعت رزق کی دعا ہے۔ گویا اس کا معنی اس طرح ہے قولاً ذامیسور وھو الْیُسر یعنی ایسی دعا جس میں وسعت ہو۔ ابتغاء نمبر 1۔ یہ مفعول لہ ہے۔ نمبر 2۔ مصدر ہے جو موضع حال میں لایا گیا ہے اور ترجوھاؔ یہ حال ہے۔
Ayah 17:29بخل و اسراف کی ممانعت :
29: وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْ لَۃً اِلٰی عُنُقِکَ (اور تم اپنے ہاتھ کو گردن سے بندھا ہوا نہ کردو) وَلَاتَبْسُطْھَاکُلَّ الْبَسْطِ اور نہ بالکل کھول دو ) یہ مصدر کی طرف اضافت کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ صرف کے عطاء کرنے اور بخیل کے ہاتھ روک لینے کی تمثیل ہے۔ اس میں اسراف و بخل کو چھوڑ کر میانہ روی کا حکم دیا گیا ہے۔ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا (ورنہ بیٹھ جائو گے ملامت کئے ہوئے) پس تم ہوجائو گے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملامت کیے ہوئے کیونکہ مسرف اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اور لوگوں میں بھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ فقیرک ہے گا : اس نے فلاں کو دیا اور مجھے محروم کردیا۔ اور غنی کہے گا : یہ شخص معیشت کے معاملات کو درست طور پر نہیں جانتا۔ اور دل میں ملامت محسوس کرتے ہوئے کہو گے اوہو ! میں محتاج ہوگیا پس اس طرح شرمندگی ظاہر کرو گے۔
مَّحْسُوْرًا (خالی ہاتھ) سب سے منقطع ہو کر کہ تیرے پاس کوئی چیز نہ رہی ہو یہ حسرہ السفر سے ہے جب کہ سفر کا اس پر واضح اثر ہو۔ نمبر 2۔ ننگا یہ اس وقت ہے جب کہ حسر را سہ سے لیا جائے یعنی اس کا سر ننگا ہوا۔ ایک مسلمان عورت سے اس کی سوکن یہود یہ کا اس بات میں مقابلہ ہوا کہ محمد ﷺ حضرت موسیٰ سے زیادہ سخی ہیں۔ چناچہ اس عورت نے اپنی بیٹی کو حضور ﷺ کے پاس بھیجا اور آپ ﷺ سے وہ قمیص مانگی جو آپ ﷺ نے پہن رکھی تھی اور گھر میں بغیر قمیص کے تشریف فرما رہے۔ ادھر نماز کا وقت آگیا آپ ﷺ نماز کیلئے تشریف نہ لائے پس یہ آیت اتری : (اسباب النزول للواحدی : صفحہ نمبر 194)
Ayah 17:30رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے :
30: پھر اللہ تعالیٰ نے جو آپ ﷺ کو تنگی وغیرہ پیش آتی اس کے متعلق تسلی دی کہ یہ آپ ﷺ کی تذلیل کیلئے نہیں اور نہ آپ ﷺ کے متعلق کسی بخل کی بناء پر ہے بلکہ قدرت الٰہی کا اظہار ہے کہ رزق کا کھول دینا اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لئے فرمایا : اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآ ئُ (بےشک آپ کا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے) پس رزق کا کھول دینا آپ کے اختیار میں نہیں۔ وَیَقْدِرُ (اور تنگ کردیتا ہے) یعنی وہی تنگ کرتا ہے پس آپ پر کوئی ملامت نہیں اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًا ( بیشک وہ اپنے بندوں کے بارے میں خبردار ہے) یعنی ان کی مصلحتوں کا لحاظ کر کے حکم کو جاری فرمانے والا ہے۔ بَصِیْرًا (اور ان کو دیکھنے والا ہے) یعنی ان کی حاجات کو۔ اسیلئے ان کے مطابق فیصلے فرماتا ہے۔
Ayah 17:31قتل اولاد کی ممانعت :
31: وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ (اور تم اپنی اولاد کو قتل نہ کرو) ۔ انہوں نے اپنی اولاد کو قتل اور بیٹیوں کو زندہ درگور کیا۔ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ (بھوک کے ڈر سے) اِمْلَاق کا معنی فقر آتا ہے۔ نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ (ہم ہی ان کو رزق دینے والے ہیں اور تمہیں بھی) ان کو اس قتل سے منع کیا اور ان کے رزق کی ضمانت دی۔ اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْأً کَبِیْرًا (انکا قتل کرنا یقینا بڑا جرم ہے۔ ) بڑا گناہ۔ کہا جاتا ہے خَطِئَی خطأً جیسے اَثِمَ اِثْمًا۔
قراءت : شامی نے خَطَأَ پڑھا ہے۔ یہ صَوَاب کی ضد ہے۔ اور اَخْطَأَ سے یہ اسم ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ خطا اور خطأ یہ الحذر الحذ کی طرح ہیں۔
قراءت : مکی نے خِطَاء (کو مدوکسر) دونوں کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 17:32زنا کے قریب مت جائو :
32: وَلَاتَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اس میں قصر اکثر استعمال ہوتا ہے اور مدؔ سے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور کبھی اس کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ اور اس صورت میں دواعیٔ وطی سے منع کرنے کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً چھونا، بوسہ دینا وغیرہ۔ اگر نفس زنا سے روکا جاتا تو لاتزنوا کہتے۔ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً (بیشک وہ بےحیائی ہے) وہ ایسی معصیت ہے جو حد شرع اور حدود عقل سے تجاوز کرنے والی ہے۔ وَسَآ ئَ سَبِیْلًا (اور برا راستہ ہے) یعنی اس کا راستہ بدترین راستہ ہے۔
Ayah 17:33قتل مت کرو :
33: وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ (اور جس شخص کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو مت قتل کرو۔ ہاں مگر حق کے ساتھ) یعنی اگر وہ کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے جس سے اس کا خون مباح ہوجائے۔ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا ( جو قتل کیا گیا ناحق) یعنی وہ کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرنے والا نہیں تھا۔ جس سے اس کا خون مباح ہوتا۔ فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَ لِیِّہٖ سُلْطٰنًا (پس ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا) یعنی قصاص لینے میں قاتل پر تسلط و غلبہ عنایت کیا ہے۔ فَـلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ ( وہ قتل میں اسراف نہ کرے) اس میں ضمیر ولی کی طرف لوٹ رہی ہے کہ وہ غیر قاتل کو قتل نہ کرے۔ اور نہ دو کو قتل کرے جبکہ قتل کرنے والا ایک ہی ہو۔ جس طرح زمانہ جاہلیت میں یہ رواج چل رہا تھا۔ نمبر 2۔ اسراف سے مراد مثلہ ہے۔ نمبر 3۔ یا ضمیر قاتل اول کی طرف راجع ہے۔
قراءت : حمزہ اور علی نے مخاطب کا صیغہ فَلاَ تُسْرِفْپڑھا ہے۔ اور ضمیر خطاب ولی کی طرف لوٹائی ہے۔ نمبر 4۔ یا قاتل مظلوم کی طرف راجع ہے (ولی کو قصاص کا اختیار ہے اسراف کا نہیں) اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا ( بیشک وہ طرف داری کے قابل ہے) اس میں ضمیر ولی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس کے لئے کافی یہ ہے کہ اللہ نے اس کی مدد کی ہے اور قصاص کا حق رکھدیا۔ پس وہ اس سے زیادہ کا طالب نہ ہو۔ نمبر 2۔ یہ ضمیر مظلوم کی طرف راجع ہے کہ اللہ اس کا مددگار ہے اسی لیے اس کے بندے میں قصاص لازم کیا اور آخرت میں اس کی مدد یہ ہے کہ اس کو ثواب عنایت فرمائے گا۔ نمبر 3۔ یا ضمیر اس شخص کی طرف لوٹتی ہے جس کو ولی ناحق قتل کرے اور اس کے قتل میں حد سے تجاوز کیا ہے۔ اسی لیے اللہ کی طرف سے اس کی مدد کی گئی کہ مسرف اس پر قصاص لازم کردیا گیا۔
قصاص میں برابری :
آیت کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قصاص آزاد اور غلام اور مسلم اور ذمی کے درمیان جاری ہوگا۔ کیونکہ نفس ہونے کے اعتبار سے اہل ذمہ اور غلام بھی اس میں داخل ہیں اور ان کے نفوس بھی نفوس محرمہ ہیں۔
Ayah 17:34یتیم کا مال مت کھائو :
34: وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو۔ مگر اس طریقے سے جو کہ بہت بہترین ہو) یعنی اس طریقے اور انداز سے جو کہ بہت خوب ہو۔ اور یہ وہی طریقہ ہے جس سے اس کی حفاظت ہو اور اس میں اضافہ
ہو۔ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ (یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے) یعنی اس کی عمر اٹھارہ سال کی ہوجائے۔ وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِ ( اور تم وعدے کو پورا کرو) اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کو انجام دے کر۔ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا (بیشک وعدے کی باز پرس ہونے والی ہے) مسئول یہاں مغلوب کے معنی میں ہے۔ اس لئے کہ معاہد سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس کو ضائع نہ کرے اور اس کو پورا کرے نمبر 2۔ یا ہر صاحب عہد سے باز پرس کی جائے گی۔
Ayah 17:35ماپ تول پورا کرو :
35: وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ( اور تم ناپ کرتے وقت ناپ کا پیمانہ پورا کردیا کرو۔ اور وزن صحیح ترازو سے کرو)
قراءت : القسطاس ق ؔ کے کسرہ سے حمزہ علی اور حفص کی قراءت ہے جبکہ نافع ابن کثیر نے قؔ پر ضمہ پڑھا ہے قسطاس کا معنی ہر چھوٹا بڑا میزان خواہ دراھم وغیرہ کے لیے استعمال ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد بھاری اشیاء تولنے کا ترازو اور کانٹا مراد ہے۔ المستقیم معتدل کو کہتے ہیں۔
ذٰلِکَ خَیْرٌ (یہ بہت بہتر ہے) وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْـلًا (اور بہت خوب ہے نتیجے کے لحاظ سے) تاویل یہ تفصیل کے وزن پر ہے۔ اٰل یأول کا معنی لوٹنا۔ تاویل جس کی طرف لوٹا جائے۔
Ayah 17:36جھوٹی گواہی مت دو :
36: وَلَا تَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (اور جس چیز کا تم کو علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چلو) یعنی اس کی اتباع نہ کرو جس کو تم جانتے ہی نہیں۔ یعنی اس طرح نہ کہو رَاَیْتُ وَ سَمِعْتُ حالانکہ تم نے نہ دیکھا ہے نہ سنا ہے۔ ابن حنفیہ (رح) کہتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جھوٹ کی گواہی نہ دو ۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کسی کے متعلق ایسی بات مت کہو جو تم اس کے متعلق نہیں جانتے۔
نکتہ : جن لوگوں نے اس سے اجتہاد کے باطل ہونے پر استدلال کیا ہے وہ درست نہیں۔ کیونکہ اجتہاد علم کی ایک قسم ہے اور یہاں جس کی تردید ہے اس کے لئے مالیس لک بہ علم کے الفاظ موجود ہیں۔
سورة الممتحنہ آیت نمبر 10 میں فرمایا فان علمتموھن مؤْمِنٰتٍکہ اگر تم ان عورتوں کو اپنے اجتہاد سے مومنہ سمجھو اور دوسری بات یہ ہے کہ شارع نے غالب ظن کو علم کے قائم مقام قرار دیا ہے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جیسا کہ شہادات میں یہ بات واضح ہے اور اس سے تو ہمارے لیے خبر واحد پر عمل کرنے کا ثبوت میسر ہو رہا ہے جیسا کہ ہم نے عرض کیا۔
اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓپکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا بلا شبہ کان آنکھ اور دل ہر شخص سے ان سب کے متعلق باز پرس ہوگی) اولٰئک کا اسم اشارہ سمع بصر اور فواد کی طرف ہے اولئک سے عاقل اور غیر عاقل ہر دو کی طرف اشارہ کرسکتے ہیں جیسا کہ جریر کے اس شعر میں
؎ ذم المنازل بعد منزلۃِ اللوٰی ٭ و العیش بعد اولٰئکَ الایّام
یہاں اولٰئک میں زندگی کے گزرے ہوئے دنوں کی طرف اشارہ ہے۔
نحو : عنہ یہ فاعلیت کی وجہ سے موضع رفع میں ہے یعنی ان میں سے ہر ایک مسئول ہے مسئول کا اسناد جار مجرور کی طرف ہے جیسا کہ المغضوب کا اس آیت میں غیر المغضوب علیہم فاتحہ آیت نمبر 7۔ اس وقت انسان کو کہا جائے گا اے انسان ! وہ بات تو نے کیوں سنی جس کا سننا تیرے لیے حلال نہیں تھا۔ اور کیوں وہ چیز دیکھی جس کا تیرے لیے دیکھنا حلال نہ تھا۔ اور کیوں تو نے ایسی چیز کا ارادہ کیا جس کا تیرے لیے ارادہ کرنا صحیح نہ تھا۔] کذا فی الکشاف[ مگر بعض علماء نے اس کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ جار مجرور اس وقت فاعل کے قائم مقام ہوتے ہیں جبکہ وہ فعل سے مؤخر ہوں۔ جب مقدم ہو تو پھر فاعل کا قائم مقام نہیں بن سکتے۔
Ayah 17:37اکڑ کر مت چل :
37: وَلَاتَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ( تو زمین پر اکڑ کے نہ چل) مَرَحًایہ حال ہے اور معنی اس کا اکڑ والی مستی والی۔ اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ ( تو ہرگز زمین کو پھاڑ نہ سکے گا) یعنی اپنے روندنے سے اس کے اندر تو دراڑ نہیں ڈال سکتا اور نہ سخت دبانے سے چیر سکتا ہے۔ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا (تو ہرگز پہاڑوں کی اونچائی کو نہیں پہنچ سکے گا) یعنی اپنے اٹھ اٹھ کر چلنے سے اس میں مغرورانہ چال والے کی حماقت کا ذکر کیا گیا ہے۔ نمبر 2۔ دوسرا معنی کہ تو طاقت میں پہاڑوں کے برابر نہیں ہوسکتا اس صورت میں یہ طولا فاعل سے حال ہے یا مفعول سے حال ہے۔
Ayah 17:38شرک سے اکڑ تک تمام ناپسندیدہ کام ہیں :
38: کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ (یہ سارے برے کام ناپسندیدہ ہیں) ۔ قراءت کوفی و شامی نے سیئی کی اضافت کل کی ضمیر کی طرف کی ہے اور دوسروں نے سیئۃ پڑھا ہے۔ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا (تیرے رب کے ہاں) یہاں مکرو ھاً کو مذکر لائے۔ کیونکہ سیئۃ اسماء کے حکم میں الذَّنْب اور الاثم کی طرح ہو کر صفت کے حکم سے خارج ہوگیا۔ پس اس کی تانیث کا اعتبار نہ رہا۔ جیسا کہ تم کہتے ہو الزِّنٰی سیئۃ او السرقۃ سیئۃ۔
اعتراض :
خصال مذکورہ میں بعض برے اور بعض اچھے ہیں اسی لئے سیئہ کو اضافت سے بعض قراء نے پڑھا۔ یعنی جو ان مذکورہ میں سے سیِّئَۃ ہیں۔ وہ تیرے رب کے ہاں ناپسند ہیں۔ لیکن سیِّئَۃ پڑھنے کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : کل ذلکؔ کا لفظ تمام ممنوعات کو خاص کر محیط ہے۔ شمار کی ہوئی تمام خصلتیں اس سے مراد نہیں۔
Ayah 17:39شرک کی بار بار مذمت :
39: ذٰلِکَاس سے لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا کی طرف اشارہ کیا۔ مِمَّآ اَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ (یہ ان میں سے ہیں جو تیرے رب نے تیری طرف حکمت کی باتیں وحی کی ہیں) جن کی صحت پر عقل صحیح شاہد ہے۔ اور نفس کو ان کی پیروی مناسب و لائق ہے۔ وَلَاتَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ فَتُلْقٰی فِیْ جَھَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا (اے انسان ! تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود نہ قرار دے ورنہ ملامت کیا ہوا دھتکارا ہوا جہنم میں ڈال دیا جائے گا) مَدْحُوْرًا رحمت سے دھکے مار کر ہٹایا ہوا۔
قول ابن عباس ؓ :
یہ اٹھارہ آیتیں الواح موسیٰ (علیہ السلام) میں تھیں (یعنی لا تجعل مع اللہ سے لیکر مدحورًا تک) ان آیات کی ابتداء اور اختتام میں شرک سے روکا گیا کیونکہ توحید پر حکمت کی چوٹی اور اس کا نچوڑ ہے اور اگر توحید نہ ہو تو حکمت بےفائدہ ہے۔ اگرچہ حکماء اس میں اپنی پوری قوت صرف کردیں اور اڑان میں آسمان کی بلندی سے ٹکرانے لگیں دیکھ لو فلاسفہ کو حکمتوں کے دفاتر نے کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ وہ اللہ کے دین کی نگاہ میں چوپایوں سے بدتر گمراہ ہیں۔