Ayah 17:40کفارِ مکہ کو خطاب :
40: پھر ان لوگوں کو خطاب کیا گیا جن کا قول یہ تھا الملٰئِکۃ بنات اللّٰہ چناچہ ارشاد فرمایا اَفَاَ صْفٰکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ (کیا تمہارے رب نے تمہارے لئے لڑکوں کو مخصوص کردیا) اس میں ہمزہ انکار کے لئے ہے کہ کیا تمہارے رب نے مخلصانہ طور پر اولاد میں سے افضل ترین یعنی لڑکوں کے ساتھ خاص کردیا ہے۔
وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓپکَۃِ اِنَاثًا اور اپنے لئے لڑکیاں اختیار کرلی ہیں یعنی ان سے کم درجہ اولاد جو کہ لڑکیاں ہیں ان کو اپنے لئے منتخب کیا ہے حالانکہ یہ خلاف حکمت ہے اور عقل بھی اس کی تصدیق نہیں کرتی۔ غلام یہ پسند نہیں کرتے کہ وہ اپنے لئے عمدہ اور منتخب چیزیں چن لیں اور ردی اور حقیر ترین اپنے آقائوں کیلئے۔ اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا (بےشک تم بہت بڑی بات کہتے ہو) جبکہ تم نے اس کی طرف اولاد کی نسبت کی ہے حالانکہ اولاد جسم کے خواص میں سے ہے پھر ستم ظریفی یہ کہ تم نے اپنے آپ کو اس پر فضلیت دی اس طرح کہ اس کے لئے وہ اولاد مقرر کی جس کو خود تم نے اپنے لئے ناپسند قرار دیا۔
Ayah 17:41نصیحت کے باوجود نفرت میں اضافہ :
41: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَاالْقُرْٰانِ (بلاشبہ ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کیا ہے) قرآن سے یہاں جو اس وقت تک اتارا گیا۔ مطلب یہ ہے ہم نے اس کو بار بار بیان کیا یعنی اس معنی کو قرآن کے کئی مقام پر لائے اور ضمیر کو چھوڑ دیا کیونکہ وہ جانا پہچانا مضمون ہے۔ لِیَذَّکَّرُوْا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
قراءت : حمزہ اور علی نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ہم نے اس کو بار بار دھرایا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
وَمَایَزِیْدُ ھُمْ اِلَّا نُفُوْرًا (مگر ان کی نفرت ہی بڑھتی چلی گئی) یعنی حق سے۔ حضرت سفیان ثوری جب اس آیت کو پڑہتے تو کہتے اے اللہ ! میرے خشوع و خضوع میں اس چیز نے اضافہ کردیا جس نے تیرے دشمن کی نفرت کو بڑھا دیا۔
Ayah 17:42اور معبود ہوتے تو کبھی مل کر غلبے کی کوشش کرتے :
42: قُلْ لَّوْکَانَ مَعَہٗ (آپ کہہ دیں اگر اس کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے) ہٗ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اٰلِھَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ (جیسا یہ لوگ کہتے ہیں) مکی و حفص نے یاءؔ سے یقولوں پڑھا جبکہ حمزہ و کسائی وغیرہ نے تاءؔ سے پڑھا ہے۔ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا (اس وقت انہوں نے عرش والے کی طرف راستہ ڈھونڈ لیا ہوتا) غلبہ پانے کیلئے اس کی طرف ضرور راستہ تلاش کرتے اس کی طرف جس کی بادشاہت و ربوبیت ہے جیسا کہ بادشاہ دوسرے بادشاہوں کیلئے کرتے ہیں نمبر 2۔ ضرور اس کا قرب تلاش کرتے جیسا کہ اس آیت میں ہے : اُوْلٰٓپکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الْوَسِیْلَۃَ ] الاسراء : 57[ اذاؔ دلالت کر رہا ہے کہ لابتغوا مشرکین کی بات کا جواب ہے اور لَوْ کی جزاء ہے۔
Ayah 17:43معلوم ہوا وہ ایک ہی سبحان ہے :
43: سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ اللہ تعالیٰ ان عیوب سے پاک ہے جو باتیں یہ لوگ کہتے ہیں۔
قراءت : حمزہ، علی نے تقولون تا ؔ ء سے پڑھا ہے۔
عُلُوًّا (برتر ہے) بلند ہے اس سے مراد براءت نزاہت ہے۔ کَبِیْرًا (بہت ہی) کبیر کے لفظ سے علو کی صفت بیان کی ہے تاکہ براءت میں مبالغہ ہوجائے اور جو کچھ لوگ بیان کرتے ہیں اس سے خوب بعد و دوری ثابت ہوجائے۔
Ayah 17:4444: تُسَبِّحُ عراقی نے سوائے ابوبکر کے تاءؔ سے پڑھا۔ نافع، ابن کثیر نے یاء سیلَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ (تمام ساتوں آسمان اور زمین اور جتنے ان میں ہیں وہ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو) یعنی سبحان اللّٰہ و بحَمْدِہٖکہتی ہے سد ّی کہتے ہیں کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے فرمایا جو مچھلی سمندر میں شکار بنتی ہے اور اسی طرح جو اڑنے والا پرندہ شکار ہوتا ہے۔ اس کا سبب ذکر الٰہی سے غفلت ہے۔ [ کنزالعمال : 1919[
وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ (لیکن تم اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے) کیونکہ اس کی بولی الگ ہے۔ نمبر 2۔ اس کا ادراک تمہارے لیے گراں ہے۔ نمبر 3۔ اس کی طرف دیکھنے والے کی تسبیح کے سبب سے اور مشہور ہے بھلائی کی طرف راہنمائی کرنے والا اس کے کرنے والے کی طرح ہے۔ پہلی وجہ زیادہ درست ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا (بیشک وہ حلم والا ہے) بندوں کی جہالت کے باوجود غَفُوْرًا (ایمان والوں کے گناہوں کو بخشنے والا ہے)
Ayah 17:45قرآن اور منکروں کے درمیان پردے پڑے ہیں :
45: وَاِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَ بَیْنَ (جب آپ قرآن مجیدپڑھتے ہیں تو ہم نے آپ کے اور ان) الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا (لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پردہ تنا ہوا حائل کردیتے ہیں) مستور کا معنی ستر والا نمبر 2۔ ایسا پردہ جو چھپنے کی وجہ سے نظر نہیں آتا۔
Ayah 17:46ان کے دلوں پر بھی پردے ہیں :
46: وَّ جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً (اور ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتے ہیں) اکنۃ جمع کنان ہے۔ ایسا پردہ جو کسی چیز کو ڈھانپ لے۔ اَنْ یَّفْقَھُوْہُ (اس سے کہ ان کو قرآن فہمی حاصل ہو) اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ وہ اس کو سمجھیں۔ وَ فِیْ ٰاذَانِھِمْ وَقْرًا (اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیتے ہیں) وقرؔ ایسا بوجھ جو سننے سے رکاوٹ ہو۔ وَاِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ (جب آپ قرآن میں اکیلے اپنے ہی رب کا ذکر کرتے ہیں) محاورہ میں کہا جاتا ہے وحد یحد وحدًا ووحدۃ جیسے وعد یعد عدۃ یہ مصدر ہے جو حال کے قائم مقام آیا ہے اصل میں یحد وحدہٗ بمعنٰی واحدًاکے ہے۔
وَلَّوْ ا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ (تو وہ لوگ نفرت کرتے ہوئے پشت پھیرتے ہیں) یہ اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتے ہیں۔ نُفُوْرًا (نفرت کرتے ہوئے) یہ پیٹھ پھیرنے کے معنی میں ہے نمبر 2۔ جمع نافر ہے جیسا قاعد اور قعود یعنی وہ پسند کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبودوں کا تذکرہ بھی ہو کیونکہ وہ مشرک ہیں جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سنتے ہیں تو نفرت کرتے ہیں۔
Ayah 17:47قرآن استہزاء و دیگر اغراض کے لئے سنتے ہیں پھر قرآن کو سحر کہتے ہیں :
47: نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِہٖ (ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ کان لگاتے ہیں) یعنی ہم اس حالت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ نمبر 2۔ اس طریقہ کو اچھی طرح جانتے ہیں جس سے یہ قرآن کو سنتے ہیں۔ ہٗ کی ضمیر قرآن مجید کی طرف لوٹتی ہے اور سنی جانے والی چیز۔ قرآن مجید محذوف ہے۔ اور بہٖؔ یہ ماؔ کا حال یا بیان ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وہ قرآن مجید کو بطور استہزاء سنتے ہیں صحیح غرض سے نہیں سنتے۔ حالانکہ ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس کو خالص نیت سے سنتے۔
اِذْیَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ (جبکہ یہ لوگ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں) ۔ یہ اعلمؔ کی وجہ سے منصوب ہے ای اعلم وقت استماعہم بمابہٖ یستمعون ان کے سننے کے وقت کو جان لو کہ جس غرض کو سامنے رکھ کر وہ سنتے ہیں۔ وَاِذْ ھُمْ نَجْوٰٓ ی (جبکہ یہ لوگ سر گوشیاں کرتے ہیں) جو کچھ یہ لوگ سرگوشیاں کرتے ہیں جبکہ یہ مجلس میں ہوتے ہیں۔ اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ (جب ظالم لوگ کہتے ہیں) یہ اِذْ اِذْھُمْ سے بدل ہے۔ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا (کہ تم لوگ محض ایسے شخص کا ساتھ دیتے ہو جو جادو زدہ ہے) اس کو سحر کیا گیا پس اس کو جنون ہوگیا۔
Ayah 17:4848: اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ (غور کرو انہوں نے آپ کے متعلق کیسے کیسے لقب تجویز کئے ہیں) کسی نے شاعر کسی نے ساحر کسی نے مجنون سے مثال دی۔ فَضَلُّوْا فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا (پس یہ لوگ گمراہ ہوگئے اب یہ راستہ ہی نہیں پاسکتے) یعنی یہ ان سب باتوں میں اس شخص کی طرح گم گشتہ راہ ہیں جیسا کوئی شخص جنگل میں راستے کا متلاشی ہو اور راستہ اس کو نہ ملے وہ حیرانی میں ہو کہ کیا کرے۔ کہاں جائے۔
Ayah 17:49استیعاد قیامت کے لئے کفار کا قول :
49: وَقَالُوْا (اور انہوں نے کہا) یعنی منکرین بعث نے کہا ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا (جب ہم ہڈیاں اور بوسیدہ ریزے ہوگئے تو ہمیں پھر بھی از سر نو پیدا کر کے اٹھایا جائے گا) جَدِیْد کا معنی از سر نو۔ وخلقا یہ حال ہے۔ پیدا کر کے۔
Ayahs 17:50–51کفار کا جواب :
50، 51: قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا اَوْخَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ (آپ کہہ دیں تم لوگ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں بہت ہی بعید ہو) یعنی آسمان و زمین جو تمہارے خیال میں قبول حیات سے بہت ہی دور ہیں۔ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُ نَا (وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون لوٹائے گا) قُلِ (کہہ دیں) تمہیں وہ ذات لوٹائے گی۔ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (جس ذات نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا) مطلب یہ ہے کہ تم اس بات کو انتہائی بعید خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ پیدا فرمائیں اور خشک ہڈیاں بن جانے کے بعد دوبارہ ان میں زندگی لوٹائیں حالانکہ ہڈیاں بھی تو زندوں کے جسم کا حصہ ہیں۔ بلکہ یہ ہڈیاں تو جسم کی وہ بنیاد ہے جس پر سارے جسم کی تعمیر ہوتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کیلئے کوئی بعید نہیں کہ وہ ان ہڈیوں کو اپنی قدرت سے ان کی پہلی حالت کی طرف پھیر دے۔ بلکہ وہ تو اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ اگر تم زندگی سے کوئی بعید ترین چیز پتھر، لوہا وغیرہ بھی بن جائو تب بھی وہ تمہیں دوبارہ لوٹائے گا۔
فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَـیْکَ رُئُ وْسَھُمْ (وہ تمہارے سامنے سر مٹکائیں گے) یعنی تعجب اور استہزاء سے وہ اپنے سروں کو تمہاری طرف ہلائیں گے۔ وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ( اور کہیں گے وہ کب ہوگا) ھُوَ سے مراد بعث ہے۔ بعث کو بعید سمجھ کر اور اس کی نفی کرتے ہوئے۔ قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا (کہہ دیں ہوسکتا ہے کہ وہ بالکل قریب ہو) یعنی وہ قریب ہی ہے عسٰی یہاں وجوب کو ظاہر کرتا ہے۔
Ayah 17:52قیامت اپنا وجود خود منوائے گی :
52: یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ (جس دن اللہ تعالیٰ تم کو پکارے گا) محاسبہ کیلئے اور وہ دن قیامت کا ہے۔ فََتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہٖ (پس تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کروگے) یاؔ حال کیلئے ہے تم تعمیل حکم کرو گے اس حال میں کہ تم تعریف کرنے والے ہوگے۔ سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ تم اس حالت میں حکم مانو گے کہ اپنے سروں سے مٹی کو جھاڑ رہے ہوگے۔ اور زبان پر سبحانک اللّٰھم وبحمدک کا ترانہ ہوگا۔ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا (اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا یا قبروں) میں بہت ہی کم رہے ہو) قلیلًا سے پہلے اسکا موصوف لبثًا محذوف ہے یعنی بالکل تھوڑا ٹھہرنا۔ نمبر 2۔ زمانًا قلیلاً تھوڑا زمانہ دنیا میں نمبر 3۔ تھوڑا عرصہ قبر میں۔
Ayah 17:53اچھی بات کئے جائو :
53: وَقُلْ لِّعِبَادِیْ (آپ کہہ دیں میرے بندوں کو) ایمان والے بندے مراد ہیں یَقُوْلُوا (وہ کہیں) مشرکین کو ایسی بات الَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (جو بات کہ سب سے اچھی ہو) بہت نرمی والی ہو۔ ان سے خشونت کا معاملہ نہ کریں۔ بلکہ اس طرح کہیں اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَھُمْ (بیشک شیطان ان کے مابین فساد ڈلواتا ہے) ایک دوسرے کے خلاف
برانگیختہ کرتا ہے تاکہ ان میں مخالفت اور شرّ پیدا ہو اور فساد برپا ہو۔ باہمی حقوق تلف ہوں۔
قراءت : طلحہ نے یَنْزِغُ زاءؔ کے کسرہ سے پڑھا اور یہ دونوں لغات ہیں۔
اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا (بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے) ۔
Ayah 17:54جس کی قسمت میں ایمان مل جائے گا :
54: یا الَّتیِ ہِیَ اَحْسَنُکی تفسیر اس ارشاد سے فرمائی۔ رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِکُمْ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْکُمْ (تمہارا رب تعالیٰ تمہارے احوال سے خوب واقف ہے اگر چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا) ہدایت اور ایمان کی توفیق دیکر اَوْاِنْ یَّشَاْ یُعَذِّ بْکُمْ (یا اگر وہ چاہے گا تم کو عذاب دے گا) رسوائی کے ساتھ۔ مطلب یہ ہے مسلمان ان کو یہ اور اس قسم کے کلمات کہیں اور اس طرح نہ کہیں کہ تم جہنمی ہو اور تمکو عذاب دیا جائے گا وغیرہ جن سے وہ شر پر بھڑک اٹھیں اور ناراض ہوں۔
نحو : ان الشیطان ینزغ بینہم یہ جملہ معترضہ ہے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ وَکِیْلًا (اور ہم نے آپ کو ان پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا) کہ آپ انکے اعمال کے محافظ ہوں اور انکا معاملہ آپکے سپرد ہو۔ بلکہ آپ کو بشیر ونذیر بنا کر بھیجا ہے۔ پس ان سے مدارات بر تیں اور اپنے اصحاب کو بھی مدارات کی تعلیم دیں۔
Ayah 17:55اللہ تمام کائنات کی اہلیت سے واقف ہے ‘ نمونہ اہلیت :
55: وَرَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور آپکا رب تعالیٰ جو آسمانوں اور زمین میں ہے ان کے احوال سے اچھی طرح واقف ہے) کہ جس کی اس میں اہلیت ہے اور ان کے جو احوال ہیں۔ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعْضٍ (اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بعض انبیاء (علیہم السلام) کو بعض پر فضیلت دی) اس میں رسول اللہ ﷺ کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗ دَ زَبُوْرًا (داود کو ہم نے زبور دی) اس میں آپ کی فضیلت کی وجہ کو ذکر کیا کہ آپ کو خاتم الانبیاء بنایا اور آپ کی امت کو خیر الا مم بنایا کیونکہ یہ بات داود (علیہ السلام) کی کتاب زبور میں لکھی جاچکی ہے جیسا کہ دوسری آیت ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکران الارض یرثھا عبادی الصالحون۔ ] الانبیاء : 105[ (اس آیت سے زبور کے متعلق اس خیال کی بھی تردید ہوتی ہے کہ وہ محض دعائیں تھیں ‘ مترجم) عبادی الصالحون ؔ سے مراد حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت ہے۔ اس آیت میں زبورؔ کو معرفہ نہیں لائے۔ اور سورة انبیاء والی آیت میں معرفہ لائے۔ کیونکہ یہ لفظ عباسؔ، فضلؔ کی طرح ہے جو کبھی الف لام کے ساتھ اور کبھی اس کے بغیر استعمال ہوتے ہیں۔
Ayah 17:5656: قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ (کہہ دیں کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا گمان کرتے ہو ان کو پکارو ! ) کہ وہ تمہارے معبود ہیں مِّنْ دُوْنِہٖ ( اس کے سوا) من دون اللہ سے یہاں 1: ملائکہ یا 2: عیسیٰ و عزیر 3: یا جنات کا وہ گروہ جن کی مشرکین عرب پوجا کرتے تھے۔ پھر وہ جنات تو مسلمان ہوگئے مگر مشرکین کو پھر بھی شعور نہ ہوا۔ فَـلَایَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْ وَلَا تَحْوِیْلًا (وہ تمہارے دکھ دور کرنے اور منتقل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے) ان کو پکار کر دیکھو ! وہ تم سے مرض وغیرہ کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اسی طرح فقر و عذاب کو ہٹا نہیں سکتے۔ اور نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ اس کو کسی اور کی طرف منتقل کردیں۔
Ayah 17:57جن کو تم پکارتے ہو وہ خود اللہ کا قرب ڈھونڈتے ہیں :
57: اُولٰٓپکَ (یہ) یہ مبتدا ہے۔ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ (یہ لوگ جنہیں مشرکین پکار رہے ہیں) یہ صفت ہے یعنی جن کو وہ الٰہ مانتے ہیں۔ نمبر 2۔ جن کی عبادت کرتے ہیں۔ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ (وہ اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔ ) یعنی ان کے معبود اللہ تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ یہ یبتغونؔ کی وائو سے بدل ہے۔ اور ای اسم موصول ہے۔ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ کہ کون ان میں زیادہ قریب ہے۔ یعنی وہ متلاشی ہیں کہ کون ان میں اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہے۔ تو قرب نہ رکھنے والوں کو کون پوچھتا ہے ؟
نمبر 2۔ یبتغونکے ضمن میں وسیلہ کا معنی ہے اب یہ یحْرصُون کے معنی میں ہوگا۔ یعنی وہ اس بات کے حریص ہیں کہ کون ان میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور یہ قرب اطاعت اور خیر میں اضافہ کر کے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وَیَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَیَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ (وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں) جیسا کہ دوسرے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ جو عذاب سے خائف اور رحمت کے امیدوار ہیں۔ پس پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اپنے متعلق معبود ہونے کا گمان کریں۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا (بیشک تیرے رب کا عذاب ایسی چیز ہے جس سے ڈرنا چاہیے) وہ عذاب ایسی چیز ہے کہ جس سے ملائکہ مقرب اور نبی مرسل کو ڈرنا چاہیے دوسروں کا تو وہاں ذکر ہی کیا ہے۔
Ayah 17:58قیامت بستیوں کو فنا کر دے گی :
58: وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اَوْمُعَذِّبُوْھَا عَذَابًا شَدِیْدًا (اور کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے قبل ہلاک نہ کریں یا اس کو (قیامت کے دن) سخت عذاب نہ دیں) ۔ کہا گیا ہے کہ ہلاکت صالحین کیلئے اور عذاب مجرموں کیلئے کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ (اور یہ بات کتاب میں) کتاب سے لوح محفوظ مراد ہیمَسْطُوْرًا (لکھی ہے) مقاتل کہتے ہیں کہ میں نے ضحاک کی کتابوں میں اس کی تفسیر اس طرح پائی۔ رہا مکہ اس کو اہل حبشہ تباہ کریں گے اور اہل مدینہ بھوک کی وجہ سے ہلاک ہونگے۔ اور بصرہ غرق سے اور کوفہ ترک سے اور پہاڑ گرجوں اور زلزلوں سے پھر خراسان کا عذاب کئی اقسام پر مشتمل ہوگا۔ اہل بلخ کو آواز پہنچے گی جس سے وہ ہلاک ہوجائیں گے اور اہل بدخشان کو دوسری اقوام تباہ کریں گے۔ اہل تر مذطاعون سے موت کے گھاٹ اتر جائیں گے صغانی اشجر (تک جھاڑوں کی طرح قتل کردیئے جائیں گے۔ اور اہل سمر قند پر بنوقنطورا غلبہ پالیں گے اور وہاں کے رہنے والوں کو جھاڑ پھونک کی طرح ہلاک کردیں گے اسی طرح اہل فرغانہ، شاس، اسبیجاب اور خوارزم بخارا جو کہ جابر حکمرانوں کی جگہ ہے ان کو بھوک و قحط سے مار دیا جائے گا۔ اہل مرو پر ریت کا طوفان آئے گا جس سے عباد و علماء کی موت واقع ہوگی اور اہل ہر ات پر سانپوں کی بارش ہوگی جو وہاں کے رہنے والوں کو کاٹ کھائیں گے۔ اور نیشا پور کے لوگ کڑک کا شکار بنیں گے اور برق و ظلمت ان پر چھائے گی۔ جس سے ان کی اکثریت لقمہ اجل بنے گی۔ اہل رے پر طبریہ والے غالب ہونگے اور ان کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے آرمینیہ اور آزر بیجان اور دیلمی ان کو گھوڑوں کے سم اور لشکر اور کڑکیں اور زلازل ہلاک کریں گے۔ اور ہمزان میں دیلمی داخل ہو کر اس کو اجاڑ دیں گے اور حلوان پر ہلکی ہوا چلائی جائے گی جس سے ان کی شکلوں کو بندروں اور
سوروں میں بدل دیا جائے گا۔ پھر ایک جہنمی آدمی مصر پر حملہ آور ہوگا۔ اہل مصر اور اہل دمشق کے تباہی و تباہی ہے اہل افریقہ کیلئے بربادی ہے اہل رملہ کیلئے بھی تباہی ہے۔
البتہ بیت المقدس میں وہ داخل نہ ہوسکے گا۔ اہل سجستان کو تیز آندھی گھیر لے گی پھر ایک تیز آواز آئے گی جس سے علماء مرجائیں گے۔ کرمان، اصبھان، فارس پر دشمن غالب آجائے گا۔ اور ان پر ایک آواز آئے گی جس سے دل اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور بدن موت کی نیند سو جائیں گے۔ ( یہ مقاتل کی روایت ہے جو متہم بالکذب ہے)
Ayah 17:59مطلوبہ نشانی کیوں نہیں ؟ کا جواب :
59: وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّآ اَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُوْنَ ( اور ہمیں مطلوبہ نشانیاں بھیجنے سے صرف اس چیز نے روکا۔ پہلے لوگوں نے ان آیات کی تکذیب کی) مطلوبہ معجزات کے نہ بھیجنے کو منعؔ کے لفظ سے ذکر فرمایا۔ پہلا ان ؔ اپنے صلہ سمیت موضع نصب میں ہے کیونکہ وہ مَنَعَنَا کا دوسرا مفعول ہے۔ اور اَنْدوم موضع رفع میں ہے کیونکہ وہ اپنے صلہ کے ساتھ ملکر کر منعنا کا فاعل ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ومامنعنا ارسال الآیات الاتکذیب الاولین۔ ہمیں مطلوبہ نشانیاں بھیجنے سے صرف پہلے لوگوں کی تکذیب نے روکا۔ آیات سے مراد یہاں وہ ہیں جن کو قریش مکہ مانگتے تھے مثلاً صفاؔ کا سونا بن جانا، مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ چلا آرہا ہے کہ جس نے ان میں سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا اور اس کی وہ بات مان لی گئی پھر بھی وہ ایمان نہ لایا تو اس کو دنیا کے جلد عذاب نے آگھیرا اور اس کو تباہ کردیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں مطلوبہ نشانات دینے سے یہی چیز مانع ہے کہ ان جیسے لوگوں نے جن کے دلوں پر مہریں لگ چکی تھیں۔ ایسے نشانات کے باوجود انکار کردیا جیسا کہ قوم عاد، ثمود وغیرہ اگر ان کو بھی یہ نشانات دے دیں تو یہ ان کی طرح جھٹلا دیں گے۔ اور استیصال والے عذاب کا شکار بن جائیں گے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ جن کی طرف مبعوث ہیں۔ ان کے معاملہ کو قیامت تک مؤخر کردیں۔ پھر ان آیات کا ذکر کیا جن کو پہلے اقوام نے طلب کیا پھر ان کو وہ دے دی گئیں اور ان کے جھٹلانے پر ان کو ہلاک کردیا گیا۔ پہلی ان میں سے ناقہ صالح (علیہ السلام) ہے۔ انکا تذکرہ اولاً اس لیے کیا کیونکہ ان کے آثار ہلاکت خود جزیرہ عرب میں موجود تھے جن کو آنے جانے والے صبح و شام دیکھتے پس فرمایا۔
وَ ٰاتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ (ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی) ان کے مطالبہ پر مُبْصِرَۃً (جو کھلی نشانی تھی) واضح نشانی تھی۔ فَظَلَمُوْا
بِھَا (پس انہوں نے اس پر ظلم کیا) یعنی انکا انکار کردیا وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ (اور ہم نہیں بھیجتے آیات کو) اگر آیات سے منہ مانگی نشانیاں مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا ہم منہ مانگی نشانی نہیں دیتے اِلَّا تَخْوِیْفًا (مگر ڈرانے کیلئے) مگر اس جلدی اترنے والے عذاب کے مقدمہ کے طور پر۔ اگر وہ پھر بھی نہیں ڈرتے تو وہ عذاب ان کو آچمٹتا ہے۔
نمبر 2۔ اور اگر آیات سے عام مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ جو آیات بھی ہم بھیجتے ہیں جیسے آیات قرآن تو ان سے مقصود آخرت کے عذاب سے ڈرانا اور خبردار کرنا ہے۔ تخویفًاؔ یہ مفعول لہ ہے۔
Ayah 17:60الرئویا سے مراد :
60: وَاِذْقُلْنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّئْ یَا الَّتِیْ اَرَیْنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ (جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپکا رب تمام لوگوں کا احاطہ کرنے والا ہے۔ اور وہ دکھاوا جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا۔ اس کو ہم نے لوگوں کیلئے موجب فتنہ بنادیا) اذ سے پہلے اذکر محذوف ہے۔ یعنی یاد کیجئے اس بات کو کہ جب ہم نے آپ کی طرف وحی کی کیا آپ کا رب اپنے علم وقدرت سے قریش کا احاطہ کرنے والا ہے۔ وہ تمام اس کی مٹھی میں ہیں آپ ہرگز ان کی پرواہ نہ کریں اور اپنا کام کرتے رہیں اور پیغام کو پہنچاتے رہیں۔
(2) ہم نے آپ کو جو واقعہ بدر کے متعلق خوشخبری دی اور ان پر غلبہ کی اطلاع دی اس کا تذکرہ دوسری آیت میں اس طرح ہے سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ] القمر : 45[ اور دوسری آیت میں فرمایا : قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَہَنَّمَ 1 وَبِئْسَ الْمِہَادُ ] آل عمران : 12[ اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا گویا کہ یہ واقعہ زمانہ ماضی میں ہوچکا اور پایا جاچکا اسی لئے لفظ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ماضی کے الفاظ سے بیان فرمایا جیسا کہ اس کے ہاں خبروں کو بیان کرنے کا طریقہ ہے اور شاید اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں ان کی قتل گاہیں بھی دکھا دی ہوں اسلئے کہ آپ جب بدر کے پانی پر پہنچے تو مسلم شریف کی روایت کے مطابق آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے۔ وَاللّٰہ لکانی انظر الی مصارع القوم اور آپ ان جگہوں کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ اور فرما رہے تھے ہذامصرع فلان جب قریش کے کانوں تک بدر کے سلسلہ میں ہونے والی یہ وحی پہنچی اور آپ کو خواب میں ان کی جو قتل گاہیں دکھائی گئی تھیں ان کی اطلاع قریش نے سنی تو اس سے ہنسی اور تمسخر کرنے لگے اور استہزاء کے طور پر کہنے لگے ایسا معاملہ جلدی لائو۔
شجرئہ ملعونہ زقوم کا درخت :
وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ (اور وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گئی) یعنی ہم نے اس ملعون درخت کو لوگوں کیلئے آزمائش بنادیا جونہی انہوں نے اللہ کے اس ارشاد کو سنا اِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْاَثِیْمِ (الدخان : 44، 43) تو وہ اس کا مذاق اڑانے لگے اور کہنے لگے محمد کا خیال یہ ہے کہ جہنم پتھروں کو تو جلا ڈالتی ہے اور پھر وہ یہ کہتا ہے کہ اس میں درخت بھی اگتے ہیں حالانکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسے عظمت کا حق تھا وہ عظمت نہیں سمجھی ورنہ وہ یہ بات نہ کہتے اس لئے کہ اس کیلئے کوئی چیز رکاوٹ نہیں کہ وہ ایسا درخت بنا دے جن کو آگ نہ جلا سکے چناچہ مشاہدہ میں ہے سمندل یہ ترکیہ میں پایا جانیوالا ایک چھوٹا ساجانور ہے اس کی اون سے بنے ہوئے رومال جب میلے ہوجائیں تو آگ میں ڈال دینے سے ان کی میل اتر جاتی ہے اور آگ ان کے لیے غسل کا کام دیتی ہے۔ اسی طرح شتر مرغ آگ کے کوئلوں کو نگل جاتا ہے اور وہ اس کو نقصان نہیں دیتی اور ہر درخت میں اللہ نے آگ پیدا کر رکھی ہے جو اس کو جلاتی نہیں۔ پس اس طرح یہ بھی درست ہے کہ وہ آگ میں ایسا درخت پیدا کر دے جس کو آگ نہ جلائے مطلب یہ ہوا کہ آیات بندوں کو ڈرانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں اور ان لوگوں کو دنیا کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے اور وہ عذاب یوم بدر کے دن قتل ہونا ہے اور ان کو عذاب آخرت سے بھی ڈرایا گیا ہے اور زقوم کے درخت سے بھی لیکن اس بات کا ان میں کوئی اثر نہیں ہوا۔ پھر فرمایا وَنُخَوِّ فُھُمْ (ہم ان کو ڈرا رہے ہیں) یعنی دنیا اور آخرت کی خوف ناک چیزوں سے۔ فَمَا یَزِیْدُ ھُمْ (لیکن وہ نہیں بڑھا رہا) یعنی تخویف اِلَّا طُغْیَانًا کَبِیْرًا (مگر بڑھی ہوئی سرکشی کو) کس طرح وہ قوم ڈرے گی جن کی یہ حالت ہو اگر ان کی مطلوبہ آیات مہیا بھی کردی جائیں۔
(3) یہ بھی کہا گیا ہے کہ رؤیا سے مراد یہاں معراج ہے اور فتنہ سے مر اد ان لوگوں کا ارتداد میں مبتلا ہونا ہے۔ ایسے لوگوں کا جنہوں نے اس کو بہت بڑا قرار دیا اور اسی کے متعلق ہے ان لوگوں کا قول جنہوں نے یہ کہا کہ اسراء نیند میں تھی اور بعض نے کہا کہ بیداری میں تھی انہوں نے رؤیا کی تفسیر رؤیت سے کی ہے اب رہی یہ بات کہ اس کو رؤیا کیوں کہا تو اس کو رؤیا اس لئے کہتے ہیں کہ مکذبین نے کہا تھا شاید آپنے خواب دیکھا ہوگا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اسراء کو بعید سمجھا اور قرآن مجید میں اس طرح کا استعمال موجود ہے کہ کفار کے ہاں جو اس کا نام تھا اسی نام سے تعبیر کردیا جیسا کہ اس ارشاد میں فراغ الی آلھتھم ] الصافات : 91[ دوسری آیت میں فرمایا : اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ ] النحل : 27[ اٰلہہ بھی بقول ان کے اور شرکاء بھی بقول ان کے کہا گیا۔
(4) یا رؤیا سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ مکہ میں عنقریب داخل ہونگے اور فتنہ سے مراد حدیبیہ میں کفار کا روکنا ہے۔
سوال : قرآن میں زقوم کے درخت کے ملعون ہونے کا تذکرہ کیوں ہے ؟
جواب : الشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَسے مراد یہ ہے کہ اس کے کھانیوالا ملعون ہے اور وہ کھانے والے کفار ہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا ثم انکم ایّہا الضّآلون المکذبون لَاٰ کلون من شجر من زقوم فمالئون منھا البطون (الواقعہ 51 تا 53) اسی لئے آیت میں اس کے کھانے والوں کے ملعون ہونے کیوجہ سے مجازاً اس کو شجرہ ملعونہ کہہ دیا اور دوسری بات یہ ہے کہ اہل عرب اپنے محاورہ میں نقصان دہ اور ناپسند کھانے کو ملعون کہتے ہیں اور تیسری بات یہ بھی ہے کہ لعن کی حقیقت رحمت سے دور ہونا ہے اور یہ درخت جہنم کی جڑ میں ہے جو کہ رحمت سے بعید ترین مقام ہے اسلئے اس کو شجرہ ملعونہ سے تعبیر کردیا۔
Ayah 17:61واقعہ آدم ( علیہ السلام) و ابلیس :
1 6: وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُ وْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّآ اِبْلِِیْسَ قَالَ ئَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا (اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا آدم کو سجدہ کرو وہ فورًا سوائے ابلیس کے سجدہ میں پڑگئے ابلیس بولا کیا میں اس شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے گارے سے بنایا ہے)
طینًا یہ تمیز ہے نمبر 2۔ موصول سے حال ہے اور اس کا عامل أاسْجُد ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی : ء اسجد لَہٗ وَھُوَ طِیْن یعنی اَصْلُہ طین کیا میں اس کو سجدہ کروں اس حال میں کہ وہ مٹی ہے یعنی اس کی اصل مٹی ہے۔
Ayah 17:6262: قَالَ اَرَئَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ (ابلیس نے کہا تو بتلا ! یہ وہی ہے جس کو تو) کؔ اس کا کوئی موضع اعراب نہیں کیونکہ یہ تاکید خطاب کیلئے ذکر کیا گیا ہے۔ اور ھذاؔ یہ مفعول بہٖ ہے۔ معنی یہ ہے تو مجھے اس کے متعلق بتلا جس کو کَرَّمْتَ عَلَیَّ (تو نے مجھ پر برتری دی ہے) اس کو تو نے فضیلت دی تو کیوں اسکو مجھ پر فضیلت دی ہے۔ حالانکہ انا خیرمنہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین ] ص : 76[ ماقبل کی دلالت اس کے متعلق موجود ہونے کی وجہ سے اختصار کے طور پر اس کو حذف کردیا پھر ابتدا کرتے ہوئے فرمایا۔ لَپنْ اَخَّرْ تَنِ (اگر تم نے مجھے مہلت دے دی) ۔
قراءت : ابن کثیر و یعقوب وغیرہ نے یاءؔ سے پڑھا۔ جبکہ کوفی، شامی قراء نے یاءؔ کے بغیر پڑھا ہے۔ لَپنْ کی لام قسم محذوف کی تمہید کے لئے لائے۔ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَ حْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗ (اگر یوم قیامت تک تو نے مجھے مہلت دی تو میں اس کی ساری اولاد کو اپنے قابو میں لے لونگا) انکا اغواء کے ذریعہ استیصال کروں گا۔ اِلَّا قَلِیْلًا (مگر ان میں سے قلیل تعداد) اور وہ مخلصین ہیں۔ نمبر 2۔ ہر ہزار میں سے ایک۔ اس ملعون کو یہ اطلاع اللہ تعالیٰ کے اطلاع دینے سے ہوئی۔ نمبر 3۔ کیونکہ اس نے خیال کیا کہ یہ انسان فطرۃً شہوانی مزاج کا پیدا کیا گیا ہے (جس کی وجہ سے انکا بھٹکنا بہت آسان ہے مترجم) ۔
Ayah 17:6363: قَالَ اذْھَبْ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو جا) یہاں اِذْھَبْ اس ذِھَاب سے نہیں جو المجیٔ (آمد) کی ضد ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ بطور ذلت و رسوائی فرمایا جا جو تیرا دل چاہے کر ( تو خود مختار ہے) پھر اس کے بعد اس کے غلط چنائو کا جزو ذکر کیا پس فرمایا۔ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآ ؤُکُمْ (پس جو شخص ان میں سے تیری اتباع کریگا تو جہنم تم سب کی سزا ہوگی) تقدیر عبارت یہ ہے فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَاؤ ھُمْ وَجَزَاؤُکَ پھر مخاطب کو غائب پر ترجیح دیتے ہوئے فرمایا جَزَاؤُ کُمْ جَزَآئً مَّوْفُوْرًا ( کامل سزا) یہ تجازون محذوف کا مفعول ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔
Ayah 17:64استفزاز کا مطلب :
64: وَاسْتَفْزِزْ (اور تو قدم اکھاڑ) نیچے اتار۔ نمبر 2۔ بیوقوف بنانا، پھسلانا۔ الفزّ ۔ خفیف کو کہتے ہیں۔ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ (ان میں سے جن پر تیرا قابو چلے اپنی چیخ و پکار سے) وسوسہ ڈال کر نمبر 2۔ گانے بجانے سے نمبر 3۔ باجے گاجے سے۔ وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ (اور چڑھالایا جمع کر اور بھڑکا انکے خلاف) یہ اَلْجَلَبۃ سے ہے جس کا معنی چیخ اور شور ہے۔ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ (اپنے سوار اور پیادے) یعنی سوار اور پیدل سے۔ الخیل : الخیالۃ۔ گھوڑ سوار۔ الرَّجل اسم جمع ہے راجل کی بمعنی پیدل جیسے الرکب اور الصحب۔
قراءت : رَجْلِک نافع نے سکون جیم سے پڑھا جبکہ حفص نے رَجِلِکَ پڑھا کہ فَعِل بمعنیٰ فَاعِلْ ہے جیسا تَعِب بمعنی تَاعِب اور اسکا معنی پیدل کو جمع کرنا ہے۔ کیونکہ کسی کام کی طلب میں انسانی استطاعت یہ ہے کہ وہ سوار اور پیدل گروہ استعمال کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ابلیس کے اپنے گھوڑے اور پیدل دستے ہوں۔
شراکت اموال :
وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَ وْلَادِ (اور تو ان کے مال اور اولاد میں شراکت کرلے) زجاج علیہ الرحمۃ کہتے ہیں ہر گناہ جو مال و اولاد کے سلسلہ میں ہوتا ہے ابلیس کی اس میں شرکت ہوتی ہے۔ مثلاً سود، حرام ذرائع آمدنی، بحیرہ، سائبہ، انفاق فی الفُسُوْق، فضول خرچیاں، زکاۃ کا نہ دینا، حرام اسباب سے اولاد حاصل کرنا، عبدالعزی، عبدالشمس وغیرہ شرکیہ نام رکھنا۔ وَعِدْھُمْ (اور ان سے وعدے کر) جھوٹے وعدے کہ الٰہ شفاعت کریں گے اور بڑے انساب سے اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت ملنا۔
جلد ملنے والی دنیا کو دیر سے آنیوالی آخرت پر ترجیح دینا، وغیرہ اسی طرح کے افعال۔
وَمَا یَعِدُ ھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا (اور شیطان ان سے وعدہ نہیں کرتا مگر محض جھوٹا) جھوٹا وعدہ یہی ہے کہ خطا کو اس طرح مزین کیا جائے کہ اس میں صواب کا وہم ہو چلے۔
Ayah 17:65اعلانِ باری تعالیٰ :
65: اِنَّ عِبَادِیْ (بیشک میرے بندے) صالحین پر لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ (تجھے ان پر قدرت نہ ہوگی) یعنی ان کے ایمان کو تبدیل کرنے کی طاقت نہ ہوگی البتہ گناہوں کی تسویل کی طاقت تو باقی ہے۔ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا (اور تیرا رب ذمہ دار ہونے کیلئے کافی ہے) ان کے لئے۔ وہ تجھ سے بچنے کیلئے اسی پر بھروسہ کریں گے۔ نمبر 2۔ تجھ سے بچانے کیلئے انکا نگہبان ہے ان میں سے ہر حکم تہدیدی ہے جس پر سزا ہوگی نمبر 2۔ امراہانت کیلئے ہے یعنی اس سے میری مملکت میں کچھ بھی نقصان نہ ہوگا۔
Ayah 17:66سمندروں میں جہاز چلانے والا وہی تو ہے پھر اس کی پکڑ سے کیسے بچ سکتے ہو :
66: رَبُّکُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ (تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لئے چلاتا ہے) چلاتا اور جاری کرتا ہے۔ لَکُمُ الْفُلْکَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ (کشتیاں سمندر میں تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو) فضل سے یہاں تجارتی نفع مراد ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا (بیشک وہ تمہارے حال پر بہت مہربان ہے) ۔
Ayah 17:6767: وَاِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ (جب تمہیں دریا میں کوئی تکلیف چھو لیتی ہے) اَلضُّر سے یہاں ڈوبنے کا خوف مراد ہے۔ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّا اِیَّاہُ (تو غائب ہوجاتے ہیں جن کو تم پکارتے تھے سوائے اس کی ذات باری تعالیٰ کے) ایک اللہ تعالیٰ وحدہ کے علاوہ تمہارے اوہام سے وہ تمام گم ہوجاتے ہیں جن کی تم عبارت کرتے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کا تذکرہ بھی نہیں کرتے۔ نمبر 2۔ غائب ہوگئے جن کو تم ٰالہہ میں سے فریاد رسی کیلئے پکارتے ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ اکیلا کہ جس کے تم امیدوارہو۔ اس صورت میں مستثنیٰ منقطع ہے۔
فَلَمَّا نَجّٰکُمْ اِلَی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ (پھر جب اللہ تعالیٰ تمہیں بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم کترا جاتے ہو) چھوٹنے کے بعد اخلاص سے اعراض کرتے ہو۔ وَکَانَ الْاِنْسَانُ (اور انسان) یعنی کافر انسان کَفُوْرًا (ناشکرا ہے) انعامات پر۔
Ayah 17:6868: اَفَاَ مِنْتُمْ (پس کیا تم اس بات سے بےفکر بیٹھے ہو) ۔ اس میں ہمزہ انکار کا ہے اور فاءؔ عاطفہ ہے جس کا عطف محذوف پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے أنجوتم فامنتم فحملکم ذلک علی الاعراض کیا تم نے نجات پالی پس تم امن میں ہوگے اور اس نے تمہیں اعراض پر آمادہ کیا۔ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ (کہ وہ تم کو خشکی کے ایک طرف میں لا کر زمین میں دھنسا دے)
نحو : جَانِبَ یَخْسِفَ کا مفعول بہٖ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ جیسا کہ الارض خسفنا کی وجہ سے اس آیت میں فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ ] القصص : 81[ بِکُمْ یہ حال ہے۔ مطلب یہ ہے وہ دھنسا دے خشکی کی جانب میں یعنی اس کو الٹ دے اس حال میں کہ تم اس میں موجود ہو۔ حاصل یہ ہے تمام جو انب ارض پر اللہ تعالیٰ کو یکساں قدرت حاصل ہے۔ اور وہ ہر جانب کا مالک ہے خواہ خشکی ہو یا سمندر یہ تو ہلاکت کے اسباب ہیں خشکی والی جانب اس کے لئے مخصوص نہیں بلکہ اگر سمندر میں غرق ہے تو خشکی میں دھنسنا ہے۔ جو مٹی کے نیچے غائب ہونے کو کہتے ہیں اور غرق پانی کے نیچے غائب ہونے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ عقل مند کو تو چاہیے کہ وہ تمام جوانب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور جہاں کہیں ہو اس کا خوف اس پر طاری رہے۔
اَوْیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا (یا تم پر کوئی کنکر والی آندھی بھیج دے) حَاصِباًؔ ایسی ہوا جو کنکر پھینکے اَلْحصباء کنکریاں نمبر 2۔ اگر ہلاکت نیچے کی طرف سے دھنسانے سے نہ آئے تو اوپر سے کنکریوں والی آندھی بھیج کر وہ ہلاک کرسکتا ہے۔ ثُمَّ لَاتَجِدُوْا لَکُمْ وَکِیْلًا (پھر تم کسی کو اپنا کارساز نہ پائو) جو اس کو تم سے ہٹا سکے۔
Ayah 17:6969: اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَکُمْ فِیْہِ تَارَۃً اُخْرٰی فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ (کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ خدا تعالیٰ تم کو دو بارہ دریا ہی میں لے جائے پھر وہ تم پر بھیج دے) یعنی یا تم بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہاری ضروریات کو بڑھادے اور دواعی کو پختہ کر کے دوبارہ تم سمندر کے سفر کی طرف لوٹ جائو جس سے اس نے تمہیں نجات دی پھر وہ تم سے اس طرح انتقام لے کہ تم پر قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ (ہوا کا سخت طوفان) قَاصِف اس ہوا کو کہتے ہیں جس میں سخت آواز ہو۔ نمبر 2۔ ایسی ہوا جو کشتی کو توڑ پھوڑ کردینے والی ہو۔ فَیُغْرِ قَکُمْ بِمَا کَفَرْتُمْ (پس وہ تمہارے کفر کے باعث تمہیں ڈبو دے) اس وجہ سے کہ تم نے نعمت کی ناشکری کی اور وہ ناشکری یہ ہے کہ جب اس نے تمہیں بچالیا تو تم نے اس سے منہ موڑ لیا۔
ثُمَّ لَاتَجِدُوْا لَکُمْ عَلَیْنَا بِہٖ تَبِیْعًا (پھر تم اپنے لئے ہمارا پیچھا کرنے والا نہ پائو) یعنی ہم سے مطالبہ کرنے والا۔ تبیع کا معنی اس آیت سے لیا گیا فاتِّبَاع بالمعروف ] البقرہ : 178[ (پس مطالبہ ہے دستور کے ساتھ) حاصل مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ جو چاہیں کریں تمہیں کوئی ایسا نہ مل سکے گا جو ہم سے بدلے کا مطالبہ کرسکے اور ہم سے بدلہ لے سکے۔ یہ اسی طرح ہے جیسا اس ارشاد میں لا یخاف عُقْبٰھا ] الشمس : 15 [
قراءت : اِنْ نَخْسِفْ اَوْ نُرْسِلْ اَنْ نُعِیْدَکُمْ فَنُرْسِلَ فَنُغْرِقَکُمْ کو مکی اور ابو عمرو نے نون سے پڑھا ہے۔
Ayah 17:70بنی آدم کو عزت دی :
70: وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ (ہم نے اولاد آدم کو عزت دی) عقل و نطق، خط، خوبصورت شکل، مناسب قد، تدبیر امور معاش اور معاد، تمام پر غلبہ، تسخیرا شیاء، تناول طعام بالایدی وغیرہ سے۔
نکتہ : ہارون رشید نے کھانا منگوایا اور اس نے چمچیاں بھی منگوائیں۔ اس کے پاس اس وقت امام ابو یوسف (رح) بھی موجود تھے۔ امام ابویوسف (رح) نے فرمایا۔ تمہارے دادا ابن عباس ؓ کی تفسیر میں یہ وارد ہے۔ ولقد کرمنا بنی آدمہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ان کو ہاتھ دیئے جن میں انگلیوں سے وہ کھانا کھاتے ہیں۔ ہارون نے تمام چمچیوں کو واپس کردیا اور انگلیوں سے کھانا تناول کیا۔
وَحَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ (اور ہم نے ان کو خشکی میں سوار کیا) جو پایوں پر وَالْبَحْرِ (سمندر میں) کشتیوں پر وَرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ (اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کیلئے عنایت کیں) لذید اشیاء۔ نمبر 2۔ ہاتھ سے کمائی ہوئی روزی۔ وَفَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا (اور ہم نے اس کو فضیلت دی بہت کثیر مخلوق پر) کثیر کا معنی ہے کہ تمام پر۔ جیسا کہ اس ارشاد میں اکثر کا لفظ تمام کا معنی دیتا ہے۔ و اکثر ھم کاذبون ] الشعراء : 223[ حسن (رح) کہتے ہیں : ای کلہم اور اس آیت میں وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرَھُمْ اِلَّاظَنًّا ] یونس : 36[ اکثرؔ کا معنی کلؔ ہے۔ کشاف میں ہے کہ اکثر سے مراد تمام ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا المُؤْمِنُ اَکْرَم عَلَی اللّٰہِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ ] رواہ ابن ماجہ : 3947[ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی فطرت میں طاعت ہے اور ان میں عقل بلا شہوت ہے اور بہائم میں شہوت بلاعقل ہے۔ اور آدمی میں دونوں ہی ہیں۔ پس جس کی عقل شہوت پر غالب آگئی وہ انسان فرشتوں سے افضل ہے اور جس کی شہوت اس کی عقل پر سوار ہوگئی وہ بہائم سے زیادہ ذلیل ہے۔ دوسری دلیل ہے کہ تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے بنایا اور انسان کو اپنی ذات کیلئے بنایا۔
Ayah 17:71قیامت کا ایک منظر :
71: یَوْمَ نَدْعُوْا (جس دن ہم بلائیں گے) یہ اذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ کُلَّ اُنَاسٍم بِاِمَا مِھِمْ (ان کے مقتدا کے ساتھ طلب کریں) باءؔ حال کیلئے ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : مختلطین بامامھم اس حال میں کہ وہ اپنے امام سے ملے جلے ہونگے امام سے ہر وہ مراد ہے جس کی انہوں نے اقتداء کی ہوگی خواہ وہ پیغمبر ہوں نمبر 2۔ دین میں مقدم ہو نمبر 3۔ کتاب نمبر 4۔ دین ‘ محاورہ میں اس طرح نسبت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ یَا اَتْبَاع فُلَان یَا اَہْلَ دِیْن کَذَا کتاب کذا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے نامہ عمل مراد ہے۔ جیسے کہتے ہیں یا اصحاب کتاب الخیر۔ یا اصحاب کتاب الشر۔
فَمَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَاُ ولٰٓپکَ یَقْرَ ئُ وْنَ کِتٰبَھُمْ (جن کو انکا نامہ عمل اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ پس وہ اپنی کتاب کو پڑھتے ہونگے) فمنؔ سے مراد یہی مدعوین ہیں۔ ان کو اُولٰئِک سے اس لئے تعبیر کیا کیونکہ منؔ معنًی جمع ہے۔ وَلَایُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا (ان پر دھاگے کے برابر ظلم نہ ہوگا۔ ) ان کے ثواب میں سے ادنی چیز بھی کم نہ کی جائیگی۔ یہاں کفار کا ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی ان کے بائیں ہاتھ میں کتاب ملنے کو ذکر کیا بلکہ اس قول پر اکتفاء کیا گیا۔
Ayah 17:72دنیا میں کفر آخرت کا اندھا پن :
72: وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ (اور جو شخص اس دنیا کی زندگی میں) اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی (اندھا ہے۔ وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ ) اسی طرح وَاَضَلُّ سَبِیْلًا (اور زیادہ راستہ سے بھٹکا ہوگا) یعنی اندھے سے بھی زیادہ گمراہ ہوگا۔ اعمٰی کے لفظ کو استعارۃً اس کے لئے استعمال فرمایا جو مبصرات کو بھی نہ دیکھے۔ کیونکہ اس کے حواس میں خرابی ہے اس شخص کی طرح کہ نجات کے راستے کی طرف راہ نہ پائے۔ دنیا میں تو اس لئے کہ غور و فکر نہیں پائی جاتی اور آخرت میں اس لئے کہ اب رہنمائی فائدہ نہیں دے سکتی۔ علماء نے یہ بھی جائز قرار دیا کہ دوسرا اعمی کا لفظ تفصیل کے معنی میں لیا جائے اس کی دلیل یہ ہے کہ اَضَلُّ کو اس پر عطف کے طور پر ذکر کیا گیا۔ جو کہ تفضیل کا صیغہ ہے اسی لئے ابو عمر و نے اپنی قراءت میں پہلے کو امالہ کے ساتھ اور دوسرے کو تفخیم کے ساتھ پڑھا ہے۔ کیونکہ اسم تفضیل تمام کا تمام من کے ساتھ آتا ہے۔ اور اس کے الف کا حکم وسط کلمہ کا ہے اس لئے وہ امالے کو قبول نہیں کرتا رہا اول اس کے ساتھ کوئی چیز بھی متعلق نہیں۔ پس اس کا الف ایک طرف میں واقعہ ہے اس لئے اس نے امالے کو قبول کرلیا۔ حمزہ اور علی نے دونوں کو امالے کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ بقیہ قراء نے تفخیم کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 17:73قریش کی چابکدستی اور عصمت نبوت کا ہاتھ :
73: جب قریش نے کہا رحمت کی آیت کو عذاب والی آیت بنادو اور عذاب والی آیت کو رحمت والی تب ہم تم پر ایمان لائیں گے پس یہ آیت اتری۔ وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ (اور یہ لوگ قریب تھا کہ آپ کو چچلا دیتے) اِنْ یہ مخففہ من المثقّلہ ہے اور اس کے جواب میں آنے والی لام وہ اس کو اور اِنْ نافیہ کو جدا کرتی ہے اب معنی یہ ہے کہ بیشک حال یہ ہے کہ وہ آپ کو دھوکے میں مبتلا کردیتے اور فتنہ میں ڈال دیتے۔ عَنِ الَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (اس وحی کے بارے میں جو ہم نے آپ کی طرف کی ہے) یعنی اوامر کی قسم میں سے اور نواہی میں سے اور اسی طرح وعدے اور وعید کی صورت میں۔ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہٗ (تاکہ اس کے سوا اور بات ہماری طرف آپ نسبت کریں) تاکہ آپ ہمارے متعلق وہ بات کہیں جو ہم نے نہیں کہی اور وہ وہی ہے جس کا انہوں نے مطالبہ کیا کہ وعدے کو وعید اور وعید کو وعدے سے بدل دے۔ وَاِذًا لَّا تَّخَذُوْکَ خَلِیْلًا (ایسی حالت میں آپ کو گہرا دوست بنا لیتے) یعنی اگر آپ ان کی مراد کی اتباع کرتے تو ضرور تمہیں گہرا دوست بنا لیتے اور آپ ان کی ولایت اختیار کر کے ہماری ولایت سے نکل جاتے۔
Ayah 17:7474: وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰکَ (اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنادیا ہوتا) یعنی اگر ہمارا ثابت قدم رکھنا اور ہماری عصمت نہ ہوتی لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْھِمْ (تحقیق قریب تھا کہ آپ جھک جاتے ان کی طرف) یعنی البتہ قریب تھا کہ آپ ان کے مکر کی طرف مائل ہوجاتے۔ شَیْئًا قَلِیْلًا (بہت ہی معمولی سا) یعنی تھوڑا سا جھکنا اس میں آپ کو تسلی دی گئی اور آپ کی فضیلت اور ثابت قدمی کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 17:7575: اِذًا لَّاَ ذَقْنٰکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ( اور اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ کو حالت حیات میں بھی اور موت کے بعد
دگنا عذاب چکھاتے) ۔ اِذًایہاں لَوْکے معنی میں ہے یعنی اگر آپ ان کی طرف ادنیٰ سے جھکائو کے بھی قریب ہوجاتے اِذًا لَّاَذَ قْنٰکَ سے مراد عذاب قبر اور عذاب آخرت ہے کہ وہ دگنا کر کے دیئے جاتے اس لئے کہ آپ کے مرتبہ اور نبوت کے شرف کیوجہ سے گناہ بہت بڑا ہوتا یہ اسی طرح ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : ینساء النبی من یات مِنْکن بفاحشۃ ] الاحزاب : 30[ اصل کلام اس طرح ہے۔ اِذًا لَّاَذَقْنٰکَ عَذَابَ الْحَیَاۃِ وَعَذَابَ الْمَمَاتِ کہ اس وقت ہم آپ کی زندگی میں اور موت کے بعد عذاب چکھاتے کیونکہ عذاب دو ہی ہیں نمبر 1۔ وہ عذاب جو موت کے بعد ہو اور یہی عذاب قبر ہے نمبر 2۔ آخرت کی زندگی میں ہونیوالا عذاب اور یہی عذاب نار ہے آیت میں عذاب کی صفت الضعف سے کی گئی جیسا کہ دوسری آیت میں آیا : فَاٰتِہِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ 5 ط ] الاعراف : 38[ یہاں ضعف بمعنی مضاعف کے ہے گویا اصل کلام اس طرح بنے گا اذالاذقنک عذابًا ضعفا فی الحیاۃ و عذابا ضعفًا فی الممات پھر اس عبارت میں سے موصوف کو حذف کر کے صفت کو اس کے قائم مقام لائے اور وہ ضعف ہے پھر صفت کی اضافت موصوف کی طرف کردی اور یوں فرما دیا۔ ضعف الحیاۃ وضعف الممات۔
(2) دوسری تفسیر یہ بھی درست ہے کہ ضِعْفَ الْحَیَاۃِ سے دنیا کا عذاب مراد لیا جائے اور ضِعْفَ الْمَمَات سے موت کے بعد آنے والا عذاب قبر اور عذاب نار مراد لیا جائے۔
نکتہ : آیت میں کاد اور پھر تقلیل ذکر فرمائی اور اس کے بعد دارین میں دوگنے عذاب کی سخت وعید لائی گئی۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بری چیز کی قباحت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جبکہ اس کا کرنے والا بڑی شان والا ہو جب یہ آیت اتری توحضور ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے اللّٰھُمَّ لاتَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْن یہ روایت مرسل ہے اس کو سالبی نے ذکر کیا۔ ثُمَّ لَاتَجِدُ لَکَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا (پھر آپ کو ہمارے مقابلہ میں اپنا کوئی مددگار نہ ملتا) یعنی ایسا مددگار جو ہمارے عذاب سے آپ کو بچا سکتا۔
Ayah 17:76مکہ سے قدم اکھاڑنے کی کوشش :
76: وَاِنْ کَادُوْا لَیَسْتَفِزُّ وْنَکَ مِنَ الْاَرْضِ (اور قریب تھا کہ وہ لوگ اس سرزمین سے آپ کے قدم اکھاڑ دیتے) کا دوا کی ضمیر اہل مکہ کی طرف لوٹ رہی ہے یَسْتَفِزُّوْنَ کا معنی عداوت کے ذریعے آپ کو تنگ کرنا اور اپنے فریب سے پریشان کرنا اور ارض سے مراد سرزمین مکہ ہے۔ لِیُخْرِجُوْکَ مِنْھَا وَاِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَکَ (تاکہ آپ کو وہاں سے نکال باہر کریں ایسی صورت میں آپ کے پیچھے تھوڑی مدت سے زیادہ نہ ٹھہر سکیں گے) لَایَلْبَثُوْنَ کا معنی باقی نہ رہنا اور خلاف کا معنی بعد ہے یعنی آپ کے نکال دینے کے بعد قراءت : ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء نے خلافکؔ پڑھا اور شامی نے بھی اسی کا ہم معنی پڑھا ہے البتہ نافع اور ابوعمرو نے خلفکؔ پڑھا ہے۔ اِلاَّ قَلِیْلاً (مگر بہت تھوڑا۔ ) یعنی تھوڑا سا زمانہ پس اللہ تعالیٰ ان کو عنقریب ہلاک کرنے والے ہیں چناچہ اسی طرح واقعہ ہوا آپ کے مکہ سے نکالے جانے کے تھوڑا عرصہ بعد ان کو بدر میں ہلاک کردیا گیا۔
(2) اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر یہ آپ کو نکال دیتے تو تمام کا استیصال کردیا جاتا انہوں نے آپ کو نکالا نہیں بلکہ آپ نے خود اللہ کے حکم سے ہجرت کی ایک قول یہ بھی ہے کہ ارض سے ارض عرب مراد ہے یا ارض مدینہ مراد ہے۔
Ayah 17:77اگر مکہ سے زبردستی نکالتے تو تمام ہلاک کردیئے جاتے :
77: سُنَّۃَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا (یہی ہمارا قاعدہ ان لوگوں کے ساتھ رہا ہے جن کو ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بنایا) کہ ہر قوم نے اپنے رسول کو اپنے درمیان سے نکال دیا۔ پس اس نکالنے پر اللہ تعالیٰ کا طریق اس کو ہلاک کردینے کا ہے۔
نحو : سُنَّۃَ یہ مصدر موکد کی طرح منصوب ہے۔ ای سَنَّ اللّٰہ ذٰلِکَ سُنَّۃً وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا (اور آپ ہمارے قاعدہ میں تبدیلی نہ پائیں گے) ۔