Ayah 17:78تشکر الٰہی :
78: اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ (آپ سورج کے زوال پر نماز قائم کریں) دلوک زوال کو کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ آیت تمام نمازوں کو جامع ہے۔ نمبر 2۔ دلوک کا معنی غروب ہو۔ اس صورت میں ظہر و عصر نکل جائے گی۔ (اصل دلک کا معنی ملنا ہے) اِلٰی غَسَقِ الَّیْلِ (رات کے چھاجانے تک) اندھیرے کو غسق کہا جاتا ہے اور یہ عشاء کا وقت ہے۔
وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (اور فجر کا قرآن) فجر کی نماز کو قرآن یعنی قراءت کہا۔ کیونکہ قراءت ایک رکن صلوۃ ہے جیسا کہ رکوع و سجود سے نام رکھتے ہیں (اس کی طوالت کی وجہ سے) اس آیت میں اصمّ کے خلاف دلیل پائی جاتی ہے کیونکہ اس کا خیال یہ ہے کہ قراءت رکن صلوۃ نہیں ہے۔ نمبر 2۔ قرآن اس لئے کہا گیا کیونکہ اس میں قراءت طویل ہوتی ہے۔ اور اس کا عطف الصلاۃ پر ہے۔ اِنَّ قُرْٰانَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوْدًا (بیشک فجر کا قرآن فرشتوں کی حاضری کا وقت ہے) رات اور دن کے فرشتے اس میں شریک ہوتے ہیں۔ دن والے اترتے ہیں اور رات والے آسمانوں کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ پس یہ رات کے آخری حصہ میں ہے اور دن کی ابتداء میں واقع ہے ( اس لئے اس کو مشہود کہا)
نمبر 2۔ عادۃ اس میں زیادہ نمازی حاضری دیتے ہیں۔
Ayah 17:7979: وَمِنَ الَّیْلِ ( اور رات کو) تم پر رات کا بعض حصہ جاگنا لازم ہے۔ فَتَھَجَّدْ (تم تہجد پڑھو) التھجدؔ نماز کیلئے نیند کو چھوڑنا۔ نیند کے بارے میں کہا جاتا ہے تہجدؔ وہ نیند سے بیدار ہوا۔ بِہٖ (قرآن مجید کے ساتھ) نَافِلَۃً لَّکَ (یہ زائد ہے تیرے لئے) یہ پانچوں نمازوں سے زائد عبادت تم پر لازم کی ہے گویا تہجد اور نافلہ کو ایک ہی معنی جمع کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز پانچوں نمازوں سے زائد آپ پر بطور غنیمت کے بڑھائی گئی ہے۔ نمبر 2۔ یہ آپ پر فرض ہے اور کسی پر فرض نہیں ہے کیونکہ وہ امت کیلئے نفل ہے۔ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدً (امید ہے کہ آپکا رب آپ کو مقام محمود پر جگہ دے گا) مقامًا محمودًا۔ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہے عسٰی ان یبعثک یوم القیامۃ فیقیمک مقامًا محمودًا یقیمفعل کا مفعول ہوا۔ نمبر 2۔ یَبْعَثَکَمیں معنی یقیمک کا ضمناً پایا جاتا ہے۔ اور یہ یبعثک کا مفعول ہے۔
Ayah 17:80مسلک ِجمہور :
نمبر 1۔ مقام محمود شفاعت کبری کا مقام ہے۔ روایت اس پر دلالت کرتی ہیں۔ نمبر 2۔ یہ وہ مقام ہے جس میں آپ کو لواء الحمد عنایت کیا جائے گا۔
80: وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ (اور کہہ دیں اے میرے رب مجھے خوبی کے ساتھ پہنچانا اور خوبی کے ساتھ لے جانا) مدخلؔ یہ مصدر ہے تقدیر عبارت یہ ہے ادخلنی القبر ادخالا مرضیا علی طہارۃ من الزلات۔ مجھے قبر میں لغزشوں سے طہارت کے ساتھ پسندیدہ حالت میں داخل کرنا۔ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ (اور مجھے اچھی طرح نکالنا) نمبر 1۔ اس قبر سے مجھے پسندیدہ حالت میں نکالنا کہ عزت والی ملاقات ہو۔ ملامت سے محفوظ ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بعث کا تذکرہ کرنے کے بعد اس آیت کو لایا گیا ہے۔ نمبر 2۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ہجرت کا جب حکم ہوا تو اس وقت یہ آیت اتری پھر داخلہؔ سے مراد مدینہ منورہ میں داخلہ اور اخراجؔ سے مکہ سے نکلنا مراد ہے۔ نمبر 3۔ یہ آیت عام ہے جب بھی جہاں کہیں آپ داخل ہوں اور جس کام میں آپ ہاتھ ڈالیں۔ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا (اور اپنے پاس سے مجھے غلبہ دینا جس میں نصرت شامل ہو) ایسی حجت عنایت فرما جو مخالفین پر غالب کرنے والی ہو۔ نمبر 2۔ ایسی مملکت و شوکت و قوت عنایت کر جو کفر کے خلاف اسلام کی مددگار اور کفر پر غلبہ دینے والی ہو۔
Ayah 17:81استجابتِ حق :
81: وَقُلْ جَآ ئَ الْحَقُّ (اور کہہ دو حق آیا) حق سے اسلام مراد ہے۔ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ (اور باطل گیا) ہلاک و برباد ہوا۔ باطل سے شرک مراد ہے۔ نمبر 2۔ قرآن آیا اور شیطان ہلاک ہوا۔ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا (بیشک باطل برباد ہونے والا ہے) ہر زمانہ میں باطل اسی لائق ہے کہ وہ برباد ہوجائے۔
Ayah 17:82قرآن ہی شفاء ہے :
82: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَاھُوَ شِفَآ ئٌ وَّ رَحْمَۃٌ (اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو شفاء اور رحمت ہیں)
قراءت : ابوعمرو نے نُنْزِلُ تخفیف سے پڑھا ہے۔ من القرآنؔ میں منؔ تبعیضیہ ہے۔ شفاءؔ سے امراض قلوب کی شفاء مراد ہے اور رحمتؔ دکھوں کا علاج اور عیوب کی تطہیر اور گناہوں کی تکفیر مراد ہے لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (ایمان والوں کیلئے) ۔ حدیث میں وارد ہے من لم یستشف بالقرآن فلا شفاء اللّٰہ (ا لثعلبی کنز العمال) جو قرآن سے شفاء حاصل نہ کرے خدا کرے اس کو شفاء نہ ہو۔ وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ (اور نہیں اضافہ کرتا ہے ظالموں کیلئے) ظالم سے کافر مراد ہیں۔ اِلَّا خَسَارًا (مگر نقصان میں) اس کی تکذیب و کفر کی وجہ سے گمراہی بڑھے گی۔
Ayah 17:83انسان کا عمومی حال :
83: وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ (اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں) صحت اور خوشحالی کا اَعْرَضَ (وہ اعراض کرتا ہے) اللہ تعالیٰ کی یاد سے نمبر 2۔ قرآن دیکر انعام کرتے ہیں تو وہ اس سے منہ موڑتا ہے۔ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ (اور پہلو پھیر لیتا ہے) یہ اعراض کی تاکید ہے۔ کیونکہ کسی شئی سے اعراض کا مطلب یہ ہے کہ اپنے چہرے کے عرض کو اس سے پھیرے۔ اور النأی بالجانبؔ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کندھے کو اس سے پھیرلے اور اس کی طرف پیٹھ کرے۔ نمبر 2۔ مراد اس سے تکبر ہے کیونکہ یہ متکبرین کی عادات میں سے ہے۔
قراءت : نأی حمزہ نے امالہ کے ساتھ اور علی نے کسرہ سے پڑھا ہے۔
وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ (جب اس کو برائی آلیتی ہے) شرّؔ سے فقر و مرض مراد ہے نمبر 2۔ کوئی مصیبت شاقہ مراد ہے کَانَ یَئُوْسًا (وہ ناامید ہوجاتا ہے) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت مایوس ہوجاتا ہے۔
Ayah 17:8484: قُلْ کُلٌّ(کہہ دیں تمام) یعنی ہر ایک یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ (اپنے طریقے پر کام کر رہا ہے) اپنے راستے اور اس طریقے پر جو ہدایت و گمراہی میں اس نے اختیار کر رکھا ہے۔ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلًا (تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ صحیح راستہ پر ہے) راستہ اور طریقہ کے لحاظ سے۔
Ayah 17:85روح کا سوال :
85: وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ (اور آپ سے روح کے متعلق وہ سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیں) الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ (روح میرے رب کا حکم ہے) یعنی ایسے معاملات میں سے ہے جس کو میرا رب جانتا ہے۔
جمہور کا قول :
حیوان میں جو روح پائی جاتی ہے اس کے متعلق انہوں نے سوال کیا تھا کہ اس کی حقیقت کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اطلاع دی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یعنی ان چیزوں میں سے جس کا حقیقی علم اس ہی کے پاس ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے۔ اور روح کے متعلق نہ جانتے تھے۔ (واحدی فی الوسیط) پہلے لوگ اس کی حقیقت کو دریافت کرنے سے عاجز و درماندہ ہوئے باوجودیکہ انہوں نے اپنی طویل عمریں اس کی تفتیش و دریافت میں صرف کردیں۔
اور حکمت اس میں یہ ہے کہ مخلوق تو اپنے سے قریب ترین مخلوق کی حقیقت کو دریافت کرنے سے عاجز ہے۔ پس وہ اللہ کی ذات کا ادراک کرنے سے بدرجہ اولی عاجز تر ہے۔ اسی وجہ سے اس کی تعریف میں جو کچھ کہا گیا وہ قابل رد ہے۔ نمبر 1۔ کہ وہ ایک لطیف ہوائی جسم ہے جو حیوان کے ہر جزء میں پایا جاتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ فرشتے سے بڑی روحانی مخلوق ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ روح سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ جیسا دوسری آیت میں فرمایا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ] الشعراء : 193 [ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں اس سے قرآن مراد ہے اس کی دلیل اس آیت میں ہے کہ : وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا 1 ] الشوری : 52[ اور دوسری دلیل ہے کہ قرآن سے دلوں کو زندگی میسر آتی ہے۔ مِنْ اَمْرِرَبِّیْ یعنی اس کی وحی سے اللہ تعالیٰ کا کلام انسانوں جیسا کلام نہیں۔
روایت میں ہے کہ یہود نے ایک وفد قریش کی طرف بھیجا۔ کہ اپنے پیغمبر سے تم تین سوال کرو۔ نمبر 1۔ اصحاب کہف کون تھے۔ نمبر 2۔ ذوالقرنین بادشاہ کی مہم جوئی۔ نمبر 3۔ روح کی حقیقت کیا ہے اگر وہ تمام کا جواب نہ دیں تو وہ پیغمبر نہیں اور اگر بعض کا جواب دیں اور بعض سے خاموش رہیں تو وہ پیغمبر ہیں۔
پس آپ نے دونوں واقعات کو ان کے سامنے واضح طور پر بیان کردیا۔ اور روح والے جواب کو مبہم رکھا۔ یہ تورات میں بھی مبہم ہے۔ پس قریش کو اپنے سوالات پر خفت ہوئی۔ بعض کہتے ہیں کہ سوال روح کی تخلیق کے متعلق تھا۔ یعنی وہ مخلوق ہے یا غیر۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان من امر ربی۔ یہ روح کے مخلوق ہونے کی دلیل ہے پس یہ ان کے سوال کا جواب ہوا۔
انسانی علم قلیل ہے :
وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلاً (اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا) اس میں خطاب عام ہے۔ روایت میں وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو یہ پڑھ کر سنایا تو وہ کہنے لگے یہ خطاب ہمیں خاص کر کیا گیا یا آپ اس خطاب میں ہمارے ساتھ ہیں۔ آپ نے فرمایا بلکہ ہم اور تم دونوں کو تھوڑا ہی علم دیا گیا۔ ] رواہ الثعلبی[
نمبر 2۔ یہ خصوصًا یہود کو خطاب ہے کیونکہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو کہا ہمیں تورات کا علم دیا گیا جس میں حکمت ہے۔ اور تم نے خود تلاوت کی ہے وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کثیْرًا (البقرۃ 249) کہ جس کو حکمت مل جائے وہ خیر کثیر پالیتا ہے۔ اس کے جواب میں انہیں کہا گیا تورات کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں قلیل ہے۔ پس قلت و کثرت تو اضافی چیزیں ہیں۔ اس لئے بندے کو جو خیر کثیر میسر آئی ذاتی اعتبار میں وہ اگرچہ کثیر ہے مگر اس کا تقابل جب علم الہٰی سے ہوگا تو اس وقت وہ قلیل درقلیل واقع ہوگی۔
Ayah 17:86وحی محض رحمت ہے مجادلین کے مقابلے میں صبر کریں :
86: پھر نعمت وحی پر متنبہ کیا اور آپ کو صبر کی تلقین کی ایسے لوگوں کی ایذاء پر جو سوال میں مجادلہ اختیار کرنے والے تھے فرمایا۔ وَلَپنْ شِئْنَا لَنَذْھَبَنَّ بِالَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (اور اگر ہم چاہیں تو جس قدر وحی آپ کی طرف کی ہے۔ سب کو سلب کرلیں) جو اب قسم محذوف ہے اس کے ساتھ یہ جزاء شرط کے قائم مقام ہے۔ اور ان ؔ پر لام کو قسم کی تمہید کیلئے داخل کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے اگر ہم چاہیں تو قرآن کو لے جائیں اور مصاحف و صدور سے اس کو مٹا دیں اور اس کا کوئی نشان بھی نہ باقی رہنے دیں۔ ثُمَّ لَاتَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلًا (پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پائوگے) یعنی پھر اس کے لے جانے کے بعد کوئی ایسا شخص جس پر واپس لوٹانے میں بھروسہ کرسکیں اور محفوظ ومسطور واپس کر وسکیں۔
Ayah 17:8787: اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ اِنَّ فَضْلَہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا (مگر یہ آپ کے رب کی رحمت ہے۔ بیشک اس کا فضل آپ پر بہت ہے) یعنی مگر آپ کا رب آپ رحمت کر کے آپ پر لوٹا دے۔ (وہ ایسا کرسکتا ہے) اس کی رحمت ہی ایک ایسی چیز ہے جس پر آپ اس کے واپس کرنے میں بھروسہ کرسکتے ہیں۔ نمبر 2۔ مستثنیٰ منقطع ہے۔ تو معنی یہ ہے لیکن یہ تیرے رب کی مہربانی ہے اس لئے اس کو بغیر لے جانے کے چھوڑ دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید کے محفوظ باقی رہنے کا احسان ہے۔ اس کے بعد کہ اس نے اس کو اتارا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی۔
Ayah 17:88کفار کا جواب :
88: یہ آیت نضر بن حارث کے قول کے جواب میں اتری۔ اس نے کہا لو نشاء لقلنا مثل ھذا ] الانفال : 31[ قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٰٓی اَنْ (آپ کہہ دیں اگر انسان اور جنات متفق ہو کر ایسا قرآن) یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ (لانے کیلئے جمع ہوجائیں۔ تو اس جیسا قرآن نہیں لاسکیں گے) وَلَوْکَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا (خواہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوجائیں) ظہیرؔ کا معنی معین و مددگار۔ لا یاتونؔ یہ قسم محذوف کا جواب ہے۔ اگر تمہیدی لام نہ ہوتی تو جائز تھا کہ یہ جواب شرط بن جاتا۔ جیسا کہ اس قول میں ہے۔
یقول لاغائب مالی ولا حرم
آیت میں شرط ماضی واقع ہوئی ہے یعنی اگر وہ ایک دوسرے کی پشت پناہی کریں اس غرض کیلئے کہ وہ اس قرآن کی مثال بلاغت اور حسن نظم اور تالیف میں لائیں تو وہ ضرور اس کی مثل سے عاجز رہیں گے۔
Ayah 17:89قرآن نے ہر قسم کی مثالیں بیان کیں مگر انہوں نے کفر کی ٹھانی ہے :
89: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا (تحقیق ہم نے طرح طرح سے بیان کیں) باربار لوٹائیں دوبارہ سہ بارہ لائے۔ لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ (لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں) ہر معنی کے لحاظ سے قرآن غرابت وحسن کی ایک مثال ہے۔ فَاَبٰٓی
اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا (پس اکثر لوگ بغیر انکار کے نہ رہے) یہ جائز نہیں ضربت الازیدًا کیونکہ ابیؔ میں تاویلاً نفی ہے۔ گویا اس طرح کہا : فَلَمْ یَرْضَوْا اِلاَّ کُفُوْرًا کہ وہ کفر کے علاوہ اور کسی چیز پر راضی نہ ہوئے۔
Ayah 17:9090: جب قرآن کا اعجاز واضح کردیا تو دیگر معجزات اس کے ساتھ ملائے۔ اور ان پر دلیل کو لازم کردیا۔ انہوں نے مغلوب ہو کر منہ مانگی نشانیاں مانگنی شروع کردیں جس طرح مبہوت اور دلیل میں شکست خوردہ اور حیران شخص کیا کرتا ہے۔ وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَ لَنَا (اور وہ کہنے لگے ہم ہرگز آپ پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے لئے بہائے)
قراءت : کوفی نے تَفجُر کو تخفیف سے پڑھا ہے۔
اعجاز قرآنی سے درماندہ ہو کر منہ مانگی نشانی پر زور :
مِنَ الْاَرْضِ (زمین سے) سرزمین مکہ سے یَنْچبُوْعًا (چشمہ) کثیر پانی والا چشمہ جس کا حال یہ ہو کہ پانی اس سے ابلتا جائے منقطع نہ ہو۔ یہ نبع الماء سے یفعول کا وزن ہے۔
Ayah 17:9191: اَوْتَکُوْنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ (یا آپ کے لیے کوئی کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو پھر اس باغ میں آپ جاری کردیں)
قراءت : تُفَجِّرَ تشدید کے ساتھ یہاں تمام قراء کے نزدیک متفق علیہ ہے۔
الْاَنْھٰرَ خِلٰلَھَا (بہت سی نہریں اس کے درمیان میں) تَفْجِیْرًا ( بہانا، جاری کرنا)
Ayah 17:9292: اَوْتُسْقِطَ السَّمَآ ئَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا ( یا جیسا کہ آپ کہا کرتے ہیں آسمان کے ٹکڑے ہم پر نہ گرا دیں)
قراءت : مدنی اور عاصم نے کسفاً کو سین کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کا معنی ٹکڑے ہے جیسے کہا جاتا ہے اعطنی کسفۃ من ھذہ الثوب۔ دیگر قراء نے سکون سین کے ساتھ پڑھا جو کہ کِسْفَۃٌ کی جمع ہے جیسے سِدْرَۃٌ وَسِدْرٌ۔ وہ اس سے وہی مراد لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْہِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ 1 ] سورة سبا : 9[
اَوْتَاتِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓپکَۃِ قَبِیْلًا ( یا آپ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کو ہمارے سامنے لا کر نہ کھڑا کردیں) قبیلؔ کا معنی کفیل ہے کہ جو کچھ تم کہتے ہو اس کی صحت کے تم خود شاہد ہو اس لیے اللہ تعالیٰ کو اور اس کے فرشتوں کو سامنے پیش کرو۔ جو تمہاری بات کی شہادت دیں یہ اسی طرح ہے جیسا کہ شاعر کے اس قول میں کنت منہ و والدی بریئا ……
نمبر 2۔ قبیل بمعنی مقابل ہے جیسے عشیر بمعنی معاشر۔ اس کی مثال اس آیت میں ہے لولا انزل علینا الملٰٓئکۃ اونری ربنا۔ نمبر 3۔ قبیلاً بمعنی جماعت ہے اس وقت یہ الملائکہ سے حال ہوگا۔ یعنی ملائکہ کو جماعت کی شکل میں سامنے لائے۔
Ayah 17:9393: اَوْیَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌمِّنْ زُخْرُفٍ (یا تمہارے لیے سونے کا مکان ہو) اَوْتَرْقٰی فِی السَّمَآ ئِ (یا تم آسمان پر چڑھ جائو) زخرف کا معنی سونا اور ترقی کا معنی چڑھنا ہے۔ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ (اور ہم تمہارے صرف چڑھنے پر بھی یقین نہیں کریں گے) یعنی چڑھ جانے کی وجہ سے یقین نہیں کریں گے۔ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤُ ہٗ (جب تک کہ تم ایسی کتاب نہ لے کر اترو جس کو ہم پڑھیں) ۔
قراءت : ابو عمرو نے تُنْزِل پڑھا ہے اور کتاب سے مراد ایسی کتاب جس میں آپ کی تصدیق ہو۔ نَقْرَؤُ فعل یہ کتاب کی صفت ہے۔
مطالباتِ کفار کا جواب :
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (کہہ دیں میرا رب پاک ہے میں تو صرف ایک بشر اور پیغمبر ہوں)
قراءت : مکی اور شامی نے قل کو قال پڑھا۔ اے قال الرسول رسول نے کہا سبحن ربی سے ان کے مطالبات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔ اور ہَلْ کُنْتُ اِلاَّ بَشَرًا کہہ کر یہ بتلایا کہ میں دوسرے رسولوں کی طرح رسول اور بشر ہوں۔ انبیاء (علیہم السلام) اپنی قوموں کے پاس وہی نشانات ظاہر کرتے ہیں جو اللہ ان کو دیتے ہیں پس معجزات کو ظاہر کرنا میرے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ کے اختیار میں ہے پھر تمہیں کیا ہے کہ تم بار بار مجھ پر فرمائشیں ڈال رہے ہو۔
Ayah 17:94لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پکا ہوگیا کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا :
94: وَمَا مَنَعَ النَّاسَ (اور نہیں لوگوں کو روکا) یہاں الناس سے اہل مکہ مراد ہیں۔ اَنْ یُّؤْمِنُوْا ( یہ کہ وہ ایمان لائیں) یہ منع کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اِذْجَآ ئَ ھُمُ الھُدٰٓی (جب کہ ان کے پاس ہدایت آچکی) ھدی سے مراد یہاں پیغمبر اور قرآن ہے۔ اِلَّا اَنْ قَالُوْا (مگر کہ انہوں نے یہ کہا) یہ منع کا فاعل ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے۔
وما منعھم الایمان بالقرآن و بنبوۃ محمد ا الا قولھم ابعث اللّٰہ بشرا رسولا یعنی یہ شبہ ان کے دلوں میں پختہ ہوگیا کہ بشر کو اللہ تعالیٰ نبی نہیں بنا سکتے اسی شبہ نے ان کو ایمان لانے سے روکا۔
اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلًا (کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا) اس میں ہمزہ انکار کے لیے ہے اور جس چیز کا انہوں نے انکار کیا پس اس کے خلاف اللہ کے ہاں قابل انکار تھا۔ کیونکہ اس کی حکمت کا تقاضا بھی یہ تھا کہ وہ وحی والا فرشتہ اپنے جیسوں کی طرف بھیجے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اگلے ارشاد میں ان کی تردید اس طرح فرمائی۔
Ayah 17:95اس کا اصولی جواب :
95: قُلْ لَّوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓپکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ (آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان کے ساتھ چلتے پھرتے) یمشونؔ سے مراد پیدل چلنا ہے جس طرح کہ انسان چلتے ہیں اور وہ اپنے پروں سے نہ اڑتے کہ آسمان والوں کی باتیں سنتے اور ان چیزوں کا علم حاصل کرتے جن کا جاننا ضروری تھا۔ مطمئنین یہ حال ہے یعنی زمین میں بڑے قرینے سے رہتے لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآ ئِ مَلَکًا رَّسُوْلًا (تو ہم ضرور ان کے لیے آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر اتار دیتے) جو ان کو بھلائی کی تعلیم دیتا اور بھلائی کے مقامات کی طرف ان کی راہنمائی کرتا۔ رہے انسان تو فرشتے کو ان میں سے اسی کی طرف بھیجا جاتا ہے جس
کو نبوت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ پس وہ چنا ہوا ان کو دعوت دیتا اور ان کی راہنمائی کرتا ہے۔
نحو : بشرا اور ملکا یہ دونوں رسول سے حال ہیں۔
Ayah 17:96آپ کی سنت پر اللہ کی گواہی کافی ہے :
96: قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًام بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ (آپ کہہ دیں میرے اور تمہارے درمیان شہادت کے لیے اللہ ہی کافی ہے) اس بات پر کہ میں نے تمہاری طرف وہ پیغام پہنچا دیا جو مجھے دیکر بھیجا گیا اور تم نے اس کو جھٹلا دیا اور عناد اختیار کیا۔
نحو : شہیداؔ یہ تمیز ہے یا حال ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ بَعِبَادِہٖ خَبِیْرًام بَصِیْرًا ( کیونکہ وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا اور دیکھتا ہے) خواہ وہ ڈرانے والے پیغمبر ہوں یا وہ لوگ ہوں جن کو ڈرایا گیا۔ خبیر کا معنی ان کے حالات سے باخبر ہے اور بصیر کا معنی ان کے افعال کو دیکھنا ہے پس اسی لیے وہ ان کو بدلہ دیگا۔ اس جملہ میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی اور کفار کو وعید سنائی گئی۔
Ayah 17:97ہدایت طلب والے کو ملے گی :
97: وَمَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ (جس کو اللہ تعالیٰ راہ راست پر لگائے وہی ہدایت پانے والا ہے)
قراءت : یعقوب اور سہل نے المہتدی پڑھا ہے۔ ابو عمرو اور مدنی نے وصل میں ان کی موافقت کی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت قبول کرنے کی توفیق دے دیں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہدایت پانے والا ہے۔ وَمَنْ یُّضْلِلْ ( اور جس کو گمراہ چھوڑ دے) یعنی اس کو رسوا اور ذلیل کرے اور اس کی شیطانی وساوس قبول کرنے سے حفاظت نہ کرے۔ فَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِہٖ (تو ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی حمایتی نہ پائو گے) جو ان کو راستے پر ڈال سکے۔ یہاں اولیاءؔ انصار و معاونین کے معانی میں ہے۔ وَنَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْ ھِھِمْ ( اور ہم ان کو اٹھائیں گے قیامت کے دن چہروں کے بل) یعنی چہروں کے بل ان کو کھینچا جائے گا جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے۔ یوم یسحبون فی النار علی وجوہھم ] القمر : 48[ آنحضرت ﷺ سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ چہروں کے بل کیسے چلیں گے۔ تو آپ نے فرمایا جو ذات قدموں سے ان کو چلانیوالی ہے وہ چہروں کے بل بھی چلانے کی قدرت رکھتی ہے ] ترمذی۔ احمد[
عُمْیًا وَّ بُکْمًا وَّصُمًّا ( اندھے بہرے اور گونگے) جس طرح کہ وہ دنیا میں نہ بصیرت رکھتے تھے اور نہ سچی بات بولتے تھے اور اس کے سننے سے بھی بہرے تھے وہ آخرت میں بھی اسی طرح ہونگے ایسی چیز نہ دیکھنے پائیں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور نہ ہی ایسا نغمہ سنیں گے جس سے ان کے کان لذت پائیں اور نہ ہی وہ ایسی بات بولیں گے جو ان کی طرف سے منظور کی جائے۔ مَاْ وٰھُمْ جَھَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰـہُمْ سَعِیْرًا (ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ آگ دھیمی ہونے لگے گی تو ہم اس کی بھڑک میں اضافہ کردیں گے) خبتْکا معنی لپٹ کا کم ہونا اور سعیرؔ کا معنی بھڑکنا۔
Ayah 17:98عذاب کے دو سبب کفر اور انکار قیامت :
98: ذٰلِکَ جَزَآ ؤُ ھُمْ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَقَالُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا (یہ سزا ان کو
اس لئے دی جائے گی کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ یزہ ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے) ذلکؔ کا مشار الیہ وہ عذاب ہے جو ان کو اس سبب سے دیا گیا کہ انہوں نے بعث بعدالموت کا انکار کیا پس اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے سارے اجزاء پر مسلط کردیا جو ان کو کھارہی ہے۔ اور پھر مٹا رہی ہے اور وہ اسی حالت میں ہمیشہ رہیں گے تاکہ بعث بعد الموت کی تکذیب پر ان کی حسرت بڑھتی ہی رہے۔
Ayah 17:9999: اَوَلَمْ یَرَوْا (کیا وہ نہیں جانتے) اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ ( کہ جس اللہ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کرے) مثلہم سے مراد ان جیسے انسان وَجَعَلَ لَھُمْ اَجَلًا لَّارَیْبَ فِیْہِ (اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا گیا ہے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں) وہ موت ہے یا پھر قیامت فَاَبَی الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا کُفُوْرًا (پھر بھی ظالم لوگ بغیر انکار کے نہ رہے) باوجود اس کے کہ دلائل واضح ہوچکے انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی یہ انکار بےجا تھا۔ اگر تم خزانوں کے مالک ہوتے تو یہ نبوت محمد (ﷺ) کو ملتی۔
Ayah 17:100100: قُلْ لَّوْاَنْتُمْ تَمْلِکُوْنَ (کہدیں اگر تم مالک ہوتے) تقدیر عبارت یہ ہے لو تملکون انتم۔
نحو : کیونکہ لَوْ افعال پر داخل ہوتا ہے اسماء پر نہیں۔ پس فعل کا لانا اس کے بعد ضروری ہے۔ پس تملک کو مضمر مان لیا گیا کیونکہ اس کی تفسیر آرہی ہے اور ضمیر منفصل کی بجائے ضمیر متصل لائے اور وہ انتم ہے کیونکہ جس سے وائو متصل تھی وہ لفظوں میں ساقط ہوگیا پس انتم فعل مضمر کا فاعل ہے اور تملکونؔ اس کی تفسیر ہے۔ علم نحوکا یہی تقاضہ ہے۔
اہل علم بیان کہتے ہیں کہ انتم تملکون میں اختصاص کی دلالت پائی جاتی ہے اور لوگ ہی انتہائی بخل کے ساتھ خاص ہیں۔ خَزَآئِنَ رَحْمَۃِ رَبِّیْ (میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے) رزق اور تمام انعامات جو اس نے اپنی مخلوقات پر کر رکھے ہیں۔ اِذًا لَّاَ مْسَکْتُمْ خَشْیَۃَ الْاِنْفَاقِ (تو اس صورت میں تم ضرور خرچ کرنے سے ہاتھ روک لیتے) تم ضرور بخل کرتے اس ڈر سے کہ کہیں انفاق ان کو ختم نہ کر ڈالے۔ وَکَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا (انسان بڑا تنگدل ہے) قتور کا معنی بخیل ہے۔
Ayah 17:101نو معجزات موسوی :
101: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ (بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلے ہوئے نو معجزات دیے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ عصا، یدبیضاء، مکڑی، جوئیں، مینڈک، خون، پتھر بن جانا، سمندر اور طور ہیں۔ جس کو بنی اسرائیل پر لٹکایا۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں وہ طوفان، قحط سالی، نقص ثمرات، اشیاء کا پتھر بننا، سمندر، طور ہیں۔
فَسْئَلْ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (پھر ہم نے کہا تم بنی اسرائیل کو (فرعون سے) مانگ لو) یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا بنی اسرائیل کو فرعون سے مانگ اور اس طرح کہہ فارسل معی بنی اسرائیل ] الاعراف : 105[ اِذْ جَآ ئَ ھُمْ (جب کہ وہ ان کے پاس آئے) یہ قول محذوف کے متعلق ہے۔ ای قلنا لہ سلہم حین جاء ھم۔ فَقَالَ لَہٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَ ظُنُّکَ یٰـمُوْسٰی مَسْحُوْرًا (ان کو فرعون نے کہا میرا تو قطعی خیال ہے کہ تیرے اوپر اے موسیٰ جادو کردیا گیا ہے) تمہیں جادو کیا گیا جس سے تمہاری عقل بگڑ چکی۔
Ayah 17:102موسیٰ ( علیہ السلام) کی تقریر :
102: قَالَ (کہا) موسیٰ علیہ اسلام نے لَقَدْ عَلِمْتَ (تحقیق تو جانتا ہے) اے فرعونمَآ اَنْزَلَ ھٰٓؤُلَآئِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (نہیں اتاری یہ آیات مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے) ھؤلاء کا مشارالیہ آیات ہیں۔ رب کا معنی انکا خالق بَصَآپرَ (بصیرت حاصل کرنے کیلئے) یہ حال ہے بمعنی واضح، کھلی، البتہ تو معاند ہے۔ اور دوسری آیت میں فرمایا : وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسہم ظلمًا وعلوا ] النحل : 14[
قراءت : علی نے عَلِمْتُ ضمہ سے پڑھا۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ میں مسحور نہیں ہوں جیسا کہ تم نے میرے متعلق بیان کیا بلکہ میں معاملے کی صحت کو جاننے والا ہوں اور ان آیات کا اتارنے والا آسمان و زمین کا رب ہے پھر آپ نے اپنے گمان کو اس کے گمان کے ساتھ اس طرح مقابلہ کیا۔
وَاِنِّیْ لَاَظُنُّکَ یٰـفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا (بیشک میں تمہیں اے فرعون ہلاک ہونے والا گمان کرتا ہوں) گویا کہ آپ نے اس طرح فرمایا کہ اگر تو مجھے مسحور قرار دیتا ہے تو میرے خیال میں تو ہلاک ہونے والا ہے۔ اور میرا گمان تیرے گمان سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس کی علامات ظاہر ہیں اور وہ تیرا انکار ہے جس کا صحیح ہونا تو پہچان چکا ہے اور اس کی آیات کے واضح ہونے کے بعد تو ڈھٹائی سے انکا مقابلہ کررہا ہے اور رہا تیرا گمان تو وہ محض جھوٹ ہے کیونکہ تو نے میرے معاملے کو جاننے کے باوجود یہ کہہ دیا ہے اِنِّی لَاظُنُّکَ مسحورًا یہ جھوٹا قول ہے۔ فراء کہتے ہیں کہ مثبورا کا معنی بھلائی سے پھر اہوا جیسے عرب کا قول ہے۔ ماثَبَرَکَ عَنْ ہٰذا یعنی اس بات سے تمہیں کس بات نے پھیر دیا اور روک دیا۔
Ayah 17:103103: فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّھُمْ (اس نے ارادہ کیا کہ وہ ان کے قدم اکھاڑ دے) یعنی موسیٰ علیہ اسلام اور ان کی قوم کو نکال دے۔ مِّنَ الْاَرْضِ (زمین سے) یعنی ارض مصر سے یا سطح زمین سے ان کو قتل واستیصال سے جلا وطن کرے۔ فَاَغْرَقْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ جَمِیْعًا (پس ہم نے اس کو اور اس کے تمام ساتھ والوں کو غرق کردیا) پس اس کی تدابیر اسی پر طاری ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قبطیوں سمیت مصر سے اکھاڑ دیا۔
Ayah 17:104بنی اسرائیل کو ٹھکانہ دیا :
104: وَّقُلْنَا مِنْم بَعْدِہٖ لِبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ (اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل کو کہا تم اس سرزمین میں رہو) بعدہ سے مراد فرعون کے بعد۔ الارض سے وہ سرزمین مراد ہے جس سے فرعون نے اس کو نکالنے کا ارادہ کیا۔ فَاِذَا جَآ ئَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ (پس جب آخرت والا وعدہ آجائے گا۔ ) آخرت سے مراد یہاں قیامت ہے۔ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا (تو ہم سب کو جمع کر کے حاضر کردیں گے۔ ) لفیفا کا معنی جمع کر کے ‘ باہم ملاکر۔ اس حال میں کہ تم اور وہ سب ملے ہوئے ہوں گے پھر ہم تمہارے درمیان فیصلہ کریں گے اور سعادت مند اور بدبختوں کے درمیان امتیاز کردیں گے اللّفیف کا معنی جماعتوں کی صورت میں جو مختلف قبائل پر مشتمل ہونگی۔
Ayah 17:105105: وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰـہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ (اور حق ہی کے ساتھ ہم نے قرآن کو اتارا ہے اور حق ہی کے ساتھ وہ نازل ہوا) ہم نے اس قرآن کو حکمت کے ساتھ اتارا اور یہ اس حالت میں اتارا کہ حق اور حکمت اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے کیونکہ یہ ہر خیر کی طرف ہدایت پر مشتمل ہے۔
(2) ہم نے اس کو آسمان سے حق کے ساتھ اتارا ہے اور فرشتوں کی نگرانی سے اس کو محفوظ رکھا اور یہ رسول پر اس حال میں اترا ہے کہ شیاطین کی ملاوٹ سے بالکل محفوظ ہے۔
نکتہ : راوی کہتا ہے کہ محمد بن سماک بیمار ہوگئے ہم نے انکا پانی لیا اور اس کو ایک نصرانی طبیب کے پاس لے گئے ہم نے دیکھا کہ ہمارے سامنے ایک انتہائی حسین چہرے والا عمدہ خوشبو والا صاف ستھرے کپڑوں والا آدمی سامنے آیا کہنے لگا کہاں جارہے ہو ہم نے کہاں فلاں طبیب کی طرف تاکہ ابن سماک کا پانی اس کو دکھائیں اس نے کہا سبحان اللہ ایک ولی اللہ کی بیماری کے سلسلے میں اللہ کے دشمن سے مدد لے رہے ہو اس پانی کو زمین میں پھینک دو اور ابن سماک کی طرف لوٹ جائو اور اس کو کہو کہ درد کے مقام پر اپنا ہاتھ رکھ کر یہ کہے : ( وبالحق انزلنہ وبالحق نزل) پھر وہ آدمی ہمارے سامنے سے غائب ہوگیا ہمیں نظر نہ آیا۔
ہم ابن سماک کے پاس لوٹے اور اس بات کی اطلاع دی ابن سماک نے اپنا ہاتھ درد والی جگہ پر رکھا اور آیت کے الفاظ دھرائے اسی وقت ان کو آرام آگیا راوی کہتے ہیں کہ وہ آدمی حضرت خضرعلیہ السلام تھے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا (اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو صرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے) یعنی جنت کی خوشخبری دینے والے اور جہنم سے ڈرانے والے۔
Ayah 17:106تھوڑا تھوڑا اتارنے میں حکمت :
106: وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰـہٗ (اور قرآن مجید میں ہم نے فصل رکھا ہے) قرآنًا کا لفظ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر فَرَقْنٰہ کر رہا ہے تقدیر عبارت یہ ہے فَصَّلْنٰہ نمبر 2۔ فرقنا فیہ الحق والباطل ہم نے اس میں حق سے باطل کو الگ کردیا۔ یعنی حق و باطل میں امتیاز کردیا۔ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ (تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں) یعنی آہستگی سے اور ثابت قدمی سے۔ وَّ نَزَّلْنٰـہٗ تَنْزِیْلًا (اور ہم نے اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا) حوادث کے مطابق۔
Ayah 17:107تم مانو یا نہ مانو اس کے مصدق موجود ہیں :
107: قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖٓ اَوْلَا تُؤْمِنُوْا (کہہ دیجئے کہ تم اس کو سچا مانو یا نہ مانو) ۔ یعنی اپنے نفوس کیلئے ہمیشہ کی نعمتیں چن لو یا دردناک عذاب پھر اس ارشاد سے اس کا سبب بتلایا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖٓ (بیشک وہ لوگ جن کو اس سے پہلے علم ملا) اور علم سے مراد یہاں قرآن مجید سے پہلے اترنے والی کتاب تورات مراد ہے۔ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ (جب ان پر پڑھا جاتا ہے۔ ) یعنی قرآن یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا (وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں) سجداً حال ہے۔
Ayah 17:108مصدقین کے اقوال :
108: وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَا اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا (اور وہ کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے) اسلئے کہ دوسرے مقام پر فرمایا اٰمنوا بہ اولا تؤمنوا یعنی ان سے تم منہ موڑ لو۔ بیشک اگر وہ ایمان نہ لائیں اور قرآن کی تصدیق نہ کریں پس بیشک ان میں سے بہتر وہ علماء ہیں جنہوں نے کتاب کو پڑھا اور اس پر ایمان لائے۔ اور اس کی تصدیق کی جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اللہ کے حٰکم کی تعظیم کیلئے اسکی تسبیح کرتے ہیں اور اس وعدے کے پورا ہونے پر جو پچھلی کتابوں میں بعثت محمد ﷺ کے متعلق کیا گیا اور قرآن کے ان پر اتارے جانے کی وجہ سے۔
مذکورہ وعدہ سے یہی مراد ہے ان یہاں انہٗ کے معنی میں ہے۔ اور یہ فعل کی اسی طرح تاکید کرتا ہے۔ جس طرح اِنّ اسم کی تاکید کرتا ہے۔ اور جس طرح انّ کو فانہم لمحضرون۔] الصافات : 127[ میں لام سے مؤکد کیا گیا اسی طرح اِنْ کو لام کے ساتھ لمفعولاً میں مؤکد کیا گیا ہے۔
Ayah 17:109109: وَیخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ (وہ ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہوئے روتے ہیں) الخرور للذقن کا معنی چہرے کے بل گرنا ہے۔ ٹھوڑی کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سجدہ میں زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب چہرے کا حصہ ٹھوڑی ہے۔ کہا جاتا ہے خر علی وجھہ وعلی ذقنہ و خرّ لوجھہ ولذقنہٖ ۔ علی ؔ کا معنی تو ظاہر ہے۔ رہا لام کا معنی تو گویا اس نے اپنی ٹھوڑی اور چہرے کو خرور کیلئے مقرر کردیا اور خاص کردیا کیونکہ تخصیص کو ظاہر کرتی ہے۔
یخرونؔ لِلْاَذْ قَانِ کو دوبارہ لائے۔ کیونکہ دونوں حالتیں مختلف ہیں۔ اور وہ دونوں حالتیں یہ ہیں انکا گرنا اس حالت میں کہ وہ سجدہ ریز ہیں۔ نمبر 2۔ انکا گرنا اس حالت میں کہ وہ رونے والے ہیں۔
وَ یَزِیْدُھُمْ خُشُوْعًا ( اور وہ انکا خشوع بڑھا تا ہے۔ ) یعنی قرآن۔ خُشُوْع دل کی نرمی اور آنکھ کی رطوبت کو کہتے ہیں۔
Ayah 17:110اللہ کو اس کے اچھے نام سے پکارو :
110: قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ (آپ کہہ دیں کہ تم اللہ تعالیٰ کو پکارو یا رحمان کو پکارو) ! نمبر 1۔ جب ابو جہل نے اس کو سنا تو کہنے لگا محمد کہتا ہے یا اللہ، یا رحمان اور ہمیں دو الہہ کی عبادت سے روکتا ہے۔ اور خود دو کو پکارتا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری :
2 : اہل کتاب نے کہا تو رحمن کا ذکر کم کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں کثرت سے اس اسم کو نازل فرمایا ہے۔ پس یہ آیت ان کے جواب میں اتاری۔
الدعاءؔ نام رکھنے کے معنی میں ہے نداء کے معنی میں نہیں اور اَوْ کا لفظ تخییر کیلئے ہے کہ خواہ یہ نام رکھ یا یہ نمبر 2۔ اس نام سے اس کا ذکر کرویا اس نام سے۔
اَیًّامَّا تَدْعُوْا (جس نام سے پکارو) تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ اور ماؔ تاکید کیلئے بڑھا یا گیا ہے۔ اور یاءؔ کا نصب تدعواؔ کی وجہ سے ہے۔ اور وہ ایّ کی وجہ سے مجزوم ہے۔ یعنی ان دونوں ناموں میں سے جس نام کا تم ذکر کرو اور جو نام رکھو۔ فَلَہُ الْاَسْمَآ ئُ الْحُسْنٰی اس کے اچھے نام ہیں۔ فلہؔ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف لوٹتی ہے۔ اور فاءؔ اس لئے لائے کیونکہ وہ جواب شرط ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ ایًّامَّاتدعوا فھو حسن۔ پس اس کی جگہ فلہ الاسماء الحسنٰی فرمادیا۔ کیونکہ جب اس کے تمام اسماء خوب وحسن ہیں۔ یہ دونوں نام بھی انہی میں سے ہیں۔
باقی رہی یہ بات کہ یہ احسن الاسماء ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمجید و تقدیس و تعظیم کے معانی میں مستعمل ہیں۔ وَلَا تَجْھَرْ بِصَلَاتِکَ (اور تو نہ پکار کر پڑھ اپنی نماز کو) یعنی اپنی نماز کی قراءت میں۔ اس میں مضاف محذوف ہے۔ کیونکہ اس میں التباس نہیں اس لئے کہ جہرو مخا فت دو صفات ہیں۔ جو آواز پر باری باری وارد ہوتی ہیں۔ نہ کہ کسی اور پر۔ اور صلوۃؔ افعال و اذکار ہیں۔
آپ ﷺ اپنی قراءت میں آواز کو بلند فرماتے جب مشرکین نے سنا تو شور مچایا اور گالیاں بکیں۔ پس آپ کو حکم ہوا کہ آواز ہلکی کرلیں۔ اب مطلب یہ ہوا وَلَا تَجْھَرْ حتی تسمع المشرکین ولا تخافت حتی لا یسمع من خلفک نہ اتنی زور سے قراءت کریں کہ مشرکین سنیں اور نہ اتنا آہستہ کریں یہاں تک کہ تمہارے پیچھے والے بھی نہ سن سکیں۔
وَلَاتُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا۔ اور نہ اسکو بالکل آہستہ کریں۔ وابتغ بین ذلک (اور تلاش کر اسکے درمیان) جہر و مخافق کے درمیان۔ سبیلاً : (راستہ) درمیانہ نمبر 2: اس کا معنی یہ ہے تو اپنی تمام نماز نہ تو جہراً پڑھ اور نہ تمام کو آہستہ بلکہ اسکے دمیان راستہ اختیار کر کہ رات کو نماز جہر سے ادا کر اور دن کی نماز آہستہ قراءت سے ادا کر۔ نمبر 3: صلاتک کا معنی دعا ہے اپنی دعا ضرور سے مت کر۔
Ayah 17:111اور نہ اس کو بالکل آہستہ کریں :
111: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا (اور کہہ دو : تمام تعریفیں اس ذات کیلئے ہیں جس نے بیٹا نہیں بنایا) جیسا کہ یہود و نصاری بنوملیح کا خیال ہے۔ وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ (اور نہ ہی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے) جیسا مشرکین نے خیال کیا۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ اور نہ اس کا کوئی مددگار ہے کمزوری کی وجہ سے (کیونکہ وہ کمزوریوں سے پاک ہے) یعنی اس پر کمزوری آہی نہیں سکتی کہ کسی مددگار کی ضرورت پڑے نمبر 2۔ وہ کسی سے دوستی کمزوری کی وجہ سے نہیں کرتا تاکہ وہ اس کی طرف سے مدافعت کرے۔ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا (اور تم اس کی خوب بڑائیاں بیان کرو) اس کی تعظیم کرو اور اس کی صفات بیان کرو کہ اس سے برتر ذات ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو یاؔ اس کا کوئی شریک ہو۔
آیت العز ّ :
آپ ﷺ نے اس کو آیت العز قرار دیا۔ جب کوئی بچہ بنی عبدالمطلب میں بولنے لگ جاتا تو اسکو یہ آیت یاد کرا دی جاتی۔ (اخرجہ ابن ابی شیبہ)
الحمد للہ اوّلا وٰاخرًا ظاہرًاوباطنًا بفضلہٖ تمت ترجمۃ تفسیر سورة الاسراء بثالث یوم من رمضان 1423 من الھجرۃ