Ayah 16:1آنے والے کو آیا سمجھو :
1: اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (آپہنچا اللہ کا حکم سو تم اس میں جلدی نہ کرو وہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو وہ شریک تجویز کرتے ہیں ‘ وہ اپنے بندوں میں سے) قیامت کے قائم ہونے کا جو وعدہ کفار سے کیا گیا وہ اس کو جلد مانگتے تھے۔ اسی طرح نزول عذاب کے سلسلہ میں استہزاء و تکذیب کے طور پر جلدی کے طالب تھے۔ بدر کے دن وہ عذاب اترا۔ اس پر ان کو کہا گیا۔ اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا) یعنی وہ اسی طرح سمجھو کہ آکر واقع ہونے والا ہے (اگرچہ اس کا انتظار ہے) کیونکہ اس کا وقوع قریب ہے۔ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ ط سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (پس اس کے جلد آنے کی تمنا نہ کر۔ وہ سبحان اور بلند وبالا ہے ان شریکوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں) اللہ جل مجدہ شریکوں سے پاک ہے اور ان کے شریک بنانے سے مبرا ہے۔ نمبر 1۔ ماؔ موصولہ ہے۔ نمبر 2۔ ما مصدریہ ہے۔ استعجال کے ساتھ اس کا اتصال اس طرح ہے کہ وہ استہزاء و تکذیب سے عذاب کو جلد طلب کرتے تھے یہ شرک ہے۔
Ayah 16:2وحی ٔ نبوت اللہ کا عطیہ ہے :
2: یُنَزِّلُ الْمَلٰٓپکَۃَ (وہ فرشتوں کو اتارتا ہے) قراءت : مکی اور ابو عمرو نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ بِالرُّوْحِ (روح کے ساتھ) یعنی وحی کے ساتھ نمبر 2۔ قرآن کے ساتھ۔ کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک دین میں اس طرح ہے جیسے جسم میں روح۔ نمبر 2۔ وہ جہالت سے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآ ئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْا (اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے کہ تم خبردار کردو ! ) انؔ مفسرہ ہے کیونکہ فرشتوں کا وحی کے ساتھ اتار نا اس میں قول کا معنی پایا جاتا ہے اور انذروا انہ لا الہ الا انا کا معنی یہ ہے : اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنَا (کہ میرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں) ۔ انذروا۔ یہ نذرت بکذا سے لیا گیا جبکہ تم اس کو جان لو۔ پس مطلب اس طرح ہوا۔ اعلموا الناس قولی لا الٰہ الا انا تم لوگوں کو میری بات لا الٰہ الا انا بتلا دو ۔ فَاتَّقُوْنِ (پس وہ مجھ ہی سے ڈریں) قراءت : یعقوب نے یاء سے پڑھا ہے۔
Ayah 16:33: پھر وحدانیت اور معبود حقیقی ہونے پر ایسی چیزوں سے استدلال کیا جن پر اور کسی کو کچھ بھی قدرت نہیں یعنی آسمان و زمین کی تخلیق و پیدائش چناچہ فرمایا۔ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا وہ بلندو برتر ہے ان کے شرک سے)
قراءت : حمزہ اور علی نے دونوں مقام پر تاء سے پڑھا ہے۔ اور انسان کی خلقت اور جو افعال اس سے پیش آتے ہیں ان کا ذکر اس ارشاد میں فرمایا۔
Ayah 16:4انسانی ناشکری :
4: خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ (اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا پھر وہ ایک دم کھلم کھلا جھگڑنے لگا) یعنی اچانک وہ تیز زبان اور اپنے نفس کی طرف سے جھگڑنے والا اور اپنے جھگڑے میں اصرار کرنے والا اور اپنی دلیل کو خوب ظاہر کرنے والا ہوگیا۔ بعد ازیں کہ یہ ایک ایسا پانی کا قطرہ تھا جس میں حس تک نہ تھی۔ اور نہ ہی کوئی حرکت تھی۔ نمبر 2۔ اچانک یہ اپنے رب سے جھگڑنے والا نکلا۔ اپنے خالق کا انکاری ہے اور یہ کہتا ہے مَنْ یُحْیِی الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ ] یٰسین : 78[ اس میں انسان کی بےحیائی اور ناشکری نعمت میں اصرار کا ذکر کیا۔ اور مزید انعامات ذکر فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے چوپائے پیدا کئے جن میں سے بعض اس کی خوراک اور کچھ سواری، باربرداری اور دیگر بیسیوں قسم کی ضروریات میں کام دیتے ہیں چناچہ فرمایا :
Ayah 16:5بیشمار انعامات میں چوپائوں کا تذکرہ :
5: وَالْاَنْعَامَ خَلَقَھَا لَکُمْ (اور چوپائے کہ ان کو اس نے تمہارے لئے پیدا کیا) انعام سے وہ آٹھ اقسام مراد ہیں اور اکثر اس کا اطلاق اونٹ پر ہوتا ہے۔ نحو : فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ ظاہر کلام اس کی وضاحت کررہا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں والقمر قدرنٰہ منازل ] یٰسین : 39[ نمبر 2۔ الانسان پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے ای خلق الانسان والا نعام پھر فرمایا : خلقھا لکم کہ اے جنس انسان ! ہم نے تمہارے لئے چوپائے بنائے۔ فِیْھَا دِفْئٌ (ان میں تمہارے لئے سردی رو کنے کا سامان ہے) دفء ٌ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے سردی دور کی جائے خواہ وہ لباس اون، بال ‘ پشم سے بنا ہو۔ وَّ مَنَافِعُ (اور اس میں فوائد ہیں) اس میں ان کی نسل کشی اور دودھ وغیرہ حاصل کرنا ہے۔ وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ (اور ان میں سے بعض کا گوشت تم کھاتے ہو) ۔
نحو : ظرف کو مقدم کر کے خصوصیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اور بعض اوقات دوسرے بھی کھائے جاتے ہیں۔ کیونکہ ان میں گوشت وہ چیز ہے جس پر لوگوں کی معیشت کا دارومدار ہے۔ ان کے علاوہ جن کا گوشت کھایا جاتا ہے مثلاً مرغی، بطخ ‘ جنگل اور دریاکا شکار وہ قلیل ہونے کی وجہ سے کسی شمار و قطار میں نہیں بلکہ فروٹ کے درجہ میں ہے۔
Ayah 16:66: وَلَکُمْ فِیْھَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ (اور تمہارے لئے ان میں خوبصورتی ہے جبکہ تم شام کو انہیں لوٹاتے ہو) ان کو چراگاہوں سے باڑوں کی طرف شام کو لوٹاتے ہو۔ وَحِیْنَ تَسْرَحُوْنَ (اور جبکہ تم ان کو چرنے چھوڑتے ہو) صبح کو چراگاہوں کی طرف چرنے کیلئے چھوڑتے ہو۔ اس میں ایک جمال و بہار ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بطور نعمت ذکر فرمایا جیسا کہ ان کے منافع کو بطور انعام ذکر فرمایا۔ کیونکہ مویشی رکھنے والوں کی اغراض میں سے یہ بھی ایک غرض ہے کیونکہ چرواہے جب شام کو انہیں واپس لاتے اور صبح کو چرانے لے جاتے ہیں تو صحن خانہ ان کے آنے جانے سے پر رونق ہوجاتے ہیں جس سے مویشیوں والے خوش ہوتے ہیں اور لوگوں کے ہاں ان کو ٹھاٹھ اور شان، مرتبہ میسر آتا ہے۔
نکتہ : لوٹانے کو لے جانے پر مقدم اس لئے کیا کہ اراحۃ میں خوبصورتی ظاہر و نمایاں ہے جبکہ وہ پیٹ بھرے، تھنوں میں جمع کئے پرسکون انداز میں ترتیب کے ساتھ لوٹ رہے ہوتے ہیں۔
Ayah 16:77: وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ (وہ تمہارے بوجھ اٹھاتے ہیں) اثقال کا معنی بوجھ ہے۔ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَکُوْنُوْا بٰلِغِیْہِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ (ایسے شہر کی طرف کہ جس میں تم بغیر تکلیف اٹھائے نہ پہنچ سکتے تھے) ۔ قراءت : شَقِّ کی شین پر ابو جعفر نے فتحہ شق پڑھا ہے یہ دونوں لغات ہیں ہر دو کا معنی مشقت ہے بعض کہتے ہیں کہ شق مصدر ہے۔ شق الامر علیہ شقا اور اس کی حقیقت بھی الشق کی طرف لوٹنے والی ہے جس کا معنی پھٹنا اور الگ ہونا ہے۔ باقی الشق کا معنی نصف آتا ہے۔ گویا مشقت کی وجہ سے اس کی نصف طاقت ختم ہوگئی۔ اب آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اونٹوں کو پیدانہ کیا جاتاتو تم اپنے آپ انتہائی تکلیف و مشقت کے ساتھ دوسری جگہ منتقل نہ ہوسکتے۔ بوجھ اٹھانا تو دور کی بات ہے کہ اس کو اپنی پشتوں پر لادتے۔ نمبر 2۔ لم تکونوا بالغیہ بھا الا بشق الانفس تم جانی مشقت سے ان بوجھوں کو وہاں پہنچا سکتے۔
ایک قول یہ ہے کہ اثقال سے ابدان مراد ہیں۔ اسی سے جن وانس کو الثقلان کہا جاتا ہے۔ اور اس آیت میں بھی یہی معنی ہے۔ واخرجت الارض اثقالھا ] الزلزال : 2] یعنی اولاد آدم کو۔ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ (بیشک تمہارا رب بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے) کہ اس نے ان بوجھ اٹھانے والے جانوروں کو پیدا کر کے تم پر رحم فرمایا اور یہ مصالح آسان کردئیے۔
Ayah 16:8گھوڑے ‘ خچر کا تذکرہ :
8: وَّ الْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا وَزِیْنَۃً (اور گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو تمہاری سواری اور زینت کیلئے پیدا کیا)
نحو : الانعام پر عطف ہے۔ ای خلق ھذہ الرکوب والزینۃ اور اس نے ان سواریوں کو اور زینت کو پیدا کیا۔
استدلال امام ابوحنیفہ m :
امام صاحب نے اس آیت سے گھوڑے کے گوشت کی حرمت پر استدلال کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خلقت کی علت رکوب وزینت قرار دی اور کھانے کا ذکر نہیں کیا جیسا کہ انعام میں فرمایا گیا ہے۔ حالانکہ گوشت کا فائدہ تو سواری اس سے بڑھ کر ہے اور آیت کا سیاق ہی بیان نعمت کے لئے ہے اور حکیم کی حکمت اس بات کو گوارہ نہیں کرتی کہ احسان کے موقع پر ادنیٰ نعمت کو ذکر کیا جائے اور بڑی نعمت کو چھوڑ دیا جائے۔
نحو : زینۃ کا نصب مفعول ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ لترکبوھا کے محل پر معطوف ہے۔ اب مخلوقات کی وہ اصناف جو ابھی علم میں نہیں آئیں ان کا ذکر فرمایا۔ وَیَخْلُقُ مَا لَاتَعْلَمُوْنَ (اور وہ ایسی چیزیں پیدا فرمائیں گے جن کو تم نہیں جانتے ہو) اور جس ذات کی یہ صفات ہوں وہ اس سے بلندو بالا ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کیا جائے۔
Ayah 16:9سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے :
9: وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ (اور سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے) السبیلؔ سے جنس مراد ہے اسی لئے فرمایا وَمِنْھَا جَآپرٌ (اور ان میں بعض راستے ٹیڑھے ہیں) القصدؔ یہ مصدر ہے جو فاعل کے معنی میں ہے۔ ای القاصد جیسے کہتے ہیں سبیل قصد و قاصد یعنی سیدھا۔ گویا کہ وہ اسی جانب کا قصد کرتا ہے جس کا چلنے والا ارادہ کرتا ہے اور اس سے ہٹتا نہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے اوپر اس راستہ کی راہنمائی لازم کرلی جو حق تک پہنچانے والا ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی (اللیل۔ 12) یہ وجوب کیلئے نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں لیکن اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے یہ کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ اس کا معنی یہ بھی بیان کیا گیا کہ علیؔ الی کے معنی میں ہے۔ زجاج (رح) کہتے ہیں کہ اس کا معنی علی اللّٰہ تبین الطریق الواضح المستقیم والدعاء الیہ بالحجج ہے یعنی اللہ کے ذمہ واضح سیدھے راستے کو کھل کر بیان کرنا اور دلائل سے اس کی طرف بلانا ہے۔ و منھا جائر کا مطلب کہ بعض راستے استقامت سے ہٹے ہوئے ہیں۔ وَلَوْشَآ ئَ لَھَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام کو ہدایت دے دیتے) اگر وہ ارادہ کرتے مہربانی والا۔ ہدایت تو توفیق سے دستیاب ہوتی ہے اور انعام ہدایت ِعام کے بعد میسر آتا ہے۔
Ayah 16:10پانی اور اس کے فوائد کی طرف اشارہ :
10: ھَوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآ ئً لَّکُمْ مِّنْہُ شَرَابٌ (وہ ایسی ذات ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی اتارا جسے تم پیتے ہو) ۔
نحو : لکم یہ انزل کے متعلق ہے۔ نمبر 2۔ شراب کی خبر ہے شراب بمعنی مشروب ہے۔
وَّمِنْہُ شَجَرٌ (اور اسی سے درخت ہیں) اسی پانی سے وہ درخت پیدا ہوتے ہیں جس کو مویشی چرتے ہیں۔ فِیْہِ تُسِیْمُوْنَ (جن میں تم اپنے مویشی چراتے ہو) یہ سَامَت المَاشِیَہ سے بنا ہے جب مویشی چریں۔ جانور کو سائمہ واسامھا صاحبھا اور اس کے مالک نے چرایا۔ یہ السومۃ مصدر سے ہو تو معنی علامت ہے زمین میں چرانے سے نشانات پڑجاتے ہیں۔
Ayah 16:1111: یُنْچبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُوْنَ وَالنَّخِیْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ (اللہ تعالیٰ تمہارے اس پانی سے کھیتی، زیتون اور کھجور وانگور اور ہر طرح کے پھل اگاتا ہے)
نکتہ : آیت میں منؔ لائے صرف کل الثمرات نہیں کہا کیونکہ تمام پھل تو جنت میں میسر ہونگے۔ دنیا میں یادداشت کیلئے بعض پھل اگا دیے۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے سوچ و بچار کرنے والی قوم کیلئے) پس وہ اس نشانی کے ذریعہ اس پر اور اس کی قدرت و حکمت پر استدلال کرنے والے ہیں۔ الاٰیۃؔ سے دلالت واضحہ مراد ہے۔
Ayah 16:12دن رات اور ستاروں کی نعمت :
12: وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌ0 بِاَمْرِہٖ (اور اس نے مسخر کیا تمہارے لئے رات اور دن کو اور سورج و چاند کو اور ستارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ ) قراءت : تمام کا نصب ہے اس طرح وَجَعَلَ النُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ ۔ یہ حمزہ، ابو عمرو، ابن کثیر کی قراءت ہے اور النجومُ مسخراتٌ حفص کی قراءت ہے۔ والشمسُ و النجومُ مسخراتٌ یہ شامی کی قراءت ہے اس طور پر کہ یہ مبتدا اور خبر ہیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل والی قوم کیلئے) آیات جمع آیۃ کی ہے۔ عقل کا ذکر کیا کیونکہ آثار علویہ قدرت پر ظاہر اً دلالت کرنے والے ہیں۔ اور کبریائی اور عظمت پر واضح شہادت ہیں۔
Ayah 16:1313: وَمَا ذَرَأَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ (اور ان چیزوں کو تمہارے لئے زمین میں پیدا کیا)
نحو : اس کا عطف اللیل والنھار پر ہے۔ ای مَاخَلَقَ فِیْھَا مِنْ حَیْوَانٍ وَ شَجَرٍ وَثَمَرٍوَغَیْرَہٗ ذٰلِکَ ( اور جو اس نے زمین میں حیوان، درخت، پھل وغیرہ پیدا فرمائے) مُخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ (اس حال میں کہ ان کے رنگ مختلف ہیں) اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَ (اس میں بلاشبہ نشانی ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے) جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 16:14سمندر اور اس کے فوائد :
14: وَھُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْکُلُوْا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا (اور وہ ایسی ذات ہے جس نے سمندر کو مسخر کیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھائو) ۔ لحمًا طریًا سے مچھلی مراد ہے۔ اس کو طَرِیٌّ اس لئے فرمایا کیونکہ بہت جلد یہ خراب ہوتی ہے پس بگاڑ کے خطرے سے جلدی سے تازہ کھالی جاتی ہے۔
نکتہ : اگر کسی آدمی نے قسم اٹھائی کہ وہ گوشت نہیں کھائیگا۔ تو مچھلی کھانے سے اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ کیونکہ قسم کا مدارعرف پر ہوتا ہے۔ اور عرف میں اس کو گوشت نہیں کہتے۔ جس نے اپنے غلام کو کہا اشتر بھذہ الدراھم لحمًا وہ مچھلی خرید لایا تو وہ اس لائق ہے کہ آقا اس کا انکار کر دے۔ بقیہ ائمہ قسم ٹوٹنے کے قائل ہیں۔
وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا (تاکہ تم اس سے زیور نکالو۔ جس کو تم پہنتے ہو) حلیہ سے مراد یہاں مونگے اور موتی ہیں۔ تَلْبَسُوْنَ کا مطلب تمہاری عورتیں پہنیں۔ لیکن مخاطب مردوں کو فرمایا کیونکہ ان کی زینت مردوں کیلئے ہوتی ہے گویا وہ مردوں کی زینت اور انکا لباس ہی ہے۔ وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیْہِ ( اور تم کشیتوں کو دیکھو گے اس میں پانی کو چیرتی ہوئی جارہی ہیں) کشتیاں چلتی ہیں اور پانی کو چلتے وقت چیرتی ہیں۔ المخرؔ پانی کو سینہ کے زور سے چیرنا۔ فِیْہِ کا مطلب سمندر میں۔ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ (تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو) اس کا محذوف پر عطف ہے یعنی تاکہ تم عبرت حاصل کرو اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ ابتغائے فضل سے تجارت مراد ہے۔ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (اور تاکہ تم شکریہ ادا کرو) اللہ تعالیٰ کا اس انعام پر جو اس نے تم پر کیا۔
Ayah 16:1515: وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ (اور اس نے زمین میں پہاڑ ڈال دیئے) قائم رہنے والے پہاڑ۔ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ (تاکہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ جائے) اس ڈر سے کہ وہ تمہیں لیکرمائل ہو۔ اور حرکت کرے۔ نمبر 2۔ تاکہ وہ تمہیں لیکر جھک نہ جائے۔ لیکن حذف مضاف زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ حرکت کرنے لگی ملائکہ نے کہا اس کی پشت پر تو کوئی ٹھہر نہ سکے گا۔ پس صبح ہوئی اس حال میں کہ پہاڑ گاڑ دئیے گئے۔ فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے بنائے گئے۔ وَانْھٰرًا (اور نہریں) یہ جعل کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ القیٰ میں جعل کا معنی پایا جاتا ہے۔ وَّ سُبُلًا (راستے) لَّعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ (تاکہ تم راہ پائو) اپنے مقاصد کی طرف۔ نمبر 2۔ اپنے رب کی توحید کی طرف۔
Ayah 16:16ستاروں کی خاص راہنمائی :
16: وَعَلٰمٰتٍ وَ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ ( اور نشانیاں بنائیں اور ستاروں سے وہ راہنمائی حاصل کرتے ہیں) اور وہ راستوں کی نشانیاں ہیں۔ ہر وہ چیز جس سے راستہ پر چلنے والا راستہ پائے پہاڑ وغیرہ۔ النجم سے مراد جنس ہے۔ نمبر 2۔ ثریا اور فرقد، نبات النعش اور جدی وغیرہ مراد ہیں۔ بالنجمؔ میں نجم کو مقدم کیا اور خطاب کی بجائے غائب کا صیغہ لائے اور ھمؔ ضمیر درمیان میں داخل کردی۔ گویا تقدیر عبارت یہ ہے بالنجم خصوصًا ھؤلاء خصوصًا یھتدون ستاروں سے خصوصًا اور خاص یہ لوگ راہ معلوم کرتے ہیں۔
سوال : ہم سے مراد کون ہیں ؟
جواب : اس سے گویا قریش مراد ہیں وہ اپنے راستوں کو معلوم کرنے کیلئے ستاروں کو استعمال کرتے اور ان کے متعلق ان کو معلومات بھی تھیں جو دوسروں کو میسر نہ تھیں۔ گویا اس عظیم نعمت پر شکر یہ لازم کیا گیا۔ اور عبرت کو ان کے لئے ضروری قرار دیا گویا وہ اس کے ساتھ خاص کردیئے گئے۔
Ayah 16:17یہ خالق کے نمونہ ہائے قدرت اوروں کو تم دکھائو :
17: اَفَمَنْ یَّخْلُقُ (کیا وہ جو پیدا کرتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ۔ کَمَنْ لَّا یَخْلُقُ (اس کی طرح ہوجائے گا جو پیدا نہیں کرتا) یعنی اصنام، یہاں منؔ لائے جو ذوی العقول کیلئے ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے خیال کے مطابق ان کو حاجت روا بنا کر عبادت شروع کر رکھی تھی (معبود کی تمام صفات ان میں مانتے تھے) گویا اولوالعلم کے قائم مقام قرار دیا۔
نمبر 2۔ مطلب یہ ہے کہ جو پیدا کرتا ہے ان کی طرح نہیں ہوسکتا۔ جو اولو العلم ہیں پیدا نہیں کرسکتے پھر جس کے پاس بالکل علم ہی نہ ہو وہ کیسے برابر ہوسکتا ہے ؟ اس طرح نہیں فرمایا افمن لا یخلق کمن لا یخلق حالانکہ مقام کا تقاضا یہی ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں کو الزام دیا گیا ہے جو بت پرست ہیں اور انہوں نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشابہت دے کر حاجت روا قرار دے رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انہوں نے غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ نام اور عبادت میں مثل قرار دیا تو گویا اللہ تعالیٰ کو مخلوقات کی جنس اور اس کے مشابہ مان لیا۔ اس ارشاد میں اسی بات کی تردید کی افمن یخلق کمن لایخلق ( کہ تمہارا مثل قرار دینا درست نہیں) یہ آیت خلق افعال میں معتزلہ کے خلاف دلیل ہے۔ اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ (کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے) جبکہ اس بات کا غلط ہونا تم پر واضح کردیا گیا۔
Ayah 16:18اَن گنت انعامات :
18: وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا (اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننے لگو تو گن نہ سکو) ان کی گنتی کو بھی ضبط نہیں کرسکتے۔ اور نہ اس تک تمہاری طاقت پہنچ سکتی ہے۔ چہ جائیکہ ان نعمتوں کے شکریہ کا پورا حق ادا کرو۔ اس کے بعد نعمتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ آیت لائے تاکہ متنبہ کردیا جائے کہ اس کے پیچھے غیر محصور نعمتیں چھپی ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں) وہ نعمت کے شکریہ کی ادائیگی میں تمہاری کوتاہی سے تجاوز فرمائیں گے تمہاری کمی کی وجہ سے نعمت کو منقطع نہ کریں گے۔
Ayah 16:1919: وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو تم چھپاتے اور جو تم ظاہر کرتے ہو) یعنی تمہارے اقوال و افعال کو۔ یہ وعید ہے۔
Ayah 16:20جن کو لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے وہ مخلوق ہیں اپنی زندگی کے بھی مالک نہیں :
20: وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور وہ جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا وہ پکارتے ہیں) وہ معبود جن کو کفار پکارتے ہیں۔
قراءت : عاصم کے علاوہ دوسروں نے تاء سے پڑھا ہے۔ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ (وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے۔ بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں)
Ayah 16:2121: اَمْوَاتٌ (وہ بےجان ہیں) مبتدا محذوف کی خبر غَیْرُ اَحْیَآ ئٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ (وہ زندہ نہیں اور ان کو شعور نہیں کہ کب ان کو اٹھایا جائے گا) اس میں ان سے الوھیت کے خصائص کی نفی ہے اس طرح کہ وہ خالق نہیں ہیں اور وہ ایسی زندگی نہیں رکھتے کہ جس پر موت وارد نہ ہو۔ اسی طرح وقت بعث کا ان کو علم نہیں۔ اور ان کے لئے مخلوق کی صفات ثابت کیں کہ۔ نمبر 1۔ وہ مرنے والی مخلوق ہیں۔ نمبر 2۔ بعثت سے ناواقف ہیں۔ اور امواتٌ غَیْرُ اَحْیَاء کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ فی الحقیقت معبود ہوتے تو وہ ہمیشہ زندہ رہتے موت کا شکار نہ ہوتے۔ یعنی موت کی آمد ان پر ہو ہی نہ سکتی۔ حالانکہ انکا معاملہ اس کے الٹ ہے۔
یبعثون کی ضمیر داعین کی طرف لوٹتی ہے یعنی ان کو شعور نہیں کہ ان کے پجاری کب اٹھائے جائیں گے۔ اس میں مشرکین کو شرمندہ کیا گیا۔ کہ تمہارے معبودوں کو وقت بعث کا بھی علم نہیں پھر وہ اپنی عبادت پر عابدین کو کیا بدلہ دے سکیں گے۔ اس میں یہ بھی ثابت کردیا کہ بعث بعد الموت بہر صورت ہے۔
Ayah 16:22معبودِ حقیقی ان کی مخفی حالت سے واقف ہے وہ کفار و متکبرین کو پسند نہیں کرتا :
22: اِلٰـھُکُمْ اِلٰہٌوَّاحِدٌ (تمہارا معبود ایک ہی ہے) گذشتہ آیات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ الوھیت غیر اللہ کے لائق و مناسب ہی نہیں اور تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے۔ فَالَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ مُّنْکِرَۃٌ (پس وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکاری ہیں) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے۔ وَّھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ (وہ تکبر کرتے ہیں) عبادت سے اور اس کی وحدانیت کے اقرار سے۔
Ayah 16:2323: لَا جَرَمَ (ضروری بات ہے) یقینا۔ اَنَّ اللّّٰہَ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو وہ چھپاتے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں) ان کی پوشیدہ اور ظاہری حالت کو۔ پس اسی کے مطابق ان کو بدلہ دیگا۔ یہ وعید ہے۔ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ (اس کو تکبر کرنے والے پسند نہیں) توحید سے تکبر کرنے والے یعنی مشرکین۔
Ayah 16:2424: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ (جب ان سے کہا گیا) ان کفار کو۔ مَّا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (تمہارے رب نے کیا اتارا وہ کہتے ہیں پہلے لوگوں کی کہانیاں) ۔
نحو : نمبر 1۔ ماذا یہ انزل کی وجہ سے منصوب ہے یعنی ای شئی انزل ربکم تمہارے رب نے کونسی چیز اتاری ؟ نمبر 2۔ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ای شئی انزلہ ربکم وہ کونسی چیز ہے جس کو تمہارے رب نے اتارا ہے ؟ اساطیر یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کا مقولہ ہے جو مکہ کے راستوں پر بیٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے متعلق نفرت پھیلاتے جب حجاج کا کوئی وفد ان سے پوچھتا کہ رسول ﷺ پر کیا چیز اتاری گئی تو وہ کہتے ہیں اساطیر الاولین یعنی پہلے لوگوں کی کہانیاں اور ان کے باطل اقوال۔ اس کا واحد اسطورہ ہے۔ جب حجاج کی ملاقات مسلمانوں سے ہوتی تو وہ ان کو رسول ﷺ کی صداقت کی اطلاع دیتے اور بتلاتے کہ وہ نبی مبعوث ہیں یہی وہ لوگ تھے جو بھلی بات کہنے والے تھے۔
Ayah 16:25قرآن کو کہانیاں کہنے والے کل اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائیں گے :
25: لِیَحْمِلُوْا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَہُمْ (نتیجہ اس کہنے کا یہ ہوگا کہ قیامت کے دن وہ اپنے گناہوں کا بھی پورا بوجھ اٹھائیں گے۔ اور ان لوگوں کا بار بھی جن کو گمراہ کرتے تھے) یہ بات انہوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے کہی۔ پس اپنی گمراہی کا پورا بوجھ انہوں نے اٹھایا۔ اور کچھ ان کا بوجھ بھی جو ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوئے۔ اور یہ بوجھ اضلال کا ہے کیونکہ ضال ومضل دونوں گناہ میں شریک ہیں۔
نحو : لیحملوا کا لام تعلیلیہ ہے۔
بِغَیْرِ عِلْمٍ (بغیر علم کے) نحو : یہ مفعول سے حال ہے یعنی یضلون من لا یعلم انہم ضلال وہ ایسے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں جن کو یہ معلوم نہیں کہ یہ گمراہ ہیں۔ اَلاَسَآ ئَ مَا یَزِرُوْنَ (خبردار وہ بہت برا بوجھ اٹھانے والے ہیں) ۔ : ماؔ محلِ رفع میں واقع ہے۔
Ayah 16:26پہلوں کی تدابیر ان پر الٹ دی گئیں :
26: قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَھُمْ مِّنَ القَوَا عِدِ ( ان سے پہلے لوگوں نے تدابیر کیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بنیادوں کو جڑ سے گرا دیا) یعنی جڑوں کی جانب سے اور وہ ستون ہیں۔ درحقیقت یہ تمثیل ہے کہ انہوں نے منصوبہ بندی کی تاکہ رسولوں کے خلاف محاذ آرائی کریں اللہ تعالیٰ نے انہی کے اپنے منصوبوں سے ان کو ہلاک کردیا۔ جیسا کہ وہ لوگ جو عمارت بنائیں اور ستون بنا کر مضبوط کریں۔ مگر ہلکر ستونوں سے عمارت اکھڑ جائے اور چھت ان کے اوپر آرہے۔ وہ اس کے نیچے دب کر ہلاک ہوجائیں۔
قول جمہور :
یہ ہے کہ اس سے مراد نمرود بن کنعان تھا جبکہ اس نے بابل میں ایک محل تعمیر کروایا۔ جس کی لمبائی پانچ ہزار گز تھی۔ ایک قول یہ ہے کہ دو فرسخ تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ہوا چلا کر اس عمارت کو اس پر اور اس کی قوم پر گرا دیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ فاتی اللہؔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے استیصال کا ارادہ کیا ہے۔ فَخَرَّ عَلَیْھِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْ قِھِمْ وَاَتٰہُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَایَشْعُرُوْنَ (پس ان پر چھت اوپر سے گر پڑی اور ان پر عذاب ایسی جگہ سے آپہنچا کہ ان کو شعور بھی نہ تھا) ایسی طرف سے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہ تھا اور نہ توقع تھی۔
Ayah 16:27قیامت کو خمیازہ بھگتیں گے :
27: ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُخْزِیْہِمْ (پھر وہ قیامت کے دن ان کو رسوا کرے گا) رسوائی کے عذاب سے ان کو ذلیل کرے گا جو اس کے علاوہ ہوگا جو دنیا میں ان کو عذاب ملا۔ وََیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآ ئِ یَ (اور کہیں گے کہاں ہیں میرے شریک) اپنی طرف اضافت کر کے ان کی اضافت و نسبت کو بیان کیا تاکہ استہزاء ً ان کو توبیخ کردی جائے۔ الَّذِیْنَ کُنـْتُمْ تُشَآ قُّوْنَ فِیْھِمْ (وہ جن کی وجہ سے تم رسول خدا اور مسلمانوں کی مخالفت کرتے تھے) دشمنی کرتے اور مسلمانوں سے ان کے معاملات کے سلسلہ میں جھگڑتے تھے۔
قراءت : تشاقون نافع نے پڑھا یعنی تشاقوننی فیہم۔ کیونکہ مؤمنوں کی مخالفت گویا اللہ تعالیٰ کی مخالفت ہے۔ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ (کہا ان لوگوں نے جن کو علم دیا گیا) انبیاء (علیہم السلام) اور امتوں میں سے علماء جو ایمان کی طرف بلاتے اور نصیحت کرتے تھے مگر یہ لوگ اس نصیحت پر کان نہ دھرتے بلکہ ان کی مخالفت پر آمادہ ہوجاتے۔ یہ بات ان کی شماتت کے طور پر کہیں گے۔ نمبر 2۔ یہ کہنے والے فرشتے ہونگے۔ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ (بیشک آج کی رسوائی) الخزی ؔ ذلت و رسوائی وَالسُّوْٓ ئَ (اور برائی) یعنی عذاب عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (کافروں پر ہوگا)
Ayah 16:28قبض روح کے وقت کفار کی اطاعت :
28: اَلَّذِیْنَ تَتَوَ فّٰہُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ (وہ لوگ جن کی جان ملائکہ نے قبض کی) قراءت : حمزہ نے یاء کے ساتھ پڑھا اور اسی طرح اس کا مابعد بھی ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ (اس حال میں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے) کفر باللہ کے ذریعہ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ (پس وہ صلح کا پیغام ڈالیں گے) صلح اور فرما نبرداری یعنی رجوع کریں گے اور جو ضد دنیا میں کی اس کے برعکس کریں گے اور کہیں گے مَاکُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْ ئٍ (ہم کوئی برا کام نہ کرتے تھے) جو کفر و انکار اور دشمنی ان کی طرف سے دنیا میں پائی گئی اس کا شدت سے انکار کردیں گے وہ علم والے اس کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے۔ بَلٰٓی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ 0 بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (کیوں نہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والے ہیں جو کچھ تم کیا کرتے تھے) پس وہ اس کا تمہیں بدلہ عنایت فرمائیں گے اور یہ بات بھی بطور شماتت کہی جائے گی اور اسی طرح اگلی آیت۔
Ayah 16:2929: فَادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا فَلَبِئْسَ مَثْوی الْمُتَکَبِّرِیْنَ (تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجائو پس متکبرین کا ٹھکانہ بہت برا ہے) یعنی جہنم۔
Ayah 16:30متقین کا درست اقرار اور آخرت میں اچھا گھر :
30: وَقِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقُوْا (اور کہا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا) اِتَّقَوْا سے یہاں شرک سے بچنا مراد ہے۔ مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْا خَیْرًا (تمہارے رب نے کیا اتارا وہ کہتے ہیں بڑی بہتر چیز نازل فرمائی) خَیْرًا کو منصوب لائے۔ اور پیچھے اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ میں اس کو مرفوع قرار دیا گیا۔ کیونکہ تقدیرعبارت یہاں اَنْزَلَ خیرًا ہے۔ پس وہ جواب کو سوال کے مطابق لائے۔ اور وہاں تقدیرعبارت یہ ہے ھُوَاَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ پس جواب ذکر کر کے سوال سے اعراض کیا۔ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا (اور ان لوگوں کیلئے جنہوں نے نیکی کی اس دنیا میں) یعنی ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرتے رہے۔ نمبر 2۔ انہوں نے لا الٰہ الا اللہ کہا۔ حَسَنَۃٌ (اچھائی ہے) مرفوع ہونے کی صورت میں یہ خیرًا سے بدل ہے۔ یعنی ثواب اور امن اور غنیمت۔ یہ متقین کے قول کی حکایت ہے یعنی وہ کہیں گے خیرًا۔ پہلے اس کا نام خیر رکھا پھر حسنۃ سے اس کی حکایت کی۔ نمبر 2۔ یا یہ جملہ مستانفہ ہے جو کہنے والوں کیلئے بطور وعدہ ذکر کیا۔ اور ان کے قول کو من جملہ احسانات میں سے ذکر کیا۔ وَلَدَارُ الْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ (اور البتہ آخرت والا گھر بہت بہتر ہے) ان کو آخرت میں وہ ملے گا جو اس سے بہت بہتر ہوگا جیسا دوسرے مقام پر فرمایا فاتا ھم اللّٰہ ثواب الدنیا وحسن ثواب الآخرۃ ] آل عمران : 148[ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ (البتہ متقین کا گھربہت خوب ہے) دارمتقین سے دارآخرت مراد ہے۔ مخصوص بالمدح کو اسلئے حذف کیا کیونکہ پہلے اس کا تذکرہ ہوچکا۔
Ayah 16:3131: جَنّٰتُ عَدْنٍ (وہ ہمیشہ کے باغات ہیں) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ یا مخصوص بالمدح ہے۔ یَّدْخُلُوْنَہَا (وہ اس میں داخل ہونگے) یہ حال ہے۔ تجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ لَھُمْ فِیْھَا مَایَشَآ ئُ وْنَ کَذٰلِکَ یَجْزِی اللّٰہُ الْمُتَّقِیْنَ (اس کے نیچے نہریں جاری ہونگی ان کے لئے اس میں وہ ہے جو وہ چاہیں گے اسی طرح اللہ تعالیٰ متقین کو بدلہ دیں گے) ۔
Ayah 16:32ان کے قبض روح کا حال :
32: اَلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ طَیِّبِیْنَ (وہ لوگ جن کی ارواح کو فرشتے قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ پاک ہوتے ہیں) وہ اپنے نفس کفر کے ظلم سے پاک کرنے والے ہیں۔ ( یہ معنی اس لئے لیا گیا) کیونکہ یہ ظالمی انفسہم ] النحل : 28[ کے مقابلہ میں ہے ( اور وہاں ظلم سے کامل ظلم یعنی شرک مراد لیا ہے) یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْکُمُ (وہ کہیں گے تم پر سلام ہو) ۔ کہا جاتا ہے کہ جب مومن بندہ موت کو جھانکتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ آکر کہتا ہے۔ السلام علیک یا ولی اللّٰہ ! اللّٰہ یقرأ علیک السلام۔ اور اس کو جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ ان کو آخرت میں کہا جائے گا ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تم اپنے اعمال کے سبب جنت میں داخل ہوجائو) تمہارے عمل کے سبب۔
Ayah 16:33کفار روز قیامت کے منتظر نظر آتے ہیں :
33: ھَلْ یَنْظُرُوْنَ (نہیں وہ انتظار کر رہے) یہ کفار انتظار نہیں کررہے۔ اِلَّآ اَنْ تَاْ تِیَہُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ (مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے) ان کی ارواح کو قبض کرنے کیلئے۔ قراءت : علی اور حمزہ نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اَوْیَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّکَ (یا تیرے رب کا حکم آئے) امر سے استیصال والا عذاب یا قیامت مراد ہے۔ کَذٰلِکَ (اسی طرح) شرک و تکذیب جیسا فعل فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَمَا ظَلَمَھُمُ اللّٰہُ (ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے ہوئے اور ان پر اللہ تعالیٰ نے ظلم نہیں کیا) انکو تہس نہس کر کے وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (لیکن وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے) انہوں نے وہ کام کئے جس سے تباہی کے حقدار ہوئے۔
Ayah 16:34برے اعمال کا انجام :
34: فَاَصَابَھُمْ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا (پس ان کو ان کے برے عملوں کی سزائیں ملیں) ان کے برے اعمال کی سزائیں۔ وَحَاقَ
بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ (اور گھیر لیا ان کو اس عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے) انکے استہزاء کی سزا نے انکو آن گھیرا۔
Ayah 16:35کفار کا مقدمہ یہ شرک اللہ کو پسند ہے :
35: وَقَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْشَآ ئَ اللّٰہُ مَاعَبَدْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ نَّحْنُ وَلَآ ٰابَآ ؤُنَا (اور مشرک کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرتے نہ ہم اور نہ ہی ہمارے آباء و اجداد) یہ کفار نے بطور استہزاء کہا۔ اگر وہ اس کو اعتقاداً کہتے تو بہت بہتر ہوتا۔ وَلَاحَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ (اور نہ حرام کرتے اس کی مشیّت کے بغیر کوئی چیز) یعنی بحیرہ سائبہ اور ان کی طرح جو دوسری تحریمات کر رکھی ہیں ( گویا ان کے ہاں رضا اور مشیت میں کوئی فرق نہیں تھا) کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (اسی طرح ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے ہوئے) یعنی انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ اور حلال کو حرام قرار دیا اور انہی جیسی باتیں بطور استہزاء کہیں فَھَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (نہیں ہے رسولوں کے ذمہ مگر کھلے طور پر پہنچانا) مگر یہ کہ وہ حق کو پہنچ جائیں اور شرک ‘ باطل اور قبیح ہونے کی ان کو اطلاع ہوجائے۔
Ayah 16:36ہر امت کے طاغوت کی عبادت سے روکا گیا :
36: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ (اور تحقیق ہم نے ہر امت میں رسول کو بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) کہ اس کو وحدہٗ لا شریک مانووَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (اور شیطان سے بچتے رہو) شیطان کی اطاعت سے پرہیز کرو۔ فَمِنْھُمْ مَّنْ ھَدَی اللّٰہُ (ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی) اس لئے کہ انہوں نے ہدایت کو اختیار کیا۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلاَ لَۃُ (اور ان میں سے بعض کیلئے گمراہی ثابت ہوگئی) گمراہی ان کے لئے لازم ہوگئی کیونکہ انہوں نے گمراہی کو اختیار کیا فَسِیْرُ وْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (پس تم چل پھر کر زمین میں دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا) کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کیا اور ان کے علاقوں کو ان سے خالی کرالیا۔ اس کے بعد قریش کے عناد کا تذکرہ فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کو ان کے ایمان کے سلسلہ میں حرص کو ذکر کر کے بتلایا کہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوچکی پس فرمایا۔
Ayah 16:37اللہ کا گمراہ کردہ ہدایت نہیں پاسکتا :
37: اِنْ تَحْرِصْ عَلی ھُدٰھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ (تم ان کے راہ راست پر آنے کی کتنی ہی حرص اور تمنا کرو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا جن کو گمراہ کرنا مقصود ہوتا ہے) قراءت : یاء ؔ مفتوح اور دال مکسور یَھْدِی کوفی نے پڑھا۔ باقی قراء یائے ؔ مضموم اور دال مفتوح پڑھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مَنْ یُّضِلُ مبتدا اور لا یُھْدٰی اس کی خبر ہے۔ وَمَالَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (اور ان کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگا) جو اللہ تعالیٰ کا حکم ان پر لاگو ہے اس سے ان کو بچا سکے اور اس کے اس عذاب کو ان سے دور کرسکے جو ان کے لئے تیار کیا گیا۔
Ayah 16:38کفار مانتے نہیں بلکہ باطل پر قسمیں کھاتے ہیں :
38: وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام کی پختہ قسمیں کھا کر کہا) اس کا عطف وقال الذین اشرکوا پر ہے۔ لَایَبْعَثُ اللّٰہُ مَنْ یَّمُوْتُ بَلٰی (اللہ تعالیٰ اس کو نہیں اٹھائے گا جو مرجائے۔ کیوں نہیں) یہ نفی کے بعد اثبات ہے یعنی کیوں نہیں وہ ان کو اٹھائے گا وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا (اس نے پختہ وعدہ کرلیا ہے) یہ مصدر مؤکد ہے جس پر بلی دلالت کر رہا ہے کیونکہ بعث بعد الموت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے اور اس وعدے کا ایفاء برحق ہے۔ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) کہ اس کا وعدہ سچا ہے یا کہ ان کو اٹھایا جائیگا۔
Ayah 16:3939 : لِیُبَیِّنَ لَھُمُ (تاکہ ان کے سامنے واضح کر دے) یہ بھی اس کے متعلق ہے جس پر بلٰی دلالت کر رہا ہے ای یبعثھم لیبین لھم
نحو : اور منؔ کی ضمیر من یموتؔ کی طرف لوٹ رہی ہے جس میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں۔ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ (اس کو جس کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے) کہ وہ برحق ہے وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنَّھُمْ کَانُوْ ا کٰذِبِیْنَ ( اور تاکہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے) اپنے اس قول لا یبعث اللّٰہ من یموت میں کہ بعث بعد الموت نہیں ہے۔
Ayah 16:40قدرتِ عامہ :
40: اِنَّمَا قَوْلُنَالِشَیْئٍ اِذَآ اَرَدْنٰہُ اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (ہم جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اس سے ہمارا اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ ہوجا پس وہ فوراً ہوجاتی ہے) یعنی وہ ہوجاتی ہے ای فھو یکون قراءت : شامی اور علی نے نصب سے پڑھا۔ اس طور پر کہ یہ کنؔ کا جواب ہے قولناؔ مبتدا اور ان نقول اس کی خبر ہے۔ اور کن فیکون میں کان تامہ ہے جو کہ وجود اور حدوث کے معنی میں ہے۔ یعنی جب ہم کسی چیز کو وجود دینا چاہتے ہیں تو ہم اس کو اتنا کہتے ہیں کہ وجود میں آ۔ تو وہ بلا توقف وجود میں آجاتی ہے۔ یہ درحقیقت سرعت ایجاد کی تعبیر ہے اور وضاحت ہے کہ کوئی مراد اس پر ممتنع نہیں اور اس مراد کا وجود بلا توقف ہوتا ہے جبکہ وہ اسکا ارادہ فرما لے۔ جس طرح آمر جب فرما نبردار مامور کو کسی بات کا حکم دے تو وہ فوراً حکم بجا لاتا ہے ( اور یہ بھی بات سمجھانے کیلئے ہے) ورنہ اس جگہ کوئی نہیں ( بس جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو وہ اسی لمحہ وجود میں آجاتی ہے) اب مطلب یہ ہے کہ ہر مقدور کی ایجاد اللہ تعالیٰ کیلئے جب اسقدر آسان ہے تو وہ بعث اس کیلئے کس طرح مشکل ہے جو من جملہ مقدورات میں سے ہے۔