Ayah 16:41مہاجرین کے ساتھ وعدہ :
41: وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر ہجرت کی) اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں اور اس کی رضامندیوں کی خاطر۔ مِنْ 0 بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ( اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا) وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں جن پر اہل مکہ نے ظلم کیا۔ وہ اپنا دین لیکر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئے۔ ان میں سے بعض نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف اور بعض ان میں سے انہوں نے دونوں ہجرتیں اپنے لئے جمع کرلیں۔ اور بعض نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
لَنُبَوِّئَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً (ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے) حسنۃً یہ مصدر کی صفت ہے تبوئۃ حسنۃ ٹھکانہ دینا اچھا۔ نمبر 2۔ لنبوئنھم مباءۃ حسنۃ۔ ٹھکانہ اچھا۔ اور وہ مدینہ منورہ ہے جہاں کے رہنے والوں نے ان کو ٹھکانہ دیا۔ اور ان کی امداد کی۔ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ (اور البتہ آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے) اس پر وقف ضروری ہے کیونکہ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ جواب محذوف ہے اور ضمیر کفار کی طرف راجع ہے یعنی اگر کفار اس بات کو جان لیتے تو دین کی طرف ضرور رغبت کرتے۔ نمبر 2۔ یاؔ مہاجرین کی طرف راجع ہے اگر وہ اس ثواب و بدلے کو جان لیتے تو صبرو اجتہاد میں مزید اضافہ کرتے۔
Ayah 16:4242: الَّذِیْنَ صَبَرُوْا (وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا) یعنی ھم الذین صبروا وہی لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا۔ نمبر 2۔ میری مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا۔ اور دونوں ہی قابل تعریف چیزیں ہیں۔ یعنی انہوں نے وطن کی جدائی پر صبر کیا وہ وطن عزیز جو اللہ تعالیٰ کا حرم اور ہر مومن کا دھڑکتا دل ہے۔ ان تارکین وطن کا کیا حال ہوگا۔ جن کے سروں کو اس کی خاطر اڑایا جارہا ہو۔ دوسرا مجاہدہ پر انہوں نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ارواح کو خرچ کرڈالا۔ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (اور اپنے رب ہی پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں) وہ اپنے معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین میں جو ان کو تکلیف پہنچے اس کو رضاء و خوشی برداشت کرتے ہیں۔
Ayah 16:4343: جب قریش نے کہا اللہ تعالیٰ اس سے عظیم ترشان والے ہیں کہ کسی بشر کو وہ رسول بنا کر بھیجیں تو یہ آیت اتری وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ ِالَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ (اور آپ سے پہلے بھی ہم نے مرد ہی پیغمبر بنا کر بھیجے ہم ان کی طرف وحی بھیجتے رہے) فرشتوں کے ذریعہ۔
قراءت : نوحی حفص نے پڑھا۔ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ (تم اہل علم سے پوچھ لو) یعنی اہل کتاب تاکہ وہ تمہیں بتلا دیں کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کی طرف انسانوں کو ہی بھیجا ہے۔ یہاں کتابؔ کو ذکر فرمایا کیونکہ کتاب ہی نصیحت اور غافلین کیلئے تنبیہ کا ذریعہ ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (اگر تم نہیں جانتے)
Ayah 16:44تمام انبیاء ( علیہ السلام) انسان تھے :
44: بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ (دلائل اور کتابوں کے ساتھ) واضح معجزات اور کتابوں کے ساتھ۔ : باء یہ رجالاً سے متعلق ہے اور اس کی صفت ہے۔ ای رجالا ملتبسین بالبینات ایسے مرد جو دلائل واضحہ کے ساتھ ملتبس تھے۔ نمبر 2۔ نوحی سے متعلق ہے نوحی الیھم بالبینات ہم ان کی طرف واضح دلائل کے ساتھ وحی کرتے رہے۔ نمبر 3۔ لاتعلمون سے متعلق ہے۔ اگر تم دلائل و کتابوں کو نہیں جانتے۔ اور فاسألوا اہل الذکر یہ تمام صورتوں میں جملہ معترضہ ہے۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ (اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت اتاری) الذکر سے قرآن مراد ہے۔ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ (تاکہ تم ان کے سامنے کھول کر بیان کرو۔ اس کو جو ان کی طرف اتارا گیا) یعنی الذّکر میں جو اوامرو نواہی، وعدے اور وعیدیں ہیں ان کو کھول کر بیان کرو۔ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (اور تاکہ وہ سوچ و بچار کریں) اس کی تنبیہات میں تاکہ وہ متنبہ ہوں۔
Ayah 16:45استحقاقِ عذاب والی حرکات تو ہیں مگر تفاخر رحمت سے نہیں پکڑتے :
45: اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ (جولوگ بری بری تدابیر کرتے ہیں۔ کیا وہ بےخوف ہوگئے ہیں) یعنی بری بری تدابیر۔
الذینؔ سے مراد اہل مکہ ہیں۔ جو تدابیر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سلسلہ میں اختیار کیں۔ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰہُ بِہِمُ الْاَرْضَ (کہ اللہ تعالیٰ ان کو زیر زمین دھنسا دے) جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا۔ اَوْیَاْتِیَھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَایَشْعُرُوْنَ (یا ان پر عذاب ایسی طرف سے آجائے کہ ان کو گمان بھی نہ ہو) یعنی اچانک۔
Ayah 16:4646: اَوْ یَاْخُذَھُمْ فِیْ تَقَلُّبِھِمْ (یا ان کو آتے جاتے پکڑتے) سفر میں آتے جاتے۔ تجارت کے مقامات میں آتے جاتے۔ فَمَاھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ (پس وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو ہرگز ہرا نہیں سکتے)
Ayah 16:4747: اَوْ یَاْ خُذَھُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍ (یا ان کو گھٹاتے گھٹاتے پکڑ لے) ڈرانے کی حالت میں اور وہ اس طرح ہے کہ ان سے پہلے ایک جماعت کو ہلاک کردیا جائے پس وہ خوف زدہ ہوجائیں پھر اچانک ان کو عذاب آپکڑے اس حالت میں کہ ڈرائے ہوئے اور امید لگائے بیٹھے ہوں۔ یہ من حیث لا یشعرون کے برخلاف دوسری حالت ہے۔ فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ (بیشک تمہارا رب نرمی والا مہربان ہے) اس طرح کہ وہ تمہارے متعلق بردباری اختیار فرماتے ہیں۔ اور تمہارے توھین آمیز رویے کے باوجود وہ جلدی سزا نہیں دیتے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ تمہاری استحقاق عذاب والی حرکات کے باوجود نہیں پکڑتا تو اس کی نرمی ہی تمہیں بچاتی اور اس کی رحمت ہی تمہاری حفاظت کرتی ہے۔
Ayah 16:48ہر چیز خالق کائنات کے سامنے عاجز ہے :
48: اَوَلَمْ یَرَوْا (کیا انہوں نے نہیں دیکھا) قراءت : حمزہ، علی، ابوبکر نے تاء سے پڑھا ہے۔ اِلٰی مَاخَلَقَ اللّٰہُ (ان چیزوں کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں) ماؔ موصولہ ہے اور یہ مبہم ہے اس کی وضاحت من شیء سے فرمائی۔ مِنْ شَیْئٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ ( جن کے سائے جھکتے ہیں) یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔
قراءت : بصری نے یتفیّئوا کو تاء سے پڑھا ہے۔ عَنِ الْیَمِیْنِ (دائیں سے) دائیں طرف سے۔ وَالشَّمَآپلِ (بائیں سے) شمائل جمع شمال کی ہے سُجَّدًا لِلّٰہِ (اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے) ۔ یہ ظلالؔ سے حال ہے حضرت مجاہد (رح) کہتے ہیں جب سورج زوال پذیر ہوتا ہے تو ہر چیز اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے۔ وھُمْ دَاخِرُوْنَ (اس حال میں کہ وہ عاجزی کرنے والے ہیں) یعنی عاجز و بےبس یہ ظلالہ کی ضمیر سے حال ہے کیونکہ وہ جمع کے معنی میں ہے۔ اور اس سے ہر وہ چیز جس کو پیدا کیا اور اس کا سایہ ہے وہ مراد ہے جمع وائو نون سے آرہی ہے کیونکہ دخورؔ یہ عقلاء کی صفات میں سے ہے۔ نمبر 2۔ ان میں شامل تو تمام ہیں مگر عقلاء کو غلبہ دیا۔ معنی اس طرح ہوگا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی اس مخلوق کو نہیں دیکھتے جن کے ایسے اجسام ہیں جو سایہ رکھتے ہیں اور وہ سایہ دائیں سے بائیں ڈھلتا رہتا ہے۔ یعنی سایہ دائیں سے بائیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی حالت میں لوٹتا ہے۔ جس خاطر اس کو بنایا اس سے رکتا اور باز نہیں رہتا یعنی سایہ دینا اور اجرام بھی ذاتی طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنیوالے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے افعال جو ان میں پیدا کئے ان میں اطاعت کرنے والے ہیں۔
Ayah 16:49آسمان و زمین کی مخلوقات اطاعت سے سر نہیں اٹھاتیں :
49: وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃٍ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی مطیع ہیں جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں چلنے والی ہیں زمین میں) من دابۃؔ یہ مافی السمٰوٰت ومافی الارض تمام کا بیان ہے۔ کہ آسمانوں میں بھی ایسی مخلوق ہے۔ جو اس میں چلتی ہے۔ جیسا کہ زمین میں انسان چلتے ہیں۔ نمبر 2۔ یا ما فی الارض کا صرف بیان ہے۔ اور ماؔ فی السٰموات سے آسمانوں کے ملائکہ مراد ہیں اور وَّالْمَلٰٓپکَۃُ ( اور فرشتے) ملائکہ سے حفظہ مراد ہیں۔ نمبر 2۔ سجود مکلفین سے مراد ان کی اطا عت و عبادت مراد ہے اور دوسروں کے سجدہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے ارادہ کی اطاعت ہے۔ اور الانقیادؔ کا لفظ دونوں کو شامل ہے۔ اسی لئے دونوں کیلئے ایک ہی تعبیر لائی گئی۔ ماؔ لایا گیا جو کہ عقلاء وغیرہ سب کو شامل ہے اگر منؔ لاتے تو صرف عقلاء ہی شمارہوتے۔ وَھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ (اور وہ تکبر نہیں کرتے) ۔
Ayah 16:5050: یَخَافُوْنَ رَبَّھُمْ (وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں) ۔ یہ لایستکبرون کی ضمیر سے حال ہے یعنی وہ تکبر نہیں کرتے اس حال میں کہ وہ ڈر رہے ہوتے ہیں۔ مِّنْ فَوْقِھِمْ (اپنے اوپر سے) نمبر 1۔ اگر اس کو یخافون کے متعلق کرو تو اس کا معنی یہ ہوگا۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ان پر اوپر سے عذاب نہ اتار دے۔ نمبر 2۔ اور اگر بربھم سے حال ہو تو اس کا معنی وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اس حال میں کہ وہ ان پر غالب و زبردست ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد وھوا لقاہر فوق عبادہٖ ] الانعام : 18[ میں ہے وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْنَ ( اور وہ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملتا ہے)
نکتہ : اس میں واضح دلیل ہے کہ ملائکہ مکلف ہیں اور امر و نہی کے ذمہ دار اور خوف ورجاء کے درمیان ہیں۔
Ayah 16:5151 : وَقَالَ اللّٰہُ لَاتَتَّخِذُوا اِلٰھَیْنِ اثْنَیْنِ اِنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہ بنائو دو معبود۔ فقط اللہ تعالیٰ ہی ایک معبود ہے)
سوال : دو اور ایک سے زائد میں عددو معدود کو جمع کیا جاتا ہے اور کہتے ہیں عندی رجال ثلاثۃ کیونکہ معدود خاص عدد پر دلالت سے عاری ہوتا ہے۔ ایک اور دو میں تو معدود کی خود عدد پر دلالت ہوتی ہے۔ پس رجل واحد اور رجلان اثنان کہنے کی ضرورت نہیں۔
جواب : واحد و تثنیہ کا معنی جس اسم میں ہوتا ہے۔ اس کی دلالت دو چیزوں پر ہوتی ہے۔ نمبر 1۔ جنسیت نمبر 2۔ خاص عدد۔ جب یہ دلالت مراد لیں کہ دونوں کا معنی عدد ہے تو اس کو دوبارہ لاکر تاکید کرتے ہیں اور اس سے مقصود الیہ پر دلالت اور اس پر خاص طور پر متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اگر تم اس طرح کہو : اِنَّمَا ھُوَ اِلٰہ ٌ اور اس کی تاکید واحد سے نہ لائو تو کلام میں تحسین نہ ہوگی۔ تو اس سے خیال گزرے گا کہ تم نے الوہیت کو ثابت کیا ہے وحدانیت کو نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ اس جگہ وحدانیت کو ثابت کرنا مقصود ہے الوہیت کا اثبات مقصود نہیں۔ الوہیت کے لوازم میں سے وحدانیت ہے۔ فَاِیَّا یَ فَارْھَبُوْنِ (پس مجھ ہی سے ڈرو) کلام غائب سے متکلم کی طرف منتقل کردیا گیا اور یہ التفات کا طریقہ ہے جو کہ ترغیب سے زیادہ بلیغ ہے جیسا کہ کہیں فایاہ فارھبوا۔
قراءت : فَارْھَبُونی یعقوب نے پڑھا ہے۔
Ayah 16:52سب نعمتیں اسی سے جس کو دن میں پکارتے ہیں تو عبادت کا بھی وہی حقدار ہے :
52: ولَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَہُ الدِّیْنُ وَاصِبًا (اور اسی ہی کیلئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور اس کی اطاعت ہمیشہ اور لازمی ہے) الدین یہاں طاعت کے معنی میں ہے واصباؔ ثابت وواجب کے معنی میں ہے کیونکہ ہر نعمت اسی ہی کی طرف سے ہے۔ اس کی اطاعت ہر انعام یافتہ پر لازم ہے۔
نحو : واصبًا یہ حال ہے اس میں ظرف نے عمل کیا ہے۔ نمبر 2۔ ولَہ الجزاء دائمًا۔ الجزاء سے ثواب و عقاب مراد ہیں۔ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَتَّقُوْنَ (کیا پس اللہ تعالیٰ کے سوا اور سے تم ڈرتے ہو)
Ayah 16:5353: وَمَابِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ (اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے) یعنی جو چیز بھی تمہارے ساتھ نعمت و عافیت کی صورت میں متصل ہے۔ اسی طرح غناء و خوشحالی ہے۔ فَمِنَ اللّٰہِ ( پس وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے) ای فھو من اللّٰہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ (پھر جب تمہیں کوئی تکلیف آلیتی ہے) الضُّر سے مرض، فقر، قحط مراد ہے۔ فَاِلَیْہِ تَجْئَرُوْنَ (پس اسی ہی کی طرف تم رجوع کرتے ہو) تو اسی کی طرف گڑ گڑاتے ہو۔ الجؤار کے معنی دعا و استغاثہ میں آواز بلند کرنا ہیں۔
Ayah 16:5454: ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنْکُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْکُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ (پھر جب وہ مصیبت کو تم سے دور کرتا ہے تو ایک فریق تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتا ہے) ماؔ بکم میں خطاب اگر عام ہو تو اس سے کافر فریق مراد ہے۔ اگر خطاب مشرکین کو ہو تو منکمؔ میں من بیانیہ ہوگا تبعیضیہ نہ ہوگا۔ گویا اس طرح فرمایا : فَاِذَا فَرِیْقٌ کَافِرٌ وھم انتم کہ اسی وقت ایک کافر گروہ اور وہ تم ہو “ اور یہ بھی جائز ہے کہ ان میں عبرت حاصل کرنے والے لوگ بھی ہوں۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا فلما نجّاھم الی البر فمنھم مقتصد ] لقمان : 32[
Ayah 16:5555: لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ (جس کا حاصل یہ ہے کہ جو نعمتیں ہم نے ان کو دی ہیں ان کی ناشکری کرتے ہیں) ان سے عذاب ہٹا لینے والی نعمت کی۔ گویا کہ انہوں نے شرک کا مقصد کفر انِ نعمت بنا رکھا ہے۔ پھر ان کو ڈرایا اور فرمایا فَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (پس تم فائدہ اٹھا لو۔ عنقریب تم جان لوگے) یہاں بھی غیبت سے خطاب کی طرف رجوع کیا تاکہ ان کو دھمکایا جائے۔
Ayah 16:5656: وَیَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰھُمْ ( اور یہ لوگ ہماری دی ہوئی چیزوں میں (اپنے معبودوں کا) حصہ لگاتے ہیں جن کے متعلق ان کو کچھ علم نہیں) ماؔ سے مراد ان کے ٰالہہ ہیں۔ لا یعلمون کا مطلب یہ ہے کہ جن کو یہ الہہ کہتے ہیں۔ اور ان کے متعلق اعتقاد یہ ہے کہ وہ نقصان و نفع کی طاقت رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں زبردستی سفارش سے چھڑا لیں گے۔ حالانکہ اس طرح نہیں کیونکہ یہ بت و جماد محض ہیں جو نہ نقصان دیتے ہیں اور نہ نفع۔
نمبر 2۔ لا یعلمون کی ضمیراٰلہہ کی طرف لوٹتی ہے۔ ان چیزوں کیلئے جو علم سے موصوف نہیں اور نہ شعور رکھتے ہیں۔ کیا انہوں نے انکا حصہ اپنے چوپایوں اور کھیتوں میں مقرر کر رکھا ہے یا نہیں ؟ اور وہ یہ حصہ انکا ان کے تقرب کیلئے مقرر کرتے تھے۔ تَاللّٰہِ لَتُسْئَلُنَّ (اللہ تعالیٰ کی قسم تم سے ضرور سوال ہوگا) یہ وعید ہے۔ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ (ان کاموں کے متعلق جن کو تم بطورا فتراء کرتے تھے) کہ یہ معبود ہیں ان کو ان کا قرب حاصل ہے۔
Ayah 16:57اللہ کے لئے ایسی اولاد تجویز کرتے ہیں جو خود کو ناگوار ہے :
57: وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنٰتِ (وہ اللہ تعالیٰ کیلئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں) بنو خزاعہ اور کنانہ کہا کرتے تھے کہ الملائکۃ بنات اللہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ سُبْحٰنَہٗ (وہ پاک ہے) اس میں بیٹیوں کی نسبت سے اللہ تعالیٰ کا منزہ ہونا ذکر فرمایا۔ نمبر 2۔ ان کی بات پر تعجب کا اظہار ہے۔ وَلَھُمْ مَّا یَشْتَھُوْنَ (اور ان کے لئے ہے وہ جو وہ پسند کرتے ہیں) یعنی بیٹے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ما کو ابتداء کی وجہ سے مرفوع مانا جائے۔ اور ولھم کو خبر قرار دیں۔ اور اگر منصوب مانیں تو البنات پر عطف ہوگا اور سبحانہؔ جملہ معترضہ ہوگا۔ جو معطوف اور معطوف علیہ کے مابین واقع ہے ای وجعلوا لا نفسہم ما یشتہوں من الذکور اور انہوں نے اپنے نفوس کیلئے وہ چیز تجویز کی جو ان کو پسند ہے۔ یعنی بیٹے۔
Ayah 16:5858: وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا (اور ان میں کسی کو اگر بیٹی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو سارا دن اس کا چہرہ بدرونق رہتا ہے) صار، ظل، امسٰی، اصبح، بات یہ صیرورت کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں کیونکہ اکثر وضع حمل کا اتفاق رات کو ہوتا ہے۔ پس وہ دن غم کے مارے گزارتا ہے۔ کہ اس کے چہرے پر اکتاہٹ کی سیاہی چھائی ہوتی ہے اور لوگوں سے حیاء کرتے دن گزارتا ہے۔ وَّھُوَکَظِیْمٌ (وہ دل ہی دل میں گھٹتا ہے) عورت پر بغض و غصہ سے پُر ہوتا ہے۔
Ayah 16:5959: یَتَوَارٰی مِنَ القَوْمِ مِنْ سُوْٓ ئِ مَابُشِّرَبِہٖ (وہ چھپا پھرتا ہے۔ اس چیز سے جس کی اس کو اطلاع دی جاتی ہے) بری بشارت سے وہ لوگوں میں چھپتا پھرتا ہے۔ ان کے عار دلانے کی وجہ سے۔ وہ اپنے نفس میں کہتا اور دیکھتا ہے۔ اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ (اس کو ذلت کی حالت میں روکے رکھے) ذلت و رسوائی کے ساتھ اس کو روک لے جس کی اسے بشارت دی گئی ہے۔ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ (یا اس کو گاڑ دے مٹی میں) یا اس کو زندہ درگور کر دے۔ اَلَا سَآ ئَ مَا یَحْکُمُوْنَ (خبردار وہ بہت بری تجویز کرتے ہیں) جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کیلئے ایسی اولاد تجویز کرتے ہیں جس کا مرتبہ ان کے ہاں یہ ہے اور اپنے لئے وہ اولاد تجویز کرتے ہیں جو اس کے برعکس ہے۔
Ayah 16:60کافروں کا برا حال ‘ اللہ اعلیٰ شان والے زبردست ہیں :
60: لِلَّذِیْن لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْئِ (جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے) مذکر اولاد کی ضرورت ‘ بنات سے نفرت اور بھوک کے خطرہ سے زندہ درگور کرنا۔ یہ سب مثل السوء کی صفت ہے۔ وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی (اور اللہ تعالیٰ کی شان سب سے بلند ہے) اور وہ دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے۔ اور مخلوق والی خصوصیات وصفات سے پاک ہے وَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہ زبردست ہے) اپنے ارادوں کو نافذ کرنے میں غالب ہے۔ الْحَکِیْمُ (وہ حکمت والا ہے) بندوں کو مہلت دینے میں۔
Ayah 16:61گناہ پر فوری پکڑ نہیں بلکہ مقررہ وقت تک مہلت ہے :
61: وَلَوْ یُؤَا خِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلْمِھِمْ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی بےجا حرکتوں کے سبب ان پر گرفت کرتا) ان کے کفر اور ان کے گناہوں کی وجہ سے۔ مَّا تَرَکَ عَلَیْھَا (تو زمین پر نہ چھوڑتا) مِنْ دَآبَّۃٍ (کسی حرکت کرنے والے کو) بالکل تمام کو ظالموں کے ظلم کی نحوست سے ہلاک کرڈالتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حباری پرندہ اپنے گھونسلے میں ظالم کے ظلم کی وجہ سے مرتا ہے۔ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ابن آدم کے گناہوں کی وجہ سے اپنے سوراخ میں مکوڑے ہلاک ہوتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ دابہ سے مراد مشرک ہے جو چلتا ہے زمین پر۔ وَّ لٰکِنْ یُّؤَخِّرُ ھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (لیکن ان کو ایک وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے) یعنی ہر ایک کا وقت مقرر ہے۔ نمبر 2۔ ایک ایسے وقت تک جس کا حکمت تقاضا کرتی ہے۔ نمبر 3۔ قیامت تک۔ فَاِذَا جَآ ئَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْ خِرُوْنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ (جب انکا وقت معین پہنچے گا اس وقت وہ منٹ بھر نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے)
Ayah 16:6262: وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ مَایَکْرَھُوْنَ (اور وہ اللہ تعالیٰ کیلئے تجویز کرتے ہیں وہ باتیں جو اپنے لئے وہ ناپسند کرتے ہیں) وہ بیٹیاں جن کو وہ اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں اور اپنی ریاست میں شراکت کو ناپسند کرتے ہیں اور رسولوں کی توہین اور اللہ تعالیٰ کیلئے حقیر اموال اور اپنے اصنام کیلئے اعلی قسم کے اموال کو پسند کرتے ہیں۔ وَتَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْکَذِبَ ( اور ان کی زبانیں جھوٹے وعدے کرتی ہیں) اس کے ساتھ یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اَنَّ لَھُمُ الْحُسْنٰی (کہ ان کے لئے ہر قسم کی بھلائی ہے) اللہ تعالیٰ کے ہاں۔ اور وہ جنت ہے اگر بعث بعدالموت برحق ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی۔] فصلت : 50[:
نحو : ان لھم الحسنی یہ الکذب سے بدل ہے۔ لَاجَرَمَ اَنَّ لَھُمُ النَّارَ وَ اَنَّھُمْ مُّفْرَطُوْنَ (یقینا ان کے لئے آگ ہے اور بیشک وہ اس میں سب سے پہلے داخل ہونے والے ہیں)
قراءت : نافع نے مفرِطون اور ابو جعفر مفرطون پڑھا۔ اگر فتحہ راء سے ہو تو معنی یہ ہے کہ ان کو آگ کی طرف آگے بڑھایا جائے گا اور جلد بھیجاجائے گا۔ یہ افرطت فلانا و فرطتہ فی طلب الماء سے لیا گیا ہے جبکہ اس کو آگے بھیجا جائے۔ نمبر 2۔ ان کو چھوڑ دیا اور بھلا دیا جائے گا۔ یہ افرطت فلانا خلفی سے لیا گیا ہے۔ جب پیچھے چھوڑا اور بھلا دیا جائے۔ نمبر 3: اور جب مک سورة و تو مخفف ہے۔ الا فْرَاط فی المَعَاصِیْ سے لیا جائیگا۔ اور مشددہونے کی صورت میں تفریط فی الطاعات سے لیا جائے گا یعنی بمعنی کمی کرنا۔
Ayah 16:63امتوں کی طرف رسول آئے مگر لوگ شیطان کے پیچھے چلے :
63: تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ (اللہ کی قسم ہم نے آپ سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے) یعنی ہم نے آپ سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے۔ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ (شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کیا) اعمال سے مراد کفر اور تکذیب رسل ہے۔ فَھُوَ وَلِیُّھُمُ الْیَوْمَ (وہی آج انکا دوست ہے) دنیا میں انکا ساتھی اور دھوکے کے ساتھ ان کے گمراہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ نمبر 2۔ ضمیر کا مرجع مشرکین قریش ہیں یعنی ان کفار کیلئے جو ان سے پہلے ہوئے شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کیا وہی شیطان آج انکادوست بنا ہوا ہے۔ نمبر 3۔ مضاف محذوف ہے۔ ای فھو ولی امثالہم الیوم پس وہی ان جیسوں کا آج دوست ہے۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے) قیامت کے دن۔
Ayah 16:64قرآن کو رحمت بنا کر ہم نے اتارا :
64: وَمَآ اَنْزَلَنْاَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ (اور ہم نے یہ کتاب آپ پر اس لئے اتاری ہے) الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ (اسلئے کہ آپ انکے سامنے ظاہر کردیں) ھمؔ سے لوگ مراد ہیں۔ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (جن امور پر لوگ اختلاف کر رہے ہیں) وہ اختلاف دوبارہ اٹھنے پر ہے۔ کیونکہ ان میں کچھ لوگ وہ تھے جو اس پر یعنی دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاتے تھے۔ وَھُدًی وَّرَحْمَۃً (اور ہدایت و رحمت ہے) ۔
نحو : یہ دونوں لِتُبَیِّنَ کے محل پر معطوف ہیں مگر ان دونوں کا نصب مفعولیت کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ دونوں اس ذات کے فعل ہیں جس نے کتاب کو نازل کیا اور تبین کا لام اسلئے لایا گیا کیونکہ یہ مخاطب کا فعل ہے۔ منزل کا فعل نہیں۔ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ایمان والوں کیلئے) ۔
Ayah 16:6565: وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پس اس کے ذریعہ زمین کو اس کے بنجر ہونے کے بعد زندہ کیا۔ بیشک اس میں سننے والے لوگوں کیلئے نشانی ہے) سننے سے مراد انصاف سے سننا ہے۔ اور غورو تدبر والا سماع ہے۔ کیونکہ جو دل کی توجہ سے نہیں سنتا گویا وہ سنتا ہی نہیں۔
Ayah 16:66قریشیوں میں نمونہ عبرت :
66: وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ ( اور تمہارے لے مویشیوں میں عبرت ہے۔ ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز سے جو ان کے پیٹ میں ہے) قراءت : نافع، شامی اور ابوبکر نے نون کے فتحہ کے ساتھ نسقیکم پڑھا ہے۔ زجاج نے کہا سقیتہ واسقیتہ کا معنی ایک ہے۔ سیبویہ نے کہا انعام اسمائے مفردہ میں سے ہے۔ جو وزن افعال پر وارد ہوتے ہیں۔ اسی لئے ضمیر ان کی طرف مفرد لائی گئی۔ گویا یہ اسم جمع ہے۔ اور فی بطونھا ؔ جو سورة المؤمنون : 21 میں ہے۔ ضمیر کی تانیث اس لئے ہے کہ اس میں معنی جمع کا ہے اور یہ جملہ مستانفہ ہے گویا اس طرح کہا عبرت کس طرح حاصل ہو ؟ تو جواب دیا۔
دودھ کی خصوصی نعمت :
مِنْ 0 بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّـبَنًا خَالِصًا (گوبر اور خون کے درمیان میں سے صاف دودھ) یعنی اللہ تعالیٰ دودھ کو گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا کرتا ہے۔ ان کے درمیان ایک ایسا پردہ ڈال رکھا ہے کہ رنگت، ذائقہ ‘ بو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ملتی۔ بلکہ وہ ان تمام سے بچا ہوا ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جب جانور کھاتا ہے تو وہ اس کی اوجری میں داخل ہوتا ہے وہ اس کو پکاتی ہے تو نچلا حصہ گوبر، درمیان والا دودھ اور بالائی حصہ خون اور کبدو جگر کا کام ان تینوں اقسام کو الگ الگ کرنا ہے۔ خون رگوں میں چلا جاتا ہے اور دودھ تھنوں کی طرف بہہ آتا ہے۔ اور گوبر اوجری میں برقرار رہتا ہے۔ اس میں عبرت والوں کیلئے نشانہائے عبرت ہیں۔ شقیق بلخی (رح) سے کسی نے اخلاص کا معنی دریافت کیا تو فرمایا عمل کو عیوب سے الگ رکھنا اسی طرح ہے جیسا دودھ گوبر وخون سے ممتاز رہتا ہے۔ سَآپغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ (خوشگوار ہے پینے والوں کیلئے) حلق سے جلد گزرجاتا ہے کہا جاتا ہے کہ دودھ سے کسی کو اچھو نہیں آیا۔
نحو : پہلا من تبعیضیہ ہے کیونکہ جو ان کے پیٹ میں ہے۔ دودھ اس کا بعض حصہ ہے اور دوسرا منؔ ابتدائے غایت کیلئے ہے۔
Ayah 16:67احسان و عتاب کو جمع کیا :
67: وَمِنْ ثَمٰرٰتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ (اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے) یہ محذوف کے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ونسقیکم من ثمرات النخیل والاعناب یعنی من عصیر ھا کو نسقیکم جو اس سے قبل موجود ہے اس کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا۔ مطلب یہ ہے (کھجور اور انگور کے عصیر سے ہم تمہیں پلاتے ہیں) تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا (تم اس سے نشہ کی چیز بناتے ہو) اس میں پلانے کی حقیقت بیان کی۔ نمبر 2۔ تَتَّخِذُوْنَ اور منہؔ میں تکریر ظرف تاکید کیلئے کیا گیا اور منہ کی ضمیر مضاف محذوف کی طرف راجع ہے اور وہ مضاف عصیرؔ ہے۔ السُکرؔ شراب کے معنی میں ہے۔ یہاں مصدر بول کر نام مراد لیا ہے۔ کہتے ہیں سکر وسکراً جیسے رشد ورشداً پھر اس کی دو صورتیں ہیں۔ نمبر 1۔ کہ یہ آیت تحریم خمر سے پہلے کی ہے۔ اس صورت میں یہ منسوخ ہے۔
نمبر 2۔ اس آیت میں احسان و عتاب دونوں کو جمع کیا گیا اور یہ کہا گیا ہے کہ السکر نبیذ ہے۔ نبیذ کی تعریف یہ ہے کہ انگور، کشمش، فروٹ کو پکایا جائے تیسرا حصہ پانی رہ جائے پھر گاڑھا ہونے تک چھوڑ دیا جائے۔ یہ امام ابوحنیفہ و ابو یوسف رحمہما اللہ کے نزدیک نشہ کی حد سے پہلے تک حلال ہے۔ اور ان کی دلیل یہی آیت ہے اور دوسری دلیل الخمرحرام لعینھا و السکرمن شراب اور اسی طرح کی کثیر روایات ان کی مستدل ہیں۔ وَّرِزْقًا حَسَنًا (اور عمدہ کھانے کی چیزیں) وہ سرکہ، رُب، کھجور، کشمش وغیرہ ہیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے عقل والے لوگوں کیلئے)
Ayah 16:68شہد کی مکھی قدرت کا عظیم نمونہ :
68: وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ (اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں بات ڈالی) الہام کیا۔ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا (کہ تو بعض پہاڑوں میں گھر بنا) ان ؔ مفسرہ ہے کیونکہ الایحاء میں قول کا معنی پایا جاتا ہے۔ زجاج (رح) کہتے ہیں النحلؔ کا واحد النحلۃ ہے۔ جیسے النخل والنخلۃ اور تانیث میں اسی کا لحاظ ہے۔ مِنْؔ مِنَ الْجِبَالِ اور مِنَ الشَّجَرِ میں تبعیضیہ ہے۔ کیونکہ ہر پہاڑ پر وہ گھر نہیں بناتی اور نہ ہی ہر درخت پر بناتی ہے۔ اور نہ ہی ہر چھپر میں بناتی ہے۔ وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّایَعْرِشُوْنَ (اور بعض درختوں اور بعض چھپروں میں جن کو لوگ بناتے ہیں) یَعْرِشُون سے مراد گھروں کی چھتیں جو چھپروں کی صورت میں بلند کی جائیں۔ نمبر 2۔ پہاڑوں میں پالتو مکھیوں کیلئے جو چھتے بنائے جائیں۔ اسی طرح درخت، گھر، پہاڑ ان مقامات میں سے ہیں جن پر شہد عموماً بنتا ہے۔
قراءت : یَعْرِشُوْنَ اس میں راء پر شامی، ابوبکر وغیرہ نے ضمہ پڑھا ہے۔
Ayah 16:6969: ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ (پھر تو ہر قسم (جو مناسب و ضروری) پھلوں میں سے کھا) یعنی تو گھر بنا۔ پھر جو پھل تمہیں پسند ہو
وہ کھا جب کھاچکے تو فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ (پھر اپنے رب کے راستوں پر چل جو آسان ہیں) تو ان راستوں میں داخل ہو جن کا تجھے الہام کیا گیا ہے۔ اور شہدبنانے میں جن کی سمجھ تجھے دی گئی ہے۔ نمبر 2۔ جب تو اپنے چھتوں سے دور مقامات میں پھلوں کو کھائے۔ تو اپنے رب کے بتلائے ہوئے آسان راستوں پر چل کر اپنے گھروں کی طرف لوٹ تو ان راستوں پر چلنے سے راستہ سے نہ بھٹکنے پائے گی۔ ذُلُلاً جمع ذلول کی ہے۔
نحو : یہ سُبُلَ سے حال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان راستوں کو مطیع اور آسان کیا ہے۔ نمبر 2۔ فَاسْلُکِیْ کی ضمیر سے حال ہے یعنی تو مطیع و فرمانبردار ہے اس حکم کی جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے سرتابی کرنے والی نہیں ہے۔ یَخْرُجُ مِنْ 0 بُطُوْنِہَا (ان کے پیٹ سے نکلتا ہے ایک مشروب) شراب سے مراد یہاں شہد ہے۔ کیونکہ وہ مشروبات میں سے ہے۔ جس کو وہ اپنے منہ سے ڈالتی ہے۔ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ (جس کے رنگ مختلف ہیں) سفید، زرد، سرخ جو جواں سال مکھیوں سے بنے۔ اسی طرح ادھیڑ عمر اور بوڑھی مکھیوں نے تیار کیا ہو۔ نمبر 2۔ جیسی ان کی غذائیں ویسی ہی رنگتیں۔ فِیْہِ شِفَآئٌ لِّلنَّاسِ (اس میں لوگوں کیلئے شفاء ہے) کیونکہ وہ من جملہ ان ادویہ میں سے ہے جو نفع بخش ہیں اور کوئی ایسی معجون نہیں جس میں شہد نہ پڑتا ہو۔ یہ مقصد نہیں کہ ہر مریض کیلئے شفاء ہے۔ جیسا کہ ہر دواء کا حال اسی طرح کا ہے۔ البتہ اس میں شفاء ٌکی تنوین اس کی شفاء کو عظیم بتلا رہی ہے۔
نمبر 2۔ اس لئے کہ اس میں بعض شفاء ہے۔ اور نکرہ جب مثبت ہو تو خاص ہوجاتا ہے۔ سرور دو عالم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے اپنے بھائی کے پیچش کا ذکر کیا تو فرمایا اس کو شہد پلائو وہ پھر آیا اور کہا اس کی بیماری بڑھ گئی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ اس کو اور پلائو۔ پھر اس نے دوبارہ پلایا تو وہ صحیح ہوگیا۔ ] بخاری[ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ شہد ہر بیماری کی شفاء اور قرآن سینوں کی تمام بیماریوں کیلئے نسخہ شفاء ہے۔ پس تم دونوں شفائوں کو لازم پکڑو۔ نمبر 1۔ قرآن کو نمبر 2۔ شہد کو۔ بدعت رفض علیھم ماعلیھم : نحل سے علی اور ان کی قوم مراد ہے۔
نکتہ : اور بعض نے کہا ایک شخص نے مہدی عباسی کے سامنے کہا انما النحل بنو ہاشم یخرج من بطونہم العلم تو دوسرے آدمی نے اس کو جوابًا کہا پھر تو اللہ تعالیٰ نے تمہارا طعام و شراب اس میں مقرر کردیا جو ان کے پیٹوں سے برآمد ہوتا ہے۔ اس پر مہدی ہنس پڑا۔ اور منصور کو یہ بات بیان کی تو انہوں نے اس کو ایک دلچسپ چیستان کے طور پر بیان کرنا شروع کردیا۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے سوچ و بچار کرنے والے لوگوں کیلئے) جو اس کے عجیب پہلو میں غور کرتے ہیں۔ پس ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے مکھی کو علم وفطانت سے نوازا ہے جیسا کہ اہل عقل کو عقل سے۔
Ayah 16:70عمر کا رذیل حصہ :
70: وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰکُمْ (اور اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں وفات دیں گے) تمہاری ارواح کو ابدان سے قبض کرنے کے بعد وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ (اور بعض تم میں سے لوٹائے جاتے ہیں رذیل ترین عمر کی طرف) خسیس اور حقیر ترین عمر کی طرف اور وہ پچھتّر سال کی ہے۔ نمبر 2۔ اسّی سال کی ہے۔ نمبر 3۔ نوے سال کی ہے۔ لِکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا (جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد بیخبر ہوجاتا ہے) جس کا نتیجہ علم کا بھولنا ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ تاکہ اپنے علم سے زیادہ علم کو وہ نہ جانے۔ اِنَّ اللّٰہُ عَلِیْمٌ (بیشک اللہ علم والے ہیں) وہ اکمل کو ارذل میں تبدیل کا فیصلہ فرماتے ہیں۔ نمبر 2۔ احیاء سے افناء کی طرف فیصلہ فرماتے ہیں۔ قَدِیْرٌ (وہ قدرت والے ہیں) وہ اشیاء کو جس طرح جن اشیاء سے بدلنا چاہتے ہیں بدل ڈالتے ہیں۔
Ayah 16:71غلام و آقا میں برابری نہیں تو مخلوق کو خالق کے کیسے برابر کرلیا :
71: وَاللّٰہُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عنایت فرمائی) یعنی رزق میں تمہارے مختلف درجات بنائے۔ تمہیں تمہارے غلاموں سے افضل رزق دیا حالانکہ وہ بھی تمہارے جیسے انسان ہیں۔
فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا (پس وہ لوگ جن کو فضیلت دی) رزق میں یعنی مالک۔ بِرَآدِّیْ رِزْقِھِمْ عَلٰی مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ ( وہ اپنے غلاموں کو اپنے مال کا حصہ لوٹانے والے نہیں ہیں) رآدِّی کا معنی دینے والے۔ مناسب تو یہ تھا کہ اپنے سے بچا ہوا رزق و مال غلاموں کو دیتے تاکہ وہ مطعم و ملبس میں تمہارے برابر ہوجاتے۔ فَہُمْ فِیْہِ سَوَآ ئٌ (پس وہ اس میں (تمہارے) برابر ہوجاتے) ۔
نحو : یہ جملہ اسمیہ ہے۔ جو جملہ فعلیہ کی جگہ موضع نصب میں آیا ہے۔ کیونکہ یہ فاء کے ساتھ نفی کا جواب ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے فما الذین فضلوا برآدِّی رزقھم علی ملکت ایمانہم فیستو وا مع عبیدھم فی الرزق۔ درحقیقت یہ ایک مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کیلئے بیان کیا جنہوں نے شریک بنائے۔ پس فرمایا تم اپنے اور اپنے غلاموں کے درمیان ان چیزوں میں برابری کرنے کیلئے تیار نہیں ہو جو میں نے تمہیں عنایت کی ہیں۔ تم نہ ان کو ان میں حصہ دار بناتے ہو۔ اور نہ یہ بات اپنے نفوس کیلئے گوارا کرتے ہو۔ پھر تم نے میرے لئے میرے بندوں کو کیسے شریک بنا کر کھڑا کردیا ؟ (یاللاسف علیکم) اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ (کیا وہ انعام الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں)
قراءت : ابوبکر نے تجحدون پڑھا۔ اس کو من جملہ جحودِ نعمت سے قرار دیا ہے۔
Ayah 16:72ازواج اور عظیم نعمت :
72: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے نفوس میں سے تمہاری بیویاں بنائیں) انفسکم سے مراد جنس ہے۔ وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً (اور اس نے بنایا تمہارے لئے تمہاری بیویوں میں سے بیٹے اور پوتے) حفدہ جمع حافد کی ہے۔ اس کو کہا جاتا ہے جو اطاعت میں جلدی کرے اور خدمت میں چابکدستی اختیار کرے۔ اسی سے یہ قول قنوت والا ہے۔ والیک نسعی و نحفد۔ یعنی ہم دوڑتے اور اطاعت میں جلدی کرتے ہیں۔ پھر اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا یہ بیٹوں کی اولاد کو کہتے ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ اولاد کی اولاد۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے حفدہ بنائے یعنی خادم بنائے جو تمہاری مصلحتوں میں تمہارے معاون اور مددگار ہیں۔ وَّ رَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ (اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا) یعنی ان میں سے بعض سے۔ کیونکہ تمام طیبات تو جنت میں ہونگے۔ اور دنیا کے طیبات تو اس کا فقط نمونہ ہیں۔ اَفَبِالَْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ (کیا وہ بےبنیاد بات کو مانتے رہیں گے) اس باطل بات سے مراد بتوں کا نافع اور شفیع قرار دینا ہے۔ وَبِنِعْمَتِ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا) نعمت سے یہاں اسلام مراد ہے۔ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ (وہ انکار و ناشکری کرتے ہیں) نمبر 1۔ الباطل سے شیطان مراد ہے۔ اور نعمت سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ نمبر 2۔ الباطل سے مراد شیطان کی تعلیم کردہ بحیرہ، سائبہ وغیرہ والی تحریمات اور نعمت اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء ہیں۔
Ayah 16:7373: وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَا یَمْلِکُ لَھُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَیْئًا (اور وہ عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی جو ان کو نہ آسمانوں سے اور نہ زمین میں سے ذرہ بھررزق پہنچانے کی طاقت و اختیار رکھتے ہیں) یعنی بت وہ جماد ہیں۔ وہ ذرہ بھر رزق کے مالک نہیں۔ الرزقؔ مصدری معنی اور ما یرزق ( جو چیز دی جائے) میں استعمال ہوتا ہے۔
نحو : اگر مصدری معنی ہو تو شیئًا منصوب ہے۔ ای لا یملک ان یرزق شیئًا وہ مالک نہیں کہ وہ رزق دیں ذرہ بھر۔ نمبر 2۔ اور اگر مرزوق مراد ہو تو شیئا بدل ہے۔ ای ورزقا قلیلا کہ وہ معمولی سا رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ نمبر 1۔ منؔ السٰمٰوت والارض یہ رزق کا صلہ ہے جبکہ وہ مصدر ہو۔ تقدیر عبارت یہ ہے لا یرزق مِنَ السَّمٰوٰتِ مَطَرًا وَلَا مِنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ وہ آسمان سے نہ بارش دے سکتے ہیں اور نہ زمین سے نبات اگا سکتے ہیں۔
نمبر 2۔ اور اگر مرزوق کا اسم ہو تو پھر یہ صفت ہے۔
وَّلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (اور نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں) اس کی ضمیر ماؔ کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ وہ ماؔ اٰلھہ کے معنی میں ہے بلحاظ لفظ کے اس لئے کہ اس سے پہلے لایملک فرمایا۔ اور معنی یہ بنے گا وہ رزق کے مالک نہیں اور نہ ان کے لئے مالک بننے کا امکان ہے اور نہ یہ بات ان سے ہوسکتی ہے۔
Ayah 16:74اللہ بےمثل ہے :
74: فَلاَ تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ (پس تم نہ بیان کرو اللہ تعالیٰ کیلئے مثالیں) نہ بنائو اللہ تعالیٰ کیلئے مثال اس لئے کہ اس کا کوئی مثل نہیں۔ یعنی اس کا کسی کو شریک نہ بنائو۔ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ (بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے) مخلوق میں اس کا کوئی مثل نہیں۔ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (اور تم نہیں جانتے) اس بات کو۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ مثال بیان کرنا جانتے ہیں اور تم اس کو نہیں جانتے۔ مگر تفسیر اول اولیٰ ہے پھر مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 16:75مخلوق کو اللہ کا شریک بنانے کی پہلی مثال :
75: ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً عَبْدًا۔ (اللہ تعالیٰ نے مثال بیان کی کہ ایک شخص کا ایک غلام ہے) ۔
نحو : عبدًا یہ مثلاً سے بدل ہے۔ مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَھُوَ یُنْفِقُ مِنْہُ (ایک مملوک جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ جس کو ہم نے اچھا رزق دے رکھا ہو۔ اور وہ اس میں سے اعلانیہ و پوشیدہ خرچ کرتا ہو) سِرًّا وَّ جَھْرًا یہ دونوں مصدر ہیں جو موضع حال میں واقع ہیں۔ یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کو شریک کرنے کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی عبد مملوک جو تصرف سے بھی عاجز ہو اور شریف سردار، بااختیار مالدار مالک جو اپنے مال میں اپنی مرضی سے تصرف کرتا ہو اور اس میں سے جتنا چاہے خرچ کرتا ہو ان کو برابر قرار دینے کی طرح ہے۔
نکتہ : عبداً کو مملوک سے مقید کردیا تاکہ حُرّسے ممتاز ہوجائے کیونکہ عبد کا لفظ تمام پر بولا جاتا ہے۔ اس لئے کہ دونوں ہی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ لایقدر علی شیء کی قید بھی لگائی تاکہ مکاتب و ماذون سے الگ کردیا جائے یہ دونوں قسم کے غلام تصرف کی قدرت رکھتے ہیں۔ من موصوفہ ہے یعنی اور آزاد جس کو ہم نے رزق دیا تاکہ عبد کے مطابق تقابل ہوجائے۔ نمبر 2۔ موصولہ ہے۔ ھَلْ یَسْتَوٗنَ (کیا یہ برابر ہیں) ضمیر جمع ارادئہ جمع کی وجہ سے لائے۔ یعنی یہ دونوں قسمیں برابر نہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بَلْ اَکْثَرُ ھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں بلکہ اکثران میں جانتے ہی نہیں) کہ حمدو عبادت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ پھر مزید وضاحت فرمائی۔
Ayah 16:76دوسری مثال ‘ اللہ نعمتوں کے فیضان والا اور دوسروں کے پاس کچھ بھی نہیں :
76: وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً رَّجُلَیْنِ اَحَدُھُمَآ اَبْکَمُ لَایَقْدِرُ عَلٰی شَیْ ئٍ (اور اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال بیان کی۔ دو آدمی ہیں ایک ان میں سے گونگا کوئی کام نہیں کرسکتا) الا بکم وہ شخص جو پیدائشی گونگا ہو اور سمجھ نہ رکھتا ہو۔ وَّھُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰہُ (وہ اپنے آقا پر بوجھ ہو) وہ بوجھ ہے اور اپنے آقا کی عیال داری میں رہتا ہے۔ اَیْنَمَا یُوَجِّھْہُّ لَایَاْتِ بِخَیْرٍ (اس کو وہ جہاں بھی بھیجتا ہے کوئی کام ٹھیک کر کے نہیں لاتا) جس جگہ اس کو بھیجتا ہے اور کسی ضرورت کی خاطر روانہ کرتا ہے یا کسی اہم کام کو پورا کرنے کی غرض سے بھیجتا ہے تو نہ فائدہ دیتا ہے اور نہ کامیابی پاکر لوٹتا ہے۔
ھَلْ یَسْتَوِیْ ھُوَ وَمَنْ یَّاْ مُرُ بِالْعَدْلِ (کیا یہ شخص اور ایسا شخص باہم برابر ہوسکتے ہیں جو اچھی باتوں کا حکم دے) یعنی جو سلیم الحواس، نفع مند، کفایت والا، رشد و دیانت سے مزین ہو پھر لوگوں کو عدل و خیر کی تعلیم بھی دیتا ہو۔ وَھُوَ ( اور وہ) ذاتی طور پر عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سیدھی راہ پر ہو) نیک سیرت ہو۔ مضبوط دین پر قائم ہو۔ یہ دوسری مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کیلئے بیان فرمایا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت کے آثار اور نعمتوں کے فیضان کرتا ہے۔ اور اصنام محض مردہ و بےجان نہ نفع کے مالک ہوتے ہیں اور نہ نقصان کی طاقت رکھتے ہیں۔
Ayah 16:77اللہ قیامت کے علم والا اور ایک لمحہ میں لانے کی قدرت والا :
77: وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے پوشیدہ باتیں آسمانوں اور زمین کی) نمبر 1۔ بندوں سے جن چیزوں کا علم آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ خاص ہے اور بندوں سے اس کا علم بھی مخفی ہے۔ نمبر 2۔ غیب السمٰوٰتِ والارض سے قیامت مراد ہے۔ اس طرح کہ اس کا علم اہل السمٰوٰت والارض سے مخفی ہے اور اس کی اطلاع کسی مخلوق کو نہیں ہے۔ جو آسمان و زمین میں بسنے والی ہے۔ وَمَآ اَمْرُ السَّاعَۃِ (اور قیامت کا علم نہیں) قریب ہونے میں اور سرعت قیام ووقوع میں اِلَّا کَلَمْحِ الْبَصَرِ (مگر ایک پلک جھپک کی طرح) جیسے نگاہ کا لوٹنا۔ اس کو بطور مثال ذکر کیا کیونکہ اس سے زیادہ قلیل زمانہ لوگوں میں پہچانا نہیں جاتا اَوْھُوَ اَقْرَبُ (یا اس سے بھی قریب تر) اوؔ یہاں شک مخاطب کیلئے نہیں ہے۔ نمبر 2۔ اَوْبَلْ کے معنی میں ہے بَلْ ھُوَ اَقْرَبُ بلکہ وہ اس سے بھی قریب تر ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت ہے) وہ قیامت کو قائم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اور مخلوق کو اٹھانے کی بھی۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی بعض مقدورات میں سے ہے۔ پھر دلالت علی القدرت کیلئے فرمایا۔
Ayah 16:78نمونہ ہائے قدرت آیت نمبر 81 تک :
78: وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ 0 بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ (اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹ سے نکالا)
نحو : قراءت : علی نے اِمَّھَا تِکُمْ پڑھا۔ الف کا کسرہ نون کی اتباع میں اور میم کا فتحہ۔ اور حمزہ نے دونوں میں کسرہ پڑھا اِمِہات میں ھاء کو تاکید کیلئے بڑھایا گیا۔ جیسا کہ اِرَاق میں اِھْرَاق کہتے ہیں البتہ واحد میں ھاء کا اضافہ خلاف قاعدہ ہے۔ لَاتَعْلَمُوْنَ شَیْئًا (تم کچھ نہ جانتے تھے)
نحو : یہ حال ہے یعنی تم اس منعم کا حکم کچھ بھی جاننے والے نہ تھے جس نے تمہیں مائوں کے پیٹ میں پیدا کیا۔ وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (اور تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو۔ ) یعنی ان چیزوں کو تمہارے جسم میں اس لئے جوڑا ہے تاکہ جہالت کے ازالہ کا ذریعہ بن جائے۔ جس جہالت کے ساتھ تم پیدا ہوئے۔ اور ان آلات سے علم اور عمل جو منعم کا شکریہ اور اس کی عبادت اور اس کے حقوق کی ادائیگی کرسکو۔
الافئدۃ فؤاد، کی جمع ہے جیسے اغربہ غراب کی جمع ہے یہ جمع قلت ہے جو کہ جمع کثرت کے قائم مقام استعمال ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے علاوہ میں یہ اہل لغت سے سننے میں نہیں آئی۔
Ayah 16:7979: اَلَمْ یَرَوْا (کیا وہ نہیں دیکھتے) قراءت : شامی اور حمزہ نے تاء سے پڑھا ہے۔ اِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ (پرندوں کو جو فضاء میں مسخر ہو رہے ہیں) اڑنے کیلئے زیرفرمان ان پروں کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پیدا فرما دیے اور ان موافق اسباب سے جو اس کے لئے ان کو میسر فرما دیئے ہیں۔ فِیْ جَوِّ السَّمَآئِ (آسمان کی فضاء میں) فضاء اس ہوا کو کہتے ہیں جو بلند آسمان کی سمت میں زمین سے دور ہے۔ مَایُمْسِکُھُنَّ (نہیں ان کو تھامتا) پروں کو سمیٹنے اور پھیلانے اور فضاء میں ٹھہرانے میں اِلَّا اللّٰہُ (مگر اللہ تعالیٰ ) اپنی قدرت کے ساتھ۔ ازالہ : اس میں اس وہم کا ازالہ ہے جو قوائے طبعیہ کی خاصیت اس کو قرار دینے لگے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو یقین رکھتے ہیں) کہ مخلوق کو خالق سے کبھی بھی استغناء نہیں ہوسکتا۔
Ayah 16:8080: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمْ مِّنْ 0 بُیُوتِکُمْ سَکَنًا (اور اللہ تعالیٰ نے ہی تمہارے لئے گھروں میں رہائش کی جگہ بنائی) سَکَنًا مصدر ہے یہ سکن بمعنی مسکون جہاں رہائش اختیار کی جائے۔ اور اس کی طرف علیحدگی اختیار کی جائے جیسے گھر یا انس کی جگہ وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ جُلُوْدِالْاَنْعَامِ بُیُوْتًا (اور تمہارے لئے چو پایوں کی کھال کے گھر بنائے) اس سے چرمی خیمے مراد ہیں۔ تَسْتَخِفُّوْنَھَا (جن کو ہلکا پھلکا پاتے ہو) لگانے کیلئے اٹھانے میں ان کو ہلکا پھلکا پاتے ہو اور اسی طرح اکھاڑنے اور منتقل کرنے کیلئے ہلکا پاتے ہو۔ یَوْمَ ظَعْنِکُمْ (تمہارے کوچ کے دن)
قراءت : کوفی شامی نے عین کے سکون سے پڑھا۔ دوسروں نے عین کا فتحہ پڑھا ہے۔ الظعنؔ عین مفتوح اور ساکن کی صورت میں اس کا معنی ارتحال و کوچ ہے۔ وَیَوْمَ اِقَامَتِکُمْ ( اور تمہارے اقامت کے دن) جب تم اپنے گھروں میں ٹھہرتے ہو۔ مطلب یہ ہے وہ اوقات حضرو سفر میں تمہارے لئے ہلکے پھلکے ہیں۔ اس طرح کہ یومؔ کا معنی وقت کا لیا جائے۔ وَمِنْ اَصْوَافِھَا (اور ان کی اون سے) یعنی بھیڑوں کی سے۔ اون وَاَوْبَارِ ھَا (اور اونٹوں کی اون سے) اونٹ کی اون کو وبر کہتے ہیں وَاَشْعَارِھَآ ( اور ان کے بالوں سے) بکری کے بال مراد ہیں۔ اَثَاثًا (گھرکا سامان) وَّ مَتَاعًا (اور نفع بخش اشیاء) وہ چیز جس سے فائدہ اٹھائیں اس کو متاع کہتے ہیں۔ اِلٰی حِیْنٍ (ایک وقت تک) زمانہ کی ایک مدت۔