Ayah 16:121121: شَاکِرًا لِّاَ نْعُمِہٖ (وہ اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والے تھے) روایت میں ہے کہ وہ مہمان کے ساتھ صبح کا کھانا تناول کرتے۔ ایک دن ان کو مہمان نہ ملا تو اچانک انہوں نے ملائکہ کو صورت انسانی میں دیکھا۔ آپ نے ان کو کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے یہ بات باور کرائی کہ انہیں جذام ہے۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تمہارے لئے کھانا کھانا ضروری ہے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کا اس بات پر میں شکریہ ادا کروں کہ اس نے مجھے بچا یا اور تمہیں ابتلاء میں ڈالا۔ اِجْتَبٰہُ (ان کو چن لیا) خاص کیا اور نبوت کیلئے چنا۔ وَ ھَدٰہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (اور ان کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کردی) صراط مستقیم سے ملت اسلام مراد ہے۔
Ayah 16:122122: وَاٰتَیْنٰہٗ فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً (اور ہم نے اس کو دنیا میں اچھائی عنایت فرمائی) حَسَنَۃ سے نبوت مراد ہے۔ اور اولاد، اموال عنایت فرمائے۔ نمبر 2۔ انکا تذکرہ پھیلانے کیلئے ہر اہل دین ان کو دوست رکھتا ہے۔ نمبر 3۔ ہماری امت میں سے ہر نمازی کا قول کما صلیت علی ابراہیم۔ وَاِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ (بیشک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہونگے) اہل جنت میں سے۔
Ayah 16:123123: ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی تم ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ جو سب سے یکسو ہونے والے تھے۔ اور مشرکین میں سے نہ تھے) ثمؔ لاکر ہمارے پیغمبر ﷺ کا مرتبہ اور مقام اور مرتبے کا احترام بتلایا۔ اور یہ بتلادیا کہ خلیل اللہ کو اشرف ترین عظمت جو عنایت فرمائی وہ یہ ہے کہ ہمارے رسول کو ان کی اتباع کا حکم دیا۔
Ayah 16:124سبت ملت ابراہیمی میں نہیں :
124: اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (ہفتہ کے دن ( کا پاس و حرمت) ان لوگوں پر فرض کیا گیا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا) یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم ان پر فرض کی اور اس دن مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت کی۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَحْکُمُ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَاکَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (بیشک آپکا رب ان کے درمیان ان باتوں میں قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ جن میں
وہ اختلاف کرتے تھے) روایت تفسیر میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ وہ ہر سات دن میں ایک دن عبادت کا مقرر کرلیں۔ اور وہ جمعہ کا دن ہو۔ مگر انہوں نے انکار کردیا۔ اور کہنے لگے۔ ہم وہ دن چاہتے ہیں جس دن آسمانوں و زمین کی پیدائش سے اللہ تعالیٰ فارغ ہوئے۔ اور وہ ہفتہ کا دن ہے۔ ان میں تھوڑی جماعت جمعہ پر رضامند ہوئی۔ یہی انکا اختلاف ہے۔ جو ہفتہ کے سلسلہ میں انہوں نے اختیار کیا۔ کیونکہ بعض نے اس کو پسند کیا اور بعض نے اس کے مقابلہ میں جمعہ کے دن کو پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہفتہ کے دن عبادت کی اجازت دی اور شکار کی حرمت میں مبتلا کردیا اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت ان لوگوں نے فقط کی جنہوں نے جمعہ کو پسند کیا تھا۔ وہ اس دن شکار نہ کرتے تھے۔ اور بقیہ لوگ شکار سے صبر نہ کرسکے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مسخ کردیا۔ صرف مطیع بچے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان میں فیصلہ فرمائیں گے۔ اور دونوں فریق کو ان کے عمل کے مناسب بدلہ دیں گے۔
Ayah 16:125طریق دعوت :
125: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ (تم اپنے رب کے راستہ کی طرف دعوت دو ) سبیل سے اسلام مراد ہے۔ بِالْحِکْمَۃِ (حکمت کے ساتھ) ۔ مضبوط اور صحیح بات کے ساتھ۔ اور وہ حق کو واضح کرنے والی اور شبہ کو دور کرنے والی دلیل ہے۔ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (اور اچھی نصیحت کے ساتھ) اور وہ وہی ہے جس میں مخاطب کو بھی معلوم ہوجائے کہ تم ان کی خیر خواہی چاہتے ہو۔ اور ان کے نفع کے طالب ہو۔ نمبر 2۔ موعظہ حسنہ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی ان کو اس کتاب سے نصیحت کرو جو کہ اچھی نصیحت اور حکمت ہے۔ نمبر 3۔ الحکمت افعال کے مراتب کو پہچاننا۔ الموعظۃ الحسنہ۔ کہ جب رغبت خوف سے جاملے اور انذار بشارت سے مل جائے۔
وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (اور ان سے اس انداز سے مجادلہ کرو جو کہ بہت خوب ہو) اس طرز سے جو کہ مباحثہ کے شاندار طریقوں میں سے ہو۔ جس میں نرمی، رفق ہو، دشمنی نہ ہو۔ نمبر 2۔ ایسی بات جو دلوں کو جگا دے اور نفوس کو اس سے نصیحت ملے۔ اور عقلوں کو روشنی میسر ہو۔
نکتہ : اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو مناظرہ کے دین میں انکاری ہیں۔
اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ (بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے۔ ان کو جو اس کے راستے سے گمراہ ہونے والے ہوں۔ اور وہ ہدایت یافتہ کو بھی اچھی طرح جانتا ہے) یعنی وہ ان کو خوب جانتا ہے جن میں بھلائی ہو ان کو تھوڑا وعظ کافی ہے اور جس میں خیر نہ ہو اس کیلئے تمام حیلے عاجز آجاتے ہیں۔
Ayah 16:126برابر کا بدلہ جائز ہے :
126: وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَاعُوْقِبْتُمْ بِہٖ (اگر بدلہ لو تو اتنا بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتائو کیا گیا) پہلے فعل کو عقوبت کہا حالانکہ عقوبت تو دوسرا فعل ہے لفظی مناسبت کی وجہ سے۔ جیسا کہ فرمایا۔ (وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا) ] الشوریٰ : 40[ اس آیت میں دوسری سیئہ نہیں۔ بلکہ سیئہ کا بدلہ ہے۔ مطلب یہ ہے اگر تمہارے ساتھ کوئی زیادتی قتل وغیرہ جیسی کی جائے تو اس کے مثل سے اس کا مقابلہ کرو اور اس پر اضافہ نہ کرو۔ روایت میں ہے کہ مشرکین نے بعض مسلمانوں کا احد کے دن مثلہ کیا اور ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے۔ اور ان کے آلات تناسل کو کاٹا۔ نبی اکرم ﷺ نے حمزہ ؓ کو پھٹے ہوئے پیٹ کے ساتھ دیکھا تو آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے اے حمزہ میں تیری جگہ ستر کفار کا مثلہ کروں گا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی آپ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا فرمایا اور جو ارادہ فرمایا اس سے باز رہے۔ ] ابن حجر۔ لم اجدہ[ اس میں اختلاف نہیں کہ مثلہ حرام ہے کیونکہ اس کی ممانعت میں روایات وارد ہیں جن میں کاٹنے والے کتے کے مثلہ سے بھی منع فرمایا۔
وَلَپنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ (اور اگر تم صبر کرو تو ضرور وہ صبر کرنے والوں کیلئے بہت بہتر ہے) ھوؔ میں ضمیر صَبَرْتُمْ کے مصدر کی طرف لوٹتی ہے۔ اور صابرین سے مراد مخاطب ہیں۔ یعنی اگر تم صبر کرو تو تمہارا صبر تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ گویا الصابرین اسم ظاہر کو ضمیر کی جگہ لائے۔ اس سے مخاطبین کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاندار تعریف فرمائی۔ کیونکہ وہ سختیوں پر صبر کرنے والے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو فرمایا۔
Ayah 16:127تلقین صبر :
127: وَاصْبِرْ (اور آپ صبر کریں) آپ صبر کریں اس میں صبر پر آمادہ کیا۔ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ (اور آپکا صبر کرنا خاص اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہے) اور اس کی توفیق اور تثبت سے ہے۔ وَلَاتَحْزَنْ عَلَیْھِمْ (اور ان پر غم نہ کھائیں) ۔ یعنی کفار پر اگر وہ ایمان نہ لائیں۔ اور ایمان والوں پر اور جو سلوک کفار ان کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس لئے کہ مسلمان اپنے مقصود تک پہنچ گئے۔ وَلَاتَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّایَمْکُرُوْنَ (اور اس سے تنگ نہ پڑیں جو تدابیر یہ کرتے ہیں)
قراءت : مکی نے ضادؔ کے کسرہ سے ضِیْق پڑھا۔ اور ضِیْق یہ الضیِّق کی تخفیف ہی ہے۔ یعنی تنگی والی بات میں اور یہ بھی درست ہے کہ دونوں مصدر ہوں۔ جیسا کہ قیل اور قول۔ مطلب یہ ہے ان کی تدابیر سے تمہارا سینہ تنگ نہ ہو۔ وہ آپ تک اثر انداز نہ ہوں گی۔
Ayah 16:128متقی اللہ کی معیت میں :
128: اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ (اللہ تعالیٰ بیشک ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو گناہوں سے بچتے اور جو نیک کردار ہوتے ہیں) یعنی وہ انکا دوست ہے جو برائیوں سے پرہیز کرنے والے ہیں۔ اور ان لوگوں کا جو طاعات پر عمل پیرا ہوں۔ کہا گیا۔ من اتقی فی افعالہ، احسن فی اعمالہ کان اللّٰہ معہ فی احوالہ جو شخص اعمال میں حسن، افعال میں تقویٰ پیدا کرلے اللہ تعالیٰ کی بےکیف معیت اس کے ساتھ ہے۔
معیت کا مطلب : مامورات میں اس کی نصرت اور مخطورات میں اس کی عصمت۔
وفقنا اللّٰہ بعونہ العصمۃ من المحظورات والنصرۃ فی المامورات و المعیۃ فی جمیع الحالات آمین
تمت ترجمہ سورة النحل یوم الجمعہ بعد العصر فی شعبان 1423ھـ العبد المذنب شمس الدین۔