Ayah 16:8181: وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلاً (اللہ تعالیٰ نے بنا دیئے تمہارے لئے اس میں سے بعض چیزوں کے سائے) مثلاً درخت، چھتیں وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَکْنَانًا (اور اس نے بنائے پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گاہیں) اکنان جمع کِنٌ کی ہے جو چیز تمہیں چھپائے جیسے غار، کھوہ، وَّ جَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ (اور بنائے تمہارے لئے ُ کرتے) سرابیل ُ کرتوں کو کہتے ہیں اور اون کے کپڑوں پر بولا جاتا ہے اسی طرح کتان اور کپاس کے بنے ہوئے کپڑوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تَقِیْکُمُ الْحَرَّ ( جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں) وہ سردی سے بھی بچاتے ہیں۔ مگر دونوں ضدوں میں سے ایک کے تذکرے پر اکتفاء کیا۔ کیونکہ گرمی سے بچنا ان کے ہاں زیادہ اہم تھا۔ اور سردی معمولی اور قابل برداشت تھی۔
وَسَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ بَاْسَکُمْ (اور ایسے کرتے جو لڑائی سے تمہیں بچاتے ہیں) لوہے کی زرہیں جو لڑائی میں دشمنوں کے ہتھیاروں کو لوٹاتی اور بچاتی ہیں۔ باسؔ لڑائی کی سختی کو کہتے ہیں۔ السربالؔ کا لفظ عام ہے لوہے یا غیر لوہے ہر قسم کے ُ کرتے پر بولا جاتا ہے۔ کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ (اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کو تم پر مکمل کرتے ہیں تاکہ تم فرمانبرداری اختیار کرو) یعنی اس کی ان نعمتوں پر نگاہ ڈالو۔ جن کا فیضان تم پر جاری و طاری ہے۔ پس اس کی ذات پر ایمان لا کر اس کی اطاعت اختیار کرو۔
Ayah 16:82ان انعامات کو دیکھ کر تو منعم حقیقی کو پہچاننا چاہیے :
82: فَاِنْ تَوَلَّوْا (پس اگر وہ منہ پھیر لیں) یعنی اسلام لانے سے اعراض کریں۔ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (تو بیشک تم پر تو صاف صاف پہنچا دینا ہے) اس کا تم پر مؤاخذہ ووبال نہ ہوگا۔ کیونکہ تمہارے ذمہ ظاہرًاتبلیغ ہے اور وہ آپ نے کردی۔ (ماننا نہ ماننا انکا کام ہے)
Ayah 16:8383: یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں) وہ نعمتیں جن کو ہم نے اپنے اقوال سے گن کر بیان کردیا۔ پھر یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَھَا (پھر انکا انکار کرتے ہیں) یعنی اپنے افعال و کردار سے کہ غیر منعم کی عبادت کرتے ہیں نمبر 2۔ سختیوں میں اقرار پھر خوشحالی میں انکار کرتے ہیں۔ وَاَکْثَرُ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ (اور ان کی اکثر یت انکاری ہے) شدت سے انکاری ہیں کہ اعتراف بھی نہیں کرتے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت یعنی نبوت محمد ﷺ کو پہچانتے ہیں۔ پھر عناد سے انکار کرتے ہیں۔ اور ان کی اکثریت سخت انکاری اور دلوں سے انکاری ہیں ثم ؔ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ پہچان مکمل ہونے کے بعد انکا انکار بہت ہی بعید ہے کیونکہ جو نعمت کو پہچان لے اس پر اعتراف و تشکر لازم ہے نہ کہ انکار وعناد۔
Ayah 16:84قیامت کے مناظر :
84: وَیَوْمَ (اور جس دن) یہ اذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ نَبْعَثُ (ہم اٹھائیں گے) ہم جمع کریں گے مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا (ہر امت میں سے ایک گواہ) وہ پیغمبر ہونگے جو ان کے حق اور مخالفت میں تصدیق کی گواہی دیں گے۔ اور تکذیب کی اور ایمان و کفر کی۔ ثُمَّ لَایُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (پھر کافروں کیلئے اجازت نہ دی جائے گی) کہ وہ معذرت کرلیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اذن کے ترک سے یہ ثابت ہوگیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور نہ ہی عذر وَلَاھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (اور نہ ان سے راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی) نہ ان سے رضا طلب کی جائے گی ان سے یہ نہ کہا جائے گا کہ تم اپنے رب کو راضی کرلو۔ کیونکہ آخرت دارالعمل نہیں۔ ثمؔ کو یہاں لانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو انبیاء (علیہم السلام) کی شہادت کے بعد آزمایا جائے گا۔ جو اس سے زیادہ زبردست اور غالب ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو کلام سے روک دیا جائے گا۔ اور معذرت کرنے اور حجت پیش کرنے کا موقعہ نہ دیا جائے گا۔
Ayah 16:8585: وَاِذَارَ اَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (اور ظالم لوگ دیکھیں گے) ظَلَمُوْا سے مراد کافر ہیں۔ الْعَذَابَ فَلاَ یُخَفَّفُ عَنْھُمْ (وہ عذاب ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا) وہ عذاب جو داخل ہونے کے بعد ہوگا وَلَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ (اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی) نہ اس سے پہلے مہلت دی جائے گی)
Ayah 16:8686: وَاِذَارَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا شُرَکَآ ئَ ھُمْ (اور جب مشرک اپنے شرکاء کو دیکھیں گے) ان اوثان کو جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ قَالُوْا رَبَّنَا ھٰٓؤُلَآ ئِ شُرَکَآ ؤُنَا (وہ کہیں گے اے ہمارے رب یہ ہمارے شرکاء ہیں) یعنی وہ معبود جن کو ہم نے تیرا شریک بنایا۔ الَّذِیْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ (وہ جن کو ہم تیرے سوا پکارتے تھے) نَدْعُوْا کا معنی عبادت کرنا۔ فَاَلْقَوْااِلَیْھِمُ الَْقَوْلَ اِنَّکُمْ لَکٰذِبُونَ (وہ ان کی طرف بات ڈالیں گے۔ بیشک تم جھوٹ بولتے ہو) وہ تکذیب کرتے ہوئے جواب دیں گے کیونکہ وہ جماد تھے وہ عابدین کو جانتے ہی نہ تھے کہ کون ان کی پوجا کررہا ہے۔ نمبر 2۔ احتمال یہ ہے کہ وہ ان کی اس بارے میں تکذیب کریں گے کہ تم نے ہمیں شرکاء اور اٰلہہ کا نام دیا حالانکہ یہ جھوٹ ہے۔ یہ اس لئے کہیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ کا شرک سے منزہ اور پاک ہونا ثابت و ظاہر ہوجائے۔
Ayah 16:8787: وَاَلْقَوْا یعنی وہ ظالم و کافر اِلَی اللّٰہِ یَوْمَئِذِ نِالسَّلَمَ (وہ مشرک لوگ اس روز اللہ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرنے لگیں گے) القاء السلم سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو سامنے مکمل فرما نبرداری اس کے بعد کہ دنیا میں انکار اور استکبار سے کام لیا۔ وَضَلَّ عَنْہُمْ (اور ان سے گم ہوجائیں گے) اور باطل ہوجائیں گے مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (جو وہ افتراء کیا کرتے تھے) کہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں اور وہ ان کی مدد کرتے ہیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کریں گے جبکہ وہ ان کی تکذیب کریں گے ایک اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
Ayah 16:88دو عذابوں کا حقدار :
88: اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (وہ لوگ جو کافر ہوئے) ذاتی طور پر وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور انہوں نے دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا) اور دوسروں کو کفر پر آمادہ کیا۔ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ (ہم ان کے عذاب پر عذاب میں اضافہ کریں گے) ایک ان کے خود کفر کا عذاب اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے کا عذاب بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ (اس سبب سے کہ وہ فساد انگیزی کرتے تھے) اس وجہ سے کہ وہ روکنے کی وجہ سے لوگوں کو فساد میں مبتلا کرنے والے تھے۔
Ayah 16:89چوتھا منظر :
89: وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍٍ شَھِیْدًا عَلَیْہِمْ مِّنْ اَنْفُسِھِمْ (اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ ان کے مقابلہ میں قائم کردیں گے) یعنی انکا پیغمبر کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) انہی میں سے انہی کی طرف مبعوث ہوتے ہیں۔ وَجِئْنَابِکَ (اور ہم آپ کو لائیں گے) اے محمد ﷺ شَھِیْدًا عَلٰی ھٰٓؤُلَآ ئِ (ان پر گواہ بنا کر) ھٰٓؤُلَآئِ سے آپ کی امت مراد ہے۔
قرآن تبیان ہے :
وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا (اور ہم نے تم پر کتاب کو اتارا جو تمام ضروریاتِ دین کو بیان کرنے والی ہے) یعنی فصیح وبلیغ ہے لِّکُلِّ شَیْ ئٍ امور دین احکام منصوص میں تو قرآن ظاہر ہے اسی طرح جو سنت سے ثابت ہیں۔ نمبر 2۔ یا اجماع سے ثابت ہو یا قول صحابہ ؓ سے ثابت ہو یا قیاس سے کیونکہ تمام کا مرجع کتاب اللہ ہے اسی قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتباع رسول اللہ ﷺ کا حکم دیا ہے۔ فرمایا : وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْل 6] التغابن : 12[ اور اجماع پر اس آیت میں آمادہ فرمایا : وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ ] النساء : 115[ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کیلئے اتباع صحابہ کو اپنے اس ارشاد سے پسند کیا۔ اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اھتدیتم۔ ] بخاری 5684، مسلم 2217[
اور صحابہ کرام ؓ نے اجتہاد کیا اور قیاس کیا اور اجتہاد و قیاس کے راستوں کو ہموار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اس کا حکم دیا گیا : فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ ] الحشر : 2[ پس سنت، اجماع اور قول صحابی اور قیاس ان تمام کا سہارا تبیان پر ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ قرآن تبیانا لکل شیء ہے۔ وَّھُدًی وَّ رَحْمَۃً وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ (اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کیلئے) حق کی راہنمائی اور ان کے لئے رحمت اور جنت کی بشارت ہے۔
Ayah 16:90جامع ترین آیت :
90: اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ (بیشک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتے ہیں) اپنے مابین تمام حقوق میں برابری اور ترک ظلم، ہر صاحب حق کو اس کا حق دینا، اس کا نام عدل ہے۔ وَالْاِحْسَانِِ (اور احسان و خوبی کا) اس کے ساتھ جو تمہارے ساتھ زیادتی برتے۔ نمبر 2۔ فرض و نفل۔ کیونکہ فرض میں تفریط لازماً ہوجائیگی ان کے نقصان کو رفع کرنے کیلئے ندب و نفل ہے۔ وَاِیْتَایِٔ ذِی الْقُرْبٰی (قرابتد اروں کو دینے کا) قرابت والوں کو دینا یہی صلہ رحمی ہے۔ وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآ ئِ (اور منع کرتا ہے بےحیائی سے) الفحشآء یعنی انتہائی قبیح گناہ وَالْمُنْکَرِ (اور منکر سے) منکر سے مراد وہ کام جن کو عقلیں اوپر اقرار دیتی ہیں۔ وَالْبَغْیِ (اور سرکشی) ظلم و کبر کے ذریعہ دوسرے پر زبردستی کرنا۔ یَعِظُکُمْ (وہ تم کو نصیحت کرتا ہے) ۔
نحو : یہ حال ہے یا جملہ مستانفہ ہے لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (تاکہ تم نصیحت حاصل کرو) اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرو۔ یہ آیت حضرت عثمان بن مظعون ؓ کے اسلام کا سبب بنی۔ وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے حیاء کی وجہ سے اسلام لایا۔ کیونکہ آپ میرے سامنے کثرت سے اسلام پیش فرماتے رہے۔ مگر ایمان میرے دل میں پختہ نہ ہوا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ میں آپ کی خدمت میں موجود تھا۔ پس میرے دل میں ایمان مضبوط ہوگیا۔ آپ نے یہ آیت ولید بن المغیرہ کے سامنے پڑھی تو وہ کہہ اٹھا کہ اس میں حلاوت و شیر ینی ہے۔ اور اس کے اوپر حسن و رونق ہے اور اس کا بالائی حصہ بار آور ہے۔ اور اس کا نچلا حصہ جو پانی والا ہے۔ اور وہ انسان کا کلام نہیں۔ ابو جہل نے کہا اس کا معبود اسے مکارم اخلاق کا حکم دیتا ہے۔ یہ قرآن مجید میں جامع ترین آیت ہے۔ اس میں خیرو شر جمع ہے۔ اسی لئے اس کو عمر بن عبدالعزیز (رح) کے زمانہ سے خطبات میں پڑھا جارہا ہے۔ تاکہ ہر مامور و منہی سامنے آجائے۔
Ayah 16:91عہد پورا کرو :
91: وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰھَدْتُّمْ (اور تم اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو پورا کرو جب تم عہد کرو) اس سے رسول ﷺ کی بیعت مراد ہے جیسا کہ دوسرا مقام پر فرمایا ان الذین یبا یعونک انما یبایعون اللّٰہ ] الفتح : 10[ بیشک وہ لوگ جو آپ سے بیعت کرتے ہیں۔ بیشک وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنے والے ہیں۔ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ (اور تم قسموں کو مت توڑو) بیعت والی قسم مراد ہے۔ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا (اس کے پختہ کرنے کے بعد) اس کے بعد کہ اس کو اللہ تعالیٰ کے نام سے مضبوط کیا۔ اور اکّد اور وکّد یہ دو فصیح لغات ہیں۔
نحو : اور اصل وائو ہے۔ اور ہمزہ اس کے بدلے میں آتی ہے۔ وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلًا (حالانکہ تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنا کفیل مقرر کرلیا ہے) کفیل۔ شاہد اور نگہبان کو کہتے ہیں۔ کیونکہ کفیل مکفول بہ کے حال کی خبر گیری کرنے والا ہوتا ہے۔ اور اس پر نگہبان ہوتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَاتَفْعَلُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے) قسم کو پورا کرنا اور اس کو توڑنا پس وہ اس کے مطابق بدلہ دیں گے۔
Ayah 16:92عہد کو کچے دھاگے کی طرح مت خیال کرو :
92: وَلَاتَکُوْنُوْا (اور مت بنو) قسم توڑنے میں کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ 0 بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًا۔ اس عورت کی طرح جس نے اپنے دھاگے کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیا) اس عورت کی طرح جس نے کاٹ دیا اپنے دھاگے کو مضبوط اور پختہ کرنے کے بعد اور اسکو ٹکڑے ٹکرے کردیا۔ اَنْکَاثًا جمع نکث۔ جس کے بٹ کو اتار دیا جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا نام ریطہ تھا اور یہ احمق عورت تھی وہ اور اس کی لونڈیاں صبح سے ظہر تک سوت کا تتیں پھر وہ ان کو جتنا کا تا ہوتا ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا حکم دیتی۔ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلًا (تم بھی اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ بنانے لگو) یہ انکا ثا کی طرح حال ہے۔ دخلاً یہ تتخذون کا دو میں سے ایک مفعول ہے۔ یعنی ولا تنقضوا ایمانکم متخذ یھا دخلاً تم اپنی قسموں کو نہ توڑو اس حال میں کہ ان کو تم فساد کا ذریعہ بنانے والے ہو۔ بَیْنَکُمْ (اپنے درمیان) بگاڑ اور خیانت کا ذریعہ اَنْ تَکوْنَ اُمَّۃٌ (کہ ایک گروہ) ایک جماعت ہوجائے (جماعت سے مراد گروہ قریش ہے) ھِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍ (زیادہ بڑھا ہوا دوسرے گروہ سے) وہ تعداد میں زیادہ ہو اور مال میں بڑھ کر ہو مسلمانوں کی جامعیت سے۔ ھِیَ اَرْبٰی میں یہ جملہ اسمیہ أُمَّۃَ کی صفت ہے اور أُمَّۃٌ تکون کا فاعل ہے اور یہ تکون تامہ ہے۔ اور ھیؔ فاصل نہیں بن سکتی کیونکہ یہ دونکروں کے درمیان واقع ہے۔ اِنَّمَا یَبْلُوْکُمُ اللّٰہُ بِہٖ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے ذریعے آزماتے ہیں۔ اس میں ضمیر مصدر کیلئے ہے۔ تقدیر اس طرح ہے انما یختبرکم بکونھم اربی لینظر اتتمسّکون بحبل الوفاء بعھد اللّٰہ وما وکد تم من ایمان البیعۃ لرسول اللّٰہ ام تخترون بکثرۃ قریش و ثروتہم وقلۃ المؤمنین وفقرھم۔ اللہ تعالیٰ اس طور پر تمہارا متحان لے رہے ہیں کہ وہ زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔ تاکہ وہ دیکھے کہ آیا تم وفاداری کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنے والے ہو اور اس پر پختہ ہو جو تم نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کر کے قسم دے رکھی ہے یا پھر تم قریش کی کثرت اور ثروت اور مؤمنوں کی قلت اور فقر کو دیکھ کر دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہو۔ وَلَیُبَیِّنَنَّ لَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مَاکُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (اور تاکہ وہ تمہارے سامنے قیامت کے دن خوب ظاہر کردے۔ وہ باتیں جن میں تم اختلاف کرتے تھے) جب کہ وہ تمہیں تمہارے اعمال پر ثواب و عقاب سے بدلہ دیگا۔ اس میں ملت اسلام کی مخالفت کرنے سے کفار کو ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 16:9393: وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمہیں ایک جماعت بنا دیتے) یعنی حنیفہ مسلمہ وَّ لٰکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآ ئُ (لیکن وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے) اسکے بارے میں ضلالت کو اختیار و پسند کرنے کا اسے علم ہے۔ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآ ئُ (اور جس کو چاہتا ہے وہ ہدایت دیتا ہے) جس کے متعلق ہدایت کا اختیار و پسند کرنا جانتا ہے۔ وَلَتُسْئَلُنَّ عَمَّاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (اور تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔ ان باتوں کے متعلق جو تم کرتے تھے) قیامت کے دن۔ پھر تمہیں بدلہ دیا جائیگا۔
Ayah 16:94قسم کو فساد کا ذریعہ مت بنائو :
94: وَلَا تَتَّخِذُوْا اَیْمَانَکُمْ دَخَلًا 0 بَیْنَکُمْ (اور نہ بنائو اپنی قسموں کو فساد کا ذریعہ اپنے درمیان) دوبارہ قسم کو باہمی فساد کا ذریعہ بنانے کی ممانعت بطورتاکید لائی گئی۔ اور قسم کی عظمت بھی اس سے ظاہر کردی۔ فَتَزِلَّ قَدَمٌم بَعْدَ ثُبُوْتِھَا (پس پھسل جائے قدم جمنے کے بعد) پس اس سے تمہارے اقدام اسلام کے راستہ سے مضبوط ہونے کے بعد پھسل جائیں گے۔ قدم کو واحد لائے اور نکرہ لائے۔ تاکہ ظاہر کردیا جائے کہ ایک قدم کا جمنے کے بعد طریق حق سے پھسلنا بھی بہت بڑی بات ہے۔ اس کو معمولی مت سمجھو۔ اس بات کا خود اندازہ کرلو جبکہ بہت سے اقدام پھسلنے والے ہوں تو کیا حال ہوگا ؟ وَتَذُوْقُوْا السُّوْئَ (اور پھر تم کو اس کی سزا چکھنی پڑے) دنیا میں۔ بِمَا صَدَدْتُّمْ (اس وجہ سے کہ تم نے روکا ہے) تمہارے روکنے کے سبب۔ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) اور تم دین سے نکل گئے ہو۔ نمبر 2۔ تم اس وجہ سے کہ تم نے دوسروں کو دین سے روکا ہے۔ کیونکہ اگر وہ بیعت توڑ کر ارتداد اختیار کرلیتے تو پھر دوسروں کیلئے بھی بیعت کو توڑنے کی راہ نکل آتی جس پر وہ چل کر مرتد ہوجاتے۔ وَلَکُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (اور تمہارے لئے بہت بڑا عذاب ہے) آخرت کے دن میں۔
Ayah 16:95دنیا کے بدلے قسم فروخت نہ کرو :
95: وَلَا تَشْتَرُوْا ( اور نہ خریدو) نہ بدلے میں لو۔ بِعَھْدِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے عہد کے بدلے) اور رسول اللہ ﷺ کی بیعت کے بدلے ثَمَنًا قَلِیْلًا ( تھوڑی قیمت) معمولی سامان دنیا۔ بعض لوگ مکہ میں اسلام لائے شیطان نے ان کو ورغلانے کیلئے یہ چال چلی کہ ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈال دی کہ قریش کو غلبہ حاصل ہے اور مسلمان کمزور ہیں۔ (حق والے ہوں تو مغلوب کیوں ہوں ؟ ) قریش نے ان کو ترغیب دلائی کہ اگر وہ دین جدید سے واپس لوٹ جائیں اور رسول ﷺ کی بیعت توڑ دیں تو ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ہوگا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی نصیب فرمائی۔ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (بیشک جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اگر تم جان لو) عند اللہ سے ثواب آخرت مراد ہے۔
Ayah 16:9696: مَاعِنْدَکُمْ (جو تمہارے پاس ہے) دنیا کا سامان یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ (وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے) اس کی رحمت کے خزائن۔ بَاقٍ (وہ باقی رہنے والا ہے۔ ) فناو ختم نہ ہوگا۔ وَلَنَجْزِیَنَّ (اور ضرور ہم بدلہ دیں گے) ۔
قراءت : نون سے مکی و عاصم کی قراءت ہے۔ نافع بن عامر، حمزہ وغیرہ کی قراءت میں یاء ہے۔ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا (وہ
لوگ جنہوں نے صبر کیا) مشرکین کی ایذائوں پر اور اسلام پر ثابت قدمی میں مشقتیں اٹھائیں۔ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ (انکا بدلہ بہتر اس سے جو وہ کرتے تھے) ۔
Ayah 16:9797: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی (جس نے کوئی نیک عمل کیا خواہ وہ مرد ہے یا عورت) من مبہم ہے دونوں نوع مذکر و مونث کو شامل ہے۔ البتہ ظاہر مذکر کیلئے ہے۔ اس ابہام کو مِنْ ذَکَرٍ اَوْاُنْثٰی سے رفع کیا تاکہ وعدہ دونوں کیلئے عام ہوجائے۔ وَھُوَ مُؤْمِنٌ (اس حال میں کہ وہ مومن ہو) ایمان کی شرط لگائی کیونکہ کفار کے اعمال کسی شماروقطار میں نہیں۔
حیاتِ طیبہ کیا ہے ؟
نکتہ : یہ آیت بتلا رہی ہے کہ عمل ایمان کا حصہ نہیں۔ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً (ہم ضرور اس کو پاکیزہ زندگی دیں گے) یعنی دنیا میں اور اس لئے فرمایا۔ وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (اور ضرور ہم ان کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے) اللہ تعالیٰ نے اس سے دنیا و آخرت کے ثواب کا وعدہ فرمایا۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فآ تا ھم اللّٰہ ثواب الدنیا وحسن ثواب الاخرۃ ] آل عمران : 148[ اور یہ اس طرح ہے کہ مومن کی اعمال صالحہ کے ساتھ زندگی خواہ خوشحالی سے ہو یا تنگدستی سے یقینا عمدہ زندگی ہوتی ہے اگر خوشحال ہو تب تو ظاہر ہے۔ اور اگر تنگدست ہو تو اس کی زندگی کو عمدہ بنانے کیلئے اس کو قناعت اور تقسیم الٰہی پر رضا ہر دو میسر ہوتی ہیں۔ رہا فاجر آدمی تو اس کا معاملہ برعکس ہے۔ اگر تنگدست ہو تو ظاہر ہے۔ اور اگر خوشحال ہو تو حرص کی طوالت اس کو زندگی کا سکون نہیں لینے دیتی۔ ایک قول یہ ہے کہ حیات طیبہ قناعت ہے۔ ایک قول ہے کہ حیات طیبہ عبادت وطاعت کی مٹھاس کو کہتے ہیں۔ ایک اور قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملے کی سچائی اور امور الٰہیہ پر سچائی سے قائم رہنا اور ماسوی اللہ سے اعراض کرنا۔
Ayah 16:98قراءت سے قبل تعوذ :
98: فَاِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ (جب تم قرآن مجید کی قراءت کرو) جب قراءت ِقرآن کا ارادہ کرو۔ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ (تو تم اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو) ارادہ فعل کو فعل سے تعبیر کیا۔ کیونکہ وہ اس کا سبب ہے۔ فاء تعقیب کیلئے ہے۔ اس لئے کہ وہ قراءت جو استعاذہ کے ساتھ ہوگی وہ مذکورہ عمل صالح میں سے بنے گی۔ مِنَ الشَّیْطٰنِ (شیطان سے) یعنی ابلیس الرَّ جِیْمِ (مردود و مطرود یا ملعون ) ۔ ابن مسعود ؓ کہتے ہیں۔ میں نے رسول ﷺ کے سامنے اعوذ باللّٰہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑھا تو فرمایا۔ اس طرح کہو اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم مجھے جبرئیل ( علیہ السلام) نے اسی طرح پڑھایا ہے۔
Ayah 16:9999: اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ (بیشک اس کو قابو نہیں) ابلیس کو تسلط و ولایت نہیں عَلَی الَّذِیْنَ اٰمنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَ کَّلُوْنَ (ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر توکل رکھتے ہیں) مومن متوکل اس کے وساوس کو قبول نہیں کرتے۔
Ayah 16:100100: اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ (بیشک اس کا غلبہ ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی اختیار کرنے والے ہیں) اس کو دوست بناتے ہیں اور اس کے وساوس کی اتباع کرتے ہیں۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ (اور ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کا اس کو شریک کرنے والے ہیں) ۔ ربّ کی طرف ضمیر لوٹتی ہے۔ نمبر 2: شیطان کی طرف لوٹتی ہے اور باء سببیہ ہے وہ اس کے سبب سے شرک کرنے والے ہیں۔
Ayah 16:101نسخ ہماری حکمت سے ہے :
101: وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ (جب ہم ایک آیت دوسری آیت کی جگہ رکھ دیتے ہیں) تبدیل آیت کو دوسری آیت سے بدلنے کو نسخ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرائع و احکام کو حکمت کی وجہ سے منسوخ فرماتے ہیں اور اس آیت کا یہی معنی ہے۔ وَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ (اللہ تعالیٰ جو حکم بھیجتا ہے اس کو جانتا ہے)
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے تخفیف سے یُنْزِلُ پڑھا ہے۔ قَالُوْا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ (وہ کہتے ہیں تم خود تراشتے اور گھڑتے ہو) یہ اذا کا جواب ہے۔ اور واللّٰہ اعلم بما ینزل جملہ معترضہ ہے کفار کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ اپنے صحابہ سے تمسخر کرتے ہیں آج ان کو کسی بات کا حکم دیتے ہیں اور کل اس سے روک دیتے ہیں اور ایسا حکم ان کو بتلاتے ہیں جو اس سے آسان ہوتا ہے۔ انہوں نے آپ پر یہ افتراء و بہتان لگایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مشکل کو آسان سے اور آسان کو مشکل سے منسوخ فرماتے تھے۔ بَلْ اَکْثَرُ ھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ (بلکہ ان کی اکثریت نہیں جانتی) کہ اس کی حکمت کیا ہے ؟
Ayah 16:102قرآن لانے والے جبرئیل ( علیہ السلام) ہیں :
102: قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ (آپ کہہ دیں اس کو روح القدس نے اتارا ہے) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے۔ جبرئیل کی نسبت القدس کی طرف کی گئی ہے۔ القدس پاکیزگی جیسا کہ کہتے ہیں۔ حاتم الجود۔ سخی حاتم۔ مراد مقدس روح۔ المقدس کا معنی گناہوں سے پاک مِنْ رَّبِّکَ (تیرے رب کی طرف سے) اس کے ہاں سے اور اس کے حکم سیبالْحَقِّ (حق کے ساتھ) یہ حال ہے۔ یعنی اس کو حکمت کے ساتھ ملبس اتارا ہے۔ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (تاکہ وہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے) تاکہ منسوخ کر کے ان کی آزمائش کرے تاکہ وہ اس کے متعلق کہیں کہ وہ ہماری طرف سے برحق اور حکمت پر مبنی ہے۔ کیونکہ وہ اسی کام کو کرتا اور حکم دیتا ہے جو عین ثواب و حکمت ہوتا ہے اور ایمان والوں کیلئے ثابت قدمی، صحت ‘ یقین اور طمانیت ِقلوب کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ وَھُدًی وَّ بُشْرٰی (اور ہدایت اور بشارت ہے) ۔ یہ مفعول لہ ہیں اور دونوں کا عطف یثبت کے محل پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے تثبیتًا لھم وارشاداً وبشارۃً ان کو ثابت قدم رکھنے اور راہنمائی کرنے اور خوشخبری سنانے کیلئے لِلْمُسْلِمِیْنََ (مسلمانوں کیلئے) اس میں اس بات پر تعریض کی جارہی ہیں کہ اس کے مخالف صفات تو غیر مسلموں میں ہوتی ہیں۔
Ayah 16:103کفار کا الزام اور اس کا جواب :
103: وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ( اور ہم کو معلوم ہے کہ وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو یہ کلام آدمی سکھاتا ہے) اس سے ان کی مراد حو یطب کا ایک غلام تھا جو مسلمان ہوا۔ اور ثابت قدم رہا اس کا نام ” عائش “ تھا یا ” یعیش “ اور وہ کتابیں رکھتا تھا۔ نمبر 2۔ اس سے عامر بن حضرمی کا غلام جبررومی مراد ہے۔ نمبر 3۔ جبر اور یسار مراد ہیں یہ دونوں غلام تو رات و انجیل پڑھتے تھے۔ اور جو پڑھتے کبھی کبھی اس کو سنتے۔ نمبر 4۔ سلمان فارسی مراد ہے۔ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ (وہ زبان جس کی طرف نسبت کرتے ہیں عجمی ہے ) ۔
قراءت : یَلحَدون ؔ یہ یاء اور حاء کے فتحہ کے ساتھ حمزہ و علی نے پڑھا ہے۔ یعنی وہ حق کے راستے سے اعراض کر کے جس آدمی کی طرف اپنے قول کی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان غیر فصیح ہے۔ اور غیر واضح ہے۔ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ (اور یہ واضح عربی زبان ہے) ھٰذا کا مشار الیہ قرآن ہے۔ مُبِیْن کا معنی بیان و فصاحت والی ہے۔ اس میں ان کے قول کی تردید اور ان کے طعنوں کو باطل قرار دیا گیا۔ یہ جملہ لِسَانُ الَّذِیْ الایۃ اس کا محل اعراب نہیں کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یہ ان کے قول کا جواب ہے۔ لسان کا معنی لغت ہے۔ کہا جاتا ہے الحد القبر ولحدہ وھو محلدٌ وملحود جب کہ گڑھے کو ٹیڑھا بنایا جائے اور اس کے ایک جانب کھدائی کی جائے۔ پھر اس کو عام کر کے ہر میلان عن الاستقامت کیلئے بطور استعارہ استعمال کرنے لگے۔ اور کہتے ہیں الحدفلان فی قولہ والحد فی دینہٖ وہ اپنے دین میں استقامت سے ہٹ گیا۔ وہ ملحد ہے کیونکہ اس نے اپنے مذہب کو تمام ادیان سے پھیرلیا۔
Ayah 16:104104: اِنَّ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے) آیات اللہ سے قرآن مراد ہے۔ لَایَھْدِیْھِمُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی نہیں کرتے) جب تک کہ وہ کفر کو پسند کرتے رہتے ہیں۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے) جو آخرت میں ان کے کفر پر ان کو دیا جائے گا۔
Ayah 16:105دوسرا جواب :
105: اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ (بیشک اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے والے وہ لوگ ہیں) الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے) یعنی افتراء تو ان لوگوں کا طرز و طریق ہے۔ جن میں ایمان نہیں۔ کیونکہ وہ اس پر سزا کے قائل نہیں۔ اس میں اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرکی تردید ہے۔ وَاُولٰٓپکَ (وہ) سے لَا یُؤْمِنُوْنَ کی طرف اشارہ ہے۔ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ (وہی جھوٹے ہیں) فی الحقیقت اور کذب میں کمال درجہ حاصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب عظیم ترین جھوٹ ہے۔ نمبر 2۔ وہ انماانت مفتر کہنے میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 16:106106: مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْ 0 بَعْدِ اِیْمَانِہٖٓ (جس نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا اس کے بعد کہ وہ ایمان لایا)
چار تراکیب :
یہ جائز ہے کہ مبتدا کو شرط مان کر جواب محذوف مانیں۔ کیونکہ من شرح جواب پر دلالت کررہا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ من کفر باللّٰہ فعلیھم غضبٌ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں پس وہ غضب کے مستحق ہیں۔
صورتِ اکراہ :
اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّم بِالْاِیْمَانِ (مگر جو مجبور کیا گیا اس حالت میں کہ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو) ایمان پر پُر سکون ہو۔ وَلٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا ( مگر جس کا سینہ کفر کیلئے کھلا ہو) کفر کو دل سے پسند کیا اور اس کو عقیدہ کے طور پر جمالیا۔ فَعَلَیْھِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے) ۔ نمبر 1۔ یہ بھی درست ہے کہ یہ الذین لایؤمنون بالاٰخرۃ الایۃ سے بدل ہو۔ اور اولئک ھم الکاذبون جملہ معترضہ ہو۔ جو بدل و مبدل منہ کے درمیان آیاہو۔ اب مطلب یہ ہوگا۔ جھوٹ وہ باندھتے ہیں۔ جو ایمان کے بعد کفر کرنے والے ہیں۔ ان میں سے مکرہ کو مستثنیٰ کیا اور افتراء کے حکم کے ماتحت داخل نہیں کیا۔ پھر فرمایا۔ ولکن من شرح بالکفر صدرًا الایۃ نمبر 2۔ یہ مبتدا ٔ سے بدل ہو اور وہ مبتدا اولئکؔ ہے اب اس طرح معنی ہے ومن کفر باللّٰہ من بعدایمانہ ہم الکاذبون۔ جو ایمان کے بعد کفر کرنے والا ہے۔ وہی جھوٹا ہے۔
واقعہ عمار و یاسر۔ :
نمبر 3۔ الکاذبون خبر سے بدل ہے۔ ای واولٰئک ھم من کفر باللّٰہ من بعد ایمانہ وہ وہی ہیں جنہوں نے ایمان کے بعد اللہ تعالیٰ کا انکار کیا۔ نمبر 5۔ اس کو ذم کی صورت میں منصوب مانا جائے۔
روایت میں ہے کہ بعض اہل مکہ آزمائش میں پڑے تو ارتداد اختیار کیا۔ ان میں بعض وہ تھے جن کو مجبور کر کے کلمہ کفر کہلوا دیا گیا حالانکہ دل میں ایمان پختہ تھا۔ حضرت عمار ؓ انہی میں سے تھے۔ باقی ان کے والد اور والدہ دونوں کو اقرار نہ کرنے کی پاداش میں قتل کردیا گیا۔ یہ اسلام میں پہلے مقتول تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ عمار نے کفر اختیار کرلیا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا عمار سر کے بالوں سے پائوں کے ناخن تک ایمان سے پُر ہے۔ اور ایمان تو اس کے خون و گوشت میں رچابسا ہوا ہے۔ ] ابونعیم[ پھر عمار ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے رسول اللہ ﷺ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کو اپنے دست اقدس سے پونچھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ( انہوں نے واقعہ ذکر کیا) تو فرمایا اگر وہ دوبارہ یہ اقرار کروائیں تو تم دوبارہ کہہ لینا ] ابن عساکر[ حضرت یاسر نے جو کیا وہ افضل ہے۔ کیونکہ قتل پر صبر کرنے میں اسلام کی عظمت زیادہ ہے۔
Ayah 16:107107: ذٰلِکَ (یہ) اس میں وعید کی طرف اشارہ ہے اور غضب الہٰی کے اترنے اور عذاب عظیم کے نازل ہونے کی اس میں وعید سنائی گئی ہے۔ بِاَنَّھُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عََلَی الْاٰخِرَۃِ (اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر) انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی۔ باء سببیہ ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کے سبب۔ وَاَنَّ اللّٰہَ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتے) جب تک کہ وہ کفر کو پسند کرتے رہیں گے۔
Ayah 16:108108: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَسَمْعِھِمْ وَاَبْصَارِھِمْ (یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی) پس وہ نہ تو غور و فکر کرتے ہیں۔ اور نہ ہی موا عظ کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ہدایت کے راستہ کو دیکھتے ہیں۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ (اور وہ ہی غافل ہیں) غفلت میں کمال کو پہنچے ہوئے ہیں کیونکہ جب انجام پر غور کرنے سے غفلت برتی جائے تو یہ غفلت کا آخری درجہ ہے اور اس کی غایت ہے۔
Ayah 16:109کافر یقینا نقصان میں ہیں :
109 : لَا جَرَ مَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہ ہی لوگ گھاٹے میں رہیں گے)
Ayah 16:110ایمان والوں کی سرخروئی :
110 : ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ (پھر آپکا رب) ثمؔ کو اس لئے لائے کہ ان کا حال ان کے حال سے بہت ہی دور ہے۔ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا (ان لوگوں کیلئے جنہوں نے ہجرت کی) مکہ مکرمہ سے یعنی ان کو اس میں فائدہ ہے نقصان نہیں کہ اللہ تعالیٰ انکا کارسازو مددگار ہے۔ ان کو رسوا کرنے والا اور انکا دشمن نہیں۔ جیسا کہ بادشاہ آدمی کیلئے محافظ و مفید ہوتا ہے۔ نقصان پہنچانے والا نہیں ہوتا۔ مِنْ 0 بَعْدِ مَا فُتِنُوْا (اس کے بعد کہ ان کو آزمایا گیا) عذاب اور اکراہ علی الکفر کے ذریعہ۔ قراءت : فَتَنُوْا شامی نے پڑھا ہے۔ اس کے بعد کہ انہوں نے مسلمانوں کو تکالیف پہنچائیں پھر وہ اسلام لے آئے۔ ثُمَّ جٰھَدُوْا (پھر انہوں نے جہاد کیا) مشرکین کے ساتھ ہجرت مدینہ کے بعد وَصَبَرُوْا ( اور انہوں نے صبر کیا) جہاد میں آنے والے مصائب پر اِنَّ رَبَّکَ مِنْ 0 بَعْدِھَا (بیشک آپکا رب اس کے بعد) ان افعال کے بعد اور وہ افعال ہجرت جہاد و صبر ہیں۔ لَغَفُوْرٌ (البتہ بخشنے والے ہیں) ان کی ان باتوں کو جو ان کے منہ سے بطور بچاوے کے نکلیں۔ (مجبوراً کفریہ کلمات منہ سے نکالنے پڑے) رَّ حِیْمٌ (مہربان ہے) اکراہ کی حالت میں نکلنے والی باتوں پر عذاب نہ دے گا۔
Ayah 16:111قیامت میں ہر ایک اپنی طرفداری کرے گا :
111: یَوْ مَ تَاْ تِیْ (جس دن آئے گا) ۔ : یہ رحیم کی وجہ سے منصوب ہے نمبر 2۔ اذکر محذوف کی وجہ سیکُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا (ہر شخص وہ اپنی طرفداری میں بات کرے گا) یہاں نفس کی اضافت نفس کی طرف کی گئی ہے کیونکہ عین شئی کو ذاتہٖ ونفسہٖ کہہ دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں فی نقیضہٖ وغیرہ بولتے ہیں۔ والنفسؔ وہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے پورا اور کامل ہے۔ پس پہلا نفسؔ وہ بھی کامل اور دوسرا اس کا عین اور ذات۔ گویا اس طرح فرمایا۔ یوم تاتی کل انسان یجادل عن ذاتہٖ لایھمہ شان غیرہ کل یقول نفسی نفسی ہر انسان اپنے نفس کی طرفداری کریگا۔ دوسرے کی حالت کو کوئی اہمیت نہ دیگا اور ہر ایک یہ کہہ رہا ہوگا۔ مجھے بچا لے مجھے بچا لے۔ المجادلۃ عنہا ؔ کا مطلب نفس کی طرف سے معذرت خواہی ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں ربنا ھٰؤُلاء اضلُّونا ] الاعراف : 38[ دوسری آیت میں ربنا انا اطعنا سادتنا و کبراء نا ] الاحزاب : 67[ ایک اور مقام پر فرمایا واللّٰہ ربنا ماکنا مشرکین ] الانعام : 23[ وغیرہ آیات۔
وَتُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ (اور ہر نفس کو پورا پورا دیدیا جائے گا۔ جو اس نے عمل کیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا) توفّٰیکا معنی ہے کہ اس کے عمل کی پوری پوری جزاء دی جائے گی۔ اور اس سلسلہ میں ان کے حق میں کمی نہ کی جائے گی۔
Ayah 16:112نعمتیں اور اہل مکہ کی ناشکری :
112: وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَۃً (اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی مثال بیان کی) اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو ان تمام لوگوں کیلئے مثال بنادیا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہو۔ اور نعمتوں نے ان کو مغرور کردیا جس سے وہ کفر میں مبتلا ہوگئے۔ اور اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرلیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کردیا۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ اس صفت و حالت والی کوئی بستی و شہر مراد لیاجائے۔ نمبر 3۔ پہلے زمانہ کی کوئی بستی ہو جس کا یہ حال ہو۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کیلئے بطور مثال بیان کردیا ہو تاکہ یہ اس سے عبرت حاصل کریں۔ کَانَتْ اٰمِنَۃً (وہ امن والی تھی) قتل اور قیدی بننے سے مُّطْمَئِنَّۃً (اطمینان والی) کوئی خوف اس کو پریشان کرنے والا نہ تھا۔ کیونکہ اطمینان امن سے ہوتا ہے اور خوف سے بےچینی اور بےاطمینانی ہوتی ہے۔ یَّاْ تِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا (اس کا رزق بافراغت ان کے ہاں پہنچتا ہو) رغدًا بمعنی وسعت کے ساتھ مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ (ہر طرف سے) ہر شہر سے فَکَفَرَتْ (پس اس نے کفر کیا) وہاں کے رہنے والوں نے بِاَنْعُمِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ساتھ) انعم جمع ہے نمبر 1۔ نعمۃ کی۔ جبکہ تاء کو جمع میں چھوڑ دیا جائے۔ مثلاً درع وأدرع نمبر 2۔ نعم کی جیسے بؤس وابؤس۔
فَاَذَا قَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصنَعُوْنَ (پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا
ان کی حرکات کے سبب) الاذاقۃ واللباس یہ دونوں استعارے ہیں اذاقہ مستعارہ کو لباس مستعار کیلئے استعمال کیا۔ اور اس کے صحیح ہونے کی وجہ یہ ہے اذاقہ ان کے ہاں حقیقت کے قائم مقام ہے کیونکہ بلاء اور مصائب میں یہ شائع و ذائع ہے۔ اور لوگوں کو پیش آتی رہتی ہے۔ جس پر لوگ کہتے ہیں ذاق فلان البؤس والضر واذاقہ العذاب۔ اس میں ضرر والم جس کا ادراک ہوسکتا ہے کڑ وے، کسیلے سے جس کا ادراک ہوسکتا ہے تشبیہ دی ہے۔
لباس سے تشبیہ اس لئے دی ہے کہ لباس پہننے والے کو ڈھانپ لیتا ہے۔ جس طرح کہ انسان پر غشی آئے تو وہ اس کے حواس کو ڈھانپ لیتی ہے اور بعض حوادث اس پر اس طرح سوار ہوجاتے ہیں جیسے لباس جسم پر۔ باقی رہی یہ بات کہ جوع و خوف کے لباس پر اذاقہ کا واقع کرنا اس لئے ہے جب وہ خوف و جوع میں سے جو چیز ڈھانپ لے جب اس کا اطلاق اس پر آتا ہے تو چکھنے کا اطلاق بھی اس پر درست ہے۔
گویا اس طرح کہا گیا : فَاَذَا قَہُمْ مَاغَشِیَہُمْ مِّنَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ (پس ان کو چکھائی وہ بھوک اور خوف جس نے ان کو آکر ڈھانپ لیا تھا) دنیا میں جس طرح موجود نعمتیں جنت کے مقابلہ میں چکھنے کی چیزیں ہیں۔ بالکل اسی طرح جہنم کے مقابلہ میں دنیا کی سزائیں بھی چکھنے کے مترادف ہیں اصل سزا تو بہت بڑی ہے۔ (مترجم)
Ayah 16:113113: وَلَقَدْ جَآ ئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْھُمْ (تحقیق ان کے پاس انہی میں سے ایک عظیم الشان رسول آئے) اس رسول سے یہاں حضرت محمد ﷺ مراد ہیں۔ فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَ ھُمُ الْعَذَابُ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ (پس انہوں نے اس کو جھٹلایا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا۔ اس حال میں کہ وہ ظالم تھے) اس حالت میں کہ وہ اپنے کو ظلم سے ملوث کرنے والے تھے۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن قتل بالسیف سے جو عذاب دیا گیا وہ مراد ہے۔
Ayah 16:114حلال و طیب کھائو :
114: روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اہل مکہ کی طرف قحط کے سالوں میں غلہ بھیجا جو ان میں تقسیم کردیا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ فَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ (پس تم کھائو اس کو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق دیا ہے) حضرت محمد ﷺ کے دست اقدس سے حَلٰلاً طَیِّبًا (حلال و پاکیزہ) اس کے بدلے جو تم حرام و خبیث کھاتے تھے۔ مثلاً لوٹ کے اموال ‘ غصب کی آمدنیاں، برے ذرائع سے حاصل شدہ محاصل وَّاشْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کرو اگر تم اسی ہی کی عبادت کرنے والے ہو) یہاں تعبد ون تطیعون کے معنی میں ہے۔ نمبر 2۔ اگر تمہارا گمان صحیح ہے۔ کہ الہہ کی عبادت، اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور وہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے بچا لیں گے۔
Ayah 16:115محرمات سے بچو جو یہ ہیں :
115: اس کے بعد ان پر محرمات کو بیان کر کے اپنی طرف سے تحلیل و تحریم کی ممانعت کی پس فرمایا۔ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَ الدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (تم پر صرف مردار کو حرام کیا اور خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور اس چیز کو جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کیلئے نامزد کردی گئی ہو۔ پس جو شخص بہت ہی مجبور ہو بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد ( ضرورت) سے آگے بڑھے۔ (اور اس نے کھالیا) تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے) انماؔ کلمہ حصر ہے۔ یعنی حرام یہ ہیں نہ کہ بحیرہ، سائبہ وغیرہ بقیہ آیت کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 16:116خود تحریمات مت ایجاد کرو :
116: وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَاتَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ (اور نہ کہو ان چیزوں کو جن کے متعلق تمہارا جھوٹا زبانی دعویٰ ہے) الکذب یہ لَاتَقُوْلُوْاکی وجہ سے منصوب ہے یعنی ولا تقولوا الکذب لما تصفہ السنتکم من البھائم بالحل والحرمۃ فی قولکم مت وہ جھوٹ بولو جو تمہاری زبانوں سے چوپایوں کی حلت و حرمت کے متعلق نکلتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ مافی
بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا ] الانعام : 139[ یہ بات بغیر وحی کے حوالہ کے وہ کرتے تھے۔ یا بغیر کسی صحیح قیاس کے حوالہ کے جس کی بنیاد قرآن وسنت سے استنباط پر ہو۔
اور لما میں لام اسی طرح ہے جیسا اس قول میں ـــ” لاتقولوا لما احل اللّٰہ ھو حرام “ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ (کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے) یہ الکذب سے بدل ہے۔
نحو : الکذب پر نصب تَصِفُ کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ اور نمبر 2۔ مامصدریہ مانکر ھذا حلال و ھذا حرام کو لا تقولوا سے متعلق کرو۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی ولا تقولوا ھذا حلال وھذا حرام۔ وھذا لوصف السنتکم الکذب یعنی ولا تحرموا ولا تحللوا لاجل قول تنطق بہٖ السنتکم ویحول فی افواھکم لا لاجل حجۃ وبینۃ ولکن قول ساذج ودعوی بلابرھان۔ تم اپنے زبانی قول سے حلال و حرام مت کرو۔ اور جو تمہارے منہ میں آئے بغیر دلیل و حجت کے حلال و حرام مت کہہ ڈالو۔ مگر قول یہ محض بےپر کی بات اور دعویٰ ہے جس کی بنیاد میں دلیل نہیں ہے۔
فصیح ترین جملہ :
تصف السنتکم الکذب یہ فصیح ترین جملہ ہے۔ اس میں ان کے قول کو بعینہٖ کذب قرار دیا۔ جب انہوں نے زبانوں سے کہہ دیا تو یہ کذب کے قائم مقام ہوگیا۔ اور اس کی شکل اختیار کرلی۔ جیسا کہتے ہیں وجھھا یصف الجمال و عینھا تصف السحر۔ اس کا چہرہ آئینہ حسن اور اس کی آنکھ سحر بےزبان ہے۔ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (نتیجتاً تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت باندھوگے) لِتَفْتَرُوْا کی لام تعلیلیہ ہے جس میں غرض کا معنی متضمن نہیں ہے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ (بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہونگے)
Ayah 16:117117: متَاعٌ قَلِیْلٌ وَّلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (تھوڑا نفع اٹھانا ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ یعنی انکا افعال جاہلیت میں فائدہ معمولی ہے۔ اور ان کی سزا بہت بڑی ہے۔ (اعاذنا اللّٰہ منہا)
Ayah 16:118یہود پر تحریم سزا کے طور پر تھی :
118: وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا مَاقَصَصْنَاعَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ (اور یہود پر ہم نے حرام کیا جو ہم نے تمہیں اس سے قبل بیان کردیا) ۔ سورة انعام میں جو اس آیت میں ہے وعلی الذین ھادواحر منا کل ذی ظفر الا یۃ ؛ 146 : وَمَا ظَلَمْنٰھُمْ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا) ان کو حرام قرار دیکر وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (لیکن وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے) ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش کے طور پر یہ چیزیں ان پر حرام کیں۔
Ayah 16:119نادانی اور کفارہ بشرط اصلاح معاف ہے :
119: ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْئَ بِجَھَالَۃٍ (پھر آپکارب ایسے لوگوں کیلئے جنہوں نے نادانی کے سبب گناہ کرلیا)
نحو : یہ حال ہے ای عَمِلُوا السُّوْئَ جَاہِلِیْنَ ۔ انہوں نے برا کام کیا اس حال میں کہ جہالت اختیار کرنے والے تھے۔ انجام کو سوچنے والے نہ تھے۔ اور وہ گناہ غلبہ شہوت سے کیا۔ انکا مقصود خواہش کی لذت تھی مولیٰ کی نافرمانی مقصود نہ تھی۔ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ 0 بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ 0 بَعْدِھَا (پھر انہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح و درستی کرلی۔ بیشک آپکا رب اس کے بعد) یعنی تو بہ کے بعد لَغَفُوْرٌ (البتہ بخشنے والا ہے) ان گناہوں کو جو انہوں نے کثرت سے کیے ہیں۔ رَّحِیْمٌ (مہربان ہے) پختہ ارادہ سے جو انہوں نے مضبوط عزم کیے ہیں ان کو پورا کرتا ہے۔
Ayah 16:120ابراہیم ( علیہ السلام) عظیم مقتدا تھے وہ مشرک نہ تھے :
120: اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً (بیشک ابراہیم ایک بڑے مقتدا تھے) ۔ ابراہیم (علیہ السلام) اکیلے ہی ایک امت تھے کیونکہ خیر کی صفات میں وہ کمال رکھتے تھے۔ جیسا 1 ؎ بونواس کا یہ شعر لَیْسَ عَلَی اللّٰہِ بِمُسْتَنْکَرٍ أنْ یجمع العالَم فِیْ وَاحِدٖ ۔ اللہ تعالیٰ کیلئے یہ مشکل نہیں کہ وہ تمام جہاں کو ایک میں جمع کر دے۔ یعنی تمام خصوصیات لا کر ایک کو جامع بنا دے) حضرت مجاہد کہتے ہیں وہ اکیلے مومن تھے جبکہ تمام لوگ کافر تھے۔ نمبر 2۔ اُمۃ بمعنی ماموم مقتدا تاکہ لوگ ان سے بھلائی حاصل کریں۔ قَانِتًا لِلّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کیلئے عاجزی کرنے والے تھے) ۔ قانتؔ اس کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اوامر پر قائم ہو۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ معاذ امت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کیلئے عاجزی کرنے والے تھے۔ ان سے کہا گیا یہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کی صفات ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ امۃ اس کو کہا جاتا ہے جو لوگوں کو خبر سکھائے۔ القانتؔ اور اس کے رسول کا مطیع اور معاذ ؓ اسی طرح تھے۔
حضرت عمر ؓ نے فرمایا اگر معاذ زندہ ہوتے تو میں ان کو خلیفہ بناتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا۔ ابو عبیدۃ امین ھذہ الامۃ۔ ومعاذ اُمۃ اللّٰہ قانت للّٰہِ ان کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین قیامت کے دن صرف (قرب مرتبہ میں) رسول ہونگے ] ابو نعیم[ حَنِیْفًا (ادیان سے ہٹ کر ملت اسلام کی طرف جھکنے والے) ۔ اَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (وہ مشرکین میں سے نہ تھے) کفار قریش کی تکذیب کیلئے ان سے شرک کی نفی کی۔ کیونکہ قریش کا گمان یہ تھا کہ وہ ملت ابراہیم پر قائم ہیں۔
نحو : یَکُنْ کی نون کو حرف لین کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے حذف کردیا۔