15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الرا یہ (خدا کی) کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں۔

عظمت قرآن : 1: الٓرٰ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْٰانٍ مُّبِیْنٍ الٓرٰ (یہ آیات ہیں کامل کتاب اور واضح قرآن کی ) ۔ تلکؔ سے ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو اس سورت میں ہیں۔ الکتاب اور قرآن مبین سے سورت مراد ہے۔ قرآنؔ کو نکرہ بطور تفخیم ِشان کے ذکر کیا ہے۔ معنی یہ ہے یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو کتاب ہونے میں کامل ہے اور قرآن مبین کی آیات ہیں۔ گویا اسطرح فرمایا۔ الکتاب الجامع للکمال و للغرابۃ فی البیان۔ ایسی کتاب جو کمال اور غرابت فی البیان کو جمع کرنے والی ہے۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے۔

قیامت کے دن کفار کی حسرت : 2: رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے) ۔ قراءت : مدنی و عاصم نے تخفیف سے پڑھا۔ باقی نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ماؔ یہ کافہ ہے کیونکہ رب حرف جر ہے اور مابعد کو مجرور کرتا ہے یہ اسم نکرہ کے ساتھ خاص ہے۔ جب عمل سے روک دیا گیا تو اس کے بعد فعل ماضی اور اسم آسکتا ہے۔ اور جائز ہے۔ یود الذین کفروا کیونکہ انتظار کرنے والے اللہ تعالیٰ کے اطلاع دینے سے ماضی کی طرح قطعیت اور تحقیق رکھتے ہیں۔ گویا اس طرح کہہ دیا گیا۔ ربما ودّ اور ان کا یہ چاہنا موت کے وقت ہوگا۔ نمبر 2۔ قیامت کے دن ہوگا جب کہ اپنی حالت اور مسلمانوں کی حالت کا مشاہدہ کریں گے۔ نمبر 3۔ جب وہ مسلمانوں کو آگ سے نکلتا دیکھیں گے تو وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے ( تو آج آگ سے نکل جاتے) اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ (کاش کہ وہ (دنیا) میں مسلمان ہوتے) یہ ان کے چاہنے کی حکایت ہے کہ اس طرح چاہت کریں گے غائب کے صیغہ سے ذکر کیا گیا کیونکہ ان کے متعلق اطلاع دی گئی جیسا کہتے ہیں حلف باللہ لیفعلن اس نے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی کہ وہ ضرور ایسا کرے گا۔ اگر اس طرح کہتے ہیں حلف باللہ لافعلن۔ ولوکنا مسلمین تو اچھا ہوتا۔ رُبّ کے لفظ سے تقلیل پیدا کی کیونکہ قیامت کے خوف ناک مناظر تو بہت ہیں۔ اور وہ ان کو تمنا سے مشغول و بےپرواہ کردیں گے۔ جب وہ سکرات عذاب سے افاقہ پائیں گے تو اس وقت مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ ایک وضاحت : جنہوں نے یہ کہا کہ رب کثرت کیلئے آتا ہے۔ ان سے بھول ہوگئی ہے کیونکہ کثرت والی بات اس بات کے الٹ ہے۔ جو اہل لغت کے ہاں پائی جاتی ہے کیونکہ رب کی وضع ہی تقلیل کیلئے ہے۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان کو ان کے حال پر رہنے دو کہ کھا لیں اور فائدے اٹھا لیں اور (طول عمل) ان کو (دنیا میں) مشغول کئے رہے۔ عنقریب ان کو اسکا (انجام) معلوم ہوجائے گا۔

معاند سے ایمان کی طمع مت کریں : 3: ذَرْھُمْ (آپ ان کو رہنے دیں) یہ امر توہین کیلئے ہے کہ آپ ان کے ایمان لانے کی طمع چھوڑ دیں۔ اور جس کام میں وہ مبتلا ہیں ان سے روکنا چھوڑ دیں اور نصیحت و تذکیر ان کے لئے فائدہ مند نہ ہوگی ان کے حال پر رہنے دیں۔ یَاْکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا (کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے اڑائیں) اپنی دنیا میں وَیُلْھِھِمُ الْاَمَلُ (اور ان کی تمنائیں اور امیدیں ان کو ایمان سے غافل کئے رکھیں) فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (عنقریب ان کو علم ہوجائے گا) اپنی بدکرداری کا۔ نکتہ : اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ تلذذوتنعم اور جو چیزیں لمبی امیدیں پیدا کرنے والی ہوں ان کو ترجیح دینا ایمان والے بندوں کی عادات واخلاق سے نہیں ہے۔
Ayah 15:4

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کا وقت (مرقوم و) معین تھا۔

ہر ایک کی ہلاکت کا وقت ہے : 4: وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا وَلَھَا کِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ (اور ہم نے جتنی بستیاں ہلاک کی ہیں ان کے لئے ایک معین وقت تحریر تھا) سوال : وَلَہَاکِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ یہ جملہ قریہ کی صفت ہے اور قیاس کا تقاضا ہے کہ ان کے درمیان وائو نہ لائی جائے۔ جیسا کہ اس آیت میں وَمَا اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلَّالَھَا مُنْذِرُوْنَ ] الشعراء : 208[ جواب : یہ واؤ درمیان میں اسلئے لائی جاتی ہے تاکہ موصوف صفت کا الصاق پختہ ہوجائے۔ کیونکہ صفت تو موصوف کے ساتھ بغیر وائو کے ملی ہوئی ہوتی ہے وائو لاکر اس الصاق کی تاکید کردی گئی۔ نمبر 2۔ بہتر وجہ یہ ہے کہ یہ جملہ قریۃؔ سے حال ہے کیونکہ وہ موصوف کے قائم مقام ہے۔ گویا تقدیر عبارت اس طرح ہے : وما اھلکنا قریۃ من القرٰی یہ صفت نہیں ہے۔ کتاب معلوم ؔ جانی اور معلوم شدہ لکھت و تحریر۔ اور اس سے مراد وہ وقت مقررہ ہے جو لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے اور اس کو واضح کردیا جیسا کہ اگلی آیت میں۔
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

وقت سے آگے پیچھے نہ ہوگا : 5: مَاتَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا (کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے سبقت نہیں کرتی) اپنی کتاب کی جگہ میں وَمَا یَسْتَاْ خِرُوْنَ (اور نہ وہ اس سے پیچھے ہٹتے ہیں) ای عنہ کو حذف کردیا گیا کیونکہ وہ معلوم ہے۔ نکتہ : پہلی مرتبہ امت کو مؤنث لائے پھر دوسری مرتبہ مذکر ذکر کیا تاکہ لفظ و معنی دونوں کا لحاظ ہوجائے۔
Ayah 15:6

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور (کفار) کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تو تو دیوانہ ہے۔

آپ ﷺ پر طعنہ جنون : 6: وَقَالُوْا (اور انہوں نے کہا) یعنی کفار نے یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ (اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا) ذکر سے قرآن مراد ہے اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ (بیشک تو مجنون ہے) مراد اس سے حضرت محمد ﷺ کی ذات لیتے تھے۔ اور یہ کہنا ان کی طرف سے بطور استہزاء تھا۔ جیسا کہ فرعون نے کہا اِنَّ رَسُوْلَکُمْ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ] الشعرا : 27[ وہ نزول قرآن کے کیسے قائل ہوسکتے ہیں جبکہ وہ آپ کو مجنون کہہ رہے ہیں۔ ان کے کلام میں یہ عکس استہزاء کو ظاہر کرتا ہے۔ اور تہکم امنڈ رہا ہے۔ یہ اس طرح جیسا فرمایا فَبَشِّرْ ھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ] آل عمران : 21[ اور دوسری آیت میں اِنَّکَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ ] ھود : 87[ مطلب یہ ہے کہ تو مجنونوں والی باتیں کہتا ہے جبکہ تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تم پر قرآن اترتا ہے۔
Ayah 15:7

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا ؟

گواہی والے فرشتے ساتھ ساتھ : 7: لَوْمَاتَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓپکَۃِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (تو کیوں نہیں لاتا ہمارے پاس فرشتوں کو اگر تو سچا ہے) جب لو ما ؔ اور لا ؔ کے ساتھ لائیں تو۔ نمبر 1۔ دوسرے کے وجود سے ایک کی نفی کیلئے آتا ہے ( مثلاً لولا زید لھلک عمرو تو ہلاکتِ عمرو کی نفی وجود زید کی وجہ سے ہے) نمبر 2۔ تحضیض کیلئے آتا ہے۔ اور جب ھل کو لا کے ساتھ ملا کر لایا جائے تو تحضیض کا فائدہ دیتا ہے اب معنی یہ ہوگا۔ ہلا تاتینا بالملائکۃ یشھدون بصدقک۔ تو کیوں ہمارے پاس فرشتوں کو نہیں لاتا تاکہ وہ تمہاری صداقت کی گواہی دیں۔ نمبر 3۔ تو ملائکہ عذاب ہماری تکذیب کرنے پر کیوں نہیں لاتا اگر تم سچے ہو۔
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

(کہہ دو ) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کیساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی۔

نزولِ ملائکہ پر مہلت ختم ہوجاتی ہے : 8: مَانُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ (ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے) قراءت : ابوبکر کے علاوہ قراء نے ماننزل پڑھا ابوبکر تنزل تنزل کا معنی تتنزل غیرھم ان کے غیر پر اترتے ہیں۔ اِلَّا بِالْحَقِّ (مگر حق کے ساتھ) مگر وہ اترناجو حق و حکمت کے ساتھ ملا ہوا ہو وَمَا کَانُوْا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ ( اور اس وقت ان کو مہلت نہیں دی جاتی) اِذًا یہ ان کا جواب ہے اور شرط کی جزاء مقدر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لونزلنا الملائکۃ اگر ہم فرشتوں کو اتاریں ما کانوا منظرین تو ان کو پھر مہلت نہ دی جاتی اس وقت اور نہ ان سے عذاب مؤخر کیا جاتا۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک یہ (کتاب) نصیحت ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

قرآن کے ہم محافظ : 9: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ (بیشک ہم نے ہی ذکرکو اتارا) ذکر سے مراد قرآن مجید ہے۔ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں) اس میں ان کے انکار اور استہزاء کا رد ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ ] الحجر : 6[ اسی لئے تو فرمایا : انا نحن۔ تاکیدات سے یہ پختہ کردیا کہ وہی قطعی طور پر اتارنے والے ہیں اور اسی نے ہی اس کو شیاطین سے محفوظ اتارا ہے۔ اور ہر وقت وہی اسکی کسی قسم کے اضافے و نقصان سے حفاظت کرنے والے ہیں۔ اور تحریف و تبدیل سے بچانے والے ہیں۔ بخلاف پہلی کتابوں کے کہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی گئی۔ ان کی حفاظت کی ذمہ داری احبار ربانیین پر ڈالی گئی۔ انہوں نے ضد کی وجہ سے باہمی اختلاف ڈالا۔ پس تحریف کا دروازہ کھل گیا۔ مگر قرآن مجید کی حفاظت کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالی گئی۔ اور اِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ کو اس بات پر بطور دلیل لائے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور آیت و نشانی کے اتارا گیا ہے۔ اگر یہ کسی انسان کا قول ہوتا یا آیت نہ ہوتا تو اس پر اضافہ و نقصان امنڈ آتا جیسا کہ ہر کلام جو اس کے علاوہ ہے اسپروارد ہوتا ہے نمبر 2۔ یا ضمیر لہؔ میں اشارہ رسول ﷺ کی طرف ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ ] المائدہ : 67[ میں ہے۔
Ayah 15:10

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے۔

نبوت کا سلسلہ پہلے سے چلا آتا ہے : 10: وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ (ہم نے آپ سے پہلے بھی پچھلی امتوں میں پیغمبر بھیجے) یعنی ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف گروہوں میں انبیاء (علیہم السلام) بھیجے۔ الشیعۃؔ وہ گروہ جو کسی مذہب و طریقہ پر متفق ہوں۔
Ayah 15:11

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ استہزا کرتے تھے۔

11: وَمَا یَاْتِیْھِمْ (اور نہیں آتا رہا ان کے پاس) یہ ماضی کی حکایت ہے کیونکہ ماؔ مضارع پر نہیں آسکتا مگر وہ معنی حال میں ہے لا ماضی پر داخل ہو تو وہ بھی معناً حال کے قریب ہوجاتا ہے۔ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ (کوئی رسول مگر کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے ہیں) اس جملے میں آنحضرت ﷺ کو پیام تسلی ہے۔
Ayah 15:12

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔

مجرموں میں تکذیب چلی آرہی ہے : 12: کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ (اسی طرح (استہزاء) ڈال دیتے ہیں مجرمین کے دلوں میں) جیسا کفر کو چلایا ان کے دلوں میں نمبر 2۔ استہزاء کو پہلے گروہوں میں نسلکہؔ ہم اس کفر یا استہزاء کو ڈال دیں گے مجرموں کے دلوں میں جو اس کو پسند کریں گے آپ کی امت میں سے۔ کہا جاتا ہے سلکت الخیط فی الابرۃ واسلکتہ میں نے دھاگہ سوئی میں ڈال دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے عقیدہ اصلح اور خلق افعال کے خلاف اہل سنت کی واضح حجت ہے۔
Ayah 15:13

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے۔

مکہ والوں کی تکذیب پر وعید : 13: لَایُؤْمِنُوْنَ بِہٖ (یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے) نمبر 1۔ یا اللہ تعالیٰ پر یہ حال ہے وَقَدْ خَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ (گزشتہ لوگوں کا طریقہ بھی گزرا) یہ ان کے اس راستہ پر چلے جو ہلاکت کے لئے مقرر کیا گیا تھا جب کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ یہ دراصل اہل مکہ کیلئے ان کی تکذیب پر وعید ہے۔
Ayah 15:14

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ ان پر کھول دیں اور اس میں چڑھنے بھی لگیں

واضح ترین نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے : 14: وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآئِ ( اور اگر ہم کھول دیں ان پر آسمان سے کوئی دروازہ) اگرچہ ہم ان کے سامنے واضح ترین نشانی پیش کردیں جو کہ آسمان سے دروازہ کھلنے کی صورت میں ہو۔ فَظَلُّوْا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ (وہ اس میں چڑھنے لگیں) چڑھنے لگیں۔
Ayah 15:15

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔

15: لَقَالُوْا اِنَّمَاسُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا (تو ضرور کہیں گے بیشک ہماری آنکھوں کو جادو کردیا گیا) حیرت میں ڈال دیا گیا یا روک دیا گیا جبکہ یہ السکر سے ہو یا نمبر 2۔ السَکَر ہے بند کرنا۔ قراءت : مکی نے سُکِرَتْ پڑھا۔ ان کو روک دیا گیا جیسا کہ نہر کو چلنے سے روکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین عناد میں اس قدر غلو کرنے والے ہیں کہ اگر ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جائیں اور ان کو سیڑھی میسر آجائے جس کے ذریعہ آسمان کی طرف چڑھ سکیں اور آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھیں تو تب بھی یہ کہہ دیں گے یہ خیالی چیز ہے جس میں ہم مبتلا کردیئے گئے اس میں کوئی حقیقت نہیں اور یہ ضرور کہہ اٹھیں۔ بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ (بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا) نمبر 1۔ محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ نمبر 2۔ ضمیر ملائکہ کی طرف جاتی ہے یعنی اگر ہم ان کو فرشتے آسمان میں چڑھتے ہوئے آنکھوں سے دکھادیں تو پھر بھی کہیں گے مرغ کی ایک ٹانگ۔ ظِلؔ کا لفظ لا کر بتلایا کہ ان کا یہ آسمان میں چڑھناسفید دن اور سپیدہ صبح میں ہو تاکہ خوب واضح دیکھ پائیں۔ انماؔ کا کلمہ کہا تاکہ اس سے یہ دلالت کردی جائے کہ وہ رات کو یہ بات بناتے ہیں یہ ساری بات آنکھوں پر جادو کے اثر کی وجہ سے ہے۔
Ayah 15:16

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کیلئے اس کو سجا دیا۔

آسمانی برج بنا کر شیاطین سے حفاظت کردی : 16: وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآ ئِ (واقعۃً ہم نے آسمان میں بنائے) اس میں پیدا کئے بُرُوْجًا (برج) ستارے نمبر 2۔ ایسے محلات جن میں پہریدار ہیں نمبر 3۔ ستاروں کی منازل وَّ زَیَّنّٰھَا (اور اس کو زینت دی) آسمان کو لِلنّٰظِرِیْنَ (دیکھنے والوں کیلئے )
Ayah 15:17

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان راندہ درگار سے اسے محفوظ کردیا۔

17: وَحَفِظْنٰہَا (اور ہم نے اسکی حفاظت کی) آسمان کی مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ (ہر شیطان مردود سے) ملعون نمبر 2۔ ستاروں سے جس کو سنگسار کیا جاتا ہے۔
Ayah 15:18

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اسکے پیچھے لپکتا ہے۔

18: اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ (مگر جس نے چرایا بات کو) جو سنی ہوئی چیز ہے۔ من ؔ یہ استثناء کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ پس اس کا پیچھا کرتا ہے شہاب) وہ ستارہ پھر وہ لوٹ جاتا ہے۔ مُّبِیْنٌ (ظاہر) دیکھنے والوں کیلئے۔ ایک قول یہ ہے کہ شیاطین کو آسمان کی طرف سے نہ روکا جاتا تھا۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو تین آسمانوں سے روک دئیے گئے۔ جب محمد ﷺ پیدا ہوئے تو تمام آسمانوں سے روک دیے گئے۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اگائی۔

زمین بچھا کر اس میں پہاڑ گاڑ دیئے : 19: وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا ( اور ہم نے زمین کو بچھایا) کعبہ کے نیچے سے اس کو پھیلایا۔ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ پانی پر اس کو کھینچ کر دراز کردیا۔ وَاَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ ( اور ہم نے اس میں پہاڑ ڈال دیے) یعنی زمین میں۔ قائم رہنے والے پہاڑ وَاَنْچبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ مَّوْزُوْنٍ (اور اس میں پیدا کی ہر چیز مناسب) میزان حکمت سے وزن کر کے اور ایسی مقدار سے اندازہ کیا جو اس کا تقاضا تھا جس میں زیادتی و کمی نہ پائی جاتی تھی۔ نمبر 2۔ موزون کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کا وزن اور مقدار مقرر ہے جو منفعت و نعمت کے سلسلہ میں طے شدہ ہے۔ نمبر 3۔ جنکا وزن کیا جاتا ہے مثلاً زعفران، سونا، چاندی، تانبہ، لوہا وغیرہ۔ سوال : وزن کو کیوں خاص کیا ؟ جواب : وزن کو اس لئے خاص کیا کیونکہ کیل کی انتہاء وزن پر ہوتی ہے۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہارے لئے اور ان لوگوں کے لئے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے۔

انسانی رزق زمین میں رکھے : 20: وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا (اور بنادیے اس میں) یعنی زمین میں مَعَایِشَ (اسباب زندگی) جمع معیشۃ کھانے پینے کی چیزیں۔ یہ یائے صریحہ کے ساتھ ہے بخلاف خبائث وغیرہ کے۔ اس میں صراحۃً یاء پڑھنا غلطی ہے۔ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ (اور ان کو بھی پیدا کیا جن کو تم رزق دینے والے نہیں ہو) منؔ یہ معایش پر عطف ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے یا لکم کے محل کی وجہ سے گویا عبارت اس طرح تھی وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ وَ جَعَلْنَا لَکُمْ مَّنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ اور زمین میں ہم نے پیدا کیا تمہارے لئے اسباب معیشت اور پیدا کیا ان جانوروں کو جن کو تم رزق دینے والے نہیں۔ نمبر 2۔ جَعَلْنَالَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ اور ہم نے پیدا کئے زمین میں اسباب معیشت اور ان کے لئے بھی جن کو تم رزق دینے والے نہیں یعنی اہل و عیال، غلام و خدام جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو رزق دے رہے ہیں وہ غلطی میں مبتلا ہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہیں وہی ان کو اور ان کو رزق دیتے ہیں۔ اسمیں چوپائے بھی شامل ہیں وغیرہ ذلک۔ مگر یہ درست نہیں کہ منؔ کو محل جر میں مان لیں۔ اس طرح کہ لکم کی کمؔ ضمیر پر عطف ہو کیونکہ ضمیر مجرور پر عطف جائز نہیں صرف ایک صورت ہے کہ جار کو دوبارہ لایا جائے۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اتارتے رہتے ہیں

ہمارے پاس ہر چیز کا خزانہ ہے : 21: وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (کوئی چیز ایسی نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں اور ہم اس کو ایک معلوم مقدار کے مطابق اتارتے ہیں) خزائن کا ذکر بطورتمثیل ہے۔ مطلب یہ ہے جو چیز بندوں کے فائدہ کی ہے اس کو ہم تکوین و ایجاد کی قدرت رکھتے ہیں۔ اور اس کا انعام کرسکتے۔ ہم ایک معلوم مقدار کے مطابق اس کو عطا کرتے ہیں خزائنکو بطور مثال کے بیان کرنے کا مقصد ہر مقدور پر اقتدار الٰہی کا ثابت کرنا ہے۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی (ہوتی ہیں) اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کا اسکا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔

رس بھری ہوائوں سے بارش اتاری : 22: وَاَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ (اور ہم ہوائوں کو بھیجتے ہیں جو پانی سے بھری ہوتی ہیں) لواقح جمع لاقحۃ یعنی ہم نے ہوائیں بھیجیں جو بادل اٹھانے والی ہیں کیونکہ وہ ہوائیں بادلوں کو اپنے پیٹ و جوف میں رکھتی ہیں گویا کہ وہ بادلوں کو حاملہ کرنے والیاں ہیں یہ لقحت الناقۃ اونٹی حاملہ ہوئی۔ لاقحہ کی ضد عقیم ہے۔ قراءت : حمزہ نے الرِّیْحَ پڑھا ہے۔ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً فَاَسْقَیْنٰـکُمُوْہُ (پھر ہم نے بادل سے پانی اتارا اور اس سے تم کو سیراب کیا) پس اس کو تمہارے لئے سیرابی بنایا۔ وَمَآ اَنْتُمْ لَہٗ بِخَازِنِیْنَ (تم اس کو جمع کرنے والے نہیں ہو) انسانوں سے اس چیز کی نفی کی جس کو اپنی ذات کیلئے اس آیت میں ثابت کیا۔ وان من شئی الاعندنا خزائنہ گویا اس طرح فرمایا۔ نحن الخازنون للماء۔ عَلٰی معنًی ہم اس کو آسمان میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور ہم آسمان سے اس کو اتارنے کی قدرت رکھتے ہیں تم اس بات پر قدرت نہیں رکھتے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور انسانوں کی عاجزی پر دلیل ہے۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم ہی سب کے وارث (مالک) ہیں۔

ہم اگلے پچھلے سب کو جانتے ہیں : 23: وَاِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَنُمِیْتُ (اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور موت دیتے ہیں) نمبر 1۔ وجود دے کر زندہ کرتے اور فناء کے گھاٹ پر اتار کر موت دیتے ہیں۔ نمبر 2۔ وقت مقررہ کے پورے ہونے پر موت دیتے ہیں۔ اور جزائے اعمال کے لئے زندہ کریں گے۔ اس صورت میں تقدیم و تاخیر مانی جائے گی اس لئے کہ وائو مطلق جمع کیلئے ہے۔ وَنَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ (اور ہم ہی باقی رہنے والے ہیں) تمام مخلوق کی ہلاکت کے بعد باقی رہنے والے ہیں۔ اور باقی کو وارث کہا جاتا ہے وارث یہ وارث المیت سے بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کے بعد باقی رہنے والا ہوتا ہے۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں۔ اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔

24: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِ مِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ (ہم تمہارے پہلوں کو بھی جانتے ہیں اور پچھلوں کو بھی ہم ہی جانتے ہیں) جو موت اور ولادت کے لحاظ سے متقدم و متأخر ہیں۔ نمبر 2۔ جو اپنے آباء کی اصلاب سے پیدا ہوچکے اور جو ابھی تک نہیں نکلے نمبر 4۔ اسلام میں مقدم یا طاعت میں آگے بڑھنے والے۔ نمبر 5۔ صف جماعت میں آگے بڑھنے والے۔ نمبر 6۔ صف کار زار میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے۔

تمام کو میدان حشر میں جمع کریں گے : 25: وَاِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ ( اور بیشک آپ کا رب وہی انکو جمع کرے گا) وہ اکیلا ان کے حشر پر قدرت رکھتا ہے اور ان کے اعداد کا احاطہ کرنے والا ہے۔ اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ (بیشک وہ حکمت والا علم والا ہے) غالب حکمت وسیع علم والا ہے۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔

تخلیق آدم۔ : 26: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ (تحقیق ہم نے انسان کو پیدا کیا) یعنی آدم (علیہ السلام) مِنْ صَلْصَالٍ (بجنے والی مٹی سے) خشک مٹی جس کو آگ نہ پہنچی ہو مِّنْ حَمَأٍ (سیاہ گارے سے) یہ صلصال کی صفت ہے ای خلقہ من صلصال کائن من حمأ ای طین اسود متغیر اس کو پیدا کیا گارے سے جو بننے والی تھی سیاہ رنگ متغیر مٹی سے مَّسْنُوْنٍ (پتلا جس میں نقوش بنا دیے جائیں) جسمیں تصویر بنادی جائے۔ شروع میں تراب تھی جب اس کو پانی سے گوندھ دیا گیا تو طین بن گئی تو پھر پڑی رہی تو سیاہ کیچڑ بن کر حماء کہلائی جب اس کا نچوڑ نکالا تو سلالہ ہوگئی اس میں صورت بنائی تو مسنون کہلائی جب سخت ہوئی تو صلصال کہلائی پس مختلف مقامات پر ایجاز و تفصیل میں ان میں سے جو تعبیر لائی جائے ان میں تناقض نہیں۔
Ayah 15:27

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا۔

جنات کے باپ کی پیدائش : 27: وَالْجَآنَّ (اور ابوالجن کو) جنات کے باپ کو جیسا کہ انسانوں کیلئے ان کے باپ آدم کو نمبر 2۔ ابلیس مراد ہے۔ یہ خَلَقْنٰہٗ مِنْ قَبْلُ کے فعل سے منصوب ہے۔ من قبل ؔ سے من قبل آدم آدم (علیہ السلام) سے پہلے مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ (گرم ہوا سے) مسام میں گھس جانے والی سخت گرم ہوا۔ کہا گیا ہے کہ یہ گرم لو نار کی سترھویں جزء میں سے ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے جنات کے باپ کو پیدا کیا۔
Ayah 15:28

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔

فرشتوں کو حکم سجدہ : 28: وَاِذْقَالَ رَبُّکَ (اور جب کہا تیرے رب نے) اس وقت کو یاد کرو جب یہ بات کہی گئی لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَأٍ مَّسْنُوْنٍ (فرشتوں کو بیشک میں ایک بشر بنانے والا ہوں بجتی ہوئی مٹی کے سیاہ گارے سے۔
Ayah 15:29

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

جب اسکو (صورت انسانیہ میں) درست کرلوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا۔

29: فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ (پس جب میں اس کو پورا بنادوں) اسکی خلقت کو پورا کر دوں اور ہیئت کو صحیح کردوں تاکہ اس میں روح پھونکی جائے۔ ونَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (اور اس میں اپنی طرف سے روح ڈال دوں) اس میں روح ڈال کر زندہ کردوں۔ اس جگہ نفخ نہیں بلکہ تمثیل ہے اور اضافت اضافت ِتخصیص ہے۔ فَقَعُوْالَہٗ سٰجِدِیْنَ (تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا) یہ وقع یقع سے امر ہے ای اسقطوا علی الارض یعنی اسجدوالہ اس کو سجدہ کرو اور فاء کو جواب اذا ہونے کی وجہ سے داخل کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امر کا فعل کے وقت سے پہلے ہونا جائز ہے۔
Ayah 15:30

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گرپڑے

ملائکہ کا سجود : 30: فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ (پس تمام کے تمام فرشتوں نے سجدہ کیا) ملائکہ جمع عام ہے اس میں تخصیص کا احتمال ہے تخصیص کو کلہم سے ختم کردیا اور کل کا لفظ تفرق کی تاویل کا احتمال رکھتا ہے۔ اس کو اجمعون سے ختم کردیا۔
Ayah 15:31

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کردیا۔

انکارِ ابلیس : 31: اِلَّآ اِبْلِیْسَ (مگر ابلیس) استثناء کا ظاہر تو دلالت کرتا ہے کہ وہ ملائکہ میں سے تھا۔ کیونکہ مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے ہوتا ہے۔ حضرت حسن رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء منقطع ہے۔ وہ ملائکہ میں سے نہ تھا۔ جواب : غیرمامور ترک امر سے ملعون نہیں ہوسکتا۔ صاحب کشاف نے کہا وہ فرشتوں کے مابین مامور بالسجود تھا۔ ملائکہ کا لفظ اس پر تغلیباً بول دیا۔ پھر تغلیب کے بعد استثناء کردیا۔ جس طرح کہتے ہیں : رأیتھم الا ھندا۔ اَبٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ (اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا) حرف جر ان ؔ کے ساتھ محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے مالک فی الا تکون مع الساجدین یعنی کیا مقصد ہے تیرا سجدہ کے انکار سے ؟
Ayah 15:32

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ؟

ابلیس سے سوال : 32: قَالَ یٰآِبْلِیْسُ مَالَکَ اَلَّا تَکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔
Ayah 15:33

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

(اس نے) کہا میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

ابلیس کا شکار پر اصرار : 33: قاَلَ لَمْ اَکُنْ لِّاَ سْجُدَ (اس نے کہا میں سجدہ نہیں کرسکتا) لام تاکید نفی کیلئے ہے یعنی میرا سجدہ کرنا درست نہیں لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَأٍ مَّسْنُوْنٍ (ایک ایسے انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتی ہوئی سڑی کیچڑ سے بنایا ہے)
Ayah 15:34

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے۔

34: قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو نکل جا اس سے) نمبر 1۔ آسمان سے نمبر 2۔ جنت سے نمبر 3۔ ملائکہ کے گروہ سے۔ فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ (تو مردود ہے) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکارا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے تو ملعون ہے کیونکہ لعنت کا معنی رحمت سے دور ہٹانا ہے اور دور کرنا ہے۔
Ayah 15:35

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

سزائے انکار : 35: وَّ اِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ (اور روز جزاء تک تم پر لعنت یقینی ہے) یوم الدین کو لعنت کی حد کے طور پر بیان کیا کیونکہ کلام میں سب سے بعیدترین غایت لوگ یہی بیان کرتے ہیں مراد ؔ اس سے یہ ہے کہ تو قابل مذمت ہے۔ آسمانوں اور زمین میں قیامت تک ملعون پکارا جائے گا بغیر اس کے کہ تمہیں سزا دی جائے۔ جب وہ دن آجائے گا تو تمہیں ایسی سزا دی جائے گی جس سے لعنت کو بھول جائے گا۔
Ayah 15:36

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے۔۔

طالب مہلت کو مہلت تا قیامت : 36: قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ ( اس نے کہا اے میرے رب تو مجھے مہلت دے) مجھے مؤخر کردے اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (دوبارہ اٹھنے کے دن تک ) ۔
Ayah 15:37

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

37: قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ (اس نے کہا تو مہلت یافتہ گروہ میں سے ہے)
Ayah 15:38

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک۔

38: اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ (ایک معلوم وقت کے دن تک) مراد یوم الدین ہے اصل یوم الدین اور یوم یبعثون اور یوم الوقت المعلوم ایک ہی معنی میں ہیں لیکن بلاغت کے طرز پر مختلف عبارات لائی گئیں۔ ایک قول یہ ہے اس نے اس دن تک مہلت مانگی جسمیں مخلوق کو اٹھایا جائے گا تاکہ اس پر موت نہ آئے کیونکہ بعث کے دن کسی پر موت نہ آئے گی مگر اس کی یہ بات قبول نہ کی گئی اور ایام تکلیف کے آخری دن تک اس کو مہلت دی گئی۔
Ayah 15:39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

(اس نے) کہا پروردگار جیسا تو نے مجھے راستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔

اغرائے انسانی پر قسم : 39: قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ (اس نے کہا اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا ہے) باءؔ قسم کیلئے ہے اور ماؔ مصدریہ ہے اور جواب قسم لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ ہے۔ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ (میں ضرور بضرور ان کے لئے آراستہ کرونگا) مطلب یہ ہے مجھے اغواء کرنے کی قسم میں ضرور بضرور ان کے لئے گناہوں کو مزین کروں گا۔ دوسرے مقام پر اس کے قول کا یہ مطلب ہے بما اغویتنی لازینن لھم اور فبعزتک لاغوینھم ] ص : 82[ اس میں تو دونوں برابر ہیں کہ دونوں قسمیں ہیں مگر فرق یہ ہے کہ ایک قسم صفت ذات کے ساتھ ہے اور دوسری صفت فعل کے ساتھ ہے۔ اور فقہاء نے ان دونوں میں فرق کیا ہے۔ علمائے عراق کہتے ہیں صفت ذات کا حلف جیسے قدرت، عظمت، عزت وغیرہ تو قسم ہے۔ اور صفت فعل کے ساتھ حلف جیسے رحمت، ناراضی وغیرہ یہ قسم نہیں۔ الاصح بات یہ ہے کہ قسم کا دارومدار عرف پر ہے جس کو لوگ بطورقسم جانتے ہوں وہ قسم شمار ہوگی اور جس کو لوگ ایسا نہ جانیں وہ قسم نہ ہوگی۔ ردمعتزلہ : یہ آیت خلق افعال میں معتزلہ کے خلاف حجت ہے۔ جبکہ وہ اسکی تاویل تسبب سے کرتے ہیں اور کلام کو ظاہر سے پھیرتے ہیں۔ فِی الْاَرْضِ (زمین میں) اس دنیا میں جو کہ دارالغرور ہے۔ نمبر 2۔ میں تو آدم کے ساتھ حیلہ بازی پر طاقت رکھتا ہوں اور درخت کو کھانے والا عمل میری تزیین سے ہوا۔ جبکہ وہ ابھی آسمان میں تھے۔ تو زمین پر اسکی اولاد کے سلسلہ میں تزیین کی زیادہ قدرت رکھتا ہوں۔ وَلَاُ غْوِ یَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ (میں ضرور ان تمام کو گمراہ کر ڈالوں گا)
Ayah 15:40

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

40: اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (مگر ان میں سے تیرے چنے ہوے بندے ) قراءت : بصری و مکی و شامی نے مُخْلِصِیْنَ پڑھا۔ لام کے کسرہ کے ساتھ۔ شیطان نے خاص بندوں کو مستثنیٰ کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اسکا فریب ان پر کار گر نہ ہوگا اور نہ وہ قبول کریں گے۔