15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 15:81

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھیر تے رہے۔

81: وَاٰتَیْنٰھُمْ اٰیٰتِنَا فَکَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ (اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں پس وہ ان سے اعراض کرنے والے تھے) یعنی انہوں نے ان نشانات سے اعراض کیا اور ان پر ایمان نہ لائے۔
Ayah 15:82

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمیان) سے رہیں گے

دنیاوی حالت : 82: وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا (وہ لوگ پہاڑ تراش کر مکان بناتے تھے) وہ پہاڑوں کو کھود کر گھر بناتے یا پتھروں سے بناتے۔ اٰمِنِیْنَ (تاکہ امن میں رہیں) کیونکہ پتھروں کے گھر مضبوط اور گرنے کے اندیشے سے خالی اور دشمنوں کے گرانے اور چوروں کی نقب لگانے سے محفوظ ہوتے ہیں۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مامون و محفوظ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ پہاڑ عذاب الٰہی سے ان کی حفاظت کریں گے۔
Ayah 15:83

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا۔

عذاب سے ہلاکت : 83: فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ (ان کو چیخ نے پکڑ لیا) یعنی عذاب نے۔ مُصْبِحِیْنَ (صبح سویرے) چوتھے دن صبح کے وقت۔
Ayah 15:84

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔

84: فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (نہ ان کو کام دیا ان کے کسی ہنر نے) مضبوط مکانوں کی تعمیر اور نفیس اموال کو جمع کرنے نے۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہیں اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آ کر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو۔

تخلیق کائنات فضول نہیں : 85: وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ (اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ) مگر ہم نے ان کو حق سے ملا ہوا پیدا کیا۔ بےکار اور فضول نہیں بنایا۔ نمبر 2۔ بدلے کے دن اعمال پر عدل و انصاف کے ساتھ جزاء دینے کیلئے۔ وَاِنَّ السَّاعَۃَ (اور بیشک قیامت) یعنی قیامت جس کی آمد کی توقع ہر گھڑی ہے لَاٰتِیَۃٌ ( ضرورآنے والی ہے) اور بیشک اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں سے اس دن انتقام لے گا۔ اور آپ کو آپ کی نیکیوں پر بدلہ اور ان کو ان کی سیئات پر سزا دے گا۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو اسی بدلے کیلئے پیدا فرمایا۔ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ (تم اچھا درگزر کرو) ان سے اچھی طرح اعراض کرو حلم و چشم پوشی اختیار کرکے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت آیت جہاد سے منسوخ ہے اور اگر اس سے مراد مخالفت لی جائے تو پھر منسوخ نہیں۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار ہی (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے۔

86: اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ الْخَلّٰقُ (بیشک آپ کا رب بہت بڑا خالق ہے) جس نے آپ کو اور ان کو پیدا کیا۔ الْعَلِیْمُ (وہ ہر بات کو جاننے والا ہے) آپ اور ان کی حالت سے باخبر ہے۔ اس پر تمہارے مابین ہونے والے احوال مخفی نہیں۔ وہی تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دوہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورة الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے۔

سورة فاتحہ کی عظمت : 87: وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا (بلاشبہ ہم نے آپ کو سات دیں) یعنی سات آیات وہ سورة فاتحہ ہے۔ نمبر 2۔ سات بڑی سورتیں سبع طوال۔ ساتویں میں اختلاف ہے نمبر 1۔ انفال وبراء ت۔ کیونکہ انکاحکم ایک سورت والا ہے اس لئے کہ بسم اللہ درمیان میں نہیں۔ نمبر 2۔ سورة یونس نمبر 3۔ قرآن کے سات حصے مِّنَ الْمَثَانِیْ (مثانی میں سے) یہ تثنیہ سے ہے اور معنی بار بار دھرانا ہے۔ کیونکہ فاتحہ نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہے۔ نمبر 2۔ الثناء سے ہے کیونکہ فاتحہ اللہ تعالیٰ کی ثناء پر مشتمل ہے۔ اس کا واحد مثناۃ ہے یا مثنیۃ ہے۔ یہ آیت کی صفت ہے باقی سورة یا سات اجزاء قرآن تو ان میں قصص ومواعظ، وعدہ، وعید بار بار لائے جاتے ہیں اور ان میں اللہ تعالیٰ کی ثناء ہے۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتی ہیں۔ جب السبع کو مثانی قرار دو تو منتبیین کیلئے ہوگا اور جب قرآن کو مثانی بنائو۔ تو من ؔ تبعیض کے لئے ہوگا۔ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ (اور قرآن عظیم) یہ عطف الشیٔ علی نفسہ کی قسم سے نہیں۔ کیونکہ اگر السبع سے فاتحہ مراد لیں۔ یا طوال کو تو جو ان کے علاوہ ہے اس پر قرآن کا لفظ بولا جائیگا۔ کیونکہ یہ قرآن ایسا لفظ ہے کہ بعض پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ کل پر ہوتا ہے۔ اسکی دلیل یہ آیت ہے۔ بما اوحینا الیک ھذا القرآن ] یوسف : 3[ یعنی سورة یوسف۔ اور جب سات اجزائے قرآن مراد لیں تو پھر معنی یہ ہوگا ہم نے آپ کو وہ دیا جس کو السبع المثانی کہا جاتا ہے اور القرآن العظیم بھی کہلاتا ہے۔ وہ ان دونوں صفات کا جامع ہے۔ اور وہ دھرایا جانے والا ہے۔ نمبر 2۔ یا وہ ثناء و عظمت والا ہے۔ پھر اپنے رسول کو فرمایا۔
Ayah 15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا۔

قرآن کی نعمت دنیا کی نعمت سے بےنیاز کرنے والی ہے : 88: لَاتَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ (آپ اس چیز کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں) اپنی نگاہ کو رغبت کرنے والے کی طرح نہ ڈالو۔ کہ آپ کے دل میں اسکی تمنا ہو۔ اِلٰی مَامَتَّعْنَابِہٖٓٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ (جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے کافروں کو برتنے کیلئے دیا ہے) کفار کی مختلف اصناف جیسے یہود، نصاری، مجوس وغیرہ تمہیں عظیم ترین نعمت ملی جو سب سے بڑی نعمت ہے۔ دوسری نعمتیں خواہ بڑی بھی ہوں وہ اس کے مقابلہ میں حقیر ہیں۔ اور وہ عظیم نعمت قرآن عظیم ہے۔ پس تم پر لازم ہے کہ اس پر استغناء اختیار کرو۔ اور سامان دنیا کی طرف آنکھیں بطور طمع نہ اٹھائو۔ حدیث میں فرمایا لیس منا من لم یتغن بالقرآن (وہ ہم میں سے نہیں جس نے قرآن پاک سے بےنیازی نہ اختیار کی) اور حدیث ابوبکر ؓ میں ہے۔ جس کو قرآن دیا گیا پھر اس نے خیال کیا کہ کسی کو دنیا میں کوئی چیز اس سے افضل دی گئی تو اس نے بڑی چیز کو حقیر قرار دیا اور حقیر کو عظیم قرار دیا۔ ( یہ روایت ثابت نہیں) وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ (اور آپ ان پر غم نہ کریں) ان کے اموال کی تمنا نہ کریں اور ان کے متعلق غم نہ کریں۔ وہ ایمان نہ لائیں گے کہ ان کے مرتبہ سے اسلام اور مسلمانوں کو تقویت ملے۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (اپنے بازو کو ایمان والوں کیلئے جھکائیں) اور آپ کے پاس جو فقراء مومن ہیں ان کے ساتھ تواضع برتیں اور اغنیاء کے ایمان سے اپنے نفس کو پاک و صاف کردیں۔
Ayah 15:89

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں۔

89: وَقُلْ (اور کہہ دیں) انہیں۔ اِنِّیْ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُ ( بیشک میں ہی کھلا ڈرانے والا ہوں) میں تمہیں برہان وبیان سے ڈراتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر اترنے والا ہے۔
Ayah 15:90

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا۔

90: کَمَآ اَنْزَلْنَا (جیسا کہ ہم نے اتارا) یہ لقد اتیناک کے متعلق ہے۔ ای انزلنا علیک مثل ماانزلنا۔ ہم نے تم پر اتارا اسی طرح جیسا ہم نے اتارا۔ عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ (حصے بانٹنے والوں پر) وہ اہل کتاب ہیں۔
Ayah 15:91

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

91: الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ (وہ جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا) عضین جمع عضۃ بمعنی جزء۔ اصل میں یہ عضوۃ بروزن فعلۃ ہے۔ یہ عضی الشاۃ سے لیا جبکہ اس کے اعضاء الگ الگ کر دئیے جائیں جبکہ انہوں نے اپنے عناد کی وجہ سے کہا کہ قرآن کا بعض حصہ تورات و انجیل کے موافق ہے اور بعض حصہ اس کے مخالف اور باطل ہے۔ انہوں نے حق و باطل کی طرف اسکی تقسیم کردی۔ اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ نمبر 3۔ مشرکین قرآن کا مذاق اڑاتے اور آپس میں کہتے تھے سورة بقرہ تو میرے لئے دوسرا کہتا سورة آل عمران میرے لئے نمبر 3۔ قرآن سے مراد وہ لیا جائے جو وہ اپنی کتابوں میں پڑھتے تھے۔ اور اس کو بھی انہوں نے تقسیم کر رکھا تھا۔ یہود بعض تورات کا اقرار کرتے اور بعض کا انکار کرتے۔ اور نصاری بعض انجیل کو مانتے اور کچھ کا انکار کرتے اور یہ بھی درست ہے کہ الذین جعلوا القرآن عضین نذیر کی وجہ سے منصوب ہو۔ یعنی انذر المعضنین الذین یجزؤن القرآن الٰی سحرو شعر واساطیر۔ ان ٹکڑے کرنے والوں کو ڈرائو جو قرآن کے حصے بناتے ہیں سحر، شعر، اساطیر کی طرف جیسا کہ ہم نے ان بانٹنے والوں پر اتارا جنکی تعداد بارہ تھی جنہوں نے مکہ کے اندر ایام حج میں مختلف راستوں کو تقسیم کرلیا۔ اور ہر راستہ پر بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کو ایمان سے نفرت دلائیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق متنفر کریں۔ نمبر 1۔ بعض کہتے۔ ہم میں سے نکلنے والے ایک جادوگر کے دھوکا میں نہ پڑنا۔ نمبر 2۔ دوسرا کہتا کذاب ہے تیسرا کہتا شاعر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام کو ہلاک کردیا۔ نحو : لاتمدن پہلی صورت میں جملہ معترضہ ہے کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کی تکذیب و عداوت کے سلسلہ میں تسلی دی تو بطور جملہ معترضہ اس چیزکا ذکر کردیا۔ جس پر تسلی کے مفہوم کا دارومدار ہے۔ کہ ان کی دنیا کی طرف ذرہ بھرالتفات نہ فرمائیں اور ان کے کفر پر افسوس نہ کریں اور اپنی کامل توجہ ایمان والوں پر مرکوز فرمائیں۔
Ayahs 15:92–93

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے۔

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔

تمام سے سوال ہوگا : 92، 93: فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ (تیرے رب کی قسم ہم ضرور ان تمام سے پوچھ گچھ کریں گے) عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان تمام باتوں کے متعلق جو وہ کرتے رہے) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور ربوبیت کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ قیامت کے دن ان میں میں ایک ایک سے سوال کرونگا جو انہوں نے رسول ﷺ کو کہا یا جو قرآن کے بارے میں کہا۔ یا جو اللہ تعالیٰ کی کتابوں کے بارے میں کہا۔
Ayah 15:94

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو۔

حق کھول کر بتائیں کفار سے ہم نپٹ لیں گے : 94: فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (اس کو علی الاعلان بیان کریں جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے) اس کو کھل کر کہو ! اور ظاہر کرو۔ کہا جاتا ہے صدع بالحجۃ جبکہ وہ سرعام اس سے بات کرے۔ یہ الصدیع سے ہے اور وہ فجر کو کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ فاصدع حق و باطل کو جدا کرو۔ یہ الصدع فی الزجاجۃ سے ہے اور اس کا معنی اظہار کرنا الگ کرنا۔ بما تؤمر جو آپ کو حکم دیا گیا۔ مطلب یہ ہے جس شریعت کی بات کا آپ کو حکم ملا۔ حرف جار کو حذف کردیا گیا جیسا کہ اس قول میں امرتک الخیر فافعل ما امرت بہِ ۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (اور مشرکین سے اعراض کرو۔ ) مشرکین کی استہانت کیلئے یہ امر لایا گیا۔
Ayah 15:95

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لئے جو تم سے اسہزا کرتے ہیں کافی ہیں۔

95: اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ (بیشک ہم تیری طرف سے ان مستہزئین کیلئے کافی ہیں) قول جمہور : یہ پانچ آدمیوں کے متعلق اتری۔ جو رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچانے میں مبالغہ کرتے اور آپ کا مذاق اڑاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ نمبر 1۔ ولید بن المغیرہ اس کا گزر تیر بنانے والے کے پاس سے ہوا۔ ایک تیر اسکی لمبی دراز چادر سے اٹک گیا۔ اور وہ تیر اسکی ایڑھی کی رگ میں جا لگا۔ جس سے وہ رگ کٹ گئی اور وہ موت کے گھاٹ اتر گیا۔ نمبر 2۔ عاص بن وائل اس کے پائوں کی تلی میں ایک کانٹا چبھ گیا اس کا پائوں سوج گیا۔ جس سے وہ مرگیا نمبر 3۔ اسود بن عبدالمطلب۔ یہ اندھا ہوگیا۔ نمبر 4۔ اسود بن عبدیغوث یہ اپنے سر کو درخت سے مارتا رہا اور اپنے چہرے کو کانٹے سے یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ نمبر 5۔ حارث بن قیس اسکی پیپ بہنے لگی جس سے مرگیا۔
Ayah 15:96

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو خدا کے ساتھ اور معبود قرار دیتے ہیں سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا۔

96: الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود بناتے ہیں پس عنقریب وہ جان لیں گے) اپنے امر کا انجام قیامت کے دن۔
Ayah 15:97

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔

تسلی رسول : 97: وَلَقَدْ نَعْلَمُ اِنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُ کَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ (تحقیق ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ ہوتا ہے) تمہارے متعلق۔ نمبر 2۔ قرآن کے متعلق۔ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق۔
Ayah 15:98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو۔

ازالہ غم بھی عبادت ہے : 98: فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (پس تم تسبیح بیان کرو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ) جو معاملہ تمہیں پیش آئے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کروالفزع الی اللّٰہ کا مطلب ہمیشہ اس کو یاد کرنا ہے اور کثرت سے سجدہ کرنا وہ تمہاری کفایت کرے گا اور تیرے غموں کا ازالہ کر دے گا۔
Ayah 15:99

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے۔

99: وَاعْبُدْ رَبَّکَ (اور تو عبادت کر اپنے رب کی) اپنے رب کی عبادت پر ہمیشگی اختیار کرو۔ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ (یہاں تک کہ تمہیں موت آئے) یقین کا معنی موت ہے جب تک تو زندہ ہے عبادت میں مشغول رہ۔ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو نماز کی طرف جلدی فرماتے۔ ] رواہ احمد[ بحمد اللہ ترجمہ سورة الحجر رات 10 بجے 1423؁ھ 13 شعبان مکمل ہوا۔