Ayahs 15:41–42شیطانی پیروکاروں کی سزا و جہنم :
41، 42: قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ مجھ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے میرے ان بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا مگر جو گمراہ لوگوں میں سے تیرے راستہ پر چلنے لگے) یعنی اس راستہ کے متعلق میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا کہ میں اسکی نگرانی کروں اور وہ یہ ہے کہ میرے بندوں پر تمہیں دسترس نہ ہو البتہ جو گمراہی کی وجہ سے تیری اتباع کو اختیار کرلے۔ نمبر 2۔ عَلَیَّ کا معنی اِلَیَّ ہے
قراءت : یعقوب نے عَلِیٌّ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ فضیلت اور مرتبہ کی بلندی سے ہوگا۔ یعنی یہ راستہ بلندی والا سیدھا ہے۔
Ayah 15:4343: وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُ ھُمْ اَجْمَعِیْنَ (اور بیشک جہنم کا ان سب سے وعدہ ہے) اسمیں ضمیر ھمؔ غاوین کی طرف راجع ہے۔
Ayah 15:44ذرا تفصیل جہنم :
44: لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْھُمْ (اس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کیلئے ان میں سے) ھمؔ سے ابلیس کے پیروکار مراد ہیں۔ جُزْئٌ مَّقْسُوْمٌ (ایک جزء تقسیم کیا ہوا ہے) حصہ مقررہ بانٹا ہوا۔ دوسرا قول آگ کے دروازے اس کے طبقات اور درکات ہیں۔ اس کا بالائی حصہ تو ان موحدین کیلئے ہے جو گناہوں کی وجہ سے بقدر گناہ عذاب دیے جائیں گے پھر ان کو نکال لیا جائے گا۔ اور دوسرا یہودکیلئے ہے تیسرا نصاری کیلئے۔ چوتھا صابئین اور پانچواں مجوس اور چھٹا مشرکین اور ساتواں منافقین کیلئے ہوگا۔
Ayah 15:45جنت اور اس کے انعامات کا تذکرہ :
45: اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ (بیشک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہونگے) قراءت مدنی، حفص و بصری نے عیون میں عین کا ضمہ پڑھا ہے ابن کثیر، حمزہ و کسائی نے عِیُون عین کے کسرہ سے پڑھا ہے۔
المتقیؔ سے یہاں مطلق مراد ہے۔ یعنی جو منہیات سے بچتا ہے۔ کتاب الشرح میں ہے اگر اہل کبائر کو ] لھا سبعۃ ابواب لکل باب منہم جزء مقسوم[ میں شامل مان لیں پھر متقین سے مراد وہ لوگ ہونگے جو کبائر سے بچتے ہیں۔ ورنہ متقین سے مراد شرک سے بچنے والے ہونگے۔
Ayah 15:4646: اُدْخُلُوْھَا (تم اس میں داخل ہوجائو) یعنی ان کو کہا جائے گا تم داخل ہوجائو بِسَلٰمٍ (سلامتی کیساتھ) یہ حال ہے یعنی اس حال میں کہ وہ سالم ہونگے نمبر 2۔ اس حال میں کہ تم کو سلام کیا جائے گا فرشتے تمہیں سلام کریں گے۔ اٰمِنِیْنَ (تم محفوظ ہوگے) ان دونوں سے نکلنے سے محفوظ ہوگے اور اس میں آفات سے بچے رہو گے یہ دوسرا حال ہے۔
Ayah 15:47سینے کی کینے سے صفائی :
47: وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ (اور ہم کھینچ لیں گے جو کچھ کہ ان کے سینوں میں کینہ ہوگا) الغلؔ اس کینے کو کہتے ہیں جو دل میں چھپا ہو اگر ان میں سے کسی کے سینے میں دوسرے کے متعلق رہا ہوگا تو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے دلوں سے وہ کھینچ لیں گے اور ان کے نفوس کو پاک کردیں گے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ میں، عثمان، طلحہ اور زبیر انہی لوگوں میں سے ہونگے بعض نے کہا اس کا معنی ہے ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ اس سے پاک کردیں گے کہ درجات جنت کے متعلق دوسروں پر حسد کریں۔ اور ہر کینہ ان سے کھینچ لے گا اور اسکی بجائے مودت و محبت ڈال دے گا۔
اِخْوَانًا (وہ بھائی بھائی ہونگے) یہ حال ہے۔ عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ (مسہریوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونگے) یہ بھی اسی طرح حال ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ تخت ادھر پھرجائیں گے جہاں اور جدھر وہ پھریں گے پس وہ تمام حالات میں آمنے سامنے رہیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے۔
Ayah 15:4848: لَایَمَسُّہُمْ فِیْھَا نَصَبٌ (نہیں چھوئے گی ان کو تھکاوٹ) یعنی جنت میں نصب کا معنی تھکاوٹ ہے وَّمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ (اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے) تکمیل ِنعمت ہمیشہ رہنے سے ہوگی۔
Ayahs 15:49–50اعلانِ بخشش :
49، 50: جب وعدے اور وعید کا مکمل ذکر کردیاتو فرمایا نَبِّیْٔ عِبَادِیْْ اَنِّیْ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (میرے بندوں کو اطلاع دے دو کہ بیشک میں ہی بہت بڑا بخشنے والا ہوں۔۔ وَاَنَّ عَذَابِیْ ھُوَ الْعَذَابُ الْاَ لِیْمُ (اور میرا عذاب بھی بڑا دردناک ہے) جو ذکر کیا گیا اسکی پختگی دلوں میں اور بٹھانے کیلئے یہ لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لو یعلم العبد قدر عفو اللّٰہ لما توزع عن حرام ولو یعلم قدر عذابہ لبخع نفسہ فی العبادۃ ولما اقدم علی ذنب۔ اگر بندہ اللہ تعالیٰ کی معافی کی مقدار جان لے تو حرام سے بالکل نہ بچے اور بندہ اس کے عذاب کی مقدار جان لے تو اپنے کو عبادت سے ہلاک کرڈالے اور کسی ادنی گناہ کا بھی ارتکاب نہ کرے۔ ( ابن جریر)
Ayah 15:51ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے مہمانانِ گرامی :
51: وَنَبِّئْھُمْ (اور ان کو اطلاع دو ) اپنی امت کو خبردو۔ اس کا عطف نبیٔ عبادی پر ہے تاکہ قوم پر جو عذاب آیا اس سے عبرت حاصل کریں مجرمین اللہ تعالیٰ کے انتقام اور ناراضگی سے عبرت پکڑیں اور ان کو یقین ہوجائے اس کا عذاب انتہائی دردناک ہے۔ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰھِیْمَ (ابراہیم کے مہمانوں کے متعلق) مہمان فرشتے جبرئیل (علیہ السلام) اور گیارہ فرشتے ان کے ساتھ تھے۔ ضیف کا لفظ واحد وجمع آتا ہے۔ کیونکہ یہ ضافہ کا مصدر ہے۔
Ayah 15:5252: اِذْدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰمًا (جب کہ وہ ان کے پاس داخل ہوئے اور انہوں نے سلام کہا) یعنی ہم آپ کو سلام کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ ہم سلام کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ (بلاشبہ ہم تم سے ڈرتے ہیں) خوف زدہ ہیں کھانا نہ کھانے کی وجہ سے نمبر 2۔ کیونکہ وہ بلا اذن اور بےوقت داخل ہوئے۔
Ayah 15:5353: قَالُوْا لَاتَوْجَلْ (انہوں نے کہا تم مت ڈرو) خوف نہ کرو۔ اِنَّا نُبَشِّرُکَ (بیشک ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں) یہ اس معنی میں جملہ مستانفہ ہے کہ خوف کی نہی کی علت بیان کی گئی ہے۔ یعنی تو امن والا بشارت والا ہے۔ پس ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
قراءت : حمزہ نے نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ (ایک علم والا لڑکا) اس سے مراد اسحاق (علیہ السلام) ہیں کیونکہ سورة ہود میں فرمایا فبشرنٰھا باسحاق ] سورة ھود : 71[
Ayah 15:54بڑھاپے میں بیٹے کی بشارت :
54: قَالَ اَبَشَّرْ تُمُوْنِیْ عَلٰٓی اَنْ مَّسَّنِیَ الْکِبَرُ (کیا تم مجھے بشارت دیتے ہو باوجودیکہ مجھے بڑھاپا آگیا) یعنی بڑھاپے کے باوجود مجھے خوشخبری دیتے ہو کہ میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے میں اولاد عادۃً ایک عجیب بات ہے فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ (تم کس سبب سے بشارت دے رہے ہو) ما استفہامیہ ہے جس میں تعجب کا معنی پیدا ہوگیا۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ فبای اعجوبۃ تبشرون۔ پس کو نسی عجیب بات کی تم بشارت دیتے ہو ؟
قراءت : نون کے کسرہ اور تشدید کے ساتھ مکی نے پڑھا ہے اور اصل تبشروننی نون جمع کو نون وقایہ میں ادغام کردیا پھر یاؔ ء کو حذف کر کے کسرہ کو بطور دلیل باقی رہنے دیا گیا۔ نافع نے تبشرون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا اور اصل اتبشروننی ہے یاؔ ء کو کسرہ کے بدلہ حذف کردیا اور نون جمع کو اجتماع نونین کی وجہ سے حذف کردیا۔ باقی تمام قراء نے فتحہ نون اور حذف یائےؔ مفعول کے ساتھ اور نون تو نون ِجمع ہے۔
Ayah 15:5555: قَالُوْا بَشَّرْنٰکَ بِالْحَقِّ (انہوں نے کہا ہم تمہیں سچی بات کی خوشخبری دیتے ہیں) ایسے یقین کی جسمیں التباس نہیں۔ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ (پس تم امید توڑنے والوں میں سے نہ بنو) اس سے مایوس ہونے والے مراد ہیں۔
Ayah 15:56رحمت ربّ سے کافر مایوس ہیں :
56: قَالَ (کہا) ابراہیم (علیہ السلام) نے۔ وَمَنْ یَّقْنَطُ (اور نہیں ناامید ہوتا) قراءت بصری اور علی نے نون کے کسرہ سے پڑھا۔ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖٓ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ (اپنے رب کی رحمت سے مگر گمراہ) مگر سیدھے راستہ سے ہٹے ہوئے لوگ نمبر 2۔ کافر۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ انہ لا یایئس من روح اللّٰہ الا القوم الکافرون ] یوسف : 87[ یعنی میں اس کو رحمت الٰہی سے مایوسی کی بناء پر اوپرا نہیں سمجھ رہا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ کے اعتبار سے بعید سمجھتا ہوں۔
Ayah 15:5757: قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ (ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے فرشتو ! تمہارا کیا معاملہ ہے) کیا مقصد ہے اَیُّھَا الْمُرْسَلُوْنَ (اے قاصدو ! ) ۔
Ayah 15:58قوم لوط کے عذاب کا واقعہ :
58: قَالُوْااِنَّــآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْن َ (انہوں نے کہا بیشک ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے) یعنی قوم لوط۔
Ayah 15:5959: اِلَّآ ٰالَ لُوْطٍ (مگر آل لوط) مراد اس سے آپ کے اہل میں سے جو مومن تھے۔ یہ استثناء منقطع ہے کیونکہ یہ قوم جرائم پیشہ تھی اور مستثنیٰ اسطرح نہیں۔ نمبر 2۔ مستثنیٰ متصل ہے۔ پھر یہ مجرمین کی ضمیر سے مستثنیٰ ہے۔ گویا اسطرح کہا الی قوم قد اجر مواکلھم الا آل لوط وحدھم ایسی قوم کی طرف جن تمام نے جرم کیا ہے مگر صرف آل لوط۔
مطلب دونوں استثناء کی صورت میں الگ لگ ہوگا۔ کیونکہ منقطع کی صورت میں آل لوط کو حکم ارسال سے نکالا جائے گا۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ انہم ارسلوا الی القوم المجرمین خاصۃ ولم یرسلوا الی آل لوط اصلاً اور معنی یہ ہوگا۔ ان کا بھیجنا قوم مجرمین کی طرف ہوگا جیسا کہ تیر کو نشانہ کی طرف پھینکا جاتا ہے اسطرح کہ وہ تعذیب واہلاک کے معنی میں ہوگا۔ گویا عبارت اس طرح ہے۔ انا اہلکنا قومًا مجرمین ولکن آل لوط انجیناھم۔ بیشک ہم نے مجرم قوم کو ہلاک کردیا۔ لیکن آل لوط کو ہم نے بچا لیا۔
استثنائے متصل وہ ارسال کے حکم میں داخل ہونگے۔ یعنی ملائکہ کو ان تمام کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ ان کو ہلاک کریں اور دوسرے نجات پائیں۔ جب استثناء منقطع ہوگا تو انا لمنجوھم اجمعینخبر کے قائم مقام ہوگا۔ اور استثناء متصل میں آل لوط سے متعلق ہوگا۔ کیونکہ مطلب یہ ہے لیکن آل لوط نجات پانیوالی ہے۔ استثناء متصل کی سورت میں جملہ مستانفہ ہے گویا ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں کہا آل لوط کا کیا معاملہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا اِنَّا لَمُنَجُّوْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔
Ayah 15:6060: اِلَّا امْرَاَتَہٗ (مگر ان کی بیوی) لَمُنَجُّوْھُمْ کی ضمیر مجرور سے یہ مستثنیٰ ہے یہ استثناء سے استثناء نہیں اور یہ اسمیں ہوتا ہے جب اس کا حکم اختیار کرلے جیسے کہتے ہیں اہلکنا ھم الا آل لوط الا امراتہٗ ۔ مگر یہاں دونوں حکم مختلف ہیں کیونکہ اِلَّا اٰلَ لُوْط یہ اَرْسَلْنَا کے متعلق ہے یا مجرمین سے متعلق ہے اور الا امراتہٗ یہ منجوھم کے متعلق ہے۔ پھر استثناء سے استثناء کس طرح ہوگا۔
قراءت : لمنجوھم ؔ حمزہ، علی نے تخفیف سے پڑھا ہے۔ قَدَّ رْنَآ (ہم نے طے کردیا) ۔ قراءت : ابوبکر نے تخفیف سے پڑھا اِنَّھَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ (بیشک وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہوگی) عذاب میں باقی رہنے والوں میں سے۔ ایک قول یہ ہے اگر اسکی خبر میں لام نہ ہو تو پھر ان کا فتحہ واجب ہے۔ کیونکہ پھر یہ اپنے اسم و خبر سمیت قدرناؔ کا مفعول ہے لیکن یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ ولقد علمت الجنۃ انہم لمحضرون ] الصافات : 158[
نکتہ : ملائکہ نے فعلِ تقدیر کی نسبت اپنی طرف کی۔ اور اس طرح نہیں کہا قدّر اللّٰہ نمبر 1۔ قرب کی وجہ سے۔ جیساخاصان ملک کہتے ہیں امرنا بکذا حالانکہ آمر تو بادشاہ ہوتا ہے۔
Ayahs 15:61–62لوط ( علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کی آمد :
61، 62: فَلَمَّا جَآئَ اٰلَ لُوْطِ نِالْمُرْسَلُوْنَ ۔ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ (جب آل لوط کے پاس قاصد آئے تو (لوط (علیہ السلام) نے) کہا بیشک تم اجنبی آدمی معلوم ہوتے ہو) یعنی میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اس لئے کہ نہ تم مقیمی ہو اور نہ لباس سفر میں ہو کہ مسافر سمجھوں۔ مجھے خطرہ ہے کہ تمہارے سے مجھے دکھ نہ پہنچ جائے۔
Ayah 15:6363: قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ بِمَاکَانُوْا فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ (انہوں نے کہا بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز لائے ہیں جس میں وہ شک کرتے ہیں) ہم وہ چیز نہیں لائے جس کے سبب سے ہمیں اوپر اخیال کرتے ہو بلکہ وہ چیز لائے ہیں جسمیں تمہاری خوشی ہے اور اس سے تمہیں تمہارے دشمنوں کی طرف سے شفاء نصیب ہوگی اور وہ عذاب ہے جس کے اترنے سے تم ان کو ڈراتے تھے اور وہ اس کے نزول میں شک کرنے والے تھے۔ اور تمہاری تکذیب کرتے تھے۔
Ayah 15:6464: وَاَتَیْنٰکَ بِالْحَقِّ (ہم آپ کے پاس سچی بات لائے ہیں) ان کے عذاب کی یقینی اطلاع۔ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ (اور بیشک ہم سچے ہیں) ان پر اس عذاب کے اترنے کی اطلاع دینے میں۔
Ayah 15:65رات کو یہاں سے نکل چلو :
65: فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْلِ (آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کے ساتھ یہاں سے چلے جائو) رات کے آخری حصہ میں۔ نمبر 2۔ رات کا جب کافی حصہ گزر جائے۔ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَھُمْ ( اور تم ان کے پیچھے پیچھے چلو) ان کے پیچھے چلو۔ تاکہ تمہیں ان کی اور ان کے احوال کی اطلاع ہو۔ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ (اور تم میں سے کوئی مڑکر نہ دیکھے) تاکہ ان کی قوم پر جو عذاب اترے اس کو وہ نہ دیکھیں اور ان کے متعلق ان کے دلوں میں نرمی پیدا ہو۔ نمبر 2۔ نہی عن الالتفات یہ مسلسل چلنے سے کنایہ ہے اور سستی کی ممانعت ہے اور ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ جو متوجہ ہوتا ہے وہ کچھ نہ کچھ تو ٹھہر جاتا ہے۔ وَّامْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ (اور وہاں چلے جائو جہاں تمہیں جانے کا حکم ہے) جہاں اللہ تعالیٰ نے تمہیں جانے کا حکم دیا ہے۔ اور وہ سرزمین شام تھی یا مصر۔
Ayah 15:6666: وَقَضَیْنَآ اِلَیْہِ ذٰلِکَ (اور ہم نے یہ حکم ان کے پاس بھیجا) قَضَیْنَاؔ کو اِلٰی سے متعدی کیا گیا کیونکہ وہ اَوْحَیْنَا کے معنی کو متضمن ہے گویا اس طرح فرمایا۔ واوحینا الیہ مقضیا مبتوتا اور ہم نے وحی کی ان کی طرف رات کے فیصلہ شدہ حکم کی۔ الامر کی تفسیر اَنَّ دَابِرَ ھٰؤُلَائِ مَقْطُوْعٌ سے کی۔ الْاَمْرَاَنَّ دَابِرَھٰٓؤُلَآ ئِ مَقْطُوْعٌ (بیشک ان کی جڑ کٹ جائے گی) ۔ اس کے ابہام و تفسیر میں امر کی تفخیم شان ہے۔ اور دابرھمؔ کا معنی ان کا آخری یعنی ان کا استیصال کردیا جائے گا اور یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ مُّصْبِحِیْنَ (صبح سویرے) صبح کے وقت میں داخل ہوتے ہی۔
نحو : یہ ھؤلاء سے حال ہے۔
Ayah 15:67قوم لوط کا طرز عمل :
67: وَجَآ ئَ اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ (اور آگئے شہر والے) شہر سے سدوم مراد ہے جس کے قاضی کی ظلم میں مثالیں دی جاتی ہیں۔ یَسْتَبْشِرُوْنَ (خوشخبریاں سناتے ہوئے) ملائکہ کے بارے میں اس طمع میں کہ ان کا مقصد فاحشہ پورا ہوجائے گا۔
Ayah 15:68لوط ( علیہ السلام) کی امکانی حفاظت :
68: قَالَ (کہا) لوط (علیہ السلام) نے اِنَّ ھٰٓؤُلَآ ئِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ (بیشک یہ میرے مہمان ہیں تم ان کے متعلق مجھے رسوا نہ کرو) میرے مہمانوں کی بےعزتی کر کے کیونکہ جو میرے مہمانوں کے ساتھ زیادتی کرے گا اس نے میرے ساتھ زیادتی کی۔
Ayah 15:6969: وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَلَا تُخْزُوْنِ (اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اور مجھے رسوا نہ کرو) یعنی میرے مہمانوں کو ذلیل کر کے مجھے ذلیل نہ
کرو۔ الخزیؔ ذلت کو کہتے ہیں۔ قراءت : یعقوب نے دونوں میں یاء پڑھی ہے۔
Ayah 15:7070: قَالُوْا اَوَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ (انہوں نے کہا کیا ہم نے تمہیں جہان والوں سے نہیں روکا) اس بات سے کہ تم ان میں سے کسی کو پناہ دو ۔ نمبر 2۔ ان کی طرف سے دفاع کرو۔ وہ ہر ایک کا راہ روکتے اور حضرت لوط (علیہ السلام) نہی عن المنکر کرتے اور ان کے درمیان حائل ہوتے وہ ان کو دھمکاتے اور کہتے لئن لم تنتہ یٰلوط لتکونن من المخرجین اگر تم باز نہ آئے اے لوط ! تو ضرور تمہیں نکال باہر کیا جائے گا ] الشعراء : 167[ نمبر 3۔ غر باء مسافرین کی مہمانی سے۔
Ayah 15:7171: قَالَ ھٰٓؤُلَآ ئِ بَنٰتِیْ (انہوں نے کہا یہ میری بیٹیاں ہیں) ان سے نکاح کرلو۔ اس وقت مومنات کا نکاح کفار سے جائز تھا۔ اور میرے ان مہمانوں کی طرف ہاتھ مت بڑھائو۔ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ (اگر تم کرنے والے ہو) اگر تم قضائے شہوت حلال مقام پر چاہتے ہو، نہ کہ حرام اس پر فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو کہا۔
Ayah 15:72گمراہی کے نشہ میں صحیح غلط کا امتیاز ہی نہیں رہتا :
72: لَعَمْرُ کَ اِنَّہُمْ لَفِیْ سَکْرَتِھِمْ (تیری عمر کی قسم ! بیشک وہ اپنے نشے میں مست تھے) اپنی اس گمراہی میں جس نے ان کی عقل وتمیز میں خطأ و صواب کا فرق ختم کردیا تھا۔ اس میں لڑکیوں کو چھوڑ کر لڑکوں کو اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ یَعْمَھُوْنَ (وہ سرمست ہیں) وہ حیران ہیں کہ کس طرح تیری بات کو قبول کریں۔ اور تیری نصیحت کی طرف کان لگائیں۔ نمبر 2۔ اسمیں خطاب رسول اللہ ﷺ کو۔ فرمایا اس میں آپ کی زندگی کی قسم اٹھائی اللہ تعالیٰ نے اور کسی پیغمبر کی زندگی کی قسم نہیں اٹھائی۔ اس سے آپ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ العَمر اور العمر دونوں ہم معنی ہیں۔ یعنی بقاء کو کہتے ہیں۔ البتہ قسم کیلئے ع کے فتحہ کو خفیف ہونے کی وجہ سے ترجیح دی ہے کیونکہ زبان پر قسم بہت لائی جاتی ہے اسی وجہ سے تو انہوں نے خبر کو حذف کردیا۔ تقدیر عبارت یہ ہے لعمرک قسمی۔
Ayah 15:73نفاذِ عذاب :
73: فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ (ان کو چیخ نے آلیا) جبرئیل (علیہ السلام) کی چیخ مراد ہے۔ مُشْرِقِیْنَ (سورج طلوع ہوتے ہی) کہ وہ طلوع میں داخل ہو رہے اور وہ سورج چمکنے کو کہتے ہیں۔
Ayah 15:7474: فَجَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا (پس ہم نے اس کے اوپر کو نیچے کردیا) جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو اٹھایا اور آسمان کی طرف بلند کیا۔ پھر پلٹ دیا۔
نحو : ضمیر کا مرجع قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ (اور ہم نے ان پر کنکر کے پتھر برسائے)
Ayah 15:75آثار دیدہ عبرت ہیں :
75: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ (اس واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں دیکھنے والوں کیلئے) ظاہری علامات سے اندرونی نتائج معلوم کرنے غور کرنے والوں کیلئے۔ گویا کہ وہ ظاہر علامت سے ان چیزوں کے باطن کو پہچان لیتے ہیں۔
Ayah 15:7676: وَاِنَّھَا (اور بیشک وہ) وہ بستیاں یعنی ان کے آثار لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ (آباد راستہ پر ہیں) قائم ہے جس پر لوگ چلتے ہیں اور ابھی تک مٹا نہیں اور وہ ان آثار کو دیکھتے ہیں۔ اس میں قریش کو متنبہ کیا۔ جیسا کہ اس ارشاد میں وانکم لتمرون علیھم مصبحین وباللّیل افلا تعقلون ] الصافات : 137، 138[
Ayah 15:7777: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ایمان والوں کیلئے) کیونکہ وہی اس سے فائدہ (عبرت) حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 15:78تذکرہ قوم شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی ہلاکت :
78: وَاِنْ کَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ (بلاشبہ اصحاب الایکہ) بلاشبہ معاملہ اور حالت شان یہ ہے۔ کَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ یعنی جھاڑی والے لَظٰلِمِیْنَ (البتہ ظالم تھے) وہ قوم شعیب (علیہ السلام) ہے۔
Ayah 15:7979: فَانْتَقَمْنَا مِنھُمْ (ہم نے ان سے انتقام لیا) جب انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ وَ اِنَّھُمَا (اور بیشک یہ دونوں) اقوام یعنی قوم لوط، اصحاب ایکہ لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ (واضح راستے میں) صاف سڑک پر ہیں۔ الامامؔ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی اقتداء کی جائے راستہ کو امام کہا گیا ہے۔ اور معمار کی گنیے کی ڈور جس سے تعمیر کو ناپا جاتا ہے۔ اور راستہ پر بھی لوگ چلتے ہیں راہ سب کا راہ نما ہے۔ گویا یہ ڈور اور راستہ دونوں راہنمائی کرنے والے ہیں۔
Ayah 15:80قوم صالح کا تذکرہ :
80: وَلَقَدْ کَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ (اور حجروالوں نے جھٹلایا) وہ قوم ثمود ہے ] الحجر[ اس وادی کا نام ہے۔ جو مدینہ اور شام کے درمیان ہے۔ اَلْمُرْسَلِیْنَ (رسولوں کو) صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے کی وجہ سے کیونکہ ہر رسول تمام انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان کی دعوت دیتا ہے پس جس نے ان میں سے کسی ایک کو جھٹلایا تو گویا اس نے تمام کو جھٹلایا۔ نمبر 2۔ صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والے مؤمنین مراد ہیں۔ جیسا کہا جاتا ہے۔ الخبیبیون سے مراد ابن الزبیر اور ان کے ساتھی۔