Ayah 14:11: الٓرٰ ! کِتٰبٌ (یہ کتاب ہے ) ۔
نحو : یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور مبتدا ” ھذا “ ہے اور کتاب سے مراد سورت ہے اور اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ (جس کو ہم نے اتارا) یہ جملہ موضع ِرفع میں ہے اور کِتٰبٌ نکرہ کی صفت ہے۔ لِتُخْرِجَ النَّاسَ (تاکہ تم لوگوں کو نکالو) ان کو دعوت دیکر مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (اندھیروں سے روشنی کی طرف) گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ (ان کے رب کے حکم سے) یعنی اس کے آسانی اور سہولت کردینے کے سبب۔ یہ ایسے اذن کیلئے بطور استعارہ استعمال ہوا جس کا مقصد حجاب کا آسان کردینا ہے اور یہی توفیق دینا ہے۔ اِلٰی صِرَاطِ (راستہ کی طرف) عامل کو دوبارہ لایا گیا ہے یہ نور سے بدل ہے الْعَزِیْزِ (زبردست) انتقام کی قدرت رکھتا ہے۔ الْحَمِیْدِ (مستحقِ ستائش) انعام پر قابل تعریف۔
Ayah 14:22: اللّٰہِ قراءت : مدنی، شامی، علی نے رفع سے پڑھا۔ تقدیر یہ ہے ھو اللہ۔ دیگر قراء نے جر سے پڑھا ہے اس طرح کہ العزیز الحمید سے عطف بیان ہے۔ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (وہ ذات جس کیلئے ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے) مخلوق و مملوک ہونے کی وجہ سے۔ جب ظلمات کفر سے نور ایمان کی طرف نکلنے والوں کا ذکر کیا۔ تو کافروں کو ویل و ہلاکت سے ڈرایا۔ یہ ویل لفظ الوالؔ کی نقیض ہے۔ اور وہ نجات کو کہا جاتا ہے۔ اور یہ معنوی اعتبار سے اسم ہے جیسے الھلاک وَوَیْلٌ لِّلْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ (اور ہلاکت ہے سخت عذاب سے کافروں کیلئے) : یہ مبتدا اور خبر اور صفت ہے۔
Ayah 14:33: اَلَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ (وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں) ترجیح دیتے اور چنائو کرتے ہیں الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ (دنیا کی زندگی کو آخرت پر) وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں) اللہ تعالیٰ کے دین سے وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا (اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کجی ڈھونڈتے ہیں) اللہ تعالیٰ کے راستہ کیلئے ٹیٹرھ اور کجی تلاش کرتے ہیں۔ و یبغونھا کی اصل یبغون لھا ہے۔ جارؔ کو حذف کردیا اور ضٗمیر کو فعل کے ساتھ ملا دیا۔ نحو :ؔ یہ مبتدا ہے الذین سے اور خبر اولئک فی ضلال بعید ہے۔ اُولٰٓئِکَ فِی ضَلٰلٍ 0 بَعِیْدٍ (وہ لوگ دور کی گمراہی میں ہیں) حق سے۔ آیت میں ضلال کی صفت بعید کے ساتھ بطور اسناد مجازی کے لائے ہیں۔ اصل تو بعد گمراہ ہونے والے کی صفت ہے۔ کیونکہ وہ حق کے راستہ سے دور ہٹتا ہے پس فعل کی صفت اس سے کردی جیسا کہ کہتے ہیں۔ جدّ جدّہ نمبر 2۔ کافرین کی صفت بن کر مجرور ہے۔ نمبر 3۔ منصوب علی الذم ہے۔
نمبر 4۔ اعنی کی وجہ سے منصوب ہے ای اعنی الذین نمبر 5۔ ھم کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ای ھم الذین۔
Ayah 14:4ہر رسول اپنی قومی زبان میں اللہ کا پیغام لایا :
4: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ (ہم نے ہر پیغمبر کو اسکی قوم کی زبان میں پیغمبر بنایا) وہ انہی کی لغت میں گفتگو کرنے والا ہوتا ہے۔ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ (تاکہ وہ ان کے سامنے کھول کر بیان کرے) اس کو جس کو دیکر بھیجا گیا ہو اور جنکے لئے بھیجا گیا ہو، تاکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی حجت نہ رہے اور نہ پیغمبر کو کہہ سکیں کہ جس وحی سے ہمیں مخاطب کیا گیا وہ تو ہمیں سمجھ نہیں آتی۔
سوال : ہمارے رسول ﷺ تو تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہیقل یٰایھا الناس انی رسول اللّٰہ الیکم جمیعًا ] الاعراف : 158[ بلکہ جن و انس کی طرف حالانکہ ان کی زبانیں تو مختلف ہیں۔ پس اگر عرب کیلئے حجت ہیں تو غیر کے لئے حجت کس طرح ؟
جواب : قرآن تمام زبانوں میں نازل ہوگا یا ایک زبان میں۔ تمام زبانوں میں نازل ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی اپنی قوم کی زبان میں اترنا چاہیے کیونکہ وہ آپ کے پہلے مخاطب ہیں۔ اور ایک زبان میں اترنا تبدیلی و تحریف سے بھی محفوظ کرنے کیلئے زیادہ مناسب ہے۔ فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآ ئُ (پس اللہ تعالیٰ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے) جو اسباب ضلالت کو ترجیح دے۔ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآ ئُ (اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے) جو ہدایت کے اسباب کو ترجیح دیتا ہے وَھُوَ الْعَزِیْزُ (وہی زبردست ہے) اسکی مشیت پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ الْحَکِیْمُ (حکمت والا ہے) وہ رسوا نہیں کرتا مگر ذلیل لوگوں کو ہی۔
Ayah 14:5موسیٰ ( علیہ السلام) کا واقعہ :
5: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَامُوْسٰی بِاٰ یٰتِنَآ (اور تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات کے ساتھ بھیجا) آیت سے وہ نونشانیاں مراد ہیں۔ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ (تم اپنی قوم کو نکالو) اَنْ اَخْرِجْ میں اَنْ دراصل بِأَنْ ہے یعنی تم نکالو کیونکہ ارسال میں قول کا معنی موجود ہے گویا اس طرح فرمایا ارسلناہ وقلنا لہ اخرج قومک (ہم نے ان کو بھیجا اور ان کو کہا کہ اپنی قوم کو نکالو) مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْر وَذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ (اندھیروں سے روشنی کی طرف اور ان کو ایام اللہ کے ذریعہ نصیحت کرو) ان کو پہلی اقوام کے واقعات سے ڈرائو جیسے قوم نوح، عاد، ثمود وغیرہ اور اسی سے ایام العرب کا لفظ لڑائی کے دنوں کیلئے بھی بولا جاتا ہے۔ نمبر 2۔ انعامات کے دن جیسے بادلوں کا سایہ، من و سلو ٰی کا نزول۔ فلق البحر وغیرہ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ (بیشک اس میں البتہ ہر صبر کرنے والے کیلئے نشانیاں ہیں) جو مصیبتوں پر صبر کرنیوالے ہیں۔ شَکُوْرٍ (شکر ادا کرنے والے ہیں) انعامات پر۔ گویا اس طرح فرمایا لکل مومن کیونکہ ایمان کے دو حصے ہیں۔ نمبر 1۔ نصف صبر ہے۔ نمبر 2۔ نصف شکر ہے۔
Ayah 14:66: وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوْانِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ اَنْجٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْئَ الْعَذَابِ (اور جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تم اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیے جب اس نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔ وہ تمہیں سخت عذاب دیتا تھا) اذؔ ظرف ہے نعمت کیلئے جو کہ بمعنی انعام ہے۔ یعنی اس کا انعام تم پر اس وقت میں ہوا۔ نمبر 2۔ نعمۃ اللہ سے بدل الا شتمال ہے ای اذکروا وقت انجائکم (اپنے نجات دیئے جانے کے وقت کو یاد کرو) وَیُذَبِّحُوْنَ اَبْنَائَ کُمْ (اور وہ ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو)
نکتہ : البقرۃ الاٰیۃ : 49 میں یذبحون اور اعراف الاٰیۃ : 141 میں یقتلون بغیر وائو لائے جبکہ یہاں وائو کے ساتھ ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ ذبح ابناء کو جب عذاب کی تفسیر اور بیان بنایا تو وائو کو ذکر نہیں کیا۔ اور جہاں وائو کو ذکر کیا تو وہاں جنسِ عذاب میں ایک اضافہ ذبح ابناء کا کیا گویا یہ عذاب کی الگ قسم ہے۔ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآ ئَ کُمْ وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآ ئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ (وہ زندہ چھوڑتے تمہاری عورتوں کو اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی) اس میں عذاب کی طرف اشارہ ہے۔ اور البلاءؔ سے مشقت مراد ہے۔ نمبر 2۔ نجات کی طرف اشارہ ہو تو بلاء سے نعمت مراد ہے۔ جیسا اس آیت میں ونبلوکم بالشروا لخیر فتنۃ۔ ] الانبیاء : 35[
Ayah 14:77: وَاِذْتَاَذَّنَ رَبُّکُمْ (جب تمہارے رب نے اطلاع دے دی) اعلان کردیا تأذن اور اٰذن توعّد واوعد کی طرح ہے۔ تفعل میں جو معنی میں اضافہ ہے وہ افعل میں نہیں ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا واذاٰذن ربکم ایذانًابلیغًا تنتفی عندہ الشکوک والشبہ جب تمہارے رب نے کامل اعلان کیا جس سے شکوک و شہبات رفو ہوگئے اور وہ انہی میں سے ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ارشادات فرمائے۔
نحو : نعمۃ اللّٰہ علیکم پر عطف کی وجہ سے یہ منصوب ہے گویا اسطرح فرمایا واذ قال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللّٰہ علیکم واذکروا حین تاذن ربکممطلب یہ ہے جب تمہارے رب نے اطلاع دیتے ہوئے فرمایا لَئِنْ شَکَرْتُمْ (اگر تم شکر کرو گے) اے بنی اسرائیل جو ہم نے تمہیں نجات کی نعمت دی ہے۔ لَاَ زِیْدَ نَّکُمْ (نعمت میں تمہارے لئے ضرور اضافہ کریں گے) نعمت پر نعمت دیں گے۔ شکر ؔ موجود کو قابو رکھنا اور مفقود کی تلاش میں رہنا۔ کہا جاتا ہے جب تم نعمت میں شکر کا نغمہ سنو تو اور نعمت کی تیاری کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا لئن شکر تم بالجدّ فی الطاعۃ لازیدنکم بالجدّ فی المثوبۃ۔ اگر تم اطاعت کی صورت میں شکرادا کروگے تو میں ثواب کی صورت میں مزید اضافہ کروں گا۔ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ (اور اگر تم
نے ناشکری کی) اس نعمت کی جو میں نے تم پر کی اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (بیشک میرا عذاب بڑا سخت ہے) اس کیلئے جو میری نعمت کی ناشکری کرے۔ دنیا میں تو سلب ِنعمت کا عذاب اور آخرت میں مسلسل ناراضگی اور سزا۔
Ayah 14:8ارشادِ موسیٰ d:
8: وَقَالَ مُوْسٰٓی اِنْ تَکْفُرُوْا اَنْتُمْ (اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم ناشکری کرو گے) اے بنی اسرائیل وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیعًا (اور وہ جو تمام زمین میں ہیں) تمام لوگ فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ (پس بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز ہیں) تمہارے شکریے سے حَمِیْدٌ (تعریفوں والے ہیں) خواہ تعریف کرنے والے اسکی تعریف نہ کریں تم نے اپنے نفوس کو خیر سے محروم کر کے نقصان پہنچایا ہے۔ جو اسکی طرف سے بہر صورت پہنچتی ہے۔
Ayah 14:99: اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّ ثَمُوْدَ (کیا تمہارے پاس خبر نہیں آئی ان کی جو تم سے پہلے قومیں ہوئیں جیسے قوم نوح، عاد وثمود) نمبر 1۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ جو اپنی قوم سے کیا۔ نمبر 2۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ والے لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ وَالَّذِیْنَ مِنْم بَعْدِھِمْ لَایَعْلَمُھُمْ اِلَّا اللّٰہُ (اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں) یہ جملہ ابتدائیہ ہے اور خبر جملہ معترضہ ہے یا الذین من بعدھم کا عطف قوم نوح پر ہے اور لا یعلمھم الا اللّٰہیہ جملہ معترضہ ہے۔ مطلب اس طرح ہے وہ کثرت ِتعداد میں اتنے ہیں کہ ان کی حقیقی گنتی اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عدنان اور اسماعیل کے درمیان تیس جد ہیں جو معلوم ہی نہیں۔ آنحضرت ﷺ سے مروی ہے۔ کہ آپ نے اس آیت کے نزول کے بعد فرمایا کذب النسابون ] ابن سعد فی الطبقات[ جَآ ئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (ان کے رسول ان کے پاس دلائل لائے) بینات سے معجزات مراد ہیں۔ فَرَدُّوْا اَیْدِیَھُمْ فِیْ اَفْوَاھِھِمْ (انہوں نے ان کے ہاتھ ان کے منہ کی طرف لوٹا دیے) نمبر 1۔ دونوں ضمیریں کفار کی طرف راجع ہیں یعنی کفار نے اپنے ہاتھوں کے پوروے منہ میں تعجب کے طور پر رکھ لیے۔ نمبر 2۔ غصہ سے اپنے پوروے کاٹنے لگے۔ نمبر 3۔ دوسری ضمیر انبیاء (علیہم السلام) کی طرف کہ قوم نے اپنے ہاتھ انبیاء (علیہم السلام) کے منہ میں دے دئیے تاکہ وہ بات نہ کرسکیں۔ پیغام رسالت نہ دے سکیں۔ وَقَالُوْا اِنَّا کَفَرْ نَابِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ وَاِنَّا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَیْہِ (اور کہنے لگے ہم تمہارے دعوٰی رسالت کے منکر ہیں اور جس بات کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو ہم اس میں شک کرنے والے ہیں) یعنی ایمان باللہ اور توحید مُرِیْبٍ (جو ہمیں تردد میں ڈالنے والا ہے) شک میں مبتلا کرنے والا ہے۔
Ayah 14:1010: قَالَتْ رُسُلُھُمْ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ (ان کے پیغمبروں نے کہا کیا تم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے) ہمزہ انکاری کو ظرف پر داخل کیا۔ کیونکہ کلام شک میں نہیں بلکہ مشکوک فیہ میں ہے اللہ تعالیٰ کے متعلق اشتباہ ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ جبکہ اس کے وجود و ظہور کے دلائل واضح ہیں۔ یہ ان کے قول انا لفی شک کا جواب ہے۔ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَدْ عُوْکُمْ (وہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں دعوت دیتا ہے) ایمان کی طرف لِیَغْفِرَ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ (تاکہ تمہارے گناہوں کو بخش دے) جبکہ تم ایمان لائو۔
نکتہ : کفار کے خطابات میں من ذنوبکم ؔ لایا گیا جیسا اس ارشاد میں : واتقوہ واطیعون یغفرلکم من ذنوبکم ] نوح : 3۔ 4[ یٰقومنا اجیبوا داعی اللّٰہ واٰمنوا بہٖ یغفرلکم من ذنوبکم ] الاحقاف : 31[ ایمان والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہل ادلکم علی تجارۃ الٰی ان قال یغفرلکم ذنوبکم ] الصف : 12[ قرآن مجید کی آیات میں تتبع اور تلاش سے یہ بات سامنے آسکتی ہے۔ یہ دونوں خطابات میں فرق کیلئے فرمایا تاکہ فریقین کے وعدہ میں برابری نہ سمجھ لی جائے۔ وَیُؤَ خِّرَکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (اور تمہیں مہلت دے ایک وقت مقررہ تک) ایک وقت تک جس کو مقرر کردیا اور اسکی مقدار کو واضح کردیا۔ قَالُوْا (انہوں نے کہا) قوم کفار نے کہا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا (تم تو ہم ہی جیسے انسان ہو) ہم میں اور تم میں فضیلت کا کوئی فرق نہیں اور تمہیں نبوت والی فضیلت حاصل نہیں تو پھر تم اپنے کو نبوت سے کیسے خاص کرتے ہو ؟ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا (تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان معبودوں سے روک دو جنکی پو جا ہمارے آباء کرتے تھے) یعنی بت فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (تو تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لائو) واضح حجت۔ حالانکہ رسول (علیہم السلام) تو واضح دلائل لائے تھے۔ مگر کفار کی سلطان مبین سے مراد ضد و اصرار کی وجہ سے منہ مانگی نشانی تھی۔
Ayah 14:11انبیائے ( علیہ السلام) کا ارشاد :
1 1: قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ (ان کو ان کے رسولوں نے کہا ہم تو تم جیسے انسان ہیں) ان کی اس بات کو تسلیم کیا کہ ہم تم جیسے انسان ہیں اور کوئی جنس و قسم نہیں۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ (لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے ان پر (نبوت والا) احسان کرتا ہے) ایمان اور نبوت والا احسان جیسا کہ اس نے ہم پر کیا۔ وَمَا کَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِیَکُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ (اور ہمارے لئے ممکن نہیں کہ تمہارے پاس کوئی نشان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر لے آئیں) یہ کفار کے قول فاتونا بسلطان مبین کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری منہ سے مانگی ہوئی نشانی لانا ہمارے قبضہ قدرت میں نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت سے متعلق ہے۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پر ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے) اس میں تمام ایمان والوں کو توکل کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اپنی ذات کو اولین حیثیت سے مخاطب کیا گیا گویا انہوں نے اس طرح فرمایا ہے ومن حقنا ان نتوکل علی اللّٰہ فی الصبرعلی معاندتکم و معاداتکم وایذائکم ہمارا حق یہ بنتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کریں تمہاری ضد، دشمنی، ایذاء پر صبر کرنے میں۔ اگلی آیت اس مفہوم کی تائید کر رہی ہے۔
Ayah 14:1212: وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ (اور ہم اللہ تعالیٰ پر آخر بھروسہ کیوں نہ کریں) اللہ تعالیٰ پر توکل نہ کرنے میں ہمارے پاس کیا عذر ہے۔ اس نے تو ہمارے ساتھ وہ سلوک کر رکھا ہے جو ہم پر توکل کو لازم کرتا ہے۔ وَقَدْ ھَدٰنَا سُبُلَنَا (جبکہ اسی نے ہمیں اپنے راستوں کی راہ سجھا دی ہے) اس نے اپنے راستہ کیطرف راہنمائی کی توفیق عنایت فرمائی وہ راستہ جس پر اس کے دین میں چلنا لازم ہے۔ ابو تراب نے کہا توکل کی حقیقت بدن کو عبودیت میں ڈالنا اور دل کا تعلق ربوبیت سے قائم کرنا اور عطاء کے وقت شکریہ اور بلاء کے وقت صبر کرنا ہے۔ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ اٰذَیْتُمُوْنَا ( اور ہم ضرور ان ایذائوں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دے رہے ہو) وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنے والوں کو توکل کرنا چاہیے) توکل کرنے والوں کو اپنے توکل پر قائم رہنا چاہیے۔ یہ مفہوم اس لئے ذکر کیا تاکہ تکرار نہ ہو۔
Ayah 14:13کفار کی دھمکی :
13: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ (کافروں نے اپنے رسولوں کو کہا)
قراءت : ابو عمرو نے اوپر والی آیت میں سُبُلنَا کو سُبْلنا اور لرُسْلھمپڑھا ہے۔ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ ( ضرور ہم تمہیں نکال دیں گے اپنی سرزمین سے) اپنے علاقہ سے اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا (یا تم ضرور لوٹ جائوگے ہمارے مذہب میں) یعنی دو میں سے ایک بات ضرور کرنا پڑے گی نمبر 1۔ تمہارا نکالنا نمبر 2۔ تمہارا مذہب میں واپس لوٹنا۔ کفار نے اس پر حلف اٹھایا۔ العود کا معنی ہونا ہے اور یہ کلام عرب میں بہت ہے۔ نمبر 2۔ اس سے ہر رسول کو خطاب کیا اور ان کے اوپر ایمان لانے والوں کو اس خطاب میں شامل کر کے خطاب میں جماعت کو ایک غلبہ دیکر ذکر کیا (کیونکہ ایمان لانے والے تو پہلے کافر ہوتے ہیں پھر کافروں سے نکل کر ایمان لاتے ہیں)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب :
فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ رَبُّھُمْ لَنُھْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْنَ (پس ان کی طرف ان کے رب نے وحی کی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کردیں گے) نمبر 1۔ یہاں قال مضمر ہے۔ نمبر 2۔ اَوْحٰی کو قول کے قائم مقام لائے۔ کیونکہ وہ بھی اسکی ایک قسم ہے۔
Ayah 14:1414: وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِھِمْ (اور ضرور ہم تمہیں آباد کریں گے اس زمین میں ان کے بعد) ظالموں کی سرزمین اور ملک میں۔ حدیث میں فرمایا : من اذی جارہ ورثہ اللہ جارہٗ جس نے اپنے پڑوسی کو دکھ دیا اللہ اس کے گھر کا اسکو وارث بنا دیتے ہیں ( یہ مقولہ ہے حدیث نہیں ہے) ذٰلِکَ (یہ) ہلاک کرنا اور ٹھہرانا یہ بات برحق ہے۔ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ (اس کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا) میرے موقف سے اور وہ موقف حساب ہے۔ نمبر 2۔ مقام کا لفظ زائد ہے یعنی جو شخص مجھ سے ڈرا نمبر 3۔ اس سے ڈرا کہ اللہ تعالیٰ میری نگہداشت کرنے والے ہیں۔ جیسا اس قول میں افمن ہو قائم علٰی کل نفس بما کسبت ] الرعد : 33[ مطلب یہ کہ یہ متقین کا حق ہے۔ وَخَافَ وَعِیْدِ (اور میری وعید سے ڈرا) وعید سے عذاب مراد ہے۔ قراءت : یعقوب نے وعیدی پڑھا ہے۔
Ayah 14:15فیصلہ مانگے تو فیصلہ نافذ کردیا جائے گا :
15: وَاسْتَفْتَحُوْا (اور انہوں نے دشمن پر فتح کی دعا کی) اللہ تعالیٰ سے اپنے دشمنوں کے خلاف مدد مانگی۔ اس کا عطف اوحی الیہم پر ہے۔ وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ (اور ناکام ہوا ہر ظالم سرکش) ہر متکبرو مغرور نامراد ہوا۔ عنیدؔ حق سے پہلو تہی اختیار کرنے والا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی مدد کی گئی اور وہ کامیاب ہوئے اور انہوں نے کامرانی حاصل کی اور ہر سرکش و مغرور رسوا ہوا اور وہ ان کے قوم والے لوگ تھے۔ نمبر 2۔ ایک قول یہ ہے کہ ضمیرکفار کی طرف راجع ہے۔ اب مطلب اس طرح ہے کہ کفار نے رسل کے خلاف فیصلہ طلب کیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ (کفار) حق پر اور ( نعوذ باللہ) انبیاء (علیہم السلام) باطل پر ہیں۔ چناچہ ہر سرکش ان میں سے رسوا ہوا اور خود فیصلہ طلب کرنے سے کامیاب نہ ہوا۔ (اللّٰھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء (الاٰیۃ)
Ayah 14:16ہمیشہ کا عذاب :
16: مِّنْ وَّ رَآ ئِہٖ (اس کے پیچھے) یعنی سامنے جَھَنَّمُ (جہنم ہے) نمبر 1۔ یہ اسکی حالت دنیا میں ہے کہ وہ جہنم کا منتظر ہے گویا کہ جہنم اس کے سامنے ہے اور یہ کافر اس کے گڑھے کے کنارے کھڑا ہے۔ نمبر 2۔ اسکی حالت کی یہ کیفیت آخرت میں ہوگی جب کہ وہ اٹھایا جائے گا اور موقف میں کھڑا کیا جائے گا۔ وَیُسْقٰی (اور اس کو پلا یا جائے گا) اسکا عطف محذوف پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ من ورائہ جہنم یلقی فیھا مایلقی اس کے پیچھے جہنم ہے اس میں وہ پائے گا جو وہ پائے گا مِنْ مَّآئٍ صَدِیْدٍ (اس کو کچ لہو پلایا جائے گا) صدیدؔ اہل نار کے چمڑوں سے بہنے والا خون وپیپ۔ صدید یہ ماء کا عطف بیان ہے۔ کیونکہ وہ مبہم ہے۔ پس صدید سے اسکی وضاحت کردی۔
Ayah 14:1717: یََّتَجَرَّعُہٗ (وہ گھونٹ گھونٹ پیے گا) وہ تکلف کے ساتھ گھونٹ گھونٹ پیے گا۔ وَلَا یَکَادُ یُسِیْغُہٗ (وہ ان کو نگل نہ سکے گا) اور نہ نگلنے کے قریب ہوگا۔ پھر نگلنا کی سے۔ جیسا اس ارشاد میں لم یکد یراھا ] النور : 40[ یعنی وہ رؤیت کے قریب بھی نہیں ہوسکتا دیکھنا تو درکناروَیَاْ تِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ ( اور اس کو ہر طرف سے موت آئے گی) یعنی اسباب موت ہر طرف سے ظاہر ہونگے نمبر 2۔ اس کے جسم کے ہر لوں لوں پر۔ اس میں اس کو پہنچنے والے دکھوں کی شدت کو ذکر کیا گیا۔ یعنی کہ اگر کوئی سختی ہے تو وہ ہر سختی ایک مستقل ہلاکت گاہ ہوگی۔ وَّ مَا ھُوَ بِمَیِّتٍ (اور وہ مردہ نہ ہوگا) کیونکہ اگر مرجائے تو آرام مل جائے۔ وَمِنْ وَّرَآ ئِہٖ (اور اس کے پیچھے) اور اس کے سامنے عَذَابٌ غَلِیْظٌ (سخت عذاب ہوگا) یعنی ہر وقت پہلے سے شدید تر عذاب کا سامنا ہوگا اور غلیظ ترین عذاب سہنا پڑے گا۔ فضیلی (رح) کہتے ہیں وہ شدید عذاب سانس کا روکنا اور اس کو اجساد میں بند کرنا ہے۔
Ayah 14:18کفار کے اعمال کی مثال :
18: مَثَلُ الَّذِیْنَ (حالت ان لوگوں کی) یہ مبتدا ہے اور اسکی خبر محذوف ہے یعنی اس وحی میں جو تم پر پڑھی جارہی ہے۔ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ (جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کیساتھ) مثلؔ کا لفظ استعارۃً اس حالت کیلئے استعمال ہوا جس میں غرابت ہو۔ اَعْمَالُھُمْ
کَرَمَادِ (ان کے اعمال راکھ کی طرح ہونگے) ۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے گویا سوال مقدر کا جواب ہے کہ ان کی حالت کیسی ہوگی ؟ تو جواب دیا۔ ان کے اعمال راکھ کے ڈھیر کی طرح ہونگے۔ اڑشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ (جس پر تیز ہوا چلی ہو) قراءت : مدنی نے الریاح پڑھا ہے۔ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ ( آندھی کے دن میں) عصف کو دن کے ساتھ خاص کیا۔ کیونکہ وہ دن میں ہوتی ہے اور وہ ہوا ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں یوم ماطر بارش کا دن۔ اعمالؔ کفار سے مراد وہ مکارم اخلاق ہیں جو بطور صلہ رحمی انجام دیے اسی طرح گردنوں کی آزادی، قیدیوں کا فدیہ، مہمانوں کیلئے اونٹ ذبح کرنا وغیرہ۔ ان کے ضائع ہونے میں راکھ سے تشبیہ دی جس کو آندھی نے اڑا دیا ہو۔ کیونکہ ان کی بنیاد ایمان باللہ سے خالی ہے۔ لَایَقْدِرُوْنَ (وہ اس کے کسی حصہ پر قادر نہ ہونگے) قیامت کے دن مِمَّا کَسَبُوْا (جو کچھ کہ انہوں نے کمایا) یعنی اعمال عَلٰی شَیْئٍ (کسی چیز پر) ثواب کا کوئی نشان بھی نہ پائیں گے جس طرح تیز آندھی میں اڑائے ہوئے راکھ کا کوئی حصہ قابو میں نہیں آتا۔ ذٰلِکَ ھَوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ (یہی تو دور کی گمراہی ہے) اس میں حق کی راہ سے ان کے بہت زیادہ دور گمراہی میں پڑنے کا ذکر فرمایا۔ نمبر 2: ثواب سے دور ہونامراد ہے۔
Ayah 14:19قدرتِ الٰہی :
19: اَلَمْ تَرَ (کیا تم نہیں جانتے) اس میں ہر ایک کو خطاب ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ قراءت : خالق کو مضاف پڑھا حمزہ، علی رحمہما اللہ نے بِالْحَقِّ (حق کیساتھ) حکمت کے ساتھ اور بڑے مقصد کیلئے اور اس کو بےکار نہیں بنایا اِنْ یَّشَاْ یُذْ ھِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ (اگر وہ چاہتا تو تم کو معدوم کر دے اور نئی مخلوق پیدا کردے) یعنی اس کو لوگوں کے معدوم کرنے کی قدرت ہے اور ان کی جگہ انہی جیسی نئی مخلوق پیدا کرنے کی طاقت ہے یا ان کی شکل کے خلاف دوسری شکل میں تاکہ یہ چیز موجود کو معدوم اور معدوم کو ایجاد کی قدرت پر دلیل بین ہوجائے۔
Ayah 14:2020: وَّمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ (اور یہ اللہ تعالیٰ پر مشکل نہیں ہے) ناممکن نہیں۔
Ayah 14:2121: وَبَرَزُوْالِلّٰہِ جَمِیْعًا (وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام باہر نکل آئیں گے) قیامت کے دن ظاہر ہونگے۔ ماضی کے لفظ سے اس لئے لائے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جو اس نے خبر دی ہے وہ اسی طرح ہے جیسا کہ وہ ہوچکی اور اسکی مثال، و نادٰی اصحاب الجنۃ ] الاعراف : 44[ ونادٰی اصحاب النار ] الاعراف : 50[ وغیر ذلک۔
بروز کا مطلب :
اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی نہیں کہ اس کے سامنے ظاہرہو۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ارتکاب فواحش کے وقت آنکھوں سے یہ گمان کر کے چھپتے تھے کہ یہ حالت اللہ تعالیٰ سے چھپنے والی ہے۔ (حالانکہ واقعہ میں ایسا نہیں تھا) جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ اپنے نفوس کے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ہونگے۔ اور ان کو اس وقت یقین آجائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ یا جب قبور سے نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب کیلئے سب ظاہر ہونگے اور اس کے حکم پر ظاہر ہونگے۔
ضعفاء اور متکبرین کی گفتگو :
فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُ ا (پس کمزور لوگ کہیں گے) رائے میں کمزور اور وہ کم عقل لوگ مراد ہیں اور اسی طرح پیروکار۔ الضعفاء کے لفظ کو وائو قبل الھمزہ کے ساتھ وہ لکھتے ہیں جو ھمزہ سے پہلے الف کو تفخیم دیتے ہیں اور وائو کی طرف امالہ کرتے ہیں۔ لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا (ان لوگوں سے جو بڑے بن بیٹھے تھے) اس سے وہ سادات ورئو ساء مراد ہیں جنہوں نے ان کو آباد کیا اور انبیاء اور مؤمنین سے فائدہ حاصل کرنے سے انہوں نے لوگوں کو روکا اور محروم کیا۔ اِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعًا ( بیشک ہم تو تمہارے پیرو تھے) تابع فرمان تَبَعایہ تَابِعٌ کی جمع ہے جیسا کہ خَا دِمٌ کی جمع خَدَمٌ اور غَائِبٌ کی جمع غَیَبٌنمبر 2۔ ذی تبع، اور تبع کا معنی اتباع ہے۔ کہا جاتا ہے۔ تبعہ تبعا فَھَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ (پس کیا تم ہم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کچھ حصہ بھی دفع کر دوگے) کیا تم کسی چیز کو دور کرنے کی کچھ قدرت رکھتے ہو اس مصیبت میں سے جس میں ہم مبتلا ہیں۔ پہلا مِن، تبیین کیلئے ہے اور دوسرا منؔ تبعیض کیلئے ہے۔ گویا اس طرح کہا فھل انتم مغنون عنا بعض الشیء الذی ھو عذاب اللّٰہ۔ کیا تم ہم سے ہٹانے والے ہو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے کچھ۔ نمبر 2۔ دونوں تبعیض کیلئے ہوں۔ یعنی ہل انتم مغنون عنا بعض الشیء ھو بعض عذاب اللہ۔ کیا تم ہمارے کچھ کام آسکتے ہو۔ وہ بعض حصہ ہے اللہ تعالیٰ کے بعض عذاب میں سے ضعفاء کا قول ان کے لئے تو بیخًا اور ان کے اغواء ہونے پر عتاب ہے۔ کیونکہ ان کو یقین ہوگیا کہ وہ ان کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ تو قَالُوْا ( وہ کہیں گے) معذرت خواہانہ انداز سے وہ جواب دیں گے لَوْھَدٰنَا اللّٰہُ لَھَدَیْنٰکُمْ (اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیتے تو ہم ضرور تمہیں ہدایت دیتے) اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی طرف ہدایت دیتے تو ہم تمہاری بھی راہنمائی اسکی طرف کرتے یا نمبر 2۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب سے نجات کا راستہ سجھا دیتا تو ہم تمہاری راہنمائی کرتے یعنی تم سے بےنیاز ہوجاتے اور تمہیں نجات کے راستہ پر چلاتے جیسا کہ ہم نے تمہیں ہلاکت کے راستہ پر چلایا۔ سَوَآ ئٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا (ہم صبر کریں یا بےقراری اختیار کریں ہمارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں) صبرو جزع فزع دونوں ہمارے حق میں برابر ہیں۔ ھمزہ اور اَمْ تسویہ کو بیان کرنے کیلئے ہیں۔ روایت میں ہے کہ وہ آگ میں کہیں گے۔ آئو جزع فزع کریں۔ وہ پانچسوسال ماتم کرتے رہیں گے مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ پس وہ کہیں گے آئو۔ ہم صبر کریں پانچسو سال صبر کرتے رہیں گے مگر صبر بھی فائدہ نہ دیگا۔ پھر وہ کہیں گے ہمارے لئے صبر و جزع دونوں برابر ہیں۔
ماقبل سے اس کا تعلق یہ ہے ان کا عتاب کرنا ان کو یہ اس پریشانی میں گھبراہٹ کا اظہار ہی ہے جس پریشانی میں وہ خود مبتلا ہیں۔ پس وہ ان کو کہیں گے سواء علینا اجز عنا ام صبرنا۔ اس سے وہ ان کو اور اپنے آپ کو مراد لے رہے ہونگے۔ کیونکہ گمراہی کی سزا میں وہ اکٹھے ہیں۔ اسی لئے وہ کہہ اٹھیں گے جزع اور ڈانٹ کیسی ہے۔ نہ جزع میں فائدہ نہ صبر میں آرام۔ مَالَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ (ہمیں چھٹکارا نہیں مل سکتا) محیص کا معنی نجات دہندہ اور چھٹکارہ ہے۔ ہم جزع فزع کریں یا صبر کریں اور یہ بھی درست ہے کہ ضعفاء اور متکبرین دونوں ہی کا کلام ہو۔
Ayah 14:22شیطان کا خطاب :
22: وَقَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ (جب معاملے کا فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا) جب جنت کا اہل جنت کیلئے اور دوزخ کا اہل دوزخ کیلئے فیصلہ ہوچکے گا اور وہ حساب و کتاب سے فارغ ہوجائیں گے اور جنت والے جنت اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے۔ روایت تفسیر میں ہے کہ شیطان اس وقت آگ کے منبر پر خطبہ دے گا۔ اہل نارکو خطاب کرتے ہوئے کہے گا۔ اِنَّ اللّٰہَ وعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْ تُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ (بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا پس میں نے اس کے خلاف کیا) وعدالحقؔ سے بعث و جزاء علی الاعمال کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کے مطابق پورا کردیا۔ وعدتکم ؔ سے مراد کہ نہ بعث ہے نہ جزاء اور نہ ہی حساب اخلفتکم کا معنی جھوٹ بولنا ہے۔ وَمَاکَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ (مجھے تم پر کوئی غلبہ حاصل نہ تھا) اقتدار و تسلط اِلَّآاَنْ دَعَوْتُکُمْ (مگر یہ کہ میں نے تمہیں دعوت دی) لیکن میں نے تمہیں اپنے وسوسہ سے گمراہی کی طرف بلایا اور تزین سے گمراہی پر لگایا۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ کیونکہ دعاء سلطان کی جنس سے نہیں۔ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ (پس تم نے میری دعوت کو قبول کیا) جلدی سے مان لیا۔ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ (پس تم مجھے ملامت نہ کرو) کیونکہ جو عداوت کی ٹھاننے والا ہو وہ قابل ِملامت نہیں جبکہ وہ امر کسی امرقبیح کی طرف بلائے۔ اس کے باوجود کہ رحمان نے کہہ رکھا ہے لا یفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ ] الاعراف : 28[ وَلُوْمُوْااَنْفُسَکُمْ (تم اپنے آپ کو ملامت کرو) اس لئے کہ تم نے بلا دلیل میری اتباع شروع کردی۔
قولِ معتزلہ :
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان خود شقاوت یا سعادت کو اختیار کرتا ہے اور اس کو اپنے نفس کیلئے حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف اس پر پختہ کرنا اور شیطان کی طرف سے فقط تزیین ہوتی ہے۔
جواب : یہ باطل استدلال ہے۔ کیونکہ آیت سے یہ مضمون ثابت ہی نہیں ہوسکتا صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ بندہ کی قدرت کو عمل میں کچھ دخل ہے۔ اسی کو اشاعرہ کسب کہتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لو ھدانا اللّٰہ ای الی الایمان لہدیناکم جیسا کہ گزرا۔ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ (میں تمہاری فریاد رسی نہیں کرسکتا اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو) ہم ایک دوسرے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکتے اور نہ اس کو مدد کیلئے پکار سکتے ہیں۔ الاصراخؔ فریاد رسی کرنا
قراءت : لمصرخیِّ ۔ حمزہ نے خاءؔ کی اتباع میں یاء کا کسرہ پڑھا پس پہلی یاء تو یائے جمع ہے اور دوسری یائے متکلم ہے۔ اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ (میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس سے پہلے مجھے خدا کا شریک بناتے تھے) قراءت بصری قراء نے یا ءؔ سے پڑھا ہے اور ما ؔ مصدریہ ہے۔ مِنْ قَبْلُ (اس سے پہلے) یہ اشرکتمونی سے متعلق ہے یعنی میں انکار کرتا ہوں اس بات کا کہ تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا آج سے قبل دنیا کی زندگی میں جیسا دوسری آیت میں ہے۔ ویوم القیامۃ یکفرون بشرککم ] فاطر : 14[ شیطان کے کفر بالا شراک کا مطلب اس کا اس نسبت سے انکار اور بیزاری ہے جیسا اس آیت میں اِنَّا بُرَئَ اَؤُا منکم و مما تعبدون من دون اللّٰہ کفرنا بکم ] الممتحنہ : 4 [ نمبر 2۔ من قبلؔ یہ کفرت کے متعلق ہے۔ اور ماؔ موصولہ ہے یعنی کفرت من قبل حین ابیت السجود لآدم بالذی اشرکتمونیہ وھو اللّٰہ عزوجل جیسا کہتے ہیں اشرکنی فلان ای جعلنی لہ شریکا مجھے اس کا شریک بنایا اور اشرکھم الشیطان باللّٰہ کا معنی ان کا شیطان کی اطاعت ان باتوں میں اختیار کرنا جن کو شیطان بتوں کی عبادت کروانے کے لئے مزین کرتا تھا۔ یہ شیطان کا آخری قول ہے۔
اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (بیشک شیطان کیلئے دردناک عذاب ہے) نمبر 1۔ شیطان کے کلام کا تتمہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے ذکر کیا تاکہ سامعین کیلئے لطف کا باعث ہو کہ گمراہوں کا مہالیڈر بھی یہ کہہ اٹھے گا۔ نمبر 2۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے (کہ شیطان اور اس کے حواری ظالم ہیں ان کا انجام عذاب ہے)
Ayah 14:23نیکوں کا انجام :
23: وَاُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (اور ایمان والوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو ایسے باغات میں داخل کیا جائے گا جنکے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے) یہ برزوا پر عطف ہے۔ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ (اپنے رب کے اذن سے) یہ ادخل کے متعلق ہے یعنی ان کو فرشتے جنت میں لے جائیں گے اللہ
تعالیٰ کے امر اور اذن سے تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ (اور اس کا سلام اسمیں سلام کے لفظ سے ہوگا) وہ جنت میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے نمبر 2۔ فرشتے ان کو سلام کریں گے۔
Ayah 14:24کلمہ طیبہ کی مثال :
24: اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَـلًا (کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی) ضرب کا معنی اسکی تعریف کی اور وضاحت کی کَلِمَۃً طَیِّبَۃً (ایک پاکیزہ کلمہ کی) یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے ای جعل کلمۃ طیبۃ : اس نے پاکیزہ کلمہ بنایا۔ کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ (جیسے پاکیزہ درخت) یہ ضرب اللہ مثلاً کی تفسیر ہے جیسا کہ کہتے ہیں شرّف الامیرزیدا، کساہ حلۃ وحملہ علی فرسٍنمبر 2۔ مثلاً اور کلمۃ یہ دونوں ضرب سے متعلق ہیں ای ضرب کلمۃ طیبۃ مثلًا اس نے کلمہ طیبہ کی مثال بیان کی پھر فرمایا کشجرۃ طیبۃ یہ متبدا محذوف کی خبر ہے۔ ایھی کشجرۃ طیبۃ وہ پاکیزہ درخت کی طرح ہے۔
اَصْلُھَا ثَابِتٌ (اسکی جڑ زمین میں قائم رہنے والی ہے) یعنی فی الارض۔ قائم ہونے والی ہے زمین میں اور اپنی جڑیں اس میں لگانے اور گاڑنے والی ہے۔ وَّ فَرْعُھَا (اور اسکی شاخیں) اسکی چوٹی اور بلندی فِی السَّمَآ ئِ (آسمان میں ہے) کلمہ طیبہ سے کلمہ توحید مراد ہے اور اصلؔ سے مراد دل سے اسکی تصدیق اور فرعؔ سے اقرار باللسان اور اکلؔ سے عمل بالا رکان مراد ہے۔ جیسا کہ درخت درخت ہی ہے اگرچہ اس پر پھل نہ ہو اسی طرح مومن مؤمن ہے خواہ عامل نہ ہو۔ مگر درختوں سے مقصود پھل ہوا کرتے ہیں۔ آگ کی خوراک بھی تو درخت سے میسر ہے جب کہ حفاظت پھلوں کے زمانہ میں کی جاتی ہے۔
الشجرہؔ سے ہر پھلدار عمدہ پھل والا درخت مراد ہے مثلاً کھجور، انجیر وغیرہ۔ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ اس سے کھجور مراد ہے۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ایک دن فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی مثال ایک درخت سے دی ہے تم بتلائو وہ کونسا درخت ہے ؟ لوگ جنگل کے مختلف درخت بتلانے لگے میں کم عمر تھا میرے دل میں آیا کہ وہ درخت کھجور ہے مگر رسول ا کے رعب کی وجہ سے میں خاموش رہا۔ میں موجود لوگوں میں سب سے صغیر السن تھا۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا سنو وہ کھجور کا درخت ہے۔ اس پر عمر ؓ نے فرمایا اے بیٹے اگر تم نے بتلادیا ہوتا تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب تھا۔ بخاری و مسلم[
Ayah 14:25] 25: تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ 0 (وہ اپنا پھل ہر اس گھڑی دیتا ہے) وہ اپنا پھل ہر اس وقت میں لاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرمایا بِاِذْنِ رَبِّھَا (اپنے رب کے حکم سے) اپنے خالق کے میسر فرمانے اور اسکی تکوین سے وَیضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (اللہ تعالیٰ لوگوں کیلئے مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں) کیونکہ مثالیں بیان کرنے سے بات ذہنوں میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے اور خوب نصیحت اثر پذیر ہوتی ہے اور معانی عملی صورت میں سامنے آجاتے ہیں۔
Ayah 14:26خبیث کلمے کی مثال :
26: وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ (اور خبیث کلمہ کی مثال) وہ کلمہ کفر ہے کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِ (خبیث درخت جیسی ہے) اس سے ہر وہ درخت مراد ہے جس کا پھل اچھانہ ہو۔ حدیث میں فرمایا وہ اند رائن (کوڑ تُنبے) کا پودا ہے۔ اڑجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ (جس کو اکھاڑ لیا جائے زمین کے اوپر ہی سے) اس کے وجود کا استیصال کردیا جائے الاجتثاثؔ کی حقیقت تمام جثہ کو لے لینا۔ یہ لفظ اصلھا ثابت کے بالمقابل ہے۔ مَالَھَا مِنْ قَرَارٍ (اس کے لئے ٹھہرائو نہیں) یعنی استقرار و پختگی نہیں جیسا کہا جاتا ہے قر الشیٔ قرارًا جیسے ثبت ثبوتًا خوب مضبوطی سے جمنا۔ اس سے ایسی بات کو مشابہت دی جس کی کوئی دلیل نہ ہو وہ مٹنے والی اور قائم نہ رہنے والی ہو۔
Ayah 14:2727: یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (اللہ تعالیٰ مضبوط کرتے ہیں ایمان والوں کو) یعنی اس پر ان کو ہمیشگی دیتے ہیں بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ (قائم رہنے والی بات سے) وہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا اقرار بالقلب و القالب ہے فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیا کی زندگی میں) جب ان کو دین کے سلسلہ میں آزمایا جاتا ہے تو پھر بھی وہ زائل نہیں ہوتے جیسا کہ اصحاب اخدود ثابت قدم رہے وغیرہ وَفِی الْاٰخِرَۃِ ( اور آخرت میں) جمہور کہتے ہیں کہ اس سے مراد قبر میں تلقین جواب منکر نکیر ہے اور درست بات پر ثابت قدمی ہے حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے مومن کی روح کے قبض ہونے کا ذکر فرمایا۔ پھر فرمایا اسکی روح کو اس کے جسم میں لوٹایا جاتا ہے پس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو قبر میں بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں من ربک ؟ و ما دینک ومن نبیک ؟ وہ اس طرح جواب دیتا ہے ربی اللہ دینی الاسلام نبی ی محمدا، اس وقت آسمانوں سے ایک فرشتہ نداء دیتا ہے میرے بندے نے سچ کہا پس یہ بات اس قول میں فرمائی یثبت اللّٰہ الذین امنوا بالقول الثابت پھر دونوں فرشتے کہتے ہیں تو سعید زندہ رہا اور قابل مدح ہو کر تیری موت آئی تم دلہن کی طرح سو جائو (احمد وابوداوٗد) وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ (اور وہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے) آزمائش کے مواقع میں ان کو قول ثابت پر جمے رہنا نصیب نہیں ہوتا پہلے مرحلہ میں ان کے قدم پھسل جاتے ہیں اور آخرت میں اور زیادہ گمراہ اور پھسلنے والے ہونگے۔ وَیَفْعَلُ اللّٰہُ مَایَشَآئُ (اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے) پس مومن کو ثابت قدم رکھنے اور اضلال ظالم میں اللہ تعالیٰ پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں۔
Ayah 14:28کفارِ مکہ کو تنبیہ :
28: اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ بَدَّ لُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ (کیا تمہیں معلوم نہیں ہے ان لوگوں کی حالت جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بدل دیا) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکریہ کو کُفْرًا (کفر میں) کیونکہ شکر واجب تھا اسکی بجائے ناشکری کرنے لگے گویا انہوں نے شکر ہی کو کفر میں بدل ڈالا اور اس کو بالکل بدل ڈالا۔ اس سے مراد اہل مکہ ہیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی حالانکہ ان کو شکر کرنا چاہیے تھا (نبوت ِمحمد ﷺ کو مان کر) وَاَحَلُّوْا قَوْمَھُمْ (اور انہوں نے اپنی قوم کو اتارا) وہ لوگ جنہوں نے ان کی کفر میں اتباع کی۔ دَارَ الْبَوَارِ (ہلاکت کے گھر میں)
Ayah 14:2929: جَھَنَّمَ (وہ جہنم ہے) یہ عطف بیان ہے یَصْلَوْنَہَا (وہ اس میں داخل ہونگے) وَبِئْسَ الْقَرَارُ (وہ ٹھہرنے کی بری جگہ ہے) جہنم بری قرار گاہ ہے۔
Ayah 14:3030: وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا (انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنائے) عبادت میں مثیل بنا لئے۔ نمبر 2۔ نام میں مثیل بنا لیے۔ لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ (تاکہ وہ گمراہ کریں اس کے راستہ سے)
قراءت : یہ یاؔ ء کے فتحہ کے ساتھ ہے مکی وابو عمرو نے اسی طرح پڑھا ہے۔ قُلْ تَمَتَّعُوْا (کہہ دو تھوڑا عیش کرلو) دنیا میں مراد اس سے رسوائی و ذلت ہے ذوالنون (رح) کہتے ہیں التمتع یہ ہے کہ بندہ اپنی طاقت بھر خواہش پوری کرے۔ فَاِنَّ مَصِیْرَکُمْ اِلَی النَّارِ (پس بیشک تمہارا ٹھکانہ آگ ہے) اسکی طرف لوٹنا۔
Ayah 14:31ایمان والوں کا شرف :
31: قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (کہہ دیں میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے) اپنی طرف اضافت کر کے ان کو شرف بخشا۔
قراءت : شامی، حمزہ، علی، الاعشیٰ نے سکون یاءؔ سے پڑھا یُقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ (وہ نماز کو قائم کریں اور جو ہم نے رزق دیا اس میں سے خرچ کریں) یہاں مقولہ محذوف ہے کیونکہ قل کا لفظ مقولے کا تقاضا کرتا ہے اور وہ اقیموا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ان کو کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور خرچ کریں) اقیموا الصلٰوۃ وانفقوا یقیموا الصلٰوۃ وینفقوا نمبر 2۔ وہ امر ہے اور وہ خود مقولہ ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ لیقیموا ولینفقوا لام کو قُل ؔ کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا۔
سوال : یقیموا الصلٰوۃ وینفقوا ابتدائی جملہ ہے حذف لام جائز نہیں۔
جواب : شرط محذوف کی جزاء ہے حذف لام درست ہے۔
سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً (پوشیدہ اور ظاہری طور پر) یہ دونوں حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں پوشیدگی والے اور علانیہ والے یعنی مسرّین و معلنین۔ نمبر 2۔ ظرف ہونے کی وجہ سے ای وقتی سرٌوعلانیۃ نمبر 3۔ مصدر ہونے کی وجہ سے ای انفاق سر و انفاق علانیۃ۔ پوشیدہ خرچ کرنا اور علانیہ خرچ کرنا۔ مطلب یہ ہے نفلی کو اخفاء کر کے اور فرضی کو ظاہر کر کے تاکہ دوسرے کو ترغیب ہو۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْ تِیَ یَوْمٌ لَّابَیْعٌ فِیْہِ وَلَاخِلٰلٌ (اس سے پہلے کہ ایسا دن آئے کہ جسمیں نہ بیع ہوگی اور نہ دوستی) یعنی اس میں خریدو فروخت سے فائدہ نہ ہوگا۔ اور نہ دوستی سے۔ الخلالؔ المخالۃ دوستی کرنا۔ بیعؔ میں فائدہ انفاق لوجہ اللہ سے ہوتا ہے۔
قراءت : مکی، بصری نے بیع اور خَلَل کو فتحہ سے پڑھا ہے باقی تمام نے رفع اور تنوین سے۔
Ayah 14:32انعامات باری تعالیٰ بیشمار ہیں :
32: اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے پانی اتارا) اللّٰہ مبتدا ہے اور الذی خلق خبر ہے۔ انزل من السماء سے بادلوں سے بارش اتار نامراد ہے۔ فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ (پس اس نے اس پانی کے ذریعہ پھلوں میں سے تمہارے لئے رزق نکالا) من الثمرات یہ رزق کا بیان ہے۔ ای اخرج بہٖ رزقًا ھوالثمرات۔ گویا من بیانیہ ہے نمبر 2۔ من الثمرات۔ اخرج کا مفعول ہے اور رزقًا اس مفعول کا حال ہے۔ وَسَخَّرَ لَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِبِاَمْرِہٖ وَسَخَّرَلَکُمُ الْاَنْھٰرَ (اور اس نے تابع کیا تمہارے لئے کشتیوں کو تاکہ وہ کشتی اس کے حکم سے چلے اور اس نے تمہارے تابع کیا دریائوں کو) ۔
Ayah 14:3333: وَ سَخَّرَلَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَدَآ ئِبَیْنِ (اور اس نے سورج اور چاند کو تمہارے کام کیلئے سرگرم عمل کردیا) دائبین ؔ یہ الشمس والقمر سے حال ہے۔ ای یدأبان فی سیرھما وہ اپنی رفتار میں اور روشنی اندھیرے کو اجالا کرنے اور زمین کی جس درستی کا تعلق ان سے ہے اس کو انجام دینے اور ابدان و نباتات کی اصلاح کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔ وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ (اور اس نے دن اور رات کو تمہارے کام میں لگا دیا) تمہارے گزر اوقات اور نوم ویقظہ کیلئے پے درپے آجا رہے ہیں۔
Ayah 14:3434: وَاٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَاسَاَلْتُمُوْہُ (اور تمہیں وہ دیا جو تم نے اس سے مانگا) من تبعیض کیلئے ہے یعنی اس میں سے بعض عنایت کیا جو تم نے مانگا۔ نمبر 2۔ اور اس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا اور جو نہ مانگا۔ اس میں ماؔ موصولہ ہے اور جملہ اسکی صفت ہے۔ اور دوسرا جملہ محذوف ہے کیونکہ بقیہ حصہ محذوف پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا سرابیل تقیکم الحر ] النحل : 81[ میں گرمی سے بچانا ذکر کردیا دوسرا خود سمجھا گیا۔
قراءت : ابو عمرو نے مِنْ کُلٍّ پڑھا اور ماسألتموہ کو نفی قرار دیا۔ یہ حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اتاکم من جمیع ذالک غیر سائلیہ۔ تمہیں وہ تمام دیا جس کے متعلق تم نے سوال بھی نہیں کیا۔ نمبر 2۔ ماؔ موصولہ ہے واتاکم من کل ذلک ما احتجتم الیہ فکانکم سألتموہُ اور تمکو ہر ضرورت کی چیز دی گویا کہ تم نے مانگ کرلی۔ نمبر 3۔ تم نے زبان حال سے گویا مانگی ہے۔ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَاتُحْصُوْھَا ( اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرو تو تم شمار نہیں کرسکتے) تم ان کو گننے کی طاقت نہیں رکھتے اور ان کی انتہائے شمار تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ اجمالی طور پر ان کو شمار کریں۔ باقی تفصیل کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ (بیشک انسان البتہ ظالم ہے) شکر یے سے غفلت کر کے نعمت پر ظلم کرتا ہے۔ کَفَّارٌ ( کافر ہے) بہت شدت سے ان کا انکار کرنیوالا ہے۔ نمبر 2۔ شدت و سختی میں ظالم ہے شکوہ اور جزع فزع کرتا ہے، (کَفَّار) اور نعمت میں ناشکری کرتا ہے۔ مال جمع کرتا اور صدقہ سے باز رہتا ہے۔ الانسانؔ یہاں اسم جنس ہے اور اس میں ایسے انسان کے متعلق اطلاع دی گئی ہے جسمیں یہ ظلم وکفر ان دونوں پائے جائیں۔
Ayah 14:35ابراہیم ( علیہ السلام) کی دعائیں :
35: وَاِذْقَالَ اِبْرٰھِیْمُ (اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا) اذکر اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ (اے میرے رب تو بنا دے اس شہر کو) البلد سے بلد حرام مراد ہے اٰمِنًا (امن والا)
فائدہ : اس آیت اور سورة بقرہ میں جو آیت گزری اس کا فرق یہ ہے اس میں یہ سوال ہے کہ اس کو ان شہروں میں سے کردے کہ جنکے رہنے والے مامون ہوتے ہیں۔ اور اس آیت میں یہ ہے کہ اس کو خوف والی حالت سے نکال کر امن والی حالت میں بدل دے گویا اس طرح فرمایا۔ ھوبلد مخوف فاجعلہ اٰمنا۔ کہ وہ خوف والا شہر ہے اس کو امن والابنا دے۔ وَّ اجْنُبْنِیْ (اور مجھے بچا) مجھے دور کر یعنی مجھے ثابت قدم فرما۔ اور ان کی عبادت سے ہمیشہ بچا جیسا کہ فرمایا واجعلنا مسلمین لک ] البقرہ : 128[ یعنی ہمیں اسلام پر ثابت قدم رکھ۔ وَبَنِیَّ (اور میری اولاد کو) مراد اس سے صلبی اولاد ہے۔ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ (بتوں کی عبادت سے) اس سے کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔
Ayah 14:3636: رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ (اے میرے رب انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا) بطور تسبب کے ان کو مضلات فرمایا کیونکہ لوگ بتوں کی وجہ سے گمراہ ہوئے گویا خود ان بتوں نے گمراہ کیا۔ فَمَنْ تَبِعَنِیْ (پس جس نے میری بات مانی) میری ملت پر چلا اور وہ میری طرح حنیف و مسلم بنا۔ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ (پس وہ مجھ سے ہے) وہ میرا بعض حصہ ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ میرے ساتھ خصوصیت رکھنے والا ہے۔ وَمَنْ عَصَانِیْ (اور جس نے میری نافرمانی کی) ان باتوں میں جو شرک کے علاوہ ہیں (کبائر و صغائر) فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (پس بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے) نمبر 2۔ جس نے میری نافرمانی کر کے شرک کیا پس بیشک تو اس کو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے اگر وہ شرک سے توبہ کر کے ایمان لے آئے۔