Ayah 14:3737: رَبَّنَآ اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ (اے ہمارے رب بیشک میں نے اپنی اولاد کو ٹھہرا دیا) مِنْ ، تبعیضیہ ہے بعض اولاد مراد ہے اور وہ اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جو آپ کے بڑے بیٹے تھے بِوَادٍ (وادی میں) اس سے وادیٔ مکہ مراد ہے۔ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ (ایسی وادی میں جسمیں زراعت نہیں) اس میں کھیتی کی قسم میں سے کوئی چیز بالکل نہیں ہوتی۔ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ (تیرے عظمت والے گھر کے پاس) وہ بیت اللہ الحرام ہے۔ اس کو المحرمؔ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر تعرض کرنا حرام کیا ہے۔ نمبر 2۔ تذلیل کرنا حرام کیا اور اس کے ماحول کو اس کے مرتبہ کی وجہ سے حرمت والا بنایا نمبر 3۔ وہ ہمیشہ سے محفوظ رہا ہر ظالم و جبار اس سے ڈرتا رہا۔ نمبر 4۔ کیونکہ وہ محترم اور بڑی حرمت والا ہے۔ اس حرمت کا توڑنا حلال نہیں نمبر 5۔ اس لئے کہ اس کو طوفان پر حرام کردیا گیا یعنی بچا لیا گیا جیسا کہ عتیق نام رکھا گیا کیونکہ وہ اس طوفان سے بچا لیا گیا۔
رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز کو قائم کریں) لام متعلق ہے اسکنت کے یعنی ما اسکنتہم بھٰذا الوادی البلقع الا لیقیموا الصلٰوۃ عند بیتک المحرم و یعمروہ بذکرک و عبادتک میں نے ان کو اس چٹیل وادی میں اس لئے ٹھہرایا تاکہ وہ محترم گھر کے پاس نماز کو قائم کریں اور تیری یاد اور عبادت سے اس کو آباد کریں۔ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ (تو لوگوں کے دلوں کو کردے) لوگوں کے دلوں میں کچھ دل مِن تبعیضیہ ہے۔ حضرت مجاہد (رح) سے مروی ہے۔ اگر وہ دعا میں افئدۃ الناس کہہ دیتے تو فارس و روم، ترکی وھندی سب اس پر ہجوم کر کے جھک پڑتے۔ نمبر 2۔ منؔ ابتدائیہ ہے۔ جیساکہتے ہیں : القلب منی سقیم، مراد اس سے میرا دل سقیم ہے گویا اس طرح فرمایا : افئدۃ ناس لوگوں کے دل۔ مضاف الیہ کو اس تمثیل میں نکرہ لائے کیونکہ افئدۃ نکرہ ہے۔ تاکہ بعض دلوں کو شامل ہو کیونکہ وہ آیت نکرہ ہے۔ تَھْوِیْ اِلَیْھِمْ (جھک جائیں اسکی طرف) دور شہروں سے اسکی طرف جلدی کریں اور شوق سے اسکی طرف اڑکر جائیں وَارْ زُقْھُمْ مِّنَ الثَّمٰرَتِ (اور ان کو پھلوں سے رزق عنایت فرما) اس کے باوجود کہ ہم نے ان کو ایک ایسی وادی میں ٹھہرا دیا جس میں ان میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ اس طرح کے رزق دے کہ دور دراز علاقوں سے یہ چیزیں کھنچی آئیں۔ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ (تاکہ وہ شکریہ ادا کریں) اس نعمت کا کہ بیشمار اقسام کے پھل ایسی وادی میں ان کو میسر ہیں جن میں نہ درخت ہیں نہ پانی۔
Ayah 14:3838: رَبَّنَآ (اے ہمارے رب) بار بار ربنا سے نداء گڑگڑانے اور تضرع کی دلیل ہے۔ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَانُخْفِیْ وَمَا نُعْلِنُ (بیشک تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں) آپ سرو علانیہ کو جاننے والے ہیں۔ وَمَایَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ (اور اللہ تعالیٰ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں) یہ کلام الٰہی ہے۔ اس میں ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی گئی یا کلام ابراہیم (علیہ السلام) ہے۔ منؔ یہ استغراق کیلئے ہے گویا اس طرح فرمایا اللہ تعالیٰ پر جو چیز بھی ہو مخفی نہیں۔
Ayah 14:3939: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ (تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے بڑھاپے میں مجھے عطاء کیا) علیؔ مع کے معنی میں ہے اور یہ موضع حال میں ہے یعنی اس نے مجھے عطاء کیا اس حال میں کہ میں بوڑھا تھا اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ (اسماعیل اور اسحاق) روایت میں ہے کہ جب اسماعیل ( علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی تو اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 99 ننانوے سال تھی۔ اور اسحاق ( علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت 112 سال تھی روایت تفسیر میں ہے کہ اسماعیل ( علیہ السلام) کی پیدائش 64 سال کی عمر میں اور اسحاق ( علیہ السلام) کی پیدائش 90 سال کی عمر میں تھی۔ کبر ؔ بڑھاپے کا ذکر اس لئے کیا کیونکہ اس حالت میں لڑکا عطاء کیا جانے کا احسان اس سے بڑھ کر ہے کیونکہ ولادت سے مایوسی کی عمر یہی ہے اور مایوسی کے بعد اگر کامیابی میسر ہوجائے تو یہ بڑی عظیم الشان نعمت ہے۔ اور اس عمر میں ولادت ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے ایک نشان نبوت تھا۔ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآئِ (بیشک میرا رب ضرور دعائوں کو سننے والا ہے) دعائوں کو قبول کرنے والا۔ جیسے کہ کہتے ہیں : سمع الملک کلام فلان۔ جب وہ اسکی بات کو قبول کرے اور اسی سے سمع اللّٰہ لمن حمدہ ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے بیٹامانگا جیسا کہ اس آیت میں ہے : رب ھب لی من الصالحین ] الصافات : 100[ پس انہوں نے بطور شکریہ نعمت کے یہ الفاظ کہے۔ سمع کی اضافت دعا کی طرف اضافت صفت الی المفعول کی قسم میں سے ہے اور اسکی اصل لسمیع الدعاء ہے۔ سیبویہ (رح) نے فعیلاً کا وزن من جملہ ان بنائوں میں درج کیا ہے جو مبالغہ کیلئے آتے اور فعل جیسا عمل کرتے ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے : ھذا رحیم اباہ۔ اس کا باپ بہت مہربان ہے۔
Ayah 14:4040: رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ (اے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا دے اور میری اولاد میں سے بھی) مِنْ تبعیضیہ ہے۔ بعض اولاد مراد ہے۔ اجعلنی کے منصوب پر عطف ہے اور بعض اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کی اولاد میں کفار ہونگے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد میں قیامت تک لوگ فطرت پر قائم رہیں گے رَبَّنَا وَتَقَبَّلَ دُعَآئِ (اے ہمارے رب تو دعا کو قبول فرما)
قراءت : مکی نے وصل، وقف میں یاءؔ کے ساتھ پڑھا ابو عمرو نے اسکی موافقت کی۔ اور حمزہ نے وصل میں اسی طرح کہا باقی قراء نے بغیر یاؔ ء کے پڑھا ہے ای استجب دعائی او عبادتی۔ واعتزلکم وما تدعون من دون اللّٰہ ] مریم : 48[
Ayah 14:4141: رَبَّنَااغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ (اے میرے رب ! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے) آدم و حواء مراد ہیں۔ نمبر 2۔ اپنے والد کے ایمان سے مایوس اور دعا کی ممانعت سے قبل یہ دعا کی جیسا دوسری آیت میں ہے۔ ماکان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ (الاٰیۃ) وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ ( اور ایمان والوں کو بخش دے قیامت کے دن) یعنی جس دن حساب ثابت ہوگا نمبر 2۔ حساب کی طرف قیام کی نسبت اسناد مجازی ہے جیسے وسئل القریۃ ] یوسف : 82[ میں ہے۔
Ayah 14:42آپ انہیں ڈرائیں اللہ تعالیٰ ان کی حالت سے واقف ہے ‘ وہ انہیں سمجھ لے گا :
42: وَلَاتَحْسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ (تو ہرگز اللہ تعالیٰ کو بیخبر نہ سمجھ ان کاموں سے جو ظالم کرتے ہیں) اس میں مظلوم کو تسلی دی اور ظالم کو ڈرایا۔ اس میں خطاب دوسروں کو کیا گیا۔ اگر رسول مراد ہوں تو مراد اس سے آپ کو ثابت قدم کرنا ہے۔ اس بات پر کہ جس پر آپ قائم تھے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے ولا تکونن من المشرکین ] الانعام : 14[ فلا تدع مع اللّٰہ الٰھا اٰخر ] الشعراء : 213[ جیسا کہ امر کی صورت میں اس آیت میں فرمایا۔ یٰایھا الذین اٰمنوا امنوا باللّٰہ ورسولہٖ ] النساء : 136[ اس سے مراد یہ اعلان کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی کرتوتوں سے واقف ہے۔ اور ان کی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ وہ ان کے قلیل و کثیر پر سزا دیگا۔ یہ گویا بطور وعیدو تہدید فرمایا جیسا کہ اس آیت میں ہے واللہ بما تعملون علیم ] البقرہ : 283[ اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ (بیشک وہ ان کو مؤخر کررہا ہے) ان کی سزا کو مؤخر کررہا ہے۔ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ (ایسے دن میں جس میں آنکھیں پتھراجائیں گی) یعنی آنکھیں ہولناک منظر کی وجہ سے ایک جگہ قرار نہ پکڑ سکیں گی۔
Ayah 14:4343: مُھْطِعِیْنَ (وہ جلدی کرنیوالے ہونگے) داعی کی آواز کی طرف تیزی سے جانے والے ہونگے۔ مُقْنِعِیْ رُ ئُ وْسِھِمْ (وہ اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہونگے) اوپر اٹھانے والے ہونگیلَا یَرْتَدُّ اِلَیْھِمْ طَرْفُھُمْ (ان کی نگاہ ان کی طرف واپس نہ لوٹے گی) ان کی نگاہ ان کی طرف نہ لوٹے گی کہ وہ اپنے آپ کو دیکھ سکیں۔ وَاَفْئِدَ تُھُمْ ھَوَآ ئٌ (ان کے دل بالکل بدحواس ہونگے) خیر سے خالی ہونگے کوئی چیز خوف کی وجہ سے یاد نہ ہوگی۔ الھواءؔ وہ خلاء جس کو اجرام مشغول نہ کرسکیں پس دلوں کی صفت اس کے ساتھ کی جیسا کہا جاتا ہے قلب فلان ھواء جبکہ وہ بزدل ہو۔ اور اس کے دل میں قوت و جرأت نہ ہو۔ نمبر 3۔ ان کے دل کھوکھلے ہونگے ان میں عقلیں نہ ہونگی۔
Ayah 14:4444: وَاَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْ تِیْہِمُ الْعَذَابُ ( اور تم لوگوں کو اس دن سے ڈرائو جس دن ان پر عذاب آئے گا) قیامت کا دن مراد ہے فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پس ظالم کہہ اٹھیں گے) ظالم سے کفار مراد ہیں۔ رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ (اے ہمارے رب تو ہمیں قریب مدت تک مؤخر کر دے ہم تیری دعوت کو قبول کریں گے۔ اور تیرے رسولوں کی اتباع کریں گے) یعنی ہمیں دنیا کی طرف واپس کر دے۔ ہمیں ایک مدت کی مہلت دے اور ایک زمانہ کی ایک قریبی حدتک تاکہ جو زیادتیاں ہم کرچکے اس کا تدارک کرلیں۔ اور تیری دعوت کو قبول کر کے رسولوں کی اتباع کرلیں اس پر جواب دیا جائے گا۔ اَوَلَمْ تَکُوْنُوْا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَالَکُمْ مِّنْ زَوَالٍ (کیا تم قسمیں نہیں اٹھاتے تھے کہ تم نے زائل نہیں ہونا) تم دنیا میں قسم اٹھاتے تھے کہ جب تم مر جائو گے تو اس حالت سے تم زائل نہ ہو گے اور دوسرے گھر کی طرف منتقل نہ ہوگے یعنی تم نے بعث کا انکار کیا جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ واقسموا باللّٰہ جہد ایمانہم لا یبعث اللّٰہ من یموت ] النحل : 38[ اور مالکمؔ یہ جواب قسم ہے یہاں خطاب کا لفظ اقسمتم لایا گیا اگر دونوں مقسموں کا لفظ حکایۃً لایا جاتا تو اس طرح کہتے مالنا من زوال نمبر 2۔ یوم سے ان کا دنیا میں ہلاکت والا دن مراد ہے۔ نمبر 3۔ شدتِ سکرات کے ساتھ عذاب کی حالت میں ان کی موت کا دن مراد ہے۔ اور ملائکہ کی ملاقات بغیر خوشخبری کے مراد ہے۔ کیونکہ اس دن وہ سوال کریں گے کہ ان کو اللہ تعالیٰ قریب وقت تک مہلت دے دے۔
Ayah 14:4545: وَّ سَکَنْتُمْ فِیْ مَسٰکِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ( اور تم نے رہائش اختیار کی ان لوگوں کے مساکن میں جنہوں نے (کفر) کر کے اپنے اوپر ظلم کیا) کہا جاتا ہے سکن الدار، سکن فیھا اور یہی معنی یہاں ہیں۔ ظلموا انفسہم سے کفر کرنا مراد ہے کیونکہ السکنٰی سکون سے ہے اور وہ ٹھہرنے کو کہتے ہیں۔ اور اصل اس کو فی ؔ کے ساتھ متعدی بنایا گیا جیسا قرفی الدار واقام فیھا لیکن جب اس سے خاص سکون مراد لیا تو اس میں تصرف کردیا پس کہتے ہیں سکن الدار جیسا کہا جاتا ہے تَبَوَّاَھَا۔ ٹھکانہ بنایا سکونت اختیار کی۔
نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ سکنوا سکون سے ہو۔ انہوں نے قرار لیا اور ان میں مطمئن ہوگئے خوش دلی کے ساتھ حالانکہ وہ ان لوگوں کے راستہ پر چل دیے تھے جو ان سے قبل ظلم و فساد کرنے والے تھے۔ وہ ان دنوں کو یاد بھی نہ کرتے تھے جو گزشتہ اقوام کو عذاب کے دنوں میں پیش آیا۔ تاکہ وہ عبرت حاصل کرتے اور ڈرجاتے کہ ان کے ظلم کا انجام کتنا خطر ناک نکلا۔
وَتَبَیَّنَ لَکُمْ (اور ہم نے تمہارے سامنے واضح بیان کردیا) اطلاعات سے نمبر 2۔ مشاہدات سے۔ تبیّن کا فاعل مضمر ہے۔ اس پر کلام خود دلالت کر رہا ہے یعنی ان کا حال تمہارے سامنے خوب واضح ہوا۔ کَیْفَ (کس طرح) یہ فاعل نہیں ہے۔ کیونکہ استفہام میں اس کا ماقبل عمل نہیں کرتا۔ البتہ کیف محلًامنصوب ہے فَعَلْنَا بِہِمْ (ہم نے ان سے کیا کیا) کی وجہ سے ای اہلکناھم وانتقمنا منہم۔ وَضَرَبْنَا لَکُمُ الْاَمْثَالَ ( اور ہم نے تمہارے سامنے مثالیں بیان کیں) یعنی وہ حالات جو ان پر پیش آئے اور جس وجہ سے پیش آئے اور یہ حالات عجیب ہونے میں ہر ظالم کیلئے بیان کی جانیوالی امثلہ کی طرح ہے۔
Ayah 14:46کفار کے بڑے منصوبے :
46: وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ ( اور انہوں نے اپنی سازشیں کیں) یعنی ایسی بڑی سازشیں جس میں انہوں نے اپنی امکانی قوت صرف کردی۔ اور اس سے مراد کفر کی بقاء کے تمام منصوبہ جات ہیں۔ اور اسلام کو باطل کرنے کے ذرائع ہیں۔ وَعِنْدَ اللّٰہِ مَکْرُھُمْ ( اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا فریب درج ہے) یہ فاعل اول کی طرف مضاف ہے مطلب یہ ہے ان کا مکر اللہ تعالیٰ کے ہاں لکھا ہوا ہے۔ وہ ان کو اس کا بدلہ دیں گے جو اس سے بہت بڑا ہوگا۔ نمبر 2۔ یا مفعول کی طرف ای عند اللّٰہ مکرھم الذی یمکرھم بہ اور اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے وہ تدبیر جو ان کے متعلق اختیار کریگا۔ اور اس تدبیر سے وہ عذاب مراد ہے جو ان کی نادانستگی میں آن پہنچے گا۔ وَاِنْ کَانَ مَکْرُھُمْ لِتَزُوْلَ مِنْہُ الْجِبَالُ (اور واقعی ان کی تدبیر اتنی بڑی تھی کہ اس سے پہاڑ بھی ٹل جاتے) اول لام مکسور اور دوسری لام منصوب تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ وان وقع مکر ھم لزول امرا لنبی ﷺ اگرچہ ان کا مکر اسلام کو زائل کرنے کیلئے تھا۔ نبی اکرم ﷺ کو عظمت شان کی وجہ سے جبالؔ سے تعبیر کیا۔ کانتامہ ہے اور ان ؔ نافیہ ہے اور لام ؔ اسکی تاکید کیلئے لائے۔ جیسے اس ارشاد میں وما کان اللّٰہ لیعذبہم ] الانفال : 33[ مطلب یہ ہے یہ بات ناممکن ہے کہ ان کے مکر سے پہاڑ زائل ہوجائیں۔ جبال تمثیل ہے اللہ تعالیٰ کی آیات اور شرائع سے کیونکہ شرائع بمنزلہ مضبوط پہاڑوں کے ہیں۔ جمی ہوئی اور ثابت ہیں۔ قراءت : اسکی دلیل ابن مسعود کی قرائت ہے۔ وما کان مکرھم۔ لام اول مفتوح اور دوسرا لام مرفوع ہے علی (رح) نے یہی پڑھا ہے۔ ای وان کان مکرھم۔ اگرچہ ان کا مکر مضبوطی میں اس درجہ تھا کہ اس کے سامنے پہاڑزائل ہوجائیں۔ اور اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں اِنْؔ مخففہ من المثقلہ ہے اور لام اسکی تائید کر رہی ہے۔
Ayah 14:47اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہوگا :
47: فَـلَا تَحْسَبَنَّ اللّّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ (تم ہرگز نہ گمان کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے کیا جانے والا وعدہ پورا نہ کریں گے) اس سے مراد یہ قول انا لننصررسلنا ] غافر : 51 [ کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی ] المجادلہ : 21[ مُخْلِفَؔ یہ لتحسبنّ کا دوسرا مفعول ہے مخلفؔ کی اضافت وعدہ کی طرف کی اور یہ اس کا دوسرا مفعول ہے اور پہلا مفعول رسلہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے مخلف رسلہ وعدہ یہاں مفعول ثانی کو اول پر مقدم کیا تاکہ یہ بتلا دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ وعدے کی بالکل خلاف ورزی نہیں فرماتے جیسا کہ اس ارشاد میں ان اللّٰہ لایخلف المیعاد ] آل عمران : 9[ پھر فرمایا رُسُلَہٗ تاکہ ظاہر کردیا جائے کہ جب وہ کسی کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ تو رسولوں کے ساتھ کیے جانے والے وعدہ کی خلاف ورزی کیسے متصور ہوسکتی ہے جو کہ اسکی مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں اور چنے ہوئے ہیں اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ (بیشک اللہ تعالیٰ زبردست) ایسا غالب کہ اس کے خلاف تدبیر کام نہیں دے سکتی ذوانْتِقَامٍ (انتقام والے ہیں) اپنے اولیاء کیلئے ان کے دشمنوں سے۔
Ayah 14:48احوالِ قیامت :
48: یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ (جس دن زمین کو زمین سے اور آسمانوں کو تبدیل کردیا جائے گا) نمبر 1۔ انتقام کا ظرف ہونے کی وجہ سے یوم منصوب ہے نمبر 2۔ اذکر کو مضمر مان کر منصوب ہے مطلب یہ ہے کہ جس دن یہ زمین جس کو تم پہچانتے ہو کسی اور زمین سے تبدیل کردی جائے گی غیر ھٰذہ المعروفۃ اس معروفہ زمین کے علاوہ سے اور آسمانوں کو اور آسمانوں سے بدل دیا جائے گا۔ ماقبل کی دلالت کی وجہ سے غیر السموات کو حذف کردیا گیا التبدیلکا معنی تغیر۔ یہ تبدل ذوات میں ہوتا ہے جیسا کہتے ہیں بدلت الدراھم دنا نیر میں نے دراھم کو دنا نیر میں بدل لیا۔ نمبر 2۔ اوصاف میں تبدیلی جیسا کہتے ہیں بدلت الحلقۃ خاتما میں نے حلقہ کی انگوٹھی بنالی جبکہ پگھلا کر انگوٹھی بنالیں۔ گویا ایک شکل سے دوسری شکل بنائی۔
اختلاف : آسمانوں اور زمین کی تبدیلی میں اختلاف ہے۔ نمبر 1۔ اس کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے زمین سے اس کے پہاڑوں کو ہٹادیا جائے گا۔ اور اس کے سمندروں کو پھاڑ کر زمین کو پھیلا کر ختم کردیا جائے گا۔ زمین کو اس طرح برابر کیا جائے گا کہ اسمیں ذرا بھر ٹیٹرھ اور ٹیلہ نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ یہی زمین ہوگی البتہ آسمان کو متغیر و متبدل کردیا جائے گا۔ اس کے ستارے بکھر بکھر جائیں گے اور اس کا سورج روشنی کھو بیٹھے گا اور چاند بےنور ہوجائیگا۔ اور آسمان پھٹ جائیگا اور اسمیں دروازے دروازے ہوجائیں گے۔
نمبر 2۔ اس کے بدلے دوسرا آسمان اور زمین پیدا کی جائیگی حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں کا حشر ایسی زمین پر ہوگا جس پر ایک بھی گناہ نہ ہوا ہوگا اور وہ زمین رنگت میں سفید ہوگی حضرت علی ؓ سے روایت ہے زمین چاندی کی بنائی جائیگی اور آسمان سونے کے۔ وَبَرَزُوْا (اور وہ سامنے آئیں گے) وہ اپنی قبور سے نکلیں گے لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ (ایک اللہ تعالیٰ کیلئے جو کہ اکیلے زبردست ہیں) وہ اس طرح ہے جیسا فرمایا لمن الملک الیوم للّٰہ الواحد القھار ] غافر : 16[ کیونکہ جب مملکت ایک ہی کی ہوگی جو کہ زبردست غلبہ والا ہے جس کو مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔ پس اس کے سواء اور کوئی مستغاث نہ ہوگا۔ اور معاملہ بہت سخت ہوگا۔
Ayah 14:4949: وَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ (تم اے مخاطب مجرموں کو دیکھو گے) مجرمین سے کفار مراد ہیں۔ یَوْمَئِذٍ (اس دن) قیامت کے دن مُّقَرَّنِیْنَ ( اس حال میں کہ وہ جکڑے ہوئے ہونگے) ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کر ملائے جائیں گے نمبر 2۔ شیاطین کے ساتھ باندھے جائیں گے۔ نمبر 3۔ ان کے ہاتھوں کو ٹانگوں کے ساتھ زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا۔ فِی الْاَصْفَادِ (زنجیروں میں) یہ مقرنینؔ کے متعلق ہے ان کو زنجیروں میں باندھا جائے گا۔ نمبر 2۔ اس سے متعلق نہیں۔ مطلب اس طرح ہوگا ان کو زنجیروں میں باندھ کر ملایا جائے گا الاصفادؔ۔ نمبر 1۔ بیڑیاں نمبر 2۔ طوق۔
Ayah 14:5050: سَرَابِیْلُھُمْ (ان کے کرتے) ان کے قمیص مِّنْ قَطِرَانٍ (گندھک سے) ابہل کے درخت کا نچوڑا ہوا دودھ جس کو پکا کر خارشی اونٹوں کے جسم پر مالش کی جاتی ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ خارش پر لگائیں تو اس کو اپنی تیزی اور حرارت کی وجہ سے جلا دیتا ہے اسمیں آگ جلد اثر کرتی ہے۔ اس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے۔ بدبو تیز۔ اس سے جہنم والوں کی کھالوں پر مالش کی جائے گی۔ یہاں تک یہ مالش قمیص کی طرح ہوجائے گی۔ تاکہ ان کے جسم پر گندھک کا چمٹنا اور جلن جمع ہوجائے اور ان کے چمڑوں کو جلد آگ لگے اور ان کا رنگ و حشت ناک اور جسم بدبودار ہوجائے۔ دونوں گندھکوں میں آسمان و زمین کا فرق ہے اور ہر وہ جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ یا آخرت میں جس سے ڈرایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسی جنس کی چیز سے وضاحت فرمائی جو ہمارے مشاہدہ میں ہے۔ اور ایسی چیز واضح کی جس کی حیثیت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ گویا ہمارے ہاں تو فقط نام ہیں۔ مسمیات تو اس جگہ ہیں نعوذ باللّٰہ من سخطہ وعذابہ۔
قراءت : مِّنْ قَطِرَآنٍ زید نے یعقوب سے اسی طرح روایت کیا اور کہا کہ وہ پگھلا تانبا جس کی حرارت ہر تن تک پہنچنے والی ہوگی۔ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰی وَجُوْھَھُمُ النَّارُ (اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی) اپنے شعلوں کے ساتھ بلند ہوگی وجہؔ کو خاص کیا کیونکہ ظاہری بدن میں یہ معزز ترین حصہ ہے جیسا کہ دل باطن میں اس لئے فرمایا تطلع علی الافئدۃ ] الہمزہ : 7[
Ayah 14:51قیامت جزائے اعمال کیلئے ہے :
51: لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ (تاکہ اللہ تعالیٰ ہر نفس کو وہ بدلہ دے جو اس نے کمایا) تاکہ مجرمین سے وہ سلوک کیا جائے جو انہوں نے کیا اور ہر نفس کو وہ عزت ملے جو اس نے کمائی۔ نمبر 2۔ ہر نفس کو اللہ تعالیٰ بدلہ دے خواہ وہ نفس مجرم ہو یا مطیع کیونکہ جب وہ مجرمین کو ان کے جرائم کی سزا دے گا۔ تو اس سے خود معلوم ہوگیا کہ وہ مومنین کو ان کی طاعات پر ضرور صلہ دیگا۔ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والے ہیں) تمام بندوں کا حساب پلک جھپک سے پہلے لے لے گا۔
Ayah 14:5252: ھٰذَا (یہ) جس کا بیان ولا تحسبن سے سریع الحساب تک ہوا۔ بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ (پوری بات ہے لوگوں کیلئے) وعظ و نصیحت کیلئے کافی ہے۔ وَلِیُنْذَرُوْا بِہٖ (اور تاکہ اس کے ذریعہ ڈرا یا جائے) اس پوری بات کے ذریعہ۔
نحو : اس کا عطف محذوف پر ہے ای لینصحوا ولینذروا۔ وَلِیَعْلَمُوْا اَنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّ احِدٌ (تاکہ وہ جان لیں کہ بیشک وہی ایک معبود ہے) کیونکہ جب وہ ڈریں گے اس چیز سے جس سے ان کو انذار کیا گیا ہے تو خوف ان کو غور و فکر کی طرف لے جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ توحید تک پہنچ جائیں گے کیونکہ خشیت تمام بھلائیوں کی جڑ اور بنیاد ہے۔ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ( اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں) عقلوں والے۔
سورة ابراہیم کا تفسیری ترجمہ بروز بدھ 1423 ھ شعبان مکمل ہوا الحمد للہ اولا ًو اٰخراً