13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر (اے محمد ﷺ یہ کتاب (الہٰی) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

1: الٓمّرٰاللہ تعالیٰ ہی اسکی مراد کو جانتا اور دیکھتا ہیتِلْکَ ٰایٰتُ الْکِتٰبِ ۔ ترجمہ یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے تلکؔ سے آیات سورت کی طرف اشارہ ہے الکتابؔ سے سورة مراد ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے تلک الاٰیات اٰیات السورۃ الکاملۃ العجیبۃ فی بابھا۔ یہ آیات اس سورت کی آیات ہیں جو کہ اپنے باب میں کامل وعجیب ہے۔ وَالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (اور وہ جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا گیا) یعنی تمام قرآن الْحَقُّ (سچا ہے) یہ خبر ہے اور الذی الایۃ یہ مبتداء ہے وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُوْنَ (لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے) وہ یہ کہتے ہیں کہ محمد اسکو بنا لائے ہیں۔ پھر ان چیزوں کا ذکر کیا جن پر ایمان واجب ہے پس فرمایا۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے۔ (اس طرح) وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو۔

قدرت الٰہی کے نمونے : 2: اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا) اللہؔ مبتداء ہے اور الذی رفع السٰمٰوت اس کی خبر ہے۔ بِغَیْرِ عَمَدٍ (بغیر ستون کے) یہ عماد یا عمود کی جمع ہے یہ حال ہے تَرَوْنَھَا (جو تم کو نظر آرہے ہیں) ھاؔ ضمیر آسمانوں کی طرف لوٹتی ہے یعنی تم انکو اسی طرح دیکھتے ہو بیان کی ضرورت نہیں نمبر 2۔ ضمیر عمد کی طرف ہے اس صورت میں یہ موضع جر میں ہے اس لئے کہ عمد کی صفت ہے یعنی بغیر عمدمرئیہ نظر آنے والے ستونوں کے بغیر ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (پھر عرش پر مستوی ہوا) اقتدار و نفوذ سلطنت سے استیلاء کیا وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا) بندوں کے فوائد اور علاقوں کی مصلحت میں کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَ جَلٍ مُّسَمًّی (ہر ایک ان میں سے ایک وقت مقررہ کیلئے چل رہا ہے) وہ اجل دنیا کا ختم ہونا ہے۔ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ (وہ معاملات کی تدبیر کرتا ہے) اپنی ملکوت اور ربوبیت کے معاملے کی۔ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ (وہ آیات کو کھول کر (اپنی نازل شدہ کتابوں میں) بیان کرتا ہے) لَعَلَّکُمْ بِلِقَآ ئِ رَبِّکُمْ تُوْقِنُوْنَ (تاکہ تمہیں اپنی رب کی ملاقات پر یقین ہو) تاکہ تمہیں یقین آجائے کہ ایسے مدبر اور مفصل کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے۔ اور ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن لباس پہناتا ہے غور کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

3: وَھُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ (وہی ذات ہے جس نے زمین کو بچھایا) وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ (اور زمین میں پہاڑ بنائے) زمین پر جم جانے والے پہاڑ وَاَنْھٰرًا (اور نہریں) جاری وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ (اور زمین میں ہر طرح کے پھلوں کی دو قسمیں پیدا کیں) یعنی سیاہ، سفید، میٹھے، کھٹے، چھوٹے، بڑے اور جو اسکے مشابہ ہیں۔ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ (ڈھانپ دیتا ہے دن کو رات سے) روشنی سفیدی کو رات پہنا دیتا ہے جس سے وہ سیاہ اندھیر بن جاتی ہے قراءت : حمزہ، علی، ابوبکر نے یُغشّی پڑھا ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (بیشک اسمیں البتہ نشانیاں ہیں سوچ و بچار کرنے والے لوگوں کیلئے) پس وہ جانتے ہیں کہ انکا ایک بنانے والا ہے جو قادر مطلق علم و حکمت والا ہے۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجودیہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

4: وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ (اور زمین میں پاس پاس ملے ہوئے زمین کے ٹکڑے ہیں) زمین کے قطعات مختلف ہیں حالانکہ وہ بالکل قریب قریب ملے ہوئے ہیں۔ کوئی عمدہ پیدا وار والے اور شوریلے کوئی عمدہ اور کوئی کم پانی والے کوئی سخت اور کوئی نرم۔ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ اسکی تدبیر کرنے والا قدرت و ارادہ والا ہے۔ وہ افعال کو اپنی مرضی سے ایک سے دوسرے انداز میں ڈھال دینے والا ہے اور وَجَنّٰتٌ (اور باغات) جَنّٰتٌ کا عطف قِطَعٌ ؔ پر ہے۔ یعنی زمین میں باغات ہیں الاٰیۃ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ (انگوروں کے اور کھیتیاں اور کھجوریں دو شاخ والی اور ایک تنے والی) قراءت : مکی، بصری، حفص نے قطع کا معطوف قرار دیکر مرفوع پڑھا ہے۔ اور دوسروں نے خبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اعنابؔ پر عطف کیا ہے اور الصنوان جمع صنو ہے۔ وہ کھجور جو ایک تنے سے دو شاخہ بن جائے۔ حفص نے صنوان کو ضمہ صاد سے پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ یُّسْقٰی بِمَآ ئٍ وَّاحِدٍ (انکو ایک پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ ) قراءت : عاصم و شامی نے یا سے پڑھا ہے اور تاؔ والی قراءت ابن کثیر، نافع کی ہے۔ وَنُفَضِّلُ بَعْضَھَا عَلٰی بَعْضٍ (ہم ایک کو دوسرے پر فضیلت دیتے ہیں) ۔ قراءت : حمزہ اور علی نے یاؔ سے پڑھا ہے۔ فِی الْاُکُلِ (پھل میں) مقدار، مزہ رنگ، بو قراءت : نا فع اور مکی نے کاف کے سکون سے پڑھا ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ( بیشک اس میں عقل والے لوگوں کیلئے نشانات ہیں) حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں دل آثار و انوار اور اسرار میں اسی طرح مختلف ہیں جس طرح زمین کے مختلف حصے انہار و ازہار، پھل میں مختلف ہیں۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہونگے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہونگے۔ اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔

اگر ان سب کا خالق ہے تو اعادئہ انسان کیوں ناممکن : 5: وَاِنْ تَعْجَبْ (اگر تمہیں تعجب ہو) اے محمد ﷺ اگر آپ انکے انکار بعث والے قول پر تعجب کرتے ہیں۔ فَعَجَبٌ قَوْلُھُمْ (تو انکا یہ قول تعجب کے قابل ہے) یہ خبر اور مبتداء ہے یعنی انکا قول اس قابل ہے کہ اس پر تعجب کیا جائے کیونکہ یہ تمام چیزیں پیدا کرسکتا ہے تو اسکو انکا دوبارہ لوٹانا تو آسان تر ہے۔ اور سہل ترین ہے پس ان منکرین کا انکار تو عجوبہ کائنات ہے۔ ئَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا ئَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ (جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا نئے سرے سے پیدا ہوں گے) قراءت : عاصم، حمزہ نے ہر ایک کو دو ہمزہ سے پڑھا ہے۔ اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِھِّمْ (یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا) وہ کافر اپنے کفر میں ضد اختیار کرنے والے ہیں۔ وَاُولٰٓئِکَ الْاَغْلٰلُ فِیْ اَعْنَاقِھِمْ (یہ وہ لوگ ہیں کہ جنکی گردنوں میں طوق ہونگے) اس میں وعید ہے۔ نمبر 2۔ انکے اصرار کو اس طرح ذکر کیا ( گویا گمراہی کے طوق انکے گلے میں لٹکے ہیں) وَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) اولٰٓئِکؔ کو دو مرتبہ ذکر کرکے معاملے کی ہولناکی کو بتلانا مقصود ہے۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔

مطالبہ عذاب کا جواب : 6: وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ (یہ لوگ آپ سے مصیبت جلد مانگتے ہیں بھلائی سے پہلے) عافیت کا وقت ختم ہونے سے پہلے عذاب کو مانگتے ہیں اور اسکا معاملہ اس طرح پیش آیا کہ انہوں نے رسول اللہ سے سوال کیا کہ ہم پر عذاب لے آئو۔ اور یہ بات آپکے انذار کا مذاق اڑاتے ہوئے کہی وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھِمُ الْمَثُلٰتُ (حالانکہ ان سے پہلے واقعات عقوبت گزر چکے) سزائیں جو ان جیسے مکذبین کو پیش آئیں۔ انکو کیا ہوا کہ یہ عبرت نہیں پکڑتے ورنہ یہ استہزاء نہ کرتے۔ المثلہ۔ سزا۔ اسکو المثلہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جرم اور مجرم میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ جیسا اس آیت میں جزاء سیئۃ سیئَۃ مثلھا۔ ] الشورٰی : 40[ وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْمَغْفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِھِمْ (اور بیشک آپکا رب یقینا لوگوں کی خطائیں باوجود انکی بےجا حرکتوں کے معاف کردیتا ہے) علیٰؔ، مَعَ کے معنی میں یعنی گناہ کے ذریعہ اپنے نفسوں پر ظلم کے باوجود۔ یہ محلًا حال ہے۔ ای ظالمین لانفسہم اس حالت میں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں سدی کہتے ہیں مومنین پر۔ یہ کتاب اللہ کی سب سے زیادہ امید بخش آیت ہے۔ اس حیثیت سے کہ ظلم کے باوجود مغفرت کو ذکر فرمایا۔ جبکہ وہ بغیر توبہ ہو۔ توبہ گناہ کو اٹھا دیتی اور زائل کردیتی ہے۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ (بیشک آپکا رب البتہ سخت بدلہ لینے والا ہے) نمبر 1۔ کافروں سے نمبر 2۔ یہ دونوں مومنین سے متعلق ہوں تو مشیّت سے متعلق ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے یغفرلمن یشاء ویعذب من یشاء۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر ﷺ پر اس کے پروردگار کیطرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ سو (اے محمد ﷺ تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کیلئے رہنما ہوا کرتا ہے۔

من پسند نشانی کیوں نہیں لائے ؟ 7: وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ (اور کافر کہتے ہیں کیونکر اس پر اتاری نہیں جاتی کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے) رسول اللہ ﷺ پر اتاری جانے والی آیات کو کافر درخور اعتناء ہی نہ سمجھتے۔ عناد سے انکار کرتے خود پسند معجزات موسٰی و عیسیٰ (علیہما السلام) جیسے عصا کا سانپ بن جانا مردوں کا زندہ ہونا۔ وغیرہ کے طلب گار تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا گیا۔ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ (بیشک آپ ڈرانے والے ہیں) بیشک آپکو منذر بنا کر بھیجا گیا۔ برے انجام سے آپ انکو ڈرانے والے اور دوسرے رسولوں کی طرح خیر خواہی کرنے والے ہیں اور آپکے ذمہ صرف وہ بات ہے کہ جس سے آپکا رسول منذر ہونا ثابت ہو اور یہ کسی ایک نشانی سے بھی ہوسکتا ہے۔ دعوٰی رسالت کے صحیح ثبوت کیلئے تمام نشانات برابر ہیں۔ وَّ لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ (اور ہر قوم کیلئے ایک ہادی ہوا) انبیاء (علیہم السلام) میں سے جو انکو دین قویم کی طرف راہ دکھلاتا رہا۔ اور اپنی مخصوص ملنے والی آیات سے انکو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتارہا مطلوبہ فرمائشی معجزات کسی نے بھی پیش نہیں کیے۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

علم الٰہی بےپایاں ہے : 8: اَللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰی وَمَاتَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ (اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو کچھ کسی مادہ کو حمل رہتا ہے اور جو کچھ رحم میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے) ان تین مقامات میں ما ؔ موصولہ ہے تو مطلب یہ ہوگا جس چیز کو مادہ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہوتی ہے نر یا مادہ ایک یا متعدد۔ سالم الاعضاء بچہ یا ناقص، خوبصورت، بد صورت، لمبا، چھوٹا وغیر ذلک اور جسکو رحم گھٹاتے ہیں یعنی وہ جانتا ہے جسکو وہ کم کرتا ہے۔ تغیضؔ کا معنی کم کرنا کہتے ہیں غاض الماء و غضتہ انا۔ پانی گھٹ گیا اور میں نے اسکو کم کیا ماتزدادُ جو وہ بڑھتے ہیں یا بڑھاتے ہیں مراد نمبر 1۔ اس سے لڑکے کی تعداد کہ ایک، دو ، تین، چار یا نمبر 2 لڑکے کا جسم تام ہے یا ناقص یا نمبر 3۔ مدت ولادت نو ماہ سے کم اور دو سال تک زیادہ سے زیادہ عندنا۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک چار سال، امام مالک کے ہاں 5 سال تک۔ ماؔ مصدر یہ ہو تو معنی یہ ہے ہر مؤنث کے حاملہ ہونے کی اور رحموں کے گھٹنے اور انکے بڑھنے کو جانتا ہے۔ وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ ( اور ہر چیز اسکے ہاں مقدار کے ساتھ ہے) ایک اندازے اور حد تک ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتی اور نہ کم ہوتی ہے جیسا اس ارشاد میں انا کل شیء خلقنٰہ بقدر ] القمر : 49[
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ دانائے نہاں و آشکار ہے۔ سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے۔

9: عٰلِمُ الْغَیْبِ (وہ غیب کا جاننے والا ہے) غیب سے مراد جو مخلوق سے پوشیدہ ہے وَالشَّھَادَۃِ (اور سامنے والی چیز کو) جسکا وہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ الْکَبِیْرُ (عظمت والی) بڑی شان والی جس سے ہر چیز کم ہے۔ الْمُتَعَالِ (عالی شان ذات ہے) ہر شئی سے اپنی قدرت کے ساتھ بلند وبالا۔ نمبر 2۔ مخلوقات کی تعریف سے بلندو بالا اور عالی شان ہے۔ دونوں حالتوں میں مکی یاؔ سے پڑھتے ہیں یعنی وصل و وقف کی حالت۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں۔ چھپ جائے یا دن (کی روشنی) میں کھلم کھلا چل پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے۔

10: سَوَآ ئٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَ بِہٖ (جوشخص تم میں سے کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے یہ سب برابر ہیں) اللہ تعالیٰ کے علم میں وَمَنْ ھُوَ مُسْتَخْفٍم بِالَّیْلِ (اور جو شخص رات کو چھپنے والا ہو) مستخف کا معنی چھپنے والا وَسَارِبٌم بِالنَّھَارِ ( اور جو دن میں چلے) اپنے راستہ پر چلنے والا ہو اور سامنے جانے والا ہو۔ کہا جاتا ہے سرب فی الارض سروبا اور ساربؔ کا عطف من ہو مُسْتَخْفٍپر ہے صرفمُسْتَخْفٍپر نہیں ہے نمبر 2۔ مُسْتَخْفٍ پر ہو تو من ؔ دو کے معنی میں ہے۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اسکے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار رہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔

1 1: لَہٗ (اسکے لئے ہے) ہٗ کی ضمیر منؔ کی طرف لوٹتی ہے گویا اس طرح فرمایا لمن اسرّومن جھرومن استخفٰی و من سرب مُعَقِّبٰتٌ (حفاظتی فرشتے) فرشتوں کی وہ جماعتیں جو حفاظت میں باری باری آتی ہیں۔ اصل معتقبات تھا تاؔ کو قاف ؔ میں ادغام کردیا۔ نمبر 2۔ یہ عقبہ سے مفعّلات کا وزن ہے جبکہ وہ اسکے پیچھے آئے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ نمبر 3۔ کیونکہ وہ کلام کرنے کے بعد آکر اس بات کو لکھ لیتے ہیں۔ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ (سامنے اور پیچھے سے) یعنی اسکے آگے اور پیچھے یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ (وہ اسکی حفاظت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے) یہ دونوں اکٹھی مل کر صفتیں ہیں۔ من امر اللّٰہ یہ یحفظون کا صلہ نہیں۔ گویا تقدیر عبارت اس طرح ہے لہ معقبات من امر اللّٰہ۔ نمبر 2۔ یحفظونہ من اجل امر اللّٰہ ای من اجل ان اللّٰہ تعالیٰ امر ھم بحفظہٖ ۔ اس خاطر کہ اللہ تعالیٰ نے انکو اسکی حفاظت کا حکم فرمایا ہے۔ نمبر 3۔ یحفظون من بأس اللّٰہ و نقمتہ اذا اذنب بدعائھم لہ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور عذاب سے اسکی حفاظت کرتے ہیں اسکو پکارنے کے سبب سے جبکہ وہ گناہ کرلیتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَابِقَوْمٍ (بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی (اچھی) حالت کو (بری) حالت سے نہیں بدلتا) ماؔ سے مراد عافیت و نعمت ہے حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ یہاں تک وہ اپنی (اچھی) حالت کو نہیں بدلتے) اچھی حالت میں کثرت معاصی کے ذریعہ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْئً ا (جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرلیتا ہے) سوء سے عذاب مراد ہے۔ فَلَامَرَدَّلَہٗ (تو اسکے بچنے کی کوئی صورت نہیں) اسکو کوئی چیز دور نہیں کرسکتی وَمَالَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍ (اور اللہ تعالیٰ کے سوا انکا کوئی مددگار نہیں رہتا) اللہ تعالیٰ کے سوا جو انکے معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان سے عذاب کو ہٹائے۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔

قدرتِ باری تعالیٰ کا نمونہ : 12: ھُوَ الَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا (وہی ذات ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کیلئے بجلی دکھاتا ہے) خوفًا و طمعًا یہ دونوں البرقؔ سے حال ہیں۔ گویا کہ وہ ذاتی اعتبار سے نرا خوف اور طمع ہے۔ نمبر 2۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : ذاخوف حذف مضاف کے ساتھ۔ خوف والے اور طمع والے ہوتے ہو۔ یعنی مخاطبین خوف والے اور طمع والے ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ بجلی کے چمکنے سے بجلی کے گرنے کا خطرہ اور بارش کی طمع رکھتے ہیں۔ ابو الطیب نے کہا وہ ایسا نوجوان ہے جو سیاہ بادل کی طرح ہے کہ جس کو طوفان کا خطرہ اور بارش کی امید ہے۔ اسکے عطیہ کی امید اور گرجوں کا ڈر ہے۔ اور بارش سے وہ ڈرتا ہے جس کا اسمیں نقصان ہو جیسے مسافر اور جسکا گھر ٹپکتا ہو۔ اور وہ شہری لوگ کہ بارش سے نفع نہیں اٹھاتے اور بارش کی طمع وہ رکھتے ہیں جنکو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ وَّ یُنْشِیُٔ السَّحَابَ (وہ بادلوں کو اٹھاتا ہے) السحاب یہ اسم جنس ہے اور اسکا واحد سحابۃ ہے۔ الثِّقَالَ (جو بھاری ہوتے ہیں) پانی کے ساتھ۔ الثقال جمع ثقیلہ ہے جیسا کہ تم کہو سحابۃ ثقیلۃ و سحاب ثقال۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اور فرشتے سب اسکے خوف سے اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے۔

13: وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ (اور رعد فرشتہ اسکی پاکیزگی اسکی تعریف کے ساتھ بیان کرتا ہے) گرج کو سننے والے بارش کے امیدوار بندے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں۔ یعنی سبحان اللہ اور الحمد للہ کے کلمات بولتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ بادل پر مقرر فرشتہ رعد ہے۔ اور اسکے پاس آگ کے کوڑے ہیں جن سے وہ بادلوں کو ہنکاتا ہے اور یہ سنائی دینے والی آواز بادلوں کو دی جانے والی جھڑکی ہے جو اس وقت دی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ منزل مامور پر پہنچ جائیں۔ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ (اور فرشتے اسکے خوف سے) تقدیرعبارت اس طرح ہے ویسبح الملا ئکۃ من ھیبتہٖ واجلالہ ملائکہ اسکے خوف و اجلال کی وجہ سے تسبیح کرتے ہیں۔ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ (اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے پس جس پر چاہتا ہے انکو گراتا ہے) الصاعقہؔ وہ آگ جو آسمان سے گرے۔ جب علم الٰہی کا تذکرہ ہوا جو کہ ہر چیز میں نافذ ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں ظاہر و خفی برابر ہیں۔ اور اس بات کا تذکرہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی ظاہر قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہے تو فرمایا وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنے والے ہیں) یعنی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑتے ہیں کہ اللہ کا رسول تو بعث و اعادہ خلق کو بیان کرتا ہے اور یہ اسکا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں من یحییٰ العظام وھی رمیم ] یٰسٓ: 78[ اور بہت سے معبود مان کرو حدانیت کا انکار کرتے ہیں۔ اور الملائکۃ بنات اللہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کو منجملہ اجسام میں سے قرار دیتے ہیں۔ نمبر 2۔ وائو حالیہ ہے۔ وہ بجلی اللہ تعالیٰ جس پر چاہتے ہیں حالت جدال میں گراتے ہیں۔ اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ لبیدبن ربیعہ عامری کا بھائی اربد، عامر بن طفیل کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ارادئہ قتل لیکر آئے۔ عامر کو اونٹ جیسی گلٹی نکلی اور وہ ایک سلولی عورت کے گھر میں مرگیا۔ اور اربد پر بجلی گری جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ اربد نے یہ گستاخانہ کلمہ کہا تھا اخبرنی عن ربنا امن نحاس ھوام من حدید ] ابو یعلی فی مسندہٖ [ وَھُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِ (حالانکہ وہ بڑی سخت قوت والا ہے) المحال بمعنی المماحلہ ہے اور وہ سخت تدبیر و مقابلہ کو کہتے ہیں اسی سے تمحل لکذاجب کہ وہ حیلہ کے استعمال میں تکلف کرے۔ اور خوب محنت کرے۔ محل فلان کہتے ہیں اذا کا دہٗ جب خفیہ تدبیر کرے اور بادشاہ کے ہاں اسکی چغلی کرے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو ہلاک کرنے کی خفیہ مضبوط تدابیر کرنے والا ہے۔ جہاں سے انکو گمان بھی نہیں ہوتا۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے۔ اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے۔ مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دو رہی سے) اس کے منہ تک آپہنچے۔ حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا۔ اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے۔

سچی پکار اللہ تعالیٰ کی : 14: لَہٗ دَعْوَ ۃُ الْحَقِّ (سچا پکارنا اسی کیلئے خاص ہے) دعوت کی اضافت حق کی طرف کی گئی جو کہ باطل کی ضد ہے تاکہ دعوت کا حق کے ساتھ ملا ہو اہونا اور باطل سے الگ ہونا معلوم ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارا جاتا ہے تو وہ پکارنے والے کی پکار کو قبول کرتا اور اسکا مطلوب اسے عنایت فرماتا ہے یہ پکار حق کے ساتھ اس لئے ملی ہوئی تھی کیونکہ اسکی ذات اسکے لائق ہے کہ دعا کو اسکی طرف متوجہ کیا جائے کیونکہ اسکی پکار میں فائدہ اور نفع ہے بخلاف انکی پکار کے جنکی پکار سے کوئی فائدہ نہیں۔ شدید المحال اور لہ دعوۃ الحق کا ماقبل سے تعلق واقعہ اربد کے سلسلہ میں تو ظاہر ہے۔ کیونکہ اس پر بجلی کا پڑنا اللہ تعالیٰ کی قوت اور خفیہ تدبیر پر دلالت کررہا ہے کہ اسکو خبر بھی نہ ملی اور وہ ہلاک ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسکے اور اسکے ساتھی کے متعلق یہ بددعا فرمائی۔ اللّٰھم اخسفھما بما شئتیہ سچی بددعا ان دونوں کے حق میں منظورہوئی۔ اس میں کفار مکہ کے لئے شدید وعید ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے انکے حق میں بددعا کردی تو وہ قبول ہوجائے گی۔ وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (اور جن کو یہ کفار) اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں) لَایَسْتَجِیْبُوْنَ لَھُمْ بِشَیْئٍ (وہ انکے لئے انکی درخواست کو ذرہ بھر قبول نہیں کرسکتے) انکی مطلوبہ اشیاء میں سے اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلَی الْمَآئِِ لِیَبْلُغَ فَاہُ ( مگر اس شخص کی طرح جو اپنی ہتھیلیوں کو پانی کی طرف پھیلانے والا ہوتا ہے کہ وہ اسکے منہ کو پہنچ جائے) یہ لایستجیبون کے مصدر استجابۃ سے استثناء ہے۔ کیونکہ فعل اپنے حروف سے مصدر اور اپنے صیغہ سے زمانہ اور اپنی ضرورت سے مکان اور حال پر دلالت کرتا ہے اسی لئے تمام کا فعل سے استثناء جائز ہے۔ پس تقدیر عبارت یہ ہے۔ لا یستجیبون استجابۃ الا استجابۃ کا ستجابۃ باسط کفیہ الی الماء ای کا ستجابۃ الماء لمن بسط کفیہ الیہ یطلب منہ ان یبلغ فاہ والماء جماد لا یشعر ببسط کفیہ ولا بعطشہ وحاجتہ الیہ ولا یقدر ان یجیب دعاءہ و یبلغ فاہ وکذلک مایدعونہ جماد لا یحسّ بدعا ئہم ولا یستطیع اجابتھم ولا یقدر علی نفعھم وہ کوئی استجابت نہیں کرسکتے مگر ایسی استجابت جو اس شخص جیسی ہو جو پانی کی طرف دونوں ہتھیلیاں پھیلانے والا ہو۔ یعنی اسکی استجابت پانی کی استجابت کے مشابہ ہے اس شخص کیلئے جو اپنی ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلا کر مطالبہ کر رہا ہو کہ وہ پانی اسکے منہ کو پہنچ جائے جبکہ پانی تو جماد ہے۔ اسکے ہاتھ پھیلانے اور اسکی پیاس اور ضرورت کو نہیں جانتا اور نہ اسکی پکار کا جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے اور نہ ہی اسکے منہ تک خود پہنچنے کی اسمیں طاقت ہے اسی طرح جن کو وہ پکارتے ہیں جماد ہے انکی پکار کو محسوس نہیں کرتا اور نہ ہی اس میں قبولیت کی استطاعت اور نفع کی قدرت ہے لیبلغ کی لام بباسط کفیہ کے متعلق ہے۔ وَمَا ھُوَ بِبَا لِغِہٖ ( اور وہ اسکو پہنچنے والا نہیں) پانی اسکے منہ کو پہنچنے والا نہیں۔ وَ مَادُعَآ ئُ الْکٰفِرِیْنِ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ (اور کافروں کا پکارنا محض بےکار ہے) ضائع ہے اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کو پکاریں تو وہ (انکے کفر کی وجہ سے) قبول نہیں کرتا اور اگر وہ بتوں کو پکاریں تو وہ قبولیت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ اور ان کے سامنے بھی صبح وشام (سجدے کرتے) ہیں۔

سب اللہ کے مطیع : 15: وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرنے والے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں) عبادت و اطاعت کا سجدہ طَوْعًا (خوشی سے) یہ حال ہے منؔ سے ملائکہ اور مومنین مراد ہیں۔ وَّکَرْھًا (مجبوری سے) منافق و کفار سختی و تنگی کی حالت میں وَّظِلٰلُھُمْ (اور انکے سائے) اسکا عطف منؔ پر ہے۔ ظلال جمع ظل ہے (سایہ) بِالْغُدُوِّ (صبح کے وقت) یہ غداۃ کی جمع جیسے قُنِیَّ وقناۃ وَالْاٰصَالِ (اور شام کے وقت) یہ جمع اصل جمع اصیل ہے ایک قول یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ اللہ تعالیٰ کو صبح و شام سجدہ کرتا ہے اور کافر کا سایہ مجبوراً سجدہ کرتا ہے کیونکہ کافر کو یہ ناپسند ہے۔ اور مومن کا سایہ خوشی سے سجدہ کرتا ہے کیونکہ مومن اطاعت کرنے والا ہے۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ (تم ہی انکی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتے ؟ (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں ؟ یا اندھیرا اور اجالا برابر ہوسکتا ہے ؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنیوالا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے۔

16: قُل مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قُلِ اللّٰہُ (اس میں انکے اعتراف کو بیان کیا کیونکہ جب انہیں من رب السمٰوٰت والارض کہہ کر سوال کریں تو مجبوراً انکو جواب میں اللہ کہنا پڑتا ہے۔ اسکی دلیل ابن مسعود اور ابی کی قراءت قالوا اللہ ہے۔ نمبر 2۔ یہ تلقین ہے یعنی اگر وہ جواب نہ دیں تو تلقین کرو اللہ رب السمٰوٰت والارض۔ اس لئے کہ اسکا جواب اسکے سوا اور کچھ نہیں۔ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئََ (کہہ دیں کیا تم نے پھر بھی اسکے سوا اور کارساز بنا لئے) کیا اس بات کو جاننے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا رب ہے تم نے اسکے سوا کارساز بنا لیے ہیں۔ لَایَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِھِمْ نَفْعًا وَّ لَاضَرًّا (جنکا اپنا نفع و نقصان بھی اپنے اختیار میں نہیں) وہ طاقت نہیں رکھتے اپنے نفسوں کے متعلق کہ انکو نفع پہنچائیں یا اپنے نفوس سے ضرر کو دور کرسکیں پھر دوسروں کو نفع و نقصان کی طاقت کس طرح ان میں ہوسکتی ہے۔ حالانکہ تم نے تو انکو خالق، رازق، المثیب، العاقب ذات پر ترجیح دے رکھی ہے۔ تم کس قدر کھلی گمراہی میں مبتلا ہو۔ مشرک و مومن برابر نہیں : قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ (کہہ دیں کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں) یعنی کافر و مومن نمبر 2۔ جو کچھ نہ دیکھتا ہو اور جس ذات پر کوئی چیز مخفی نہ ہو۔ اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ (یاتار یکیاں اور روشنی برابر ہے) یعنی کفر اور ایمان۔ قراءت : حفص کے علاوہ کو فی قراء نے یستوی پڑھا ہے۔ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ (یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنالئے) اَمْ ، بَلْکے معنی میں ہے بلکہ کیا انہوں نے بنا لئے شریک ؟ ہمزہ انکار کیلئے ہے۔ خَلَقُوْ ا کَخَلْقِہٖ (انہوں نے کسی چیز کو پیدا کیا ہو جیسا خدا نے پیدا کیا) اسکے پیدا کرنے کی طرح پیدا کیا ہو یہ شرکاء کی صفت ہے یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں بنایا ایسے شرکاء کو جو پیدا کرنے والے ہوں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے کی طرح پیدا کیا ہو۔ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَیْھِمْ (کہ دونوں کی مخلوق میں تشابہ پیدا ہوگیا ہو) کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی مخلوق، شرکاء کی مخلوق سے رل مل گئی کہ جس سے انکو یہ کہنا پڑا۔ ہمارے شرکاء پیدا کرنے پر اسی طرح قدرت رکھتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ اس لئے یہ عبادت کے حقدار بن گئے اور ہم نے انکو اسکا شریک قراردیکر انکی اسی طرح عبادت شروع کردی جیسا اسکی عبادت کی جاتی ہے لیکن انہوں نے تو عاجزوں کو شریک بنایا جو اس کی قدرت بھی نہیں رکھتے جو مخلوق کو قدرت حاصل ہے۔ چہ جائے کہ انکو وہ قدرت حاصل ہو جو خالق کو ہے۔ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ (کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے) یعنی اجسام و اعراض کا خالق ہے۔ غیر اللہ خالق نہیں ہیں۔ مخلوق میں اسکا شریک بننا درست بھی نہیں۔ پس عبادت میں اسکا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے کے افعال کا خالق نہیں۔ بلکہ بندے خود ان افعال کے خالق ہیں تو انکے اس قول کے مطابق مخلوق کے مشابہ مخلوق ہوگئی۔ وَّھُوَا لْوَاحِدُ (اور وہی یکتا ہے) ربوبیت میں یگانہ ہے۔ الْقَھَّارُ وہ مغلوب نہیں ہوتا۔ اسکے علاوہ تمام مربوب اور مقہور ہیں۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے۔ پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح (خدا) صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)

حق و باطل کی مثال : 17: اَنْزَلَ (اس نے اتارا) ۔ واحدقہار اور وہ اللہ سبحانہ ٗو تعالیٰ ہے مِنَ السَّمَآئِ (آسمان سے) یعنی بادلوں سے مَآ ئً (پانی) بارش فَسَالَتْ اَوْدِیَۃٌ 0 بِقَدَرِ ہَا (بس بہہ پڑیں وادیاں اپنی مقدار کے مطابق) اس مقدار کے مطابق جسکے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ کس قدر نفع بخش ہے نقصان دینے والی نہیں۔ فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ (سیلاب نے اٹھایا) یعنی بلند کیا۔ زَبَدًا (جھاگ) مطلب یہ ہے اس پر جھاگ بلند ہوئی۔ رَّابِیًا (پانی کے اوپر بلندہونے والا) پھولنے والا۔ سیلاب کی سطح پر بلند ہونے والا۔ وَمِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْہِ (جن چیزوں کو آگ میں تپاتے ہیں) قراءت : ابو بکرکے علاوہ کوفی قراء نے یوقدون پڑھا اور ابن کثیر، ابن عامر، عاصم وغیرہ نے توقدون پڑھا۔ من ؔ نمبر 1۔ ابتدائیہ ہے۔ مطلب یہ ہے اس سے بھی جھاگ پیدا ہوتی ہے جو پانی کی جھاگ جیسی ہوتی ہے۔ نمبر 2۔ تبعیضیہ ہے اور اسکا بعض حصہ جھاگ ہے۔ فِی النَّارِ یہ علیہ کی ضمیرہ ٖسے حال ہے۔ تقدیراسطرح ہے ومما یوقدون علیہ ثابتًا فی النار۔ جس پر آگ جلاتے ہیں اس حال میں کہ وہ آگ میں قائم رہنے والی ہے۔ ابْتِغَآئَ حِلْیَۃٍ (زیور بنانے کیلئے) زیوربنانے کی خاطر۔ نحو : یہ مصدر ہے جو کہ تو قدون کی ضمیر سے حال واقع ہورہا ہے۔ اَوْ مَتَاعٍ (یا سامان) لوہے، تانبے پیتل وغیرہ جن سے برتن بنتے ہیں اور وہ چیز جن سے سفر وحضر میں فائدہ اٹھایا جاتا ہے وہ بنتی ہیں۔ اسکا عطف حِلْیَۃؔ پر ہے۔ زینت کی چیزیں سونے اور چاندی سے زَبَدٌ (جھاگ) مِّثْلُہٗ (اسکی مثل ) نحو : زبدٌمبتداء موصوف مثلہ اسکی صفت، مما یوقدون اسکی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دھاتوں پر بھی پگھلاتے وقت پانی جیسی جھاگ آتی ہے۔ کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ (اسی طرح اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثال بیان کرتے ہیں) یعنی حق و باطل کی مثال فَاَمَّاالزَّبَدُ فَیَذْ ھَبُ جُفَآئً (پھر جھاگ خشک ہو کر ختم ہوجاتا ہے) جُفاء ً یہ حال ہے۔ اس حال میں کہ وہ بکھرنے والی ہے۔ یہ وہ جھاگ ہے جسکو جوش کے وقت ہنڈیا پھینکتی ہے۔ اور سمندر طغیانی کے وقت اوپر لاتا ہے۔ الجفّ ، کا معنی خشک ہونا، پھینکنا ٗ جیسا کہتے ہیں۔ جفأت الرجل اے صرعتہ وَاَمَّا مَایَنْفَعُ النَّاسَ (اور پھر وہ لوگوں کے لئے فائدہ مند ہے) یعنی پانی، زیور، برتن فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْض (پس وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے) پانی چشموں، کنوؤں، غلہ جات، فروٹ میں برابر برقرار رہتا ہے۔ اسی طرح جو اہر زمین میں طویل مدت باقی پڑے رہتے ہیں۔ کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ (اسی طرح اللہ تعالیٰ مثالیں بیان کرتے ہیں) اسی طرح اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ حق باطل سے ظاہر وجدا ہوجائے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مثال اللہ تعالیٰ نے حق اور اہل حق اور باطل اور باطل پرستوں کی بیان فرمائی ہے۔ حق کی مثال : حق اور اہل حق کی مثال اس پانی سے دی جو آسمان سے اترتا ہے۔ پھر وہ لوگوں کی وادیوں میں بہتا ہے اس سے لوگ زمین کو زندہ کرتے اور قسما قسم کے منافع حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح دھات سے تشبیہ دی۔ جس سے لوگ زیور، برتن، مختلف آلات، مشینریاں بناتے ہیں۔ یہ دھاتیں زمین میں ظاہر اً مختلف صورت میں باقی رہنے والی ہیں پانی تو منافع کی صورت میں اور جواہر طویل و دراز زمانوں تک باقی رہتے ہیں باطل کو جلدی مضمحل ہونے اور جلد زائل ہونے میں جھاگ سے تشبیہ دی جس کو پھینک دیا جاتا ہے اور دھاتوں کی جھاگ سے جو پگھلاتے وقت ابھر کر بیکار ہوجاتا ہے۔ بقول جمہور : یہ مثال اللہ تعالیٰ نے قرآن اور قلوب کی اور حق و باطل کی بیان فرمائی۔ الماء قرآن مجید ہے جو باغات کیلئے زندگی ہے جیسا کہ پانی ابدان کیلئے اور قلوب کو اَوْدِیَہ سے اب بِقَدَرِھَا ؔ کا مطلب دل کی وسعت و تنگی کے مطابق اور الزبدؔ دل میں آنے والے خیالات اور شیطان کے وساوس۔ حق کی مثال صاف نفع بخش پانی کی طرح ہے۔ جس طرح میل دور ہوجاتی ہے باطل اسی طرح ہے اور صاف پانی باقی رہتا ہے اسی طرح نفسانی خیالات اور وساوس شیطانی ختم ہوجاتے ہیں اور اصل حق باقی رہتا ہے۔ باقی سونے، چاندی کے زیور یہ عمدہ احوال۔ پاکیزہ اخلاق باقی لوہا، تانبا، پیتل یہ ان اعمال کی مثال ہے جو اخلاص کے ساتھ اخلاص کیلئے بنائے گئے۔ اعمال ثواب کو کھینچنے والے اور عقاب کو دور کرنے والے ہیں۔ جس طرح کہ ان میں سے بعض جواہر کمائی کرنے کا ذریعہ ہیں اور بعض لڑائی میں دفاع کا آلہ ہیں۔ الزبدؔ یہ ریاکاری، نقصان، اکتاہٹ، سستی ہے۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ ہی اتنے اور (نجات کے) بدلے میں صرف کر ڈالیں (مگر نجات کہاں ؟ ) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا انجام : 18: لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا (اور وہ لوگ جنہوں نے مان لیا) اسکی لام یضرب سے متعلق ہے استجابوا یہ اجابوا کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کذلک یضرب اللّٰہ الا مثال للمؤمنین الذین استجابوا اسی طرح اللہ تعالیٰ ان مومنین کیلئے مثالیں بیان کرتے ہیں جنہوں نے قبول کیا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰی (اپنے رب کی بات انکے لئے اچھابدلہ ہے) استجابو ا کے مصدر کی صفت ہے ای استجابوا الاستجابۃ الحسنٰی۔ انہوں نے قبول کیا اچھی طرح قبول کرنا۔ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہٗٗ ( اور وہ لوگ جنہوں نے قبول نہیں کیا اسکو) یعنی ان کافروں کیلئے جنہوں نے نہیں مانا۔ یہ دونوں گروہوں کی مثال ہے۔ لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لَافْتَدَوْ ا بِہٖ (اگر انکے پاس دنیا بھر کی چیزیں ہوں اور اسکے ساتھ اتنی اور بھی ہوں تو وہ سب اپنی رہائی کیلئے دے ڈالیں گے) مگر انکی رہائی نہ ہوگی یہ ابتدائی کلام ہے۔ جسمیں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو قبول نہ کرنیوالے ہیں یعنی اگر وہ تمام دنیا کے اموال کے مالک بنا دیئے جائیں اور اتنا کچھ اور بھی انکی ملک میں آجائے۔ انکو کہا جائے کہ عذاب سے بچنے کیلئے یہ تمام مال دے دو تو عذاب کو دور کرنے کیلئے وہ تمام مال بھی خرچ کر ڈالیں گے اور درست ترین بات یہ ہے کہ کلام امثال پر پورا ہوگیا۔ اور بعد والا کلام جملہ مستانفہ ہے۔ الحسنی مبتداء للذین استجابو اسکی خبر ہے۔ نحو : مطلب یہ ہے انکو اچھا بدلہ ملے گا۔ اور وہ جنت ہے۔ والذین لم یستجیبوا متبداء ہے لو ان لہم الخ اسکی خبر ہے۔ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ سُوْئُ الْحِسَابِ (ان لوگوں کا سخت حساب ہوگا) حساب میں مناقشہ کیا جائے گا۔ حدیث میں ہے من نوقش فی الحساب عُذِّب ] بخاری [ جس سے حساب پوچھ لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا ہوگیا۔ وَمَاْ وٰٹھُمْ جَھَنَّمُ (اوراُ نکا ٹھکانہ جہنم ہے) محاسبہ کے بعد انکا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے۔ وَبِئْسَ الْمِھَادُ (اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے) ۔ مخصوص بالذم محذوف ہے۔ یعنی جہنم۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔

19: اَفَمَنْ یَّعْلَمُ (جو شخص یہ جانتا ہے) ہمزہ انکار کیلئے ہے اور اسکو فاؔ پر اس لئے داخل کیا گیا تاکہ مثال بیان کرنے کے بعد اس شبہ میں مبتلا ہونے سے بچایا جائے۔ کہ اس علم والے کا حال جو یہ جانتا ہے اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ (کہ تیری طرف تیرے رب کی طرف سے حق اترا ہے۔ ) اور اس نے اس حق کو قبول کرلیا ہے۔ وہ جاہل کے حال سے مختلف ہے جو کچھ بھی بصیرت نہیں رکھتا پھر وہ بات مانتا ہے۔ اور یہی مطلب اس آیت کا ہے۔ کَمَنْ ھُوَاَعْمٰی (اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کہ اندھا ہو) انکے مابین پانی اور جھاگ والا فرق اور میل کچیل اور خالص دھات کے مابین والا فرق ہے۔ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَ لْبَابِ (عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں) یعنی وہ لوگ جو اپنی عقول کے فیصلوں پر عمل کرتے اور غور و فکر کرتے ہیں۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے۔

اولو الالباب کی صفات : 20: الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ (وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا کرتے ہیں) نحو : یہ مبتداء ہے اور اولئک لھم عقبی الدار اسکی خبر ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت والذین ینقضون عہد اللّٰہ۔ مبتداء اور اولٰٓئک لھم اللعنۃ خبر ہے ] الرعد : 25[ بعض نے کہا یہ اولی الالباب کی صفت ہے مگر پہلی صورت زیادہ وقیع ہے۔ عہد اللہ سے مراد شہادت ربوبیت والا معاہدہ ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں واشہد ھم علٰی انفسہم الست بربکم قالوا بلٰی ] الاعراف : 172 [ وَلَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَ (اور وہ پختہ عہد کو نہیں توڑتے) وہ پختہ عہد جو انہوں نے اپنے نفسوں سے لیا۔ اور قبول کیا یعنی ایمان باللہ اور بندوں کے درمیان کئے جانے والے معاہدے۔ اولًا خاص ذکر کیا پھر عام مواثیق کا ذکر کیا۔
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کا جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

21: وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ (اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو جسکے ملانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا) یعنی ارحام و قرابتیں اس میں قرابت رسول ﷺ اور قرابت مومنین جو ایمان کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے وہ شامل ہے جیسا اس آیت میں ہے۔ انما المومنون اخوۃ ] الحجرات : 10[ وصلؔ کا مطلب طاقت کے مطابق انکے ساتھ احسان کرنا اور انکی معاونت کرنا، ان سے ظلم کو دفع کرنا اور ان پر شفقت کرنا اور ان کو کھل کر سلام کہنا انکے بیمار کی تیمار داری کرنا اور انہی میں سے ایک حق دوستوں کے حق کی رعایت، خدام کا خیال، پڑوسیوں کا لحاظ، رفقائے سفر کے ساتھ سلوک بھی شامل ہے۔ وَیَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ (اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں) اسکی تمام وعیدوں سے وَیَخَافُوْنَ سُوْئَ الْحِسَابِ (اور وہ برے حساب سے ڈرتے ہیں) خاص طور پر وہ اپنے نفوس کا محاسبہ، محاسبہ سے پہلے کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

22: وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا (اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا) یہ ان تمام مصائب پر حاوی ہے جو نفوس اور اموال پر دکھ برداشت کرنے کی صورت میں آتے ہیں۔ ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِّہِمْ (اپنے رب کی رضا مندی چاہنے کیلئے) نہ اس لئے کہ کہا جائے کہ یہ کتنا بڑا صابر ہے۔ اور کتنا مصائب کو اٹھانے والا اور مذلۃ الا قدام مواقع پر ثابت قدم رہنے والا ہے اور نہ ہی اس لئے کہ گھبراہٹ میں عیب نہ لگایا جائے۔ (بلکہ اس لئے تاکہ اللہ راضی ہوجائے) وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ (اور نماز کو قائم کیا) اسکی اقامت پر مداومت اختیار کی۔ وَاَنَْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ (اور اس میں سے خرچ کیا جو ہم نے انکو رزق دیا) یعنی حلال اگرچہ حرام بھی ہمارے نزدیک رزق ہے سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً (پوشیدہ اور ظاہر) اس میں نوافل بھی شامل ہیں کیونکہ وہ پوشیدہ افضل ہیں۔ اور فرائض سرعام افضل ہیں تاکہ اس پر یہ شبہ نہ ہو کہ یہ فرائض کا تارک ہے۔ وَّ یَدْ رَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ (اور وہ دور کرتے ہیں نیکی سے بدی کو) جو غلط بات انکو کہی جاتی ہے اسکا جواب اچھائی سے دیتے ہیں۔ نمبر 2۔ جب انکو محروم کیا جائے تو دیتے ہیں اور جب ان پر ظلم ہو تو وہ معاف کرتے ہیں۔ جب ان سے قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ اور جب گناہ کرتے ہیں تو توبہ کرلیتے ہیں اور وہ اطاعت سے بھاگ پڑیں تو واپس لوٹ آتے ہیں۔ جب کوئی برائی دیکھتے ہیں تو اسکی تبدیلی کا حکم دیتے ہیں۔ یہ وہ آٹھ اعمال ہیں جو جنت کے آٹھ دروازوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ (ان لوگوں کیلئے نیک انجام ہے) دنیا کا انجام اور وہ جنت ہے کیونکہ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ دنیا کا انجام بنے اور دنیا والوں کے لوٹنے کا ٹھکانہ ہو۔
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) جو ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہونگے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے انکے پاس آئینگے

23: جَنّٰتُ عَدْنٍ (ہمیشہ کے باغات) یہ عقبی الدار سے بدل ہے۔ یَّدْ خُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ (وہ اسمیں داخل ہونگے اور وہ جو لائق ہونگے) یعنی ایمان لائیں گے مِنْ اٰبَآ ئِ ھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِھِمْ (انکے آبائو اجداد اور انکی بیویوں اور انکی اولاد میں سے) قراءت : صَلُح بھی پڑھا گیا مگر فتحہ لام زیادہ فصیح ہے۔ اور منؔ، یدخلونھا کی ضمیر پر عطف ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ کیونکہ ضمیر مفعول فاصل بن گیا ہے۔ زجاج نے اسکے مفعول معہ ہونے کو جائز قرار دیا۔ اور صلاح کی صفت کے ساتھ اسکو ذکر کیا۔ تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ نسب فقط فائدہ مند نہیں اور مراد ہر ایک کے ماں، باپ ہیں۔ اگرچہ ذکر تغلیباً آباء کا ہی کیا گیا۔ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ (اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر داخل ہونگے) ہر دن ورات کی مقدار میں تین مرتبہ ہدایا پیش کریں گے اور رضائے الٰہی کی بشارتیں لائیں گے۔
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے۔

24: سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ (تم پر سلام ہو) یہ موضع حال میں ہے اس لئے کہ معنی یہ ہے قائلین سلام علیکم یا مسلمین۔ اس حال میں کہ کہہ رہے ہونگے تم پر سلام ہو یا اس حال میں کہ سلام کرنے والے ہونگے۔ بِمَا صَبَرْ تُمْ (تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے) یہ ثواب تمہیں اس لئے ملا کہ تم نے خواہشات سے صبر کیا نمبر 2۔ یا اللہ تعالیٰ کے حکم پر جمے رہنے کی وجہ سے یا نمبر 3۔ تم پر ہم سلام کرتے اور تمہارا اکرام تمہارے صبر کی وجہ سے کر رہے ہیں راجح ؔ ان میں سب سے بہتر پہلا قول ہے۔ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ (پس اس جہاں میں تمہارا یہ انجام بہت اچھا ہے) یعنی جنات کے باغات۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اسکو توڑ ڈالتے اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے۔ اور انکے لئے گھر بھی برا ہے

وعدہ توڑنے والوں کا انجام : 25: وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں) اس کے بعد کہ انہوں نے اس وعدہ کو اعتراف و قبولیت سے مضبوط کیا ہے۔ وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ (اور وہ قطع کرتے ہیں اس کو کہ جسکے ملانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور وہ زمین میں فساد کرتے ہیں) کفر اور ظلم کر کے اُولٰٓئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ (ان لوگوں پر لعنت ہے) رحمت سے دوری وَلَھُمْ سُوْئُ الدَّارِ (اور انکے لئے برا گھر ہے) یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں دنیا کے برے انجام کا ذکر ہو۔ کیونکہ یہ عقبی الدار کے مقابلہ میں ہے اور دار سے جہنم بھی مراد ہوسکتی ہے اور سوءؔ سے اسکا عذاب مراد ہوگا۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ اور (کافر لوگ) دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں۔ اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے۔

26: اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشََآ ئُ وَیَقْدِرُ (اللہ تعالیٰ ہی روزی کو کھولتے ہیں جسکے لئے چاہتے اور تنگ کرتے ہیں) یعنی اور تنگ کرتے ہیں جسکے لئے چاہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ اکیلے ہی رزق کو کھولنے اور تنگ کرنے والے ہیں اور کوئی نہیں وَفَرِحُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اور وہ دنیا کی زندگی پر اتراتے ہیں) اس وجہ سے کہ اللہ نے انکو دنیا کی وسعت دے رکھی ہے یہاں فرح سے تکبرو غرور مراد ہے۔ فرح و سرور مراد نہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام سے حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ لوگ شکریہ سے اسکا سامنا نہیں کرتے۔ تاکہ آخرت میں نعمتوں سے اجر پاسکیں۔ وَمَاالْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ (اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں صرف سامان ہے) ان کے سامنے یہ بات مخفی ہے کہ دنیا کی نعمتیں آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں معمولی چیز ہیں اور ان سے نفع اندوزی مسافر کی اس چند کھجوروں جیسی ہے جو تیزی میں چلتے چلتے لے لیتا ہے یا ستو کا گھونٹ ہے۔
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور جو (اسکی طرف) رجوع ہوتا ہے اسکو اپنی طرف کا راستہ دکھاتا ہے۔

کفار کا اعتراض : 27: وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِہٖ (اور کہتے ہیں کافر کیوں نہیں اتاری جاتی اس پر کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے) وہ نشانی جو ہم مانگتے ہیں۔ قُلْ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآ ئُ ( کہہ دیں بیشک اللہ تعالیٰ جسکو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے) معجزات کے ظہور کے بعد منہ مانگی نشانیوں کا مطالبہ کر کے۔ وَیَھْدِیْ اِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ (اور وہ راہنمائی کرتا ہے اسکی طرف اسکو جو متوجہ ہوتا ہے) اور اپنے دین کی طرف اسکی راہنمائی کرتا ہے جو دل سے اسکی طرف رجوع کرے۔
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

28: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (وہ لوگ جو ایمان لائے) ھم مبتداء مخدوف اور یہ خبر یا من کا بدل ہو کر محلاً منصوب ہے وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ (ان کے دل مطمئن ہوجاتے ہیں) تسکین حاصل کرتے ہیں۔ بِذِکْرِ اللّٰہِ (اللہ کے ذکر کے ساتھ) ہمیشہ یا نمبر 2۔ قرآن کے ساتھ نمبر 3۔ اسکے وعدوں کے ساتھ اَ لَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (خبردار اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سبب دل مطمئن ہوتے ہیں) اسکی یاد کی وجہ سے مسلمانوں کے دل مطمئن ہوتے ہیں۔
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔

29: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے) یہ مبتداء ہے اور طوبٰی لھم اسکی خبر ہے۔ طُوْبٰی لَھُمْ (انکے لئے خوشی ہے) یہ طاب سے مصدر ہے جیسے بشرٰی مطلب یہ ہے طوبٰی لک تیرے لئے اچھائی ہے۔ اصبت خیرًا و طیباً میں نے بھلائی و پاکیزگی کو پالیا۔ نحو : اسکا مقام نصب یا رفع ہے جیسے کہیں طیباً لک۔ طیب لک۔ سلاماً لک وسلام لک۔ لھمکا لام بیان کیلئے ہے۔ اسکی مثال سقیالک۔ طوبیٰ میں واؤ اصل میں یاؔ ہے جو ماقبل ضمیر کی وجہ سے وائو بن گئی ہے جیسا موقن اصل میں مُیْقِنٌ ہے۔ وَحُسْنُ مَاٰ بٍ (اچھی لوٹنے کی جگہ) ماب لوٹنے کی جگہ رفع و نصب اسکی محلیت پر دلالت کرتا ہے۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو ۔ اور یہ لوگ رحمن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

30: کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰـکَ (اسی طرح ہم نے بھیجا) اس بھیجنے کی طرح ارسلناک (ہم نے آپ کو بھیجا) اس طرح بھیجنا کہ جسکو تمام ارسالات پر فوقیت حاصل ہے۔ پھر اسکی تفصیل اسطرح فرمائی۔ فِیْ اُمَّۃٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھَآ اُمَمٌ (ایسی امت میں کہ گزر چکیں اس سے پہلے امتیں) آپ کو ایسی امت میں بھیجا کہ جس امت سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکیں۔ یہ آخری امت ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ لِّتَتْلُوَاعَلَیْہِمُ الَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (تاکہ آپ ان پر وہ پڑھیں جو ہم نے آپکی طرف وحی کی) تاکہ آپ انکے سامنے وہ عظیم الشان کتاب پڑھیں جو ہم نے آپکی طرف وحی کی۔ وَھُمْ یَکْفُرُوْنَ (حالانکہ وہ انکاری ہیں) انکا حال یہ ہے کہ یہ رحمان کے منکر ہیں بِالرَّحْمٰنِ (رحمان کے) بلیغ رحمت والا جسکی رحمت ہر چیز پر چھانے والی ہو۔ قُلْ ھُوَ رَبِّیْ (کہہ دیں کہ وہ میرا رب ہے) اور ہر چیز کا رب ہے۔ لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (اسکے سوا کوئی معبود نہیں) وہ اکیلا میرا رب ہے۔ اور شرکاء سے بلند وبالا ہے۔ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ (اسی ہی پر میں نے بھروسہ کیا) تمہارے خلاف اپنی مدد میں وَاِلَیْہِ مَتَابِ (اور اسی ہی کی طرف لوٹنا ہے) میرا لوٹنا۔ تمہاری طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر مجھے ثواب دے گا۔ قراءت : یعقوب۔ وقف ووصل کی دونوں حالتوں میں متابی، عقابی، مآبی پڑھتے ہیں۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بیشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔

قرآن سے ناممکن کام کردیئے جائیں تب بھی نہ مانیں گے : 31: وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ (اگر قرآن کے ذریعہ سے پہاڑوں کو چلا دیا جائے) جگہ سے ہٹا کر پھیلا دیا جائے۔ اَوْقُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ (یا زمین بھی طے کی جاسکتی ہو) یہاں تک کہ زمین پھٹ جائے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زائل ہوجائے۔ اَوْکُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی (یا اس سے مردوں سے بات کی جائے) وہ سنتے اور جواب دیتے تو یہ قرآن ہوتا کیونکہ یہ تذکیر میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے تخویف وانذار میں آخری درجہ کو پہنچا ہے۔ لَوْ ۔ؔ کا جواب محذوف ہے۔ یا نمبر 2۔ ولو ان قرآناً وقع بہ تسییر الجبال وتقطیع الارضو تکلیم الموتٰی و تنبیئھم لما اٰمنوا بہ ولما تنبھواعلیہ۔ اگر قرآن سے پہاڑوں کا چلانا، زمین کا طے کرنا، مردوں کا بات کرنا اور انکا خبردار کرنا واقع ہوجائے تب بھی ایمان نہ لائیں گے اور نہ متنبہ ہونگے جیسا کہ فرمایا ولو اننا نزلنا الیہم الملائکۃ ] الانعام : 11[ بَلْ لِّلّٰہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا (بلکہ تمام اختیار اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے) بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت ہے اور اسکو ان نشانات کے پیدا کرنے کی قدرت ہے جو تم اپنے منہ مانگ رہے ہو۔ اہل ایمان کو تسلی : اَفَلَمْ یَا یْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (کیا ناامید نہیں ہوتے ایمان والے) (ان کفار کے ایمان لانے سے) ۔ افلم یایئس یہ افلم یعلم کے معنی میں ہے اور یہ نخع قبیلہ کی لغت میں ہے ایک قول یہ ہے کہ یاؔ یئس علم کے معنی میں اس لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں علم کا معنی پایا جاتا ہے۔ کیونکہ یائس عن الشی کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ چیز نہ ہوگی جیسا کہ نسیان ترک کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں ترک کا معنی پایا جاتا ہے۔ اور اسکی دلیل قراءت علی ؓ افلم یتبیّن ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کاتب نے یہ لکھ دیا جبکہ وہ اونگھ رہے تھے پورا اونگھنا۔ مگر اسکے افتراء و بہتان ہونے میں شک نہیں اَنْ لَّوْیَشَآ ئُ اللّٰہُ لَھَدَی النَّاسَ جَمِیْعًاط وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُھُمْ بِمَا صَنَعُوْا (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام لوگوں کو ہدایت دیتے۔ اور ان کافروں کو تو ہمیشہ یہ حالت پیش آتی ہے۔ کہ انکے کردار کی وجہ سے کوئی نہ کوئی حادثہ پڑا رہتا ہے) انکے کفر کی وجہ سے اور بداعمالیوں کی وجہ سے قَارِعَۃٌ (آفت) ایسی مصیبت جو انکو کھٹکھٹاتی ہے اس چیز کے ذریعہ جس سے ہر وقت ان پر مختلف قسم کے مصائب اور دکھ اترتے ہیں اور انکی اولاد واموال ان مصائب کا شکار بنتے ہیں۔ اَوْتَحُلُّ قَرِیبًا مِّنْ دَارِھِمْ (یا وہ عذاب انکی بستی کے قریب اترتا رہتا ہے) یا وہ مصیبت انکے قریب اترتی ہے جس سے وہ گھبراہٹ میں مبتلا ہوتے ہیں اور اسکے شرارے اڑ کر ان پر گرتے ہیں۔ اور اسکا شران تک آپہنچتا ہے۔ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰہِ (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا قیامت والا وعدہ آجائے) انکی موت آئے یا قیامت برپا ہو نمبر 3۔ کفار مکہ کو اس تکذیب اور سلوک کی بناء پر جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا۔ کھٹکھٹا دینے والی مصیبت ان پر اترتی رہے گی۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا لشکر مکہ کے اردگرد حملہ آور ہو کر بعض کفار کو اچکتا رہتا ہے۔ یا آپ اے محمد ﷺ اپنا لشکر لیکر انکے گھروں کے قریب ڈیرہ زن ہونگے۔ جیسا حدیبیہ میں ہوا۔ حتّٰی یاتی وعد اللّٰہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا قیامت والا وعدہ آئے۔ وعد اللہ سے مراد فتح مکہ ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (بیشک اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے) یعنی اسکے وعدہ میں خلاف ورزی ناممکن ہے۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا ؟

تسلی رسول ﷺ : 32: وَلَقَدِ اسْتُہْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَ مْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (تحقیق آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ استہزاء کیا گیا پھر میں نے کافروں کو ڈھیل دی) الاملاء۔ مہلت دینا ایک مدت کیلئے امن وامان میں چھوڑ دینا۔ ثُمَّ اَخَذْ تُھُمْ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ (پھر میں نے انکو پکڑا پس میری سزا کیسی رہی) یہ کفار مکہ کو وعید ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے بطور استہزاء آئے روز جو نشانات مانگتے تھے اسکا جواب اور آپ ﷺ کو تسلی دی۔