Ayah 12:1عظمت قرآن :
1: الٓرٰ ۔ اللہ اعلم بمرادہٖ ۔ تِلْکَ ٰایٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ (یہ واضح کتاب کی آیات ہیں) تلک سے اس سورت کی آیات کی طرف اشارہ ہے۔ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ سے سورت مراد ہے۔ یعنی یہ آیات وہ ہیں جو آپ کی طرف اس سورت میں اتاری گئیں۔ سورت کی آیات کا معاملہ اعجاز کے لحاظ سے غالب ہے۔ نمبر 2۔ یہ آیات اس پر اعجاز کو ظاہر کرتی ہیں جو ان میں غورو تدبر کرے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ انسانوں کی طرف سے نہیں نمبر 3۔ یہ ایسی واضح آیات ہیں کہ جنکے معانی اہل عرب پر مشتبہ نہیں کیونکہ یہ انہی کی زبان میں ہے۔ نمبر 4۔ ان آیات میں یہود کے اس سوال کو کھولا گیا جو انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سلسلہ میں کیا۔ روایت میں ہے کہ علمائے یہود نے مشرکین سے کہا کہ محمد سے سوال کرو۔ آل یعقوب شام سے مصر میں کیوں منتقل ہوئی۔ اور یوسف (علیہ السلام) کا کیا واقعہ ہے۔
Ayah 12:22: اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا (ہم نے اسکواتارا ہے قرآن عربی زبان کا) یعنی اس کتاب کو جس میں یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ ہے اس حال میں اتارا ہے کہ یہ قرآن عربی ہے قرآن کے بعض حصہ کو قرآن کہا کیونکہ قرآن اسم جنس ہے۔ یہ سارے قرآن پر بھی بولا جاتا ہے اور بعض حصہ پر بھی لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (تاکہ تم سمجھو) تاکہ تم اس کے معانی سمجھو۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا وَلَوْجَعَلْنَاہُ قُرْٰانًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ ٰایَاتُہٗ ] فصلت : 24[
Ayah 12:33: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَص (ہم تمہیں بہترین قصہ بیان کرتے ہیں) ہم آپ کو بہترین بیان سے وضاحت کرتے ہیں۔ القا ص ؔ۔ جو واقعہ کو صحیح طور پر بیان کرے یہ زجاج کا قول ہے ایک قول یہ ہے۔ القصص مصدر ہے اور اقتصاص کے معنی میں ہے۔ جیسے تم کہو قص الحدیث یقصہ قصصا اس نے بات کو بیان کیا۔ یہ فعل بمعنی مفعول ہے جیسا نفض اور الحسب بمعنی منقوص اور محسوب۔ اول صورت میں معنی نحن نقص علیک احسن اقتصاص ہم بیان کرتے ہیں تم پر بہترین بیان۔
بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ھٰذَا القُرْاٰنَ ( اس سبب سے کہ ہم نے قرآن کو بذریعہ وحی آپ کی طرف بھیجا) یعنی اس سبب سے کہ ہم نے تیری طرف وحی کی ہے یہ سورة ۔ اس طرح احسن مصدر کی وجہ سے منصوب ہے اور مصدر اس کا مضاف الیہ ہے۔ اور مقصوص محذوف ہے کیونکہ بما اوحینا الیک ہذا القران نے اس سے مستغنی کردیا۔ اور احسن الاقتصاص سے مراد اس کا انوکھے انداز سے اور عجیب اسلوب سے بیان کرنا ہے۔ پہلی کتابوں میں اس قسم کا انداز بیان تو کیا اس کے قریب بھی نہیں پایا جاتا اور اگر قصص سے مقصوص مراد ہو تو معنی یہ ہوگا۔ ہم تمہیں ان باتوں میں جو بیان کی جاتی ہیں بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں۔
احسن کی وجہ :
نمبر 1۔ عبرتوں پر مشتمل ہے۔ نمبر 2۔ حکمتوں کا مرقع نمبر 3۔ اس میں وہ عجائبات ہیں جو اوروں میں نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ اس باب میں جتنے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ ان میں احسن ہے جیساکہتے ہیں فلان اعلم الناس یعنی اپنے فن میں اور القصص کا لفظ یہ قص اثرہٗ سے مشتق ہے جبکہ اسکی اتباع کرلے کیونکہ جو بات کو بیان کرتا ہے وہ اپنی یادداشت کی آہستہ آہستہ اتباع کرتا ہے۔ وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ (اگرچہ آپ اس سے پہلے) اس میں ضمیر ما اوحینا کی طرف لوٹتی ہے۔ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ (البتہ ناواقفوں میں سے تھے) اس کے متعلق۔ اِنْ یہ مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور لام دونوں کو ظاہر کررہی ہے۔ نافیہ کے بعد لام نہیں آتا۔ بیشک شان اور بات یہ ہے کہ تم ہمارے وحی کرنے سے پہلے اس سے ناواقف تھے۔
Ayah 12:4قصہ یوسف ( علیہ السلام) اور اس کا خواب :
4: اِذْقَالَ (جب کہا) یہ احسن القصص سے بدل الاشتمال ہے۔ کیونکہ وقت واقعات کو اپنے اندر شامل کرنے والا ہے۔ اس لئے کہ واقعات ان اوقات میں وقوع پذیر ہوئے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اذکر اذ قال۔ یُوْسُفُ (یوسف نے) یوسف یہ عبرانی لفظ ہے عربی نہیں۔ اگر عربی ہو تو منصرف ہوتا کیونکہ منع صرف اسباب میں صرف تعریف رہ جاتی۔ لِاَ بِیْہِ (اپنے والد کو) یعنی یعقوب (علیہ السلام) یٰٓـاَ بَتِ (اے میرے ابا)
قراءت : شامی نے ابت پڑھا۔ یہ تاء تانیث ہے جو کہ یاء اضافت کے عوض میں آئی ہے۔ کیونکہ دونوں میں مناسبت پائی جاتی ہے ان میں سے ہر ایک اسم کے آخر میں بڑھائی جاتی ہیں۔ اسی لئے تو ھا میں تبدیل ہوجاتی ہیں جبکہ وقف ہو۔ تاء تانیث کو مذکر
کے آخر میں لانا بھی جائز ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں رجل ربعۃٌ تا کا کسرہ اس لئے ہے تاکہ باء محذوف پر دلالت کرے اور جنہوں نے تاء کو فتحہ دیا انہوں نے الف کو یا ابتاؔ سے حذف کر کے فتحہ کو باقی رکھا ہے۔ جیسا کہ یا غلام میں حذف یا کے بعد کسرہ کو باقی رکھتے ہیں۔ اِنِّیْ رَاَیْتُ (بیشک میں نے دیکھا) یہ الرئویا سے ہے۔ الرئویۃ سے نہیں ہے۔ اَحَدَ عَشَرَکَوْ کَبًا (گیارہ ستارے) نبی اکرم ﷺ کے بیان سے ان کے نام یہ ہیں جریان، الذیال، الطارق، قابس، عمود ان، الفلیق، المصبح، الضروح، الفرع، و ثّاب، ذوالکتفین (البزاز) وَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (اور سورج اور چاند کو) نمبر 1۔ اس سے مراد باپ اور ماں نمبر 2۔ والد اور خالہ اور کواکب سے ان کے بھائی مراد ہیں۔
ایک قول یہ ہے کہ وائو مع کے معنی میں ہے۔ ای رایت الکواکب مع الشمس والقمر اور ان کو عقلاء کے قائم مقام شمار کیا گیا ہے۔ رَاَیْتُہُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ (میں نے ان کو اپنے سامنے سجدہ ریز دیکھا) کیونکہ انہوں نے ان کا وصف ایسا بیان کیا جو عقلاء کا کام ہے۔ مثلاً سجدہ۔ خواب کو دوبارہ ذکر کیا کیونکہ پہلا الرئو یا، ذات سے متعلق ہے۔ اور دوسرا الرئویا حالت وصف سے متعلق ہے۔ یا نمبر 2۔ دوسرا کام مستانف ہے۔ سوال کو مقدر مانکر یہ جواب لایا گیا ہے۔ گویا کہ ان کے والد نے ان کو کہا کیف رأیتھا ؟ تم نے ستاروں کو کس طرح دیکھا تو انہوں نے جواب میں کہا رأیتہم لی ساجدین یعنی تواضع کی حالت میں پایا۔
اس وقت ان کی عمر بارہ سال تھی۔ اور خواب یوسفی اور بھائیوں کے اس انجام تک چالیس سال کا عرصہ ہے یا اسی سال کا۔
Ayah 12:55: قَالَ یٰـبُنَیَّ (کہا اے میرے بیٹے) قراءت : حفص نے بَنِیَّ کو ہر جگہ فتحہ سے ہی پڑھا ہے۔ لَا تَقْصُصْ رُئْ یَاکَ (تو بیان نہ کر اپنا خواب) یہ الرئویۃ کے معنی میں ہے مگر الرؤیا کا لفظ منام کیلئے خاص ہے بیداری کیلئے استعمال نہیں ہوتا اور صاحب بحرالمحیط نے دونوں میں تاؔ تانیث سے فرق کیا ہے جیسا کہ القربۃ اور القربی میں عَلٰٓی اِخْوَتِکَ فَیَکِیْدُ وْا لَکَ کَیْدًا (اپنے بھائیوں کے سامنے پس وہ تدبیر کریں گے تمہارے متعلق خفیہ تدبیر) یہ نہی کا جواب ہے تقدیر اس طرح ہے ان قصص تھا علیھم کادوک۔ اگر تم نے بیان کردیا تو وہ تیرے خلاف تدبیر کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ اس کو شرف نبوت سے نوازنے والے ہیں۔ اور دارین میں ان پر احسان فرمائیں گے۔ اسی لئے بھائیوں کے حسد کا خطرہ محسوس کیا۔ البتہ فیکیدوک نہیں کہا جیسا کہ فکیدونی۔ ھود : 55 میں ہے لام سے متعدی کر کے فعل کے معنی کو ضمن میں ذکر کردیا تاکہ تخویف بلیغ انداز میں ہوجائے اور اسکی مثال فیحتالوالک ہے۔ اسی لئے تو مزید تاکید کیلئے کَیْدًا لائے ہیں۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدٌوٌّ مُّبِیْنٌ (بیشک شیطان انسان کا کھلادشمن ہے) ظاہر دشمنی کرنے والا پس وہ ان کو حسد پر آمادہ کرے گا۔ اور خفیہ تدابیر سکھائے گا۔
Ayah 12:66: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) اس چنائو کی طرح جس پر تیرا خواب دلالت کر رہا ہے۔ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ ( تیر ارب تجھے چنے گا) تیرا انتخاب کرے گا۔ اجتباء، چنائو، کے معنی میں آتا ہے۔ اس کا اصل جبیت الشیء جبکہ اس چیز کو اپنے لئے حاصل کرے۔ اور جبیت الماء فی الحوض کا معنی میں نے پانی حوض میں جمع کیا۔ وَیُعَلِّمُکَ ( اور وہ تمہیں سکھائے گا) یہ ابتدائی جملہ ہے تشبیہ میں داخل نہیں۔ گویا اس طرح کہا گیا ھو یعلمک۔ مِنْ تَاْ وِیْلِ الْاَ حَادِیْثِ (خواب کی تعبیر) نمبر 1۔ خواب کی تفسیر و وضاحت۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) خواب کی سب سے زیادہ تعبیر کرنے والے تھے۔ یا نمبر 2۔ انبیاء (علیہم السلام) کی باتوں اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی تعبیر کرنے والے۔ الاحادیث جمع حدیث ہے یہ احدوثۃ کی جمع نہیں ہے۔ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اٰلِ یَعْقُوْبَ (وہ اپنی نعمت کو تم پر اور آل یعقوب پر پورا کرے گا) اس طرح کہ ان کو دنیا کی نعمت آخرت کی نعمت کے ساتھ ملا کر دے گا۔ یعنی ان کو دنیا میں نبوت، بادشاہت اور دنیا سے آخرت کے بلند درجات میں منتقل کرے گا۔ آل یعقوب سے نسل، اولاد مراد ہے۔ آل کا اصل اَہْلٌ ہے۔ اسکی دلیل یہ ہے کہ اس کی تصغیر اُھَیْل آتی ہے۔ یہ ان کے بارے میں بولا جاتا ہے۔ جن میں عظمت پائی جاتی ہو۔ مثلاً آل النبی، آل الملک یہ نہیں کہا جاتا آل حجام۔ البتہ اہل حجام کہا جاتا ہے۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جان لیا کہ یوسف (علیہ السلام) نبی ہونگے اور ان کے بھائی انبیاء ہونگے ستارے کی روشنی سے استدلال کرتے ہوئے (مگر یعقوب (علیہ السلام) کا یہ سمجھنا کسی بھی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ ان کو انبیاء سمجھ کر بھی ان کی کوتاہیوں کی تاویلات کی جائیں۔ معلوم نہیں کہ شیخ نے یہ کہاں سے لے کر تحریر فرمایا ہے ثبوت نبوت کیلئے قطعی روایت کی ضرورت ہے جیسا کہ نبوت یوسفی کیلئے نص موجود ہے فافہم) وَعَلٰٓی اٰلِ یَعْقُوْبَ اسی لئے فرمایا کَمَآ اَتَمَّہَا عَلٰٓی اَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ (جیسا اس نے انعام کو تیرے آباء پر پورا کیا اس سے پہلے) مرادجد اور ابوالجد ہے۔ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ ابویک کا عطف بیان ہے۔ اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ (بیشک آپ کا رب علم والا) وہ جانتا ہے کہ کون اجتباء کا حقدار ہے۔ حَکِیْمٌ (حکمت والا ہے) اشیاء کو ان کے مواقع پر رکھتا ہے۔
Ayah 12:77: لَقَدْ کَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَاِخْوَتِہٖٓ (یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں میں) ان کے واقعہ میں اور باتوں میں اٰیٰتٌ (نشانات) علامات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔ اور حکمت باری کے ہر چیز میں ہونے کا ثبوت ہے۔ قراءت : مکی نے واحد آیۃٌ پڑھا ہے۔ لِّلسَّآ ئِلِیْنَ (سوال کرنے والوں کیلئے) نمبر 1۔ جو ان کے واقعات کے متعلق دریافت کرے۔ اور ان کو پہچانے نمبر 2۔ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے دلائل ہیں۔ ان لوگوں کیلئے جنہوں نے یہود سے یا ان کے کہنے پر خود سوال کیا اور آپ نے کسی سے واقعہ سننے کے بغیر بتلایا اور کسی کتاب سے پڑھنے کے بغیر بیان کردیا۔ بھائیوں کے نام یہ ہیں۔ نمبر 1۔ یہودا، نمبر 2۔ روبین نمبر 3۔ شمعون نمبر 4۔ لاوی، نمبر 5۔ زبولون نمبر 6۔ یشجر، ان کی والدہ کا نام لیابنت لیان ہے۔ نمبر 7۔ دان۔ نمبر 8۔ نفتالی نمبر 9۔ جاد، نمبر 10۔ آشر، یہ دونوں لونڈیوں زلفہ اور بلہہ کے بطن سے ہیں۔ جب لیا کا انتقال ہوگیا تو آپ نے اسکی بہن راحیل سے نکاح کرلیا۔ ان کے بطن سے دو بیٹے۔ نمبر 1۔ یوسف۔ نمبر 2۔ بنیامین پیدا ہوئے۔
Ayah 12:8بھائیوں کا حسد :
8: اِذْقَالُوْا لَیُوْسُفُ وَاَخُوْہُ اَحَبُّ اِلٰٓی اَبِیْنَا مِنَّا (جب انہوں نے کہا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہے) لَیوسفکی لام ابتدائیہ ہے۔ اس میں تاکید اور تحقیق جملہ کا معنی پایا جاتا ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ان سے زیادہ محبت والی بات ثابت شدہ حقیقت ہے۔ جس میں شبہ کی گنجائش نہیں۔ واخوہ انہوں نے کہا حالانکہ وہ بھی تو بھائی تھے اسکی وجہ یہ تھی ان دونوں کی والدہ ایک تھی اور ان کی اور، اَحبُّؔ کا لفظ تثنیہ کیلئے بھی لاتے ہیں کیونکہ افعل التفضیل کے واحد و تثنیہ یا جمع میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی طرح مذکر و مؤنث کا بھی فرق نہیں، اسی لئے لام تعریف لگا کر فرق کرنا ضروری ہوا جب اضافت کی تو دونوں مقصد حاصل ہوگئے۔ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ (اور ہم حالانکہ جماعت ہیں) وائو حالیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان دونوں کو محبت میں ہم پر فضیلت دیتا ہے حالانکہ وہ دونوں بچے ہیں جو اپنا آپ سنبھال نہیں سکتے اور ہم دس آدمی ہیں جو ان کی معاونت میں کفایت کرسکتے ہیں پس اضافہ محبت میں ان کی بہ نسبت ہمارا حق زیادہ ہے کیونکہ ہماری تعداد وقوت زیادہ ہے اور فائدہ بھی زیادہ ہے۔ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (بیشک ہمارے والد کھلی گمراہی میں ہیں) دنیاوی تدابیر میں غلطی کرنے والا ہے۔ اگر وہ ضلالت فی الدین مراد لیتے تو یہ کافر ہوجاتے۔ العصبہ دس یا اس سے زیادہ پر بولا جاتا ہے۔
Ayah 12:9فیصلہ قتل :
9: اڑقْتُلُوْا یُوْسُفَ (تم یوسف کو قتل کردو) یہ بھی منجملہ ان باتوں میں سے ہے جو اِذْ قَالُوْاؔ کے بعد بیان کی گئیں گویا وہ اس بات کا متفقہ فیصلہ کرچکے تھے۔ سوائے اس کے جس نے لا تقتلوا یوسف کہا تھا ایک قول یہ ہے کہ قتل کی رائے دینے والا شمعون تھا۔ اور باقی اتفاق رائے کرنے والے تھے۔ اس لئے تمام کو قتل کا حکم دینے والے کہا گیا۔ اَوِاطْرَ حُوْہُ اَرْضًا ( یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں) ناواقف اور بیابان جگہ میں جو آبادی سے دور ہو۔ اسی لئے ارْضًا کو نکرہ لائے اور صفت کے بغیر ذکر کیا اسی وجہ سے اس کا اعراب ظرف مبہم والا نصب دیا گیا۔
یَّخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اَبِیْکُمْ (خالص ہوجائے گی تمہارے لئے باپ کی توجہ) وہ تمہاری طرف پوری طرح متوجہ ہوجائے گا۔ اور دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔ اور مقصد اس سے یہ ہے ان کی محبت شراکت سے پاک ہوجائے گی۔ وَجْہ ؔ کا لفظ توجہ کی تصویر کشی کیلئے لائے۔ کیونکہ آدمی جب کسی شئی کی طرف پورا متوجہ ہوتا ہے تو چہرہ اسکی طرف کرتا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وجہ بول کہ ذات مراد لیں۔ جیسا کہ اس آیت میں ویبقٰی وجہ ربک ] الرحمان : 27[ وَتَکُوْنُوْا ( اور تم ہوجانا) یہ یخل لکم پر عطف کی وجہ سے مجزوم ہے۔ مِنْم بَعْدِہٖ (اس کے بعد) یوسف کے بعد یعنی نمبر 1۔ اس کے قتل سے فراغت کے بعد نمبر 2۔ جلاوطن کرنے کے بعد نمبر 3۔ اس کے قتل کے بعد نمبر 4۔ پھینکنے کے بعد۔ ضمیر اقتلوا کے مصدر کی طرف لوٹتی ہے یا اطرحوا کے مصدر کی طرفقَوْمًا صٰلِحِیْنَ (نیک لوگ) نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس حرکت سے توبہ کرنے والے یا نمبر 2۔ تمہاری حالت والد کے ہاں درست ہوجائے گی۔
Ayah 12:1010: قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ (ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا) وہ یہودا تھا۔ یہ سب سے زیادہ عمدہ رائے والا تھا۔ لَاتَقْتُلُوْا یُوْسُفَ (تم یوسف کو قتل مت کرو) قتل بہت بڑا گناہ ہے وَاَلْقُوْہُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ ( اسکو گہرے کنویں کے گڑھے میں ڈال دو ) کنوئیں کی گہرائی میں۔ غیابۃ ؔ کنوئیں کا حصہ جو دیکھنے والے کی آنکھ سے اوجھل ہو
قراءت : مدنی نے غیابات اور اسی طرح اس کا مابعدپڑھا ہے۔ یَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّیَّارَۃِ (اس کو لے جائے کوئی مسافر) راستے پر چلنے والا کوئی آدمی اِنْ کُنتُمْ فٰعِلِیْنَ (اگر تم عمل کرنے والے ہو) اس پر کچھ۔
Ayah 12:11والد سے بات چیت :
1 1: قَالُوْا یٰٓاَبَا نَا مَالَکَ لَاتَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ وَاِنَّا لَہٗ لَنَا صِحُوْنَ (وہ کہنے لگے اے ہمارے والد آپ ہم پر یوسف کے معاملے میں کیوں اعتماد نہیں کرتے اور بیشک ہم اس کے خیر خواہ ہیں) یعنی آپ ہم سے اس کے متعلق خائف کیوں ہیں۔ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔ اور اس پر شفقت کرنے والے ہیں۔ اس سے وہ یعقوب (علیہ السلام) کو ان کی رائے سے پھیرنا چاہتے تھے۔ اور حفاظت کے سلسلہ میں ان کی عادت کو بدلنا چاہتے تھے جبکہ یوسف کے متعلق فیصلہ کن کارروائی کا پختہ ارداہ ان کے باطن میں تھا۔
فائدہ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے ایسی بات کو محسوس کرلیا تھا جس سے لازم آتا تھا کہ یوسف کے سلسلہ میں وہ ان پر اعتماد نہ کریں۔
Ayah 12:1212: اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَّرْ تَعْ (اس کو ہمارے ساتھ کل صبح بھیج دیں تاکہ وہ جنگل میں کھائے پیئے)
قراءت : ابوعمرو اور ابن کثیر نے نلعب اور نرتع پڑھا ہے۔ تاکہ ہم اس کو خوب پھل فروٹ کھلائیں الرّئْعَۃ وسعت و کثرت کو کہتے ہیں۔
وَیَلْعَبْ (ہم کھیلیں) شکار، تیراندازی، گھوڑ دوڑ وغیرہ جو مباح ہیں ان سے تفریح کریں۔
قراءت : مدنی، کوفی نے یا کے ساتھ پڑھا جبکہ مکی، شامی اور ابو عمرو نے نون سے پڑھا ہے۔ حجازی نے عین کے کسرہ سے پڑھا۔ ارتعٰی یرتعی یہ الرعی سے افتعال ہے۔ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (اور بیشک ہم اسکی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں) اس سے کہ اس کو کوئی نامناسب چیز پہنچے۔
Ayah 12:1313۔ قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُ نُنِیْ اَنْ تَذْھَبُوْا بِہٖ (کہا بیشک مجھے غم میں ڈالے گا تمہارا اسکو اپنے ساتھ لے جانا) مجھے غمزدہ کرے گا تمہارا اس کو ساتھ لے جانا۔ لَیَحْزُنُنِیْ میں لام ابتدائیہ ہے۔ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْ کُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ (اور مجھے ڈر ہے کہ اس کو بھیڑیا کھاجائے گا اور تم اس سے غافل ہوجائو گے) ان کے سامنے عذر کیا کہ اس کا ساتھ لیجانا ہی مجھے غمزدہ کردے گا کیونکہ وہ اس سے ایک لمحہ صبر نہ کرسکتے تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کو بھیڑیئے کے حملے کا خطرہ تھا جبکہ وہ اپنے چرانے اور کھیل کود میں مصروف ہوں۔
Ayah 12:1414: قَالُوْا لَئِنْ اَکَلَہُ الذِّئْبُ (انہوں نے کہا اگر اس کو بھیڑیا کھالے) لام قسم کی تمہید کیلئے ہے اور قسم محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے واللہ لئن اکلہ الذئب۔ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ (جبکہ ہم جماعت ہیں) جتھا اور جماعت جو دفاع کی پوری قدرت رکھے عصبہ کہلاتی ہے۔ یہ وائو حالیہ ہے۔ اِنَّااِذًا لَّخٰسِرُوْنَ (بیشک ہم اس وقت گئے گزرے ہوئے) یہ جواب قسم ہے یہ جزائے شرط کے قائم مقام ہے یعنی اگر ہم ایک دوسرے کی حفاظت کی قدرت نہیں رکھتے تو پھر ہمارے مویشی ہلاک ہوجاتے اور ہم ان کے سلسلہ میں نقصان میں مبتلا ہوجاتے۔
لطیفہ : انہوں نے اپنے دوسرے عذر کا تو جواب دیا۔ اول کا جواب نہیں دیا کیونکہ یہ بات ان کو غصہ دلانے والی تھی۔
Ayah 12:1515: فَلَمَّا ذَھَبُوْا بِہٖ وَ اَجْمَعُوْا اَنْ یَّجْعَلُوْہُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ (پس جب وہ (یوسف) کو لے گئے اور انہوں نے اس کو کنوئیں کے گہرے گڑھے میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا) کنوئیں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ یہ کنواں یعقوب (علیہ السلام) کے مکان سے تین فرسخ دور تھا۔ لماؔ کا جواب محذوف ہے تقدیرعبارت یہ ہے : فعلوہ بہ مافعلوا من الاذی۔ انہوں نے اس کو جو ایذاء دینی تھی وہ دی۔ روایت میں ہے کہ انہوں نے جنگل میں جاکرعداوت و دشمنی کا اظہار کیا ان کو مارا اور ہلاکت کے قریب کردیا۔ یہودا نے ان کو اس بات سے روکاجب انہوں نے ڈالنے کا ارادہ کیا تو یوسف ان کے کپڑوں سے چمٹ گئے انہوں نے ہاتھوں سے کپڑا چھڑوا لیا۔ پھر وہ کنوئیں کی دیوار سے چمٹ گئے۔ انہوں نے اس کے ہاتھ باندھ دیے اور قمیص اتاری تاکہ خون سے اس کو رنگین کرسکیں اور والد کے سامنے حیلہ بازی کرسکیں۔ انہوں نے ان کو کنوئیں میں لٹکایا۔ اس میں پانی تھا جس میں آپ جاگرے۔ پھر ایک چٹان پر چڑھے۔ اور کھڑے ہو کر رونے لگے۔ یہود ان کے لئے کھانا لاتا رہا۔ تفسیری روایت میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب آگ میں ڈالا گیا تو ان کے کپڑے اتار لئے گئے۔ جبرئیل (علیہ السلام) ان کے لئے حریر جنت کا ایک قمیص لائے اور ان کو پہنایا۔ یہ قمیص ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) نے یعقوب (علیہ السلام) کو دیا تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے اس کو ایک تعویذ میں جو یوسف (علیہ السلام) کی گردن میں لٹکایا ہوا تھی اس کو بند کرد یا تھا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اس کو نکال کر یوسف کو وہ قمیص پہنا دی۔ (یہ روایت اسرائیلیات کے کسی تعویذ گنڈے والے گروہ کی ایجاد کردہ معلوم ہوتی ہے فافہم وانتبہ
تسلی یوسف :
وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ (اور ہم نے ان کی طرف وحی کی) ایک قول یہ ہے کہ بچپن میں ان پر وحی کی اور نبوت ملی جیسا یحيٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کو ملی نمبر 2۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ قریب البلوغ تھے جب یہ وحی ہوئی۔ لَتُنَبِّئَنَّھُمْ بِاَمْرِ ھِمْ ھٰذَا (تم ان کو اس حرکت پر آگاہ کروگے) تم ضرور اپنے بھائیوں کو بیان کرو گے جو کچھ انہوں نے تمہارے ساتھ کیا۔ وَھُمْ لَایَشْعُرُوْنَ (اور وہ جانتے بھی نہ ہونگے) کہ تو یوسف ہے کیونکہ تیری شان بلند ہوگی سلطنت عظیم ہوگی۔ اور یہ اس وقت پیش آیا جب وہ غلہ کی خاطر ان کے پاس داخل ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ جانتے تھے آپ نے ایک برتن منگوایا اور اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا پھر اس کو ٹھوکر لگائی تو اس سے آواز نکلی۔ تو آپ نے کہا یہ برتن مجھے بتلا رہا ہے کہ تمہارا ایک باپ سے بھائی تھا جس کو یوسف کہتے تھے۔ تم نے اس کو گہرے کنوئیں میں ڈال کر باپ کو کہہ دیا کہ اس کو بھیڑیئے نے کھالیا ہے۔ تم نے اس کو چند ٹکے میں فروخت کردیا۔ (مگر یہ اسرائیلی قصہ انک لانت یوسف کے خلاف نظر آتا ہے (فتدبر) نمبر 2۔ ہم لایشعرون کا تعلق اوحینا سے ہے کہ ہم نے وحی کے ذریعہ ان کو مانوس کیا اور ان کے دل سے وحشت کو زائل کیا اور ان کو ہمارے اس وحی کرنے کی خبر بھی نہ تھی۔
Ayah 12:16جھوٹا رونا :
16: وَجَآ ئُ وْٓ اَبَاھُمْ عِشَآئً (وہ شام کے اندھیرے میں اپنے باپ کے پاس آئے) تاکہ جھوٹ بولنے کے عذر پر جرأت کرسکیں اور معاملہ چھپا رہے۔ یَّبْکُوْنَ (روتے ہوئے) یہ حال ہے۔
نکتہ : حضرت اعمش کہتے تھے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے اس رونے کے بعد ہر رونے والے کو سچا نہیں کہا جاسکتا ہے۔
Ayah 12:1717: جب یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی آواز سنی تو گھبرائے اور فرمایا میرے بیٹو ! کیا ہوا۔ کیا تمہاری بکریوں پر کوئی آفت آگئی۔ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر تمہیں کیا ہوا۔ اور یوسف کہاں ہے ؟
قَالُوْا یٰٓـاَ بَانَآ اِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ (کہنے لگے اے ہمارے والد ! ہم آپس میں دوڑ لگاتے آگے نکل گئے) نستبق کا معنی نتسابق ہے۔ ایک دوسرے کے مقابلہ میں دوڑنا۔ نمبر 2۔ تیر اندازی میں مقابلہ کرتے آگے نکل گئے۔
صرف : باب افتعال اور تفاعل دونوں شراکت فعل کو ظاہر کرتے ہیں جیسے ارتماء اور الترامی وغیرہ ہے۔ وَتَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَا عِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئْبُ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْکُنَّا صٰدِقِیْنَ ۔ (ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑا پس اس کو بھیڑیئے نے کھالیا۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں آئے گا خواہ ہم سچ کہہ رہے ہوں) مومن لناؔ کا معنی تصدیق کرنا ہے۔ لوکنا صادقین کا مطلب یہ ہے اگرچہ ہم تمہارے ہاں سچے اور ثقہ ہوں۔ کیونکہ یوسف سے تمہیں شدید محبت ہے اور ہمارے متعلق بدگمان بھی ہیں تو پھر ہماری بات پر کیسے یقین آسکتا ہے خواہ ہم کتنے سچے ہوں۔
Ayah 12:1818: وَجَآئُ وْ عَلٰی قَمِیْصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ (وہ اسکی قمیص پر جھوٹا خون لگا لائے) نمبر 1۔ جھوٹ والا نمبر 2۔ مبالغۃً مصدر کو بطور صفت لائے۔ گویا کہ وہ مجسمہ کذب ہے۔ جیسا کہ کذاب کو کہتے ہیں ھوالکذاب بعینہٖ والزور بذاتہٖ کہ وہ تو نرا جھوٹ کا پلندا ہے۔
روایت تفسیر میں ہے کہ انہوں نے ایک بھیڑ کا بچہ ذبح کیا قمیص کو اس میں لت پت کردیا۔ اور پھاڑنا بھول گئے۔ روایت تفسیر میں ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے جب یوسف (علیہ السلام) کے متعلق سنا تو زور سے آوازدی قمیص کہاں ہے۔ اس کو لیکر اپنے چہرے پر ڈالا اور روئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ قمیص کے خون سے خون آلودہ ہوگیا۔ اور کہا اللہ تعالیٰ کی قسم ؟ ! میں نے آج کے دن جیساحوصلہ مند بھیڑیا نہیں دیکھا کہ جس نے میر ابیٹا تو کھالیا اور اس کا قمیص تک نہیں پھاڑا ! (انبیاء (علیہم السلام) کیلئے رونا تو درست ہے مگر ایسا بےصبری کا رونا ان کے شایان شان نہیں۔ (اللّٰہم احفظنا من الاسر ائیلیات) کہا گیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے قمیص میں تین نشانات ظاہر ہوئے۔ نمبر 1۔ یعقوب (علیہ السلام) کے لئے ان کے کذب پر دلیل بن گیا۔ نمبر 2۔ قمیص یوسفی کو آپ کے چہرے پر ڈالا گیا تو نظر واپس لوٹ آئی۔ نمبر 3۔ قمیص کا پیچھے سے پھٹ جانا صدا قت یوسفی کی دلیل بن گئی۔
نحو : عَلٰی قمیصہٖ ظرفیت کی وجہ سے محل نصب میں ہے تقدیر عبارت یہ ہے وجَآئُ وْ فوق قمیصہ بدم
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ (یعقوب (علیہ السلام) نے) (فرمایا بلکہ مزین کیا) آسان کیا یا مزین کیا لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا (تمہارے نفسوں نے ایک امر) عظیم کو آسان کردیا اور حقیر کر کے دکھایا کہ اسکا تم نے ارتکاب کر ڈالا (یعنی گم شدگی یوسف اور قتل کو اتنا معمولی سمجھ کر غلط عذر تراش لیا) فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ (پس اچھا صبر کروں گا)
نحو : نمبر 1۔ یہ خبر ہے یا مبتداء کیونکہ موصوف ہے تقدیر عبارت امری صبر جمیل یا صبرجمیل امثل۔ صبر جمیل میرے لئے مناسب ہے۔ وہ ایسا صبر ہے کہ جس میں مخلوق کے ہاں شکوہ نہ ہو۔ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ (اور اللہ تعالیٰ ہی مددگار ہیں) یعنی اسی سے ہی میں مدد طلب کرونگا عَلٰی (ان مصائب کے برداشت کیلئے جو تم بیان کرتے ہو) ہلاکت یوسف اور اس سے پہنچنے والے دکھ پر صبر مَاتَصِفُوْنَ (جو تم بیان کرتے ہو۔ )
Ayah 12:19یوسف ( علیہ السلام) اور قافلہ :
19: وَجَآئَ تْ سَیَّارَۃٌ (ایک قافلہ ادھر آگزرا) یہ قافلہ مدین سے مصر جارہا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالے ہوئے تین دن بیت چکے تھے۔ قافلے والے راستہ بھول گے اور کنوئیں کے قریب اتر پڑے یہ آبادی سے دور بیابان کنواں تھا ( مگر یلتقطہ بعض السیا رۃ کا قرینہ اس کے خلاف راستہ کے کنوئیں کی نشاندہی کرتا ہے فافہم) اس کنوئیں کا پانی نمکین تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کے ڈالنے سے میٹھا ہوگیا۔ فَاَ رْسَلُوْا وَارِ دَھُمْ (انہوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا) وارد ؔ وہ شخص جو قوم کا سقا ہو، اس کا نام مالک بن ذعرالخزاعی تھا۔ فَاَدْلٰی دَلْوَہٗ (اس نے اپنا ڈول لٹکا یا) کنوئیں میں ڈول بھرنے کیلئے چھوڑا یوسف (علیہ السلام) ڈول کے ساتھ لٹک گئے اس نے کھینچا تو پکاراٹھا۔ قَالَ یٰبُشْرٰی (اے بشارت)
قراءت : کوفی نے کہا نادی البشری پڑھا ہے گویا اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔ یا بشری ھٰذا او انک۔ اے بشارت یہ تمہارا زمانہ ہے۔ دیگر قراء نے بشرای (اپنی ذات کی طرف اضافت کے ساتھ) اے میری خوشخبری نمبر 2 یہ بشرٰی مالک کے غلام کا نام ہے پس اس کو آوازدی اپنی ذات کی طرف نسبت کر کے۔ اس صورت میں یہ علم ہے ایک قول یہ ہے کہ وہ آپ کو لیکر گیا جب قافلہ کے قریب پہنچا تو ان کو اسکی خوشخبری دیتے ہوئے آوازدی۔ ہٰذَا غُلٰـمٌ (کہ یہ ایک لڑکا ہے) وَاَسَرُّ وْہُ (انہوں نے چھپالیا اسکو) اسمیں ضمیر وارد اور اس کے قافلہ والوں کی طرف ہے۔ کہ انہوں نے بقیہ قافلے سے اس کو چھپایا نمبر 2۔ ضمیر یوسف کے بھائیوں کی طرف لوٹتی ہے۔ انہوں نے قافلہ والوں سے کہا یہ ہمارا غلام بھگوڑا ہوگیا ہے اس کو ہم سے خرید لو۔ یوسف (علیہ السلام) خوف قتل سے خاموش رہے۔ بِضَا عَۃً (مال تجارت سمجھ کر) یہ حال ہے یعنی انہوں نے سامان تجارت سمجھ کر اس کو چھپالیا۔ البضاعۃ جس کو مال سے تجارت کی خاطر الگ کرلیا جائے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ جاننے والے تھے جو کچھ وہ کر رہے تھے) یوسف کے بھائی جو اپنے باپ اور بھائی کے ساتھ یہ قبیح قسم کا سلوک کر رہے تھے۔
Ayah 12:2020: وَ شَرَوْہُ ( اور بیچ دیا انہوں نے) فروخت کردیا بِثَمَنٍ م بَخْسٍ (حقیر قیمت) کھوٹے ناقص قیمت ظاہر نقصان والے نمبر 2۔ کم قیمتدَرَاھِمَ مَعْدُوْدَۃٍ (چندگنتی کے دراہم کے بدلے) دراہم ثمن کا بدل ہے معدودہ قلیل جو شمار ہوسکتے تھے۔ ان کا وزن
نہ کیا گیا انکے ہاں رواج یہ تھا کہ چالیس سے کم دراہم کو گنتے اور چالیس یا اس سے اوپر دراہم کا وزن کرتے اور یہ بیس دراہم تھے۔ وَکَانُوْا فِیْہِ مِنَ الزَّاھِدِیْنَ (اور اس میں بےرغبت تھے) زاہد اس شخص کو کہتے ہیں جو ہاتھ میں جو موجود ہو اس کو معمولی قیمت کے بدلے دے ڈالے۔ نمبر 2۔ شَرَوْہُ کا معنی خرید لیا اسکو قافلہ والوں نے بھائیوں سے اور وہ اسکے متعلق بےرغبت تھے کیونکہ انہوں نے اس کو بھاگا ہوا غلام سمجھا اور تفسیری روایت میں یہ بھی ہے کہ یوسف کے بھائیوں نے ان کا پیچھا کیا اور کہا اس کو اس سے پختہ اعتماد لے لو کہ یہ بھاگے نہیں۔ اور فیہؔ یہ الزاھدین کا صلہ نہیں یعنی رغبت نہ رکھنے والے کیونکہ صلہ موصول سے مقدم نہیں ہوتا بلکہ فیہؔ یہ بیان ہے گویا اس طرح کہا گیا کس چیز میں انہوں نے بےرغبتی کی تو جواب دیا انہوں نے یوسف میں بےرغبتی کی۔
Ayah 12:21مصر پہنچنا :
21: وَقَالَ الَّذِی اشْتَرٰہُ مِنْ مِّصْرَ اور کہا اس شخص نے جس نے مصر میں یوسف کو خریدا۔ اس کا نام قطفیر تھا اور یہی عزیز ہے جو کہ خزائن مصر پر نگران تھا۔ اور بادشاہ ان دنوں ریان بن ولید تھا۔ یہ یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ایمان لایا اور آپ کی زندگی میں فوت ہوگیا۔ عزیز نے آپ کو آپ کے ہم وزن چاندی اور ریشم اور کستوری کے بدلے میں خریدا۔ آپ کی اس وقت سترہ سال عمر تھی۔ آپ اس کے گھر میں تیرہ سال رہے۔ ریان بن ولید نے 30 سال کی عمر میں وزیر بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے حکمت و علم دیا۔ جبکہ آپ کی عمر 33 سال ہوئی اور آپ کی عمر 120 سال ہوئی جب وفات پائی۔
لِامْرَاَتِہٖٓ (اپنی بیوی کو) راعیل یا زلیخا لام یہ قال سے متعلق ہے اشتراہ سے متعلق نہیں۔ اَکْرِمِیْ مَثْوٰہُ (اس کو خاطر سے رکھنا) اس کے مرتبہ اور مقام کو ہمارے ہاں معزز بنائو یعنی اچھا پسندیدہ اسکی دلیل دوسری آیت میں ہے اِنَّہٗ رَبِّیْ اَحْسَنَ مَثْوَایَ ] یوسف : 23[ ضحاک کہتے ہیں مثو ٰی کا معنی اچھا معاش عمدہ کپڑے، شاندار بستر۔ عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ (امید ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے) شاید کہ یہ جب سیکھ جائے اور معاملات کو سمجھ جائے اور کاموں کے مقام و محل کو جان لے گا تو ہم اس سے اپنے کاموں میں معاونت لیں گے۔ اَوْنَتَّخِذَہٗ وَلَدًا (یا اس کو بیٹا بنالیں گے) یا اس کو متبنّٰی لڑکے کے قائم مقام رکھیں گے۔ قطفیر کے ہاں بچہ، بچی کچھ بھی نہ تھا۔ اسلئے نجابت کے آثار دیکھ کر یہ بات کہی۔ وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) ذٰلک سے اشارہ قتل سے نجات پانے اور عزیز کو مہربان بنانے کی طرف ہے اور کافؔ منصوب ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ مثل ذلک الانجاء والعطف مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ ( ہم نے یوسف کو جما دیا) یعنی جس طرح اس کو نجات دی اور عزیز کا دل اسپر موڑ دیا اسی طرح ہم نے اس کو ٹھکانہ دیا۔ فِی الْاَرْضِ ( زمین میں) یعنی ارض مصر میں اس کو بادشاہ بنادیا جس پر وہ اپنا حکم چلاتا ہے۔ وَلِنُعَلِّمَہٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ (اور تاکہ ہم اس کو باتوں کی تعبیر کرنا سکھائیں) وہ نجات قتل اور اقتدار اس مقصد کی خاطر تھا۔۔ وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ (اللہ تعالیٰ غالب ہیں اپنے حکم پر) نمبر 1: ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہو تو مطلب جو وہ چاہتا ہے اس سے کوئی اسکوروک نہیں سکتا۔ نمبر 2۔ یا یوسف مرجع ہو تو یوسف کے معاملے میں ان کے بھائی کچھ اور چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ اور چاہتے تھے ہوا وہی جو اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) اس بات کو کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
Ayah 12:2222: وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ (جب وہ اپنی بھر پورجوانی کو پہنچے) اپنی استعدادی قوت کی انتہاء کو اور وہ اٹھارہ سال ہے یا 21 سال ہے۔ اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا (ہم نے ان کو حکم و علم عنایت فرمایا) نمبر 1۔ حکم سے حکمت مراد ہے اور علم بمع عمل اور جہالت والی باتوں سے اجتناب۔ نمبر 2۔ لوگوں کے درمیان فیصلہ اور سمجھ بوجھ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو) اس میں متنبہ کیا کہ وہ اپنے اعمال میں مخلص تھے اور عنفوان حکومت میں متقی و پرہیز گا ر تھے۔
Ayah 12:23مرجیہ کا غلط طرز عمل :
23: وَرَاوَدَتْہُ الَّتِیْ ھُوَفِیْ بَیْتِھَا عَنْ نَّفْسِہٖ (اور یوسف جس عورت کے گھر میں تھے اس عورت نے اپنا مطلب حاصل کرنے کیلئے ان کو پھسلایا) یعنی یوسف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سے قربت کرے۔ المراودۃؔ یہ باب مفاعلہ ہے راد، یرود جبکہ وہ آئے اور جائے گویا مطلب اس طرح ہے۔ کہ یوسف کو دھوکا دینا چاہا ان کے نفس کے سلسلہ میں یعنی اس نے ایسی حرکت کی جو دھوکا باز اپنے ساتھی سے کوئی چیز حاصل کرنے کیلئے کرتا ہے۔ اور وہ ساتھی اس چیز کو اپنے ہاتھ سے دینا نہیں چاہتا پس یہ اس سے لینے کیلئے حیلہ بازی کرتا ہے۔ یہ اس تمحل اور آہستگی کی تعبیر ہے جو اس نے یوسف سے اپنا مطلب پورا کرنے کیلئے اختیار کی۔ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ (اور اس نے دروازے بند کردیے) اور وہ دروازے سات تھے۔ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ (اور کہا آجائو تمہیں سے کہتی ہوں) ہیت یہ اسم ہے جو تعال اور اقبل کے معنی میں آتا ہے۔ یہ مبنی علی الفتح ہے۔
قراءت : مکی نے ھیت پڑھا ہے۔ اور اس کو مبنی علی الضم مانا ہے۔ مگر مدنی اور شامی نے ہیت پڑھا ہے۔ اور لام بیان کیلئے ہے گویا تقدیر عبارت یہ ہے لک اقول ہذا جیسا کہ تم کہو : ھلمّ لک قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ (اس نے کہا میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) اعوذ باللہ معاذ ًا میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں پناہ چاہنا۔ اِنَّہٗ ( تحقیق شان یہ ہے) شان اور بات یہ ہے۔ رَبِّیْ (وہ میرا آقا اور مالک ہے) مراد اس سے قطفیر تھا۔ اَحْسَنَ مَثْوَایَ (اس نے میرا اچھا ٹھکانہ بنایا ہے) اس نے جب تمہیں کہا اکرمی مثواہ کہ اس کو اچھاٹھکانہ دو پس کیا سزا ہے اگر میں اس کے اہل کے سلسلہ میں خیانت کروں۔ اِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ (تحقیق شان یہ ہے کہ وہ ظالموں کو کامیابی نہیں دیتا) ظالم ؔ سے خائن مراد ہے یا زانی یا اِنَّہٗ رَبِّیْ سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ کیونکہ وہ مسبب الاسباب ہے۔
Ayah 12:2424: وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ (تحقیق وہ عورت ان کا ارادہ کرچکی تھی) ھَمّپختہ ارادہ وَھَمَّ بِھَا اور ان کو طبعی میلان ہوا مگر عزم سے اس کو دور کیا۔ یہ حسن بصری (رح) کا قول ہے۔ شیخ ابو منصور (رح) نے کہا ھَمّخیال کے معنی میں ہے اور دل میں آنے والے خیالات پر بندے کو اختیار نہیں اور نہ ہی ان پر مؤاخذہ ہے جب تک کہ اس کو پختہ نہ کرے۔ اگر یوسف (علیہ السلام) کا ھَمّ بھی عورت کے ھَمّکی طرح ہوتا تو اللہ تعالیٰ عبادنا المخلصین کہہ کر ان کی تعریف نہ فرماتے۔
ایک قول یہ ہے کہ ارادہ کی طرف جھکائو اختیار کرنے والے تھے۔ عرب کہتے ہیں ہم بالامر۔ جب قصد کرے اور اس کا پختہ ارادہ کرے۔ اور لولا ان رٰابرہان ربہ کا جواب محذوف ہے۔ ای لکان ماکان تو ہوتا جو ہوتا۔ ایک قول یہ کہ وہمّ بھا اس کا جواب ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ لولا کا جواب اس سے مقدم نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ حکم شرط میں ہے اور یہ شروع کلام میں آتا ہے۔ البرھان کا معنی حجت ہے اور جائز ہے کہ وہم بھا حکم اور ولقد ہمت بہ کی قسم میں داخل ہو اور یہ بھی درست ہے کہ خارج ہو۔ قاری کا حق یہ ہے جب حکم قسم سے اس کو خارج قراردے اور اس کو مستقل کلام بنائے توبہٖ پر وقف کرے اور ہم بھا سے نیا کلام شروع کرے۔ اس صورت میں دونوں ھم ؔ کے درمیان فرق بھی ظاہر ہوتا ہے۔
باطل تفسیر :
اور یوسف کی یہ تفسیر کہ انہوں نے ازار بند کو کھول لیا اور بیٹھ گئے جیسے مرد بوقت حاجت بیٹھتا اور البرھان کی یہ تفسیر کہ انہوں نے ایک آواز سنی ایاک و ایاھا دو مرتبہ۔ پھر تیسری مرتبہ اعرض عنھا۔ مگر انہوں نے توجہ نہ دی یہاں تک کہ یعقوب اپنے پورے کاٹتے ہوئے سامنے آئے۔
تردید :
یہ تفسیر محض باطل ہے۔ سیاق کلام الٰہی ٗ مرتبہ نبوت اور واضح آیات کے خلاف (فلیحذر منہ اعاذنا اللّٰہ من ہذہ الخرافۃ) نسفی (رح) نے تردید کیلئے یہ نقل کی ہے۔ نقل کفر کفر نباشد) جن آیات کے یہ خلاف ہے وہ یہ ہیں نمبر 1۔ ھی راو دتنی عن نفسی۔ اگر ان کی طرف سے یہ اقدام ہوا ہوتا تو اپنے نفس کو ببانگ دھل اس طرح بری قرار نہ دیتے نہ دے سکتے تھے ( وہ عورت تردید کردیتی) مگر وہ عورت کہہ اٹھی۔ (و لقدراودتہ عن نفسہ فاستعصم) نمبر 2۔ کذلک لنصرف عنہ السوء والفحشاء۔ اگر ایسامعاملہ ہوتا تو پھر برائی کا ان سے پھرنے کا معنی ہی نہیں رہ جاتا۔ نمبر 3۔ ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب۔ اگر یہ معاملہ ہوا ہوتا تو یہ پوشیدہ خیانت تو ہوگئی تردید کا کیا معنی تھا۔ نمبر 4۔ ماعلمنا علیہ من سوء اور الآن حصحص الحق اناراودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصادقین۔
آخری بات :
اگر یہ بات پیش آئی ہوتی تو ان کی توبہ سے استغفار کا ذکر ہوتا۔ یہ تو بہت بڑی بات ہے۔ اس کے مقابلے میں معمولی ترین مرتبہ کے نامناسب باتوں پر دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کا استغفار موجود ہے۔ جیسے سورة ہود میں نوح (علیہ السلام) اور یونس و دائود علیہما السلام۔ اللہ تعالیٰ تو ان کو مخلصاً خالص چنے ہوئے فرما رہے ہیں۔ پس قطعی طور پر یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ اس مقام پر ثابت قدم رہے اور اولو العزم والا مجاہدہ کیا ان کے سامنے نبوت کی برہان سے تحرم کے دلائل روشن تھے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثناء کے حقدار بنے۔ لَوْلَااَنْ رَّاٰبُرْھَانَ رَبِّہٖ (اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھے ہوتے (ہم بہٖکو لولا کا قائم مقام جواب بنایا جائے اور جواب شرط کو محذوف مانا جائے تو کلام بغیر اشکال بہت خوب بن جاتا ہے اور محاورئہ عرب کے عین مطابق ہے۔ فتدبر) کَذٰلِکَ : نمبر 1۔ کاف منصوب ہے ای مثل ذلک التّثبِیت ثبَّتْنَاہ۔ ایسی ثابت قدمی سے ہم نے ان کو ثابت قدم رکھا۔ نمبر 2۔ مرفوع ہے ای الامرمثل ذٰلک۔ معاملہ یونہی ہے۔ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْئَ ( تاکہ ہم برائی کو اس سے پھیر دیں) آقا کی خیانت وَالْفَحْشَآ ئَ (بےحیائی) زنا کو اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ (بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے)
قراءت : مدنی کوفی نے ہر جگہ مخلصین، لام کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ مخلص وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کیلئے خاص کرلیا ہو۔ دیگر قراء نے مخلص پڑھا۔ لام کا کسرہ۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کرلیا۔ من عبادنا ؔ کا معنی من تبعیضیہ بعض بندے وہ خاص الخاص بندے کیونکہ وہ مخلصوں میں سے مخلص ہیں۔
Ayah 12:25برائی سے فرار اور اس میں کامیابی :
25: وَاسْتَبَقَا الْبَابَ ( اور دونوں نے دروازہ کی طرف سبقت کی) دونوں دروازے کی طرف دوڑے۔ عورت طلب مقصد کیلئے اور یوسف حفاظت کیلئے۔ جار کے محذوف اور ایصال فعل کے ساتھ ہے۔ جیسا دوسری آیات میں واختار موسیٰ قومہ ] الاعراف : 155[ نمبر 2۔ استبقا میں تضمین مانیں اور ابتد اء معنی لیں۔ یوسف نے جلدی کی اور اس سے بھاگے اور دروازے کی طرف نکلنے کیلئے جلدی کی اور عورت نے جلدی کی تاکہ نکلنے سے ان کو روکے۔ البابؔ کو یہاں واحد لائے۔ دوسرے مقام پر غلقت الا بواب فرمایا کیونکہ اس الباب سے باہروالا آخری دروازہ ہے۔ جو گھر سے نکلنے کا راستہ تھا۔ جب آپ بھاگے تو تالے کے پرزے بکھرنے اور تالے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ تمام دروازوں سے نکل گئے۔
وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ (اور چیر پھاڑ دی اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کا قمیص پیچھے سے) اس نے پیچھے سے کھینچا۔ پس وہ پھٹ گئی جبکہ وہ دروازے کی طرف بھاگے۔ وہ عورت روکنے کیلئے ان کے پیچھے بھاگی۔ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَ ھَالَدَا الْبَابِ (دونوں نے پایا عورت کے خاوند کو دروازے کے پاس) اس نے اپنے خاوند قطفیر کو سامنے سے آتا ہوا پایا جو کہ گھر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ جب اس عورت نے خاوند کو دیکھ لیا تو اپنے میلان کو شک سے صاف کرنے کیلئے اس نے کہا اور یوسف کو دھمکانے کیلئے تاکہ وہ الزام سے بچنے کیلئے اسکی مقصد براری کردے اور فریب کاری کے طور پر یہ کہا قَالَتْ مَاجَزَآئُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوْئً ا اِلَّا اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اس نے کہا نہیں ہے سزا اسکی جو تیرے اہل سے برائی کا ارادہ کرے۔ مگر یہ کہ اسکوقید کیا جائے۔ اور دردناک سزا دی جائے) ماؔ نافیہ ہے اسکی سزا صرف قید ہے۔ یا عذاب الیم، دردناک سزا یعنی کوڑے۔
نکتہ : اس نے یوسف (علیہ السلام) کا صراحۃً ذکر نہیں کیا کہ اس نے اس کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا ہے۔ کیونکہ اس عورت کا مقصد عموم تھا۔ کہ ہر وہ آدمی جو تیرے اہل سے برائی کا ارادہ کرے۔ وہ قید یا عذاب کا مستحق ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کو ڈرانے کیلئے یہ انداز زیادہ بلیغ ہے۔
Ayah 12:2626: جب عورت نے قید اور سزا کی تعریض کی تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنی طرف سے دفاع کو ضروری سمجھا۔ قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ (یوسف (علیہ السلام) نے کہا اس نے مجھے پھسلایا تھا) اگر چالبازی نہ ہوتی تو اس کے معاملے کو چھپاتے اور اس کو اس کے خاوند کے سامنے رسوا نہ کرتے۔
گھر کا گواہ اور اس کی درست بیانی :
وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا (اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک نے گواہی دی) وہ عورت کا چچا زاد بھائی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسکی زبان پر گواہی کو جاری کیا۔ جو کہ اس عورت کے خاندان کا آدمی تھا۔ تاکہ اس عورت پر پختہ دلیل بنے اور براءت یوسف کیلئے مضبوط دلیل ثابت ہو۔ نمبر 2۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ چھوٹا بچہ اور اس عورت کا ابن خال تھا۔
نکتہ : اسکی بات کو شہادت کا نام اس لئے دیا گیا کیونکہ اس نے اپنی بات یوسف (علیہ السلام) کی تائید اور آپ کی بات کے ثبوت میں گواہی کے مقام پر ہی پیش کی تھی۔ اور اس کو عورت کی بات کا بطلان مقصود تھا۔ اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ (اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہے تو زلیخا سچی ہے اور یوسف جھوٹا ہے)
Ayah 12:2727: وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر کرتہ اس کا پھٹا ہے پیچھے سے تو اس عورت نے جھوٹ کہا اور یوسف سچوں میں سے ہے) تقدیر عبارت اس طرح ہے وشھد شاھد فقال ان کان قمیصہ الایۃ آگے سے قمیص کا پھٹنا دلالت کرتا ہے کہ وہ سچی ہے کیونکہ وہ جلدی سے اس عورت کو پانے کیلئے پیچھا کرے گا۔ پس وہ قمیص کے دامن میں الجھ کر گرے اور گریبان پھٹ جائے گا۔ اور اس لئے بھی کہ وہ اسکی طرف متوجہ ہوگا اور وہ دفاع نفس میں اس کا گریبان تھامے گی۔ پس قمیص سامنے سے پھٹے گی۔ قبل اور دبرٍ میں تنوین و تنکیر کا معنی یہ ہے کہ ایسی جہت سے جس کو قُبُلکہا جاتا ہے اور ایسی جہت جس کو دُبُر کہا جاتا ہے۔ آیت میں اِنْؔ جو کہ مستقبل کیلئے آتا ہے۔ اس کو اور کانؔ جو ماضی کیلئے آتا ہے جمع کردیا تاکہ یہ معنی ہو کہ اچھی طرح جان لو کہ قمیص یوسف ہی کی پھٹی تھی۔
Ayah 12:2828: فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ (جب اس نے یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھٹا دیکھا) یہ دیکھنے والاقطفیر تھا۔ اس کو براءت یوسفی کا علم ہوگیا۔ اور ان کی سچائی واضح ہوگئی۔ جبکہ عورت کا کذب سامنے آگیا۔ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِ کُنَّ (اس نے کہا بیشک وہ (قول) تمہاری مکاری کی وجہ سے ہے) نمبر 1۔ ہٗ کی ضمیر کا مرجع اس کا قول ماجزاء من اراد باہلک سوئً ا ہے۔ نمبر 2۔ یا یہ معاملہ کہ مردوں کو قابو کرنے کا حیلہ۔ کید کنؔ سے اسی کو خطاب ہے اور اسکی لونڈیوں کو اِنَّ کَیْدَ کُنَّ عَظِیْمٌ (یقینا تم عورتوں کا مکر بڑا ہے) لیکن ان کا مکر لطیف اور بڑے حیل پر مشتمل ہوتا ہے اسی لئے وہ مردوں پر غالب آجاتی ہیں ان میں سے جو محلات میں رہنے والی عورتیں ہیں ان کے پاس ایسے ہلاک کن حیلے ہوتے ہیں جو دوسری عورتوں کے پاس نہیں ہوتے۔
نکتہ : بعض علماء کا مقولہ ہے کہ مجھے عورتوں سے شیطان کی نسبت زیادہ خطرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ان کیدکن عظیم جبکہ شیطان کے متعلق فرمایا ان کید الشیطان کان ضعیفا ] النساء : 76[
Ayah 12:2929: یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا (اے یوسف اس قصہ سے درگزر کر) حرف نداء کو حذف کردیا۔ کیونکہ قریب کو پکارا۔ بات کو آئی گئی کرنے کیلئے اس نے کہا اس معاملے کو سرے سے چھوڑو۔ اور چھپائو اور کسی کے سامنے ظاہر نہ کرنا۔ (گھریلو معاملہ ہے رسوائی نہ ہو) پھر راعیل کو مخاطب ہو کر کہا وَاسْتَغْفِرِیْ لِذَنْچبِکِ اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ ( اور تو اپنے گناہ کی معافی مانگ یقینا تو ہی قصور وارلوگوں میں سے ہے) یعنی اس گروہ سے جو جان بوجھ کر گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں۔ خطیٔ اذا أذنب متعمدًا جب جان بوجھ کر گناہ کرے۔ الخاطئین مذکر لائے مذ کر کو مؤنث پر تغلیب دیکر یہ صیغہ بول دیا۔ عزیز مصر حوصلہ مند آدمی تھا غیرت کی کمی تھی۔ اس لئے سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ پر اکتفاء کی۔
Ayah 12:30شہری عورتوں کا پروپیگنڈا :
30: وَقَالَ نِسْوَۃٌ (عورتوں نے کہا) عورتوں کی جماعت جنکی تعداد پانچ تھی۔ ساقی کی بیوی، خباز کی بیوی، جانوروں کے نگران کی بیوی، قید خانہ کے نگران اعلیٰ کی بیوی۔ دربان شاہی کی بیوی۔ النسوۃ ؔ یہ اسم مفرد ہے اور امرأۃ کی جمع ہے۔ اس میں تانیث حقیقی نہیں اسی لئے قالت نہیں کہا۔ بلکہ قال کہا گیا اس میں دو لغتیں ہیں نون کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ فِی الْمَدِیْنَۃِ ( شہر میں) مصر میں امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ (عزیز کی بیوی) عزیز سے قطفیر مراد ہے۔ عرب کے لوگ العزیز بادشاہ کیلئے بولتے ہیں۔ تُرَ اوِدُفَتٰھَا (اپنے غلام کو پھسلاتی ہے) کہا جاتا ہے فتای و فتاتی یعنی میرا غلام اور میری لونڈی عَنْ نَّفْسِہٖ (اس کے نفس کی طرف سے) تاکہ اس سے اپنی خواہش کو پوراکرے قَدْ شَغَفَہَا حُبًّا ( اسکی محبت اس کے دل میں گھر کرچکی ہے۔ ) حبًا یہ تمیز ہے یعنی اسکی محبت نے اس کے دل کے شغاف تک رسائی پائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی محبت نے اس کے دل کے پردے کو پھاڑ کر دل میں رسائی حاصل کرلی ہے۔ الشغافدل کا پردہ یا باریک کھال جس کو لسان القلب کہا جاتا ہے۔ اِنَّا لَنَرٰھَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتی ہیں) صحیح راستے سے دور خطاء میں مبتلا پاتے ہیں۔