Ayah 12:31پروپیگنڈے کا جواب :
31: فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِھِنَّ (جب راعیل نے ان کے فریب کو سنا) مکر سے ان کا غیر موجودگی میں یہ کہنا : امراۃ العزیز عشقت عبدھا الکنعانی اور اس کو غصہ آیا اور غیبت کو مکر خفیہ ہونے کی بناء پر کہا جیسا کہ مکار اپنا مکر خفیہ کرتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے اپنا راز ان کو چھپانے کیلئے دیامگر انہوں نے ظاہر کردیا۔ اَرْسَلَتْ اِلَیْھِنَّ (اس نے ان کی طرف پیغام بھیجا) ان کو دعوت دی۔ ایک قول کے مطابق دعوت تو چالیس عورتوں کو دی جن میں پانچوں مذکورہ بھی تھیں۔ وَاَعْتَدَتْ ( اور اس نے تیار کیا) مہیا کرنا یہ عتادؔ سے باب افتعال ہے۔ لَھُنَّ مُتَّکَاً (اور ان کیلئے تکیے لگا دیے) جن پر وہ تکیہ لگا سکیں۔ جیسے گائو تکیہ اس ہیئت کا مقصد کہ وہ ٹیک لگا کر بیٹھیں اس حال میں کہ چاقو ان کے ہاتھ میں ہوں۔ تاکہ وہ دیداریوسفی سے مدہوش ہوں اور اپنا آپ کھو بیٹھیں گی جس سے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں پر پڑیں گے تو ہاتھ کٹ جائیں گے۔ کیونکہ ٹیک لگانے والا جب کسی چیز کی وجہ سے مدہوش ہوتا ہے تو اس کا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر بلاقصد آگرتا ہے۔ وَّ اٰتَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنْہُنَّ سِکِّیْنًا (اور ان میں سے ہر عورت کو ایک چھری کاٹنے کو دے دی) اس زمانہ میں مصری لوگ چاقو سے کھاتے تھے جیسے عجمی کرتے ہیں۔ وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْھِنَّ (اور کہا تم ان عورتوں کے سامنے سے نکلو)
قراءت : بصری، عاصم اور حمزہ نے قالت میں کسرہ پڑھا۔ اور باقیوں نے ضمہ پڑھا۔
فَلَمَّا رَاَیْنَہٗ اَکْبَرْ نَہٗ (جب انہوں نے (یوسف) کو دیکھا تو مبہوت ہوگئیں) اس کو بہت بڑا خیال کیا۔ اور اس خوشگوار حسن و رعنائی سے اور بدیع الجمال چہرے سے ڈر گئیں۔ حسن میں یوسف (علیہ السلام) کو اسی طرح لوگوں پر فوقیت حاصل تھی۔ جیسا چاند کو بدر کی رات بقیہ ستاروں پر حاصل ہوتی ہے جب وہ مصر کی گلی کوچوں میں چلتے تو ان کے چہرے کی چمک دیواروں پر نظر آتی۔ وہ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے جس دن کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حسن اپنی دادی سارہ سے وراثت میں پایا تھا۔
اَکْبَرْنَکا ایک معنی یہ بھی کیا گیا کہ ان کو حیض آگیا۔ اور ھاؔ سکتہ کی ہے۔ اس لئے کہ اس طرح بولا نہیں جاتا النساء قد حضنہ کیونکہ یہ مفعول کی طرف متعدی نہیں ہوتا۔ عرب کہتے ہیں۔ اکبرت المراۃ اذا حاضت۔ جب اسے حیض آئے اور اکبرنؔ کی حقیقت یہ ہے۔ کبر میں داخل ہونا۔ کیونکہ جب اسے حیض آتا ہے۔ تو وہ حدصغر سے نکل جاتی ہے۔ گویا متنبی نے اسی تفسیر سے یہ شعر بنایا ہے۔ ؎ خف اللہ واسترذا الجمال ببرقع ٭ فان لحت حاضت فی الخدور العوائق
” اللہ تعالیٰ سے ڈر اور خوبصورت کو برقع سے ڈھانپ اگر تو نے ظاہر کیا تو پردوں میں پاکباز عورتوں کا حیض چھوٹ جائیگا۔ “
وَقَطَّعْنَ اَیْدِ یَھُنَّ (اور انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے) ہاتھوں کو زخمی کرلیا۔ جیسے کہتے ہیں کنت اقطع اللحم فقطعت یدی۔ میں گوشت کاٹ رہا تھا میرا ہاتھ زخمی ہوگیا۔ اب مطلب یہ ہوا انہوں نے اس کھانے کی چیز کو کاٹنے کا ارادہ کیا جو ان کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر ایسی مدہوش ہوگئیں کہ اپنے ہاتھوں کو زخمی کرلیا۔ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ (اور انہوں نے کہا پناہ بخدا) حاشا۔ یہ استثناء کے باب میں تنزیہ کا فائدہ دینے والا کلمہ ہے۔ تم کہو گے اساء القوم حاشا زید۔ قوم نے زیادتی کی سوائے زید کے۔ یہ حروف جارہ میں سے بھی ہے۔ یہاں تنزیہ و براءت کیلئے ہے۔ اب معنی اس طرح ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پاک، بری ہے۔ (ضعف و کمزوری سے) اور ابو عمرو کی قراءت حاشا للہ ہے۔ جیسے کہیں سقیالک گویا پہلے کہا برأۃ پھر کہا۔ اللہ تاکہ واضح ہو کہ کون بری اور منزہ ہے۔ اور قراءت حفص میں حاش للہ دوسرے الف کے حذف کے ساتھ ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پاکیزگی حاصل ہے۔ عاجزی والی صفات سے اور اسکی قدرت پر تعجب ہے کہ اس نے اس جیسا حسین پیدا کیا۔ مَاھٰذَا بَشَرًاط اِنْ ھٰذَآ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیْمٌ (یہ بشر نہیں یہ تو بس معزز فرشتہ ہے) ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) سے بشریت کی نفی ان کے عجیب و غریب حسن کی وجہ سے کی اور طباع میں یہ بات جمی ہوئی ہے کہ فرشتے سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں ہے۔ اور اتنی پاکدامنی فرشتوں میں ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ طباع میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ شیطان سے زیادہ کوئی بدصورت نہیں۔
Ayah 12:32فریب کاری کا نیا جال :
32: قَالَتْ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْہِ (اس نے کہا یہی وہ شخص ہے کہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں) اس نے کہا یہ وہی کنعانی غلام ہے۔ جس کی ایک صورت تم نے اپنے ذہنوں میں بنا رکھی تھی۔ اور پھر تم مجھے اس پر ملامت کرتی تھیں۔ تمہارے ذہن میں اس کا حقیقی تصور آیا ہی نہ تھا۔ ورنہ اسکی وجہ سے میرے فتنہ میں مبتلا ہونے پر تم مجھے معذور قرار دیتیں۔ وَلَقَدْ رَا وَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ فَاسْتَعْصَمَ (واقعہ میں میں نے ہی اس کو اپنی طرف میلان کیلئے پھسلایا تھا مگر وہ بچا رہا) استعصام مبالغہ کا وزن ہے۔ اور انتہائی بلیغ انداز میں باز رہنے پر دلالت کرتا ہے اور انتہائی تحفظ کو ظاہر کرتا ہے گویا کہ وہ عصمت میں پہلے ہی ہے اور اب اس میں مزید اضافے کیلئے کوشاں ہے۔ یہ کھلی ہوئی وضاحت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اس سے بالکل بری ہیں جو کہ بعض مفسرین نے (عیسائیت کے عقائد سے متاثر ہو کر تفسیر کردی کیونکہ ان کے نزدیک عصمت خاصہ نبوت نہیں) الھم ؔ اور البرھانؔ کی تفسیر کر ماری۔
ان عورتوں نے اس موقعہ پر سفارش کی کہ تم اپنی مالکہ کی اطاعت کرو اس پر راعیل نے یہ دھمکی دی۔ وَلَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَآ اٰمُرُہٗ (اور اگر اسنے نہ کیا وہ جو میں اس کو کہتی ہوں) نمبر 1۔ ضمیرہٗ کی ما ؔ موصولہ کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہے ما امربہٖؔ جار کو حذف کردیا جیسا اس مقولہ میں امرتک الخیر ای بالخیر نمبر 2۔ ماؔ مصدر یہ ہے اور مرجع یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ اب تقدیر اسطرح ہے ولئن لم یفعل امری ایاہ ای موجب امری و مقتضاہ اگر اس نے میرے حکم کا مقصود پورانہ کیا۔ لَیُسْجَنَنَّ ( تو ضرور قید کیا جائے گا)
ضرور محبوس کیا جائے گا) وَلَیَکُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ (اور یہ ضرور ذلیل و خوار ہوگا) لیکونًا میں نون خفیفہ کو وقفی حالت میں مشابہت کی وجہ سے الف سے لکھ دیا ہے۔ جیسے لنسفعًا بالناصیۃ میں۔ صاغرین ذلیل چور، قاتل بھگوڑے وغیرہ۔ جیسا کہ اس نے میرا دل چرایا۔ مجھ سے بھگوڑا ہوا اور جدائی سے میرا خون بہایا۔ وہاں اس کو کھانا پینا اور اچھی نیند میسر نہ ہوگی۔ جیسی اس نے میری نیند اور کھانا حرام کررکھا ہے۔ اور جس کو تخت کی ریشم پری پسند نہیں اس کو خاک نشینی کی پستی کے سواء کچھ حاصل نہ ہوگا۔
Ayah 12:3333۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اسکی یہ دھمکی سنی تو بارگاہ الٰہی میں درخواست پیش کردی۔
دعائے مستجاب :
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْ اِلَیْہِ (اے میرے رب مجھے قید اسکی بنسبت محبوب ہے جس کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں) دعوت کا اسناد تمام کی طرف اس لئے کیا کیونکہ وہ راعیل کی سفارشی بنی تھیں ماعلیک لواجبت مولا تک یا ہر ایک نے فدا ہو کر خفیہ یوسف کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔ پس انہوں نے بارگاہ الٰہی میں التجاء کی اے باری تعالیٰ قید و بند مجھے معصیت کے ارتکاب سے زیادہ پسند ہے۔ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَ ھُنَّ (اگر آپ نے ان کے فریب کو میری طرف سے نہ ہٹایا) ان سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑا رہے ہیں۔ اَصْبُ اِلَیْھِنَّ (میں ان کی طرف مائل ہوجائوں گا) الصبوۃ خواہش کی طرف میلان اسی سے الصبا ہے انسانی نفوس صباء کی طرف اسی لئے مائل ہوتے ہیں کہ اسکی خوشبو عمدہ ہے اور وہ راحت بیز ہے۔ وَاَکُنْ مِّنَ الْجٰھِلِیْنَ (اور نادانوں میں سے ہوجائوں گا) ان لوگوں میں سے جو علم پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ جو شخص علم پر چلتا نہیں وہ اور بےعلم برابر ہیں۔ نمبر 1۔ جاہلین کا معنی ہے بیوقوف (اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض مفسرین کی وہ تفسیر ھم ؔ محض باطل ہے)
Ayah 12:3434: فَاسْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ جب یوسف (علیہ السلام) کی دعا میں طلب صرف کی دعا تھی تو بارگاہ الٰہی سے جواب ملا۔ اس کے رب نے اسکی دعا کو قبول کرلیا۔ استجاب اجاب کے معنی میں ہے۔ فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَ ھُنَّ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (پس پھیر دیا اسنے ان کے فریب کو بیشک وہی ہر بات کو سننے والاجاننے والا ہے) پناہ مانگنے والوں کی التجائوں کو سننے والا اور یوسف (علیہ السلام) اور ان عورتوں کے حال کو جاننے والا ہے۔
Ayah 12:35بےگناہ کی جیل کا فیصلہ :
35: ثُمَّ بَدَالَھُمْ (پھرعزیز اور اس کے ساتھیوں کی رائے ہوئی) اس کا فاعل مضمر ہے کیونکہ لیسجننّہٗ سے اسکی تفسیر اس پر دلالت کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے پھر ان کی یہ رائے بنی۔ ھم ؔ کی ضمیر عزیز اور اس کے عزیز۔ مِّنْم بَعْدِ مَا رَاَوُاالْاٰیٰتِ (اس کے بعد کہ انہوں نے مختلف نشانیاں دیکھیں) آیات سے مراد وہ گواہیاں تھیں جو آپ کی براءت کے سلسلہ میں سامنے آئیں۔ نمبر 1۔ قدّ قمیص نمبر 2۔ قطع الایدی نمبر 3۔ شھادۃ الصبی وغیرہ۔ لَیَسْجُنُنَّہٗ (ضرور اس کو قید میں ڈالا جائے) نکتہ چینی پر پردہ ڈالنے۔ موجودہ حالت کا عذر پیش کرنے کیلئے اور یہ صرف عورت کے حکم کی پیروی کی وجہ سے تھا۔ کیونکہ وہ زن مرید بےغیرت تھا۔ عورت کے ہاتھ میں اسکی نکیل تھی۔ اور نمبر 1۔ اس کا خیال یہ تھا کہ قید ان کو ذلیل کرکے اس کا مطیع بنا دے گی۔ نمبر 2۔ بد نظری اور بدگمانی کے ڈر اور شرمندگی نے اس کو قید کرانے پر مجبور کیا۔ اور بدنامی کا دھبہ بھی لگ رہا تھا۔ جب اس نے دیدار اور وصال سے محرومی پائی تو پھر سماع احوال پر قناعت اختیار کرنی پڑی۔ حَتّٰی حِیْنٍ (ایک زمانہ تک) ایک وقت تک گو یا اس نے اپنے ہاں فرض کرلیا کہ اس کو ایک وقت تک قید کر کے اس کے رویہ کا اندازہ کریں۔
Ayah 12:36جیل کے دو نوجوانوں کے خواب :
36: وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ (اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ قید خانہ میں دو نوجوان داخل ہوئے) یہ بادشاہ کے غلام تھے۔ ایک اس کا خباز اور دوسرا ساقی۔ ان پر بادشاہ کو زہردینے کا الزام تھا۔ وہ بھی قید خانہ میں اسی گھڑی لائے گئے جب یوسف (علیہ السلام) کو داخل کیا گیا کیونکہ معؔ کا کلمہ صحبت کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہو خرجت مع الامیر اس سے مقصد امیر کے ساتھ مل کر جانا ہے۔ پس ان کا قید میں داخلہ آپ کے متصل ہوناضروری ہے۔ قَالَ اَحَدُھُمَآ (ان میں سے ایک نے کہا) ساقی نے کہا اِنّیْ اَرٰنِیْ (بیشک میں نے اپنے بارے میں دیکھا) اَعْصِرُ خَمْرًا (کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں) یعنی انگور۔ انگور کو شراب کہا کیونکہ عموماً اس سے وہ شراب بناتے تھے۔ نمبر 2۔ اہل عمان انگور کو الخمرکہتے ہیں۔ وَقَالَ الْاٰخَرُ (دوسرے نے کہا) خباز نے اِنِّیْ اَرٰنِیْ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْکُلُ الطَّیْرُ مِنْہُ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِہٖ (بیشک میں نے اپنے بارے میں دیکھا کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس سے پرندے کھا رہے ہیں تو ہمیں اسکی تعبیر بتلا) یعنی خواب کی تعبیراِنَّا نَرٰ کَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ (بیشک ہم تمہیں نیکی کرنے والا پاتے ہیں) ان لوگوں میں سے جو خواب کی اچھی تعبیر کرسکتے ہیں نمبر 2۔ قید خانہ والوں کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں میں سے ہیں۔ آپ مریض کا علاج، غمگین کی غم خواری۔ فقیر و محتاج پر وسعت کرتے ہیں۔ پس ہمارے خواب کی تعبیر کرکے ہم پر احسان کردو۔
ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے یہ امتحان کیلئے بتکلف خواب بنایا تھا۔ نمبر 1۔ ساقی نے کہا میں نے دیکھا گویا میں باغ میں ہوں میں نے اچانک دیکھا کہ انگور کی جڑ پر تین گچھے انگور کے ظاہر ہوئے پس میں نے ان کو توڑ کر بادشاہ کے پیالے میں نچوڑ دیا۔ اور اس کو پلادیا۔ نمبر 2۔ خباز نے کہا۔ میں نے دیکھا گویا میرے سر پر تین ٹوکرے ہیں جن پر قسما قسم کے کھانے سجے ہیں اچانک میں نے دیکھا کہ مردار خور پرندے ان میں سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔
Ayah 12:3737: قَالَ لَایَاْتِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِہٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُکُمَا بِتَاْوِیْلِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْ تِیَکُمَا 1 (کہا جو کھانا تمہارے کھانے کے لئے آتا ہے اس کے آنے سے پہلے اسکی حقیقت بتلا دیتا ہوں) اسکی ماہیت و کیفیت کیونکہ اس مشکل کی تفسیر کے مشابہ قبل ان یأ تیکما ہے۔ جب انہوں نے آپ سے تعبیرپوچھی اور آپ کی تعریف احسان سے کی تو آپ کی بصیرت نے اس کو بھانپ لیا۔ اور اس سے اپنے ایسے وصف تک پہنچ گئے جو علماء کے علم سے بہت بلند ہے اور وہ غیب کی اطلاع ہے اور آپ نے ان کو متنبہ کیا کہ ان کی طرف لایا جانے والا کھانا ہر روز ان کو بتلایا جاتا ہے کہ آج یہ کھانا اس طرح سے آئے گا۔ اور وہ اسی طرح ہی نکلتا ہے اور اس بات کو آپ نے تذکرہ توحید اور ایمان سے پہلے بطور راستہ کے اختیار کیا۔ پھر خوبصورت انداز میں ایمان و توحید کے محاسن اور شرک وکفر کے قبائح بیان کیے۔
نحو : اس سے یہ ظاہر ہوا کہ جب لوگ کسی عالم کے مرتبہ سے ناواقف ہوں تو وہ ان کو اس دوران میں اپنی ذات کے متعلق وہ بات کہے جو اسکی طرف مائل کرنے والی ہو۔ اور اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگ اس سے استفادہ کریں۔ تو یہ فَلَا تُزَکُّوْا اَنْفُسَکُمْ کے حکم میں شامل نہیں۔
وعظ و توحید :
ذٰلِکُمَا (تمہارے یہ دونوں خواب) ان کی تعبیر کی طرف اشارہ کیا۔ یہ تعبیر اخبار بالغیب کا حصہ ہے۔ مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ (اس میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے علم دیا) اور میری طرف وحی کی ہے میں نے کہا نت اور نجوم سے نہیں کہا۔
اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ (بیشک میں نے ایسی قوم کا مذہب چھوڑ دیا جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور خاص طور پر وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں) یہ ابتدائی کلام بھی ہوسکتا ہے۔ اور ماقبل کی تعلیل بھی بن سکتا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ علّمنی ذلک واوحٰی بہ الیّ لانّی رفضت ملّۃ اولٰئک۔ میرے رب نے مجھے علم دیا اور میری طرف اسلئے وحی کی کیونکہ میں نے اہل مصر اور جو ان کے دین پر مفتون ہیں ان کے طریقہ کا انکار کیا۔
Ayah 12:3838: وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبَآ ئِ یْ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ (اور میں نے اتباع کی اپنے باپ دادا ابراہیم و اسحاق و یعقوب کے مذہب کی) وہ ملت حنیفیہ ہے۔ ہمؔ کا لفظ تاکید مزید کیلئے لایا گیا ہے۔ اور آباء کا تذکرہ اس لئے کیا تاکہ ان کے سامنے ظاہر کریں کہ میں خانوادئہ نبوت سے تعلق رکھتا ہوں۔ تاکہ وہ دونوں پہچان لیں کہ آپ نبی مرسل ہیں اور اخبار غیب آپ کو وحی سے معلوم ہوتے ہیں تاکہ اسطرح سے ان کو اور زیادہ رغبت ہو اور آپ کی اتباع کرنا آسان ہوجائے۔ اوپر والی آیت میں ترکتؔ کا مطلب ابتدائی ترک یعنی اختیار ہی نہ کرنا مراد ہے یہ مراد نہیں کہ پہلے کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔ َمَاکَان لَنَآ (ہمارے لئے مناسب نہ تھا) ہم گروہ انبیاء (علیہم السلام) کے مناسب ہی نہ تھا۔
اَنْ نُّشْرِکَ بِاللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ (کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں) جو چیز بھی خواہ صنم ہو یا غیرصنم ذٰلِکَ (یہ) یہ توحید۔ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُوْنَ (یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت شکر گزار نہیں) وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا شکر یہ ادا نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے اور باز نہیں آتے۔
Ayah 12:3939: یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ (اے میرے جیل کے ساتھیو) اے سکان جیل جیسا کہتے ہیں اصحاب النار ] البقرہ : 81[ دوزخی و اصحاب الجنۃ ] البقرہ : 82[ جنت والے۔ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ (کیا متفرق رب زیادہ بہتر ہیں یا اللہ اکیلا زبردست) تفرقؔ سے مراد تعداد میں اختلاف و کثرت ہے یعنی کیا متفرق ارباب کا ہونا کہ ایک تم میں سے ایک خدا کو پوجے اور دوسرا دوسرے کو یہ زیادہ بہتر ہے یا ایک ہی رب جو اکیلا زبردست ہو اور وہ کسی سے مغلوب نہ ہوتا ہو اور ربوبیت میں بھی اس کے ساتھ کوئی سہیم و شریک نہ ہو۔ یہ مثال ہے جو آپ نے اللہ تعالیٰ وحدہ ٗلا شریک کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی بیان فرمائی۔
Ayah 12:4040: مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (نہیں تم اللہ تعالیٰ کے سواء عبادت کرتے) تعبدون سے ان دونوں اور جو مصری ان کے اہل دین تھے سب کو خطاب کیا ہے ہٗ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ اِلَّآاَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ (مگر محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبائو و اجداد نے تجویز کرلیے ہیں) تم نے ان کو ٰالِھَۃ کہا جو الوھیت کے حقدار نہیں۔ پھر ستم برستم یہ کہ تم نے ان کی پوجا شروع کردی گویا کہ تم محض ان ناموں کو پوجتے ہوجنکے مسمیات نہیں ہیں۔ سمیتموھاؔ کا مطلب سمیتم بھا ہے۔ جیسے کہتے ہیں سمیتہ زیدًا و سمیتہ بزید۔ دونوں کا معنی میں نے اس کا نام زید رکھا ہے۔ مَّآاَنْزَلَ اللّٰہ بِھَا (اللہ تعالیٰ نے نہیں اتاری ان کے متعلق) ان کے نام رکھنے کے متعلق مِنْ سُلْطٰنٍ (کوئی دلیل) حجت اِنِ الْحُکْمُ (نہیں ہے حکم) عبادت اور دین کے معاملہ میں اِلَّا لِلّٰہِ (مگر اللہ تعالیٰ ہی کیلئے) پھر اللہ تعالیٰ کا وہ حکم بیان فرمایا۔ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ (اس نے حکم دیا کہ نہ تم عبادت کرومگر اسی ہی کی یہی مضبوط دین ہے) القیمؔ کا معنی پختہ جس پر دلائل شاہد ہیں۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ (اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ) ۔
مسئلہ : اس سے یہ معلوم ہوا کہ سزا بندے پر لازم ہوجاتی ہے خواہ وہ اس بات سے ناواقف ہو جبکہ اس بات کا جاننا کسی طریقہ سے اس کے لئے ممکن ہو۔
Ayah 12:41تعبیر خواب :
41: یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُکُمَا (اے میرے جیل کے ساتھیو ! تم میں سے ایک) یہاں سے خواب کی تعبیر شروع فرمائی احدکما سے ساقی مراد ہے۔ فَیَسْقِیْ رَبَّہٗ خَمْرًا (وہ اپنے آقا کو شراب پلائیگا) یعنی اپنے عہدے پر واپس لوٹ جائے گا۔ وَاَمَّا الْاٰخَرُ (اور پھر دوسرا) یعنی نانبائی فَیُصْلَبُ فَتَاْ کُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِہٖ (پس اس کو سولی دی جائے گی اور پرندے اس کو سر کی طرف سے کھائیں گے) روایت تفسیر میں ہے کہ آپ نے پہلے کو کہا تم نے جو انگور کی بیل اور اسکی خوبصورتی دیکھی ہے۔ اس سے مراد بادشاہ ہے اور اس کے ہاں تیری اچھی حالت ہے۔ باقی تین شاخیں اس سے مراد تین دن ہیں جو تمہیں جیل میں گزارنے پڑیں گے۔ پھر تو نکل جائے گا۔ اور اپنی ذمہ داری کو دوبارہ جاکر سنبھال لے گا۔ اور دوسرے کو فرمایا تین ٹوکری یہ تین دن ہیں۔ پھر تمہیں نکال کر سولی دی جائے گی۔ جب خباز نے تعبیر سنی تو کہنے لگا میں نے کوئی خواب نہیں دیکھا (امتحاناً بات بنائی تھی) تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْہِ تَسْتَفْتِیٰنِ (مقرر ہوچکا وہ معاملہ جس کے متعلق تم دونوں پوچھتے تھے) قطعی فیصلہ کردیا گیا اور تکمیل پذیر ہوا وہ معاملہ جس کے متعلق تم سوال کررہے تھے۔ یعنی ایک کی ہلاکت اور دوسرے کی نجات۔
Ayah 12:4242: وَقَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنْھُمَا (اور کہا اس کو جس کے بارے میں گمان کیا کہ چھوٹنے والا ہے) گمان کرنے والے یوسف (علیہ السلام) تھے۔ اگر اسکی تعبیربطریق اجتہاد ہو۔ اور اگر بطریق وحی ہو تو گمان کرنے والا ساقی ہے۔ نمبر 2۔ ظن کا معنی یقین ہے۔
اذْکُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّکَ (تو میرا تذکرہ اپنے آقا کے پاس کرنا) بادشاہ کے ہاں میری صفات کا تذکرہ کرنا اور اس کے سامنے میرا واقعہ سنانا شاید اس کو رحم آئے اور اس پریشانی سے مجھے نکالے۔ فَاَنْسٰہُ الشَّیْطٰنُ (پس اس کو شیطان نے بھلا دیا) ساقی بھول گیا ذِکْرَ رَبِّہٖ (اپنے آقا کے پاس ان کا تذکرہ کرنا) تقدیر عبارت ان یذکرلربہٖ ہے یا عند ربہ۔ اپنے آقا کے لئے یا پاس یا یوسف (علیہ السلام) سے بھول ہوئی جبکہ انہوں نے اپنا معاملہ غیر کے سپرد کیا۔ حدیث میں ہے جس کو ابن حاتم اور ابن مردویہ) نے ذکر کیا رحم اللّٰہ اخی یوسف لو لم یقل اذکرنی عند ربک لما لبث فی السجن سبعًا۔ اللہ تعالیٰ میرے بھائی یوسف پر رحم فرمائے اگر وہ اذکرنی عند ربک نہ کہتے تو سات سال قید میں نہ رہتے۔ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَ (پس وہ قید میں سات سال ٹھہرے) جمہور کے نزدیک سات سال۔ بضع کا لفظ تین سے نوتک بولا جاتا ہے۔
Ayah 12:43بادشاہ کا خواب :
43: وَقَالَ الْمَلِکُ اِنِّیْ اَرٰی سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْ کُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْچبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَیٰبِسٰتٍ (اور بادشاہ نے کہا بیشک میں نے سات موٹی گائیں دیکھیں جن کو سات دبلی گائیں کھا گئیں۔ اور سات بالیں سبز اور دوسری خشک) جب یوسف (علیہ السلام) کے نکلنے اور رہائی پانے کا زمانہ قریب آیا تو مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے ایک خوفناک عجیب خواب دیکھا۔ اس نے سات موٹی گائیں خشک دریا سے نکلتے ہوئے دیکھیں اور سات دبلی گائیں بھی۔ یہ دبلی گائیں ان موٹی کو نگل گئیں اور بادشاہ نے سات سبز بالیں دیکھیں جن پر دانے لگ چکے ہیں۔ اور سات دوسری خشک بالیں جو کٹنے کے قریب ہیں۔ وہ خشک بالیں سبز پر لپٹ گئیں۔ اور ان پر غالب آکر ان کو خشک کر ڈالا۔ بادشاہ نے اسکی تعبیر چاہی مگر اسکی قوم میں کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اسکی صحیح تعبیر کرسکے۔
بعض علماء کا قول یہ ہے کہ ابتلاء کی ابتداء بھی خواب اور ابتلاء کی انتہاء بھی خواب سمانؔ جمع سمین و سمینۃ موٹی۔ العجافؔ۔ دبلی۔ عجف ایسے دبلے پن کو کہتے ہیں کہ جس کے بعد موٹاپا کا وجود نہ ہو۔ عجاف یہ عجفاء کی جمع ہے۔ اور افعل اور فعلاء کی جمع فعال کے وزن پر نہیں آتی۔ اب اسکی نقیض سمانؔ پر اس کو محمول کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اہل عرب کی عادت یہ ہے کہ نظیر کو نظیر پر محمول کرتے رہتے ہیں۔ اور اسی طرح نقیض کو نقیض پر۔ آیت میں اس بات پر دلالت ہے کہ خشک بالیں بھی سات ہیں جیسا کہ سبز کی تعداد سات تھی۔ کیونکہ سیاق کلام بقرات سمان اور عجاف کے سلسلہ میں اور سنابل خضرو یابس کے متعلق ایک جیسا ہے۔ پس لازم ہے کہ آخر کا معنی سبعًا لیا جائے۔ اور اخر یابسات کا معنی سبعا آخر لیا جائے۔
یٰٓاَیُّھَا الْمَلَاُ (اے سردارو ! ) گویا اس نے اعیان سلطنت مراد لیے جو علماء و حکماء میں سے تھے۔ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُئْ یَایَ اِنْ کُنْتُمْ لِلرُّ ئْ یَا تَعْبُرُوْنَ (تم مجھے میرے خواب کے سلسلہ میں بتلائو اگر تم خواب کی تعبیر کرنا جانتے ہو) نمبر 1۔ للرّؤیا میں لام بیانیہ ہے۔ جیسا کہتے ہیں اس قول باری تعالیٰ میں وکانوا فیہ من الزاھدین میں من بیانیہ ہے۔ نمبر 2۔ مفعول بہٖ کو جب فعل سے مقدم کردیں تو فعل اس پر عمل کرنے میں اتنی قوت میں نہیں رہتا جتنا کہ بعد میں لانے سے۔ پس مفعول کو لام کے ذریعہ تقویت دی جیسا تم کہو عبرت الرؤیا۔ وللرؤ یا عبرت نمبر 3۔ للرؤیا کَا نَ کی خبر ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ کان فلان لھٰذا الامر۔ جبکہ وہ اس کام پر پوراقابو رکھتا ہو اور اس میں مستقل ہو اور تعبدون خبر دوم یا حال ہے۔ اور عبرت الرؤیا کی حقیقت خواب کے انجام کا ذکر کرنا اور اس کے آخرکا تذکرہ جیسا کہتے ہیں عبرت النھرجب تم اس کو طے کرو۔ یہاں تک کہ دوسرے کنارے پر پہنچ جائے۔ ھو عبرہ اس نے اسکی تعبیر کی اور اسی طرح اوّلت الرؤیا جب کہ تم اس کا انجام ذکر کرو۔ وہ اس کا انجام ذکر کرنے والا ہے۔ میرے نزدیک عبرت الرؤیا تخفیف کے ساتھ زیادہ قابل اعتماد ہے۔ میں نے بعض لوگوں کو عبرت الرؤیا۔ تشدید کے ساتھ انکار کرتے پایا حالانکہ التعبیر والمعبر دونوں ہی استعمال ہوتے ہیں۔
Ayah 12:4444: قَالُوْا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ (انہوں نے کہا یہ پریشان خیالات ہیں) یعنی نمبر 1: وہ خواب، رلے ملے جھوٹے خواب اور جن میں نفس کی بات ملی ہو نمبر 2۔ وسوسہ شیطانی۔ اضغاث کا اصل گھاس کا مٹھہ قسم قسم کی گھاس کا گڈا۔ اس کا واحد ضغث ہے یہاں جھوٹے خوابوں کیلئے بطور استعارہ لایا گیا ہے اور اضافت یہاں مِن کے معنی میں ہے۔ اے اضغاث من احلامٍ ۔ اس کو جمع لایا گیا حالانکہ وہ ایک ہی خواب ہے بطلان کی صورت میں حلم میں اضافہ کیلئے۔ اور ممکن ہے کہ اس نے اس خواب کے ساتھ اور خواب بھی ذکر کئے ہوں۔
وَمَانَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ (اور ہم خواب کی تعبیر سے واقف نہیں ہیں) احلامؔ سے مراد باطل خوابیں تھیں۔ اسلئے انہوں نے کہہ دیا ہمارے پاس اسکی کوئی تعبیر نہیں کیونکہ تعبیر تو ڈھنگ کے خوابوں کی ہوا کرتی ہے۔ نمبر 2۔ انہوں نے اپنی علمی غلطیوں کا اعتراف کرلیا۔ اور انہیں خوابوں کی تعبیر کا علم نہ تھا۔
Ayah 12:45ساقی کا بیان :
45: وَقَالَ الَّذِیْ نَجَا (کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی) قتل سے مِنْھُمَا (ان دونوں میں سے) جیل والوں میں سے وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ (اور اس کو ایک وقت کے بعد یاد آیا) یہ دال کے ساتھ زیادہ فصیح ہے۔ اصل میں اذتکر ہے ذال کو دال اور تا کو دال سے بدل کر دونوں کو باہمی ادغام کردیا۔ کیونکہ ہم جنس ہیں۔ حسن (رح) کہتے ہیں۔ واذّکر اسکی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے تا کو ذال کر کے ذال میں ادغام کیا ہے۔ یوسف کا تذکرہ اور جو ان سے مشاہدہ کیا تھا۔ بعدامۃ طویل مدت کے بعد اور وہ اسطرح کہ جب بادشاہ نے خواب کی تعبیر پوچھی اور اسکی تعبیر مشکل بن گئی تو بچنے والے کو یوسف یاد آئے۔ اور اپنا خواب اور اسکی تعبیر یاد پڑی۔ اور اسی طرح اپنے ساتھی کا خواب اور اسکی تعبیر، تو بادشاہ نے اس کو طلب کیا کہ وہ اس خواب کا تذکرہ بادشاہ کے پاس کرے۔ اَنَا اُنَبِّئُکُمْ بِتَاْوِیْلِہٖ (میں اسکی تعبیر تمہیں بتاتا ہوں) میں اس سے پوچھ کر اسکی تعبیر بتلاتا ہوں جس کو اسکی تعبیر کا علم ہے۔ فََاَرْسِلُوْنِ (پس تم مجھے بھیجو)
قراءت : یعقوب نے یا ؔ کے ساتھ پڑھا ہے ای فابعثونی الیہ لاسألہٗ مجھے اس کے پاس بھیجو تاکہ میں اس سے پوچھ آئوں۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف اس کو بھیجا وہ آیا اور آکر کہا۔
Ayah 12:46تعبیر یوسف۔ :
46: یُوْسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیْقُ (اے سچے یوسف) یہ مجسمہ صدق اس نے یہ بات اس لیے کہی کیونکہ وہ ان کے حالات جان چکا تھا۔ اور اپنے خواب کی تعبیر میں ان کی سچائی خوب پہچان چکا تھا۔ اور اپنے ساتھی کے خواب کے متعلق بھی اسی طرح واقع ہوا جیسا انہوں نے تعبیر کی تھی۔ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْ کُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعِ سُچنْبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَیٰبِسٰتٍ لَّعَلِّیْ اَرْجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَعْلَمُوْنَ (آپ ہمیں سات موٹی گائیں جن کو سات دبلی کھا جاتی ہیں اور سات سبز بالیں اور دوسری خشک کے متعلق تعبیر دیں شاید کہ میں لوگوں کے پاس جائوں شاید وہ جان لیں) الناسؔ سے بادشاہ اور اس کے پیرو مراد ہیں۔ یعلمون ؔ سے آپ کی فضلیت و مرتبہ جان کر طلب کریں اور اس مشقت سے آپ کو رہائی دلائیں۔
Ayah 12:4747: قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا (فرمایا تم زراعت کرو گے سات سال متواتر) یہ خبر ہے مگر معنی امر کا ہے جیسا اس آیت میں تؤمنون باللّٰہ ورسولہ وتجاھدون ] الصف : 11[ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور جہاد کرو) اسکی دلیل یہ قول ہے فذروہ فی سنبلہ ہے۔
نکتہ : امر کو صورت خبر میں اسلئے ذکر کیا جاتا ہے تاکہ مامور بہٖ کے وجود میں مبالغہ ہو گویا اس کو موجود سمجھ کر اس کے متعلق خبر دی جاری ہے۔ دَاَبًا (مسلسل)
قراءت : یہ سکون ہمزہ کے ساتھ ہے اور حفص اس کو فتحہ سے پڑھتے ہیں۔ اور یہ دونوں دأب فی العمل کے مصدر ہیں۔ یہ دأبا المأمورین سے حال ہے ای دائبین۔ ہمیشگی کرنے والے فَمَا حَصَدْ تُّمْ فَذَرُوْہُ فِیْ سُنْچبُلِہٖ (جو تم کاٹو اس کو اس کے بالوں میں چھوڑدو) تاکہ اس کے گھن نہ لگے۔ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْکُلُوْنَ (مگر تھوڑا جو تم کھاؤ) یعنی جو تم نے ان سالوں میں استعمال کرنا ہو۔
Ayah 12:4848: ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْ کُلْنَ (پھر اس کے بعد سات بہت سخت سال آئیں گے جو کھا جائیں گئے) یہاں یَاْکُلْنَمیں کھانے کی نسبت مجازاً سالوں کی طرف کردی۔ مَاقَدَّمْتُمْ لَھُنَّ (جو تم نے ان کے لئے پہلے سے جمع کر رکھا ہوگا) یعنی سرسبزی والے سالوں میں اِلَّا قَلِیلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ (مگر تھوڑا جو تم بچا کر رکھو گے) مگر تھوڑا جو تم جمع کروگے اور چھپا کر رکھو گے۔
Ayah 12:4949: ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ 0 بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ (پھر اس کے بعد ایک سال ہوگا) یعنی چودہ سال بعدفِیْہِ یُغَاثُ النَّاسُ (اسمیں لوگوں پر بارش برسائی جائے گی) یہ الغوث سے ہے۔ نمبر 1۔ ان کے فریادیوں کی ضرورت پوری ہوگی نمبر 2۔ الغیث سے ہے یعنی بارش کی جائے گی جیسے کہتے ہیں غیث البلاد جبکہ بارش ہو وَفِیْہِ یَعْصِرُوْنَ ( اور اس میں لوگ نچوڑیں گے) یعنی انگور زیتون تل، اور ان سے مشروبات بنائیں گے اور تری کیلئے بطور تیل استعمال کریں گے۔
قراءت : حمزہ و علی نے تعصرون پڑھا ہے۔ آپ نے بقرات سمان اور السنبلات الخضر کی تعبیر خوشحالی کے سال اور العجاف اور الیابسات کی تعبیر قحط والے سالوں سے کی اور پھر ان کو بشارت دی کہ خواب کی تعبیر تو اتنی ہے مگر مزید بات یہ ہے کہ آٹھواں سال برکت والا آئے گا۔ اس میں کثرت سے غلہ اور بیشمار نعمتیں میسر ہونگی۔ اور یہ تمام باتیں وحی سے بتلائیں اور اسی ہی سے ممکن ہیں۔
Ayah 12:50بادشاہ کی طرف سے رہائی کا پروانہ اور آپ کا انکار :
50: وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖ فَلَمَّا جَآئَ ہُ الرَّسُوْلُ (اور کہا بادشاہ نے اس کو میرے پاس لے آئو۔ جب بادشاہ کا قاصد آیا) تاکہ وہ قید سے رہائی دے قَالَ ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ (اس نے کہا تو لوٹ جا اپنے آقا کی طرف) ربک سے یہاں بادشاہ مراد ہے۔
فَسْئَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ (اور اس سے پوچھو کیا حال ہے ان عورتوں کا) بال بمعنی عورتوں کی حالت ہے۔ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ (جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے) یوسف (علیہ السلام) ثابت قدم رہے اور بادشاہ کے جو اب میں حوصلہ مندی سے کام لیا اور عورتوں کے متعلق سوال کو مقدم کیا تاکہ ان کی براءت برسر میدان ظاہر ہوجائے اور جو بہتان ان پر لگایا اور اسمیں قید کیا گیا وہ کھل جائے۔ تاکہ حاسدوں کو آپ کی شان گھٹانے کی جرأت نہ ہو۔ اور تاکہ لوگوں کے منہ اس بات سے بند ہوجائیں کہ کسی بڑے جرم کی وجہ سے ان کو سات سال جیل میں ڈالا گیا۔
: تہمت کی نفی کیلئے کوشش لازم ہے اور ایسے مواقع سے بچنا ضروری ہے جو تہمت کا پیش خیمہ ہوں۔ آپ ﷺ نے یوسف (علیہ السلام) کی اس عظمت کو اس طرح سراہا۔ یوسف (علیہ السلام) کا صبر و سخاوت کتنی عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرے۔ جب ان سے موٹی اور دبلی گائیں کے متعلق سوال کیا گیا (تو آپ نے تعبیر کے ساتھ تد بیر حسن بتلائی) اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو تعبیر بتلانے کی یہ شرط لگا دیتا کہ وہ مجھے جیل سے رہا کریں۔ اور ان کی یہ حالت بھی بڑی عجیب ہے کہ جب ان کے پاس قاصد آیا تو اسے کہا : ارجع الی ربک۔ اگر میں اسکی جگہ ہوتا اور قید میں اتنا عرصہ گزار چکا ہوتا جتنا انہوں نے گزارا تو میں ضرور داعی کی بات پر لبیک کہتا اور نکلنے کی طرف جلدی کرتا۔ عذر تلاش نہ کرتا، وہ بڑے ہی حوصلے مند اور بردبار تھے۔ (درالمنثور)
سخاوت و حسن ادب یوسفی کا ایک ورق ملاحظہ ہو کہ آپ نے عزیز کی بیوی کا ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ اس نے آپ کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا اور قید و بند کا سبب بنی اور فقط ان عورتوں کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِ ھِنَّ عَلِیْمٌ (بیشک میرا رب ان کے فریب کو جانتا ہے) ان کا فریب بلاشبہ بڑا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں اور وہ اس پر بدلہ لینے والے ہیں۔
Ayah 12:51شاہی تفتیش :
51: جب بادشاہ کا قاصد واپس لوٹ کر آیا تو بادشاہ نے ان ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کو بلایا۔ اور عزیز کی عورت کو بھی بلایا اور کہا قَالَ مَاخَطْبُکُنَّ (تمہارا کیا معاملہ ہے)
اِذْرَا وَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ (جب کہ تم نے یوسف کو پھسلایا) کیا تم نے اسکی طرف سے اپنے لئے ذرہ بھر میلان پایا۔ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ (تو انہوں نے کہا پناہ بخدا) اسکی قدرت جس نے ایسا پاک باز بنایا ہے۔ مَاعَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوْئٍ (ہم نے ان کے متعلق ذرہ بھی برائی نہیں پائی) سوء سے گناہ مراد ہے۔ قَالَتِ امْرَاَۃُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ (عزیز کی بیوی کہنے لگی اب حق واضح ہوگیا) ظاہر اور پختہ ہوگیا۔ اَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ (میں نے اس کو اپنے مطلب کیلئے پھسلایا تھا اور بیشک وہ سچوں میں سے ہے) اس نے یہ بالکل صحیح کہاھی راودتنی عن نفسی ان دو گواہیوں پر کسی اضافہ کی ضرورت نہیں۔ یہ گواہیاں آپ کی براءت و نزاہت کو خوب ثابت کر رہی ہیں۔ عورتوں نے یہ برملا اعتراف کیا کہ یوسف (علیہ السلام) پر جو الزام لگا یا گیا اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔
Ayah 12:52براءت یوسف :
52: پھر قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس لوٹ کر آیا اور عورتوں کی گفتگو کے متعلق اطلاع دی اور عزیز مصر کی بیوی کے اعتراف و اقرار کا بھی ذکر کیا۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا۔ ذٰلِکَ (یہ) نکلنے سے انکار اور اظہار براءت پر اصرار میں نے اسلئے کیا لِیَعْلَمَ (تاکہ عزیز مصر کو معلوم ہو) اَ نِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَیْبِ (کہ میں نے اسکی غیرموجودگی میں اسکی خیانت نہیں کی) اسکی عزت کے سلسلہ میں اس کی عدم حاضری میں۔
نحو : بالغیب یہ فاعل سے حال ہے یا مفعول سے حال ہے۔ معنی اس طرح ہوگا نمبر 1۔ میں اس سے غائب ہوں۔ نمبر 2۔ وہ میرے پاس موجود نہ ہو۔ نمبر 2۔ لیعلم کی ضمیر بادشاہ کی طرف لوٹائیں تاکہ بادشاہ کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کی خیانت نہیں کی۔ وَاَنَّ اللّٰہَ لَایَھْدِیْ کَیْدَ الْخَآپنِیْنَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتے) ان کو سیدھا راستہ نہیں دکھاتے۔ گویا اس میں امرأۃ عزیز کے متعلق تعریض ہے کہ اسنے اپنے خاوند کی امانت میں خیانت کی۔ اور اپنی امانت کو پوری شوکت و قوت سے ظاہر فرمایا۔
Ayah 12:5353: وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ (اور میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا) پھر آپ نے بارگاہ الٰہی میں تواضع کرتے ہوئے اور اپنے نفس کو مٹاتے ہوئے تاکہ اپنے منہ مُزکّٰی بننے کا وہم نہ ہو۔ اور یہ بھی واضح ہوجائے کہ مجھ میں جو امانت ودیانت پائی جاتی ہے۔ یہ محض توفیق الٰہی اور اسکی عصمت سے ہے۔ چناچہ فرمایا میں بذات خود اپنے نفس کو پاک قرار نہیں دیتا کہ وہ لغزشوں سے بچ جائے اور نہ میں بالکلیہ اسکی براءت کی گواہی دیتا ہوں۔ اور نہ عمومی افعال میں اس کو (لغزش سے) پاک قرار دیتا ہوں۔ نمبر 2۔ اس حادثہ میں جیسا کہ ھَمّ کو خطرئہ بشر یہ کے معنی میں جب لیا جائے اور قصدو ارادہ کا اسمیں مطلقًا دخل نہ ہو۔
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْئِ (بیشک نفس تو ضرور برائی کی طرف جھک جانے والا ہے) النفس سے جنس نفس مراد ہے۔ جنس نفس تو برائی کی طرف لے جانے والی ہے اور اس پر آمادہ کرتی ہے کیونکہ اسمیں شہوات پائی جاتی ہیں۔ اِلَّا مَارَ حِمَ رَبِّیْ (مگر جس پر میرا رب رحم کرے) نمبر 1۔ مگر وہ چیدہ لوگ جن پر میرے رب کی رحمت ہو اور عصمت سے ان کو نوازا گیا ہو۔ نمبر 2۔ یہ بھی جائز ہے کہ مَا رَحِم کو زمانہ کے معنی میں لیا جائے مگر میرے رب کی رحمت کے وقت۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ نفس تو ہر وقت برائی کی طرف مائل کرنے والا ہے مگر وقت عصمت میں وہ مائل نہیں کرسکتا۔
نمبر 3۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ یعنی میرے رب کی رحمت اس نفس کو بدی کے راستہ سے پھیر دیتی ہے۔ اس صورت میں اِلَّاکولٰکِنَّ کے معنی میں لیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا مقولہ ہے کہ یہ بات جو میں نے کہی ہے یہ اس لئے ہے تاکہ یوسف کو علم ہوجائے کہ میں نے اس کے ساتھ خیانت نہیں کی اور اس کے متعلق اسکی غیر موجودگی میں جھوٹ نہیں بولا بلکہ جو سوال کیا گیا اس کے متعلق میں نے سچی بات کہی ہے مگر اس کے باوجود بھی میں اپنے آپ کو خیانت سے بری الذمہ قرار نہیں دیتی۔ میں نے اسکی خیانت کی ہے جبکہ میں نے اس پر یہ کہہ کر بہتان تراشا : مَاجَزَآئُ مَنْ اَرَادَ بِاَہْلِکَ سُوْئً ا اِلَّا اَنْ یُّسْجَنَ اور قید کی دھمکی دی۔ وہ اپنے قصور کا اعتراف کر رہی ہے کہ ہر نفس برائی کی طرف جھکائو اختیار کرنے والا ہے۔ اس سے تو یوسف (علیہ السلام) جیسا معصوم انسان پر دئہ رحمت کی برکت سے بچ سکتا ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّ حِیْمٌ (بیشک میرا رب بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) اس نے اپنے رب سے معافی طلب کی اور اسکی رحمت مانگی ان غلطیوں سے جن کا وہ ارتکاب کرچکی تھی۔ اس کو کلام یوسف (علیہ السلام) قرار دیا گیا۔ مگر ظاہر میں اسکی کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ معنی تو اسکی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ قرآن مجید کی تقدیم و تاخیر والی قسم میں سے ہے کہ : ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ کا اتصال وتعلق فسئلہ مابال النسوۃ الّٰتی قطعن ایدیھن سے ہے۔
Ayah 12:54شاہی حکم نامہ :
54: وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ (بادشاہ نے کہا اس کو میرے پاس لے آئو۔ میں اس کو خاص کر لونگا اپنی ذات کیلئے) میں اس کو مقرر کرو نگا اپنی ذات کیلئے فَلَمَّا کََلَّمَہٗ (جب ان سے بادشاہ نے کلام کیا) اور اس چیز کا مشاہدہ کیا جو اس کے گمان میں بھی نہ تھی۔ توقَالَ (کہا) بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کو اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ (تم آج سے ہمارے نزدیک معتبر و معزز ہو) تو مرتبے اور مقام والا ہے۔ اور ہر بات میں قابل اعتماد ہے۔ روایت تفسیر میں ہے کہ جب قاصد آیا تو اس کے ساتھ 70 ستردربان اور ستر سواریاں تھیں اور شاہی جوڑا بھی ساتھ تھا اور کہا بادشاہ بلا رہا ہے۔ پس آپ قید سے نکلے اور بادشاہ اور اس کے اہل و عیال کو دعائیں دیں۔ اللّٰھم عطف علیھم قلوب الاخیار ولاتعم علیھم الاخبارفھم اعلم الناس بالاخبار فی الواقعات اور قید خانہ کے دروازہ پر لکھوایا ہذہٖ منازل البلواء وقبورالا حیاء وشماتۃ الاعداء و تجربۃ الاصدقاء کہ مصائب کے مقامات زندوں کے قبرستان، دشمنوں کی خوشی اور دوستوں کی آزمائش ہیں پھر غسل فرمایا جیل خانہ کی میل کچیل اتاری۔ نیا لباس زیب تن کیا جب بادشاہ کے ہاں داخل ہوئے تو کہا اللّٰھم انی اسألک بخیرک من خیرہ واعوذبعزّتک وقدرتک من شرّہ اے اللہ تیری خیر کے ذریعہ اسکی خیر کا طالب ہوں اور تیری عزت وقدرت کی پناہ کا طالب ہوں اس کے شر سے۔ پھر سلام کر کے عبرانی زبان میں اس کے لئے دعا کی تو بادشاہ نے کہا یہ کیا زبان ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ میرے آبائو اجداد کی زبان ہے۔ بادشاہ ستر زبانوں کو جانتا تھا۔ چناچہ اس نے ان سب زبانوں میں گفتگو کی آپ نے انہیں سب زبانوں میں جوابات دیے۔ بادشاہ کو تعجب ہوا اور کہنے لگا اے مجسمہ صدق ! میں اپنا خواب تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں تو آپ نے فرمایا تم نے گائیں دیکھیں۔ پھر ان کے رنگ اور حالات اور ان کے نکلنے کی جگہ بتلائی اور بالوں کی جو کیفیت بادشاہ نے دیکھی وہ بیان
کی۔ بادشاہ کو کہا کہ تم سردیوں میں غلہ جمع کرو۔ مخلوق اطراف سے تیرے پاس آئے گی۔ اور غلہ حاصل کرے گی اور تیرے پاس اتنے خزانے جمع ہونگے جو آج تک کسی کے پاس جمع نہیں ہوئے۔ بادشاہ نے کہا کون ان باتوں میں میرا ذمہ دار ہے ؟ اور کون اس کو جمع کرے گا ؟ اور کون سرانجام دے گا۔
Ayah 12:55مطالبہ ٔ یوسف۔ :
55: قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ (یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تم مجھے زمین کے خزائن پر مقرر کرو) تم سرزمین کے خزائن کا مجھے ذمہ دار بنادو۔ اِنِّیْ حَفِیْظٌ (میں امانتدار محافظ ہوں) اور اس چیز کی حفاظت کروں گا۔ جس کی حفاظت مجھ سے چاہو گے۔ عَلِیْمٌ (جاننے والا) تصرف و خرچ کے مقامات کو جاننے والا ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی امانت و کارگزاری کو خود بیان فرمایا بادشاہوں کے ہاں جن کو عہدہ دیا جاتا ہے۔ ان میں یہی چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ آپ نے خود عہدہ اس لئے طلب کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہو ملک و دنیا ہرگز مقصود نہ تھی آپ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ ہوں۔ حق قائم ہو، عدل پھیلے، اور بندوں کو راحت میسر ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت اسی لیے ہوتی ہے۔ آپ جانتے تھے کہ کوئی اور یہ کام سرانجام نہیں دے سکتا۔ اس لئے خود طلب کیا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بھائی یوسف پر رحم کرے اگر وہ : اجعلنی علی خزائن الارض نہ کہتے تو بادشاہ ان کو فوراً حاکم بنا دیتا ۔ (مگر اس کہنے کی وجہ سے) اس نے ایک سال تک مؤخر کیا۔ بقول حافظ ابن حجریہ روایت سنداً ساقط الا عتبار ہے)
مسئلہ : اس میں علماء نے یہ مسئلہ نکالا کہ کافر و ظالم کی طرف سے کسی عہدے کو سنبھالنا جائز ہے۔ جب کہ عالم یا پیغمبر کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نافذاسی طرح کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور مظلوم کی داد رسی بھی کافر و فاسق کی طرف سے عہدہ حاصل کرنے پر ہوسکتی ہو۔ تو ایسے عہدے کا ضرور سہارا لینا چاہیے۔ بہت سے اسلاف نے ظالم بادشاہوں کی طرف سے اسی غرض کی خاطر عہدے قبول کئے۔ بادشاہ آپ کی رائے سے ہٹ کر کوئی رائے نہ دیتا اور آپ کی رائے میں دخل اندازی نہ کرتا گویا احکام کے نفاذ میں بادشاہ آپ کا تابع فرمان تھا۔
Ayah 12:56انتقالِ اقتدار اور عدل و مساوات یوسف۔ :
56: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) اس ظاہر اقتدار و غلبہ کی طرح مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ (ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو زمین میں اقتدار بخشا) ارض سے ارض مصر مراد ہے۔ یہ 40×40 فرسخ تھی ( یہ اندازہ درست معلوم نہیں ہوتا) التمکین قدرت اور اختیار دینا۔ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآ ئُ (آپ جس جگہ چاہیں رہیں) جس مقام کو منزل بنائیں غلبہ کی وجہ سے ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہ تھی اور وہ سارا علاقہ آپ کی حکومت میں داخل تھا۔
قراءت : مکی نے نشاء نون سے پڑھا ہے۔ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا (ہم اپنی رحمت پہنچاتے ہیں) دنیا میں بادشاہی والا عطیہ اپنی طرف سے دیتے اور غناء میسر کردیتے ہیں اور دیگر نعمتیں بھی۔ مَنْ نَّشَآ ئُ (جن کو ہم چاہتے ہیں) جنکے لئے ہماری حکمت تقا ضا کرتی ہے۔ وَلَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ (ہم مخلصوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے) دنیا میں۔
Ayah 12:5757: وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (البتہ آخرت کا ثواب بہت بہتر ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائے) اس سے مراد یوسف (علیہ السلام) اور قیامت تک آنے والے اہل ایمان ہیں۔ وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ ( اور نافرمانی سے بچتے رہے) شرک و فواحش سے بچتے رہے۔ سفیان بن عیینہ (رح) کہتے ہیں۔ مومن کو اسکی حسنات پر دنیاو آخرت میں ثواب ملتا ہے۔ اور فاجر کو دنیا میں بھلائی دے دی جاتی ہے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں پھر یہ آیت تلاوت کی۔ روایت تفسیر میں ہے کہ بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کو تاج پہنایا اور اپنی مہر ان کے حوالے کردی اور تلوار ان کو عطا کی اور ان کے لئے سونے کا تحت بچھایا جس پر موتیوں اور یا قوت کا تاج لگا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا تخت سے تیرا ملک زیادہ مضبوط ہے۔ اور انگوٹھی سے تو اپنے ملک کی تدبیر و تنظیم کرو۔ اور تاج یہ میرا اور میرے آباء کا لباس نہیں۔ پھر آپ تخت پر تشریف فرما ہوئے سرداروں نے آپ کی اطاعت قبول کی۔ بادشاہ نے اقتدار آپ کے حوالے کیا۔ اور قطفیر کو معزول کردیا۔ اس کے بعد وہ مرگیا۔ بادشاہ نے اسکی بیوی سے ان کا نکاح کردیا جب یوسف اس کے پاس گئے تو کہا۔ کیا یہ اس سے بہتر نہیں جو تم نے طلب کیا تھا اس کو کنواری پایا۔ ان سے دو لڑکے افراثیم اور میثا (یہ اسرائیلی قصہ گوئی کا حصہ ہے جن کو بلا چھان بین کے نقل کردیا گیا۔ فتدبر)
آپ نے عدل کو قائم کیا اور مصر کے مرد و عورتوں نے آپ سے محبت کی آپ کے ہاتھ پر بہت سے مصری مسلمان ہوئے۔ آپ نے اہل مصر سے قحط کے سالوں میں غلہ ٗدراہم ودنانیر سے خرید لیا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس کچھ نہ رہا۔ پھر دوسرے سال زیور و جواہرات کے بدلے خرید فرمایا۔ تیسرے سال چوپایوں کے بدلے چوتھے سال غلاموں اور لونڈیوں کے بدلے۔ پانچویں سال زمین اور مکانات کے بدلے، چھٹے سال اولادوں کے بدلے ساتویں سال ان کی گردنوں کے بدلے جب سب غلام بن گئے تو ان کو آزاد کردیا اور ان کے تمام اموال و املاک ان کو واپس کردیئے۔ غلہ لینے کیلئے جو لوگ آتے فی کس آپ ایک اونٹ کا بوجھ دیتے تھے۔
Ayah 12:58پہلی بار بھائیوں کی مصر آمد :
58: مصر کی طرح سرزمین کنعان میں قحط پہنچا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو غلہ لینے کیلئے بھیجا جس کا ذکر اس ارشاد میں ہے : وَجَآ ئَ اِخْوَۃُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَعَرَفَھُمْ وَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ ( اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے۔ وہ ان کے ہاں داخل ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا۔ اور وہ ان کو نہ پہچان سکے) بغیر پہچان کروانے کے ان کو آپ نے پہچان لیا اور وہ یوسف (علیہ السلام) کو تبدیلی لباس کی وجہ سے نہ پہچان سکے اور اسلئے بھی کہ وہ پردوں کے پیچھے تھے۔ اور اسلئے کہ چالیس سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا۔
Ayah 12:5959: وَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ قَالَ (اور جب ان کا سامان درست کرا دیا تو ان سے کہا) روایت میں ہے کہ جب بھائیوں کو دیکھا تو ان سے عبرانی زبان میں بات کی اور فرمایا تم بتلائو کون ہو ؟ اور کیا کام کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم شامی ہیں۔ بکریاں چرانا ہمارا پیشہ ہے۔ ہم قحط کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہوئے۔ آپ کے ہاں غلہ لینے آئے ہیں آپ نے فرمایا شاید یہاں کے حالات کی جاسوسی کیلئے آئے ہو۔ انہوں نے کہا خدا کی پناہ ہم ایک بیٹے کی گمشدگی سے غم زدہ پیغمبر باپ کی اولاد ہیں۔ اس کا وہ بیٹا اسے زیادہ محبوب تھا۔ اور ہمارے ایک ماں جائے بھائی کو اس نے انس کیلئے پاس رکھ لیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا اگر تم سچے ہو تو اس کو بھی ساتھ لائو۔ جب ان کا غلہ تیار کرادیا اور ہر ایک کو ایک بوجھ اونٹ غلہ دے دیا۔
قراءت : جَھَاز کو کسرہ جیم کے ساتھ پڑھنا شاذ ہے۔
ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّکُمْ مِّنْ اَبِیْکُمْ اَ لَا تَرَوْنَ اَنِّیْ اُوْفِی الْکَیْلَ (تم میرے پاس اپنے باپ سے حقیقی بھائی کو لائو کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا ماپ دیتا ہوں) اوفی پورا۔ مکمل۔ وَاَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ (اور میں بہترین میزبان ہوں) آپ نے ان کی خوب میزبانی کی اور یہ بات کہہ کر واپسی کی ترغیب دی۔
Ayah 12:6060: فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِہٖ فَـلَاکَیْلَ لَکُمْ عِنْدِیْ (پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لئے میرے پاس کوئی غلہ نہیں) میں غلہ تمہارے ہاتھ فروخت نہ کرونگا۔ وَلَا تَقْرَبُوْنِ (اور تم میرے پاس بھی نہ آنا) اگر تم اس کو نہ لائے تو اپنے غلہ سے محروم اور تم قریب مت آنا۔
نحو : یہ حکم جزاء میں مجزوم کے تحت داخل ہے اور فلا کیل لکم کے محل پر عطف ہے نمبر 2۔ یا یہ نہی کے معنی میں ہے۔
Ayah 12:6161: قَالُوْا سَنُرَا وِدُ عَنْہُ اَبَاہُ (انہوں نے کہا ہم اس کے لئے باپ کو پھسلانے کی تدبیر کریں گے) اس کے متعلق ضرور چال چلیں گے اور کوئی حیلہ کریں گے تاکہ ان کے ہاتھوں سے ہم لاسکیں۔ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ (اور ہم نے ضرور یہ کرنا ہے) یہ بہر صورت ہوگا۔ اس میں کوئی کمی اور سستی نہ کریں گے یوسف (علیہ السلام) نے کہا ایک کو بطور رہن چھوڑدو۔ انہوں نے شمعون کو ان کے پاس چھوڑ دیا۔ جو یوسف (علیہ السلام) کے متعلق سب سے بہتر رائے والا تھا۔