12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف (علیہ السلام) نے) اپنے خدّام سے کہا کہ ان سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت) ان کے تھیلوں میں رکھدو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔

62: وَقَالَ لِفِتْیٰنِہِ (آپ نے اپنے خدام سے کہا) قراءت : کوفی نے سوائے ابوبکر کے لفتیانہ پڑھا اور دوسروں نے لفتیتہٖ پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں جمع ہیں۔ جیسے اخوۃ۔ اخوان، اخ کی جمع ہے۔ فعلۃ کا وزن قلت اور فعلان کثرت کیلئے استعمال ہوتا ہے یعنی اپنے غلہ ناپنے والے خدام اجْعَلُوْا بِضَاعَتَھُمْ فِیْ رِحَالِھِمْ (ان کا سامان ان کے کجاوں میں رکھ دو ) نمبر 1۔ ان کے برتنوں میں اور وہ موزے تھے یا نمبر 2۔ کھالیں یا چاندی اور یہ کجا ووں میں چھپانے کیلئے زیادہ مناسب ہے۔ لَعَلَّھُمْ یَعْرِفُوْنَھَآ (شاید وہ اس کو پہچانیں) اسکی واپسی کا حق پہچانیں اور دونوں بدلوں کے ذریعہ اکرام کا حق پہچانیں۔ اِذَا انْقَلَبُوْا اِلٰٓی اَھْلِھِمْ (جب وہ اپنے گھر لوٹیں) اور اپنے برتنوں کو خالی کریں۔ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ (شاید کہ وہ لوٹ آئیں) نمبر 1۔ اس حق کا پہچا ننا ان کو ہماری طرف لوٹائے گا۔ نمبر 2۔ شاید کہ وہ سامان پائیں اور اس کو واپسی کیلئے لے کر لوٹیں۔ نمبر 3۔ ان کی دیانت ان کو امانت واپس کرنے کیلئے لوٹائیگی نمبر 4۔ انہوں نے مہربانی کی وجہ سے خیال کیا کہ اپنے بھائیوں سے قیمت لینا مناسب نہیں۔
Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ (ابّا) جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لیجائیں ہمارے لئے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

63: فَلَمَّا رَجَعُوْا اِلٰٓی اَبِیْہِمْ (جب وہ اپنے والد کی طرف لوٹ کر گئے) غلہ لیکر اور ان کو بادشاہ کے فعل کی اطلاع دی۔ قَالُوْا یٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ (کہنے لگے ! اے ہمارے ابا ہم سے غلہ روک لیا گیا) ان کی مراد منع سے یوسف (علیہ السلام) کا یہ ارشاد تھا : فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی۔ کیونکہ جب ان کو غلہ روکنے کی دھمکی مل گئی تو گویا غلہ روک لیا گیا۔ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَکْتَلْ (آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں تاکہ ہمیں غلہ مل جائے) تاکہ غلہ ملنے میں رکاوٹ کا ازالہ کریں اور ہم جتنا غلہ ضروری ہے لے آئیں۔ قراءت : حمزہ اور علی نے یکتل پڑھا ای یَکْتَلْ اَخُوْنا پس اس کا غلہ ہمارے غلہ کے ساتھ مل جائیگا۔ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (اور بیشک ہم اس کے محافظ ہیں) اس بات سے کہ اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب) نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا۔ مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

64: قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ اِلَّا کَمَآ اَمِنْتُکُمْ عَلٰٓی اَخِیْہِ مِنْ قَبْلُ ( کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کروں جیسا اس کے بھائی کے بارے میں نے اس سے پہلے کیا تھا) تم نے یوسف کے متعلق یہ کہا تھا : ارسلہ معنا غدًا یرتع و یلعب وانا لہٗ لحافظون اور آج اس کے متعلق یہی کہہ رہے ہو۔ پھر تم نے اپنی ضمانت میں خیانت برتی۔ پس اس قسم کی بات مجھے اعتماد نہیں دلا سکتی۔ پھر فرمایا : فَاللّٰہُ خَیْرٌ حٰفِظًا (اللہ تعالیٰ کی حفاظت سب سے بڑھ کر ہے) قراءت : ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء کی یہ قراءت ہے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے ان کے سپرد کردیا۔ نحو : حافظًا یہ حال یا تمیز ہے۔ جنہوں نے حفظًا پڑھا ہے۔ وہ فقط تمیز ہے حال نہیں بن سکتا۔ وَّ ھُوَاَرْحَمُ الرّٰ حِمِیْنَ (وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے) پس میں امیدوار ہوں کہ وہ مجھ پر احسان فرما کر اس کی حفاظت فرمائے گا اور مجھ پر دو مصیبتیں جمع نہ کرے گا۔ کعب کہتے ہیں کہ جب فاللہ خیر حافظاً کہا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا : وعزتی و جلالی ! لا ردن علیک کلیہما مجھے میری عزت و جلال کی قسم میں دونوں کو تم پر لوٹادونگا۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہئے ؟ (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل عیال کے لئے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کرینگے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

65: وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَھُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَھُمْ رُدَّتْ اِلَیْھِمْ قَالُوْایٰٓـاَبَانَا مَانَبْغِیْ (جب انہوں نے سامان کھولا تو اپنا سرمایہ پایا جو ان کو واپس کردیا گیا تھا کہنے لگے ابا لیجئے ہم کو کیا چاہیے) ماؔ نفی کیلئے ہے۔ نمبر 1۔ مطلب یہ ہے ہم بات میں تجاوز و بغاوت نہیں کر رہے۔ نمبر 2۔ مانبغی شیئا وراء مافعل بنا من الاحسان۔ ہم کوئی چیز نہیں چاہتے اس سے اوپر احسان جو اس نے ہمارے ساتھ کیا نمبر 3۔ ہم آپ سے اور سرمایہ نہیں چاہتے۔ نمبر 4۔ ما ؔ استفہامیہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا چیز ہم چاہتے ہیں ؟ ھٰذِہٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا (یہ ہمارا سرمایہ ہے جو ہمیں واپس کردیا گیا) ۔ یہ جملہ مستانفہ ہے جو مانبغی کو واضح کرنے والا ہے۔ اور اس کے بعد والے جملے اس پر معطوف ہیں اس طرح : ان بضاعتنا ردت الینا فنستظھربھا وَنَمِیْرُ اَھْلَنَا فی رجوعنا الی الملک یہ ہمارا سرمایہ ہمیں واپس کردیا گیا پس اس سے ہم اپنی پشت کو مضبوط کریں گے اور اپنے اہل کو غلہ مہیا کریں گے جبکہ بادشاہ کی طرف سے ہم لوٹیں گے یعنی ہم غلہ لائیں گے۔ میرۃؔ اس غلے کو کہتے ہیں جو دوسرے علاقہ سے لایاجائے۔ وَنَحْفَظُ اَخَانَا (اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے) آنے جانے میں اور اس کو ہماری طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچے گی جس کا آپ کو ڈر ہے۔ وَنَزْدَ ادُ کَیْلَ بَعِیْرٍ (اور ہم ایک اونٹ کا بوجھ غلہ مزید حاصل کریں گے) اپنے بھائی کے حصہ کا ایک اونٹ کا بوجھ غلہ ساتھ ملالیں گے۔ ذٰلِکَ کَیْلٌ یَّسِیْرٌ (یہ غلہ آسان ہے) اضافی غلہ آسان اور اس کے حصول میں کوئی دشواری بھی نہیں۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کا میرے پاس (صحیح وسالم) لے آؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لئے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔

66: قَالَ لَنْ اُرْسِلَہٗ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ (یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا یہاں تک کہ تم نہ دوگے) قراءت : مکی نے یُؤْتُوْنِپڑھا ہے۔ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر وعدہ) مطلب یہ ہے کہ تم مجھے ایسا وعدہ دو جس کو اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر پختہ کیا گیا ہو۔ حلف کو اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم سے اسلئے پختہ کیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم سے عہد پختہ کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسکی اجازت دی ہے اور اسکی طرف سے حکم ہے۔ لَتَاْ تُنَّنِیْ بِہٖ (کہ تم اسکو ضرور میرے پاس لائو گے) یہ قسم کا جواب ہے کیونکہ مطلب اس طرح بنے گا۔ حتی تحلفوا لتأتننی بہ یہاں تک کہ تم قسم اٹھائو کہ ضرور تم اسکو لائو گے۔ اِلَّا اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ (مگر یہ کہ تم مغلوب ہوجائو) مگر یہ کہ تم مغلوب ہو کر اسکو نہ لاسکو۔ مفعول لہٗ ہے اور لتا تننی بہٖ اگرچہ کلام مثبت ہے مگر تاویل نفی میں ہے تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : لا تمتنعوا من الاتیان بہٖ الا للا حاطۃ بکم مطلب یہ ہوا تم کسی بھی سبب سے اس سے با زنہ رہو مگر ایک سبب سے اور وہ یہ ہے کہ تمہارا احاطہ کرلیا جائے۔ یہ عام سے استثناء ہے۔ جو مفعول لہٗ کی صورت میں ہے۔ قاعدہ : عام سے استثناء نفی ہی میں ہوتا ہے اس لئے اسکی تاویل نفی سے ضروری ہوئی۔ فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَھُمْ (جب انہوں نے ان کو مضبوط عہد دیدیا) ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے حلف اس طرح دیا۔ باللہ رب محمد ﷺ قَالَ (کہا اس نے) بعض علماء نے کہا اس پر سکتہ کرے کیونکہ معنی یہ ہے۔ قال : (یعقوب (علیہ السلام) نے کہا) اللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوْلُ (اللہ تعالیٰ اس پر جو ہم کہتے ہیں) یعنی پختہ وعدہ کا مطالبہ اور پھر اس کا دینا وَکِیْلٌ (نگہبان و مطلع ہے) البتہ سکتہ کرنے سے قول اور مقولے میں فاصلہ ہوجائے گا اور یہ جائز نہیں پس بہتر یہی ہے کہ صرف آواز سے ان کے مابین فرق بیان کیا جائے پھر قوت نغمہ سے اللہ تعالیٰ کے نام کا قصد کیا جائے۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر تو تم سے روک نہیں سکتا۔ (بیشک) حکم اسی کا ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

دوسری مرتبہ سفر مصر کیلئے روانگی : 67: وَقَالَ یٰـبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْم بََابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ (اور کہا اے میرے بیٹو تم ایک دروازے سے مت داخل ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا) جمہور اس بات پر ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کو ان کے متعلق نظر لگ جانے کا خطرہ ہوا کیونکہ وہ حسین و جمیل تھے۔ پہلی مرتبہ ان کو الگ داخلے کا حکم نہیں دیا کیونکہ ان کو کوئی جانتا ہی نہ تھا۔ نظر کا اثر ہمارے نزدیک برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کی طرف دیکھنے اور اس میں تعجب کرنے سے نقص و خلل پیدا کردیتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ حضرت حسن و حسین ؓ کو ان کلمات سے تعوذ فرمایا کرتے تھے : اُعِیذ کما بکلمات اللّٰہ التامۃ من کل ہامۃ ومن کل عین لا مۃ ] بخاری، احمد، ابودائود، ترمذی[ جبائی معتزلی نے انکار کیا ہے۔ مگر اس کے انکار کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ احادیث صحیحہ صریحہ اس پر دلالت کرتی ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے پسند کیا کہ ان کے دشمن ان کو نہ پہچان سکیں اور پہچان کر ہلاکت کی تدابیر اختیار کرنے لگیں۔ وَمَآ اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ (اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائی ہوئی کسی بات کو بھی اس کے مقابلہ میں کچھ بھی دفع نہیں کرسکتا) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے متعلق تکلیف دینے کا ہو تو میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اور تم سے اس اثر کو دور نہیں کرسکتا وہ بہر صورت تمہیں پہنچ کر رہے گا۔ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَ کِّلُوْنَ (پس حکم تو اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اس پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں) التوکل معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا اور اس پر اعتماد کرنا۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کیلئے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بیشک وہ صاحب علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

68: وَلَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَھُمْ اَبُوْھُمْ (جب وہ داخل ہوئے جس طرح ان کو ان کے والد نے داخلے کا حکم دیا تھا) الگ الگ ہو کر۔ مَاکَانَ یُغْنِیْ عَنْہُمْ (تو ان کو اس (داخلے) نے فائدہ نہ دیا) یعنی متفرق دروازوں سے مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش آنے والی چیز کے مقابلہ میں کچھ بھی) بالکل ذرہ بھر اسطرح کہ الگ داخلے کے باوجود، چوری کی نسبت ان کی طرف ہوگئی۔ اور اس سے انتہائی شرمندہ ہوئے اور بھائی کو پیالہ کے کجاوہ میں مل جانے کی وجہ سے پکڑ لیا گیا۔ اور باپ پر مصیبت دوگنا ہوگئی۔ اِلَّا حَاجَۃً (مگر ایک خواہش تھی) یہ استثناء منقطع ہے لٰـکِنْ کے معنی میں ہے۔ فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰہَا (یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں جس کو انہوں نے پورا کیا) اور شفقت تھی جو ان کے دل میں تھی۔ وَاِنَّہٗ لَذُوْعِلْمٍ ( اور بیشک وہ علم والے تھے) اسی لئے کہا : وما اغنی عنکم من اللہ من شیء کہ تقدیر کے آگے تدبیر کی نہیں چلتی۔ لِّمَا عَلَّمْنٰہُ (ہمارے تعلیم دینے کی وجہ سے) ہم نے اس کو وحی سے سکھایا۔ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) اس بات کو۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔

بنیامینؔ کی امیدبر آئی : 69: وَلَمَّادَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ اَخَاہُ (جب وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ٹھہرایا) ملایا اپنے ساتھ بنیامین کو روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا یہ ہمارا بھائی ہے اس کو ہم لے آئے ہیں۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا تم نے خوب کیا۔ پس ان کو مہمان ٹھہرایا اور اکرام کیا۔ پھر ان کو ملایا اور ہر دو دو کو اپنے دستر خوان پر بٹھایا۔ بنیامین اکیلئے رہ گئے پس وہ رونے لگے۔ اور کہا اگر میرا بھائی یوسف زندہ ہوتا تو میں اس کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا تمہارا بھائی اکیلا رہ گیا ہے۔ تو اس کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھایا اور اس کو کھلاتے رہے اور اس کو کہا کیا تمہیں پسند ہے۔ کہ میں تیرا بھائی بن جاؤں تیرے ہلاک ہونے والے بھائی کی جگہ۔ بنیامین نے کہا تجھ جیسا بھائی کس کو ملے گا ؟ لیکن تو یعقوب کا بیٹا نہیں اور نہ راحیل کی کو کھ سے پیدا ہوا۔ یوسف رو پڑے اور اس سے معانقہ کیا پھر کہا : قَالَ اِنِّیْ اَناَ اَخُوْکَ (کہا بیشک میں تیرا بھائی) یوسف ہوں۔ فَلَا تَبْتَئِسْ (تو پریشان نہ ہو) غم زدہ نہ ہو۔ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان حرکات سے جو یہ کرتے رہے) ہمارے ساتھ گزشتہ زمانہ میں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ اور خیر پر جمع کردیا ہے۔ لیکن ان کو مت بتلائو جو تمہیں بتلا دیا گیا ہے۔ روایت میں ہے کہ بنیامین نے کہا میں آپ سے جدا نہ ہونگا۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تم میری وجہ سے والد کی غم زدگی جانتے ہو اگر میں نے تمہیں روک لیا۔ تو غم اور بڑھ جائے گا اور اس کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ میں تمہیں ناپسند بات کی طرف منسوب کروں۔ اس نے کہا مجھے اس بات کی پرواہ نہیں۔ تم جو چاہو کرو یوسف (علیہ السلام) نے کہا میں اپنا صاع تیرے کجا وہ میں چھپا دونگا پھر تمہارے متعلق آواز دلائونگا کہ تم نے اس کو چرایا ہے تاکہ تمہارے رخصت ہونے کے بعد تمہارا لوٹانا ممکن ہوسکے۔ بنیامین نے کہا ایساکر ڈالیں۔
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب ان کا اسباب تیار کردیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! تم تو چور ہو۔

قافلہ کی واپسی : 70: فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ (جب ان کا سامان سفر تیار کردیا) یعنی ان کے لئے اسباب مہیا کردیئے۔ اور ناپ پورا کردیا۔ جَعَلَ السِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ (تو پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا) السقا یہ پانی پلانے کا برتن اس کو صواع کہا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے بادشاہ کو پانی پلاتے تھے پھر کھانے کی عزت و شان کی وجہ سے اس کو صاع بنادیا گیا۔ وہ سونے یا چاندی کے تاس کے مشابہ تھا۔ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ (پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا) ایک منادی نے نداء دی۔ اٰذنہٗ کا معنی، اعلم اور اذّن۔ زور سے اعلان کرنا اسی وجہ سے مؤذن کو کثرت اعلان کی وجہ سے مؤذن کہتے ہیں۔ تفسیری روایت میں ہے کہ وہ روانہ ہوگئے۔ ان کو کچھ مہلت دی گئی پھر ان کو واپس لانے اور روکنے کا حکم دیا۔ پھر کہا گیا۔ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ (اے قافلہ والو ! ) العیر وہ اونٹ جن پر سامان لادا جاتا ہے کیونکہ وہ آتے جاتے ہیں اور مراد اونٹوں کے مالک اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ (بلاشبہ تم چور ہو) یہ کنایہ ہے کہ انہوں نے یوسف کو اپنے باپ سے چرایا تھا۔
Ayah 12:71

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ انکی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

71: قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیْہِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ (انہوں نے کہا اور وہ متوجہ ہو کر کہنے لگے تم کیا چیز گم پاتے ہو) ۔
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے کہ بادشاہ کے پانی پینے کا گلاس کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں۔

72: قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ (انہوں نے کہا ہم گم پاتے ہیں بادشاہ کا پیالہ) صواع سے مراد صاع ہے۔ وَلِمنْ جَآ ئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَابِہٖ زَعِیْمٌ (اور جو شخص اس کو لا کر حاضر کرے گا۔ اس کو ایک بارشتر غلہ ملے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں) یہ اعلان کرنے والے کا مقولہ ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ میں اونٹ کے بوجھ کا ذمہ دار ہوں۔ میں خود اس کو ادا کرونگا جو اس کو لائے گا اور یہ ایک کا بوجھ سامان بطور انعام اس کو دیا جائے گا جو ڈھونڈ کر دے گا۔
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔

73: قَالُوْا تَاللّٰہِ (انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم) اس میں قسم ہے جسمیں تعجب کا اظہار کیا گیا اس بات میں جو انکی طرف منسوب کی گئی : لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ (تحقیق تم جانتے ہو کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے) انہوں نے اپنے علم کے مطابق وہ بات کہی جو ان کے دین و دیانت کے مطابق تھی۔ جب مصر میں آئے تو انکی سواریوں کے منہ بندھے ہوئے تھے تاکہ کسی کی کھیتی کو نہ چریں اور بازار میں کسی کے طعام کو منہ نہ ماریں۔ بلکہ انہوں نے گھر میں پہنچا ہوا سامان بھی واپس کردیا تھا۔ وَمَاکُنَّا سٰرِقِیْنَ (اور ہم چور بھی نہیں) کبھی بھی ہمیں چور کہہ کر نہیں پکارا گیا۔
Ayah 12:74

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا ؟

74: قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗ (انہوں نے کہا اسکی کیا سزا ہے) ضمیر کا مرجع صواع ہے ای فما جزاء سرقۃ الصواع۔ پیالہ چرانے کی سزا کیا ہے ؟ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ (اگر تم جھوٹے ہو) اپنے اس انکار و اصرار میں اور براءت کے دعو یٰ میں۔
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

75: قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ (انہوں نے کہا اسکی سزا وہ خود ہے جس کے کجاوے میں وہ مل جائے) آل یعقوب میں چور کی سزا یہ تھی کہ ایک سال تک اپنا غلام بنا کر رکھے اسی لئے ان سے سوال کیا گیا فَھُوَ جَزَآؤُہٗ (پس وہ خود اس کا بدلہ ہے) یہ حکم کی وضاحت ہے کہ وہ چور بذات خود اس سلسلہ میں ماخوذ ہوگا۔ دوسرا نہیں نمبر 2۔ جَزَآؤُہُ مبتداء ہے اور جملہ شرطیہ اسکی خبر ہے۔ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ (ہم ظالموں کو اسی طرح کی سزا دیا کرتے ہیں) ظالم سے یہاں چور مراد ہے اور سزا سے غلام بنانا۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا۔ پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی، (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔

76: فَبَدَاَبِاَوْ عِیَتِہِمْ قَبْلَ وِعَآ ئِ اَخِیْہِ (پس اس نے شروع کی تلاشی ان کے تھیلوں سے اپنے بھائی کے تھیلہ سے پہلے) پس اس نے تلاشی ان کے تھیلوں سے شروع کی بنیامین کے تھیلے سے پہلے تاکہ الزام نہ آئے۔ جب اس کے تھیلے تک پہنچے تو ایک نے کہا میرا خیال تو نہیں کہ اس نے کچھ لیا ہو۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم اس کو تلاشی سے مستثنیٰ نہیں رہنے دیں گے اس میں آپ کے اور ہمارے لئے تسلی ہے۔ ثُمَّ اسْتَخْرَجَھَا (پھر پیمانہ برآمد کرلیا) ھاؔ کی ضمیر صاع کی طرف راجع ہے مِنْ وِّعَآئِ اَخِیْہِ (اپنے بھائی کے سامان والے تھیلے سے) بار بار صاع کی طرف ضمائر لائے پھر مؤنث ضمیرلائے تاکہ تانیث سقایۃؔ پر دلالت کرے۔ نمبر 2۔ خود صواعؔ کا لفظ تذکیر وتانیث ہر دو کیلئے مستعمل ہے۔ کَذٰلِکَ (اسی طرح) کذلککا کاف محل نصب میں ہے اس بڑی تدبیر کی طرح کِدْنَا لِیُوْسُفَ (ہم نے یوسف کیلئے تدبیر کی) یعنی ہم نے اس کو یہ بات سکھائی۔ مَاکَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ (وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق بھائی کو نہ لے سکتے تھے اور یہ کیدؔ کی تفسیر اور اس کا بیان ہے کیونکہ بادشاہی قانون میں چور کا حکم یہ تھا کہ اس کو نقصان سرقہ کے مطابق چٹی دینی پڑتی تھی۔ اس کو غلام نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ اِلَّا اَنْ یَّشَآ ئَ اللّٰہُ (مگر یہ کہ چاہے اللہ تعالیٰ ) یعنی وہ مشیت الٰہی کے بغیر اور اس کے ارادے کے خلاف نہ پکڑ سکتے تھے۔ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ (ہم درجات بلند کرتے ہیں) قراءت : کو فی نے تنوین سے پڑھا ہے۔ مَّنْ نَّشَآئُ (جن کو ہم چاہتے ہیں) یعنی اپنے علم کے مطابق جیسا کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کا درجہ اس میں بلند کیا۔ وَ فَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ (اور ہر علم والے سے بڑھ کر علم والا ہے) نمبر 1۔ جو علم میں اس سے اعلیٰ مرتبہ والا ہو۔ نمبر 2 تمام علماء سے زیادہ علم والا ہو اور ان کا علم اس سے کم ہو۔ اور سب سے زیادہ جاننے والی ذات باری تعالیٰ کی ہے۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے۔

بھائیوں کی غصہ میں بیجا بات : 77: قَالُوْٓا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ (انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی تو اس کے بھائی نے اس سے پہلے چوری کی) مراد اس سے یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ نمبر 1۔ وہ ایک گرجے میں داخل ہوئے اور سونے کی ایک مورتی اٹھائی جس کی وہ گرجے والے عبادت کرتے تھے پھر اس کو دفن کردیا۔ نمبر 2۔ گھر میں ایک مرغی تھی جو آپ نے سائل کو دے دی نمبر 3۔ ایک پٹکا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلا آرہا تھا۔ جو حضرت اسحاق سے ان کی بیٹی کو ملا۔ وہ اسحاق کی اولاد میں سے سب سے بڑی تھی۔ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو گود میں لیا اور والدہ کی وفات کے بعد انہی کے ہاں رہنے لگے۔ وہ آپ کے بغیر نہ رہ سکتی تھیں۔ جب ذرا بڑے ہوئے تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے واپسی کا مطالبہ کیا تو اس نے وہ پٹکا کپڑوں کے نیچے کمر بند سے باندھ کر لپیٹ دیا۔ پھر آکر کہنے لگی اسحاق والا پٹکا گم ہوا۔ ذرا تلاش کرو۔ کسی نے تمہارے گھر تو نہیں لے لیا۔ انہوں نے تلاشی پر یوسف کے بندھا پایا۔ اس پر وہ کہنے لگیں یہ تو میرے سپرد ہے میں جو چاہوں کروں۔ یعقوب (علیہ السلام) نے موت تک یوسف کو ان کے ہاں چھوڑ دیا۔ روایت تفسیر میں ہے کہ جب صاع بنیامین کے کجاوہ سے نکالی گئی تو تمام بھائیوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیے پھر متوجہ ہو کر کہنے لگے تو نے ہمیں رسوا کردیا۔ اور ہمارے چہروں کو سیاہ کردیا۔ اور احیل کی اولاد ! تمہاری طرف سے ہم پر یہ مصیبت آتی رہے گی تم نے کب یہ پیالہ لیا۔ اس نے کہا بنو راحیل وہ ہیں جن پر تمہاری اب تک مصیبت اتری ؟ تم میرے بھائی کو لے گئے اور اس کو مار ڈالا اور یہ پیالہ میرے کجاوے میں اس نے رکھا جس نے تمہارے تھیلوں میں سامان رکھا فَاَسَرَّھَا (پس یوسف نے اس بات کو چھپایا) یعنی ان کی یہ بات کہ اس نے چوری کی گویا کہ آپ نے یہ بات سنی ہی نہیں۔ یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِہٖ وَلَمْ یُبْدِھَا لَہُمْ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّکَانًا (اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیا ان کے سامنے۔ کہا نہیں تم مقام کے اعتبار سے اور زیادہ برے ہو) مکاناً یہ تمیز ہے مطلب یہ ہے کہ تم بڑے چور ہو کیونکہ تم نے اپنے باپ سے یوسف کو چرایا۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ (اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں جو کچھ تم بیان کرتے ہو) جھوٹ بولتے یا کہتے ہو۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں۔ اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیجئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں،

منت و سماجت پر اتر آئے : 78: قَالُوْا یٰٓاَیُّھَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَـہٗ اَبًا شَیْخًا کَبِیْرًا (انہوں نے کہا اے عزیز ! بیشک اس کا باپ بہت بوڑھا ہے) عمر میں اور مرتبہ میں فَخُذْ اَحَدَنَا مَکَانَہٗ (تم ہم میں سے ایک کو اس کی جگہ لے لو) نمبر 1۔ بطور رہن کے اس کے بدلہ میں لے لو۔ نمبر 2۔ غلام بنانے کیلئے کیونکہ اس کا باپ اس کے مفقود بھائی کی بجائے اس سے تسلی پاتا ہے : اِنَّا نَرٰ کَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ (بیشک ہم تمہیں نیکی کرنے والوں میں سے پاتے ہیں) اپنے ساتھ پس تم یہ احسان پورا کردو نمبر 2۔ تمہاری عادت احسان کرنا ہے پس اپنی عادت پر قائم رہو اس میں تبدیلی نہ لائو۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اسکے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں۔

79: قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اَنْ نَّاْ خُذَ اِلَّا مَنْ وَّ جَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَہٗ (اس نے کہا پناہ بخدا (اس ناانصافی سے) کہ ہم نے جس کے پاس اپنا سامان پایا اس کی جگہ کسی اور کو پکڑیں) ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں پناہ مانگنا کہ ہم پکڑیں کسی اور کو۔ مصدر کی اضافت مفعول بہ کی طرف کی۔ اور من کو حذف کردیا۔ اِنَّآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ (ہم اس وقت ظلم کرنے والے ہونگے) اذًاؔ یہ اس کا جواب جزاء ہے کیونکہ مطلب اس طرح ہے کہ اگر ہم اس کا بدلہ لے لیں تو ہم ظالم ہونگے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ تمہارے فیصلہ پر اس نے پکڑا ہے کہ جس کے ہاں سامان ملے۔ اس کو غلام بنالیا جائے۔ اگر ہم دوسرے کو پکڑیں تو یہ تمہارے مذہب کے لحاظ سے ظلم ہوگا۔ پس جس چیز کا ظلم ہونا تمہیں مُسَلَّم ہے۔ اس کا مطالبہ کیوں کرتے ہو۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے ؟ اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو۔ تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لئے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر کرنیوالا ہے۔

80: فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا (جب وہ مایوس ہوچکے) اس میں تاؔ اور سین کو مبالغہ کیلئے بڑھایا ہے۔ جیسا کہ استعصم میں بیان ہوا مِنْہُ (اس سے) یوسف (علیہ السلام) سے اور آپ نے ان کو جواب دے دیا۔ خَلَصُوْا ( تو وہ الگ ہوئے) وہ لوگوں سے الگ ہوئے اس طرح کہ اور کوئی ان کے ساتھ نہ تھا۔ نَجِیًّا (علیحدگی والا) گروہ علیحدہ یعنی ایسا مناجی جو دوسروں کے ساتھ سرگوشی کرنے والا ہو انہوں نے سرگوشی خالص کی کیونکہ وہ اسی لئے جمع ہوئے تھے۔ اور اس میں انہوں نے محنت واہتمام کیا۔ کیونکہ صورۃً یہ باہمی مناجات ہے۔ اور حقیقت میں النجی بمعنی مناجی ہے۔ جیسا سمیر بمعنی مسامر اور تناجی مصدر کے معنی میں ہے۔ وہ اپنے معاملے میں مشورہ کر رہے تھے کہ کیا صورت اختیار کریں اور اپنے والد کو اپنے بھائی کے سلسلہ میں کیا کہیں۔ قَالَ کَبِیْرُھُمْ (ان میں سے بڑے نے کہا) عمر میں بڑا۔ اس کا نام روبیل تھا۔ نمبر 2۔ عقل و رائے میں بڑا اور وہ یہودا تھا۔ نمبر 3۔ ان کا لیڈر۔ وہ شمعون تھا۔ اَلَمْ تَعْلَمُوْا اَنَّ اَبَاکُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْکُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ وَمِنْ قَبْلُ مَافَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ (کیا تم ناواقف ہو کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ تعالیٰ کی قسم دیکر مضبوط عہد کیا تھا۔ اور یوسف کے معاملہ میں اس سے پہلے جو تم قصور کرچکے ہو) ماؔ موصولہ ہے۔ یعنی اس سے پہلے تم نے یوسف کے معاملہ میں کوتاہی کی اور اپنے والد سے کیے ہوئے وعدہ سے وفا نہ کی۔ نمبر 2۔ ما مصدر یہ ہے اور مصدر محل رفع میں مبتداء ہے اور اسکی خبر من قبلؔ ہے اس کا معنی وقع من قبل تفریطکم فی یوسف اس سے پہلے تمہاری کوتاہی یوسف کے سلسلہ میں ہوچکی۔ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ (پس میں اس سرزمین کو ہرگز نہ چھوڑو نگا) مصر کی سرزمین سے جدا نہ ہونگا۔ حَتّٰی یَاْذَنَ لِیْ اَبِیْ (یہاں تک کہ میرا والد مجھے اجازت دے) اپنی طرف آنے کی اَوْیَحْکُمَ اللّٰہُ لِیْ (یا اللہ تعالیٰ میرے لئے حکم دے دے) نمبر 1۔ مصر سے نکلنے کا نمبر 2۔ موت دے دے نمبر 3۔ ان سے لڑنے کی اجازت دے دے۔ وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ (وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں) کیونکہ اس کا ہر فیصلہ عدل ہی ہوتا ہے۔
Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ابّا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اسکے لے آنیکا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب (کی باتوں) کے (جاننے اور) یاد رکھنے والے نہیں تھے۔

واپسی کا مشورہ : 81: اِرْجِعُوْا اِلٰٓی اَبِیْکُمْ فَقُوْلُوْا یٰٓاَ بَانَآ اِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ (تم اپنے والد کی طرف لوٹ جائو اور اس کو کہو اے ہمارے ابا بیشک تیرے بیٹے نے چوری کی ہے) قراءت : سُرِّق پڑھا گیا جس کا معنی چوری کی طرف نسبت کرنا ہے۔ وَمَا شَھِدْنَآ (اور ہم نے گواہی نہیں دی) اس کے متعلق چوری کی اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا (مگر وہی جو ہم نے جانا) یعنی اس کا سرقہ اور یہ یقین کہ صاع اس کے تھیلے سے نکالا گیا۔ وَمَاکُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ (اور ہم غیب کی باتوں کے حافظ نہ تھے) اور ہمیں تو معلوم نہ تھا کہ وہ عنقریب چوری کرے گا جب ہم نے آپ سے قسم دے کر وعدہ کیا۔
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے تھے) وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کرلیجئے۔ اور ہم (اس بیان میں) بالکل سّچے ہیں۔

82: وَسْئَلِ الْقَرْیَۃَ الَّتِیْ کُنَّا فِیْھَا (اور اس بستی سے جہاں ہم تھے۔ آپ دریافت کرلیں) یعنی مصر میں آدمی بھیج کر واقعہ کی اصلیت معلوم کرلیں۔ وَالْعِیْرَ الَّتِیْ اَقْبَلْنَا فِیْھَا (اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں) قافلہ والوں سے۔ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کے پڑوسی کنعانی لوگ تھے۔ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ (اور بیشک ہم سچے ہیں) اپنی اس بات میں۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بیشک وہ دانا (اور) حکم والا ہے۔

83: چناچہ وہ والد کے پاس لوٹ کر گئے اور اپنے بھائی والی طے شدہ بات ان کو بتلائی۔ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا (بلکہ تم نے خود اپنے دل سے اپنے لئے ایک بات بنا لی ہے) تم نے اس کا ارادہ کیا ورنہ بادشاہ کو کہاں سے معلوم ہوا کہ جو شخص چور ہو اسکی سزا غلام بنانا ہے۔ اگر تمہارا فتویٰ اور بتلانا نہ ہوتا : فَصَبْرٌ جَمِیْلٌط عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِھِمْ جَمِیْعًا (پس صبر جمیل ہی میرے لئے ہے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا) یوسف اور اس کے بھائی بنیامین بڑے سمیت : اِنَّہٗ ھُوَ الْعَلِیْمُ (بیشک وہی جاننے والا ہے) میرے غم کی حالت اور افسوس کی کیفیت کو الْحَکِیْمُ (حکمت والا ہے) اس نے کسی حکمت سے اس ابتلاء میں ڈالا ہے۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) انکی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

والد کو اطلاع پر غم کی تازگی : 84: وَتَوَلّٰی عَنْھُمْ (اور ان کی طرف سے منہ پھیرا) جو خبر لائے تھے اس کو ناپسند کرتے ہوئے ان سے اعراض کیا۔ وَقَالَ یٰٓـاَ سَفٰی عَلٰی یُوْسُفَ (اور کہا اے میرے افسوس یوسف پر) الاسف کو مضاف کیا اپنی ذات کی طرف۔ اسفـؔ شدید غم و حزن و حسرت کو کہتے ہیں۔ اس میں الف یاء ؔ اضافت سے بدل ہے۔ اور اسف اور یوسف کے الفاظ میں بلا تکلف صفت تجانس پیدا ہوگئی ہے جیسا کہ : اثاقلتم الی الارض ارضیتم ] التوبہ : 38[ اور وہم ینہون عنہ وینئون عنہ ] انعام : 26[ اسی طرح : وہم یحسبون انہم یحسنون صنعًا ] الکہف : 104 [ اسی طرح مِنْ سَبَاٍ بِنَبَاٍٍ ] النمل : 22[ ان تمام مقامات پر یہ صفت تجانس پائی جاتی ہے۔ فائدہ : یوسف پر افسوس کیا مگر بنیامین اور بڑے پر نہیں کیونکہ ان کے معاملے کو عرصہ گزر چکا تھا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ طویل عرصہ گزرنے پر بھی دکھ ان کے ہاں تازہ تھا۔ وَابْیَضَّتْ عَیْنٰـہُ (اور ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں) اسی لئے کہ ان سے بہت آنسو بہائے اور آنسوؤں نے آنکھوں کی سیاہی مٹا دی اور مکدر سفیدی رہنے دی نمبر 2۔ ان کی نگاہ بالکل جاتی رہی۔ نمبر 3۔ ان کو معمولی جان پہچان تھی۔ مِنَ الْحُزْنِ (غم کے باعث) کیونکہ غم رونے کا ذریعہ ہے۔ جس رونے سے سفیدی آئی تھی گویا دوسرے لفظوں میں غم سے ہی سفیدی آگئی نمبر 2۔ فراق یوسف سے لیکر ملاقات کے وقت تک آپ کی آنکھیں آنسوئوں سے کبھی خشک نہ ہوئیں تھیں یہ اسی 80 سال کا طویل عرصہ تھا۔ اور یعقوب (علیہ السلام) سے بڑھ کر اس وقت کوئی اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ نہ تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہوسکتا ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کو یہ گھبراہٹ اس مقام تک پہنچا دے۔ کیونکہ انسان جبلی طور پر غم میں بےاختیار ہوجاتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کی تعریف کی۔ رسول اللہ ﷺ اپنے بیٹے ابراہیم پر روئے اور فرمایا۔ دل غم کرتا آنکھ آنسو بہاتی ہے۔ مگر ہم وہ بات نہیں کہتے جو ہمارے رب کو ناراض کرے۔ اور ہمیں اے ابراہیم تیری جدائی کا صدمہ پہنچا ہے ۔ ] بخاری، مسلم[ قابل مذمت، چیخنا چلانا، نوحہ کرنا، چہرے پر تھپڑ مارنا۔ سینہ کو بی کرنا، کپڑے پھاڑنا ہے۔ (اور اس سے انبیاء (علیہم السلام) کا رونا پاک ہے) فَھُوَ کَظِیْمٌ اور وہ جی ہی میں گھٹا کرتے) اولاد پر غصے سے بھرے تھے اور اپنی اس ناگواری کو ظاہر نہ کرتے۔ کظیم فعیل بمعنی مفعول ہے جیسا کہ دوسری جگہ میں فرمایا : اذ نادٰی وھومکظوم ] القلم : 48[ یہ کظم السقاء سے بنا ہے۔ جب اس کو بھر کر باندھ دیں۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دیدیں گے۔

بیٹوں کی ملامت : 85: قَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا (بیٹے کہنے لگے آپ تو ہمیشہ ہی) یہ لا تفتأ تھا حرف نفی کو حذف کردیا کیونکہ وہ ملتبس نہیں ہوتا اگر یہ اثبات ہوتا تو لام و نون کے بغیر چارہ کا رنہ تھا۔ لا تفتا کا معنی لاتزال والا ہے۔ تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا (یاد کرتا رہے گا یوسف کو یہاں تک کہ تو گھل گھل کر جان بلب ہوجائے) مرض کی وجہ سے ہلاکت کے کنارے پر ہونا۔ اَوْ تَکُوْنَ مِنَ الْھٰلِکِیْنَ (یا تو ہوجائے ہلاک ہونیوالا)
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کے میں تو اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

86: قَالَ اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ (کہا بیشک میں شکوہ کرتا ہوں اپنے رنج اور غم کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) البث وہ شدید غم جس پر صبر نہ ہوسکے پھر وہ اس کا اظہار دوسرے کے پاس کرے۔ مطلب یہ ہوا میں کسی کے ہاں شکوہ نہیں کرتا نہ تمہارے ہاں اور نہ غیر کے ہاں میں تو بارگاہ الٰہی میں شکوہ کرتا ہوں۔ اور اس سے دعا والتجاء کرنے والا ہوں۔ تم میری شکایت کے درمیان حائل نہ ہو۔ تفسیری روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میں تم پر اس لئے ناراض ہوا۔ کیونکہ تم نے ایک بکری ذبح کی۔ تمہارے دروازہ پر ایک مسکین آیا تم نے اس کو کھانا نہ دیا۔ مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ پھر مساکین۔ پس تم کھانا تیار کرائو اور اس پر مساکین کو بلائو۔ نمبر 2۔ انہوں نے ایک لونڈی کو جس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا خرید کیا۔ لڑکے کو بیچ دیا۔ وہ لونڈی بیٹے پر رو روکراندھی ہوگئی۔ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ (میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے) اور میں اس کی رحمت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ صبر کرنے سے ملے گی۔ روایت میں ہے کہ انہوں نے موت کے فرشتہ کو خواب میں دیکھا۔ اس سے پوچھا کیا تم نے یوسف کی روح قبض کی ؟ اس نے کہا نہیں، اللہ کی قسم ! وہ زندہ ہے اس کو تلاش کرو۔ اور پھر فرشتے نے ان کو یہ دعا سکھائی یاذالمعروف الدائم الذی لاینقطع ابدًا ولا یحصیہ غیرک فرّج عنی۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔

تیسری بار مصر کی روانگی کی ہدایات : 87: یٰبَنِیَّ اذْھَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَاَخِیْہِ (اے میرے بیٹو ! جائو اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو) ان دونوں کے متعلق معلومات حاصل کرو اور ان کی خبر تلاش کرو۔ فتحسسوا یہ الاحساس سے تفعل ہے اور اس کا معنی معرفت و پہچان حاصل کرنا ہے۔ وَلَا تَا یْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ (اور تم ناامید نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے) رحمت الٰہی اور و سعت باری تعالیٰ سے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ اِنَّہٗ (بیشک شان و معاملہ یہ ہے۔ ) لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ (اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے مگر کافرلوگ) کیونکہ جو ایمان لاتا ہے وہ جانتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور رحمتوں میں رہ رہا ہے اور کافر وہ رحمت الٰہی کو جانتا ہی نہیں اور نہ اس کا آنا جانا اس کی نعمتوں میں ہے۔ اس لئے وہ اسکی رحمت سے مایوس رہتا ہے۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلہ دیجئے اور خیرات کیجئے کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

88: پھر وہ اپنے والد کے ہاں سے نکل کر مصر کی طرف روانہ ہوئے فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہٖ (جب وہ اس کے پاس داخل ہوئے) یعنی یوسف (علیہ السلام) قَالُوْا یٰٓاَیُّھَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَاَھْلَنَا الضُّرُّ (اے عزیز مصر ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو قحط سے سخت تکلیف پہنچی ہے) شدت تکلیف اور بھوک سے کمزوری پیش آگئی۔ وَجِئْنَا بِبِضَا عَۃٍ مُّزْجٰۃٍ (اور ہم کھوٹے درا ہم لائے ہیں) ردی دراہم جن کو ہر تا جربے رغبتی سے پیچھے ہٹاتا ہے اور ان سے حقارت کا اظہار کرتا ہے یہ مُزْجٰۃ اَزْجَیْتُہ سے ہے جس کا معنی دفع کرنا اور پھینکنا ہے۔ نمبر 2۔ دوسرا قول یہ ہے ان کے دراہم زیوف کم قیمت تھے جن کو منت سے سماجت سے لیا جاتا نمبر 3۔ اون اور گھی تھا۔ فَاَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ (تم پورا غلہ دو ) جو ہمارا حق بنتا ہے وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا (اور ہم پر صدقہ کر دیجئے) اور درگزر سے ہمیں زائد دیں اور سامان کے ردی ہونے سے چشم پوشی فرمائیں۔ نمبر 2۔ ہمارے حق سے اضافہ فرمائیں۔ نمبر 3۔ ہمارا بھائی مہربانی سے ہمیں دے دیں۔ اِنَّ اللّٰہَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزاء دینے والا ہے)
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

89: جب انہوں نے کہا مَسَّنَا وَاَہْلَنَا الضُّرُّ اور گڑگڑائے اور اس سے صدقہ طلب کیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ گئی اور بےتابانہ یہ کہہ کر ان سے اپنا تعارف کرایا۔ قَالَ ھَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ ( کہا کیا تم جانتے ہو جو کچھ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا اس حرکت کی قباحت و برائی سے واقف ہو جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کی۔ وَاَخِیْہِ اِذْ اَنْتُمْ جٰھِلُوْنَ (اور اس کے بھائی کے ساتھ جبکہ تم ناواقف تھے) اسکی قباحت سے واقف نہ تھے نمبر 2۔ جب تم بیوقوفی اور غصہ کی تیزی میں تھے۔ فعلتم باخیہ سے اس غم پر تعریض کی جو بھائی کو بھائی سے جدا کر کے دکھ پہنچایا اور اس کے علاوہ قسما قسم کی ایذائیں دیں۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

افشائے راز : 90: قَالُوْا ئَ اِنَّکَ (انہوں نے کہا کیا آپ) قراءت : کوفی و شامی دونوں نے دو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ لَاَنْتَ یُوْسُفُ (سچ مچ یوسف ہو ) ۔ نحو : انت مبتداء اور لام ابتدائی ہے۔ اور یوسف خبر ہے اور جملہ ان کی خبر ہے۔ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَھٰذَآ اَخِیْ (کہا میں یوسف اور یہ میرا بھائی ہے) آپ نے اپنے بھائی کا تذکرہ کیا حالانکہ انہوں نے تو فقط آپ کے متعلق سوال کیا کیونکہ بھائی کے تذکرہ میں اس چیز کی وضاحت ہے جس کا انہوں نے سوال کیا۔ قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا (تحقیق اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا) فرقت و جدائی کے بعد ملادیا۔ اور سلامتی اور عظمت عنایت فرمائی اور ملامت سے ابتداء نہیں فرمائی۔ اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ (شان یہ ہے کہ جو تقوٰی اختیار کرتا ہے) بےحیائی سے بچتا ہے۔ وَیَصْبِرْ (اور صبر کرتا ہے) گناہوں اور اطاعت پر صبر کرتا ہے۔ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ (پس بیشک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے) ان کا اجر۔ ضمیر کی جگہ محسنین کا لفظ لائے کیونکہ یہ صابرین اور متقین دونوں کو شامل ہے۔ کہا جاتا ہے جو اپنے سے ڈرتا ہے وہ اسکی آزمائش پر صبر کرتا ہے وہ اس کا بدلہ دنیا و آخرت میں ضائع نہیں کرتے۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

طلب معافی : 91: قَالُوْا تَا للّٰہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا (انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہم پر ترجیح دی) تمہیں چُنا اور علم و حلم کے ذریعہ ہم پر فضیلت دی۔ اور تقوی اور صبر حسن عنایت فرمایا۔ وَاِنْ کُنَّا لَخٰطِئِیْنَ (یقینا ہم غلطی کرنے والے تھے) اور بیشک ہماری شان و حالت یہ ہے کہ بلاشبہ ہم جان بوجھ کر گناہ کرنے والے ہیں۔ نہ ہم گناہوں سے بچے اور نہ صبر کیا یقینا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بادشاہت سے عزت دی اور ہمیں مسکین بنا کر تیری خدمت میں پیش کردیا۔
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

اعلانِ معافی : 92: قَالَ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ (یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا آج تم پر کوئی الزام نہیں) روایت میں ہے کہ ابوسفیان اسلام لانے کیلئے آئے تو حضرت عباس ؓ نے ان کو کہا جب تم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جائو تو یہ کہنا قال لا تثریب علیکم الیوم۔ اس نے کہہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے اور اس کو جس نے یہ تمہیں سکھایا ] نسائی، بیہقی[ روایت میں ہے کہ جب بھائیوں نے پہچان لیا تو آپ کی طرف پیغام بھیجا۔ تو ہمیں اپنے دستر خوان پر صبح و شام بلاتا ہے۔ اور ہمیں اپنی زیادتیوں کی وجہ سے حیاء آتی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا۔ اہل مصرنے اگرچہ بادشاہ تو مجھے مان لیا۔ مگر وہ میری طرف پہلی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں وہ عظیم ذات ہے۔ جس نے ایک غلام کو اس بلندی پر پہنچا دیا۔ اب تمہاری وجہ سے مجھے یہ شرف ملا اور لوگوں کو علم ہوا کہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کا پوتا ہوں۔ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ ۔ (اللہ تمہاری مغفرت فرمائے) وَھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ (اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے) جب میں فقیر اور محتاج کی رحمت کا یہ حال تو غنی غفور کی رحمت بےپایاں کتنی بڑی ہوگی۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

اظہارِ معجزہ : 93: پھر ان سے والد کے حالات دریافت کئے تو انہوں نے کہا زیادہ رونے کی وجہ سے ان کی آنکھیں جاتی رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا : اِذْھَبُوْا بِقَمِیْصِیْ ھٰذَا (تم میری یہ قمیص لے جائو) ایک قول یہ ہے کہ وہ متوارث قمیص تھی جو تعویذ کی صورت میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس تھی یہ جنت سے آئی تھی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اسی کے بھیجنے کا حکم دیا تھا کیونکہ اس میں جنت کی خوشبو تھی وہ جب کسی مبتلائِ مصیبت پر ڈالی جاتی تو وہ صحیح ہوجاتا۔ فَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا (پس اس کو میرے والد کے چہرہ پر ڈال دو ان کی بصارت واپس آجائے گی) بصربصیرًا تم کہو گے جاء البناء محکما۔ یہ بنیاد مضبوط ہوگئی۔ نمبر 2۔ وہ میری طرف آئیں گے اس حال میں کہ وہ آنکھوں والے ہونگے۔ یہودا نے کہا یہ قمیص شفاء میں اٹھائوں گا جیسا ظلم کی قمیص میں اٹھا کرلے گیا۔ نمبر 3۔ ایک قول یہ ہے کہ ننگے پائوں اور ننگے سرمصر سے کنعان اس قمیص کو لے گیا۔ ان کے درمیان اسی فرسخ کا فاصلہ تھا۔ وَاْتُوْنِیْ بِاَھْلِکُمْ اَجْمَعِیْنَ (اور تم اپنے تمام اہل کو میرے پاس لے آئو) تاکہ وہ میری بادشاہی سے فائدہ پائیں جیسا میری ہلاکت کی اطلاعات سے غمزدہ ہوئے۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

94: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ (جب قافلہ جدا ہوا) عریش مصر سے نکلا عرب کے محاورہ میں کہتے ہیں۔ فصل من البلاد فصولا، وہ شہر سے جدا ہوا جدا ہونا جبکہ اس سے علیحدہ ہوجائے اور اسکی آبادی سے نکل جائے۔ قَالَ اَبُوْھُمْ (ان کے والد نے (اپنے پوتے کو) کہا) اور جو ان کے اردگرد لوگ تھے۔ اِنِّیْ لَاَ جِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ ( مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے) اللہ تعالیٰ نے قمیص کی خوشبو کا ادراک کرادیا۔ جبکہ آٹھ روز کے فاصلہ سے روانہ ہوئی۔ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ (اگر تم مجھے بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو) التفنیدؔ فند کی طرف نسبت کرنا اور وہ بڑھاپے کی وجہ سے عقل میں نقصان آنا ہے۔ مطلب یہ ہے اگر تم مجھے سٹھایا ہوا نہ سمجھتے تو تم میری تصدیق کرتے۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

95: قَالُوْا (انہوں نے کہا) پوتوں نیتا للّٰہِ اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلِکَ الْقَدِیْمِ (اللہ کی قسم بیشک تو اپنی پرانی گمراہی میں ہے) عرصہ سے یوسف کی محبت میں افراط کی وجہ سے درست راستہ سے ہٹ چکا ہے۔ نمبر 2۔ یوسف کی محبت والی پرانی غلطی میں مبتلا ہے۔ ان کے ہاں وہ مرچکے تھے۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

بصارتِ یعقوب کی واپسی : 96: فَلَمَّآ اَنْ جَآئَ الْبَشِیْرُ (جب خوشخبری دینے والا آیا) یعنی یہودا اَلْقٰہُ عَلٰی وَجْھِہٖ ( اس کو ان کے چہرہ پر ڈال دیا) خوشخبری والے نے قمیص کو یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا نمبر 2۔ یعقوب (علیہ السلام) نے خود ڈال لیا۔ فَارْتَدَّ (پس لوٹ آئے) بَصِیْرًا (بینا ہوکر) جیسا کہا جاتا ہے ردّہ ٗفارتدّ اس کو لوٹایا وہ لوٹ گیا اور ارتدہ اذا ارتجعہ جب لوٹایاجائے۔ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ (کہا کیا میں نے تمہیں کہا نہیں) یہ بات مراد ہے انی لاجد ریح یوسفیا یہ قول ولا تایئسوامن روح اللّٰہ اور یہ قول اِنِّیْ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ (بیشک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے) یہ ابتدائیہ جملہ ہے۔ اور قال کا مقولہ نہیں ہے۔ نمبر 2۔ مقولہ ہے اور مراد اس سے انما اشکو ابثی و حزنی الی اللّٰہ واعلم من اللّٰہ مالا تعلمون ہے۔ تفسیری روایت میں ہے کہ آپ نے خوشخبری والے سے سوال کیا۔ یوسف کا کیا حال ہے اس نے کہا وہ مصر کا بادشاہ ہے اس نے کہا میں نے سلطنت کو کیا کرنا ہے۔ کس دین پر ہے ؟ اس نے جواب دیا۔ دین اسلام پر۔ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اب نعمت مکمل ہوئی۔
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

بیٹوں کا معافی طلب کرنا : 97: قَالُوْا یٰٓاَ بَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیْنَ (انہوں نے کہا اے ابا جی ! آپ ہمارے گناہوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار فرما دیں۔ بیشک ہم خطا کار ہیں) یعنی ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں ان غلطیوں سے جو ہم نے تمہارے حق میں کی ہیں اور آپ کے بیٹے کے متعلق ہم توبہ کرتے ہیں ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف ہے۔
Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

98: قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیْط اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (اس نے کہا میں عنقریب تمہارے لئے اپنے رب سے استغفار کرونگا بیشک وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) انہوں نے استغفار کو سحر تک مؤخر کیا نمبر 2۔ لیلہ جمعہ تک نمبر 3۔ توبہ کی سچائی میں ان کی حالت معلوم ہونے تک۔ نمبر 4۔ یوسف (علیہ السلام) سے دریافت تک کہ آیا انہوں نے معاف کردیا۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

99: پھر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد کی طرف سامان اور دو سواریاں بھیجیں تاکہ ان پر سوار ہو کر ان کے ہاں آجائیں۔ جب مصر کے قریب پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) اور بادشاہ چار ہزار فوج اور سردار ان ملک اور بہت سے اہل مصر کے ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کے استقبال کرنے کیلئے نکلے۔ یعقوب (علیہ السلام) سے اس حال میں ملاقات ہوئی کہ یہودا پر ٹیک لگا کر آپ چل رہے تھے۔ تعبیر خواب کی تکمیل : فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ (جب وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی) اپنے جسم سے ملایا اَبَوَ یْہِ (اپنے والدین کو) اور ان سے معانقہ کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ نمبر 2۔ ان کی والدہ فوت ہوچکی تھی اور ان کے والد نے ان کی خالہ سے نکاح کیا تھا۔ اور خالہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ چچا کو باپ کہا گیا ہے اور یہی معنی اس قول میں ہے والٰہ اٰباءک ابراہیم واسماعیل واسحاق ] البقرہ : 133[ دخولھم علیہ کا معنی مصر میں داخلہ سے پہلے جبکہ ان کا استقبال کیا تو خیمہ میں ان کو اتارا۔ نمبر 2۔ اس جگہ کے کسی محل میں اتارا وہ ان کے پاس داخل ہوئے۔ تو انہوں نے والدین سے معانقہ کیا۔ وَقَالَ (اور ان کو کہا) اور اس کے بعد ان کو کہا ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ (تم مصر میں چلو اور امن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو رہو) امن سے رہو ان کے بادشاہوں سے پہلے وہ پناہ لیکر داخل ہوتے۔ نمبر 2۔ قحط سے امن میں ہو۔ روایت میں ہے کہ ملاقات کے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا۔ السلام علیک یا مذہب الاحزان۔ یوسف (علیہ السلام) نے جواباً کہا : بکیتَ عَلَیَّ حَتّٰی ذَھَبَ بَصَرُکَ کیا آپ کو علم نہ تھا کہ قیامت ہمیں جمع کر دے گی ؟ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا ہاں۔ لیکن مجھے تمہارے دین کے سلب کا خطرہ ہوا پھر میرے اور تیرے درمیان فاصلہ کردیا جائے۔ نمبر 3۔ ایک قول یہ ہے یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد مصر میں جب داخل ہوئے مردعورتیں 72 افراد تھے اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلے تو لڑنے والوں کی تعداد چھ لاکھ پانچ سو بہتر تھی۔ بچے اور بوڑھے اس کے علاوہ تھے۔ چھوٹے بچے ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گرپڑے (اس وقت یوسف نے کہا ابّاجان ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا۔ اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔

100: وَرَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا (اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور وہ تمام ان کے سامنے سجدہ میں گرگئے) ایک قول یہ ہے کہ مصر میں داخلہ کے وقت جب یوسف اپنی مجلس میں درست ہو بیٹھے تو آپ نے اپنے والدین کو بطور آرام تخت پر بٹھایا۔ اور وہ گرپڑے اس کے لئے سجدہ میں گیارہ بھائی اور والدین سُجَّدًا ؔ سجدہ ان کے ہاں بطورسلام و تکریم کے جائز تھا۔ جیسا کہ قیام ومصافحہ اور ہاتھوں کا بوسہ۔ زجاج کہتے ہیں۔ تعظیم کا طریقہ اس وقت عظمت والے کو سجدہ کرنا تھا۔ نمبر 2۔ یہ پھر جھکنا تھا پیشانی کو زمین پر رکھنا مراد نہ تھا مگر خروا لہ سجدًا اس معنی کا انکار کر رہا ہے۔ نمبر 3۔ وہ یوسف کی خاطر اللہ کی بارگاہ میں سجدہ شکر میں پڑگئے اس صورت میں لام اجلیہ ہے۔ وَقَالَ یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُئْ یَایَ مِنْ قَبْلُ (اور کہا اے اباجی ! یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جو پہلے آیا) ھا سے الرؤیا مراد ہے۔ قَدْجَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا (میرے رب نے اس کو سچا کردیا) خواب اور تعبیر کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ تھا۔ نمبر 2۔ 80 اسی سال کا فاصلہ نمبر 3۔ 86 سال کا نمبر 4۔ 36 سال کا نمبر 5۔ 22 سال کا۔ وَقَدْ اَحْسَنَ بِیْ (اور اس نے مجھ پر احسان فرمایا) کہا جاتا ہے احسن الیہ، احسن بہ (احسان کرنا) اسی طرح اساء الیہ، بہ ٖمستعمل ہے۔ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ (جب اس نے مجھے قید سے نکالا) یوسف (علیہ السلام) نے کنوئیں کا ذکر نہیں کیا۔ اس قول کے باعث لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ، وَجَآ ئَ بِکُمْ مِّنَ الْبَدْوِ (اور تمہیں دیہات سے لایا) دیہات سے کیونکہ ان کے ہاں مویشی تھے ایک پانی سے دوسرے پانی پر منتقل ہوتے اور چراگاہوں کو بدلتے۔ مِنْم بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْٰطنُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ (اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان چوک لگائی) ہمارے درمیان فساد ڈلوایا اور برانگیختہ کیا۔ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآئُ (بیشک میرا رب عمدہ تدبیر کرتا ہے جو چاہتا ہے) لطیف تدبیر والا اِنَّہٗ ھُوَالْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ (بیشک وہی علم والے حکمت والے ہیں) نمبر 1۔ کہ امیدوں کو مقررہ اوقات تک مؤخر کرتا ہے۔ نمبر 2۔ اختلاف کے بعد الفت پیدا فرما دی۔