Ayah 12:101دعائے مستجاب :
101: رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ (اے میرے رب آپ نے مجھے سلطنت کا ایک حصہ عنایت فرمایا) ملک سے ملک مصر مراد ہے۔ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ (اور آپ نے مجھے خوابوں کی تعبیر سکھائی) نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی تفسیر نمبر 2۔ خوابوں کی تعبیر۔
نحو : مِنْ تبعیضیہ ہے اس لئے کہ ان کو مصر کی بادشاہت ملی نہ کہ پوری دنیا کی اور تاویل بھی بعض باتوں کی نہ کہ تمام کی فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے)
نحو : مناد ٰی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (آپ دنیا و آخرت میں میرے کارساز ہیں) آپ ہی دارین میں نعمتوں سے نوازنے والے ہیں۔ اور ملک فنا کے ساتھ ملک بقاء کو ملا کر عنایت کرنے والے ہیں۔ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا ( پوری فرمانبرداری میں مجھے وفات دے) اسلام کی حالت والی موت طلب کی جیسا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے موت سے قبل عہد لیا تھا ولا تموتن الاوانتم مسلمون ! ] آل عمران : 201[ بقول ضحاک مسلم کا معنی مخلصاً ہے۔ اور تستری کہتے ہیں میں اپنا معاملہ آپ کے سپرد کرنے والا ہوں۔
مسئلہ : باوجود معصوم ہونے کے یوسف (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تاکہ وہ لوگ ان کی اقتداء کریں۔ جو مامون اور محفوظ نہیں بلکہ گناہگار ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) کے اعمال کو امتوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ تاکہ امتیں ان کو دیکھ لیں۔ وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ (اور تو مجھے ملا دے نیکوں کے ساتھ) نمبر 1۔ میرے آبائو و اجداد کے ساتھ نمبر 2۔ عام جو نیک صالح لوگ ہیں۔
روایت تفسیر میں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے یعقوب (علیہ السلام) کے ہاتھ کو پکڑا اور اپنے خزانوں کا چکر لگوایا۔ جو کہ سونے، چاندی، کپڑے، اسلحہ ڈپو، کاغذ سٹور پر مشتمل تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کاغذوں کو دیکھ کر فرمایا میرے بیٹے تیرے پاس اتنے کاغذ تھے مگر آٹھ مرحلہ فاصلہ پر تو نے ایک کاغذ بھی نہ لکھا۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے جبرئیل (علیہ السلام) نے حکم دیا تھا۔ یعقوب ( علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ اس سے پوچھ سکتے ہیں ؟ یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ کو ان سے زیادہ بےتکلفی ہے ان سے پوچھ لو تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا حکم دیا تھا۔ آپ کے اس قول کی وجہ سے فاخاف ان یاکلہ الذئب مجھے ڈر ہے کہ اس کو بھیڑیا کھاجائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو مجھ سے کیوں نہ ڈرا۔
ایک روایت میں ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) 24 سال زندہ رہے پھر وفات پا گئے اور اسحاق (علیہ السلام) کے پہلو میں سرزمین شام لیجا کر دفن کا حکم دیا۔ پھر جان جہاں آفریں کے حوالہ کردی۔ ان کو اسی جگہ دفن کردیا گیا پھر آپ مصرواپس لوٹے اور اپنے والد کے بعد تینتیس 33 سال زندہ رہے جب ان کی موت کا وقت آیا تو اپنے لئے ہمیشہ کی بادشاہت چاہی اور نیکوں جیسی موت کی تمنا کی۔ نمبر 1۔ ایک قول یہ ہے ان سے پہلے یہ تمنا کسی نے نہیں کی اور نہ ان کے بعد۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پاکیزگی کے ساتھ وفات دی۔ اہل مصر نے آپس میں ان کے دفن پر شدید اختلاف کیا یہانتک کہ لڑائی تک نوبت آگئی ہر ایک اپنے محلے میں دفن کرنا چاہتا تھا۔ پھر مرمر کا صندوق بنوا کر اس میں ان کے جسد خاکی کو رکھا اور نیل میں ایسے مقام پر دفن کیا جو نیل کا راستہ اور گزرگاہ تھی۔ تاکہ سارے اہل مصرفیضیاب ہوں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے چار سو سال بعد ان کے تابوت کو بیت المقدس منتقل کیا۔ ان کے ہاں دو اولادیں افراثیم اور میشا تھے۔ افراثیم کا ایک بیٹا نون تھا نون کے بیٹے یوشع ہیں جن کو فتٰی موسٰی کہہ کر قرآن مجید نے ذکر کیا۔ عمالیق کے فراعنہ آپ کے بعد وراثۃً حکمران رہے اور بنو اسرائیل ان کے ماتحت دین یوسفی (ابراہیمی) پر قائم رہے۔
Ayah 12:102102: ذٰلِکَ (یہ) یوسف (علیہ السلام) کے سابقہ واقعہ کی طرف اس سے اشارہ فرمایا یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو فرمایا یہ مبتداء ہے۔ مِنْ اَنْچبَآ ئِ الْغَیْبِ (غیب کی بعض خبریں ہیں) ۔ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ (جو وحی کر رہے ہیں ہم آپ کی طرف )
نحو : یہ دونوں ذلک کی خبریں ہیں۔ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ (اور آپ ان کے پاس نہ تھے) اولاد یعقوب کے پاس اِذْاَجْمَعُوْااَمْرَھُمْ (جبکہ انہوں نے اپنے معاملہ میں اتفاق کیا) یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ (اس حال میں کہ وہ تدبیر کر رہے تھے) یوسف (علیہ السلام) کے متعلق اور ان کو دھوکہ سے قتل کرنا چاہتے تھے۔ یہ غیب کی خبریں آپ کو بذریعہ وحی حاصل ہوتی ہیں۔ کیونکہ آپ اولاد یعقوب کے پاس موجود نہ تھے جبکہ وہ اپنے بھائی کو کنوئیں میں ڈال رہے تھے۔
Ayah 12:103103: وَمَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ ( اور لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں خواہ آپ کو کتنی خواہش ہو) عام لوگ مراد ہیں۔ نمبر 2۔ اہل مکہ یعنی اہل مکہ ایمان لانے والے نہیں خواہ ان کے ایمان کیلئے آپ پوری کوشش صرف کردیں۔
Ayah 12:104104: وَمَا تَسْئَلُھُمْ عَلَیْہِ (اور تم ان سے اس پر نہیں مانگتے) ہٗ سے مراد تبلیغ نمبر 2۔ قرآن پر مِنْ اَجْرٍ (کوئی مزدوری) بدلہ اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ (یہ خالص ذکر ہے) یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ہے۔ لِّلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کیلئے) اس میں اپنے ایک رسول کی زبان پر سے نجات کو طلب کرنے پر آمادہ کیا۔
Ayah 12:105نشانہائے عبرت تو بہت ہیں مگر عبرت حاصل کرنے والے کم ہیں :
105: وَکَاَ یِّنْ مِّنْ اٰیَۃٍ (کتنی ہی نشانیاں ہیں) علامتیں ہیں جو خالق کی خالقیت اور صفات و توحید پر دلالت کرنے والی ہیں۔ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا (آسمانوں اور زمین میں جن پر ان کا گزر ہوتا ہے) ان نشانات پر نمبر 2۔ زمین پر (جنکے پاس ان کا گزر ہوتا ہے۔ وہ ان کا آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ وَھُمْ عَنْھَا ( اور وہ ان آیات سے) مُعْرِضُوْنَ (اعراض کرنے والے ہیں) ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اس سے مراد ہلاک ہونے والی امتوں کے آثار اور عبرتناک مقامات جن کو وہ آتے جاتے دیکھتے تھے۔
Ayah 12:106106: وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَھُمْ مُّشْرِکُوْنَ (اور ان کی اکثریت اللہ پر ایمان نہیں لاتی مگر کہ وہ شرک بھی کرتے ہیں) یعنی ان کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے متعلق اقراری ایمان تو لاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ مگر بتوں کی عبادت کر کے شرک کرنے والے ہیں جمہور کہتے ہیں یہ مشرکین کے متعلق اتری کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رازق و خالق مانتے تھے اور جب ان کو کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو اللہ تعالیٰ کو مخلصانہ پکارتے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے۔ شرک کی باتوں میں سے قدر یہ کی یہ بات بھی ہے کہ بندے کیلئے قدرت تخلیق مانتے ہیں۔ اور خالص توحید وہی ہے جو اہل سنت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق نہیں۔
Ayah 12:107107: اَفَاَمِنُوْا اَنْ تَاْتِیَھُمْ غَاشِیَۃٌ( کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے کہ ان پر آن پہنچے کوئی ڈھانپنے والی) ایسی سز اجو ان کو ڈھانپ لے اور گھیرلے مِّنْ عَذَابِ اللّٰہِ اَوْتَاْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ (اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے یا قیامت آجائے ان کے پاس) ساعت سے قیامت مراد ہے۔ بَغْتَۃً (اچانک) یہ حال ہے وَّھُمْ لَایَشْعُرُوْنَ (اس حال میں کہ ان کو شعور بھی نہ ہو) اسکی آمد کا۔
Ayah 12:108عقیدئہ توحید کا اعلان :
108: قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ (کہہ دیں کہ یہ میرا راستہ ہے) یہ وہی راستہ ہے جس میں ایمان و توحید کی دعوت ہے۔ یہی میرا راستہ ہے۔ : السبیل اور الطریق یہ دونوں لفظ مذکر ومؤنث استعمال ہوتے ہیں۔ پھر سبیل کی تفسیر اس طرح فرمائی۔ اَدْعُوْا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ (میں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں بصیرت کے ساتھ) واضح دلیل کے ساتھ میں اس کے دین کی طرف دعوت دیتا ہوں اندھے پن کے ساتھ نہیں۔
اَنَا (میں) یہ ادعوا کی ضمیر مستتر کی تاکید ہے۔ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ (اور جس نے میری پیروی کی) اس کا عطف انا پر ہے) تقدیر عبارت یہ ہے ادعوا الی سبیل اللّٰہ اناوید عوا الیہ من اتبعنی کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستہ کی طرف دعوت دیتا ہوں اور میرے پیرو کار اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں نمبر 2۔ اناؔ مبتداء علیٰ بصیرۃ مقدم خبر ہے۔ اور من اتبعنی کا انا ؔ پر عطف ہے۔ آپ ابتداء ًیہ بتلا رہے ہیں کہ میں اور میرے پیروکار حجت و دلیل پر ہیں خواہش پر نہیں وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ ( اور اللہ تعالیٰ پاک ہے) میں اس کو شرکاء سے پاک قرار دیتا ہوں۔ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں) جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے ہیں۔
Ayah 12:109109: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا (اور ہم نے آپ سے پہلے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا) نہ کہ فرشتوں کو کیونکہ کفار یہ کہا کرتے تھے۔ ولو شاء اللّٰہ لانزل ملائکۃ (اگر اللہ تعالیٰ رسول بھیجنا چاہتا تو ضرور فرشتے اتارتا۔ نمبر 2۔ ان میں کوئی عورت نہ تھی (تمام مرد تھے) نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ مِّنْ اَھْلِ الْقُرٰی (جنکی طرف ہم وحی کرتے رہے شہروں کے رہنے والوں میں سے)
قراءت : حفص نے نون سے پڑھا ہے اہل قر ٰی اس لئے کہا کیونکہ وہ علم و حلم والے ہوتے ہیں اور جنگلی لوگوں میں جہل و جفا کثرت سے ہوتی ہے۔ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَدَارُ الْاٰخِرَۃِ (کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کس طرح ان لوگوں کا انجام ہو اجو ان سے پہلے ہوئے البتہ آخرت کا گھر) آخری گھڑی والا گھر خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا (وہ بہت بہتر ہے۔ ان لوگوں کیلئے جو متقی ہیں) شرک سے بچنے والے ہیں، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانیوالے ہیں۔ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ( کیا تمہیں سمجھ نہیں )
قراءت : مکی، ابو عمرو اور حمزہ وعلی نے یعقلون یا ؔ سے پڑھا ہے۔
Ayah 12:110110: حَتّٰی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ (یہاں تک کہ جب پیغمبر (اس بات سے) مایوس ہوگئے) قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے وَظَنُّوْا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا (اور انہوں نے یقین کرلیا کہ ان کی تکذیب کردی گئی) رسولوں کو یقین ہوگیا کہ ان کی قوم نے ان کو جھٹلادیا ہے۔
قراءت : کوفی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ قوموں نے یقین کیا کہ رسل نے واقعی جھوٹ بولا یعنی وعدہ خلافی کی ہے۔ یا نمبر 2۔ قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں کی طرف سے ان کے ساتھ جھوٹ بولا گیا۔ یعنی رسولوں نے انہیں یہ جھوٹ کہا کہ وہ ان پر غالب آجائیں گے اور اسمیں وہ سچے نہ نکلے۔ جَآ ئَ ھُمْ نَصْرُنَا (ان کے پاس ہماری مدد آئی) انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین پر ہماری مدد اچانک بغیر شمار کے آن پہنچی۔ فَنُجِّیَ (پس جس کو چاہا ہم نے بچا لیا )
قراءت : جیم مشدد، ایک نون یا مفتوح کے ساتھ شامی و عاصم نے پڑھا ہے ماضی مجہول اور منؔ کو قائم مقام فاعل قرار دیا ہے۔ باقی قراء نے فَنُنْجِیْ دو نون، دوسرا ساکن خفیفہ اور یاؔ ساکن سے پڑھا ہے۔ مَنْ نَّشَآ ئُ (جن کو ہم نے چاہا) نبی اور ان کے ساتھ ایمان والے وَلَا یُرَدُّ بَاْسُنَا (اور ہماری پکڑ لوٹائی نہیں جاسکتی) بأس سے عذاب مراد ہے عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ (مجرم قوم سے) کافر مراد ہیں۔
Ayah 12:111111: لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ نمبر 1(ان کے واقعات میں) ان انبیاء (علیہم السلام) اور قوموں کے واقعات میں نمبر 2۔ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے واقعہ میں عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (عقل والوں کیلئے عبرت ہے) نمبر 1۔ اس طرح کہ گہری محبت سے گہرے کنوئیں میں ڈال دیئے گئے۔ نمبر 2۔ چٹائی جیل سے تخت پر منتقل ہوئے نمبر 3۔ صبر کے نتیجہ میں سلامتی، کرامت و عزت ملی نمبر 4۔ فریب کاری میں ندامت و شرمندگی سامنے آئی۔ مَاکَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی (یہ کوئی من گھڑت بات نہ تھی) یہ قرآن کفار کے خیال کے مطابق مفتری نہیں ہے۔ وَلٰکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ (لیکن یہ تصدیق ہے اس وحی کی جو اس کے سامنے ہے) پہلی کتابوں کی یہ تصدیق ہے۔ وَتَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْئٍ (اور اسمیں ہر چیز کی تفصیل ہے) جس کی دین میں ضرورت ہے کیونکہ یہ وہ قانون ہے سنت کو جس کا سہارا ہے اور اجماع و قیاس کو بھی وَّھُدًی (اور راہنمائی ہے) گمراہی سے وَّرَحْمَۃً (اور رحمت ہے) عذاب سے لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ان لوگوں کیلئے جو ایمان لانے والے ہیں) اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر پر۔
نحو : لکن کے بعد والا جملہ کانؔ کی خبر پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
فضائل :
رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ اپنے غلاموں کو سورة یوسف سکھائو۔ جو بندہ اس کو پڑھے اور اپنے اہل کو سکھائے اور غلام لونڈی کو سکھائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس پر سکرات کی موت کو آسان کردیں گے۔ اور اس کو طاقت دیں گے کہ کوئی مسلمان اس سے حسد نہ کرے گا۔ ( کشاف زمخشری)
شیخ ابو منصور (رح) نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے واقعہ میں رسول اللہ ﷺ کو ایذاء قریش پر صبر کی تلقین کی گئی گویا اس طرح فرمایا یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے موافقت فی الدین کے باوجود اور حقیقی بھائی ہو کر یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا کچھ مکرو فریب نہیں کیے۔ اور یوسف (علیہ السلام) نے صبر کیا۔ آپ تو دین میں بھی ان کے مخالف ہیں پھر یہ اگر مخالفت کررہے ہیں تو ان کی ایذاء پر صبر کریں۔ قول وہب (رح) ۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی کتاب پہلے اتاری اس میں کامل سورة یوسف اتاری جیسا کہ قرآن عظیم میں ہے (واللہ اعلم)
تمت ترجمۃ تفسیر سورة یوسف یوم الا ربعاء التا سعۃ من شھراکتوبر 2002 والحمد للّٰہ علی ذلک