Ayah 11:1قرآن محکم و مفصل :
1: الٰٓر کِتٰبٌ ( یعنی یہ کتاب ہے) کتاب خبر ہے اور مبتداء ہذا محذوف ہے۔ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ (اسکی آیات محکم ہیں) یہ کتاب کی صفت ہے۔ یعنی مضبوط ومحکم لڑی میں پرویا گیا اس میں کوئی کمی و خلل واقع نہیں ہوسکتا ہے جیسا کہ مضبوط عمارت ثُمَّ فُصِّلَتْ (پھر اسکی تفصیل کردی گئی) جیسا یکتا روزگار موتیوں سے ہار جداکئے جاتے ہیں۔ یعنی دلائل توحید اور احکام، مواعظ، قصص سبھی پر مشتمل ہے۔
یا نمبر 2: ایک ایک سورت سے اسکی فصلیں بنادیں اور ایک ایک آیت الگ کردی یا نمبر 3۔ اکٹھا نہیں اتارا تھوڑا تھوڑا متفرق طور پر اتارا یا نمبر 4۔ جن چیزوں کی بندوں کو ضرورت پڑتی ہے وہ اس میں تفصیل سے بیان کردیا اور ان کا نچوڑ نکال دیا۔ ثمؔ کا لفظ تراخی فی الوقت کیلئے نہیں ہے بلکہ تراخی فی الحال کیلئے ہے۔ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ (حکمت والی خبردار ذات کی طرف سے ہے) نمبر 1۔ یہ کتاب کی صفت دوم ہے یا نمبر 2۔ دوسری خبر ہے یا نمبر 3۔ احکمت اور فصلت کا صلہ ہے مطلب اسطرح ہے کہ اسی ہی کی طرف سے اس کے احکام اور تفصیل ہے۔
Ayah 11:2توحید و استغفار کا حکم :
2: اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّٰہَ (یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو) نمبر 1۔ یہ مفعول لہٗ ہے یعنی لئلا تعبدواتا کہ تم عبادت نہ کرو۔ نمبر 2۔ ان مفسرہ ہے کیونکہ تفصیل آیات میں قول کا معنی پایا جاتا ہے گویا کلام اس طرح ہے قال لا تعبدوا الا اللہ اس نے فرمایا کہ نہ عبادت کرو مگر اللہ تعالیٰ ہی کی۔ نمبر 3۔ امر کم الاتعبدوا الا اللہ اس نے تمہیں حکم دیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو۔ اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ (بیشک میں تمہارے لئے اسکی طرف سے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
Ayah 11:33: وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ (اور یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو) یعنی اس نے تمہیں توحید و استغفار کا حکم دیا۔ ثُمَّ تُوْبُوْااِلَیْہِ (پھر اسی ہی کی طرف رجوع کرو) یعنی شرک سے استغفار کرو اور پھر طاعت سے اس کی طرف رجوع کرو یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا (وہ تمہیں اچھا نفع دے گا) دنیا میں عمدہ پسندیدہ منافع سے تمہارے نفع کو طویل کر دے گا۔ اور مسلسل نعمتیں عنایت کرے گا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک مقررہ مدت تک) یہاں تک کہ تمہیں وفات دے وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ (اور ہر فضل والے کو اس کا زائد عنایت فرمائے گا) آخرت میں ہر ایسے انسان کو جو عمل میں بڑھنے والا ہوگا اس کے اضافہ عمل کا ثواب عنایت فرمائے گا اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا (اور اگر تم منہ موڑلو) اور اگر تم بےرخی اختیار کرو۔ فَاِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ (مجھے تمہارے متعلق بڑے دن کے عذاب کا خدشہ ہے) بڑے دن سے قیامت کا دن مراد ہے۔
Ayah 11:44: اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ (اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تم نے لوٹنا ہے) مرجع بمعنی لوٹنا ( مصدر میمی) وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (وہ ہر چیز پر قدرت والے ہیں) اس کو تمہارے دوبارہ لوٹانے پر بھی قدرت ہے۔
Ayah 11:5نفاق و انحراف کو اللہ جانتے ہیں :
5: اَلَآ اِنَّھُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ (خبردار وہ اپنے سینوں کو دھرا کرتے ہیں) حق سے مڑتے اور منحرف ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو آدمی کسی شئی کی طرف متوجہ ہو تو وہ سینے سے اس چیز کا سامنا کرتا ہے اور جو کسی چیز سے مڑتا ہے تو اپنے سینے کو اس چیز کی طرف کرنے سے پھیر لیتا ہے اور اعراض کرتا ہے۔ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ (تاکہ وہ اس سے چھپ سکیں) تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپ جائیں اللہ کے رسول اور مومنوں کو اسکی اطلاع نہ ہو کہ وہ منحرف ہوگئے ہیں۔
اَ لَاحِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَھُمْ (خبردار ! جبکہ وہ اپنے کپڑوں کو اپنے اوپر لپیٹتے ہیں) ان کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے نفرت کرتے ہوئے اپنے اوپر کپڑے ڈال لیتے ہیں کہ کہیں وہ کلام ان کے کان میں پڑ نہ جائے جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کا ارشاد سورة نوح : 7 جعلوا اصابعہم فی ٰاذانہم واستغشوا ثیابہم۔ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَایُعْلِنُوْنَ (وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں) یعنی اس کے علم میں ان کے اسرار و اعلان کا کوئی فرق نہیں ان کو ان چیزوں کا سہارا لینے سے کیا فرق پڑتا ہے جن سے اپنے آپ کو وہ چھپانا چاہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے سینوں کے دھرا کرنے اور کپڑوں میں لپٹنے کو جانتا ہے ان کا نفاق اس کے ہاں کوئی فائدہ مند نہیں۔ نمبر 2۔ کہا گیا ہے کہ یہ منافقین کے متعلق اتری اِنَّہٗ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بیشک وہ سینے کی باتوں سے واقف ہے) جو کچھ ان کے سینوں میں ہے۔
Ayah 11:66: وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّاعَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا (کوئی جاندار زمین میں ایسا نہیں مگر کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کا رزق ہے) محض فضل کے طور پر نہ کہ وجوب کے طور پر وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا (وہ اس کا مستقر جانتے ہیں) زمین میں اس کے ٹھہرنے کا مقام اور مسکن وَمُسْتَوْدَ عَھَا (اور اسکی امانت کی جگہ) جہاں وہ بطور امانت رکھا گیا تھا اس سے قبل کہ صلب میں قرار پکڑتا یا نمبر 2۔ رحم مادر نمبر 3۔ بیضہ، پدرکُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (ہر چیز واضح کتاب میں ہے) ہر جاندار اور اس کا رزق، اس کا مستقر اور مستودع لوح محفوظ میں واضح طور پر مندرج ہے۔
Ayah 11:77: وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (وہی ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا) اور جو کچھ ان کے مابین ہے فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (چھ دنوں میں) اتوار سے جمعہ تک مخلوق کو معاملات میں ترتیب سکھانے کیلئے وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ (اور اس کا عرش پانی پر تھا یعنی پانی کے اوپر) آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے عرش کے نیچے کوئی مخلوق نہ تھی سوائے پانی کے۔
فائدہ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ عرش و پانی دونوں کی پیدائش آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اس کو سبز یا قوت بنایا پھر ہیبت کی تجلی اس پر ڈالی تو وہ پانی بن گیا۔ پھر ہوا کو پیدا کیا پانی کو اسکی پشت پر ٹھہرا دیا۔ پھر اپنے عرش کو پانی پر قائم فرمایا۔ عرش کے پانی پر ٹھہرائو میں اہل فکر کے لئے عبرت کا بہت بڑا سامان ہے۔ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً (تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے) یعنی تاکہ وہ تمہارے ساتھ وہ سلوک کرے جو تمہیں تمہارے حالات میں مبتلا کرتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔ وَلَئِنْ قُلْتَ اِنَّکُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْم بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (اور اگر تم کہو بیشک تمہیں اٹھایا جائیگا۔ موت کے بعد۔ کافر ضرور کہہ اٹھیں گے۔ یہ تو کھلا جادو ہے) اس میں انہوں نے قرآن کی طرف اشارہ کیا کیونکہ قرآن ہی بعث بعدالموت کی بات کہنے والا ہے۔ جب اس کو سحر کہا تو جس میں بعث کا ذکر ہوا سکا انکار خود اسمیں آگیا۔
قراءت : حمزہ، علی نے ساحر پڑھا ہے۔ مراد اس سے ان کی رسول اللہ ﷺ ہیں اور الساحرؔ باطل پرست جھوٹے کو بھی کہتے ہیں۔
Ayah 11:8عذاب آجائے گا تو نہ ٹلے گا :
8: وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ (اور اگر ہم ان سے عذاب کو مؤخر کرلیں) عذاب سے آخرت کا عذاب مراد ہے یا یوم بدر کا عذاب اِلٰیٓ اُمَّۃٍ (ایک وقت) اوقات میں سے ایک مجموعہ وقت تک مَّعْدُوْدَۃٍ (مقررہ تک) معلوم یا قلیل مطلب یہ ہے معلوم گھڑی تک لَّیَقُوْلُنَّ مَایَحْبِسُہٗ (ضرور وہ کہیں گے کونسی چیز اس کو روکے ہوئے ہے) اَ لَایَوْمَ یَاْتِیْھِمْ (خبردار جس دن وہ ان پر آن پہنچے گا) یعنی عذاب لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْھُمْ (وہ ان سے پھیرا نہ جائے گا) عذاب ان سے موڑا نہ جائے گا۔
نحو : یوم، مصروفًا کی وجہ سے منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ ہے لیس العذاب مصروفا عنہم یوم یاتیہم جس دن ان پر عذاب اتر پڑے گا تو ٹالے سے بھی نہ ٹلے گا۔ وَحَاقَ بِھِمْ (اور ان کو گھیرلے گا) مَّاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ (جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے) وہ عذاب جس کو وہ جلد مانگتے تھے۔
نکتہ : یہاں یستھزء ون کو یستعجلون کی جگہ لایا گیا کیونکہ وہ جلدی آمد کا مطالبہ بطور استھزاء ہی کرتے تھے۔
Ayah 11:9عام انسانی مزاج ناشکرا و نخریلا :
9: وَلَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ (اور اگر ہم انسان کو چکھائیں) انسان سے جنس انسان مراد ہے۔ مِنَّا رَحْمَۃً (اپنی طرف سے رحمت) نعمت جو صحت و امن و مال کی قسم سے ہو۔ لئنؔ میں لام تمہید قسم کیلئے ہے۔ ثُمَّ نَزَعْنٰھَامِنْہُ (پھر وہ اس سے کھینچ لیں) پھر وہ نعمت سلب کرلیں اور انّہٗ لَیَئُوْسٌجواب قسم ہے۔ اِنَّہٗ لَیَئُوْسٌ (بیشک وہ ناامید) وہ اس سے سخت مایوس ہوجاتا ہے کہ اس سلب کی ہوئی نعمت کی طرح نعمت اسکو ملے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور وسعت رحمت سے اپنی امیدیں توڑنے والا بنکر بےصبرا ہوجاتا ہے اور قضاء کو تسلیم نہیں کرتا۔ کَفُوْرٌ (بہت ناشکرا ہے) گزشتہ وقت میں اللہ تعالیٰ کی جس نعمت سے نفع اٹھاتا رہا اسکی سخت ناشکری کرنے والا اور اس کو بالکل بھلانے والا ہے۔
Ayah 11:1010: وَلَئِنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَآ ئَ بَعْدَ ضَرَّآ ئَ مَسَّتْہُ (اگر ہم اسے نعمتیں چکھائیں اس تکلیف کے بعد جس نے اس کو چھو لیا) فقر موجود کے بعد نعمت میں وسعت کردیں۔ لَیَقُوْلَنَّ ذَھَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ (تو ضرور کہنے لگے گا مجھ سے برائیاں دور ہوگئیں) سیئات سے وہ مصائب مراد ہیں جنہوں نے میری حالت کو بگاڑ دیا تھا۔ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ (بیشک وہ اترانے لگتا ہے) تکبر و شیخی فَخُوْرٌ (فخر کرنے والا) ان نعمتوں پر جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دی ہیں مگر اس کو فرح اور فخر شکر کرنے سے باز رکھتا ہے۔
Ayah 11:1111: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا (مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا) مشقت و مصیبت میں وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (اور نیک عمل کرتے رہے) نعمتوں اور خوشحالی میں شکریہ ادا کیا۔ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ (ان لوگوں کے لئے مغفرت ہے) ان کے گناہوں سے وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ (اور بڑا جر ہے) یعنی جنت
Ayah 11:1212: کفار آپ سے آیات کا سوال کرتے مگر ہدایت کیلئے نہیں بلکہ ضد کی وجہ سے کیونکہ اگر وہ رشد و ہدایت کے طالب ہوتے تو لائی جانے والی آیات میں سے ایک بھی راہنمائی کے لئے کافی تھی۔ ان کے بےجا مطالبات میں سے ایک یہ تھا کہ اس کے پاس خزانہ کیوں نہیں یا اسکے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں وہ قرآن مجید کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے متعلق بتکلف سستی کا اظہار کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کا سینہ مبارک اس بات سے تنگی محسوس کرتا آپ پر وہ چیز ڈالی جارہی ہے جس کو وہ قبول نہیں کرتے بلکہ اس سے ہنستے ہیں اس آیت میں آپ کو فریضہ رسالت کی ادائیگی پر آمادہ کیا گیا اور ان کے قرآن مجید کو مسترد کرنے کی بالکل پرواہ نہ کرنے کا حکم فرمایا۔ آپ ان کے مطالبات جدیدہ اور استہزاء کو خاطر میں نہ لایئے۔
ان کے تکبر و حماقت کو نہ دیکھیں ‘ وحی پہنچائیں :
فَلَعَلَّکَ تَارِکٌم بَعْضَ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْکَ (شاید کہ آپ چھوڑ بیٹھنے والے ہیں ان بعض چیزوں کو جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہیں) یعنی شاید کہ آپ چھوڑ بیٹھیں ان کی طرف ڈالنا اور پہنچانا ان آیات کا جو آپ پر اتاری جاتی ہیں اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ تردید کریں اور اس کے قبول کرنے میں سستی کر رہے ہیں۔ وَضَآ ئِقٌم بِہٖ صَدْرُکَ (اور آپ کے سینے میں اس سے تنگی ہوتی ہے) کہ وہ آیات ان کو پڑھ کر سنائیں۔
نکتہ : اللہ تعالیٰ نے لعل فرمایا اور ضیق نہیں فرمایا بلکہ ضائق فرمایا۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ تنگی ایک عارضہ ہے جو قائم رہنے والا نہیں ؟ آپ ﷺ سینہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ وسیع تھے مگر یہ چھوڑنے جیسا معاملہ تھا اس لئے مشاکلت کیلئے تارک کا لفظ بول دیا گیا۔ اَنْ یَّقُوْلُوْا (کہیں وہ یہ نہ کہیں) اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ کہنے لگیں۔ لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ کَنْزٌاَوْجَآ ئَ مَعَہٗ مَلَکٌ (کہ وہ یوں کہہ رہے ہیں کہ ان پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں کیا گیا) اس پر خزانہ کیوں نہ اترا جس کا ہم نے مطالبہ کیا تاکہ ہم خرچ کریں اور فرشتے ساتھ کیوں نہیں جو اسکی تصدیق کریں اس پر وہ قرآن کیوں اتارا جارہا ہے جس کو ہم چاہتے نہیں اور نہ ہی ہم مطالبہ کرتے ہیں۔
اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِیْرٌ (بیشک آپ تو نذیر ہیں) یعنی آپ کے ذمہ کوئی الزام نہیں اگر وہ قرآن مجید کو رد کردیں یا اس کے ماننے میں سستی دکھائیں۔ آپ کے ذمہ صرف ہماری وحی کو پہنچانا ہے۔ اور اس پیغام کو دینا ہے جس کے دینے کا آپ کو حکم دیا گیا۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ وَّکِیْلٌ (اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگہبان ہے) وہ ان کے اقوال کو محفوظ کرنے والا ہے اور اس کے مناسب ان سے سلوک کرے گا۔ آپ اسی پر بھروسہ کریں اور اپنا معاملہ اس کے حوالہ کردیں۔ آپ کی ذمہ داری کھلے دل سے وسیع سینے کے ساتھ وحی کو پہنچانا ہے ان کے تکبر کی طرف قطعاً متوجہ نہ ہوں اور نہ حماقت و استہزاء کی پرواہ کریں۔
Ayah 11:13دس سورتوں سے چیلنج :
13: اَمْ یَقُوْلُوْنَ (کیا وہ یہ کہتے ہیں) امؔ منقطعہ ہے۔ افْتَرٰ ہُ (اس کو بنا لیا ہے) ہٗ کی ضمیر وحی کی طرف جارہی ہے۔ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ (ان کو کہہ دو تم دس سورتیں لے آئو) پہلے دس سورتوں سے ان کو چیلنج دیا پھر ایک سورت سے جیسا خط میں مقابلہ کرنے والا اپنے مقابل کو کہے دس سطر اس طرح کی لکھو جیسی میں نے لکھی ہیں۔ جب اس کا عجز معلوم ہوجاتا ہے تو پھر اسکو کہتا ہے میں تیرے متعلق ایک سطر پر اکتفاء کرتا ہوں کہ وہ تو لکھ کر دکھا دے۔ دس نہ سہی۔
مِّثْلِہٖ (جو اسکی مثل ہو) حسن و خوبی میں اور مثلہ کا معنی امثالہ ہے ان میں سے ہر ایک مماثلت کی طرف بہت زیادہ جانے والی ہو۔ یعنی بہت مماثل ہو مُفْتَرَیٰتٍ (بنائی ہوئی) یہ عشر سورة کی صفت ہے جب کفار نے یہ الزام لگایا کہ تم نے قرآن خود بنایا ہے اور اپنے ہاں سے گھڑلیا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی لگام ڈھیلی کردی اور فرمایا فرض کرلو کہ میں نے اس کو اپنی طرف سے گھڑا ہے تو تم بھی اس جیسا کلام اپنی طرف سے گھڑ کرلے آئو۔ تم بھی تو میرے جیسے فصیح عرب ہو۔ وَّ ادْعُوْامَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور ان کو بلائو اللہ تعالیٰ کے سواء جن کو بلانے کی طاقت رکھتے ہو) تاکہ وہ معارضہ میں تمہاری معاونت کرسکیں۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ وہ من گھڑت ہے۔
Ayah 11:1414: فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ فَاعْلَمُوْا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰہِ وَاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (اگر وہ آپ کا چیلنج قبول نہ کریں تو یقین کرلو بیشک آپ پر اللہ تعالیٰ کے علم سے اتاری جارہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی معبود نہیں۔ ) یعنی وہ ایسی چیزوں کے ساتھ اتارا گیا جنکا علم سوائے باری تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں جیسے مخلوق کو عاجز کرنے والے الفاظ، غیب کی اطلاعات جنکی طرف معلومات کا بندوں کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ اس وقت جان لو کہ اس کے سواء کوئی معبود حقیقی نہیں اور اس کو وحد ہٗ لاشریک ماننا ضروری ہے۔ اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا ظلم عظیم ہے۔
نکتہ : اولاً خطاب انفرادی کیا اور پھر جمع لائے۔ وہ لکم ؔ، اعلمواؔ اور شروع میں قل، درحقیقت جمع کے صیغہ عظمت رسول اللہ ﷺ کو ظاہر کرنے کیلئے یا رسول اللہ ﷺ اور ایمان والے ان کو بیان کرتے ہیں یا خطاب مشرکین کو ہے۔ ضمیر لم یستجیبوا اور استطعتم جمع ہیں تو ان کی مناسبت سے دوسری ضمائر جمع لائی گئی ہیں۔ مطلب اس کا اس طرح ہوا کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سواء مدد کیلئے اور اپنی پشت پناہی کیلئے پکارتے ہو وہ اس مقابلہ میں مددکیلئے تمہاری دعوت قبول نہ کریں کیونکہ ان کو اپنا عجز بخوبی معلوم ہے تو تم بھی جان لو کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے علم سے اتارا گیا ہے۔ اور علم سے یہاں اذن یا امر مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم و اذن سے اتارا گیا ہے۔
فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (پھر تم کیوں مسلمان نہیں ہوتے ہو) اس قطعی دلیل کے بعداسلام کی اتباع کیوں نہیں کرتے۔ جنہوں نے اس کا مخاطب مسلمانوں کو بنایا۔ تو ان کے ہاں معنی یہ ہوگا اے مسلمانو ! تم اس علم پر قائم رہو۔ جس پر تم ہو اور اپنے یقین میں مزید اضافہ کرلو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اور توحید پر اور یقین پختہ کرو۔ اور فھل انتم مسلمون کا معنی یہ ہوگا کہ تم اخلاص کیوں اختیار نہیں کرتے یعنی پورا اخلاص اختیار کرو۔
Ayah 11:15طالب دنیا کو آخرت میں کچھ نہ ملے گا :
15: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَھُمْ فِیْھَا لَایُبْخَسُوْنَ (جس شخص نے دنیا کی زندگی اور اسکی زینت کا ارادہ رکھا ہو ہم ان کو ان کے اعمال اس دنیا میں پورے دے دیں گے اور ان کے حق میں کمی نہ کی جائے گی) ہم ان کو ان کے اعمال کا اجر کامل و مکمل بلاکم وکاست دنیا میں دے دیں گے۔ یہ بدلہ صحت، رزق کی شکل میں ہے اور یہ کفار یا منافقین ہیں (جن کا بدلہ دنیا میں ہی چکا دیا جاتا ہے)
Ayah 11:1616: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ اِلَّاالنَّارُ وَحَبِطَ مَاصَنَعُوْا فِیْھَا (یہ وہ لوگ ہیں جنکے لئے آخرت میں آگ ہی ہے اور جو انہوں نے دنیا میں کیا وہ ضائع ہوگیا) جو انہوں نے کیا وہ آخرت میں ضائع ہوگیا یا ان کا عمل ضائع ہوگیا۔ یعنی ان کے عمل کا ثواب نہ ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ بلاشبہ انہوں نے دنیا ہی کا ارادہ کیا اور وہ ان کو پورا پور ادے دیا گیا۔ وَبٰطِلٌ مَّاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (اور باطل ہوا وہ جو وہ کرتے رہے) یعنی ان کا عمل ذات کے لحاظ سے ہی باطل تھا کیونکہ اسکی غرض صحیح نہ تھی اور باطل عمل کا کوئی ثواب نہیں۔
Ayah 11:1717: اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (کیا آیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو) کیا وہ جو دنیا کا ارادہ رکھتا ہو پھر وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو۔ یہ دونوں مرتبہ میں برابر تو کیا قریب بھی نہیں ہوسکتے۔ یعنی ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ اَفَمَنْ سے وہ لوگ مراد ہیں جو یہود میں سے اسلام لائے۔ جیسا عبداللہ بن سلام وغیرہ وہ اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہے اس میں وضاحت ہے کہ دین اسلام برحق ہے اور رب کی طرف سے ہے اور یہ عقلی دلیل ہے۔ وَیَتْلُوْہُ (اور اس برہان کی اتباع کرتا اور پیچھے آتا ہے۔ شَاھِدٌ (ایک گواہ) جو اسکی صحت کا گواہ ہے اور یہ شاہد قرآن ہے۔ مِّنْہُ (اسکی طرف سے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا قرآن کی طرف سے (جس کو اوپر ذکر کیا) وَمِنْ قَبْلِہٖ (اور اس سے قبل) یعنی قرآن سے پہلے کِتٰبُ مُوْسٰی (موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب) ہے۔ وہ تورات ہے اور اس برہان کے پیچھے ہے قرآن مجید سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب اِمَامًا (مقتداء) جو دین میں قابل اقتداء اور نمونہ ہے۔ وَّرحْمَۃً (اور رحمت ہے) جنکی طرف اتارا گیا ان کے لئے عظیم نعمت ہے۔
نحو : یہ دونوں حال ہیں۔ اُولٰٓپکَ ( وہ) یعنی وہ جو بینہ و دلیل پر ہوں۔ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ (وہ اسپر ایمان لانے والے ہیں) یعنی قرآن مجید پر وَمَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ ( اور جو آدمی انکار کرے اس کا) یعنی قرآن کا۔ مِنَ الْاَحْزَابِ (ان گروہوں میں سے) یعنی اہل مکہ اور جو ان کے ساتھ مل کر رسول اللہ ﷺ کے خلاف محاذ بنانے والے ہیں۔ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗ (پس آگ اس کے وعدہ کی جگہ ہے) انجام، گھاٹ ہے۔ فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ (پس تم مت پڑو شک میں) مریۃ شک کو کہتے ہیں۔ مِّنْہُ (اس کے متعلق) اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُوْنَ (بےشک وہ برحق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ یقین نہیں کرتے)
Ayah 11:18مفتری آخرت میں دوگنا عذاب کا شکار ہوگا اور خسارہ پائے گا :
18: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اُولٓئِکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰی رَبِّھِمْ ( اور کون بڑا ظالم ہے اس سے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ان لوگوں کو اپنے رب کے ہاں پیش کیا جائے گا) موقف میں ان کو روک لیا جائے گا اور ان کے اعمال پیش کیے جائیں گے۔ وَیَقُوْلُ الْاَشْھَادُ ھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ (گواہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا) ان پر گواہ ملائکہ اور انبیاء (علیہم السلام) گواہی دیں گے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے ہیں کہ اس کے متعلق کہتے رہے کہ اس نے بیٹا اور شریک بنالیا ہے۔ اَ لَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ (خبردار اللہ تعالیٰ کی ظالموں پر لعنت ہو) جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے ہیں۔ الاشھاد ؔ جمع شاہد ہے جیسے اصحاب جمع صاحب یا شہید و اشہاد شریف و اشراف۔
Ayah 11:1919: الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے رہے) لوگوں کو اس کے دین سے پھیرتے رہے۔ وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا (اور اس میں ٹیڑھ تلاش کرتے رہے) نمبر 1۔ اس کو ٹیٹرھا بتلاتے رہے حالانکہ وہ سیدھا راستہ ہے یا۔ نمبر 2۔ اس راستے پر چلنے والوں کے متعلق ارتداد کی کوشش کرتے رہے۔ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ (اور وہ آخرت کا انکار کرنے والے تھے) دوسرا ہم تاکید کیلئے لائے تاکہ ان کا آخرت کے متعلق انکار اور خاص طور پر اس عقیدے کا انکار خوب ثابت ہوجائے۔
Ayah 11:2020: اُولٰٓئِکَ لَمْ یَکُوْنُوْا (یہ لوگ نہیں ہیں) یعنی نہیں تھے۔ مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ (زمین میں عاجز کرنے والے نہ تھے) دنیا میں اللہ کو عاجز کرنے والے نہ تھے کہ اگر وہ ان کو سزا دینا چاہے تو سزا دے (اور یہ اس سے بھاگ جائیں) وَمَاکَانَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآ ئَ (اور نہیں تھا ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی کارساز) جو ان کی دوستی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ سے ان کا بدلہ لے۔ اور اسکی پکڑ سے ان کو محفوظ کرلے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دینا چاہی اور اس دن تک عذاب کو مؤخر کردیا۔ یہ گواہوں کا کلام ہے۔ یُضٰعَفُ لَھُمُ الْعَذَابُ (ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا) کیونکہ انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین سے گمراہ کیا۔
قراءت : مکی و شامی نے یُضَعَّفُ پڑھا ہے۔ مَاکَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ (وہ سننے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ ) یعنی حق بات سننے کی وَمَاکَانُوْا یُبْصِرُوْنَ (اور نہ وہ دیکھتے تھے) حق کو۔
Ayah 11:2121: اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ (ان لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا) اس طرح کہ غیر اللہ کی عبادت کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے مقابلہ میں خرید لیا۔ وَضَلَّ عَنْھُمْ (اور ان سے گم ہوگئے) باطل ہوگئے اور ضائع ہوگیا وہ جس کو انہوں نے خریدا اور وہ مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (وہ چیز ہے جس کو وہ باندھا کرتے تھے) یعنی معبود اور ان کی شفاعت۔
Ayah 11:2222: لَاجَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ (یقینا وہ آخرت میں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں) روکنے اور رکنے کی وجہ سے۔ لاجرم میں کئی اقوال ہیں نمبر 1۔ لَاسابقہ کلام کی تردید کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے لیس الامر کما زعموا۔ معاملہ اس طرح نہیں جیسا انہوں نے گمان کیا اور جرم ؔ کا معنی کسب ہے (کمایا) اس کا فاعل ضمیر ہے اور انہم یہ محل نصب میں ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ان کے قول کی کمائی آخرت کا خسارہ ہے۔ نمبر 2۔ لا جرم ؔ یہ مرکب ہے۔ اس کا معنی حقًّا ہے۔ انہم میں اَنّ محل رفع میں حق کا فاعل ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ حق خسرانہم۔ ان کا خسارہ ثابت ہے۔ نمبر 3۔ لا جرم ؔ کا معنی بہر صورت اور بہر طور ہے۔
Ayah 11:23مؤمنوں کو جنت ملے گی :
23: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیئے اور رجوع کیا اپنے رب کی طرف) اخبتوا کا معنی اسکی طرف مطمئن ہوا اور اسکی عبادت خشوع و تواضع کے ساتھ یکسوئی سے کی۔ یہ الخبتؔ سے لیا گیا اور وہ نرم پست زمین کو کہتے ہیں۔ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں)
Ayah 11:24مومن و کافر کی مثال :
24: مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ کَالْاَ عْمٰی وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِ (دونوں گروہوں کی مثال اندھے اور بہرے اور دیکھنے اور سننے والے جیسی ہے) کافروں کو اعمیٰ اور اصم سے تشبیہ دی۔ جبکہ ایمان والے فریق کو سمیع اور بصیر سے۔ ھَلْ یَستَوِیٰنِ (کیا یہ دونوں برابر ہیں) یہ فریقین مَثَـلًا (مثال و حالت میں) مشابہت میں
نحو : یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ (کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے) کہ مثال بیان کرنے سے فائدہ اٹھاتے۔
Ayah 11:25دعوت نوح۔ :
25: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِِلٰی قَوْمِہٖٓ اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (تحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے قوم کو خطاب کر کے فرمایا) بیشک میں تمہارے لئے کھلا ڈرانے والا ہوں) انِّیْ اصل میں بِانِّیْ ہے اسلئے کہ مطلب اس طرح ہوا۔ ہم نے ان کو بھیجا کہ وہ کہہ رہے تھے۔ انی لکم نذیر مبین۔ اِنِّیْ یہ کسرہ کے ساتھ ہے۔ جب حرف جار اس کے ساتھ مل گیا تو کانّ کی طرح اس کو مفتوح پڑھیں گے اَ نِّیْ ۔
قراءت : شامی، نافع اور عاصم، حمزہ و علی نے کسرہ کے ساتھ پڑھا۔ قال کا قول قرار دیکر۔
Ayah 11:2626: اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ (تم نہ عبادت کرو مگر اللہ تعالیٰ ٰ ہی کی) اَنْ مفسرہ ہے۔ اور نمبر 1۔ ارسلنا کے متعلق ہے۔ نمبر 2۔ نذیر کے متعلق ہے۔ اِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ (مجھے ڈر ہے تمہارے متعلق در دناک دن کے عذاب کا) یوم کی صفت الیم لائی گئی اس میں اسناد مجازی ہے۔ کیونکہ دکھ اس دن میں واقع ہوا۔
Ayah 11:2727: فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَومِہٖ (پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا) ملاء سے مراد سرداران قوم ہیں کیونکہ ان کی ہیبت سے دل بھر جاتے اور مجالس پر ہوجاتیں۔ نمبر 2۔ ان کو ملاء۔ اس لئے کہا کیونکہ وہ خیالات سے بھرے ہوتے تھے۔ درست آراء سے مَانَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا (ہم تمہیں اپنے جیسا انسان خیال کرتے ہیں) انکا مقصد یہ تھا کہ پیغمبر کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ فرشتہ ہو یا بادشاہ ہو۔ وَمَانَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّاالَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا (اور ہم نہیں دیکھتے تجھے مگر کہ تیری اتباع ان لوگوں نے کی ہے جو ہم سے رذیل ہیں) کم درجہ حقیر جمع ارذل۔
دُنیا پرستوں کی رائے میں مسلمان تدبر سے خالی ہیں :
بَادِیَ الرَّاْیِ (ظاہر رائے والے) بادی کو ابوعمرونے ہمزہ سے پڑھا الرای کو بلا ہمزہ پڑھا۔ مطلب یہ ہے نمبر 1۔ تیری اتباع ظاہر رائے والوں نے کی۔ نمبر 2۔ ابتدائی رائے والوں نے کی یہ بادی بدا، یبدو، اذا ظہر سے لیا جائے۔ یا بدء یبدء جب کہ کسی چیز کو ابتداء سے کیا جائے۔
نحو : یہ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے۔ اسکی اصل یہ ہے وقت حدوث ظاہر رایہم۔ ان کی ظاہری رائے کے سامنے آنے کے وقت یا ان کی پہلی رائے۔ پس مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام رکھ دیا۔ مقصد اس بات کا یہ تھا کہ تیری اتباع انہوں نے بلا سوچے سمجھے اور غوروتدبر کئے سرسری طور پر کرلی ہے۔ اگر وہ سوچتے تو تیری اتباع نہ کرتے۔ درحقیقت انہوں نے ایمان والوں کو اسلئے رذیل قرار دیا کیونکہ وہ غریب اور اسباب دنیویہ میں ان سے کم تھے۔ کفار اپنی جہالت کی وجہ سے دنیا کو اپنا قبلہ مقصود سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک معزز وہ تھا جس کے پاس مال ہو، جیسا کہ اس دور میں اسلام میں اشتباہ رکھنے والے لوگ خیال کرتے ہیں حالانکہ ان کو غلطی لگی کیونکہ دنیا میں ترقی کسی کو اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرسکتی۔ بلکہ دور کرتی ہے۔ بلند نہیں کرتی بلکہ گراتی ہے۔
وَمَا نَرٰی لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ (ہم نہیں دیکھتے تم میں اپنے اوپر کوئی بزرگی) مال میں اور رائے میں کُمْ سے نوح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین مراد ہیں۔ بَلْ نَظُنُّکُمْ کٰذِبِیْنَ (بلکہ ہم تمہیں جھوٹا گمان کرتے ہیں) یعنی نوح (علیہ السلام) کو دعوت میں۔ اور ان کے متبعین کو تصدیق میں۔ یعنی تم نے دعوت وا جابت میں ایک دوسرے کی موافقت حکومت حاصل کرنے کیلئے کی ہے۔
Ayah 11:2828: قَالَ یٰـقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ (کہا اے میری قوم تم مجھے بتلائو) خبر دواِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ (اگر میں ہوں دلیل پر) مِّنْ رَّبِّیْ (اپنے رب کی طرف سے) ٰ اور اسکی طرف سے ایک گواہ بھی اسکی شہادت دیتا ہے کہ میں اپنے دعوٰی میں سچا ہوں۔ وَاٰتٰنِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ (اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت دی ہے۔ ) اور رحمت سے مراد نبوت ہے۔ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ (پس وہ تم پر مخفی کردی گئی) یعنی مخفی رہے تم پر۔
قراءت : حمزہ، علی و حفص کی قراءت یہ ہے اور عَمِیَت، نافع، ابن کثیرابن عامر کی قراءت میں ہے۔
مطلب یہ ہے تم پر دلیل مخفی ہوگئی اور اس دلیل نے تمہاری راہنمائی نہیں کی۔ جیسا کہ اگر قوم کا راہنما چھپ جائے تو وہ جنگل میں بغیر ہادی کے پڑے رہتے ہیں۔ اسکی حقیقت یہ ہے کہ دلیل جسطرح دیکھی جانیوالی اور سامنے کی چیز ہے۔ اسی طرح اندھی اور پوشیدہ بھی ہے۔ کیونکہ اندھا راہ پا نہیں سکتا اور نہ غیر کی راہنمائی کرسکتا ہے۔ اَنُلْزِمُکُمُوْھَاوَاَنْتُمْ لَھَا کٰرِھُوْنَ (کیا وہ تمہارے سر تھوپ دیں اس حال میں کہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو) ھاؔ سے مراد رحمت ہے۔ کارھون کا معنی تم چاہتے نہیں ہو۔ اس میں وائو میم کی تکمیل کیلئے لائی گئی ہے۔
قراءت : ابو عمرو نے سکون میم سے پڑھا ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ حرکت اختلاس و تخفیف کے طور پر ہوتی ہے۔ مگر راوی نے اس کو سکون خیال کیا۔ حالانکہ سکون کی صورت میں یہ لحن بن جاتی ہے۔ کیونکہ حرکت اعرابیہ ضرورت شعری میں ڈالی جاتی ہے۔
Ayah 11:2929: وَیٰقَوْمِ لَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ (اور اے میری قوم میں تم سے اس پر نہیں مانگتا) تبلیغ رسالت پر۔ کیونکہ انی لکم نذیر کا مدلول یہی ہے۔ مَالًا (مال) یعنی بدلہ جس کی ادائیگی تم پر گراں ہو رہی ہو۔ اگر تم ادا کرو یا مجھ پر اگر تم انکار کرو۔ اِنْ اَجْرِیَ (نہیں ہے میری مزدوری)
قراءت : مدنی، شامی، ابو عمرو، حفص نے نصب یا سے پڑھا ہے۔
اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (مگر اللہ تعالیٰ پر اور میں ان لوگوں کو ہٹانے والا نہیں ہوں جو ایمان لائے ہیں) یہ کفار کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ان غرباء کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے ان کو نکال دو تو تب تمہارے پاس بیٹھیں گے تو ان کے جواب میں فرمایا مَآ اَنَا (الاٰیۃ) وَلٰکِنّیْ اَرٰکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ (لیکن میں تمہیں جاہل قوم خیال کرتا ہوں) تم مسلمانوں پر بیوقوفی کا الزام دھرتے اور ان کو رذیل کہہ کر پکارتے ہو یا تم اپنے رب کی ملاقات سے جاہل و بیخبر ہو۔ یا اس سے تم جاہل ہو کہ وہ تم سے بہت بہتر ہیں۔
Ayah 11:3030: وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ (اے میری قوم کون میری مدد کرے گا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کیلئے) یعنی اس کے انتقام سے کون بچائے گا۔ اِنْ طَرَدْتُّھُمْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ (اگر میں نے ان کو اپنے ہاں سے نکال دیا کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے ہو) تذکرہ کا معنی وعظ و نصیحت حاصل کرنا۔
Ayah 11:3131: وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّّٰہِ (اور نہ میں کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں) کہ مالداری کی وجہ سے تم پر مالداری کا دعوٰی کروں یہانتک کہ تم یہ کہہ کر میری فضیلت کا انکار کرو۔ مانری لکم علینا من فضل (ہود۔ 27) (ہم تم میں اپنے سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں دیکھتے) وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ (اور نہ میں غیب جانتا ہوں) یہاں تک کہ مجھے اطلاع ہوجائے دلوں کے اندر اور نفوس میں جو میری اتباع ہے۔ (تمہارے ظاہر کرنے سے معلوم ہوگی) اس کا عطف عندی خزائن اللّٰہپر ہے۔ ای لا اقول عندی خرائن اللہ ولا اقول انا اعلم الغیب، وَلَا اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَکٌ (نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں) یہاں تک کہ تمہیں کہنا پڑے کہ تو تو ہمارے جیسا انسان ہے ماانت الابشرٌ مثلنا [ الشعراء : 154] وَّلَااَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْ اَعْیُنُکُمْ (اور نہ میں کہتا ہوں ان لوگوں کو جن کو تمہاری آنکھیں حقیر قرار دیتی ہیں) میں حکم نہیں لگاتا ان ایمان والوں پر جن کو تم فقر کی وجہ سے حقیر قرار دیتے ہو لَنْ یُّؤْتِیَھُمُ اللّٰہُ خَیْرًا (کہ ہرگز اللہ تعالیٰ ان کو کوئی بھلائی نہ دے گا) دنیا اور آخرت میں اس کے ہاں ذلیل ہونے کی وجہ سے اور تمہاری معاونت اور تمہاری خواہشات کی مطابقت کرتے ہوئے۔۔ اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ اَنْفُسِھِمْ ( اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جو ان کے دلوں میں ہے) سچا اعتقاد، بیشک میرے ذمہ تو ظاہری اقرار کو قبول کرنا ہے کیونکہ میں ان کے مخفی اسرار کی اطلاع نہیں پاسکتا۔ اِنِّیْ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ (بیشک میں اس وقت ہوجائونگا ظالموں میں سے) اگر میں ان میں سے کوئی چیز اپنے متعلق کہوں۔ الازدراء یہ زری علیہ سے باب افتعال ہے اس کے معنی عیب لگانا ہے اور اس کا اصل تزتری ہے تا کو دال سے بدل دیا گیا ہے۔
Ayah 11:3232: قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جَادَلْتَنَا (انہوں نے کہا اے نوح تو نے ہم سے مجادلہ کیا) ہم سے مخاصمت کی فَاَکْثَرْتَ جِدَالَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ (تو نے ہم سے بہت جھگڑا کیا پس تو لے آجس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) یعنی عذاب اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر تو سچا ہے) اپنے وعدے میں۔
Ayah 11:3333: قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ بِہِ اللّٰہُ اِنْ شَآئَ (کہا بیشک وہ اللہ تعالیٰ تم پر لائیں گے اگر وہ چاہیں گے) عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں۔ وہ اس کے اختیار میں ہے جس کا تم انکار کرتے ہو۔ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ (اور تم اسکوعاجز کرنے والے نہیں ہو) یعنی تم اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتے۔
Ayah 11:3434: وَ لَایَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْ (اور تمہیں میری نصیحت فائدہ نہ دے گی) اس میں گمراہی کے مقام کی نشاندہی کی گئی تاکہ اس سے بچا جائے اور رشد کی راہنمائی کی گئی تاکہ اسکی پیروی کی جائے
قراءت : ابو عمرو اور مدنی نے ولکنّیَ ، اِنیَ نُصْحِیَ پڑھا ہے۔
اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَکُمْ اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَکُمْ ۔ (اگرچہ میں تمہاری خیر خواہی کا ارادہ کروں اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے گمراہ کرنے کا ہو) یغویکمکا معنی گمراہ کرنا ہے۔
یہ شرط شرط پر داخل ہے۔ پس دوسری شرط حکم میں مقدم ہوگی جیسا کہ معروف و معلوم ہے تقدیر عبارت یہ ہے ان کان یرید ان یغویکم لاینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں گمراہ کرنا چاہیں تو میری نصیحت تمہارے کچھ کام نہیں آسکتی خواہ میں تمہاری خیر خواہی کا ارادہ کروں ( کیونکہ واللہ غالب علی امرہ، لا معقب لحکمہٖ )
نکتہ : ارادہ معاصی کے متعلق یہ ہماری واضح دلیل ہے۔
ھُوَ رَبُّکُمْ (وہ تمہارا رب ہے) پس وہ تم میں اپنے ارادہ کے فیصلہ کے مطابق تصرف کرتے ہیں وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور اسی کی طرف تمہیں لوٹا یا جائے گا) پس وہ تمہارے اعمال پر تمہیں بدلہ دے گا۔
Ayah 11:3535: اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ (کیا وہ کہتے ہیں اس کو گھڑ لیا ہے) اَمْ ، ہَلْکے معنی میں ہے ہمزہ استفہام کا محذوف ہے، بلکہ کیا وہ کہتے ہیں اس کو گھڑ لیا ہے۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ (کہہ دیں اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو مجھ پر میرا جرم) یعنی اگر صحیح ہے کہ میں نے افتراء کیا ہے تو مجھ پر میرے جرم کی سزا ہے یعنی افتراء کی۔ کہا جاتا ہے : اجرم الرجل، اذا اذنب۔ جب وہ گناہ کرے۔ وَاَنَا بَرِیْ ئٌ (اور میں بری ہوں) یعنی یہ بات ثابت نہیں اور میں اس سے بریٔ الذمہ ہوں مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ تمہارے اس جرم سے کہ میری طرف افتراء کی نسبت کرتے ہو۔ پس تمہاری دشمنی اور اعراض کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
Ayah 11:36ان کے ایمان کی توقع نہ کریں :
36: وَاُوْحِیَ اِلٰی نُوْحٍ اَنَّہٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّامَنْ قَدْ اٰمَنَ (اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ ہرگز تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا) ان کے ایمان سے ناامیدی کا اظہار کیا گیا اور اس بات کا بھی کہ ان کے ایمان کی توقع چھوڑ دیں۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ ایمان کیلئے تجدد کا حکم ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ بیشک جو ایمان لایا ہے وہ ایمان لاتا ہے نئے وقت میں اور ایمان بالقرآن میں جس اضافہ کا ذکر ہے اسکا مطلب بھی تجدید ایمان اور پختگی ایمان لیا جائے گا۔ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوْایَفْعَلُوْنَ (پس تو رنجیدہ نہ ہو جو کچھ وہ کررہے ہیں) تو غمزدہ پریشان کی طرح غمزدہ نہ ہو۔ الا بتیاس یہ البؤس سے افتعال ہے۔ اس کا معنی غم و فقر ہے۔ اب آیت کا یہ مطلب ہوا۔ انہوں نے تیری جو تکذیب کی ہے اس پر غمزدہ نہ ہو اور جو تمہیں تکلیف پہنچائی اس پر رنجید نہ ہو، تیرے دشمنوں سے انتقام لے گا۔
Ayah 11:37کشتی بنائو :
37: وَاصْنَعِِ الْفُلْکَ بِاَ عْیُنِنَا (تو ہماری نگرانی میں کشتی بنا) یہ موضع حال میں ہے۔ یعنی اس کو بنا اس حال میں کہ وہ محفوظ ہو۔ اور حقیقۃً یہ ملتبسا باعیننا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ نگران مقرر تھے جو اس بات کی نگرانی کرتے تھے کہ اس کی بناوٹ میں کوئی خرابی پیدا نہ ہونے پائے۔ وَوَحْیِنَا (اور ہماری وحی سے) پس ہم تیری طرف وحی کو الہام کرتے ہیں کہ تم نے کس طرح اس کام کو انجام دینا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہیں کشتی کی صنعت معلوم نہ تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ پرندے کے سینے کی طرح۔
وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (اور مت مجھے خطاب کرنا ان لوگوں کے متعلق جو ظالم ہیں) اپنی قوم کی حالت کے متعلق تم مجھے نہ پکارنا اور نہ عذاب کے دور کرنے کی شفاعت کرنا۔ اِنَّھُمْ مُّّّغْرَقُوْنَ (بیشک ان کو ہم ڈبوئیں گے) ان پر غرق کا حکم لگ چکا اور فیصلہ ہوچکا۔ قلم خشک ہوچکے اب اس کے رکنے کا کوئی راستہ نہیں۔
Ayah 11:3838: وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ (وہ کشتی بنا رہے تھے) ماضی کی حالت کو بیان کیا گیا ہے۔ وَکُلَّمَا مَرَّعَلَیْہِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِہٖ سَخِرُوْا مِنْہُ (جب بھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے سردار گزرتے تو ان سے وہ تمسخر کرتے) کشتی بنانے پر وہ پانی سے دور جنگل میں بنا رہے تھے۔ پس وہ ان پر ہنستے اور کہتے اے نوح ! تو پیغمبر بننے کے بعد بڑھئی بن گیا ہے۔ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ (نوح (علیہ السلام) کہتے ہیں اگر تم ہم سے مذاق کرتے ہو تو ہم بھی تم سے مذاق کریں گے) جب تمہاری ہلاکت کو دیکھیں گیکَمَا تَسْخَرُوْنَ ( جیسا تم مذاق اڑاتے ہو) ہمارا کشتی بنانا دیکھ کر۔
کشی نوح ‘ عرض و طول :
روایت میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ساج کی لکڑی سے دو سال میں کشتی تیار کی۔ اسکی لمبائی تین سو ہاتھ تھی یا 1002 ہاتھ اسکی چوڑائی 50 ہاتھ یا 600 ہاتھ۔ بلندی 30 ہاتھ، اس کے تین طبقات بنائے۔ سب سے نچلے حصے میں وحشی جانور، درندے، حشرات الارض۔ درمیانے طبقے میں چوپائے، پالتوں جانور، تیسری بالائی منزل میں نوح (علیہ السلام) بمع ایمان والوں کے اور زاد راہ سمیت سوار ہوئے اور آدم (علیہ السلام) کا جسد بھی ساتھ لیا اور اس کو مردوں اور عورتوں کے درمیان روک بنادیا۔
Ayah 11:3939: فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ مَنْ یَّاْ تِیْہِ (اور عنقریب تم جان لو گے کہ جس کے پاس عذاب آئیگا) تعلمون کی وجہ سے من یاتیہمحل نصب میں ہے۔ ای فسوف تعلمون الذی یا تیہ۔ عنقریب تم جان لوگے اس کو جس پر عذاب آئے گا۔ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ عذاب اس کو رسواء کر دے گا۔ یعنی ان کو عذاب غرق سے دنیا میں رسوا کر دے گا۔ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ (اور اس پر اتر پڑے گا) نازل ہوگا۔ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ (قائم رہنے والا عذاب) اور وہ عذاب آخرت ہے۔
Ayah 11:4040: حَتّٰی (یہاں تک کہ) نحو : یہ ابتداء کلام میں آتا ہے۔ یہ شرط و جزاء والے جملے پر داخل ہوتا ہے۔ یصنع الفلک کی غایت ہے یعنی وہ کشتی بناتے رہے یہاں تک کہ وہ وعدہ کا وقت آگیا۔ درمیان والا کلام یصنع سے حال ہے یعنی یصنعھا والحال انہ کلما مر علیہ ملاء من قومہ سخروا منہ آپ کشتی بنا رہے تھے حالت یہ تھی کہ جب بھی آپ کی قوم کے سردار آپ کے پاس سے گزرتے تو وہ آپ سے مذاق کرتے۔ اور کلماؔ کا جواب سخرواہے اور قال ؔ یہ جملہ مستانفہ ہے اس کو سوال مقدر کے جواب میں لایا گیا ہے۔ یا قال سخروا کے جواب میں ہے۔ اور سخروا یہ مَرَّؔ کا بدل ہے یا ملاء کی صفت ہے۔
عذاب آن پہنچا :
اِذَا جَآئَ اَمْرُنَا (جب ہمارا حکم آگیا) امر سے عذاب مراد ہے۔ وَفَارَ التَّنُّوْرُ (اور تنور نے جوش مارا) یہ معاملے کی سختی اور صعوبت سے کنایہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ روٹی کے تنور سے پانی نے جوش مارا۔ یہ پتھروں کا تنور تھا جس کو حواء نے بنایا تھا۔ اس زمانہ سے نوح (علیہ السلام) تک پہنچا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تنور، سطح زمین کو کہتے ہیں۔ قُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا (ہم نے کہا اس میں سوار کرو) یعنی کشتی میں مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ (ہر جوڑے میں سے دو دو) اسکی تفسیر سورة المومنون میں ہے۔ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ (اور اپنے اہل کو مگر وہ جنکے بارے میں بات پہلے کہی جاچکی) اس کا عطف اثنین پر ہے اور اسی طرح ومن اٰمنکا بھی وَمَنْ اٰمَنَ (اور وہ جو ایمان لائے) ۔ یعنی سوار کرو تم اپنے اہل کو اور غیر میں سے ایمان والوں کو اہل سے من سبق علیہ القول کو مستثنیٰ کردیا۔ اس لئے کہ وہ اہل نار میں سے ہے اور اس کے متعلق بات پہلے اس لئے کہہ دی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق جانتے ہیں کہ وہ کفر کو اپنے ارادہ و تقدیر سے اختیار کریں گے اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند وبالا ہے۔ کہ کائنات میں اس کے ارادہ کے خلاف کوئی چیز و قوع پذیر ہو۔
وَمَآ ٰامَنَ مَعَہٗ اِلَّا قَلِیْلٌ (اور ان پر ایمان نہ لائے مگر بہت قلیل) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کی تعداد آٹھ تھی۔ نوح اور ان کے گھر والے، ان کے تین بیٹے اور ان کی بیویاں (یہ روایت مرفوعا ثابت نہیں ہے۔ ابن حجر) ایک قول یہ ہے وہ دس تھے پانچ مرد اور پانچ عورتیں۔ نمبر 3۔ ایک قول بہتر مرد اور عورتیں اور اولاد نوح (علیہ السلام) سام ھام، یافث اور ان کی بیویاں اس طرح کل تعداد 78 ہوگئی آدھے مرد اور آدھی عورتیں۔