Ayah 10:1آپ کی نبوت قابل تعجب کیوں ہے ؟
1، 2: الٓرٰ اور ان کی مثل ایمالہ ہے حمزہ، علی اور ابوعمرو رحہم اللہ کے نزدیک۔ یہ حروف تحدّی کیلئے شروع سورة میں لائے گئے ہیں۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ (جو اس کتاب کی آیتیں ہیں) تلک سے اشارہ ان آیات کی طرف ہے جو سورت میں پائی جاتی ہیں الکتاب سے یہ سورة مراد ہے۔ الْحَکِیْمِ (جو پر حکمت ہے) نمبر 1۔ حکمتوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے کتاب کی صفت حکیم لائی گئی ہے۔ نمبر 2۔ کذب اور من گھڑت ہونے سے محفوظ ہے۔ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا (کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا) اس میں ہمزہ استفہام انکاری تعجبی ہے۔ لوگوں کے اس کے متعلق تعجب کرنے پر انکار و تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔
نحو : اَنْ اَوْحَیْنَآ (کہ ہم نے وحی بھیج دی) یہ کان کا اسم اور عجبًا اسکی خبر ہے اور للناس کا لام محذوف کے متعلق ہے جو کہ عجبًا کی صفت ہے جب وہ مقدم ہے تو حال بن گیا۔ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِالنَّاسَ (انہی میں سے ایک شخص کے پاس کہ سب آدمیوں کو ڈرائے) ۔ نمبر 1۔ انؔ سے پہلے با ؔ مقدر ہے بان انذر۔ نمبر 2۔ ان مفسرہ ہے کیونکہ ایحاء میں قول کا معنی پایا جاتا ہے۔ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَھُمْ (اور ایمان والوں کو خوشخبری سنائے کہ ان کو) اَنَّ سے پہلے بامحذوف ہے بانَّ لھم۔ للناس میں لام کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اس بات کو ایک عجوبہ قرار دیا جس پر وہ تعجب کرتے تھے کہ ایک انسان کی طرف وحی آئی اور وہ انسان بھی ایسا جو ان کے متوسط طبقے میں سے ہے نہ کہ ان کے مالدار سرداروں میں سے۔ اسی لئے وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو رسالت کے لئے ابوطالب کے یتیم بھتیجے کے سواء اور کوئی نہ ملا۔ اور وہ آگ سے ڈراتا اور جنت کی خوشخبری سناتا ہے۔ حالانکہ ان باتوں میں سے کوئی بھی تعجب انگیز نہیں ہے کیونکہ امم کی طرف مبعوث رسل انہی جیسے انسان ہوتے ہیں اور یتیم اور بےمایہ کا بھیجنا بھی تعجب خیز نہیں۔ کیونکہ نبوت کیلئے وہ منتخب کیا جاتا ہے۔ جو اسباب نبوت کا جامع ہو اور مالداری اور دنیا میں مرتبہ و درجہ والا ہونا یہ اسباب نبوت سے قطعًا نہیں ہے اور جزاء اور سزا کیلئے دوبارہ اٹھانا یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت عظمیٰ کا تقاضہ ہے پس یہ کیونکر قابل تعجب ہوا ؟ بلکہ تعجب انگیز اور قابل انکار تو صحیح عقل و فکر میں جزاء کا انکار ہے۔
Ayah 10:2قدم صدق کی مراد :
قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ (پورا مرتبہ ملے گا ان کے رب کے ہاں) نمبر 1۔ قدمؔ کا معنی سابقیت اور فضیلت اور بلند مرتبہ و مقام ہے۔ کیونکہ تگ و دو اور سبقت قدم سے حاصل ہوتی ہے اس لئے اچھی کوشش اور اس کے مقام اور اس میں سابقیت کو قدمؔ سے تعبیر فرمایا گیا۔ جیسا کہ نعمت ؔ کو ید، باع کہتے ہیں کیونکہ وہ مال ہاتھ سے ادا کیا جاتا ہے اور دینے والا اپنے بازو اس کے لئے دراز کرتا ہے محاورہ میں کہتے ہیں۔ لفلان قدم فی الخیر۔ قدمؔ کی نسبت صدق کی طرف کر کے زیادت فضل کی طرف اشارہ کردیا۔ اور یہ بتلا دیا کہ یہ عظیم انعامات سے ہے۔ نمبر 2۔ قدم کا معنی مقام صدق ہے۔ نمبر 3۔ سعادت میں سبقت کا میسر آنا مراد ہے۔ قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَالَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ (کافر کہنے لگے بلاشبہ یہ تو کھلا جادوگر ہے)
قراءت : مدنی، بصری، شامی نے لَسِحْرٌ پڑھا ہے۔ جنہوں نے لَسَاحِرٌ پڑھا ہے۔ اس سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مراد لی ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ وہ لوگ اس بات سے عاجز تھے کہ آپ کو کاذب و ساحر ثابت کرسکیں اور آپ کے سچے ہونے کے معترف تھے۔
Ayah 10:3قضاء و قدر کا وہی مالک :
3: اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا فرمایا پھر عرش پر قائم ہوا) استویکا معنی استیلاء و غلبہ ہے کیونکہ دَیَّان مکان سے پاک اور معبود حدود سے وارء الوراء ہے۔
یُدَبِّرُ (وہ تدبیر کرتا ہے) حکمت کے مطابق اندازہ کرتا اور فیصلہ فرماتا ہے۔ الْاَمْرَ (ہر کام کی) تمام مخلوقات کا معاملہ اور آسمان زمین اور عرش کا معاملہ۔ اولًا اللہ تعالیٰ کی عظمت و ملکیت کا تذکرہ آسمان و زمین اور عرش کی پیدائش سے کیا۔ اور پھر یدبر الامرکا جملہ لا کر عظمت کو مزید واضح کردیا۔ اور یہ بتلادیا کہ اسکی شان یہ ہے کہ قضاء وقدر کا کوئی امر ان کے حکم سے باہر نہیں ہے۔ اسی طرح مَامِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْم بَعْدِ اِذْنِہٖ (کوئی سفارش کرنے والا نہیں بغیر اس کی اجازت کے) میں اللہ تعالیٰ کی عزت وکبریائی کی دلیل مزید دے دی ذٰلِکُمُ (ایسا) اس سے اشارہ عظمتوں کے ساتھ متصف ذات کی طرف کیا جو عظمتیں مذکور ہوئیں۔ اللّٰہُ رَبُّکُمْ (اللہ تمہارا رب ہے) وہی تو مستحق عبادت ہے فَاعْبُدُوْہُ (پس تم اسی کی عبادت کرو) اس کو وحد ہٗ لا شریک جانو اور اسکی مخلوقات میں سے انسان اور فرشتوں کو بھی اس کا شریک مت بنائو۔ چہ جائیکہ وہ جمادات بت وغیرہ جو ذرہ بھر نفع و نقصان پر بھی قدرت نہیں رکھتے اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ (کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے) کیا تم تدبر نہیں کرتے کہ جس سے تم مصالح اور منافع کے پائے جانے سے نافع و مصلح کی ذات پر استدلال کرسکو۔
Ayah 10:44: اِلَـیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا (تم تمام نے اسی ہی کی بارگاہ میں لوٹنا ہے) جمیعًا حال ہے مطلب یہ ہے کہ تم بالآخر اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ پس اسکی ملاقات کی تیاری کرلو۔ نمبر 1۔ المرجع ؔ کا معنی رجوع کرنا۔ نمبر 2۔ رجوع کی جگہ وَعْدَ اللّٰہِ (اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے) یہ الیہ مرجعکم کیلئے مصدر بطورتاکید لایا گیا ہے۔ حَقًّا (سچا) یہ وعد اللہ کیلئے مصدر مؤکد ہے۔۔ اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا) یہ جملہ مستانفہ ہے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کی علت بیان کرنا ہے۔
شرک نہ کرنے والے منصف ہیں :
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ جزاء دے) یعنی تخلیق اور اعادہ کی حکمت یہ ہے کہ مکلفین کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔ بِالْقِسْطِ (انصاف کے ساتھ)
نحو : بالقسط یہ یجزی کے متعلق ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے لیجز یھم بقسطہ۔ نمبر 1۔ تاکہ اپنے انصاف سے انکو بدلہ دے اور انکو انکا پورا پورا اجر عنایت کرے یا نمبر 2۔ ان کے انصاف کا بدلہ دے۔ یعنی جو انہوں نے انصاف اور عدل کیا اور ظلم نہ کیا۔
جبکہ وہ ایمان لائے اسلئے کہ شرک بڑا ظلم ہے جیسا کہ (سورئہ لقمان 13) میں فرمایا ان الشرک لظلم عظیم اور یہ وجہ سب سے بہتر ہے کیونکہ اس ارشاد کے مقابلہ میں وارد ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عََذَابٌ اَلِیْمٌ 7 بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ (اور جن لوگوں نے کفر کیا انکو کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور درد ناک عذاب ہوگا انکے کفر کی وجہ سے) اور میرا کلام بھی ایک وجہ ہے۔
Ayah 10:5نمونہ قدرت :
5: ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآئً (وہی ذات جس نے سورج کو تیز روشنی والا بنایا) یہ ضوء سے ضیاء بنا ہے۔ ضیاء میں یاؔ اصل میں وائو ہے ماقبل کسرہ کی وجہ سے یا ؔ بنی ہے۔ اور ہمزہ سے قبل یہ تبدیلی لائی گئی کیونکہ یا حرکت کیلئے زیادہ مناسب ہے۔
دوسرا نمونہ :
وَّالْقَمَرَ نُوْرًا (اور چاند کو نورانی بنایا) ضیاء ؔ، نور کی بنسبت تیز روشنی کو کہتے ہیں۔ اسی لئے چاند کے لئے نور (دھیمی روشنی) اور سورج کیلئے ضیاء (تیز روشنی) کا لفظ لایا گیا وَّ قَدَّرَہٗ َمنَازِلَ (اور اس کے لئے مقرر کردیا منازل کا اندازہ) اور چاند کا اندازہ کیا یعنی اس کے چلنے کی منازل مقرر فرمائیں۔ نمبر 2۔ ذامنازل۔ اس کو منازل والا بنایا۔ جیسا کہ سورت یسؔ 39۔ میں فرمایا والقمر قدرناہ منازل۔
لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ (تاکہ تم سالوں کی گنتی جان لو) یعنی سالوں کی تعداد اور مہینوں کی، ذکر صرف سنین کا فرمایا کیونکہ مہینے ان میں خود شامل ہیں وَالْحِسَابَ (اور حساب کو) اور مدتوں کا حساب اور مقررہ اوقات سالوں اور مہینوں کے ساتھ مَاخَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ ذلک کا مشارالیہ مذکورہ چیزیں ہیں ( کہ اللہ تعالیٰ نے ان مذکورہ چیزوں کو نہیں بنایا) اِلَّا بِالْحَقِّ (مگر حق کے ساتھ) اس حکمت بالغہ سے یہ متصل ہیں۔ بےکار پیدا نہیں کئے گئے۔ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ (وہ نشانات کو کھول کر بیان کرتا ہے)
قراءت : مکی، بصری، حفص نے یا سے پڑھا جبکہ دیگر قراء نے نون سے پڑھا ہے۔ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (جاننے والے لوگوں کیلئے) پس وہ ان میں غور کر کے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 10:6نمونہ نمبر 3:
6: اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ (بیشک رات دن کے آگے پیچھے آنے میں) نمبر 1۔ ان میں سے ہر ایک کے دوسرے کے پیچھے آنے میں۔ نمبر 2۔ ان کے باہمی رنگوں کے مختلف ہونے میں۔ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور ان چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں) یعنی تمام مخلوقات میں لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ (بڑے دلائل ہیں ان لوگوں کیلئے جو ڈرتے ہیں) ڈرنے والوں کا خاص طور پر تذکرہ فرمایا کیونکہ آخرت کا کھٹکا اور ڈر انہی لوگوں کو ہے پھر یہ ڈران کو غور وفکر کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔
Ayah 10:7دنیا پر خوش اور آخرت سے غافل آگ میں :
7: اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآ ئَ نَا (جن لوگوں کو ہمارے سامنے پیش ہونے کا ڈر کھٹکا نہیں ہے) نمبر 1۔ بالکل اسکی توقع ہی نہیں رکھتے۔ اور نہ ہی اس کا خیال اپنے دلوں میں لاتے ہیں کیونکہ حقائق کو سمجھنے سے وہ غفلت کا شکار ہیں۔ یا نمبر 2۔ ہماری بہتر ملاقات کی امید نہیں کرتے جیسا کہ سعادت مند لوگ امید کرتے ہیں۔ یا نمبر 3۔ ہمارے سامنے بری حاضری سے نہیں ڈرتے۔ وہ بری ملاقات جس سے ڈرنا ضروری ہے۔
وَرَضُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں) آخرت کے مقابلہ میں اور انہوں نے قلیل فانی کو کثیر باقی پر ترجیح دی ہے۔ وَاطْمَاَنُّوْا بِھَا (اسی پر مطمئن ہیں) وہ اس میں اس طرح رہ رہے ہیں جیسے اس سے زائل نہ ہونگے اسی لئے انہوں نے مضبوط تعمیرات کی ہیں اور لمبی امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْن (اور جو لوگ کہ ہمارے دلائل سے غفلت برتنے والے ہیں) ان میں سوچ و بچار نہیں کرتے۔
نحو : اس پر وقف نہیں کیونکہ اِنَّ کی خبر اُولٰٓئِکَ مَاْوٰھُمُ النَّارُ ہے۔
Ayah 10:88: اُولٰٓئِکَ مَاْوٰھُمُ النَّارُ (ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے)
نحو : اُولٰٓئِکَ مبتداء اول، ماوھم مبتدا ثانی النار اسکی خبر اور دونوں مل کراولٰٓئِکَکی خبر اور یہ ان کی خبر ہے۔ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (اس کمائی کے بدلے میں جو وہ کماتے تھے) بما کی باؔ کا متعلق جو زوا ؔ محذوف کلام اس پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 10:9جنت ایمان سے ملی :
9: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَھْدِیْھِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے انکا رب ان کو ان کے ایمان کی وجہ سے ان کے مقصد تک پہنچائے گا) ان کے ایمان کے سبب ان کا رب ان کو ثواب تک پہنچانے والا ہے کیونکہ انہوں نے سیدھے راستہ پر استقامت اختیار کی۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَ نْھٰرُ (اس کے نیچے نہریں جاری ہونگی) اس کا بیان اور تفسیر ہے۔ کیونکہ سعادت کے سبب کو مضبوطی سے تھام لینا یہ سعادت تک پہنچنے کی طرح ہی ہے۔ نمبر 2۔ آخرت میں جنت کے راستہ کی طرف ان کے نور ایمان کے سبب ان کی راہنمائی کرے گا۔ اور اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے ان المومن اذا خرج من قبرہ صوّرلہ عملہ فی صورۃ حسنۃ۔ فیقول لہ انا عملک فیکون لہ نورا و قائداً الی الجنۃ والکافر اذاخرج من قبرہ صوّرلہ عملہ فی صورۃ سیئۃ فیقول لہ انا عملک فینطلق بہ حتی یدخلہ النار (ابن جریر فی الطبری) کہ مومن کا عمل اچھی شکل میں جنت کا راہنما ہوگا اور کافر کا عمل بری شکل میں جہنم کا راہنما بنے گا۔
نحو : اس میں اس بات کا ثبوت ہے کہ مجرد ایمان نجات کا باعث ہے اسی لئے بایمانہم فرمایا گیا۔ عمل صالح کو اس کے ساتھ نہیں ملایا۔ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (نعمتوں والے باغات میں) یہ نمبر 1۔ تجری کے متعلق ہے نمبر 2۔ الانھارؔ سے حال ہے۔
Ayah 10:10جنت والوں کی دعا وسلام :
10: دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ ( ان باغات میں ان کی پکار ہوگی اے اللہ تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے) دعوٰی یہاں دعا کے معنی میں ہے کیونکہ اللّٰھم نداء ہے کہ اے اللہ ہم آپ کی تسبیح کرتے ہیں یعنی سبحانک اللّٰھم کہہ کر وہ اپنے رب کو پکاریں گے یہ ذکر الہٰی تلذذ کیلئے ہوگا عبادت کیلئے نہیں۔ وَتَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ ( اور سلام آپس میں السلام علیکم ہوگا) نمبر 1۔ سلام سے وہ ایک دوسرے کو مبارک باد دیں گے۔ نمبر 2۔ فرشتے اس طرح ان کو سلام کریں گے گویا مصدر کی اضافت مفعول کی طرف ہے۔ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کا ان کو سلام ہوگا۔ واٰخِرُ دَعْوٰھُمْ (اور ان کی آخری بات) اور ان کی دعا کا اختتام تسبیح ہوگی۔ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (کہ سب تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں) وہ کہیں گے الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ یہ ان ؔ مخففہ من المثقلہ ہے اور اصل عبارت یہ ہے انہ الحمدللہ رب العالمین۔ یہ ہٗ ضمیر شان ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کے کلام کی ابتداء تسبیح اور آخر تحمید سے ہوگی پس اللہ تعالیٰ کی تعظیم و تقدیس سے ابتداء کر کے شکر وثناء پر اختتام ہوگا۔ اور اس کے درمیان میں اپنے ارادے سے جو گفتگو چاہیں گے وہ کریں گے۔
Ayah 10:11جلد عذاب نہ آنے میں حکمت :
11: وَلَوْ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَیْرِ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر برائی بھیجنے میں جلدی کیا کرتا جیسا لوگ بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں) اصل اس طرح ہے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو شر بھی اس طرح جلدی پہنچا دیتے جیسا وہ بھلائی میں جلدی مانگتے ہیں۔ پس آیت میں استعجال بالخیر کو تعجیل خیر کی جگہ رکھ کر اس کے جلد قبول ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ہم سے مراد اہل مکہ ہیں۔ استعجال سے ان کے قول فامطر علینا حجارۃ من السمآء۔ [ الا نفال : 32] کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہم ان کو شر بھی جلدی سے پہنچا دیں جیسا کہ ہم خیر ان کو جلدی دیتے اور اس سلسلہ میں ان کی دعا قبول کرتے ہیں۔ لَقُضِیَ اِلَیْھِمْ اَجَلُھُمْ (تو ان کا وقت مقررہ کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا) تو وہ مرچکے اور ہلاک ہوچکے ہوتے۔
قراءت : لَقَضٰی اِلَیْھِمْ اَجَلَہُمْ شامی نے معروف پڑھا۔ اور فاعل اللہ تعالیٰ کی ذات کو بنایا ہے۔
فَنَذَ رُ الَّذِیْنَ لَایَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا فِیْ طُغْیَانِہِمْ ( پس ان لوگوں کو جو ہمارے پاس آنے سے ڈر نہیں رکھتے ان کے حال پر چھوڑتے ہیں وہ اپنی سرکشی میں) یعنی اپنے شرک اور گمراہی میں یَعْمَہُوْنَ (حیران ہیں) یعنی متردد ہیں۔ ماقبل سے اس کے اتصال کی وجہ یہ ہے کہ لو یعجل اللہ کا ارشاد تعجیل کی نفی کو اپنے اندر شامل کرنے والا ہے۔ گویا تقدیر اس طرح ہے ولا تعجل لہم الشر ولا نقضی الیہم اجلہم فنذرہم فی طغیانہم یعنی نمھلہم و نفیض علیہم النعمۃ مع طغیانہم الزاما للحجۃ علیہم۔ نہ ہم ان کو جلد شر پہنچاتے ہیں اور نہ ہی ان کی مدت مقررہ کو ختم کرتے ہیں بلکہ ان کی سرکشی میں مہلت دیکر اور سرکشی کے باوجود انعامات دیکر ان کو چھوڑ دیتے ہیں۔ تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے۔
Ayah 10:12کافر کا دکھ سکھ میں حال :
12: وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ (جب انسان کو پہونچتی ہے) مس کا معنی پہنچنا اور انسان سے کافر انسان مراد ہے الضُّرُّ دَ عَانَا (تکلیف تو وہ ہمیں پکارتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے تاکہ وہ اس تکلیف کا ازالہ کر دے لِجَنْچبِہٖٓ ( اپنے پہلو پر) یہ حال ہے کیونکہ بعد والے حال کا یہ معطوف علیہ ہے۔ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا (بیٹھے یا کھڑے) یعنی لیٹے ہوئے بھی ہمیں پکارتا ہے۔ ان تینوں حالتوں کو ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے۔ کہ تکلیف زدہ کے بارے ظاہر کردیا جائے کہ وہ ہمیں مسلسل پکارتا ہے۔ نہ پکارنے سے اکتاتا اور نہ منقطع کرتا ہے جب تک کہ ضررو تکلیف اس سے دور نہیں ہوجاتی۔ وہ تمام حالتوں میں ہمیں پکارتا رہتا ہے۔ خواہ اس طرح لیٹنے کی حالت ہو کہ وہ اٹھ بھی نہ سکے یا بیٹھنے کی حالت ہو کہ قیام کی سکت نہ پاتا ہو یا قیام کی حالت ہو کہ چلنے کی مطلق قدرت نہ ہو۔
فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّ ہٗ (جب ہم اسکی تکلیف کا ازالہ کردیتے ہیں) یعنی اس تکلیف کو زائل کردیتے ہیں جس میں وہ مبتلا ہوتا ہے۔ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍِّ مَّسَّہٗ (تو وہ ایسا گزر جاتا ہے گویا اس نے کسی تکلیف کے پہنچنے میں ہمیں کبھی بلایا ہی نہیں) ۔ نمبر 1۔ یعنی وہ اپنے تکلیف پہنچنے سے پہلے والے راستہ پر چل پڑتا ہے۔ اور مشقت و تکلیف والی حالت یکسر بھلا دیتا ہے۔ یا نمبر 2۔ گڑگڑانے اور تضرع کے مقام سے گزر جاتا ہے اور اسکی طرف لوٹ کر نہیں آتا۔ گویا کہ وہ تضرع کے مقام سے واقف بھی نہیں۔ کان لم یدعنا اصل میں کانہ لم یدعنا تھا تخفیف کی بناء پر ضمیر شان کو حذف کردیا۔ کَذٰلِکَ ( اسی طرح) اس تزیین کی طرح زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ ( خوشنما کردیئے جاتے ہیں حد سے بڑھنے والوں کیلئے) کفر کی طرف حدود میں تجاوز کرنے والوں کیلئے شیطان اپنے وساوس سے برے اعمال کو مزین کرتا ہے۔ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کے ان اعمال کو جو وہ کرتے تھے) اعمال سے یہاں اللہ تعالیٰ کی یاد سے اعراض اور اتباع کفر مراد ہے۔
Ayah 10:13مکذین کا انجام ہلاکت :
13: وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (بیشک ہم نے تم سے پہلے بہت سے اہل زمانہ کو ہلاک کیا) کم ؔ سے اہل مکہ کو مخاطب فرمایا گیا ہے لَمَّا ظَلَمُوْا (جب انہوں نے ظلم کیا) ظلم سے یہاں شرک مراد ہے یہ اہلکنا کا ظرف ہے۔ وَجَآ ئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ وائوؔ حالیہ ہے (حالانکہ ان کے رسول ان کے پاس) مطلب یہ ہے کہ تکذیب کر کے انہوں نے ظلم کیا حالانکہ ان کے رسول ان کے پاس بِالْبَیِّنٰتِ معجزات لائے وَمَا کَانُوْا لِیُؤْ مِنُوْا ( وہ نہ تھے ایسے کہ مانتے) اگر وہ باقی رہتے اور ہلاک نہ کئے جاتے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے رہیں گے۔
نحو : اس کا عطف ظلموا ؔ پر ہے یا یہ جملہ معترضہ ہے اور اس میں لام نفی تاکید کیلئے ہے مطلب یہ ہوا کہ ان کی ہلاکت کا اصل سبب انکا رسولوں کی تکذیب کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم ازلی سے جانتے ہیں کہ ان کو مہلت دینے میں کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ نبوت کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کردی گئی ہے۔ کَذٰلِکَ (اسی طرح) ہلاکت جیسی سزا نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ (ہم سزا دیا کرتے ہیں مجرمین کو) اس میں اہل مکہ کو رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے جرم پر ڈرایا گیا ہے (کہ باز آئو ورنہ تمہارا انجام ان لوگوں سے مختلف نہ ہوگا) ۔
Ayah 10:14ماضی سے عبارت پکڑو ‘ نہ اکڑو :
14: ثُمَّ جَعَلْنٰـکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْم بَعْدِھِمْ ( پھر ان قوموں کے بعد ہم نے تمہیں ان کا جانشین بنایا) یہ ان لوگوں کو خطاب ہے جنکی طرف حضرت محمد ﷺ کو براہ راست مبعوث فرمایا کہ ہلاک شدہ اقوام کے بعد ہم نے اے مخاطبین تمہیں زمین میں ان کا نائب بنایا۔ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ (تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو) یعنی تاکہ ہم دیکھیں کیا تم خیر کے اعمال بجا لاتے ہو یا شر کا ارتکاب کرتے ہو۔ پھر ہم تمہارے اعمال کے مطابق تم سے سلوک برتیں گے۔
نحو : وکیف یہ تعملون کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ لِنَنْظُرَ کی وجہ سے نہیں کیونکہ استفہام کا معنی اس سلسلہ میں رکاوٹ ہے اس کا عامل اس سے مقدم ہے۔ مطلب اس طرح بنا۔ تم ہماری نگاہ میں ہو۔ اب غور کرلو کہ کس طرح کے اعمال تم کر رہے ہو۔ ماضی کو نگاہ عبرت سے دیکھنے والے ہو یا اس کو نظرانداز کر کے حال کے غرور میں مبتلا ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (فداہ ابی وامّی) الدنیا حلوۃ خضرۃ وان اللّٰہ مستخلفکم فیھا فناظر کیف تعملون دنیا شیریں سرسبز ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بعد وہ تمہیں دینے والے ہیں تاکہ آزمائیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔
Ayah 10:15اور قرآن کا مطالبہ اور اس کا جواب :
15: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ (اور جب ان کو ہماری واضح آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں) بینات ٍ ، حال ہے۔ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآ ئَ نَا (وہ لوگ کہتے ہیں جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں) جب کہ ان کو قرآن میں بتوں کی عبادت کی مذمت اور سرکش لوگوں کے متعلق وعید پر غصہ آتا ہے۔ ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ھٰذَا ( تو اس قرآن کے سواء اور قرآن لے آ) اس میں وہ چیزیں نہ ہوں جو ہمیں غصہ دلائیں۔ تو ہم آپ کی اتباع کرلیں گے۔ اَوْبَدِّلْہُ ( یا اسی کو بدل دے) اس طرح کہ آیت عذاب کی جگہ رحمت کی آیات اور ہمارے معبودوں کا تذکرہ اور ان کی عبادت کی مذمت نکال دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا کہ آیت عذاب کی جگہ آیت رحمت رکھ دینا اور معبودوں کی مذمت نکال دینا چونکہ انسانی قدرت کے تحت ہے۔ اس کے جواب میں اس طرح فرمادیں۔
قُلْ مَایَکُوْنُ لِیْ (آپ کہہ دیں مجھے حق نہیں) یعنی میرے لئے حلال نہیں۔ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآ یِٔ نَفْسِیْ (کہ میں اس قرآن میں اپنی طرف سے کوئی ردو بدل کرسکوں) تلقاء نفسیکا معنی من قبل نفسی اپنے نفس و ذات کی جانب سے۔ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ (میں تو صرف اسی حکم کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے) یعنی میں بلاکم وکاست وحی الٰہی کی اتباع کرتا ہوں اس میں کوئی تبدیلی اپنی طرف سے نہیں لاتا کیونکہ میں یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے لاتا ہوں۔ اپنی طرف سے نہیں کہ تبدیلی کا مجازہوں۔ (جب وحی میرے اختیار میں نہیں تو تبدیلی کیسے میرے اختیار میں ہوسکتی ہے) اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ (اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اپنے رب کے عذاب کا خطرہ ہے) اپنی طرف سے اس میں تبدیلی کرنے پر یَوْمٍ عَظِیْمٍ (بڑے دن میں) یوم عظیم سے قیامت کا دن مراد ہے۔
عظیم فائدہ :
اور قرآن لا نے پر کسی انسان کو قدرت و طاقت نہیں۔ ان کا عجز تو ظاہر ہوچکا تھا مگر ضد کی بناء پر اپنا عجز تسلیم نہ کرتے تھے بلکہ اس طرح کی ڈینگیں مارتے۔ لو نشاء لقلنا مثل ھٰذا [ الانفال : 31] (مگر چیلنج کے باوجود نہ کرنا اس بات کو واضح کر رہا تھا کہ وہ کر ہی نہیں سکتے) ائت بقرآن غیر ھذا اوبدلہ کہ اس کے علاوہ اور قرآن لے آ، یا اس کو بدل دے، کا مقصد ان کے نزدیک ہرگز یہ نہیں تھا کہ وحی کے ذریعہ اس کو بدل دے کیونکہ اس کے متعلق تو آپ فرما چکے انی اخاف ان عصیت (الا یۃ) مجھے تو خود نافرمانی کی صورت میں بڑے دن کے عذاب کا خطرہ ہے۔ اب ان کی غرض ائت بقرآن سے اس کے سواء اور کوئی نہیں تھی کہ وہ آپ سے فریب کرنا چاہتے تھے اور تبدیلی قرآن والی بات میں یہ غرض بھی پنہاں تھی کہ یہ قرآن تم خود بنا کر لائے ہو۔ اور اس جیسا اور لاسکتے ہو۔ پس اس میں تبدیلی کر کے اور لے آئو۔ یہ تبدیلی والی بات بھی آپ کی آزمائش کیلئے ایجاد کی گئی تھی کہ اگر وہ تبدیلی کردیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے گا۔ پس ہمیں ان سے نجات مل جائے گی۔ اور اگر ہلاک نہ بھی ہوئے تو مسخری کا موقع مل جائے گا۔ پس یہ تبدیلی آپ کے خلاف مستقل دلیل مل جائے گی اور مفتری ہونا (نعوذ باللہ) صحیح قرار پائے گا۔
Ayah 10:1616: قُلْ لَّوْ شَآئَ اللّٰہُ مَاتَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ ( کہہ دیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو میں تم کو یہ پڑھ کر نہ سناتا) یعنی قرآن مجید کی تلاوت فقط اللہ تعالیٰ کی مشیّت سے ہے اور اس کا اـظہار ایک خارجی معاملہ ہے جو عادت کے اعتبار سے عجیب ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک امی آدمی جس نے کسی سے پڑھا نہ ہو۔ اور نہ علماء کی مجلس میں بیٹھا ہو مگر وہ تمہارے سامنے ایک فصیح وبلیغ کتاب پیش کرے جو ہر فصیح کلام پر غالب ہو اور ہر نثری اور شعری کلام پر فوقیت رکھے اور اصول و فروع کے علوم سے پُر ہو۔ اخبار بالغیب بھی اس میں اس طرح دئیے گئے ہوں کہ جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔
وَلَآ اَدْرٰکُمْ بِہٖ (اور نہ اللہ تعالیٰ تمہیں قرآن مجید کی خبردیتا) اللہ تعالیٰ میری زبان سے قرآن کا علم جاری نہ کرتا۔ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ (بیشک اس قرآن سے پہلے بھی میں تم میں زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار چکا ہوں) قبل سے نزول قرآن سے قبل کا زمانہ مراد ہے۔ یعنی میں تمہارے مابین چالیس برس رہا۔ اور اس عرصہ میں اس قسم کی کسی چیز کو تم میرے بارے میں نہیں جانتے اور نہ ہی یہ میری قدرت میں ہے نہ میں علم اور بیان سے موصوف رہا ہوں۔ کہ تم مجھ پر اختراع کی تہمت لگائو۔ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ( کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ہو) پس تم جان لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ مجھ جیسے انسانوں کی طرف سے نہیں۔ یہ اس الزام تراشی کا جواب ہے جو ائت بقرآن [ یونس : 15] کہہ کر انہوں نے کی تھی کہ تو افتراء کرنے والا ہے (نعوذ باللہ)
Ayah 10:1717: فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے) نمبر 1۔ افتراء سے یہاں اللہ تعالیٰ کا شریکوں والا اور اولاد والا ہونا مراد ہو۔ نمبر 2۔ آپ کی طرف افتراء کی جو نسبت انہوں نے کی اس سے بچنا مقصود ہو۔ اَوْ کَذَّبَ بِاٰ یٰتِہٖ (یا اسکی آیات کی تکذیب کرے) آیات سے قرآن مراد ہے۔
مسئلہ : اس میں وضاحت کردی کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا اور اسکی آیات کو جھٹلانیوالادونوں کفر میں برابر ہیں۔ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ (بلاشبہ ایسے مجرموں کو کبھی فلاح میسر نہیں آتی)
Ayah 10:1818: وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّھُمْ (اور وہ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوائے ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو کچھ نقصان دے سکتے ہیں) اگر وہ ان کی عبادت کو ترک کردیں۔ وَلَا یَنْفَعُھُمْ (اور نہ ان کو نفع دے سکتے ہیں) اگر وہ ان کی عبادت کریں۔ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُ لَآ ئِ شُفَعَآ ؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ (اور وہ کافر اسطرح کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں) ھٰؤلاء سے اصنام کی طرف اشارہ ہے عند اللہ سے دنیا اور اس کے دوران زندگی مراد ہے کیونکہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہ تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی پختہ قسمیں اٹھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرنے والوں کو بالکل نہ اٹھائے گا۔ [ النحل : 38] نمبر 2۔ قیامت کے دن سفارشی ہونگے اگر بعث و نشورہو۔
اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک موجود ہی نہیں :
قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ 1 (کہہ دیں کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز سے مطلع کرنا چاہتے ہو جس کے آسمان و زمین میں موجود ہونے کا علم اللہ تعالیٰ کو نہیں) کیونکہ وہ شئی موجود ہی نہیں کیا تم اللہ تعالیٰ کو ان کے سفارشی ہونے کی اطلاع دیتے ہو حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو معلومات الٰہی میں نہیں۔ جب وہ معلومات الٰہی میں نہیں حالانکہ وہ تو تمام معلومات کا عالم و جاننے والا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ وہ موجود ہی نہیں۔ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ یہ اس نفی کی تاکید ہے۔ کیونکہ جو چیز آسمانوں اور زمین پر نہیں پائی جاتی وہ معدوم ہے۔ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بلند وبالا ہے) اس میں اس نے اپنی ذات کو شرک سے پاک قرار دیا ہے ،۔
قراءت : حمزہ و علی نے تشرکون تا سے پڑھا ہے۔ اور ما موصولہ ہے یا مصدریہ ہے یعنی ان شرکاء سے جن کو وہ شریک قرار دیتے ہیں یا ان کے شریک کرنے سے پاک ہے۔
Ayah 10:19سب کا ایک دین :
19: وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّااُمَّۃً وَّاحِدَۃً (پہلے انسان ایک ہی جماعت تھے) سب سے کٹ کر ایک اللہ تعالیٰ کے متقی بندے ایک ملت پر قائم تھے۔ ان میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ یہ آدم (علیہ السلام) کے زمانہ کی بات ہے جب تک کہ ہابیل کا قتل پیش نہ آیا۔ نمبر 2۔ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد جبکہ فقط مومن باقی رہ گئے کوئی کافر نہ رہا۔ اس وقت لوگ ایک دین پر تھے۔
دنیا امتحان گاہ ہے نہ کہ فیصلہ گاہ :
فَاخْتَلَفُوْا (پھر وہ الگ الگ ہوگئے) پس وہ مذاہب میں بٹ گئے۔ وَلَوْلَاکَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ (اگر آپ کے رب کی طے شدہ بات پہلے سے نہ ہوتی) وہ بات حکم کو قیامت تک کیلئے مؤخر کرنا ہے۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ (تو ان کے مابین کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا) یعنی جلدی سے فِیْمَا فِیْہِ یَخْتِلفُوْنَ (جس چیز میں وہ اختلاف کرتے تھے) اس بات میں جس میں انہوں نے اختلاف کیا۔ تاکہ حق پرست اور باطل پرست میں امتیازہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کی بات اس حکمت کی بناء پر پہلے سے طے ہوچکی کہ یہ دنیا دار التکلیف ہے اور اگلا جہاں ثواب و عقاب کا مقام ہے۔
Ayah 10:20مُنہ مانگی نشانی کا مطالبہ :
20: وَیَقُوْلُوْنَ لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰ یَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ (اور یہ اس طرح کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں اترا) آیت سے وہ نشانی مراد ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰہِ (کہہ دیں کہ بیشک غیب کی خبر تو اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات علم غیب کے ساتھ خاص ہے وہی جانتا ہے کہ مطلوبہ آیات سے کونسی چیز رکاوٹ ہے اور کوئی نہیں جانتا۔ فَانْتَظِرُوْا (تم بھی انتظار کرو) اس تجویز شدہ نشانی کے اترنے کا۔ اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ (میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں) جو اللہ تعالیٰ تمہارے انکار آیات اور دشمنی پر کرنے والے ہیں۔
Ayah 10:21مکہ والوں کے عداوتی منصوبے :
21: وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ (جب ہم لوگوں کو چکھاتے ہیں) الناس سے اہل مکہ مراد ہیں۔ رَحْمَۃً (مہربانی) خوشحالی ووسعت مِّنْم بَعْدِ ضَرَّآ ئَ مَسَّتْھُمْ (اس دکھ کے بعد جو ان کو پہنچا) ضراء یعنی قحط، بھوک اِذَا لَھُمْ مَّکْرٌ فِیْ اٰیَاتِنَا (اسی وقت وہ ہماری آیات کے متعلق تدابیر کرنے لگتے ہیں) یعنی ان آیات کے انکار اور دفع کی تدابیر کرنے لگتے ہیں روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر سات سال قحط کو مسلط کردیا یہاں تک کہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئے پھر بارش دیکر ان پر مہربانی فرمائی۔ جب مہربانی ہوئی تو اسی وقت اللہ تعالیٰ کی آیات پر طعنہ زنی شروع کردی اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق دشمنی اور عداوت کے منصوبے گا نٹھنے لگے۔
اذاؔ پہلا شرط کا معنی دے رہا ہے اور دوسرا اسکے جواب میں ہے۔ اور وہ مفاجات کا معنی دے رہا ہے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ وان تصبہم سیئۃ بماقدمت ایدیھم اذاھم یقنطون [ الروم : 36] یعنی اگر ان کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو مایوس ہوجاتے ہیں اور جب ہم لوگوں کو مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں تو منصوبے باندھنا شروع کردیتے ہیں۔ المَکْرؔ تدبیر کو چھپا کر رکھنا الجاریۃ الممکورہ بداخلاق لونڈی کو کہتے ہیں۔ مَسَّتْہُمْ ؔ کا معنی یہ ہے کہ وہ تکلیف ان میں اسقدر رچ جاتی ہے کہ اس کا برا اثر ان میں محسوس نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قُلِ اللّٰہُ اَسْرَ عُ مَکْرًا (کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر تیز ہے) مگر ان کے متعلق نہیں فرمایا کیونکہ کلمہاذا اس بات پر دلالت کررہا ہے گویا اس طرح فرمایا جب ہم تکلیف کے بعد ان پر مہربانی کرتے ہیں تو اچانک وہ فریب کاریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور جلدی سے انکار کا ارتکاب کرتے ہیں اس سے پہلے کہ تکلیف کے بقیہ اثرات سے اپنے کو محفوظ کریں۔ اِنَّ رُسُلَنَا ( بیشک ہمارے قاصد) حفاظتی فرشتے یَکْتُبُوْنَ مَاتَمْکُرُوْنَ (تمہاری وہ مکاریاں لکھتے رہتے ہیں) اس میں اس بات سے خبردار کیا گیا کہ جس کو تم مخفی سمجھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ وہ خود انکا بدلہ تم سے چکالے گا۔
قراءت : یا سے وارد ہے۔
Ayah 10:22وقتی وصیت پر توبہ پھر سرکشی :
22: ھُوَا لَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (وہ اللہ تعالیٰ جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے) اس نے تم کو پائوں سے چلنے اور چوپائوں اور کشتیوں کے ذریعہ مسافت طے کرنے کی ہمت بخشی ہے یا وہ چلنے کو تم میں پیدا کرتا ہے۔
قراءت : یَنشُرکم شامی نے پڑھا ہے۔
حَتّٰی اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ (یہاں تک کہ جب تم کشی میں ہوتے ہو) فُلک ؔ کشتیاں، جمع ہے۔ وَجَرَیْنَ (وہ کشتیاں چلتی ہیں) ۔ بِھِمْ (ان کے ساتھ) یعنی ان کو لیکر جو ان میں ہیں مبالغہ کی خاطر خطاب سے غیب کی طرف رجوع کیا بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ (موافق ہوائیں) آہستہ مناسب چلنے والی جو آندھی نہ ہو اور نہ بہت ہلکی ہو وَّ فَرِحُوْا بِھَا (اور اس ہوا سے وہ لوگ بہت خوش ہیں) نرمی کی وجہ سے اس ہوا سے وہ خوش ہیں اور مسلسل چلنے کی وجہ سے جَآ ئَ تْھَا (اس کشتی پر آجاتا ہے) اس کشتی پر یا موافق ہوا پر آجاتا ہے۔
رِیْحٌ عَاصِفٌ (تیز جھونکا) تیز چلنے والی آندھی وَّجَآء ھُمُ الْمَوْجُ (اور ان پر موجیں بلند ہوتی ہیں) الموج پانی پر جو بلندہوا سکو موج کہتے ہیں۔ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ (ہر طرف سے) سمندر سے یا موج کے تمام امکانی مقامات سے وَّ ظَنُّوْا اَنَّھُمْ اُحِیْطَ بِھِمْ (وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہر طرف سے ان کو گھیر لیا گیا) وہ ہلاک ہوگئے گھیر میں آجانے سے ہلاکت کو بطور تمثیل گھیرے میں آجانے سے تعبیر کیا۔
دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (اس وقت خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت اختیار کرکے اس کو پکارتے ہیں) بغیر شریک ٹھہرانے کے کیونکہ اس وقت وہ اس کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے بلکہ کہتے ہیں۔ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ ھٰذِہٖ (اے اللہ اگر تو ہمیں اس سے بچالے گا) ہذاکامشار الیہ اہوال ہیں یا ریح ہے لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ (تو ہم ضرور تیرے شکر گزار رہیں گے) یعنی تیری نعمتوں پر شکر گزار اور تجھ پر یقین کرنے والے اور تیری طاعت کو مضبوطی سے تھامنے والے ہونگے۔
نحو : آیت میں اگرچہ کشتی میں سوار ہونے کو سمندر میں سفر کی غایت قرار نہیں دیا گیا۔ لیکن جملہ شرطیہ کا مضمون حتی کے مابعد تمام چیزوں کو اپنے اندر سمیٹنے والا ہے گویا اس طرح فرمایا گیا ہے وہ تمہیں چلاتا ہے یہاں تک کہ یہ حادثہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اور اس طرح تیز ہوا کی آمد، تلاطم امواج، ہلاکت کا یقین نجات کی دعائیں پیش آتی ہیں۔ اذاؔ کا جواب جاء تہا ہے اور دَعَوُایہ ظَنُّوْا کا بدل ہے کیونکہ ان کی دعائیں ہلاکت کے یقین کے لوازمات میں سے ہیں اور ان سے ملی ہوئی ہیں۔
Ayah 10:2323: فَلَمَّآ اَنْجٰھُمْ اِذَاھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ (جب اللہ تعالیٰ ان کو اس طوفان سے نجات دے دیتا ہے تو وہ زمین میں بےجاسرکشی اختیار کرتے ہیں۔ ) فساد مچاتے ہیں بِغَیْرِ الْحَقِّ (ناحق) باطل یعنی باطل پر ستی اختیار کرنے والے ہیں۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُکُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ (اے لوگو ! تمہاری سرکشی کا وبال تم پر پڑنے والا ہے) یعنی تمہارا ظلم تمہاری طرف لوٹ آئے گا جیسا کہ فصلت 46 میں فرمایا۔ من عمل صالحًا فلنفسہٖ ومن اساء فعلیھا۔ مَّتَاعَ الْحَیٰوۃِالدُّنْیَا (تم دنیا کے سازو سامان سے فائدہ اٹھا لو) یہ حفص کی قراءت کے مطابق ہے یعنی وہ نفع اٹھاتے ہیں جو نفع دنیا کی زندگی تک ہے۔
نحو : متاع الحیٰـوۃ الدنیا اور علی انفسکم یہ بغیکم کی خبر ہے
دیگر قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ بغیکم کی خبر ہے اور علی انفسکم اس کا صلہ ہے جیسا کہ اس آیت میں فَبَغٰی عَلَیْھِمْ [ القصص : 76] مطلب اس طرح ہے تمہاری سرکشی ان لوگوں پر ہے جو تمہاری طرح ہیں۔ یا یہ خبر مانیں اور متاع کو دوسری خبر مانیں یا متاع مبتداء محذوف ہو کی خبر ہے۔ یعنی وہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے ” حدیث نبوی علی صاحبہا السلام میں ہے سب سے زیادہ جلد جس نیکی کا ثواب ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے۔ اور سب سے جلد جس شرکا وبال پہنچتا ہے وہ سرکشی ہے اور دوسرے نمبر پر جھوٹی قسم ہے۔
نو چیزیں :
روایت میں ہے کہ دو چیزیں ہیں جن کا دنیا میں جلد بدلہ ملتا ہے نمبر 1۔ سرکشی نمبر 2۔ والدین کی نافرمانی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اگر ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ پر سرکشی اختیار کرے تو باغی کو پیس ڈالا جائے۔ محمد بن کعب سے مروی ہے کہ جس میں تین خصلتیں پائی جائیں اس میں بغاوت پائی جاتی ہے نمبر 1۔ سرکشی نمبر 2۔ نکتہ چینی وعدہ توڑنا نمبر 3 فریب کاری۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انما بغیکم علٰی انفسکم [ یونس : 23] ولا یحیق المکرالسییٔ الاباہلہ [ فاطر : 43] فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ[ الفتح : 10] ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُکُمْ فَنُنَبِّّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پھر تم نے ہماری ہی طرف واپس لوٹنا ہے ہم تمہیں ان کاموں کی حقیقت سے مطلع کریں گے جو تم کرتے تھے) پس ہم تمہیں ان کی اطلاع دیں گے اور اس پر بدلہ دیں گے۔
Ayah 10:24دُنیا کی مثال :
24: اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاکَمَآئٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآئِ (دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی اتارا) بادلوں سیفَاخْتَلَطَ بہٖ (اس پانی کے ساتھ مل گیا) نَبَاتُ الْاَرْضِ (زمین کا سبزہ) یعنی اسکی وجہ سے گنجان ہو کر نکلا جو ایک دوسرے میں گھسا ہوا ہے۔ مِمَّا یَاْکُلُ النَّاسُ (جس سے لوگ کھاتے ہیں) یعنی غلہ، پھل، سبزیات وَالْاَنْعَامُ (چوپائے) یعنی گھاس وغیرہ حَتّٰی اِذَآ اَخََذَتِ الْاَ رْضُ زُخْرُفَھَا (یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی زینت لے لی) یعنی نباتات سے اس کو زینت دی جس نبات کی رنگتیں الگ الگ ہیں۔ وَازَّیَّنَتْ زمین اس سے مزین ہوئی۔ یہ اصل میں تزینت ہے تاؔ کو زای میں زا کر کے ادغام کردیا۔ اور یہ زیادہ فصیح ہے۔ زمین کے مزین ہونے کو تمثیل کے طور پر دلہن قرار دیا جب کہ وہ شاندار قسم کے رنگ برنگ کپڑے پہن لے اور مختلف رنگ کی زینتوں سے زینت حاصل کرلے۔ وَظَنَّ اَھْلُھَا (اور زمین کے مالکوں نے یہ سمجھ لیا) اہل سے مراد اہل زمین ہیں۔ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْھَا (کہ وہ اس کھیتی پر قابو پانے والے ہیں) اسکی منفعت پر پوری قدرت پانیوالے اور اس کے ثمرات کو حاصل کرنے والے ہیں۔ اور اس کا غلہ اٹھانے والے ہیں۔
اَتٰھَآ اَمْرُنَا (اچانک ہمارا امر عذاب پہنچ گیا) امر سے عذاب مراد ہے اور یہ عذاب کھیتی میں کوئی بیماری پیدا کرنے کی صورت میں ہوتا ہے جبکہ وہ اسکی سلامتی پر یقین کرچکے ہوں۔ لَیْلًا اَوْنَھَارًا فَجَعَلْنٰھَا (دن یا رات کو پھر ہم نے اس پیداوارکو کردیا) اس کھیتی کو کردیا۔ حَصِیْدًا (کٹا ہوا) اس کے کٹنے اور تباہی کو کٹی ہوئی کھیتی سے تشبیہ دی۔ کَاَنْ لَّمْ تَغْنَ (گویا وہاں کل کچھ اگانہ تھا) گویا کھیتی اگی ہی نہ تھی قائم اور ٹھہری ہی نہ تھی اس قسم کے مواقع پر مضاف محذوف مانا جاتا ہے تاکہ معنی کلام درست ہوسکے۔ بِالْاَمْسِ (کل گزشتہ) یہ قریب وقت کو بطور تمثیل ذکر کیا۔ گویا اس طرح کہا کہ گویا کبھی اب تک قائم ہی نہیں ہوئی۔ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (اسی طرح نشانیاں ان لوگوں کیلئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو غورو فکر کرتے ہیں) وہ بیان امثلہ سے نفع اٹھاتے ہیں یہ تشبیہ مرکب ہے۔ دنیا کے تیزی سے زوال پذیرہونے اور اس کے نعمتوں کے سمیٹنے کو زمین کی نباتات کے خشک ہونے اور ریزہ ریزہ ہونے سے تشبیہ دی حالانکہ وہ نبات پہلے گنجان، باہم لپٹی ہوئی۔ زمین کو اپنے سبزہ سے مزین کرنے والی، پتوں سے پُر تھیں۔
حکمت : اس تشبیہ سے اس بات پر متنبہ کیا کہ دنیا کی زندگی کا صاف حصہ بھی ملاوٹ والا ہے جبکہ گدلا تو پہلے ہی ملاوٹ سے خالی نہیں۔ جیسا کہ صاف پانی پیالے کے بالائی حصہ میں ہوتا ہے۔ شاعر نے خوب کہا عمر ایک پانی کا بچا ہواپیالہ ہے۔ پہلا حصہ صاف اور پچھلا گد لا ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ مٹی کے جسم کو دنیا اور دین کی مصلحتوں سے مزین کردیا۔ جیسا کہ مختلف رنگوں کے باوجود ملی جلی نبات۔ پس زر خیز مٹی انسانوں کے باغات کو اگاتی ہے اور ارواح کے پھول پیدا کرتی اور زھد کی کلیاں نکالتی ہے اور سخاوت کی بیلیں اور محبت الٰہی کے غلہ جات اور حقیقت کے باغیچے لہلہاتی ہے۔ جبکہ راستے کی بدبختیاں اور خباثتیں مخالفتوں کا اختلاف اور گناہوں کے پیاز، شرک کے کانٹے اور بخل کے کانٹے دار پودے اور ہلاکت کی لکڑیاں، کھیل کی ہر یاول پیدا کرتے ہیں۔ پھر اسکی دشمنی پر اسی طرح اتر آتے ہیں جیسے کھیتی کہ جس کے کٹنے کا وقت قریب ہو۔ پس دھوکے کی حالت میں اسکی زندگی کو زائل کردیتے ہیں۔ جیسا کہ کھیتی پیلی پڑجاتی ہے۔ پس اس آدمی کا وجود قبر میں اس طرح غائب ہوجاتا ہے گویا کل وہ دنیا میں آیا ہی نہ تھا۔ اور یہ اس وقت تک رہے گا کہ بعث کی بہاری اسکواُگادے اور پیشی کا نشانہ اپنے مقام پر لگ جائے اور بحث و کرید کی گھڑی آن پہنچے۔ دنیا کا حال پانی کی طرح ہے کہ تھوڑا تو فائدہ دیتا ہے۔ زیادہ سیلاب سے ہلاک کردیتا ہے پس زیادہ کا چھوڑنا ضروری ہے۔ سفر میں جس طرح زاد راہ کے سواء چارہ نہیں۔ اسی طرح تھوڑے مال کے بغیر گزارہ نہیں مال کا حصول لغزش سے اسی طرح خالی نہیں جیسا کہ پانی میں گھسنے والا تری سے بچ نہیں سکتا۔ مال کا جمع کرنا مال والے کیلئے ضیاع اور اہلاک ہے۔ نصاب سے کم مال تو پایاب پانی کی طرح ہے کہ اس میں سے بےپروائی سے گزر جاتے ہیں اور نصاب کی مقدار اس دریا کی طرح ہے جو گزرنے والے کے راستے اور مقصود کے درمیان حائل ہو۔ اور کامیابی کے مقام کی طرف گزر ناپل کے بغیر ممکن نہیں۔ اور وہ پل زکوٰۃ ہے اور پل کی تعمیر عطیات ہیں۔ جب پل خراب ہوجائے گا تو جمع شدہ خزانوں کی موجیں اس کو ڈبودیں گی۔ اسی کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الزکاۃ قنطرۃ الاسلام۔ اسی طرح مال ضعیف العقل کا معاون ہے۔ بزرگوں کا نہیں جیسا کہ پانی گڑھوں میں جمع ہوتا ہے ٹیلوں پر نہیں۔ اسی طرح مال بخل کی مشقت سے اکٹھا ہوتا ہے جبکہ پانی گزرگاہ میں بند لگانے سے جمع ہوتا ہے پھر فنا اور ہلاکت کا شکار ہوتا ہے جیسا کہ چلو میں لیا ہوا پانی چلو میں باقی نہیں رہتا۔
Ayah 10:25دارالسلام :
25: وَاللّٰہُ یَدْعُوْا اِلٰی دَارِالسَّلٰمِ (اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے) وہ جنت ہے، السلام جنت کا نام ہے اور اسکی اضافت نام کی طرف کر کے اسکی عظمت کو بیان کیا۔ نمبر 2۔ السلام کا معنی سلامتی ہے کیونکہ اہل جنت ہر ناپسند چیز سے محفوظ کردیئے گئے ہیں۔ نمبر 3۔ ان کے مابین السلام علیکم بہت کہا جائے گا۔ اور فرشتے بھی ان کو سلام کریں گے۔ جیسا کہ الواقعہ 26 میں اِلَّا قِیْلاً سَلٰمًا سَلٰمًا ہے۔ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (اور جس کو چاہتا ہے توفیق دیتا ہے) ۔ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سیدھے راستے کی طرف) ۔ نمبر 1۔ یعنی اسلام کی طرف یا نمبر 2۔ سنت کے راستہ کی طرف۔
نکتہ : راہنمائی کے ذریعہ زبان نبوت سے دعوت کو عام کردیا۔ مگر بھیجنے والے کی مہربانی سے عنایت و توفیق کے ذریعہ ہدایت کو خاص کردیا۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ دارالسلام کی طرف اللہ تعالیٰ تمام بندوں کو دعوت دے رہے ہیں مگر اسمیں داخلہ ہدایت یافتہ لوگوں کو ملے گا۔
Ayah 10:26زیادۃ کی تفسیر دیدار الٰہی :
26: لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا احسان سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا مراد ہے۔ الْحُسْنٰی خوبی ہے عمدہ ثواب اور وہ جنت ہے۔ وَزِیَادَۃٌ (اور زائد) وہ دیدار الٰہی ہے حضرت ابو بکر، حذیفہ، ابن عباس، ابو موسیٰ اشعری، عبادہ بن الصامت ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔
بعض تفاسیر میں اس بات پر مفسرین کا اتفاق نقل کیا ہے کہ زیادہ کی تفسیر اللہ تعالیٰ کا دیدارہی ہے۔ حضرت صہیب ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ جب جنت والے جنت میں داخل ہوچکیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم ایسی چیز چاہتے ہو جو میں ان نعمتوں پر اضافہ کروں۔ وہ کہیں گے کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا اور آگ سے نجات نہیں دی ؟ آپ نے فرمایا پھر حجاب اٹھا یا جائے گا۔ تمام اہل جنت اللہ تعالیٰ کا دیدار پالیں گے اس سے بڑھ کر آج تک ان کو کسی نعمت میں اتنا مزا نہ آیا ہوگا۔ جتنا دیدار الٰہی میں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ للذین احسنوا الحسنی و زیادہ۔
( رواہ احمد و مسلم، ترمذی، ابن ماجہ)
صاحب کشاف : کی حالت قابل تعجب ہے کہ اس نے اس روایت کو ذکر کیا مگر ان الفاظ سے نہیں جو اوپر ذکر ہوئے اور پھر تنقید کرتے ہوئے کہہ گئے کہ یہ حدیث من گھڑت ہے۔ حالانکہ یہ مرفوع روایت ہے۔ اس کو صاحب مصابیح نے صحاح میں ذکر کیا۔ دوسری تفسیر الزیادۃ ؔ کی بندوں کے دلوں میں محبت سے کی گئی، تیسری تفسیر اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رضوان سے بھی کی گئی ہے۔
وَلَایَرْھَقُ وُجُوْھَہُمْ (نہ ڈھانپے گی ان کو) قَتَرٌ (سیاہی) ایسا غبارجس میں سیاہی ہو وَّلَا ذِلَّۃٌ (نہ ذلت) نہ ذلت کا اثر مطلب یہ ہے کہ ان کے چہروں پر وہ چیز نہ چھائے گی جو اہل نار کے چہروں پر چھار ہی ہوگی۔ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ (وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 10:27بروں کا انجام :
27: وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا اسکا عطف للذین احسنوا پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی وللذین کسبوا۔ السَّیِّاٰتِ (رنگا رنگ کے شرک) جَزَآ ئُ سَیِّئَۃٍم بِمِثْلِھَا (برائی کا بدلہ اس کے مثل سے ہے) اس میں یا اسی طرح زائد ہے جیسا اس ارشاد میں جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا [ الشورٰی : 40] یا تقدیر عبارت اس طرح ہو جزاء سیئۃ مقدر بمثلھا۔ برائی کا بدلہ طے شدہ ہے اس کے مثل سے وَتَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ ذلت و رسوائی مَالَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ (انہیں اللہ سے بچانے والا) اسکی سزا سے مِنْ عَاصِمٍ (کوئی نہیں ہوگا) یعنی اسکی ناراضی اور سزا سے ان کو کوئی نہ بچائے گا۔ کَاَنَّمَآ اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا ان پر رات کی سیاہی کا پردہ لٹکا دیا گیا ہے یعنی ان کے چہرے سیاہ ہونگے۔ قطعًا جمع قطعۃ یہ اغشیت کا مفعول ثانی ہے۔
قراءت : مکی ٗ علی، نے قِطْعًا پڑھا ہے۔ یہ اس آیت کی طرح ہے۔ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ [ ھود : 81] اس قراءت کے مطابق مظلماً یہ قطع کی صفت ہے۔ اور پہلی قراءت کے مطابق یہ اللیل سے حال ہے اور اسمیں عامل اغشیت ہے کیونکہ من اللیل، قطعاً کی صفت ہے۔ پس اس کا موصوف تک پہنچنا صفت تک پہنچنے کی طرح ہے یا منَ الَّیْلِمیں معنی فعل عامل ہے۔ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ دوزخی ہیں۔ اس میں ہمیشہ رہیں گے) ۔
Ayah 10:28منظر حشر :
28: وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ ۔ ہُمْ سے کفار وغیرہ مراد ہیں۔ جَمِیْعًا (تمام) یہ حال ہے۔ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ ترجمہ : یعنی تم اپنی جگہ رک جائو۔ اس وقت تک یہاں سے نہ ہٹو جب تک اپنا انجام نہ دیکھ لو۔ اَنْتُمْ (تم) ۔ اس سے مکانکم کی ضمیر کی تاکید کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ الزموا کے قائم مقام استعمال ہوا۔ وَشُرَکَآ ؤُ کُمْ (اور تمہارے شرکاء) ماقبل پر معطوف ہے۔ فَزَیَّلْنَا (ہم تفریق کردیں گے) ۔ بَیْنَھُمْ (ان کے درمیان) ان کے ساتھیوں کو الگ کردیں گے۔ اور وہ تعلق کاٹ دیں گے جو دنیا میں ان کے درمیان تھا۔ وَقَالَ شُرَکَآ ؤُ ھُمْ (کہیں گے ان کے شریک) جنکی اللہ تعالیٰ کے سواء عبادت کی ہوگی اور وہ عقلاء میں سے ہونگے (جن وانس میں سے) یا بتوں کو اللہ تعالیٰ بولنے کی زبان دے گا۔
مَّا کُنْتُمْ اِیَّا نَاتَعْبُدُوْنَ (تم ہماری پوجا تو نہ کرتے تھے) تم تو شیاطین کی عبادت کرتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے تمہیں حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے شریک بنائو۔ پس تم نے ان کی اطاعت کی جیسا سورة سباء۔ 40۔ 41۔ ویوم یحشرہم جمیعا۔ الٰی، بل کانوا یعبدون الجن میں مذکور ہے۔
Ayah 10:2929: فَکَفٰٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًام بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ یعنی اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی کے لحاظ سے شھیدًا یہ تمیز ہے۔ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ اِنْ یہ مخففہ من المثقلہ ہے لام اسکی دلیل ہے۔