10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

سب کی جانچ : 30: ھُنَالِکَ (وہاں) اس جگہ میں یا اس وقت میں۔ اس صورت میں اسم مکان زمانہ کیلئے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ (آزمائے گا اور چکھے گا) ہر شخص مَّآ اَسْلَفَتْ (جو اس نے پیچھے چھوڑا) یعنی عمل۔ پس پہچان لے گا کہ اس عمل کی کیفیت کیا۔ ہے اچھا یا برا نفع بخش یا نقصان دہ، مقبول یا مردود، زجاج (رح) کہتے ہیں اسلفت کا معنی قدمت ہے جو اس نے آگے بھیجا۔ قراءت : حمزہ، علی نے تتلواؔ پڑھا ہے۔ یعنی وہ پیروی کرے گا اس عمل کی جو اس نے آگے بھیجا کیونکہ اسکا عمل ہی اس کو جنت و دوزخ کی راہ دکھائیگا۔ یا اپنے نامہ عمل میں وہ پڑھ لے گا جو اس نے خیر و شر کا عمل آگے بھیجا ہوگا۔ یہ اخفش کا قول ہے۔ وَرُدُّوْآ اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰہُمُ الْحَقِّ ان کا سچا رب جو اپنی ربوبیت میں سچا ہے کیونکہ یہ لوگ ان کی دوستی کا دم بھرتے تھے جنکی ربوبیت کی کوئی حقیقت نہیں۔ یا نمبر 2۔ وہ جو ان کے ثواب و حساب کا متولی ہے اور ایسا عادل ہے جو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ اور ان سے وہ تمام معبود گم ہوجائیں گے جن کے متعلق ان کو دعوٰی تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں۔ یا نمبر 2۔ جو جھوٹ وہ گھڑا کرتے تھے وہ بےکار ہوئے کہ ان کے شفعاء اور اٰلِہَہ ان کی سفارش کر کے زبردستی چھڑا لیں گے۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے ؟ یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے ؟ اور جاندار سے بےجان کون پیدا کرتا ہے ؟ اور (دنیا کے) کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں ؟

دلائل قدرت : 31: قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآ ئِ (آپ فرما دیجئے وہ کون ہے جو تمہیں رزق دیتا ہے آسمان سے) بارش کے ذریعہ وَالْاَرْضِ (اور زمین سے) (نبات کے ذریعہ) اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ (یا کون مالک ہے کانوں اور آنکھوں کا) کون ان کو بنانے اور اس انداز سے فٹ کرنے کی طاقت رکھتا ہے جس طرح سے یہ فٹ ہیں یا۔ نمبر 2۔۔ کون ان کی ان آفات کثیرہ سے عرصہ دراز تک حفاظت کرتا ہے حالانکہ یہ دونوں بڑی لطیف ہیں ان کو معمولی چیز بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ یعنی حیوان، چوزے، کھیتی، مومن، عالم کو نطفہ، انڈا، دانہ، کافر، جاہل سے اور اس کا عکس وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ (اور کون معاملات کی تدبیر کرتا ہے) تمام عالم کے معاملات کا مدبر کون ہے پہلے خاص کا ذکر کیا اور اسکے بعد عام کو لائے۔ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ ترجمہ وہ عنقریب آپ کے سوال کے جواب میں کہیں گے کہ ان تمام پر قدرت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (پس کہہ دیں پھر تم کیوں ڈرتے نہیں ہو۔ ) عبادت میں شرک سے جبکہ تم ربوبیت کا اعتراف بھی کرچکے۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

32: فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ (سو وہ اللہ تعالیٰ ہے) یعنی وہ ذات جس کی یہ قدرت ہے وہی تو اللہ تعالیٰ ہے۔ رَبُّکُمُ الْحَقُّّ (تمہارا سچا رب) جس کی ربوبیت ایسی ثابت ہے جس میں اس کو کوئی شک نہیں ہوسکتا جو حقیقت کی نگاہ ڈالے۔ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاَّ الضَّلٰلُ (سو پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے) یعنی حق و باطل کے درمیان کوئی واسطہ نہیں جو حق راستہ سے ہٹا وہ گمراہی میں جاپڑا۔ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ (تم کدھر پھرے جارہے ہو) حق چھوڑ کر گمراہی کی طرف اور توحید کو ترک کر کے شرک کی طرف۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا۔ کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

کفار کی ضد : 33: کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس حق کی طرح حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ (تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی۔ ) قراءت : شامی، مدنی نے کَلِمٰتُ پڑھا ہے یعنی جیسا کہ حق و ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی ہے۔ نمبر 2۔ جیسا ثابت ہوا کہ وہ حق سے پھرے ہوئے ہیں پس اسی طرح تیرے رب کی بات سچی ہوگئی۔ عَلَی الَّذِیْنَ فَسَقُوْا (ان لوگوں کے متعلق جو فاسق ہیں) یعنی جو اپنے کفر میں سرکشی تک پہنچنے والے اور اسکی انتہائی حد تک نکلنے والے ہیں۔ اَنَّھُمْ لَایُؤْ مِنُوْنَ (کہ یہ ایمان نہ لائیں گے) یہ کلمۃٌ سے بدل ہے یعنی ایمان کی نفی ان پر ثابت ہوچکی یا نمبر 2۔ اللہ کی بات ان پر ثابت ہوچکی کہ ان کا ایمان ثابت نہ ہوگا۔ نمبر 3۔ کلمہ سے عذاب والا وعدہ مراد ہے اور انہم لایؤمنون اسکی تعلیل ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی لانہم لایؤمنون اسلئے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداًء پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اک سے جا رہے ہو ؟

معبودانِ باطلہ کی بےبسی : 34: قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَآپکُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِْیْدُہٗ (آپ فرما دیجئے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ امر حق کا راستہ بتلاتا ہو) ثم یعیدہ کو یہاں ذکر کیا حالانکہ وہ اعادہ کے قائل نہ تھے۔ کیونکہ اعادہ کے دلائل اس قدر ظاہر ہیں کہ گویا یہ مسلمہ معاملہ ہے کہ وہ اعادہ کے قائل ہیں۔ نمبر 2۔ انسانوں کے علاوہ اور چیزوں کا اعادہ مراد لیا جائے جیسے دن، رات، پانی اتارے، اور نبات اگائے۔ قُلِ اللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (آپ فرما دیجئے کہ اللہ مخلوق کو ابتداء ً پیدا فرماتا ہے پھر اس کو دوبارہ فرمائے گا) اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ جواب میں ان کی نیابت کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کا تکبر کلمہ حق کہنے نہ دے گا۔ پس آپ ان کی طرف سے سچی بات کہہ دیں۔ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ ت پس کس طرح سیدھے راستہ سے پھرے جارہے ہو ؟
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا راستہ دکھائے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے بھلا جو حق کا راستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے راستہ نہ بتائے راستہ نہ پائے ؟ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو ؟

حق کی طرف راہنمائی کرنے والے اور کافر بےراہ کے پیروکار : 35: قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَآپکُمْ مَّنْ یَّھْدِیْ اِلَی الْحَقِّ (آپ فرما دیجئے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ امر حق کا راستہ بتلاتا ہو) اسکی طرف راہنمائی کرنے قُلِ اللّٰہُ یَھْدِیْ لِلْحَقِّ اَفَمَنْ یَّھْدِیْ اِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَں ْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَھِدِّیْ اِلَّآ اَنْ یُّھْدٰی عربی میں ھداہ للحق، الی الحق دو آتے ہیں۔ یہاں دونوں لغات کو جمع کردیا۔ اور اسی طرح ھدی بنفسہٖ بمعنی اھتدی کے آتا ہے جیسا کہ شری بمعنی اشترٰی اور اسی سے۔ قراءت : حمزہ و علی امّن لّا یھِدّی بمعنی یھتدی ہے۔ اور لا یَہَدِّی مکی، شامی اور ورش کی قراءت میں ہے۔ جبکہ ابو عمرو نے اس ھاؔ کے فتحہ کو اشمام سے پڑھا اور عاصم نے یحییٰ کے علاوہ ھاؔـ کے کسرہ اور یا ؔ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ اور اصل یھتدی ہے۔ اور عبداللہ کی قراءت یہی ہے۔ تاؔ کو دال میں ادغام کیا اور ھاؔ کا فتحہ وہی تاؔ کو دے دیا یا التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دیا مگر یحییٰ نے یا اور ھاؔ کے کسرہ اور دال کی تشدید سے پڑھا ہے مابعد کی اتباع کی وجہ سے البتہ ورش کے علاوہ مدنی قراء نے ھاؔ کے سکون اور دال کی تشدید سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی صرف حق کی طرف راہنمائی کرنے والی ہے اس طرح کہ مکلفین میں عقلیں رکھ دیں اور ان کو دلائل پر غور کی قدرت عنایت فرمائی۔ اور دلائل خود اپنی طرف سے مہیا فرمائے اور نورتوفیق بخش دیا اور دلوں میں بھلائی ڈال دی اور رسولوں کو بھیج کر شرائع و احکام کی اطلاع دے دی۔ پس جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے رکھا ہے ان میں کوئی ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس راہنمائی کی طرح راہنمائی کرنے والا ہو۔ پھر فرمایا تم بتلائو کہ جو حق کی طرف راہنمائی کرے وہ پیروی کیے جانے کا زیادہ حقدار ہے یا وہ جو بذات خود راستہ ہی نہ پاسکتا ہو۔ یا دوسرے کی راہنمائی نہ کرسکتا ہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اسکو ہدایت نہ دے۔ دوسراقول یہ ہے یا وہ جو کسی دوسری جگہ کی طرف راہ نہ پاسکتا ہو۔ یعنی منتقل نہ ہوسکتا ہو جب تک کہ اس کو منتقل نہ کیا جائے۔ یا وہ راہ نہ پائے اور نہ ہی اسکاراستہ پانا درست ہو مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس حالت سے منتقل کرکے حیوان ناطق بنائے تو پھر وہ راہنمائی کرسکے۔ فَمَالَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ غلط فیصلہ کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک گمان کرتے ہو۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔

36: وَمَایَتَّبِعُ اَکْثَرُھُمْ بتوں کے متعلق اس بات میں کہ وہ معبود ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں زبردستی چھڑا لیں گے۔ اکثر سے مراد تمام ہیں۔ اِلَّا ظَنًّا (مگر محض گمان) بلا دلیل وہ اپنے آباء سلف کی اتباع و اقتداء ہے جو اس گمان سے کرتے تھے کہ وہ درست راستے پر تھے۔ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ وہ علم ہے۔ شَیْئًا (ذرہ بھر) یہ مصدر کی جگہ پر ہے اصل اس طرح اغنائً شیئًا اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بِمَا یَفْعَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ کرتے ہیں) یعنی اتباع ظن اور ترک حق۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

قرآن من گھڑت نہیں بلکہ بلاریب ہے : 37: وَمَا کَانَ ھٰذَاالْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰی مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے جو افتراء کیا گیا ہو اللہ کی طرف سے نہ ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کے سواء اوروں کی طرف سے گھڑنامطلب یہ ہے کہ یہ صحیح اور درست نہیں کہ اس جیسا بلند کلام اور حد اعجاز تک پہنچاہوا من گھڑت کلام ہو۔ وَلٰکِنْ (لیکن) یہ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ (تصدیق ہے اسکی جو اس سے پہلے ہے) جو کتابیں اس سے قبل نازل ہوچکیں۔ وتَفْصِیْلَ الْکِتٰبِ (اور کتاب کی تفصیل ہے) جو فرائض و احکام لازم و فرض کئے گئے ان کی تشریح ہے یہ معنی اس آیت النساء 24 کتاب اللّٰہ علیکم۔ کی روشنی میں ہے۔ لَا رَیْبَ فِیہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (اس کے رب العالمین کی طرف سے ہونے میں شک نہیں ہے) یہ استدراک کے مواقع میں داخل ہے گویا اس طرح کہا گیا لیکن یہ ایسی تصدیق اور تفصیل ہے جو ریب سے خالی ہے اور رب العالمین کی طرف سے آئی ہے۔ دوسری تفسیر یہ مراد لینا بھی درست ہے کہ رب العالمین کی طرف سے تصدیق شدہ ہے اور اسکی طرف سے اسکی تفصیل کی گئی ہے اس بات میں کوئی اشتباہ نہیں۔ اس صورت میں من رب العالمین تصدیق و تفصیل سے متعلق ہے اور لاریب فیہ یہ جملہ معترضہ ہے جیسا تم کہو زیدٌٌ لاشک فیہ کریم ٌ۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

کفار کو چیلنج : 38: اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ (کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو گھڑلیا ہے) ام یہاں بل کے معنی میں ہے کیا وہ کہتے ہیں اس کو گھڑلیا ہے ؟ قُلْ (کہہ دیں) اگر بات اسی طرح ہے جس طرح تم کہتے ہو فَاْتُوْا ( تو تم لائو) تو تم بھی گھڑ لائو بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ (ایک سورت اس جیسی) یعنی جو بلاغت میں اس کے مشابہ ہو اور حسن نظم میں اس جیسی ہو تم بھی میری طرح عربیت جانتے ہو۔ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور ان کو بلالو جن کو اللہ تعالیٰ کے سواء بلانے کی تم میں طاقت ہے) یعنی عبارت اس طرح ادعوا من دون اللّٰہ۔ من استطعتم۔ بلائو اللہ تعالیٰ کے سواء جن کو بلانے کی مخلوق سے تم طاقت رکھتے ہو۔ تاکہ اسکی مثل لانے میں وہ تمہاری امداد کریں۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ یہ قرآن من گھڑت ہے۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

جھٹلانا عناد کی بنیاد پر ہے : 39: بَلْ کَذَّ بُوْا بِمَالَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِھِمْ تَاْ وِیْلُہٗ (بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کے علم کا احاطہ انہوں نے نہیں کیا اور ابھی ان کو اسکی حقیقت معلوم نہیں ہوئی) بلکہ انہوں نے قرآن کی تکذیب میں جلدی کی ہے کہ جونہی اسکی آواز کا نوں تک پہنچی بلا سوچے سمجھے اس کو جھٹلا دیا۔ قرآن مجید کی حقیقت کو نہ پہچا نا اور نہ اسمیں تدبر کیا کہ اس کے معنی اور نتائج سمجھتے اور اسکابڑا سبب یہ ہے کہ جو چیز ان کے دین کے مخالف ہے اس سے دور بھاگ رہے ہیں ان کو اپنے آبائی دین کا ترک کرنا گراں گزرا ہے۔ لمایأ تہم تاویلہ میں توقع کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے سوچنے سے پہلے ہی فی البدیہ اس کا انکار کردیا۔ اس کا معنی نہیں سوچا اور یہ آبائو اجداد کی تقلید میں کیا۔ اور غوروتدبر کے بعد تکذیب سرکشی اور عناد و ضد کی وجہ سے اختیار کی۔ پس ان آیات میں جاننے سے قبل جلد تکذیب کرنے کی مذمت فرمائی اور لما جو کلمہ تو قع ہے اس کو ذکر کیا تاکہ اعلان کردیا جائے کہ کفار نے قرآن کے علو شان اور اعجاز اچھی طرح جان لیا کیونکہ ان کو بار بار چیلنج کیا اور انہوں نے اپنی قوتوں کو خوب آزما لیا اور اسکی مثل لانے سے اپناعجز اظہر من الشمس ہوگیا تو ضد و حسد سے قرآن کو جھٹلادیا۔ کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس تکذیب کی طرح کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے ہوئے) یعنی امم ماضیہ کے کفار نے رسولوں کے معجزات میں غور و فکر کرنے کے بغیر عناد اور تقلید آباء کی وجہ سے ان کو جھٹلا دیا۔ دوسری تفسیر لما یاتہم تاویلہ کی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ابھی تک ان کے سامنے اخبار بالغیب کی تعبیر ظاہر نہیں ہوئی۔ تعبیر سے انجام مراد ہے جس سے اسکاسچا، جھوٹا ہونا ظاہر ہو۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ کتاب دو لحاظ سے معجز ہے نمبر 1۔ نظم کا اعجاز، نمبر 2۔ اخبار غیوب کا اعجاز تم نے اس کے نظم پر غور سے قبل ہی تکذیب کردی حالانکہ وہ حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے اور اسکی دی ہوئی اطلاعات کا صدق وکذب ظاہر ہونے سے پہلے ہی تم نے انکار کر ڈالا۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ (پس غور کرو کس طرح ظالموں کا انجام ہوا)
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمہارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

40: وَمِنْھُمْ مَّنْ یُّّؤْ مِنُ بِہٖ (اور بعض ان میں سے آپ پر ایمان لاتے ہیں) ہٗ کی ضمیر نبی اکرم ﷺ یا قرآن کی طرف راجع ہے۔ اپنے دل میں تصدیق کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آپ نبی برحق ہیں لیکن عناد کی وجہ سے تکذیب کرتے ہیں۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّا یُؤْ مِنُ بِہٖ ( اور ان میں بعض وہ ہیں جو آپ پر ایمان نہیں لاتے) آپ کی تصدیق نہیں کرتے اور آپ کے بارے میں شک کرتے ہیں۔ یا اس کا معنی استقبال والا ہو۔ کہ ان میں بعض ایسے ہونگے جو عنقریب آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بعض ایسے ہونگے جو کفر پر اصرار کریں گے۔ وَرَبُّکَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ ( اور آپ کا رب فساد کرنیوالوں کو خوب جاننے والا ہے) مفسدین سے معاند یا اصرار کرنے والے مراد ہیں۔
Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔

41: وَاِنْ کَذَّبُوْکَ (اور اگر وہ آپ کو جھٹلادیں) اگر وہ آپ کی تکذیب پر اتر آئیں اور تم ان کی قبولیت سے مایوس ہوجائو۔ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ (پس کہہ دیں کہ میرے لئے میرا عمل) مراد جزاء عمل ہے۔ وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ (اور تمہارے لئے تمہارا عمل) تمہارے اعمال کا بدلہ۔ اَنْتُمْ بَرِیْئُوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِیْ ئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ (تم اس سے بری جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بیزار جو کچھ تم کرتے ہو) پس ہر ایک سے اس کے عمل کامؤاخذہ ہوگا۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سُنتے) سمجھتے نہ ہوں۔

کفار اندھے بہرے ہیں : 42: وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ (اور ان میں بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگا لگا بیٹھتے ہیں) بعض لوگ ان میں آپ کی قراءت پر کان دھرتے ہیں اور احکام شرائع کے وقت بھی متوجہ ہوتے ہیں۔ لیکن وہ ان باتوں کو یاد نہیں رکھتے اور نہ قبول کرتے ہیں اسلئے وہ بہروں کی طرح ہیں اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْکَانُوْا لَایَعْقِلُوْنَ (کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو) کیا تم یہ طمع رکھتے ہو کہ بہرے کو سنانے پر تمہیں قدرت ہے جبکہ بہرہ بےعقل بھی ہو ؟ کیونکہ عقلمند بہرہ تو فراست سے یا کان میں گونج کے پڑجانے سے استدلال کر کے بات سمجھ سکتا ہے مگر کیا کیجئے جب سلب عقل اور فتورسمع دونوں جمع ہوں تو سارا کھاتہ ہی گل ہے۔
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں ؟

43: وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْکَ (ان میں بعض لوگ آپ کی طرف دیکھتے ہیں) اور سچائی کے دلائل کھلے بندوں معائنہ کرتے اور نبوت کے نشانات ظاہر پاتے ہیں لیکن وہ تصدیق نہیں کرتے۔ اَفَاَنْتَ تَھْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنََ (پھر کیا آپ اندھوں کو رستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو) کیا تمہارا خیال ہے کہ آپ اندھوں کو راہ دکھلائیں گے جب بصارت کے ساتھ وہ بصیرت سے بھی محروم ہو۔ کیونکہ وہ اندھا جس کے دل میں بصیرت ہو وہ کبھی عقل سے جانچ لیتا ہے۔ باقی احمق اندھا تو نری مصیبت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قبول کرنے اور تصدیق سے ناامیدی کے مقام تک پہنچے ہوئے ہیں جیسا کہ وہ بہرے اور اندھے جن میں عقل و بصیرت نہ ہو۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

44: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّلٰکِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لیکن لوگ خود ہی اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں) قراءت : حمزہ و علی نے ولکن الناسُپڑھا ہے۔ یعنی استدلال کے آلات کو سلب کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے استدلال کو ترک کر کے اپنے اوپر خود ظلم کیا۔ خود زندہ ہو کر جمادات کو معبودبنالیا۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہ تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے اور راہ یاب نہ ہوئے۔

حشر میں کفار کا حال : 45: وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ (اور اس دن کو یاد رکھو جب وہ ان کو جمع کرے گا ) قراءت : حفص نے یا ؔ سے پڑھا۔ جبکہ ابن عامر و ابن کثیر نے نون سے پڑھا ہے۔ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّھَارِ (گویا وہ نہیں ٹھہرے مگر ایک گھڑی دن کی) دنیا میں قرار کی مدت کو انہوں نے بہت چھوٹا قرار دیا یا قبور میں ٹھہرنے کی مدت کو اہوال آخرت کی وجہ سے قلیل قرار دیں گے۔ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَھُمْ (آپس میں پہچانیں گے) ایک دوسرے کو جانتے ہونگے گویا کہ وہ بہت تھوڑا وقت آپس میں جدا رہے اور یہ قبور سے نکلنے کے وقت ہوگا۔ پھر قیامت کے اہوال کی شدت سے تعارف منقطع ہوجائے گا۔ نحو : کان لم یلبثوا یہ ہُمْ سے حال ہے یعنی ہم ان کو اس حالت میں اٹھائیں گے کہ ان کی حالت ان لوگوں کے مشابہ ہوگی جو ایک گھڑی ٹھہرے ہوں۔ کان ؔ یہ کَانَّ ہے اور اس کا اسم محذوف اور لم یلبثوا خبر ہے یتعارفون بینہم یہ دوسرا حال ہے۔ یا جملہ مستانفہ ہے اور ہُمْ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآ ئِ اللّٰہِ (تحقیق خسارہ میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو جھٹلایا) یہ یتعارفون کی ضمیر فاعلی کا مقولہ قرار دیا جائے کہ اپنے مابین تعارف یہ کہتے ہوئے کرائیں گے قد خسر الذین (الٰایۃ) یا یہ اللہ تعالیٰ کا مقولہ ہے جو ان کے خسران پر شہادت ہے۔ مطلب یہ کہ انہوں نے اپنی تجارت وبیع میں ایمان کو کفر کے بدلہ میں رکھ دیا۔ وَمَاکَا نُوْا مُھْتَدِیْنَ (وہ ہدایت یافتہ نہ تھے) جانتے ہوئے بھی وہ تجارت میں راہ پانے والے نہیں۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اس میں تعجب کا معنی ہے گویا اس طرح فرمایا وہ کس قدر خسارہ میں ہیں ؟
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

آپ کی زندگی میں ان پر عذاب لازم نہیں : 46: وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ (اور جس کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں) یعنی عذاب اَوْنَتَوَ فَّیَنَّکَ (یا آپ کو وفات دے دیں) ان کے عذاب دینے سے پہلے فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ (پس انہوں نے ہمارے پاس لوٹنا ہے) یہ نتوفینک کا جواب ہے اور نرینک کا جواب محذوف ہے یعنی واما نرینک بعض الذی نعدھم فی الدنیا فذاک اونتو فینک قبل ان نری کہ فنحن نری کہ فی الآخرۃ اور اگر دکھا دیں بعض حصہ اس عذاب کا جس کا ہم ان سے دنیا میں وعدہ کرتے تو یہ مطلوب ہے یا اگر ہم آپ کو وفات دے دیں آپ کو انکا عذاب دکھانے سے پہلے تو ہم آپ کو آخرت میں دکھلائیں گے۔ ثُمَّ اللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَایَفْعَلُوْنَ (پھر اللہ تعالیٰ گواہ ہے ان کاموں پر جو وہ کرتے ہیں) یہاں ذکر تو شہادت کا ہے مگر مراد اسکامقتضی ہے اور وہ عذاب ہے گویا اس طرح فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے کرتوتوں پر ان کو سزا دینے والے ہیں۔ بعض نے کہا ثم یہاں وائو کے معنی میں ہے۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب انکا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔

میں رسول ہوں عذاب کا اختیار نہیں رکھتا : 47: وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ (ہر امت کیلئے ایک رسول ہے) جس کو ان کی طرف اللہ تعالیٰ مبعوث فرماتے ہیں تاکہ وہ ان کو توحید کے بارے میں خبردار کرے اور دین حق کی طرف ان کو دعوت دے۔ فَاِذَا جَآ ئَ رَسُوْلُھُمْ (جب ان کا رسول آچکتا ہے) دلائل لیکر اور وہ اس کا انکار کردیتے ہیں اور اسکی اتباع نہیں کرتے۔ قُضِیَ بَیْنَھُمْ (ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ہے) نبی اور اس کے جھٹلانیوالوں کے درمیان بِالْقِسْطِ (انصاف کے ساتھ) پس رسول کو نجات دی جاتی ہے اور مکذب کو عذاب دیا جاتا ہے۔ دوسری تفسیر۔ قیامت کے دن ہر امت کیلئے رسول ہوگا جس کی طرف اس امت کی نسبت کی جائے گی اور اسی کے نام سے ان کو پکارا جائے گا۔ جب رسول موقف پر ان کے متعلق کفرو ایمان کی گواہی دینے کیلئے حاضر ہوجائیں گے تو ان کے مابین انصاف سے فیصلہ کردیا جائیگا۔ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (اور ان پر ظلم نہ ہوگا) بغیر گناہ کے کسی کو سزا نہ دی جائے گی۔
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب ؟

48: تو فرمایا اگر ہم آپ کو بعض حصہ اس عذاب کا دکھادیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں جب کفار نے عذاب مانگنے میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ وَ یَقُوْ لُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (وہ کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ) یعنی وعدئہ عذاب اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ عذاب اترنے والا ہے۔ یہ منہم کا خطاب نبی اکرم ﷺ اور مؤمنین تمام سے ہے۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لئے (موت) کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔

49: قُلْ ( کہہ دیں اے محمد ﷺ ) لَّااَمْلِکُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا (میں مالک نہیں ہوں اپنے نفس کیلئے ذرہ بھر نقصان) جیسے مرض یا فقر وَّ لَا نَفْعًا (اور نہ نفع کا) یعنی صحت یا مالداری اِلَّا مَاشَآ ئَ اللّٰہُ (مگر جو چاہے اللہ تعالیٰ ) یہ مستثنیٰ منقطع ہے یعنی مگر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ ہو۔ پس کس طرح میں تمہارے لئے نقصان اور عذاب کھینچ کر لاسکتا ہوں۔ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ اِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ فَـلَا یَسْتَاْ خِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَایَسْتَقْدِمُوْنَ (ہر امت کا ایک وقت مقر رہے جب انکاوقت مقررہ آجاتا ہے تو ایک گھڑی کیلئے وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں) ہر امت کیلئے عذاب کا ایک وقت معلوم مقرر ہے اور وہ لوح محفوظ میں لکھا جاچکا جب ان کے عذاب کا وقت آجاتا ہے۔ تو ایک گھڑی کیلئے آگے نہیں بڑھ سکتے اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں پس تم جلدی نہ مانگو۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے ؟

عذاب تو ذرا سا بھی برا ہے : 50: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَتٰـکُمْ عَذَابُہٗ (آپ فرما دیجئے کہ یہ تو بتلائو کہ اگر تم پر خدا کا عذاب آپڑے) جس کو تم جلد مانگتے ہو۔ بَیَاتًا (رات کو) یہ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے یعنی سونے کے وقت میں اور وہ رات ہے۔ اس حال میں کہ تم غافل بےپرواہ سوئے ہوتے ہو۔ اَوْنَھَارًا (یا دن کو) اس حال میں کہ طلب معاش میں تم مشغول ہو۔ اور کام کر رہے ہو۔ مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ (کیا جلدی کریں گے اس سے مجرم) اس عذاب سے مطلب یہ ہے کہ عذاب تمام کا تمام برا ہے اور نفرت و بھاگنے کے قابل ہے۔ پس تم اس میں سے کونسی چیز جلد مانگتے ہو۔ اس میں تو کوئی چیز بھی جلد مانگنی ضروری نہیں۔ ماذا کا استفہام اَرَئَ یْتُمْ سے متعلق ہے۔ کیونکہ مطلب یہ ہے مجھے تم بتلائو اس سے مجرم کونسی چیز جلدی مانگتے ہیں۔ شرط کا جواب محذوف ہے اور وہ یہ ہے تندموا علی الاستعجال یاتعرفوا الخطأ فیہ۔ اس وقت تم جلد مانگنے پر شرمندہ ہوگے یا اسمیں اپنی غلطی محسوس کرو گے (مگر بےوقت بےفائدہ) نکتہ : ماذا یستعجلون منہ نہیں فرمایا کیونکہ ماذا یستعجل کہہ کر اس بات پر دلالت کی جارہی ہے کہ ترک استعجال لازم ہے اور وہ اجرام ہے۔ یاماذا یستعجل کو جواب شرط قرار دیا جائے جیسے ان اتیتک ماذاتطعمنی ؟ پھر یہ ساراجملہ اَرَئَ یْتُمْ سے متعلق ہے یا اثم اذاماوقع جو اب شرط ہے اور ماذا یستعجل جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا (تب اس پر ایمان لاؤ گے ؟ ) (اس وقت کہا جائیگا کہ) اور اب (ایمان لائے) اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

عذاب کے وقت حال : 51: اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ (کیا پھر جب وہ واقع ہوجائیگا) یعنی عذاب اٰمَنْتُمْ بِہٖ ( کیا تم اس وقت ایمان لائو گے) یہ جواب شرط ہے اور ماذایستعجل منہ المجرمون جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہوگا اگر تمہارے پاس اسکا عذاب آجائے تو تم اسپر ایمان لائو گے اس عذاب کے واقع ہونے کے بعد جبکہ ایسے وقت کا ایمان مفید نہ ہوگا۔ نحو : حرف استفہام کو ثم پر لانا اسی طرح ہے جیسا کہ اس کو واو اور فا ؔ پر داخل کیا جائے۔ جیسا (اعراف : 97) میں افامن اہل القری، 98 میں اوامن اہل القری۔ آلْئٰنَ (کیا اب ایمان لاتے ہو) اس کو قول کا مقولہ مان کر گویا ان کو کہا جائے گا جبکہ وہ عذاب آجانے کے بعد ایمان لائیں گے کیا اب تم ایمان لاتے ہو۔ وَقَدْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ (حالانکہ تم تو اس کو جلدی مانگا کرتے تھے) یعنی عذاب کو تکذیب اور استہزاء کے طور پر۔ آلان میں لام کے بعد والے ہمزہ کو حذف کردیا اور اسکی حرکت لام کو دیدی۔ نافع کے نزدیک اسی طرح ہے۔
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزا چکھو (اب تم انھیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دُنیا میں) کرتے رہے۔

52: ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پھر ان کو کہا جائے گا جنہوں نے ظلم کیا) اس کا عطف اس قِیْلَپر ہے جو آلْئٰنَ سے پہلے محذوف مانا گیا ہے۔ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ (تم ہمیشہ کا عذاب چکھو) ہمیشگی ھَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَاکُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ (نہیں تمہیں جزاء دی جائے گی مگر وہ جو تم کماتے تھے) یعنی شرک، تکذیب۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے۔ اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہ کرسکو گے۔

اب تو استہزاء کرتے ہیں مگر وہاں ڈر سے منہ چھپائیں گے : 53: وَیَسْتَنْچبِئُوْنَکَ (اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں) آپ سے خبرپوچھتے ہوئے کہتے ہیں۔ اَحَقٌّ ھُوَ (کیا وہ برحق ہے) یہ استفہام ان کاری ہے بطور استہزاء کے وہ کہتے تھے ہوضمیر کا مرجع موعودہ عذاب ہے۔ قُلْ (کہہ دیں) اے محمد ﷺ اِیْ وَرَبِّیْ (ہاں اور مجھے اپنے رب کی قسم ہے) اِنَّہٗ لَحَقٌّ (بلاشبہ وہ حق ہے) بیشک عذاب ہر صورت ہونے والا ہے۔ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ (اور تم عاجز کرنیوالے نہیں ہو) عذاب سے نکلنے والے نہیں ہو وہ ہر صورت میں تمہیں آلے گا۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے (اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

54: وَلَوْاَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ (اور اگر ہر مشرک شخص کے پاس اتنا ہو کہ) اگر ظلم کا معنی کفر و شرک ہے تو یہ نفس کی صفت ہے یعنی اگر ہر ظالم نفس کو میسر آئے مَا فِی الْاَرْضِ (جو کچھ زمین میں ہے) دنیا میں آج جو اس کے خزائن و اموال موجود ہیں۔ لَافْتَدَتْ بِہٖ (تو وہ ضرور فدیہ میں دے ڈالے) وہ اپنے نفس کا اس کو فدیہ بنالے۔ محاورہ عرب ہے فداہ فافتدی اور کہا جاتا ہے افتداہ یعنی فداہ آتا ہے۔ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ (اور وہ شرمندگی کو چھپائیں گے جب وہ عذاب کو دیکھیں گے) اور وہ شرمندگی کو ظاہر کریں گے، عرب کہتے ہیں اسرالشئی اذا اظہر الشیء۔ جب وہ چیز کو ظاہر کرے نمبر 2۔ دوسری تفسیر : وہ چھپائیں گے شرمندگی کو کیونکہ وہ شدت ہول کی وجہ سے بولنے سے عاجز ہونگے۔ اسر کا لفظ اضداد میں سے ہے۔ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ( ان کے مابین انصاف سے فیصلہ کردیا جائیگا) ظالموں اور مظلوموں کے مابین۔ اس پر ظلم کے لفظ کا تذکرہ دلالت کرتا ہے۔ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ (اور ان پر ظلم نہ ہوگا)
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

55: پھر اس خبردار کرنے کے بعداگلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت تامہ کا ذکر کیا۔ اَلَااِنَّ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (خبردار بیشک اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں اور زمین میں ہے) پس وہ کیوں کر فدیہ قبول کریگا جبکہ وہ سزا دینے میں برحق ہے اور اس نے جو عذاب وثواب کا وعدہ فرمایا وہ برحق ہے اس فرمان کی وجہ سے اَلَآ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ (خبردار بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ) ثواب و عذاب کا حَقٌّ (برحق ہے) ثابت ہونے والا ہے۔ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ (لیکن انکی اکثریت نہیں جانتی )
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان بخشا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

56: ھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ (وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے) زندگی بخشنے اور موت دینے پر اسے قدرت ہے اس کے علاوہ کسی کو بھی اس پر قدرت نہیں۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے) اسی کے حساب و جزاء کی طرف لوٹنا ہے پس اس کا خوف اور امید دونوں باندھنی چاہئیں۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

قرآن عظمت و شفاء و رحمت ہے : 57: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآ ئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اے لوگو ! تمہارے پاس ایک نصیحت تمہارے رب کی طرف سے آچکی) یعنی تمہارے پاس ایسی کتاب آچکی جو نصائح کے فوائد سے مالا مال ہے۔ اس میں توحید پر متنبہ کیا گیا۔ الموعظۃ اس چیز کو کہتے ہیں جس میں ہر مرغوب کی دعوت اور ہر مرھوب سے ڈرا وا موجود ہو۔ اسلئے کہ امر ماموربہ کے حسن کا تقاضا کرتا ہے پس وہ مرغوب ہونا چاہیئے اور جس کا حکم نہ ہو وہ ممنوع ہونا چاہیے اور نہی ماموربہ کے قبح کو چاہتی ہے۔ اور نہی میں بھی اسی طرح حکم ہے۔ وَشِفَآ ئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ (اور شفاء ہے اس چیز کیلئے جو سینوں میں ہے) یعنی جو تمہاری سینوں میں عقائد فاسدہ ہیں وَھُدًی (اور ہدایت ہے) گمراہی سے وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ا (ور مومنوں کیلئے رحمت ہے) جو تم میں سے اس پر یقین کرنے والے ہونگے۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

58: قُلْ (کہہ دیں) اے محمد ﷺ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا (اللہ تعالیٰ کے فضل اور اسکی رحمت کے ساتھ پس اس کے ساتھ ان کو خوش ہونا چاہیے) اصل کلام اس طرح ہے بفضل اللّٰہ و برحمتہ فلیفرحوا بذٰلک اگر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ چاہیے کہ وہ خوش ہوں اس پر، تکریر کا مقصدتاکید اور پختگی ہے اور اس بات کو خاص کر ثابت کرنا ہے کہ فضل و رحمت ہی فرح کے لائق ہیں ان کے علاوہ فوائدد نیا لائق فرح نہیں۔ ایک فعل کو دلالت کی وجہ سے حذف کردیا۔ اور فا ؔ کو اس لئے داخل کیا کیونکہ شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا اس طرح فرمایا۔ اگر وہ کسی چیز پر خوش ہوں تو ان کو اپنی فرح ان دو چیزوں سے مخصوص کرلینی چاہے۔ یا ان کو اللہ کے فضل اور اسکی رحمت کی طرف توجہ دینی چاہیے اور چاہیئے کہ وہ اس پر خوشی کا اظہار کریں اور یہ فضل و رحمت کتاب اللہ اور اسلام ہے۔ حدیث پاک میں ارشاد فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی طرف ہدایت دے دی پھر قرآن کا علم دے دیا۔ پھر اس نے فاقہ کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ فقر کو اس کے ماتھے پر ملاقات کے دن تک لکھ دیتے ہیں ( درمنثور) اور آپ نے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (وہ اس سے بہت بہتر ہے جس کو وہ جمع کرتے ہیں) شامی نے یاؔ سے پڑھا ہے یعقوب نے فلتفرحوا پڑھا ہے۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا۔ تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھیرایا اور (بعض کو) حلال ' (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تمہیں اس کام کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افترا کرتے ہو ؟

حلال و حرام تمہارا کام نہیں : 59: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (آپ کہیے یہ تو بتلائو) مجھے خبر دو مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مِّنْ رِّزْقٍ (کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو کچھ رزق بھیجا تھا) یہ اَنْزَلَ کے ساتھ منصوب ہے یا اَرَاَیْتُمْ کے ساتھ یعنی تم مجھے اسکی خبر دو ۔ فَجَعَلْتُمْ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلاً (پس تم نے اس میں سے حرام و حلال بنا لیا) پس تم نے اس کے حصے کر کے کہا کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے جیسا کہ سورة انعام : 139 آیت میں ہے مافی بطون ہٰذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا ہاں زمین سے تمام ارزاق نکلتے ہیں لیکن جب اس رزق کے اسباب کو آسمان سے جوڑ دیا۔ جیسا کہ بارش جس سے نبات اگتی ہے اور سورج جس سے فصل پکتی ہے اور پھل تیارہوتے ہیں تو اس کے اتارنے کی نسبت اسی لئے آسمان کی طرف کردی گئی۔ قُلْ آٰ للّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ (کہہ دیں کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسکی اجازت دی) یہ اَرَأَیْتُمْ سے متعلق ہے۔ قُل ؔ یہ تاکید کیلئے دوبارہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ تم مجھے بتلائو کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی کہ تحلیل و تحریم کرو۔ پس تم اسکی اجازت سے کر رہے ہو۔ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْنَ (یا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہو) یا تم اسکی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر کے جھوٹ بول رہے ہو۔ یا ؔ ہمزہ انکار کیلئے اور ام منقطعہ بمعنی بل ہے۔ اور اتفترون علی اللّٰہ یہ افتراء کی پختگی کو ظاہر کرنے کیلئے لایا گیا۔ نحو : اس آیت میں زجر ہے ان احکام کے متعلق جو کسی سے پوچھے جائیں۔ جب تک کسی چیز کے متعلق یقین نہ ہوجائے اس وقت تک اس کے جائز و ناجائز کا حکم نہ لگا دینا چاہیے۔ اور یہ آیت احتیاط کے وجوب کو ظاہر کر رہی ہے۔ اگر بتانے والا اس کا خیال نہ کرے گا تو وہ دین پر افتراء باندھنے والا شمار ہوگا۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک خدا لوگوں پر مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

60: وَ مَاظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں) کذب کی نسبت اس کی طرف کرتے ہیں یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (قیامت کے دن) یہ ظن کی وجہ سے منصوب ہے اور وہ گمان اس دن میں واقع ہونے والا ہوگا۔ یعنی مفتری لوگ اس دن کے متعلق کیا گمان کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ حالانکہ وہ تو احسان و برائی پر بدلے کا دن ہے۔ اس آیت میں معاملے کو مبہم رکھ کر سخت وعید کی گئی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ (بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل کرنے والے ہیں) اس طرح کہ ان پر عقل کا انعام کیا اور وحی کی رحمت عنایت کی اور حلال و حرام کی تعلیم دے کر مہربانی فرمائی وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَشْکُرُوْنَ ( اور لیکن اکثریت ان کی شکر گزار نہیں) اس نعمت کا شکر اور نہ ہی وہ اس چیز کی اتباع کرتے ہیں جس کی طرف ان کی راہنمائی کی گئی۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔

ہم تمہارے ہرحال سے واقف ہیں : 61: وَمَا تَکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ (نہیں ہوتے آپ کسی حالت میں) ما ؔ نافیہ ہے اور تکون کا خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہے۔ الشان معاملہ اور حالت وَّمَا تَتْلُوْا مِنْہُ (اور نہیں پڑھتے آپ اس میں سے) ہٗ کی ضمیر قرآن مجید کی طرف ہے گویا اسطرح کہا گیا ماتتلوا من التنزیل، مِنْ قُرْاٰنٍ (قرآن میں سے) کیونکہ قرآن کا ہر جزء قرآن ہے۔ ذکر سے قبل ضمیر عظمت شان کیلئے لائی گئی ہے یا ہ کی ضمیر کا مرجع اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ ( اور تم نہیں کرتے) تم تمام مِنْ عَمَلٍ (کوئی عمل) جو عمل بھی ہو اِلَّا کُنَّا عَلَیْکُمْ شُھُوْدًا (مگر کہ تم پر ہم حاضر و ناظر ہوتے ہیں) مشاہدہ کر رہے اور نگرانی کر رہے ہوتے ہیں اور ایک ایک چیز شمار کرتے ہیں۔ اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ (جبکہ تم اس میں مصروف ہوتے ہو) مشغول ہوتے ہو۔ یہ افاض فی الامر سے ہے۔ جبکہ اس میں ہمہ تن مصروف ہو۔ وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ (نہیں غائب تیرے رب سے) دور نہیں، غائب نہیں۔ قراءت : علی نے اس کو ہر جگہ زاء کے کسرہ سے یَعْزِبُ پڑھا ہے۔ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ (ایک ذرّہ کی مقدار) ذرہ ؔ چھوٹی چیونٹی کے وزن کے برابر فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرَ (زمین میں اور نہ آسمان میں نہ کوئی چھوٹی چیز اور نہ اس سے بڑی چیز) قراءت : حمزہ نے اصغر اور اکبر پر ضمہ ابتداء کی وجہ سے پڑھا اور الا فی کتاب مبینکو خبر قرار دیا ہے۔ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (مگر کہ وہ لوح محفوظ میں ہے) کتاب مبین سے لوح محفوظ ہی مراد ہے۔ دیگر قراء نے اَصْغَرَ اور اَکْبَرَ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور لا کو نفی جنس کا قرار دیا ہے۔ نحو : یہاں زمین کو آسمان سے مقدم ذکر کیا۔ جبکہ سورة سباء میں آسمان کو پہلے لائے۔ کیونکہ عطف وائو کے ساتھ ہے اور اس عطف کا حکم تثنیہ جیسا ہے۔
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

ولی اور اس کی پہچان اور نشانی : 62: اََلآَ اِنَّ اَوْلِیَآ ئَ اللّٰہِ (خبردار ! بیشک اللہ تعالیٰ کے دوست) نمبر 1۔ وہ وہی لوگ ہیں جو طاعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دوستی رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کرم نوازی سے ان کے ساتھ مہربانی فرمانے والے ہیں۔ نمبر 2۔ وہ وہ لوگ ہیں کہ اپنی خاص دلیل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنے والے اور اسکی مخلوق پر رحمت کرنیوالے ہیں۔ نمبر 3۔ وہ لوگ جنکی محض اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت ہے۔ حالانکہ ان کی آپس میں کوئی رشتہ داری نہیں۔ اور نہ ہی اموال کا لین دین ہے۔ نمبر 4۔ وہ متقی مومن ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں الذین ٰامنوا وکانوا یتقون۔ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ (ان پر خوف نہ ہوگا) جبکہ لوگ خوف زدہ ہونگے وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ (اور نہ وہ غمگین ہونگے) جبکہ لوگ محزون ہونگے۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

63: الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (وہ لوگ جو ایمان لائے) یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے وہ اَعِنِّیْہے۔ نمبر 2۔ اولیاء کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے گویا اِنَّ کا اسم ہے۔ نمبر 3۔ ہُمْ مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے عبارت اس طرح ہوگی۔ ہم الذین ٰامنوا، وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ (وہ تھے بچنے والے) شرک و معاصی سے۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

64: لَھُمُ الْبُشْرٰ ی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (انہی کیلئے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں) نمبر 1۔ ان چیزوں کی جنکی خوشخبری اللہ تعالیٰ نے مومن متقی لوگوں کو قرآن مجید میں کئی مقامات پر دی ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ وہ نیک خواب ہیں جو مسلمان دیکھتا ہے یا اسکو دکھائے جاتے ہیں۔ (الترمذی) نبوت ختم ہوگئی اور اچھے خواب اس میں سے باقی رہ گئے۔ [ ابن ماجہ ] نیک خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ [ ا لترمذی ] نکتہ : اس آخری روایت میں نکتہ یہ ہے کہ مدت وحی 23 سال اور پہلے چھ ماہ میں نیند و خواب میں آپ کو انذار کے متعلق ہدایات دی جاتی تھیں۔ اور چھے مہینے تیئس سال کا چھیالیسواں حصہ بنتا ہے ( یہ تو جیہ تو بہت خوب ہے) نمبر 2۔ بشرٰی سے مراد لوگوں میں اچھا تذکرہ اور محبت نمبر 3۔ وقت نزع میں ان کو مقام جنت دکھا کر خوشخبری سنائی جاتی ہے وَ فِی الْاٰخِرَۃِ ( اور آخرت میں) یہ آخرت کی بشر ٰی تو جنت ہے۔ نمبر 1۔ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی باتوں میں تبدیلی نہیں) اس کے اقوال میں تبدیلی نہیں اور اس کے وعدوں میں خلاف ورزی نہیں۔ ذٰلِکَ (یہ) اس کا مشار الیہ ان کا دارین میں مبشر بالجنۃ ہونا ہے۔ نمبر 2۔ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (وہ بڑی کامیابی ہے) یہ دونوں جملے معترضہ ہیں اور اس کے بعدکلام کا ہونا ضروری نہیں جیسے تم کہو فلان ینطق بالحق والحق ابلج اور یہ کہہ کر خاموش ہوجائے۔ اسی طرح یہاں بھی۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے۔ وہ (سب کچھ) سُنتا (اور) جانتا ہے۔

تسلی رسول ﷺ : 65: وَلَا یَحْزُنْکَ قَوْلُھُمْ (آپ کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے) یعنی تکذیب اور تہدید اور آپ کو ہلاک کرنے کی تدابیر اختیار کرنا اور آپ کی نبوت والے معاملے کو فیل کرنے کی کوششیں۔ اِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا (بیشک عزتیں تمام کی تمام اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں) یہ جملہ مستانفہ ہے جو تعلیل بیان کرنے کیلئے لایا گیا ہے گویا اسطرح کہا گیا ہے میں کیوں غم زدہ نہ ہوں ؟ تو جواب دیا اسلئے کہ عزت یعنی غلبہ اور اقتدار حقیقی تمام مملوکہ چیزوں میں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ کسی کو اس میں سے ذرہ بھر حاصل و میسر نہیں۔ نہ ان کفار مکہ کو اور نہ کسی دوسرے کو پس وہ اللہ تعالیٰ آپ کو غالب اور ان کو مغلوب کرے گا اور ان کے خلاف آپ کی مدد فرمائے گا۔ جیسا کہ سورة المجادلہ : 21 میں ہے۔ کتب اللّٰہ لاغلبن انا ورسلی۔ سورة غافر : 51 میں انا لننصر رسلنا فرمایا گیا ہے۔ نمبر 2۔ ہر عزت والا اسی سے عزت حاصل کرتا ہے وہ آپ کو اور آپ کے دین کو اور ماننے والوں کو غلبہ دے گا۔ قراءت ونحو : قولہم پر وقف لازم ہے۔ تاکہ ان العزّۃ کفار کا مقولہ نہ بن جائے۔ جَمِیْعًا یہ ماقبل سے حال ہے ھُوَ السَّمِیْعُ (وہی سننے والا ہے) ان کے اقوال الْعَلِیْمُ (جاننے والا ہے) جو عزائم رکھتے اور تدابیر وہ اختیار کرتے ہیں وہ ان سے خود نپٹ لے گا۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہے سب خدا ہی کے (بندے اور اس کے مملوک ہیں) اور یہ جو خدا کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں چلتے محض ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

66: اَلَآ اِنَّ لِلّٰہِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ (خبردار بیشک اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو آسمان اور جو زمین میں ہے) منؔ سے مراد عقلاء اور وہ فرشتے اور جن و انس ہیں۔ نکتہ : عقلاء کو خاص اس لئے کیا کہ جب یہ اسکی ملک ہیں اور اس کے مملوک ہیں اور ان میں سے کوئی ربوبیت کے لائق نہیں اور نہ ہی اس کا شریک بن سکتا ہے۔ تو اس کے بعد جو غیر عقلاء ہیں وہ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک اور ساجھی نہ ہوں۔ کفار گمان کے پیروکار ہیں : وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُرَکَآئَ ( نہیں پیروی کرتے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سواء اوروں کو پکارتے ہیں شرکاء کی) اسمیں ما۔ ؔ نافیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقت میں شرکاء کی اتباع نہیں کرتے۔ اگرچہ ظاہراً ان کا نام شرکاء رکھتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت میں تو ربوبیت باری تعالیٰ میں شرکت محال ہے۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ (وہ نہیں اتباع کرتے مگر صرف گمان کی) مگر صرف ان کا اپنا خیال ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں۔ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ( وہ نہیں ہیں مگر محض اٹکل کے تیرچلاتے) نمبر 1۔ وہ اندازہ کرتے اور ان کے شرکاء ہونے کا غلط اندازہ کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ یاماؔ۔ استفہا میہ ہے کہ وہ کس چیز کی اتباع کرتے ہیں شُرَکَآئَاس صورت میں یدعون کی وجہ سے منصوب ہوگا۔ اور پہلی صورت میں یتبع کی وجہ سے۔ اور حقیقت میں یہ اس طرح ہے وما یتبع الذین یدعون من دون اللّٰہ شرکاء شرکاء اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سواء اوروں کو پکارتے ہیں وہ شرکاء شرکاء کی اتباع نہیں کرتے۔ ایک کو حذف کردیا کیونکہ اس پر دلالت موجود ہے اور محذوف یدعون کا مفعول ہے۔ نمبر 3۔ ما۔ؔ موصولہ ہے اور اس کا عطف منؔ پر ہے۔ گویا اس طرح فرمایا وللّٰہ مایتبعہ الذین یدعون من دون اللّٰہ شرکاء ای ولہ شرکاؤہم اور اللہ کی قسم کونسی وہ چیز ہے جس کی اتباع کرتے ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سواء اور شرکاء کو پکارتے ہیں یعنی اس کے لئے انہوں نے شرکاء بنا رکھے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور تمام بندوں پر اسکی نعمت عامہ کو ذکر کر کے متنبہ کیا اس ارشاد سے وھوالذی جعل لکم الیل (الایۃ )
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

قوت باری تعالیٰ : 67: ھُوَ الَّذِیْْ جَعَلَ لَکُمُ الَّـیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ (وہ ذات جس نے تمہارے لئے رات کو بنایا تاکہ تم اس میں سکون لے سکو) اس نے تمہارے لئے رات کو اندھیر بنایا تاکہ اس میں دن کے ادھر ادھرآنے جانے اور کام کاج کی تھکاوٹ سے آرام پاسکو۔ وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا (دن کو روشن بنایا) تاکہ اس میں رزق کے حصول کے مقامات کو دیکھ سکو۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ (بیشک اس میں سننے والے لوگوں کیلئے البتہ نشانیاں ہیں) سننے سے مراد ایسا سننا جو قبولیت و عبرت کا باعث ہو۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے (اے افترا پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں ؟

اللہ مالک ہے اسے بیٹوں کی محتاجی نہیں : 68: قَالُوا اتَّخَذَاللّٰہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ (انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے وہ سبحان ہے) بیٹا بنانے سے اس کا پاک ہونا بیان کرنا مقصود ہے۔ اور ان کے اس احمقانہ کلمہ پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ ھُوَ الْغَنِیُّ (وہ غنی ہے) یہ نفی ولد کی علت ہے لیکن لڑکے کا وہ طالب ہوتا ہے جو ضعیف ہوتا کہ لڑکے کے ذریعہ قوت حاصل کرلے یا محتاج ہو تاکہ اس سے مدد حاصل کرے یا وہ ذلیل ہوتا کہ اس سے اعلی مرتبہ حاصل کرلے۔ اور یہ تمام حاجت کی علامات ہیں پس جو غنی ہو وہ محتاج نہیں ہوتا۔ پس لڑکا اس کے لئے ثابت نہ ہوا اور اس لئے کہ لڑکا، والد کا بعض حصہ ہوتا ہے۔ پس اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ مرکب ہو اور مرکب ممکن ہے اور ہر ممکن غیر کا محتاج ہوتا ہے۔ پس اس کا حدوث ظاہر ہوا۔ پس قدیم کیلئے لڑکے کا ہونا محال ہوا۔ لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اسی ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے) بطور ملک کے اور بنوت اور ملکیت دونوں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اِنْ عِنْدَکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍم بِھٰذَا ( نہیں ہے تمہارے پاس اسکی کوئی دلیل) تمہارے پاس اس بات کی کوئی (معقول) دلیل نہیں ہے۔ با ؔ کا حق یہ ہے کہ وہ ان عندکم سے متعلق ہو۔ وہ اس طرح کہ قول کو سلطانًا کا ظرف مکان مانا جائے جیسے کہتے ہیں۔ ماعند کم بار ضکم موز (تمارے ہاں کوئی کیلا نہیں) گویا یہاں اس طرح کہا گیا ہے جو کچھ تم کہتے ہو اسکی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ جب ان سے دلیل کی نفی کی تو ان کو بےعلم قرار دیا پس فرمایا۔ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ ( کیا تم اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ بات کہتے ہو جو جانتے نہیں)
Ayah 10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھُوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

69: قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (کہہ دیں بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں) اسکی طرف بیٹے کی نسبت کر کے لَایُفْلِحُوْنَ (وہ کامیاب نہ ہونگے) وہ آگ سے کبھی نجات نہ پائیں گے اور نہ جنت کی کامیابی سے ہمکنار ہونگے۔